Translater

21 اکتوبر 2017

ہند کی شان’تاج محل‘ پر نفرت کی سیاست

دنیا بھر میں محبت کی نشانی کے طور پر اپنی پہچان رکھنے والے اور دنیا کے 7 عجائب میں شامل آگرہ کا تاج محل آج ایک غیر ذمہ داربھاجپا ممبر اسمبلی کی بکواس کے سبب بلا وجہ تنازعات کا موضوع بنا ہوا ہے۔ غور طلب ہے کہ میرٹھ کے سردھنا سے بھاجپا کے ممبر اسمبلی سنگیت سوم نے کہا تھا کہ غداروں کے بنائے تاج محل کو تاریخ میں جگہ نہیں ملنی چاہئے۔ یہ ہندوستانی تہذیب پر دھبہ ہے۔ تاج محل بنانے والے مغل حکمراں نے اترپردیش اور ہندوستان سے سبھی ہندوؤں کا سروناش کیا تھا۔ ایسے حکمراں و اس کی عمارتوں کا نام اگر تاریخ میں ہوگا تو وہ بدلا جائے گا۔ ایسا بیہودہ بیان سنگیت سوم نے کیوں دیا؟ مانا جارہا ہے پارٹی میں کچھ دنوں سے الگ تھلگ پڑے سنگیت سوم نے بحث میں رہنے کے لئے ایسا متنازعہ بیان دیا ہے ساتھ ہی خود کے خلاف پارٹی مخالف کام کرنے کے الزام میں کارروائی کرنے کی ضلع بلاک کی سفارش کی روکنے کا دباؤ بنانے کے لئے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت یہ متنازعہ بیان دیا ہے۔دراصل ضلع پنچایت چیئرمینی کے چناؤ میں سوم نے بھاجپا مخالف امیدوار کی حمایت کی تھی۔ حالانکہ جسے انہوں نے حمایت دی وہ ہار گیا۔ اس کو لیکر بی جے پی ضلع پردھان شیو کمار رانا نے پردیش لیڈر شپ کو خط لکھ کر سوم سنگیت کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔ سنگیت سوم مشتعل فرقہ وارانہ بیانات کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تاج محل کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا وہ ان کے خاص طرح کے مزاج کا ہی اظہار کرتا ہے لیکن اس سلسلے کی شروعات ہوئی اس خبر سے اترپردیش کے محکمہ سیاحت نے ریاست کے سیاحتی مقامات کی فہرست سے تاج محل کو ہٹا دیا ہے۔ اس پرتنازعہ اٹھنا ہی تھا۔ فطری طور سے ریاستی حکومت کی ہی کافی کرکری ہوئی اور اگر بھاجپا کے لوگ سوچتے ہیں کہ ایسے بیانوں سے تنازعوں میں انہیں سیاسی فائدہ ہوگا تو ان کا یہ تصور غلط ہے اور غلط فہمی مانی جائے گی۔ تاج محل کے ساتھ پورے دیش کے جذبات جڑے ہوئے ہیں ۔ وہ اسے دنیا بھر کو راغب کرنے والی ایسی وراثت کے طور پر دیکھتے ہیں جس پر انہیں ناز ہے۔ اترپردیش اس پر ناز کرتا آیا ہے کہ تاج محل ان کے پاس ہے۔ یہ بھارت کے سیاحتی مقام اور فنکاری اور کاریگری کا ایک بے مثال نمونہ ہیں۔ مٹھی بھر لوگ ہی ہوں گے جو اسے مذہب یا فرقہ کے چشمے سے دیکھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ خود بھاجپا سرکار کے مرکزی وزیر مہیش شرما، سنگیت سوم جیسے لوگوں کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ دو دن پہلے ہی انہوں نے کہا کہ تاج محل کو سیاحتی مقامات کی فہرست سے ہٹائے جانے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ یہ دنیا کے 7 عجائب میں شامل ہے اور دیش کی چند خوبصورت وراثتوں میں شمار ہے۔ بھارت گھومنے آنے والا شاید ہی کوئی سیاح ہو جو تاج محل کا دیدار نہ کرتا ہو۔تاج محل ہو یا لال قلعہ یہ ہماری وراثت کا اٹوٹ حصہ ہیں اور ان کی تاریخی حیثیت پر نئے سر سے کچھ کہنے سننے سے وہ حقیقت نہیں بدلے گی جو تاریخ کے اوراق میں ان کے بارے میں عرصے سے درج ہے۔ چناوی سیاسی فائدے نقصان کے ذریعے سے کچھ لیڈر ان پر کوئی تبصرہ کرتے ہیں ، تو انہیں سمجھنا ہوگا کہ ایسی بیان بازی خود ان کی سیاست کو زیادہ دور نہیں لے جائے گی بلکہ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسے نیتا اپنے بگڑیل بیانات کی وجہ سے جنتا میں اپنی امیج کھو بیٹھیں۔ بھاجپا ڈسپلن کا دم بھرتی رہی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے ایک ممبر اسمبلی کو ایسا بیہودہ بیان دینے کی کھلی چھوٹ کیوں دی جارہی ہے۔ یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ سنگیت سوم پر پارٹی اعلی کمان کیا کارروائی کرتا ہے؟
(انل نریندر)

