Translater
31 دسمبر 2020
وکیل محمود پراچہ کے خلاف مقدمہ درج ہوا!
نظام الدین تھانہ میں مشہور وکیل محمود پراچہ اور دیگر لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیاہے ۔ان پر سرکاری کام میں مداخلت کرنے اور پولیس ٹیم کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا الزام ہے ۔محمود پراچہ کے دفتر میں دہلی پولیس اسپیشل کی ٹیم کا سرچ آپریشن 11گھنٹے چلا ۔دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور پولیس کے حکام کے مطابق نارتھ ایسٹ دہلی میں ہوئے دنگوں میں ایک فساد متاثرکوغلط بیان دینے کو کہاگیا ہے حلف نامہ جس نوٹری کے نام پر بنایا گیا ان کی تین سال پہلے 2017میں موت ہو چکی ہے اس کی بیوی وکیل ہے نوٹری کو دہلی حکومت سے نوٹری لائسنس ملا ہوا تھا ۔عدالت میں بحث کے دوران اس کی پول کھل گئی ۔نوٹری کی بیوی نے عدالت میں بیان دیا کہ ان کے پتی کے موت ہو چکی ہے اس نے کوئی حلف نامہ نہیں بنایا ا س پر کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر ایس این سریواستو کو اسپیشل سیل و کرائم برانچ کو اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کے احکامات دئیے ۔عدالت کی ہدایت پر 22اگست 2020کو اسپیشل سیل نے مقدمہ درج کر جانچ شروع کر دی ۔پولیس کا کہنا ہے محمود پراچہ نے جانچ میں تعاون نہیں دیا اور پولیس کے پوچھنے پر پراچہ نے کمپیوٹر اور اس کے پاس ورڈ کے بارے میں نہیں بتایا ۔پولیس نے کمپیوٹر و لیپ ٹاپ وغیرہ کو کنگھالا الزام ہے کہ وہاں دیگر لوگوں کو بلا لیا گیا تھا اسپیشل سیل کی طرف سے نظام الدین تھانہ میں شکایت درج کردی گئی اسپیشل سیل نے اس بارے میں صفائی دیتے ہوئے کہا پراچہ اور جاوید دفتر پر چھاپہ ماری عدالت کے حکم پر کی گئی ہے ۔15گھنٹے تک چلے سرچ آپریشن کے دوران پولیس ٹیم کے ساتھ ایک غیر پولیس گواہ وردی میں پولیس کانسٹبل اور مہیلا پولیس کانسٹبل سمیت ڈی سی پی منیشا چندر وغیرہ افسران بھی موجود تھے چھاپہ ماری کی ویڈیو گرافی کی گئی ہے ۔وکیل محمود پراچہ نے کہا ان کے دفتر میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ذریعے چھاپہ ماری کرنے کے دوران ویڈیو گرافی کو محفو ظ رکھنے کے لئے عدالت میں ایپلی کیشن فائل کی ہے ۔اتنا ہی نہیں انہوں نے اپنے خلاف درج معاملے کی جانچ کی لگاتا ر نگرانی کی بھی درخواست کی ہے عدالت میں اس معاملے میں پولیس کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے ۔پٹیالہ ہاو¿س کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ انشل سنگھل نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کر جواب مانگا تھا ۔اور اگلی سماعت پانچ جنوری تک کے لئے ملتوی کر دی ۔دہلی دنگوں کے ملزمان کی پیروی وکیل محمود پراچہ کررہے ہیں پورے معاملے کی سماعت متعلقہ عدالت میں ہوگی اور وہ عدالت میں ضبط سامان کو دلوانے اور نا ویڈیو کی کاپی دلوانے سے متعلق مانگ پر غور کرے گی اس معاملے میں عدالت میں دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا اور جانچ افسر کو ضبط سامان و ویڈیو کو ساتھ لانے کو کہا ہے معاملہ عدالت میں ہے اوراب اس پر کسی طرح کی رائے زنی کرنا صحیح نہیں ہے ۔محمود پراچہ اگر بے قصور ہے تو یقینی طور سے وہ اپنی پیروی کرکے اپنے آپ کو بے قصور ثابت کر سکتے ہیں اگر ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی تو بھی عدالت فیصلہ کر لے گی ۔
(انل نریندر)
بغیر ڈرائیور کے میٹرو ٹرین کتنی محفوظ ہے؟
وزیر اعظم نریند ر مودی نے مجینٹا لائن پر چل رہی دیش کی پہلی بغیر ڈرائیور میٹر و ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل جی کی کوششوں سے دیش میں پہلی میٹرو ٹرین شروع ہوئی اس وقت 2014میں ہماری سرکار تھی اور یہ اس وقت صرف پانچ شہروں میں میٹرو سروس تھی جو آج بڑھ کر میٹرو سروس جاری ہے اور 2025تک ہمارا نشانہ میٹرو سروس کو پچیس شہروں میں شروع کرنا ہے دہلی میں میٹرو بغیر ڈرائیور کے آٹو میٹک میٹرو چلنے لگی ہے آج آپ کی دہلی میٹرو دنیا میں مشہور شہروں میں شمار ہوگئی ہے اپنی دہلی تیزی سے ترقی کر رہی ہے دیش کی پہلی ڈرائیور لیس میٹرو 38کلو میٹر لمبی میجینٹا لائن پر چل رہی ہے 390کلو میٹر میں دہلی میٹرو کا نیٹورک دہلی سمیت آس پاس کے شہر نوئیڈا ،گوروگرام ، فریدآباد ، غازی آباد جیسے شہروں کو جوڑتا ہے ۔دہلی میٹرو دیش کی سب سے بڑی سروس ہے ۔پہلی بار اس کوچلانے کا کام 24دسمبر 2002کو شاہدرہ اور تیس ہزاری اسٹیشنوں کے درمیان 8.4کلو میٹر کے راستے پر ہوا تھا ۔میجٹا لائن دہلی مین جنکپوری ویسٹ اور نوئیڈا میں بوٹینیکل گارڈن کو جوڑتی ہے ۔اس لائن پر ہی پہلے ڈرائیور لیس ٹرین تکنیک کا آغاز ہوا ۔اور اس کو 2021کے درمیان تک پنک لائن، مجلس پارک -شیو وہار کے درمیان شروع کرنے کا منصوبہ ہے وزیراعظم نے ڈرائیور لیس ٹرین کے آغاز کے بعد کہا کہ تین سال پہلے میجنٹا لائن کے افتتاح کا بھی مجھے سوبھاگیہ حاصل ہوا اورآج پھر اسی روٹ پر دیش کی پہلی آٹو میٹک میٹرو کا افتتاح کرنے کا موقع ملا ہے یہ دکھاتا ہے کہ بھارت کتنی تیزی سے اسمارٹ سسٹم کی طرف بڑھ رہا ہے وہیں ڈی ایم آر سی کے مطابق ابھی بھی زیادہ تر ٹرین کو ریموٹ کنٹرول سے آپریشن روم سے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے ۔جسے آپریشن کنٹرول سینٹر یا او سی سی کہتے ہیں یہان سے انجینئروں کی ٹیمیں نیٹ ورک میں ریل ٹائم ٹرین موومنٹ پر نظررکھتی ہیں اور یہ ائیر ٹریفک کنٹرو ل کی طرح ہوتا ہے ڈی ایم آر سی کے پاس ابھی تین او سی سی ہیں جنہیں دو میٹرو ہیڈ کوارٹر کے اندر اور ایک شاستری پارک میں ہے ۔ڈی ایم آر سی کا کہنا ہے ڈرائیور لیس ٹرین پوری طرح محفوظ ہے میٹرو کو چلانے سے جڑے کام پہلے سے ہی آٹو میٹک ہیں ہائی ریزولیشن کے کیمرے لگ جانے سے ٹریک پر کیبن سے نظر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی اس نئے پلان کے مطابق ٹریک اور ٹرین کے اوپر سے گزرنے والی تاروں پر لگاتا ر نظررکھی جاتی ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں فوراً قدم اٹھایا جاسکے گا ۔ریلوے سیفٹی کمشنر جس نے 18دسمبر کو ڈرائیور لیس ٹرین چلانے کی کلیرنس دی تھی ان کا یہ یقینی کرنے کا حکم ہے کہ کمان سنٹر پر سب کچھ دکھائی دے اور ٹرین پر لگے کیمروں کو ابھی سے آزاد رکھا جائے ۔ڈی ایم آر سی کے مطابق یومیہ دیکھ بھال اور جائزے کے لئے ایک مشیر بھی مقرر کیا ہے اس کی رپورٹ ڈی ایم آر سی ، سی ایم آر ایس کو چلانا شروع کرنے کے بعد کمان سنٹرپر انفارمیشن کنٹرولر ہوں گے جو کہ مسافروں اور بھیڑ کی نگرانی کریںگے اس کے علاوہ ٹرین سے جڑی ساری جانکاریوں اور سی سی ٹی وی کی بھی لگاتار مانیٹرنگ کی جائے گی مسافروں میں ڈرائیور لیس ٹرینوں میں بیٹھنے کا ڈر تو رہے گا لیکن وقت کے ساتھ جب عادی ہو جائیں گے کہ ٹرین محفوظ ہے تو یہ ڈر بھی ختم ہو جائے گا ۔
(انل نریندر)
30 دسمبر 2020
آزادی کی لڑائی دیکھی ، اب میں کسانوں کے مفاد کےلئے لڑوں گی
کسان تحریک ہر نئے دن وسیع شکل اختیار کررہی ہے۔ اس وقت لاکھوں ان داتا دارالحکومت کی سرحدوں پر موجود ہیں۔ ان میں چھوٹے بچوں سے لے کر بڑی تعداد میں بزرگ بھی شامل ہیں۔ ایسی ہی ایک خاتون جسویندر کور ہیں ، جنہوں نے 15 سال کی عمر میں 1945 کی آزادی کی جدوجہد میں انگریزوں کا مقابلہ کیا تھا۔ اب وہ دہلی کے ٹکری بارڈر پر چلنے والی تحریک میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مرکزی حکومت زرعی قانون کو واپس نہیں لیتی ، وہ احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ جسویندر کور (90) کا تعلق دہلی کے نانگلوئی علاقے سے ہے اور وہ اصل میں پنجاب کے ضلع سنگرور کی رہنے والی ہیں۔ وہ سخت سردی اور کورونا کے خوف کے باوجود پچھلے ایک ہفتہ سے ٹکری سرحد کے کنارے کسانوں کی مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح انہوں نے ملک کی آزادی کی جنگ لڑی ، اسی طرح وہ کسانوں کی تحریک میں کسانوں کے مفاد کے لئے بھی لڑیں گی۔ وہ کسان کا وارث ہے اور اپنی چوتھی نسل کو دیکھ رہا ہے۔ ان کے قبیلے میں 1 ‹0 لوگ ہیں۔ سبھی کسی نہ کسی طرح کھیتی باڑی سے منسلک ہیں۔ جسوندر کور کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے ٹی وی پر کسان تحریک کی خبریں دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ سردی کی سردی میں بھی کسان سڑکوں پر پھنس چکے ہیں۔ بہت سارے کھانے فراہم کرنے والے اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اسے یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اس لڑائی میں تحریک میں شامل ہوں گی اور قوانین کی واپسی تک کسانوں کی حمایت جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں کاشتکاری ہوتی تھی ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ مبارک ہے جسوندر کور کے جذبات۔ یہاں تک کہ اس عمر میں بھی وہ کھڑی ہے۔
(انل نریندر)
بھاجپا کا یہ قدم اتحادی دھرم کے خلاف ہے!
اروناچل پردیش میں جنتا دل (متحدہ) کے چھ ممبران اسمبلی نے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات پر کوئی اثربھلے نہ پڑے ، لیکن بی جے پی کے اس قدم نے اتحاد میں عدم اعتماد کی بنیادضرور ڈال دی ہوگی۔ اروناچل میں جنتا دل (متحدہ) کو چونکا دینے والی ، اس کے سات ایم ایل اے اتحادیوں میں سے چھ نے حکمراں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ نیز ، پیپلز پارٹی آف اروناچل پردیش (پی پی اے) کے ایک ایم ایل اے نے بھی پارٹی کو بدل کرکے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ یہ تبدیلی پنچایت اور بلدیاتی انتخابات کے انتخابات کے اعلان سے ایک روز قبل ہوئی ہے۔ جنتا دل (یو) ، جس نے 2019 کے اسمبلی انتخابات میں 15 نشستیں حاصل کیں ، بی جے پی کے بعد دوسری سب سے بڑی پارٹی بن گئیں ، سات سیٹیں جیت کر۔ بی جے پی نے 41 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس تبدیلی کے بعد ، بی جے پی کو اب 60 سیٹوں والی اسمبلی میں 48 ایم ایل اے مل چکے ہیں ، جبکہ کانگریس اور این سی پی کے پاس چار چار ہیں۔ جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے کہا کہ یہ اتحاد مذہب کی روح کے خلاف ہے۔ جے ڈی یو کے لئے ، یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ بہار میں اتحاد کے باوجود بی جے پی نے یہ فیصلہ کیوں لیا۔ کے سی تیاگی کا کہنا ہے کہ جے ڈی یو اروناچل پردیش میں دوستانہ حزب اختلاف تھا۔ دونوں جماعتیں این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ یہ ایسی حالت میں کیوں ہوا ، صرف بی جے پی ہی بتا سکتی ہے۔ در حقیقت ، بی جے پی شمال مشرق میں خود کو مضبوط بنانے کی مستقل کوشش کر رہی ہے۔ آسام میں ، بوڈولینڈ علاقائی کونسل کے انتخاب میں ، بی جے پی نے اتحادی بوڈو پیپلز مورچہ چھوڑ دیا اور یونائیٹڈ پیپلز پارٹی لبرل اور گانا تحفظ پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ یہ بھی بحث کی جارہی ہے کہ جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان اتحاد صرف بہار تک ہی محدود ہے۔ 2019 اروناچل پردیش اسمبلی انتخابات میں ، جے ڈی یو نے 15 نشستوں پر مقابلہ کیا اور سات سیٹیں جیت کر سب کو حیران کردیا۔ جے ڈی یو نے ریاست کے دارالحکومت اتانگر میں بھی کامیابی حاصل کی۔ تاہم ، دوسری بڑی پارٹی ہونے کے باوجود ، جے ڈی یو نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کے بجائے باہر سے حکومت کی حمایت کی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی بڑی پارٹی نے اقتدار میں رہتے ہوئے اپنے اتحادیوں کے ایم ایل اے کو شامل کیا ہے۔ سات میں سے چھ ایم ایل اے کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے ، بی جے پی نے جے ڈی یو کو ایک بڑا پیغام دیا ہے۔ کانگریس اور آر جے ڈی نے جے ڈی یو کے ممبران کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی بی جے پی پر طنز کیا ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ بی جے پی اپوزیشن پارٹی کو توڑ رہی ہے ، لیکن اروناچل پردیش کے واقعے نے یہ واضح کردیا ہے کہ اب اس نے اتحادیوں کو توڑنا شروع کردیا ہے۔ہے اسی دوران ، آر جے ڈی نے کہا کہ بی جے پی نے پارٹی میں شامل ہوکر جے ڈی یو ایم ایل اے کو مار ڈالا ہے اور اتحاد مذہب پر حملہ کیا ہے۔ اس سے این ڈی اے کے دیگر حلقوں خصوصا کم ایم ایل اے والے لوگوں کو حیرت کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اور اب ہر کوئی پریشان اور سوچ رہا ہوگا کہ شاید ان کی پارٹی بی جے پی پر کانچ نہیں ڈال سکے گی۔ یہ ناقابل فہم ہے کہ جب 60 نشستوں والی اسمبلی میں بی جے پی کے پاس 41 سے زیادہ نشستیں (41) تھیں تو انہوں نے جے ڈی یو کے ممبروں کو کیوں توڑا؟ اروناچل میں جے ڈی یو کو بڑا دھچکا لگنا فطری ہے۔ جے ڈی یو نہ صرف مرکز میں این ڈی اے کا حصہ ہے ، بلکہ بہار میں بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بھی چلاتی ہے۔ کیا نتیش نہیں چاہتے کہ ان کی پارٹی بی جے پی میں ضم ہوجائے؟
(انل نریندر)
اس لئے شرد پوار کو یو پی اے کا صدر بنایا جانا چاہئے!
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو قومی صدر شرد پوار کو متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کا صدر بنانے کی بات کو پندرہ دن میں دوسری بار اٹھایا گیا ہے۔ ان کی 80 ویں سالگرہ سے ٹھیک پہلے ہی بات چیت بھی ہوئی تھی۔ اب شیوسینا نے اپنے” اخبار سامنا“ کے ذریعہ شرد پوار کا نام لئے بغیر یو پی اے کی ذمہ داری کی وکالت کی ہے۔ ہفتہ کو سامنا کے اداریہ میں جہاں کانگریس کی قیادت پر یو پی اے کے اندر کھینچ تان کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ ہی ، پوار کی تعریف میں قصیدے گڈھے گئے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کی سربراہی میں یو پی اے (یو پی اے) کی حالت کسی این جی او کی طرح نظر آتی ہے۔ اس میں کون سی پارٹی شامل ہے کیا کرتی ہے۔ یو پی اے کے اتحادی کسان کسان تحریک کو سنجیدگی سے لیتے دکھائی نہیں دیتے۔ پوار کے زیرقیادت این سی پی کے سوا ، یو پی اے کے دیگر اتحادیوں کے درمیان کوئی حرکت نہیں ہے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ ö پوار کی ایک آزاد شخصیت ہے۔ دیگر جماعتیں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن میں پے ایم نریندر مودی شامل ہیں۔ بنگال میں بی جے پی سے لڑنے والی ممتا بنرجی نے حال ہی میں ان سے بات کی ہے۔ کانگریس مہاراشٹرا کی شیوسینا کی زیرقیادت حکومت میں شامل ہے ، لہذا سمن نے کانگریس کے صدر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی براہ راست تنقید کی بجائے صرف یو پی اے کی کوتاہیوں کو ہی اجاگر کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ کانگریس کے پاس ایک سال سے سابق صدر نہیں ہے۔ سونیا یو پی اے کی چیئرپرسن ہیں اور کانگریس کی سربراہی کر رہی ہیں۔ لیکن آس پاس کے پرانے رہنما پوشیدہ ہوچکے ہیں۔ موتی لال وورا اور احمد پٹیل جیسے لوگ اب نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں کانگریس کی قیادت کون کرے گا؟ اس بارے میں الجھن ہے کہ یو پی اے کا مستقبل کیا ہے۔ جس طرح یو پی اے میں کوئی نہیں ہے ، یو پی اے میں بھی کوئی نہیں ہے۔ لیکن بی جے پی پوری صلاحیت کے ساتھ اقتدار میں ہے اور ان کی نریندر مودی جیسی مضبوط قیادت اور امیت شاہ جیسے سیاسی منتظم ہیں۔ سمن میں لکھا گیا تھا کہ اپوزیشن نے جس طرح کی حکمت عملی اپنائی ہے وہ مودی اور شاہ کے خلاف غیر موثر ہے۔ یو پی اے میں قیادت کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ بہت سی جماعتیں جیسے ترنمول کانگریس ، شیوسینا ، اکالی دل ، مایاوتی کی بی ایس پی ، اکھلیش کی ایس پی ، آندھرا میں جگن کی وائی ایس آر کانگریس ، چندرشیکھر راو¿ کی ٹی آر ایس ، نوین پٹنائک کی بی جے ڈی وہ حزب اختلاف میں ہیں لیکن کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے میں شامل نہیں ہوئے۔ جب تک یہ پارٹیاں یو پی اے میں شامل نہیں ہوں گی اپوزیشن حکومت کو تمیز نہیں دے سکے گی۔ چہرے پر نشانہ بننے کے بعد ، کانگریس نے اب جوابی کارروائی کی ہے۔ شیوسینا کو ہدایت دیتے ہوئے کانگریس کے رہنما اور سابق سی ایم اشوک چوان نے کہا کہ جو پارٹی یو پی اے کا حصہ نہیں ہے اسے کانگریس کو یوپی اے کی قیادت کے بارے میں مشورہ نہیں دینا چاہئے۔ سونیا جی کی قیادت قابل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خود شرد پوار نے واضح کر دیا ہے کہ وہ یو پی اے کی کمان سنبھال نہیں لیں گے۔ اسی دوران ، کانگریس کے رہنما نسیم خان نے بھی شیوسینا پر کہا کہ پارٹی نے مہاراشٹرا میں کامن کم سے کم پروگرام کی بنیاد پر شیوسینا کی حمایت کی ہے۔ شیوسینا یوپی اے کا حصہ نہیں ہے ، لہذا شیوسینا کو یوپی اے کے بارے میں اپنے خیالات بیان کرنے کا حق نہیں ہے اور شیوسینا کو اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہئے۔
(انل نریندر)
29 دسمبر 2020
کرسمس پر امریکہ کے علاقے نیش ولے میں دھماکہ !
