Translater

10 نومبر 2018

نوٹ بندی نے معیشت کا کیابنٹا دھار

دو برس پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے اچانک آٹھ نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا۔اس کے مضر نتائج دیش کے سامنے تب سے آرہے ہیں۔حکومت اور رزیرو بینک نوٹ بندی کے اثر کو چھپاتی رہی ہے اور وزیر اعظم اور مرکزی وزیر مالیات نوٹ بندی کے فائدہ گناتے تھکتے نہیں ہیں لیکن اب اس کے کچھ خطرناک نتیجے سامنے لانے پر رزیرو بینک مجبور ہو گیا ہے۔ایک آر بی آئی اطلاع کے تحت ہندوستانی ریزرو بینک نے جانکاری دی ہے کہ نوٹ بندی کے بعد واپس آئے 15310.73ارب روپئے مالیت کی کرنسی نوٹ کو ضائع کرنے کی کاروائی مارچ(اسی سال میں آخر ختم ہو چکی ہے)حالانکہ مرکزی بینک نے آر ٹی آئی قانون کی ایک رعایت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بتانے میں معذوری ظاہر کی ہے کہ 5سو اور ہزار روپئے کے بند ہو چکے روپئے کو ضائع کرنے میں سرکاری خزانے سے کتنی رقم خرچ ہوئی ۔آر ٹی آئی کے تحت یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 8نومبر2016کو جب نوٹ بندی کا اعلان کیا گیا تب آر بی آئی کی تصدیق اور ملان کے مطابق 5سو اور ہزار روپئے کے کل 1541795ارب روپئے مالیت کے نوٹ چلن میں تھے۔کرنسی میں تبدیلی کے بعد ان میں سے 153473ارب مالیت کے روپئے کے نوٹ بینکنک سسٹم میں لوٹ آئے۔آر ٹی آئی کے جواب سے صاف ہے کہ نوٹ بندی کے بعد 107,20ارب روپئے مالیت کے چلن میں نوٹ بینکوں کے پاس نہیں آسکے کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر دیش کی معیشت کو تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے منگلوارکو کہا کہ نوٹ بندی دودری برسی پر انہیں عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔کانگیس کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ رزیرو بینک اب بھی پوری سچائی نہیںبتا پارہا ہیکہ بند ہوئے نوٹوں کو ضائع کرنے اور نئے نوٹ چھاپنے میں کتنی رقم خرچ ہوئی ؟کانگریس نے ترجمان منیش تواری نے کہا کہ دو برس پہلے مودی نے آٹھ نومبر کو اچانک نوٹ بندی کا اعلان کر کے عام آدمی کو بھاری پریشانی می ڈال دیا تھا جس کے سبب 100سے زیادہ لوگوں کی بینکوں کے باہر کھڑے کھڑے موت ہو گئی تھی انہوں نے کہا کہ 5سو اور ہزار روپئے نوٹ بند کرنے کا مقصد میں پوری طرح ناکام ہو گئے کانگریس نیتا نے کہا کہ آر بی آئی اور مودی سرکار کا موجودہ ٹکرائو بھی اس نوٹ بندی کا نتیجہ ہے۔سرکار نے نوٹ بندی کے 3مقصد ،کالا دھن ونقلی کرنسی کا خاتمہ اور دہشتگردی کو مالی مدد بند کرنا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن ان میں ایک بھی مقصد پورا نہیں ہوا اور سوائے عام آدمی کو مصیبتوں میں ڈالنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔سرکار کی غلط پالسیوں کے سبب آج کسان ،مزدور،چھوٹے کاروباری سبھی بھاری بہران میں ہیں اس کی اہم وجہ نوٹ بندی ہے۔

(انل نریندر)

