Translater

19 جنوری 2019

پندرہ دن مےں ٹھنڈ سے 96افراد کی موت !

کڑاکے کی ٹھنڈ سے بچنے کےلئے نوئےڈا مےں اےک اولہ کےب ڈرائےور نے منگل کی دےر رات سواری چھوڑ کر انگےٹھی کےب مےں ہی جلالی اس سے دم گھٹنے سے موت ہوگئی اس کی پہچان 25سالہ ستےندر کی شکل مےں ہوئی ۔دہلی مےں چل رہی سر دہواﺅں کا اثر سب سے زےادہ کھلے آسمان کے نےچے سونےوالوںاور بے سہارا ،بے گھر لوگوںپر دےکھنے کو مل رہا ہے ۔سردی کے سبب جنوری 2019سے لےکر 14جنوری تک ٹھنڈ سے 96لوگوںکی موت ہوچکی ہے ۔سےنٹر فار ہولسٹک ڈوپلپمنٹ نام کی اےک انجمن نے ےہ دعوی کےا ہے اس کا کہنا ہے کہ دہلی اکےلے مےں ہی ٹھنڈ نے 96لوگوں کی جا ن لے لی ہے سب سے زےادہ اموات شمالی دہلی کے علاقوں مےں ہوئی ہےں ۔اس مےں سول لائنس ،سرائے روہےلااور کشمےر ی گےٹ علاقے شامل ہےں ان علاقوں مےں 14دن مےں 23لوگوں کی موت ہوئی ۔نارتھ وےسٹ سے آرہی سرد ہواو ¿ںسے دہلی اےن سی آر کو راحت نہےں مل رہی ۔سرد ہواو ¿ں وجزوی طور سے بادل چھائے رہنے سے جنوری کے آخر تک سرد لہر جاری رہنے کی امےد ہے بد ھوار کو 7سال مےں سب سے سرد صبح رہی کم از کم درجہ حرارت عام سے تقرےبًا تےن ڈگری کم ےعنی 4.5ڈگری سےلسئس درج کےا گےا ۔جنوری مےں اب تک تےن مرتبہ کم ازکم درجہ حرارت مےں اتنی گراوٹ آئی ہے اس سے پہلے 1جنوری 2019کو 4.8ڈگری سےلسئس درج کےا گےا تھا ۔محکمہ موسمےات کی مانے تو نارتھ وےسٹ سے آرہی سرد ہوائےں دہلی کو مزےد ٹھنڈا بنارہی ہے ۔محکمہ موسمےا ت کے مطابق جمعرات کو دہلی ،چنڈی گڑھ،پنجاب،ہرےانہ ،ےوپی وراجستھان مےں مےں سر د لہر جاری رہنے کا الٹ جاری کےا گےا ہے دہلی والوں کو ابھی تےن سے چار دن تک سردہوائےں پرےشان کررہی ہے ۔اس کے بعد موسم گرما شروع ہوگا محکمہ موسمےا ت کےمطابق حال مےں جموں وکشمےر ،ہماچل ،اتراکھنڈ مےں برفباری ہوئی وہےں پنجاب ،ہرےانہ وراجستھان مےں بارش ہوئی ۔رےاستی محکمہ موسمےات کی پےش گوئی کے چےف نے بتاےا 18جنوری سے مغربی سمت مےں سرگرم ہونے سے عام درجہ حرارت بڑھے گا وہےں 21-22جنوری کو ہلکی بارش ہوسکتی ہے اس سے کڑاکے کی ٹھنڈ سے سب کو بچنے کےلئے ضرورت کے مطابق کپڑے پہننے چاہئے اور بچوں کا خاص خےا ل رکھنا ہوگا ۔صبح صبح بچے جب اسکو ل جاتے ہےں تو کبھی کبھی اسکول ڈرےس کے چلتے وہ درکار گرم کپڑے نہےں پہن سکتے ۔
(انل نرےندر)

تےن سال بعدعام چناو ¿ سے تےن ماہ پہلے چارشےٹ !

جواہرلعل نہرو ےونےورسٹی مےں مبےنہ طور پر ملک دشمن نعرے لگانے کے الزام مےں تےن سال بعد او رعام چناو ¿ سے تےن مہےنہ پہلے جے اےن ےو،اسٹوڈےنٹس ےونےن کے سابق صدر کنہےا کمار سمےت 10لوگوں کے خلاف دہلی پولےس نے چار شےٹ داخل کی ہے ۔ملزمان کے خلاف بکسوں مےں بھر لائے گئے 12سو صفحات کی بھاری بھرکم چار شےٹ داخل کی تو شاےد ہی کسی کو پولےس کی اس سست روی کی کارروائی پر تعجب ہوا ۔ہاں چار شےٹ داخل کرنے کے وقت کو لےکر سوال ضرور کھڑے ہورہے ہےں ۔طلبہ لےڈروں کے خلاف داخل چار شےٹ کو کچھ لوگ آنے والے لوک سبھا چناو ¿ کے ساتھ جوڑ کردےکھ رہے ہےں ۔بےشک اس بات سے انکا رنہےں کےا جاسکتا کہ حالےہ برسوں مےں ےونےور سٹی کمپلےکس سےاست کا اکھاڑہ بنتے جارہے ہےں۔اظہار رائے کی آزادی کی آڑ مےں ےہ کچھ اےسی سرگرمےاں بھی ہورہی ہےں جن کا اسٹڈی اور سےاست سے کوئی رشتہ نہےں ہے مثلاً9فروری 2016کو دہشت گرد افضل گورو اور مقبول بھٹ کی پھانسی کو عدلےہ قتل بتانے والے طلبہ کے اےک گوروپ نے سابرمتی ڈھابے کے پاس اےک پروگرام کےا تھا ۔جس مےں کچھ طلبہ نے ملک دشمن نعرے لگائے ۔اےسی بات چار شےٹ مےں کہی گئی ہے ۔کنہےا کمار اور عمر خالد نے اپنے اوپر لگے الزامات سے انکا رکےا ہے او راسے سےاسی اغراض پر مبنی قرار دےا ہے ۔ےہ معاملہ اب عدالت پہنچ چکا ہے ،لہذا ان کے پاس خود کو بے قصور ثابت کرنے کا پورا موقع ہے کےونکہ ےہ معاملہ اےک آتنکوادی کی مبےنہ طور پر قصےدہ خوانی او ردےش کی سرداری کو چنوتی دےنے سے جڑا ہے اسلئے اس کی حساسےت کو سمجھا جاسکتا ہے ا س سلسلے مےں 124اے کے متعلق عزت ماب سپرےم کورٹ کی ہداےت پر بھی غور کےا جانا چاہئے ،جس نے 2017مےں کےدارناتھ سنگھ بنام بہار سرکار مقدمہ سے متعلق 1962کی پانچ ممبری آئےنی بنچ کے فےصلہ مےں ملک بغاوت کے بارے مےں واضح کےا تھا ۔اس مےں آئےنی بنچ نے کہاتھا کہ ملک دشمنی تقرےروں اور اظہار رائے کو صر ف تبھی سزا دی جاسکتی ہے ،جب اس کی وجہ سے کسی طرح کا تشدد ،بے چےنی ےافرقہ وارانہ بڑی بغاوت ہو ۔پولےس نے چار چےٹ کے ساتھ کچھ وےڈےو بھی ساتھ لگائے ہےں جنہےں وہ مخالف نعرے بازی کا ثبوت مان رہی ہے ۔سچ ےہ ہے کہ جے اےن ےو کمپلےکس مےں کچھ باہری عناصر نے نعرے بازی کی تھی لےکن کنہےا کمار نے نعرے لگائے تھے اس کا کوئی وےڈےو پولےس کے پاس نہےں ہے ۔پولےس کے پاس کچھ گواہ ہےں جو کنہےا کے نعرے کی لگانے تصدےق کررہے ہےں لےکن کےا ےہ کافی ثبوت ہےں ؟پولےس کو اب عدالت مےں ان ثبوتوںکو پےش کرنا ہے اور وہاں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا ۔
(انل نرےندر )