ون وومن وکی لکس ڈیفنے کی کار بم سے ہتیا

جب سسٹم فیل ہوتا ہے تو آخر تک لڑنے والا شخص صحافی ہی ہوتا ہے اور سب سے پہلے مارا جانے والا بھی پتر کار ہی ہوتا ہے۔ مالٹا میں پنامہ پیپرس سے مشہور ہوئے سنسنی خیز دستاویزوں کو عام کرنے والی صحافی بلاگر ڈیفن کارووانا گلٹس کی ایک کار بم دھماکہ میں ہتیا کردی گئی ہے۔ اخبار ’دی گارجین‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈیفنے کی پیر کو اس وقت موت ہوگئی جب ان کی کار پیوزو 108 کو ایک طاقتور بم دھماکہ سے اڑادیا گیا۔ڈیفنے کارووانا کو حال ہی میں امریکی نیوز ادارہ پالیٹیکو کے ذریعے ’ون وومن وکی لکس‘ کی شکل میں بیان کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی بلاگر تھی جن کی پوسٹ کو دیش میں سبھی اخباروں کو ملا کر جتنی نشریاتی تعداد بنتی ہے اس سے بھی زیادہ لوگوں کے ذریعے پڑھا جاتا تھا۔ ان کے نئے خلاصے سے مالٹا کے وزیر اعظم جوزف ماسکر اور ان کے دو سب سے قریبی ساتھیوں پر الزام لگائے گئے تھے۔ انکشاف میں تین افراد کو باہری کمپنیوں سے جوڑا گیا اور کہا گیا کہ وہ مالٹا کے پاسپورٹ کو بیچ رہے تھے اور ان کے آذربائیجان حکومت کی طرف سے ادائیگی کی جارہی تھی۔ ڈیفنے کسی میڈیا ادارہ سے وابستہ نہیں تھیں ،صرف رننگ کمینٹری نام سے بلاگ لکھتی تھیں۔ مالٹا کی آبادی 4.5 لاکھ ہے۔4 لاکھ لوگ ڈیفنے کا بلاگ پڑھا کرتے تھے۔ 2.35 منٹ پر ڈیفنے نے آخری بلاگ شیبری کے بارے میں پوسٹ کیا اور کار لیکر نکلیں، اس کے 25 منٹ بعد ہی کار میں دھماکہ ہوگیا۔ مالٹا کے وزیر اعظم جوزف نے بیان جاری کر کہا قتل کانڈ میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ماسکر نے کہا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔ ڈیفنے سیاسی اور شخصی طور پر میری تنقیدکرنے والوں میں سے ایک تھیں لیکن ان باتوں کا قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈیفنے کے بیٹے میتھیو بھی جرنلسٹ ہیں انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا میری ماں قانون اور اسے توڑنے والوں کے درمیان ہمیشہ کھڑی رہیں، اس لئے ماری گئیں۔ پی ایم جوزف ماسکر کی شیبری اور پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی وہ ڈیفنے کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ ویسے پولیس نے اس قتل کی جانچ شروع کردی ہے۔ حالانکہ ابھی تک کسی نے اس قتل کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ بتادیں کہ کچھ وقت پہلے دنیا میں سب سے زیادہ خفیہ طریقے سے کام کرنے والی پنامہ کی کمپنی موساک فونسی کے لاکھوں کاغذات لیک ہوگئے تھے۔ پنامہ پیپرس سے 52 دیشوں کے کرپشن اجاگر ہوئے تھے۔ پاکستان میں تو نواز شریف اور ان کے خاندان پر پنامہ پیپرس کو لیکر کارروائی بھی شروع ہوگئی ہے۔ پنامہ پیپرس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ایک قریبی ساتھی کے مشتبہ منی لانڈرنگ گروہ کا بھی پتہ چلا تھا۔ اس سے جڑے زیادہ تر معاملے پیسے کے مالکوں کی پہچان چھپانے اور پیسے کے ذرائع چھپانے ، کالی کمائی کو سفید کرنے اور ٹیکس چوری کے ہیں۔ ایک اور ایماندار پترکار شہید ہوگیا۔
(انل نریندر)

19 اکتوبر 2017

ایک دیا ہمارے بہادر شہیدوں کیلئے بھی

سبھی قارئین کو دیوالی شبھ اوسر پربدھائی۔ امید کرتے ہیں کے آپ سبھی کے لئے یہ خوش آئین ہو۔ جہاں ہم دیوالی کو بڑے فخر اور جوش کے ساتھ مناتے ہیں وہیں یہ برائی پر اچھائی کی جیت کی علامت بھی ہے۔ ہم سب اپنے رشتے داروں کے ساتھ دیے جلاتے ہیں لیکن اس دیوالی پر ہم ایک دیا ان شہیدوں کی یاد میں بھی جلائیں جنہوں نے ہماری آزادی اور سلامتی کے لئے اپنی جان قربان کردی ہے۔ شہیدوں کو ہم اس طرح خراج عقیدت پیش کریں اور ان کو یاد کرکے ہماری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں تو ان کی جانبازی کے قصے سے ہمارا سر فخر سے اونچا ہوجاتا ہے۔ ہمیں یہ ہیں بھولنا چاہئے کہ یہ بہادر جوان 24 گھنٹے، ہر موسم میں سرحد پر مستعدی سے ڈٹے رہے ہیں تاکہ لوگ اپنے گھروں میں چین کی نیند سو سکیں۔ آئے دن یہ جوان دشمنوں کے دانت کھٹے کرتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی سے ہم سب کو سبق لینے کی ضرورت ہے۔ صوبیدار میجر بانا سنگھ نے 1987ء میں سیاچن کے برفیلے طوفان کے درمیان 1500 فٹ کی چڑھائی کر پاکستانی دراندازوں کو مار گرایا تھا۔ اسی طرح صوبیدار یوگیندر سنگھ نے کارگل جنگ کے دوران اپنے حوصلہ اور بہادری کا ثبوت دیا تھا۔ کارگل جنگ کے دوران وہ کمانڈو ٹیم پلاٹون کے ممبر تھے اور ٹائیگر ہل کے تین بنکروں کو دشمن کے قبضے سے آزاد کرایا تھا۔ نائب صوبیدار سنجے کمار سنگھ نے بھی کارگل جنگ کے دوران اپنی بہادری کا ثبوت دیاتھا۔ ہمیں ایسے بہادر فوجیوں کو ہر وقت ذہن میں رکھنا ہوگا جس سے کہ ہماری فوج کو لگے کہ پورا دیش ان کے ساتھ ہے۔ دیش کی حفاظت میں سرحد پرہماری سلامتی کے دوران سینکڑوں جوانوں نے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔
ہر اسکول میں بچوں کو جوانوں کی بہادری کے بارے میں بتایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کی زندگی و بہادری سے سبق لے سکیں اور دیش کی سلامتی کے لئے آگے آئیں۔ موم بتی جلا کر شہیدوں کے تئیں شکریہ ادا کریں اور کہیں کہ بہادر جوانوں کی مستعدی اورا ن کی قربانی کی وجہ سے ہی ہم سبھی کھلی ہوا میں سانس لے پا رہے ہیں۔ ہم لوگوں کے لئے فخر کی بات ہے کہ ہم ایسے دیش میں ہیں جس کی تاریخ بہادروں کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ آپ سب کو دیوالی کی مبارکباد ،پٹاخے چھوڑنے سے پرہیز کریں۔ آلودگی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے، دھوئیں سے جینا دشوار ہورہا ہے۔ پٹاخوں کے بغیر بھی دیوالی منائی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کو چھوڑیئے یہ ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ایسا ماحول پیدا کریں جس میں ہمارے بچوں کی صحت خراب نہ ہو اور وہ کھلی اور صاف ستھری ہوا میں سانس لے سکیں۔
(انل نریندر)

