Translater

01 اکتوبر 2016

جانی ہم تمہیں ماریں گے ضرور، لیکن بندوق بھی ہماری ہوگی اور وقت بھی ہمارا اور جگہ تمہاری

اڑی حملہ کے بعد پورے دیش میں پاکستان کو سبق سکھانے کی مانگ اٹھی۔ پر کوئی کہہ رہا تھا کہ ہمیں جوابی کارروائی کرکے پاکستان کو صاف اشارہ دینا ہوگا کہ بس اب اور نہیں۔ مودی سرکار نے آخر جوابی کارروائی کر ڈالی۔ انہوں نے وہ کام کردکھایا جو پہلے کسی پی ایم کے ذریعے کرنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد اٹل بہاری سرکار بھی نہیں کرسکی، یہ تھا کنٹرول لائن پار کرنا۔ لیکن مودی نے یہ کر دکھایا۔ اڑی اٹیک کے 11 دن بعد ہندوستانی فوج نے جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائک (چن کر حملہ کرنا) کو انجام دیا۔ اسپیشل فورس کے کمانڈروز نے بدھوار کو دیر رات پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ کردئے۔ یہ لانچ پیڈ ایل او سی سے قریب 103 کلو میٹر اندر تھے۔ اس کارروائی میں تقریباً40 دہشت گردوں کو مار گرایا گیا اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ان دہشت گردوں کی سکیورٹی پر تعینات 2 پاکستانی فوجی بھی مارے گئے۔ پورا آپریشن 3 گھنٹے میں ختم ہوگیا اور ہمارے کمانڈو صحیح سلامت اپنی منزل پر لوٹ آئے۔ جہاں ہم وزیر اعظم نریندر مودی کے اس ہمت افزا قدم پر انہیں سلام کرتے ہیں وہیں ہم اپنے بہادر کمانڈو کی بھی جتنی تعریف کریں کم ہے۔ ہمارے بہادر فوجیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ تو دشمن سے کمزور ہیں اور نہ ہی ان میں قوت ارادی کی کمی ہے، کمی تھی لیڈر شپ کی، واضح پالیسی کی۔ اگر ہم سورگیہ شریمتی اندرا گاندھی کو چھوڑدیں تو مودی ایسے دوسرے لیڈرہیں جنہوں نے ٹھیک ڈھنگ سے اس جوابی کارروائی کو انجام دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران اس بات کا پورا خیال رکھا گیا کہ اسے دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ کی شکل نہ دی جاسکے۔ بھارت نے پہلے پاکستان کو پوری دنیا میں الگ تھلگ کیا اور جوابی کارروائی کا ماحول بنایا۔ بھارت کافی عرصے سے کہتا آرہا ہے کہ پاکستان اپنے یہاں چل رہے آتنکی کیمپوں کو ختم کرے لیکن اس سمت میں کچھ ٹھوس کرنے کے بجائے پاکستان ہر الزام کو مسترد کرتا رہا ہے اور الٹے بھارت پر طرح طرح کے الزام منڈھتا رہا ہے۔ پاکستان نے کنٹرول لائن پار کرنے پرکسی امکانی کارروائی سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ اس نے سرکاری طور پر یہ مانا ہے کہ اس کے دو جوان مارے گئے ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ پاکستان اس حملے کو اپنے خلاف ایک فوجی کارروائی کی شکل میں نہیں لے گا۔ بھارت نے پاکستان پرحملہ نہیں کیا، بھارت نے تو دہشت گردوں پر حملہ کیا جو بھارت کی سرحد میں گھسنے کی فراق میں تھے۔ تباہی مچانے کو تیار تھے۔پھر جہاں تباہی ہوئی وہ آج بھی بھارت کا حصہ ہے۔ ہم نے پاکستان کی سرزمیں پر حملہ نہیں کیا۔ ہم نے سیلف ڈیفنس کی کارروائی کی ہے۔ اپنی ہی زمین پر دہشت گردوں کا صفایا کرنا پاکستان پر حملہ کرنے کے برابر نہیں بلکہ پاکستان کی اس کارروائی سے ناک کٹ گئی۔ پاکستان میں اصل طاقت فوج اور آئی ایس آئی کے پاس ہے۔ پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف ہیں جو اس حملے کو شاید ہی برداشت کرپائیں؟ راحیل شریف کی بھارت سے پرانی دشمنی ہے۔ ان کے بھائی اور انکل بھارت کے ساتھ جنگوں میں مارے گئے تھے۔ پھر جنرل شریف دو تین مہینے میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ اس کارروائی کا بدلہ لینے کے لئے ان کی نجی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی یہ ہے اپنے رشتے داروں کی موت کا بدلہ لینا، دوسرا اپنے عہد میں توسیع کروانا۔ ساری دنیا کو اس کی فکر ہے کہ کہیں پاکستان بھارت پر ایٹمی حملہ نہ کردے؟ پاکستان کے پاس نیوکلیائی پاور استعمال کرنے کا ایک متبادل ضرور ہے لیکن یہ آخری متبادل ہوگا۔ واقف کاروں کے مطابق پاکستان شاید اسے خود استعمال نہ کرنا چاہئے اور امریکہ اور چین بھی اس کے اس متبادل پر متفق نہیں ہوں گے۔ پاکستان کے اندر بھی دانشور طبقہ اس کی مخالفت کرے گا۔ پاکستان جوابی کارروائی کی شکل میں فی الحال جہادیوں اور بھارت کے اندر موجود اپنے سلیپر سیل کا استعمال کرسکتا ہے۔جموں وکشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دراندازوں کے حملے بڑھ سکتے ہیں۔ بھارت کے اندر ان کے سلیپر سیلز کو سرگرم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی فوج بھارت کے خلاف ملٹری اٹیک لانچ کرسکتی ہے۔ یہ آفیشل بھی ہوسکتا ہے اور غیر آفیشل بھی لیکن واقف کاروں کی نظر میں یہ کرنے پر عالمی ماحول اب پاکستان کے خلاف ہوگیا ہے۔ ایسا کرنے سے پہلے پاکستان ان باتوں پر ضرور غور کرے گا۔ اسی وجہ سے پاکستان بھارت کے ذریعے سرجیکل اسٹرائک سے انکار کررہا ہے تاکہ اس پر بھارت کو جوابدینے کا دباؤ نہ بنے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ بھارت کی سرجیکل اسٹرائک پر بھارت میں اتحاد نظر آیا۔ اس مسئلے پر بلائی گئی آل پارٹی میٹنگ میں سیاسی سطح پر قابل تحسین اتحاد کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ ہم دیش کی سلامتی کو لیکر سرکار کی کارروائی کے ساتھ ہیں اور اس اشو پر سرکار کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ مٹھی بھر مسلمانوں کوچھوڑدیں تو مسلمانوں کی زیادہ تر اکثریت نے کارروائی کی حمایت کی ہے۔ بھارت نے پاکستان کو صاف پیغام دیا ہے کہ اگر پاکستان دشمنانہ حرکتیں آگے بھی جاری رکھے گا تو بھارت ان کا جواب دینے میں اہل بھی ہے اور عہد بند بھی۔
(انل نریندر)