18 جنوری 2019

کرناٹک مےں شہ مات کا کھےل :جےتے کا کون ؟

کرناٹک کی سےاست مےں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے ےا اسے ڈرامہ کہے تو ےہ کوئی تعجب کی بات نہےں ہے اس کا اندےشہ تبھی سامنے آگےا تھا جب اسمبلی چناو ¿ نتائج آئے تھے اور تےسرے نمبر پر آئی پارٹی جنتا دل اےس نے دوسرے نمبر پر ہی کانگرےس کی حماےت سے حکومت بنائی تھی ۔پہلے نمبر پر آئی او رمعمولی اکثرےت سے دور رہی بھاجپا نے بھی جوڑ توڑ سے حکومت بنانے کی کوشش کی تھی ،لےکن اےچ ڈی کمار سوامی نے کانگرےس سے مل کر بھاجپا کو مات دےتے ہوئے سرکار بنالی تبھی سے کرناٹک مےں شہ مات کا کھےل جاری ہے ۔اس تازہ ڈرامہ مےں منگل کو اس وقت موڑ آگےا جب 7ماہ پرانی کانگرےس جے ڈی اےس حکومت کو جھٹکا دےتے ہوئے دو آزاد ممبران اسمبلی نے حماےت واپس لے لی ۔آر شنکر و اےم نگےش کے حکومت سے حماےت واپسی کے بعد رےاست مےں سےاسی حالات دلچسپ ہوگئے ہےں حالانکہ اس سے سرکار پر زےادہ اثر تو نہےں پڑے گا لےکن کانگرےس جے ڈی اےس کا اندرونی ناراضگی باہر آگئی ہے تو اقتدار کے تجزےہ بدل سکتے ہےں ۔کرناٹک کی 224ممبری اسمبلی مےں اےک نامزد ممبر کو ملاکر تعداد 225ہوجاتی ہے اےسے مےں اکثرےت کا نمبر 113سے جب تک بھاجپا کے پاس 104ممبر ہےں کانگرےس کے پاس 79وجنتا دل اےس کے 37ممبر ان اسمبلی کے ساتھا فی الحال انکو مکمل اکثرےت ہے ےعنی 113سے تےن زےادہ (116)کا ٹوٹل بنتا ہے اگر تےن چار ممبران اسمبلی اپنی حماےت واپس لےتے تو سرکار گر جاتی۔بھاجپا کو سرکار گرانے کےلئے کم سے کم 9ممبرا ن اسمبلی کی حماےت در کار ہے ۔بھاجپا نے اپنے سبھی 104ممبران اسمبلی کے ساتھ دہلی کے پاس ہرےانہ کے نوح مےں رےزورٹ مےں ممبران کو رکھا ہوا تھا ۔وہ اب اپنے کنبہ سے ٹوٹ کو بچائے رکھنے اور رےاست کے سارے امکانات کو ٹٹو ل رہی ہے ۔بھاجپا اور کانگرےس ،جے ڈی اےس اتحاد کے نےتاو ¿ ں نے بھی اےک دوسرے پر جوڑ توڑ کا الزام لگاےا حالانکہ دونوں گروپ ٹوٹ پھوٹ سے بچائے رکھنے کےلئے اپنے اپنے حق مےں حماےت کا دعوی کررہے ہےں ۔بھاجپا نےتا بی اےس ےدی ےرپا نے اپنے ممبران کے ساتھ مےٹنگ مےں کہا کہ انہوں جلد ہی خوشخبری ملنے والی ہے ۔بھاجپا کو تو ےہ چبھن تو ہی ہے کہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجو دحکومت سے باہر ہے اور اےک دوسرے کے خلاف لڑنے والی پارٹےاں اکٹھی ہوکر سرکار چلارہی ہےں ۔اس بات سے بھی انکار نہےں کےا جا سکتا کہ کمار سوامی حکومت مےں ناراضگی ہے کئی ممبران کو لگتا ہے کہ انہےں وزےر نہ بناےاجانا نا انصافی ہے اور وہ موقع پاکر پالا بدلنا چاہتا ہو لےکن بھاجپاو ¿ں نے اےسا کرنے کے لئے شہ دے اور ےہ بھی منا سب نہےں کہ ےہ سےاسی غےر اخلاقی ہو گئی اسی طرح کمار سوامی بھاجپا ممبران کو توڑ نے کی کوشش کررہے ہےں تو وہ بھی غےر اخلاقی مانا جائے گا ۔کمار سوامی کانگرےس کے روےہ کے تئےں اپنا دکھ ظاہر کرچکے ہےں اور اگر کرناٹک مےں نئے سرے سے تجز ےئے بنتے بگڑتے ہےں اور اس کے نتےجے مےں وہاں نئی سرکار بنتی ہے تو اس سکے لئے جوڑ توڑ وخرےدوفروخت کے الزامات کو تقوےت ملے گی ۔پھر اس بات کی کوئی گارنٹی نہےں نئی سرکار رےاست مےں مضبوطی کا ماحول قائم کرپائے گی ۔در اصل بھاجپا کانگرےس جے ڈی اےس اتحاد مےں جھگڑا دکھا کر اسے کمزور دکھانا چاہتی ہے تاکہ اسے 2014کی طرح 2019کے چناو ¿ مےں بھی 28لوک سبھا سےٹوں مےں سے 17ےا اس سے زےادہ جےتنے کا موقع مل سکے ۔ےہ شہ مات کا کھےل کو2019لوک سبھا کے چناو ¿ سے بھی جوڑا جارہا ہے ۔سےاست جب وصول اور اخلاقےات سے پرے ہوتی ہے تو اسی طرح ڈرامائی نظارے کا دکھائی دےنا فطری ہی ہے ۔
(انل نرےندر)

قتل کے 16سال بعد آخر کار ملا انصاف!

