Translater

28 مارچ 2020

لاک ڈاو ¿ن کی صور ت میں کسان اپنی فصلیں کیسے کاٹے اور ڈھلائی کریں؟

کورونا وائر س پر قابو پانے کے لیے دیش میں لاک ڈاو ¿ن کے حالات اور کئی ریاستوںمیں کرفیو لگائے جانے سے کسانوں کو بھاری نقصان ہونے کا امکان ہے ۔ان نا گذیں حالات کے چلتے دیہات سے شہروں میں غزائیت کی سپلائی متاثر ہونے لگی ہے اور جلد خراب ہونے والی سبزیوں کے دام بھی بڑھنے لگے ہیں جس وقت کورونا وائر س کو لیکر وزیر اعظم نریندر مودی دیش بھر میں لاک ڈاو ¿ن کا اعلان کر رہے تھے تب ہریانہ پنجاب ،یوپی ،بہار اور ہماچل پردیش کے کسان اپنے ذہن میں ایک ہی بات سوچ رہے تھے کہ اب لاک ڈاو ¿ن کے چلتے ان کی فصل کا کیا ہوگا ؟فصل تیار ہے کسی بھی وقت کٹائی شروع ہونے والی تھی اب یہ کیسے کی جائے گی ۔یہ سب تشویش کسانوں کے چہروں پر چھائی ہوئی ہے کسانوں نے بتایا کہ اپریل کے پہلے ہفتہ میں گیہوں کی فصل کی کٹائی شروع ہو جاتی ہے اس مرتبہ پہلے ہی بدلے موسم کی وجہ سے گیہوں کو خاصہ نقصان پہونچاہے اگرا ب وقت پر گیہوں کی کٹائی نہیںہوتی تو پھر کھیت میں ہی فصل خراب ہو جائے گی وقت پر کٹائی نا ہونے سے دانہ خراب ہو سکتاہے اور فصل کھیت میں ہی جھڑ سکتی ہے ۔اس کےساتھ اگر موسم بھی خراب ہو گیا تو پوری فصل کے برباد ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا ۔ہار کی بات کریں تو یوپی کے کسانوں نے کھیت میں آلو بویا ہوا ہے اور کھدائی ہونی ہے یہ کام مزدوروں کے وغیر نہیں ہو سکتا ایسے میںکسان کیا کرے ؟یہ پوزیشن واضح نہیں ہو پائی ہے ۔24مارچ کے درمیانی رات سے لاک ڈاو ¿ن ہونے کے بعد سے پولیس مزدوروں پر بھی سختی کررہی ہے۔ایک جگہ 4مزدور نہیںکام کر سکتے ایسے میں کسانوں کے پا س کیا متبادل ہے یہ بتانے میں وزیر اعظم ناکام رہے ہیں اور کسانوں کے پاس اپنی فصل لینے کے لیے کیا حل ہے ؟تقریباً یہی پوزیشن ہر ریاست میں کسانوں کی ہے اگر فصلیں کٹتی نہیں ،برباد ہو جاتی ہیں تو اس کا بھاری خمیازہ دیش کی عوام کو اٹھانا پڑےگا ۔
(انل نریندر)

کورونا کی جانچ اب دیسی کٹ سے ممکن!

ہمارے دیش میں پھیلی کورونا وائر س کی وبا کے درمیان ایک خوش خبری آئی ہے وہ یہ کورونا وائرس کی جانچ اب دیسی طریقے سے بھی ممکن ہوگی ۔ہندوستانی سائنس دانوں کے ذریعے تیار کیے گئے کٹ کو آئی سی ایم آر نے منظوری دے دی ہے اس نے کہا کہ ہے کہ اب جانچ سستی ہو جاءے گی ان سائنسدانوں کے مطابق اب مریض کو جانچ کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا اب بھارت میں بنے کٹ سے ہی یہ جانچ ممکن ہو سکے گی اس جانچ کی قیمت میں بھی کمی آئے گی اس کے لیے کئی انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے تیار کیے گئے کٹ کی اسٹڈی کی گئی اس کٹ کا پیمانہ تھا کٹ موو آن ایف ڈی اے سے منذول ہو یا ای یو اے سے منظور شدہ ہو یا پھر اس کانتیجہ سوفیصد ہو پونے کی این آئی وی لیو میں آئے سبھی کٹ کی جانچ کی گئی جس میں سے دو کٹوں کی رپورٹ سوفیصد پوزیٹو اورسو فیصد نگیٹو پائے گئے جس کے بعد ایسی دو کٹوں کو منظور ی دے دی گئی ہے ۔کوروناوائر س آنے کے بعد مکمل جانچ آئی سی ایم آر کی این وی لیب کو وائرس کو الگ تھلگ کرنے میں کامیابی ملی تھی اس وقت کہا گیا تھا اس کامیابی کے بعد ہندوستانی سائنسدانوں کے ذریعے بنائے گئے کٹوں کی جانچ کرنے میں کافی مددگارثابت ہوئی ہے ۔آئی سی ایم آر کے مطابق امریکی ایف ڈی اے سے منظور شدہ کٹ کے ساتھ ہی اب ہندوستانی کٹ کا بھی استعمال کورونا مریضوں کے لیے کیا جا سکے گا اس کو دیش میں بنایا جارہا ہے او ر اس کو کورونا کی جانچ کے لیے صحیح مانا گیا ہے آئی سی ایم آر کے ذرےعے ماہرین کی ٹیم نے کورونا کی اسکریننگ زیادہ بہتر کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایاگیا ہے ۔یہ کٹ بہت ہی کم وقت میں بنائی گئی ہے جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے اس کے بازار میں آنے کے بعد اس پر خرچ کافی کم ہوسکتاہے ۔سرکار نے وائرس کی جا نچ کی ذمہ داری کچھ پرائیویٹ لیو کو بھی سونپی ہے ڈاکٹر لال پیتھ لیب ،ایس آئی ڈانگ لیب وغیرہ کو اجازت دینا شامل ہے انہوں نے اس وائرس انفکشن کی جانچ فیس تقریباً 4500روپے رکھی ہوئی ہے ہمیں امید ہے دیش میں بنی دیسی کٹ جلد بازار میں آجائےگی اوروائرس کے مریضوں کے جانچ کی فیس کم ہو جائے گی ۔
(انل نریندر)

کورونا سے پہلے بھوک ہمیں مار دے گی!