کیا گورداسپور ہار سے بھاجپا اعلی کمان کوئی سبق لے گا

گجرات،ہماچل پردیش ،تاملناڈو، مغربی بنگال اور اڑیسہ و راجستھان میں مجوزہ چناؤ کی حکمت عملی پر عمل کررہے پی ایم مودی اور بھاجپا صدر امت شاہ کو پنجاب میں بھاجپا کی لگاتار گر رہی ساکھ پر فکر مند ہوناچاہئے۔ گورداسپور لوک سبھا ضمنی چناؤ میں کانگریس کی بڑی جیت کو بھاجپا کیلئے زبردست جھٹکا مانا جارہا ہے۔ حالانکہ پارٹی کے لیڈروں کو لگ رہا ہے کہ اس کی وجہ پارٹی یونٹ میں چل رہی گروپ بندی اور قومی لیڈر شپ کی بے رخی بھی ہے۔ پارٹی کے اندر بھی یہ تجزیہ کیا جارہا ہے کہ اس ہار کا پنجاب کی حکمت عملی پر دور رس اثر پڑے گی کیونکہ ریاست میں بی جے پی اور کمزور ہوگئی ہے۔ بھاجپا کے لئے تشویش کا باعث یہ بھی ہونا چاہئے کہ ہماچل پردیش میں چناؤ سر پر ہیں اور ہماچل کا ایک بڑا حصہ پنجاب کے گورداسپور کے بارڈر سے جڑا ہوا ہے جہاں اس ضمنی چناؤ کا سیدھا اثر پڑ سکتا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ کی بڑھتی مقبولیت کو کانگریس ہماچل میں ضرور بھانے کی کوشش کرے گی۔ پنجاب کی طرح ہی ہماچل پردیش سے بھی بہت زیادہ تعداد میں لوگ فوج میں ہیں۔ کیپٹن بھی فوج سے جڑے رہے ہیں اور فوجیوں و ان کے رشتے داروں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ مانا جارہا ہے کہ چناؤ کمپین کے میدان میں ان کی موجودگی ہماچل کے کانگریسی قلعہ کو بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ گورداسپور ضمنی چناؤ بی جے پی کے لئے اہم ترین تھا کیونکہ اس کے پاس یہ موقعہ تھا کہ وہ اس سیٹ کو پھر سے جیت کر کانگریس کی ریاستی سرکار کی ناکامیوں کو اجاگر کرسکتی تھی لیکن پارٹی اس میں ناکام رہی ہے۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابقبی جے پی کی ہار توہوئی ہے لیکن ووٹوں کا فرق زیادہ تھا۔پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمنی چناؤ میں خود پارٹی کے اعلی نیتاؤں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ یہاں تک کہ کوئی قومی سطح کا لیڈر اس ضمنی چناؤ میں کمپین کرنے تک نہیں گیا۔ اس ضمنی چناؤ میں بھاجپا۔ اکالی دل کے درمیان نوک جھونک نظر آئی۔ 
سابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل اس بار بھی چناؤ کمپین کیلئے نہیں آئے۔ ادھر کانگریس کے لیڈر اور وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ سے لیکر نوجوت سنگھ سدھو سمیت بڑے نیتا مسلسل اپنے امیدوار کے حق میں چناؤ کمپین کرتے رہے اس سے بھی کانگریس کے تئیں لوگوں میں مثبت پیغام گیا۔ ادھر اسمبلی چناؤ میں شکست کے بعد عام آدمی پارٹی دعوی کرتی رہی ہے کہ پنجاب میں اس کی لہر تھی ۔ مرکزی سرکار کی شہ پر ووٹنگ مشینوں میں گڑبڑی کرکے اسے ہرایا گیا۔ اسے بھی اب اپنے مینڈیٹ کی حقیقت کا پتہ چل گیا ہوگا۔ اس ضمنی چناؤ میں بھاجپا کی ہار کے پیچھے ایک بڑی وجہ نوٹ بندی اور پھر جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد کسانوں اور کاروباریوں پر پڑ رہے منفی اثر کو لیکر ان کی ناراضگی کو بھی مانا جارہا ہے۔ کیا بی جے پی اعلی کام اس سے فکر مند ہے؟ 
(انل نریندر)