صحافی رام چندر چھتر پتی قتل کانڈ مےں 16سال بعد فےصلہ آےا ہے ۔سال 2002سے مقدمہ چل رہا تھا اب جاکر چھتر پتی کے رشتہ دار وں کا طوےل انتظار ختم ہوگےا ۔پنچکولہ کی اسپےشل سی بی آئی عدالت نے پچھلے جمعہ کو قتل کے اہم ملز م ڈےرہ چےف گورمےت رام رحےم سمےت تےن دےگر ملزمان کشن لال،نرمل سنگھ او رکلدےپ سنگھ کو قصور وار قرار دےا ہے ۔ان کو 17جنوری کو سزا ہونی تھی تا عدم تحرےر ےہ نہےں پتہ لگ سکا کہ ان کو سز ا کی نوعےت کےا رہی ۔رام رحےم کی پےشی سنارےہ جےل سے وےڈےو کانفرنسنگ کے ذرےعہ ہوئی جہاں وہ سادھوےوں سے جنسی استحصال کے معاملہ مےںسزا کاٹ رہا ہے ۔وا ©ضح ہوکہ ڈےرہ سچا سودا سے جڑا سال 2002مےں اےک خط سامنے آےا تھا ۔جس مےں سادھوےوں نے اپنے ساتھ جنسی استحصال کاانکشاف کےا تھا اور اس وقت وزےر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور پنجاب ہرےانہ ہائی کورٹ مےں مد د کی درخواست لگائی تھی ان دنوں صحافی رام چند رچھتر پتی اخبار ”پورا سچ شائع کےا کرتے تھے سادھوی کے ذرےعہ لکھا خط لوگوں مےں موضوع بحث بنا ،تو چھتر پتی نے ہمت دکھائی او راپنے 30مئی کے اخبار مےں دھرم کے نام پر کی جارہی سادھوےوں کی زندگی برباد عنوان سے رپوٹ شائع کی ۔خبر سے تہلکامچ گےا کےونکہ اب اخبار کے ذرےعہ کھل کر لوگوںکو اس بات کا پتہ لگا گےا کہ ڈےرہ مےں سادھوےوں سے جنسی استحصال کےا جارہا ہے ۔اس کے بعد صحافی رام چندر چھتر پتی کو مسلسل رام رحےم کے ذرےعہ دھمکےاں دی جانے لگی تھی ۔اس بارے مےں چھتر پتی کے بےٹے انشل چھتر پتی کا کہنا ہے کہ پتا جی مسلسل مل رہی دھمکےوں سے ڈرے نہےں اور معاملے کو مسلسل شائع کرتے رہے ۔24اکتوبر 2002کو چھتر پتی گھر پر اکےلے تھے تبھی کلدےپ او رنرمل سنگھ نے انہےں گھر سے باہر بلاےا ۔کلدےپ نے چھتر پتی کو پانچ گولےاں ماری او ردونوں موقع سے فرار ہوگئے ۔حالانکہ پولےس نے اسی دن کلدےپ کو گرفتار کےا تھا صحافی رام چندر چھتر پتی کو پہلے روہتک پی جی آئی ہسپتال مےں بھر تی کرواےا گےا تھا بعد مےں ان کی نازک حالت کو دےکھتے ہوئے دہلی کے اپولو ہسپتال مےں داخل کراےا گےا تھا لےکن 28دنو ں کے بعد 21نومبر 2002کو ان کی موت ہوگئی تھی ۔بعد مےں جانچ سے پتہ لگا جس رےوالور سے گولی ماری گئی تھی وہ ڈےرہ سچا سودا کے منےجر کرشن لال کی تھی اس معاملہ مےں اس وقت کی اوم پرکاش چوٹالہ سرکار نے واردات کی جانچ کے احکامات دےئے ۔چھتر پتی کے قتل کے بعد پرےوار مےں ہار نہےں مانی بےٹے انشل مالی پرےشانےوں سے جھکے نہےں او رکھےتی کسانی کرتے ہوئے انصاف کےلئے جنگ لڑتے رہے ۔اس لڑا ئی مےں کئی لوگوں نے تعاون دےا ان پر کئی بار سمجھوتہ کرنے کادباو ¿ بھی ڈالا گےا لےکن وہ ڈٹے رہے بےٹے انشل نے کہا عدالت کے اس فےصلہ کے بعد انکی جد وجہدانجام تک پہنچ گئی ہے ۔
(انل نرےندر)