ایک شخص علی حسن جس دوکان میں کام کرتے ہیں وہ بند ہو گئی ہے اور اب ان کے پاس کھانے اور گزر بسر کے لیے پیسے نہیں ہیں ۔بھارت میں کورونا وائرس کے انفکشن کو روکنے کیلئے مکمل لاک ڈاو ¿ن نافذکر دیاگیا ہے ۔انتہائی ضروری کاموں کو چھوڑ کر کسی بھی چیز کے لیے گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے لیکن روز مرہ کھانے کمانے والوں کیلئے اکیس دن گھر پر بیٹھنا ان کیلئے کوئی متبادل نہیںہے ۔بی بی سی کے نامہ نگار وکاس پانڈے نے ایسے ہی لوگوں کی زندگیوں میں جھانک کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ آنے والے دن ان کیلئے کیا لے کر آنے والے ہیں ؟اتر پردیش کے نوئیڈا میں ایک چوراہا ہے جو لیور چوک کے نام سے جانا جاتا ہے عام طور پر اس جگہ پر کافی بھیڑ بھاڑ رہتی ہے دہلی سے لگے ہوئے اس علاقے میں گھر اور عمارتیں بنانے والے ٹھیکے دار ،مزدور ،یہاں لینے آتے ہیں ۔لیکن پچھلے اتوار کی صبح جب میں اس علاقے میں گیا تو یہاں سناٹا دیکھنے لائق تھا اس دن وہاں چڑیوں کا شور ہی عرصے بعد سننے کو ملا ۔اس سوال کے جواب میں کیا و ہ عوام کرفیو کی تعمیل نہیں کر رہے تو ایک شخص رمیش کمار جو یوپی کے باندہ ضلع کے باشندے ہیں بتاتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا کہ اتوار کے دن ہمیں کا م دینے کے لیے کوئی نہیں آئے گا لیکن ہم نے سوچا کہ اپنی قسمت آزمانے میں کیا جاتا ہے ؟رمیش :ہم ہر روز چھ سو روپے کماتے ہیں اور اس سے مجھ گھر کے پانچ افراد کو پیٹ بھرنا ہوتا ہے ۔اگلے کچھ دنوںمیں جو کچھ گھر میں سامان ہے وہ ختم ہو جائے گا ۔مجھے کورونا وائرس کے خطرے کا پتہ ہے لیکن میں اپنے بچوں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتا الہ آباد کے باشندے رکشہ پولر کشن لال بتاتے ہیں کہ لاک ڈاو ¿ن کے چلتے وہ پچھلے پانچ دنوں سے گھر بیٹھے ہیں رمیش کی طرح بھارت میں ایسے غریب افراد جو یومیہ اجرت پر زندگی گزر بسر کرتے ہیں وہ آج فاقہ کشی جیسے حالات کاسامنا کرنے کو مجبور ہیں حالانکہ اتر پردیش سے لے کر کیرل اور دہلی ریاست میں رمیش کمار جیسے مزدوروں کے کھاتے میں پیسے ڈالنے کا وعدہ کیا ہے وہیں مودی حکومت نے اس وبا کی وجہ سے پریشان حال یومیہ اجیر مزدوروں کو بھی مد د دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن ان وعدوں پر عمل کے لیے سرکار کو کئی چیلنج کا سامنا کرنا پڑےگا ۔ان خاندانوں کی زندگی اسی نقدی پر ٹکی ہوتی ہے جسے پورے دن میں کما کر گھر لے کر آتے ہیں ۔ان میں سے کئی ایسے دوسری ریاستوں کے مزدور بھی ہیں یہ کام کرنے کیلئے اپنی آبائی ریاست سے دوسری ریاست میں آئے ہوئے ہیں ان کا کیا ہوگا ؟مجبوراً کچھ مزدور خاندان پیدل ہی اپنے گاو ¿ں کی طرف چل پڑے ہیں کیونکہ اپنے گھر تک پہونچنے کا کوئی ٹرانسپورٹ کا ذریعہ نہیں ہے ۔کونکہ ٹرینیں اور بسیں بند ہیں۔
(انل نریندر)

27 مارچ 2020

کورونا وائرس کی جنگ کے درمیان جوانوں کی شہادت!

جہاں ایک طرف پورا دیش کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے میں لگاہوا ہے وہیں چھتیس گڑھ کے نکسلی متاثرہ ضلع سکمہ کے چنتا گندھا علاقے میں نکسلی حملے میں 17جوانوں کی شہادت میں پورے دیش میں غم کا ماحول پیدا کر دیا ہے ۔کورونا وبا سے لڑتے دیش میں یہ خبر بڑی سرخیاں نہیں بنیں یہ سب سے بڑا ماو ¿ وادی حملہ ہے ۔دکھ کی بات یہ ہے کہ کئی گھنٹوں تک سکیورٹی کو یہ پتہ نہیں چلا تھا کہ ان کے جوان کہاں تعینات ہیں ؟اتوار کو یومیہ ان کی تلاش کے لیے 500جوانوں کی ٹیم کو بھیجا گیا تھا ۔جنہوں نے جوانوں کی لاشیں برآمدکی ہیں ۔سکیورٹی فور س پر نکسلی حملے نے ایک بار پھر اس مسئلے سے مقابلہ کرنے کی چنوتی کو ایک بار پھر کھڑا کر دیا ہے اور سرکار کی کوششوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے ہوتے ہیں ۔اکثر نکسلی اپنے گڑ ھ میں گھات لگا کر یا پھر سیدھے مڈبھیڑ میں سکیورٹی فورسز کو چنوتی دیتے ہیں اس سے مقابلہ کرنے کیلئے ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی مشترکہ کوششیں چلتی رہی ہیں لیکن اس سمت میں کوئی امید سے زیادہ کامیابی نہیں مل پائی اکثر دیکھا جاتا ہے خفیہ مشینری اور سکیورٹی فورس کی تیاری ناکام ثابت ہوتی ہے ۔جتنی جانکاری ملی ہے اس کے مطابق سکمہ کے دنپا علاقے میں ماو ¿ وادیوں کے بھاری تعداد میں جمع ہونے کی اطلاع پر جمعہ کو یعنی 20مارچ کی شام کو الگ الگ کیمپوں سے تقریباً550جوان جنگل میں داخل ہوئے تھے ماو ¿ وادیوں کو اس کی بھنک لگ گئی اس لیے انہوں نے واپسی کے راسطے پر انہوں نے گھیرگھیر کر مارنے کا پلان بنا رکھا تھا ۔جوان الگ الگ سو ڈیڑ سو پر مشتمل ٹیموں میں چل رہے تھے ایک ٹیم ماو ¿ وادیوں کے چنگل میں پھنس گئی تصور کیا جاسکتا ہے کہ اچانک گولیوں اور بموں کے حملے میں پھنسے جوانوں کو معاملہ سمجھنے میں وقت لگاہوگا اور وہ بکھرے بھی ہوںگے کونکہ ماو ¿ وادی چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے اور ان کی تعداد 300کے آس پاس رہی ہوگی اور وہ بھاری پڑ گئے اور جوانوں کی مقابلہ کرنے میں گولیا ں ختم ہوگئیں حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی ماو ¿ وادی نا مرا ہو۔بہرحال ماو ¿ وادی جونوں کے ہتھار بھی لوٹ لے گیے کل ملا کر ماو ¿ وادیوں نے اپنے تازہ حملے سے صاف کر دیا ہے کہ ان کی طاقت ختم نہیں ہوئی ہے ۔چھتیس گڑھ میں نکسلی سرگرمیوں پر قابو نا پائے جانے کے پیچھے کچھ وجہیں صاف ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔وہاں نکسلی گروپ مقامی حمایت کے وغیر اتنے لمبے سمیہ تک نہیں ٹک سکتے اس لیے ان کی حمایت کو ختم کرنے پر شروع سے زور دیا جاتا رہا ہے ۔اب مقامی لوگوں اورانتظامیہ کے درمیان بات چیت کا جو پل قائم کیاجانا چاہیے تھا وہ ٹھیک سے نہیں بن پایا ہے جب تک حکومتیں ان کمزور کڑیوں کو درست کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں اس مسئلے پر قابو پانا مشکل ہی رہے گا ۔
(انل نریندر)

ہوا میں کورونا وائرس پھیلنے کی کوئی رپورٹ نہیں ہے !