کرسمس کے دن 25دسمبر کو صبح صبح امریکہ کے نیش ولے شہر میں ایک سڑک پر دھماکہ ہو ایہ بہت زبردشت تھا جس سے آس پاس کی عمارتوں کی کھڑکیوں کے سیسے توٹے اور کئی عمارتوں کو نقصان ہوا اس میں تین افرا د بھی زخمی ہوئے امریکی جانچ ایجنسی ایب بی آئی کے سابق افسر نے اس دھماکے کو دہشت گردانہ کاروائی بتایا پولس کے ترجمان ڈون ایرون کا کہنا ہے کہ دھماکہ صبح سویرے 6:30پر ہوا اس میں زخمی تین لوگوں کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا اور معاملے کی ایف بی آئی نے جانچ شروع کر دی ہے ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر اینڈریو میکوے کے مطابق دھماکے کی جانچ ممکنہ دہشت گردانہ واردات کے اینگل سے کی جانی چاہئے ان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پولس کو نشانہ بنانا مقصد رہا ہوگا حالانکہ یہ نہیں بتایا کہ کرسمس کو دیکھتے ہوئے یہ دھماکہ کیا گیا ہوگا ۔ ایک شہر کے ایک چشم دید نے بتایا کہ موقع واردات کے آس پاس پیڑ گرے تھے اور کھڑیوں کے سیشے ٹوٹے پڑے تھے اگر یہ دہشت گردانہ واردا ت ہے تو یہ سنگین معاملہ ہے امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لئے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ اگر پھر بھی دھماکے ہوتے ہیں تو یہ افسوس ناک بات ہے ۔
(انل نریندر)
ریٹرو اسپکٹیوٹیکس معاملوں میں حکومت ہند کو بڑا جھٹکا
ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس کا معاملہ مرکزی حکومت کے گلے کی ہڈی ثابت ہورہا ہے اور معاملے میں ووڈافون سے قریب 20ہزار کروڑ روپئے کا مقدمہ ہارنے کا بعد اب بھارت سرکار برطانوی کمپنی کیرن اینرجی سے 10247کروڑ روپئے کے ٹیکس کا مقدمہ بھی ہار گئی ہے ۔نیدر لینڈ کے ایک ٹریبونل نے اس معاملے کے کیرن کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے عدالت نے کہا کہ اس نے بھارت سرکار کے خلاف میں وصولی کا عدالت میں کیس جیت لیا ہے جس میں ریٹرو اسپکیٹو ٹیسٹ کی شکل میں 10247کروڑ روپئے مانگے گئے تھے تین ججوں کی بنچ نے حکم دیا کہ 2006-07میں کیرن کے ذریعے بھارت کے کارو بار کے اندرونی روح پھونکنے پر بھارت سرکار کی یہ رقم دینے کا دعویٰ مناسب نہیں ہے حکومت ہند کی جانب سے مقرر ایک جج بھی بحث میں شامل ہو ا بھارت سرکار سے یہ بھی کہا کہ کمپنی کا جو پیسہ اس کے پاس ہے وہ سود سمیت کمپنی کو واپس کیا جائے حکومت نے اس کمپنی کا ٹیکس ڑیفنڈ روک رکھا ہے اس میں ساتھ ہی منافع بھی ضبط بھی کیا ہوا ہے بقایہ ٹیکس کی ادائیگی کے لئے کچھ شیئر بھی بیچ دیئے گئے ہیں ۔ حالانکہ بھارت سرکار اس فیصلے خلاف اپیل کر سکتی ہے اس سے پہلے ٹریبونل نے ووڈا فون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کمپنی سے ٹیکس کی شکل میں قریب 22ہزار کروڑ روپئے کی مانگ کو غلط قرار دیا تھا ۔ دراصل 2012اس وقت کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس سے متعلق قانون کو منظوری دے دی تھی جس کے تحت کمپنیوں سے کئے گئے سودوں کی بنیاد پر کیپٹل گین ٹیکس وصولا جاسکتا ہے ۔ووڈا فون اور کیرن سے جنس سودوں کو لیکر مانگ کی گئی وہ اس قانون کے وجود میں آنے سے پہلے کے تھے اسی سال ستمبر میں بین الاقوامی ماتحت عدالت نے ووڈا فون سے ٹیکس وصولی اور نیدر لینڈ کی کمپنی میں ہوئے باہمی سرمایہ کاری معاہدے میں دی گئی مباسب اور یکساں برطاو¿ کی گارنٹی کی خلاف ورزی مانا اور ٹیلی کمیو نیکیشن کمپنی کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کے احکامات دیئے در اصل بھارت سرکار کا صاف ماننا ہے ٹیکس سسٹم دیش کی سرداری سے جڑا ہے اس میں باہر ی مداخلت قبول نہیں کی جاسکتی ۔ٹریبونل میں ووڈا فون اور کیرن جیسے ریٹرو ریسپیکٹیو کے ایک درجن معاملوں پر سما عت ہورہی ہے قانونی ماہرین کا کہنا ہے ووڈا فون کے معاملے کی نظیر کو دھیان رکھتے ہوئے ان معاملوں میں بھی بھارت سرکار کے خلاف فیصلہ سنایا جا سکتا ہے ۔ آخر یہ کمپنیاں بھارت سے باہر کیوں لڑنا پسند کرتی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ہندوستانی عدلیہ نظام میں بار بار دبدبہ ہے اور وہ غیر ملکی وکیلوں اور قانونی فرموں کو دیش میں وکالت کرنے سے روکتی ہیں ۔ اس وجہ سے کمپنیوں کو لگتا ہے کہ وہ اپنے لئے بڑھیاں وکیل کھڑا نہیں کرسکتی دوسری وجہ یہ ہے کہ کمپنیوں جلد فیصلے کی تمنا رہتی ہے چونکہ مقدمہ لمبا کھنچنے سے دونوں فریقوں کو نقصان ہوتا ہے پھر انہیں لگتا ہے کہ ہماری عدالتوں پر سرکاری دباو¿ہوتا ہے ۔
(انل نریندر)
تھکادوبھگا دو پالیسی پر کام کر رہی ہے حکومت!
حکومت نے کسانوں کو پھر خط لکھا ہے اور بات چیت کےلئے بلا یا ہے۔ کسان اور سرکار مین بات چیت ہونے والی ہے دونوں ایک دوسرے کو اب تک سمجھ چکے ہیں ۔ احتجاجی کسانوں نے حکومت سے ان باتوں کا جواب مانگا ہے جس کو انہوں نے شروع سے ہی اٹھایا ہے سرکار ان مسئلوں پر نہ تو بات چیت کر رہی ہے اورنہ ہی ان بوتوں کو مانا دور کی بات وزیر اعظم کے حکم پر سرکار کا ہر لیڈر آج کل جنتا کو ان قوانین کے بارے میں سمجھانے میں نکلا ہے اور وزیر اعظم ہر تقریر میں ان قوانین کی اچھائیوں کو گنانے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں پر بھی الزام لگاتے ہیں کہ یہ بھولے بھالے کسانوں کو ورغلا رہی ہیں اگر کسان اپوزیشن لیڈروں سے گمراہ ہورہا ہے جنہیں میڈیا ویسی توجہ نہیں دیتا تو پارٹی کے وزیر اور مقامی لیڈروں کی بات کون سنے گا ؟دوسرا اگر اپوزیشن پارٹیوں میں ورغلانے کی اتنی ہمت ہوتی تو وہ ڈیڑھ سال پہلے ہوئے عام چناو¿ میں کامیاب نہ ہوجاتے ؟کیا اپوزیشن پارٹیوں کی ساخ لاکھ کسانوں کو سردی میں سڑکوں پر بھی اسی عظم سے تکلیف سہنے سے مجبور کر سکتی ہے ؟اقتدار کی کی نیت یہ ہے کہ اس کے ہوشیار نیتا بھی کئی بار غلطیاں کرتے رہتے ہیں اور آخر تک انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کہنا کیا تھا؟مثال دیکھیں کینڈا میں ان کسانوں کے رشتہ دار نے جو خود ہی کسانوں کے کنبوں سے ہیں جو مالی مدد بھیج رہے ہیں اس پر کچھ وزیر اس کو غیر ملکی فنڈ بتا کر آندولن کو عوام میں داغ دار کرنا چاہتے ہیں وہ یہ نہیںدیکھ رہے ہیں کہ کون سے اسباب اس تحریک کو انوکھا بنا رہے ہیں ؟سرکار یہ کیوں نہیں سمجھ رہی کہ یہ کسانوں کے وجود کی لڑائی ہے ۔ اور سرکار نے انہیں گزر بسر کا کوئی دوسرا متبادل نہیں دیا کانگریس نے دعویٰ کیا کہ مرکزی سرکار ان داتاو¿ں کو تھکاو¿اور بھگا دو کی پالیسی پر کام کر رہی ہے کانگریس کے جنرل سیکریٹری رندیپ سرجےوالا نے اخبار نویشوں سے کہا کہ 21دن بڑے سخت سردی میں دیش کا کسان دہلی کے دروازے پر انصاف کی درخواست کر رہا ہے اب تک 44کسانوں کی شہادت ہوچکی ہے مگر سرمایہ داروں کی پچھل لگو مودی سرکار کا دل نہیں پسیج رہا ہے انہوں نے دعویٰ کہ وزیر اعظم مودی اور بھاجپا سرکار کسانوں کو تھکا دو اور بھگا دو کی پالیسی پر کام کر رہی ہیں وزیر اعظم ٹی وی پر صفائی دیتے ہیں جبکہ ان کے وزیر خطوں کی دھائی دیتے ہیں، مگر مٹھی بھر سرمایہ داروں کی خدمت گار سرکار کسانوں کی دشمن بن گئی ہے کڑوا سچ یہ ہے کہ مودی سرکار سیاسی بیمانی ،ہٹ دھرمی اور داو¿ں پیچ کا سہار الیکر مسئلہ کا حل نہیں کرنا چاہتی کسانوں کے راستے میں سڑک خودوانے والے کسانوں پر سردی میں پانی برسانے والے اور لاٹھی برسانے والے وزیر اعظم مودی اب پھر سمان ندھی کا ڈھونگ رچ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا آپ آج کسانوں کو دہشت گرد اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ خالستانی بتا رہے ہیں اور آپ الٹا خود ورغلا رہے ہیںاپوزیشن نہیں،وزیر زراعت نے بھی اپنے خط میں کسانوں کو سیاسی کٹ پتلی تک کہہ دیا ۔
(انل نریندر)
27 دسمبر 2020
وزیر اعظم نریندرمودی کو منھ بولا بھائی ماننے والی کریمہ بلوچ نہیں رہیں !
بلوچستان کی جانی مانی سیاسی رضا کار اور بلوچ اسٹوڈینٹس آرگانزیشن کی سابق صدر کریمہ بلوچ کی لاس کنیڈا کے ٹورنٹو شہر میں ملی وہاں کی صحافی صبا اعجاز نے بی بی سی کو بتایا کریمہ کی پولس نے تصدیق کردی ہے کریمہ بلوچ کے خاندان اور دوستوں نے بتایا کہ ان کی لاش پولس کے پاس تھی اس کے بعد اس کے پوسٹ مارتم کے بعد لاش کو دے دیا گیا کریمہ بلوچ کی موت کے اسباب کو پتہ نہیں چل سکا وہیں اس کی موت کے خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر اسکی موت کی جانچ کی مانگ ہونے لگی بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ٹویٹ کیا سماجی کارکن کریمہ بلوچ کی موت ٹورنٹو میں ہونا بے حد تکلیف دہ ہے اور معاملے کی جانچ قصور واروں کو سزا ملنی چاہئے 37سالہ کریمہ بلوچ کنیڈا میں بطور رفیوجی رہ رہیں تھیں بی بی سی نے انہیں دنیا کی سو سب سے طاقت ور عورتوں کی فہرست میں شامل کیا تھا ۔ کریمہ بلوچ سال2005میں اپنے بلوچستان کے شہر تربت میں اس وقت سرخیوں میں آئیں جب لا پتہ ایک نوجوان کی پر اسرار تصویر ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیں یہ شخص ان کا قریبی رشتہ دار تھا اس لوگ کچھ لوگ ہی کریمہ کو جانتے تھے کہ یہ نقاب پوش خاتون کون ہے کریمہ بلوچ کے ماں باپ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن ان کے چچا اور مامو بلوچ سیاست میں کافی سر گرم رہے بی ایس او کے سینئر نائب صدر ذاکر مزید کے لاپتہ ہونے کے بعد کریمہ کو تنظیم کا صدر بنایا گیا وہ بی ایس او کی پہلی خاتون صدر بنیںتنظیم کے لئے وہ مشکل دور تھا جب اس تنظیم کے لیڈر اچانک غائب ہورہے تھے کچھ چھپ گئے تھے اور کچھ نے الگ راستے اختیار کرلئے بلوچستان کی آزادی کی مانگ کرنے والی ایک تنظیم وی ایس او آزاد پر پاکستان کی حکومت نے سال 2013 میں پابندی لگا دی تھی ان حالات میں بھی کریمہ بلوچ نے تنظیم کو سرگرم رکھا اور بلوچستان کے دور دراج علاقوں میں تنظیم کی پہچان بنائی کریمہ بلوچ ایسی پہلی خاتون لیڈر تھیں جنہوں نے احتجاجی مظاہروں کا تربت سے کوئیٹا تک سڑکوں پر لائیں انہوں نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا تھا ان کا احتجاج لوگوں کو زبرا غائب کرنے اور ریاست کی کاروائیوں کے خلاف ہے سال 2008میں ایک ریلی کے لئے دہشت گرد انسداد قانون کے تحت الزامات لگائے گئے اور بھگوڑا تک قرار دے دیا گیا اس کے بعد ان پر فرنٹیر فورس سے رائفل چھیننے اور لوگوں کو اکسانے کا الزام لگاگیا جب پاکستان میں حالات خراب ہوگئے تو وہ کنیڈا چلی گئیں جہاں انہوں نے سیاسی پناہ لی اب ان کی موت سے بلوچیوں کے لئے تحریک کو دھکا لگا ہے ان کے بلوچ نیشنل مومنٹ نے کریمہ بلوچ کی موت پر چالیس دن کے سوگ کاا علان کیا ہے ۔ کریمہ بلوچ نے کچھ سال پہلے رکچھا بندھن کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کے لئے اپیل کی تھی بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر ثناءاللہ بلوچ نے ٹویٹ کیا کہ کریمہ کی اچانک موت ہونا ایک قومی ٹریجڈی سے کم نہیں دنیا کے سب سے محفوظ دیش کینڈا میں ایک بلوچ بیٹی کے غائب ہونے اور قتل سے وابستہ سارے حقائق سامنے آنے چاہئے کریمہ بلوچ کے غائب ہونے والے افرادکی مضبوط آواز تھیں اب وہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں اس دکھ کےلئے الفاظ نہیں ہیں ۔
(انل نریندر)
کسان آندولن کو مل رہا ہے جن سمرتھن !
نئے مرکزی قوانین کو منسوخ کرانے اور ایم ایس پی کی گارنٹی کی مانگ کو لیکر جاری کسان آندولن انتہا پر پہونچ گیا ہے اسے عوامی جن سمرتھن مل رہا ہے ۔ اور آندولن کو بڑھاوا دینے کےلئے آرٹیسٹ جوش جگانے میں لگ گئے ہیں ۔ پنجابی گلوکار اور کھلاڑی سندھو بارڈر پہونچے انہوں نے کسانوں کے حق میں آواز بلند کی اور مرکزی سرکار سے درخواست کی کسانوں کی سبھی مانگیں مان لینی چاہئے کسان آندولن کے طئیں لوگوں کی رغبت بڑھتی جارہی ہے ۔ پنجاب کا رہنے والا ایک کھیتی مزدور 370کلو میٹر سائیکل چلا کر سندھو بارڈر پہونچا اس کا نام 36سالہ سکھ پال بازوا ہے موگا ضلع کا باشندہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر یہ قانون واپس نہیں لئے گئے تو ان کا زندگی کا گزر بسر مشکل ہوجائے گا دو دن تک سائیکل چلا کر یہاں پہونچے اور وہ مشکل سے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں ۔ اس لئے موٹر سائیکل یا ٹرین سے آنا مشکل تھا اور مالی تنگی کے سبب وہ سائیکل سے ہی یہاں آئے ہیں۔ وہ اپنے خاندان میں اکیلے کمانے والے ہیں ایک اور ایسے ہی کھیتی مزدور 67سالہ امرجیت سنگھ 265کلومیٹر کا سفر طے کر کے دھرنے کی جگہ پہونچے ان کا تعلق پٹیالہ سے ہے اور پنجاب کے سینچائی محکمے میں چیف انجینئر رہ چکے ہیں ان کے ساتھ دس اور کسان سائیکل سے یہاں پہونچے ہیں۔ مظاہرے کو پچھلے کئی دنوں سے ٹی وی پر دیکھ رہے تھے۔ اس لئے انہوں نے بھی آندولن میں شامل ہونے کا فیصلہ لیاسندھو بارڈر پر سرکار کے خلاف جاری کسان تحریک کے کئی روپ دیکھنے کو مل رہے ہیں کوئی تو کئی کلومیٹر سائیکل چلا کر پہونچ رہا ہے تو کوئی نعرے بازی اور ہاتھوں میں جھنڈے لیکر سرکار کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کر رہے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو ضرورت مند لوگوں کے لئے بلیڈ ڈونیٹ کر رہے ہیں ۔ سرکار ان کی مانگوں کو مانے اس کے لئے وہ لوگ اپنے خون سے خط لکھ کر تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کی مانگ کر رہے ہیں ۔ خون سے خط لکھنے والوں میں کے بارے میں بھائی دھنیہ جی مشن سیوا سوسائیٹی کے پردھان کرن جیت سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے پیر کو یہاں ضرورت مند لوگوں کے لئے بلیڈ ڈونیٹ کیمپ لگوایا ہے جس میں بڑی تعداد میں کسان بھائیوں نے اپنا خون دیا انہوں نے کہا ہم خون سے لکھا یہ خط کسان تنظیموں کے ممبران کو دے دیتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ پی ایم تک ان خطوط کو پہونچانے کا وعدہ کرتے ہیں ۔مظاہرے کی جگہ پر کئی ایسی چیزیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں جو لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں انہی میں سے ایک ہیںدھان فصل کی اور کسان کی پینٹنگ جو قریب پانچ فٹ لمبی ہے اور پندرہ فٹ چوڑی ہے اس کے بارے میں ایک آرٹسٹ روی کہتے ہیںکسان اور فصل کا رستہ ایک بیٹے کی طرح ہوتاہے وہ یہاں اپنے پینٹنگ کے ذریعے کسان تحریک کو حمایت دینے کےلئے پہونچے ہیں کسان کئی مہینوں تک فصل کو پالتا پوستا ہے پھر جب کٹائی ہوتی ہے تواس کی تمنا ہوتی کہ اس کے فصل کے اونچے دام ملیں لیکن ہمارے دیش میں ایسا نہیں ہے کسان فصلوں کو بچانے کےلئے اپنی جان تک گنوا دیتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ سرکار اس کالے قانو ن کو واپس لے اور صنعتی گھرانوں کے ہاتھوں ہماری فصلوں کو جانے سے بچا سکیں ۔
(انل نریندر)
26 دسمبر 2020
گرگٹ کی طرح کورونا بدلتا اپنا وجود
یہ کیسی ٹریچڈی ہے جو انسان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے جس دیش نے سب سے پہلے ویکسینشن کی کاروائی شروع کی وہیں کے میڈیکل ماہرین نے اپنی تازہ اسٹڈی سے دنیا کو آگاہ کیا ہے زیادہ تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کے نئے اسٹرین پائے گئے ہیں ۔ بریٹس پارلیمنٹ میں پچھلے پیر کو دیش کے وزیر صحت نے بتایا تھا کہ راجدھانی لندن میں قریب ایک ہزار مریضوں میں کورونا وبا کے نئے وائرس کے اثرات پائے گئے ہیں ۔ مانا جا رہا ہے کہ وائرس ابھی تک پرانے سے بھی خطرناک ہوتا چلا جارہا ہے اور تیزی سے پھیلنے والی اس میں صلاحیت ہے جنوبی افریقہ میں اسٹرین وائرس تیزی سے لوگوں کو شکار بنا رہا ہے وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ تمام ویکسین اس نئے اسٹرین پر کتنے ہاوی ہیں ۔ لیکن اس معاملے کی مفصل رپورٹ وہاں کی حکومت نے ورلڈ ہیلتھ آرگانائزیشن کو بھیج دی ہے ادھر بھارت کی راجدھانی کے ایک مشہور ڈاکٹر اس نئے وائرس کے بارے میں اس وقت چونک گئے کہ انہیں کورونا کے بارہ مریضوں میں اسٹرین کے معاملے ملے ہیں اس فنگش تو ہمیںبس اوپر والے کا سہارا ہے یہ منحوس وائرس جلد ختم ہونے والا نہیں ۔
(انل نریندر)
برطانیہ میں رپبلک ٹی وی پر لگا 20لاکھ کا جرمانہ
ریپبلک ٹی وی بھارت میں اپنے پروگراموں سے سرخیوں میں تو ہے ہی لیکن اب توبرطانیہ میں بھی بحث میں آگیا ہے ٹی وی کے مالک ارنب گوسوامی پر برطانیہ کے بروڈکاسٹنگ ریگولیٹ اتھارٹی نے 20لاکھ روپئے کا جرمانہ کیا اس نے ٹی وی کے ایک پروگرام پر نفرت پھیلانے اور عدم رواداری کو فروغ دینے والا پایا ہے آفس آف کمیونیکشن نے برطانیہ میں نیوز چینل کے بروڈکاسٹ اختیار رکھنے والی کمپنی ورلڈ وائڈ میڈیا نیٹورک لمیٹیڈ پر20ہزار پاو¿نڈ یعنی بیس لاکھ روپئے کا جرمانہ لگا دیا ہے حکم میں کہا گیا ہے یہ جرمانہ بروڈکاسٹنگ شرطوں کی خلاف ورزی پر لگایا گیا ہے ریپبلک بھارت چینل پر یہ پروگرام 6ستمبر 2019کو ٹیلیکاسٹ کیا گیا تھا اس پروگرام کا نام تھا پوچھتا ہے بھارت اس کے ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ پروگرام کا پھر سے ٹیلیکاسٹ نہ ہو اس پروگرام میں چینل نے پاکستانی لوگوں کے طئیں نفرت کو بڑھاوا دینے والی اسٹوری دیکھائی برطانیہ کی اتھارٹی آف کام کا کہنا ہے کہ پروگرام میں بحث کے دوران توہین آمیز زبان اور نفرت پھیلانے والے بیان اشخاص ،فرقوں مذھب اور ذات کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کئے گئے پروگرام کی قسمیں ارنب گوسوامی اور تین ہندوستانیوں کے اور تین پاکستانی مہمانوں کے درمیان 22 جولائی 2019بھارت کے خلائی سیٹر لائٹ چندر یان 2پر بحث ہورہی تھی اس بحث میں پاکستان کے مقابلے بھارت کی تکنیکی ترقی سے کی گئی بحث اور پاکستان پر بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سر گرمیوں کو بڑھاوادینے کا الزام لگایا تھا ایک مہمان پریم سکلا نے پاکستانی سائنسدانوں کو چور کہہ دیا گو سوامی نے پاکستانی لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم سائنسداں بناتے ہیں آپ آتنکاوادی بناتے ہیں بات یہیں ختم نہیں ہوئی گو سوامی اور کچھ مہمانوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ سبھی پاکستانی لوگ دہشت گرد ہیں ۔چینل کے کونسلنگ ایڈیٹر گورو آریہ نے کہا انہیں سائنسداں ڈاکٹر ان کے نیتا سیاست داں سبھی آتنکوادی ہیں یہاں تک کہ ان کے کھلاڑی بھی ۔یہ پورا دیش آتنکواد کو بڑھاوا دیتا ہے مجھے نہیں لگتا کسی کوبنایا گیا ہے آپ ایک آتنکوادی یونٹ کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
مذہب کے سبب کسی کو بھی ترقی میں پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا!
