Translater

11 اپریل 2026

مٹ جائیں گے ،پر جھکیں گے نہیں!

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں یہ جذباتوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کر دکھا دیا ۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ آج رات ہم ایران کی تہذیب کو ہی مٹادیں گے ۔اس کے جواب میں ایرانی عوام سڑکوں پر اتر آئی ۔اپنے دیش کے وجود اور ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایرانی عوام اپنے دیش کے پلوں ،بجلی گھروں کو بچانے کے لئے امریکہ کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو گئی ۔ایران کے ایوان تبریض اور دیگر کئی شہروں میں ہزاروں لوگوں نے بجلی گھروں اور اہم ترین بنیادی اداروں کو چاروں طرف لمبی انسانی سریز بنا لی ۔ایرانی سماچار ایجنسی ترمیم کے مطابق مردوں ،خواتین اور یہاں تک کہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ اکٹھا ہوئے اور ہیومن چین بنا کر ڈٹ گئے ۔مظاہروں میں شامل لوگوں کے ہاتھوں میں ایرانی جھنڈے اور قومی لیڈروں کی تصاویر والے پوسٹر تھے ۔اور کئی لوگ مین شاہراہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر لمبی قطار میں کھڑے تھے ۔ایران کے احوال میں وائٹ برج میں پاور پلانٹ سمیت کئی جگہوں پر ہیومن چین بنائی گئی یہ ہیومن چین سریزواشنگٹن کی جانب سے بڑھتی جارحانہ بیان بازی کا سیدھا جواب تھا ۔ایران کے لوگوں نے دیش کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کاروائی کی مزاہمت کرنے کے لئے ا س انسانی چین کا سہارا لیا ۔مظاہرین نے قومی اتحاد دکھانے کے لئے حب الوطنی کا یہ زبردست مظاہرہ کیا ۔اس کا سیدھا اثر واشنگٹن پر پڑا ۔شاید اس کو عقل آئی ہو کہ ہم ایرانی عوام جو سڑکوں پر انسانی چین بنا کر کھڑے ہیں اس پر حملہ کریں گے تو ساری دنیا میں ہماری تھو تھو ہو جائے گی اس لئے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ آخری لمحوں میں پیچھے ہٹ گئے ایران کا موجودہ فوجی رخ صاف اشارہ دیتا ہے کہ اس کی ترجیح اپنی حکومت اور فوجی انسٹرکچر کو بچائے رکھنا ہے ۔اسلامی رپبلک کی قیادت اور فوجی کمانڈروں نے پچھے 3-4 دہائیوں سے ایسے ہی امکانی ٹکراؤ کی تیاری کی ہے۔ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے کئی برسوں پہلے ہی یہ دیکھ لیا تھا کسی نہ کسی دن یہ حالات آئیں گے اور امریکہ اسرائیل ہم پر حملہ کرے گا ۔آج اگر ایران کی اس جنگ میں جیت ہوئی ہے تو اس کا اصل حقدار شہید آیت اللہ علی خامنہ ای ہی ہیں ۔دراصل موساد اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یہ بھروسہ دیا تھا کہ اگر ہم آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے سب سے سینئر ملیٹری کمانڈروں کو مار دیں گے تو ایران میں اندرونی بغاوت ہو جائے گی اور ہمارے حمایتیوں کو اقتدار میں بٹھا دیں گے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا ایران کی عوام پر کیا اثر ہوگا ۔لیکن اثر الٹا ہوا جو ایرانی اسلامی اقتدار کے خلاف بھی تھے وہ بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سرکار کی حمایت میں آگئے ۔اس جنگ میں ایران کا پلڑا بھاری ہوگیا ۔جیسے میں نے کہا کہ غیر نیوکلیائی جنگ میں جیت ہتھیاروں سے نہیں ہوتی ، جیت جذبہ سے ہوتی ہے ۔جس کا مظاہرہ ایرانی عوام نے بخوبی کیا ۔دراصل ایران اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا تھا ۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2026

