05 اکتوبر 2013

اور اب راہل کانگریس :چنوتی تو اب شروع ہوگی

پہلے سے طے شدہ کہانی کے مطابق داغی لیڈروں کو بچانے پر متنازعہ آر ڈیننس کو وزیر اعظم منموہن سنگھ کی کیبنٹ نے واپس لے لیا ہے۔ یوپی اے حکومت اور کانگریس کور گروپ نے یو ٹرن لیتے ہوئے راہل گاندھی کے سامنے سرنڈر کردیا۔وہی ہوا جس کی کہانی راہل گاندھی نے 27 ستمبر کو لکھی تھی۔ آج بیشک کانگریسی سارا سہرہ راہل بابا کو دے رہے ہیں لیکن پورے واقعے سے کئی سوال اٹھ گئے ہیں۔ سب سے پہلا تو کانگریس کی اندرونی سیاست سے وابستہ ہے کیا اب ہم راہل ۔کانگریس کا دور دیکھنے والے ہیں؟ راہل کو پارٹی نے اس برس جنوری میں اپنا نائب صدر بنایا تھااور وہ اپنا امکانی لیڈر مان چکی ہے لیکن لگتا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کولیکر زیادہ ہی سرگرم ہیں اس لئے انہوں نے وزیر اعظم کے بیرونی دورے سے لوٹنے تک کا انتظار نہیں کیا۔بیچارے منموہن سنگھ اب تو انہیں بے عزتی ہونے کی عادت سی پڑ گئی ہے۔ داغی لیڈروں کو بچانے کے آرڈیننس پر وزیر اعظم کے پیچھے ہٹنے کے ساتھ ہی ایک بار پھر سونیا اور راہل گاندھی کا سرکار کے الٹے پڑے فیصلے کو بھی بے داغ بتا کر نکلنے کا سیاسی فارمولہ سامنے آگیا ہے۔ دراصل یوپی اے کے عہد میں کئی ایسے موقعے آئے ہیں جب عوام مخالف کاموں کا ٹھیکرا منموہن سنگھ پر پھوڑا گیا تو اچھے کاموں کاسہرہ سونیا اور راہل گاندھی کے حصے میں آیا ہے۔ صحیح ہو تو سونیا ۔راہل غلط ہو تو منموہن سنگھ۔ کانگریس کے اندر کئی سر کردہ لیڈروں میں راہل کے طریقے کی مخالفت ہورہی ہے۔ بھلے ہی یہ سینئر لیڈر فی الحال راہل کے نامناسب الفاظ کو برداشت کرنے کا گھونٹ پیئے ہوں لیکن سب کی نظریں 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں راہل کیسی کارکردگی پیش کرتے ہیں اس پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر راہل امیدوروں پر کھرے نہیں اترتے توممکن ہے کئی لیڈر کانگریس سے ہٹ جائیں یا وہ اپنی الگ پارٹی بنا لیں یا پھر کسی دوسری سیاسی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں کیونکہ اپنے سے کہیں جونیئر کا اس طرح کا برتاؤ وہ برداشت نہیں کرسکتے۔ خود وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سونیا سے اس بارے میں شکایت کی تھی کہ اگر راہل کو سرکار کے ذریعے لایا گیا آرڈیننس پسند نہیں تھا تو وہ خود اس بارے میں بات کرسکتے تھے یا پھرمہذب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے بھی میڈیا سے اپنی بات کہہ سکتے تھے جس کے بعد ہی سونیا نے راہل کو سمجھایا کے اس طرح کے الفاظ سے وزیر اعظم کی بے عزتی ہوئی ہے اور انہیں اس طریقے کو بدلنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی راہل نے وزیر اعظم کو خط لکھا جس میں اپنی رائے اور پاک صاف ہونے کی بات کہی اور الفاظ پر افسوس ظاہر کیا لیکن معافی نہیں مانگی۔ یہ کچھ دن پہلے بابا رام دیو نے پیش گوئی کی تھی کہ راہل کانگریس کو تباہ کردیں گے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر یاتو اپنی الگ پارٹی بنا لیں گے یا پھر دوسری پارٹیوں کا رخ کرسکتے ہیں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ راہل گاندھی کا اصلی امتحان تو اب ہوگا۔ چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اب اشو ہے راہل بنام نریندر مودی، سزا یافتہ ایم پی اور ممبران اسمبلی کی ممبر شپ ختم ہونے سے فوراً سیاسی تجزئیے بھلے ہی الٹ پلٹ ہوجائیں لیکن سیاست کو جرائم سے پوری طرح پاک کرنا آسان نہیں ہے۔ راہل نے اب آگ میں ہاتھ ڈال دیا ہے دیکھیں جلتے ہیں یا بچتے ہیں؟ داؤپر ہوگی پانچ اسمبلی چناؤ میں کیا راہل اپنا طریق�ۂ کار بدلیں گے یا وہی درباری کلچر چلائیں گے؟ اب تک کئی موقعوں پر راہل گاندھی نے اپنے خیالات رکھے لیکن شاید ہی کسی معاملے میں کوئی موقف سامنے رکھا ہو؟لیکن شاید ہی کسی معاملے کا جائزہ لیا ہو؟ وہ دگوجے سنگھ ،مدھو سودن مستری، سی پی جوشی جیسے تنظیم کے لیڈروں سے غور وخوض کرتے ہیں لیکن سرکار میں شامل پی چدمبرم ، اے کے انٹونی، کپل سبل اور پالیسی طے کرنے والے بڑے وزرا کے ساتھ ایسا کرنے میں انہوں نے ابھی تک کوئی دلچسپی نہیں دکھائی یعنی تنظیم میں تو ان کی سرگرمی رہی لیکن سرکار کے کام کاج میں دخل سے اب تک انہوں نے خود کو دور رکھا ہے۔ پارٹی اور سرکار میں تال میل کی کمی صاف نظر آرہی ہے۔ اب تک تو راہل نے اس میں کمی نہ اضافہ کیا ہے ۔داغیوں سے متعلق آر ڈیننس کے بعد اب صاف ہوچکا ہے کہ سونیا کی کانگریس راہل کی کانگریس میں تبدیل ہوچکی ہے۔ راہل کو یہ پتہ چل چکا ہے کہ نریندر مودی بہت بڑی طاقت بن کر ابھر رہے ہیں۔ ان کی ریلیوں میں بھیڑ امڑ رہی ہے۔ بھیڑ کو دیکھ کر ان کی مقبولیت خاص کر نوجوانوں میں ناپی جاسکتی ہے۔ راہل کے سامنے سب سے بڑی چنوتی نہ صرف نریندر مودی ہیں بلکہ کچھ حد تک عام آدمی پارٹی بھی ہے۔ یہ اکیلی شہری پارٹی ہے اور کانگریس کواحساس ہوگیا ہے اس کا فروغ کانگریس کے لئے کھیل بگاڑ سکتا ہے۔ راہل کا امتحان تو اب شروع ہوگا دیکھیں وہ اپنی کانگریس کو آگے کیسے بڑھاتے ہیں؟
(انل نریندر)

