Translater

02 جنوری 2016

ایماندار، صاف ستھری سرکار کا دعوی کھوکھلاثابت ہونے لگا

ایماندار اور سوچھ سرکار دینے کے وعدے سے شری اروند کیجریوال دہلی اسمبلی چناؤ میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ ان کی ایسی جیت ہوئی تھی جو پہلے کبھی کسی بھی سیاستی پارٹی کو نہیں ملی تھی لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اقتدار پانے کے کچھ ہی وقت میں اس سرکار کی کارگزاری، انتظامیہ اور ایمانداری کی پول کھلنے لگی ہے۔ جب سے اقتدار میں کیجریوال آئے ہیں وہ دوسروں پر تو بے بنیاد الزامات لگا کر بدنام کرنے میں جٹے رہتے ہیں لیکن اپنے آنگن میں کیا ہورہا ہے، یہ دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کرپشن کی تازہ مثال ہمارے سامنے آٹو پرمٹ گھوٹالہ آیا ہے۔ دہلی میں آڈ۔ ایون فارمولے کو نافذ کرنے کے لئے دہلی سرکار نے 10 ہزار نئے آٹو پرمٹ کی منظوری دی تھی۔ وہ جھگڑے کی بھینٹ چڑھتا نظر آرہا ہے۔ آٹو پرمٹ میں دھاندلی برتنے کے الزام میں محکمہ ٹرانسپورٹ نے 3 افسروں کو معطل کردیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ فرضی پتے پر آٹوپرمٹ جاری کئے گئے تھے۔ اس درمیان دہلی حکومت نے نئے جاری کئے 932 پرمٹ منسوخ کردئے ہیں۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے قبول کیا ہے کہ پرمٹ دینے میں دھاندلی ہوئی ہے۔ بھاجپا نیتا ویجندر گپتا نے پریس کانفرنس کرکے کہا کہ دہلی کا آٹو گھپلا سرکار کی ملی بھگت سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے مانگ کی کہ اس گھوٹالے کی گہرائی سے منصفانہ جانچ ہوگی تو سرکار میں بیٹھے وزیر ، ممبر اسمبلی اور عام آدمی کے بہت سے ورکروں کے ذریعے کیا گیا کروڑوں روپے کا کرپشن سامنے آئے گا۔ آڈ۔ ایون اسکیم کی آر میں دہلی سرکار نے 10 ہزار نئے آٹو پرمٹ جاری کرکے عوام کو سہولیت دینے کے نام پر کروڑوں روپے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ جنتا کے سامنے کرپشن کے اس معاملے کے اجاگر ہونے پر چھوٹی مچھلیوں کو معطل کرکے دہلی سرکار اپنا دامن بچانا چاہتی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی ایم پی منوج تیواری نے طاہر پور میں واقع راجیو گاندھی سپر اسپیشلٹی ہسپتال میں کرپشن کا معاملہ اٹھایا ہے اور اس کے لئے وزیر اعلی کیجریوال کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ہسپتال میں موڈیولر پری فیبریکیٹڈ آپریٹنگ روم سسٹم کیلئے جو ٹنڈر جاری کیا گیا تھا اس میں بجٹ سے زیادہ رقم کی ادائیگی کی گئی ہے۔جس کمپنی کو یہ ٹنڈر دیا گیا ہے وہ پہلے سے ہی داغی ہے۔ تیواری کا الزام ہے کہ ہسپتال سے ملی اطلاع کے مطابق دو معاملوں کے تقریباً11 کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ اس سسٹم کے لئے الاٹ رقم 10 کروڑ 70 لاکھ تھی لیکن کمپنی کو14 کروڑ 95 لاکھ روپے دے دئے گئے۔ اسی طرح دوسرے معاملے میں جب ٹنڈر جاری کیا جارہا تھا تو اس کا بجٹ 12 کروڑ 70 لاکھ تھا۔ ہم نے اس پر سوال اٹھایا تو بجٹ الاٹمنٹ 99کروڑ ہوا لیکن اس معاملے میں بھی ادائیگی 14 کروڑ 45 لاکھ روپے کی گئی ہے۔
(انل نریندر)

چھتیس گڑھ ضمنی چناؤ میں سودے بازی پر چناؤ کمیشن نے رپورٹ مانگی

چھتیس گڑھ میں پچھلے سال ہوئے ضمنی چناؤ کے دوران کانگریس کے امیدوار کو چناؤ میدان سے ہٹنے کے بدلے پیسے کی پیشکش کرنے والے ٹیپ کے سامنے آنے کے بعد بدھوار کو سیاسی ہلچل مچ گئی۔ کانگریس کے سرکاری امیدوار منتورام پوار کی نامزدگی واپسی کو لیکر میڈیا میں ٹیپ میں دعوی کیا گیا ہے کہ پوار کی نامزدگی واپسی کے لئے کانگریس کو سابق وزیر اعلی اجیت جوگی اور ان کے لڑکے امت جوگی، وزیر اعلی رمن سنگھ (بھاجپا) کے داماد ڈاکٹر پنیت گپتا و دیگر کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی تھی۔ اسی بات چیت کو ٹیپ کرلیا گیا تھا۔ معاملہ 2014 میں ہوئے اسمبلی ضمنی چناؤ کا ہے۔ غور طلب ہے کہ ایک اخبار نے ٹیپ میں خلاصہ کیا ہے جس میں مبینہ طور سے رمن سنگھ کے قریبی رشتے دار اور کانگریس لیڈر اجیت جوگی ان کے ممبر اسمبلی صاحبزادے امت جوگی و کچھ دیگر لوگوں کی بات چیت ہے۔خبر کے مطابق آرا گنج اسمبلی ضمنی چناؤ میں پیسے کے دم پر کانگریس سرکاری امیدوار منتو رام پوار کو بٹھا دیاگیا تھا، بعد میں پوار بھاجپا میں شامل ہوگئے تھے۔ ادھر بدھوار کو چناؤ کمیشن نے چھتیس گڑھ کے چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے میں فوراً مناسب جانچ کر 7 جنوری تک فوری رپورٹ بھیجیں۔ کمیشن نے کہا کہ کوئی بھی کارروائی کرنے سے پہلے وہ ریاستی حکومت کی رپورٹ کا انتظار کرے گا۔ اس درمیان کانگریس نے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ کو برخاست کرنے اور اس معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے جج سے کرانے کی مانگ کی ہے۔ چھتیس گڑھ پردیش کانگریس نے امت جوگی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے، ساتھ ہی کانگریس نے اجت جوگی سے بھی اس معاملے میں وضاحت مانگی ہے۔ مسلسل کسی نہ کسی بہانے سرکار پر جاریحانہ رویہ اپناتے ہوئے اپوزیشن نے اب چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ سے استعفیٰ مانگا ہے۔ ضمنی چناؤ میں کانگریس امیدوار کو لالچ دینے کے مبینہ ٹیپ کے انکشاف کے بعد کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ اب وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی کارروائی کرنی چاہئے کیونکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلی نے پیسے کا بیجا استعمال کر اسمبلی سیٹ خریدی ہے اور اس کی پوری جانچ ہونی چاہئے اور تب تک وزیر اعلی کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ کانگریس کی تو عادت ہی بن گئی ہے ہر بات کے لئے وزیر اعظم سے بات اور متعلقہ وزیر اعلی سے استعفیٰ مانگنے کی۔ پہلے اس ٹیپ کی اصلیت کے بارے میں ثابت ہو، اس میں کتنی سچائی ہے اور یہ بھی ثابت ہو پھر کسی طرح کی کارروائی کا سوال آتا ہے۔ رمن سنگھ نے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ میں اور میرا خاندان کہیں بھی اس میں شامل نہیں ہے۔
(انل نریندر)