17 جنوری 2019

کےا بھاجپا ےوپی مےں 2014کو دوہراپائےگی ؟

سال 2019کے لوک سبھا چناو ¿ مےں اب بہت تھوڑے ہی دن بچے ہےں او راس کے پےش نظر اب اتحاد بنانے کی کوششےں تےز ہوتی جارہی ہےں ۔لکھنو ¿ مےں سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمےان اتحا د کے اعلان سے آنے والے لوک سبھا چناو ¿ کی لڑا ئی کا غےر رسمی آغاز ہوگےا ہے ۔بھاجپا کا رتھ روکنے کےلئے ےوپی کی دوکٹر مخالف سےاسی پارٹےا ںسپا اور بسپا ساتھ آگئےں ہےں ۔دونوں ہی پارٹےوں کا رےاست مےں اپنی اپنی ٹھوس مےنڈےٹ ہے ۔ڈھائی سے کرواہٹ بھرے دور کو پےچھے چھوڑ تے ہوئی سپا اور بسپا مےں جو اےک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا فےصلہ لےا ہے وہ صر ف مودی کو روکنے کے لئے ہی کےا گےا ہے ۔ماےاوتی نے پرےس کانفرنس مےں کہا تھا ےہ اتحاد مودی اور شاہ کی نےند اڑا نے والا ہے ےہ ان کی زبان ہے ۔بہرحال اتنا تو طے ہے کہ بھاجپا کےلئے چنوتےاں کافی بڑھ گئی ہے ۔اگر 2014کے لوک سبھا و2017کے اسمبلی انتخابات مےں پڑے ووٹوں کے مطابق غور کرےں تو دونوں پارٹےوں کا اجتمائی او ربھاجپا کا ووٹ تقرےبًا برابر ہے اگر ےہ پارٹےاں علےحد ہ علےحد ہ لڑتی تو توسکتا تھا بھاجپا کے لئے 2014دہرانا آسان ہوجاتا اپ چنوتےا ںبڑھ گئی ہےں ماےاوتی نے کہا سپا او ربسپا 38۔38aسےٹوں پر چناو ¿ لڑےں گی جب کہ کانگرےس کے لئے امےٹھی اور رائے برےلی کے لئے چھوڑی گئی ہےں ۔ماےاوتی اکھلےش نے فی الحال کانگرےس کے ساتھ کسی گٹھ بندھن سے انکا کےا ہے ۔ادھر کانگرےس نے اعلان کےا ہے کہ وہ رےاست کی سبھی 80لوک سبھا سےٹوں پر اپنے دم پر چنا و ¿ لڑے گی حالانکہ اس نے اتحاد کے دروازہ ابھی بھی کھلے رکھے ہےں ۔او رکہا اگر کوئی سےکولرپارٹی کانگرےس کے ساتھ چلنے کو تےار ہے تو اسے ضرور مدعوکےا جائے گا ۔پارٹی کو لگنے لگا ہے کہ سپا اور بسپا کے ساتھ اتحاد نہ ہونے کے سبب کچھ چھوٹی پارٹےوں کے ساتھ لاکر سےکولر ووٹوں کے بٹوارے مےں کمی لائی جاسکتی ہے ۔اس لئے ےہ کہا جاسکتا ہے کہ سپا بسپا کا ساتھ جھوٹنے سے کانگرےس نے دےگر کئی پارٹےوں کی طرف ہاتھ بڑھادےا ہے ۔کانگرےس کے ےوپی کے انچار ج غلام نبی آزاد نے اعلان کےا کہ ان کی پارٹی رےاست کی سبھی سےٹوں پر چناو ¿ لڑے گی او ربھاجپا کو ہرائے گی ۔کانگرےس صدر راہل گاندھی نے دبئی مےں کہا کہ کانگرےس کے پاس ےوپی کے لوگوں کو دےنے کے لئے بہت کچھ ہے راہل گاندھی جارحانہ انداز اور دبئی مےں اسٹڈےم مےں موجود لوگوں سے خطا ب مےں دہراےا کہ ہم ےوپی مےں اپنی طوری طاقت کے ساتھ لڑے گے او رلوگوں کو سرپرائز دےں گے جب اخبار نوےسوں نے ان سے پوچھا کہ کانگرےس کو سپا ،بسپا گٹھ بندھ سے الگ رکھا گےا ہے تو انہوں نے کہا الگ الگ رےاستوں مےں الگ سےکولر پارٹی اتحاد کر فرقہ پرست طاقتوں کو چنوتی کے لئے کمر کس چکے ہےں اور ہمارا کئی رےاستوں مےں اتحاد مےں ہوچکا ہے اور کچھ مےں اس کے لئے کارروائی جاری ہے اور اسی کا سپا ،بسپا اتحاد بھی اےک حصہ ہے ۔ماےاوتی جی او راکھلےش جی اتحاد الگ لڑ کر بھی بھاجپا کو ہرانے مےں مددگار ثابت ہونگے ہم نظرےات کی لڑائی لڑرہے ہےں مےں ےقےن دلاتاہوں 2019لوک سبھا چناو ¿ کے چوکانے والے نتےجے ہونگے بےشک !سپا ،بسپا مےں اتحاد تو ہوگےا لےکن دےکھنا ےہ بھی ہوگا کہ دونوں پارٹےاں سےٹوں کے بٹوارے مےں اپنے اپنے نتےاو ¿ں کا بھی دھےان رکھنا ہوگا کےونکہ گٹھ بندھن مےں جنتی زےادہ پارٹےاں ہوتی ہےں اتنی ہی کم سےٹےں ہوجاتی ہےں ۔کئی بار تو نےتاو ¿ں کا ملن ہوتا ہے لےکن ورکروں کا ملن نہےں ہوتا اور کبھی کبھی اےک دوسرے کے ووٹ ٹرانسفر بھی نہےں ہوتے ۔اپنا دل کے ساتھ پانے والی 73سےٹےں مرکز مےں بھاجپا قےادت والی حکومت کی اہم بنےاد ہے بھاجپا صدر امت شاہ 50فےصد کی لڑائی کی بات کررہے ہےں ،لےکن کہنے او رکرنے مےں فرق ہوتا ہے ۔حالانکہ 1993مےں دونوں پارٹےاں ساتھ لڑکر بھی بھاجپا کا صفاےا کرنے مےں کامےا ب نہےں ہوئی تھےں ۔اور سےٹےں تقرےًبا برابر تھی اور بھاجپا کو ووٹ زےادہ ملے تھے جہاں تک 2014لو ک سبھا چناو ¿ کی بات ہے تو بھاجپا نے 43.63فےصد ووٹ لےکر 73سےٹےں حاصل کی تھی ۔سپا کو 22.35فےصد ووٹ شےئر اور صرف پانچ سےٹےں حاصل ہوئی تھی ۔بسپا کوحالانکہ 19.77فےصد ووٹ ملے تھے او روہ اپنا کھاتہ تک نہےں کھول سکی تھی ۔کانگرےس کو 7.53فےصد ووٹ کے ساتھ دوسٹےں ملی تھی ۔اگر سپا 22.35)فےصد) بسپا (19.77فےصد )ےعنی کل ووٹ شےئر کو جوڑا جائے تو ےہ تقرےباً42.12فےصد بن جاتا ہے او راگر کانگرےس کا ووٹ شےئر (7.53فےصد )سے ےہ کہےں زےادہ بن جاتا ہے ۔2014مےں مودی کو لہر تھی وہ اب دھمی پڑگئی ہے ۔کہنے کا مقصد ےہ ہے کہ اترپردےش کا چناو ¿ نتےجہ کسی بھی سمت مےں جاسکتا ہے ۔بھاجپا برادرےو ں کے تجزےوں پر ےقےن کرکے آگے کی حکمت عملی بنانے مےں لگ گئی ہےں ۔بھاجپا گورکھپور او رپھولپور ضمنی چناو ¿ نتائج کو بھولی نہےں ہےں اس نے دےکھ لےا ہے کہ سپا بسپا آمنے سامنے ٹکر دےنے مےں کامےاب ہوجاتی ہےں تو اترپردےش مےں بھا جپا کی راہ آسان ہےں ہوگی ۔سال 2019کے لوک سبھا چناو ¿ مےں اب 80دن سے کم بچے ہےں جب کہ قےاس آرئےاں ےہ بھی جاری ہےں کہ ےوپی سے اس مرتبہ تےن چہرے ہونگے جو دہلی کے تخت پر قبضہ کرنے کی تےاری مےں ہے ۔بھاجپا مےں پی اےم مودی کے نام پر اےک مرتبہ پھر مہر لگ چکی ہے ۔وانسی سے پھر سے امےد ہونگے مودی اس مرتبہ پھر بھا جپا کے اسٹار کمپےنر ہونگے اور پی اےم عہدہ کے مضبوط دعوےدار بھی ۔اس کے برعکس سپا ،بسپا گٹھ بندھن مےں اکھلےش نے ماےاوتی کا نام پی اےم کےلئے پےش کر کے اپوزےشن کی طرف سے مودی کو چنوتی دی ہے ےہ بھی خبر ہے کہ اےک خاص داو ¿ کے ذرےعہ ببوانے بواکو پی اےم کا چہر ہ پروجےکٹ کےا ہے جبکہ ان کے والد ملائم سنگھ ےادو اےوان مےں ماےاوتی کے حرےف رہے ہےں ۔اترپردےش سے جب ہم تےن دعوےداروں کی بات کرتے ہےں تو اس مےں چوتھا نام راہل گاندھی کا بھی شامل ہوگا ۔وہ بھی ےوپی سے ہی چناو ¿ لڑتے ہےں ۔کل ملاکر بھاجپا کے لئے اپنی 2014کی جےت کو دوہرانے کی زبردست چنوتی ہوگی ۔دےکھتے ہےں بھاجپا اس چنوتی کا کےا توڑ نکالتی ہے ۔
(انل نرےندر)

16 جنوری 2019

شہرےت بل تارےخی بنےاد کی اصلاح ہے !

غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے لوک سبھا مےں پےش شہرےت (ترمےم )بل ،2016پاس ہوگےا ہے،افغانستان ،پاکستان اور بنگلہ دےش سے ہی اقلےتی ےعنی ہندوسکھ بودھ جےن او رپارسی وعےسائی فرقے کے لوگوں کو بھارت مےں 12سال کی جگہ 6برس رہائش کرنے کے بعد بھی شہرےت دی جاسکے گی ،اےسے لوگوں کے پاس کوئی مناسب دستاوےز نہ ہونے پر بھی انہےں شہرےت مل سکے گی ۔ادھر راجےہ سبھا مےں سرمائی اجلاس کے آخر ی دن بدھ کے روز ےہ بل پا س نہےں ہوسکا ۔ےہ بل اےک دن پہلے لوک سبھا پاس کرچکی تھی لےکن راجےہ سبھا مےں پےش ہونے کے بعد اس پر بحث شروع ہونے سے پہلے ہی اپوزےشن ممبران نے ہنگامہ شروع کردےا وزےر داخلہ کے بےان کی مانگ تھی اس کے بعد وزےر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپوزےشن کے خد شات کو دور کرتے ہوئے کہا کہ ےہ بل اکےلے آسام ےا نارتھ اےسٹ کی رےاستوںکے لئے نہےں ہے ۔ےہ پورے دےش کے لئے ہے وہےں اس بل کے خلاف آسام اور شمال مشرقی دےگر رےاستوں مے احتجاج تےز ہوئے بھاجپا کی قےادت والی اتحاد سے باہر ہوچکی آسام گن پرےشد کے تےن وزراءنے رےاستی کبےنٹ سے استعفی دےا در اصل طوےل عرصہ سے پڑوسی ملکو ں خاص طور پر بنگلہ دےش ناجائز طرےقے سے وہاں کے شہرےوں کا بھار ت مےں آنے کا سلسلہ چلتا رہا ہے اس مسئلہ سے نمٹ کے کے پےش نظر آسا م مےں جو نےشنل شہرےت رجسٹر تےار کےا گےا اس کی فہرست مےں تقرےباً40لاکھ شامل ہوگئے ےہ اپنے آپ مےں اےک بڑا مسئلہ ہے ۔اس پر کافی سوال اٹھے لوگوں کو اپنی شہرےت کو لےکر دعوی کرنے او رتنازعہ کو نپٹانے کا موقع بھی دےا گےا اس سے دےکھےں تو سرحد پر لاپرواہی کی وجہ سے بہت سے لوگ موقع کا فائدہ اٹھا کر بھارت مےں داخل ہوگئے اور آج ناجائز پرواسےوں کی طرح رہ رہے ہےں ۔ان مےں ہزاروں لوگ مختلف رےاستوں مےں انتہائی مفلسی کی زندگی جےنے کو مجبور ہے ۔تقسےم کے وقت بھارت کی طرح پاکستان اور بنگلہ دےش مےں اقلےتوںکے جان مال کی حفاظت کی گرانٹی دی گئی ہوتی توےہ نوبت نہ آتی لےکن اس پڑوسی دےش مےں غےر مسلموں سے زےادتی کی جاتی رہی ہے ۔اس کا نتےجہ ےہ ہوا کہ وہاں سے کافی تعداد مےں لوگ ہجرت کرگئے ۔صاف ہے ےہ ہجرت معاشی سے زےادہ دھارمک اسباس سے ہوئی مرکزی سرکار آسام سمجھوتہ کے پےش نظر وہاں کے بنےادی باشندوںکو سےاسی ووراثتی ومفادات کی حفاظت کےلئے کئی قدم اٹھارہی ہے ۔اس کے بعد وہاں کوئی احتجاج کا جواز نہےں ہے لوک سبھا مےں کانگرےس ،ترنمول کانگرےس جےسی پارٹےاں احتجاج مےں کھڑی ہوگئی ۔ان سے امےد تھی کہ ےہ ووٹ بےنک کی سےاست سے بالاتر ہوکر تارےخ کی بنےا دکو درست کرنے مےں مدد گار ہوگی لےکن انکا نظرےہ ماےوس کن رہا ۔
(انل نرےندر)

آلو ک ورما کوہٹانے کی کارروائی پر اٹھے کئی سوال!

وزےر اعظم نرےندر مودی کا سربراہی والی اعلی سطحی سلےکشن کمےٹی کے اکثرےتی فےصلہ سے آلوک ورما کو سی بی آئی ڈائرےکٹر کے عہدہ سے ہٹائے جانے اور بعد مےں خود آلو ورما کے استعفی دےنے کے فےصلے فوری طور پر چاہئے جتنے بھی ڈرامائی لگے لےکن امر واقعہ ےہ ہے کہ اس ادارے کے لمحاتی تکلےف دہ ثبوت توہے ہےں لےکن ساتھ ساتھ کئی سوال بھی کھڑے ہوگئے ہےں ۔ڈی جی فائر سروس اےنڈ سےکورٹی محکمہ کا چارج نہ لےنے سے انکا رکر استعفی دےنے والے سی بی آئی کے سابق ڈائرےکٹر آلوک ورمانے محکمہ پرسنل وٹرےننگ (ڈی او پی ٹی )کے سےکورٹی کو بھےجے گئے استعفے نامہ مےں حکومت پر سوال کھڑے کرنے والی زبان کا استعمال کےا انھوں نے استعفے مےں کہا ےہ اجتماعی محاسبہ کا لمحہ ہے ورما کا کہنا ہے کہ مےں نے سی بی آئی کی ساکھ بنائے رکھنے کی کوشش کی ۔لےکن مےرے معاملہ پوری کارروائی کو ہی الٹا کرتے ہوئے مجھے ڈائرےکٹر کے عہدہ سے ہٹاےا گےا ۔سی بی آئی ڈائرےکٹر عہد ہ سے آلو ک ورما کو ہٹائے جانے کے معاملہ پر کانگرےس ہی نہےں ،شےو سےنا نے سرکار کی نکتہ چےنی کی ہے ۔کانگرےس نے سپرےم کورٹ کے سابق جج اے کے پٹنائک کے بےان کا حوالہ دےتے ہوئے ورما کو بحال کرنے کی مانگ کی تھی ۔کانگرےس جن جسٹس پٹنائک کے بےان کا حوالہ دی رہی ہے انہےں کی نگرانی مےں لگے بدعنوانے الزامات کی جانچ سی وی سی نے کی تھی ۔جسٹس پٹنائک نے کہا ہے کہ آلو ورما کے خلاف کرپشن کے الزامات نہےں ہے او رنہی ورما کے خلاف کوئی ثبوت نہےں ملا تھا ۔وزےر اعظم نرےند رمودی والی کی سربراہی والی کمےٹی نے انہےں ہٹانے کےلئے بہت جلد بازی مےں فےصلہ لےا ۔معلوم ہوکہ سپرےم کورٹ نے اے کے پٹنائک کو آلوک ورما کے معاملہ سی وی سی جانچ کی نگرانی کے لئے چنا تھا۔کورٹ کے ذرےعہ آلوک ورما کی سی بی آئی عہد ہ پر بحالی کے بعد جمعرات کوہی نرےند رمودی کی صدارت والی سلےکشن کمےٹی نے 2-1کے مقابلے فےصلہ سے انکا فوری تبادلہ کےا تھا ۔اس کمےٹی مےں مودی کے علاوہ سپرےم کورٹ کے جج اے کے سےکری اور اپوزےشن لےڈر ملکا ارجن کھڑگے شامل تھے ۔کانگرےس نےتا نے ورما کو عہدہ سے ہٹا نے کے خلاف احتجاجی خط دےا تھا ان کا کہنا تھا ورما کو کم سے کم اےک بار اپنا موقوف رکھنے کا موقع دےا جانا چاہئے ۔سلےکشن کمےٹی کے ٹےم ممبران مےں سے پی اےم او رجسٹس سےکری سی وی سی جانچ کی بنےا دپر آلو ورما کو ان کے عہدہ سے ہٹاےا گےا ۔انہےں وزارت داخلہ کے محکمہ سول سےکورٹی او رہوم گارڈ س اےنڈ فائرس کا ڈائرےکٹر مقررکےا گےاتھا ۔جسٹس پٹنائک نے اےک انگرےزی اخبار انڈےن اکسپرےس سے بات مےں بتاےا کہ کرپشن کو لےکر ورما کے خلاف کوئی ثبوت نہےں تھا ۔پوری جانچ سی بی آئی کی اسپےشل ڈائرےکٹر راکےش استھانہ کی شکاےت پرکارروائی کی گئی ۔مےں نے اپنی رپورٹ مےں کہا کہ سی وی سی کی رپورٹ مےں کوئی نتےجہ نہےں نکلا ۔چےف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی سپرےم کورٹ کی بنچ کو دی گئی دوصفحات کی رپورٹ مےں جسٹس پٹنائک نے کہا تھا سی بی آئی نے مجھے 9نومبر 2018کو اےک بےان بھےجا تھا جو راکےش استھانہ کے دستخط پر مبنی تھا ےہ مےری موجودگی مےں نہےں درج کےا گےا ۔سی وی سی نے جو کہا و ہ آخری لفظ نہےں ہوسکتا ہے ۔اپنے بےان کے آخر مےں جسٹس پٹنائک نے کہا کہ سپرےم کورٹ نے مجھے نگرانی کا ذمہ سونپا تھا اس لئے مےںنے اپنی موجودگی درج کرائی مےں نے ےقےنی کےا کہ اصو لی انصا ف کا اصول نافذ کےا جائے ۔پچھلے 8جنوروی کو جب سپرےم کورٹ نے آلو ک ورما کو چھٹی پر بھےجنے کا سرکا رکے اور 23اکتوبرکے حکم کو خارج کےا تھا تو حکم مےں جسٹس پٹنائک کے نتےجوں کا کوئی تذکرہ نہےں کےا گےا تھا ۔آلو ک ورما کی اس دلےل سے سبھی متفق ہونگے انہےں سی بی آئی کے ڈائرےکٹر سے ہٹانے کےلئے قدرتی انصاف کا گلہ گھونٹ دےا گےا او رقاعدہ قانون کو طاق پر رکھ دےا گےا ۔کانگرےس پارٹی کے سےنئر لےڈر آنند شرمانے کہاآخر سرکا رکو کس بات کی گھبراہٹ ہے ؟آخر کےوں سرکار آلو ک ورما کو زبردستی ہٹاکر اپنی پسند کا افسر کو سی بی آئی کی ذمہ داری دےنا چاہتی تھی ؟اس پورے معاملہ مےں سی وی سی کی ساکھ بھی کم ہوئی ہے ۔سی وی سی کو رپورٹ کا حوالہ دےتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی رپورٹ مےں 10نکتے گنا ئے ہےں ان مےں سے 6پوری طرح غلط پائے گئے باقی 4نکتوں پر کوئی بھی ثبوت نہےں ہے سلےکشن کمےٹی سے انصاف کی امےد کی جاتی ہے لےکن ےہ انصاف مےں ناکام رہی ۔آنند شرما نے کہا کہ کمےٹی نے آلوک ورما پر لگے الزامات کے بار ے مےں ان کا موقوف تک سنا نہےں ورما کے بارے مےں سی وی سی کی رپوٹ مےں دم ہوتا تو عدالت اس پر کاررائی کرتی پارٹی کا کہنا ہے سرکار رافےل جہاز سودی کے جانچ سے ڈری ہوئی تھی اس لئے سرکار نے آلو ک ورما کو 20دن بھی سی وی آئی چےف کے عہد ہ پر نہےں رہنے دےا۔بنےادی بات ےہ ہے کہ اس کےس سے سلےکن کمےٹی اور سی وی آئی دونوں کا ہی بھروسہ گھٹا ہے اور سی وی آئی کی ساکھ اور کام کی صلاحےت پر دوبارہ سے جائزہ لےنا ضروری ہوگےا ہے۔

