04 اپریل 2015

مرکزی وزیر گری راج سنگھ پھر تنازعات میں پھنسے

مودی حکومت کے بڑ بولے وزیر گری راج سنگھ ایک مرتبہ پھر تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ پہلے بھی بے تکے بیان دے چکے گری راج سنگھ نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے بارے میں غیر ضروری اور بے تکا تبصرہ کیا۔ انہوں نے منگل کے روز اخبار نویسوں سے کہا تھا ’’اگر راجیو گاندھی نے کسی نائیجیریا خاتون سے شادی کی ہوتی اور اگر سونیا گاندھی گوری چمڑی والی نہیں ہوتیں تو کیا کانگریس ان کی لیڈر شپ قبول کرلیتی‘‘حاجی پور میں کئے گئے اس بیہودہ اور نسلی تبصرے سے سیاسی بونڈر مچنا ہی تھا۔ گری راج سنگھ نے بیٹھے بٹھائے مصیبت مول لے لی۔ اس پر تعجب نہیں کہ حریف سیاسی پارٹی ان کے بیان کواشو بنانے میں جٹ گئی ہے۔ اس سے پہلے انہی گری راج سنگھ نے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی پر بھی طنز کسا تھا۔ گری راج نے راہل پر کہا تھا ’’راہل سرگرم سیاست سے چھٹی لیکر غائب ہوگئے ہیں۔ وہ تو لاپتہ ملیشیائی طیارے کی طرح ہوگئے ہیں جسے کوئی تلاش نہیں کرپا رہا ہے۔ تصور کریں ہماری جگہ کانگریس اقتدار میں ہوتی اور راہل وزیر اعظم بن گئے ہوتے اور 47 دنوں سے زیادہ غائب ہوجاتے‘‘۔ گری راج سنگھ کے بیان پر کانگریس سمیت تمام سیاسی پارٹیوں اور خاتون انجمنوں نے تلخ مذمت کی ہے۔ نائیجریا نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی رائے زنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ نائیجریائی ہائی کمیشن نے گری راج سنگھ کے تبصرے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کو کہا ہے۔ نگراں ہائی کمشنر او بی اوکونگور نے کہا کہ اس بارے میں وزارت خارجہ میں شکایت درج کرائی جاسکتی ہے کیونکہ سنگھ کا تبصرہ بیحد خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں وزیر موصوف اپنا تبصرہ واپس لیں اور نائیجریائی عوام سے معافی مانگیں۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ مودی کے وزرا اور بھاجپا کے ممبران پارلیمنٹ کے درمیان بے شرمی کی حدیں توڑنے کی دوڑ سی لگی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو خوش کرنے کے چکر میں وہ اپنا آپا کھو بیٹھے ہیں۔ سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا نے کہا کہ اس خاتون کے بارے میں بولنے کا یہ کیسا طریقہ ہے جس نے زندگی میں دکھ سہے اور دیش کے لئے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے۔جب حکومت و اس کے وزیر ان کا احترام نہیں کرسکتے ہیں تو دیگر خواتین کے تئیں ان کا کیا رویہ ہوگا۔ معاملے کے طول پکڑنے کے بیچ بھاجپا پردھان امت شاہ کی سخت پھٹکار کے بعد گری راج سنگھ نے بیان پر افسوس جتایا ہے۔ خاص طور پر نائیجریا کی ناراضگی کے بعد امت شاہ نے گری راج سے فون پر بات چیت کرکے ان کو پھٹکارلگائی اور سوچ سمجھ کر بولنے کی نصیحت دی۔ مگر پارٹی نے گری راج کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کے اشارے نہیں دئے ۔ کانگریس میں وزیر گری راج کو برخاست کرنے اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اس مسئلے پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا ہے۔ آرجے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے خواتین انجمنوں سے گری راج سنگھ کو چوڑی پہنانے کی اپیل کی ہے۔ بڑی بات نہیں کہ پارلیمنٹ کا سیشن شروع ہونے پر گری راج کے بیان کو لیکر ہنگامہ ہوا۔ کیونکہ معاملہ مودی سرکار کے وزیر کا ہے اس لئے اسے اشو بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ گری راج سنگھ پہلے ایسے لیڈر نہیں جنہوں نے اپنے بیان سے مودی سرکار کی کرکری کرائی ہو۔ ایسے نیتا رہ رہ کر سامنے آتے رہے ہیں۔ افسوسناک یہ ہے کہ ایسے بیانات پر خود وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ناراضگی ظاہر کرنے کے باوجود پارٹی و حکومت کے لیڈر صبر و تحمل کا ثبوت دینے کے تئیں سنجیدہ نہیں دکھائی دے رہے ہیں اور وزیر اعظم کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے لیڈر ہیں جو پبلک زندگی میں بھی حریف پارٹیوں کے لیڈروں کے تئیں ناپسندیدہ اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے میں قباحت نہیں کرتے۔ گری راج سنگھ پر سخت کارروائی ہونی چاہئے، محض معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ چوتھی بار ہے جب انہوں نے اوٹ پٹانگ بیان دیا ہے۔ ایسے نیتا وزیر کے عہدے کے حقدار نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