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم ترین بشر نیوکلیائی مرکز پر سے جان لیوا یورینیم کا سیدھا خطرہ تو نہیں ہے لیکن ہواؤ ں کے ذریعے ریڈیوکرنیں دھول میں مل کر ریاستوں اور یہاں تک کہ بھارت کی مغربی ریاستوں تک پہنچنے کا خطرہ ہے ۔مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کر دیا ہے جہاں نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کی بحث ہونے لگی ہے ۔اگر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ خطرناک سطح تک پہنچتی ہے اور ایران کی سرزمین پر نیوکلیائی دھماکہ ہوتا ہے ،تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے ؟ کیا ایران سے اڑنے والی ریڈیو ایکٹو دھول ہمارے شہروں تک پہنچ کر تباہی مچا سکتی ہے ؟ آئینی اورحکمت عملی نظریہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہوا کا رخ اور دوری اس خطرے کو کیسے طے کرتی ہے ؟ ایران میں اگر کوئی نیوکلیائی واقعہ ہوتا ہے ، تو سب سے زیادہ تباہی اس کے پڑوسی ملکوں میں دیکھنے کو ملے گی۔ ایران کے 500 سے 1000 کلو میٹرک کے دائرے میں آنے والے دیش عراق،ترکیہ ،ارمینیا،آذر بائیجان ،افغانستان اور پاکستان جیسے ملکوں کو بے حد خطرناک ریڈ یشن کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ریڈیو کچرا (فال آؤٹ ) سیدھے طور پر لوگوں کی صحت اور ماحولیات کو بھی بربادکر سکتی ہے ۔ہوا کے بہاؤ کی بنیاد پر ان ملکوں کی سیکورٹی پوری طرح داؤ پر لگی ہوگی ۔ایران کے جنوب میں واقع خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب ،کویت، بحرین ،قطر ،یو اے ای بھی اس خطرے کی زد میں ہیں ۔اگرایران کے بشر شہر جیسے ساحلی نیوکلیائی بجلی کفیل ملکوں کو نشانہ بنایاگیا تو ریڈیو ایکٹو اخراج کی سیدھی دھار خلیج اور عرب ساگر کے پانی کو زہریلا بناسکتا ہے ۔اس سے سمندری چرند وپرند کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کی پانی نظام اور معیشت پر بھی گہرا اثر پڑے گا ۔سمندری لہریں اس آلودگی کو ہندوستانی ساحلوں تک بھی پہنچا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق کسی بھی نیوکلیائی دھماکہ کے بعد نکلنے والے سب سے خطرناک اور بھاری ریڈیو کرنیں دھماکہ والی جگہ سے کچھ سو کلو میٹر کے دائرے می ہی زمین پر گر جاتی ہیں ۔ان اتنی لمبی دوری طرے کرتے وقت ریڈیشن کا اثر کافی حد تک کم ہوجاتا ہے اس لئے تکنیکی طور سے بھارت میں فوری طور پر ایکیوٹ ریڈیشن سکنس سے ہونے والی سنگین بیماری کا سیدھا خطرہ بڑھتا نظر آتا ہے بھلے ہی بھارت ایران سے کافی دور ہے لیکن ایئر زون میں گھلی ریڈیو کرنوں وذرات کو ہوا تک لے جاسکتی ہے ۔اگر ہوا کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب رہتا ہے تو نیوکلیائی بادل 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ہندوستانی آسمان تک پہنچ سکتے ہیں ۔ایسی صورت میں گجرات ،راجستھان ،پنجاب ،دہلی جیسی ریاستوں میں ریڈیو ٹک ذرات کی موجودگی درج کی جاسکتی ہے ۔حالانکہ بھارت تک پہنچتے پہنچتے یہ ذرات اتنے فیل اور ہلکے ہوجائیں گے کہ اس سے جان لیوا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ بہت کم رہتا ہے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے آس پاس بڑی تعداد میں ہندوستانی تارکین وطن رہتے ہیں ۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ایران -امریکہ دوسری جنگ میں نیوکلیائی مراکز پر سیدھے حملے سے بچین ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر پوری کائنات پر پڑے گا۔ (انل نریندر)

07 اپریل 2026

فائٹر جیٹ گرنے سے تلملائے ٹرمپ!