داغی نمبر ون بنے مسعود: چار سال کی جیل ممبری بھی گئی

داغی ممبران پارلیمنٹ اور ممبر اسمبلی کو بچانے والا قانون منسوخ ہوگیا ہے۔ پارلیمنٹ سے آخر کار داغی دور ہونے لگے ہیں۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر رشید مسعود سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے پہلے شکار بنے ہیں۔ عدالت سے چار سال کی جیل کی سزا ہوتے ہی وہ راجیہ سبھا سے نااہل ہوگئے ہیں۔ ان کا ابھی پانچ سال کا وقت بچا تھا۔ آر جے ڈی چیف لالویادو بھی کرپشن کے جرم میں قصوروار ٹھہرادئے گئے ہیں اور ان کو چار سال کی جیل ہوگئی ہے۔ کرپشن سمیت درجن بھر چنندہ جرائم میں صرف قصوروار ٹھہرایا جانا ہی ممبر شپ سے نااہل بنا دیتا ہے۔ چاہے سزا صرف جرمانے تک ہی کیوں نہ ہو اس کے علاوہ کسی بھی جرم میں دو برس یا اس سے زیادہ کی سزا ہونے پر وہ شخص نہ صرف سزا سنائے جانے کی تاریخ سے ایوان کی ممبری سے نااہل ہوجائے گا بلکہ سزا کاٹ کر جیل سے باہر آنے کے 6 سال تک چناؤ نہیں لڑ سکے گا۔ ایسے میں مسعود کی نہ صرف راجیہ سبھا ممبری گئی بلکہ وہ اگلا چناؤ بھی نہیں لڑ پائیں گے۔ اگر ابھی عدالت میں اپیل پر ان کی سزا پر روک لگادیتی ہے تو وہ اگلا چناؤ لڑ سکتے ہیں لیکن ممبر شپ چلی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے کئی سینئر لیڈروں پر تلوار لٹک گئی ہے۔ اثاثے سے زیادہ آمدنی کے معاملے میں مایاوتی اور سپا سے ممبر اسمبلی متر سین یادو پر 36 مقدمے چل رہے ہیں جن میں سے14 قتل کے معاملے ہیں۔ ڈان برجیش سنگھ کے بھتیجے اور آزاد ممبر اسمبلی سنیل سنگھ پر 20 معاملے درج ہیں۔ بھاجپا نیتا کلیان سنگھ ،اوما بھارتی، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی پر ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ معاملے میں مقدمہ چل رہا ہے۔ مؤ سے قومی ایکتا پارٹی سے ممبر اسمبلی مختار انصاری پر قتل کے8 معاملوں سمیت15 مقدمے چل رہے ہیں۔یہ تو صرف اترپردیش کے ہیں پورے دیش میں تو درجنوں مقدمے چل رہے ہیں۔ رشید مسعود کانگریس کے لئے ہی بوجھ ثابت ہوئے۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کانگریس کی نیا پار لگانے کے مقصد سے سپا سے کانگریس میں آئے مسعود پارٹی کے کام نہیں آئے الٹا پارٹی کی بدنامی اور ہوگئی۔ مسعود کے گڑھ مانے جانے والے مغربی اترپردیش میں بھی پارٹی کی سیٹوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ مغربی اترپردیش میں مسلم ووٹوں کے سہاتے مسعود سیٹیں جتا سکیں یہ پارٹی کا سپنا پورا نہیں ہوا۔ وہ دوسرے امیدواروں کو تو کیا جتاتے ان کا جو بھتیجے پہلے سے ہی ممبر اسمبلی تھا وہ بھی کانگریس کے ٹکٹ پر چناؤ ہار گیا۔ پچھلے کافی عرصے سے مسعود کانگریس کی حمایت کرتے ہوئے اوٹ پٹانگ بیان بھی دینے لگے تھے۔ دراصل راہل گاندھی کے چہیتے بننے کا کوئی موقعہ نہیں گنوانا چاہتے تھے۔ پچھلے دنوں جب مہنگائی کو لیکر اپوزیشن نے یوپی حکومت کی نکتہ چینی کی تھی تو مسعود نے چمچا گری کی حدیں پار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی میں پانچ روپے میں کوئی بھی بھر پیٹ کھانا کھاسکتاہے۔اب تہاڑ میں مسعود صاحب کو فری کھانا ملے گا۔ پانچ روپے میں خرچ نہیں کرنے پڑیں گے۔ مسعود صاحب نے کئی بار عدالت میں رحم کی اپیل لگائی لیکن عدالت نے انہیں خارج کردیا۔ 67 سالہ مسعود کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے30 سال سے ایم پی رہتے ہوئے دیش کی سیوا کی ہے اور قانون کی تعمیل کی ہے۔انہوں نے اپنی عمر اور تمام بیماریوں کا بھی حوالہ دیا لیکن سی بی آئی وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا کے مسعود کے جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے۔ مسعود کی وجہ سے کئی ہونہار طلبا کا کیریئر چوپٹ ہوا۔ قانون بنانے والا ہوتے ہوئے انہوں نے قانون توڑے۔
(انل نریندر)

04 اکتوبر 2013

وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے پھر چلا مسلم کارڈ!