سنبھالیں اپنی جیب، ڈھلائی پر سروس ٹیکس نافذ ہوگیا ہے

یکم اپریل سے کئی اہم تبدیلیاں ہوگئی ہیں جو سیدھے آپ کی جیب پر اثر ڈالیں گی۔ کھانے پینے کی چیزوں، خاص کر ڈبہ بند یا پروسیسٹ غذائی سامان میں مہنگائی کا ایک اورجھٹکا جھیلنے کیلئے تیار رہنا چاہئے چونکہ بدھوار سے عام بجٹ اور ریل بجٹ میں شامل اعلانات نافذ العمل ہو جائیں گے۔ ان چیزوں کی ڈھلائی پر سروس ٹیکس لگادیا گیا ہے۔ ابھی تک کھانے پینے کی سبھی چیزوں کو اس دائرے سے باہر رکھا گیا تھا لیکن اس بجٹ میں حکومت نے چاول، دال، آٹا، دودھ اور نمک کو چھوڑ کر دیگر سبھی غذائی اجناس پر سروس ٹیکس لگادیا ہے۔ حالانکہ ایسے ریستوارں میں کھانا پینا مہنگا نہیں ہوگا کیونکہ اس پر لگنے والا سروس ٹیکس ابھی نہیں بڑھے گا۔ سروس ٹیکس کی کچھ تجاویز کو چڑیا گھر ،عجائب گھروں اور پارکوں میں داخلہ ٹکٹ سستے ہوجائیں گے جبکہ بزنس کلاس میں ہوائی سفر ،میوچیل فنڈز و چٹ فنڈ میں سرمایہ کاری مہنگی ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ہی پلیٹ فارم ٹکٹ 5 روپے کی جگہ10 روپے کا ہوجائے گا جبکہ ریل سفر کیلئے ٹکٹ اب 120 دن پہلے بک کرایا جاسکے گا۔پی این جی اور سی این جی کی قیمتوں میں کٹوتی ہوگئی ہے کیونکہ قدرتی گیس کی قیمتیں گھٹ گئی ہیں۔پراپرٹی کی خریداری بھی مہنگی نہیں ہوگی کیونکہ اس پر سروس ٹیکس فی الحال پرانی شرحوں یعنی 12.36 فیصد پر برقرار رہے گا۔ بجٹ پارلیمنٹ میں پاس ہونے اور صدر جمہوریہ کی اس پر منظوری کے بعد ہی اس پر 14 فیصدی کی نئی شرح نافذ ہوگی۔ ابھی اس کی نافذالعمل شرح 12.36 فیصد ہے۔ لائف انشورنس اسکیم، سینئر سٹی زن پنشن، بیمہ اسکیم، ایمبولنس سروس، پھلوں و سبزیوں کی خوردہ پیکنگ پر بھی کوئی سروس ٹیکس نہیں لگے گا۔ وہیں دوسری طرف ہوائی سفر مہنگا ہوجائے گا کیونکہ اب ٹکٹ کی 60 فیصدقیمت پر سروس ٹیکس لیا جائے گا جو ابھی 40 فیصد قیمت پر لگتا تھا۔ اکونومی کلاس کو چھوڑ کر دیگر کلاس ٹکٹ پر سروس ٹیکس کے معاملے میں چھوٹ کا تناسب گھٹایا جارہا ہے۔ میوچل فنڈ کے ایجنٹوں کے ذریعے دی جارہی خدمات، لاٹری ٹکٹوں کی مارکٹنگ، شعبہ جاتی طریقے پر چلائے جارہے پبلک ٹیلی فون، ہوائی اڈے و اسپتالوں سے ٹیکس فون عمدہ کلاس سروس ٹیکس کے دائرے میں ہوں گے۔ جہاں تک چٹ فنڈ سے متعلق سروس ٹیکس کی ادائیگی ، ٹیکس، کمیشن یا اس طرح کی دیگر رقوم حاصل کرنے والے چٹ فنڈ فور مین کے ذریعے کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ جیٹلی نے صرف چاول، دال، آٹا، دودھ، نمک کی ڈھلائی کو ہی سروس ٹیکس سے چھوٹ دی ہے۔ باقی غذائی اجناس پر سروس ٹیکس دینا ہوگا۔ مطلب چائے کی پتتی سے لیکر، جیم، جیلی جیسے فوڈ پروسس پروڈیکٹس ہوں یا آلو، پیاز، چنا، مصور کی ڈھلائی،سبھی پر سروس ٹیکس لگے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے قیمتیں بڑھیں گی۔ رہی سہی کثر بے موسم بارش پوری کردے گی کیونکہ ککڑی، کھیرا، توری، لوکی، میتھی، پالک وکریلی کی فصل تباہ ہوگئی ہے۔
(انل نریندر)

03 اپریل 2015

جمہوریت کی کمی سے ڈھائی برس میں بکھر گئی ’آپ‘ پارٹی

دہلی کی حکومت پر حال ہی میں برسراقتدار آئی عام آدمی پارٹی نے نیا گھمسان یقینی طور سے پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے لیکن جس طرح سے پارٹی میں رسہ کشی جاری ہے وہ سبھی کیلئے باعث تشویش ہے۔ دیش میں الگ طرح کی سیاست کا آغاز کرنے اور سوراج لانے کا دعوی کر،وجود میں آئی عام آدمی پارٹی کا کنبہ اپنی ہی پارٹی میں سوراج اور جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے محض ڈھائی برس میں بکھر رہی ہے۔ جن لوک پال تحریک سے نکلی اس پارٹی نے اپنے جنم سے ٹھیک پہلے سماجی کارکن انا ہزارے کو چھوڑدیا تھا تو اب پارٹی کے بانی ممبر پرشانت بھوشن ، یوگیندر یادو بھی پارٹی سے باہر ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ کئی سینئر لیڈر پہلے ہی پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر دوسری پارٹیوں کا دامن تھام چکے ہیں۔ سنیچر کو ہوئی قومی کونسل کی میٹنگ میں یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن اور ان کے ساتھ ہی آنند کمار اور اجیت جھا کو بھی قومی ایگزیکٹو کونسل سے باہر کرنے کا فیصلہ یقینی طور سے افسوسناک ہے۔ عام آدمی پارٹی کی تشکیل رائج سیاست کے طور طریقے بدلنے اور نیا سیاسی کلچر قائم کرنے کے مقصد سے ہوئی تھی۔کئی بار اس کی باندگی بھی دیش کی جمہوریت میں اصولوں اور اقدار کا بڑا مول ہے۔ صبر اور برداشت اور دوسرے کے تئیں احترام اس کی بنیاد ہے۔زبانی نرم گوئی کی خلاف ورزی یہاں قطعی ناقابل قبول ہے لیکن عام آدمی پارٹی کے تنازعے میں جس طرح کی زبان کا استعمال ہو رہا ہے اسے قابل ملامت ہی کہا جاسکتا ہے۔خاص طور سے اس شخص کے منہ سے جو ایک ریاست کے وزیر اعلی کے آئینی عہدے پر فائض ہو۔ عام آدمی پارٹی اتنی جلدی اعلانیہ مقاصد سے بھٹک جائے گی،رسہ کشی اور نجی غرور کا شکار ہوجائے گی یہ تصور شاید ہی کسی نے کیا ہوگا۔ تمام رضاکار چاہتے تھے کہ پارٹی میں اٹھائے گئے اندرونی جمہوریت کے سوالوں پر غور ہو، ساتھ ہی پارٹی کا اتحاد بھی بنا رہے لیکن ان کو ان سنا کردیا گیا۔ یوگیندر یادو ،پرشانت بھوشن کو سیاسی معاملوں کی کمیٹی سے پہلے ہی ہٹا دیا گیا تھا۔ قومی ایگزیکٹو کونسل میں 8 کے مقابلے11 ووٹ سے یہ فیصلہ ہوا۔ صاف تھا کہ یہ ایگزیکٹو کی میٹنگ کی عام رائے نہیں تھی۔ اروند کیجریوال کی ضد کے دباؤ میں یہ فیصلہ ہوا تھا۔ قومی کونسل کی میٹنگ میں یہ فیصلہ جس طرح سے ہوا وہ جمہوری عمل کا مذاق ہی کہا جائے گا۔ جن پر پارٹی مخالف سرگرمیوں کا الزام لگایا گیا۔ انہیں اپنا موقف رکھنے کا موقعہ تک نہیں دیا گیا۔ کونسل کے ممبران کو زبردستی باہر ہی روک دیا گیا۔ کچھ لیڈروں سے مار پیٹ بھی کی گئی۔ عام آدمی پارٹی اور اس کے عہدیداران کے لئے سخت امتحان کی گھڑی ہے۔ نہ صرف عوام سے کئے گئے وعدوں پر کھرا اترنے کی بلکہ اپنے گھٹیانظریئے اور برتاؤ سے اسے خاکے میں کھرا اترنے کی جہاں سے متبادل لیڈروں کا وجود ابھرتا ہے۔ ان کی پارٹی کے اندرونی تعطل کا مسئلہ ہو یا دہلی میونسپل کارپوریشنوں کے تئیں برتاؤ کا ہو، کیجریوال صبر و تحمل کے ضروری پہلو کو کھوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ کبھی خود کو چھوٹا بڑا بھائی ماننے والے اروند کیجریوال ۔ یوگیندر یادو کے درمیان خلیج اتنی گہری ہو گئی ہے کہ اسے بھرنا ممکن نہیں لگتا۔ انتظار بٹوارے باقاعدہ اعلان ہونے کا ہے۔ کم و بیش یوگیندر گروپ بھی مان چکا ہے کہ الگ ہونا طے ہے۔ اب ٹیم یادو کی کوشش یہی ہے کہ متبادل سیاست دینے کے دعوے سے نکلی عام آدمی پارٹی کو ٹیم کیجریوال کے پالے میں جانے نہ دیا جائے۔14 اپریل کو بلائی گئی میٹنگ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ میٹنگ میں شکتی پردرشن کرکے یوگیندر یادو آپ پر اپنا دعوی ٹھونک سکتے ہیں۔ جمہوریت کی کمی میں محض ڈھائی برس میں بن کے بکھر گئی عام آدمی پارٹی۔
(انل نریندر)

