Translater

14 جون 2014

کشمیری پنڈتوں کے جلد ہی اچھے دن آنے والے ہیں!

ہجرت کے درد کے درمیان اپنی وجود کی لڑائی لڑ رہے کشمیری پنڈتوں کے اچھے دن آنے والے ہیں کم سے کم لگ تو ایسا ہی رہا ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی گھاٹی میں واپسی اور بازآبادکاری کے لئے ایک بڑی یوجنا پر کام شروع ہوچکا ہے۔نریندر مودی سرکار نے اس مدعے کو اپنی فوقیت کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہے۔ بھاجپا کے چناوی مینی فیسٹو میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ وہ کشمیری پنڈتوں کو پورے سنمان کے ساتھ واپسی یقینی بنانے کے لئے پر عہد ہیں۔دہشت گردانہ واقعات کی وجہ سے 1990ء کے بعد گھاٹی سے ہجرت کرکے آئے کشمیری پنڈتوں کی تعداد بڑھ کر6-7 لاکھ ہوگئی ہے۔ یوجناؤں کے مطابق کشمیری مہاجروں کی واپسی اور باز آبادکاری کا یہ نیا پیکیج اس پیکیج سے زیادہ دلکش ہوگا جس کا اعلان سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپریل 2000ء میں کیا تھا۔ اس پیکیج میں پوری طرح یاجزوی طور سے برباد ہوئے مکانوں کی دوبارہ تعمیر کیلئے ہر خاندان کو ساڑھے سات لاکھ روپے کی مدد ،گرچکے مکانوں کے لئے ہر پریوار کو دو لاکھ روپے کی مدد اور1989ء میں افراتفری کے دوران اپنی جائیداد بیچ چکے لوگوں کے لئے گرو پ ہاؤسنگ سوسائٹی میں مکان خریدنے کے لئے فی خاندان ساڑھے سات لاکھ روپے کی مدد شامل ہے۔ افسران نے کہا کہ اگر وہ کہیں بھی غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں تو انہیں تحفظ فراہم کرایا جائے گا۔ جموں وکشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ مہاجر کشمیری پنڈت سمودائے کی گھاٹی میں واپسی کے لئے نریندر مودی سرکار کے ساتھ مل کر کام کرنے کا انتظار کررہے ہیں۔ عمر نے ٹوئٹ کیا میں نئی سرکار کے ساتھ کام کرنے کا انتظار کررہا ہوں۔ انہوں نے مہاجر پنڈت طبقے کی باعزت واپسی کی اسکیمیں پیش کی ہیں۔کھیر بھوانی اتسو پر جموں و کشمیر کے لوگوں کو شبھ کامنائیں دیتے ہوئے پردھان منتری دفتر کے ریاستی وزیر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دیش گھاٹی میں کشمیری پنڈتوں کی باعزت واپسی کے لئے پرعہد ہے۔کشمیری پنڈتوں کے کلیان کے لئے کام کررہے کاریہ کرتا منوج بھان نے کہا کہ کشمیری فرقے کے ہر ممبر واپس اپنے وطن جانا چاہتا ہے لیکن وہاں بہتر ماحول مناسب حفاظت اور آئینی تحفظ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہم کسی ٹورسٹ کی طرح واپس نہیں جانا چاہتے اور نہ ہی چھاونی والا جیون چاہتے ہیں۔یہ پوری طرح سے صاف ہونا چاہئے کہ سرکار کس طرح کا پنرواپس دینا چاہتا ہے؟بھان نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے لئے پیکیج میں فرقے کیلئے ودھان سبھا اور پارلیمانی سیٹوں میں ریزرویشن مالی مدد،تعلیمی اداروں میں ریزرویشن اور سی جی ایچ ایس (مرکزی سرکار کی صحت اسکیم) کی طرح کی اسکیم کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ ہجرت کے درد کے درمیان وجود کی لڑائی لڑ رہے کشمیری پنڈتوں نے آخر کار 25 سال بعد گذشتہ دنوں اپنے حق کیلئے سری نگر کے لال چوک کوچ کیا۔ حالانکہ پولیس نے انہیں لال چوک سے قریب 100 میٹر پہلے ہی روک لیا لیکن وہ اپنی آواز سرکار تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کشمیر مندر بل کو پاس کرنے، کشمیری پنڈتوں کی مذہبی جگہوں پر قبضوں کی جانچ سمیت دیگر مانگیں پوری نہ ہونے پر17 اگست سے آمرن انشن پر جانے کا اعلان کیا ہے۔کشمیری پنڈتوں کیلئے اقلیتی درجے کی مانگ بھی کی۔ پنڈتوں کے ذریعے لال چوک پر یا کشمیر میں بڑی ریلی کا یہ پہلا موقعہ تھا۔ 
(انل نریندر)

اس بار لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نہیں!

وزیر اعظم کے بھاشن کے بعد ہی سنسد کے پہلے اجلاس کا خاتمہ ہوگیا لیکن ابھی تک اپوزیشن لیڈر کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا کہ چناؤ میں کراری ہار جھیلنے والی کانگریس کو اپوزیشن لیڈرکے پد کی کرسی مل بھی پائے گی یا نہیں۔ اس کو لیکر برسراقتدار بھاجپا کے اعلی لیڈران میں بھی تذبذب کی حالت ہے۔ یہ ضرور ہے کہ پردھان منتری نریندر مودی شروعاتی دور میں ہی اپوزیشن کے ساتھ اچھے رشتے رکھنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کے سوال پر ان کا رخ بھی صاف نہیں ہوپایا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 16 ویں لوک سبھا میں کانگریس کے پاس لوک سبھا کی اتنی بھی سیٹیں نہیں آئی ہیں کہ وہ قانونی طور سے اس کرسی کے لئے اپنا دعوی ٹھوک سکے کیونکہ اپوزیشن لیڈر کیلئے بھی ایوان میں اس کے پاس کم سے کم 54 ممبر ہونے چاہئیں لیکن اس بار پارٹی کو کل 44 سیٹیں ہی مل سکی ہیں۔ یہ ضرورت ہے کہ اتنی کم سیٹوں کے بعد بھی کانگریس کی حیثیت سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کی ہے۔ لوک سبھا میں سب سے بڑی پارٹی کو ہی اپوزیشن لیڈر کا پد ملتا ہے۔ یہ پد کیبنٹ رینک کا ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ کئی آئینی پوسٹ پر تقرریوں میں اپوزیشن لیڈر کی اہم حصہ داری رہتی ہے اس لئے کانگریس رہنما اس پوسٹ کو لینے کے لئے بے چین ہیں۔ گذشتہ دنوں سابق مرکزی وزیرویرپا موئلی بھی کہہ چکے ہیں کہ کانگریس کے پاس اس پوسٹ کی دعویداری کے لئے پورا اعدادو شمار نہیں ہے۔ پھر بھی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے ناطے کانگریس کا ہی اس پوسٹ پر حق بنتا ہے۔ یہ فیصلہ اسپیکر کی صوابدید پر ہے۔ اس معاملے میں کانگریس چیف سونیا گاندھی نے لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن کو ایک خط بھیجا ہے۔ خط میں سونیا نے لوک تانترک رواداری کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی پوسٹ کانگریس کوملنا چاہئے۔قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے لوک سبھا میں اپنی پارٹی کالیڈر دل نیتا ملک ارجن کھڑگے کو بنایا ہے۔بھاجپا ذرائع کے مطابق سنسد سیشن کے دوران جس طرح سے راشٹرپتی کی تقریر پر چرچا کے دوران کانگریس کے نیتا کھڑگے نے مودی سرکار کے تئیں تیکھے تیور دکھائے ہیں ایسے میں بھاجپا لیڈر شپ اس مدعے پر کانگریس کے لئے کوئی کرپا دکھانے کے موڈ میں نہیں لگتی۔ یہ کوشش بھی چل رہی ہے کہ ترنمول کانگریس اور انا درمکھ کا ایک گٹھ بندھن ہوجائے تو ان دونوں دلوں کی مشترکہ طاقت لوک سبھا میں کانگریس سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ انا درمکھ کے 37 اور ترنمول کے34 سانسد ہیں۔ کوشش یہ ہورہی ہے کہ اگر ممتا اور جے للتا میں تال میل بن جائے تو انا درمکھ کے ہی نیتا کو اپوزیشن لیڈر کی پوسٹ دی جاسکتی ہے۔حالانکہ ان دونوں ہی پارٹیوں کی مکھیا پارٹی میں اپنے سوائے کسی اور کو اس اہم پوسٹ پر بٹھانے سے بچ رہی ہے۔ اگر 37 سانسدوں والی انا درمکھ اور34 سانسدوں والی ترنمول کی سانجھہ دعویداری نہیں ہوتی ہے تو برسر اقتدار خیمہ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس کو یہ پد دینے پر غور کرسکتا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس معاملے میں ابھی تک پردھان منتری نریندر مودی کچھ طے نہیں کرپائے ہیں اس لئے یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اب سونیا گاندھی نے خط لکھ کر پہل کردی ہے۔ ایسے میں امکان ہے کہ اس مدعے پر جلد ہی فیصلہ ہوجائے۔
(انل نریندر)