اڈوانی جی کے91ویںجنم دن پر بدھائی

جمعرات یعنی 8نومبرکو بھاجپا کے سب سے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی جی کا 91ویںجنم دوس تھا۔انہیں بدھائی دینے والے سب سے پہلے لوگوں میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی تھے ان کے علاوہ بھاجپا صدر امت شاہ ،راجناتھ سنگھ سمیت دیگر بھاجپا نیتائوں نے انہیں مبارکباد دی۔وزیر اعظم نے سر جھکا کر اڈوانی جی کا خیر مقدم کیا۔بی جے پی کو سفر سے چوٹی تک پہنچانے میں اڈوانی جی کا اہم رول رہا ہے۔لیکن آج کی تاریخ میں اڈوانی جی بھاجپا میں الگ تھلگ ہیں ۔اور سرگرم سیاست سے بھی بالکل الگ ہو گئے ہیں۔وزیر اعظم جو جمعرات کو سر جھکا کر خیر مقدم کرتے نظر آئے انہیں مودی نے کچھ مہینے پہلے اسٹیج پر کھڑے اڈوانی جی تک کو نہیں دیکھا ۔ان کا احترام کرنا تو دور وہ بغیر دعا سلام کئے بغیر ہی آگے بڑھ گئے تھے وہ ویڈو دیکھ کر بہت برا لگا تھا۔وزیر اعظم مودی کبھی کافی قریبی ہو ا کرتے تھے۔لیکن 2014میں وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار کے انتخاب کے بعد سے دونوں کے رشتوں میں کڑواہٹ آگئی ایک زمانے میں بزرگ لیڈر لال کرشن اڈوانی کی پورے بھارت میں توتی بولتی تھی۔اور انہیں وزیر اعظم کا مظبوط دعویدار مانا جاتا تھا۔پی ایم کی کرسی تو دور پچھلے دنوں جب صدر کے عہدے کا چنائو ہوا تو ان کا نام اس عہدے کے لئے متوقع امیدواروں کی فہرست میں بھی نہیں رکھا گیا ۔یہ وہی اڈوانی ہیں جنہوں نے 1984میں دو سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی بھاجپاکو دلدل سے نکال کر پہلے سیاست کے مرکز میں پہنچایا اور پھر 1998میں پہلی بار اقتدار کا ذائقہ چکھوایا۔اس وقت جو بیج انہوں نے بوئے تھے۔قاعدہ سے ان کی فصل کاٹنے کا وقت اب تھا لیکن فصل کاٹنا تو دور لال کرشن اڈوانی ہندوستانی سیاست تو کیا بھاجپا کی سیاست میںبھی بے جواز سے ہو گئے۔بھاجپا کو قریب سے دیکھنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ آر ایس ایس کی حمایت پانے کے لئے آپ کا ہارڈ لائنر ہونا ضروری ہوتا ہے لیکن وہیں وزیر اعظم کے عہدہ کی دوڈ میں شامل ہوتا ہے تو وہ اپنی ساکھ کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کی آل انڈیا سطح پر مقبولیت بڑھ سکے۔اڈوانی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔پریشانی بی جے پی کے ساتھ ہمیشہ رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بھاجپا یا اس سے پہلے جن سنگھ یا آر ایس ایس ہندو راسٹر کی آیڈیالوجی کی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ہٹ دھرمی کا اور کٹر پن ان کی آیڈیا لوجی کا حصہ ہے۔دقت یہ ہوتی ہے کہ جب آپ آئینی عہدہ کی دوڈ میں ہوتے ہیں تو آپکو  اس سے باہر نکلنا ہوتا ہے۔بی بی سی کے مطابق اڈوانی کے مخالف رہے آر ایس ایس پر کتاب لکھنے والے اے جی نورانی کہتے ہیں کہ 1984کے چنائو میں جب بی جے پی صرف 2سیٹیں ملی تھیں تو وہ (اڈوانی)بہت بوکھلائے تھے۔انہوں نے پرانے ووٹ حاصل کرنے کا  صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ہندوتو کو دوبارہ جگایا جائے 1984میں بی جے پی پالمپور پرستائو لائی اور پاس ہوا جس میں اڈوانی نے کھل کر بتایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ہماری یہ کوشش ووٹوں میں بدلے ان کے مطابق 1995میں محسوس کیا کہ دیش انہیں وزیر اعظم نہیں بنائے گا اس لئے انہوں نے واجپائی کے لئے گدی چھوڑ دی۔جنا کے بارے میں جو انہوں نے بات کہی تھی کہ انہون نے مزار پر جا کر جو کچھ کیا تھ وہ پاکستانیون کو خوش کرنے کے لئے نہیں تھا۔وہ بھارت میں اپنی ایک اصلاح پسند ساخ بنانے کی کوشش تھی۔وہ کہتے ہیں کہ لیکن ایسا کر کے وہ خود اپنے جال میں پھنس گئے  انہوں نے گجرات دنگوں کے بعد جن مودی کو بچایا انہوں نے ہی انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا ۔ان کا یہ حشر ہوا کہ( نہ خدا ملا نہ وصال صنم )نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔لیکن رام بہادر رائے کا خیال ہے کہ گجرات دنگوں کے بعد اڈوانی نہیں بلکہ دوسرے لوگوںنے مودی کو بچایا تھا ۔رام بہادر رائے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ واجپائی چاہتے تھے کہ نریند مودی استیفہ دیں اور انہوں نے ایک بیان میں مودی کی موجودگی میں ان کو راج دھرم نبھانے کی صلاح بھی دی تھی ۔لیکن واجپائی کو ٹھنڈا کرنے اور اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کے لئے جن دو افراد نے اہم رول نبھایا تھا وہ نام تھے ارن جیٹلی اور پرمود مہاجن ۔واجپائی جب دہلی سے گو ا پہنچے تو ان کے جہاز میں یہ دو لوگ ہی تھے۔اڈوانی تو تھے ہی نہیں انہوںنے اپنے آپ کو سیاست سے بالکل الگ کر لیا تھا۔یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ پارلیمنٹ میں ہر پرگرام میں نظر تو آتے ہیں لیکن کسی مباحثہ میں حصہ کیوں نہیں لیتے ایک بار بھی کسی قومی احمیت کے اشو پر نہیں بولے ۔خیر ہم اڈوانی جی کے جنم دن پر انہیں بدھائی دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کا بنواس ختم ہو۔

(انل نریندر)

