Translater

25 اگست 2012

بھاجپا کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے پر کانگریس کو بخشنے کو تیار نہیں


کوئلہ بلاک الاٹمنٹ کا معاملہ اپوزیشن کے ہاتھ ایسا لگ گیا ہے جس سے خود وزیر اعظم اور یہ سرکار آسانی سے بچ نہ پائے گی۔ کانگریس اپوزیشن اتحاد کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ ڈس انفارمیشن، مس انفارمیشن،خبر پلانٹ کرنے کا دور زوروں سے جاری ہے۔ پارٹی نے جمعرات کو یہ بات اڑا دی کے بھاجپا ایم پی لوک سبھا سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ بعد میں بھاجپا کو اس کی تردید کرنی پڑی۔ کوئلہ بلاک الاٹمنٹ پر بھارت کے کمپٹرولر اڈیٹر جنرل کی رپورٹ کو لیکر وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے پر اڑی بھاجپا نے صاف کیا کہ وہ نہ تو پارلیمنٹ چلنے دیں گے اور نہ ہی لوک سبھا سے استعفیٰ دیں گے۔ پورے معاملے میں ایک دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب بدھوار کو دوپہر دو بجے لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے والی تھی اس وقت شرد پوار اور سپا چیف ملائم سنگھ یادو بات کررہے تھے تو سشما سوراج ان کے پاس پہنچ گئیں اور بولیں شرد بھائی جب مہنگائی ہوتی ہے تو کانگریس کے لوگ آپ کو پھنساتے ہیں۔ ٹو جی گھوٹالہ ہوتا ہے تو راجہ کو جیل بھجوا دیتے ہیں، کنی موجھی کو تہاڑ پہنچا دیتے ہیں۔ پہلی بار کانگریس کے لوگ سیدھے سیدھے پھنسے ہیں۔ جس وقت کوئلہ بلاکوں کا بٹوارہ ہوا وزیر اعظم خاص طور سے نشانہ بنے ہیں اس لئے انہیں کیسے چھوڑدیں؟ ہر چیز پران کے دستخط اور دوسروں پھنسا کر خود بچ جاتے ہیں۔ شرد پوار اور ملائم سنگھ چپ چاپ یہ سنتے رہے، بولے کچھ نہیں۔ دراصل بھاجپا کے اندر یہ رائے بن چکی ہے کہ کانگریس زیادہ تر گھوٹالے پر اپنا ٹھیکرا اپنے اتحادیوں کے سرپھوڑ دیتی ہے اور خود پاک صاف ہونے کا دعوی کرتی ہے۔ کیونکہ اس مرتبہ کانگریس سیدھے سیدھے پھنسی ہے اس لئے اسے بھی تھوڑا سبق سکھانا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے اندر اورباہر بنے اس ماحول سے گد گد بھاجپا کے حکمت عملی سازوں اب اس لڑائی کو مرحلہ وار طریقے سے لڑنے کی اپنی اسکیم کو انجام دینے کے موڈ میں نظرآرہے ہیں اور منصوبہ بند طریقے سے لڑائی کے اشارے خود پارٹی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے بھی دئے۔ پارٹی نیتا حالانکہ پہلے تو جے پی سی سے اپنے ممبران کے استعفے دینے کی بات کو مسترد کرچکے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہنے سے نہیں چوکے کہ جے پی سی میں جانے یا نہ جانے کی بات ابھی پوری طرح اس کے چیئرمین پی سی چاکو کے برتاؤ پر منحصر ہے۔پارٹی کی حکمت عملی کا یہ پہلا مرحلہ ہے کہ اگر جے پی سی کے چیئرمین ٹو جی گھوٹالہ میں گواہی کے لئے وزیر اعظم یا وزیر خزانہ کو بلانے کیلئے تیار نہیں ہوتے تو ان پر سرکار کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بھاجپا کے ممبر اجتماعی طور سے جے پی سی سے استعفیٰ دیں گے۔ دوسرے مرحلے کے تحت پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ کی دیگر کمیٹیوں سے بھی اپنا استعفیٰ دیں گے۔ اس درمیان پارٹی پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر اپنی تحریک کو تیز کرے گی۔ حالانکہ ابھی تیسرے اور چوتھے مرحلے اورپانچویں مرحلے کو لیکر تھوڑی الجھن کی حالت بنی ہوئی ہے لیکن اتنا ضرور لگتا ہے کہ بھاجپا نے طے کرلیا ہے کہ اس بار کانگریس کو اتنی آسانی سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ دوسری طرف سونیا گاندھی نے بھی اپنے ممبران کو لڑنے کی تیاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ لگتا ہے کہ لڑائی ابھی لمبی چلے گی۔
(انل نریندر)