اسرو کی آسمان چھوتی ایک اور کامیابی

ہندوستانی خلائی ریسرچ آرگنائزیشن یعنی اسرو نے ایک اور شاندار قابل فخر کارنامہ انجام دیا ہے۔ پیرکو پی ایس ایل وی راکٹ کے ذریعے دوالگ الگ مدار میں8 سب سیٹیلائٹ قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان 8 سب سیٹیلائٹ میں بھارت کا ایک موسم سب سیٹیلائٹ اسکیٹ سیٹ۔1 اور دیگر دیشوں کے 5 سب سیٹیلائٹ شامل ہیں۔سیٹیلائٹ اسکیٹ سیٹ۔1 کے علاوہ جن سب سیٹیلائٹ کو مدار میں داخل کرایا گیا ان میں ہندوستانی یونیورسٹیوں کے 2 سب سیٹیلائٹ ۔1 اور پی آئی سیٹ ہے۔ الجزائر کے 3 سب سیٹیلائٹ ۔ السیٹ۔1 بی، السیٹ ۔2 بی، اور السیٹ ۔1 این شامل ہیں۔ایک امریکی سب سیٹیلائٹ ۔پاک فائنڈر۔1 اور کناڈا کا این ایل ایس ۔19 بھی شامل ہے۔ اسرو یعنی ہندوستانی خلائی ریسرچ آرگنائزیشن ان گنے چنے اداروں میں سے ہے جس پر بھارت فخر کرسکتا ہے۔ ایسے دور میں جب ہر طرف فرض کے تئیں لاپروائی ،خود غرضی اور ڈسپلن کی کمی نظرآتی ہے اسرو لگن اور ہمت اور محنت کی ایک مثال بن گیا ہے اس لئے یہ فطری ہی ہے کہ اسرو کی شاندار تاریخ ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک ریکارڈ اس کے نام جڑتے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے پیر کو سری ہری کوٹا سے پی ایس ایل وی۔ سی35 کی لانچنگ۔یہ خلا میں بھارت کی ایک اور بڑی چھلانگ ہے۔ اس کے ذریعے اسرو نے اپنے اب تک کے سب سے مشکل اور لمبے مشن کو انجام دیا ہے۔ یہ راکٹ ایک ساتھ8 سیٹیلائٹ کو لیکر گیا ہے لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ سب سیٹیلائٹ کو الگ الگ مدار میں قائم کرنا۔ ایسا دنیا میں صرف دوسری بار ہوا ہے۔ اسی سے اسرو کی تازہ کامیابی کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسی کامیابی کے سبب اسرو کی گنتی اس وقت دنیا کی سب سے بھروسے مند خلائی ایجنسیوں میں ہوتی ہے۔ اسی بھروسے کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے ترقیافتہ ممالک بھی اپنے سیٹیلائٹ لانچ کرنے کے لئے بھارت آرہے ہیں۔ پیر کو ہی جو سیٹیلائٹ لانچ ہوئے ان میں امریکہ ، کناڈا جیسے ملکوں کے سب سیٹیلائٹ بھی شامل ہیں۔ اسرو کی ایک اور کامیابی یہ بھی ہے کہ اس نے بہت کم لاگت میں خلائی مہم کو انجام دینے کا اکنامیکل خاکہ تیار کیا ہے۔ اس وجہ سے بھی وہ سٹیلائٹ قائم کرنے کے بین الاقوامی مقابلے میں سب سے آگے ہے۔ یہ ایسی مارکیٹ ہے جس کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ کفایتی ہوتے سے اسرو کی کاروباری دھاک بنی ہے اور اس نے2013 سے2015ء کے درمیان 13 ملکوں سے 28 سب سیٹیلائٹ بھیج کر کوئی 10 کروڑ ڈالر کی کمائی کی ہے۔ اس سال 20 جون تک اسرو 74 غیر ملکی سب سٹیلائٹ میزائل لانچ کرچکا تھا۔ پیرکو یہ تعداد بڑھ کر 79 ہوگئی ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اسرو جلد ہی سنچری پوری کر لے گا۔ ہم اسرو کے تمام سائنسدانوں ، تکنیشینوں کو اس شاندار کارنامے پر بدھائی دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

