Translater

17 ستمبر 2022

برہمالین شنکر آچاریہ کو بھو سمادھی!

شنگر آچاریہ سوامی سروپ آنند سرسوتی کو پیر کی شام پانچ بجے ویدک منتر اچارن کے ساتھ نر سی پور کے پرم ہنس ڈنگا آشرم میں بھو سمادھی دے دی گئی ۔اس دوران ہزاروں چیلے اور ماننے والے اور شردھالو موجود رہے مدھیہ پر دیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے بھی سوامی سوروپ آنند کے انتم درشن کر انہیں شردھانجلی دی اس درمیان سوامی شردھا نند سرسوتی کو گجرات کے دوارکہ پیٹھ کا نیا شنکر آچاریہ بنا یا گیا جبکہ سوامی اوی مکتیشور آنند سرسوتی کو اترکھنڈ کے جیوتش پیٹھ کا شنکر آچاریہ بنا یا گیا ۔ ان دونوں کو شنکر آچاریہ سوروپ آنند سرسوتی کا جانشین بننا پہلے سے ہی طے تھا ۔ سوروپ آنند نے اس بات کا اشارہ 19برس پہلے اپنے دونوں چیلوں کی کاشی میںڈنڈ دکشا کے بعد دے دیا تھا ۔اسی وقت اوی مکتیشور آنند اور سدا نند شنکر آچاریہ کے نمائندہ چیلے اعلان کئے گئے تھے ۔ دونوں گرو بھائیوں کی ڈنڈ دکشا 15اپریل 2003کو کاشی کے کیدار کھنڈ میں شری ودیا مٹھ میں ہوئی تھی ۔پیر کو شنکر آچاریہ سرسوتی کے خواہش کے مطابق اس کا اعلان کر دیا گیا ۔ اپنے وصیت نامے میں سرسوتی نے لکھا تھا کہ میں جیوتش پیٹھ کے ششیہ اوی مکتیشور آنند اور دوارکا شاردا پیٹھ پر سدانند کو جانشین اعلان کرتا ہوں ۔شنکر آچاریہ سوروپ آنند کے جانے سے ہندو سماج کو جو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے مجھے بھی بہت برسوں پہلے ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا تھا ۔ میں اپنے دوست سوریش پچوری کے ساتھ میں ان کے نرسنگھ پور آشرم میں ٹھہراتھا شنکر آچاریہ کو کافی قریب سے دیکھا اور ان سے ملا ۔بعد میں وہ دہلی آئے اورمیں ان سے ملنے گیا ان کے چہرے پر اتنا نور تھا کہ بیاں کر نا مشکل ہے ان کے جانے سے سادھو سماج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔ انہیں بھلا یا نہیں جا سکتا ۔ (انل نریندر)

میں اس سے دھیرے نہیںچل سکتا !