اس دیش میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ دیش میں مذہب کی بنیادپر یہ ووٹ بینک کا سلسلہ بند ہو اگر کوئی اقتصادی نقطہ نظرسے یا سماجی حساب سے پسماندہ ہے اسے چاہے وہ کسی مذہب کا ہو،سرکاری مدد ،سہولیات ملنی چاہئیں۔ کانگریس پارٹی کے خلاف ہمیشہ یہ الزام لگتا ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر سماج کو بانٹ کر خوش آمدی کی سیاست کرتی ہے۔ تازہ مثال وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کا سبھی ریاستوں کے وزرائے اعلی کو لکھے خط کی ہے ،جس میں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اقلیتی فرقے کے لڑکوں کی دہشت گردی کے نام پر ناجائز گرفتاری نہیں ہونی چاہئے اور یہ یقینی بنانے کو کہا گیا ہے ایڈوائزری میں شندے کا کہنا ہے کسی بھی بے قصور مسلم لڑکے کو پولیس حراست میں نہ رکھا جائے۔ کئی نمائندہ وفد یہ شکایت لے کر آرہے ہیں کہ دہشت گردی کے نام پر مسلم لڑکوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔ مسلم لڑکوں کو لگ رہا ہے کہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہیں بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ شندے نے ایسے معاملوں میں ہائی کورٹ سے اسپیشل عدالت بنانے اور جلد سماعت کرنے اور بے قصور لوگوں کو رہا کرنے کو کہا ہے۔ غلط طریقے سے مسلم لڑکوں کو گرفتار کرنے والے پولیس حکام پر کارروائی کی بات بھی کہی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے بے قصور لوگوں کو نہ صرف چھوڑنے کے لئے کہا بلکہ انہیں معاوضہ دے کر ان کو پھر سے بسایا جائے۔ شندے ریاستوں میں ایسے مسلم لڑکوں کی تفصیلات اکھٹی کرچکے ہیں جو دہشت گردی کے معاملوں میں گرفتار ہوئے تھے اور برسوں سے جیل میں بندہیں۔ پولیس ان کے خلاف چارج شیٹ تک داخل نہیں کرپائی۔ بغیر چارج شیٹ اور مقدمہ چلائے انہیں سالوں جیلوں میں رکھا جارہا ہے۔ ہم شری شندے کی اس بات کی پوری حمایت کرتے ہیں کہ ایسے لڑکوں کو جن کے خلاف چارج شیٹ تک داخل نہیں ہوسکی انہیں رہا کیا جائے۔ ہمارا اختلاف اس بات پر ہے کہ انہیں صرف مسلم لڑکوں کی طرفداری نہیں کرنی چاہئے۔ شندے کو مسلم لڑکوں کے بجائے سبھی ہندوستانی برادریوں کے بچوں کی بات کرنی چاہئے جو پولیس کی دھاندلی کی وجہ سے جیلوں میں بندپڑے ہیں۔ ان میں سبھی مذہب کے لوگ شامل ہیں۔ دوسری بات ریاست کا وزیر اعلی کیسے طے کرے گا کہ کوئی لڑکا بے قصور ہے اور اسے زبردستی نا پھنسایا جائے؟ اترپردیش کی اکھلیش سرکار نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن عدالتوں نے صاف کہہ دیا کہ کوئی شخص بے قصور ہے یا نہیں یہ فیصلہ عدالت کوکرنا ہے۔ چاہئے تو یہ کہ عدالتوں سے کہا جائے کے وہ ترجیحاتی بنیاد پر ایسے مقدمات کا جلد نپٹارہ کرے اور جن معاملوں میں گرفتار لوگوں کے خلاف چارج شیٹ تک نہیں داخل کی گئی۔ شندے کی تازہ ایڈوائزری چناؤ فائدے کی منشا سے جاری کی گئی اور اس سے جنتا میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی کوشش کی جارہی ہے۔ شندے اترپردیش سرکار سے سوال کیوں نہیں کرتے کہ وہ مظفر نگر میں دنگا پھیلانے والے نامزد ملزم اورمدرسے کے مہتمم مولانا نظیر کیسے اکھلیش اور ملائم سنگھ یادو کے خاص مہمان بنے؟ سنیچر کو مولانا نظیر کو خصوصی جہاز سے لکھنؤ لایاگیا۔ بات چیت کا اشو کچھ بھی رہا ہو لیکن مولانا نظیر کے خلاف جانسٹھ تھانے میں دفعہ144 کی خلاف ورزی اور بھیڑ اکھٹا کرنے اور افسر سے ہاتھا پائی کرنے اور مذہبی جنون پھیلانے کی دفعات میں مقدمہ درج ہے۔ انہی دفعات میں بھاجپا کے ممبران اسمبلی سریش رانا اور سنگیت سوم پریم پر بھی مقدمے درج ہیں۔ رانا اور سوم کو جیل بھیج کر ان پر این ایس اے کے تحت کارروائی کی گئی۔ انہی دنگوں میں نامزد مولانا نظیر کی سرکار مہمان نوازی کررہی ہے۔ اترپردیش کی سرکار مولانا کو تو امن کا سفیر بنایا جارہا ہے اور رانا اور پریم کو شیطان؟ قانون کی نگاہ میں سبھی برابر ہوتے ہیں۔ شندے نے جس طرح صرف مسلم لڑکوں کی بات کہی ہے اس سے ووٹ بینک کی سیاست نظر آتی ہے۔ اس سے پہلے بھی اسی برس جنوری میں آر ایس ایس کو ہندو دہشت گردی کی نرسری بتا کر وزیر داخلہ سشیل کمار شندے تنازعات میں گھر چکے ہیں۔
(انل نریندر)

ریپبلکن ڈیموکریٹس کے درمیان اختلاف کے سبب امریکہ میں کام بندی!

امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور سب سے طاقتور اور خوشحال دیش ہے۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں سرکار کا اتنا زوال ہوسکتا ہے لیکن ایسا ہورہا ہے۔ امریکی سرکار نے جزوی طور پر کام بندی شروع کردی ہے۔ پچھلی مرتبہ امریکی حکومت میں کام بندی 16 دسمبر1995ء سے 6 جنوری1996ء تک ہوئی تھی۔ تب بل کلنٹن صدر ہوا کرتے تھے۔ یہ حالات 21 دن تک بنے رہے تھے۔ سرکار شٹ ڈاؤن کے حالات امریکی جمہوری نظام کی دین ہے۔ یہاں صدر ملک اور سرکار کا سربراہ ہوتا ہے لیکن آئین سازیہ میں اس کی اکثریت کی گارنٹی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ ہے کہ صدر کانگریس اور سینیٹ کے چناؤ الگ الگ ہوتے ہیں۔ ہر سال 30 دسمبر تک امریکی کانگریس (ہندوستانی لوک سبھا کی طرح) اگلے سال تک کے لئے بجٹ پاس کرتی ہے۔ سرکار کو بجٹ پاس ہونے کے بعد اپنے پروگرام چلانے کے لئے پیسہ ملتا ہے۔ اگر بجٹ اٹک جائے تو سرکار کے پاس پیسہ نہیں ہوتا۔ سارا جھگڑا ’اوبامہ کیئر‘ نامی اسکیم کو لیکر کھڑا ہوگیا ہے۔ 2010ء میں براک اوبامہ نیا قانون لائے۔ ’’پیشنٹ پروٹیکشن اینڈ افورڈیبل کیئر ایکٹ‘ اس قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو صحت بیمہ کور اسکیم میں لانا تھا۔ صحت پرہونے والا عام خرچ گھٹانا تھا۔ ایوان نمائندگان نے متنازعہ اوبامہ کیئر کو ایک سال تک ٹال دیا ہے ساتھ ہی اس میں آئینی تجویز پاس کی ہے۔ میڈیکل ڈیوائز ٹیکس کو بھی ہٹانے کو کہا گیا ہے یہ سینیٹ اور اوبامہ کو گوارا نہیں ہے۔ شٹ ڈاؤن کی صورتحال اس لئے پیدا ہوئی کیونکہ ریپبلکن پارٹی کی رہنمائی میں سینیٹ نے اگلے سال کے بجٹ کو منظوری نہیں دی ہے۔ اوبامہ نے آخری وقت میں تعطل ختم کرنے کی اپیل کی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ بیشک اوبامہ اور اپوزیشن ریپبلکن پارٹی کے درمیان اتفاق رائے نہ ہوپانے کے سبب امریکی پارلیمنٹ سے طے میعاد 30 ستمبر رات12 بجے تک بجٹ بل پاس نہیں ہوسکا تھا۔ اس کی وجہ سے امریکہ میں 17 سال بعد ایک بار پھر شٹ ڈاؤن یعنی غیر ضروری سرکاری کام کاج بند کردئے گئے ہیں۔ کئی سرکاری دفتر ، میوزیم، نیشنل پارک بند کردئے گئے ہیں اور قریب7 لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کو زبردستی بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ صدر کے دفتر نے فیڈرل ایجنسیوں کو کام بند کرنے کے احکامات بھیجنے شروع کردئے ہیں۔ امریکی فیڈرل حکومت میں 21 لاکھ کرمچاری ہیں اس میں سے 8 لاکھ کرمچاریوں کو بغیر تنخواہ چھٹی پر بھیجا گیا ہے۔ کام بندی کا اثر بچوں کی فیس اور کھانے پینے پر بھی پڑے گا۔ اگر بحران زیادہ دن چلا تو فوجی کارروائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ کام بندی کا اثر کم ہو اس کے لئے امریکی صدر براک اوبامہ نے امکانی اقدامات پر کام کرنا بند کردیا ہے۔ انہوں نے ایسے بل پر دستخط کئے ہیں جس سے کام بندی کے دوران فوج کو بجٹ دیا جاسکے۔ اوبامہ نے کہا شٹ ڈاؤن کو پوری طرح سے دور کرنا ممکن تھا لیکن اپوزیشن کا تعاون نہ ملنے کے چلتے یہ ممکن نہ پایا۔ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن ممبران اور سینیٹ میں ان کے ساتھیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے اور غیر ضروری خرچ کے لئے پیسہ نہ دیا جائے۔ وہ تبھی سرکاری خرچ کے لئے بل پاس کریں گے۔فی الحال اوبامہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ جلد تعطل ختم ہوگا اور امریکی معیشت پٹری پر لوٹے گی۔