01 جنوری 2016

استقبال ہے2016 ء کا سب کیلئے خوشحال ہو

سال2015ء کا اختتام ہوا اور نئے سال 2016ء کا آغاز ہوا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ نئے سال میں موسم بھی ہمارا ساتھ دے گا۔ نئے سال کے جشن میں لگے لوگوں کو ٹھنڈ زیادہ نہیں ستائے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ موسم ان لوگوں کے لئے راحت لیکر آئے گا جو ایک جنوری کو گھر سے باہر گھومنے پھرنے جائیں گے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسم میں پچھلے 2-3 دنوں سے تبدیلی نظر آرہی ہے۔ ابھی ایک ہفتے تک موسم خوشگوار بنا رہے گا۔ اس کے نتیجے میں نئے سال کے جشن میں کہرا، آلودگی، بارش خلل نہیں ڈال پائیں گے۔31 دسمبر کی رات کو دہلی میں ٹھنڈ بہت زیادہ نہیں ہوگی۔درجہ حرات 7سے9 ڈگری سیلسیس رہنے کا اندازہ ہے۔ ایک وارننگ بھی ہے ، جشن مناتے وقت شراب پی کر گاڑی نہ چلائیں کیونکہ اگر پولیس نے انہیں پکڑ لیا تو نہ صرف ان کا ڈرائیوننگ لائسنس ہی ضبط ہوگا بلکہ انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ برسوں سے سبق لے کر اس بار دہلی ٹریفک پولیس زیادہ سختی برتے گی۔پیٹرولنگ بائیک سمیت 2 ہزار پولیس جوان خاص بڑے بازاروں اور مقامات پر تعینات ہوں گے۔ کناٹ پلیس میں 31 دسمبر کی رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد گاڑیوں پرپابندی رہی۔ یہاں اگر لوگوں کو آنا ہی ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ سے آئیں۔ ویسے تو 2015ء میں بہت سے اہم واقعات رونماہوئے لیکن یہ برس صحافی برادری کے لئے بہت بدنصیب رہا۔ کیونکہ دنیا بھر میں سال2015ء کے دوران کل 110 صحافیوں کا قتل ہوا۔ ایک میڈیا واچ ڈاگ نے منگل کو یہ چونکانے والی رپورٹ جاری کی ہے۔نگرانی گروپ نے اپنے سالانہ لیکھا جوکھا میں کہا کہ اس سے 67 صحافی اپنی ڈیوٹی کرتے ہوئے مارے گئے جبکہ 43 کے مرنے کے اسباب صاف نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ27 غیر پیشہ ور سٹی زن جرنلسٹ اور 7 دیگر میڈیا ملازم مارے گئے۔ رپورٹ بیان کرتی ہے کہ زیادہ تر صحافیوں کا قتل ان کے خلاف منصوبہ بند طریقے سے تشدد کا نتیجہ تھے اور یہ میڈیا ملازمین کی ڈیفنس اقدامات کی ناکامی ظاہر کرتے ہیں۔وہیں2015ء میں اب تک بھارت میں 9 صحافیوں کا قتل ہوچکا ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ منظم کرائم اور سیاستدانوں کے ساتھ ان کی وابستگی کے بارے میں رپورٹنگ کرتے تھے۔ 5 صحافیوں کو ان کے کام کے دوران مارا گیا جبکہ دیگر کے مارے جانے کی وجہ پتہ نہیں چل پائی۔ ان کے قتل اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایشیا میں میڈیا ملازمین کے لئے بھارت سب سے خطرناک ملک بن گیا ہے۔ یہ اس معاملے میں کہ پاکستان اور افغانستان سے بھی آگے ہے۔ صحافیوں کے خلاف تشدد کے معاملے میں سختی برتنے میں ہندوستانی سکیورٹی اتھارٹی ناکام رہی ہے۔آر ایس ایف نے حکومت ہند سے اخباروں کی حفاظر کے لئے ایک ٹھونس قومی اسکیم نافذ کرنے کی درخواست کی ہے۔ رپورٹ صحافیوں کے خلاف مظالم کو انجام دینے کے لئے خاص طور پر غیر ریاستی گروپ پر روشنی ڈالتی ہے جو اسلامک اسٹیٹ جیسے جہادی ہیں۔ آر ایس ایف نے 2014ء میں کہا تھا کہ دو تہائی صحافی جنگی علاقوں میں مارے گئے جبکہ 2015ء میں یہ ایک دم بالکل برعکس ہے اور یہ ادارہ کہتا ہے کہ دو تہائی صحافی پرامن ممالک میں بھی مارے گئے ہیں۔ اس معاملے میں ہمارا پڑوسی ملک بھی کم نہیں رہا ہے۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق سال2001 ء سے اب تک 71 اخبار نویس و میڈیا ملازم اپنی ذمہ داری نبھانے کے دوران زندگی گنوا بیٹھے۔ ان میں سے47 کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ ان کا قتل اس لئے ہوا کیونکہ وہ ایمانداری سے اپنا کام کررہے تھے، وہیں باقی اخبار نویسوں کے قتل کے پیچھے یہ وجہ تھا کہ وہ بڑے ہی خطرناک ایوینٹس کی رپورٹنگ کی ذمہ داریوں پر تھے۔ جو رپورٹ آئی ہے وہ بتاتی ہے کہ اخبار نویسوں کو8 چیزوں سے خطرہ ہے۔ دہشت گردی، سیاسی گٹھ جوڑ، مذہبی جماعت، فرقہ وارانہ گروپ، قبائلی گروپ، سرمایہ دار لوگ، تاناشاہ و قاعدے قانون لاگو کرنے والی ایجنسی ان میں شامل ہیں۔ قتل بے وجہ، گرفتاری، اغوا کرنا و ان پر مقدمہ چلانا، اخبار نویسوں کو خطرناک علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔ جانکاری اکٹھا کرنے کے لئے اگر پاکستان میں صحافیوں کو جو خطرہ ہے وہ دیگر پیشہ ور لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اور یہ پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ویسے تو پاکستان، شام ، عراق، افغانستان میں بھی صحافیوں کے لئے خطرہ کم نہیں ہے لیکن تلخ پہلو یہ ہے کہ وہاں ایک ہی دشمن ہے یہاں تو کئی دشمنوں کی ٹولیاں موجود ہیں۔ یا یوں کہیں کہ میڈیا کی آزادی ، طاقتور نظریہ بنانے یا اس کو فروغ دینے والا بتایا جاتاہے لیکن اصلی حالت یہ نہیں ہے۔ پی پی ایف کا کہنا ہے آزادی میڈیا جمہوریت کے لئے ضروری ہے، کیونکہ یہ نظام میں شفافیت و جوابدہی لاتا ہے اور ان کا ہونا اقتصادی بہتری کی پہلی شرط ہے۔ آخر میں میں سبھی قارئین کو آنے والی برس کی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور پرارتھنا کرتا ہوں کہ سال2016ء سب کے لئے خوشحالی کا ضامن ہو۔
(انل نریندر)