بھار ت جوڑ و یاترا کے کنوینر اور سینئر کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی سے کہا کہ وہ پد یاترا میں دھیرے چلیں ۔ ان کے اتنے تیز چلنے سے باقی پد یاتری مسلسل پچھڑ رہے ہیں اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ اس سے آہستہ نہیں چل سکتے ان کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ 25کلو میٹر چلنا چاہتے ہیں۔ لیکن پارٹی کے سینئر لیڈروں نے ان سے کہا کہ ساتھ چل رہے دوسرے پد یاتری بار بار پچھڑ جا رہے ہیں ۔اور وہ صر ف دن میں 22کلو میٹر ہی چلیں ۔ راہل گاندھی کی پد یاترا میں بھاری بھیڑ آ رہی ہے سوشل میڈیا میں فوٹو سے پتا چلتا ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارا بڑا میڈیا اسے دکھانے سے کترا رہا ہے کیرل میں کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا کے تیسرے تین بھی بہت زیادہ بھیڑ شامل ہو گئی ۔رک رک کر ہو رہی بارش کے درمیان کانگریس نیتا اور سیکڑو ورکر بغیر چھتری کے بھیگتے ہوئے پد یاترا میں شامل ہوئے راہل گاندھی نے کنیا کماری سے کشمیر تک 3500کلو میٹر لمبی پد یاترا چل رہی ہے ۔یاترا میں شامل لوگوں کے پیروں میں چھالے پڑ گئے ہیں لیکن یہ یاترا جاری رہے گی۔ راہل گاندھی اور پد یاتریوں کے خیر مقدم کیلئے سیکڑوں سڑکوں کے کنارے بڑی تعدا د میں لوگوں کا ہجوم کھڑا دکھائی دے رہا ہے ۔بارش میں دوران بھی راہل گاندھی بغیر چھتری کے پد یاترا کر رہے ہیں مرکزی سرکار پر کانگریس تنقید کر رہی ہے ۔ خوردہ مہنگائی شرح میں اضافے کو لیکر پارٹی کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا اثر عام آدمی کی رسوئی پر پڑ رہا ہے اور راشن اور سبزی مہنگے ہو گئے ہیں ۔ مرکزی سرکار کو مہنگائی کی کوئی فکر نہیں ہے غذائی مہنگائی شرح 7.62فیصدر ہے اس کے باوجود وزیر خزانہ نر ملا سیتا رمن کو کوئی فکر نہیں ہے ۔ بے روزگاری دن بدن بڑھ رہی ہے لیکن مرکزی حکومت کیلئے یہ کوئی اشو نہیں ہے ۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑ و پد یاترا کو لوگوں کی بھاری حمایت مل رہی ہے ۔ کنیا کماری سے شروع ہوئی اس یاترا کو چھ سات دن ہوئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا ابھی تجزیہ کرنا جلد بازی ہوگی لیکن یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ’ویل بگن از ہاف ڈن‘ یہ بات اچھی ہے کہ راہل گاندھی کوئی بیان نہیں دے رہے ہیں لوگوں کی بات سن رہے ہیں ۔ جنتا یہی چاہتی ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ یاترا کانگریس پارٹی کے بینر تلے نہیں نکالی جار ہی یعنی اسے سیاسی نفع نقصان کے فوری پروگرام کے پیمانے سے دور رکھنے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے ۔ یاترا کا آغاز اچھا ہے مقصد لوگوں کو اچھا لگ رہا ہے کہ راہل گاندھی کا برتاو¿ اور قوت ارادی اور خود اعتمادی اگر یوہی قائم رہا تو حکمرں خیمے میںہلچل مچنا فطری ہے ۔ ای ڈی کی ایک طرح کی دیگر کاروائی سرکار کیلئے نقصان دن ثابت ہوگی اور یہ بھی پختہ حقیقت ہے کہ جب بھی نیتا جنتا کے بیچ سڑکوں پر مفاد عامہ کے اشوز پر جد جہد کرتا ہے تب عوام الناس اس کے ساتھ جڑتا ہے ۔جمہوریت میں اپوزیشن کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے کانگریس کا اس نظرئے سے پھر مینڈیٹ حاصل کرنا وقت کے مطابق صحیح مانا جا ئے گا۔ (انل نریندر)

15 ستمبر 2022

روسی فوج پر بھاری پڑتی یوکرین فوج!

روس یوکرین جنگ کے 200دن گزر جانے کے بعد بھی روس یوکرین کو پوری طرح نہیں جیت پایا اور یوکرین بڑے صنعتی شہر خارکیو میں کمزور پڑتی اپنی فوج کو دیکھتے ہوئے روس نے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر یوکرین کے فوجیوں کے نئے علاقے پر جھنڈے لہرانے کی تصویروں کا سیلاب آگیا ہے ۔روس کے فوجیوں کے چھوڑے گئے مورچوں اور برباد فوجی گاڑیوں کی تصویریں بھی خوب وائرل کی جارہی ہیں ۔ یوکرین کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے حملوں کے ذریعے روس کے قبضے والے کم سے کم 3ہزار مربع کلو میٹر علاقے کو آزاد کرالیا ہے ۔ یوکرین میں جارحانہ کاروائی مشرقی یوکرین میں ہو رہی ہے ۔ یوکرین کے دعوو¿ ں کی تصدیق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے پہلے سے آزاد کرائے علاقوں سے تین راستوں کو بھی آزاد کر الیا ہے ۔ حالاںکہ روس کی فوج نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اس کے فوجی پھر سے مورچے سنبھالنے کیلئے حکمت عملی کیلئے پیچھے ہٹے ہیں ۔یوکرین کی فوجیوں نے روس کے پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔اس ایک گاڑی کی تصویر 11ستمبر کو جاری کی گئی ہے جس میں یوکرینی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کپیانسک اور جوسس پر کنٹرول کرلیا ہے ۔یہ روس کے قبضے میں آ گئے تھے جو سپلائی روٹ کیلئے بہت اہم ہے ۔ روس کے فوجیوں کیلئے اپنی فوجی دستے کی ان شہروں سے پیچھے ہٹنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ روس کے فوجیوں کا پھر منظم ہونے کا مو قع ملے گا۔ روس کے فوجی اب روس حمایتی علیحدگی پسند روس کی فوج ایک تیسرے اہم شہر بلکلیا سے اپنی فوج پیچھے ہٹانے کی تصدیق کی ہے یوکرین کے فوج کے چیف کے نشریات آفس کے مطابق جوابی کاروائی میں رو س کی بڑی فوجی گاڑی بھی یوکرین کے قبضے میں ہے ۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ خارکیو علاقے میں تیس قصبے اور گاو¿ں پھر سے یوکرین کے کنٹرول میں آگئے ہیں ۔ یوکرین کی فوج ایک کے بعد ایک علاقے خالی کر وا رہی ہے ۔کیسے بڑھی یوکرین کی طاقت ؟ روس کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کی طرف سے یوکرین کو نائٹ ویژن ساز وسامان اور راکٹ سسٹم اور گولا بارود ،اسٹنگر میزائل ،ہارپر میزئلیں ،بختر بند گاڑیاں اور ڈرون وغیر کی سپلائی کی گئی ۔ نیو زی لینڈ ایل 119توپ اور دیگر جدید ہتھیار دئے ،فرانس ،سویڈن اور جرمنی سے انٹی ٹینک ہتھیار ، میزئل اور توپیں ،کینیڈا ،نیدر لینڈ ،فن لینڈ ،برطانیہ وغیرہ نے اربوں روپے مالیت کی کھیپ بھیجی ہے اس کے علاوہ یوکرین کی مدد کرنے والے دیشوں میں نیدرلینڈ ،چیک ریپبلک ،پرتگال ،قاہر ہ اور اٹل ،ترکی ،سوٹزرلینڈ وغیرہ دیش بھی شامل ہیں ۔ (انل نریندر)