(انل نریندر)

03 اکتوبر 2013

سی بی آئی ملائم ۔مایاوتی کو چپ کرا سکتی ہے مجھے نہیں، نریندر مودی

بھارتیہ جنتا پارٹی کو ڈر ہے کہ نریندر مودی کے بڑھتے قدموں اور بڑھتی مقبولیت سے کانگریس بوکھلا گئی ہے۔ مودی کو روکنے کے لئے کانگریس کچھ بھی کرسکتی ہے۔ وہ سی بی آئی کے ذریعے سے مودی کو2002ء کے دنگوں میں پھنسا سکتی ہے۔ بھاجپا نیتا و راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو خط میں الزام لگایا ہے کہ سرکار بھاجپا اور اس کے پی ایم ان ویٹنگ امیدوار نریندر مودی کو گھیرنے کے لئے سی بی آئی ،انٹیلی جنس بیورو اور این آئی اے جیسی جانچ ایجنسیوں کا بیجا استعمال کررہی ہے کیونکہ اس نے مان لیا ہے کہ وہ سیاسی طور سے مودی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اپنے15 صفحات کے خط میں جیٹلی نے کہا کہ کانگریس پچھلے کچھ برسوں سے مودی اور اس کی حکومت میں وزیر داخلہ رہے امت شاہ پر نشانہ لگاتی رہی ہے۔ انہوں نے لکھا کانگریس کی گھٹتی مقبولیت کے دور میں اس کی حکمت عملی صاف ہے۔ کانگریس سیاسی طور پر بھاجپا اور نریندر مودی کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ہار ان کے چہرے پر صاف جھلکتی ہے۔ انہوں نے جانچ ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرکے اب تک مودی اور سابق وزیر داخلہ امت شاہ کو غلط طریقے سے پھنسانے کی بہت سے طریقے اپنانے کی کوشش کی ہے۔ نریندر مودی اپنی ریلیوں میں کہہ چکے ہیں کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کی لڑائی کانگریس سے نہیں سی بی آئی سے ہے۔ کانگریس سی بی آئی کے ذریعے سے لوک سبھا چناؤ لڑے گی۔ دو دن پہلے مودی نے دوہرایا کے مودی کو تباہ کرنے کے لئے سرکار سی بی آئی، انکم ٹیکس اور را، آئی بی کو لگا دیا ہے لیکن میرا کچھ نہیں بگاڑ پا رہی ہیں۔ سی بی آئی مایاوتی اور ملائم کو تو چپ کراسکتی ہے مجھے نہیں۔ مودی نے پیرکو حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں روکنے کی کوشش نہ کرے۔ مودی اس مٹی میں پیدا ہوا ہے جس مٹی سے پٹیل اور گاندھی بنے تھے۔ ممبئی میں منعقدہ ایک پروگرام میں مودی نے کہا آج یوپی اے سرکار سے ہر کسی کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔ انہوں نے منموہن سنگھ اور پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا سرکار کی جانب سے جو کچھ بتایا جارہا ہے اس پر دیش کی عوام کو بھروسہ نہیں۔ جنتا کو نہیں لگتا کے اس ملاقات کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا۔ مودی کا کہنا تھا کہ دیش پر 9 سال سے یوپی اے سرکار کا گرہن لگا ہوا ہے لیکن 9 مہینے بعد دیش میں تبدیلی آئے گی اور بحران ٹوٹے گا۔ نریندر مودی نے دیش کے عوام کو با آور کیا کہ مہنگائی اور کرپشن سے لڑ رہا دیش میں 9 مہینے میں سوراج آجائے گا۔ اب سرکار کے کارندے ان کی تقریر کا ویڈیو دیکھیں گے ان سے کون ہاتھ ملا رہا ہے، کون مالا پہنا رہا ہے یہ سبھی لوگ انکم ٹیکس کے راڈار پر ہوں گے لیکن میں کچھ دوسری ہی مٹی کا بنا ہوں۔ مودی نے کہا کانگریس پچھلے 10 سال سے ہمیں ختم کرنے کی کوشش کرتی آرہی ہے لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں مل سکی کیونکہ میں اس مٹی کا بنا ہوں جس سے مہاتما گاندھی، سردار پٹیل بنے تھے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہاتا ہے۔ کانگریس کو اب سی بی آئی، انکم ٹیکس، را اور آئی بی کا سہارا ہے۔
(انل نریندر)