31 دسمبر 2015

جنگل راج کی یاد دلاتا بہار میں قانون و نظم

قریب ڈیڑھ مہینے پہلے پانچویں بار بہار کی کمان سنبھالنے والے گڈ گورننس بابو عرف نتیش کمار کی رہنمائی میں مہا گٹھ بندھن کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ریاست میں بگڑتے قانون و نظم کا بن گیا ہے جو کہ لالو کے دور کے بہار میں جنگل راج کی یاد تازہ کرتا ہے۔ بہار میں پچھلے چار دنوں میں 3 قتل ہوچکے ہیں۔ بہار کے ویشالی ضلع میں ایک ٹیلی کمیونی کیشن انجینئر کی لاش ملی ہے۔ انکت جھا(42 سال ) نامی اس شخص کی گلا کاٹی لاش ملی تھی۔ پچھلے 4 دنوں میں یہ تیسرے انجینئرکا قتل ہے۔ دو دن پہلے دربھنگہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں دو انجینئروں کا دن دہاڑے قتل کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کو نتیش کمار کو آڑے ہاتھوں لینے کا موقعہ مل گیا۔ کہا جارہا ہے کہ ان تینوں کا قتل رنگ داری(زرفدیہ) نہ دئے جانے کے سبب ہوا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے گڈ گورننس بابو کے دعوؤں کی پول کھولتی ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ ریاست میں 2005 سے سڑک پروجیکٹس سے وابستہ اس پرائیویٹ کمپنی نے رنگ داری کو لیکر اس کے انجینئروں کو دھمکائے جانے کی نہ صرف شکایتیں کی تھیں بلکہ جس جگہ اس کا کام چل رہا ہے وہاں کچھ سکیورٹی ملازم بھی تعینات کئے گئے تھے جنہیں بعد میں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ اس واردات میں نومبر 2003ء میں قومی شاہراہ اتھارٹی کے ہونہارانجینئر ستندر دوبے کے قتل کی یاد دلا دی ہے، جنہیں بدمعاشوں نے سڑک تعمیرات میں کرپشن کے خلاف وزیر اعظم کے دفتر کو شکایت کرنے کے سبب نشانہ بنایا تھا۔
انجینئروں کے قتل سے پہلے ایک ڈاکٹر کو بھی زر فدیہ کے لئے دھمکانے اور ان کے گھر کے قریب گولی مارنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ ابھی نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو اقتدار سنبھالے کچھ ہی دن ہوئے ہیں اور کسی طرح کا نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہوگا لیکن اس سے اتنا تو ثابت ہورہا ہے کہ اگر نتیش بابو نے بلا تاخیر ریاست میں قانون و نظم بہتر نہیں کیا اور قتل کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر سبھی یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ بہار میں ایک بار پھر جنگل راج لوٹ رہا ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار نے ان واقعات کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔ پیر کے روز محکمہ داخلہ کی جائزہ میٹنگ میں انہوں نے پولیس کے اعلی افسران سے دو ٹوک الفاظ میں کہا سرکار قانون کا راج قائم کرنے کے لئے عہد بند ہے۔ ہر حال میں جرائم کے واقعات پر لگام لگائیں۔ وزیر اعلی اتنے ناراض تھے کہ انہوں نے محکمہ داخلہ کے پریزنٹیشن کو بھی نہیں دیکھا۔ ظاہر ہے نتیش کمار کے ساتھ ہی لالو پرسادکو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں یہ مینڈینڈ ترقی اور گڈ گورننس کے لئے ملا ہے۔ جنگل راج کے لئے نہیں۔ اتحادی سرکار کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ وہ جرائم پیشہ اور پھروتی مانگنے والے خطرناک گروہ کا خاتمہ کریں۔ اسی سے ان کی ساکھ بھی جڑی ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