30 ستمبر 2016

ابھی تو یہ شروعات ہے

پاکستان نے اڑی میں ہمارے سوتے ہوئے فوجیوں پر جو آتنک وادی حملہ کروایا تھا بھارت نے اس کا ڈپلومیٹک، اکنومک اور فوجی ایکشن لینے کی ٹھان رکھی تھی۔اسی ڈپلومیٹک حکمت عملی کے تحت بھارت نے پاکستان کو پوری طرح سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی اور اس میں کامیابی بھی ملی ہے۔ دہشت گردانہ حملے کو لیکراسے کسی دیش کا ساتھ نہیں ملا اور سارک ممالک کی میزبانی بھی گنوانی پڑ رہی ہے۔ اقتصادی ناکہ بندی میں اسے بھارت سے ملا این ایف این (انتہائی ترجیحاتی درجہ) گنوانا پڑ رہا ہے جبکہ سندھو آبی معاہدے کو لیکر بھارت اسے اب تک ملنے والے پانی کی کٹوتی کرنے پر غور کررہا ہے۔ بتادیں کہ سندھو آبی معاہدے کے بارے میں 1960ء میں پنڈت جواہر لال نہرو نے یہ کہا تھا کہ ہم نے قیمت چکا کر امن قائم کرنے کی کوشش کی اور اس کو منسوخ کئے بغیر ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حصے کا پورا پانی لینے کا اعلان کرکے پاکستان کے ہوش باختہ کردئے ہیں۔ 
رہی فوجی کارروائی کی تو آج بھارت نے اپنا بدلہ لے لیا ہے۔ ہندوستانی فوج کی طرف سے فوجی آپریشن کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رنویر سنگھ اور بھارت سرکار کی طرف سے وزیر اطلاعات و نشریات ونکیانائیڈو ہندوستانی فوج کمانڈوز کے ذریعے کنٹرول لائن کے پیچھے دو کلو میٹر اندر ہیلی کاپٹروں سے 7 آتنکی کیمپوں کو تباہ کردیا ہے ساتھ ہی 38 دہشت گردوں کو بھی مار گرایا اور پاکستانی فوج کے جو جوان دہشت گردوں کی سکیورٹی میں تعینات تھے انہیں بھی مار ڈالا گیا۔ فوجی کمانڈو اپنا نشانہ پورا کرکے بخیریت واپس آگئے اور کسی بھی جوان کو کوئی کھرونچ تک نہیں لگی۔ اری حملے کے بعد بھی کشمیر میں فوج نے دراندازی کی دو بڑی کوششوں کو ناکام بنا دیا اور بانڈی پورہ میں ایک دہشت گرد کو مار گرانا کا دعوی کیا ہے۔ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے 8 جولائی کو مارے جانے کے بعد وادی میں جاری تشدد میں اب تک82 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ جموں کشمیر میں اڑی فوج کے بیس کیمپ پر ہوا حملہ 26 برسوں کاسب سے بڑا حملہ ہے اس میں18 جوان شہید ہوئے۔ وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے واقعات پر نگاہ رکھنے والے ساؤتھ ایشیا ٹیررازم (ایس ٹی اے ٹی پی) کے مطابق 2016ء میں 11 ستمبر تک جموں وکشمیرمیں آتنک وادی حملوں میں 46 جوان شہید ہوئے تھے۔ اگر ایتوار کو اڑی حملے میں ہلاک تعداد کو جوڑلیا جائے تو 18 ستمبر تک شہید ہونے والے جوانوں کی تعداد 63 ہو جاتی ہے۔2010ء میں اس صوبے میں 69 جوان شہید ہوئے تھے۔ یعنی 2010ء کے بعد اس سال سب سے زیادہ جوان شہید ہوئے ہیں۔ وزارت داخلہ کی 2015-16 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سرحد پار سے دو دہائیوں سے زیادہ وقت میں (1990 سے) جاری دہشت گردی میں 2015ء تک 4961 جوان تیز ہوچکے ہیں۔ اس دوران 13921 شہریوں کی جان گئی۔ حال ہی میں پارلیمنٹ نے مانا تھا کہ اس سال سرحد پار سے دہشت گردوں کی گھس پیٹھ میں اضافہ ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جموں و کشمیر میں کئی جگہ سکیورٹی فورس پر بڑے حملے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں ایک رپورٹ کے مطابق سرحد پار 200 دہشت گرد دراندازی کی فراق میں ہیں۔ 30جون2016 ء تک کشمیر میں دراندازی کی 90 کوششیں کی گئیں جبکہ30 جون2015 ء تک صرف29 کوششیں ہوئیں تھیں۔ راجیہ سبھا میں حال ہی میں ایک سوال کے جواب میں وزیر ہنسراج اہیر نے بتایا تھا کہ ایک طرف تو حملے بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت سرکار جوابی کارروائی کیا کرنی ہے اس پر ابھی غور و خوض جاری ہے۔ سب سے پہلے جوابی فوجی ایکشن پر غور ہوا لیکن جلد ہی اس قدم سے سرکار پیچھے ہٹ گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جوابی فوجی ایکشن سے مودی سرکار پیچھے ہٹی اس کی دو اہم وجوہات ہیں پہلا کہ پاکستان نیوکلیائی حملہ کرسکتا ہے جو سبھی کے لئے انتہائی تباہ کون ہوتا۔ دوسری وجہ ہمیں لگتا ہے کہ ہماری فوج میں اتنا بھروسہ نہیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کرسکے۔ اخبار اکنامکس ٹائمس مسلح افواج اور دوسری ڈیفنس ریسرچ سے وابستہ کئی ماہرین اور فوج کے موجودہ کئی اور ریٹائرڈ حکام سے اس بارے میں بات کی زیادہ تر کا کہنا تھا کہ فوج میں لڑائی کی بیشک خود اعتمادی کی کمی ہے۔ مثال کے طورپر اسالٹ رائفل ،کاربائن، گولہ داغنے والی بندوق جیسے بنیادی ہتھیاروں کی کمی ہے۔ انہیں خریدنے کی کارروائی میں کافی تاخیر ہورہی ہے۔ پاکستان فوج کے پاس بہتر ہتھیار ہیں۔ اس کے علاوہ مسلح فورس کے حوصلے میں بھی کافی کمی آئی ہے۔ ان حالات کودیکھتے ہوئے مودی حکومت کو جلد ہی سمجھ میں آگیا کہ پاکستان کو سیدھے جنگ کی دعوت دینا سمجھداری نہیں ہوگی۔ پھر تجویز آئی کہ اگر بھارت سندھو آبی معاہدہ منسوخ کرتا ہے تو پاکستان میں ہائے توبہ مچ جائے گی۔ایسی صورت میں بھارت اس پر من چاہا دباؤ ڈال سکے گا۔ سندھو آبی معاہدے کے جائزے اور بھارت کے غور و فکر کی خبر آنے پر منگلوار کو پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر بھارت نے سندھو آبی معاہدہ منسوخ کیا تو ہم انٹرنیشنل کورٹ جائیں گے۔ سمجھوتہ منسوخ ہوگاتو پاکستان جنگ چھیڑنے کی کارروائی کے طور پر لے گا۔ سرتاج نے پاکستان کی قومی اسمبلی کو بتایا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت سمجھوتے سے ایکطرفہ نہیں ہٹ سکتا۔ کارگل اور سیاچن جنگ کے دوران بھی اسے منسوخ نہیں کیا گیا۔ حکومت ہند ہی بہرحال سندھو آبی معاہدے کا جائزہ لینے کے اشارے دئے ہیں۔ ان دو باتوں سے یہ اشارے ملتے ہیں۔۔۔ ایک وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ دوسرا معاہدے کے جائزے کے لئے ایک انٹرنل منسٹری ٹاسک فورس کی تشکیل کا وزیر اعظم کا فیصلہ۔ یہ ٹاسک فورس اس بارے میں پتہ لگائے گی کہ یہ سمجھوتہ اب کارگر ہے یا نہیں؟ اب اس متبادل پر غور ہورہا ہے کہ بھارت پاکستان کو دئے گئے تجارتی لحاظ سے ترجیحاتی ملک کا درجہ ختم کرے یا نہیں؟ بھارت نے 1996ء میں اپنی طرف سے پاکستان کو انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دیا تھا۔ یہ درجہ ملنے کے بعد پاکستان اس بات کو لیکر کافی چوکس رہتا ہے کہ بھارت اسے تجارت میں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اسی درجے کی وجہ سے پاکستان کو بھارت سے زیادہ درآمدات کوٹہ و کم ٹریڈ ٹریف ملتا ہے۔ بتادیں کہ بھارت نے یکطرفہ درجہ دیا ہے۔ کئی بار بات کرنے کے باوجود پاکستان نے اب تک بھارت کو ایسا درجہ نہیں دیا۔ ہم پاکستان سے جنگ نہیں چاہتے۔ ہماری لڑائی دہشت گردی سے ہے اور وہ بھی ہماری سرزمین سے چھیڑی گئی ۔ ہمارے جوان روز مر رہے ہیں اور پور ے دیش کے عوام جوانوں سمیت پاکستان کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ 
پاکستان کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ اب وہ یا تو سدھر جائے یا پھر سنگین نتیجے بھگتنے کے لئے تیار رہے کیونکہ بھارت ایک جمہوری دیش ہے یہاں کی حکومت عوام کے جذبات کے مطابق ہی کارروائی کرتی ہے۔ اگر پاکستان نہیں سدھرا تو پھر کارروائی ہوگی۔
(انل نریندر)