13 جون 2014

گڈ گورننس نریندر مودی اسٹائل!

مودی سرکار کو اقتدار سنبھالے ہوئے محض کچھ ہی دن ہوئے ہیں لیکن اقتدار کے گلیاروں میں ایک دم نئے قسم کی تصویر دکھائی دینے لگی ہے۔ وزارتوں کے بڑے بڑے افسر بھی ڈرے اور سہمے ہوئے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ لیٹ لطیف آنے کے عادی ہو چکے بڑے صاحب بھی اب آدھا گھنٹہ پہلے آکر اپنی کرسیوں میں جم جاتے ہیں۔ وزیر اعظم کے اچانک دورے کے خوف سے ہلکان ہیں کیونکہ پی ایم نے سیکریٹریوں کی بیٹھک میں آگاہ کردیا ہے کہ وہ وزارتوں میں کبھی بھی دورہ کرنے کے لئے آسکتے ہیں۔ انہیںیہ پسند نہیں ہے کہ سرکار کا کوئی بھی دفتر بے قاعدگی کا شکار ملے۔سہمے ہوئے کئی افسر گجرات کیڈر کے اعلی افسروں سے یہ جانکاری لے رہے ہیں کہ مودی جی کے دورہ کا طور طریقہ گاندھی نگر میں کس طرح کا رہتا تھا۔ان لوگوں کو بتایا گیا کہ مودی جی دفاتر کے ٹوائلٹ تک کا بھی معائنہ کر لیتے ہیں اگر وہاں گندگی ملی تو خفا ہوجاتے ہیں۔ مینکا گاندھی کی وزارت نے تو باقاعدہ ایک سرکولر جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دفتر کے وقت میں کوئی بھی پان یا گٹکھا نہیں کھائے گا۔ سگریٹ بھی دفتر کے اندر نہیں پی سکتا۔ ایسے میں مشکل ان افسروں کو آرہی ہے جو دھنواں دھار سگریٹ پینے کے عادی ہوچکے ہیں۔ وہ موقعہ دیکھ کر سگریٹ کا کش لگانے کے لئے باہر کا کوئی کونہ ڈھونڈنتے دکھائی پڑتے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ مودی کی دھمک ہی وزارتو ں میں قاعدگی لانے کے لئے کافی ہے۔کیبنٹ کی بیٹھک میں بھی وزیر اعظم اپنی ٹیم کو نصیحت دے چکے ہیں کہ وہ میڈیا کے اسٹنگ آپریشن سے بچ کررہیں۔ یہ تبھی ممکن ہے جبکہ وہ کسی طرح کی گڑ بڑی کا ارادہ نہیں رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے کرلیں کہ انجان لوگوں کے ساتھ کسی طرح کی بات نہیں کریں ورنہ ان کی زیرو ٹالرینس کی نیتی سب پر بھاری پڑے گی۔ مودی کا سارا زور گڈ گورننس پر ہے اس لئے کیبنٹ سکریٹری نے سبھی وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ سبھی طرح کے فارم چھوٹے کئے جائیں۔ ان میں غیر ضروری جانکاریاں نہ مانگی جائیں۔ فائلیں جلد نپٹانے کے لئے بھی کئی طرح کے فارمولے بنے ہیں۔ اسی کڑی میں کیبنٹ سکریٹری نے ہدایت دی ہے کہ سبھی فائلیں صرف 4 مرحلوں پر ہی نپٹائی جائیں تاکہ ضروری فائلوں میں کوئی دیری نہ ہو۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مہنگائی کم کرنے کو اپنی سرکار کی پہلی ترجیح بنائی ہے۔اس مدعے پر وزیرخزانہ ارون جیٹلی لگاتار سرگرم ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی خود صبح 9 بجے کے پہلے ہی ساؤتھ بلاک میں واقع دفتر میں پہنچ جاتے ہیں۔ ایک دن تو انہوں نے کیبنٹ سکریٹری کے دفتر میں ہیں کمپیوٹر کی اسکرین پر انگلی لگائی تو ان کی انگلی پر دھول کے کچھ ذرے آگئے۔ یہ دیکھ کر کیبنٹ سکریٹری بھی سٹپٹا گئے۔ اس پر مودی مسکرائے اور بولے اگر آپ کے بھی کمپیوٹر پر دھول جمے گی تو اس دیش کے نوکرشاہوں پر دھول کی تمام پرتیں جم جائیں گی۔ مودی لفٹ کی بجائے سیڑھیوں سے چڑھنا پسند کرتے ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ سیڑھیاں صاف ہونی چاہئیں۔ لوک سبھا چناؤ پرچار میں بھاجپا کی طرف سے ’اچھے دن آنے والے ہیں‘ کا نعرہ کافی مقبول ہوا تھا۔ پردھان منتری نے اپنا کام سنبھالتے ہی اس سمت میں کام کرنا شروع کردیا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار دلانے کے لئے وزارتوں میں قواعد تیز ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پرمرکزی سرکار کے دفاتر میں خالی جگہوں کی بھرتی کا کام تیز کرنے کی ہدایت دی گئیں ہیں۔ مرکزی پرسونل وزارت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہر محکمے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 20 جون تک پرسونل وزارت کو اپنی وزارت میں خالی جگہوں کی جانکاری دے دیں۔رہنما اصول ریلوے سے لیکراطلاع و نشریات کی وزارت میں سرگرمی دیکھی جارہی ہے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ وزارت اطلاع و نشریات کے گذشتہ پانچ سالوں میں 200 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔مالی ذرائع کی کمی کی وجہ سے فائننس کی وزارت ان اسامیوں کو بھرنے کی منظوری نہیں دے رہی تھی۔ وزارت ریلوے کے افسران بات چیت میں قبول کرتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ ہر سال ہورہی ہے لیکن اس حساب سے بھرتی نہیں ہورہی۔ اس سے کام کاج متاثر ہورہا ہے۔ نریندر مودی کے پی ایم بننے کے بعد اب لگنے لگا ہے کہ سرکار نام کی کوئی چیز ہے پرگذشتہ دس سالوں میں آئی گراوٹ سے ابھرنے میں تھوڑا وقت تو لگے گا۔ مودی نے شروعات تو اچھی کی ہے دیکھیں اس کے نتائج کب اور کتنے آتے ہیں؟
(انل نریندر)

تحریک طالبان کی بڑھتی طاقت و ہمت!