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی صدی تقریبات کو وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کرکے ایک مثبت پیغام دیا ہے ایک طرح سے انہوں نے دیش کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ دیش کی مین اسٹریم سے اپنے آپ کو جوڑیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تعلیم اور فروغ اور پبلی سٹی میں اے ایم یو نے بہترین تعاون دیا ہے ۔ یہ یونیورسٹی بھارت کی بیش قیمت وراثت ہے یہاں سے تعلیم پا کر نکلے تمام لوگ دنیا بھر کے ملکوں میں چھائے ہوئے ہیں۔ اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں آگے کہا سرکار کا منتر سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے منتر پر کام کر رہی ہے ۔انہوں نے کثیر تہذیبی وراثت کو دیش کی طاقت بتایا انہوں نے اس تقریب کے دوران ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا انہوں نے یونیورسٹی کے بانی سر سید کے اس قول کو دوہرایا کہ اپنے دیش کے بارے میں جو شخص فکر کرتا ہے ،اس کا پہلا سب سے اہم ترین فرض یہ ہے کہ وہ ذات ،نسل یا مذہب کا ذکر کئے بنا سبھی لوگوں کے بھلائی کے لئے کام کرے۔وزیر اعظم نے بغیر کسی امتیا زکے عوام کو فائدہ پہونچانے والے سرکاری اسکیموں کی بھی مثال دی انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیش کے وسائل ہر شہری کےلئے ہیں اور ان کا سبھی کو فائدہ ملنا چاہئے ہماری سرکار اسی نظریہ کے ساتھ کام کر رہی ہے وزیر اعظم نے اے ایم یو کے سو سالہ سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ یقین کرنے کےلئے متحد ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے اے ایم یو کمپلیکش میں ایک بھارت ،سریشٹھ بھارت کے جذبہ دنوں دن مضبوط ہو اورترقی میں مذہبی بنیاد پر کسی کو محروم نہیں ہونا چاہئے حقیقت میں اے ایم یو کا قیام کی بنیاد ہی ترقی پسند نظریہ رہی ہے اور اقلیتی ادارہ ہونے کے باوجود اس نے ذات اور مذہب کے بنیاد پر طلبہ کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا یہ دیش کے ان چنندہ مرکزی اداروں میں سے ایک ہے جہاں توقع سے کم فیس میں عمدہ تعلیم دستیاب ہے وزیر اعظم نے لوگوں کو گمراہ کن پروپیگنڈے سے بھی ہوشیار رہنے اور دل میں قومی مفادات کو بالاتر ماننے کی اپیل کی ۔سیاست انتظار کرسکتی ہے لیکن سماج نہیں، اسی طرح غریب چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو وہ بھی انتظار نہیں کرسکتا ہم وقت برباد نہیں کرسکتے ہمیں آتما نربھر بھارت کی تعمیر کرنے کےلئے مل کر کام کرنا چاہئے وزیر اعظم نے کورونا وبا کے دوران اے ایم یو کے ذریعے سماج کو دیئے گئے بیش قیمت تعاوک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو نے ہزاروں لوگوں کے مفت ٹیسٹ کئے اور آئسلویشن وارڈ بنائے ،بلیڈ بینک بنائے اور پی ایم کیئر فنڈ میں بڑی رقم کا عطیہ دیا جو اس یونیورسٹی کی سماج کے طئیں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے ۔سو برسوں میں اے ایم یو نے دنیا کے بہت سے ملکوں کے ساتھ بھارت کے رشتوں کو مضبوط بنانے کےلئے بھی کام کیا انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی میں اردو ،عربی ،فارسی ،سنسکرت و اسلامی ادب پر کی گئی ریسرچ ساری اسلامک دنیا کے ایک ساتھ بھارت کے ساتھ ثقافتی رشتوں کو نئی طاقت فراہم کی سر سید احمد نے جب اس ادارے کا قائم کو تو ان کے تصور میں آکس فوڈ ،کیمبریج جیسی یونیورسٹی کا تعلیمی میعار تھا سو سال بعد یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اے ایم یو آنے والے وقت میں ایسی ہی کسوٹی پر کھرا اترے گی۔
(انل نریندر)
25 دسمبر 2020
جھٹکوں سے سگنل :کبھی دہلی میں کبھی بھی بڑا زلزلہ متوقع ہے
دہلی این سی آر میں اپریل سے لیکر اب تک پندرہ سے زیادہ زلزے کے جھٹکے آچکے ہیں 17 دسمبر کی دیر رات آیا زلزلہ اتنا تیز تھا کہ سوتے لوگوں کو نیند کھل گئی لوگ گھروں کے باہر آگئے ماہرین کے مطابق بار بار آرہے زلزلوں کے جھٹکے سے پتہ چلتا ہے دہلی ۔این سی آرکے فالٹ اس وقت سر گرم ہیں ان میں بڑے زلزلے کی رفتار 6.5تک رہ سکتی ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کب آئے گا؟زلزلے کی پہلی پیش گوئی کا کوئی نا تو اعلیٰ ہے اور نہ کوئی میکنیزم ان جھٹکوں کو خطرے کی آہٹ مانتے ہوئے راجدھانی کو تیاریاں کر لینی چاہئے لیکن تیاروں کی بات کریں تو پچھلے کئی برسوں سے تیاروں کے نام پر صرف کھانہ پوری ہی جاری ہے کچھ دھائیوں میں دہلی این سی آر کی آبادی کافی بڑھی ہے ایسے میں 6رختر اسکیل کا زلزلہ کافی نقصان پہونچا سکتا ہے مگر دہلی سے 200کلومیٹر دور ہمالیائی خطے میں 7یا اس سے زیادہ رفتار کا زلزلہ آتا ہے تو بھی راجدھانی کے لئے خطرہ ہے ۔ دہلی میں ایک رپورٹ کے مطابق 901.7فیصد مکانوں کی دیواریں پکی ایٹوں سے بنی ہیں ۔ جبکہ 3.7فیصد کچی اینٹوں سے دیواریں بنی ہوئی ہیں۔ ایسی صورت میں انہیں زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔
(انل نریندر)
ٹرمپ 20جنوری کو وائٹ ہاو ¿س چھوڑنے سے انکار کر سکتے ہیں ؟
امریکہ کے چناو¿ کمیشن نے جو بائیڈن کو دیش کے صدر اور ہندوستانی نژاد سینیٹر کملا ہیرس کو نائب صدر کے عہدے کے لئے ان کی کامیابی کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے اس کے بعد بائیڈ ن نے کہا اب متحد ہونے اور زخموں کو مرہم لگانے اور اقتدار سنبھالنے کا وقت آگیا ہے اس کے ساتھ ہی موجودہ صدرڈونالڈ ٹرمپ کی اس قانونی لڑائی پر روک لگ گئی ہے جس میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا تھا ۔الیکشن کمیشن کی میٹنگ دسمبر کے دوسرے بدھوار کے بعد پیر کو ہوتی ہے اس دن سبھی پچاس ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے الیکشن آفسر اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے میٹنگ کرتے ہیں واضح ہو صدارتی چناو¿ 3نومبر کو ہواتھا جس میں بائیڈن نے 538ممبری نرواچن منڈل کے 270 سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے اکثریت لے لی ہے لیکن یہ میٹنگ اس سال پہلے کے مقابلے زیادہ سرخیوں میں رہی کیونکہ دیش کے موجودہ صدر ٹرمپ نے اپنی ہار ماننے سے انکار کر دیا اور چناو¿ میں دھاندلی کے الزام لگائے ہیں۔بہر حال بائیڈن 20جنوری کو امریکہ کے نئے صدر کے عہدے کا حلف لیں گے انہوں نے اعلان کیا ہے حلف برداری سادہ ہوگی کوئی شو بازی نہیں ان کا کہنا ہے امریکہ کے جمہوریت کا امتحان لیا گیا اوراسے خطرہ پیدا کیا گیا ۔دیش میں بہت پہلے جمہوریت کی مثال جل چکی تھی اب ہم جاچکے ہیں ۔ اب اس مسل کو کوئی عالمی وبا یا اقتدار کا بے جا استعمال کچھ نہیں ہوسکتا ہمارے ادروں میں اعتماد قائم رہا اور یکجہتی بر قرار رہی اس لئے اب سبھا پلٹنے کا وقت آگیا ہے ۔لیکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ۔سی این این رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ وہ منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے موقع پر وائٹ ہاو¿س چھوڑنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ اور قانونی لڑائی جاری رکھنے کا عہد کئے ہوئے ہیں ۔ وائٹ ہاو¿س کی پریس سکریٹری کائلی میکنینی نے یہ بات الکٹرول کالج کے ذریعے جو بائیڈن کی کامیابی پر مہر لگانے کے ایک دن بعد کہی ہے ۔ جس دن حلف لیا جاتا ہے اس دن کو یوم آغاز بھی کہا جاتا ہے ٹرمپ کے فریق کا کہناہے کہ عدالتی نظام کا استعمال کرنا کسی طرح سے بھی جمہوریت پر حملہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)
بلٹ پر بیلٹ پھرجیتا!
جموں کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹنے کے بعد یہاں ہوئے ضلع ڈیولپمینٹ کونسل کے انتخابات نے اصل جیت جمہوریت کی ہوئی ہے پہلی بار ہوئے کونسل کے چناو¿میں جموں کشمیر کی عوام نے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ دہشت گردوں و علیحدگی پسندوں کر درکنا رکرکے لوگوں نے بے خوف ہوکر لوگوں نے جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کیا بلکہ ساتھ ہی پاکستان کو بھی قرارا جواب دیا کشمیر وادی نے مقامی پارٹیوں کے گپکار اتحاد نے اپنا دبدبہ برقرار رکھا ہے ۔لیکن وادی میں بھاجپا کا کھاتہ کھلنا کافی اہم مانا جارہاہے ۔ اس ڈی ڈی سی چناو¿ سے کئی سیاسی پیغام نکل کر آئے ہیں جس میں کشمیر میں اسمبلی چناو¿ کا راستہ بھی صاف ہوا ہے ۔ جموں کشمیر ضلع ڈولپمینٹ کونسل کی 280سیٹوں کے لئے ممبر تھے چناو¿ میں مقامی پارٹیوں کے اتحاد گپکار کو ا112سیٹیں ملی ہیں جبکہ بی جے پی 74سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اس کے علاوہ جموں کشمیر اپنی پارٹی کے بارہ سیٹیں پر جیت حاصل ملی ہے کانگریس 26سیٹیں جیت کر تیسرے مقام پر رہی جبکہ حیرت انگیز طریقے سے49سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد سیاسی پارٹیاںکہنے لگی تھیں کہ وادی میں کوئی بھارت کا جھنڈہ اٹھانے والا نہیں بچے گا۔کچھ پارٹیوں نے پہلے تو جمہوری چناوی عمل سے دوری کا من بنا لیا تھا، لیکن جس طرح سے لوگوں نے ووٹ کرکے جمہوری روایات پر اعتماد ظاہر کیا ہے اس سے صاف ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر جمہوریت کے لئے گہری عقیدت ہے اتنا ہی نہیں علاقائی پارٹیوں نے ڈی ڈی سی کے چناو¿ میں با قاعدہ حصہ لیا اور کامیابی حاصل کیا جس سے صاف ہے کہ کشمیری عوام کو جمہوریت میں پوری طرح بھروسہ ہے ۔ جموں کشمیر میں پاکستان امن بحال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا تھا اور اس نے چناو¿ کے دوران کئی موقعوں پر در پردہ طریقے سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور تشدد بھڑکانے کے لئے کوشش کی گئی دہشت گردی کے واقعات کو انظام دینے کی کوششیں کی گئیں لیکن کشمیر کی عوام نے یہ صاف کردیا کہ ہم پاکستان کو ان کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اپنے ووٹ کی چوٹ سے پاکستان کو قرارا جواب دیا ہے ۔ وادی کشمیر میں آرٹیکل 370ہٹنے کے بعد مقامی پارٹیاں لوگوں کو یہ سمجھانے میں لگی تھی کہ مرکز کی بھاجپا سرکار ان کے طئیں سوتیلہ رویہ رکھ کر کام کر رہی ہے ۔ مگر ڈی ڈی سی چناو¿ نتیجوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ لوگوں کو مرکزی حکومت پر بھروسہ ہے دوسرے ریاستوں کے مقابلے جموں کشمیر کے حالات مختلف ہیں وہاں قومی دھارا کی سیاست سے الگ ہی نظریہ ہاوی رہتا ہے اس لحاظ سے وادی میں پی ڈی پی کو نیشنل کانفرنس کی قیادت والے گپکار اتحاد کے سوائے بھاجپا ،کانگریس اور آزاد امیدواروں پر لوگوں کا بھروسہ زیادہ دکھائی دیا ۔یہ اس بات کا اشارہ ہے لوگ مین اسٹیرم کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اورترقیاتی پروگراموں کو موثر ڈھنگ سے لاگو کرنے کے مرکز اور ریاستی اور مقامی بلدیاتی اداروں کے درمیان تال میل ہونا بہت ضروری ہے اس لحاظ سے وادی کے بہتری کے اشارے ملنے شروع ہوگئے ہیں ۔ اس سے اسمبلی چناو¿ کا راستہ بھی صاف ہوگیا ہے ۔
(انل نریندر)
24 دسمبر 2020
ورکر سے لیکر نیتا لیڈر شپ سب ان کے مرید تھے !
ہندوستانی سیاست میں ایسے کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنی پارٹی کی لیڈر شپ کے ساتھ عام ورکروں اور نیتاو¿ں کو بھی بھا جاتے ہیں موتی لال وورا ایسی ہی ایک شخصیت اور سیاست داں تھے جو نہ صرف گاندھی خاندان کے پسندیدہ تھے،بلکہ کانگریس کے عام ورکر اور نیتا بھی ان کے مرید تھے ۔ان کا دروازہ چاہے نیتا ہو ورکر ہو یا صحافی ہو سبھی کے لئے ہمیشہ کھلا رہتا تھا ۔آپ جب ان سے ملنے جاتے تھے تو وہ بڑی خوشی کے ساتھ خیر مقدم کرتے تھے میرے ساتھ بھی کئی بارہوا میںجب بھی ان سے ملنے گیا تو وہ بڑی گرم جوشی سے ملا کرتے تھے وورا جی کا کورونا وائرس انفیکشن کے بعد صحت کے بگڑنے کے سبب پیر کے روز ان کا دیہانت ہوگیا ان کی عمر 93سال تھی کانگریس و اس کی قیادت کے لئے اہم تھے اسکااندازہ پارٹی صدر سونیا گاندھی کے اس تعزیتی پیغام سے لگایا جاسکتا ہے سونیا کا کہنا تھا کہ انہیں وورا جی کے مارگ درشن کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی موتی لال وورا کی زندگی پبلک سیوا اور کانگریس کی آئیڈولوجی کے طئیں بے مثال عزم زندہ مثال ہے ہم ان کے مارگ درشن اور بے لوث خدمت کی کمی محسوس کریں گے وہ ایک بڑے وفادار ہونے کے ساتھ ساتھ سب کو ساتھ لیکر چلنے کا ان کا فن تھا کانگریس کے سابق جنرل سیکریٹری جناردھن دویدی اور مدھیہ پردیش جیسے ریاست میں جہاں تک ارجن سنگھ اور ساما چرن سکلا اور مادھو رائے سندھیا جیسے بڑے لیڈر تھے ۔وزیر اعلیٰ کے طور پر سب کے ساتھ سب کا محبوب ہونا وورا جی کے لئے کوئی آسان کام نہیں تھا وہ وزیر اعلیٰ کے لئے ان کے نام کی تجویز ارجن سنگھ نے رکھی تھی ۔ لیکن بعد کے دنوں میں ریاست کے لوگ کہا کرتے تھے ۔وہاں موتی۔مادھوایکسپریس چل رہی ہے سیاست میں پانچ دھائی تک سرگرم رول نبھانے والے وورا جی کے خاندان میں پانچ بیٹیاں اور دوبیٹے ہیں ایک بیٹا ارون وورا درگ سے کانگریس ممبر اسمبلی ہے وورا جی نے کئی برسوں تک صحافت کی تھی ہمیں وورا جی کے جانے کا بہت دکھ ہے ہم ان کے پریوار کو اس اہم ترین نقصان سے صبر کے لئے پراتھنا کرتے ہیں ۔ ہم وورا جی کو اپنی شردھانجلی بھی پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
نیپال میں اقتدار لڑائی کے درمیا ب پارلیمنٹ بھنگ!
نیپال میں غیر متوقع طریقے سے اتوار کو پارلیمنٹ بھنگ کردی گئی تین سال بعد ہی یہ بھنگ کردی گئی ایوان نمائندگان کو بھنگ کرنے کے فیصلے کے بعد راشٹریہ پتی ودیہ دیوی نے نیا مینڈیٹ کے لئے اگلے سال اپریل مئی میں چناو¿ کا اعلان کردیا ہے وزیر اعظم کے پی ولی شرما حکمراں نیپال کمیونسٹ پارٹی میں چل رہی اقتدار کی جنگ کے بیچ باغیوں اور اپوزیشن پارٹیوں کو چونکاتے ہوئے پردھان منتری ولی نے پارلیمنٹ کو بھنگ کرنے کی سفارش کردی تھی ۔اب اگلے سال تیس اپریل سے دس مئی تک وسط مدتی چناو¿ کرائے جائیں گے وہیں صدر کے فیصلے کو اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ این سی پی کے لیڈروں نے بھی غیر آئینی قرار دیا ہے 2017میں چنی گئی پارلیمنٹ کی میعاد 2022تک تھی ۔ حالانکہ این سی پی کی اندرونی لڑائی میں دوسرے گروپ کی قیادت کر رہے پسپ کمل دہل پرچنڈ ،مادھو نیپا ل اور جھالا ناتھ کھنل وزیر اعظم ولی سے کافی وقت سے استعفیٰ مانگ رہے تھے۔ وہ ولی پر انتظامی ناکامی آئین کا مذاق بنانے اور پارٹی کے فیصلے لاگو نہ کروانے کا الزام لگا چکے ہیں ۔ اس کے بعد سے ولی اپنی پارٹی میں کمزور پڑ رہے تھے ماہرین ارجن اچاریہ اور سابق وزیر اعظم ڈاکٹر سابو رام بھٹا رائے نے فیصلے کو 2015میں بنے نیپال کے نئے آئین سے دھوکہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے صرف سرکار کے اقلیت میں آنے یا اسمبلی معلق ہونے پر ہی سے بھنگ کیا جاسکتا ہے۔ ابھی ایسے حالات نہیں تھے زبردست اندرونی رسا کشی کے درمیان وزیر اعظم ولی کے صدر کو پارلیمنٹ بھنگ کرنے کی سفارش پر پارٹی کے معاون صدر پرچنڈ نے کہا اس فیصلے کے خلاف متحد ہونے کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہے ۔ اگر سرکار اس سفارش کو واپس نہیں لیتی ہے تو پارٹی کسی بھی حد تک وزیر اعظم کے خلاف جاسکتی ہے ۔ یہ فیصلہ غیر آئینی اور جمہوریت سے مذاق ہے اور ایسی سفارش جمہوری نظام کے بر عکس ہے ۔
(انل نریندر)
اس سے بڑا آندولن پہلے کبھی نہیں دیکھا!