ملائم سنگھ یادو بنام اکھلیش یادو

اترپردیش میں حکمراں پارٹی سماجوادی پارٹی کے اندر کھینچ تان بڑھتی جارہی ہے۔ ایک طرف باپ بیٹے یعنی ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو میں ٹکراؤ چل رہا ہے تو دوسری طرف ورکر اور چھٹ بھیا نیتا اعلی کمان سے بغاوتی سر دکھانے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ بیچارے اکھلیش آدھا کام کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ان کی ٹانگ کھینچ لیتا ہے۔ ملائم اور اکھلیش میں ٹکراؤ کا یہ عالم ہے کہ سپا چیف کے آبائی گاؤں سیفئی میں سالانہ ہونے والا کلچرل فیسٹول سے بھی اس مرتبہ وزیر اعلی اکھلیش یادو غائب رہے۔ حالانکہ مکھیہ منتری کے سیفئی مہا اتسو افتتاحی تقریب میں نہ پہنچنے کے بارے میں سرکاری طور سے تو کوئی جانکاری نہیں دی گئی لیکن پارٹی ذرائع کی مانیں تو اکھلیش پارٹی کے پردیش صدر بھی ہیں اس لئے ہو سکتا ہے کہ ان کے قریبی سمجھے جانے والے دو مسلم نوجوان لیڈر سنیل یادو اور سجن اور آنند بھدوریہ کے نکال دئے جانے سے صاف ہے کہ سجن سپا چھاتر سبھا کے قومی پردھان تھے جبکہ بھدوریہ لوہیا واہنی کے قومی صدر رہ چکے ہیں۔
ایٹہ کے پارٹی ایم ایل اے رامیشور یادو کے بیٹے سبوت یادو کو بھی ایتوار کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے پارٹی سے نکال دیاگیا ہے۔ 18 سال پہلے شروع ہوا سیفئی مہتسوپریش میں حکمراں یادو پریوار کا خاندانی جلسہ مانا جاتا ہے جس کی افتتاحی تقریب میں خاندان کے سبھی ممبران موجود رہتے ہیں۔ پچھلے بار بھی وزیر اعلی اکھلیش یادو اپنی ممبر پارلیمنٹ بیوی ڈمپل اور بچوں کے ساتھ موجود تھے۔یہ تقریب 11 جنوری تک چلے گی جس میں پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خاں اور غزل گو پنہاز مسانی اور بالی ووڈ کے بہت سے ایکٹر اپنے پروگرام پیش کریں گے اور کئی طرح کے کلچرل پروگرام بھی ہوں گے۔ دراصل پارٹی لیڈر شپ ریاست کی 74 ضلع پنچایتوں کے پردھانوں کے عہدے جیتنے کے لئے یہ ممکنہ داؤ چل رہی ہے۔ پارٹی نے ابھی تک69 ضلعوں کے لئے امیدوار اعلان کر دئے ہیں۔ سہارنپور ضلع میں پارٹی کے لیڈر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایسے میں لیڈر شپ کو اس ضلع میں چناؤ میں جیت حاصل کرنے کو لیکر شش و پنج بنا ہوا ہے۔ ادھر پارٹی کے ذریعے اعلان کردہ امیدواروں کو لیکر زیادہ تر اضلاع میں سبھی ممبر اسمبلی اور دیگر ذمہ دار لیڈر ہی کھل کر بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ اور ممبر اسمبلی اور نیتا اپنی بیوی بیٹے، بھائی بھتیجوں کو چناؤ لڑوانے کی جگت بٹھانے میں لگے ہیں۔ضلعوں میں بغاوت اس قدر بڑھ رہی ہے کہ اسمبلی پارٹی کے اعلان کردہ امیدواروں اور ان کے رشتہ داروں کے ساتھ مار پیٹ تک پر اتر آئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو کی بار بار کی گئی نصیحتوں کے باوجود سماجوادیوں کا خیمہ گروپ بندی کا شکار ہے۔ ملائم کی ہدایت پر شیو پال کارروائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر اکھلیش سرکار کی کارگزاریوں پر رہا ہے۔
(انل نریندر)