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوا حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آتنکی پاکستان میں جب چاہیں جہاں چاہیں حملہ کرسکتے ہیں۔ طالبان نے ایسے وقت پر یہ چنوتی دی ہے جب پاکستان کی سرکار اورفوج کی طالبان سے لڑنے کی صلاحیت پر پہلے سے سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ پاکستان کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والے آتنکیوں کی منشا ایئرپورٹ پر لمبے وقت تک قبضہ جمائے رکھنے کی تھی۔ فوج کے مطابق آتنکی جہازوں اور ایئرپورٹ کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی تیاری کے ساتھ آئے تھے لیکن وہ اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ یہ پہلی بار نہیں جبممنوعہ تنظیم تحریک طالبان نے جس نے اس تازہ حملے کی ذمہ داری لی ہے ،نے ہوائی اڈوں پر نشانہ سادھا ہے۔ اگست2013ء کو سکیورٹی فورسز کی پوشاک میں آئے آتنکیوں نے راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ایئرپورٹ اور چکلالہ ایئربیس پر حملہ کی ناکام کوشش کی۔ 15 دسمبر 2012ء کو آتنکیوں نے پیشاور ایئرپورٹ احاطے میں گھسنے کی کوشش میں پانچ راکٹ داغے اور دھماکہ خیز مادے سے لدی کار میں حملہ کیا جس میں9لوگ مارے گئے۔ 22 مئی 2011ء کو پاک۔ طالبان نے کراچی کے مہران نو سینک اڈے پر حملہ کیا جس میں18 سکیورٹی فورس کے جوان مارے گئے۔15 آتنکی ڈھیر کردئے گئے اور پاک ایئرفورس کے2 B3 اورین سرویلانس ایئرکرافٹ کو آتنکیوں نے اڑادیا۔سوموار دوپہر بعد نیم فوجی رینجرز کے ترجمان سبطین رضوی نے بتایا حملہ ختم ہوچکا ہے ، ہم نے علاقے کو سبھی آتنکیوں سے آزا د کرالیا ہے پرممنوعہ تنظیم تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری کا دعوی کیا ہے۔ٹی ٹی پی کے ترجمان شہید اللہ شاہد نے میڈیاکو جاری بیان میں کہا ہم نے یہ حملہ کیا ہے اور یہ پیغام پاکستان سرکار کے لئے ہے کہ گاؤں پر بم حملوں میں بے قصور لوگوں کے قتل کا جواب دینے کے لئے ہم ابھی زندہ ہیں۔ شاہد نے کہا کہ ہم نے ایک (محسود کے لئے) بدلہ لے لیا ہے۔ ہمیں سینکڑوں کے لئے بدلہ لینا ہے۔ دراصل پاکستان میں اس وقت اقدار کے دو مرکز ہیں جو حالات اور بگاڑ رہے ہیں۔ ایک طرف نواز شریف سرکار ہے تو دوسری جانب پاکستان فوج ہے۔ پردھان منتری نواز شریف کی سرکار طالبان سے شانتی وارتا کرنے کے حق میں ہے۔ اس شانتی وارتا کے لئے اس نے طالبان کی تمام شرطیں مان لی تھیں۔ یہاں تک کہ سرکاری کی طرف سے وارتا کا ر بھی ایسے چنے گئے تھے جو طالبان حمایتی مانے جاتے ہیں۔ فوج طالبان سے وارتا اور سمجھوتے کی مخالفت کررہی ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ پہلے پاکستانی طالبان کی طاقت کم کرنے کے لئے فوجی کارروائی ضروری ہے۔افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ خود پاکستانی سینا میں دو گٹ ہیں ایک گٹ طالبان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو دوسرا اس کے خلاف سخت فوجی کارروائی ضروری مانتا ہے۔ سرکار اب اگر شانتی وارتا جاری رکھتی ہے تو مانا جائے گا کہ طالبان کے آگے سرکار نے گھٹنے ٹیک دئے ہیں اور اگر طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرتی ہے تو ممکن ہے کہ طالبان اور زیادہ بڑے حملے ہیں۔کڑوی سچائی تو یہ ہے کہ پاکستان کا مقام آتنک واد سے متاثر دیشوں میں سب سے اوپر ہے۔ اس معاملے میں اس کی حالت عراق،سیریا اور افغانستان جیسے دیشوں کے جیسی نہیں بلکہ کچھ معاملوں میں ان سے بھی زیادہ خراب ہے۔ پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی کے 2013-18 کے مسودے کے مطابق وہاں 2001سے2013ء کے درمیان ہنسا کے 13721 واقعات ہوئے جو عراق میں ہوئے واقعات سے کچھ ہی کم ہے۔
پاکستانی اقتدار اعلی کے لئے اب طالبان بہت سنگین چنوتی بن گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ پاک فوج بھی اس سے مقابلہ کرنے میں اب اہل نہیں ہے۔بڑے پیمانے پر پاکستانی فوجی طالبان کے ہاتھوں مارے گئے ہیں جن میں ایک جنرل کے عہدے کا افسر بھی شامل ہے۔ دراصل پاکستان نے جو گرہ یدھ کے حالات بن رہے ہیں اس کے لئے آئی ایس آئی اور امریکہ دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔ آئی ایس آئی نے ان آتنکیوں کو پہلے سوویت سنگھ سے لڑنے کے لئے تیار کیا پھر بھارت کے خلاف ان کا استعمال کیا اورآج بوتل سے جن نکل چکا ہے اور سنبھالے نہیں سنبھل رہا۔ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے بیتاب ہورہا ہے ۔ امریکہ 13 سالوں میں طالبان کو کمزور نہیں کرپایا اب وہ افغانستان سے پنڈ چھڑاکر نکلنے کے لئے انہیں طالبانیوں سے سمجھوتہ کرنے میں جٹا ہے۔ بھارت کو بیحد محتاط رہنا ہوگا کیونکہ دونوں دیشوں کی سرکار سے ناخوش لوگ ایسے واقعات کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جیسے جماعت الدعوی کے سپریمو حافظ سعید نے کراچی ہوائی اڈے پر حملے کے لئے سیدھے مودی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پاکستان کی حالت اور بگڑنے کا امکان ہے کیونکہ امریکہ اسی سال افغانستان سے بھاگنے کی تیاری کررہا ہے۔
(انل نریندر)