زرعی اصلاحات قانون کولیکر پیدا تعطل جلد ختم ہونے کی امیدیں مدھم ہوتی جارہی ہیں ۔حالانکہ سپریم کورٹ سے لیکر مرکزی حکومت نے کئی تجاویز رکھی ہیں لیکن کسانوں نے ان سب کو مسترد کردیا حکومت کی دوبارہ بات چیت کی پہل کے باوجود ایک ہی بات پر اڑے ہوئے ہیں پہلے تین زرعی قوانین کو ختم کرو یا ایسا تحریر میں یقین دہانی ہو تب آگے کی بات چیت ہوسکتی ہے۔ ویسے اس سے پہلے اتنا بڑآندولن نہیں پہلے کبھی نہیں دیکھاگیا اس کو دیکھنے کےلئے روزآنہ سیکڑوں لوگ آرہے ہیں سندھو بارڈر ۔دہلی یونیورسٹی کے طالب علم مکیش پچھلے دو دنوں سے سندھو بارڈر آرہے ہیں وہ نا یہاں کسانوں کی حمایت میں ہیں اور نہ ہی مخالفت میں وہ کہتے ہیں اتنا بڑا مظاہر ہ آج تک نہیں دیکھا اور سنا تھا جہاں تک ان کی نگاہیں گئیں اور جہاں تک وہ پیدل چل سکے وہاں تک سڑک پر ٹرک اور ٹریکٹر کی قطاریں دیکھی گئیں روہنی کے باشندے کے کہنا ہے وہ پچھلے کئی دنوں سے اس آندولن کو دیکھنے کے لئے او ر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے یہاں پر ایک چیز کو باریکی سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی کہ انہیں یہ جانکاری نہیںہے کہ نئے زرعی قانون کسان کے مفاد میں ہیں۔ یا نقصان میں ،لیکن سرد ہواو¿ں میں رات کا درجہ حرارت 3.4 ڈگری تک نیچے آجاتا ہے ایسے میں عورتوں اور بچوں کا شامل ہونا بڑی بات ہے بلکہ دہلی اور اس کے آس پاس روزآنہ سیکڑوںکی تعداد میں لوگ یہاں پہونچتے ہیں اس آندولن کو تقریباًایک مہینہ ہونے لگا ہے کسان بغیر کسی تشدد کے پر امن طریقے سے ڈٹے ہوئے ہیں اس کڑاکے کی سردی میں دو درجن سے زیادہ کسان یہاں دم توڑ چکے ہیں ۔ کسان تنظیموں نے اتوار کو شہیدی دوس منایا اور آندولن میں اپنی جان گنوانے والوں کو سردھانجلی دی ایک ایس خاتون جو فتحہ گڑھ صاحب کی رہنے والی ہے گروندر کور 23 دنوں سے سندھو بارڈر پر بیٹھی ہوئی ہیں ۔ گھر میں شوہر چھ سال کا بیٹا اور دوسرا بیٹا تین سال کا ہے کہتی ہیں بچوں کی یاد تو آتی ہے لیکن یہ لڑائی بچوں کے مستقبل کے لئے ہی ہے اس لئے میں یہاں سے ہلنے والی نہیں ہوں اسی طرح سے پنجاب سے بہت سی عورتیں شامل ہورہی ہیں ۔ لیکن سب سے ایک بات کامن ہے وہ آندولن کو لیکر جذبہ سبھی کے سر میں سر ملا کر جب تک ڈٹی رہیں گی جب سرکار زرعی قانون کو واپس نہ لے لے ایسے ہی ایک اور خاتون کرنجیت کور کہتی ہیں کہ کئی طرحہ کی مصیبتیں تو ہیں لیکن اس کے سامنے کچھ نہیں جو قانون لاگو ہونے کے بعد ہوگی اور ہم دوسال تک یہاں بیٹھنا پڑے تو ہم ڈٹے رہیں گے ۔ دہلی سے ہی آندولن کو حمایت دینے آئیں بچوں کے ساتھ سیو امیں لگی ہیں مگر یہ آندولن جلد ختم ہوتا نہیں دکھائی دے رہا ہے کسان پوری تیاری کے ساتھ ڈٹے ہیں سرکار کو ہی کوئی راستہ نکالنا پڑے گا ۔
(انل نریندر)
23 دسمبر 2020
برطانیہ میں کورونا کے نئے اسٹرین پر تشویش !
لندن اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کووڈ 19-کی نئی قسم کا تیزی سے پھیلاو¿ ہو رہا ہے ۔وہاں کے وزیر صحت چیٹ نیٹ ہینکوک کے مطابق ملک میں کورونا کی بالکل نئے طرح کی وائرس کی پہچان کی گئی ہے ۔اور یہ کورونا وائرس سے زیادہ طاقتور ہے اور تیزی سے حملہ کرتا ہے اور اس سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں ۔اسے دیکھتے ہوئے نیدر لینڈ بیلجیم اور بھارت نے برطانیہ سے آنے والی تمام پروازوں پر روک لگادی ہے ۔جرمنی سے بھی پابندی کی خبرین آرہی ہیں ۔برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے سنیچر کو دیش کی راجدھانی لندن میں ایک بار پھر لاک ڈاو¿ن لاگو کر دیا ہے ۔اور یہ پورے دیش میں نافذ ہے وہیں کرسمس کے دوران ملازمین کو دی جانے والی چھوٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے ۔جونسن کا کہنا ہے یہ نئے قسم کا وائرس پچھلے وائرس کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے ۔اس لئے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے یہ پابندیاں 30دسمبر تک نافذ رہیں گی ۔وزیراعظم نے ڈاو¿ننگ اسپیٹ یعنی پی ایم ہاو¿س سے ٹی وی پیغام میں کہا ابھی بھی بہت کچھ ہمیں پتہ نہیں ہے لیکن یہ معلوم ہے یہ نیا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔یہ خطرناک ہی نہیں بلکہ زیادہ پریشان کرنے والا ہے ۔ساتھ ہی ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نئے وائرس پر دیش میں بنی کورونا ویکسین کا اثر ہوگا یا نہیں ؟
(انل نریندر)
ایک ہی دن بڑا اسکور بھی اور کم از کم اسکور بھی !
49204084041نا ہی یہ آپ کے کریڈٹ کارڈ کا او ٹی پی نمبر ہے ۔او ر ناہی موبائل نمبر یہ آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں ٹیم انڈیا کے نہایت شرمناک کارکردگی کا اسکور کارڈ ہے ۔ہندوستانی کرکٹ شائقین نے سنیچر کو صبح ٹی وی پر جو دیکھا اس سے ان کا دل و دماغ دونوں ہی ہل گئے ۔ہندوستانی سرزمین کے باہر پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیل رہی وراٹ سینا نے جمعرات اور جمع کو جیسا کھیل کھیلا تھا اس سے لگ رہا تھا کہ وہ آسٹریلیا کے خلاف گلابی گیند کا پہلا ٹیسٹ میچ جیت کر شاید تاریخ رقم کر دیں سنیچرکو تاریخ تو بنی لیکن یہ ایسی تاریخ ہے جو کوئی بھی ہندوستانی یاد کرنا نہیں چاہے گا پہلی پاری میں 244رن بنا کر 53رنوں کی بڑھت لینے والی ٹیم اندیا کی دوسری پاری 86منٹ 92گیندوں میں 36رنوں پر ختم ہو گئی اس کے بعد 90رنوں کے آسان ٹارگیٹ کو 2وکٹ پر حاصل کرکے میزبان ٹیم نے 8وکٹ سے جیت درج کر لی اس طرح آسٹریلیا نے چار میچوں کی سریز میں ایک زیرو سے بڑھت بنا لی وراٹ کوہلی کی رہنمائی میں ٹیم انڈیا نے اگر ٹیسٹ کرکٹ میں بڑا اسکور کا ریکارڈ اپنے نام لکھوایا تو ان کی قیادت میں ہی ٹیم نے ٹھیک 4سال بعد کم از کم اسکور کا ریکارڈ بھی بنا دیا ۔اتفاق سے یہ دونوں ریکارڈ ایک ہی دن 19دسمبرکو بنے ۔آج سے چار سال پہلے یعنی 19دسمبر 2016کی کہانی ایک دم مختلف تھی ۔میکوئن تھا چنئی کا ایم اے چدمبر م اسٹیڈیم جب کوہلی کی قیادت مین ٹیم انڈیا نے انگلینڈ کے خلاف اپنی پہلی پاری میں سات وکٹ پر 759رن بنا کر ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑے اسکور کا ریکارڈ بنایا تھا پچھلا ریکارڈ سات وکٹ پر 726 رن تھا ۔جو اس نے سری لنکا کے خلاف 2009دسمبر میں بھی ممبئی بنایا تھا ۔بھارت کی جس ٹیم نے سب سے زیادہ اسکو ر بنایا تھا اس میں موجودہ ٹیم کے چار کھلاڑی وراٹ کوہلی چیتیشور پجارا،روی چندرن اشون ،اور امیش یادو شامل تھے ۔لیکن ورون نائر کی ناٹ آو¿ٹ 033رن اور کے ایل راہل کی 199رن کی پاری تھی جس کے دم پر ٹیم انڈیا نے بڑا اسکور کھڑا کرکے نیا ریکارڈ بنایا تھا بھارت کے دونوں کم از کم اسکور میں کچھ یکسانیت بھی ہے ۔بھارت نے 1974میں میچ کے چوتھے دن بغیر کسی نقصان کے دو رن سے آگے کھیلا شروع کیا اور پھر پاری تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی ۔بھارت کا صرف ایک بلے باز سالیکر (ناٹ آو¿ٹ 18رن )دوہرے نمبر میں پہونچا ۔آسٹریلیا کی گرمیوں مین چھ سال بعد یہ ہی کہانی دہرائی گئی جس ٹیم میں وراٹ کوہلی ،چیتیشور پجارا اور اجنکے رہانے بلے باز وہ 27.2اوور میں 36رن پر آو¿ٹ ہو گئی ۔بھارت کا کوئی بلے باز دو نمبرں میں نہیں پہونچ پایا ۔محمد سمیع ریٹائرہرٹ ہونے کی وجہ سے ٹیم انڈیا سمٹ گئی ۔ٹیم انڈیا کی اس شرمناک پرفارمنس پر تمام کرکٹ شائقین کو دھچکا لگنا فطری ہے ۔وہ یقین نہیں کر پار ہے کہ ٹیم انڈیا نے اتنا خراب کیوں کھیلا۔
(انل نریندر)
متاثرہ سے ہوا تھا گینگ ریپ اور پھر اس کا قتل !
گاو¿ںبلگڑھی کی لڑکی کے ساتھ حیوانیت اور اس کے قتل کے سرخیوں میں چھائے معاملے کی پچھلے 69دنوں سے جانچ کر رہی خفیہ ایجنسی سی بی آئی نے جمعہ کو ہاتھرس کی عدالت میں چاروں ملزمان کے خلاف دو ہزار صفحات کی چارج سیٹ داخل کردی ہے اس معاملے میں چارو ملزمان پر لڑکی سے آبرو ریزی کرنے پھر اس کے قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے ملزمان کے وکیل نے عدالت کے باہر بتایا سی بی آئی نے سندیپ ،لوکش ،روی اور رادھو کے خلاف اجتماعی آبرو رریزی و قتل کے الزامات لگائے ہیں ۔ اس معاملے کی پہلی تاریخ چار جنوری لگی ہے کوتوالی چند پا کے گاو¿ں بلگڑھی میں چودہ ستمبر کو ایک دلت لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ اورجسمانی مار پیٹ کی واردات ہوئی ۔علی گڑھ میڈیکل کالج کے دوران متاثرہ نے اپنے بیان میں اجتماعی بدفعلی کی بات کہی تھی ۔اس بیان پر پولیس نے سندیپ روی لوکش،اور رامو کو گرفتار کرکے جیل بھیجا تھا ۔29ستمبر کو دہلی میں علاج کے دوران لڑکی کی موت ہو گئی تھی ۔رات کو گاو¿ں میں اس کا انتم سنسکار کردیا گیا ۔رشتہ دارو ں نے پولیس پر زبردستی انتم سنسکار کا الزام لگایا تھا ۔اس کے بعد ایس پی سی او سمیت پانچ پولیس ملازم معطل ہوئے تھے ریاستی حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لئے پہلے ایس آئی ٹی بنائی اسی درمیان کیس سی بی آئی کوسونپ دیا گیا ۔69دن کی گہری جانچ پڑتال کے بعد سی بی آئی نے اسی تھیوری کو آگے بڑھایا جس پر مقامی پولیس کام کررہی تھی ۔اس میں لڑکی کا 22ستمبر کو علی گڑھ کے میڈیکل کالج میں پولیس کے تفتیشی افسر سی او سادہ باد کے سامنے دیاگیا بیان ہی اہم بنیاد رہا ۔ہاتھرس معاملے کی تحقیقات پر پولیس شروع سے ہی پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی رہی اس کی کوشش تھی کہ کسی طرح معاملہ رفع دفع ہو جائے ۔اس لئے پہلے پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے بچتی رہی پھر لڑکی کے علاج میں بھی لا پرواہی برتی گئی جب معاملہ طول پکڑنے لگا تو پولیس اور انتظامیہ طرح طرح کی کہانیا ں گھڑ کر ملزمان کو بچانے کی کوشش کرتے دیکھے گئے ۔پھر کسی طرح پولیس کو دباو¿ میں کیس آگے بڑھانا پڑا ۔ایک کہانی یہ بھی چلی لڑکی کو پریوار والوں نے ہی مارنے کی کوشش کی تھی مگر اپوزیشن پارٹیوں نے اس معاملے کو لیکر مظاہرے شروع کر دئیے تو انہیں ہاتھرس پہونچنے اور متاثرہ خاندان سے ملنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔یہاں تک کہ ضلع مجسٹریٹ پر بھی الزام لگے کہ وہ متاثرہ خاندان کو دھمکا کر چپ کرنے کی کوشش کررہے تھے یہ حیران کرنے والا معاملہ تھا کہ جن لوگوں پر انصاف دلانے کی ذمہ داری ہے وہی نا انصافی کی طرف کھڑے تھے اترپردیش کی قانون و نظم کو لیکر پہلے ہی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔ہاتھر س معاملے میں تو پولیس انتظامیہ کے ٹوئٹ نے آگ میں گھی کا کام کیا جس سے پولیس انتظامیہ کے رویہ پر زبردست چوٹ پہوچی ہے جن لوگوں پر حفاظت اور انصاف یقینی بنانے کی ذمہ داری ہے اگر وہی دباو¿ میں آکر ناانصافی کا ساتھ دین گے تو قانون و نظام کو لیکر اتنا بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔بھلا پردیش پولیس کا یہ چہرہ خوف پیدا کرنے والا ہے تبھی تو سپریم کورٹ نے سخت رائے زنی کی تھی کہ اترپردیش میں جنگل راج ہے ۔
(انل نریندر)
22 دسمبر 2020
خواتین پر گھریلو تشدد کا مسئلہ !
دیش کی 22ریاستوں اور مرکزی حکمراں ریاستوں میں کرائے گئے سروے کے مطابق پانچ ریاستوں کی تین فیصدی سے زائد عورتیں اپنے شوہروں کے ذریعے مارپیٹ اور جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہیں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق عورتوں کے خلاف گھریلو تشدد کے معاملے میں سب سے برا حال کرناٹک آسام میزورم ،تلنگانہ اور بہار میں ہے ۔سماجی رضاکاروں اور غیر سرکار ی انجمنوں نے کووڈ 19-وبا کے پیش نظر ایسے واقعات مین اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا ہے اس سروے میں دیش بھر کے 6.1لاکھ گھروں کو شامل کیا گیا ۔جس میں آبادی ہیلتھ فیملی پلاننگ اور کفالت سے متعلق اطلاعات اکھٹی کی گئی ہیں سروے کے مطابق کرناٹک میں 18سے 49برس کی عمر کی قریب 44.4فیصدی عورتوں کو اپنے شوہر کی طرف سے مارپیٹ کا سامنا کرنا پڑا ۔جبکہ 2015-16کے درمیان یہ واقعات 20.6فیصدی تھے ایسے ہی بہار میں چالیس فیصدی عورتوں کو جسمانی اور جنسی تشدد جھیلنا پڑا ہے اسی طرح منی پور میں 39فصدی تلنگانہ مین 36.9فیصدی آسام میں 32فیصدی اور آندھرا مین 30فیصدی عورتیں گھروں میں مارپیٹ کا شکارہوئیں یہ واقعات گھر میں شراب پینے کی وجہ سے شوہروں کی حرکت بتایا ہے ۔گھریلو تشدد پر لگام لگنی چاہیے اس کے لئے سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
(انل نریندر)
ممتا اپنی سیاسی زندگی میں سب سے مشکل چنوتی سے دوچار!
کیا بنگال کی شیرنی کے نام سے مشہور ہوئی ترنمول کانگریس صدر اور وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اپنے سیاسی کیرئیر کے سب سے مشکل دور سے گزر رہی ہیں ؟ یوں تو ممتا کی پوری سیاسی زندگی چنوتیوں اور سنگھرش سے بھری رہی ہے لیکن اب اگلے اسمبلی چناو¿ سے پہلے بی جے پی کی طرف سے مل رہی چنوتیوں اور پارٹی میں مسلسل بغاوت کو ذہن میں رکھتے ہوئے سیاسی حلقوں میں یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے حال تک سرکار اور پارٹی میں جس نیتا کی بات پتھر کی لکیر ثابت ہو رہی ہے اس کےخلاف ہی جب درجنوں لیڈر آواز اٹھانے لگے ہوں یہ بات دیگر ہے کہ کانگریس کی اندرونی چنوتیوں سے لڑتے ہوئے الگ پارٹی بنا کر لیفٹ پارٹیوں سے دو دو ہاتھ کر چکی ممتا ان چنوتیوں سے گھبرا کر پیچھے ہٹنے کے بجائے ان سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بنانے میں لگی ہوئی ہیں سال 2006کے اسمبلی انتخابات کے وقت سے یعنی 15برسوں سے ترنمول کانگریس اور ممتا ایک دوسرے کی علامت بن گئے تھے اور پارٹی میں کسی نیتا کی اتنی حمت نہیں تھی کہ کوئی ان کی بات کو ٹال سکے اور ان کے کسی فیصلے پر انگلی اٹھا سکے لیکن اب تین چار برسوں میں ممتا کی پکڑ کمزور ہوئی ہے تقریباً دس سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد کچھ نیتاو¿ں میں کچھ ناراضگی ہے اور یہ جائز بھی ہے لیکن بھاجپا نے خاص کر پچھلی لوک سبھا چناو¿ سے جس طرح جارحانہ رویہ اپنایا ہے اور پارٹی نیتاو¿ں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے وہ ممتا کے لئے ایک سنگین چنوتی بن گیا ہے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ مغربی بنگال میںچناو¿ کا بغل بجا کر واپس آگئے ہیں بی جے پی کو اس دورے میں ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی میں بڑی پھوٹ کی امید ہے ۔اور چھ سال یا سات سال سے زیادہ باغی بھاجپا میں شامل ہوئے ہیں ۔اس کے علاوہ بہت سے لوگ ممتا سے بغاوت کرنے کی قطار میں ہیں حالانکہ بی جے پی کو سوچنا پڑرہا ہے کہ کن علاقوں سے کن لوگوں کو پارٹی میں لیا جائے یا نہیں وہیں امت شاہ نے دعویٰ کیا ہے بھاجپا مغربی بنگال اسمبلی کی 294سیٹوں میں سے 200سیٹ جیتنے کے اپنے ارادے سے حکمت عملی تیار کر چکی ہے اور ذرائع کی مانیں تو چناو¿ ہونے تک پارٹی کے قریب سو بڑے لیڈر بنگال کا دورہ کریں گے ۔مدھیہ پردیش کے تیز ترار وزیرداخلہ نوروتم مشرا سمیت سات بڑے لیڈروں کو ذمہ داری سونپی جارہی ہے وہیں ممتا کے لئے ایک خطرہ اویسی بھی بن رہے ہیں اور وہ مسلم اکثریتی سیٹوں پر فیصلہ کن رول نبھا سکتے ہیں ۔پی ایم سی کے لئے سب سے بڑا خطرہ پارٹی کے باغی ہیں انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر ٹی ایم سی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کی ہے انہوں نے کہا وہ کچھ نیتاو¿ں کے پارٹی چھوڑنے سے فکر مند نا ہوں کیوں کہ یہ اچھا ہے کہ سڑے ہوئے عناصر پارٹی چھوڑرہے ہیں ممتابنرجی نے نیتاو¿ں سے کہا کہ وہ فکر مند نا ہوں کیوں کہ ریاست کی عوام ان کے ساتھ ہے ۔
(انل نریندر)
کسان بولے اب تو ہل کرانتی سے ہی نکلے گا سمادھان!