30 دسمبر 2015

تنازعات سے شروع ہوا برس اور تنازعوں میں ہی ختم ہوا

سال 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں ملی کراری ہار کے بعد کانگریس کو بیشک اس سال بہار میں اتحاد کے ساتھ اقتدار میں سانجھے داری کانگریس کے لئے بیشک ایک امید کی کرن ضرور نظر آئی لیکن اسے چھوڑ دیں تو یہ برس پارٹی کیلئے جدوجہد بھرا رہا۔ اس سال کا خاتمہ دونوں کانگریس صدر اور نائب صدر کیلئے اچھا نہیں رہا۔ دہلی اسمبلی چناؤ میں اروند کیجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی کی آندھی نے بھاری جیت حاصل کی تھی۔ کانگریس کیلئے راحت کی بات صرف اتنی تھی کہ بھاجپا بھی بری طرح سے شکست خوار ہوئی۔ سال کے ابتدا میں 56 دن کی اپنی پراسرار چھٹیاں گزارنے کے باوجود راہل گاندھی نے پارٹی میں اپنی اہمیت بنائے رکھی اور سونیا گاندھی کانگریس پارٹی کی کمان راہل گاندھی کی مرضی کے مطابق کبھی بھی انہیں سونپنے کوتیار دکھائی دیں۔ لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو 44 سیٹوں تک محدودکردینے والے وزیر اعظم نریندر مودی کے لئے ماں بیٹا ہوا بنے رہے۔ سرکار اور حکمراں بھاجپا بالواسطہ غیر بالواسطہ طور پر گاندھی خاندان کو نشانہ بناتے رہے۔ اس سال کے دوران راہل نے آگے آکر مورچہ سنبھالا اور وہ مودی اور ان کے حکومت کے طریقے و پالیسیوں کے تیز ترار تنقید کرنے والے لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ راہل نے مودی کی سرکار کو سوٹ بوٹ کی سرکار کی تشبیح دے کر حکمراں پارٹی کو بے چین کردیا۔ سال کے ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ جانے پر پارٹی کے اخبار نیشنل ہیرالڈ معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کا حکم سونیا ۔ راہل گاندھی کے لئے ایک غیر متوقعہ جھٹکا تھا۔ راہل نے اسے سوفیصدی سیاسی رقابت کہہ کر مسترد کردیا۔ وہیں بھاجپا نیتاؤں نے اسے ایک قومی پارٹی کے اعلی سطحی کرپشن اور اس کے زوال پر توجہ واپس لے کر زبردست جھٹکا دیا۔ سال کے آخر ہوتے ہوتے سونیا گاندھی کے لئے اپنی ہی پارٹی کی میگزین ’’کانگریس درشن‘‘ شرمندگی کا سبب بن گئی۔ کانگریس پارٹی پیر کو اس وقت الجھن کی میں پڑ گئی جب ممبئی زونل کانگرسی کمیٹی کی طرف سے شائع اس میگزین میں پنڈت جواہر لال نہرو کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے گا اور سونیا گاندھی کے والدکو فاسسوادی فوجی بتاتے ہوئے متنازعہ رائے زنی کی گئی۔ تنازعہ ہونے پر میگزین ’’کانگریس درشن‘‘ کے مدیراور ممبئی کانگریس کمیٹی کے صدر سنجے نروپم نے معافی مانگی اور اداریہ کے چیف سدھیر جوشی کو برخاست کردیا گیا۔ کانگریس کے ترجمان ٹام وڈکن نے صفائی دی کہ یہ ہمارا ماؤتھ پیس نہیں ہے اور نہ ہی میگزین کانگریس کی ہے۔ یہ سب پارٹی کے 31 ویں یوم تاسیس پر ہوا۔ ’’کانگریس درشن‘‘ کے ہندی ایڈیشن میں شائع ایک آرٹیکل میں کشمیر، چین اور تبت کی حالت کے لئے نہرو پر الزام منڈ دیاگیا ہے۔ ایک دوسرا آرٹیکل سونیاکے بارے میں ہے اس میں سونیا کی شروعاتی زندگی کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے ان کی ایئر ہوسٹس بننے کی خواہش کے بارے میں لکھاگیا ہے۔ بتایا گیا ہے وہ کس طرح تیزی سے پارٹی صدر کے عہدے پر پہنچیں۔ لکھا ہے سونیا نے 1997ء میں کانگریس کی پرائمری ممبر شپ کے طور پر رجسٹریشن کرایا تھا اور 62 دنوں میں ہی وہ پارٹی کی صدر بن گئیں۔ انہوں نے سرکار بنانے کی ناکامی کوشش کی تھی۔ ان کے والد اسٹیفنو مایونوکے بارے میں دعوی کیا گیا ہے کہ وہ دوسری جنگی عظیم میں ہاری اٹلی کے فوج کے ممبر تھے۔ وہ سابق فاسسوادی فوجی تھے۔ 2015ء کا آخر ہوتے ہوتے یہ ایک ایسا تنازعہ ہے جو 2016ء میں بھی جاری رہے گا اور سونیا اور راہل کو کرکری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیشنل ہیرالڈ کیس، رابرٹ واڈرا کی زمین سودے آنے والے سال میں گاندھی واڈرا پریوار کو ستاتے رہیں گے۔
(انل نریندر)

کھودا پہاڑ نکلی چوہیا، وہ بھی مری ہوئی

کھودا پہاڑ اور نکلی چوہیا وہ بھی مری ہوئی۔ یہ حال ہوا ہے دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کا جو پچھلے کئی دنوں سے مرکزی وزیر ارون جیٹلی کو ڈی ڈی سی اے گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام لگا رہے تھے۔ پچھلے کئی دنوں سے کیجریوال اینڈ کمپنی نے نہ تو وزیر اعظم کو چھوڑااورنہ ارون جیٹلی کو۔ نکلا کیا؟ دہلی و ضلع کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) کے معاملوں میں دہلی سرکار کی خود جانچ کمیٹی نے اپنی رپورٹ دے دی ہے اس سرکاری رپورٹ میں مرکزی وزیر ارون جیٹلی کا نام کہیں بھی نہیں ہے۔ دہلی سرکار کے ویجی لنس محکمے کے پرنسپل سکریٹری چیتن سانگھی کی رہنمائی والی تین نفری کمیٹی کی 237 ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے ڈی ڈی سی اے پر بڑی تعداد میں الزامات کودیکھتے ہوئے بی سی سی آئی کو اس کرکٹ ادارے کو فوراً معطل کیا جائے۔ رپورٹ میں جیٹلی کا تذکرہ کئے بغیر کمیٹی ڈی ڈی سی اے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں کئی ریمارکس دئے گئے ہیں۔ جیٹلی 1999ء سے2013ء کے درمیان جب ڈی ڈی سی اے کے چیئرمین تھے تو یوپی اے عہد میں سنگین دھوکہ دھڑی کی جانچ دفتر کے ذریعے کی گئی ۔ جانچ میں بھی ارون جیٹلی کے خلاف کچھ نہیں پایا گیا تھا۔ بھاجپا نے ریاستی سرکار کے ذریعے قائم تین نفری جانچ کمیٹی میں ارون جیٹلی کا نام نہ آنے کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی سرکار پر اوچھی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ پارٹی نے کہا کہ رپورٹ آنے کے بعد یا تو کیجریوال ایمانداری سے عدالت میں اپنی غلطی مانتے ہوئے معافی مانگیں یا پھر ہتک عزت کے طور پر 10 کروڑ روپے کا جرمانہ بھرنے کو تیار رہیں۔ رپورٹ سے صاف ہوگیا ہے کہ پورے معاملے میں وزیر اعلی اروند کیجریوال جھوٹی سیاست کرتے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اروند کیجریوال کو نہ تو عہدے کی ساکھ کی فکر ہے اور نہ ہی اپنے بھروسے کی۔ جس دن سے انہوں نے عہدہ سنبھالا ہے ایسے ہی الٹے سیدھے الزام لگاتے آرہے ہیں۔ زبان تو بالکل سڑک چھاپ اسٹائل کی ہے۔ انگریزی میں کہاوت ہے ’شوٹ اینڈ اسکوٹ‘ یعنی الزام لگاؤ اور بھاگ جاؤ۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری پر بھی اسی طرح کے الزامات کی بوچھار کی گئی تھی۔ جب معاملہ عدالت میں الزامات ثابت کرنے کا آیا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ آخرمیں گڈ کری سے معافی مانگنی پڑی۔ اس معاملے میں بھی یہ ہی ہوگا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لیکن شاید شری کیجریوال کولگتا ہو کہ ان کے حمایتیوں کو اسی طرح کی زبان پسند ہے۔ ان کا ایک واحد مقصد جھوٹے الزام لگا کر مودی سرکار کو بدنام کرنے کا لگتا ہے۔ اس چکر میں وہ اپنے جتنا نقصان کررہے ہیں اس کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔
(انل نریندر)