متاثرہ کیلئے آواز اٹھانا کیا جرم ہے؟

پچھلے 23مہینے سے جیل میں بند کیرل کے صحافی صدیق کپن کو سپریم کورٹ نے جمعہ کو ضمانت دے دی ۔صدیق کپن کو 5اکتوبر 2020کو اتر پردیش پولیس نے متھرا سے گرفتار کیا تھا ۔چیف جسٹس ادے امیش للت و جسٹس ایس رویندر بھٹ کی بنچ نے کپن کی عرضی پر یہ حکم دیا تھا ۔ بڑی عدالت نے کپن کے جیل میں رہنے کی میعاد کو بتاتے ہوئے یہ جاننا چاہا ہے کہ کپن کے خلاف ٹھوس ثبوت کیا ہیں۔ عدالت نے پولیس کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ کپن اور تین دیگر افراد کے پاس سے ایسے دستاویز ملے جس سے پتا چلا کہ دنگے بھڑکانے کی سازش تھی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے وہ یہ دکھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہاتھرس کی متاثرہ لڑکی کو انصاف دلانے کی ضرورت ہے اور انہوں نے اس کیلئے آواز اٹھائی کیا یہ قانون کی نظر میں جرم ہے؟ چیف جسٹس نے یہ رائے زنی یوپی سرکار کے وکیل مہیش جیٹھ ملانی کی دلیل کہ کپن و دیگر افراد دنگے بھڑکانے کے ارادے سے ایک ٹول کٹ کے ساتھ ہاتھرس جا رہے ہیں ۔ جیٹھ ملانی سے جج صاحب نے پوچھا کہ ضبط شدہ دستاویز کا کونسا حصہ اکسانے والا تھا؟ اس سے پہلے بنچ نے اتر پردیش کے داخلہ محکمے سے کپن کی عرضی پر 5ستمبر تک جواب دینے کو کہا تھا ۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگلے چھ ہفتے دہلی میں رہیں گے اور ہر ہفتے تھانے میں حاضری دیں شرط پوری کرنے کے بعد وہ کیرل لوٹ سکیں گے ۔ بنچ نے کہا کہ 2011میں بھی انڈیا گیٹ پر نر بھیا کیلئے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے ۔کبھی کبھی تبدیلی لانے کیلئے احتجاج کی ضرورت ہوتی ہے آپ جانتے ہیں کہ اس کے بعد قوانین میں تبدیلی لائی گئی تھی ۔ یہ احتجاجی مظاہرہ ہے ۔ یوپی سرکا ر کی طرف سے پیش ہوئے وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے کہا کہ کپن نے دنگے بھڑکانے کیلئے ہاتھرس جانے کا فیصلہ کیا تھا ان کا دہشت گرد فنڈنگ کرنے والی تنظیم سے گہرے تعلق ہیں ۔ سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود کپن کو لکھنو¿ جیل میں رہنا پڑےگا ۔ کیوں کہ اس پر درج ای ڈی کا معاملہ لٹکا پڑا ہے اس معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد جیل انتظامیہ اسے رہا کرے گی ۔ ضلع جیل لکھنو¿ کے جیلر راجیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سے صدیق کپن کو دی گئی ضمانت کا حکم مل گیا ہے ۔ اس سلسلے میں پیر کو اڈیشنل جج کے یہاں کپن کو پیش کیا جائے گا۔ ای ڈی کے معاملے میں جوڈیشل حراست میں جیل میں رکھا جائے گا۔ کپن کے ساتھ ملزم کیب ڈرائیور عالم کو بھی یو اے پی اے معاملے میں ہائی کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے لیکن وہ بھی ای ڈی معاملے میں ابھی بند ہیں۔ (انل نریندر)