وزیراعظم نریندر مودی نے مدھیہ پردیش کے کسانوں کے پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے دہلی کے بارڈر پر بیٹھے کسانوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی اور سر جھکا کر ان کے ہر مسئلے پر جوا ب دینے کی تیاری کا یقین دلایا ۔لیکن آندولن کاری کسان وزیراعظم کے خطاب سے مطمئن نہیں ہیں ۔اور نئے زرعی قوانین کے بارے میں احتجاجی کسانوں نے فصلوں کی مناسب قیمت دینے کی گارنٹی مانگی ہے ان کا کہنا ہے وزیراعظم نے جمع کو دعویٰ کیا تھا کہ کسانوں کو فصلوں پر ایم ایس پی مل رہی ہے جبکہ یہ سچ نہیں ہے ۔ان کا کہنا ہے وزیراعظم کو یہ جانکاری ہونی چاہیے کہ جہاں دھان کی کم از کم قیمت 1870روپے فی کونٹل ہے وہاں کسان اسے 900روپے میں بیچنے کو مجبور ہیں ۔انہوں نے زرعی وزیرزراعت کے لکھے کھلے خط پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا جو کسان آندولن کے معاملے ہی نہیں جانتے بھارتی کسان یونین دہلی پردیش کے صدر وریندر ڈاگر نے بتایا کہ فصلوں پر ایم ایس پی پہلے سے ہی لاگو ہے لیکن اس کا فائدہ کسانوں کو نہیں مل پاتا ایم ایس پی کے لئے جو قاعدے ہیں وہ کسانوں کی سمجھ سے باہر ہیں ایسے میں نئے قانون مشکل کھڑی کردی ہے انہوں نے کہا اب کسانوں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کسانوں کا کیا ہوگا ۔پہلے ہی فصلوں کے دام نہیں مل رہے تھے اس قانون سے کارپوریٹ کو موقع ملنے کے بعد کسانون کی حالت اور خراب ہو جائیگی ایسی صورت میں ان قانون کو منظور نہیں کریگا ۔کسانوں کی ایک دوسری تنظیم کا کہنا ہے وزیرکے خط کا کھلا جواب جاری کریگی ۔اے آئی کے ایس سی سی نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ ان تین کھیتی قوانین و بجلی بل 2020واپس لے اور اس کے خلاف غلط پروپیگنڈہ نا کرے ۔ادھر یوپی گیٹ کے پاس دہلی میرٹھ ایکسپریس وے پر جاری کسانوں کے دھرنے کی حمایت دینے کے لئے کئی کسان لیڈر پہوچے یونین کے قومی ترجمان راکیش تکیت اور کسان نیتاو¿ں نے کہا کہ آندولن پر امن جاری ہے سرکار سے چھ دور کی بات چیت ہو چکی ہے لیکن کوئی حل نکلتا نظر نہیں آرہا ہے حل تبھی نکلے گا جب دیش میں حل کرانتی آئیگی کسان حل چلانے اور مسئلے کا حل نکالنے کے لئے تیار بیٹھا ہے وہیں سرکار اسے روکنے کا کام کررہی ہے ۔انہوں نے کہا گاو¿ں تحصیل اور دیش کا کوئی بھی انجمن ہو وہ اپنے جھنڈے کے ساتھ سڑک پر آجائے کسانوں کے اب گھر سے نکلنے کا وقت آگیا ہے ۔کسانوں نے سپیرم کورٹ کے فیصلے پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یوپی گیٹ پر آرہے کسانوں کو روکنے پر پولیس پر ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ اگر یونہیں روکا گیا تو ہم بھی روڈ جار کردیں گے ادھر دہلی کی سرحدو ں پر بیٹھے کسانوں کی لگاتار موتوں کی خبریں سامنے آرہی ہیں یہ سب سے زیادہ اموات سردی کی وجہ بتائی جاتی ہیں کسان نیتاو¿ں کا وہم ہے کہ سردی کی وجہ سے کئی کسان ہیں جو بیمار پڑ کر اپنی جان گنوا چکے ہیں اور گنوا رہے ہیں کسان لیڈروں کے مطابق ابھی تک کل 29موتیں ہو چکی ہیں اس مین دہلی کے سنگھو بارڈر پر چار کسانوں کی موت شامل ہے ۔سنت بابا رام سنگھ کی خودکشی کو کسانوں نے شہادت سے تعبیر کیا ہے ۔سبھی 29کسان آندولن مین شہید ہو ئے ہیں ۔
(انل نریندر)
20 دسمبر 2020
زرعی قوانین سے دقت تھی تو کیجریوال نے ایک قانون کو نوٹیفائی کیوں کیا ؟
زرعی قانون کی مخالفت کے روز دہلی اسمبلی کے اسپیشل سیشن کے دوران دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجروال کے ساتھ حکمراں پارٹی کے کئی اسمبلی ممبران نے مرکزی سرکار کی تینوں زرعی قوانین کی کاپیاںپھاڑ ڈالیں وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ قوانین کی کاپیاں پھاڑنا ان کا مقصد نہیں تھا بلکہ وہ اس کے ذریعے مرکز کی توجہ کسانوں کے مسئلے کی طرف مرکوز کرانا چاہتے ہیں ۔ سخت سردی میں کسان دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے ساتھ دھوکہ نہیں کرسکتے انہوں نے سوال کیا کہ مرکزی سرکار اور کتنے کسانوں کی جان لے گی آندولن میں روزانہ ایک کسان کی جان جارہی ہے یہ ہاو¿س مرکزی سرکار سے اپیل کر رہا ہے کی تینوں قوانین بیس دن بعد ہی صحیح واپس لے لے پچھلے کچھ برسوں میں انتخابات کو مہنگا بنا دیا ہے یہ قانون کسانوں کے لئے نھیں بلکہ بھاجپا کو چناو¿ کے فنڈنگ کےلئے بنے ہیں یہ بات کسان بھی سمجھ گئے ہیں باقی دیش واسی بھی جلد ہی سمجھ جائیں گے مرکزی سرکارکہہ رہی ہے کسانوں کو زرعی قانون کا فائدہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے انہیں سمجھانے کےلئے بھاجپا نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کئی اپنے سرکردہ نیتاو¿ں کو اتارا ہے یوگی کہہ رہے ہیں کہ ان قوانین سے کسی کی زمین نہیں جائے گی اور ایم ایس پی ملتی رہے گی اور کسان اپنی فصل دیش میں کہیں بھی بیچ سکتے ہیں ۔ فی الحال دھان کا ایم ایس پی 1868روپئے کنتل ہے جبکہ بہار میں اور یوپی میں یہ کسان محض نو سو روپئے میں فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔ کیجریوال نے پوچھا کہ ان قوانین کو کورونا وباءکے دوران پارلیمنٹ میں پاس کرانے کی ایس کیا جلدی تھی ؟ پہلی بار ہوا ہے کہ راجیہ سبھا میں بغیر ووٹنگ کے ہی تینوں قوانین کو پاس کردیا گیا وہیں بھاجپا ایم پی منوج تیواری نے قانون کی کاپی پھاڑنے پر سخت مذمت کی ہے اور ایسا کرنا غیر آئینی قدم ہے ایم پی نے کہا کہ دیش کے نوجوانوں کو کیجریوال بد امنی کا سبق پڑھا رہے ہیں ۔ کسانوں کے مستقبل کو مکھیہ منتری نے ٹکڑہ ٹکڑہ کیا ہے اس قدم پر دیش کی جنتا حمایت نہیں کرے گی وہیں اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر رام ویر سنگھ بدھوڑی نے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے پوچھا کہ اگر مرکزی سر کار تیونوں زرعی قانون سے انہیں اتنی پریشانی ہے تو پھر سرکار نے ان تیونوں قوانین میں سے ایک پیداوار ،تجارت ،اور کامرس ترمیم قانون کو 23نومبر کو دہلی میں لاگو کئے جانے کا نوٹیفائی کیوں کیا اور باقی دو قوانین پر بھی غور کرنے کی بات کیوں کہی اتنا ہی نہیں پارٹی نے راجستھا نے ضلع پریشد اور پنچایت چناو¿ میں جیت درج کرکے اس خوش فہمی کو بھی دور کردیا ایسے چناو¿ میں ریاست کی حکمراں پارٹی کو ہی کامیابی ملتی ہے بدھوڑی نے یہ بھی پوچھا دہلی میں کسانوں کو سب سے مہنگی بجلی کیوں دی جاتی ہے انہیں ٹیوب ویل لگانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی ؟ہریانہ کی طرح دہلی کے کسانوں کو زرعی ساز و سامان کی خرید پر سب سڈی کیوں نہیں ملتی؟ وعدہ کرنے کے باوجود گاو¿ں والوں کا لال ڈورا کیوں نہیں بڑھایا گیا؟ کیجریوال سرکار نے کسانو ں کی زمین کا معاوضہ کیوں نہیں بڑھایا بدلے میں متبادل رہائشی پلان کیوں نہیں دیئے ؟
(انل نریندر )
کالے قانون واپس نہیں لےتی سرکار تو ہم مورچہ نہیں چھوڑیں گے!
بنائے گئے زرعی قوانین کو منسوخ کرانے کی مانگ کو لیکر دہلی کی سرحدوں پر پچھلے تین ہفتوں سے ڈٹے کسانوں کے معاملے میں سپریم کورٹ میں لمبی سماعت ہوئی لیکن بد قسمتی سے کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا یہاں تک کہ جوائنٹ کمیٹی بنانے کے اشارہ بھی فی الحال نہیں ملا چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی سر براہی والی بنچ نے سماعت کے آخیر میں مرکزی سرکار سے پوچھا کی جب تک کسانوں کی بات چیت کو کوئی حل نہیںنکلتا تب تک سرکار زرعی قوانین پر عمل روکنے کو تیار ہے ؟ اس پر سرکارکی طرف سے پیروی کر رہے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ وہ ایسی یقین دہانی نہیں دے سکتے وہ سرکار سے ہدایت ملنے کے بعد ہی کچھ بتائیں گے اس معاملے میں کسان انجمنوں کو نوٹس جاری کر جواب مانگا اور اگلی سماعت سردیوں کی چھٹی کے دوران والی ویکیشن بنچ کرے گی ۔ کوٹ کے چیف کیریماس ؛پر امن مظاہرہ کسانوں کا اخلاقی حق ہے انہیں ہٹنے کو نہیں کہہ سکتے ۔ تشدد کے بے غیر مظاہر جاری رہ سکتا ہے ۔ پولس کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے حل بات چیت سے نکلے گا صرف دھرنا دینے سے بات نہیں بن سکتی کسان انجمنوں کی دلیل جاننے کے بعد ہی جوائنٹ کمیٹی بناے کا ہی حکم دیں گے ۔ زرعی قوانین کے خلاف بیٹھے کسانوں کا احتجاج جاری ہے کسان مزدور سنگھرس کمیٹی پنجاب کے عہدے دار دیال سنگھ نے بتایا، سپریم کورٹ نے جو کمی´ٹی بنائی ہے اس میں ہم یقین نیہں کرتے اگر سرکار بات چیت کرکے کالے قانون واپس لیتی ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو ہم ابھی ہم مورچہ نہیں چھوڑیں گے وہیں کمیٹی کے جنرل سکریٹری سرون چنگھ پنڈیر نے کہا کمیٹی بنانا مسئلے کا حل نہیں ہے کسان پہلے ہی کمیٹی بنانے پر منع کر چکے ہیں وہیں مرکزی وزیر وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کل جو چٹھی لکھی ہے وہ دیش کو گمراہ کرنے والی ہے اس میں کچھ نیا نہیں ہے اگر ہوتا تو ہم اس پر رائے زنی کرتے ۔ وہیں تامل ناڈو میں ڈی ایم کے قیادت میں اپوزیشن پارٹیاں کسانوں کی حمایت میں ایک دن کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے مرکز کے تین زرعی قانون کے خلاف تین ہفتے سے زیادہ وقت سے دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کر رہے ہیں چپکو آندولن کے نیتا سندر لال بگونا نے بھی تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کو حمایت دی ہے در اصل کسان آندولن کو لمبا کھینچے جانے سے سب سے بڑی وجہ زرعی قوانین کو لیکر پیدا غلط فہمی یا تنازع کا حل سنجیدگی سے کیا نہ کیا جانا ہے ۔ پہلے حکومت نے پنجاب اور ہریانہ کے آندولن کہہ کر اس کو حل کرنے سے منع کردیا جب دیش کے کسان انجمنوں نے متحد ہو کر دہلی کی طرف کوچ کیا تو انہیں طاقت کے ذریعے انیہں کچلنے کی کوشش کی گئی آخر کار وہ دہلی کی سرحدوں پر آپہونچے اور سردیوں میں تمام پریشانیوں کے باوجود دھرنے پر بیٹھ گئے اس کے باوجود مرکزی سرکار اور بھاجپا کے کئی نیتا اس آندولن کو لیکر سنگین قسم کے بیان دینے لگے کوئی انہیں آتنکی بتا رہے ہیں تو کوئی پاکستانی اور کوئی چین پاکستان سے اسپانسر بتا رہا ہے جس وجہ سے کسانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن اس کے باجود نیتاو¿ن کی بے تکی بیان بازی بند نہیں ہوئی ہے ۔اب اس تحریک میں کسانوں کے ساتھ انی کی حمایت کے لئے کچھ بڑے کھلاڑی ،سماجی رضا کار اور دانشور بھی اتر چکے ہیں اس دوران دھرنے پر بیٹھے قریب 20کسانوں کی موت ہوچکی ہے ادھر سکھ سنت بابا سنگھ نے تو خود کشی کر لی ہے اب بھی وقت ہے سپریم کورٹ کی صلاح کو سرکار سنجیدگی سے لیتے ہوئے مسئلے کے حل کے لئے قدم آگے بڑھائے ۔
(انل نریندر)
19 دسمبر 2020
کورونا کے بعد ہو رہا ہے خطرناک بلیک فنگس!
کورونا سے ٹھیک ہوئے مریضوں میں خطرناک فنگس مکومائکوسز کا انفیکشن دیکھاجا رہا ہے ا سے بلیک فنگس بھی کہا جارہا ہے ۔پچھلے دو ہفتہ میں گنگا رام اسپتال میں انفیکشن سے متاثر پندر ہ سے اٹھارہ مریض پہونچ چکے ہیں اس سے مریضوں کے آنکھ کی روشنی جار ہی ہے ناک و جبڑے خراب ہورہے ہیں اور اس سے پانچ مریضوں کی مو ت بھی ہو چکی ہے اسپتال کے ڈاکٹرس کا کہنا ہے بیماری سے موت شرح قریب پچاس فیصدی ہے ۔سرجن ڈاکٹر منیش منجال کاکہناہے اعضا ءٹرانسپلانٹ کے مریضوں شوگر کے مریضوں اور لمبے وقت تک اسی دوا کا استعمال کرنے والے لوگوں میں اس مرض کا اندیشہ رہتا ہے کیوں کہ یہ ان کی جسمانی طاقت کو کمزور کرتی ہے پہلے ہر سال آٹھ سے دس مریض دیکھتے جاتے تھے لیکن اب ہفتہ میں پندرہ سے اٹھارہ مریض آرہے ہیں ۔حیران کرنے والی بات یہ ہے ان سبھی کو پہلے کورونا ہوا تھا ابھی مغربی دہلی کے تاجر میں بھی فنگس انفیکشن ملا ہے ۔سات دنوں کے بعد رپورٹ نگیٹو آنے پر انہیں چھٹی دے دی گئی تھی لیکن کورونا کے بعد ناک کے بائیں حصہ میں رکاوٹ پیدا ہونے لگی اس کے بعد آنکھوں میں سوجن آگئی جس پر اینٹک بایوٹک دواو¿ں کا کوئی اثرنہیں ہوا اور آہستہ آہستہ ان کی آنکھوں کی روشنی کم ہوتی چلی گئی ۔کورونا سے ٹھیک ہونے کے بعد بھی مریضوں کو بہت احتیاط برتنی ہوتی ہے یہ نئی نئی بیماریاں اس منہوس کورونا کی وجہ سے آتی جارہی ہیں۔
(انل نریندر)
ہائی سکورٹی رجسٹریشن پلیٹ اور کلر کوٹڈ اسٹیکر کیا ہے ؟
دہلی ٹرانسپورٹ محکمہ نے منگل کے روز ایم ایس آر بی جسے ہائی سکورٹی نمبر پلیٹ بھی کہتے ہیں اس کے نا ہونے اور کلر کوٹڈ فیو اسٹیکر کے نا ہونے پر دہلی کی کاروں پر چالان شروع کردیا ہے ۔پہلے دن دو سو سے زیادہ کار مالکوں کا چالان کیا گیا ۔ابھی دہلی میں فی الحال رجسٹرڈ کاروں کے چالان ہو رہے ہیں اور د و پہیا گاڑیوں اور دہلی کی نمبر کی گاڑیوں کو لیکر بھی کچھ وقت کے لئے چھوٹ دی گئی ہے ترمیم موٹر ایکٹ کے مطابق ایم ایس آر پی نا ہونے پر دس ہزار روپے تک کا چالان ہو سکتا ہے جو ابھی 55سو روپے ہے ۔دہلی میں رجسٹرڈ ان گاڑیوں کے لئے یہ ہی چالان رقم طے کی گئی ہے جن پر کلر کوٹڈ فیو ل اسٹیکر نہیں ہوگا ۔دہلی بی جے پی نے لیفٹننٹ گورنر انل بیجل کو خط لکھ کر چھ مہینہ کے لئے چالان کاروائی کو ملتوی کرنے کی مانگ کی ہے دہلی کے ٹرانسپورٹ محکمہ کی اس کاروائی سے گاڑی مالکوں میں گھبراہٹ ہے کیوں کہ ابھی بیس لاکھ دوپہیا اور چالیس لاکھ کاروں کے پاس ایم ایس آر پی نہیں ہے ۔آخر کیا ہے ایم ایس آر پی ؟ حال ہیں میں سڑک ٹرانسپورٹ و نیشنل ہائی وے وزارت نے اپریل 2019سے پہلے خریدی گئی سبھی گاڑیوں پر ہائی سکیورٹی رجسٹریشن پلیٹ کا ہونا ضرور ی کیا تھا اس اسکیم کی شروعات مارچ 2008میں کی گئی تھی اور گاڑیوں کو یہ نمبر پلیٹ لگوانے کے لئے دو سال کا وقت دیا گیا تھا لیکن آج بھی دیش میں ایم ایس آر پی کے بنا دھرللے سے گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں اس کا خاص مقصد گاڑیوں کی چوری اور دھوکے بازی کو بند کرنا ہے اگر ایک گاڑی میں جب یونک ایم ایس آر پی لگائی جاتی ہے تو اس کی اور گاڑی کی جانکاری ایک پختہ تال میل بناتی ہے اور اس کے علاوہ پرانے نمبر پلیٹ میں آرام سے دھوکہ دھڑی ہو سکتی ہے اسے بدلا جاسکتا ہے ۔یہ نمبر پلیٹ صرف دو نان -رییوزایبل لاک سے ہی لگائی جاتی ہے اگر یہ لاک ٹوٹ جاتے ہیں تو صاف ہو جاتا ہے کہ نمبر پلیٹ سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس پر کروسیم دھات میں نیلے رنگ کا اشوک چکر کا ہولوگرام ہوتا ہے جو بیس ملی میٹر کی بنیاد کا ہوتا ہے اس پلیٹ کے نیچے کی بائیں طرف دس نمبروں کا خا ص پن نمبر ہوتا جسے لیئر سے بنایا جاتا ہے جو گاڑی کی سکورٹی کو پختہ کر دیتا ہے ۔نمبر پلیٹ پر لکھا گاڑی کا نمبر بھی عام نہیں ہوتا بلکہ وہ ابھرے ہوئے لفظ میں ہوتا ہے ۔45ڈگری کے کون پر دکھائی دینے پر ان کے اوپر انڈین لکھا نظر آتا ہے ایم ایس آرپی اس لئے بھی فائدے مند ہے کیوں کہ کار کا انجن نمبر اور کیسز نمبر اس کے سنٹرلائز ڈیٹا بیس میں سیو رہتا ہے ۔محفوظ رہتا ہے اس ڈیٹا اور دس نمبروں کے پن کے ذریعے کسی چوری ہوئی کار کو پہچانا جاسکتا ہے گاڑی میں کس طرح کا فیول ایندھن استعمال ہوتا ہے اس کا پتہ لگانے کے لئے کلر کوٹڈ فیول اسٹیکر کو دہلی ٹرانسپورٹ محکمہ نے ضروری کر دیا ہے جو گاڑیاں پٹرول یا سی این جی سے چلتی ہیں اس کے لئے نیلا اسٹیکر اور جو ڈیجل سے چلتی ہیں اس کے لئے نارنگی رنگ کا اسٹیکر طے کیا گیاہے اس فیصلے پر عمل کردیاگیا ہے سرکار کو چاہیے کہ پہلے اس کی پبلک سٹی کرے تاکہ گاڑی چلانے والوں کو اس کی جانکاری ہو اچانک لاگو فیصلے سے کار چلانے والوں میں دہشت پھیل گئی ہے ۔
(انل نریندر )
پرسنل لاءمیں ہم دخل نہیں دے سکتے !
سپریم کورٹ ان دو مفاد عامہ کی عرضیوں پر غور کرنے کیلئے تیار ہوگیا ہے جن میں سبھی شہریوں کے لئے طلاق اور گزارا بھتہ اور یکسیاں بنیاد اور آئین کی مانگ کی گئی ہے چیف جسٹس ایس اے بووڑے ، جسٹس اے ایس بوپنہ اور جسٹس شیامہ سبرا منیم کی بنچ نے بدھ کو بھاجپا نیتا اوروکیل اشونی اپادھیائے کی دائر عرضیوں پر مرکز کو نوٹس جاری کرکے جواب داخل ہونے کو کہا ہے ۔غور طلب ہے اشونی اپادھیائے ایک دیگر نے مانگ کی ہے سبھی مذاہب میں گزارا بھتے کے لئے آئین کے جذبے کے مطابق ایک یکساں ضابطہ طے کئے جائیں ۔عرضی گزاروں کا کہنا ہے ابھی ہندو ، بودھ ،سکھ اور جین فرقہ کے لوگوں کو ہندو میرج ایکٹ کے تحت طلاق ملتی ہے جبکہ مسلم ایسائیوں اور پارسیوں کے اپنے اپنے پرسنل لاءہیں ۔جس کے چلتے نابالغی ، نامردی اور کم عمر میں شادی جیسی بنیاد جو ہندو میرج ایکٹ کے تحت طلاق کی بنیاد بنتے ہیں وہ پرسنل لاءمیں نہیں ہیں ۔عرضی گزار اشونی اپادھیائے کی جانب سے سینئر وکیل پنکی آنند نے دلیلیں دیں کہ بین الاقوامی معاہدہ اور آئین کے آرٹیکل 4915کے تحت ملے حقوق کے تئیں پرسنل لاءامتیاز پر مبنی ہے ۔سماعت کے دوران عرضی گزار کی طرف سے سینئر وکیل پنکی آنند اور مناکشی اروڑا سے کہا کہ آپ چاہتی ہیں کہ پرسنل لاءکو ختم کردیا جائے ۔بغیر پرسنل لاءمیں دخل دئیے ہم اس رواج کو کیسے ختم کر سکتے ہیں ؟ ان سبھی معاملوں پر غورکرنے کا مطلب پر سنل لاءکو مسترد کرنا ہے ؟ وہیں مناکشی اروڑا نے کہا کہ آئین کے تحت ریاستوں کو کچھ اختیارات و سمان یقنی کرنا ہوتا ہے اگر کوئی بھی دھارمک روایت بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتی ہے تو ریاست کو اس میں ضرور دخل دینا چاہیے ۔کس طرح سے مسلم خواتین کو گزارا بھتہ معاملے میں امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں صرف عدت تک گزارا بھتہ دیاجاتا ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا مسئلہ یہ ہے کہ کس رواج کو ایک برابر طریقہ سے اپنایا جانا چاہیے ؟ عدالت شروع میں ان عرضیوں پر غور کرنے کی خواہش مند نہیں تھی کیوں کہ معاملہ پرسنل لاءسے جڑا تھا حالانکہ بعد میں عدالت نے عرضیوں پر مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کیا لیکن یہ بھی کہا کہ وہ احتیاط کے ساتھ اس پر غور کرےگا ۔سماعت کے دوران بنچ نے کہا کورٹ سے پرسنل لاءختم کرنے کی مانگ کررہے ہیں آپ نے سیدھے طور پر یہ مانگ نہیں کی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہی نکلتا ہے اس پر پنکی آنند نے کہا کہ عدالت نے اس سے پہلے آرٹیکل 142کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سائرہ بانو (تین طلاق کیس)کے فیصلے میں کہا تھا کہ جب تک قانون بنتا ہے کورٹ کی ہدایت لاگو رہیں گے جسٹس بوگڑے نے کہا کہ آئینی کمیشن کو معاملہ سونپنے کی مانگ پر غور کرسکتا ہے ۔
(انل نریندر)
18 دسمبر 2020
کڑاکے کی سردی کےلئے تیار ہوجائیں!