ڈبلیو ایچ او نے پیر کو صاف کیا کہ ہوا سے کورونا وائرس کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے ۔دراصل رپورٹ میں چینی حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اسپتالوں میں گہری میڈیکل زون (آئی سی یو )میں ہوا میں تیرتے ذرات کے چلتے کورونا پھیلنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے ۔ڈبلیوایچ او کے تجرباتی ایشیائی یونٹ کی زونل ڈائرکٹر پونم کھیتروال سنگھ نے بتایا فی الحال ہوا کے چلتے کورونا کے سمجھنے کیلئے اعداد شمار کے تجزیے کی زیادہ ضرورت ہے ابھی تک ہمارے تجربوں کے مطابق کورونا زیادہ تر لوگوں کے کھانسنے اور رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او وار بار ہاتھ دھونے اور سانس لینے میں احتیاط برتنے کی صلاح دیتا رہاہے ۔اپنے ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے ادارے کے انفکشن امراض وبا اور کووڈ19-ٹیکلنیکل کی چیف ماریہ وین کیر خوف کے مطابق یہ آپسی انفکشن اور کھانسی سے زیادہ پھیلتا ہے ۔اس سے دور رہیں تو وائرس سے بچیں گے ۔کورونا سے متاثر مریضوں کے علاج میں لگے ہیلتھ ورکروںکو مریضوں کے تھوک ،کھانسی اور بلغم سے بچنے اور احتیاط برتنے کی صلاح دی گئی ہے کونکہ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے پھیلتا ہے ۔جب کورونا متاثر کھانس رہا ہویا بلغم نکال رہا ہو اس وقت اس کے آس پاس وائرس پھیل جاتا ہے ایک دن پہلے ہی ایک رپورٹ میں چین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کورونا کا انفکشن ہوا کے چلتے ہو سکتا ہے اور یہ ہوا میں آٹھ گھنٹے تک رہ سکتا ہے ایسے میں کہیں جانے سے پہلے ماسک پہننا ضروری ہے لیکن ڈبلیو ایچ او نے اس کی تردید کرتے ہوئے صاف کیا ہوا سے کورونا انکشن پھیلنے کا ابھی تک کوئی معاملہ سامنے نہیںآیا ہے ۔صرف یہ بیمار لوگوں کو کھانسنے اوررابطے میںآنے سے ہوتا ہے ۔ہم تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں جنہیں کھانسی ہے وہ اس سے دوری بنائے رکھیں اور احتیاط رکھنے سے کورونا جیسے مرض سے جنگ جیت سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)

مشکل میں انتظامیہ -جنتا کا پل ہے اخبار!

کورونا وائرس جیسی وبا کے دوران اخبار ناصرف محفوظ ہے بلکہ آپ کی سلامتی کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ افواہوں کے خلاف آپ کے ہاتھ میں ہتھیار کی مانند ہوتے ہیں یہ وقت نہ صرف کوروناکو بھگانے کا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کورونا کے نام پر پیداغلط فہمی ہمیں صحیح معلومات سے دورنہ کر دے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اخبارات کی سراہناکرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کے وقت میں عوام اور انتظامیہ آپس میں ایک پل کاکام کرتے ہیں ۔دنیا کے بڑے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ کوئی ایسی واردات نہیں ہوئی جس میں کووڈ 19-کے وائرس کا پھیلاو ¿ اخبار سے ہواہواور دنیا بھر میں کہیں بھی کورونا کے سبب اخبار پڑھنا بند نہیں کیا گیا ۔اگر من میں ذرابھی ڈر بیٹھ جائے تو اس کا کوئی خاتمہ نہیں ہوتا واقف کار بتاتے ہیں کہ اخبار سے کورونا کا ڈر بے وجہ ہے ۔انڈین کانسل آف میڈیکل ریسرچ میں وبا پر تحقیق کے چیف نویدیتا کا صاف کہنا ہے کووڈ19-سانس لینے کی مکینزم کا انفکشن ہے نیوز پیپر کے ذریعے اس کے پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔سرکار کی جانب سے بھی اخبارات کو ضروری چیزوں کے زمرے میں ڈالا گیا ہے ۔آ پ کے حق کی آواز کو اٹھانے میں یہ اخبار ہمیشہ آگے رہا ہے ۔انہیں خاموش کرنے سے مستقبل میں سب کا نقصان ہی ہوگا ۔شوشل میڈیا پر فرضی نیوز سمارعت کے تانے بانے کو خراب کر سکتی ہے ۔کئی قارئین کی شکایت ہے ۔اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں صبح اخبار پڑھنے کے چاہیے لیکن ان تک پہونچنے نہیں دیا جا رہا ہے ۔جو لوگ ہاو ¿سنگ سوسائٹی کو چلا رہے ہیں وہ اس دوری کو ختم کرکے جمہوریت کو مضبوط کرنے میں اپنا اہم رول نبھا سکتے ہیں ہم تمام اخبار ہاکروں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ جب ہم اخبار نکالنے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں وہیں آپ کا ملک کے مفاد میں فرض بنتا ہے کہ آپ ان اخباروں کو اخبار پڑھنے والوں تک پہوچانے میں مدد کریں اگر آ پ اخبارات تقسیم نہیں کریں گے تواس سے جنتا کو نقصان ہوگا ۔آپ مطمئن رہیں کہ اخبارات سے کورونا وائرس کا پھیلاو ¿ نہیں ہوگا ۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل ٹی اے گریوسس کاکہنا ہے کہ ہم صرف اس بیماری سے نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ ایک ذہنی بیماری سے بھی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
(انل نریندر)

26 مارچ 2020

ضروری سامان اکٹھا نا کریں کمی نہیں ہوگی !