09 نومبر 2018

ایران پر نافذ ہویں امریکہ کی سخت پابندیاں

نیوکلیائی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے بعد امریکہ کی ایران پر لگائی گیں سخت پابندیاں پیر سے نافذ ہو گیں۔امریکہ نے مغربی ایشیائی اور اسلامی ملکوں کو بھی ایران سے کاروبار نہ کرنے کی وارنگ دے دی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کا بھروسہ ہے کہ ان پابندیوں سے ایران حکومت کے رویہ میں تبدیلی آئے گی۔راحت کی بات یہ ہے کہ ان پابندیوں سے بھارت اور چین سمیت آٹھ ملکوں کو چھوٹ مل گئی ہے۔ان ملکوں نے امریکہ کو یقین دلایا کہ وہ چھ مہینہ کے اندر ایران سے تیل خرید پوری طرح بند کر دیں گے۔یہ پابندیاں ایران کے بینک سیکٹر اور ایندھن سیکٹر پر نافذ ہوئی ہیں۔وہاں سے تیل برآمدات جاری رکھنے والے یوروپی ایشیائی دیشوں اور کمپنیوں پر جرمانہ لگانے کی بھی سہولت ہے۔ ان پابندیوں سے ایران پر اثر دکھائی دینا شروع ہو گیا ہے۔ضروری چیزوں کی کمی بھی دکھائی دینے لگی ہے۔دوائیوں کے اسٹاک بھی گھٹ گئے ہیں۔مہنگائی بڑھنے لگی ہے۔پچھلی مرتبہ 2016تک پابندیاں لگی ہوئی تھیں جس وجہ سے تیل کی پیداوار آدھی ہوگئی تھی۔بتا دیں کہ امریکہ نے پابندی کیوں لاگو کی ہے؟2015میں سابق صدر براک اوباما کے وقت میں امریکہ اور ایران میں نیوکلیائی سودا ہوا تھا اس میں سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبران نے چین،فرانس،انگلینڈ اور روس شامل ہیں تب ایران کو پابندیوں میں چھوٹ دیتے ہوئے توانائی ،تیل ،برآمدات غذائی اور دوائیاں کا کاروبار دینے کی اجازت دی تھی۔معاہدہ ٹوٹنے سے پابندیاں پھر سے نافذ ہو گئی ہیں ۔پابندیوں کے مطابق جو کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں گی۔ان کو تجارت کی اجازت نہیں ہوگی۔ان پابندیوں کا مقصد ایران کے میزائل اور نیوکلیائی پرگرام پر روک لگانا ہے۔مشرقی  وسطی میں ان کے اثر کو ختم کرنا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا کہ ایران سے تیل خریدنے پر بھارت،چین، جاپان،ا ٹلی، یونان،سائوتھ کویا،تائوان،ترکی کوچھوٹ دی گئی ہے۔یہ چھوٹ اس بنیاد پر ہیکہ وہ دیش ایران سے تیل خرید میں پہلے ہی بھاری مقدار میں کٹوتی کر چکے ہیں امریکہ پہلے چاہتا تھاکہ بھارت سمیت سبھی دیش ایران سے تیل خریدنا پوری طرح بند کر دیں لیکن اس ارادے کی تکمیل ہونا مشکل ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو کچے تیل بازار میں بھاری ہلچل ہونے کا خطرہ تھا۔ممکنہ طور پر یہ غور کر کے ہی کچھ دیشوں پابندیوں سے فی الحال چھوٹ دے دی گئی تاکہ وہ آہستہ آہستہ ایران سے تیل کی خرید بند کردیں ۔جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ ان کا ملک بڑے فخر کے ساتھ پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا کیونکہ یہ بین الااقوامی قواعد کے خلاف ہے۔امریکہ کی تاریخ میں وائٹ ہائوس میں کبھی ایسا شخص نہیں آیا جو قانون اور بین الااقوامی معاہدوں کے اتنا خلاف ہوگا۔روحانی نے کہا کہ یقینی طور سے اس پابندی کا ایران کی معیشت پر گہرا اثر پڑئے گا۔

(انل نریندر)

عام چنائو سے پہلے بھاجپاکو لگا زبردست جھٹکا!

کرناٹک میں 3لوک سبھا اور دو اسمبلی ضمنی چنائو میں کانگریس کی بہتر کارکردگی عام چنائو سے پہلے ایک بڑی کامیابی ہے۔یہ جیت اس لئے بھی اہم ہے کہ اس میں اپوزیشن اتحاد کو ایک ٹانک ملا ہے۔چنائو سے پہلے کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان اختلافات کی بات سامنے آرہی تھی۔اس میں علاقائی پارٹیوں کو بھی ایک طرح سے طاقت ملی ہے۔اسمبلی چنائو میں بے شک کانگریس اور جے ڈی ایس الگ الگ لڑی تھیں لیکن چنائو کے بعد دونوں کواتحاد کرنے کا بہتر نتیجہ ملا اس سے اب دونوں نے مل کر لوک سبھا چنائو لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ضمنی چنائو میں جیت سے خوش کرناٹک کے وزیر اعلی ایم ڈی کمار سوامی اور کانگریس پردیش پردھان دنیش گنڈو رائو نے کہا کہ وہ بھاجپا کے خلاف 2019لوک سبھا چنائو ساتھ مل کر لڑیں گی ۔دونوں نیتائوں نے چنائوی کامیابی کا سہرا (جنتا دل ایس کی پالسیوں کو دیا ہے)اس شاندار کامیابی سے خوش کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے کہا کہ کانگریس کو 2019چنائو میں بھاجپا کے خلاف مجوزہ مہا گٹھ بندھن کی رہنمائی کرنی چاہئیے۔کیونکہ یہ اپوزیشن کو ٹکر دینے والی پارٹی ہوگی اور سب سے زیادہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرئے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سبھی علاقائی پارٹیوں کو اگلے چنائو میں کانگریس کو حمایت دینے کے لئے ایک ساتھ آنا چاہئے۔بتا دیں کہ کرناٹک میں تین لوک سبھا اور دو ودھان سبھا سیٹوں پر ضمنی چنائو ہوئے تھے۔کانگریس نے لوک سبھا کی تین سیٹوں اور ودھان سبھا کی تین میں سے دو پر شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔جبکہ بھاجپا شیموگا سیٹ بچانے میں کامیاب رہی ہے۔یہ سیٹ اپوزیشن کے لیڈر بی ایس یدی یروپا کا گھر مانی جاتی ہے ۔ان کے بیٹے کی وائی راگھویندر نے سخت مقابلے میں مدھو بنگا رپہ پر 52148ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔یہ ضمنی چنائو 2019میں ہونے والے لوک سبھا چنائو سے پہلے بھاجپا کے لئے ایک جھٹکا مانا جائے گا۔جو بیلاری لوک سبھا سیٹ بھاجپا کی مضبوط سیٹ مانی جا رہی تھی اس میں بھی پارٹی کو ہار کا منھ دیکھنا پڑا ہے۔اس سیٹ کو خدائی سند کے متنازع ریڈی بھائیوں کا مضبوط گڑھ مانا جاتا تھا۔ اس سیٹ پر کانگریس امیدوار وی ایس اوگرپا 243161بھاری ووٹ سے کامیاب رہے۔انہوں نے بھاجپا کی شانتا کو ہرایا۔اس سیٹ سے سابق ایم پی بی شری ملو کی بہن ہیں ۔بتا دیں کہ 2014کے لوک سبھا چنائو کے بعد ابھی تک تیس لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی چنائو ہوئے ہیں۔بھاجپا مسلسل اپنی جیتی ہوئی سیٹیں ایک ایک کرکے ہارتی جا رہی ہے۔نریندر مودی کی رہنمائی میں 282سیٹوں پر کمل کھلانے والی بھاجپا 1984کے بعد سے تیس سال میں اپنے دم پر اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی بنی تھی۔2014کے بعد سے تیس لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی چنائو ہوئے ہیں۔جن میں سے 16سیٹیں بی جے پی کے قبضہ میں تھی لیکن اب محض 6سیٹیں ہی بی جے پی بر قرار رکھ سکی۔یعنی اس نے دس سیٹیں گنوا دیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا میں بھاجپا کی سیٹیوں کو نمبر 282سے گھٹ کر 272رہ گیا ہے۔جو بھاجپا کے لئے ایک بڑی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔

(انل نریندر)

07 نومبر 2018

ایران پر نافذ ہویں امریکہ کی سخت پابندیاں

نیوکلیائی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے بعد امریکہ کی ایران پر لگائی گیں سخت پابندیاں پیر سے نافذ ہو گیں۔امریکہ نے مغربی ایشیائی اور اسلامی ملکوں کو بھی ایران سے کاروبار نہ کرنے کی وارنگ دے دی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کا بھروسہ ہے کہ ان پابندیوں سے ایران حکومت کے رویہ میں تبدیلی آئے گی۔راحت کی بات یہ ہے کہ ان پابندیوں سے بھارت اور چین سمیت آٹھ ملکوں کو چھوٹ مل گئی ہے۔ان ملکوں نے امریکہ کو یقین دلایا کہ وہ چھ مہینہ کے اندر ایران سے تیل خرید پوری طرح بند کر دیں گے۔یہ پابندیاں ایران کے بینک سیکٹر اور ایندھن سیکٹر پر نافذ ہوئی ہیں۔وہاں سے تیل برآمدات جاری رکھنے والے یوروپی ایشیائی دیشوں اور کمپنیوں پر جرمانہ لگانے کی بھی سہولت ہے۔ ان پابندیوں سے ایران پر اثر دکھائی دینا شروع ہو گیا ہے۔ضروری چیزوں کی کمی بھی دکھائی دینے لگی ہے۔دوائیوں کے اسٹاک بھی گھٹ گئے ہیں۔مہنگائی بڑھنے لگی ہے۔پچھلی مرتبہ 2016تک پابندیاں لگی ہوئی تھیں جس وجہ سے تیل کی پیداوار آدھی ہوگئی تھی۔بتا دیں کہ امریکہ نے پابندی کیوں لاگو کی ہے؟2015میں سابق صدر براک اوباما کے وقت میں امریکہ اور ایران میں نیوکلیائی سودا ہوا تھا اس میں سیکورٹی کونسل کے مستقل ممبران نے چین،فرانس،انگلینڈ اور روس شامل ہیں تب ایران کو پابندیوں میں چھوٹ دیتے ہوئے توانائی ،تیل ،برآمدات غذائی اور دوائیاں کا کاروبار دینے کی اجازت دی تھی۔معاہدہ ٹوٹنے سے پابندیاں پھر سے نافذ ہو گئی ہیں ۔پابندیوں کے مطابق جو کمپنیاں ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھیں گی۔ان کو تجارت کی اجازت نہیں ہوگی۔ان پابندیوں کا مقصد ایران کے میزائل اور نیوکلیائی پرگرام پر روک لگانا ہے۔مشرقی  وسطی میں ان کے اثر کو ختم کرنا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا کہ ایران سے تیل خریدنے پر بھارت،چین، جاپان،ا ٹلی، یونان،سائوتھ کویا،تائوان،ترکی کوچھوٹ دی گئی ہے۔یہ چھوٹ اس بنیاد پر ہیکہ وہ دیش ایران سے تیل خرید میں پہلے ہی بھاری مقدار میں کٹوتی کر چکے ہیں امریکہ پہلے چاہتا تھاکہ بھارت سمیت سبھی دیش ایران سے تیل خریدنا پوری طرح بند کر دیں لیکن اس ارادے کی تکمیل ہونا مشکل ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو کچے تیل بازار میں بھاری ہلچل ہونے کا خطرہ تھا۔ممکنہ طور پر یہ غور کر کے ہی کچھ دیشوں پابندیوں سے فی الحال چھوٹ دے دی گئی تاکہ وہ آہستہ آہستہ ایران سے تیل کی خرید بند کردیں ۔جواب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ ان کا ملک بڑے فخر کے ساتھ پابندیوں کی خلاف ورزی کرے گا کیونکہ یہ بین الااقوامی قواعد کے خلاف ہے۔امریکہ کی تاریخ میں وائٹ ہائوس میں کبھی ایسا شخص نہیں آیا جو قانون اور بین الااقوامی معاہدوں کے اتنا خلاف ہوگا۔روحانی نے کہا کہ یقینی طور سے اس پابندی کا ایران کی معیشت پر گہرا اثر پڑئے گا۔

(انل نریندر)

عام چنائو سے پہلے بھاجپاکو لگا زبردست جھٹکا!