18 اکتوبر 2017

دیوالی اور راہل کی تاجپوشی سے پہلے گورداسپور کا تحفہ

کانگریس نے برسوں بعد بی جے پی سے گورداسپور کا قلعہ چھین لیا۔ اس سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ میں کانگریس نے اتنی زبردست سیند لگائی کہ بی جے پی بھاری فرق سے ہاری ہے اور پنجاب کی سیاست میں داخل ہوچکی عام آدمی پارٹی کی ضمانت بھی نہیں بچی۔ ایتوار کو ہوئی گنتی میں کانگریس کے امیدوار سنیل جاکھڑ نے بی جے پی کے سورن سداریہ کو 193219 ووٹوں کے بھاری فرق سے ہرایا۔ سال1952 سے لیکر 2014 تک ہوئے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کا ہی اس سیٹ پر دبدبہ تھا لیکن اس کے بعد بی جے پی سے فلم اداکار ونود کھنہ کو لے آئی اور کانگریس کی روایتی سیٹ چھین لی۔ ونود کھنہ نے اپنے آخری چناؤمیں سال2014 میں علاقہ سے مضبوط کانگریسی سرکردہ لیڈر پرتاپ باجوا کو 136000 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔ گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے بھاجپا کو گورداسپور کی ہار کی ایک بڑی وجہ تھی اہل امیدوار کا نہ چنا جانا۔ سورگیہ ایم پی ونود کھنہ کی اہلیہ کویتا کھنہ کی جگہ پارٹی نے متنازعہ ساکھ کے صنعت کار سورن سنگھ سداریہ پر بھروسہ جتایا اور یہ ہی اس سے بھول ہوگئی۔ سال2014 لوک سبھا چناؤ میں ونود کھنہ کو شرابی بتانے والے سداریہ ان کے دیہانت سے پیدا ہمدردی کو بھی ووٹوں میں تبدیل نہیں کرسکے۔ چناؤ کمپین کے دوران سداریہ سے جڑے آبروریزی کے ایک پرانے معاملہ نے بھی ان کے تئیں منفی ماحول بنایا۔ ونود کھنہ کے دیہانت کے بعد پارٹی کی ریاستی یونٹ اس سیٹ سے ان کی اہلیہ کویتا کھنہ کو امیدوار بنانا چاہتی تھی مگر پارٹی لیڈر شپ نے سداریہ کو امیدوار بنایا۔ اور یہ غلطی پارٹی اعلی کمان کو بھاری پڑی۔ دوسری طرف سنیل جاکھڑ یہ ضمنی چناؤ جیتنے سے پہلے تین بار ابوہر اسمبلی سیٹ سے چناؤ جیت چکے ہیں۔ ابوہر سیٹ پر انہوں نے 2002 ،2007و 2017 میں جیت حاصل کی تھی۔ وہ سابق لوک سبھا اسپیکر و مرکزی وزیر ڈاکٹر بلرام جاکھڑ کے بیٹے ہیں اور کسان لیڈر ہیں۔ پنجاب کی گورداسپور لوک سبھا سیٹ اور کیرل کی وینگارا اسمبلی سیٹ پر ضمنی چناؤ نتائج نے کانگریس کو چاردن پہلے ہی دیوالی کے جشن میں شرابور کردیا ہے۔ 2014ء کے بعد بھاجپا نے یہ دوسری لوک سبھا سیٹ گنوائی ہے۔ اس سے پہلے نومبر2015 ء میں رتلام جھابوا سیٹ بھی کانگریس نے جیتی تھی۔ حوصلہ بڑھانے والی یہ جیت کانگریس کو ایسے وقت ملی جب ایک طرف راہل گاندھی کی کانگریس صدر کی حیثیت سے تاجپوشی کی تیاری ہورہی ہے اور دوسری طرف ہماچل اور گجرات میں اسمبلی چناؤ ہونے جارہے ہیں۔ لوک سبھا اور اسمبلی کی 1-1 سیٹ کے ضمنی چناؤ نتائج کو پورے دیش کا موڈ نہیں مانا جاسکتا لیکن سیاست میں چھوٹے موقعہ بھی شگن کا کام کرتے ہیں۔ اگر کانگریس ہارتی تو راہل پر ایک اور ہار کا ٹھیکرا پھوڑا جاتا جس کا اثر ان کی خود اعتمادی پر بھی پڑتا، اب وہ ونر کی شکل میں ہماچل اور گجرات میں چناوی کمپین کی قیادت کرسکیں گے۔ راہل کی تاجپوشی سے ٹھیک پہلے یہ اچھا شگن آیا ہے ۔ کانگریس کے حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ پنجاب کی طرح اگر پارٹی ہماچل اور گجرات میں متحد ہوکر چناؤ لڑے تو جیت کے اچھے آثار بن سکتے ہیں۔ اس نتیجے سے کانگریسی ورکروں کا حوصلہ بڑھا ہے۔ پارٹی اس جیت کو جی ایس ٹی ، بڑھتی بے روزگاری اور کسانوں کی ناراضگی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پنجاب پردیش کانگریس صدر سنیل جاکھڑ کی اس جیت کا فائدہ یوپی اور راجستھان میں ہونے والے ضمنی چناؤ میں بھی اٹھانے کی تیاری کررہی ہے۔ گجرات کے ساتھ چناؤ کمیشن یوپی اور گورکھپور، پھولپور ، راجستھان کے الور ، اجمیر سیٹ پر چناؤ کا اعلان کرسکتا ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے بعد سے لگاتار چھوٹے بڑے چناؤ میں ہار کا سامنا کررہی کانگریس کے لئے گجرات میں راجیہ سبھا سیٹ پر جیت کے بعد چھوٹی کامیابیوں کی راہ میں یہ بڑی جیت مانی جارہی ہے۔ گورداسپور میں ملی جیت ٹانک سے کم نہیں ہے۔ دراصل کانگریس ہائی کمان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ جب راہل گاندھی پارٹی کی کمان سنبھالیں تو ان کے آس پاس کامیابی کا ماحول رہے۔ وہ پارٹی کی جیت کا حوصلہ مضبوط دیتے دکھائی دیں جس سے وہ اپنی لیڈر شپ کو بلا تنازعہ قائم کرسکیں۔
(انل نریندر)