کیا مظفر نگر فسادات کے سبب مسلم ووٹ کا پولارائزیشن ہوگا؟

اترپردیش میں فرقہ وارانہ فسادات اور جھگڑا رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مظفر نگر فسادات کے ایک مہینے کے بعد مغربی اترپردیش پھر سے سلگ اٹھا ہے۔ سردھنہ سے بھاجپا ممبر اسمبلی سنگیت سوم کی گرفتاری اور ان پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ لگانے کے احتجاج میں ایتوار کو کھیڑا گاؤں کی مہا پنچایت پر روک کے باوجود 20 ہزار لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور حالات اس قدر بگڑے کے بھیڑ مشتعل ہوگئی۔ اعلی افسروں کی گاڑیوں سمیت64 سرکاری گاڑیاں روڈ ویز بسوں کو توڑ پھوڑ کی اور چار گاڑیوں کو آگ لگادی گئی۔ بھیڑ پر قابو کرنے کے لئے پولیس کو لاٹھی چارج اور آنسو گیس اور فائرننگ کرنا پڑی۔ اس میں ایس پی کرائم سمیت27 پولیس والے اور دیگر 8 لوگ زخمی ہوگئے۔ ان دنگوں کا سیاسی نتیجہ بھی ہوگا۔ لوک سبھا چناؤ ابھی دور ہیں۔ مظفر نگر فسادات کے بعد پورے دیش کے مسلم ووٹ کی پولارائزیشن کا تذکرہ ابھی سے شروع ہوگیا ہے۔ مسلم ووٹوں کا اثر 120 سیٹوں پرہے اس لئے سیکولر پارٹیوں کے درمیان نئی کھچڑی پکتی آرہی ہے۔ اترپردیش،بہار ہی نہیں مغربی بنگال ،مہاراشٹر اور آسام میں بھی مسلم ووٹوں کے کم معنی نہیں ہیں۔ جہاں ان کی تعداد 10 فیصدی سے زیادہ ہے۔ لالو پرساد یادو کے جیل جانے سے آر جے ڈی کا مسلم ووٹ فائدے مند ہوسکتا۔ بڑے مسلم لیڈر محمود مدنی کی تنظیم جمعیت العلمائے ہند کے سکریٹری نیاز فاروق نے کہا کہ مظفر نگر فسادات کو لیکر پورے دیش کے مسلمانوں میں غصہ ہے اور یہ مسلم پولارائزیشن کا سبب بن سکتا ہے جب ان سے پوچھا گیا کیاصرف اترپردیش میں یا پھر پورے دیش میں تو انہوں نے کہا اس کا پورے ملک میں اثر ہوسکتا ہے۔ کیا اس فساد کے بعد اترپردیش میں کانگریس اور بسپا کے بیچ چناوی تال میل ہوسکتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے لیکن ابھی کسی فیصلے تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ مولانا نیاز فاروقی نے کہا کہ مسلم ووٹ کا اثر100-120 سیٹوں پر بہت زیادہ ہے اس لئے اپنے کو سیکولر کہنے والی پارٹیاں کیسے خاموش رہ سکتی ہیں۔ مظفر نگر، سہارنپور، دیوبند ، امروہہ، مراد آباد، علی گڑھ جیسے دیش کی کئی لوک سبھا سیٹیں ہیں جہاں مسلم ووٹ 30 سے35 فیصدی ہیں۔ سینٹر فار اسٹڈی آف سوشل اسٹڈی کے پروفیسر آنند کمار کا کہنا ہے کہ ان فسادات سے مسلم ووٹوں کا پولارائزیشن اترپردیش اور اس سے لگے ہریانہ میں زیادہ اور مدھیہ پردیش راجستھان میں تھوڑا ہوگا۔ ہر حلقے کے اپنے مسائل ہیں اس لئے جنوبی ہندوستان ،کشمیر، آسام اور مغربی بنگال میں پولارائزیشن کا امکان نہیں ہے۔ اتنا تو طے ہے کہ اترپردیش کی سماجوادی پارٹی سرکار سے مسلم ووٹ کھسک سکتا ہے۔ بہت غور کرنے لائق بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اس وزیر اعلی کو کالے جھنڈے دکھائے گئے جنہوں نے بہت زور شور سے ووٹ دیکر اکھلیش یادو سرکار بنوائی تھی۔ یہ بہت اہم ہے اس لئے اتنے تھوڑے وقت کی حکومت میں اس سے پہلے کسی لیڈر کی مقبولیت میں ایسی گراوٹ نہیں آئی ہے۔ خود اکھلیش کہتے پھر رہے ہیں کہ میری حکومت کو کارناموں کے لئے نہیں بلکہ مظفر نگر فسادات کے لئے یاد کیا جائے گا۔ چاروں صوبوں میں جہاں مسلم ووٹ اہم ہے وہ ہیں اترپردیش 18.5فیصدی، بہار16.5فیصدی، مغربی بنگال25.2 ، مہاراشٹر 10فیصدی ، آسام میں بھی مسلم ووٹ کافی اثر دار ہے۔دیکھنا اب یہ ہے کہ فسادات کا مسلمانوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔
(انل نریندر)

02 اکتوبر 2013

وقت وقت کی بات ہے :نائک سے کھلنائک بنے لالو پرساد!

وقت وقت کی بات ہوتی ہے کہ کہاں تو90 کی دہائی میں منڈل رتھ پر لالو پرساد یادو نے سماجی تبدیلی کا نعرہ دیتے ہوئے بہار میں اقتدار قائم کیا اور تقریباً دو دہائی تک ہندوستانی سیاست پر چھائے رہے آج وہی لالو جی چارا گھوٹالہ کیس میں قصوروار ہوکر سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے ہیں۔ چارا گھوٹالہ کی شکل میں سرکاری پیسے کی کھلی لوٹ کے ایک معاملے میں45 لوگوں سمیت لالو کو قصوروار قراردیا گیا ہے۔ سی بی آئی کی رانچی عدالت نے پیر کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 8 قصورواروں کو تین تین سال کی سزا سنائی۔ لالو سمیت باقی37 افراد کی سزا پرفیصلہ 3 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔ عدالت نے یہ فیصلہ چائیباسہ کو باغبانی سے فرضی ڈھنگ سے 37.7 کروڑ روپے نکالنے کے معاملے میں سنایا ہے۔ چارا گھوٹالے سے جڑے پانچ معاملوں کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اپنا فیصلہ سنایاہے۔ ایسے چار معاملوں میں ابھی الگ الگ عدالتوں کو فیصلہ آنا باقی ہے۔950 کروڑ روپے کو ناجائزطور پر نکالنا کا ہے۔ پورا چارا گھوٹالے میں لالو کے ساتھ ایک دیگر سابق وزیر اعلی جگن ناتھ مشر اور کچھ دیگر لیڈروں کے سلاخوں کے پیچھے پہنچنے کے باوجودعام جنتا یہ سوال پوچھ رہی ہے آخر کرپشن کے اس معاملے کو 17 سال کیوں لگے؟ بتایا جاتا ہے کہ جنتا محسوس کرنے لگی ہے کہ گھوٹالوں میں پھنسے نیتاؤں کے معاملے کا نپٹارہ ویٹ سے ہوتا ہے۔ کئی بار یہ تاریخ کی شکل لے لیتا ہے اورقانون کے ہاتھ غیر ضروری طور پر لمبے نظر آنے لگتے ہیں۔ آج بھلے ہی مختلف پارٹیوں کے نیتا یہ کہہ رہے ہوں کہ انصاف کی جیت ہوئی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ لالو یادو کو قانون کے چنگل سے بچانے کے لئے وقتاً فوقتاً ہر سطح پر کوشش ہوتی رہی ہے۔ سی بی آئی پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے سے لیکر لالو یادو کو سیاسی طور سے طاقت دینے کی کوشش بھلے ہی ایک غیرمتوقع حالات کے بعد کانگریس اس آرڈیننس کے خلاف کھڑی نظر آرہی ہے جو لالو کو راحت دے سکتا تھا لیکن کیا اس میں شبہ ہے کہ اسے مفاد پر مبنی سیاست کو پورا کرنے اور خاص طور سے لالو یادو کو بچانے کے لئے ہی لایا گیا تھا؟ ڈھائی دہائی تک لالو ہیرو تھے جن کی شہرت دنیا بھر میں تھی، ان کو ہارڈ ورڈ یونیورسٹی سے لیکچر دینے کے لئے بلایا جاتا تھا، آج وہ کھلنائک بن گئے ہیں۔ جے پرکاش نارائن کی سمپورن کرانتی کی دشا دشا کے نتیجے کی شکل میں آئے اور انہوں نے پسماندہ دلتوں کی طاقت کے بوتے براہمنوں کی بالادستی والی اس وقت کے سیاسی نظام کا چہرہ بدل دیا ۔افسوس لالو نے چہرہ تو بدل دیا لیکن دل نہیں بدل پائے۔ تبدیلی کی حکمت عملی بانٹنے کی سیاست میں بدل دی۔جس وقت طاقت کے زور پر ایسا انقلاب آیا تھا اس میں اپنی شخصی طاقت کی خوش فہمی ہونے لگی تھی ۔ نتیجہ لالو کی پارٹی بھی ان دقیانوسیوں سے آراستہ ہونے لگی جس کے سبب کبھی کانگریس کی درگتی ہوئی تھی۔ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ لالو کمزور پسماندہ طبقے کو طاقت دلانے کا خواب دکھا کر اقتدار میں آئے اور وہ انتہائی پچھڑے قبائلیوں کے حصے کا پشو چارا ہڑپنے کے الزام میںآج جیل میں گئے ہیں۔ ایسے حالات میں لالو کے جیل جانے کے بعد ان کی پارٹی کا وجود بچا رہ پائے گا اس میں شبہ ہے۔ کیونکہ بیوی اور اولادوں کے بھروسے لیڈرشپ کتنی چل پائے گی وقت بتائے گا۔ لالو جیسے اثر دار لیڈر کے جیل جانے سے سیاست کو پاک صاف کرنے میں مدد ملے گی۔
(انل نریندر)

رائٹ ٹو ریجیکٹ کا سپریم کورٹ کا فیصلہ میل کا پتھر!

سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں چناؤ اصلاحات کی سمت میں ایک اہم فیصلہ دیا ہے جس کا سبھی خیر مقدم کریں گے۔ سپریم کورٹ نے ووٹر کو امیدوار کو مسترد کرنے کا حق دیا ہے۔ اگر چناؤ میں کھڑا کوئی بھی امیدوار اس کو پسند نہیں آتا تو ووٹر اس کو مسترد کرسکتا ہے۔ عدالت نے چناؤ کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں موجود بٹن میں سے کوئی ایسا نہیں بلکہ مسترد کرنے کا بٹن اس میں دستیاب کرائے حالانکہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کا چناؤ کارروائی پر کوئی سیدھا اثر تو نہیں ہوگا لیکن اس سے سیاسی پارٹیوں پر اچھے اور ایماندار امیدوار اتارنے کا دباؤ ضرور بنے گا۔ عدالت نے صاف کیا کہ جمہوریت میں ووٹر کو اپنے ناپسندیدہ امیدوار کو مسترد کرنے کا حق ملنا ضروری ہے تاکہ سیاسی پارٹیاں اچھے امیدوار کھڑے کرنے کے لئے مجبور ہوں۔ چیف جسٹس پی سنت شیوم کی سربراہی والی بنچ نے ایک غیر سرکاری تنظیم پی یو سی ایل کی عرضی پر دئے گئے فیصلے میں کہا کہ اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی یہ فیصلہ ہر نقطہ نظر سے تاریخی اور جمہوریت کو اس کی طاقت کا احساس دلانے والا فیصلہ ہے۔ اس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے اور ان ووٹروں میں حوصلہ بڑھے گا جو موجودہ سیاسی ماحول سے مایوس ہوکر ووٹ ڈالنے نہیں جاتے۔ چناؤ میں ووٹنگ گراف بڑھانے کے لئے چناؤ کمیشن کو ہر بار خاصی مشقت کرنی پڑتی ہے۔ جمہوریت کے اس میلے میں زیادہ سے زیادہ لوگ ووٹ کرنے نکلیں گے تبھی ووٹ فیصد بڑھانے کی کمیشن کی کوشش کامیاب ہوگی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ووٹروں کا ایک طبقہ یہ مان کر چلتا ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ سارے امیدوار ایک جیسے ہیں۔ کوئی بھی جیتے حالات بدلنے والے نہیں ہیں۔ سبھی امیدواروں کو مسترد کرنے کا اختیار ملنے سے سیاسی پارٹیوں میں یہ پیغام جائے گا کہ ووٹروں پر امیدوار تھونپنے کا کام نہیں کرسکتیں۔اگر سیاسی پارٹیاں رکاوٹ نہ ڈالیں تو یہ بالکل ممکن ہے کہ اگلے عام چناؤ یا اس سے پہلے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں امیدواروں سے نا خوش ووٹر کسی کو ووٹ نہ ڈالیں اور اس کی شناخت بھی راز میں رہے۔ رائٹ ٹو ریجیکٹ کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ووٹ کرنا ہمارا آئینی حق ہے ایسے میں امیدواروں کو مسترد کرنے کی بھی اظہار آزادی کے حق کے تحت آتا ہے۔ چناؤ کمیشن نے تو 2001ء میں ہی تجویز مرکزی سرکار کو بھیجی تھی لیکن تمام سرکاریں اسے دبائے بیٹھی رہیں۔ جمہوریت میں نمائندے چننے کا حق جب ووٹر کے پاس ہے تو اس کو خارج کرنے کے حق سے کیسے محروم کیا جاسکتا ہے؟ بہتر ہو کے سبھی سیاسی پارٹیاں یہ سمجھیں کہ سیاسی اور چناوی عمل میں اصلاحات لائے بغیر ان کا کام اب چلنے والا نہیں۔ سیاسی پارٹیوں اورسیاستدانوں کی ساکھ مسلسل گرتی جارہی ہے اس بات کو انہیں سمجھنا ضروری ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ سبھی پارٹیاں چناؤ اصلاحات کی بات تو کرتی ہیں لیکن انہیں لاگو کرنے سے کتراتی ہیں اور سبھی ایسے امیدوار چنتی ہیں جو بیشک مجرمانہ ساکھ کے کیوں نہ ہو لیکن سیٹ نکال سکتے ہوں ایسے میں سیاسی پارٹیوں کے لئے بہتر یہ ہی ہوگا کہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے اور ووٹروں کے تئیں زیادہ سے زیادہ ذمہ دار اور وفادار بنیں۔
(انل نریندر)