بابا رام دیو کی مشکلیں کم ہوتیں دکھائی نہیں پڑتیں


یوگ گورو بابا رام دیو سے یوپی اے سرکار اب اپنی غصہ نکالنے پر تلی ہوئی ہے۔بابا پر سیدھا ہاتھ نہ ڈالتے ہوئے سرکار نے ان کی فارمیسی اور ان کے سب سے قریبی بال کرشن پر ہاتھ ڈالا ہے۔ دلی میں رام لیلا میدان میں تحریک ختم کرکے بابا ہری دوار پہنچے ہی تھے کہ ان کے دویہ یوگ آشرم میں جمعرات کو اتراکھنڈ کے محکمہ خوراک و ادویات کے افسروں نے چھاپہ مارا ۔ اور دوائیوں کے نمونے اکٹھے کئے۔ تین گھنٹے تک چلی کارروائی میں شہد، نمک، چنے کا آٹا وغیرہ کے نمونے اکٹھے کئے گئے۔ رام دیو نے اسے مرکزی سرکار کے اشارے پر کی گئی کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عام آدمی اور اونچے طبقے کے بیچ لڑائی ہے۔ کیا انہوں نے (سرکار) نے کبھی غیر ملکی کمپنیوں پر چھاپے مارنے کی ہمت دکھائی؟ لیکن مجھے نشانہ بنایا گیا۔ لیکن چھاپے کے تھوڑی دیر بعد بابا کے لئے ایک اچھی خبر آئی ان کے سب سے قریبی بال کرشن کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ضمانت دے دی۔ بال کرشن کو فرضی دستاویز سے وابستہ معاملوں میں سی بی آئی نے20 جولائی کو گرفتار کیا تھا۔ بال کرشن پر جعلی پاسپورٹ حاصل کرنے اور جعلی تعلیمی ڈگری کا استعمال کرنے کا الزام ہے۔ بال کرشن کی ضمانت عرضی نچلی عدالتوں سے دو بار خارج ہو چکی ہے اس کے بعد انہوں نے ہائی کورٹ کی پناہ لی۔ سی بی آئی نے10 جولائی کو بال کرشن کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سمن بھیجے جانے کے بعد بھی بال کرشن پیش نہیں ہوئے۔ بابا اور بال کرشن کی دوستی اٹوٹ ثابت ہورہی ہے۔ آچاریہ کی گرفتاری سے نہ تو انتظامات پر فرق پڑا اور نہ ہی وہ قیاس آرائیاں سچ ثابت ہوئیں کہ دونوں کے رشتوں کو لیکر اختلافات ہیں۔ ضمانت پر رہا ہوکر لوٹتے ہی پتنجلی یوگ پیٹھ کے تمام اختیارات پھر بال کرشن کے پاس آگئے ہیں۔ ایم ڈی کی شکل میں تمام اداروں کے افسر آچاریہ کو رپورٹ کررہے ہیں۔پچھلے سال4 جون کے واقعہ کے بعد جس طرح آچاریہ کو پاسپورٹ کے اشو پر سی بی آئی نے گھیرنا شروع کیا تھا اسے دیکھتے ہوئے قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ بابا رام دیو کا خاندان پتنجلی پیٹھ کے تمام اختیار سنبھال لے گا۔ بابا حالانکہ بار بار کہتے رہے ہیں کہ آچاریہ کے بغیر پتنجلی کا وجود ادھورا ہے۔ یہ سارے خدشات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ بابا رام دیو اور آچاریہ بال کرشن میں گھیرے رشتے ہیں لیکن بابا رام دیو کی مشکلیں فی الحال کم ہوتی نہیں دکھائی پڑتیں۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ان کے ساتھی بال کرشن کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اس کے بعد بال کرشن کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ ای ڈی جانچ کرے گا کہ بال کرشن نے بیرونی ممالک سے پیسے کے لین دین میں منی لانڈرنگ روک تھام قانون کس طرح سے توڑا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ بال کرشن کے خلاف سی بی آئی کے ذریعے درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ ای ڈی کو شبہ ہے کہ اس فرضی پاسپورٹ کا استعمال کرکے بال کرشن نے غیر ملک سے غیر قانونی پیسے کا لین دین کیا ہے۔ بابا رام دیو کی پریشانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ منموہن سرکار ہر طرح سے بابا پر دباؤ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اس سے تو یہ بھی لگتا ہے کہ بابا اور سرکار کے درمیان کوئی خفیہ سمجھوتہ نہیں ہوا جیسا کہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔
(انل نریندر)