راجدھانی دہلی میں سرد لہر کا اثر کچھ ایسا دکھائی دے رہا ہے نارتھ انڈیا کے میدانی علاقوں میں سردی کے معاملے میں ہماری دہلی ٹاپ پر پہونچ گئی ہے اور بدھوار کے روز سرد لہر کی اور برفیلی ہواو¿ں کے سبب راجدھانی دہلی والوں کے لئے اس وقت مصیبت بنی ہوئی ہے دوپہر میں بھی برفیلی ہوائیں چل رہی تھی اور دہلی کا کم سے کم درجہ حرارت 4.1ڈگری تک آگیا ۔ پچھلی ایک دھائی کے دوران کبھی ایسا نہیں ہوا لیکن 20دسمبر سے پہلے راجدھانی کا درجہ حرارت 4ڈگری کے آس پاس آگیا شہروں میں یہ عام سے پانچ ڈگری کم ہے جعفر پور میں 3.6ڈگری ،آیا نگر میں 4ڈگری ، اور لودھی روڈ پر 4.2ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا وہیںزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے معاملے میںبھی دہلی میںا اس سیزن کا سب سے ڈنڈا دن بھی دیکھا ہے یہ محض 18.5ڈگری پر سمٹ گیا اور یہ عام سے پانچ ڈگری کم ہے دن کے وقت بھی راجدھانی کو سخت سردی سے راحت نہیں مل رہی ہے جمعہ و اتوار کو ہمالیائی علاقوں کشمیر و ہماچل اور اترا کھنڈ میں زبردست ٹھنڈ گری ہے ۔ اسی وجہ سے نارتھ ویسٹ سندھ سے آنے والی برفیلی ہواو¿ں سے دہلی کے درجہ حرارت میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے دوسری طرف راجدھانی دہلی کے لوگوں نے سولہ دنوں کے بعد صاف ستھری ہوا کی سانس لی ہے سینٹرل پالوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق پیر کے روز دہلی کی اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 160کے نمبر پر رہا پچھلے دنوں میں ہوا کی کوالٹی بے حد خراب یا پھر سنگین زمرے میں رہی ایئر کوالٹی منگل وار سے خراب کٹیگری میں آ سکتی ہے پنجاب میں لگاتار کئی دنوں سے سورج نہ نکلنے سے وہاں پچاس سال میں پہلی بار لدھیانہ میں دن کا درجہ حرارت 13.4ڈگری سیلسیس تک گر گیا ۔ وہیں امرتسر میں سب سے ٹھنڈا دن رہا یہاں کی درجہ حرار ت 5.6ڈگری سیلسیس اور زیادہ سے زیادہ 12ڈگری تک رہا علاقائی محکمہ موسمیا ت کے مطابق 15سے18دسمبر تک دن اور رات میں دہلی میں سرد لہر جاری رہے گی ۔ اس لئے اورینج الرٹ جاری کر دیا گیا ہے وہیں اسکائی میٹ کے مطابق جموں کشمیر ہمانچل لداخ اور اتراکھنڈ میں پچھلے ہفتے برف باری کی وجہ سے دہلی این سی آر میں درجہ حرارت تیزی سے نیچے آرہا ہے پہاڑوں میںبرف گر رہی ہے اسی دوران دہلی میں گرمی محسوس ہونے لگی تھی 9دسمبر کو زیادہ درجہ حرارت 29ڈگری تک پہونچ گیا تھا لیکن اب دہلی پر نارتھ ویسٹ سرد ہواو¿ںکا دور اگلے کچھ دنوں تک جاری رہے گا اس کے چلتے دن اور رات میں ددرجہ حرارت میں کمی آئے گی ساتھ ہی دہلی والوںکو اس ہفتے گہرے کہرے کا سامنہ کرنا پڑے گا۔
(انل نریندر)
آندولن جاری رہے گا ،کھیتوں میں ہل بھی چلے گا!
دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا آندولن جاری ہے ۔اس کے لمبا کھینچنے سے کسانوں نے اپنی حکمت عملی بدل لی ہے کسان گروپوں میں بٹ کر آگے بڑھ رہے ہیں کسانوں نے مان لیا ہے کی زرعی قوانین کو واپس کرانے کےلئے لمبی لڑائی لڑنی پڑے گی آندولن کا جوش بھی کم نہ ہو اور کھیتوں میں بھی ہل چلتا رہے اس کا راستہ بھی کسانوں نے نکال لیا ہے ۔ پنجاب کے کسانوں نے آندولن کے لئے الگ الگ جتھہ تیار کیا ہے جب ایک جتھہ آندولن میں مورچہ سنبھال رہا ہوگا تو دوسرا گاو¿ں میںکھیتی کرے گا جب وہ آندولن سے واپس آئے گا تو اس کی جگہ دوسرا گھر چلا جائے گا کسان آندولن میں شامل اشوندر سنگھ نے بتایا کی مرکزی حکومت غلط فہمی میں ہے یہ تحریک جلد ختم ہوجائے گی ہم کھیتی کر رہے ہیں اور آندولن بھی کھیتی اور آندولن دونوں چلتا رہے اس لئے گاو¿ں سے جتھہ بنا کر باری باری سے لوگ اس میں شامل ہورہے ہیں جس سے کسی کو نقصان نہ ہو ہمیں اگر برسات تک بھی بیٹھنا پڑاتو رہنیگے پٹیالہ سے سراڑا گاو¿ں سے آئے 84سالہ بلویر سنگھ کا کہنا ہے یہ میرا دوسرا آندولن ہے اس سے پہلے میں 1983میں ہم نے سراڈامیں نہر کے لئے آندولن کیا تھا اس وقت میں ایک مہنیے تک جیل میں رہا کسانوں کو جب یہ قانون مار ہی رہا ہے تو آندولن میں بھی مرجائیں گے غم نہیںجب پوچھا کھیتی کیسی ہورہی ہے اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کی چنتا نہیں گاو¿ں کے بچوں نے کہا کہ آپ ڈٹے رہیں کھیتوں کی چنتا نہ کریں مرکز کے نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی سے لگی سرحدوں پر جاری کسانوں کے مظاہرے آنے والے دنوں میں کمزور نہیںپڑیں گے بلکہ اورتیز ہوسکتا ہے سندھو بارڈر پر مظاہرے میں کسانوں کے کنبوں کی دو ہزار سے زیادہ عورتیں پہونچ رہی ہیں اور پنجاب کے مختلف حصوں سے آرہی عورتوں کے لئے انتظام کئے جارہے ہیں ٹینٹ لگائے جارہے ہیں الگ سے لنگر چلانے کا منصوبہ بنایا گیاہے ۔ اور مزید ٹوائلٹ کا انتظام کیا گیا ہے الگ الگ ریاستوں کے کسان سندھو پکری غازی پور بارڈر پر تین ہفتے سے زیادہ وقت سے ڈٹے ہوئے ہیں بدھوار کو کنڈلی بارڈر پر دھرنے میں شامل ایک کسان کی گولی مارنے سے حالت خراب ہوگئی ہے یہ گاو¿ں کگرا کا ہے اس کانام بابا رام سنگھ ہے وہ گرودوارا جنک سر میں گرنتھی تھے چار پانچ دن پہلے دھرنے میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے ان کے پاس سے پنجابی میں سوسائڈ نوٹ ملا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسانوں کے حق میں اور سرکاری ظلموں کی ناراضگی نے انہوں نے خود کشی کرنے کی بات انہوں نے بدھوار کو دھرنا جگہ پر پہونچنے کے بعد اسٹیج کے پیچھے والے روڈ کے دوسرے کنارے پر جاکر خود کو گولی مار لی ان کی موت سے پہلے سے زیادہ کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔
(انل نریندر)
17 دسمبر 2020
فیملی پلانگ کےلئے زبردستی نہیں کرسکتے !
سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ لوگوں کو فیملی پلانگ کے تحت خاندان مین بچوں کی تعداد دو تک محدود رکھنے کے لئے مجبور کرنے کے خلاف ہے اس سے آبادی کے سلسلے میں عجب حالات پیدا ہونگے مرکزی سرکار نے عدالت سے کہا کہ وہ فیملی پلانگ کے لئے کسی پر دباو¿ نہیں ڈال سکتی ایسا کرنے سے منفی اثر بھی ہوتا ہے اور ڈیمو گرافی کی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں سپریم کورٹ نے اس عرضی پر مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کر جواب داخل کرنے کو کہا تھا عرضی میں عرضی گزار نے آبادی کنٹرول کے لئے وینکٹ چلیہ کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کے لئے درخواست دی تھی اس میں کہا گیا ہے کہ دو بچوں کی پالیسی لوگو کی جائے سرکار ی سب سڈی اور نوکری کے لئے دو بچے کی پالیسی کو نافذ کرنے کا حکم دیا جائے مرکزی وزارات صحت کی جانب سے داخل جواب میں کہا گیا ہے فیملی پلاننگ ایک مرضی والا پروگرام ہے یہ لوگوں کی خواہش کے حساب سے فیملی پلاننگ اسکیم ہے اس میں کوئی زور زبردستی نہیں اس معاملے میں مرکزی سرکار نے کہا کہ پبلک ہیلتھ اسٹیٹ کا اشو ہے اس معاملے میں ان کا کوئی سیدھا رول نہیں ہیلتھ سے متعلق گائیڈ لائنس لاگو کرنے کا حق اسٹیٹ کا ہے ۔ سرکار ایک پائیدار ،آبادی پالیسی کی تعمیل کرتی ہے اور وہ فیملی پلاننگ کے زبردستی کرنے خلاف ہے ۔ ویسے بھار ت آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے تمام پروگرام چلاتا ہے مثلاًیوم آبادی منایا جاتا ہے مشن فیملی ڈیولیپمنٹ یوجنا ہے اس کے تحت فیملی پلاننگ پروگرام چلاتا ہے ایسے بہت سے پروگرام ہیں سپریم کورٹ نے بھاجپا نیتا اشونی اپادھیا کی جانب سے داخل عرضی میں بھارت سرکار کو شریک مدعی بنایا ہے اور کہا گیا ہے کہ دیش میںآبادی کنٹرول کرنے کے لئے قدم اٹھائے جائیں اوردو بچے کی پالیسی علان کی جائے یعنی سرکاری نوکری سب سڈی وغیرہ کرائیٹیریا طے کیا جایا اور اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے قانونی حق ووٹنگ کا حق اور چناو¿ لڑنے کے حق سے محروم کیا جائے ۔وزارات نے کہا کہ آبادی کنٹرول ریاست کا اشو ہے جب کی ہمارا کہنا ہے وزارت کے افسران نہ آئین کو پڑھتے ہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں آئین کے سیڈول سات میں کاموں کا بٹوارہ ہے اس میں تین لسٹ ہیں مرکزی ،ریاستی ،اور سرحدی فہرست شامل ہیں آبادی کنٹرول کا اشو اخری فہرست میں ہے یعنی آبادی کنٹرول پر مرکز اور ریاستی حکومتیں دونوں ہی قانون بنا سکتی ہیں ۔
(انل نریندر)
کہرے و ٹھنڈ میں کانپتے کسان ارادے اب بھی مضبوط!
پچھلے دو تین دن سے دہلی کی سڑکوں پر زبردست کہرہ ہے ،سردی بڑھ گئی ہے سخت ٹھنڈ کے درمیان لوگوں کا چند منٹ بھی سڑک پر رہ پان مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ کہرے کی وجہ سے سڑکوں پر روشنی اتنی کم ہوگئی چند قدم دور تک دیکھ پانا بھی مشکل ہے دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ہے لیکن پیدل چلنے پر محض دس قدموں پر ہی سڑکوں کے کنارے ٹرالی کے نیچے تو کوئی ٹرالی کے اندر سوتا دکھائی دے رہا ہے یہ نظارہ ہے سندھو بارڈر کا دھرنے کی جگہ پر دن بھر چہل پہل کے بعد روزآنہ رات کو لوگ اپنے اپنے بسیروں پر پہونچ جاتے ہیں جہاں انہوں نے اپنے ٹھہرنے کا ٹھاکانہ بنایا ہوا ہے۔ کچھ کسان گاو¿ں سے لائے ٹرالیوں میں سو رہے ہیں کوئی جن بسوں میں آئے ان میں سونے پر مجبور لیکن بہت سے ایسے کسان ہیں جنہیں اب بھی دھرنے کی جگہ پر سونے کی جگہ نصیب نہیں ہوتی ان کسانوں کےلئے سر د ہوائیں کسی مصیبت سے کم نہیں اس کے باوجود مظاہر ہ کر رہے کسانوں میں جذبے کی کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی دھرنا کی جگہ کے قریب سو میٹر آگے کنڈلی کی طرف خالصہ ایڈ کی طرف سے عارضی رین بسیرہ دکھائی دیتا ہے ۔یہاں پر قریب چار سو لوگوں کے رہنے کا انتظام کیا گیا ہے وہاں جاکر ہم نے دیکھا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ رضائی گدے لئے سوئے ہوئے تھے وہاں موجود انچارج سے بات کرنے پر پتہ چلا یہ وہ لوگ ہیں جو دھرنہ دینے کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔ کئی کلو میٹر تک یہ کسان پھیلے ہوئے ہیں اور ٹریکٹر ٹرالیوں میں رات کو بے فکر ہوکر کسان اپنی راتیں گزارتیں ہیں ان کے پیچھے نوجوان اور دوسرے فورس کا سخت پہرہ ہوتا ہے۔ یہ لڑکے رضا کار کے طور پر چو بیس گھنٹے کام کرتے ہیں کپ کپاتی ٹھنڈ میں روز آنہ اپنی ڈیوٹی پر مستعد دکھائی پڑتے ہیں اور لڑکوں کی باری باری ڈیوٹی بدلتی ہے در اصل سندھو بارڈر ایک بڑا اسٹیج بنا ہوا ہے جو دس فٹ اونچااور تیس چالیس فٹ چوڑاہے اس کے سامنے بڑی تعدا دمیں کسان بیٹھ کر دھرنا نعرے بازی کرتے ہیں اس کے آس پاس اسٹال ٹینٹ کھانے پینے کے لنگر دستیاب ہیں ۔ ایک رضا کار جسپیر سنگھ نے بتایا کہ وہ یہاں سیوا دار کی میں خدمت کرتے ہیں ہزاروں کسانوں کے درمیان کوئی پولس والا نہیں ہوتا وہ چبڑی پریمی کے نام سے جانے جاتے ہیں ان کا نام کلوندر سنگھ ہیں وہ کبڈی ٹیم کے ساتھ اپنی خدمات دے رہے ہیں ہم کسانوں سکے جذبے کو سلا م کرتے ہیں تمام نا گزیر حالات میں اپنے محذ پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔واہے گورو جی دا خالصہ واہے گوروجی دی
(انل نریندر)
16 دسمبر 2020
نیوز پیپر انڈسٹری ڈوبنے کے دہانے پر ہے !
انڈین نیوز پیپر سوسائٹی (آئی این ایس ) کے صدر ایل اے ڈیمولم نے مرکزی سرکار سے نیوز پیپر انڈسٹریز کو حوصلہ افزا مالی پیکیج دیئے جانے کی مانگ کی ہے واضح ہو کہ آئی این ایس کئی ماہ سے اس پیکیج کی امید سرکار سے لگائے ہوئے ہے ۔ آئی این ایس کا کہنا کہ نیوز پیپیر انڈسٹری محصول میں کمی کے چلتے بھاری مالی بہران کا سامنہ کر رہی ہے کیونکہ کووڈ 19کی وجہ سے اشتہارات اور سرکولیشن دونوں ہی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس کی وجہ سے بہت سے اخبارات تو بند ہوگئے ہیں یا کچھ اخباری ایڈیشن بے میعاد ملتوی کردئے گئے ہیں اگر یہی حالت رہی تو مستقبل قریب میں اور بھی کئی اخبار بند ہو سکتے ہیں8مہینے میں اخباری صنعت کو قریب 12500کروڑ روپئے کا نقصان ہوچکا ہے سال کے آخیر تک یہ تخمینہ 16ہزار کروڑ تک جاسکتا ہے ۔ دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت کا چوتھا ستون ڈھانے کے سنگین وسماجی اور سیاسی نتیجوں کا تصور آسانی سے کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس بہران سے تیس لاکھ اخباری صنعت سے جڑے ورکروں اور اسٹاف وغیرہ پر برا اثر پڑے گا جو براہ راست یا غیر براہ راست سے اخباری صنعت میںلگے ہوئے ہیں جیسے پترکار پرنٹر ،ڈیلوری وینڈر اور کئی دیگر شکلوں میں کام کر رہے ہیں ۔ اگر نیوز پیپر انڈسٹری ڈھ جاتی ہے تو اس کی تباہ کاری کا اثر لاکھوں ہندوستانیوں پر پڑے گا جس میں اس کے ملازم اور ان کے بچے وغیرہ شامل ہیں ۔ اس سے جڑی صنعت پرنٹنگ پریس نیوز پیپر ہاکر اور ڈلیوری وینڈر سمیت پوری چین کے بے حد ایکو سسٹم پر بھی برا اثر پڑے گا۔ جو دہائیوں سے روزی روٹی کے لئے ااس پر منحصر ہیں۔
(انل نریندر)
امریکی سپریم کو رٹ نے ٹرمپ کو دیا زبردست جھٹکا!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کی سپریم کورٹ سے زبردست جھٹکالگا ہے ٹرمپ اور ان کی پبلیسٹی ٹیم نے حال ہی میں ہوئے صدارتی چناو¿ میں وسیع دھاندلی کے الزام لگائے تھے اور کئی صوبوںمیں جو بائیڈن کی جیت کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی تھی ۔ وہیں صوبائی چناو¿ حکام اور آزاد میڈیا کا کہنا ہے کہ انہیں دھاندھلی کے سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ٹرمپ نے سپریم کورٹ میںنتیجوں کو منسوخ کرنے کی عرضی کو خارج کردیا ان عرضیوں میں دلیل دی گئی تھی کہ ان کانٹوں کے مقابلے والے صوبوں کے چناو¿ کو منسوخ کر دوبارہ سے چناو¿ کرانے کا حکم دے جن میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے امید وار جو بائیڈن نے جیت درج کی تھی فیصلے سے ناراض ٹرمپ نے ٹویٹ کرکے کہا کہ عدالت نے در حقیقت مجھے نیچا دکھایا ہے نہ تو اس میں کسی طرح کی سمجھ ہے اورنہ ہمت یہ فیصلہ قانونی طور پر میری بے عزتی ہے بتا دیں امریکی صدارتی چناو¿ میں جو بائیڈن کو شاندار کامیابی ملی ہے ۔ وہ 20جنوری کو امریکی صدر کے عہدے کا حلف لیں گے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے مختصر اور بے غیر دستخط والے حکم میں کہا کہ ٹیکساس میں اس طرح سے عدالتی فیصلے میں دلچسپی نہیں دکھائی جس طرح سے دیگر ریاست چناو¿ میں دکھاتے ہیں ۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹرمپ کے لئے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے جو بائیڈن کے انتخاب کو چنوتی دیتے ہوئے نتیجوں کو پلٹنے کی کوشش کررہے ہیں سپریم کورٹ کے جسٹس سیمول ایلیٹو اور جسٹس فلورینس تھامس نے کہا ان کا خیال ہے کہ عدالت کو اس معاملے کی سماعت کرنی چاہئے لیکن انہوں نے ٹیکساز کے دعوے پر کوئی واضح پوزیشن ظاہر نہیںکی کم سے کم 126ریپبلیکن ایم پی نے اس مقدمے کی حمایت کی تھی خود ڈونلڈ ٹرمپ نے عرضیوں کو لیکر خوشی ظاہر کی تھی ۔ عدالت نے لاکھوں امریکی ووٹروں کی خواہش پلٹنے کےلئے ریپبلکن پارٹ کے غیر ضروی مقدمے کو خارج کرنے کا صحیح قدم اٹھایا عرضی پر دستخط کرنے والے سینیٹروں نے افغانی نمائندگان کی بے عزتی کی ہے ، ایوانی نماندگان کے چیف لیڈر اسٹینی ہوچر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ صاف ہوگیا کہ چناو¿ میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی اور اب جو بائیڈن امریکہ کے اگلے صدر ہونگے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی ٹرمپ کے تیور ڈھیلے پڑتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا صدر کی قانونی ٹیم چناو¿ نتائج کو چنوتی دیتی رہے گی انہوں نے ایک اینٹر ویو میں کہا کہ فیصلوں میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا ہے جو ہمیں ضلع عدالتوں میں عرضی دائر کرنے سے روکتا ہے بھروسہ رکھئے ہم چنوتی دینے جارہے ہیں۔
(انل نریندر)
کسان ایکتا توڑنا چاہتی ہے سرکار!