سلمان نہیں،میں چلا رہا تھا کار: ڈرائیور

اداکار سلمان خاں کے ہٹ اینڈ رن معاملے میں ایک نیا ڈرامائی موڑ آگیا ہے۔ پیر کو ممبئی کی سیشن عدالت میں سلمان خاں کے ڈرائیور اشوک سنگھ نے ستمبر2002ء میں ہوئے کار حادثے کا الزام خود پر لے لیا۔ اشوک سنگھ کا کہنا ہے کے ہٹ اینڈ رن حادثے کے وقت سلمان خاں نہیں بلکہ وہ خود گاڑی چلا رہے تھے۔ اس حادثے میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی، دیگر 4 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ 28 ستمبر2002ء کو نشے کی حالت میں سبسٹی باندرا میں ایک بیکری میں اپنی لینڈ کروزر گاڑی کو گھسانے دینے کے ملزم سلمان خاں نے پچھلے ہفتے عدالت کو بتایا تھا کہ سنگھ کار چلا رہا تھا۔ ڈرائیور اشوک سنگھ پیر کو پہلی بار عدالت میں اپنا بیان درج کراتے ہوئے کہا کہ گاڑی کا پچھلا ٹائر پھٹنے سے ہوئے حادثے کے وقت کار وہ خود چلا رہا تھا نہ کہ سلمان خاں۔ یہ پہلا موقعہ تھا جب سلمان خاں نے انکشاف کیا تھا۔ 22 سالہ ڈرائیور اشوک سنگھ بچاؤ کے گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے تھے اور سلمان کے بیان سے پوری طرح ملتا جلتا ہی بیان دیا۔ واقعہ کی تفصیل رکھتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ ایک ٹائر پھٹا اور کار بائیں طرف گھسٹتی چلی گئی۔ میں نے کار کے اسٹیرنگ ویل کو گھمانے کی کوشش کی تھی لیکن یہ مشکل تھا۔ اس کے بعد میں نے بریک لگانے کی کوشش کی لیکن تب تک کار بیکری کی سیڑھیوں پر چڑھ چکی تھی۔ سلمان خاں کے وکیل سری کانت شیواڈے کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سنگھ نے کہا میں صدمے کی حالت میں تھا اور سلمان بھائی بائیں طرف بیٹھے تھے۔انہوں نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ جام ہوگیا تھا۔ میں اپنی طرف سے اترا جو دروازہ دائیں طرف تھا۔ سرکاری وکیل کے ایک سوال کے جواب میں سنگھ نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ سلمان کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن اس نے قبول کیا کہ وہ ان کے خاندان کے تئیں وقف ہیں۔ایک دوسرے سوال پر اس نے کہا کہ اسے پتہ تھا کہ حادثے میں ایک شخص کی موت ہوگئی ہے اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اس نے ایک جرم کیا ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ جب اسے پتہ تھا کہ خان کو غلط طریقے سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو اتنے وقت تک وہ کیوں چپ رہا؟ سنگھ نے کہا اسے پتہ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے، سنگھ نے کہا کہ سلیم خاں کے ذریعے صلاح دینے کے بعد وہ عدالت میں آیا ہے۔ وہ اب بھی خاں پریوار کے لئے کام کررہا ہے۔ ایک سوال پر سنگھ نے اس بات سے انکار کیا کہ اگر گاڑی100 سے140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہو تو ٹائر پھٹے گا۔ سنگھ کا بیان کانسٹیبل رویندر پاٹل کے بیان سے بالکل الٹ ہے جس کی معاملے کی سماعت کے دوران ہی ٹی بی سے موت ہوچکی ہے۔ اس معاملے میں سلمان پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ چل رہا ہے جس میں قصوروار ثابت ہونے پر انہیں10 برس تک کی قید ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

02 اپریل 2015

جموں وکشمیر میں پرانے زخم بھرے نہیں، نئی مصیبتیں کھڑی ہوگئیں

سرزمیں پر جنت کہی جانے والی کشمیر وادی میں ان دنوں پھر چاروں طرف تباہی کا منظردکھائی دے رہا ہے۔ کشمیرکا دور دراز علاقہ پانی کے بھراؤ کی سنگین حالات کی کہانی بیاں کررہا ہے۔تمام بازار بند ہیں اور لوگ اپنے گھروں کی بالائی منزل میں بیٹھ کر چاروں طرف جمع پانی کو دیکھ کر خوفزدہ ہیں۔ کہیں یہ پچھلے ستمبر کی تباہی کی شروعات تو نہیں ہے؟ بارش مسلسل ہورہی ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ محکمہ موسمیات نے 3 اپریل تک موسم خراب رہنے کی پیش گوئی کرکے لوگوں کی دھڑکنیں بڑھا دی ہیں۔ لوگ کنبوں سمیت محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کررہے ہیں۔ ڈل جھیل کے پانی کی سطح میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے باوجود جھیل کے کنارے شکارے والے سیاحوں کا انتظار کررہے ہیں۔ کشمیر وادی میں تازہ سیلاب کی صورتحال اتنی سنگین فی الحال تو نہیں ہے لیکن اس سے شہریوں کے دل میں گزشتہ ستمبر 2014ء کے خوفناک ترین سیلاب کی یادیں تازہ ہوگئی ہیں۔پچھلے سیلاب میں جس حد تک تباہی ہوئی تھی اور کشمیر وادی کا ہر شہری کسی نہ کسی طرح سے متاثر ہوا تھا اس کے اثر کو اب بھی محسوس کیا جارہا ہے۔ اس لئے سرینگر میں جب جہلم ندی سیلاب کے خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہی تھی، تبھی لوگوں نے محفوظ مقامات پر جانا شروع کردیا تھا۔ مسلسل بارش سے پیر کی صبح جہلم ندی کی آبی سطح خطرے کے نشان سے اوپر چلی گئی تھی۔ اور ندی کے قریب رہنے والے لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا۔ کشمیر کے دیہی علاقوں میں سیلاب کا اثر پہلے سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ کئی راستے سیلاب کی وجہ سے بند ہوگئے ہیں اور کچھ لوگوں کے مرنے کی خبریں بھی آئی ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ستمبر کے واقعے سے سبق لے کر انتظامیہ اس مرتبہ کافی چوکس ہے اور تیزی سے راحت رسانی اور بچاؤ کا کام ہورہا ہے۔ جموں وکشمیر میں آئے سیلاب سے بچاؤ اور راحت کی کمان مرکزی حکومت نے سنبھال لی ہے۔ صوبے کے حالات پر وزیر اعظم نریندر مودی کی سیدھی نظر ہے۔وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ریاست کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید سے بات کر حالات کا جائزہ لیا۔ وزیر داخلہ نے مفتی کو با آور کیا ہے کے راحت سامان کم سے کم وقت میں جہازوں کے ذریعے صوبے کے متاثرہ علاقوں میں پہنچایا جائے گا۔ سرینگر میں پھنسے سیاح جلد سے جلد اپنے خاندانوں سمیت واپس لوٹنے کی جگت میں ہیں۔ کئی ہوٹلوں کی ایڈوانس بکنگ کینسل ہوچکی ہے۔ تمام مکان ساڑھے تین فٹ پانی سے گھرے ہوئے ہیں۔پانی کی نکاسی کے لئے پمپ سیٹ لگائے گئے ہیں ،لیکن وہ کافی نہیں ہیں۔ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بنا ہوا ہے۔ جموں کا علاقہ بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ حال ہی میں اقتدار سنبھالنے والی مفتی محمد سعید اور بھاجپا اتحادی حکومت کے لئے یہ چنوتی بن کر آئی ہے کہ وہ کتنی جلد اور زیادہ سے زیادہ متاثرہ لوگوں کو امداد پہنچا سکتے ہیں؟ محفوظ نکال سکتے ہیں۔ اس فوج پر جس پر پتھراؤ کرتے کشمیری اب اسی کے سہارے ہیں۔ فوج پوری طرح بچاؤ و راحت کے کاموں میں لگی ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں پرانے زخم بھرے نہیں کہ نئی مصیبتیں سر پر آگئی ہیں۔
(انل نریندر)