29 ستمبر 2016

بنسل پریوار کی خودکشی کا ذمہ دار کون

ایک رشوت معاملہ میں پورے خاندان کا ہی خاتمہ انتہائی تکلیف دہ واقعہ ہے۔ کارپوریٹ افیئرس کے سابق ڈائریکٹر جنرل بی ۔ کے۔بنسل (60 سال) اور ان کے بیٹے یوگیش بنسل (32 سال) نے مشرقی دہلی کے آئی پی ایکسٹینشن علاقہ میں واقع نیل کنٹ اپارٹمنٹ کے اپنے فلیٹ میں خودکشی کرلی۔ اسی سال16 جولائی کو ایک ہوٹل میں سی بی آئی نے 9 لاکھ روپے کی رشوت لینے کے الزام میں بی۔ کے ۔ بنسل کو گرفتار کیا تھا۔ اس واقعہ سے بنسل کا خاندان اس طرح صدمے میں پڑگیا کہ 19 جولائی کو ان کی بیوی ستیہ بالا (58 سال) اور بیٹی نیہا (28 سال ) نے خودکشی کرلی تھی۔ اسی بنیاد پر جیل سے باہر آئی بی۔ کے۔بنسل سے مسلسل پوچھ تاچھ چل رہی تھی۔ بی ۔کے بنسل اور ان کے بیٹے کے کمرے سے دو الگ الگ سوسائڈ نوٹ برآمد ہوئے ہیں۔ان میں سی بی آئی پر انہیں اذیت پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بیوی اور بیٹی کے ذریعے خودکشی کئے جانے کے بعد 26 اگست کو بی کے بنسل کو ضمانت ملی تھی۔ان کی بیوی اور بیٹا اور بیٹی کے سوسائڈ نوٹ میں سبھی نے سی بی آئی حکام کے ذریعے پریشان کرنے اور کچھ افسران کے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے سی بی آئی کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بیوی اور بیٹی کے خط میں لکھا تھا کہ سی بی آئی چھاپے سے ان کی بہت بدنامی ہوئی ہے۔ اس سے دکھی ہوکر وہ خودکشی کررہی ہیں۔ کرپشن کے الزامات میں پھنسے بی کے بنسل کے کنبے نے جس حالت میں خودکشی جیسا انتہائی سنگین قدم اٹھایا وہ جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا ہے۔ بیشک بنسل پر لگے رشوت خوری کے الزامات کو مضبوطی دینے والے کئی ثبوت جانچ ایجنسی کو ملے ہیں لیکن اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ وجہ کچھ بھی ہو نتیجہ ایک ہی جیسا ہے۔ بی کے بنسل کو سی بی آئی نے16 جولائی کو 9 لاکھ روپے کی رشوت لیتے رنگے ہاتھوں گرفتار کیاتھا۔ الزام تھا کہ وہ ایک فارمیسی کمپنی کا فیور کرنے کے عوض میں موٹی رشوت مانگ رہے تھے۔
اس گرفتاری کے تین دن بعد بیوی ستیہ بالا اور بیٹی نیہا نے پھانسی لگا لی تھی۔ 20 جولائی کو انتم ضمانت ملنے کے بعد بی کے بنسل کو 30 اگست کو باقاعدہ ضمانت مل گئی تھی۔ بی کے بنسل اور ان کے رشتے داروں کے سوسائڈ نوٹ کے پیچھے سی بی آئی کے ذریعے پریشان کرنے کے الزامت میں سی بی آئی ایک طرح سے کٹہرے میں کھڑی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی بی آئی اب اندرونی جانچ کرکے پتہ لگائے گی کیا حقیقت میں بنسل اور ان کے رشتے داروں کو پریشان کیا گیا تھا؟ حالانکہ سی بی آئی نے منگلوار کو صفائی پیش کی ہے کہ بنسل ضمانت پر تھے اور ان کے بیٹے سے معاملے میں کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی گئی تھی۔ دراصل سی بی آئی کے سامنے 10 دنوں میں یہ دوسرا معاملہ آیا ہے جس میں سینئر افسر نے پریشان کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جان دے دی۔ ابھی سی بی آئی کی چھاپے ماری کو لیکر کوئی گائڈ لائنس نہیں ہیں۔ اس بارے میں سپریم کورٹ میں بھی ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ 9 لاکھ آج کے زمانے میں اتنی بڑی رقم نہیں ہے۔
(انل نریندر)

پاکستان کی برابری کرنے کیلئے رافیل جہازوں کی سخت ضرورت تھی

چونکانے والی بات یہ ہے کہ بھارت نے پچھلے 20 سال میں نئے جنگی جہاز نہیں خریدے ہیں۔ ہم 20 سال پرانے جہازوں سے ہی جدید پاکستانی ایئر فورس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔بیشک ہمارے پاس سخوئی، جگوار و مگ جہاز ہیں۔ ایئرفورس میں یہ ایک ایف ۔16 جیسے پاکستانی جنگی جہازوں کی برابری نہیں کرسکتے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ مودی سرکار نے فوجی سازو سامان خریدنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اگر ہماری فوجیں درکار معیاری ہتھیاروں اور جہازوں، آبدوزوں سے مسلح نہیں ہوں گی تو ہم پاکستان سے پیچھے ہی رہیں گے۔ پاکستان کو چین اور نارتھ کوریا ہر طرح کی فوجی مدد کررہا ہے۔ وہ تو امریکہ سے بھی ہتھیار لے لیتے ہیں۔ اسی نقطہ نظر سے فرانس کے ساتھ حملہ کرنے والے جنگی جہاز رافیل سودے پر مہر لگانا بھارت کا بڑا کارنامہ ہے۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے 36 رافیل جنگی جہازوں کے لئے قریب 59 ہزار کروڑ کے سودے پر دستخط کردئے ہیں۔ جدید ترین میزائلوں اور ہتھیاری تکنیک سے مسلح ان جنگی جیٹ کے شامل ہونے سے انڈین ایئر فورس پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کی بھی چنوتی سے نمٹنے میں اہل ہوگی۔ بھارت کا پچھلے 20 سال میں یہ پہلا جہازی سودا ہے۔ انڈین ایئر فورس کے پاس ابھی80 کی دہائی والے پرانی پیڑھی کے جہاز ہیں۔ دو انجن والا رافیل جنگی جہاز پاکستان کے پاس ایف۔16 کے مقابلہ بہت بڑھیا ہے۔
ایف۔16 کی 2400 میل کی رینج ہے اور پاکستان کے پاس ابھی جو وی وی آر موجود ہیں اس کی رینج صرف80 کلو ہے جبکہ رافیل 3700 کلو میٹر رینج تک مار کرنے والا ہوائی جنگی جہاز ہے جو 24500 کلو وزن لے جانے میں بھی اہل ہے۔ رافیل کی سرچ رینج 780 سے 1055 ملی میٹر تک ہے یعنی زیادہ سے زیادہ دور نظر رکھ سکتا ہے۔ اب تک بھارت کے پاس موجود سب سے طاقتور جہاز سخوئی 30 ایم کے آئی کی سرچ رینج 4500 میل ہی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے رافیل روزانہ 5بار اڑان بھر سکتا ہے جبکہ دیگر جہاز 3 مشن ہی کر پاتے ہیں جیسے سخوئی 30 کا انجن بدلنے میں 8 گھنٹے لگتے ہیں جبکہ رافیل میں یہ کام 30 منٹ میں ہو سکتا ہے۔ کسی بھی موسم میں اڑان بھرنے میں اہل رافیل ایک منٹ میں قریب 60 ہزار فٹ کی اونچائی تک جا سکتا ہے۔ دو انجن والا رافیل بہت ہی عمدہ جنگی جہاز ہے۔ سبھی طرح کی کارروائیوں کو انجام دے سکتا ہے۔ ایک مشن میں ہی زمین پر حملہ اور ہوا میں سکیورٹی دونوں کو کر سکتا ہے اور ہوا سے ہوا اور ہوا سے زمین پر مار کرسکتا ہے۔ یہ نیوکلیائی ہتھیار لے جانے میں اہل ہے۔ رافیل ہوا سے ہوا میں مارکرنے والی میٹیور مزائل سے لیس ہے۔ اس سے چین اور پاکستان کے کئی علاقے بغیر سرحد پار کئے بھارت کی زد میں آجائیں گے۔ رافیل جب انڈین ایئرفورس میں شامل ہوجائے گا تب صحیح معنوں میں ہم پاکستانی جہازوں کی برابری کر پائیں گے۔
(انل نریندر)