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگلوار کی شام کو قوم کے نام خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈریں نہیں اور وہ اتنا ہی سامان خریدیں جتنا ضروری ہو ضرورت سے زیادہ سامان اکٹھا ناکریں دیش میں دودھ کھانے پینے کا سامان دوائیاں ضروری ہیں ان کی کمی نہیں ہوگی اس کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں لیکن اپیل کے باوجود حساب کتا ب الٹا دیکھنے کو مل رہا ہے ۔آزاد پور منڈی میں آلو پیاز،ٹماٹر ۔سبزیاں و پھلوں کی آمد و رفت میں تیزی بنی رہی لیکن خریدار نہیں پہونچے اور سبزیاں بچی پڑی رہیں جس کی وجہ سے تھوک بھاو ¿ میں گراوٹ دیکھی گئی ۔حالانکہ دام بڑھنے کے امکا ن تھے ۔اتوار کو بازار بند رہے گا اسی خیال کے چلتے زیادہ تر خوردہ دوکانداروں نے منڈی کا رخ نہیں کیا ۔اس یومیہ خرید و فروخت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کچھ دوکاندار سامان غیر ضروری طریقے سے مہنگہ بیچ رہے ہیں کورونا کے وائرس کو روکنے کے لیے سرکار نے کئی قدم اٹھائے ہیں لوگ بھی احتیاط برتیں لیکن لوگوں میں وائر بڑھنے کا ڈر ہے لیکن اس مشکل گھڑی میں کچھ کاروباری ناجائز طریقے سے منافہ کمانے میں لگ گیے ہیں ایسے وقت میں بے حد ضرورت سینیٹائزر و ماسک کی بازار میں کمی ہوگئی ہے یہ صحیح ہے کہ عام دنوں کے مقابلے میں ان دنوں اس کی مانگ کئی گناہبڑھ گئی ہے اور دوکاندار مہنگے بیچ رہے ہیں اور کچھ گھٹیا بھی بیچے جارہے ہیں جس سے لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ کیا جارہاہے اس سے روکنا انتہائی ضروری ہے ۔یہ کالابازاری رکنی چاہیے دکھ کی بات ہے زندہ رہنے کیلئے ضروری سامان پر بھی کالا بازاری سے نہیں رکتے اور پیسہ کمانے کیلئے جنتا کو ہی داو ¿ پر لگانے سے نہیں چوکتے ۔
(انل نریندر)

اپنی زندگی خطرے میں ڈال بچا رہے ہیں دوسروں کی جان!

دیش بھر میں کورونا وائرس کے خطرے کے درمیان ڈاکٹر اپنی جان خطرے میںڈال کر کورونا متاثرین کا علاج کر رہے ہیں اس مشکل گھڑی میں انہیں بھگوان کا درجہ دیں تو بہتر ہوگا ۔ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ وہ ان دنوں بغیر چھٹی 16سے 20گھنٹے تک مریضوں کے علاج میں گلے ہیں تاکہ مریض ٹھیک ہوکر جا سکیں آر ایم ایل کے سینئر ڈاکٹر پون کمار نے بتایاکہ حال ہی میں وہ دن رات کورونا مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں ان کے ساتھ کئی ڈاکٹر میڈیکل اسٹوڈینٹ اور نرسوں کی ٹیمیں کام میں لگی ہیں مریضوں سے سیدھے طور پر ڈاکٹر رابطے میں آتے ہیں جو کہ اپنے آپ میں خطرناک ہے مگر ڈاکٹراپنی جان خطرے میں ڈال کر مریضوں کی زندگی بچانے میں لگے ہیں وہیں ائیر پورٹ پر آنے والے کورونا متاثرہ سیدھے رابطے میں آکر جانچ کرنے والے نرسنگ افسر یشونت شرما کہتے ہیں کہ وہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی برابر جانچ کر رہے ہیں اور ائیر پورٹ پہ 16سے20گھنٹے ڈیوٹی کر رہے ہیں اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنا فرض نبھا رہے ہیں اور پورااسٹاف ہائی رسک زون میں رہ کراپنا فرض نبھا رہے ہیں جوکہ بہت خطرناک ہے لیکن لوگوں کی جان بچانا اس سے اوپر ہے ۔ڈاکٹر یشونت کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر اترنے والے غیر ملکی مسافروں کی تعداد150تک ہوتی ہے ایسے میں کئی مرتبہ جانچ کے دوران انتظار کرنا پڑتا ہے ۔جس کے چلتے نرسنگ اسٹاف پر وہ غصہ دکھاتے ہیں اسٹاف کو کافی لوگوں کے غصہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔شاید وزیر اعظم نریندر مودی نے دیش کے نام اپنے خطاب میں نرسوں اور ڈاکٹروں پر غصہ جیسے واقعات کا خاص ذکر کیا ہے ۔انہوں نے بہادر ڈاکٹروں کو خاص طور سے شکریہ ادا کیا ۔جب ہم بھارت کے ہیلتھ ورکروں کو یاد کرتے ہیں تو اس وقت کورونا سے لڑتے ہوئے ان تمام ڈاکٹروں اور ہیلتھ ملازمین کی بھی امداد یاد کریں جو بھارت کے نہیں ہیں ۔اٹلی میں کورونا کا علاج کرتے ہوئے 13ڈاکٹروں کی موت ہو گئی ہے اور 2629بھی اسٹاف متاثر ہوا ہے وہ بھی اپنی زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔57سالہ ڈاکٹر یورشیلے نتالی کی کورونا سے موت ہوگئی وہ کورونا شہر میں فرنٹ لائن پر متاثرہ مریضوں کا علاج کر رہے تھے اور یہ یہیں سے اٹلی کی وبا کی شکل میں پھیلنا شروع ہوا تھا ۔ڈاکٹر نتالی نے شکایت بھی کی تھی کہ ان کے پاس دستانے نہیں ہیں اس کے بعد انہیں وائرس نے پکڑلیا ساتھی ڈاکٹر انہیں وینٹی لیٹر پر رکھنا چاہتے تھے مگر انہوں نے دوسرے مریضوں کا حق چھیننا صحیح نہیں سمجھا انہیں علاج ملنے میں دیری ہوگئی اور وہ نہیں رہے ان کی اہلیہ نرس ہے اور ان کے بچے بھی ہیں ۔کناڈا کے ڈاکٹر ایلن کوتھئیل ایک وینٹی لیٹر سے 9مریضوں کا علاج کر رہے ہیں ان کے اس کام کی ہر جگہ تعریف ہو رہی ہے انہوں نے اس مشین کا موت کاویڈیو دیکھنے کے بعد خود کو ہی بنایا ہے ۔پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے گلگت خطہ میں 26سالہ ایک ڈاکٹر کی کووڈ19کے مریضوں کا علاج کرتے وقت کورونا وائرس کی ضدمیںآنے سے موت ہو گئی ۔دیش میں اس وائرس سے کسی ڈاکٹر کی موت کا یہ پہلا معاملہ ہے ۔حکام نے بتایا کہ اسامہ ریاض حال میں ایران اور عراق سے لوٹے مریضوں کا علاج کر رہے تھے ۔پاکستا ن کی سرحدیں کورونا وائرس سے بری طرح سے متاثر ہوئے ایران اور چین سے لگتی ہیں ۔پاکستان میں اب تک 5لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور تقریباً 800لوگ اس کی ضدمیں آچکے ہیں ۔چین میں کئی ڈاکٹراور نرسوں کی موت ہوئی ہے ۔چین ڈاکٹر وین لی کویور کو نا بھولیں ووہان میڈیکل ہاسپٹل کے ڈاکٹر کے لی نے 30دسمبر کو ہی ساتھی ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ کورونا وائر س ہے اور خطرناک ہو سکتاہے لیکن ان کی بات پر کسی نے توجہ نہیں دی الٹا متاثرہ کو اذیت دی گئی۔بہت سے ڈاکٹر اٹلی اور دیگر دیشوں میں وائرس سے متاثر ہوکر بھی علاج کررہے ہیں ۔بھارت میں راجستھا ن کے تین ڈاکٹروں کو کورونا وائر س ہوگیا ہے ۔وہیں لکھنو ¿ کے کنگ جارج میڈیکل کالج کے جونیر رایزیڈنٹ ڈاکٹر کو وائرس ہوگیا ہے اور کرناٹک کے ڈاکٹر بھی زد میں آچکے ہیں ان کے خاندان کو کوارن ٹائن ٹیم میں رکھا گیا ہے ۔ہم یاد کرتے وقت تھوڑی محنت کریں اور پتہ کریں دنیا بھر میں ڈاکٹر اور ہسپتال کے اسٹاف اس خطرے سے کیسے مقابلہ کررہے ہیں اپنے ڈاکٹروں کی حفاظت کی فکر کریں اور آواز اٹھائیں ۔آج بھی اور بعد میں بھی بھارت کے ڈاکٹر او ر صحت ملازمین پوری طرح سے بچاو ¿ ساز و اسامان سے آراستہ نہیں ہیں وہ ڈیوٹی پر جانے کیلئے تیار ہیں مگرفوجی کو بغیر بندوق کے سرحد پر بھیجنا محض فرض نہیں ہوتا بھارت میں بھی اس کی دشواریوں کو سمجھیں امید کی جاتی ہے جو کمیاں ہیں وہ جلد دور ہوں گی اور ہمارے ڈاکٹروںاور دیگرہیلتھ ملازمین کو کوروناوائرس کے لیے ضروری سامان ملنا چاہئے ۔بھارت کے سرکاری اسپتالوں میں زیادہ تر ملازم ٹھیکے پر رکھے گیے ہیں چاہے اس میں ایمبولنس ہو یا دیگر اسٹاف انہیں مناسب تنخواہ نہیں ملتی اسپتالوں میں وینٹی لیٹروں کی بھاری کمی ہے اس میں بھارت ہی نہیں دنیا کے ڈاکٹروں و ہیلتھ ملازمین کو سلام کرتا ہوں اس کورونا کی قہر میں ڈاکٹر فرشتوں سے کم نہیں ہیں (جے ہند)
(انل نریندر)