نئے زرعی قوانین کو منسوخ کرانے اور ایم ایس پی کی گارنٹی کی مانگ کو لیکر جاری کسان تحریک رکتی نظر نہیں آرہی ہے حکومت کی حکمت عملی لگتی ہے کسانوں میں پھوٹ ڈال کر تحریک کو ختم کرانا چاہتی ہے کسان آندولن کے لیڈروں اور کھاپ چودھریوں نے مرکزی سرکار پر سنگین الزام لگائے ہیں اس کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت پھوٹ ڈال کر آندولن ختم کرانے کی حکمت عملی بنا رہی ہے ۔ کسانوں کی آواز بلندکر رہے کسان لیڈروں کو دھمکانے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اتحاد کا احساس کرانے کے لئے کھاپ چودھری پیر کے روز کھاپوں کے رویتی مرکزی دفتر گاو¿ں سورم (مظفر نگر)میں پنچایت کریں گے ۔ ادھر سخت سردی میں کسان اتوار کو 18ویں دن بھی سندھوں بارڈر اور یوپی کے غازی پور اور چلاّ بارڈر پر ڈٹے رہے ۔ نروال کھاپ بھرت چودھری بابا رنویر سنگھ منڈیر کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے اشارے پر مقامی لیڈر کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں کسی نہ کسی معاملے میں پھنسانے کی دھمکی دیکر چپ کرانے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ آندولن ختم کیا جاسکے ۔اتر پردیش اور ہریانہ میں کئی کسان لیڈروں کو دھمکانے کی اطلاع مل رہی ہے حالانکہ وہ لوگ ان دھمکیوں کو نظر انداز کر تحریک کو مضبوطی دینے میں لگے ہیں ۔ بھارتی کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹیکیت نے کہا کہ زرعی قوانین کو واپس لینے کی مانگ کوسرکار سن نہیں رہی ہے ۔ اور تحریک لمبی ہوتی جارہی ہے ایسے میں اب سرکار کو گولہ لاٹھی دینے کا وقت آگیا ہے کسانوں سے زرعی سازوسامان کو لیکر یوپی گیٹ پہونچنے کی اپیل کی گئی ہے اسی بیچ کسان سرکار سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں لیکن بات زرعی قوانین کو واپس لینے پر ہوگی ۔راکیش ٹیکیت نے کہا کہ جو کسان مصروف ہیں یا آنے جانے کی سہولت کے سبب نہیں آپارہے ہیں وہ مقامی سطح پر مظاہر ہ کر رہے ہیں اور سرکار کسان کی ایکتاکو توڑنا چاہتی ہے کسان جان چکا ہے ایک طرف حکمت عملی پر سرکار کام کر رہی ہے وہ ہے تحریک کو صرف پنجاب تک محدود کرنا ہے تاکہ پنجاب کے کسانوں کی تحریک بنا کر اسے الگ تھلگ کردیا جائے ۔ حکمراں پارٹی نے تمام فرنٹل چہروں کی مدد سے اس سمت میں کام شروع کردیا ہے ۔ آر ایس ایس سے جڑے بھارتی کسان مورچہ کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے آندولن پنجاب اور دہلی کے آس پاس کا ہے اور اس میں جو اشو اٹھ رہے ہیں وہ پنجاب کے بڑے کسانوں اور آڑتیوں سے وابستہ ہیں ان کا عام کسانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ہم یہ ساری حقیقت دوسروں ریاستوں میں لیجاکر وہاں کی کسان یونینوں کی مدد سے ان کے بیچ رکھنے کی کوشش کریں گے ایک سرکاری حکمت عملی ساز کے مطابق اگر ہم یہ اشارہ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ زرعی قوانین کو لیکر صرف ایک ریاست میں احتجاج ہورہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ باقی سبھی ریاستوں کے کسانوں کو یہ تسلیم ہے تب ہم ایک ریاست کے لئے قانون کو نہیں بدل سکتے اس کے علاوہ سرکار مسلسل تحریک میں گھس کر غیر کسان عناصر کے اِشو کو اٹھاتے رہیں گے ۔
(انل نریندر)
15 دسمبر 2020
آیوش ڈاکٹروںکو سرجری کی اجازت کے خلاف ڈاکٹر ہڑتال پر !
سینٹر ل کونسل آف انڈین میڈیسن کی جانب سے آیوش ڈاکٹرو ں کو سرجری کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کے خلاف سی سی آئی ایم نے جمعہ کو دیش بھر میں ہڑتال کی تھی ۔آئی ایم اے کی طرف سے ایمرجنسی اور کووڈ کو چھوڑ کر باقی سبھی علاج سیوائیں بند رہیں گی ۔آئی ایم اے اس فیصلے کو مکسو پیٹھی کاروائی کا نام دے رہا ہے حالانکہ دہلی میں اس کا کوئی خاص اثر دیکھنے کو نہیںملا دہلی میں ڈاکٹروں نے ہاتھوں پر کالی پٹی باندھ کو ناراضگی جتائی ۔اور مظاہرہ کیا اور کسی بھی طرح کی میڈیکل سیوا بند نہیں کی گئی ۔فیڈریشن آف ریزی ڈنٹ ڈاکٹر اسوشیئیشن کے صدر ڈاکٹر سوا جی دیو برمن نے بتایا دہلی کے سبھی اسپتالوں کے ڈاکٹر اس احتجاج میں شامل ہوئے اور یہ اس میڈیکل سروس ٹھپ نہیں کی اس لئے کہ کورونا وبا کے دور میں کسی بھی مریض کو کوئی بھی پریشانی نا آئے لیکن اگر اس فیصلے کو واپس نہیں لیا جاتا تو ڈاکٹروں کو آگے کی حکمت عملی بنانے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا ۔آئی ایم اے کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے دیش کی سبھی ریاستوں نے ایمرجنسی اور کووڈسیوائیں چھوڑ کر او پی ڈی و دیگر سیوائیں بند رہیں ۔سی سی آئی ایم کے ڈاکٹر فیصلہ کی مخالفت کرتے ہیں کہ آیوروید ڈاکٹروں کو موڈرن میڈیسن کی پریکٹس کرنے اور آپریشن کرنے کی اجازت دی جارہی ہے اس سے عام لوگوں کی زندگی پر خطرہ بڑھ رہا ہے ۔
(انل نریندر)
فیس بک پر چھوٹی کمپنیوں کو کچلنے کا سنگین الزام!
آن لائن سوشل میڈیا پر ایک طرفہ راج قائم کرنے کے لئے فیس بک نے جس طرح مقابلہ ختم کیا اس کے خلاف امریکہ کی فیڈرل کامرس کمیشن اور چالیس سے زیادہ ریاستوں کی طرف سے مقدمات دائر کئے گئے ہیں فیس بک پر یک طرفہ حق بنانے کے لئے اور چھوٹے مقابلے میں شامل کمپنیوں کوکچلنے کے لئے مارکیٹ پاور کے بیجا استعمال کا الزام ہے ۔فیس بک نے مقابلے میں سامنے آرہی کمپنیوں کو غیر اخلاقی طریقے سے اپنا کر معاہدہ کرنے کے لئے مجبور کیا اس سے کئی چھوٹی کمپنیاں تو مقابلے میں کھڑی نا ہو پائیں اس سے ہونے والی ہمارے مقابلوں اور ایجادات کا فائدہ عام شہریوں کو نہیں ملا ۔ایف ٹی سی کا کہنا ہے کہ فیس بک انکورپریٹڈ کے ذریعے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کو تحویل میں لینے کا مقصد اس سیکٹر میں مقابلے کو ختم کرنا تھا اس لئے اس ایکوائر منٹ کو ختم کیا جانا چاہیے ۔مطلب یہ ہے کہ اس معاملے کے نیتجے میں فیس بک کو واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر اپنا مالکانہ حق چھوڑنا پڑ سکتا ہے ۔مقدموں میں مانگ کی گئی ہے واٹس ایپ اور انسٹا گرام کو فیس بک سے تقسیم کرکے الگ کمپنیاں بنائی جائیں ایسے میں اگر فیس بک مقدمہ میں ہارتا ہے تو اسے یہ دونوں کمپنیاں فروخت کرنی پڑ جائیںگی شکایتوں میں کہاگیا ہے فیس بک نے چھوٹی کمپنیوں کو اس لئے خریدا کیوں کہ یہ پلیٹ فام مستقبل میں اسے سیدھا چیلنج کر سکتے تھے ۔18مہینے پہلے نیویار ک کی سرکاری وکیل لٹیشیا جیمس نے بتایا تھا فیس بک کے خلاف مقابلہ ذاتی سرگرمیوں کے الزامات کی جانچ شروع کی گئی ہے ۔نیویار ک کی اٹارنی جنرل جیمس کا کہنا ہے کہ فیس بک نے ایک دہائی تک اپنی بالادستی کا استعمال انسٹاگرام ،واٹس ایپ جیسی کمپنیوں کو کچلنے کے لئے کیا یہ خاص بات ہے اس بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ اور ان کے حریف ڈیموکریٹس ایک جیسی رائے رکھتے ہیں ۔مقدمہ میں مزید کہا گیا ہے کہ فیس بک ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ کا کوئی بھی معاہدہ کسی کمپنی سے کرتا ہے تو اسے اس کی جانکاری سرکار کو دینی ہوگی اس سے پہلے اکتوبر میں گوگل کی بالادستی رکھنے والی کمپنی الفابیٹ رک پر بھی امریکہ کے محکمہ انصاف اور گیارہ ریاستوں نے اسی طرح کامقدمہ دائر کیا تھا ۔اس پر بحث ہو سکتی ہے دیگر ملکوں کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی عام لوگوں کا فیصلہ نظریہ کو متاثر کرنے اور ان تک غلط اور جھونٹی اطلاعات پہوچانے اور مختلف فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے معاملے فیس بک انتظامیہ کا رول تنازعات میں رہا ہے مانا جارہا ہے صدر جوبائیڈن کے عہد میں بھی یہ مقدمہ جاری رہے گا ۔یوروپ میں بھی ریگولیٹرس انڈسٹی کے قانون کی خلاف ورزی پر بڑا جرمانہ لگانے کی تیاری خود پر لگے الزام پر فیس بک نے کہا ہے کہ وہ عدالت میں لگے تمام الزامات کا پرزور بچاو¿ کرے گا ۔کمپنی کے بانی مارک جوکر برگ نے کمپنی توڑنے کی مانگ کو وجو د پر خطرہ قرار دیا ہے ۔
(انل نریندر)
ان زرعی قوانین سے کھیتی میں کارپوریٹ کا دخل بڑھے گا!
دہلی اور اس کے بارڈر پر بیٹھے کسانوں کو وہاں رہنے دینے اور سپریم کورٹ میں زرعی بلوں کے خلاف داخل اپنی عرضی میں عدالت سے معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے ۔یہ عرضی بھارتیہ کسان یونین (بھانو گروپ)نے سپریم کورٹ میں دائر کی ہے ۔دراصل عدالت نے پہلے ہی 12اکتوبر کو چھتیس گڑھ کسان کانگریس ،ڈی ایم کے این پی تروچی سوا ، ایم پی منوج جھا سمیت دیگر کی طرف سے داخل عرضی پر عدالت نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہوا ہے ۔زرعی بل کے جواز کوچنوتی دینے والی عرضی پرسپریم کورٹ پہلے سے ہی سماعت کا فیصلہ کرچکی ہے اور اسی عرضی میں بھارتیہ کسان یونین کی جانب سے مداخلت کی درخواست کی گئی ہے ۔بھانو گروپ کی طرف سے داخل عرضی میں کہا گیا ہے زرعی قوانین من مانے ہیں اور یہ غیر آئینی ہیں ۔یہ قانون کسان مخالف ہے ۔نیا زرعی قانون زراعت سیکٹر کو کارپوریٹ کے ہاتھوں میں دینے کی تیاری ہے ۔اس قانون سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فائدہ ہوگا ۔یہ کمپنیاں بلا کسی روک ٹوک کے زرعی چیزوں کا ایکسپورٹ کریں گی ۔اور کوئی غور خوض کئے بغیر دیکھیں سپریم کورٹ ان عرضیوں پر سماعت کر کیا فیصلہ کرتی ہے ؟ ادھر تحریک چلا رہے کسانوں کا خیال ہے نریندر مودی سرکار کے رخ سے صاف ہے کہ وہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کو تیار نہیں ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے وسیع اور غورخوض یہ جمہوری نکتہ چینی کے آگے جھکنا مودی سرکار کی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے یہ بات پچھلے سال سی اے اے کے سلسلے میں صاف ہو گئی تھی لیکن تب تنازعہ اقلیتوں کا تھا ۔حکمراں جماعت نے اس مسئلے پر ہو رہی گو ل بندی کو اپنے لئے فائدے مند سمجھا فی الحال ا ب کافی کچھ نظریہ کسان آندولن کے سلسلے میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اس بار چونکہ بات کسانوں کی اور اس کو درمیانہ طبقہ کی حمایت بھی ملی ہے اس لئے بات چیت ایک دکھاوا ہے اب تک سرکار نے کوئی ایسی ٹھوس بات نہیں کی ہے جس کی بنیاد پر سمجھوتہ کی گنجائش ہو ہونا تو یہ ہی چاہیے تھا کہ سرکار کسانوں کے ساتھ رائے مشورے سے ہی قانون بنا لیتی لیکن ابھی بھی وہ ان ان چاہے قانون پر عمل کو معطل کر وسیع رائے مشورے سے انہیں کیا شکل دیتی ہے لیکن اس کے برعکس حکمراں پارٹی کے ایک نیتا نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر قانون لاگو نہیں ہوئے تو کارپوریٹ سیکٹر ناراض ہو جائیگا اس سے کسان اور بھڑکے ہیں ایک وزیر چین ،پاکستان کی سازش بتا رہا ہے اور اب تک وزیرزراعت نے صاف کر دیاہے کھیتی ریاست کا اشو ہے اور انہوں نے زراعت کے لئے نہیں بلکہ ٹریڈنگ کے لئے قانون بنایا ہے یعنی معاملہ کارپوریٹ کا زیادہ ہے ۔کسان تو برائے نام ہیں جس سے کسان تنظیم بھی قانونوں کے پیچھے کی اس منشا کو ملی بھگت جان رہے ہیں ۔اور وہ سمجھ گئے ہیں اس کی پول بھی بخوبی کھول رہے ہیں کہ کیسے قانون آنے سے پہلے سرکار کے دو امیر سرمایہ داروں امبانی اڈانی نے زراعت سے و ابسطہ تجارت میں داخل ہونے اور قبضہ کرنے کا بلو پرنٹ بنایا ہوا ہے یہ قانون اسی بلو پرنٹ پر عمل کا دستاویز ہے تبھی کسانون نے اعلان کیاہے امبانی اڈانی بھاجپا کا بائیکاٹ کریں گے کسان جان گیا ہے کہ کارپوریٹ کے طوطے میں مودی سرکار کی جان بسی ہے ۔
(انل نریندر)
13 دسمبر 2020
مرکزمیں مودی سرکار نہیں انبانی ۔اڈانی سرکار ہے !
کسان تحریک دنوں دن اپنی خطرناک شکل اختیا ر کرتی جارہی ہے ابھی تک تو کسان نیتا نشنل ہائیو ے پر بیٹھ کر دہلی کے گھیرا و¿ کررہے تھے اب حکمت عملی بنا کر ریلائنس کے پٹرول پمپ بند کرانے کی حکمت عملی بنائی ہے اسی کے چلتے سونی پت میں گاندھی چوک میں ریلائنس شاپنگ مول پر تالا لگا دیا اور مرکز کے خلاف نعرے بازی کی کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ دیش میں مودی سرکار نہیں بلکہ ریلائنس اور انبانی اڈانی کی سرکار چل رہی ہے انہوں نے دھمی بھرے انداز میں کہا اس تحریک کو کسانوں کی تحریک نہ سمجھیں بلکہ یہ ہر ایک دیش کے شہری ،غریب مزدور کا آندولن ہے آج کہنے کو تو مودی سرکار ہے لیکن یہ سرکار ریلائنس انبانی اڈانی کے اشاروں پر چلتی ہے اور انکی وجہ سے عام آدمی مسلسل پس رہا ہے اور ہمیں ان کے سامان کا بائیکاٹ کرنا چاہئے کسان لیڈروں کا کہنا ہے انہیں سرمایا داروں کو راجیہ سبھا ایم پی بنا دیا جاتا ہے پھر اپنے حساب سے دیش کے قانون کا استعمال کرتے ہیں جو قابل مذمت ہے انہوں نے ہر ایک شہری سے اپیل کی ہے کہ ہمیں ان کے سامان کا استعمال چھوڑ کر دکھا دینا چاہئے کہ ان کے بغیر بھی دیش چل سکتا ہے اور انبانی اڈانی اب کسانوں کے نشانے پر آچکے ہیں ۔
(انل نریندر)
تلنگانہ سے حوصلہ افزا بھاجپا کی نظر اب پورے ساو ¿تھ انڈیا پر !
ساو¿تھ انڈیا کی واحد ایک ریاست کرناٹک میں مضبوطی کے ساتھ مضبوط ہونے پر بھی قریب کے تلنگانہ اور آندھرپردیش میں بھاجپا کی کمزوری ہمیشہ سے پارٹی کو ہچکولے دیتی رہی ہے حال ہی میں کچھ ایسا ہورہا ہے پچھلے چھ برسوں میں بھاجپا نے اپنا نظریہ بدلا اور لگن کے سبب نارتھ اور ایسٹ میں چوٹی پر پہونچ گئی وہیں تلنگانہ میں ایک قدم بھی نہیں بڑھ پائی 1999میں بھی پارٹی کے چار ایم پی تھے اور 2019میں بھی چار ہیں ۔ لیکن حیدرآباد میونسل کارپوریشن کے نتیجوں نے یہ بتا دیا ہے کہ اب بھاجپا کی نظر تلنگانہ کے راستے پورے ساو¿تھ انڈیا پر ہے جہاں پنچایت سے لیکر ریاست کے اقتدار تک بھاجپا کی اتنی چمک رہے کہ وہ اپنے آئیڈولوجی کو بڑھا سکے تھے اس وقت سوال اٹھے تھے حیرت ظاہر کی گئی تھی جب ایک ہفتے پہلے بھاجپا صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت بڑے نیتا حیدرآباد میونسپل چناو¿ کمپین میں اتر گئے تھے بھاجپا نے سبھی پارٹیوں کے سامنے لیڈر شپ کی حکمت عملی کا بڑا سوال کھڑا کردیا ہے یہ پھر سے سمجھا دیا ہے کہ سیاسی پارٹی کے سینئر لیڈر شپ کو بھی نیچے تک جانے اور ورکروں کے ساتھ کھڑاہونے میںکوئی قباحت نہیں دکھانی چاہئے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لگن کانگریس میں نہیں دکھائی دی جس وجہ سے لیڈر شپ پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں ۔ بھاجپا جنرل سیکریٹری بھوپیندر یادو نے بھی چٹکی لینے میں دیر نہیں کی ٹی آر ایس کے سامنے کانگریس نے وی آر ایس لے لیا ہے بھاجپا بہت مضبوط ہوکر ابھر رہی ہے ۔ اور چار سے بڑھ کر چالیس تک پہونچ گئی ہے اویسی کی جماعت اپنے ہی گڑھ میں سمٹ کر رہ گئی ہے حیدرآباد چناو¿ میں جو پچھلا نتیجہ تھا اسی پر کھڑی ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قومی خواہش کے ساتھ بہار کے بعد بنگال کی طرف بڑھ رہے اویسی کو ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا ظاہری طور پر ممتا بنرجی کو حیدرآباد کے نتیجے ضرور پریشان کر رہے ہونگے مگر تیلنگانہ و ساو¿تھ انڈیا کی بات کی جائے تو بھاجپا کرناٹک دہرانے کی کوشش کرے گی یہ بات یاد دلانے کی ہے کہ آزاد تلنگانہ کی علامت بھلے ہی ٹی آر ایس نیتا چندر شیکھر راو¿ بن گئے ہوں لیکن اس کی سوچ جن سم نیتاو¿ نے رکھی تھی کرناٹک سے الگ تلنگانہ میں بھاجپا کو بہار کے لئے جنتا دل جیسا کندھا تو نہیں مل سکتا لیکن ٹی آر ایس کے طئیں اقتدار مخالف لہر کے اشارے بھاجپا کے حوصلہ افزا ضرور ہیں اب بھاجپا کی نظریں پورے ساو¿تھ انڈیا کی ریاستوں پر قبضہ کرنے کی لگ رہی ہیں ۔ تلنگانہ نتائیج نے بھاجپا کی خواہشات کو بڑھایا ہے آنے والے دنوں میں ہم دیکھیں گے کہ ساو¿تھ انڈیا میں بھاجپا زیادہ سرگرمی سے دکھائی پڑے گی ۔
(انل نریندر)
جب دیکھو اڈا،نڈا ،پھڈا،چڈا،بنگال چلے آتے ہیں !