12 جون 2014

کیا ہند۔ چین کے درمیان نیا باب لکھا جائے گا؟

نریندر مودی کی حکومت کے قیام کے دو ہفتوں کے اندر چین کے وزیر خارجہ وانگ چی کا دورہ ہند اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے۔ کیا وانگ بھی نئی حکومت سے محض رابطہ قائم کرنے کی خانہ پوری کرنے کے لئے آئے تھے یا یہ ٹٹولنے آئے کہ نریندر مودی کی حکومت کا چین کے تئیں کیا موقف ہے؟ ہندوستان پہنچنے سے پہلے ایک ملاقات میں وانگ نے مودی کو چین کا دوست بتاتے ہوئے اس دورہ کا خاکہ بھی رکھ دیا اور کہا تھا کہ بھارت اور چین میں کافی یکسانیت ہے۔ چین بھارت کی ترقی کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس میں تعاون دینے کے لئے بے قرار ہے۔ چین بھارت کی نئی سرکار کے ساتھ کام کرنے کیلئے اتاولا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے فون پر بات چیت کی۔ چین نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اس کا خیر مقدم ہے لیکن ہندوستان چین پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔ پچھلے 10 سال میں ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت کے زمانے میں چین کی فوج جب چاہے سرحد پار کر ہمارے علاقے میں کیمپ لگا کر بیٹھ جاتی تھی یا سرحد پر بن رہی ہماری سڑکوں تک کا بننابند کرادیتی تھی۔ جموں و کشمیر یا اروناچل کے لوگوں کو اپنے یہاں آنے کی اجازت ایسے شرائط پر دیتی تھی جو کہ بھارت کی سرداری پر سیدھا حملہ رہتا تھا۔ تعلقات بہتر بنانے کے لالچ میں چین کو ہم نے سب سے تجارتی سانجھیداری دی لیکن وہاں بھی اس کی منمانی جاری رہی۔ قریب40 ارب ڈالر کا سالانہ کاروبار خسارہ ہم ایسی ہی مجبوری جھیل رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں چین ساگر کے ویتنام والے حصے میں جب ہم نے تیل اور گیس کی تفتیش شروع کی تو چین کے جنگی جہازوں نے ہمیں وہاں سے نکالے جانے کی سیدھی دھمکی دے ڈالی۔ چناؤ کے دوران ایک ریلی میں نریندر مودی نے چین کو دبنگی سے باز رہنے کی وارننگ دے دی تھی۔ اس پر چین نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے کسی دیش کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کرنے کے لئے کبھی اپنی طرف سے نہیں اکسایا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر پرنب مکھرجی سے بات کرنے کے بعد کہا کہ بھارت اور چین کے درمیان لمبی سرحد ہے جو مقرر نہیں ہے اس لئے وہاں پر اکثر وارداتیں ہوجاتی ہیں لیکن اس کا حل امن اور بات چیت سے ہی ہونا چاہئے۔ہماری کوشش ہوگی اس کا اثر ہمارے باہمی رشتوں پر نہ پڑے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاحوں کی آمدورفت بڑھانے کے لئے ویزا قاعدوں کو اور آسان بنانے پر بھی جلد ہی ایک نیا ویزا سمجھوتہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ سرحدی مسئلے کے حل کے لئے تیار ہیں لیکن جب تک یہ نہیں ہوتا تب تک بھارت اور چین سرحد پر امن اور استحکام بنائے رکھنے کے لئے عہد بند ہیں۔ بھارت کے ساتھ فوجی سانجھیداری کے رشتے کو مضبوط کرنے پر زور دیتے ہوئے چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ بھارت کی ترقی میں ہر طرح کا تعاون اور حمایت دینے کو تیار ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان اروناچل ہمیشہ تنازعے کا اشو رہا ہے۔ چین اروناچل پر اپنا حق جماتا ہے اور اس تنازعہ کے بارے میں وانگ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا حالانکہ اروناچل کولیکر کنٹروورسی ہے لیکن ہم نے وہاں کے لوگوں کو اسپیشل ویزا اس لئے دینے کی پالیسی اپنائی ہے کہ انہیں چین جانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ چین کی اس پالیسی سے اس علاقے کی سرداری کو لیکر مسئلہ کھڑا نہیں ہوگا۔ ہم اس اشو پر بات چیت کے لئے تیار ہیں ایک چین کی روایتی پالیسی کوقبول کئے بغیر نریندر مودی اس بگڑیل پڑوسی کو دیش کی طرف سے دو ٹوک پیغام دینے میں کامیاب رہے۔ اروناچل پر حق جتاکر بھارت کو مسلسل اکسانے والی حرکتوں کا جواب مودی نے بھی اسی انداز میں دے دیا۔ اروناچل کے نوجوان ایم پی کرن ریشیجو کو وزیرمملکت داخلہ کی کرسی پر بٹھا دیا گیااور سابق فوج کے سربراہ وی کے سنگھ کو نارتھ ایسٹ ریاستوں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں چین کے صدر ہوجنتاؤ بھارت آرہے ہیں تو ہمیں جہاں ان کا تہہ دل سے خیر مقدم کرنا چاہئے وہیں یہ بھی پوچھا جائے کہ پا ک کے قبضے والے کشمیر میں جس تیزی سے وہ اپنی فوج گھسا رہے ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ ہزاروں مربع میل کا ہندوستانی علاقہ چین نے دبا رکھا ہے اس کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔ چین کے نئے رویئے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ دونوں دیشوں کے تعلقات بہتر ہوں گی لیکن ہمیں چین کے قول اور فعل پر گہری نگاہ رکھنی ہوگی۔ چین پر پوری طرح سے بھروسہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
(انل نریندر)

ایک طرف سورج کی مار تو دوسری طرف بجلی کٹوتی!

پورے شمالی ہند میں پچھلے کئی دنوں سے قہر کی گرمی پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں گرمی سے ہائے توبہ مچی ہوئی ہے۔ صبح اٹھتے ہی سورج تپنا شروع کردیتا ہے۔ دن چڑھتے چڑھتے اتنی تپش ہوجاتی ہے کہ سہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے غروب ہونے کے گھنٹوں بعد تک بھی گرمی کی تپش کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ چلچلاتی دھوپ اور آگ اگلتی سورج کی کرنیں اور گرمی سے پریشان لوگ ایتوار کے دن راجدھانی میں کچھ ایسا ہی محسوس کرنے کو اور دیکھنے کو ملا جب درجہ حرارت نے پچھلے62 سال کا ریکارڈ توڑتے ہوئے شہر کے پالم علاقے میں درجہ حرارت47.8 ڈگری سیلسیس تک ریکارڈ کیا گیا۔ تیز دھوپ اور لو کے تھپیڑوں سے گر سے باہر نکلنا بھی مشکل ہوگیا۔ جیسے جیسے دن چڑھتا ہے سڑکوں پرعام زندگی ٹھہر سی جاتی ہے۔ کپڑوں سے سر ڈھکے لوگوں کا سڑک پر چلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مانا جاسکتا ہے گرمی کا موسم عام آدمی کے لئے زندگی محال کر دیتا ہے لیکن آبادی کے بڑھتے دباؤ اور ماحول میں گرمی پیدا کرنے والے انسانی سازو سامان کی وجہ سے سال در سال حالات بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔ گرمی سے بچاؤ کے وسائل پنکھا، کولر، ایئر کنڈیشن،فرج وغیرہ بجلی کی قلت کے سبب یہ سب بے معنی ہوتے جارہے ہیں۔چڑھتی گرمی کے درمیان بجلی کی کٹوتی نے دہلی کے شہریوں کا دن اور رات کی نیند اڑادی ہے۔ پچھلے10 دنوں سے چل رہا بجلی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ زیادہ تر علاقوں میں دو سے چھ گھنٹوں تک بجلی کی کٹوتی ہوتی ہے۔ کہیں لوڈ شیڈنگ تو کہیں بجلی سازو سامان میں آرہی تکنیکی خرابی سے بجلی چلے جانے سے لوگوں کا جینا حرام ہورہا ہے۔ بجلی کی مانگ کے لئے لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ جگہ جگہ مظاہرے ہورہے ہیں، دھرنے دئے جارہے ہیں وہیں بجلی تقسیم کمپنیوں کا کہنا ہے پچھلے جمعہ کو آئی آندھری طوفان میں ٹرانسمیشن لائنوں اور ٹاور گرنے سے ڈسکام نیٹورکنگ سسٹم پر اثر پڑا ہے اور بجلی کی قلت سے دوچار دہلی کے لوگوں کو راحت دینے کے لئے دہلی کے تمام کاروباری مالس میں رات 10 بجے کے بعد بجلی سپلائی بند کردی جائے گی۔اس کے ساتھ ہی سرکاری دفاتر میں روزانہ ایک گھنٹے ایئر کنڈیشنر بند رکھے جائیں گے۔ دہلی دیش کا دل ہے اس لئے اس کے دل سے نکلی آواز دیش کے باقی حصوں کے لئے بھی ایک رہنما ہونی چاہئے۔ تمام ریاستوں کو اسی طرز پر بجلی کی فضول خرچی پرلگام لگانی ہوگی۔ بجلی بچانے کے اقدامات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ یہ کام کسی خاص موسم یا موقعہ پر نہیں بلکہ پورے سال کرنے ہوں گے تاکہ گرمی کے موسم میں بجلی اور پانی کی ضرورت کے حساب سے سپلائی ہوسکے۔گرمی میں آگ برساتے سورج پر تو انسان کا بس نہیں ہے لیکن جو قدم اس نے ان آفات سے نمٹنے کیلئے اپنے دم پر بنائے ہیں ان کا متوازن استعمال کہیں نہ کہیں فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ماہرین اکثر دلیل دیتے ہیں کہ موسم کا اثر گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بدل رہا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے شہر سیمنٹ کے ہوچکے ہیں ،پیڑ کٹتے جارہے ہیں اس سے گرمی بڑھ رہی ہے لیکن 65 سال پہلے نہ تو کوئی گلوبل وارمنگ تھی اور نہ ہی پکے شہر بسے ہوئے تھے اور نہ ہی آبادی اتنی تھی تو پھر کیا وجہ تھی کہ 1952ء میں تقریباً اتنی ہی گرمی پڑی تھی؟
(انل نریندر)