25 مارچ 2020

اقتصادی طور سے کمزور طبقے و مزدوروں کو مدد !

کورونا وائرس کے بڑھتے اثر کو دیکھتے ہوئے دہلی و اتر پردیش حکومت نے اقتصادی طور سے کمزور طبقوں کو اور مزدوروں کو مالی مدد دینے لے فیصلے کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔دہلی سرکار نے اقتصادی طور سے غریب خاندانوں کے لئے چار بڑے فیصلے لئے ہیں ۔وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ویڈیوں کانفرینسنگ کے ذریعے پریس کو خطاب کیا اس دوران انہوں نے پینشن پانے والے غریب 8.5لاکھ معذوروں، بیواﺅں ،بزرگوں کی پینشن ماہ اپریل میں دوگنی دینے کا اعلان کیا ہے اس کے ساتھ ہی وزیر اعلی نے راشن کارڈ ہولڈروں کو مفت 50فیصد بڑھا ہوا 7.5کلو فی فرد راشن دینے کا اعلان کیا ویسے تو ہر مہینے ہر ایک خاندان کو 4کلو گیہوں 1کلو چاول اور الگ سے چینی ملتی ہے یعنی ایک ایک فرد کو پورے مہینے کے لئے کافی ہوتی ہے اور پھر بھی ہم اس مہینے اس میں 50فیصد کا اضافہ کر رہے ہیں اسی طرح ایک شخص کو 7.5کلو راشن دیں گے جو مفت ملے گا اور اب دہلی کے شیلٹرس ہوم میں صبح اور رات کا کھانا بھی مفت ملے گا اور ہوٹلوں میںرہ رہے لوگوں کوGSTسے چھوٹ دی جائیگی۔ وہیں کورونا وائرس کے سبب یوپی سرکار نے بھی بند پڑے کاروبار اور مالی لین دین کا شکار ہونے والے دیہی اور شہری علاقوں کے 1.65کروڑ سے زیادہ مزدوروں کو یوگی سرکار اپریل میں ایک مہینے کا راشن مفت دیگی اور شہری علاقوں کے 35لاکھ مزدوروں کو گزر بسر کے لئے 11روپے کا بھتا دیا جائگا یہ رقم سیدھے مزدوروں کے بینک کھاتے میں جائگی اور اس اسکیم پر 150کروڑ روپے خرچ ہوں گے انہوں نے مزید بتایا کہ یہ فائدہ ملیگا منریگا میں رجسٹرڈ اور لیبر ڈپارٹمنٹ میں تامیراتی محکمہ میںکام کر رہے یومیہ اجرت پر یہ راشن مفت ملیگا۔ہم دونوں دہلی سرکار اور یوپی سرکار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ کورونا وائرس سے حالانکہ سبھی طبقات متاثر ہیںلیکن غریب دیہاڑی مزدور زیادہ متاثر ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ دیگر ریاستی حکومتیں بھی اسی طرح کی اسکیم کو بلہ تاخیر اعلان کریںگی کیونکہ وائرس کی اس وبا نے غریب طبقہ کی کمر ہی توڑ دی ہے اور جینے کے لالے پڑ گیے ہیں دوسری طرف اس بیماری کو نا بلا پانے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
(انل نریندر)