دھار اور مونگیر کے غیر قانونی ہتھیاروں سے بڑے ہیں جرائم

راجدھانی میں تیزی سے بڑھتے جرائم کے گراف کو دیکھ کر گھبراہٹ ہونا فطری ہی ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے اس سال راجدھانی میں جرائم 100 فیصدی سے زیادہ بڑھے ہیں۔ تیزی سے بڑھتے جرائم کے پیچھے غیر قانونی ہتھیاروں کی آسانی سے دستیابی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ دھر پکڑ والے ہتھیاروں کی بڑھتی تعداد بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے۔ چھوٹے بدمعاشوں سے لیکر منظم ڈھنگ سے واردات انجام دینے والے ان کا بخوبی استعمال کررہے ہیں۔ بہار کے مونگیر اور مدھیہ پردیش کے دھار علاقے سے سپلائر راجدھانی دہلی میں بیحد کم داموں پر مانگ پر یہ ہتھیار سپلائی کررہے ہیں۔ جون 2014ء میں تو پولیس نے میڈ اِن مونگیر اے ۔ کے 47 بندوق تک پکڑ لی تھی۔ پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ طمنچے (کٹا) کا چلن اب کافی پرانا ہوگیا ہے۔ بدمعاش طمنچہ کے بجائے میگزین والی دیسی پستول کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جہاں تک کوالٹی کی بات ہے تو مونگیر اور دھار میں بنے ہتھیار غیر ملکی پستول کو ٹکر دے رہے ہیں۔ دہلی این سی آر کے سپلائروں کا مونگیر اور دھار کے غیر قانونی ہتھیار بنانے والے گروہوں سے سیدھا تعلق ہے۔ یہ لوگ خود ہتھیار جاکر لاتے ہیں جبکہ کئی بار انہیں کوریئر(اسلحہ لانے) والے بھی اسے لیکر آتے ہیں۔ پکڑے گئے ہتھیار سپلائروں نے انکشاف کیا ہے کہ گروہ جس طرح کے ہتھیاروں کی مانگ کرتے ہیں انہیں بیحد کم داموں پر دستیاب کرا دیا جاتا ہے۔ چونکانے والی بات تو یہ بھی ہے کہ بہار اور مدھیہ پردیش کے جنگلوں میں چل رہی فیکٹروں میں بننے والے ہتھیاروں کی سپلائی نکسلی اور پاکستانی آتنک وادیوں تک کو بھی ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا خلاصہ اس وقت سامنے آیاتھا جب کچھ وقت پہلے دہلی پولیس نے پاکستانی آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے ایک دہشت گرد کو گرفتار کیا تھا۔اس سے پوچھ گچھ پر پتہ چلا تھا کہ ان کو ہتھیار سرحد پار سے لانے میں کافی پریشانی ہوتی ہے۔ اب بھارت میں کچھ غیر قانونی فیکٹریوں سے ہی ان کو موٹی رقم دے کر ہتھیار مل جاتے ہیں۔ خیال رہے کہ علی پور کے بختاور پور میں واقع فارم ہاؤس میں غیر قانونی ہتھیاروں کا ذخیرہ برآمد ہوا تھا۔پکڑے گئے تین ملزمان سے پوچھ گچھ پر پتہ چلا تھا کہ غیر قانونی ہتھیاروں کی فیکٹری سنبھالنے والے پاکستانی آتنکی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ پولیس کے ذرائع بتاتے ہیں کہ اسی طرح سے ماؤ وادیوں اور نکسلیوں کو بھی بہار اور مدھیہ پردیش کے جنگلوں میں بننے والے ہتھیار سپلائی ہورہے ہیں۔ میں ڈبل بیرل کی شاٹ گنج اور سنگل بیرل کی گن بھی ہے۔ ماؤ وادی سب سے زیادہ انہی گن کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے اسپیشل سیل کے ذریعے دہلی کے کشمیری گیٹ پر واقع بس اڈے سے پکڑی گئی درجن بھر گنوں کے بعد یہ بھی خلاصہ ہوا کہ گن کا استعمال یوپی ۔ ہریانہ باہوبلی ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی کرتے ہیں جن کو کمپنیوں میں سکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنی ہوتی ہے۔ ایسے سکیورٹی گارڈ کے پاس نہ تو ہتھیاروں کا لائسنس ہوتا ہے اور نہ ہی گن ہوتی ہے، پچھلے پانچ برسوں میں ناجائز ہتھیاروں کی سپلائی سب سے زیداہ ہورہی ہے۔ پچھلے 7-8 برسوں میں بدمعاشوں کے ہتھیار بھی بدلے ہیں۔
(انل نریندر)