11 جون 2014

گنگاکی صاف آبی لہر بنانے میں ایک بڑی رکاوٹ مافیا بھی ہے!

یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ مودی سرکار کا مشن گنگا شروع ہوگیا ہے۔ گنگا کو پاک اور خوبصورت بنانے کے ساتھ اس کے ٹرانسپورٹ اور سیاحتی اور ماحولیاتی طور پر بہتر بنانے کے لئے مرکزی حکومت نے چار وزارتوں آبی وسائل، ٹرانسپورٹ، ٹورازم اور ماحولیات کو مل کر کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ آبی وسائل سکریٹری کی سربراہی میں ان چاروں وزاروں کی ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جو ایک مہینے میں اپنی مفصل رپورٹ پیش کرے گی۔ پانی ہی زندگی ہے اور گنگا زندگی دینے والی ۔ اتراکھنڈ میں سمندر سے 14 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع گنگوتری گلیشیئرسے شروع ہونے والی یہ پوتر ندی خلیجی بنگال میں جاکر گرتی ہے۔دنیا کی بڑی ندیوں میں شامل گنگا بھارت کے ایک چوتھائی سے زیادہ جغرافیائی حصے کو اپنے پانی سے سینچتی ہے۔پانچ ریاستوں (اتراکھنڈ،یوپی، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال ) سے ہوکر گزرتی ہے۔ گنگا اپنی معاون ندیوں کے ساتھ دیش کے بڑے جغرافیائی حصے کے لئے سینچائی کا 12 مہینے کا ذریعہ ہے۔ ندی کی وجہ سے مچھلی صنعت بھی کافی پھل پھول رہی ہے۔ گنگا سیاحوں کو بھی اپنی طرف راغب کرتی ہے اور اس کے ساحل پر واقع ہری دوار، الہ آباد اور بنارس بڑے تیرتھ شہر ہیں۔ 25-25 کلو میٹرہے گنگا کی کل لمبائی۔190 فیصدی گنگا کا پانی سینچائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ 40 ہزار لاشوں کا ہر برس گنگا کے کنارے پر انتم سنسکار کیا جاتا ہے۔17 بجلی گھروں سے حال ہی میں بجلی کی پیداوار ہوتی ہے اور 69 ہائیڈرو پاور پلان الکنندا اور بگھیرتی پر بنانے کی اسکیم ہے۔ دراصل گنگا کی پوتر تا اور اچھائیاں ہی اس کی دشمن بن گئی ہیں۔ لوگوں کی ناسمجھی اور غیر ذمہ دارانہ رویئے کی وجہ سے ندی میں مسلسل آلودگی کی وجہ سے کچھ مقامات پرتو اس کا پانی استعمال کرنے لائق بھی نہیں بچا ہے۔ یہ ندی مذہبی روایتوں کے ساتھ ساتھ اب صنعتی کچروں اور شہر سے نکلنے والے سینکڑوں نالوں کی گندگی نے دنیا کی سب سے بڑی اس پوتر گنگا ندی کی یہ حالت کردی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر روز گنگا میں 2 ارب لیٹر گندگی بہا دی جاتی ہے۔ گنگا کے کنارے بسے چھوٹے بڑے قریب 100 شہروں کے نالوں کا پانی بغیر صفائی کے گنگا میں ڈال دیا جاتا ہے۔ گنگا کو صاف کرنے ، پانی کو پینے لائق بنانا آسان کام نہیں ہے۔ سورگیہ راجیو گاندھی نے بھی گنگا ایکشن پلان بنایا تھا لیکن کچھ ٹھوس نہیں ہوسکا۔پہلی بار گنگا کی صفائی کے لئے نریند ر مودی کی میعادی پالیسی گنگا میا کے شردھالوؤں میں کافی خوشی ہے۔ مگر گنگوتری سے گنگا ساگر تک گنگا بھومی کو جوڑکر اس کا استعمال کرنے والے مافیاؤں میں کھلبلی ضرور مچ گئی ہے۔ یوپی ، بہار اور مغربی بنگال کی ہزاروں ایکڑ زمین ان مافیاؤں کے قبضے میں ہے اور ریاستی سرکار وں میں اس کی اچھی پیٹ ہے۔ گنگا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گنگا میں آلودگی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔وہیں گنگا کے مخالف عناصر بھی اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔ گنگا کی زمین میں مزدوروں کے چھوٹے بڑے گاؤں بسا دئے گئے ہیں۔ بڑے شہروں کے کنارے گنگا کی زمین پر مقامی لیڈروں و صنعتکاروں کے عالیشان بنگلے اور ڈیریاں اور فارم بن گئے ہیں اور اس سے نکلنے والی گندگی گنگا میں بہائی جاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گنگا صفائی مہم کے نام پر ریاستی سرکاروں نے جو حلف نامہ اور جو دلیل دی ہے وہ حقیقت سے پرے ہے۔گنگا صفائی کے نام پردیش ہی نہیں غیر ملکی انجمنوں نے بھی مودی سرکار کو اپنی حمایت دی ہے جس میں 80 ملکوں میں پھیلی آل انڈیا اور ورلڈ گائتری خاندان سب سے آگے ہے جس کے ہیڈ کوارٹر شانتی کنج، ہری دوار نے پچھلے جون میں مودی خود گئے تھے اور گنگا پر چل رہے کاموں کے لئے گائتری خاندان کے چیف ڈاکٹر پرنب پانڈیہ کی تعریف بھی کی تھی۔ سرکار ایسے سبھی اداروں کو بھی گنگا صفائی ابھیان میں شامل کرے گی جو گنگا کو پاک کرنے کیلئے کام کررہے ہیں۔ اس سے سرکار کو گنگا مافیہ کے خلاف عام جنتا سے حمایت ملے گی۔ کیونکہ جب تک ان مافیاؤں کو گنگا کی سرزمین سے نکالنا نہیں جائے گا تب تک گنگا کے پانی کی صاف ستھری لہر کا تصور پورا نہیں ہوسکتا۔ گنگا ایکشن پلان کو قطعی شکل دینے سے پہلے وزارت نے ایک سیٹیلائٹ سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے بعد ریاستی سرکار وں سے گنگا مافیاؤں کے تئیں نرمی کو لیکر ان سے جواب طلب کیا جائے گا۔
(انل نریندر)

10 جون 2014

ارون جیٹلی کے پہلے بجٹ سے زیادہ امیدیں نہ لگائیں!

نریندرمودی 30سال بعد ایک ایسی پارٹی کی حکومت کے وزیراعظم بنے ہیں جس کے پاس مکمل اکثریت ہے ملک کے عوام نے واضح اکثریت دے دی ہے تو اس نے نئی حکومت سے بہت زیادہ امیدیں بھی لگا رکھی ہے چناؤ کمپین کے دوران عوامی ریلیوں میں سرکار کا ایجنڈا پیش کیا تھا جس پر اب عمل کی باری ہے مودی کو گجرات کی خوشحالی کا عمل بردار مانا جاتا ہے ان کے سامنے دیش کی معیشت کوپٹری پر لانا، مہنگائی پر قابو پانا ، روزگار کے مواقع بڑھانے جیسے چیلنج ہے مودی حکومت کا پہلا بجٹ جولائی میں آئے گا پیشے سے وکیل وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو بنایا گیا ہے جوڑ توڑ کی سیاست میں ماہر جیٹلی اب مالی سیکٹر میں کیسے جوڑ توڑ میں ماہری دکھاتے ہیں یہ تو بجٹ سے پتہ چلے گا مودی حکومت کے لئے سب سے بڑی چنوتی ہے مہنگائی پر قابو پانا۔ دیش کی عوام سب سے زیادہ پریشان اور لاچار ہے مسلسل بڑھتی مہنگائی سے ۔ یوپی اے سرکار کی ہار میں سب سے بڑی وجہ یہ ہی تھی مودی سرکار نے مہنگائی نہ روکنے کے بہانے رکھے جسے پچھلی سرکار کی دین تھی تو عوام کا اس کا اچھااشارہ نہیں جائے گا مہنگائی پر پوری طرح قابو پانا ہے معیشت کا برا حال ہے مودی معیشت کو کیسے سدھاریں گے ان کی بھی اسکیموں کا ہمیں پتہ چلے گا۔ ان کے بجٹ سے سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے لئے انہیں ایسی اسکیم بنانی پڑے گی تاکہ دیش کے پھر سے دیش کی معیشت مضبوط ہوسکے۔ غیرملکی سرکاروں کا ہماری معاشی نظام پر بھروسہ بڑھے اور وہ ملک میں پیسہ لگانے کے لئے آگے آئیں دیش کی بڑی پریشانی یہ ہے کہ بڑھتی آبادی اور گھٹتا روزگار۔ نوجوانوں کا مودی کی غیرمتوقع جیت میں بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ ان کو امید ہے کہ ان کا مستقبل بہتر ہوگا۔ مودی ایک اندھیری سرنگ میں ایک کرن کی شکل میں سامنے آئے ہیں اور نوجوانوں نے انہیں سرپر بٹھا دیا ہے اس وجہ سے انہیں بہت امید ہے کہ نئے وزیراعظم روزگار کے سیکٹر میں بڑی کوشش کریں گے۔ سرکاری سیکٹرخالی اسامیاں بھرے گے۔ ایسے میں نئے مواقع ملے جس کے لئے انہیں نئی اسکیمیں بنانی ہوگی۔ اس کی جھلک انہیں بجٹ میں دکھانی چاہئے۔ صنعتی سیکٹر اہم ہے اور صنعتی دنیا میں وزیر خزانہ ارو ن جیٹلی کے ساتھ پچھلے بدھ کو پہلی ملاقات میں ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لئے ماحول بہتر بنانے کی اطلاعاتی مورچے پر ٹھوس پہل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ وزیرخزانہ کے ساتھ بجٹ سے پہلے منعقدہ ایک روایتی ملاقات میں صنعتی دنیا کے سربراہوں نے سب سے پہلے پچھلی تاریخ سے ٹیکس ترمیم کے اشو کو سلجھانے کو کہا ہے کیونکہ پچھلی سرکار نے پچھلی تاریخ کی ترمیم کی تھی صنعتی دنیا کے سربراہوں نے اس بات پر زور دیا ہے سرکاری خزانہ کو مضبوطی کے ساتھ اگر دوسری اقتصادی اصلاحات کو بڑھاوا دیا گیا تو اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھے گی۔ برآمد سیکٹر پر سروس ٹیکس کی چھوٹ دیئے جانے پر بھی زور دیا ہے۔ دیش کی 70 فیصدی آبادی زراعت منحصر ہے لیکن مہنگی ہوتی کھیتی اور سڑتی فصلیں اور پیداوار کی خاطر خواہ قیمت نہ ملنے کے سبب کسان خودکشی کررہے ہیں۔ کھیتی باڑی کو کسانوں کے لئے فائدہ مند بنانا ہوگا۔ زراعی پیداوار کے لئے ایک میکنیزم طے کرنے کی پالیسی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ساری توجہ اس بات پر ہونی چاہئے زراعتی سیکٹر میں پیداوار بڑھے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ وزیرخزانہ مہنگائی روکنے کے لئے بڑے قدم اٹھائے۔ خاص کر سپلائی سیکٹر میں توجہ دینی ہوگی۔ اس لئے زرعی سیکٹر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سنیچائی اسکیم ندیا جوڑوں اسکیموں پر توجہ دینی ہوگی۔ واقف کاروں کاکہناہے جٹیلی کے پہلے بجٹ میں زیادہ امید نہ رکھے۔ خود وزیر خزانہ ار ون جیٹیلی کاکہنا ہے پچھلی حکومت دیش کو بری حالت میں چھوڑ گئی ہے۔ایسے میں زیادہ افراد زر بڑھا ہوا ہے جی ڈی پی 5فیصد سے کم ہے ایسے کچھ زیادہ ممکن نہیں ہے وزیراعظم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانا ان کی سرکار کے لئے بڑی چنوتی ہے مودی سرکار نے اس کے لئے مورچہ بندی شروع کردی ہے ۔ اس کے تحت سنیچر کو کیبنٹ سیکریٹری اجیت سیٹ کی سربراہی میں بڑے افسروں نے موجودہ مالی صورت حال کے ساتھ ساتھ مانسون میں تاخیر اور افراد زر پر پڑنے والے اثر سے نپٹنے کے لئے تیاریوں کاجائزہ لیا۔ نریندر مودی کے پہلے بجٹ پر پورے دیش کی نظر لگی ہوگی۔ جنتا کو امید ہے اس سرکار کی ترجیحات مہنگائی روکنا ترقی بڑھانا اور سرکاری خزانے خسارے پر قابو رکھنا۔

 (انل نریندر)

مودی کے دورہ امریکہ سے دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ہوں گے