بے مثال رہا جنتا کرفیو! ہوئی تاریخ رقم

وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل پر اتوار کو پورے ملک نے برسوں بعد ایک بار پھر اتحاد کا مظاہرہ کیا اورجنتا کرفیو کی اپیل کا ملک میں وسیع اثر دکھائی دیا ۔کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کی کوشش کے طور پر لوگوں نے ایک دوسرے سے دوری بنائے رکھنے کی پہل کی اور اپنے گھروں میں رہے۔شہروں دیہات و قصبات میں بھی لوگوں نے ایسا ہی کیا اور انہیں وائرس کے خلاف پہلی کامیابی ملی ۔ضروری چیزوں یا خدمات سے وابستہ اداروں کو چھوڑ کر سبھی بازار ادارے بند رہے ملک بھر میں سڑکیں کم و بیش سنسان وہیں ،کچھ بسیں چلتیں نظر آئیں حتیٰ کہ یومیہ سبزی بیچنے والے ٹھیلے بھی نہیں دکھائی دیئے ۔پولس والوں نے کام پر جانے والے لوگوں کو پھول پیش کئے اور واپس گھر بھیج دیا ۔پولس بہت متحد رہی اور شام پانچ بجے ٹھیک دہلی والوں نے 22مارچ کو جگہ جگہ اپنی بالکنیوں اور چھتوں پر کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور گھنٹیاں بجائیں وغیرہ وغیرہ اور ان لوگوں کاشکریہ ادا کیا جو وائرس کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں ۔لوگوں نے اس طرح کر کے یہ منظر پیش کیا کہ وائرس کے خلاف متحد ہوکر کسی بھی چیلینج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔وزیراعظم نے ٹیوٹ کیا تھا کہ جنتا کرفیورات 9بجے ختم ہو سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جشن منانا شروع کر دیں اور انہوں نے کہا کہ خود سے لگائے گئے کرفیوکو کامیابی نہیں مانا جانا چاہئے کیونکہ ابھی تو لڑائی کی شروعات ہے ۔آج دیش واسیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی چنوتی کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔انہوں نے جنتا کرفیو کو کامیاب بنانے میں دیش واسیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ تال میل ایک شاندار مثال ہے لیکن ساتھ ہی اس خطرناک بیماری کے خلاف لمبی لڑائی میں کامیابی کی شروعات کا بھی آغاز ہے اسی ازم کے ساتھ ایک لمبی لڑائی کے لئے بندھنوںمیں باندھ لیں۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2020

انفورسمینٹ ڈپارٹمنٹ نے کی انل امبانی سے 9گھنٹے پوچھ تاچھ !

پرائیویٹ سیکٹر کے یس بینک کے پرموٹر راناکپور اور دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کی جانچ کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائیریکٹریٹ نے جمعرات کو ریالائنس گروپ کے چئیر مین انل امبانی سے 9گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی ہے اور جانچ ایجنسی نے منی لانڈرنگ ایکٹ روک تھام کے تحت ان کابیان بھی ریکارڈ کیا ہے انہیں 30مارچ کو پھر بلایا جائےگا ۔ایجنسی کے افسر نے بتایا کہ 60سالہ صنعتکار سے صبح ای ڈی کے دفتر میں پہونچے اور شام کے قریت 7بجے وہاں سے باہر نکلے ۔بتادیں کہ انل امبانی کی کمپنیوں نے نقدی کے بحران سے لڑ رہے یس بینک سے قریب 12ہزار 8سو کروڑ روپئے کا قرضہ لیا ہے اور اسی وجہ سے انہیں بلایا تھا لیکن ذاتی اسباب سے انہوں نے اس سے چھوٹ حاصل کر لی تھی اس کے بعد ای ڈی نے انہیں سمن جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پیش ہوں لیکن امبانی یس بینک کے ساتھ لین دین اور اپنی گروپ کی کمپنیوں سے وابسطہ اطلاعات زیادہ نہیں دے پائے ۔اور یہی کہتے رہے کہ انہیں تفصیل یاد نہیں ہے اس لیے ایجنسی نے دستاویزوں اور پوری معلومات لیکر 30مارچ کو پھر بلایا ہے ۔ادھر ریالائنس گروپ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یس بینگ گروپ کے قرض کے خطرے پر امبانی نے ای ڈی حکام سے کہا ہے کہ بینک سے لیا گیا پورا قرض وصول لیا گیا ہے ۔اور اسے عام کاروبار کے سلسلے میں لیا گیا تھا ۔اب یس بینک کے لیے گئے سبھی قرضوں کی ادائیگی کے لیے ریالائنس گروپ عہد مند ہے ۔کمپنی نے کہا ہے کہ اس کا یس بینک کے سابق سی ای او یا ان کی نیوی یا بیٹیوں رانا کپور اور ان کے خاندان کے ذریعے کسی طرح کا کمپنی کا در پردہ یا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے ۔ای ڈی کے ذریعے پوچھ تاچھ کے لیے بلائیے گئے کچھ صنعتی گھرانوں کے سربراہ جانچ ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوئے ان میں ایکسل گروپ کے پرموٹر سبھاش چندر اور جیٹ ائیر ویز کے بانی نریش گوئیل شامل ہیں ۔سبھاش چندرا تو پارلیمنٹ کے اجلا س میں مصروف ہونے اور نریش گویل خاندان کے کسی فرد کی بیماری کے سبب پیش نہیں ہوئے ۔بہرحال ای ڈی نے جمعرات کو انہیں نیا سمن جاری کیا اور21مارچ کو پیش ہونے کو کہا تھا کہ یس بینک کو ڈوبونے والے نام نہا د لوگوں کی جاچ ہو رہی ہے اور ان کے رتبے اور اثر کی پرواہ نہیں کی جارہی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ اگر جانچ میں یہ قصوروار پائے جاتے ہیں تو ان سے پورا پیسہ وصول ہوگا کیونکہ غریب عوام کی زندگی بھر کی کمائی یونہیں نہیں لٹائی جس سکتی۔
(انل نریندر)

کنیکا کپور نے درجنوں نیتاو ¿ں کو مشکل میں ڈالا !

عالمی وبا بن چکے کورونا وائرس کے انفکشن کے معاملے میں ناجانے کب سے اس بات کا اندازہ نا رہا ہو کہ کسی اکیلے شخص کی لاپرواہی پورے سماج کو متاثر کر سکتی ہے لیکن پھر بھی ایسی کہانیاں سامنے آرہی ہیں کہ ایک متاثرہ شخص نے کتنے لوگوں کو خطرے میں ڈالدیا ہے ۔میں بیوی ڈال میںسونے دی---مشہور گانے سے پورے دیش میں مقبول ہوئی بالی وڈ گلوکارہ کنیکا کپورکی ایک کرتوت نے دیش کو دہشت زدہ کر دیا ہے۔لندن سے آئی اس گلوکارہ کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود وہ کئی پارٹیوں میں شامل ہوئی وہ 11مارچ کو لندن سے لکھنو ¿ آئی تھی ۔بیرون ملک سے آنے کے بعد انہوں نے سرکار کی ایڈوائزری کو درکنار کیا اور شہر میں بڑی بڑی پارٹیاں کرتی رہیں جس میں بڑی بڑی شخصیتیں شامل رہیں بعد میں وہ کانپور بھی گئیں انہوں نے دیش کے لیے کتنی بڑی مشکل کھڑی کر دی اس کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ وہ جس پارٹی میں گئیں اس میں دہلی جے پور وغیرہ شہر کے لوگ بھی شامل ہوئے ۔اتر پردیش کے وزیر صحت جے پرتاپ سنگھ اور راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ وندھرا راجے اور ان کے ایم پی بیٹے دشینت سنگھ بھی ان پارٹیوں میں شامل ہوئے اور بعد میںدہلی آئے اور راجیہ سبھا ،پارلیمانی کی میٹگ اور یہاں تک کہ راشٹریہ پتی بھون میں ایک تقریب میں شامل ہوئے ایم پی سنجے ڈیرک اوبرائے سمیت درجنوں ایم پی ان سے ملے ۔وسندرا راجیہ نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ وہ ٹھیک ہیں اور ان کے لڑکے دشینت الگ تھلگ ہیں ۔کنیکا کپور کے کورونا وائرس کے پائے جانے کے بعد اب یہ انتہائی ضروری ہے کہ رشتہ داروں سے الگ رہیں ۔اب ان کی بھی نگرانی جاری ہے ۔اتر پردیش کے ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ کے مطابق لکھنو ¿ میں کنیکا کپور کے 68لوگوں سے ملاکات کی تصدیق ہوئی ہے اور ان سبھی کی جانچ کے نمونے لے لیے گئے ہیں ۔یوگی انتظامیہ نے کنیکا کپور کے خلاف لکھنو ¿ کے سروجنی نگر تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔بہرحال کورونا وائرس کے انفکشن کے معاملے ابھی دوسرے نمبر پر ہیں لیکن حالات کنٹرول میں ہیں ۔اور کنیکا نے جیسی خطرناک پاپرواہی دکھائی ہے ویسے ہی کچھ دیگر لوگ بھی دکھا رہے ہیں کوئی خود کو الگ تھلگ کرنے سے انکار کررہا ہے کوئی اسپتال جارہا ہے ۔یہ ایمرجنسی صورتحال ہے اس میں کسی بھی طرح کی لاپرواہی اور کوتاہی برتنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دیش میں پھیلے کورونا وائرس کے تیسرے دور میں ہم جلد داخل ہونے والے ہیں ۔جس میں اصل آزمائش ہوگی ۔
(انل نریندر)