13 ستمبر 2022

نتیش ایکٹر ہیں یا ڈائریکٹر!

پچھلے ایک مہینے میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپوزیشن کے تقریبا ً دس لیڈروں سے ملاقات کر چکے ہیں جن میں سے تقریبا ً آدھا درجن سے زیادہ ملاقاتیں پچھلے تین دنوں میں ہوئیں ہیں ۔ بہار میں این ڈی اے کا ساتھ چھوڑے نتیش کمار کو ابھی ایک مہینہ ہوا ہے لیکن وہ بہار میں کم اور دہلی کی سیاست میں زیادہ دلچسپی لیتے نظر آرہے ہیں۔ دہلی دورے کے بعد 25ستمبر کو ہریانہ کی ایک ریلی میں شامل ہوں گے ان کا آنے والے دنوں میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی سے بھی ملنے کا پروگرام ہے۔ نتیش کمار نے خود بتایا ہے کہ وہ جلد ہی دہلی آنے والے ہیں ۔ اور کانگریس لیڈر سونیا گاندھی سے ان کے بھارت واپسی پر ملیں گے ۔ ان ملاقاتوں اور دوروں کے معنیٰ بھی نکالے جا رہے ہیں ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نتیش کمار سال 2024میں اپوزیشن کی طرف سے پی ایم فیس بننا چاہتے ہیں بھلے ہی وہ میڈیا سے اس بارے میں انکار کرتے رہے ہیں کہ انہیں کوئی خواہش نہیں ہے لیکن ان کی غیر اعلانیہ دعویداری پی ایم مودی کی وجہ سے بھی ہے ۔ یہ کہنا جے ڈی یو نیتا اور سابق ایم پی کے سی تیاگی ہے ۔ نتیش کے پی ایم عہدے کی دعویداری پر جواب میں تیاگی میں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کہتے رہے ہیں کہ لوہیہ لیڈر جارج فرنانڈیز کے بعد نتیش کمار ایسے لیڈر ہیں جو خاندان پرستی اور ذات برادری سے دور ہیں اور سماج وادی تحریک کے خالق بھی ہیں ۔ یہ میرا کہنا نہیں ہے یہ بات ایک مہینہ پہلے پی ایم نریندر مودی نے خود کہی ہے ۔ پی ایم نریندر مودی نے 2024کا ایجنڈا رکھتے ہوئے لال قلع پر کہا تھا کہ ان کیلئے لڑائی کرپشن اور خاندان پرستی کے خلاف ہوگی ۔ اور اس وقت اپوزیشن کے پاس سب سے بڑا ہتھیار کرپشن اور پریوار واد کے خلاف لڑنے کیلئے کوئی ہے تو وہ نتیش کمار کا نام آتا ہے ۔ اور وہ مودی برانڈ اور پولیٹکس کے مقابلے ہر طرح سے فٹ بیٹھتے ہیں ۔ دراصل پچھلے دنوں جس طرح سے مہاراشٹر میں این سی پی لیڈروں پر جانچ ایجنسیوں کی کاروائی ہوئی ہے اسی طریقے ممتا بینر جی کے قریبیوں پر کرپشن کے الزام لگے ہیں دہلی میں منیش سسودیا ور اروند کیجریوال کو شراب پالیسی کو لیکر گھیرا جا رہا ہے ۔ اور ای ڈی سونیا دگاندھی اور راہل گاندھی کے گھر اور دفتر پر چکر لگا رہی ہے۔ ان سب کے مقابلے میں نتیش کی ساکھ موازنتاً صاف ہے ان پر شخصی طور پر کرپشن اور پریوار واد کے الزام نہیں لگے ہیں ہاں ان کے مخالف یہ بھی کہتے ہیں کہ نتیش مو قع دیکھتے ہی پارٹی بدل دیتے ہیں ۔ تما م اپوزیشن کو ایک اسٹیج پر لاکر آپسی تال میل قائم کرنا نتیش کمار کیلئے ٹیڑھی کھیر ثابت ہو سکتاہے ۔ (انل نریندر)

حجاب کا موازنہ پگڑی سے کرنا غیر مناسب!