24 اگست 2012

راج ٹھاکرے نے اٹھائی بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کیخلاف آواز


منگلوار کو مہاراشٹر نو نرمان سینا (منسے) صدر راج ٹھاکرے نے گرگام چوپاٹی سے ممبئی کے آزاد میدان میں زبردست ریلی نکال کر ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی۔ ہزاروں کی تعداد میں ریلی کرکے یہ ثابت کردیا کہ ممبئی کی راج نیتی میں وہ ایک ابھرتی شکتی ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ایک ہی لفظ میں کانگریس، این سی پی گٹھ بندھن کو تو اپنی بڑھتی طاقت کا احساس تو کرایا ہی ساتھ ہی شیو سینا اوربھاجپا کو بھی اپنی حیثیت جتادی۔ پولیس کے منع کرنے کے بعد بھی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے پہلے گرگام چوپاٹی پہنچے وہاں سے پیدل چل کر آزاد میدان گئے۔پولیس نے آزاد میدان میں پروگرام کرنے کی منظوری تو دی تھی لیکن سڑک پر مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ہم راج ٹھاکرے کو اس بات کی ہمت دکھانے کے لئے بدھائی دیتے ہیں کہ ریلی میں انہوں نے جم کر ان غیر قانونی گھس پیٹھ بنگلہ دیشیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ آخر کسی نے تو ہمت کی۔آزاد میدان میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے 11 اگست کے فسادکے لئے وزیر داخلہ آر آر پاٹل اور پولیس کمشنر سروپ پٹنائک کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ 11 اگست کو آزاد میدان پررضا اکیڈمی نے آسام تشدد کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ بعد میں بھڑکے فساد میں دو لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ 55 لوگ زخمی ہوئے تھے ان میں سے45 پولیس والے تھے۔ میڈیا کے ساتھ بھی مار پیٹ ہوئی تھی۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ پولیس پر حملہ کرنے والے مہاراشٹرین نہیں ہوسکتے۔ یہ بنگلہ دیشیوں اور پاکستانیوں کی کرتوت ہے۔ دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ پولیس پر ہاتھ اٹھانے والے کسی بھی دھرم کا ہو اسے وہیں پیٹ کر صحیح کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان سے آکر لوگ پہلے جھارکھنڈ اور بہار میں رکتے ہیں پھر وہاں سے ٹرینوں میں بھر بھر کر ممبئی پہنچ جاتے ہیں۔انہی لوگوں کے بوتے پر ابو عاصم اعظمی (سپا) صدر جیسے نیتا دو دو ودھان سبھا جیت جاتے ہیں۔ راج ٹھاکرے نے ہندوتو کے مدعے پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ یہ طویل مورچہ انہوں نے کسی کے مدعے کو عام کرنے کے لئے نہیں نکالا بلکہ ممبئی فساد میں شکار ہوئے پولیس والوں اور میڈیا والوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے نکالا ہے۔مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے پولیس کے منع کرنے کے بعد بھی ریلی نکالی اور آزادمیدان میں بھاشن دیا۔ ان کے بھاشن کے بعد مہاراشٹر پولیس کے کانسٹیبل پرمود ٹاوڑے نے منچ پر جاکر انہیں پھول دئے۔ تھوڑی دیر بعد ہی پولیس نے پرمود کو حراست میں لے لیا۔اس پر ڈیوٹی کے دوران ڈسپلن توڑنے کا الزام ہے۔ پرمود نے کہا کہ11 اگست کے واقعہ کے بعد راج ٹھاکرے پہلے نیتا ہیں جنہوں نے پولیس کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ راج ٹھاکرے ،شیو سیناٹھاکرے بالا صاحب کے نقشے قدم پر چل رہے ہیں۔ اب تو ٹھاکرے پریوار میں صلح ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر ودھان سبھا چناؤ میںیقینی طور پر بال ٹھاکرے ایک شکتی کے روپ میں سامنے آئیں گے۔ انہوں نے اس غیرقانونی گھس پیٹھیوں اور ماحول بیگاڑنے والے لوگوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے کی ہمت تو دکھائی۔
(انل نریندر)