01 اکتوبر 2013

مودی نے پہلے ہی شو میں طےکی 2014 کی چناؤ ی حکمت عملی

اتوار کو جاپانی پارک میں بھاجپا پی ایم امیدوار نریندر مودی کی ریلی کا سارے دیش کوانتظار تھا خاص کر عوام اورنوجوانوں میں اتنا جوش تھاکہ وہ صبح 9 بجے سے ہی جاپانی پارک میں آنے لگے تھے ساڑھے 10 بجے تک یہ میدان بھر گیا تھا ٹھیک 12 بج کر3منٹ پر مودی اسٹیج پرآئے۔ اورلاکھوں کی تعداد میں جمع لوگوں کو مایوسی نہیں ہوئی مودی پوری طرح چھا گئے اور خوب تالیاں بجی ۔نعرے بازی کے ساتھ نوجوانوں نے گرمجوشی سے نریندر مودی کاخیرمقدم کیا۔ پارک کے باہر ہاتھی گھوڑا پالکی جے مودی لال’’ کے نعرے ‘‘ کے ساتھ مہاوت اور گھوڑ سوار بھی مودی کی راج شاہی کا خیرمقدم کررہے تھے۔ اسٹیج پر اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر وجے کمار ملہوترا تقریر کررہے تھے لیکن جنتا ان کی تقریر سننا نہیں چاہ رہی تھی۔ جلد بازی ملہوترہ کو اپنی تقریر ختم کرنی پڑی۔ اس کے بعد مشہور کرکٹر اور ایم پی نوجوت سنگھ سدھو نے اپنے انداز میں چٹکی لیتے ہوئے کانگریس کو نشانہ بنایا۔ اورمودی کے گن گان کئے اس کے بعد بھاجپا پردیش صدر وجے گوئل نے اپنی بات رکھی۔ اور مودی کی تقریر دینے کے آتے ہی قریب ایک منٹ تک تالیاں بجا کر مودی کاخیرمقدم کیاگیا انہوں نے ایک متوازن پائیدار تقریر کی ۔میں برسوں بعد اتنی اچھی تقریر سنی اوراہم اشو کو انہوں نے اٹھایا اور 2014 لوک سبھا چناؤ کا نموں منتر بھی دیش کو دے دیا ۔ نریندرمودی نے جنتا کے سامنے سیوک اور شہزادے کے درمیان چناؤ کا متبادل دے کر مشن 2014کاآغاز کردیا۔ لیڈر شپ کی صلاحیت اور منشاء اور ارادے دیش کی عزت جسے جذباتی نکتے اٹھاتے ہوئے انہوں نے ایک ساتھ یوپی اے سرکار اور کانگریس کو گھیرا اورساتھ ہی اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں جنتا کو جذباتی طور سے بتایا انہوں نے بھارت کی مہانتاکوظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ریل ڈبے میں چائے بیچنا والا لڑکا آج آپ کے سامنے یہاں تک پہنچ سکتا ہے۔ توآپ بھی یہاں تک پہنچ سکتے ہیں یہ میرے بھارت کی مہانتا ہے کہ بھاجپا کی ڈریم ٹیم ہی بھارت کو بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔ دہلی سے چناوی بگل بجاتے ہوئے مودی کے ترکش میں سبھی تیر موجود تھے اورنشانہ بھی آسان قدرت بھی ان پر مہربان تھی ۔ راجدھانی کے کئی علاقوں میں جس وقت جم کر بارش ہورہی تھی ریلی کی جگہ پر ہلکی بوندا باندی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ تقریر شروع کرتے ہی مودی نوجوانوں کے دلوں پر چھا گئے بمشکل 5 منٹ ہی بولے ہوں گے کہ اسٹیج کے سامنے کھڑے لڑکوں کی بھیڑ دیش کا پردھان منتری کیسا ہو۔ نریندر مودی جیسا ہو۔ کہ نعرے لگانے لگیں جس وجہ سے مودی کچھ دیر کے لئے رک گئے انہوں نے نعرے بازی کرنے کا بھی موقعہ دیا پھر بولنے کی اجازت لے کر تقریر شروع کرتے ہوئے مودی نے کئی مرتبہ لڑکوں کو ان کی طاقت کااحساس کرایا ۔ مودی نے ریلی میں یاد دلایا بھارت سوا سوکروڑ کی آبادی والا نوجوانوں کادیش ہے۔ یہاں 35سال کے کم عمر کے 65% صدی نوجوان ہے سیاست میں جگہ بنانے والے لڑکوں کو مودی نے ڈریم ٹیم کا خواب دکھایا۔ ریلی میں موجود ایک لڑکے نے کہا مودی کے مستقبل کے ساتھ دیش کے نوجوانوں نے اپنا مستقبل جوڑ لیا ہے سب سے اہم بات مجھے جودیکھنے کوملی اورجسے میں کئی دنوں سے محسوس کررہاتھا۔ وہ یہ ہے کہ دیش کانوجوان طبقہ آج مودی سے جوڑ گیا ہے اور ان میں اپنا مستقبل نظر آرہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ بی جے پی سے جڑا ہوا ہے یانہیں لیکن وہ مودی سے جڑگیا ہے۔خاص بات ریلی کی یہ رہی کہ نریندر مودی نے مسلمانوں کاذکر تک نہیں کیا۔ اب تک بی جے پی پر الزام لگتا تھا کہ وہ صرف مسلمانوں کی ہی برا بھلا کہہ کر ہندو کاٹ کھیلتی ہے لیکن جاپانی پارک میں مودی نے پالیسیوں پر بات کی اور دیش کے وقار کی بات کرتے ہوئے مودی نے دعوی کیا کہ نواز شریف نے منموہن سنگھ پر دیہاتی عورت جیسا بے ہودہ تبصرہ کیا ہے۔ لیکن ریلی ختم ہوتے ہی میڈیا میں اس معاملے پر صفائی آنے لگی کہ منموہن اور نواز شریف میں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور معاملہ رفع دفع ہوگیا ہے۔نریندرمودی نے کہاکہ اگر اس طرح کی بات ہوئی ہے تو وہ دیش کے وزیراعظم کے ضمیر کے خلاف ہے ہم نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں لیکن کسی تیسرے کو ہمارے پی ایم پر انگلی اٹھانے کااختیار نہیں ہے۔انہوں نے آرڈیننس کے بارے میں راہل گاندھی کے بیان پر بھی نکتہ چینی کی ہے جس میں اس کوبکواس قرار دیا گیاتھا۔ یہ بیان وزیراعظم منموہن سنگھ پر سیدھا سوال کھڑا کرتا ہے مودی کاکہنا ہے کہ راہل نے اس طرح کابیان دے کر ان کی پگڑی اچھالی ہے۔ دیش میں بھی جب نیتا اپنے وزیراعظم کی توہین کریں گے تو باہر والے کیسے عزت کریں گے۔ امریکی صدر براک اوبامہ کے سامنے جتائی گئی لاچاری کو بھی دیش کے لئے شرمناک بتایا مودی نے کنبہ پرستی پر چٹکی لیتے ہوئے کہاکہ دہلی سرکاروں کے بوجھ کے تلے دب گئی ہے دہلی ریاست میں ایک سرکار ماں کی ہے تودوسری بیٹے کی مرکز میں سردار کی سرکار ہے لیکن وہ بے اثر ہے وہی ماں بیٹے کے ساتھ داماد بھی سرکار کو چلا رہے ہیں۔ دہلی کی وزیراعلی شیلادیکشت کونشانے پر لیتے ہوئے مودی نے دہلی کے ایک ایک مسئلے کو اٹھا کر نہ صرف وزیراعلی کو ناکام قرار دیا بلکہ دلائل کے ساتھ یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے ان کی پرانی عادت ہے انہوں نے کہاکہ چاہے کامن ویلتھ گیم گھوٹالہ ہویا نربھایہ گینگ ریپ معاملہ وزیراعلی نے بڑی چالاکی سے الزامات دوسروں کے سر منڈھ دیئے ہے۔ تقریرمیں پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی نے اتنے اشو اٹھائے کہ سب پر رائے زنی کرنامشکل ہے لیکن جو اہم اشو اٹھائے گئے وہ کچھ ایسے تھے کہ سب سے سکھی وزیراعلی دہلی کی ہے ان کو ریبن کاٹنے کے سیوا کوئی کام نہیں۔ شہیدوں کی ماتائیں وزیراعظم سے پوچھ رہی ہے کہ پاکستانی فوجیوں کے ذریعہ ہمارے بیٹوں کے سر کاٹیں گئے کب واپس لاؤں گے میرے لئے ’’میرا مذہب نیشن فرسٹ انڈیا فرسٹ ہے‘‘۔اورآئین ہے’’ دھرم گرہنتھ‘‘ پہلے بھی میں سیوک تھا اور آج بھی سیوک ہوں اورسیوک رہوں گا۔پی ایم غریبی کی مارکٹنگ کرنے امریکہ گئے ہیں ڈاکٹر سنگھ نے اوبامہ کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے کہاکہ میں غریب دیش پردھان منتری ہوں۔ میرا دیش غریب ہے۔ پندرہ روز پہلے ہوئے اعلان کے بعد اتوار کو پہلی بار نریندر مودی بطور پی ایم امیدوار کھل کر بولتے نظر آئے۔ اور دہلی کے انتظار کے لئے دہلی سے ہی بگل بجایا گیا ہے توانہوں نے میں اور میرا لفظ استعمال کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ جنتا سے سیدھا کہا کہ میرے کام پر بھروسہ کریں۔ میں یقین دلاتا ہوں۔ بھاجپا کبھی آپ بھروسہ نہیں توڑے گی بھاجپا کے پترپرش لال کرشن اڈوانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہالالن پالن اورسیاسی کلچر مجھے انہوں نے ہی دیئے ہیں۔
(انل نریندر)