28 ستمبر 2016

سندھو آبی معاہدہ جاری رکھا جائے یا توڑا جائے

اڑی حملہ کے بعد پاکستان کو سبق سکھانے کے اقدامات میں سے ایک 56 سال پرانا سندھو آبی معاہدہ جاری رکھنے کے سوال پر بھی بحث ہورہی ہے۔ اس معاہدے کے نفع نقصان پر بھی غور و خوض ہوا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ سندھو آبی معاہدے کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک فریقی ہے اور اس پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان سے ہوا سندھو آبی معاہدہ 56 سال پرانا ہے۔ دونوں ملکوں کے رشتوں میں تلخی آنے کے چلتے ماضی میں بھی کئی بار اس بین الاقوامی آبی معاہدے پر جائزے کی بات کہی گئی ہے۔ اس بار معاملہ زیادہ سنگین ہے اس لئے بھارت سرکار نے اپنی جائزہ میٹنگ میں یہ طے کیا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی کی پوری دیکھ بھال کرے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اتنا بھی کردیا جائے تو پاکستان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ جو آبی معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق جتنا پانی ہمیں لینا ہے وہ بھی ہم نہیں لے پا رہے ہیں۔ ہم اپنا حصہ پاکستان کو دیتے رہے ہیں کیونکہ اس پانی کے استعمال کیلئے ہم جموں و کشمیر میں باندھ اور آبی بجلی پروجیکٹس، نہریں وغیرہ نہیں بنا سکے۔ دراصل دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بڑھنے سے ہم ایسا نہیں کرپائے۔ اگر ہم اپنے حصے کے پانی کو پاکستان جانے سے روک دیں تو پڑوسی ملک میں ہائے توبہ مچنا طے ہے۔ پاکستان کے ایک پرائیویٹ چینل پر ایک تجزیہ نگار نے یہ قیاس کیا ہے کہ اگر بھارت سندھو آبی معاہدے کو منسوخ کرتا ہے تو وہاں نیوکلیائی بم گرانے سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت اور عام زندگی میں سندھو آبی معاہدے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس وقت ماہرین نے یہ بات کہی کیوں؟ معاہدے سے پاکستان کو جو پانی ملتا ہے وہ نہ صرف وہاں 90 فیصدذرعی پیداوار میں اہم کردار نبھاتا ہے، بلکہ پنجاب اور سندھ کا پورا علاقہ پینے کے لئے بھی اسی پانی کا استعمال کرتا ہے۔ سندھو آبی معاہدے پر بھارت کی طرف سے کی گئی تھوڑی سی کارروائی بھی وہاں آبی بحران پیدا کرسکتی ہے۔سال 2008ء میں بھارت نے جب بگلیہار باندھ بنانے کی شروعات کی تھی تب پاکستان نے الزام لگایا تھا کہ اس کے پنجاب صوبے میں گیہوں کی پیداوار کم ہونے لگی ہے۔ بھارت کے کشن گنگا پروجیکٹ کے خلاف بھی پاکستان عالمی بینک میں معاملہ درج کرا چکا ہے ۔ بتا دیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1960ء میں سندھو آبی معاہدہ ہوا تھا۔ ورلڈ بینک کی ثالثی کے بعد سابق وزیر اعظم جواہرلال نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خاں نے اس پر دستخط کئے تھے۔ معاہدے کے تحت 6 ندیوں کے پانی کا بٹوارہ طے ہوا جو بھارت سے پاکستان جاتی ہیں۔ 3 مشرقی ندیوں (راوی، ویاس اور ستلج) کے پانی پر بھارت کو پورا حق دیا گیا۔ باقی 3 مغربی ندیوں( جہلم، چناب و سندھو ) کے پانی کے بہاؤ کو بغیر رکاوٹ پاکستان کو دینا تھا۔ بھارت میں مغربی حصے میں بہہ رہی ندیوں کے پانی کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن آبی معاہدے میں طے پیمانوں کے مطابق ان کا قریب20 فیصدی حصہ بھارت کے لئے ہے۔ معاہدے پر عمل کے لئے سندھو کمیشن بنا جس میں دونوں ملکوں کے کمشنر شامل ہیں، وہ ہر چھ مہینے میں جائزہ لیتے ہیں اور تنازعات نپٹاتے ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ کشمیر کے لئے پاکستان کی کوششیں اس بات سے وابستہ ہیں کہ وہاں کی ندیوں کے پانی پر کنٹرول کر سکیں۔ اگر پاکستان کو یہ معاہدہ ختم ہوتا دکھائی دے گا تو وہ کشمیر میں تباہ کن سرگرمیاں تیز کرسکتا ہے۔ پانی کی کمی سے پاکستان اقتصادی طور پر تباہ ہوجائے گا۔ بھارت ۔ پاک کے درمیان جنگ ہونے اور لگاتار کشیدگی کے باوجود یہ معاہدہ برقرار ہے۔ اسے تعاون کے گلوبل ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
دنیا بھر میں بھارت کی ساکھ کو پانی بند کرنے سے نقصان ہوسکتا ہے۔ پانی کو روکنے سے پہلے ان ندیوں کے کنارے بسے شہروں کو ڈوبنے سے بچانے کا بھی انتظام کرنا ہوگا۔ جموں وکشمیر سمیت پنجاب کے بڑے شہر اس کے دائرے میں آجائیں گے۔ بھارت کے پاس فی الحال کوئی اسٹوریج صلاحیت نہیں ہے۔ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کیا تو چین بھی بھارت کے ساتھ وہی کرسکتا ہے۔ ستلج اور سندھو کا عروج چین میں ہے اور چین برہمپتر کے ساتھ بھی وہی کرسکتا ہے۔ ویسے معاہدہ ختم کرنے کی دلیلوں میں یہ بھی دم ہے کہ پاکستان بین الاقوامی اسٹیج پر بھارت کے خلاف دباؤ بنانے کے لئے اس معاہدے کا استعمال کرسکتا ہے۔ بگلہار اور کشن گنگا کے معاملے پر انٹرنیشنل فورم میں جاسکتا ہے۔ وہ جموں و کشمیر میں ترقی کے پروجیکٹ کو روکنے کیلئے اس معاہدے کا استعمال کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ترقی نہ ہونے سے وہاں ناراضگی بھڑکے۔ جموں و کشمیر میں بھی معاہدہ ختم کرنے کی مانگ ہوتی رہی ہے، آخر اس کا حل کیاہے؟ ایک حل یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بھارت مغربی ندیوں کے پانی کو اپنے حق کے مطابق پورا استعمال کرنا شروع کردے۔ معاہدے کے تحت بھارت ۔ پاک کو اطلاع دے کر کافی پانی اسٹور کرسکتا ہے اور بجلی بنا سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کو سخت سندیش جا سکتا ہے۔ پاکستان کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ سرکار اور فوج میں اہم کردار نبھانے والے فوج کا پنجاب صوبہ سندھو کا سب سے زیادہ پانی استعمال کرتا ہے جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخواہ جیسی شمال مغربی سرحدی صوبے جیسے پسماندہ علاقوں کوبرائے نام ہی پانی ملتا ہے۔
(انل نریندر)