29 دسمبر 2015

روس ہمیشہ بھارت کا بھروسے مند دوست رہا ہے

عالمی پس منظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کا روس دورہ اہمیت سے کم نہیں مانا جاسکتا۔ آج نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن اس وقت دنیا کے سب سے دو بڑے قد آور لیڈر ہیں جنہوں نے اپنی کڑی محنت اور پختہ عزم کا کئی بار ثبوت دیا ہے۔ اس لحاظ سے وزیر اعظم مودی نے صحیح ہی کہا ہے کہ میں اور پوتن ایک جیسے ہیں۔ پی ایم نے پوتن اور اپنے سیاسی سفر کے درمیان یکسانیت بتاتے ہوئے کہا کہ پوتن نے بھی 2000 ء میں کمان سنبھالی تھی اور میں نے2001 ء میں۔ میں نے پی ایم اٹل بہاری واجپئی کے ڈیلیگیشن کا حصہ بن کر بطور وزیر اعلی روس کا دورہ کیا تھا وہ میری اور پوتن کے درمیان پہلی ملاقات تھی۔ جب بھی میں روس جاتا ہوں میرے دماغ میں یہ خیال آتا ہے کہ میں نے اس دورہ میں تھوڑی دیر کردی۔ دوسرا مجھ میں تھوڑی ہچکچاہٹ بھی ہے۔ مگر میں اس بات سے بھی خوش ہوں کہ ایک دوست کے گھر جارہا ہوں۔ مشکل گھڑی میں ملی روس کی سپورٹ پر مودی کا کہنا ہے کہ بھارت کو کبھی یہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ روس کچھ معاملوں پر ہمیں حمایت دے گا یا نہیں۔ روس بھارت کا ایک مضبوط اور بھروسے مند دوست رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان صحیح معنوں میں فوجی سانجھے داری ہے۔ بھارت اور روس کے درمیان ثقافتی رشتوں کی لمبی تاریخ رہی ہے۔ روس مشکلات کے وقت ہمیشہ بھارت کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ نیوز ایجنسی’عطرطاس‘ نے پوتن کے حوالے سے کہا کہ باہمی رشتے سبھی میدانوں میں بڑھ رہے ہیں جس میں عالمی سیاست ،اقتصادی ، انسانی اہمیت کے حامل سیکٹر شامل ہیں۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ سوویت یونین کے بکھراؤ کے بعد امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور دیش بن گیا۔ امریکہ کی عادت ہے کہ وہ عالمی سیاست میں اپنا دبدبہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ کبھی کبھی بھارت بھی اس کے زیر اثر آجاتا ہے لیکن اپنے مفادات کے مطابق عالمی سیاست کو چلانا چاہتا ہے۔ بھارت پر وہ اسی حکمت عملی کے تحت ناجائز و جائز دباؤ ڈالتا رہتا ہے۔ امریکی برتریت کو توڑنے کا صحیح طریقے ہے روس اور بھارت و جاپان قریب آئیں اور مشترکہ خارجہ پالیسی اپنائیں۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ولادیمیر پوتن پہلے ایسے روسی صدر بنے ہیں جو اپنی بات رکھنے سے نہیں کتراتے۔ انہوں نے مشرقی وسطیٰ میں شام اور بشرالاسد کو لیکر امریکہ کو اس کی حکمت عملی کی حمایت کرنے پر مجبور کیا۔ امریکہ میں صدر براک اوبامہ کا عہد ختم ہونے والا ہے ، نئے صدر کے چناؤ کے بعد پتہ چلے گا کہ امریکہ کیسے بین الاقوامی سیاست کرتا ہے۔ اس لحاظ سے مودی کا روس دورہ خاص اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ ہم پی ایم مودی کو اس کامیاب روس دورہ پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ دونوں دیشوں کے آپسی رشتوں میں نئی مضبوطی آئے گی۔
(انل نریندر)

ہر سال نابالغ بچے بچیاں ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ ہوتے ہیں