01 اپریل 2015

دنیا کی نمبرون بیڈ منٹن کھلاڑی سائنا نہوال

دونوں دن پہلے کرکٹ ورلڈ کپ میں ٹیم انڈیا کی ہار سے دیش کے کھیل شائقین میں چھائی مایوسی سنیچر کے روز کچھ حد تک ضرور دور ہوگئی۔کرکٹ کے سیمی فائنل میں ہندوستان جمعرات کو آسٹریلیا سے ہار کر باہرہوگیا تھا لیکن سنیچر کو ہی ایک دوسرے کھیل بیڈ منٹن میں جشن منانے والی خبر آئی۔ ہندوستان کی نمبرون خاتون شاٹلر سائنا نہوال نے ورلڈ بیڈ منٹن شپ میں اپنا دبدبہ ثابت کردیا اور دنیا کی نمبرون کھلاڑی بن گئیں۔ سائنا نہوال نے ورلڈ رینکنگ میں نمبرون پر پہنچنے والی پہلی خاتون بیڈمنٹن کھلاڑی بن کر تاریخ رقم کردی۔ سائنا نے نمبرون کے تاج پر اس وقت قبضہ جما لیا جب ان کی قریبی حریف اسپین کی کیرولینامارن یہاں انڈیا اوپن سپر سیریز سیمی فائنل میں ہارگئیں۔ پرکاش پڈکون نمبر ون کھلاڑی رہ چکے ہیں ۔لیکن خاتون ٹیم میں سائنا نے ایسا کرکے نئی تاریخ رقم کرڈالی۔ لیکن جشن کا مزہ تب اور بڑھ گیا جب سائنا نے سٹی فورڈ کمپلیکس کوڈ میں چل رہے چیونکس ۔سنرائز انڈیا اوپن سپر سیریز کے فائنل میں جگہ بنائی۔ ہندوستان کے ایک اور کھلاڑی کے۔ سری کانت نے بھی فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ یوں تو سائنا سیمی فائنل کھیلے جانے سے پہلے ہی دنیا کی نمبر ون کھلاڑی بن گئیں تھیں۔ ویسے سرکاری طور پر رینکنگ اگلے ہفتے جاری ہوگی لیکن چارل کی ہار سے سائنا کا نمبر ون بننا طے ہے۔ دوسری سیٹ موجودہ ورلڈ چمپئن مارن کو، تیسرے سیٹ تھائی لینڈ کی ریٹنا چوک رن تانون نے21-19 ،21-23 ، 22-20 سے ہرایا۔ دوسرے سیمی فائنل میں سائنا نے چمپئن کی طرح کھیلتے ہوئے یوئی ہاشی مولی کو صرف گیموں میں21-15 ، 21-11 سے ہرایا۔ یہ جاننا بھی کم دلچسپ نہیں ہے کہ 2 سال پہلے ہاشی مولی نے سائنا کو ہراکر انڈیا اوپن سے باہر کردیا تھا۔ سائنا سیمی فائنل میں ہارتی تو بھی ان کے 75761 پوائنٹ ہوتے۔آخری چار میں پہنچنے کیلئے انہیں 6420 پوائنٹ ملیں گے۔ کیرولینا کو بھی سیمی فائنل میں پہنچنے کے 6420 نمبر ملے جس سے ان کا کل ٹوٹل 73618 ہوگیا۔ لندن اولمپک میں تانبے کا میڈل جیتنے والے سائنا نے اپنے کیریئر میں اب تک14 بین الاقوامی خطاب جیتے ہیں۔ حال ہی میں وہ آل انگلینڈ چمپئن شپ فائنل میں پہنچنے والی پہلی خاتون ہندوستانی بنی تھیں۔ رینکنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر سائنا نے کہا فی الحال میرا پلان نمبر ون رینکنگ پر نہیں ہے ، میں ابھی تمام ٹورنامنٹوں میں کھیلنے اور جیتنے پر اپنے آپ کو مرکوز کررہی ہوں۔ انہوں نے کہا میں اچھا کھیل کھیلنا چاہتی ہوں اور ان کھلاڑیوں کو ہارانا چاہتی ہوں جن سے ہار رہی تھی۔ میں اس طرح سے ہارنا نہیں چاہتی جیسے پچھلے تین برسوں میں ہاری ہوں۔ میں لگاتار اچھا کھیلنا چاہتی ہوں۔ رینکنگ برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے اور اس کے لئے زیادہ تر اچھا کھیل کا مظاہرہ ضروری ہوتا ہے۔ سائنا نمبر ون رینکنگ کو بنائے رکھنا چاہتی ہوں گی ہم انہیں اس شاندار کارنامے پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ کچھ حد تک ورلڈ کپ کرکٹ میں ہار کا غم کچھ کم ضرور ہوا ہے۔
(انل نریندر)

بھرت سنگھ کے قتل سے گینگ وار کا اندیشہ

راجدھانی دہلی کے نجف گڑھ علاقے میں ایتوار کی رات نامعلوم حملہ آوروں نے انڈین نیشنل لوک دل (انلو) کے سابق ممبر اسمبلی و دہلی پردیش کے پردھان بھرت سنگھ کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کردیا گیا۔ واردات کے وقت بھرت سنگھ ایک رشتے دار کے کنواں پوجن سماروہ میں شامل ہونے امندرواٹکا آئے ہوئے تھے۔ اسی دوران اسکارپیو کار سے آئے آدھا درجن بدمعاشوں نے ان کی کار پر حملہ بول دیا۔ بدمعاشوں نے اندھا دھند 40 سے50 راؤنڈ فائرننگ کی اور حملے کے بعد فرار ہوگئے۔ حملے میں چودھری بھرت سنگھ کو 7-8 گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کے سر پر لگی جس سے ان کی حالت بہت نازک بنی ہوئی تھی لیکن دیر رات ان کی موت ہوگئی۔نجف گڑھ کے سابق ممبر اسمبلی کے لئے تیسرا حملہ جان لیوا ثابت ہوا۔ بھرت سنگھ کے گھر پر بدمعاشوں نے گذشتہ28 فروری کی شام کو بھی حملہ کیا تھا۔ ان کے گھر پر گولی چلاکر بائیک سوار بدمعاش فرار ہوگئے تھے۔ گولیاں چلاتے وقت انہوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ اسے جان سے مار دیں گے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق اس واردات کے بعد سے بھرت کافی ڈرا ہوا تھا۔ دراصل اس کے اوپر تین سال پہلے ہوئے قاتلانہ حملے کے ملزمان ضمانت لے کر حال ہی میں جیل سے باہر آئے تھے۔ بھارت سنگھ نے ان کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی۔ ساتھ ہی اس کے کچھ رشتے داروں نے حملے کو لیکر آنے والے وقت میں عدالت میں گواہی دینی ہے۔ اس کے چلتے اسے اپنی جان کا خطرہ بنا ہوا تھا۔ اس نے یہ بات پولیس کو بھی بتائی تھی۔ ایف آئی آر میں کشن پہلوان نے کسی حملہ آور کا نام لیا تھا۔ کشن پہلوان بھرت سنگھ کا بھائی ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ28 فروری کی شام گھر پر موجود تھا۔ تقریباً8 بجے اچانک اس کے گھر پر کسی شخص نے گولی چلائی۔ گھر پر تعینات گارڈ جب باہر نکلا تو اس نے بائیک سوار بدمعاشوں کو فائر کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ دھمکی دیتے ہوئے جا رہے تھے کہ جان سے مار دیں گے۔ چودھری بھرت سنگھ 2008ء میں نجف گڑھ سے بطور آزاد ممبر اسمبلی چنے گئے تھے۔ بعد میں وہ انڈین نیشنل لوک دل میں شامل ہوگئے۔
ممبر اسمبلی رہنے کے دوران ان کی سکیورٹی سخت تھی جب ان پر 2012ء میں حملہ ہوا تو سکیورٹی گارڈوں کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا تھا۔ لیکن عام آدمی پارٹی کی لہر میں بھرت سنگھ نجف گڑھ سے مسلسل دو بار2013-2015 میں چناؤ ہار گئے تھے اور ان کو ممبر اسمبلی کے طور پر ملی سکیورٹی بھی چلی گئی۔ بھرت سنگھ کے بھائی کشن پہلوان پر قریب 27 جرائم کے معاملے درج ہیں۔ قریب7 معاملے بھرت سنگھ پر بھی درج ہیں۔ بھرت سنگھ پر حملے کے بعد دہلی پولیس کو ایک بار پھر سے گینگ وار شروع ہونے کی چنوتی کا سامنا کرنا ہوگا۔ بھرت سنگھ کے بھائی کشن پہلوان کی چھالوناتھ کے گینگ گروہ سے گینگ وار کی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق بلراج گینگ اور کشن پہلوان کے درمیان بھی رنگ داری کے لئے کانٹریکٹ کلنگ کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔ اس کی شروعات گزشتہ 90 کی دہائی میں ہوئی تھی۔ واردات کے لئے آئے بدمعاشوں میں جیل میں رہے کچھ لوگوں کے بھی شامل ہونے کا شک ہے۔ پولیس کا کہنا ہے جس طرح سے حملہ آوروں نے گولیاں چلائی تھیں وہ بھی پیشہ وارانہ بدمعاش تھے۔
(انل نریندر)