جہیز اذیت اور قانون

ڈھائی مہینے پہلے سپریم کورٹ کے دو ججوں کی بنچ نے جو فیصلہ دیا تھا کہ جہیز اذیت معاملہ میں فوری گرفتاری نہیں ہوگی۔ اس فیصلہ پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی رہنمائی والی بنچ نے دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے جہیز اذیت معاملہ میں دئے گئے فیصلے میں جو بچاؤ کیا گیا ہے اس سے وہ متفق نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس معاملہ میں دو ججوں کی بنچ نے 27 جولائی کو جو حکم پاس کیا تھا ،جس میں فوری گرفتاری پر روک لگانے سے متعلق جو گائڈ لائنس بنائی ہیں اس سے وہ متفق نہیں ہیں، ہم قانون نہیں بنا سکتے بلکہ اس کی تشریح کر سکتے ہیں، عدالت نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ 498A کے دائرہ کو ہلکا کرنا خاتون کو اس قانون کے تحت ملے اختیار کے خلاف جاتا ہے۔ بتادیں 27 جولائی کو سپریم کورٹ کے جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس یو یو للت کی بنچ نے راجیش شرما بنام اسٹیٹ آف یوپی کے کیس میں گائڈ لائنس جاری کی تھیں اور اس کے تحت جہیز اذیت کے کیس میں گرفتاری سے بچاؤ کیا گیا تھا۔ کورٹ نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے پہلے انریش کمار بنام بہاراسٹیٹ کے معاملہ میں ریمارکس دئے تھے کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سبب گرفتاری نہ ہو۔ یعنی گرفتاری کے لئے تھوڑا سا بچاؤ تھا۔ لا کمیشن نے بھی کہا تھا کہ معاملہ کو سمجھوتہ وادی بنایا جائے۔ بے قصور لوگوں کے انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان چاہی گرفتاری اور غیر سنجیدہ تفتیش کے لئے سیف گارڈ کی ضرورت بتائی گئی کیونکہ یہ مسائل بدستور جاری ہیں۔ جہیز کیس میں پہلے بھی تاریخی فیصلے ہوئے ہیں۔2 جولائی 2014 ء کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 7 سال تک کی سزا کی تقاضوں والے معاملے میں پولیس صرف کیس درج ہونے کی بنا پرگرفتاری نہیں کرسکتی بلکہ اسے گرفتاری کے لئے درکار اسباب بتانے ہوں گے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک طرف جہیز ٹارچر کو لیکر اندھا دھند گرفتاریاں ہورہی ہیں دوسری طرف اس سے جہیزی قتل روکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ پورے کے پورے خاندان کے افراد اندر کئے جارہے ہیں اور ان کی ضمانت بھی آسانی سے نہیں ہوتی۔ پولیس کے ہاتھوں ایک ایسا ہتھیار آگیا ہے جس کا وہ دبا کر بیجا استعمال کررہی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ اگر جہیز ٹارچر کی کوئی شکایت عورت کرتی ہے تب اس کی باریکی سے چھان بین ہونی چاہئے۔ صرف الزام لگانا ہی کافی نہیں ہے۔ کچھ عورتیں اس کو بلیک میل کا ہتھیار بنا لیتی ہیں۔ دوسری طرف دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ تمام سختی کے باوجود جہیز ٹارچر ،جہیز قتلوں پر لگام ہیں لگ پارہی ہے لیکن صرف قانون سے ہی مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہے جب تک ہمارا سماج اس بارے میں اپنا نظریہ نہیں بدلتا یہ مسئلہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔
(انل نریندر)