ایران جنگ میں اپنے فائٹر جیٹ گنوانے کے بعد تلملائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نیا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران نے 48 گھنٹے مین ہرمز کو نہیں کھولاتو تباہی جھیلنے کے لئے تیار رہے ۔اب آر پار ہوگا انہوں نے کہا کہ ایران کے لئے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اسے پیس ڈیل پر ستخط کر دینا چاہیے ۔ایران نے اس دھمکی کا جواب امریکہ کے بہت ہی ایم ترین ایف -15 ای جنگی جہاز کو مار گرا کر کیا ۔ایران نے جمعہ کے روز دو امریکہ کے ایک اور جہاز ایف -35 کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ۔وہیں دو امریکی حکام کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا دو سیٹر جنگی جہاز ای-15 ای ایران میں گرا ہے ۔ایک پائلٹ مل گیا ہے جبکہ ایران دعویٰ کررہا ہے کہ دوسرا پائلٹ اس کے قبضہ میں ہے ۔حالانکہ امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے ۔پنٹاگن اینڈ سنٹرل کمان نے اس پر کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کیرولن لیور نے بیان جاری کربتایا کہ جنگی جہاز گرنے کی جانکاری صدر ٹرمپ کو دے دی گئی ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ایف -35 جنگی جہاز کو جنوب مغربی ایران میں مار گرایا ہے ۔ادھر امریکی نیوز پورٹل کی موس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے مار گرائے جنگی جہاز کی جو تصویر شیئر کی ہے وہ ایک ایف زیڈ ای جہاز کی ہے ۔ایس ای -15 اسٹرائک ایگل ایف ڈولپ کٹیگری کا امریکی جنگی جہاز ہے جسے خاص طور پر لمبی دور ی تک گہرائی میں جاکر (دشمن کے ٹھکانوں ) پر بالکل پختہ حملے کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس جہاز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر موسم میں مشن پورا کرسکتا ہے ۔امریکہ کے چیف میڈیا آؤٹ لیٹس میں سے ایک سی این این نے اس واقعہ پر لکھا ہے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ جو پہلے سے ہی امریکی عوام کے بیچ کافی غیر مقبول ثابت ہورہی تھی ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں پہنچ گیا ہے ۔چینل نے بتایا کہ پہلے خبر آئی کہ ایران کے اوپر ایک امریکی جنگی جہاز کو گراد یا گیا ہے اس کے بعد جمعہ کو خبر آئی کہ ایران نے دوسرے امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔جبکہ سی این این نے لکھا ہے ،لیکن ایک ایسی لڑائی جس میں فوجی بالادستی امریکہ کے حق میں ہو ،یہ واقعہ ایک پیچیدہ جنگ کے خطرون کو دکھاتا ہے ۔اس کی لاگت کو امریکہ جنتا پہلے سے نامنظور کرتی آرہی ہے ۔سی این این آگے لکھتا ہے کہ ان واقعات سے ایران کے آسمان پر پوری بالادستی کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے دعووں کے ساتھ ساتھ پچھلے مہینے سے بنائے جارہے ہوے کو دکھاوے کی بھی دھجیاں اڑ رہی ہیں ۔ایم بی سی نیوز نے ایران کی جانب سے جنگی جہاز گرانے کے دعوے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے -یہ پہلی بار ہے کہ جب اس تازہ لڑائی کے تحت ایران کے اندر امریکی جہاز تباہ ہوا ہے ۔جس سے یہ تصور غلط ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کا ایرانی ہوائی زون پر پورا کنٹرول ہے ۔این بی سی لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے اس جنگ میں جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر جنگ ختم کرنے پر رضامند ہونے کے لئے دباؤ ڈالا ہے وہین اب ایران کی جانب سے جو دعوے کئے جارہے ہیں اس سے امریکہ -اسرائیل کے ایرانی ہوائی پٹی کےبالادستی کے دعووں پر شبہ پیدا ہوتا ہے ۔اسرائیل امریکہ کی مشترکہ کاروائی کا اہم مقصد ایران کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرنا اور کمزو ر کرنا رہا ہے لیکن ایران نے پورے خطہ میں جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بنائے رکھا ہے امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور ڈیفنس سیکریٹری پیٹر ہیگس نے بار بار کہا ہے کہ ایران کی صلاحیتوں کو پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جہاز انسداد سسٹم کو بھی ختم کر دیا گیا ہے ۔لیکن جمعہ کو اس دعوے پر سوال اٹھنے لگے جب ایران نے اپنے علاقہ میں امریکی جنگی جہاز ،ایف -15 ای کو مار گرایا ۔ایک جھٹکے میں ایران نے ٹرمپ کی ساری ہیکڑی نکال دی ۔ (انل نریندر)

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ...