Translater

20 اگست 2011

یہ تحریک بھارت کے ہی نہیں ساری دنیا کے لئے مثال ہے!


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 20th August 2011
انل نریندر
کانگریس نے اناہزارے کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگوں کے آگے آنے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس تحریک کے پیچھے امریکہ کاہاتھ ہے۔ کانگریس کی دلیل ہے کہ امریکہ نے کبھی کسی تحریک کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیاتھا مگر انا کی تحریک کو لے کر امریکہ کی وکالت شبہ پیدا کرتی ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی انا ہزارے کی گرفتاری کو لے کر پارلیمنٹ میں دئیے گئے اپنے بیان میں غیرملکی طاقتوں کا ذکر کیا ہے۔ میں نہیں جانتا اس تحریک کے پیچھے امریکہ کاہاتھ ہے یا نہیں۔ امریکہ جب بھی کسی ملک میں سرکارکچلنے والے قدموں پر جمہوری طریقہ سے جنتا تحریک کو ختم کرنے پر اتر آئے توامریکہ اس پر وارننگ دینے کی تجویز ضرور رکھتا ہے۔
اس نے چین، وسطی دیشوں کو بھی ایسی وارننگ دی ہے اور دیتا رہا ہے۔ یہ کہناہے کہ اس لئے بھی غلط لگتا ہے کہ جتنی امریکہ پرست یہ منموہن سرکار ہے اتنی تو آزاد بھارت کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوگا۔ ساری کانگریس لیڈر شپ امریکی ہمدرد ہے اور یہ بات کئی بار ثابت ہوچکی ہے۔ وہ اس لئے کہنا سمجھ سے باہر نہیں اگر کانگریس یہ کہتی ہے کہ کچھ طاقتیں دیش کی معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے اس لئے اندرونی حالت کمزور کررہی ہے۔ تو بھی بات سمجھ میں آتی ہے۔اناکی تحریک نے نہ صرف سارے پرانے ریکارڈ توڑدیئے ہیں ٹیم انا نے کمال کردیا ہے۔ جس طریقہ سے پچھلے چار دنوں سے جنتا سڑکوں پر پرامن طریقہ سے تحریک چلارہی ہے۔ وہ ناقابل بیان ہے۔ اتنی تعداد میں لوگ سڑکوں پر ہو اور ایک بھی جگہ لاٹھی چارج نہ ہو ایک بھی جگہ قومی املاک کونقصان نہ پہنچا ہو۔ یہ بھارت میں کیا ساری دنیا میں ایک مثال ہے۔ لوگوں کو جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے بس ایک آواز انڈیا گیٹ پر ایک لاکھ لوگ۔ نہ کوئی سیاسی نیتا اورنہ کوئی ریلی۔ اس طرح اکٹھے لوگوں کودہلی کیا دنیا نے بھی کم دیکھا ہوگا۔ بدعنوانی کے خلاف دہلی اور پورے دیش میں تنی مٹھیاں یہ بتارہی ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف اب بات بہت دور تک جائے گی۔ پارلیمنٹ سے جڑے راج پتھ پر مٹھی باندھے ، مشعل لئے اور موم بتیاں جلائے ہزاروں لوگ ٹھیک اس وقت داخل ہو کر عوامی طاقت دکھارہے تھے جب لوک سبھا میں بدعنوانی روکنے کی سیاست پر بحث چل رہی تھی۔ اور راجیہ سبھا بدعنوانی کے ملزم ایک جج کیخلاف تحریک ملامت پر بحث کررہی تھی۔ دہلی میں ہی کیوں بدھ کے روز پورے دیش میں لوگ اکٹھے ہوگئے۔ ممبئی آزاد میدان سے لے کر سودور لداخ تک اورچنئی سے گوہاٹی تک ایک وسیع تحریک تیزی اختیار کرتی دکھائی دی۔ تہاڑ سے انا نے خاص کر یہ پیغام بھیجوایا کہ حمایتی افراد عدم تشدد کے راستے کو اپنائے چونکہ حکومت کے کچھ لوگ مظاہرین کو اکسا نے کے لئے کچھ افواہوں کا سہارا لے سکتے ہیں۔ اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
کون کہتا ہے دیش کی نوجوان پیڑھی حب الوطن نہیں؟ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ ہماری نوجوان پیڑھی نہ تو 15اگست یا 26جنوری کوئی اہمیت رکھتی ہے۔ اور وہ دیش کی سیاست سے بے خبر ہے۔ دیش میں کیا ہورہا ہے۔ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور نہ ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن پچھلے تین دنوں میں یہ خیال پوری طرح غلط ثابت ہوگیا ہے کہ پورے دیش میں اناکی حمایت میں دیش کی نوجوان پیڑھی سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ جن لوکپال بل کی حمایت میں اور تہاڑ جیل میں بند انا ہزارے کی رہائی کے مطالبہ کو لے کر دہلی کے کونے کونے سے اسکولی بچے تہاڑ جیل پہنچے خاص بات یہ رہی ہے کہ یہ طالب علم اپنے اسکولوں سے آدھے دن کی چھٹی لے کر یہاں پہنچے تھے۔ کچھ بچوں نے تو یہاں پہنچنے کے لئے باقاعدہ اسکول سے ایک دن پہلے ہی چھٹی لے لی تھی۔ دہلی یونیورسٹی نے طلبہ پر اناکی حمایت کرنے پر پابندی لگادی تھی لیکن طالب علموں نے اس کی پرواہ نہیں کی اور کروڑی مل، میرانڈہ ہاؤس ،بھیم راؤ امبیڈکر،جیسے کالجوں کے طلبہ نے کلاس روم سے ہی باہر سڑک پر آکر مظاہرہ کیا اور ریلیاں نکالیں۔
چھتر سال اسٹیڈیم پہنچی طالبات نے بتایا میرانڈہ ہاؤس میں ٹیچر توآئے ہیں لیکن کلاسیں خالی ہیں۔ سینٹ اسٹفین کالج ایلومنی ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی بہت ساری پرانی طالب علم اناکی حمایت میں آگے آئے۔ جب یہ تہتر سالہ ایک بزرگ جیل جانے کے بعد بھی اپنا انشن نہ توڑے اور بدعنوانی کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے تو بھلا ہم طالب علم کیسے ساتھ نہ دیں؟ ان کا پختہ ارادہ دیکھ کر ہماری آتما بھی خوش ہوجاتی ہے۔ یہ تھا طلبہ کاجذبہ۔ لوگوں کاجذبہ ا یسا نا قابل بیان تھاکہ تہاڑ جیل کے باہر اور چھترسال اسٹیڈیم میں جنتا وہاں بیٹھے مظاہرین کے لئے گھروں سے کھانے کا پیکٹ اورپانی بانٹ رہے تھے۔ ایسے مناظر اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے گئے تھے۔ اور اپنی مرضی سے بغیر کسی لیڈر بغیرپارٹی بغیرپیسے جنتا یوں سڑکوں پر اترآئے یہ ساری دنیا کے لئے ایک مثال ہے آپ کہیں بھی چلے جائیں سب جگہ یہ تحریک ایک بحث کا اشوانا ہزارے تھا۔ انا کی کرانتی بسوں سے لے کر چائے کی دکانوں تک پھیل گئی ہے۔ اناکی آندھی سڑکوں کے ساتھ بسوں میں بھی سوار ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ نوجوان ، بزرگ، خواتین ہرعمر کے لوگ اس آندھی میں شامل ہے۔
صبح پارکوں میں گھومنے والے بزرگوں کی ٹولی بھی انا کے بہانے دیش میں کینسر کی طرح پھیل رہی بدعنوانی کے مسئلے پر تبادلہ خیالات کرتے نظر آئے۔ انا کی حمایت میں بدھوار کو وکیلوں نے بھی سڑکوں پر مظاہرہ کیا۔ اور سبھی عدالتوں میں ہڑتال رہی۔انا کی آندھی نے لوگوں کو محبت، خدمت،اور ڈسپلن کی ڈورمیں باندھ دیا ہے۔تہاڑجیل کے باہر منگلوارکی شام سے جمع اناحمایتیوں کے لئے مقامی لوگ چائے پانی اورناشتہ لے کر پہنچے تھے رات بھر کے تھکے حمایتیوں کے لئے چادر دری لے کر لوگ دوڑے چلے آئے۔ حمایتوں کی بھیڑ کی وجہ سے سڑک پر آنے جانے والے لوگوں کو کوئی پریشانی نہ ہو اس کے لئے انہوں نے خود ہی ٹریفک سسٹم کی کمان سنبھال لی تھی۔ تہاڑ جیل کے مختلف دروازوں کے باہر انا کے حمایتیوں کی وجہ سے جیل میں راشن کی جب قلت پڑی تو توکرن بیدی نے جیل کے گیٹ نمبر 4 پر بیٹھے انا حمایتیوں سے گیٹ خالی کرنے کی اپیل کی۔ جس کی وجہ سے راستہ ملنے پرراشن لانے کاانتظام ہوسکا۔ انا کی حمایت کررہے مظاہرین کی طبیعت کی دیکھ بھال کیلئے باقاعدہ ڈاکٹروں نے ایک ٹیم بنالی۔ جس سے ضرورت مند لوگوں کو سنبھالا جاسکے۔
دلچسپ بات تو یہ بھی تھی کہ بیرونی ملک میں اس تحریک میں ساتھ آئی فرانس کی ایک خاتون چارلوٹی کہتی ہیں تحریک ،کرپشن کے خلاف ایک مضبوط ہتھیار ہے فرانسیسی اخبار میں کام کرنے والی دوسری خاتون جیسکا کاکہناہے کہ میں اس تحریک کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی لیکن لوگوں کواپنے دیش کے لئے اس قدر آواز اٹھاتے دیکھ کر اچھا لگا۔دو لوگ تو الہ آباد سے سائیکل پردہلی آئے۔ تاکہ وہ انا کی حمایت کرسکے۔ ایساعوامی جذبہ برسوں کے بعد نظرآیا۔ قومی ترنگا کے احترام کے لئے پورا دیش متحد ہوگیا۔ اس نوجوان پیڑھی نے دکھا دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ کسی سے پیچھے نہیں۔ اتنے دن سے تحریک جاری ہے، ہزاروں لوگ سڑکوں پر ہیں نہ توکسی قومی املاک کو نقصان پہنچا نہ ہی کوئی بس جلائی گئی اورنہ ہی آنسو گیس چھوڑی گئی۔ اور نہ لاٹھی چارج ہوا اورنہ ہی گرفتاری ہوئی۔ لیکن ہمیں خبردار رہنا ہوگا کہ اناکی ٹیم نے بڑے اچھے ڈھنگ سے اب تک تحریک کوچلایا لیکن کچھ عناصر اسے تشدد میں بدلنے کی کوشش کرسکتے ہیں وہ طرح طرح کی افواہیں پھیلاسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ایک بھی چنگاری کافی ہوگی۔ دنیا کواناہزارے نے دکھادیا ہے کہ عدم تشددکاراستہ کا کتنا اثر آج بھی ہے۔

America, Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Congress, Corruption, Daily Pratap, Kiran Bedi, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Tihar Jail, USA, Vir Arjun

19 اگست 2011

راجیہ سبھا میں جسٹس سین کیخلاف مقدمہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 19th August 2011
انل نریندر
راجیہ سبھا میں بدھ کو ایک تاریخی واقعہ کا آغاز ہوا۔ کولکتہ ہائی کورٹ کے ایک جج سمتر سین کے خلاف تحریک ملامت راجیہ سبھا میں شروع ہوئی ۔ یہ ایوان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہورہا ہے۔ ویسے جسٹس سین دیش کی عدلیہ تاریخ میں ایسے دوسرے جج بن گئے ہیں جن کے خلاف پارلیمنٹ کے کسی ایوان میں تحریک ملامت کی کارروائی کی جارہی ہے۔ راجیہ سبھا پہلی بار ایک عدالت میں تبدیل ہوئی ہے۔ ایوان کی چیئر کے سامنے والے دروازے کے پاس بنے کٹہرے میں جسٹس سین نے اپنا موقف رکھا۔ جسٹس سمتر سین پر لگے الزامات کی جانچ کے لئے کمیٹی راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری نے بنائی تھی۔ کمیٹی نے 33 سالہ جج کو بدعنوانی کے الزامات میں قصوروار پایا ہے۔ آئین کے تحت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج پر پارلیمنٹ میں تحریک ملامت پیش کر اس کو عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ایسی تجویز دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے پاس ہونا ضروری ہے۔ بدگمانی اور الزامات کو ثابت کرنے والے ریزولیوشن پارلیمنٹ کے اجلاس میں ہیں پاس ہونا ضروری ہیں۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں یہ دوسرا موقعہ ہے جب کسی جج کو ہٹانے کے لئے کارروائی کی جارہی ہے۔ 1993 میں جسٹس راما سوامی کو ہٹانے کیلئے اس طرح کی کارروائی شروع ہوئی تھی لیکن لوک سبھا میں اس سے متعلق تحریک ملامت ریزولیوشن پاس نہیں ہوپایا تھا۔ تب علاقائی بنیاد پر ممبران پارلیمنٹ میں اختلافات ہونے کی وجہ سے فائدہ بدعنوانی کے ملزم جج کو مل گیا تھا۔ تب کانگریس کے یہ ہی شری کپل سبل، جسٹس راما سوامی کی جانب سے پیروی کرنے لوک سبھا میں پیش ہوئے تھے۔ نرسمہاراؤ والے کانگریس حکومت نے تحریک ملامت کی تجویز کی مخالفت کرکے سب کو چونکادیا تھا۔ پہلی تحریک ملامت خارج ہونے کے بعد بڑی عدالتوں میں ججوں کے خلاف بدعنوانی کی شکایتیں بڑھ گئیں تھیں۔ راجیہ سبھا میں جو ریزولوشن جسٹس سین کے خلاف پیش کیا گیا ہے اس کا مسودہ کہتا ہے کہ یہ ایوان کولکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سمتر سین کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے ثبوتوں اور جانچ کے متعلق جانچ کمیٹی کی اس رپورٹ پر غور کرتا ہے جو 10 نومبر2010 کو ایوان کی ٹیبل پر پیش کی گئی تھی۔ چیئر مین حامد انصاری نے 15 فروری کو جسٹس سین کو ہٹائے جانے کے متعلق ریزولوشن کو قبول کرلیا تھا۔ ادھر سکم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پی ڈی دناکرن کے خلاف لگے بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کے لئے بھی راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ایک عدلیہ کمیٹی بنائی ہے۔ حالانکہ جسٹس دنا کرن نے پچھلی 20 جولائی کو خود ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اگر جسٹس سین بھی استعفیٰ دے دیتے تو ان کے خلاف بھی کارروائی نہ ہوتی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جو رپورٹ تین نفری انکوائری کمیٹی نے پیش کی تھی اس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس سمتر سین کو ہندوستان کے آئین کی دفعہ217(1) کے (بی) سیکشن کے ساتھ شق 124 (بی) کے تحت بدعنوانی کا قصوروار پایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج بی سدرشن ریڈی کی سربراہی والی انکوائری کمیٹی نے کہا ہے کہ کولکتہ ہائی کورٹ کے ریسیور کی شکل میں جسٹس سین کے ذریعے بڑی رقم بیجا ذرائع سے اکٹھے کرنے اور اس سلسلے میں غلط حقائق پیش کرنے کے الزام مناسب طور سے درست ثابت ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Justice Sen, Parliament, Vir Arjun

منموہن سرکار کی گمراہی کا نتیجہ ہے یہ دھماکو صورتحال


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 19th August 2011
انل نریندر
تہاڑجیل کے باہرکا منظر قاہرہ کے تحریر چوک جیسا بنا ہوا ہے لیکن اندر ہیں انا ہزارے اور جیل کے باہر جنتا۔ اگست کرانتی چوک بن گیا ہے دہلی کا جیل روڈ۔ہزاروں کی تعداد میں عوام جیل کے باہر بارہ گھنٹوں سے ڈٹی ہوئی ہے۔بدھ اور جمعرات کوبھی یہ ہی نظارہ دیکھنے کو ملا۔ جس طریقے سے حکومت نے انا ہزارے کی تحریک کو ہینڈل کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایڈمنسٹریشن کے لحاظ سے جتنے طریقے کی ناکامی ہو سکتی ہے ہم ان سبھی کو گنا سکتے ہیں۔ پچھلے دو تین دنوں سے جو کچھ ہورہا ہے اس سے لگتا ہے کہ یوپی اے سرکار کا خفیہ تجزیہ فیل ہوگیا ہے بلکہ اس کی قوت ارادی میں بھی کمی نظرآتی ہے اور مکمل کنفیوژن ہے۔ قانون کا مذاق بنا ہوا ہے۔ پولیس کی فضیحت کے ساتھ ہی اس کا حوصلہ پست ہونے جیسے حالات ہوگئے ہیں۔ یعنی جسے کہیں تو مکمل طور پر غلط طریقے سے معاملے سے نمٹنا۔ سرکار کی نیت بھی صاف نہیں تھی، وہ کبھی کچھ تو کبھی کچھ جیسے حالات میں دکھائی پڑی۔ یہ تجزیہ ٹھیک سے نہیں ہوا کہ انا کی گرفتاری کے نتیجے میں دہلی اور دیش میں کیا بونڈر کھڑا ہوسکتا ہے؟ یہ حالت تو تب ہے جب حکومت گذشتہ اپریل سے جنتر منتر پر انا کے انشن کو ملی عوامی حمایت کو دیکھ چکی ہے؟ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کس طرح کے فیصلے یہ منموہن سنگھ سرکار لے رہی ہے؟ بابا رام دیو سے چار چار وزیر ہوائی اڈے ملنے جاتے ہیں پھر پولیس سے ایکشن کراتے ہیں، انا ہزارے سے بات چیت کرتے ہیں پھر بدعنوانی کے الزام لگا کر ان پر دھنواں دھار حملے کرڈالتے ہیں۔ عوام میں غصہ بھر ڈالتے ہیں، انشن پرروک لگواتے ہیں، پھر گرفتاری ہوتی ہے۔ تہاڑ بھیج دیتے ہیں، پھر اسی شام چھوڑنے کا فیصلہ کرادیتے ہیں، اور انا کو باہر آنے کے لئے منا پاتے ہیں؟ یہ کیا ہورہا ہے؟ پولیس اور قانون کا اس طرح تماشہ کم سے کم دہلی میں تو شاید کبھی دیکھنے کو نہیں ملا ہو؟حملہ کرو اور پھر اس کے بعد لیپا پوتی؟ جیسا کسی نے کہا ہے کہ ہم ایک مہذب ریاست ہیں۔ ویلفیئر اسٹیٹ میں عوامی جذبات سے بڑا کچھ بھی نہیں ہے لیکن اس بارے میں پہلے سے صحیح تجزیہ کرنا اس حساب سے تیاری کیوں نہیں ہوئی۔قانون اور پولیس اس حالت سے بچ پاتے؟ حکومت کے غلط طریقے سے نمٹنے کا نتیجہ یہ ہے کہ آج جنتا سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ قاہرہ کے تحریر چوک پر بھی اسی طرح جنتا آ گئی تھی۔ دراصل یہ کہنا مناسب نہ ہوگا کہ انا ہزارے کی تحریک ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں ایک نئی صبح لیکر آئی ہے۔ رالے گن سدھی سے اٹھا ایک شخص جب لوک نائک جے پرکاش نارائن کی طرح خاص طور سے بدعنوانی کے خلاف احتجاج میں دیش کی آواز بن جاتا ہے اور جس طرح سے پورے دیش میں لوگ سڑکوں پر اتر آتے ہیں، یہ چونکانے والا منظر بھی ہے۔ کبھی کبھی یہ ناراضگی دیش کی تشریح اور جغرافیہ دونوں کو بدل دیتی ہے۔ پورے دیش میں پچھلے برسوں میں جتنے بھی انقلاب آئے ہیں ان کے مرکز میں نوجوان طاقت اور اس کا نظریہ شامل رہا ہے۔ یہ نظریہ اسوقت اور بھی تیزی پکڑ لیتا ہے جب اس کے ساتھ سیاسی اور سماجی اشو جڑ جاتے ہیں۔ آج دیش سب سے زیادہ بدعنوانی ، لوٹ اور مہنگائی سے پریشان ہے۔ پچھلے 64 برسوں سے جس طرح کے سماجی نظام کی گندگی نے ہندوستانی سماج اور جمہوریت کو آلودہ کیا ہے اس سے عام آدمی کا بھروسہ حکومت سے ، جمہوری نظام سے بھی اٹھنے لگا ہے۔ اور یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ حکومت نے کبھی بھی جنتا کی پرواہ نہیں کی، خاص کر اس حکومت نے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدعنوانی، لوٹ مار ان سے جنتا تنگ آچکی ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جس ہندوستانی جمہوریت میں سب کو یکساں حقوق کی گارنٹی ہندوستان کا آئین دیتا ہے اس میں سب سے دکھی اور مایوسی میں دبے آخری آدمی کو اس نظام میں لگنے لگا ہے کہ شاید اب اس سسٹم میں اس کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہ گئی ہے۔ انا کی تحریک کے ساتھ جس طرح کا سلوک منموہن سرکار کررہی تھی اس سے صاف ہے کہ کانگریس ایک بار پھر37 سال پرانی روایت کو دوہرا رہی ہے۔ تب جے پرکاش نارائن کی تحریک کو بھی کچھ اسی انداز میں دبانے کی کوشش ہوئی تھی لیکن جب کانگریس میں موہن دھاریہ، چندر شیکھر، رام دھن ، کرشن کانت جیسے نوجوان سماج وادی تھے ان میں سے ایک چندرشیکھر نے ہمت دکھا کر اندرا گاندھی کو سمجھانے کی بھی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا جے پی سنت ہیں ، سنت سے مت ٹکراؤ۔ سنت سے جو اقتدار ٹکراتا ہے وہ چور چورہ وجاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جے پرکاش نارائن سے ٹکرانا کانگریس اور اندرا گاندھی کے لئے کتنا مہنگا ثابت ہوا۔ اور1977 میں چناؤ میں چاروں خانے چت ہوگئی تھی۔ آج کانگریس پارٹی میں کوئی ایسا دمدار لیڈر نظر نہیں آتا جو منموہن سرکار کو بتا سکے کہ جس راستے پر وہ چل رہی ہے اس کا خاتمہ اچھا نہیں۔ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم تو ڈوبے ہیں، تمہیں بھی ساتھ لے ڈوبیں گے؟ منموہن سرکار کو بہرحال اس بات کا شکریہ ضرور ادا کرنا پڑے گا کہ آج اس کی حماقت کی وجہ سے پورا دیش ایک ہوگیا ہے اور قومی پرچم کی عزت کی خاطر جنتا سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ ہم نے اسی کالم میں اس سرکار کو بار بار آگاہ کیا کہ حالات اتنے نہ بگڑنے دو کے بازی ہاتھ سے ہی نکل جائے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Vir Arjun

18 اگست 2011

انا کی آندھی ہے ، یہ دوسرے گاندھی ہیں

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 18th August 2011
انل نریندر
منگل 16 اگست کا دن ہمیشہ یادرہے گا۔ یہ کوئی فلم سے کم نہیں تھا۔ پورے دن سسپنس ، ڈرامہ، اموشن سبھی دیکھنے کو ملے۔ سارے دیش کی نظریں انا ہزارے پر لگی ہوئی تھیں ،دیکھیں آج انا کیا کرتے ہیں۔ انا اپنے کہنے پر کھرے اترے، تمام طرح کے دعوؤں کے باوجود انا اپنے موقف پر اٹل رہے اور رہیں گے۔ منگل کی صبح دہلی پولیس کے سینئر افسر قریب ڈھائی سو جوانوں کولیکر میور وہار فیز I میں واقع سپریم انکلیو میں پرشانت بھوشن کے فلیٹ پہنچے۔ قریب آدھے گھنٹے تک بات چیت کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو پولیس نے انا کو اسی فلیٹ میں جس فلیٹ میں رکے تھے وہاں سے حراست میں لے لیا۔ انا کو جیسے ہی انووا کار میں کرائم برانچ کے آدمی لیکر باہر نکلے تو گاڑی کو ہجوم نے گھیر لیا۔ لوگوں نے یوپی لنک روڈ جام کردیا۔ انا ہزارے کو علی پور روڈ پر واقع دہلی پولیس کے آفیسر میس میں لایا گیا۔ بعد میں انا کو امن بھنگ کرنے کے اندیشے میں گرفتار کرنے کا اعلان ہوا۔ انا کے حمایتیوں کے ڈرسے پولیس نے انہیں نامعلوم مقام پر بھیجنے کی تیار کی۔ پولیس انا کو گاڑی میں بٹھا کر لے گئی۔ تقریباً دو گھنٹے تک انا کو لیکر سسپنس بنا رہا۔ دہلی پولیس نے بھی اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کردیا۔ تقریباً 12.15 بجے انا کولیکرپولیس کی ٹیم راجوری گارڈن میں واقع پولیس ڈپٹی کمشنر آفس پہنچی۔ یہاں خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت میں انا ہزارے کو پیش کیا گیا۔ انا کے حلف نامہ دینے سے منع کرنے پر انہیں جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا گیا۔ دن میں 3.15 بجے انا ہزارے کو لیکر پولیس کی ٹیم تہاڑ جیل کے لئے روانہ ہوئی لیکن ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر جمع بھیڑ نے احتجاجی مظاہرے شروع کردئے۔ پتھراؤ میں انا ہزارے کو لے جارہی کار کا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ تقریباً پونے چار بجے شام انا ہزارے کو لیکر پولیس تہاڑ جیل پہنچی۔ جیل کے حکام نے انا کو جیل نمبر 4 میں رکھے جانے کا فیصلہ لیا۔ ان کے دیگر ساتھیوں اروند کیجریوال ، شانتی بھوشن، کرن بیدی کو بھی گرفتار کر تہاڑ لایاگیا۔
انا کی گرفتاری کی خبر پورے دیش میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ کچھ ماحول ویسا ہی تھا جو ایک زمانے میں جے پی تحریک کے وقت میں بنا تھا۔ جنتا سڑکوں پر اترآئی تھی۔ نعرے لگ رہے تھے ، عورتیں ،بچے، بوڑھے سبھی متحد ہوتے نظر آئے۔ جے پی تحریک اور انا تحریک میں ایک بہت بڑا فرق نظر آیا وہ تھا الیکٹرانک میڈیا کا آنا۔ ٹی وی سے زمین آسمان کا فرق آگیا ہے۔ انا کو پولیس تہاڑ جیل لے گئی یہ خبر بھارت کے کونے کونے میں تو پہنچی ہی بلکہ بیرونی ممالک تک اسی وقت پہنچ گئی۔ دیش کے کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ دھرنے مظاہرے شروع ہوگئے۔ مرکزی سرکار کو شاید یہ امیدنہ رہی ہوگی کہ انا کو ایسی عوامی حمایت ملے گی۔ وناش کالے وپرت بدھی یہ کہاوت منموہن سنگھ سرکار پر انا ہزارے کو تہاڑ لے جانے سے صحیح ثابت ہوتی ہے۔ انا کو اسی تہاڑ جیل میں لے جایا گیا جہاں اے راجہ، کنی موجھی، سریش کلماڑی جیسے بدعنوان لوگ بند ہیں۔ جو آدمی کرپشن کے خلاف گاندھی گری سے احتجاج کررہا ہے اس کو اسی جیل میں لے جایا جائے جہاں بدعنوانی میں ملوث لوگ رکھے گئے ہیں، کتنا تضاد ہے۔ تہاڑ میں قیدیوں تک انا کی حمایت میں نعرے لگنے لگے۔ ذرائع کی مانیں تو جب انا کو شام میں تہاڑ جیل لایاگیا تو یہاں کے سیکورٹی ملازمین تک کو انا کودیکھنے کی خواہش تھی۔ کچھ قیدیو ں کا کہنا تھا کہ ہمیں بند کریں تو بات سمجھ میںآتی ہے مگرانا ہزارے جیسے شخص کو گرفتار کرنا کہاں تک صحیح ہے؟ یہ تو ایک عام آدمی کی پریشانی ہے وہ دیش کو کھوکھلا کرنے والوں کو سزا دلوانے کے لئے لوکپال بل لانے کیلئے گاندھی گری کو ساتھ لیکر انشن کررہے ہیں۔ ان کا اس میں کیا قصور ہے جو ان کو بند یا سزا دی جارہی ہے؟ ایسے لوگوں کو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ذرائع تو یہاں تک بتاتے ہیں کہ کچھ قیدیوں نے باہر نکل کر ان کے مشن میں حصہ بننے کی بھی بات کی اور کچھ نے ایک دن کا انشن کرنے کی بات کی۔ جب انا ہزارے جیل میں بند تھے تو ان کے ہزاروں حمایتی جیل کے باہر مظاہرہ کررہے تھے اور نعرے بازی ہورہی تھی۔ اسی وقت انڈیا گیٹ پر کینڈل مارچ ہورہا تھا۔ چھترسال اسٹیڈیم میں جہاں مظاہرین کو رکھا گیا تھا وہاں جم کر نعرے لگ رہے تھے۔ پورے دیش سے جنتا کے سڑکوں پر آنے کی رپورٹیں ٹی وی پر چل رہی تھیں۔ سرکار انا کی حمایت کو دیکھ کر بوکھلا گئی اور دہلی پولیس نے وہ کام کیا جو اس نے شاید پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ اس نے تہاڑ میں انا کو بغیر شرط چھوڑنے کا حکم بھیج دیا۔ اس پر دہلی پولیس نے تھوڑی ہوشیاری سے کام لیا ۔ اس نے 4 جون کو جس طرح بابا رام دیو کے حمایتیوں کو رام لیلا میدان سے طاقت کے زور پر باہر نکالنے کے لئے لاٹھیوں کا سہارا لیا تھا ، اس بار وہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ اور پولیس نے سوجھ بوجھ سے سارے معاملے کو ہینڈل کیا۔
انا کی تحریک اب پورا رنگ دکھاچکی ہے۔ انا اشونہیں جیسے بابا رام دیو کا اشو نہیں بلکہ اصل اشو بدعنوانی اور مہنگائی ہے۔ جنتا کا خیال ہے کہ کرپشن کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے اور یہ سرکار نہ تو کرپشن کو روکنے میں نہ مہنگائی کم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ میں سندر نگر میں رہتا ہوں منگلوار کی شام کو جب میں گھر لوٹا تو ہماری سندر نگر ایسوسی ایشن سے بھیجا گیا ایک سرکولر پڑا ملا تھا۔ یہ سرکولر سارے سندر نگر کے باشندوں کو بھیجا گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ آج شام 7 سے8 بجے تک بتی گل رکھیں اور بدعنوانی سے پاک تحریک کی حمایت کریں۔ جب جنتا میں اس طرح کا جذبہ ہو تو آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کے انا کی تحریک کتنی عوامی بن چکی ہے۔ انا ٹھیک کہتے ہیں کہ عوامی لوکپال بل سے بدعنوانی مٹ نہیں سکتی لیکن کم ضرور ہوسکتی ہے۔ 65 فیصد تک بدعنوانی کم ہوجائے تو انا کی مہم کامیاب مانی جائے گی۔
فی الحال انا تہاڑ میں ہی اپنی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس آرٹیکل کے لکھنے تک جو خبریں آرہی ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ انا اپنی شرطوں کو منواکر ہی تہاڑ جیل سے جے پی پارک یا رام لیلا میدان انشن کیلئے جا سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ منگل کی رات جیل انتظامیہ نے انہیں رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنی شرطیں پوری ہونے تک جیل سے باہر آنے سے منع کردیا جس وجہ سے انہیں تہاڑ جیل کے انتظامی بلاک میں ہی رات گذارنی پڑی۔ تہاڑ جیل کے ترجمان سنیل گپتا نے بتایا کہ انا ہزارے کی شرطیں اعلی افسروں تک پہنچا دی گئیں تھیں۔ وہیں جنتا کی نبض پہچاننے میں منموہن سرکار نا کام رہی ہے۔ یہ حکومت شروع سے ہی انا تحریک کو ملنے والی عوامی حمایت کو صحیح طریقے سے جانچنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی وجہ سے جہاں ایک طرف حکومت نے اپنے کھوکھلے پن اور بوکھلاہٹ کی تصویر پیش کی ہے وہیں وناش کالے وپرت بدھی بھی گنوا بیٹھی ہے۔ گاندھی وادی انا ہزارے کا ستیہ گرہ تیور اور ان کی حمایت میں منگلوار کو دیش بھر میں عوامی سیلاب سرکار کے لئے بھاری ثابت ہوا۔ لوکپال کے اشو پر انا کو انشن سے روکنے کی کوشش میں سرکار کو منہ کی کھانی پڑی اس لئے انا کوصبح گرفتار کرنے والی دہلی پولیس رات تک انہیں تہاڑ جیل سے باہر لانے کیلئے منتیں کرتی رہی۔ پولیس نے ان کے خلاف سبھی معاملے واپس لے لئے لیکن انا جیل میں رہنے پر اڑے رہے۔ انہوں نے باہر آنے کیلئے جے پی پارک میں انشن کرنے کی تحریری اجازت دینے کی شرط رکھی۔ گرفتاری کے بعد انا نے کہا آزادی کی دوسری تحریک شروع ہوگئی ہے اور مجھے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ لیکن میری گرفتاری سے تحریک قطعی رکنے والی نہیں۔ بدعنوان لوگوں کا اصلی چہرہ سامنے آگیا ہے۔ یہ تبدیلی کی لڑائی ہے جب تک تبدیلی نہیں آئے گی تب تک عوامی حکومت حاصل نہیں ہوگی۔ وقت آگیا ہے کہ سبھی لوگ گرفتاری دیں اور دیش میں کوئی بھی جیل خالی نہ بچے۔ سبھی حمایتی 8 دنوں تک اپنے کام سے چھٹی لیں اور تحریک میں کود پڑیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد میں شامل ہونے سے یہ تحریک مضبوط ہوگی۔
Anil Ambani, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, delhi Police, Lokpal Bill, Tihar Jail, Vir Arjun

17 اگست 2011

اگست انقلاب: حکومت اور انا میں آر پار کی لڑائی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 17th August 2011
انل نریندر
آزادی کی سالگرہ پر ہی ایک بڑی لڑائی کا اعلان ہوگیا ہے۔ آزادی کی 65 ویں سالگرہ پر ایک طرف وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کی سرکار ہے تو دوسری طرف انا ہزارے اور ان کی سول سوسائٹی ہے۔ ایک طرف سب سے طاقتور حکومت ہے جو ہر حال میں انا کی تحریک کو دبانا چاہتی ہے تو دوسری طرف عام جنتا کی حمایت پا رہے بدعنوانی ختم کرنے کی لڑائی لڑنے پر آمادہ انا ہزارے اپنے وعدے کے مطابق انا نے منگلوار کی صبح اپنی بھوک ہڑتال شروع کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں میور وہار میں ہی صبح حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ انا کے خاص حمایتی شانتی بھوشن، اروند کیجریوال، کرن بیدی کو بھی حراست میں لیا گیا۔ اس سے پہلے 15 اگست کا دن گہما گہمی کا رہا۔ صبح میں یوم آزادی پر وزیراعظم منموہن سنگھ نے قوم سے لال قلع کی صفیل سے دیش کو خطاب کرتے ہوئے انا کو براہ راست چنوتی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ انشن سے بدعنوانی ختم نہیں ہوگی اور بدعنوانی کے خلاف لوکپال لانے کی لڑائی لال قلع سے اور زیادہ تیز ہوگئی۔ وزیراعظم نے اپنی حکومت کے دامن پرلگے داغ کو تسلیم کرتے ہوئے اس بیماری سے لڑنے میں اپنے عزم کی صفائی پیش کی۔ لیکن بدعنوانی مٹانے کیلئے انشن کو غلط قراردیا۔ کامن ویلتھ کھیلوں سے لیکر ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں گڑبڑیوں کے بے نقاب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ لال قلع پر جھنڈا لہرا رہے وزیراعظم نے سرکاری سامان کی خرید میں گھوٹالوں ،ٹھیکوں میں ہوئی بے ایمانی اوراپنے ماتحت افسروں کے بیجا استعمال سمیت مرکزی حکومت پر لگے بدعنوانی کے دھبوں کو مانا ہے۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ اعلی عہدوں پر بدعنوانی کو روکنے کے لئے مضبوط لوکپال بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا ہے۔ اس کی کچھ نکات پر اختلافات ہیں جو لوگ اس سے مطمئن نہیں ہیں وہ اپنا نظریہ پارلیمنٹ کو بتا سکتے ہیں لیکن میرا خیال ہے اسکے لئے بھوک ہڑتال کا سہارا نہیں لیا جانا چاہئے۔
دوسری طرف انا ہزارے نے دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس کر وزیر اعظم، کپل سبل وغیرہ کے سوالوں کا کھل کر جواب دیا۔ انا نے کسی قیمت پر نہ جھکنے کے اپنے ارادے تو صاف کردئے تھے۔ وزیر اعظم کی جانب سے لال قلع کی صفیل سے خود کو دی گئی نصیحت کا بھی جواب دے دیا۔ اسی طرح انہوں نے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر کپل سبل کی جانب سے ’جن لوکپال‘ کے خلاف دی گئی دلیلوں کو بھی چھلنی کردیا۔ وزیراعظم کی دلیل کو پوری طرح مسترد کرتے ہوئے انا نے کہا ’’میں نہ تو پارلیمنٹ کے خلاف ہوں اور نہ ہی پارلیمانی عمل کے لیکن وزیر اعظم جی آپ پارلیمنٹ کے سامنے صحیح بل تو رکھئے‘‘۔ وزیر اعظم پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے کہا ’میں کئی بار کہتا تھا کہ وزیر اعظم اچھے آدمی ہیں، لیکن یہ تو کپل سبل کی ہی زبان بول رہے ہیں‘۔ اپنے ارادوں کو ظاہرکرتے ہوئے انا نے کہا ’’میں منگلوار کی صبح 10 بجے جے پی پارک پہنچ جاؤں گا۔ اگر پولیس گرفتار کرتی ہے تو جیل میں ہی انشن چھیڑ دوں گا۔ اگر چھوڑ دیتی ہے تو پھر جے پی پارک کوچ کرجاؤں گا۔اب یہ تحریک رکنے والی نہیں ہے۔‘‘ مرکزی وزیر کپل سبل کی دلیلوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ میں سو فیصدی تو گارنٹی نہیں دے سکتا لیکن جن لوکپال کو لاگو کرنے سے دیش میں 60-65 فیصدی بدعنوانی دور ہوجائے گی۔ اس بات کی میں تحریری گارنٹی دینے کوتیار ہوں۔ ایسا اگر نہیں ہوا تو میں زندگی بھر کے لئے کپل سبل کے یہاں پانی بھرنے کو تیار ہوں۔اس سے ایک دن پہلے کپل سبل نے کہا تھا کہ انا ہزارے تحریری گارنٹی دیں۔ جن لوکپال بل لانے سے دیش میں بدعنوانی دور ہوجائے گی تو سرکار ان کا مسودہ ماننے کو تیار ہے۔ انا نے یہ بھی صاف کیا کہ ان کا مقصد سرکار گرانا نہیں ہے کیونکہ دوسرے موجودہ متبادل ہیں لیکن وہ بھی کم کرپٹ نہیں ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی صاف کیا کہ اگر سرکار جنتا کے جذبات کو نہیں سمجھ سکتی تو گر بھی جائے تو غم نہیں ہے۔
انا کے ساتھ عوامی حمایتی ہے اس کی ہمیں ایک مثال پیر کی صبح راج گھاٹ پر دیکھنے کو ملی۔ بغیر اطلاع جب انا ہزارے راج گھاٹ پہنچے تو ان کے ساتھ قریب 100 لوگ ہوں گے لیکن آہستہ آہستہ بھاری بارش کے باوجود بھیڑ جمع ہونا شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی۔جسے جہاں جگہ ملی وہیں کھڑا ہوکرانا کی حمایت میں نعرے لگانے لگے۔ ’انا ہزارے نہیں آندھی ہیں، آج کے گاندھی ہیں‘ جیسے نعرے کھلے عام راج گھاٹ پر گونج رہے تھے۔ جس طرح راج گھاٹ پر بھیڑ جمع ہوئی اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرکزی حکومت اناپر چاہے جتنے الزام لگائے جنتا کو وہ نہیں جھکا سکتے۔ایک 80 سالہ شخص پرویز جو لاٹھی کے سہارے چل رہے تھے فرماتے ہیں ہم تو اب جانے والے ہیں سماج اور دیش کو صحیح مقام تبھی مل سکتا ہے جب سرکاری مشینری کرپشن سے پاک ہوگی۔ ان کے ساتھ ان کا پوتا بھی تھا جس کی طرف ان کا اشارہ تھا۔ اس کا مستقبل ۔ انا کی صاف ستھری ساکھ سے لوگوں کوان سے لگاؤ ہے اس بات سے بڑی تقویت ملتی ہے کہ لوگ راج گھاٹ پر انا کے پاس پہنچنے کے لئے اسطرح بے چین تھے کہ فرید آباد اور غازی آباد سے بھی لوگ چل پڑے۔ جب انا راج گھاٹ سے کانسٹیٹیوشن کلب گئے توسینکڑوں لوگ پیدل ان کے پیچھے پیچھے ہو لئے۔
آگے کیا ہوگا؟ انا نے سارے دیش کی توجہ بدعنوانی کی طرف راغب کرا دی ہے۔ حکومت انا کو ناکام کرنے میں تلی ہوئی ہے لیکن اس سے انا کی عوامی حمایت بڑھتی جارہی ہے۔ سرکار اور زیادہ بدنام ہورہی ہے۔ جس ڈھنگ سے حکومت اور اسکے وزیر انا پر کیچڑ اچھال رہے ہیں وہ عام زندگی میں سرگرم اور ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے لوگوں کو زیب نہیں دیتا۔ پہلے کانگریس ترجمان اور پھر مرکزی حکومت کے وزرا نے انا ہزارے کو کرپٹ اور کھلنائک ثابت کرنے کے لئے جس طرح سے گڑھے مردے اکھاڑنے کا سہارا لیا اس سے تو یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی اقتدار اختلافی نظریہ رکھنے والوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ انا کو انشن کرنے کی اجازت نہ دینا اور پھر انہیں گرفتار کرنا ، نہ صرف دیش کے جمہوری نظام کے خلاف قدم ہے ساتھ ساتھ اس حکومت کی بوکھلاہٹ کو بھی ثابت کرتا ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ سرکارانا کو ناکام کرنے کے لئے ہر طرح کا ہتھکنڈہ تو اپنا رہی ہے لیکن اس مرض کا علاج کرنے کو تیار نہیں جو اس دیش کی سب سے بڑی بیماری بن گیا ہے۔ بدعنوانی کا کینسر بری طرح پھیل رہا ہے اور بدعنوانی پر لگام لگانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھانے سے بھاگ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کرکے منموہن سنگھ سرکار جنتا کو کیا پیغام دینا چاہ رہی ہے کہ وہ بدعنوانی کو روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی؟ پارلیمنٹ کے اندر اپنا نمبر صحیح رکھ کر جنتا کے ارمانوں کو کچل دے گی؟ انا کی تحریک کو بھارت کی مختلف سیاسی پارٹیاں ظاہری طور پر حمایت کررہی ہیں لیکن اندر خانے کوئی بھی پارٹی ان کے جن لوکپال بل کی کھلی حمایت کرنے کو تیار نہیں۔ انا نے جوآندھی کی شروعات کی ہے اس سے نہیں لگتا کہ یہ اب رکنے والی ہے۔ حکومت نے ایسی پوزیشن اختیار کرلی ہے کہ اب اس کا پیچھے ہٹنا مشکل ہے اس لئے آزادی کی 65 ویں سالگرہ میں ایک نئی لڑائی و جدوجہد کا آغاز ہوچکا ہے۔ آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا کہ یہ آندھی کیا رخ ، کیا رنگ اپناتی ہے۔ انا کی تحریک چلے نہ چلے کرپشن سے جنتا عاجز آچکی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے اور کچلنے سے آپ تحریک کو روک سکتے ہو لیکن دبا نہیں سکتے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Civil Society, Daily Pratap, Kiran Bedi, Lokpal Bill, Shanti Bhushan, Tihar Jail, Vir Arjun

14 اگست 2011

ایک مسلم بچے کی ہندو خاندان نے کیسے پرورش کی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 14th August 2011
انل نریندر
کبھی بھی ایسی سچی کہانی سننے کو ملتی ہے کہ آدمی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ سچی کہانی الہ آباد اور لکھنؤ سے وابستہ ہے۔ تقریباًسات سال پہلے اکبر نام کا مسلم بچہ لاپتہ ہوگیا تھا۔ تین سال بعد ماں شہناز کو پتہ چلا کہ اس کا بیٹا لکھنؤ کے قیصر باغ میں ایکولال نامی شخص کے گھر پر ہے تو وہ اپنے شوہر کیساتھ وہاں پہنچی اور بیٹا واپس مانگنے لگی۔ لیکن بچے اکبر نے ماں کے ساتھ جانے سے صاف منع کردیا۔ اس کے بعد ایکولال نے بھی اسے بچہ نہیں دیا۔ اس پر شہناز لکھنؤ کوتوالی گئی لیکن پولیس نے رپورٹ اس لئے درج کرنے سے منع کردیا کہ بچے کے کھونے کے بعد ماں باپ نے کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی تھی۔ اس کے بعد شہناز نے ہائیکورٹ میں عرضی دائر کرائی جسے ہائیکورٹ نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ بچے کی مرضی کے خلاف وہ اسے نہیں رکھ سکتی۔ آخر کار یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ بدھ کے روز اس عجیب و غریب مقدمے کو سلجھانے کیلئے سپریم کورٹ نے قانون کے بجائے انسانی پہلو کو اپنایا۔عدالت نے شہناز کی مالی حالت کے بارے میں اس سے حلف نامہ مانگا۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ ہم بچے کو اس کی ماں کے ساتھ جانے کا حکم کیسے دے سکتے ہیں جس نے سات سال بہترین پرورش میں گذارے ہیں؟ بچے کے کھونے کے بعد اس کی ماں نے پولیس میں شکایت تک درج نہیں کرائی۔ عدالت نے بچے پر اس کا فیصلہ چھوڑدیا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ سال2004 میں چھ سالہ اکبر کے والد محمد عباث الہ آباد میں اسے اپنے ساتھ سڑک کے کنارے شراب کی دکان پر لے گئے۔باپ شراب کے نشے میں دھت تھا اور اس نے غور نہیں کیا کہ اس کا بچہ وہیں چھوٹ گیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ بچے کے ماں باپ نے اس کے کھونے کی پولیس تک میں شکایت نہیں کی۔ اسی درمیان بچہ لکھنؤ کے قیصر باغ میں ایک چائے کی دکان پر پہنچ گیا۔ چائے اسٹال کا مالک ایکولال بچے کو اپنے گھر لے گیا۔جب بچے کو مانگنے کوئی نہیں آیا تو انہوں نے بچے کو اپنے پاس بیٹے کی طرح رکھ لیا۔ بچے کو بغیر نام اور مذہب بدلے اس کا اسکول میں داخلہ کروادیا۔ 2007 میں بچے کی حراست کیلئے اس کے اصلی ماں باپ الہ آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے۔ ادھر ایکولال نے اسکول کی مارکس شیٹ اور دوسرے دستاویزات کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ وہ بچے کی اچھے ڈھنگ سے پرورش کررہا ہے۔ بچے نے بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ جانے سے منع کردیا۔ 2007 میں جسٹس برکت علی زیدی نے فیصلہ سنایا کہ ہم ایک سیکولر دیش میں رہتے ہیں۔یہاں مقدمہ جیتنے کے لئے ذات اور فرقے کا سہارا نہیں لیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ میں بصداحترام ججوں نے بچے کی پرورش کرنے والے ایکو لال پر شہناز کے ذریعے اغوا کرنے کا الزام لگانے پر عدالت نے اس کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ جس خاندان نے بچے کا نام اور مذہب میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اسے بیٹے کی طرح رکھا۔ اس پر یہ الزام مناسب نہیں ہے۔ بنچ نے شہناز سے پوچھا کہ وہ اس بچے کی ذمہ داری کیسے اٹھائے گی جبکہ اب وہ بیوہ ہے اور اس کے دو اور بیٹے ہیں جو اکبر سے چھوٹے ہیں۔ خون کا رنگ لال ہوتا ہے اور خون کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور انسانیت کے آگے نہ کوئی فرقہ اور نہ کوئی مذہب آڑے آتا ہے۔ ایکولال کا جذبہ لائق تحسین ہے اس نے ایک لاوارث بچے کی اس کے مذہب پر رہتے ہوئے پرورش کی جو انسانیت کے لئے ایک سبق ہے۔
Allahabad High Court, Anil Narendra, Daily Pratap, Hindu Muslim Unity, Religion, Vir Arjun

پرکاش جھا کی تنازعات میں گھری فلم ’آرکشن‘

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 14th August 2011
انل نریندر
تنازعات سے فلم ساز پرکاش جھا کا پرانا رشتہ ہے۔ وہ ایسے مسئلوں پر زیادہ فلم بناتے ہیں جو متنازعہ ہوتے ہیں۔ یہ ہی حال ان کی فلم ’گنگا جل‘ اور ’اپہرن‘ کا بھی رہا ۔ ایسا ہی نئی فلم ’آرکشن‘ سے بھی ہورہا ہے۔ بہار کے پس منظر میں بنی گنگا جل اور اپہرن کی ریلیز کے عین وقت بہار کی سیاست کے چند دبنگ لیڈروں نے ریاست میں اسے نہ چلنے کی دھمکی دی۔ ان فلموں کو سینسر بورڈ نے اپنے کچھ سینئر ممبران کودیکھنے کے بعد منظوری دی تھی۔ ایسا ہی فلم ’آرکشن‘ کے بارے میں معاملہ الجھا ہوا ہے۔ اس کی ریلیز کچھ ریاستوں میں تو رک گئی ہے خاص طور سے سیاستدانوں اور تنظیموں کی مخالفت جھیل رہی فلم ’آرکشن‘ جمعہ کے روز دہلی میں ریلیز ہوگئی۔ لیکن اترپردیش، پنجاب، آندھرا پردیش میں اس پر پابندی لگ گئی۔ پرکاش جھا فلم میں کچھ مناظر و مکالمے تک کاٹنے کوتیار ہیں۔ مایوس پرکاش جھا نے سپریم کورٹ کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا ہے لیکن وہاں سے بھی انہیں کوئی راحت نہیں ملی۔ یوپی، پنجاب اور آندھرا میں لگی پابندی کو ہٹوانے کیلئے پروڈیوسر پرکاش جھا کو سپریم کورٹ نے فوری راحت نہیں دی۔ اور پرکاش جھا نے بتایا کہ ہماری عرضی کی کارروائی میں وقت ختم ہونے کی وجہ سے سماعت منگل تک ٹال دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا اس سے فلم کو کافی نقصان ہوگا۔ ہندوستانی تعلیمی نظام میں ذات پر مبنی ’آرکشن‘ پر مبنی بنی اس فلم میں دلت مخالفت تبصروں کے سبب لوگوں میں ناراضگی بھڑکنے کے اندیشے سے تین ریاستوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اسی درمیان فلم کو دہلی اور بھوپال میں زبردست کامیابی ملی ہے ۔ لیکن فلم کی مخالفت کررہے راشٹریہ جنتا دل لیڈر شری لالو پرساد یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں بھی اٹھائیں گے کیونکہ اس کے لئے دلت ذاتوں کے لئے بے عزتی بارے تبصرے شامل ہیں۔ یہ برداشت نہیں ہوگا۔ بسپا ممبران نے بھی لالو کی پہل کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے فلم کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ فلم میں مخالفت سے فلم کے ہیرو امیتابھ بچن خاص ناراض دکھائی پڑتے ہیں۔
انہوں نے ایک طرح سے اس پر خون کے آنسو روئے ہیں۔ بگ بی نے ٹوئیٹر پر اپنا دکھ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایک آرٹ فلم ہے۔ سب سے بڑا دکھ تو اس بات کا ہے کہ بغیر فلم دیکھے لوگوں نے اپنی رائے قائم کرلی اور فلم کی مخالفت شروع کردی۔ امیتابھ نے لکھا ہے مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ بغیر یہ جانے کے فلم میں کیا ہے لوگ اس کی مخالفت میں اتر آئے ہیں۔ آرٹ کی مخالفت ہماری کسی بات کو دلیل آمیز ڈھنگ سے ظاہر کرنے کے حق کی مخالفت کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اسی درمیان ممبئی میں بگ بی اور سیف علی خان کے گھر پر پولیس سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کچھ سماج دشمن عناصر ان کے گھروں پر بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ میں نے ابھی فلم تو نہیں دیکھی لیکن اخباروں میں اس کے ریویو ضرور پڑھے ہیں۔ فلم کی کہانی تو ایک اعلی اصولوں پر مبنی پرنسپل پربھاکر آنند کی ہے۔ جو سماج کے کمزور طبقوں کے لئے ہمیشہ مدد کو تیار ہیں اور مانتے ہیں تعلیم کو بزنس بنانا اس کے مقاصد سے بھٹکنا ہے۔ اور وہ اپنے کالج کو انہی اصولوں کی بنیاد پر چلاتے آئے ہیں۔ اور ڈسپلن توڑ نے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے رہتے ہیں۔ اعلی تعلیم میں بی اے کورس میں 27 فیصد ریزرویشن لاگو کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اٹھی آندھی میں اپنے ہی طالبعلم آپس میں ٹکرا جاتے ہیں اور ڈسپلن شکنی کے الزام میں سزا پاتے ہیں۔ غریبوں سے ہمدردی رکھنے کے سبب اس آندھی کے تھپیڑے ان تک ہی نہیں پہنچتے بلکہ ان کا خاندان بھی بری طرح گھر جاتا ہے۔ باقی تو فلم دیکھنے کے بعد ہی کہہ سکوں گا۔
Aarakshan, Amitabh Bachchan, Anil Narendra, Daily Pratap, Prakash Jha, Vir Arjun

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...