17 اکتوبر 2017

کیا اس بار گجرات بی جے پی کیلئے واک اوور ہوگا

ہماچل پردیش اسمبلی چناؤ اسی ماہ ہوں گے اور اگلے مہینے گجرات کے ہوسکتے ہیں۔ گجرات اسمبلی چناؤ کیلئے کمپین انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ حکمراں پارٹی بھاجپا کسی بھی طرح یہ موقعہ نہیں کھوناچاہتی۔ پچھلے ماہ بھاجپا پردھان امت شاہ نے گجرات کا دورہ کیا تھا۔ وہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دوروزہ دورہ کے دوران 12 ہزار کروڑ روپے کی اسکیموں کا افتتاح و سنگ بنیاد رکھا۔ اب 16 اکتوبر کو پھر سے گجرات چلے گئے ہیں۔ وہیں دوسری طرف کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی مسلسل گجرات کا دورہ کررہے ہیں۔ دونوں پارٹیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ہے۔ اگر ہم حال کے کچھ واقعات پر نظر ڈالیں تو کیا گجرات کی سیاست پر اثر ڈال سکتے ہیں؟ امت شاہ کے بیٹے جے شاہ اچانک تنازعات میں گھر گئے ہیں۔ ایک نیوز ویب سائٹ نے جے شاہ کی کمپنی کے ٹرن اوور ایک سال کے اندر 16 ہزار گنا بڑھنے کا دعوی کیا ہے۔ اس کے بعد اپوزیشن پارٹیاں اس معاملہ کی جانچ کی مانگ کررہی ہیں۔ کانگریس کے ترجمان کپل سبل نے ویب سائٹ میں شائع خبر کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ 2015-16 میں شاہ کی کمپنی کا سالانہ ٹرن اوور 50 ہزار روپے سے بڑھ کر 80.5 کروڑ روپے تک پہنچنے کی جانچ ہونی چاہئے۔ امت شاہ نے کانگریس کو چیلنج دیا ہے کہ وہ جے شاہ کے خلاف ثبوت پیش کرے۔ محض الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا۔ لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ اسمبلی چناؤ میں یہ اشو بنتا ہے یا نہیں؟ اس کے علاوہ گجرات کے آنندضلع میں ایک اکتوبر کو گربا تقریب میں شامل ہونے پر ایک گروپ نے ایک19 سالہ دلت لڑکے پرکاش سولنکی کو پیٹ پیٹ کرمار ڈالا تھا۔ اس سے پہلے گاندھی نگر ضلع کے کلول کے لبودرا گاؤں میں مونچھ رکھنے پر 17 اور 24 سال کے دو لڑکوں کے ساتھ مار پیٹ ہوئی تھی۔ دسہرے کے دن احمد آباد میں 300 دلت کنبوں نے بودھ دھرم قبول کرلیا تھا۔ اس واقعہ کو لیکر حکمراں بی جے پی نشانے پر ہے۔ ریاست کی کل آبادی 6کروڑ38 لاکھ کے قریب ہے جس میں دلتوں کی آبادی 33لاکھ92 ہزار کے قریب ہے۔ یہ آبادی کا 7.1 فیصد ہے۔ گجرات میں اگست کے ماہ میں ہوئے راجیہ سبھا میں احمد پٹیل کی جیت سے بی جے پی کو زبردست جھٹکا لگا تھا۔ پارٹی نے اس چناؤ میں اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی لیکن آخری وقت میں احمد پٹیل نے بازی مار لی۔ بی جے پی راجیہ سبھا چناؤ میں کانگریس کو ہراکر اس کا حوصلہ توڑنا چاہتی تھی مگر احمد پٹیل کی کامیابی کے بعد گجرات میں کانگریس ورکروں کا حوصلہ ضرور بڑھ گیا ہے۔پارٹی دار ریزرویشن کا معاملہ ابھی تک خاموش نہیں ہوا۔ پارٹی دار آندولن کمیٹی کے کنوینر ہاردک پٹیل سیاسی طور پر سرگرم ہیں وہ اپنی مانگیں ماننے والی کسی بھی پارٹی کے ساتھ جانے کی بات کررہے ہیں یا کر چکے ہیں وہیں پارٹی داروں میں بی جے پی کو لیکر ناراضگی بنی ہوئی ہے۔ امت شاہ تک کو پارٹی دار لڑکوں کا احتجاج جھیلنا پڑا تھا۔ جیسے ہی امت شاہ نے ریلی کو خطاب کرنا شروع کیا ویسے ہی کچھ لڑکوں نے نعرے لگانے شروع کردئے تھے۔ اس کے بعد ہاردک پٹیل نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے ان لڑکوں کو پیٹا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی ہاردک پٹیل سے نزدیکیاں بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پارٹی داروں کا گجرات میں دبدبہ رہا ہے۔ حالانکہ پارٹی دار ریزرویشن کے معاملہ کے بعد یہ فرقہ حکمراں پارٹی کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ کانگریس سے نکلے شنکر سنگھ واگھیلا پارٹی داروں کا کچھ ووٹ اپنی طرف کھینچنے کی کوشش ضرور کریں گے لیکن ریزرویشن نہ ملنے اور ہاردک پٹیل کو جیل ہونے کو لیکر فائدہ پارٹی داروں کی ناراضگی کا نقصان بی جے پی کو ہوسکتا ہے۔ 1 جولائی سے نافذ ہوئے جی ایس ٹی کے بعد دیش میں اقتصادی مندی کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ گجرات میں کپڑا تاجروں میں جی ایس ٹی لگنے کو لیکر ناراضگی بنی ہوئی ہے۔سورت میں ٹیکسٹائل ٹریڈرس نے جی ایس ٹی کے خلاف زبردست مظاہرہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے جی ایس ٹی کے سبب کپڑا مہنگا ہونے اور کاروبار پر اثر پڑنے کی تشویش جتائی تھی۔ وہیں اس سال جون کے آخر تک 682 ٹیکسٹائل ملیں بند ہوگئی تھیں۔ بازار میں مندی کی وجہ سے بے روزگاری بڑھنے اور مہنگائی کی مار کے چلتے بی جے پی گجرات سرکار کے خلاف اینٹی ان کمبینسی فیکٹر کی وجہ سے بی جے پی کی گجرات میں راہ آسان نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