Middle East Asia sparks once again due to Saudi attack on Yemen

Aerial attacks started on last Thursday under Saudi leadership on Shia Hudi rebels’ areas in Arab country Yemen reaching on the verge of Civil War. With the decamping of President Abid Rabbu Mansoor Hadi out of country, situations in Yemen are turning from bad to worse.  Situations have worsened due to serious attacks against Shia Hudi rebels, group of Shias in the country, by Saudi Arabia to prevent their increasing influence. Saudi Arabia has claimed that it has disabled the Air Force of Hudi rebels on the very first day. It should be noted that these rebels have captured capital city Sana and surrounding areas. Saudi Ambassador in US, Adil-al-Zuber has said that presently the action is confined to aerial attacks on various targets yet all possible will be done to save the internationally recognized Yemen Government. As Yemen President Abid Rabbu Mansoor Hadi had sought help from other countries including Saudi Arabia, this military mission has been started. Soon after the Arab Revolution of 2011, Yemen is facing conflict between Shias and Sunnis, wherein organizations like Al-Qaeda and Islamic State are supporting the Sunnis. Meanwhile traditional of Sunni majority Saudi Arabia and main accomplice of Hudi Milisia, Iran has criticized Saudi Arabia and accused that Saudi attacks are on the pretext of the US. Iran has warned that Yemen can divide due the dangerous step of Saudi. Hudi Milisia controlled channel displayed the pictures of cities after Saudi attacks, wherein everywhere dumps of corpses and injured people are visible. Now Jordan has also joined Saudi Arabia associates in this war against rebels in Yemen. More than 10 countries like United Arab Emirates, Egypt, Kuwait, Bahrain and Qatar besides Jordan have joined this alliance of Gulf countries. US President Barak Obama has announced to provide military and intelligence support to this alliance. Iran has uttered its support to Hudi Milisia in Yemen. It is believed that Hudi rebels involved in dislocating the government in Yemen are supported by Iran. US favouring President Abid Rabbu Mansoor Hadi has to decamp due to leading of Shia Hudi rebels.  Attacks of international alliance in Yemen under Saudi leadership have created possibility of Islamic World plunging in long Shia-Sunni war. Iran is playing a prime role in war against extremist Sunni group maintaining ‘Khilafat’ (Islamic State-IS) in Iraq and Syria. IS, Hudi and Al-Qaeda have become a source of violence and terrorism in the entire area due to their strict ideology. Question arises that will Hudi, IS and remaining extremist groups be defeated? It would have been possible if all countries including Saudi Arabia and Iran would have uniformity against both extremists Shias and Sunnis, while there is real fear of these two sects of Islam coming face to face in present situation. Anyway, impact of recent war in West Asia is seen in the oil market also. Crude oil prices have gone up by one and half dollar per barrel with the Saudi attacks. It can be expected this war should conclude as soon as possible achieving its objective to end the existing extremism soon. It wouldn’t have much economic effects, if the conflict is limited to Yemen having no extension, but we are bound to face the increase in oil prices.

-        Anil Narendra

 

31 مارچ 2015

سونیا’ بیچاری‘ اور’ راہل آؤٹ آف مارکیٹ‘

جب وقت برا ہوتا ہے تو پرچھائی بھی دور بھاگتی ہے۔کانگریس لیڈر شپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ گاندھی ۔ نہرو خاندان کے وفادار رہے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ہنسراج بھاردواج نے پچھلے ہفتے پارٹی لیڈر شپ پر سوال کھڑے کرتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ہنسراج بھاردواج نے کہا کہ اب کانگریس کا دوبارہ کھڑا ہونا مشکل ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی گمشدگی پر تلخ سیاسی حملہ کرتے ہوئے بھاردواج نے کہا کہ راہل تو مارکیٹ میں نہیں ہیں اور کانگریس کو دوبارہ کھڑا کرنا تو ’’بیچاری‘‘ سونیا کے بس کی بات نہیں ہے۔ بھاردواج نے کہا کہ کانگریس اب کبھی دوبارہ کھڑی نہیں ہوپائے گی کیونکہ لوگ اب اس کی سننے تک کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس کو اگر دوبارہ کھڑا کرنا ہے تو پھر پرینکا کو لائے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔لوک سبھا چناؤ کے بعد سونیا ۔ راہل پر پارٹی لیڈروں نے پہلے بھی حملے کئے ہیں ، مگر پہلی بار گاندھی خاندان کے قریبی کسی سینئر لیڈر نے دونوں لیڈروں پر شارے عام اور تلخ حملہ کیاہے پرینکا کو آگے کرنے کی وکالت کرتے ہوئے بھاردواج نے کہا کہ جب یہ لڑکی کام کرتی ہے تو اس کا انداز ہی کچھ دوسرا ہوتا ہے۔ لوگ اس کو چاہتے ہیں۔ کانگریس ہائی کمان کے ارد گرد قابض لیڈروں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقت میں اگر سونیا پارٹی کو چلانے چاہتی ہیں تو سب کو بلائیں اور سب کو کہیں کہ کام کریں۔ لیکن ان کے ارد گرد تو صرف تین چار لوگ ہی ہیں اور وہ جو کہہ دیتے ہیں وہی ٹھیک ہے۔ حقیقت میں کانگریس اس وقت ریل کا ڈبہ ہوگئی ہے جو پھنس گیا تو پھنس گیا۔ پارٹی کی اس دردشا کے لئے راہل پر طنزیہ حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ بے وجہ انہیں ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، وہ تو مارکیٹ میں ہیں ہی نہیں۔ ہمیں سونیا گاندھی سے ہمدردی ہورہی ہے۔ راہل کے مارکیٹ سے غائب ہونے کی وجہ سے انہیں دوگنی محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ وہ اب سڑکوں پر اتر آئی ہیں۔ ہنسراج بھاردواج کے قول سے کانگریس کے اس گروپ کو تھوڑی مایوسی ضرور ہوگی جو بلاتاخیر راہل گاندھی کی تاجپوشی چاہتا ہے۔ ہنسراج بھاردواج نے ٹو جی گھوٹالے اور انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کی متنازعہ دفعہ66A کے لئے ذمہ دار لیڈروں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی۔سوال یہ ہے کہ اتنے دنوں بعد بھاردواج جی کیوں بول رہے ہیں؟ انہیں تو تبھی سامنے آنا چاہئے تھا جب وہ سرکار اور پارٹی میں گڑ بڑہوتے دیکھ رہے تھے۔ جس طرح ہنسراج بھاردواج کی ناراضگی سامنے آنے کے بعد یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں اسی طرح کانگریس کی حالت و سمت کے بارے میں بھی جاننا مشکل ہے۔ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ راہل گاندھی ایک نئی طرح کی سیاست کرنے کا ارادہ تو رکھتے ہیں لیکن وہ اچانک غائب ہوجاتے ہیں۔جب انہیں میدان میں ہونا چاہئے تب وہ غائب ہیں۔ بیشک کانگریس اپنے ترجمان کی فوج کھڑی کر اپنا بچاؤ تو کرسکتی ہے لیکن نہ تو وہ یہ بتا سکتے کہ راہل کہاں ہیں ،کب واپس آئیں گے۔ بیچاری سونیا گاندھی کو خراب طبیعت کے باوجود قیادت دینی پڑ رہی ہے۔
(انل نریندر)