کرناٹک میں 3لوک سبھا اور دو اسمبلی ضمنی چنائو میں کانگریس کی بہتر کارکردگی عام چنائو سے پہلے ایک بڑی کامیابی ہے۔یہ جیت اس لئے بھی اہم ہے کہ اس میں اپوزیشن اتحاد کو ایک ٹانک ملا ہے۔چنائو سے پہلے کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان اختلافات کی بات سامنے آرہی تھی۔اس میں علاقائی پارٹیوں کو بھی ایک طرح سے طاقت ملی ہے۔اسمبلی چنائو میں بے شک کانگریس اور جے ڈی ایس الگ الگ لڑی تھیں لیکن چنائو کے بعد دونوں کواتحاد کرنے کا بہتر نتیجہ ملا اس سے اب دونوں نے مل کر لوک سبھا چنائو لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ضمنی چنائو میں جیت سے خوش کرناٹک کے وزیر اعلی ایم ڈی کمار سوامی اور کانگریس پردیش پردھان دنیش گنڈو رائو نے کہا کہ وہ بھاجپا کے خلاف 2019لوک سبھا چنائو ساتھ مل کر لڑیں گی ۔دونوں نیتائوں نے چنائوی کامیابی کا سہرا (جنتا دل ایس کی پالسیوں کو دیا ہے)اس شاندار کامیابی سے خوش کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے کہا کہ کانگریس کو 2019چنائو میں بھاجپا کے خلاف مجوزہ مہا گٹھ بندھن کی رہنمائی کرنی چاہئیے۔کیونکہ یہ اپوزیشن کو ٹکر دینے والی پارٹی ہوگی اور سب سے زیادہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کرئے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سبھی علاقائی پارٹیوں کو اگلے چنائو میں کانگریس کو حمایت دینے کے لئے ایک ساتھ آنا چاہئے۔بتا دیں کہ کرناٹک میں تین لوک سبھا اور دو ودھان سبھا سیٹوں پر ضمنی چنائو ہوئے تھے۔کانگریس نے لوک سبھا کی تین سیٹوں اور ودھان سبھا کی تین میں سے دو پر شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔جبکہ بھاجپا شیموگا سیٹ بچانے میں کامیاب رہی ہے۔یہ سیٹ اپوزیشن کے لیڈر بی ایس یدی یروپا کا گھر مانی جاتی ہے ۔ان کے بیٹے کی وائی راگھویندر نے سخت مقابلے میں مدھو بنگا رپہ پر 52148ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔یہ ضمنی چنائو 2019میں ہونے والے لوک سبھا چنائو سے پہلے بھاجپا کے لئے ایک جھٹکا مانا جائے گا۔جو بیلاری لوک سبھا سیٹ بھاجپا کی مضبوط سیٹ مانی جا رہی تھی اس میں بھی پارٹی کو ہار کا منھ دیکھنا پڑا ہے۔اس سیٹ کو خدائی سند کے متنازع ریڈی بھائیوں کا مضبوط گڑھ مانا جاتا تھا۔ اس سیٹ پر کانگریس امیدوار وی ایس اوگرپا 243161بھاری ووٹ سے کامیاب رہے۔انہوں نے بھاجپا کی شانتا کو ہرایا۔اس سیٹ سے سابق ایم پی بی شری ملو کی بہن ہیں ۔بتا دیں کہ 2014کے لوک سبھا چنائو کے بعد ابھی تک تیس لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی چنائو ہوئے ہیں۔بھاجپا مسلسل اپنی جیتی ہوئی سیٹیں ایک ایک کرکے ہارتی جا رہی ہے۔نریندر مودی کی رہنمائی میں 282سیٹوں پر کمل کھلانے والی بھاجپا 1984کے بعد سے تیس سال میں اپنے دم پر اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی بنی تھی۔2014کے بعد سے تیس لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی چنائو ہوئے ہیں۔جن میں سے 16سیٹیں بی جے پی کے قبضہ میں تھی لیکن اب محض 6سیٹیں ہی بی جے پی بر قرار رکھ سکی۔یعنی اس نے دس سیٹیں گنوا دیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا میں بھاجپا کی سیٹیوں کو نمبر 282سے گھٹ کر 272رہ گیا ہے۔جو بھاجپا کے لئے ایک بڑی پریشانی کا سبب بن سکتا ہے۔
(انل نریندر)

06 نومبر 2018

پاک حمایتی آتنکیوں کے نشانے پر اب جموں سمانگ!

جموں کے سمانگ کے علاقہ کشٹواڑ میں پردیس بھاجپا کے سیکریٹری انل پریہرو ان کے بڑے بھائی اجیت پریہر کے قتل کا واقعہ چونکانے والا ہے۔اس سے ایک ساتھ کئی خطرناک اشارے مل رہے ہیں۔اس آتنکوادی واردات کاالزام لشکر طیبہ پر لگایا گیا ہے۔کشٹواڑمیں پچھلے کافی دنوں سے دہشتگردی کی کوئی واردات نہیں ہوئی تھی لیکن یہ تازہ واردات اس لئے بھی خطرناک ہے جس سے لگتا ہے کہ آتنکوادی اس علاقہ میں بھی سر گرم ہو چکے ہیں ۔وادی میں تو ان کا تانڈو چل رہا ہے۔اب جموں علاقہ میں بھی اس کی موجودگی درج ہو گئی ہے۔اس حملہ میں مارے گئے بھاجپا نیتا و ان کے بھائی کے معاملہ میں دو پرائیوٹ افسران کو حراست میں لیا گیا ہے ۔معاملہ کی جانچ کے لئے جموں و کشمیر حکومت نے ایس آئی ٹی بنائی ہے۔بھاجپا پردیس یونٹ کے سیکریٹری اور ان کے بھائی کا قتل جمعرات کی رات اس وقت کر دیا گیا جب وہ پرانے ڈی سی پی آفس کے باہر بنی اسٹیرشنری کی اپنی دکان بند کر کے لوٹ رہے تھے۔کشواڑ کے سنئیر ایس پی راجیندر گپتا نے بتایا کہ پولس نے دو پرائیوٹ سیکورٹی ملازمین اوم پرکاش اور ساحل کمار کو حراست میں لیا ہے۔انل پریہر کو یہ دونوں پی ایس او ان کی حفاظت کے لئے دئے گئے تھے۔لیکن حملے کے وقت وہ نیتا کے ساتھ نہیں تھے۔یہ حملہ آتنکوادیوں نے کیا ہے اس کے پیچھے کون سی تنظیم ہے فی الحال اس کی کوئی جانکاری نہیں ہے لیکن شبہہ ہے کہ یہ لشکر طیبہ نے کروایا ہے۔لیکن سچائی جانچ کے بعد ہی پتہ چل سکے گی۔اس کے پہلے بلدیاتی چنائو میں پورے جموں سمانگ کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔اور بھاجپا کو شاندار کامیابی ملی تھی۔یہ بالکل ممکن ہے ۔پردیش کے ایک بڑے نیتا کو مار کر بھاجپا حمایتوں کے ساتھ و جموں کی جنتا کو بھی خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں۔کچھ دنوں پہلے خفیہ ایجنسی کے ایک افسر سے بھاجپا کے نیتا ملنے آئے تھے جنہوں نے بتایا تھا کہ آتنکوادی بھاجپا لیڈروں کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں ۔یہ اطلاع انتظامیہ کے پاس تھی تو پریہر یا ان کے جیسے دوسرے لیڈروں کی حفاظت کا کیا انتظام کیا گیا؟اس وقت پردیش میں صدر راج نافذ ہے اس لئے سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزام تراشی کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔یہ قتل یقینی تکلیف دہ ہے لیکن کسی بھی صورت میں آتنکوادیوں کے ارادے صاف نہ ہونے کے سارے دعوے خوخلہ ثابت ہوئے ہیں ۔اور ان کے حمایتیوں نے صاف کر دیا ہے کہ اب ان کے نشانے پر جموں بھی ہے۔

(انل نریندر)

بری طرح پھنسی مودی سرکار،ادھر کنواں اُدھر کھائی!

رافیل جنگی سودے سے مچے طوفان کی آگ کی گرماہٹ اب مرکزی سرکاراور دیش کی سپریم جانچ ایجنسی سی بی آئی کو لگنے لگی ہے۔ایک طرف تو سپریم کورٹ نے 15سال پہلے بند ہو چکے بو فرس معاملہ کی پھر سے چانچ سے صاف انکار کر دیا ہے وہیں عدالت نے رافیل جنگی جہاز کی قیمت اور آفسیٹ سے متعلق عرضیوں پر عدالت نے جو رویہ اپنایا ہے اس سے ممکنہ طور پہ حکومت کو احساس ہو گیا کہ عدالت معاملہ کو اس شکل میں نہیں لے رہی ہے جیسا کہ وہ چاہتی ہے۔سپریم کور ٹ نے سرکار سے دس دنوں کے اندر سیل بند لفافے میں 36رافیل جنگی جہاز کی قیمت بتانے کو کہا ہے۔ساتھ ہی سودے سے جڑے ہندوستانی آفسیٹ ساجھے دار کی پوری تفصیل کورٹ اور عرضی گزاروں کو مہیا کرانے کہ ہدایت دی ہے۔حالانکہ عدالت نے صاف کہہ دیا ہے کہ عرضی گزاروں کو وہی جانکاری دی جائے جنہیں جائز طریقہ سے عام کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی،جسٹس یویو للت اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے حکومت کو فرانس سے خریدے جا رہے جنگی جہاز کی قیمت بتانے کو کہا ۔اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپا ل نے کہا کہ رافیل کی قیمت کو پارلیمنٹ سے بھی شیئر نہیں گیا ہے۔انہوں نے کہا کچھ معلومات راز قانون کے دائرے میں آتی ہیں اس لئے انہیں جنتا کے سامنے نہیں بتایا جا سکتا ۔اس پر بنچ نے کہا کہ وہ قیمت نہیں بتانا چاہتے تو وہ حلف نامہ داخل کریں کورٹ نے سرکار سے کہا کہ خفگی اور سیاسی اہمیت جانکاری کو چھوڑ کر سودے پر فیصلہ کارروائی کی تفصیل کو پبلک کرئے اس معاملے کہ سماعت دیوالی کے بعد 11نومبر سے شروع ہوگی۔سماعت کے دوران عرضی گزار وکیل ایم ایل شرما نے عدالت سے درخواست کی کہ 5ریاستوں میں اسمبلی چنائو ہونے والے ہیں ۔لہذا سماعت چنائو تک کے لئے ٹال دی جائے اس پر بنچ نے کہا کہ چنائو سے ہمارا کیا لینا دینا۔کہاں چنائو ہو رہے ہیں ۔اس لئے عدالت کو سماعت کو روک دینی چاہئے؟ہمارے لئے یہ تو محض ایک مقدمہ ہے۔سرکار کو حلف نامے کے ذریعہ قیمت کے راز کو بتانا مشکل ہوگا۔کیونکہ سابق وزیر دفاع منوہر پریکر نے پہلے کہا تھا کہ 120جنگی جہازوں کی قیمت 90ہزار کروڑ روپئے ہوگی۔اس طرح ایک جہاز کی قیمت 715کروڑ روپئے ہوتی ہے۔وزیر مملکت دفاع نے پارلیمنٹ میں اس کی قیمت 670کروڑ بتائی تھی۔جبکہ فرانس کی کمپنی داسالٹ نے اپنی سالانہ روپورٹ میں دام 1670کروڑ روپئے بتائے تھے۔کورٹ نے اس معاملے میں 4عرضیوں پر سماعت کر رہی ہے۔جس میں ایک عرضی وکیل پرشانت بھوشن ،یسونت سنہااور ارن شوری کی بھی ہے،تینوں نے کورٹ کی نگرانی میں اس معاملے کے جانچ سی بی آئی سے کرانے کی درخواست کی ہے۔اس پر بنچ نے کہا پہلے سی بی آئی اپنا گھر تو ٹھیک کرئے۔فرانس کی داسالٹ کمپنی کے ساتھ ہوئے جنگی جہازوں کی خرید کے معاہدے پر مسلسل سوال اُٹھ رہے ہیں۔کانگریسی لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ رافیل سودا وزیر اعظم اور صنعت کار انل امبانی کی ساجھے داری ہے۔راہل نے داسالٹ کمپنی کے افسر پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے نقصان میں چل رہی انل امبانی کی کمپنی کو 284کروڑ روپئے دیے تھے۔رافیل گھوٹالے میں کرپشن کے یہ واضح ثبوت ہیں۔دا سالٹ نے اس پیسے کے لین دین پر مہر بھی لگا دی ہے۔راہل گاندھی نے بتایا فرانس کے صدر نے انہیں بتایا کہ رافیل جنگی جہاز کی قیمت کو راز میں رکھنا سودے کا حصہ نہیں تھا۔راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم ایماندار ہوتے تو خود سے رافیل کی جانچ کو تیار ہو جاتے۔اور وزیر اعظم کو سامنے آکراس سودے کے بارے میں سچائی بتانی ہوگی۔یہ تو جب ہی پتہ چلے گا تب ہی سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت چلے گی۔لیکن اتنا تو طے ہے کہ رافیل جنگی جہاز سودے میں آفسیٹ پارٹنر کی حیثیت سے انل امبانی کی کمپنی شامل ہے اگر سرکاریں دس دن میں معلومات عرضی گزاروںکو نہیں دیتیں تو اس کی بھی وضاحت کرنی ہوگی۔اس طرح حکومت کے سامنے جب صورت حال کھڑی ہو گئی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو جواب دنیا آسان نہیں ہے۔عدالت کی اس بارے میں منفی رائے سیاسی طور سے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔سرکار کے سامنے رافیل جنگی جہاز سودا اب اپوزیشن کے ساتھ ساتھ عدالت میں ہونے والی سماعت سے پیدا چنوتیوں سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بنانے کی حالت پیدا ہو گئی ہے۔رافیل سیاسی اور قانونی مورچہ بندی اتنی بڑھ گئی ہے اس کو تب نہیں روکا جا سکتا جب تک عدالت اس پر قطعی رائے نہیں دے دیتی ۔سرکار کی مشکل یہ بھی ہے کہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چنائو سر پر ہیں ۔کانگریس اور اپوزیشن پارٹیاں بھی اس میں سیاسی فائدہ دیکھ رہی ہیں ۔کانگریس کا جہاں تک سوال ہے وہ سرکار سے بو فرس سودے کا بدلہ لینا چاہتی ہے اس لئے وہ ثابت کرنے پر تلی ہے کہ اگر ہم بد عنوان تھے۔تو تم بھی دودھ کے دھلے نہیں ۔اس حمام میں ہم دونوں میں ننگے ہیں۔یہ سرکار کہتی ہے کہ ہم کھائیں نہ کھانے دیں گے۔رافیل جنگی سودے میں یہ بات غلط ثابت ہونے کا امکان ہے۔اس لئے پردھان منتری نریندر مودی کو اپنے ساکھ پر حملہ لگتا ہے۔