(انل نرےندر)

15 جنوری 2019

شےلا دکشت کے آنے سے کانگرےس کا پرانا دور پھر لوٹے گا ؟

دہلی کانگرےس کی صدر بنائے جانے کے ساتھ ہی شےلا دکشت نے اپنے پرانے دم خم کا ثبوت دےنا شروع کردےا ہے ۔انھوں نے کہا کہ دہلی مےں کانگرےس کا پرانادور پھر سے لوٹے گا ۔پارٹی پھر سے کھڑی ہوگی ۔دہلی مےں پارٹی کمان ملنے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے شےلا جی نے کہا کہ وہ خود کو بہت سمانت محسوس کررہی ہےں پارٹی نے جو ذمہ داری سونپی ہے اس کو وہ بخوبی نبھائےں گی ۔عمر زےادہ ہونے کے چلتے کچھ حلقوںمےں سوال اٹھائے گئے لےکن آج بھی بھارت کی سےاست مےں کئی عمر دراز لےڈر سرگرم رول نبھارہے ہےں ۔80سالہ شےلا دکشت سےاست مےں سرگرم عمر دراز اکےلی لےڈر نہےں ہے بلکہ ثابق وزےر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے لےکر کئی وزےر اعلی طوےل عمر کی دہلےز پر قدم رکھنے کے بعد بھی اپنی پارٹی وعلاقائی سےاست کی رہنمائی کررہے ہےں ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ ،عمر81،دےوگوڑا عمر 85،پرکاش سنگھ بادل ،91،شردپوار 79او رملائم سنگھ ےادو 79برس ہےں کی مثال سامنے ہےں لوک سبھا چناو ¿ سر پر ہے راجدھانی مےں کانگرےس کی پوزےشن کسی سے پوشےدہ نہےں ہے ۔کھوئی زمےن کی تلاش مےں شےلا دکشت کو کمان سونپی ہے لےکن ان کے سامنے چےلنج بہت بڑے ہےں شےلا اور ان کی ٹےم کے سامنے سب سے بڑا چےلنج سب کو ساتھ لےکر چلنے کے ساتھ چناوی برس مےں سست پڑے نےتا و ¿وں اور ورکروں مےں نےا جوش پےدا کرنا ہے ۔دو ےا تےن مہےنہ مےں عام چناو ¿ ہونے ہےں اس درمےا ن نئی ٹےم کو نہ صر ف تےار کرنا بلکہ مضبوط بنابڑی چنوتی ہوگی دہلی کی راجدھانی مےں دھماکے دار واپسی کرنے والی شےلا دکشت کا سےاسی سفر تمام کارناموںسے بھراپڑا ہے ۔پنجاب کے کپور تھلہ مےں پنجابی خطری خاندان مےں پےدا شےلا دکشت دےش سب سے کامےاب وزرائے اعلی مےں سے اےک مانی جا تی ہےں ۔15برس تک دہلی کی وزےر اعلی رہنے کے دوران شےلا جی کے ذرےعہ کرائے گائے وکاس کاموں کے چلتے عام لوگوں مےں ا ن کی نسبت ساکھ بنی ہوئی ہے پارٹی اعلی کمان اےسے پردھان کی تلاش مےں تھی جس کی عام لوگوں مےں مثبت ساکھ ہو اور وہ پارٹی کو الگ گروپوں کو ساتھ لےکر چل سکے اسی کے چلتے پارٹی نے شےلا جی جےسی تجربہ کار اور کام کرانے والی لےڈر کی شکل مےں چنا ہے ۔وہ ہمےشہ سے گاندھی خاندان سے وابستہ رہی ہےں جےسا کہ مےں نے کہا ہے کہ سب سے بڑی چنوتی دہلی کانگرےس کو پھر سے کھڑا کرنے کی ہے ۔اس بار انہےں بطور وزےر اعلی نہےں بلکہ کانگرےس تنظےم کو کھڑا کرنا ہوگا حال مےں کانگرےس کااےک بھی دہلی اسمبلی مےں ممبر نہےں ہے ۔ووٹروںکو پرانی کانگرےس سے کس طرح جوڑا جائے ؟عام آدمی پارٹی مےں گےا ووٹ بےنک کس طر ح واپس لاےا جائے جہاںتک دہلی مےں ٹےم کی بات ہے تےن بار وزےر اعلی واےک مرتبہ دہلی کانگرےس صدر رہنے کے سبب کوئی خاص پرےشانی تو نہےں آنی چاہئے ۔زےاتر نےتاان کے ساتھ کام کرچکے ہےں مانا ووٹروںکو کانگرےس مےں لانا اور بھروسہ کو پھرسے جگانا ہی اےک چےلنج بھرا کام ہے ۔دہلی مےں عام آدمی پارٹی سے گٹھ بندھن کے سوال پر شےلا جی نے کہا کہ پارٹی دہلی مےں اکےلے ہی مضبوط ہے اور لوک سبھا چناو ¿ 2019کے لئے پوری طرح سے اکےلے ہی لڑنے کے لئے تےار ہے ہم شےلا جی کو نےا عہد ہ ملنے پر مبارکباد دےتے ہےں او رامےد کرتے ہےں کہ وہ اس چنوتی بھرے وقت مےں کھری اترےں گی ۔
(انل نرےندر)

نےوز پرنٹ سے جی اےس ٹی ہٹاو ¿ ،اخبار ات کو ڈوبنے سے بچاو ¿!