سپریم کورٹ نے کرناٹک حجاب معاملے کی سماعت کے دوران جمعہ کو جسٹس ہیمنت گپتا نے کہا کہ حجاب سے سکھ کی پگڑی کا موازنہ کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ یہ طے کر چکی ہے کہ پگڑی اور کرپان سکھ دھرم کی پہچان کا ضروری حصہ ہے۔ سکھو کے پانچ سو برسوں کی تاریخ اور آئین کے مطابق یہ بھی سب سے اہم حقیقت ہے اس لئے سکھو سے موازنہ کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے یہ رائے زنی حجاب کے حمایتی عرضی گزاروں کے وکیل نظام پاشا کی دلیل کے دوران کی تھی۔ پاشا کا کہنا تھا کہ سکھ مذہب کے پانچ اصولو ں کی طرح اسلا م کے بھی پانچ بنیاد ی ستون ہیں ۔ نظام کا کہنا تھا کہ حج،نماز ،روزہ، زکاة ،توحید اور حجاب کو اسلام کے پانچ بنیادی ستون بتا یا تھا۔ جسٹس گپتا نے انہیں ٹوکا تونظام پاشا نے کہا کہ ہمارا بھی یہی کہنا ہے کہ 1400برس سے حجاب بھی اسلامی روایت کاحصہ رہا ہے ۔ لہذا کرناٹک ہائی کورٹ کا نتیجہ غلط ہے، نظام پاشا سے پہلے عرضی گزاروں کی طرف سے وکیل دیو دت کامت نے کہا کہ بنیادی حقوق پر واجب پابند ی ہو سکتی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب یہ قانون سسٹم ،اخلاقیات یا ہیلتھ کے خلاف ہو ۔یہاں لڑکیوں کا حجاب پہننا نہ توقانون و سسٹم کے خلاف ہے نہ ہی اخلاقیات اور ہیلتھ کے خلاف ہے ۔ آئین کے مطابق سرکار کا حجاب پر پابندی کا حکم واجب نہیں ہے ۔ کامت نے کہا کہ ہر مذہبی روایت ضروری نہیں کہ کسی مذہب کا ضروری حصہ ہی ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر سرکار پابندی لگادے ۔ روایت کے قانون ونظام یا اخلاقیات کے خلاف ہونے پر ہی سرکار کو یہ حق حاصل ہے ۔ کامت نے دلیل دی کہ میں پیدائش سے پگڑی پہنتا ہوں ۔ سینئر وکیل بھی عدالتی کیپ پہنتے ہیں لیکن کیا یہ کسی بھی طرح سے عدالت کی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے؟ اس پر ججوں نے کہا کہ آپ عدالت میں پہنی جانے والی ڈریس کا موازنہ اسکول ڈریس سے نہیں کر سکتے ۔ بدھوار کو سینئر وکیل راجیو دھون نے بھی پگڑی کا حوالہ دیا تھا لیکن پگڑی بھی ضروری نہیں کہ مذہبی پوشاک ہی ہو۔ موسم کی وجہ سے راجستھان میں بھی لوگ اکثر پگڑی پہنتے ہیں ۔ جسٹس ہیمنت گپتا نے کہا کہ سڑک پر حجاب پہننے سے بھلے ہی کسی کو دقت نہ ہو لیکن سوال سکول کے اندر حجاب پہننے کو لیکر ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اسکول انتظامیہ جس طرح کا نظام بنائے رکھنا چاہتا ہے اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہاں سوال صرف اسکولوں میں پابندی کے بارے میں ہے ۔ اور کسی کو حجاب پہننے کیلئے منع نہیں کیا گیا ہے ۔ وکیل دیو دت کامت کا کہنا تھا کہ افریقہ کے اسکول میںناک میں لونگ پہننے کی اجازت دی گئی تھی یہ وہاں کلچر کا حصہ ہے ۔ اس پر جسٹس ہمنت گپتا نے کہا کہ لونگ دھرم کا حصہ نہیں ہے ،منگل سوتر ہے۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...