یمن پر سعودی حملے سے پھر سلگ گیا وسط مشرقی ایشیا

خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکے عرب ملک یمن شیعہ حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر سعودی عرب کی قیادت میں پچھلی جمعرات کو ہوائی حملے شروع کئے گئے۔ صدر عبدربہ منصورہادی کے دیش چھوڑ کر بھاگنے کے بعد یمن میں حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ سعودی عرب میں دیش میں شیعوں کے گروپ حوثی ملیشیا کے باغیوں کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لئے ان کے خلاف تابڑ توڑ حملے سے حالات اور زیادہ خراب ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب نے دعوی کیا ہے کہ اس نے پہلے ہی دن حوثی باغیوں کی ایئر فورس کو ناکام کردیا ہے۔ خیال رہے کہ راجدھانی صنعاء او ر کے آس پاس کے علاقوں میں ان باغیوں کا قبضہ ہے۔ امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر عادل الزبیر نے کہا کہ فی الحال کارروائی مختلف ٹاگیٹ پر ہوائی حملے تک محدود ہے لیکن یمن کی بین الاقوامی منظوری یافتہ سرکار کو بچانے کیلئے جو بھی کرنا ہوگا کیا جائے گا۔یمن کے صدرعبدربہ منصورہادی نے سعودی عرب سمیت دیگر ملکوں سے مدد مانگی تھی۔ اس لئے یہ فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔یمن میں 2011ء میں ارب انقلاب کے بعد سے ہی شیعہ سنی کے درمیان لڑائی چل رہی ہے جس میں سنیوں کوحمایت القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ جیسی تنظیمیں دے رہی ہیں۔ اس درمیان سنی اکثریتی عرب کے روایتی مانے جانے والے اور حوثی ملیشیا کے خاص اتحادی ایران میں سعودی عرب کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سعودی عرب یہ حملے امریکہ کے اشارے پر کررہا ہے۔ ایران نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے اس خطرناک قدم سے یمن بکھر اور بٹ سکتا ہے۔ حوثی ملیشیا کے زیر کنٹرول ٹیلی ویژن چینل نے سعودی ہوائی حملوں کے بعد شہروں کی تصویریں دکھائی ہیں جس میں ہر طرف لاشوں کے ڈھیر اور زخمی لوگ نظر آرہے ہیں۔ یمن میں باغیوں کے خلاف اس لڑائی میں سعودی عرب کے ساتھیوں میں اب اردن بھی شامل ہوگیا ہے۔ خلیجی ملکوں کے اس اتحاد میں اردن کے علاوہ متحدہ عرب امارات ، مصر، کویت، بحرین اور قطر جیسے 10 سے زائد ملک شامل ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے اس اتحاد کو فوجی اور انٹیلی جنس سپورٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وہیں ایرانمیں یمن نے حوثی ملیشیا کی حمایت دینے کی بات کہی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ یمن میں سرکار گرانے آئے حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ شیعہ حوثیباغیوں کی بڑھت کے چلتے امریکہ حامی صدر عبدربہ منصورہادی کو بھاگنا پڑا۔ سعودی عرب کی قیادت والے بین الاقوامی اتحاد کے یمن میں حملے اسلامی دنیا کو لمبی شیعہ سنی جنگ میں پھنس جانے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔عراق اور شام میں ’’خلافت‘‘ (اسلامک اسٹیٹ۔ آئی ایس) بچاؤ کرنے والے کٹرپسند سنی گروپ کے خلاف لڑائی میں ایران نے اہم کردار نبھایا ہوا ہے۔ آئی ایس ، حوثی اور القاعدہ اپنے کٹر پسند نظریئے کی وجہ سے پورے علاقے میں تشدد اور دہشت گردی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔سوال یہ ہے کیا حوثی ، آئی ایس اور باقی شدت پسند گروپوں کوپست کیا جاسکے گا؟ یہ ممکن وآسان ہوتا ہے اگر شیعہ اور سنی دونوں شدت پسندوں کے خلاف سعودی عرب اور ایران سمیت سبھی دیشوں میں بے چینی ہے جبکہ موجودہ حالات میں اسلام کے ان دونوں فرقوں کا آمنے سامنے آکھڑا ہونا درحقیقت خوفناک ہے۔ بہرحال مغربی ایشیا میں بھڑکی تازہ لڑائی کا اثر تیل کے بازار پر بھی پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ سعودی حملوں کے ساتھ کچے تیل کا بھاؤ ڈھیڑ ڈالر فی بیرل بڑھ گیا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ موجودہ جنگ شدت پسندی کو تباہ کرنے کا اپنا مقصد جلد حاصل کرتے ہوئے اس کو جلد سے جلد ختم کیا جائے۔اگر لڑائی یمن میں ہی مرکوز رہتی ہے اور پھیلتی نہیں ہے تو اس کا اقتصادی اثر زیادہ نہیں ہوگا لیکن ہمیں مہنگے تیل کی مار تو جھیلنی پڑسکتی ہے۔
(انل نریندر)

29 مارچ 2015

اٹل جی بھارت رتن کے صحیح حقدار ہیں!