(انل نریندر)

04 نومبر 2018

امریکہ کا پیچھا نہ چھوڑتا یہ گن کلچر!

امریکہ میں یہ جو گن کلچر ہے اس کی دیش بہت بڑی قیمت قیمت چکا رہا ہے۔آئے دن امریکہ میں فائرنگ کی خبریں آتی رہتی ہیں۔کچھ دن پہلے ہی امریکہ کے پٹس برگ شہر میں ہتھیار سے مسلہ ایک شخص نے یہودیوں کی عبادت گاہ میں گھس کر گولیاں برسائیں جس میں 11لوگوں کی موت ہوگئی۔اور چار پولس والے سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے تھے۔امریکہ کی تاریخ میں یہودیوں پر یہ اب تک کا سب سے بڑا خطرناک حملہ ہے۔فائرنگ کرنے والے کی پہچان 46سالہ روبرٹ بووس کے طور پر ہوئی ہے۔جس نے پٹس برگ کے گرجا گھر ٹری آف لائف کواڈی گریشن سیناک پر پولس کی جوابی کاروائی میں زخمی ہونے کے بعد سرینڈر کر دیا۔بھیڑ پر ہوئی فائرنگ کوصدر ٹرمپ نے یہودی مخالف مہم بتایااور ایسے فائرنگ کرنے والوں کیلئے موت کی سزا کی مانگ کی ٹرمپ نے حکم دیا کہ وائٹ ہائوس ،پبلک مقامات فوجی چوکیوں ،بحریہ کے مراکز اور جہازوں پر لگے جھنڈے متوفی کے تیں غم کا اظہار کرنے کے لئے 31اکتوبر تک جھنڈے جھکے رہے۔امریکہ کا یہ گن کلچر سے دیش کو بھاری قربانی دینی پڑ رہی ہے۔مشکل یہ ہے کہ امریکہ میں ہتھیار بنانے کی لابی اتنی طاقتور ہے کہ وہ اس کسی طرح کے کنٹرول کو کرنے نہیں دیتے۔سابق صدر براک اوبامانے اس گن کلچر پر پوری طرح پابندی لگانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکے حال ہی میں ٹائم میگزین نے گن گلچر کے سلسلہ میں امریکیوں کی رائے جاننے کے لئے تین شہروں میں 245لوگوں سے خیالات جانے ۔امریکہ میں بندوق رکھنے کی روایت بہت پرانی ہے۔آئین میں نظریہ اور اظہار رائے کی آزادی پہلے اور گن رکھنے کا حق دوسرے نمبر پر ہے۔زیادہ تر امریکیوں کے پاس ایک سے زیادہ بندوق ہیں۔اوسطا ہر روز چھ بچے غیر ارادتا گولی چلنے سے مرتے ہیں یا زخمی ہوتے ہیں۔2012سے 2016تک ہر برس 35ہزار امریکی فائرنگ سے مارے جاتے ہیں۔دیش میں اجتمائی قتل عام کی تعداد بڑھ رہی ہے۔سب سے بڑی جان لیوا فائرنگ 11جون2016کو اورلینڈو کے پاس پلس نائٹ کلب میں ہوئی تھی وہاں 49لوگ مارے گئے تھے۔اکتوبر2017کو لاس ویگس میوزک فسٹیول میں 58لوگوں کا قتل عام ہوا تھا۔اس گن گلچر کے جاری رہنے میں پیسے کا بہت بڑا رول ہے ۔فائر آرمس انڈسٹری 17ارب ڈالر کی ہے۔جب براک اوباما صدر بنے تھے تب افواہ پھیلی تھی کہ بندوق رکھنا غیر قانونی ہو جائے گا اس کے بعد بندوق اور ہتھیار وں کی فروخت جم کر ہوئی تھی۔ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد فروخت کم ہوئی ہے۔امریکہ میں شہریوں کے پاس ہتھیاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔سال 1995میں 17کروڑ ہتھیار تھے جو 2015میں بڑھ کر 26کروڑ 50لاکھ ہو گئے۔