کہاوت ہے کہ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے نریندر مودی کو اپنی سرزمین پر پاؤں رکھنے کی اجازت تک نہ دینے والا امریکہ اب انہیں لال قالین پر بیٹھانے کی تیاری کررہا ہے۔ صدر براک اوبامہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ستمبر آخری ہفتے میں امریکہ جانے کا اراداہ کرلیا ہے۔ انہیں دنوں میں اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس نیویارک میں ہونا ہے امکان ہے کہ وزیراعظم کی حیثیت سے مودی بھی اس موقعے پر موجود رہیں گے اس سالانہ اجلاس کے دوران امریکہ میں تمام غیرملکی سینئر لیڈروں کی بھیڑ ہوتی ہے اور تنازعوں سے بچنے کے لئے امریکی صدر عام طور پر کسی سے ا لگ سے ملنا پسند نہیں کرتے لیکن مودی کے معاملے میں یہ روایت توڑتے دکھائی دے رہے ہیں یہ وہی امریکہ ہے جس نے پچھلے کئی برسوں سے تک مودی کو ویزا تک دینے سے انکار کیا اور بار بار بے عزت کیا۔ اب اگر اوبامہ پلٹی کھار ہے ہیں تو اس میں امریکہ کا مفاد زیادہ ہے معاملہ سیدھے امریکی اقتصادی اور فوجی مفادات سے وابستہ ہے ہندوستان کا خوردہ بازار ، ڈیفنس سودوں اور ایٹمی بھٹیوں کا معاملہ امریکہ کو بے چین کررہا ہے پچھلے کچھ مہینوں میں امریکہ اور بھارت کے رشتوں میں گراوٹ آئی ہے۔ اور یہ کہہ کشیدگی کے حالات بنے ہوئے ہیں غلط نہیں ہوگا۔ اور کچھ وقت سے پہلے امریکہ میں تعینات ہماری سفارت کار دیویانی کھوبرا گڑے کے ساتھ جو برتاؤ کیاتھا اس سے دونوں ملکوں کے رشتوں میں تلخی بڑھ گئی تھی ہندوستانیوں کے لئے ایم ون ویزا کے معاملے میں امریکہ کاامتیاز صاف دکھائی دے رہا تھا وزیراعظم نریندر مودی کی سرکار عہدے سنبھالنے کے بعد تعمیراتی سیکٹر میں سرگرم امریکہ کی طاقت ور لابی نے ہندوستان مخالف رویہ میں تبدیلی کرلی اور اس دباؤ گروپ کو امید ہے کہ وزیراعظم مودی کے عہد میں بھارت اورامریکہ کے درمیان کاروباری رشتے نہ مضبوط ہوں گے بلکہ اقتصادی و اصلاحات میں نیا سدھار ہوگا۔ امریکہ کی تجاری انجمن کے چیرمین اور سی او جیم ٹیمس کاکہنا ہے کہ امریکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو امید ہے کہ بھارت امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات پٹری پر واپس آجائیں گے۔اچھے چل رہے رشتوں میں دیویانی کے تنازعے نے کافی تلخی بڑھا دی تھی ایسے میں مودی کے اقتدار میں آنا دونوں ملکوں کے ڈپلومیٹک حکام کی نیند اڑانے کے لئے کافی تھا لیکن فریقین نے بربادی دکھائی اور آپسی رشتوں کو نئی بلندی دینا ضروری سمجھا۔ دونوں ملکوں کے مفادات کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ بھارت امریکہ پرانی باتوں کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ نریندر مودی جب امریکہ جائے اور اوبامہ سے افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بارے میں تبادلہ خیال کریں اور امریکہ کی نئی انترم سفیرکیتھرین اسٹیفینس نئی دہلی آکر اپناعہدہ سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے پچھلی سفیر نینیسی پاول کی جگہ ذمے داری سنبھالی ہے جو 22 مئی کو بھارت چھوڑ گئی ہے۔ نئی سفیر نے ہندوستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں کامیاب تبدیلی اور انسداد دہشت گردی کے اقدام پر غور اور فروغ قانون میں تبدیلی اور لوگوں کے آپسی رشتوں کو بہتر بنانے پر بھی کام کرنے کی بات کہی ہے جس کاہم خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں مودی اور اوبامہ دونوں میں ملکوں میں بھائی چارتی اورہر ممکن سیکٹر میں آپسی اشتراک بڑھائیں گے۔

 (انل نریندر)

08 جون 2014

یوپی میں بڑھتے جرائم اور بے حس اکھلیش سرکار!

اترپردیش میں نہ تو جرم کم ہورہے ہیں اور نہ ہی اکھلیش سرکار قانون و انتظام پر قابو پا رہی ہے۔جرم لگاتار بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ سرکار کہتی ہے کہ وہ ایسے معاملوں کو روکنے کے لئے کڑے قدم اٹھا رہی ہے لیکن عام لوگوں کے درمیان اس کا الٹا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عام جنتا کو لگتا ہے کہ پولیس جو کارروائی کررہی ہے وہ صرف دکھاوے کے لئے ہے۔مقدمے درج ہوتے ہیں تو ان میں کئی طرح کی خامیاں چھوڑ دی جاتی ہیں۔ اس کا فائدہ مجرموں کوملتا ہے۔پھر بدایوں کی رونگٹے کھڑے کردینے والی بربر واردات اور ریپ کے دیگر واقعات کو دیکھ کر وزیر اعلی اکھلیش یادو کے ساتھ ساتھ دیگر سپا لیڈروں نے جس طرح کے بیان دئے ہیں اس سے انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا ہے ۔ یہ بیان یہ ہی بتاتے ہیں کہ سپا نیتاؤں کو نہ تو اپنی بھول کا احساس ہے اور نہ ہی وہ یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ اترپردیش انتظامیہ کی چھوی کس طرح تار تار ہورہی ہے؟ یہ عام بات نہیں کہ امریکی وزارت خارجہ سے لیکر اقوام متحدہ کے چیف تک حیرانی جتا رہے ہیں۔اس پر اترپردیش کے وزیر اعلی یہ کہہ رہے ہیں کہ اس طرح کے واقعات تو سب جگہ ہوتے رہتے ہیں۔ پارٹی کے اعلی لیڈر رام گوپال یادو نے پردیش کی بدحال تصویر کا ٹھیکرا تو میڈیا پر ہی پھوڑتے ہوئے کہا کہ کئی جگہوں پر جب لڑکیاں اور لڑکوں کے رشتے سامنے آجاتے ہیں تب اسے بلاتکار کہہ دیا جاتا ہے۔ایسے واقعات راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں بھی ہورہے ہیں لیکن وہ سرخیاں نہیں بن رہیں۔ میڈیا پر کھیج اتارتے ہوئے ملائم نے کہاملزمین کے خلاف کڑی کارروائی کی جارہی ہے۔ آپ اپنا کام کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔ بدایوں کا واقعہ ملزمین کی ہمت کو بیان کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ پولیس نے کس طرح ملزموں کی طرح برتاؤ کیا۔ جن پولیس ملازمین کو متاثرہ پریواروں کی مدد کرنی چاہئے تھی وہ کہہ رہے تھے کہ’ دیکھو کہیں انہیں پیڑ پر تو نہیں لٹکا دیا گیا۔‘ یہ پہلی بار نہیں جب اترپردیش میں پولیس نے اپرادھیوں جیسا برتاؤ کیا ہو یا پھران کی طرفداری کی ہو۔ سیتا پور میں ایک بچی کے ساتھ ریپ ہوا اور اس کی بھی ہتیا کر لا ش پیڑ پر لٹکا دی گئی۔ پولیس نے ہتیا کا کیس درج کر جانچ شروع کی۔پریوار والوں کے کہنے کے باوجود ریپ کا کیس درج نہیں کیا گیا۔اس سے لوگوں میں غلط پیغام گیا۔ ان بڑھتے واقعات پر روک لگائی جائے۔ یوپی کی سپا سرکار اس کا کوئیتسلی بخش جواب نہیں دے رہی ہے۔اس کے الٹ سپا کے نیتاؤں کے عجیب و غریب بیان آرہے ہیں۔ اس سے لوگوں کا غصہ اور بڑھ رہا ہے۔ بدقسمتی سے اترپردیش ان ریاستوں میں اول ہے جہاں پولیس برسراقتدار پارٹی کی سیاسی برانچ کی طرح کام کرتی ہے اور خاص کر تب جب سماجوادی پارٹی اقتدار میں آتی ہے۔20 دنوں کے اندر یوپی میں 17 نابالغوں سے بالاتکار کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ 15 نابالغ لڑکیوں کوریپ کے بعد موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ 60سے65 فیصدی ریپ یوپی میں رفع حاجت جاتے وقت انجام دئے جاتے ہیں۔یوپی انتظامیہ کہیں بھی پھرتی کے ساتھ کام نہیں کر پا رہا ہے۔ ہر معاملے میں ڈھیلا ڈھالا رویہ ہے اس سے سر پھیروں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ہر طرح کے جرم لگاتار بڑ ھ رہے ہیں۔درجنوں جرم ایسے ہیں جو درج ہی نہیں ہوتے۔ پولیس تھانوں میں عام شہری جانا پسند نہیں کرتے۔لوک سبھا چناؤ میں سپا کی فضیحت ہوتے سب نے دیکھی ہے۔ اگر یہ ہی حال رہا تو ڈھائی تین سال بعد ودھان سبھا چناؤ میں کیا سپا کا وہی حال ہوگا جو دہلی ودھان سبھا چناؤ میں کانگریس کا ہوا تھا یا لوک سبھا چناؤ میں بسپا کا ہوا تھا؟اگر اکھلیش سرکار اب بھی نہیں جاگی تو اس کو انجام بھگتنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔
(انل نریندر)