دو ریاستوں کے چناؤ ساتھ نہیں کراسکتے تو پورے دیش کے کیسے

چناؤ کمیشن نے جمعرات کو ہمانچل اسمبلی چناؤ کا اعلان کردیاتھا جبکہ گجرات اسمبلی چناؤ کے اعلان کے لئے ابھی انتظار کرنا ہوگا۔ حالانکہ چناؤ کمیشن نے یہ کہا ہے کہ گجرات چناؤ کیلئے پولنگ ہمانچل کی پولنگ سے پہلے کرا لی جائے گی۔ چناؤ کمیشن نے اکیلے ہمانچل کے چناؤ کا اعلان کرکے ایک نیا تنازعہ ضرور کھڑا کردیا ہے یہ فطری بھی ہے۔ امید کی جارہی تھی کہ ہمانچل اور گجرات کے اسمبلی انتخابات کی تاریخیں ایک ساتھ اعلان ہوں گی۔لیکن الیکشن کمیشن نے ہمانچل کے لئے پولنگ کی تاریخ 9 نومبر تو اعلان کردی ہے لیکن گجرات کے بارے میں کہا ہے تاریخ بعد میں اعلان کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر کانگریس نے تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی نے سوال کیا ہے کہ لوک سبھا اور دیش کی تمام اسمبلیوں کے چناؤ ایک ساتھ کرانے کی وکالت کرنے والی وزیر اعظم اور تمام بھاجپا نیتاؤں کو اب بتانا چاہئے کہ جب انہیں دو ریاستوں میں ایک ساتھ چناؤ کروانا گوارا نہیں ہے ، تو پورے دیش میں ایک ساتھ چناؤ کرانے کی بات کس منہ سے کرتے ہیں۔ آخر یہ بہت سے لوگوں کو کھٹک کیوں رہا ہے ؟ اس لئے یہ قاعدے اور ضابطے کے خلاف ہے۔ جن ریاستوں کے اسمبلیوں کی میعاد پوری ہونے میں 6 مہینے سے زیادہ کا فرق نہیں ہوتا ان کے چناؤ کے اعلان الیکشن کمیشن ایک ساتھ کرتا آیا ہے جبکہ ہماچل اور گجرات کی اسمبلیوں کی میعاد پوری ہونے میں بس دو ہفتے کا فرق ہے۔ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ایسا وزیر اعظم کے کہنے پر کیا جارہا ہے۔ کانگریس کے الزام کو سرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ اس نے برسوں تک دیش پر حکومت کی ہے۔ ہو سکتا ہے کانگریس اپنے پرانے تجربوں کی بنیاد پر اس طرح کا الزام لگا رہی ہو۔ پھر بھی بھروسہ نہیں ہوتا کہ چناؤ کمیشن جیسا آئینی آزاد ادارہ وزیراعظم یا مرکزی سرکار کے اشارے پرکام کرے گا۔ یہ ضرور ہے کہ جمہوریت میں روایت کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ کسی خاص حالت میں ہی روایت کو نظر انداز کیا جانا چاہئے۔ حالانکہ چیف الیکشن کمشنر نے صفائی پیش کی ہے کہ گجرات میں سیلاب کے سبب سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور راحت و بچاؤ کا کام جاری ہے۔ لیکن چناؤ کمیشن کی اس صفائی میں زیادہ دم نظرنہیں آتا۔ شاید ہی اس پر کوئی بھروسہ کرے گا۔ اس میں دورائے نہیں ہے کہ گجرات چناؤ کا اعلان نہ ہونے کا بھاجپا کو فائدہ مل سکتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم 16 اکتوبرسے گجرات کے دورہ پر ہوں گے اور اس بات کا پورا امکان ہے کہ اپنی ریلیوں میں وہ کئی اسکیموں کا سنگ بنیاد کا اعلان کریں گے کیونکہ چناؤ کے اعلان کے بعد چناؤ ضابطہ نافذ ہوجاتا ہے اس لئے گجرات اسمبلی کے چناؤ کی تاریخ کو ٹالا گیا ہے۔
(انل نریندر)

15 اکتوبر 2017

آخر آروشی اور ہیمراج کا قتل تو ہوا ہے

9 سال پہلے دنیا بھر کو جھنجھوڑ دینے والا آروشی ۔ہیمراج قتل سانحہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ذریعہ قصوروار قراردئے گئے آروشی کے والدین کو جمعرات کے روز الہ آباد ہائی کورٹ نے قتل کے الزامات سے بری کردیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلہ نے یہ سوال پھرسے کھڑا کردیا ہے آخر دونوں کا قتل کس نے اور کیوں کیا؟ ساڑھے چار سال تک ریاستی پولیس کے ساتھ ہی سی بی آئی کی دو ٹیموں نے جانچ کی ،پانچ لوگ گرفتار کئے گئے، پولیس و سی بی آئی کی جانچ میں الگ الگ نتیجے نکلے اور لگا کہ شاید دیش کی سب سے بڑی مرڈر مستری سے پردہ اٹھ گیا ہے لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے راجیش اور نپر تلوار کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے۔ اور تو اور آروشی مرڈر کیس پر اب تک دو فلمیں بھی بن چکی ہیں لیکن دونوں فلمیں کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائیں۔ جنوری 2015ء میں آئی فلم ’رہسہ‘ اور اسی سال آئی فلم ’تلوار‘ میں دیش کو جھنجھوڑ دینے والی اس مرڈر مستری کے تمام سروں کو جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ منیش گپتا کی ہدایت میں بنی فلم ’رہسہ‘ میں کے کے مینن ، ٹسکا چوپڑہ اور آشیش ودیارتی جیسے منجھے ہوئے اداکاروں نے اداکاری کی تھی ، تو تلوار کی کہانی جانے مانے ہدایت کار وشال بھاردواج نے مہینوں کی رریسرچ کے بعد لکھی تھی۔ فلم کو میگھنا گلزار نے ہدایت دی تھی۔ ان میں آروشی مرڈر مستری کی کہانی بیاں کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ مرڈر کی رات کیا کیا ہوا ہوگا، مرڈر میں کن ہتھیاروں کا استعمال کیا ہوگا معاملہ کیسے کھلا وغیرہ نکتوں کی تہہ تک جانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن دونوں فلمیں کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ فلم ’رہسہ‘ کی تو تلوار میاں بیوی نے کافی مخالفت کی تھی۔ بعد میں منیش گپتا نے صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ فلم سسپنس ڈرامہ ہے اس کا آروشی مرڈر سے کوئی سیدھا تعلق نہیں ہے۔ مرڈر مستری پر جرنلسٹ اویروک سین کی کتاب ’آروشی‘ بھی کافی سرخیوں میں رہی۔ اس کتاب میں سین نے سی بی آئی کی جانچ کارروائی پر کئی سوال کھڑے کئے ہیں اور سلسلہ وار اسے بیان کیا ہے۔ دوسری طرف ایک دیگر پتر کار نے بھی واردات پر قاتل زندہ ہے ، ایک تھی آروشی نام سے کتاب لکھی ہے۔ اس میں پوری واردات کی پڑتال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 10 ویں میں زیر تعلیم آروشی 16 مئی 2008ء کواپنے کمرے میں مردہ پائی گئی تھی اور اس کے اگلے دن ڈینٹنسٹ تلوار میاں بیوی کو اس گھر کی چھت سے ان کے نوکر ہیمراج کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اور دوہرے قتل نے نوئیڈا کے اس درمیانی رہائشی کالونی کو ہی نہیں پورے دیش کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور میڈیا نے اسے سنسنی خیز قتل سانحہ کو اتنی توجہ دی کہ کئی بار تو آئی پی ایل سے بھی کہیں زیادہ اس کی ریٹنگ اور اس کی رپورٹنگ کو ملی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی ڈویژن بچ میں شامل دو ججوں نے اپنا الگ الگ فیصلہ سنایا۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ سی بی آئی اس قتل سانحہ میں نپر میاں بیوی کے ملوث ہونے پر شبہ کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سی بی آئی اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی کیونکہ اصل سوال تو آج بھی بنا ہوا ہے ۔ شروع سے ہی مختلف موڑ کیلئے مشہور اس معاملہ میں تین جانچوں کے باوجود بنیادی سوالوں کے جواب آج تک نہیں مل سکے۔ سچ پوچھا جائے تو تلوار میاں بیوی کو نہ تو سزا دینے کا کوئی پختہ ثبوت تھا اور نہ ہی انہیں بے قصور ہونے کی کوئی ٹھوس بنیاد تھی۔ ان کی رہائی صرف انصافی کتاب کے اس بنیادی اصول کے تحت ہوئی کے 100 جرائم پیشہ بھلے ہی چھوٹ جائیں لیکن ایک بھی بے قصور کو سزا نہیں ملنی چاہئے لیکن آروشی اور ہیمراج کا قتل تو ہوا ہے۔ سوال وہیں کا وہیں ہے کہ آخر قاتل کون ہے اور قتل کیوں ہوئے؟ کیا اس مرڈر مستری سے کبھی پردہ اٹھے گا؟
(انل نریندر)