(انل نریندر)

پاک چیف جسٹس:ہم جج صرف مسلمانوں کے نہیں ہیں!

پاکستان میں بدھ کے روز سپریم کورٹ نے ایش نندا  معاملے میں عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو بری کر دیا ۔اس کے بعد ہی پورے دیش میں تشدد اور مظاہروں کا دور شروع ہو گیا۔کٹر پسند تنظیموں کے لیڈر سڑکوں پر آگئے اور چیف جسٹس کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔کئی مقامات پر آگ لگانے کے واقعات ہوئے۔ لاہور، کراچی، پیشاور ،فیصل آباد سمیت دس بڑے شہروں میں پولس نے دفعہ 144لگا دی ہے۔کئی شہروں میں موبائل سروس بھی بند کر دی گئی۔پنجاب صوبہ میں ہائی الرٹ اعلان کر دیا گیا۔دس نومبر تک ریلی کرنے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔کچھ ریاستوں میں اسکول اور ٹرین سروس بھی بند کی گئی ۔کٹر پسندوں کا کہنا ہے کہ جج اور فوج کے چیف مسلمان ہی نہیں ہیں۔حالات اتنے خراب ہو گئے کہ وزیراعظم عمران خان کو سامنے آنا پڑا انہوں نے کہا جج صاحبان نے جو فیصلہ دیا ہے وہ شرعی قانون کے مطابق ہے اسے سبھی کو تسلیم کرنا چاہئے۔انہوں نے تشدد برپا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی وارنگ بھی دی ہے۔توہین مذہب کا معاملہ 2010کا ہے۔چار بچوں کی ماں آسیہ کا مسلم پڑسیوں سے جھگڑا ہو گیا تھا۔آسیہ کی غلطی صرف اتنی تھی کہ اس نے کوئیں کے پاس مسلم خاتون کے لئے رکھے گلاس سے پانی پی لیا۔تب مسلمانوں نے کہا کہ گلاس جھوٹا ہو گیا۔آسیہ انہیں سمجھانے لگی کہ عیسا مسیح اور پیغمبر محمدؐ کا موازنہ کر دیااور اس کے بعد پڑسیوں نے ان پر توہین مذہب قانون کے تحت مقدمہ درج کر دیا ۔1860میں برطانوی حکومت نے مذہب سے جڑے جرائم کے لئے یہ قانون بنایا تھا۔تب اس قانون کا مقصد مذہبی تشدد کو روکنا تھا۔1982میں ڈیکٹیٹر ضیاء الحق نے ایش نند ا قانون کو نافذ کیا تھا۔پی پی سی نے 245بی جوڑ کر یہ قانون بنایا۔جمعرات کو پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف لگے الزام کورٹ میں ثابت نہیں ہوتے ہیں۔تو کورٹ اس شخص کو سزا کیسے دے سکتی ہے۔میں اور بینچ کے جج پیغمبرؐکو پیار کرتے ہیں۔ہم ان کے احترام میں قربانی دینے کو تیار ہیں۔لیکن ہم صرف مسلمانوں کے جج نہیں ہیں۔ ہم سبھی کو برابر انصاف دیتے ہیں۔بتا دیں کہ جنرل ضیاء الحق نے 1982میں قانون میں ترمیم کر قرآن کی دفعہ 295سی جوڑی گئی اور پیغمبر محمدؐ کی بے عزتی پر عمر قید یا موت کی سزا کی سہولت شامل کی گئی ۔یہ قانون 71ملکوں میں موجودہے۔2011میں پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاسیر کو ان کے گارڈ نے قتل کر دیا تھا۔سلمان نے آسیہ کی رہائی کی وکالت کی تھی۔بعد میں وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی کو قتل کر دیا گیا۔بھٹی کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا۔1986سے پہلے پاکستان میں توہین مذہب کے معاملے ہوتے تھے۔1927سے 1985تک صرف 58معاملے عدالت میں آئے لیکن اس کے بعد سے 4ہزار سے زیادہ معاملے عدالت پہنچے ہیں۔حالانکہ توہین مذہب کے معاملہ میں ابھی تک کسی کو پھانسی نہیں دی گئی۔زیادہ تر کی موت کی سزا معاف ہو گئی اور رہا ہونے کے بعد آسیہ بی بی نے کہا کہ اس بات پر بھروسہ نہیں کر پا رہی ہوں کہ مجھے آزادی مل گئی ہے۔اس دیش میں ہماری زندگی بہت مشکلوں سے گذری ہے۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...