بینی پرساد جیسے دوست ہوں تو کانگریس کو دشمنوں کی ضرورت نہیں


کانگریس میں بینی پرساد ورما جیسے دوست ہوں تو انہیں دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اترپردیش کے اکھڑ نیتا ہیں جو کبھی سماج وادی پارٹی میں ملائم سنگھ یادو کے سب سے قریبیوں میں سے ایک تھے، جو بعد میں کانگریس میں آگئے۔ اب اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے وہ زیادہ ہی جٹ گئے ہیں۔ پروانچل میں بڑا ووٹ بینک رکھنے والے یہ پچھڑے ورگ میں پیٹ رکھنے والے بینی پرساد پچھلے کچھ دنوں سے اپنے متنازعہ بیانوں کی وجہ سے سرخیوں میں بنے ہوئے ہیں۔ اپنے اکھڑ مزاج کے لئے وہ جب سپا میں بھی تھے تب بھی وہ ملائم سے بھڑ جاتے تھے لیکن مضبوط کرمی ووٹ بینک کو دیکھتے ہوئے ملائم کو بھی انہیں منانا پڑتا تھا لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ وہ سپا کو لات مار کر کانگریس میں داخل ہوگئے۔ اب وہ کٹر کانگریسی بن کر سب سے زیادہ نشانہ سپا پر ہی سادھ رہے ہیں۔ دہائیوں تک کانگریس مخالف راجدھانی کرتے رہے، بینی پرساد جب سے کانگریس میں شامل ہوئے ہیں تب سے اپوزیشن کی جم کر مخالفت کرتے ہیں۔ بھاجپا کو تو آئے دن فرقہ پرست ہونے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔ اب جب سے کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے تعلقات خوشگوار ہوئے ہیں تب سے بینی پرساد کانگریسی نیتاؤں کو یہ احساس کرانے سے نہیں چوکتے کے ملائم سنگھ زیادہ بھروسے لائق نہیں ہیں کیونکہ ان کا ملائم سنگھ کا راج نیتک جیون راج نیتک دھوکے بازی کا ہی رہا ہے۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ ایک درج سے زیادہ مثالیں ایک سانس میں ہی دے جاتے ہیں۔بینی بابو اس وقت منموہن منتری منڈل میں اسٹیل منتری ہیں۔ راہل گاندھی کے تمام زور کے باوجود ودھان سبھا چناؤ میں کانگریس کو خاص کامیاب نہ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہی بینی بابو تھے۔ بینی بابو کے متنازعہ بیانوں کی وجہ سے ہی پارٹی کی چناوی لٹیا ڈوبی۔ ہر مہینے وہ کوئی نہ کوئی نیا بونڈر کھڑا کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہہ ڈالا کہ کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہوتی ہیں تو انہیں یہ کہہ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ کیونکہ اس میں اناج پیدا کرنے والے کسانوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ اس نہ پسندیدہ تبصرے سے پوری اپوزیشن منتری جی کے خلاف متحد ہوگئی ہے۔ یہ تنازعہ ابھی گرم ہی تھا کہ بینی بابو نے ایک اور واویلا کھڑا کردیا۔ انہوں نے سوموار کو کہہ دیا کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں راج نیتک مقابلہ راہل گاندھی بنام نریندر مودی کے بیچ ہوگا۔ ایسے میں سپا جیسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے منگیری لال چھاپ خواب سجائے بیٹھی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پچھلے دنوں سپا سپریموں ملائم سنگھ یادو نے یہ امید جتائی تھی اگلے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس اور بھاجپا کے بجائے تیسرے مورچے کی سرکار بننے کے زیادہ آثار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے سپہ سالاروں سے کہا تھا کہ اگر سپا کو لوک سبھا میں60 سیٹیں مل جاتی ہیں تو نئی سرکار کی قیادت کی صورت میں وہ آسکتی ہیں۔ اس رائے زنی کو لیکر بینی بابو نے سپا اور ملائم پر تلخ نقطہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے لگتا ہے کہ ملائم کچھ پگلانے لگے ہیں اور ان کی عقل بھی کچھ سٹھیانے لگی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایک طرف کانگریس میں بینی بابو کی تازہ رائے زنی پر کیا رد عمل ہوتا ہے اور دوسری طرف سپا کیا جواب دیتی ہے؟
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...