27 ستمبر 2016

کیا راہل کی ریلی میں آ رہی بھیڑ ووٹ میں تبدیل ہوگی

براہمن، دلت اور مسلمانوں کے تجزیئے سے لمبے عرصے تک صوبے میں راج کرنے والی کانگریس ایک بار پھر اسی فارمولہ کے بلبوتے پر اترپردیش میں اپنا سیاسی وجود بنائے رکھنے یا یوں کہیں اسے واپس اپنے پالے میں لانے کے لئے دن رات ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی پچھلے کئی دنوں سے کبھی کسان یاترا کررہے ہیں تو کبھی کھاٹ سبھا۔ کسانوں کو پارٹی سے جوڑنے کی مہم اس کوشش کا ایک حصہ ہے۔ کسانوں کے در پر دستک دے کر ان سے سیدھی بات چیت کرکے ان کا ہتیشی ہونے کا پیغام دینے میں راہل لگے ہوئے ہیں۔ کسان یاترا کارسپانس بھی ٹھیک ٹھاک مل رہا ہے۔ ویسے ہمیں اس بار چناوی نظارہ کچھ بدلہ بدلہ سا دکھائی پڑ رہا ہے۔ کانگریس سمیت سبھی بڑی سیاسی پارٹیاں براہمنوں کے سہارے اقتدار حاصل کرنے کی مہم میں لگی ہوئی ہیں۔ قریب 53 فیصدی پسماندہ طبقہ ان میں سے تقریباً 32 فیصد انتہائی پسماندہ طبقہ کی ذاتوں کو اپنے خیمے میں فٹ کرنے کے بعد سبھی پارٹیوں نے اب براہمنوں کوا پنے پالے میں لانے کے لئے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ ان میں خود کو براہمنوں کا سب سے بڑا ہتیشی ثابت کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کانگریس کے پوسٹروں میں پہلی بار راہل گاندھی پنڈت بتائے جارہے ہیں تو اناؤ کے براہمن خاندان سے آئی پنجابی بہو شیلا دیکشت کو پارٹی کا براہمن چہرہ بنا کر بطور وزیر اعلی کی حیثیت سے آگے کیا ہے۔ اس لگن میں تو بھاجپا بھی ہے۔ براہمنوں کی ناراضگی سے بچنے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے 75 سال کی بندش کے باوجود بھاجپا نے کلراج مشرا کو مرکزی کیبنٹ میں بنائے رکھا ہے تو کافی عرصے سے نظرانداز چل رہے شیو پرتاپ شکلا کو راجیہ سبھا میں لے کر براہمنوں کا خیال رکھنے کا پیغام دینے میں پیچھے نہیں ہے۔ جہاں تک بسپا کا سوال ہے تو وہ اپنے واحد ایک براہمن چہرے ستیش چندر مشرا کے بوتے پر 2007 کے دلت براہمن تجزیئے کے ذریعے کرشمے کو دوہرانے کے چکر میں ہے۔ بات ہم راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی کی کررہے تھے صوبے میں جس طرح کے سیاسی اور ذاتی تجزیئے دکھائی دے رہے ہیں اس میں راہل کی ریلیوں میں آنے والی بھیڑ کیا ووٹ میں تبدیل ہوپائے گی ؟ یہ بڑا سوال ہے۔ کسان یاترا میں راہل ۔ اکھلیش سرکار سے زیادہ مودی پر حملہ آور ہیں۔ مودی مخالفت اسمبلی چناؤ میں سیاسی طور پر کانگریس کے لئے بہت زیادہ فائدے مند ہوگی اس پر شبہ ہے۔ 2014ء کے عام چناؤ کے تجربوں کو دیکھتے ہوئے کانگریس کے حکمت عملی ساز بھی بھیڑ کے ووٹ میں بدلنے کو لیکر پوری طرح سے باآور نہیں ہیں، لیکن کسان یاترا کو مل رہی حمایت کو اچھا اشارہ ضرور مانا جارہا ہے۔ راہل گاندھی2004ء سے ہی صوبے میں کانگریس کو کھڑا کرنے کی تمام کوششیں کررہے ہیں ۔فی الحال انہیں زیادہ کامیابی نہیں مل پائی۔ دیکھیں اس بار کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