اپنوں کی تلاش میں قریب20 برسوں کے بعد گیتا بھارت لوٹی تو دہلی سے اندور تک خوشیاں منائی جانیں لگیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت وزیر اعلی اروندکیجریوال نے نہ صرف گیتا بلکہ اس کے ساتھ آئے ایدی فاؤنڈیشن کے ممبران سے گیتا کے پاکستان میں رہائش کے بارے میں تفصیلات سنیں۔ گیتا تو خوش نصیب ہے اور ہائی پروفائل کیس ہونے کے سبب اسے اپنے رشتے داروں سے ملوانے کیلئے بھارت سرکار و پورا دیش ساتھ کھڑا ہوگیالیکن آج بھی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی سینکڑوں گیتا گمشدگی کے اندھیروں میں کھوئی ہوئی ہیں۔ ان کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے۔ خاندان در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں اور ڈھونڈنے میں لگے ہیں۔ ایک رضاکار تنظیم ’نو سرشٹھی‘ نے بچوں کی گمشدگی سے متعلق معلومات کیلئے اطلاعات حق (آرٹی آئی) کا سہارا لیا ہے۔جواب میں دہلی پولیس نے بتایا کہ پچھلے برس 1 جنوری سے31 دسمبر 2014ء کے درمیان 18 برس کی عمر تک کے 3409 گمشدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی رہی ہے۔ گذشتہ برس2050 لڑکیاں لا پتہ ہوئی ہیں جبکہ 1359 لڑکے لاپتہ ہوئے۔بچوں کی گمشدگی کے معاملے میں دوسرے تیسرے اور چوتھے نمبر پر باہری اور مشرقی دہلی اضلاع رہے جہاں سلسلہ وار 418 ،400 اور 334 نابالغ بچیاں لاپتہ ہوئیں۔راحت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے 1164 لڑکیوں، 843 لڑکوں کو برآمد کرنے میں کامیابی پائی لیکن ابھی بھی 886 لڑکیاں اور 516 لڑکے سمیت 1402 نابالغ بچے بچیاں لاپتہ ہیں۔ان کی تلاش میں دہلی پولیس نے ’’آپریشن ملاپ‘‘ سے لیکر کئی دیگر مہم چلائی ہیں۔ حالانکہ آر ٹی آئی میں صرف7 اضلاع میں نابالغ بچوں کی گمشدگی سے متعلق اعدادو شمار دئے گئے ہیں۔ سماجی رضاکار تنظیم نے بتایا کہ ساؤتھ دہلی سمیت کئی اضلاع نے کوئی جواب نہیں دیا۔ویسٹ دہلی میں گزشتہ برس گمشدہ 323 لڑکیوں کا اب تک کوئی پتہ نہیں چلا۔اسی طرح باہری دہلی میں 256 ، ساؤتھ ایسٹ دہلی میں 198، مشرقی دہلی 146، ساؤتھ ویسٹ میں 178 اور نارتھ دہلی 92 ، سینٹرل دہلی سے21 لاپتہ لڑکیوں کا کوئی سراغ نہیں لگ پایا۔ آج دیش میں کئی ایسے گروہ ہیں جو نابالغ لڑکے لڑکیوں کا اغوا کرلیتے ہیں۔ لڑکیوں کو یا تو بیچ دیا جاتا ہے یا پھر انہیں جسم فروشی میں جھونک دیا جاتا ہے، لڑکوں کو جرائم کی دنیا میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ گروہ ہر وقت ایسے بچوں کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی بچوں کو اکیلا پاتے ہیں اٹھا لے جاتے ہیں۔ کچھ گروہ چھوٹے بچوں کو ٹافی، مٹھائی و کھلونوں کا لالچ دے کر اٹھا لے جاتے ہیں۔ پولیس تو اپنا کام کررہی ہے لیکن ماں باپ، سماج کو بھی زیادہ بیدار ہونا پڑے گا۔ بچے کہاں ہیں، کہاں کھیل رہے ہیں، انجانے لوگوں کے ساتھ کہیں بھی جانے سے روکا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

27 دسمبر 2015

پرانے بھروسے مند روس سے رشتوں میں نیا باب!

روس ایک ایسا ملک ہے جس نے ہندوستان کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے۔ کئی موقعے آئے جب بھارت اپنے آپ کو اکیلا محسوس کررہا تھا۔ پہلے سوویت یونین اور پھر بعد میں روس نے بھارت کو تنہا ہونے سے وزیر اعظم نریندر مودی کے روس دورے سے پرانے دوست کے ساتھ نئے رشتوں میں تازگی آگئی ہے۔ آج ایک طاقتور اور بااثر دیش کے طور پر ابھر رہے روس کے صدر ودلایمیر پوتن کی قیادت میں نئی توانائی ملی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کی طرح پوتن بھی دلیر لیڈر ہیں جو کوئی بھی قدم اٹھانے سے نہیں گھبراتے،ضرورت کے حساب سے جو بھی قدم روس کے مفاد میں ہو اٹھا لیتے ہیں، چاہے کسی کو پسند آئے یا نہیں۔یہ بھی صحیح ہے سوویت یونین کی تقسیم کے بعد امریکہ آج ترجیحات کے حساب سے اول ہوگیا ہے۔ بھارت ۔ روس کی دوستی پرانی اور آج بھی برقرار ہے۔ وزیر اعظم مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 16ویں ہند۔ روس چوٹی کانفرنس کے موقعے پر ڈیفنس اور نیوکلیائی سمجھوتوں سمیت کل16 معاہدوں پر دستخط کئے۔ معاہدوں کے بارے میں غور کریں تو وہ مودی کے ’’میک ان انڈیا‘‘ کے پیش نظر بھارت میں اقتصادی خاکے کو مضبوطی دیتے ہیں۔ سب سے پہلے اہم یہ ہے کہ جو بھی سمجھوتے بھارت اور روس کے درمیان ہوئے ہیں ڈیفنس توانائی اور تجارت سے وابستہ ہیں۔ توانائی کے حامل ملک بھارت کے لئے نیوکلیائی بھٹیوں کے قیام میں بھارت کو توانائی بڑھانے میں مدد دے گا۔ بھارت کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے وہیں ڈیفنس سیکٹر میں کامیودوف 226 ہیلی کاپٹر کا دیش میں بننے اور ایس۔400 ہوائی ڈیفنس تکنیک پانے کے ساتھ ساتھ نیوکلیائی ضروریات کے لئے ہوئے معاہدے ہماری ڈیفنس صلاحیت کو بڑھاوا دیں گے۔ آج بھی ہمارے ڈیفنس سیکٹر میں سب سے زیادہ انحصار روسی سازرو سامان پر ہے۔ اسپیئر پارٹس بھی بھارت کیلئے ضروری ہیں۔ جہاں تک کاروبار کی بات ہے تو کاروبار بھی 10 بلین ڈالر سے بڑھ کر 30 بلین ڈالر کا نشانہ رکھا گیا ہے۔ روسی کمپنیاں بھارت میں اپنا کاروبار بڑھائیں گی جس سے نہ صرف دیش میں اقتصادی ترقی ہوگی بلکہ نئے روزگار کے مواقعے ملیں گے۔ ان معاہدوں کی عالمی پس منظر میں کہیں زیادہ اہمیت ہے۔ ہندوستانی بر صغیر سے رہ کر وسطی ایشیا کی جغرافیائی نیوکلیائی حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں اس میں بھارت۔ روس دوستی کی اپنی ہی اہمیت ہے۔ چین کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لئے نریندر مودی نے جو ہند۔ روس اور جاپان سے ملا کر ایک گروپ بنایا اس میں ضرور مدد کرے گا اورآئی ایس کے بڑھتے اثر کو روکنے میں روس ۔بھارت کا اتفاق دہشت گردی انسداد کمپین میں مدد کرے گا۔روس کے لئے بھارت کیحمایت اس وقت پوتن کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے شام میں مداخلت سے مغربی ممالک خاص کر امریکہ ناراض ہیں۔ مودی کی موجودگی اور پائیدار اجتماعیت اور کثیر المقاصد دنیا کے سانجھے دار اور بھارت کی قدم بقدم ترقی طے کرنے میں جس طرح روس کی نشاندہی کی ہے، اس سے نہ صرف یقینی طور پر بلکہ ہند۔روس کی پرانی دوستی تازہ ہوئی ہے جبکہ دنیا کے اس وقت دو سب سے بڑے نیتاؤں نے مل کر ساری دنیا کو نیا اشارہ دیا ہے۔ مودی کا کامیاب دورہ روس کی سراہنا کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