29 ستمبر 2013

آرڈیننس بکواس ،پھاڑ کر پھینکو راہل کاماسٹر اسٹروک؟

کانگریس کے نائب صدر و یووراج راہل گاندھی نے جمعہ کے روز اچانک بغیر کسی پہلے سے طے دہ پروگرام و اطلاع کے نئی دہلی پریس کلب پہنچ کر موجود لوگوں کو چونکا دیا۔طے شدہ پروگرام کے مطابق کانگریس کے میڈیا انچارج ممبر پارلیمنٹ اجے ماکن نے ’’میٹ دی پریس‘‘ کا پروگرام رکھا تھا۔ پریس کانفرنس کے دوران ماکن کو ایک ٹیلیفون آیا وہ باہر نکل کر چلے گئے۔ کچھ منٹوں میں انہوں نے لوٹ کر بتایا پارٹی نائب صدر راہل گاندھی کا فون تھا ،وہ خود آرہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ راہل نے یوں ہی اینٹری کیوں لی؟ کیوں پریس کلب کے اسٹیج کو چنا! خیر انہوں نے آخر پریس والوں کو اور چونکا دیا جب انہوں نے کہا سزا یافتہ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی ممبر شپ برقرار رکھنے لئے لائے گئے متنازعہ آرڈیننس بکواس ہے ،اسے پھاڑ پھینکو۔ راہل گاندھی کی بات سن کر سب ہکے بکے رہ گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ پریس والوں کے سوالوں کا جواب دیتے وہ اٹھ کر چلے گئے۔ راہل سے ٹھیک پہلے اسی پریس کانفرنس میں اجے ماکن سرکار کا بچاؤ کررہے تھے اور بھاجپا پر دوہرا پیمانہ اپنانے کا الزام لگا رہے تھے۔ اتنا ہی نہیں صدر کے آرڈیننس روکنے اور دگوجے سنگھ اور ملن دیوڑا اور سندیپ دیکشت جیسے لیڈروں کی مخالفت پر منیش تیواری نے سب کو ہدایت دی تھی کہ وہ پہلے آرڈیننس کو باریکی سے دیکھیں اور پھر رائے زنی کریں۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اس آرڈیننس کو لیکر منموہن سرکار اور کانگریس پارٹی کے کان جمعرات کو ہی کھڑے ہوگئے تھے جب صدر پرنب مکھرجی نے مرکز کے تین وزرا کو طلب کر پوچھا تھا کہ آخر داغیوں کو بچانے کے لئے اس آرڈیننس کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ راہل نے جن تیوروں میں سرکار کے فیصلے کی مخالفت کی اس سے حکومت نہ صرف دو پاور سینٹر میں ابھرکر آگئی ہے بلکہ سرکار اور پارٹی کے بیچ تال میل کی کمی سامنے آئی ہے۔حالیہ دنوں میں سرکار کے اندر دو پاور سینٹر کی بات پارٹی جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ بھی کئی بات اٹھا چکے ہیں لیکن ہر بار پارٹی و سرکار نے اس سے انکار کیا۔ حالانکہ پریس کلب سے راہل گاندھی کے جانے کے بعد اجے ماکن نے اس سوال کو ٹال دیا کے کیا راہل کی تنقید کے دائرے میں وزیر اعظم آتے ہیں۔ راہل کے تبصرے پر منموہن سنگھ کو نیویارک سے ہی ٹوئٹ کرنا پڑا۔ کہا کہ کانگریس نائب صدر نے مجھے چٹھی لکھی تھی یہ آرڈیننس لوگوں کے بیچ بحث کا اشو بن گیا ہے۔ سرکار کو ان باتوں کی جانکاری ہے وطن لوٹ کر اس کے بارے میں کیبنٹ میں غور و خوض ہوگا۔ ایک نوجوان کانگریسی جو راہل خیمے سے تعلق رکھتا ہے، کہنا ہے کہ یہ راہل کا ماسٹر اسٹروک ہے۔کانگریس نے لالو پرساد یادو، رشید مسعود سمیت ان سبھی لیڈروں پر جن پر یہ ترمیم نافذ ہوتی ہے کو بچانے کے لئے کوشش کی ہے۔ کانگریسی لالو کو کہہ سکتے ہیں دیکھو ہم نے تو کوشش کی مگر اس کی چوطرفہ مخالفت ہورہی ہے تو ہم مجبور ہیں۔ وہیں راہل نے ایسا کرکے بیک فٹ پر چلے آرہے خودکوکانگریس پارٹی میں فرنٹ فٹ پر لانے کی چال چلی ہے۔ ساتھ ہی راہل نے خودکو عام آدمی کے ساتھ خاص کر نوجوان طبقے کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے وہ بھی ان کے درمیان کے ہی آدمی ہیں۔ راہل نے اس عام آدمی کی آواز میں آواز ملانے کی کوشش کی ہے جو سیاست میں جرائم پیشہ اورکرپشن میں لگے لوگوں سے تنگ آچکے ہیں۔ راہل گاندھی اترپردیش اسمبلی چناؤ کے سے کچھ صدمے میں چل رہے تھے۔ اس دوران بھاجپا کے نریندر مودی کا قومی منظر پر عروج ہوا اور مودی تیزی سے چھا گئے۔ نوجوانوں میں راہل کا کریز کم ہوا ہے اور نریندر مودی کا بڑھتا جارہا ہے۔ آج نریندر مودی کے سامنے راہل بونے پڑ رہے ہیں۔نوجوانوں میں پھر پیٹ بنانے کے لئے راہل نے داغی ممبران کے بیحد حساس ترین اشو کو اٹھانے کی حکمت عملی بنائی اور ان کی تحریک سے پہلے دلتوں کے گھر روٹی کھانا،گاؤں میں رات گزارنا، یہاں پارسول کے کسانوں کے ساتھ کھڑے ہونے، ٹرین میں عام آدمی کے ساتھ سفر کرنے جیسے قدموں سے ان کی اچھی ساکھ بن رہی تھی لیکن راہل نے کسی اشو کو پورا نہیں کیا۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ راہل سیاست میں آنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہیں۔ کبھی کبھی ایسی صورت میں نریندر مودی اور اونچائی پر جارہے ہیں۔ راہل کے تازہ بیان سے ایک بار پھر منموہن سنگھ اور ان کی سرکار الجھن کی حالت میں پڑ گئی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں جب سرکار اور تنظیم کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں کول گیٹ معاملے میں وزیر قانون اشونی کماراور رشوت معاملے میں ریل منتری پون بنسل کے استعفے میں دیر پر بھی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ منموہن سنگھ نے دونوں وزیروں کا بچاؤکیا تھا۔ پچھلے سال مرکزی سرکار نے ایل پی جی کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا تو اس پر کانگریس سرکار نے ناراضگی ظاہر کی۔ نتیجتاً رسوئی گیس کی لمٹ بڑھا دی گئی۔ فوڈ سکیورٹی بل کا معاملہ کیبنٹ میں بار بار پیش نہ کئے جانے پر سونیا گاندھی نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اس بارے میں پردھان منتری کو خط لکھا تھا۔ فوڈ سکیورٹی بل سونیا کا ڈریم بل مانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ زیر اعظم اقتصادی وجوہات کے سبب اسے ٹالنا چاہتے تھے۔ راہل گاندھی کا یہ ماسٹر اسٹروک ہے یا نہیں اب آپ خود فیصلہ کرلیں۔
(انل نریندر)