دہشت گردی کو سب سے زیادہ فنڈنگ سعودی عرب کرتا ہے

دہشت گردی کی فنڈنگ آج ساری دنیا کے لئے ایک چنوتی بن چکی ہے لیکن سب سے بڑی بدقسمتی تو یہ ہے کہ اس پر قابو پانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر چلنے والی تمام کوششوں کے باوجود اس مسئلے پر لگام نہیں لگ پارہی ہے۔ امریکی ماہرین اور ڈپلومیٹوں کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں اسلامی کٹر پسندی کو بڑھاوا دینے کے لئے سعودی عرب سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ یہ ہی نہیں امریکی صدارتی چناؤ کے لئے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن دونوں کی رائے بھی اس پر ایک ہے۔ حالانکہ ویسے دونوں کے نظریات میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن دونوں کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں دہشت گردی اور اسلامی کٹر پسندی و اقتصادی مددگار سعودی عرب ہی ہے۔ امریکہ میں ہوئے 9/11 حملوں میں 19 میں سے15 فدائی حملہ آور سعودی عرب کے شہری تھی۔ تمام دنیا میں کٹر پسند تنظیموں کو سعودی عرب سے کروڑوں کا چندہ ملتا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکہ میں سعودی سرکار پر باقاعدہ مقدمہ چلانے کا ایک بل بھی پاس کیا۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ایک آرٹیکل میں صحافی فرید زکریا نے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے اسلام کی دنیا میں ایک راکھشس پیدا کیا ہے اور عام رائے بن گئی ہے کہ سعودی عرب سخت اور مذہبیت اور دقیانوسی اور اسلامی کٹر پنتھی ہے۔ سعودی عرب پر وہابیت کی تعلیم دینے کا الزام ہے۔ وہابی کٹر پسند اور دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ آئی ایس کے بڑھتے اثر نہیں سعودی عرب کو مرکز میں لاکرکھڑا کردیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ہیں بن لادن جیسے خطرناک دہشت گردوں کو پیدا کیا ہے۔ امریکی صدر براک اوبامہ ے 9/11 حملے میں سعودی عرب حکومت پر مقدمہ چلانے کی منظوری دینے والے بل پر ویٹو کردیاتھا۔ حالانکہ ریپبلکن پارٹی کے اکثریت والی امریکی سینیٹ دو تہائی ووٹ سے اس ویٹو کو خارج کرسکتی ہے اس سے صدارتی چناؤ سے ڈیڑھ ماہ پہلے دونوں پارٹیوں کے درمیان نئی سیاسی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ اوبامہ نے ویٹو کو لیکر صفائی پیش کی ہے اور ان کی ہمدردی متاثرہ کنبوں کے ساتھ ہے لیکن یہ بھی امریکی سرکار اور قومی مفادات کے خلاف ہے ۔اس سے دوسرے دیش بھی دہشت گردی کو حمایت دینے کا الزام لگا کر امریکی حکومت اور افسران پر مقدمے ٹھونک سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ کے دوسرے ایوان بالا سینیٹ اور نچلے ایوان نمائندگان سے 9/11 کی 12 ویں برسی سے کچھ دن پہلے دونوں پارٹیوں کی حمایت سے یہ بل پاس ہوا تھا۔ اسے جسٹس اگینس اسپانسرس آف ٹیررازم ایکٹ کا نام دیا گیا تھا۔ اوبامہ سرکار شاید اس لئے پیچھے ہٹی کیونکہ کورٹ میں گھسیٹے جانے پر جوابی قدم اٹھانے کی سعودی سرکار نے دھمکی دی ہے۔ سعودی نے امریکی معیشت میں سرمایہ کاری اربوں ڈالر نکالنے تک کی دھمکی دی ہے۔ جب تک دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ بند نہیں ہوتی کچھ نہیں ہوسکتا۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...