بدمعاشوں کا بڑھتا حوصلہ: کورٹ میں فائرنگ

آج کل ان مافیہ اور بدمعاشوں کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ یہ اب عدالت کے اندر بھی گولہ باری سے نہیں ڈرتے۔راجدھانی میں اپنی نوعیت کی پہلی واردات میں مجسٹریٹ کے سامنے قتل ہوگیا۔گھناؤنے جرائم میں لڑکوں کو بالغوں کی طرح سزا دینے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون پاس ہونے کے ٹھیک24 گھنٹے بعد 4 نابالغوں نے اس ہمت بھری واردات کو کڑکڑ ڈوما عدالت میں انجام دے ڈالا۔ بدھ کے روز کڑکڑ ڈوما کورٹ میں رونگٹے کھڑے کردینے والی اس واردات میں ہتھیاروں سے مسلح بدمعاشوں نے کٹہرے میں کھڑے ایک بدمعاش پر گولیوں کی بوچھار کردی۔ بدمعاش کو بچانے کے چکر میں دہلی پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل رام کنور مینا شہید ہوگیا۔واردات کے بعد ملزمان نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن دو بدمعاشوں کو کورٹ روم میں ہی لوگوں نے دبوچ لیا اور پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کردیا۔ دیگر دو بدمعاشوں کو وکیلوں نے گھیر کر پولیس کے حوالے کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چاروں ملزم نابالغ ہیں۔ کڑکڑ ڈوما کورٹ کی چھٹی منزل پر73 نمبر کورٹ کے میٹرو پولیٹن کرمنل مجسٹریٹ سنیل گپتا کی عدالت میں بدنام زمانہ بدمعاش عرفان عرف چھینو پہلوان کی پیشی تھی۔ اس درمیان ایک لڑکا وہیں پر کھڑا رہا ، تینوں نے عرفان کی طرف تابڑ توڑ گولیاں برسانی شروع کردی۔ چھینو نے خود کو بچانے کے لئے مینا کو ڈھال بنا لیا۔ مینا کے پانچ گولیاں لگیں جبکہ خود چھینو کو تین گولیاں لگیں۔ اس دوران ایک گولی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سنیل گپتا کے پاس سے بھی گزرنی اور وہ کورٹ سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔کچھ سال پہلے انبالہ میں دھماکو سامان سے لدی ایک سرکار برآمد ہوئی تھی، چھان بین سے پتہ چلا کہ کار سے کڑکڑ ڈوما کورٹ کی بلڈنگ اڑانے کی سازش تھی۔ سازش تب متعلقہ عدالت میں چل رہے سکھ دنگوں سے جڑی تھی۔تب عدالت کی سکیورٹی بیحد سخت کی گئی تھی۔ جگہ جگہ بنکر بناکر کمانڈو تعینات کئے گئے۔ چپے چپے پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے۔ ڈی سی پی سطح کے افسر کو کورٹ کی سکیورٹی کا انچارج بنایا گیا۔ کورٹ کے لئے پولیس چوکی بھی ہے اس کے باوجود کورٹ میں ہتھیار جانا، فائرنگ اور قتل کی واردات سے عدالتوں کی حفاظت پر کئی سنگین سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ کورٹ کے باہر مضبوط سکیورٹی انتظام ہونا چاہئے، کورٹ کے اندر جو بھی پولیس والا و دیگر ملازم ہوتے ہیں انہیں چست رہنا پڑے گا کیونکہ ان کی زیادہ توجہ مقدمات میں ملائی کاٹنے پر ہوتی ہے۔ان سے سکیورٹی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ان کی جگہ ایسے ملازمین کی تعیناتی ہونی چاہئے جو اپنی ڈیوٹی ذمہ داری اور چستی کے ساتھ نبھائیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس چوکی کا اسٹاف بھی بڑھانے کی سخت ضرورت ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اب بدمعاشوں کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ انہیں وردی (یونیفارم) کا بھی خوف نہیں رہا۔ نہ ہی عدالت میں مجسٹریٹ کا۔ تکلیف دہ پہلویہ بھی ہے کہ حملہ آور نابالغ تھے۔ شکر ہے مجسٹریٹ صاحب اس حملے میں بچ گئے۔ ہم شہید تیسری بٹالین کے کانسٹیبل رام کنور مینا کی شہادت کو سلام کرتے ہیں اور ان کے خاندان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
(انل نریندر)

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...