امریکہ کے وار-ٹائم پریسیڈنٹ ڈونالڈ ٹرمپ !

امریکہ جیسے ترقی یافتہ دیش میں کورونا وائرس کا قہر بڑھتا جا رہا ہے ۔اکیلے نیویارک میں ہی 4ہزار سے زیادہ لوگ زد میں آچکے ہیں اور 26کی موت ہو چکی ہے کورونا کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے بعد نیویارک کے مئیر ولڈی ڈھلاسیو نے فوج تعینات کرنے کی مانگ کی ہے اس سے پہلے کیلیفورنیا میں لاک ڈاو ¿ن کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔قریب 4کروڑ لوگوں کو گھر پر رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں ۔دوکانیں ،پیٹرول پمپ وغیرہ کو چھوٹ دی گئی ہے ریستورانت کوصرف سامان گھر پہوچانے کی منظوری دی گئی ہے۔اگرہم پورے امریکہ کی بات کریں تو جان لیوا وائرس کے معاملے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں ۔اب تک پورے دیش میں 150لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ دو امریکی ایم پی سمیت 9ہزار تین سو لوگوں کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے ۔کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ نے خود کو وار -ٹائم صدر بتاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایمرجنسی اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں اور اس کے تحت انہیں پرائیویٹ سیکٹر کی خدمات کا استعمال کرنے کی اجازت مل جائےگی ۔وائر 19کے چلتے ہوئے اموات کا سلسلہ جاری ہے اس لیے میں ڈیفنس پروٹیکشن ایکٹ لاگو کرنے کی اپیل کر رہا ہوں ۔ہمیں اس کی ضرورت پڑھ سکتی ہے ایمرجنسی اختیارات کے ذریعے سے ٹرمپ انتظامیہ کو دیش کے بحران کے وقت میں ضروری سامان تیزی سے پروٹیکشن کرنے کیلئے دیش کے اندر قائم صنعتی سیکٹر کو اپنے کنٹرول میں لینے کی اجازت مل گئی ہے ۔وائٹ ہاو ¿س میں اخبار نویشوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے چینی وائرس کے خلاف امریکی جنگ قرار دیا ہے چینی وائر س از لائف وار ۔یہ بے حد مشکل صورت حال ہے ٹرمپ نے کہا کورونا وبا کی تباہ کاری اقتصادی مشکل کے اثر کا سامنا کرنے میں شہریوں کی مدد کرنے کیلئے سرکاری خزانے سے سیدھے منتقل کرنے کی ایمرجنسی اسکیم تیار کی ہے اور یہ رقم پانچ سو ارب ڈالر تک منتقل ہو سکتی ہے جو بھارت کے سالانہ جی ڈی پی کے چھٹے حصے کے برابر ہے اگر اس رقم کو سبھی امریکی شہریوں میں برابر طور سے بانٹ دیا جائے تو سبھی 33کروڑ لوگوں کو ایک ایک لاکھ سے زیادہ روپے ملیں گے ۔ٹرمپ نے کہا کہ ابھی اس بارے میں قطعی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے لیکن کئی اخباری رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے انتظامیہ نے اس سلسلے میں ایک تجویز امریکی کانگریس کو بھیجی ہے اور تجویز میں 33کروڑ امریکیوں کو سیدھے پیسہ منتقلی اسکیم کے لیے 250-250ارب ڈالر کی دو قسطوں میں ہونی چاہیے ۔پہلے اپریلی کی شروعات میں دوسرے مئی کے درمیان میںدی جائے سنگین اقتصادی بحران کے وقت میں امریکی شہریوں کو اس طرح کی مدد دی جاتی رہی ہے لیکن اس بار کی تجویز کافی بڑی ہے اس لیے دنیاکا کوئی دیش اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔
(انل نریندر)

22 مارچ 2020

سات سال بعد نربھیا کی آتما کو ملا ہوگا سکون!