ارے بھائی آپ کا کیا ہوگا؟

لوک سبھا چناؤ نتائج نے عام آدمی پارٹی کو بری طرح ہلایا ہی نہیں بلکہ اس کے وجود کے لئے بھی گہرا سنکٹ پیدا کردیا ہے۔چناؤ میں اپنی ہار اور اپنی حالت کا جائزہ لینے کے بجائے پارٹی کے اندرونی جھگڑے سب کے سامنے آگئے ہیں۔ ’آپ ‘ پارٹی کے کئی بڑے نیتا پارٹی چھوڑ گئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ اب کھل کر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ بری پرفارمینس کے لئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہیں۔ لگ بھگ پارٹی کے سبھی چہرے پارٹی سے کنارہ کر چکے ہیں۔ پہلے ونود کمار بننی گئے، پھر اشونی اپادھیائے الگ ہوئے، شاذیہ علمی اور کیپٹن گوپا ناتھ نے پارٹی چھوڑی ، اس کے بعد ہریانہ میں ہار کی ذمہ داری لیتے ہوئے سینئر لیڈر یوگیندر یادو نے پارٹی کے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا، اب آپ پارٹی کے دو سنستھاپک ممبر منیش سسودیا اور یوگیندر یادو کا ایک دوسرے پر الزام در الزام کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ منیش سسودیا نے یوگیندر یادو کو جو خط لکھا ہے اس کا مضمون سوالوں کی ایک پوری فہرست کھڑا کررہا ہے۔فی الحال دونوں لیڈر میڈیا سے بات نہیں کررہے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ کچھ بڑا ہونے جارہا ہے۔ یہ اہم اس لئے بھی ہے کیونکہ اس کا اثرآنے والے ودھان سبھا چناؤ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ پارٹی کے ایک اور اہم لیڈر کمار وشواس بھی پارٹی سے کنارہ کرنے کے موڈ میں نظر آرہے ہیں۔ لوک سبھا چناؤ میں امیٹھی سے اپنی ضمانت ضبط کرانے کے بعد سے وہ پارٹی پروگراموں سے غائب ہیں۔ دہلی ودھان سبھا چناؤ میں عام آدمی پارٹی کی28 سیٹوں پرحیرت انگیز جیت کی سب سے بڑی وجہ جس طرح اروند کیجریوال تھے اسی طرح لوک سبھا چناؤ میں پارٹی کے بکھراؤ کی اہم وجہ بھی کیجریوال ہی ہیں۔دہلی میں اپنی مرضی کا لوکپال نہیں بنا پانے کے نام پر سرکار سے استعفیٰ دینا ان کا آتم گھاتی قدم تھا۔دراصل انہوں نے یہ سوچا کہ انا آندولن کی بدولت جس طرح وہ دہلی میں بازی مار لے گئے اسی طرح دیش بھر میں ان کے نام کا ڈنکا بج سکتا ہے اور اگر وہ100سیٹیں بھی جیت پائے تو تیسرے مورچے کی یا پھر کانگریس کی مدد سے مرکز میں بھی سرکار بنا سکتے ہیں۔ پر مودی لہر کے چلتے عام آدمی پارٹی ہوا میں اڑ گئی۔ 438 میں سے425 سیٹوں پر عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کی جس طرح ضمانت ضبط ہوئی اس سے ان کے سامنے ساری زمینی حقیقت آگئی۔اروند کیجریوال نے اپنے ذاتی عزائم کو پارٹی کے ہتوں سے ہمیشہ اوپر رکھا۔ کیجریوال کو میڈیا کوریج کا اتنا لالچ ہے کہ وہ لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا کے پی ایم عہدے کے امیدوار نریندر مودی کے خلاف وارانسی سے چناؤ لڑ گئے۔ کیجریوال جانتے تھے کہ اس سیٹ پر چناؤ لڑنے سے انہیں دیش بھر میں میڈیا کوریج ملے گی لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ ان کی وشوسنیاتا زیرو ہو چکی تھی اور ان کی چھوی بھگوڑے کی بن گئی تھی۔ اس کے علاوہ کیجریوال نے حال ہی میں جیل جاکر اپنا قد بڑھانے کے چکر میں ایک بار پھر منہ کی کھائی۔ شکروار کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں جب جج صاحبہ نے ان سے کہا کہ آپ گڈکری سے سمجھوتہ کیوں نہیں کر لیتے اور کیس ختم کردیں تو کیجریوال نے کہا کہ میں معافی نہیں مانگو گا اور کیس لڑوں گا۔ کیجریوال کے جیل جانے سے ان کے حق میں کوئی ہمدردی کی لہر پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک بار پھر یہی پیغام گیا کہ وہ خود کو قانون سے اوپر سمجھتے ہیں۔ آخر کار ہائی کورٹ کی پھٹکار کے بعد وہ مچلکہ بھرنے کو راضی ہوئے۔ یہ ہی نہیں اس کے بعد تو انہوں نے کئی کیسوں میں بانڈ بھرے ہیں۔ جس عام آدمی پارٹی کو اپنے قیام کے بعد سے لاکھوں کروڑوں روپے کا چندہ مل رہا تھا وہ محض چند روپے میں سمٹ جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کے سمرتھکوں کی تعداد میں بھاری گراوٹ آرہی ہے۔اب آکر پارٹی کا سب سے بڑا برین مانے جانے والے یوگیندر یادو سے سیدھا اٹیک عام آدمی پارٹی کی چھوی کو پبلک میں لگاتار گرا رہا ہے۔ اگر خفیہ آکلن پر یقین کریں تو کچھ نیتا اب عام آدمی پارٹی کے اندر صرف اس لئے کہ پارٹی ٹوٹے، بکھرے اور بکھرتی جائے۔ کیجریوال چند لوگوں کو ساتھ لیکر اکیلے رہ جائیں۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...