ہم پرنٹ مےڈےا والے وزےر اعظم نرےندرمودی اور وزےر اطلاعات ونشرےات کرنل راج وردھن سنگھ راٹھور کا شکرےہ اداکرناچاہتے ہےں کہ انھوں نے ہماری اےک مانگ تو منظور کرلی ہے ۔حکومت نے ڈی اے وی پی کی ا شتہاری شرحےں بڑھانے کا فےصلہ کےا ہے ۔اس کے ےقےنی طور سے چوطرفہ دباو ¿ مےں پرنٹ مےڈےا کو تھوڑی راحت ملے گی ۔ہم امےد ےہ بھی کرتے ہےں کہ سرکار چھوٹے او رمنجھولے اخبارات کو اشتہارات دےنے کا بھی کوٹا بڑھائے گی ۔اور نئے کوٹے کو سختی سے لاگو کےا جائے گا ۔اگر اےسا نہےں ہواتو اس کا فائدہ صر ف بڑے مےڈےا گھرانوں کو ہی ہوگا ہم سرکار اور جی اےس ٹی کونسل سے اپےل کرناچاہتے ہےں کہ وہ آئندہ مےٹنگ مےں جب کچھ اورچےزوں سروسس پر لگے ٹےکس کا جائزہ لے تو اخباروں کے نےوز پرنٹ پر لگنے والے جی اےس ٹی کو ختم کرےں ۔سنہ 1947سے جب سے دےش آزاد ہوا ہے تب سے اخباروں مےں استعمال ہونےوالا کاغذ (نےوز پرنٹ)پر کوئی ٹےکس نہےں لگاتھا لےکن دکھ سے کہنا پڑتاہے کہ مودی حکومت نے جی اےس ٹی کے ذرےعہ سے نےوز پرنٹ پر 5فےصد جی اےس ٹی لگادےا ہے ۔ جس کے سبب اےک طرف تو نےوز پرنٹ کی قےمت وےسی ہی بڑھ رہی ہے رہی سہی کسر پانچ فےصد جی اےس ٹی نے پوری کردی ہے ۔ےہ کسی سے پوشےدہ نہےں کہ اخبار کی سےل قےمت اس کی لاگت قےمت سے کم قےمت پر ہوتی ہے ۔اخبار قوم کی تعمےر کےساتھ دےش کی عوام مےں معلومات اور بےداری لاتے ہےں۔سرکار کی مفاد عامہ کی پالےسےوں کی معلومات بھی اخبارات کے ذرےعہ سے ہی دی جاتی ہے ۔اخبارات پر قےمت ےا بہت معمولی ڈائرےکٹ ٹےکس کی وصول رہا ہے ۔اس سلسلہ آئےنی تحفظ کی سپرےم عدالت کا بھی ماننا ہے کہ اخبارات پر کوئی بھی ٹےکس سرکا رکے پبلیسٹی ،خواندگی کی رفتار اور معمول پر حملہ ہے ۔اخباری کاغذ پر جی اےس ٹی لگانا کسی بھی نقطہ نظر سے انصاف پر مبنی او ردلےل آمےز نہےں مانے جاسکتا ۔ےہ اےک طرح سے معلومات پبلےسٹی اےنڈ فروغ پر لگام لگانے جےسا ہے اخبارات مےں خاص کر چھوٹے اور منجھوٹے اخبارات مےں سب سے بڑا آمدنی کا ذرےعہ سرکاری اشتہارات ہوتے ہےں ۔پچھلے کچھ عرصہ سے ان مےں بھی کمی آئی ہے ۔نےوز پرنٹ پر جی اےس ٹی لگنے سے اور اشتہارات کم ہونے سے پرنٹ مےڈےا کا وجود کا خطرہ کھڑا ہوگےا ہے ۔پورے بھارت مےں پرنٹ مےڈےا آج اپناوجود بچانے کی لڑائی لڑنے پر مجبو رہے طوےل عرصہ تک جمہورےت کے چوتھے ستون اظہاررائے کی آزادی کے فروغ وپھےلا و ¿ کرنے والے اخبارات آج خود کی گھےرا بندی پوزےشن مےں ہے زےادہ تر اخبار ات نے اپنے کئی اےڈےشن ےا تو بند کردےئے ہےں ےا اس مےں اسٹاف کی کٹوتی کرنے پر مجبو رہےں ۔جھوٹے او رمنجھوٹے اخبار وں نے پہلے سے ہی اےسا کرنا شروع کردےا تھا ۔اخباروں مےں چھٹنی کے سبب ان کے ملازمےن کو دردر کی ٹھوکرےں کھانی پڑرہی ہےں اور اس مےں بےر وز گاروں کی لائن لمبی ہوتی جارہی ہےں ۔اخبارات ملازم آج ان تعلےم ےافتہ بےروز گاروں کی قطار مےں کھڑے ہےں جن کے پاس ڈگرےا ں بھی ہےں اور قابلےت بھی ہے لےکن نوکری نہےں ۔اےک اےک اخبار سے کئی سےکڑو ں کاندان جڑے ہوتے ہےں اگر ہزاروں اخبار بند ہوجاتے ہےں تو ان کے سا تھ ہزاروں خاندان متاثر ہوتے ہےں ۔مےں نے اخبار ات کو کن مشکل حالات سے گزنا پڑتا دےکھا ہے اس لئے مےںنے تفصےل سے بتاےا ہے تاکہ مودی سرکار چھوٹے او رمنجھولے احباروں کی مدد کرےں او ر انہےں ڈوبنے سے بچائےں ۔مودی سرکار کو ان چھوٹے او رمنجھولے اخبار ات نے ہی بڑا رول نبھاےا او رآگے بھی نبھائےں گے ۔اس لئے ہم سمجھتے ہےں کہ سرکار کی بھی ©ذمہ داری بنتی ہے کہ چھوٹے او رمنجھولے اخبارات کے سامنے جو برننگ مسائل ہےں ان پر حکومت غور کرے اور راحت فراہم کرائے ۔
(انل نرےندر)

13 جنوری 2019

پرےاگ راج دو ¿ے کنبھ ۔بھووے کنبھ !