کرشمائی لیڈر بے لاگ مقرر اور متحرک کوی اور حریفوں میں بھی لائق احترام رہے ہیں۔سیاستداں و سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی کو بھارت رتن ملنے سے ہم روزنامہ ہندی ’ویر ارجن‘ روزنامہ ’پرتاپ‘ و ’ساندھیہ ویر ارجن‘ پریواربہت فخر محسوس کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اٹل جی روزنامہ ’ویر ارجن‘ کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔راشٹر دھرم(ماہنا) پانجنہ (ہف روزہ) اور سودیش و ویر ارجن روزنامہ اخبار ۔جریدوں کی ادارت سنبھال چکے ہیں۔ صدر پرنب مکھرجی نے پروٹوکول کو ایک طرف رکھ کران دنوں بیمار چل رہے اٹل جی کی رہائشگاہ کرشنن مینن مارگ پر خود جاکر انہیں ’بھارت رتن‘ سے نوازہ۔ اس موقعے پر واجپئی جی کے کچھ قریبی رشتے دار ،نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے علاوہ کئی وزیر اعلی اور وزیر موجود تھے۔ اس موقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اٹل جی کی زندگی قوم کے لئے وقف رہی۔ وہ دیش کیلئے جئے اورہر پل دیش کے بارے میں سوچا۔ بھارت کے کروڑوں ایسے ورکر ہیں جن کی زندگی باجپئی سے پریرت ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے کہا باجپئی صحیح معنی میں اس اعزاز کے حقدار ہیں۔ آپ کو ’بھارت رتن‘ ملنے سے دیش واسیوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ کانگریس صدر نے مبارکباد دینے کیلئے باجپئی جی کو ایک خط لکھا۔ اپنے خط میں انہوں نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا سیاستداں کے طور پر آپ نے اونچھائیوں کو چھوا ہے ، یہ آپ کی حب الوطنی اور شخصیت ، سنجیدگی اور بردباری، سیاسی زندگی اور وزیر اعظم کے عہدے پر رہتے ہوئے آپ کی خدمات کا احترام ہے۔ اٹل جی جو وزیر اعظم کے عہد میں بھی ’ویر ارجن‘ ’پرتاپ‘ پریوار کو کبھی نہیں بھولے۔ مجھے ان کے ساتھ بیرونی ملک کے دورہ پر جانے کا موقعہ ملا۔ امریکہ میں انہوں نے اقوام متحدہ کو خطاب کرنا تھا تو صحافیوں کی فہرست میں میرا نام بھی تھا۔ یہ خوش قسمتی ہی ہے کہ مجھے ایک اور وزیر اعظم کے ساتھ بھی ملا، وہ تھے سورگیہ راجیو گاندھی جن کے ساتھ میں تاریخی دورہ پر چین گیا تھا۔ جب وہ پاکستان گئے تب بھی میں ان کے ساتھ گیا تھا۔ اٹل جی نے مجھ سے ہمیشہ رابطہ بنائے رکھا۔ میرے سورگیہ پتا جی کے ۔نریندر کی 85 ویں سالگرہ پر ہم نے اپنی رہائشگاہ 97 سندرنگر پر ایک پروگرام رکھا تھا۔ جب میں نے اٹل جی نے کہا کہ وہ اس پروگرام میں شامل ہوکر ہماری عزت بڑھائیں تو وہ ایک دم تیار ہوگئے۔ اور وہ ہمارے گھر تشریف لائے۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ میں نے ایک اداریہ لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’دیش کو باجپئی چلا رہے ہیں یا برجیش مشر؟‘‘ اداریہ چھپتے ہیں مجھے ایک فون آیا اور اٹل جی بول رہے تھے انہوں نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کیوں سمپادک مہودے؟ دیش میں چلا رہا ہوں یا برجیش مشر؟ میرے پاس اس کا جواب تو تھا لیکن میں اٹل جی کو وہ نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن ان کی سادگی پر میں قائل ہوگیا۔ اٹل جی ایسے لیڈر ہیں جن کا سبھی احترام کرتے ہیں۔ اٹل جی کو’بھارت رتن‘ ملنے پر سارا دیش خوش ہے ۔ ہم بھی انہیں اس اعزاز پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔
(انل نریندر)

یوپی اور بہار میں بھاجپا کے گرتے گراف پر سنگھ کی تشویش

مرکز میں مودی حکومت بننے کے بعد ایک بھاجپا تال میل کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں آرایس ایس نے بھاجپا کی سرکار اور تنظیم دونوں پر تشویش جتائی ہے۔ ایک طرف اترپردیش و بہار میں بھاجپا کی گھٹتی مقبولیت پر تشویش ظاہر کی گئی تو دوسری طرف بھاجپا کے قومی صدر امت شا ہ کے طریقہ کار پر بھی نا خوشی کا اظہار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سنگھ ۔بھاجپا تال میل کمیٹی کی میٹنگ میں یوپی ۔بہار میں پارٹی کی گھٹتی مقبولیت پر غور و خوض کیا گیا۔ علاقائی پارٹیوں کے ذریعے سنگھ لیڈر شپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ لوک سبھا چناؤ کے مقابلے یوپی اور بہار میں بھاجپا کی مقبولیت میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ تحویل اراضی بل کو لیکر کسانوں میں جہاں غلط پیغام گیا وہیں جاٹھ ریزرویشن پر سپریم کورٹ کے فیصلے نے بھی پارٹی کی بنیاد گھٹائی ہے۔ اس لئے سنگھ لیڈر شپ نے بھاجپا کو وقت رہتے ان دونوں ریاستوں میں مناسب قدم اٹھانے کی ہدایت دی ہے۔ سنگھ کے مطابق سرکار کا کام کاج اور ممبران پارلیمنٹ کا طریق�ۂ کار بھی تشفی بخش نہیں رہا۔ ادھر سماجی سمرستاابھیان کو لیکر سنگھ کا کہنا ہے مندرمیں سبھی ہندو فرقوں کے لوگوں کو پوجا کا اختیار ہے اور گاؤں گاؤں کے تالاب و آبی ذرائع سے سبھی ذاتوں کو پانی لینے اور شمشان میں بھی ہر فرقے کا شخص داہ سنسکار کا حقدار ہے۔بھاجپااور سنگھ کے سینئر عہدیدارن کی میٹنگ میں بھی امت شاہ کے طریق�ۂ کار پر نا پسندیدگی ظاہر کی گئی۔ شاہ کے ورکروں کے درمیان خود نا آنے اور بھاجپا کے پرانے لیڈروں کو ایک دم درکنار کردئے جانے سے کافی ناراض ہیں۔ سنگھ کی ناراضگی کا اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تال میل کمیٹی کی میٹنگ کے فوراً بعد امت شاہ اور مودی سرکار کے سب سے طاقتور وزرا میں شمار وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی، جو تقریباً40 منٹ تک جاری رہی۔ اس کے فوراً بعد امت شاہ نے بھاجپا کے دوسرے سب سے سینئر لیڈر و مارگ درشک منڈل کے ممبر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی سے بھی ان کے گھر جاکر ملاقات کی۔امت شاہ اس میل ملاقات کے علاوہ اب ماہ کی پہلی اور تیسری پیر کو پارٹی کے11 اشوک روڈ پر واقع دفتر میں بھاجپا ورکروں سے ملا کریں گے۔سنگھ کے ذریعے سرکار کے خلاف بنتے ماحول کی چیتاونی سے بھاجپا حرکت میں آگئی ہے۔ پارٹی نے بینگلورو میں قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ میں ان اشوز پر منتھن کرنے اور منفی نظریئے کو ختم کرنے کے لئے قومی مہم کیلئے ایک خاکہ تیار کرنے کا من بنایا ہے۔ بیشک سرکار کی اسکیموں اور پالیسیوں کو عام لوگوں تک پہنچانے کیلئے بھی پارٹی سطح پر فورم تشکیل دینے پر بھی غور ہوگا۔ اس میٹنگ میں جموں و کشمیر میں سرکار بننے کے بعد اٹھ رہے سوالوں پربھی سنجیدگی سے منتھن ہوگا۔ سنگھ لیڈروں کے قریبی لوگوں کی مانیں تو سنگھ نے جب بزرگوں کی جگہ نوجوانوں کو ذمہ داری دینے اور انہیں آگے لانے کی بات کہی تھی تو اس کا یہ قطعی مطلب نہیں تھا کہ آپ اپنے پرانے بزرگ لیڈروں کو بالکل درکنار کردیں۔ دیکھنا یہ ہے سنگھ کی صلاح کابھاجپا پر کتنا اثر ہوتا ہے۔ 
(انل نریندر)