سات سال بعد نربھیا کی آتما کو ملا ہوگا سکون!
آخر کا ر بد قسمت سورگیہ نربھیاکو جمعہ کے دن چین کی نیند آئی ہوگی کیونکہ سات سال کے بعد اخر کا ر وہ دن آہی گیا جب نربھیا کے ساتھ گھناو ¿نی حرکت کرنے والے درندوں کو صبح ساڑے پانچ بجے تہاڑ جیل میں پھانسی کے پھندے میں لٹکا دیا گیا نربھیا اور ان کے گھر والوں کو انصاف ملا ۔قصورواروں کیلئے جمعہ کی رات خطرناک رہی اور وہ پوری رات سوئے نہیں بار بار جیل ملازمین سے پوچھتے رہے کیا کورٹ سے کوئی آرڈر آیا ہے ؟آخری لمحے میں وہ بچنے کی ہر کوشش کرتے نظر آئے اور اپنے وکیل سے ملنے ضد کرتے رہے ۔موت کی دہلیز پر کھڑے ہونے کے باوجود انہیں لگ رہاتھا کہ وکیل انہیں پھانسی سے بچا لیں گے لیکن ان کی تمنا پوری نا ہو پائی اور صبح ٹھیک ساڑے پانچ بجے پھانسی پر لٹکا دیا گیا ۔اس موقع پر جیل انتظامیہ سے وابسطہ پچاس سے زیادہ افسر موجود رہے اور وہاں انہوں نے ایسے پختہ انتظامات کیے تھے کہ جن کے چلتے قصورواروں کو چیخنے چلانے کا بھی کوئی موقع نہیں ملا ۔جمعہ کو اندھیرے 3:15بجے ان چاروں قصورواروں کو ان کے سیل میں جگایا گیا اور یومیہ روٹین کے بعد انہیں نہلانے کو کہا گیا اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں چائے کے ساتھ ہلکا ناشتہ دیا گیا اور یہ سب کچھ ہونے کے بعد انہیں سیل کے بعد پھانسی گھر کی طرف لے جانے کی کاروائی شروع کی گئی اور ان کو کالے کپڑے پہنائے گئے ان چاروں میں سے کسی نے بھی چائے نہیں پی ۔بتادیں پھانسی کے تخت پر پہونچنے سے پہلے ان کے ہاتھ پیچھے باندھ دیے جاتے ہیںاور منھ پر جلاد کالا کپڑا پہناتا ہے۔ تاکہ قصور واروں انہیں کالے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور پھر انہیں پھانسی گھر میں لے جایا گیا ۔اور اس کے بعد گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال دیتے ہیں اور ایک ہی جھٹکے میں جلاد لیور کھینچ دیتا ہے ۔پھندے کی رسی قصورواروں کے وزن کے حساب سے بنوائی جاتی ہے تاکہ جھٹکا لگتے ہی قیدی کی گرن کے ساتھ اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے ۔اس سے پہلے دہلی کی تہاڑ جیل میں 2013میں افضل گورو کو پھانسی دی گئی تھی ۔بھارت میں قیدی کو پھانسی دینے کی روایت ہے لیکن پھانسی کاوقت الگ الگ ہوتا ہے زیادہ تر پھانسی 6سے 7بجے کے درمیان دی جاتی ہے لیکن نربھیاکے قصورواروں کا ڈیتھ وارنٹ جاری کرتے ہوئے صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی کا وقت مکرر کیاتھا اس کے پیچھے دلیل دی جاتی ہے کہ جیل میں بند اس وقت دیگر قیدی سوتے ہوتے ہیں اور وہیں پھانسی پر چڑھنے والوں کو پورادن انتظار نہیں کرنا پڑتا اسی لئے صبح سویرے پھانسی دی جاتی ہے ۔پھانسی کیلئے مقرر وقت پر متعلقہ قیدیوں کو پھانسی گھر لے جایا جاتا ہے اس دوران قاعدے کے مطابق جلاد کے علاوہ تین بڑے افسر جیل سپریم ٹینڈنٹ میڈیکل افسر ،مجسٹریٹ موجود ہوتے ہیں ۔پھانسی سے ٹھیک پہلے مجسٹریٹ قصورواروں کو پہچان بتانے کے بعد ڈیتھ وارنٹ پڑھ کر سناتا ہے جس پر پہلے سے ہی خطاکاروں کے دستخط ہوتے ہیں ۔16دسمبر 2012میں نربھیا کے ساتھ ہوئی درندگی کے ساتھ اس کی ماں بیٹی کیلئے لڑائی لڑتی رہی آخر کار ماں آشادیوی نے چاروں خطاکاروں کوپھانسی دینے پر تشفی جتائی ہے اور کہا کہ آخر کار نربھیا کو انصاف مل ہی گیا اور بیٹی کو تو وہ نہیں بچا پائے لیکن اس کے خطاکاروں کو انجام تک پہونچانے کیلئے لوگوں کے ساتھ مل کر جد و جہد کی آخر کار عدلیہ کی کوشش کے بعد ان کو انصاف مل گیا اب ان کی مہم آگے بھی جاری رہے گی اور جس طرح سے اس معاملے میں قصورواروں اور ان کے وکیل کے ذریعے طول دینے کی کوشش کی گئی وہ آگے کسی کے ساتھ نا ہو آشا دیوی نے بتایا جس دوارکہ اکثر دھام اپارٹمنٹ میںان کا خاندان رہتا ہے وہاں کے لوگوں نے 16دسمبر 2019سے ایک موم بتی جلانے کی مہم شروع کی تھی جو جمعرات کی رات آخری ثابت ہوئی جہاں ہم آشا دیوی کی نا ہمت نا ہارنے کے جذبہ کی قدر کرتے ہیں وہیں اب کے وکیل سوما کشواہا کی تعریف کرنا چاہیں گے جنہوں نے نربھیا کیلئے بنافیس سات سال سے زیادہ وقت تک ہمت نا ہارتے ہوئے مقدمہ کو صحیح انجام تک پہونچایا وہ نربھیا کے ساتھ ہوئی درندگی کے خلاف مظاہروں میں بھی شامل ہوئی ۔ان کا یہ پہلا مقدمہ بھی تھا ۔16دسمبر 2012کو نربھیا کیس کے وقت دہلی کے پولیس کمشنر رہے نیرج کمار نے بھی خطاکاروںکو پھانسی دینے پر خوشی ظاہر کی اور خیر مقدم کیا لیکن اس کیس کو ہمیں بھولنا نہیں چاہئے ۔ہمارے کرمنل انصاف نظام کی خامیوں کو دور کیا جانا چاہئے ۔ڈارک اسپوٹ ،سی سی ٹی پرائیویٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ ملازمین کی ویری فکیشن ،خواتین کے تئیں ذہنیت بدلنے کی مہم وغیرہ پر جو سفارشیں اس وقت ہم نے کی تھیں اس سمت میں دیش بھر میں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔دہلی کے وزیر اعلیٰ اروندر کیجریوال نے کہا ہم سب لوگوں کو مل کر یہ عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ دہلی اور دیش میںنربھیاجیسا گھناو ¿نا واقعہ دہرانا نہیں چاہئے ۔ہمارے سسٹم میں بہت خامیاں ہیں وہ غلط کام کرنے والو ں کو حوصلہ دیتی ہیں ۔پولیس کورٹ اور ریاستی حکومت ،مرکزی حکومت سب کو عہدکرنا چاہئے کہ ہم سب مل کر فوج داری نظام میں خامیوں کو دور کریں گے اور مستقبل میں کسی بیٹی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے اور نربھیاکیش میں جتنی تاخیر ہوئی ہے اس سے ہمارے نظام کی خامیاں اجاگر ہوئی ہیں ریپ اور ایسے گھناو ¿نے معاملوں میں قانون بدلنا ہوگا ۔اپیل در اپیل سسٹم کو بدلنا ہوگا یہ کام پارلیمنٹ کو کرنا ہے ناکہ عدالتوں کو عدالتیں تو قانون پر تعمیل کراتی ہیں جب تک قانون نہیں بدلا جائے گا تب تک وکیل ایم پی جیسے سرکردہ قانون کی لڑائی لڑنے والے ان کمیوں کا فائد ہ اٹھاتے ہوئے معاملوں کو عدالت میں لٹکاتے رہیں گے ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...