اترپردےش کے پرےاگ راج (الہ آباد )مےں مکر سکرانتی سے شروع ہونے جارہے کنبھ کی تےارےاں آخری مرحلہ مےں ہے ۔سنگم ساحل پر بسائی جارہی کنبھ نگری ےعنی چھوٹے بھارت مےں اترپردےش سرکار نہ صر ف پورے دےش کی بلکہ ساری دنےا کی ساجھےداری چاہتی ہے ۔اس مقصد سے وہ دےش کے سبھی دےہات مےں دعوت نامہ بھےجوارہی ہے ۔گاو ¿ ں تک دعوت نامہ پہنچانے کےلئے سرکار کے افسر رےاستوں کے چےف سکرےٹری کے ذرےعہ سے ہر اےک پنچاےت سے کم سے کم چار لوگوںکو کنبھ آنے کی دعوت دے رہے ہےں ۔کنبھ مےں دنےا کو سمےٹنے کےلئے192ملکوں کو انکے سفارتخانوں کے ذرےعہ سے خط بھےجے گئے ہےں ۔سنگم کے ساحل پر پرےاگ راج پر منعقد ہونےوالے کنبھ مےں 4ہزار کروڑ روپے کا بجٹ ہے ۔بہت سے ملکوںسے آنےوالے مہمان ،ےونسکو کی طرف سے انسانےت کی ناےاب تہذےبی وراست پر تمغہ ہے اےسے شاےان شان کنبھ کو اب ےاد گار بنانے کے لئے وزےراعلی آدتےہ ناتھ ےوگی کی قےادت مےں رےاستی سرکار پورے زور وشور سے لگی ہے ۔کنبھ کی صفائی کو لےکر اتنی کوشش کررہی ہے کہ صاف صفائی کے ذرےعہ اس شہر کو گنےزبک آف ورلڈ رےکارڈ مےں درج کراےا جاسکے ۔کنبھ مےں آنے والے شردھالووںکو کی تعداد کو ذہن مےں رکھتے ہوئے مےلہ مےں عالمی سطح کی صاف صفائی کا انتظام ہے ۔پرےا گ راج مےں ہونے والے کنبھ مےلے مےں رفع حاجت سے نجات (اوڈی اےف )کا کرنے کا فےصلہ کےا گےا ہے تاکہ کنبھ مےلے کے دوران آنے والے تےرتھ ےاتری وہ ہر اےک سےاح ےہاں سے صفائی کا پےغا م لےکر جائےں ۔15جنوری سے 04مارچ 2019تک منعقد ہونے والے کنبھ مےلے کے لئے پرےاگ راج مےلہ اتھارٹی دےوے ۔بھووے کنبھ صفائی سے متعلق حکمت عملی کے پلان پر لگی ہوئی ہے ۔وزےر اعلی ےوگی آدتےہ ناتھ نے کنبھ مےلہ علاقہ کے کالی مارگ پر واقع مےڈےا سےنٹر کا افتتا ح کرنے کے بعد اخبار نوےسوں کے بات چےت کرتے ہوئے کہا کہ کنبھ مےلہ مےں آنے والے سنتوں وشردھالووں کوسبھی سہولےات فراہم کی جائےں گی او رکسی طرح کی کوئی کمی نہےں ہونے دی جائے گی ۔مےلے مےں آنے والے شردھالووں کو رہنے کے لئے مےلہ انتظامےہ کی جانب سے 20ہزار لوگوں کی رہائش کے لئے اےک گنگا پنڈال بناےا گےا ہے ۔اس کے پہلے پچھلے مہےنہ 70ملکوں کے سفراءےہاں آکر سنگم ساحل پر اپنے اپنے ملکوں کے جھنڈے لہرا چکے ہےں ۔ےوگی جی نے کہا کنبھ مےلہ کو ےونسکو کی جانب سے انسانےت کی حفاظت کےلئے عالمی انسانےت مل چکی ہے ۔شری رام کھادی اکھاڑا کے مہنت سوامی موہن داس نے کہا کہ ےوگی حکومت مےں ےہ مےلہ تارےخی ہوگےا ہے ۔کےونکہ ماضی گذشتہ مےں کبھی اےسا ہوا او رنہ ہی آنے وا لا کوئی وزےر اعلی اےسا کرسکے گا ۔شری ےوگی خود اےک سنت ہے اور سنتوں کے جذبات کو اچھی طرح سمجھتے ہےں ۔شاستروں کے مطابق 4مخصوص مقام ہےں جن مقامات پر کنبھ مےلہ لگتا ہے ناسک مےں گوداوری ندی کے ساحل پر او راجےن مےں سپرا ندی کے کنارے ،ہرےدوار اور پرےاگ گنگا کے ساحل پر سب سے بڑا مےلہ کنبھ بارہ برسوںکے بعد لگتاہے اور 6برسوںکے وقفے مےں ارد ھ کنبھ مےلے کا انعقاد ہوتاہے ۔سال 2019مےں پرےاگ مےں اردھ کنبھ مےلے کی باری ہے ۔کلش کو کنبھ کہا جاتاہے ۔کنبھ کا مطلب گھڑا ہوتاہے اس پرو کا تعلق سمندری منتھن کے دوران آخر مےں نکلے امر ت کلتھ سے جڑا ہے ۔دےوتااسور جب امرت کلش کو اےک دوسرے سے چھےن رہے تھے تب اس کی بوندےں زمےن کی تےن ندےوں مےں گری تھی ۔جہاں جب ےہ بوندےں گری تھےں اسی جگہ پر کنبھ کا انعقاد ہوتا ہے ۔اس تےن ندےوں کا نام ہے گنگا ،گوداوری ،اشپرا ،امرت پر حق کو لےکر دےوتا اور داناو ¿وں کے درمےان مسلسل 12دن تک جنگ ہوئی تھی جو انسانوں کے 12برس کے برابر ہے اس لئے کنبھ بھی بارہ ہوتے ہےں ۔ان مےں سے چار کنبھ زمےن پر ہوتے ہےں اور آٹھ کنبھ دےو لوگ مےں ہوتے ہےں ۔سمندی منتھن کی کہانی کے مطابق کنبھ پروو کا سےدھا تعلق تاروں سے ہے امرت کلش کو سور گ لوگ تک لے جانے مےں جےنت کو بارہ دن لگے تھے دےوکا اےک دن انسان کے لئے انسان کے اےک برس کے برابر ہے ۔اس لئے تاروں کی گردش کی مطابق ہر برس کنبھ مےلہ مختلف مقامات پر منعقد کےا جاتاہے اور جنگ کے دوران سورےہ ،شنی اور چندر وغےرہ دےوتاو ¿ں نے کلش کی حفاظت کی تھی ۔اس لئے اس وقت کی راشےوں پر رکشا کرنے والے چندر ےوپک گرح جب آتے ہےں تو کنبھ کا انعقاد ہوتا ہے ۔اور چاروں پوترمقامات پر ہر تےن بر س کے فرق سے سلسلے وار کنبھ مےلوں کا انعقاد کےا جاتاہے ےعنی امرت کی بوندےں چھلکتے وقت جن راشےوں مےں سورےہ چند رما بھرسپتی کی پوزےشن کے مخصوص کے ےوگ کے موقع رہتے ہےں ۔وہاں کنبھ پروکا ان راشےوں مےں گرحوں کے ملن سے منعقد ہوتا ہے ۔اس مرت کلش کی رکشا مےں سورےہ ،گورو اور چندرما کی مخصوص کوششےں رہی ہےں ۔اسی سبب انہےں گرحوں کی خاص حالات مےں کنبھ پروو مانا نے کی پرمپرا ہے امرت کی ےہ بوندےں چار جگہ گری تھی ۔جن مےں گنگا ندی (پرےاگ ،ہرےدوار )گوداری ،شپرا ندی سبھی ندےوں کا تعلق گنگا سے ہے گوداوری کو گومتی گنگا کے نام سے پکار تے ہےں شپری کو بھی نارتھ گنگا کے نام سے جانتے ہےں ۔ےہاں پر گنگا گنگےشور کی ارادنا کی جاتی ہے ۔چلو پرےاگ راج اس بھووے ارد کنبھ چلےں۔

(انل نرےندر )



میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...