راک اسٹار سناریہ جیل: سین نمبر2

گرمیت رام رحیم کی فلمی کہانی تب شروع ہوئی جب انہیں دو سادھویوں سے آبروریزی کے الزام میں قصوروار پایا گیا اور انہی 20 سال کی سزا ہوئی۔ اب اسی فلم کا دوسرا سین دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گرمیت رام رحیم کی خودساختہ لڑکی و راز دار ہنیپریت انسانے اعتراف کرلیا ہے کہ25 اگست کو پنچکولہ تشدد میں بھی اس کا ہی اہم رول تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تین دن کے ریمانڈ بڑھنے کے بعد ہنیپریت تھوڑا ٹوٹی ہے اور اس نے دنگوں کی سازش میں خود کے شامل ہونے کی بات قبول لی ہے۔ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ہنپریت نے اس دوران نہ صرف دیش بھر کے ڈیرہ حمایتیوں بلکہ انٹرنیشنل کال کے ذریعے بیرون ملک میں رہنے والے ڈیرہ کے قریبیوں سے بھی کئی اہم جانکاری شیئر کی ہیں۔ حالانکہ ثبوت نہ ہونے پر پولیس افسر اس کی تصدیق کرنے سے بچ رہے ہیں۔ پولیس کے سامنے تمام سچائیاں بیان کرنے کی بات ہنیپریت عدالت میں بھی کہہ چکی ہے۔ 6 دنوں کے ریمانڈ کے دوران اس نے ٹکڑوں ٹکڑوں میں گناہ قبول کئے ہیں جس کے ثبوت اکٹھا کرنے میں ایس آئی ٹی لگی ہوئی ہے۔ پنچکولہ پولیس کی ایس آئی ٹی کے مطابق ہنپریت نے اعتراف کیا ہے کہ 17 اگست کو سرسہ ڈیرہ میں ہوئی میٹنگ کی صدارت اسی نے کی تھی۔ اسی میٹنگ میں ہی پنچکولہ میں دنگوں کی سازش تیار کی گئی تھی۔ ڈیرہ حمایتیوں کو پہلے ہی پنچکولہ پہنچنے کو کہا گیا تھا اور سیکٹر 23 میں تیاری رکھنے کو کہا گیا تھا۔بلوایوں کو اینٹری اور باہر نکلنے کا پلان بھی ہنیپریت کے لیپ ٹاپ میں تیار ملا۔ اس کے مطابق طے ہوا کہ اہم رول نبھانے والے واٹس اپ کالنگ کے ذریعے کنکٹ رہیں گے اور نارمل کالنگ کا استعمال نہیں کریں گے۔ ڈیرہ سچاسودا رام رحیم کی راز دار ہنپریت انسا نے مانا کہ 25 اگست کو اگر رام رحیم کو کورٹ سے رہا کردیا جائے گا تو پنچکولہ میں ست سنگ ہوگا۔ ساری پلاننگ کورٹ کے فیصلے پر ٹکی تھی۔ میپ پر مارکنگ کرنے ، بلیک منی سے فنڈنگ کرانے کے خلاف ویڈیو وائرل کرنے کے ساتھ ہی کئی جرم قبولے ہیں۔ دنگے میں بلیک منی کا استعمال ہوا۔ اسے وائٹ کرنے کے لئے ہنیپریت نے فرضی دستاویزات بنانے کو کہا تھا۔ قریب 5 کروڑ روپے ہنیپریت نے ایک عورت کے ہاتھوں بھجوائے۔ ہریانہ پولیس کی ریمانڈ میں ہنیپریت نے کئی خلاصے کئے ہیں۔ لیپ ٹاپ، موبائل کی جانکاری کے بعد اب ہنیپریت نے ایک اور بڑا خلاصہ کیا ہے۔ دراصل25 اگست کے دن رام رحیم کو پولیس کے چنگل سے چھڑانے کا ایک بڑا پلان تیار کیا گیا تھا۔ جس کے تحت اسے چھڑا کر بیرونی ملک بھیجنا تھا۔ حالانکہ ہریانہ پولیس کی مستعدی کے چلتے یہ پلان کامیاب نہیں ہوسکا۔ رام رحیم کو امید تھی کہ سیکورٹی ملازم اسے پولیس کی گرفت سے چھڑوا لیں گے اور پھر اسے سرسہ ڈیرہ ہیڈ کوارٹر میں کسی محفوظ جگہ پہنچادیا جائے گا۔ ہنیپریت رام رحیم کو بیرونی ملک بھگانے کی پوری تیاری کرچکی تھی۔ انتظار کیجئے فلم کے اگلے سین کا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...