مغربی بنگال میں باقاعدہ بازی یعنی اسمبلی چناو¿کی تاریخوں کا ابھی اعلان نہیں ہوا لیکن اس سے پہلے ہی چناوی سطرنج کی بسات بچھ چکی ہے اور دونوں بڑے کھلاڑیوں ترنمول کانگریس اور بی جے پی نے اپنی اپنی چالیں بھی شروع کردیں ہیں ریاست میں اسمبلی کی 294میں سے 200سیٹیں جیتنے کا مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا دعوی جنوری میں شہریت ترمیم قانون نافذ کرنے کا کیلاش وجے ورگیہ کا دعویٰ ،مغربی بنگال میں قانون و نظم پوری طرح بگڑنے اور جمہوریت ختم ہونے کے بی جے پی لیڈروں کے دعوے ہوں یا بی جے پی صدر جے پی نڈا کے کوکلکتہ دورے کے وقت ان کو کالے جھنڈے دکھانے اور ان کے قافلے پر پتھراو¿ یہ سب اسی شطرنجی چالوں کا حصہ بتایا جارہے ہیں ۔ سی اے اے کے مسئلے پر جہاں گھمسان شروع ہوگیا ہے وہیں جے پی نڈا کے قافلے پر پتھراو¿ کے مسئلے پر مرکز اور ممتا سرکار آمنے سامنے آگئے ہیں ۔ مغربی بنگال میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان جاری سیاسی دنوں دن تیز ہوتی جارہی ہے۔اور دونوں نیتاو¿ں میں زبانی جنگ خوب چلی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پتھراو¿ کے واقع کو بی جے پی کا ناٹک کہا اور ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے سب کے سب یہاں جمے ہوئے ہیں ۔ممتا نے کہا اکثر وزیر داخلہ یہاں ہوتے ہیں باقی وقت ان کے مڈا نڈا پھڈا اڈا یہاں ہوتے ہیں۔ جب ان کے پاس کوئی سننے والا نہیں ہوتا تو وہ اپنے ورکروں کو نوٹنکی کرنے کےلئے کہتے ہیں ۔ ڈیمائینڈ ہاربر علاقے میں اس واردات پر ممتا نے انگلی اٹھاتے ہوئے کہا آپ کے ساتھ سیکیورٹی عملا ہے کوئی آپ پر حملہ کیسے کر سکتا ہے۔ حملے کی یوجنا بنائی گئی ہوگی میں نے پولس سے جانچ کرنے کو کہا ہے لیکن میں ہر وقت جھوٹ برداشت نہیں کروں گی بی جے پی کے ورکر ہرروز ہتھیاروں کے ساتھ ریلیوں کے لئے آتے ہیں اور وہ خود کو تھپڑ ماررہے ہیں ۔ اور اس کا الزام ترنمول کانگریس پر لگا رہے ہیں ذرا حالات کے بارے میں ساچئے وہ بی ایس ایف سی آر اے پی ایف اور فوج اور سی آئی ایس ایف کےساتھ گھوم رہے ہوں پھر بھی اتنے خوف زدہ کیوں ہیں ؟ ممتا کی باتیں سن کر نڈانے کہا میرے بارے میں بہت ساری تشبیہات دی ہیں اور انہیں ڈیکشنری ہی بدل دی ہے ممتا جی میں آپ کے سنسکاروں کے بارے میں بتاتاہوں یہ بنگالی کلچر نہیں ہے اور آپ بنگال کو کتنے نیچے لے گئی ہیں ادھر خبر ہے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 19دسمبر کو ایک بار پھر مغربی بنگال پہونچ رہے ہیں مغریبی بنگال کے 24پرگنہ ضلع میں جے پی نڈا کے قافلے پر حملے کے چند گھنٹے بعد ترنمول کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اطلاع ملی ہے کہ بھگو ا دل کے لوگوں نے لوگوں کو حالات خراب کرنے کےلئے بھڑکیا تھا ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر سبرت مخرجی نے کہا کہ بھاجپا کا ریاست کے حکمراں پارٹی کے تاریخی رپورٹ کارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی ؟ ویسے بھاجپا صدر جے پی نڈا کو جےڈ سیکیورٹی ملی ہوئی ہے اس کے باوجود کچھ لوگ نڈا کی گاڑی پر پتھر بازی کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یقینی طور سے اسے سیکیورٹی انتظام میں ایک بڑی چوک کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)
12 دسمبر 2020
دہلی کو دہلانے کی بڑی سازش ناکام !
راجدھانی دہلی کی سرحد پر جاری کسان تحریک کے درمیان دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے پیر کو پاکستانی خفیہ ایجسنی آئی ایس آئی ،دہشت گروپ ہسب المجاہدین اور خالستان کی بڑی سازش کا انکشاف کیا ہے پولس نے پیر کی صبح مشرقی دہلی کے رمیش پارک میں مونڈ بھیڑ کے بعد پانچ مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے ان میں سے دو پنجاب اور تین جموں کشمیر کے رہنے والے ہیں ۔ پنجابی باشندہ دونوں مشتبہ آئی ایس آئی اور خالستان گروپ کے اشارے پر دہلی میں آر ایس ایس کے لیڈروں کو مارنے آئے تھے جبکہ کشمیری ان دونوں کو نائیکو دہشت گردی کے ذریعے پیسہ دینے آئے تھے خالستان حمایتی مشتبہ ان افراد نے ہی شہری میڈل ونر بلوندر سنگھ سندھو کے قتل میں اہم رول اد ا کیا تھا اسپیشل سیل کے پولس ڈپٹی کمشنر پرمود سنگھ کشواہا نے بتایا کہ ٹیم کو خبر ملی تھی کی خالستانی سکھ بھکاری لال نے پنجاب سے مبینہ دہشت گرد و شارپ سوٹر دہلی بھیجے ہیں یہ کشمیری آتنکی شارپ سوٹروں کو پیسے کے لئے نقدی و ہیروئن سونپیں گے قریب 3716کروڑ روپئے کی ہیروئن بیچ کر پیسے کا دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے گا صبح قریب پونے سات بجے اسپیشل ٹیم نے ان مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے پولس ٹیم پر فائرنگ کردی لیکن بارہ راو¿نڈ کی فائرنگ کے بعد دبوچ لیا گیا ۔ گرفتا ر پانچوں افراد کی نشان دہی پر دہلی پولس اور سیکورتی ایجنسیوں کی رپورٹ کی مدد سے خالستانی ہینڈلر سکھ بھکاری لال کو دبئی سے دبوچ لیا گیا ۔ بھار ت سرکار نے اس کو ہندوستان لانے کےلئے دبئی سرکار سے بات چیت و قانونی کاروائی شروع کردی ہے ۔ بھکاری لال بڑا ہینڈلر تھااور پنجاب اور آس پاس کے علاقوں میں خالستان کے خلاف آواز اٹھانے والے آٹھ سے زیادہ لوگوں کو مرواچکا تھا اس میں بلوند ر سنگھ سندھو کا قتل بھی شامل ہے دہلی میں گرفتار اس کے ساتھیوں نے پولس کو بتایا کہ ان کی بھکاری لال سے روز بات ہوتی تھی اور انہوں نے دبئی میں ہونے کی جانکاری دی جو وزارات داخلہ کو بھیج دی گئی اس کی بنیاد پر جس کی کوشش پر وہاں کی پولس نے اس پکڑ لیا ہے اس کو بھار ت لایا جارہا ہے حالانکہ اس مرتبہ ایک بات ضرور تو جہ دلانی چاہئے کہ وبا سے لڑنے سمیت کسان تحریک کے مسئلے پر راجدھانی دہلی میں چوکسی کے باوجو د پانچ مشتبہ ہتھیار کے ساتھ یہ کیسے اپنے ٹھیکانے پر پہونچ گئے ؟ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔دہشت گرد تنظیموں کے ممبران کے زریعے ممنوعہ نسیلی چیزوں اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے جمع پیسوں کو استعمال بھار میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کےساتھ ساتھ آتنکی دہشت گردی سرگرمیوں کو انجام دینے میں کیا جاتا رہا ہے یہ بھی دنیا جان رہی ہے کہ زیادہ تر دہشت گرد تنظیمیں پاکستان میں اپنے ٹھکانوں سے اپنی سرگرمیاں چلاتے ہیں دہلی پولس کی اس بروقت کاروائی نے ایک بڑی سازش کا پردہ فاش کرکے بڑے آتنکی حملے سے راجدھانی کو بچا لیا ہے ۔
(انل نریندر)
نہ تم مانو ،نہ ہم تو بات کیسے بنے گی ؟
نئے زرعی قوانین کی مخالفت کررہے کسانوں اور مرکزی سرکار کے درمیان ٹکراو ٹالنے کا کوئی راستہ فی الحال نکلتا نہیں دکھائی دے رہا ہے ۔ بدھوار کو مرکزی سرکار کے ذریعے پرستا و ملنے کے بعد چالیس سے زیادہ کسانوں کے لیڈروں کی میٹنگ ہوئی اس میں اتفاق رائے سے سبھی نے مرکزی حکومت کی تجاویز کو مسترد کردیا خبر ملتے ہی مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر وزیر داخلہ امت شاہ سے ملنے چلے گئے کیونکہ تجاویز کو مسترد کرنے کے بعد کسانوں نے شام میں احتجاج تیز کرنے کی دھمکی کا اعلان کردیا انہوں نے اب ایک نئی بات احتجاج میں جوڑ دی ہے انہوں نے کہا کہ امبانی ،اڈانی کے سامان کا بائیکاٹ کریں گے اور دیش بھر میں دھرنے دیں گے بھاجپائیوں کا گھیراو¿ کریں گے ۔ دوسری طرف کیبنیٹ کی میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ ایم ایس پی اے پی ایم سی دونوں برقرار رہیں گے ویسے راجستھا ن بلدیاتی چناو¿ کے نتائج نے بتادیا ہے کہ کسان زرعی قوانین کے حق میں ہیں ۔ وہیں وزیر صارفین امور راو¿ صاحب دانوے نے کہا کہ چین اور پاکستان نے سی اے اے کے نام پر پہلے مسلمانوں کو اکسایا اور اب وہ کسانوں کو اکسا رہے ہیں ۔مرکزی حکومت نے 32صفحات کا پرستا و جو کسانوں کو بھیجا تھا اس پر کسانوں کو کہنا تھا یہ پرستاو گول مول ہیں ۔ 22صفحات میں بارہ صفحات تمہید، باندھنے۔ پش منظر ،فائدے اور تحریک ختم کرنے کی اپیل اور شکریہ پر مبنی ہیں ۔ ترمیم کی جگہ ہر مسئلے پر لکھا ہے کہ ایسے کرنے پر غور کرسکتے ہیں قانون منسوخ کرنے کے جواب میں سیدھے ہاں یا نا میں جواب دینے کی جگہ تجویز پر غور کرنے کی بات لکھی ہے ۔ یہ ہیں سرکار کی طرف سے کسانوں کے دیئے گئے پرستاو کے جواب ایم ایس پی کی موجودہ خرید سسٹم پر تحریری یقین دھانی دے گی۔ ریاستی سرکاریں چاہیں تو پرائیویٹ منڈیوں پر بھی ٹیکس یا فیس لگا سکتی ہیں ۔ اور ریاستی سرکار چاہیں تو منڈی تاجروں کا رجسٹریشن ضروری کر سکتی ہیں ۔ سول کوٹ کچہری جانے کا کسانوں کا متابدل دیا گیا ہے ۔ کمپنی کے درمیان ٹھیکے کی تیس دن اند ر رجسٹری ہوگی ٹھیکہ قانون میں صاف کریں گے ،کھیتی کی زمین یا بلڈنگ گروی نہیں رکھ سکتے ۔ کسان کی زمین قرقی نہیں ہوگی پرانی بجلی سسٹم رہے گا اس کے علاوہ کسانوں کے دیگر تجاویز ہونگی تو ان پر غورکیا جائے سرکار اور بی جے پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک پر سیاسی رنگ پوری طرح چڑھتا دکھائی دے رہا ہے سرکار کی تجاویز کو مسترد ہوئے کچھ کسان نیتاو¿ں نے کانگریسی لیڈر راہل گاندھی کے انداز میں امبانی اڈانی کی مخالفت کا اعلان کردیا ہے وہیں لیفٹ کے نیتاو¿ں نے چاروں طرف سے دہلی کو جام کرنے اور دوسرے اعلانات کئے ہیں ۔ 35سے زیادہ کسان نیتاو¿ں کا منانا آسان کام نہیں ہے ایک طبقہ مانتا ہے کہ کسانوں کا ایک طبقہ ایم ایس پی پر گارنٹی اور اے پی ایم سی جاری رہنے اور پرائیویٹ منڈیوں پر بندشیں جیسی کچھ تقاضوں کو کافی مان کر تحریک ختم کرنے کی خواہش رکھتا ہے لیکن اس تحریک پر لیفٹ نظریہ والی پارٹیوں کا اثر ہے ،کسان ایکتا کا سوال ہے اس لئے سرکاری پرستاو ماننے کی سوچ رکھنے والے طبقے کی چل نہیں رہی ہے ؟دوسری طرف کسان لیڈروں کا کہنا ہے جب سرکار تین قوانین میں ترمیم کی بات مان رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ قانون غلط ہے اس لئے انہیں واپس لیا جائے ایم ایس پی گارنٹی اور دیگر اشوز پر نیا قانون لایا جائے کسانوں کے اس طبقے نے ایک اور تحریک تیز کرنے کی تیاری میں ہیں ۔ انہیں اس بات کی فکر ہے کہ کہیں یہ تحریک تشدد میں نہ بدل جائے اگر ایسا ہوتا ہے تو حالات اور بگڑ سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)
11 دسمبر 2020
لگتا ہے سرکار مہنگائی بڑھانا چاہتی ہے ؟
پیٹرول کے دام دو سال میں سب سے اونچائی سطح پر پہونچ گئے ہیں ۔رزرو بینک آف انڈیا نے پچھلے دنوں بینک سوشروں میں کوئی تبدیلی نا کرتے ہوئے یہ ظاہر کر دیا کہ وہ بڑھتی مہنگائی کو روکنے کے حق میں نہیں ہے اور اب تیل کمپنیوں کے ذریعے مسلسل بڑھتے دام یہ بتا رہے ہیں مرکزی حکومت بھی مہنگائی کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے تبھی تو مسلسل پٹرول ڈیزل کے دام بڑھتے جا رہے ہیں دہلی میں پٹرول کے دام 83.71فی لیٹر ہو گئے ہیں ۔انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق ڈیز ل کے دام بھی 73.87روپے فی لیٹر ہو گئے ہیں ۔دو سال کی ریکارڈ قیمت پر بک رہے پٹرول ڈیزل اور مہنگے ہو سکتے ہیں ۔اگر مرکز یا ریاستی حکومتوں نے پٹرول ڈیزل پر ٹیکس کم نہیں کیا تو اگلے دو مہینوں مین اس کی قیمت سو روپے فی لیٹر کے پار چلی جائیگی اس کی وجہ بین الاقوامی سطح پر کچے تیل کے بھاو¿ میں تیزی آرہی ہے ۔اکتوبر میں تیل کی اوسط قیمت 35.79ڈالر فی بیرل تھی جو بڑھ کر 45.34ڈالر فی بیرل ہو گئی ۔کیڈیا کے ایڈوائزی ڈائرکٹر کہتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کچے تیل کی پیداوار بڑھانے کے لئے حوصلہ افزائی کررکھی ہے اس وقت امریکہ کچے تیل کے اصل در آمد کی وجہ سے یہ تیل اہمیت بن گیا ہے ۔بیشک بین الاقوامی سطح پر کچے تیل کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو قیمت بڑھانی پڑھ رہی ہے ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیمتوں کو کہا تک بڑھنے دیا جائیگا ۔پٹرول ڈیزل کی قیمت کا سیدھا اثر مہنگائی پر پڑتا ہے مہنگائی کے سبب غریب جنتاکسان پہلے سے ہی پس رہے ہیں ۔اور کتنا بوجھ ان پر ڈالوگے ؟
(انل نریندر )
سپریم کورٹ نے ارنب گوسوامی کی عرضی خارج کر دی !
سپریم کورٹ نے رپبلک ٹی وی کی اس عرضی پر پیر کو سماعت سے انکار کردیا جس میں میڈیا نیٹ ورک نے اپنے گروپ کے ملازمین کو مہاراشٹر میں درج مقدموں سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست لگائی تھی ۔عرضی جسٹس دھنن جے یشونت چندرچور سربراہی والی بنچ کے سامنے یہ عرضی آئی تھی جس میں کہا گیا تھا جس میں فریادی ایک وی آئی پی شخص ہے ۔جسٹس چندرچور نے آر جی آو¿ٹ لوک میڈیا کے وکیل ملین ساٹھے سے کہا کہ آپ چاہتے ہیں مہاراشٹر پولیس آپ کے کسی بھی ملازم کو گرفتار نا کرے آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ معاملے کی سماعت کو سی بی آئی کے سپر د کر دیں بہتر ہوگا کہ آپ عرضی واپس لیں اس پر وکیل ساٹھے نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ مہاراشٹر پولیس کو ان کے میڈیا نیٹ ورک کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی اور ملازمین پر ایکشن کرنے سے روکا جاسکے ۔ساٹھے سے کہا آپ نے تمام راحتوں کی مانگ کی ہے یہ سب ایک عرضی کے ذریعے نہیں ہوسکتا ۔اس پر ساٹھے نے کہا کہ وہ اپنی عرضی واپس لے لیں گے بتا دیں ممبئی پولیس نے مبینہ ٹی آر پی گھٹالے کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا تھا عدالت نے عرضی واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ وہ مناسب قانون کے تحت مناسب طریقہ استعمال کر سکتے ہیں ۔
(انل نریندر )
چین سے آئے کوروناکے خاتمے کی شروعات!
آخر کار اس منہوس بیماری کورونا وائرس سے نجات پانے کا وقت قریب آگیا ہے ۔مہینوں سے انتظار کی گھڑی اب قریب آرہی ہے برطانیہ میں 90سال کی نارتھ آئر لینڈ کی ایک خاتون کو امریکی کمپنی کافائزر بنایاگیا ہے ۔پہلا کورونا ٹیکا لگائے جانے کے ساتھ ہی اب یہ امید زیادہ روشن ہو گئی ہے کہ سال ختم ہونے سے پہلے کچھ اور ملکوں میں یہ کورونا ویکسین انجیکشن دستیاب ہوگا ۔کورونا کا ٹیکہ ایجاد کرنے کو لیکر دنیا کے کئی ملکوں میں دوڑ لگی ہے اور بھار ت سمیت کچھ دیش اس کے کافی قریب پہونچ چکے ہیں سنٹرل بریٹین کے کونٹری میں واقع یونیورسٹی ہاسپٹل میں مائیگریٹ کینن نام کی خاتون کو یہ ٹیکہ لگایا گیا انہوں نے کہا وہ بہت اپنے آپ کو قابل فخر محسوس کرررہی ہیں ۔کورونا نے لوگوں کو یہ ویکسین ٹیکہ لگوانے کے لئے حوصلہ دیا ہے اگر 90سال کی عمر میں میں اس دوا کا ٹیکہ لگوا سکتی ہوں تو باقی لوگ کیوں نہیں برطانیہ میں 80برس سے زیادہ لوگوں اور ہیلتھ کئیر میں لگے ملازمین کو پہلے یہ دوا دینے کا فیصلہ لیا گیا ۔اس اسکیم کے تحت ان لوگوں کو پہلے محفوظ کیا جارہا ہے جنہیں اس وبا سے زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے ۔برطانیہ پہلا دیش ہے جس نے فائزر کے ذریعے ایجاد کووڈ ویکسین کے استعمال کی منظوری دی ہے ۔برطانیہ کی ریگولیٹری اتھارٹی نے فائزر کو ویکسین کے ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کی منظوری دی ہے ساتھ ہی کہا ہے یہ ٹیکہ جو کووڈ 19سے 95فیصد تک بچاو¿ کا دعویٰ کر تا ہے وہ استعمال میں لائے جانے کے لئے محفوظ ہے پچھلے ہفتہ ہی برطانیہ کی میڈیسن اتھارٹی نے اس ویکسین کے استعمال کی منظوری دی تھی ۔حالانکہ برطانیہ میں ویکسین لگوانا ضروری نہیں ہے ۔دوا کمپنی فائزرا نڈیا نے بھارت میں بھی اپنی کووڈ ویکسین کے ہنگامی حالات میں استعمال کے لئے انڈین میڈیسن ریگولیٹری ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا سے اجازت مانگی ہے ۔برطانیہ اور بحرین میں منظوری ملنے کے بعد کمپنی چاہتی ہے کہ اسے ہندوستان میں بھی اپنی دوا کی فرخت اور تقسیم کا اختیار ملے کمپنی کے مطابق یہ ٹیکہ دو مرتبہ دو ڈوس میں دیا جاتا ہے ۔فائزر اس ٹیکہ کو بحرین میں بھی منظوری مل گئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے بھارت میں اس ویکیسن کے سامنے کچھ چنوتیاں ہیں جیسے مائنس 70ڈگری پر اس ٹیکہ کو اسٹور کرنے کی ضرورت ،بھارت جیسے ملکوں میں اس ویکسین کی ڈلیوری بڑی چنوتی ہے خاص کر چھوٹے قصبوں یا شہر سے دور دراز علاقوں میں ٹیکہ کو مائنس 70ڈگری پر رکھنا ہندوستان کے انتظامیہ کے لئے بہت بڑی چنوتی ہوگی کسی بھی بیماری یا وبا کا ٹیکہ یا دوا بنانے سے لیکر اسے بازار میں لانے تک کی کاروائی بہت لمبی اور پیچیدہ ہے ۔حالانکہ کورونا کے قہر کو دیکھتے ہوئے دنیا کے کئی دیسوں نے ٹیکہ ایجاد کرنے کی مہم میں جیسی فرتی دکھائی ہے ۔اس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا عام طور پر ٹیکہ ایجاد کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں اس لئے اسے ایک کارنامہ کی شکل میں دیکھاجانا چاہیے ۔سائنسی طریقہ کے فروغ میں سالوں سے گھٹا کر مہینوں میں لے آئے ہیں یہ ہی وجہ ہے ٹیکہ کے اثرکو لیکر سوال اٹھ رہے ہیں اسی طرح جنگی سطح پر کام ہوتا رہا اور کامیابی کے ساتھ ویکسینیشن کو انجام دیا گیا ۔تو یقینی طور پر بھارت کورونا کو ہرا دے گا ۔
(انل نریندر )
10 دسمبر 2020
سیمی کا دہشت گرد دانش عبداللہ!
حکومت ہند کے زریعے سال 2001میںاسلامک مومنٹ (سیمی )ممنوع قرار دیئے جانے کے بعد سے ہی فرار چل رہے تنظیم کے اہم ممبر اسلامک مومنٹ ہندی میگزین کے چیف ایڈیٹر عبداللہ دانش کو کافی تلاش کے بعد آخر کار دہلی پولس کی اسپیشل سیل کی ٹیم نے اوکھلا اسمبلی حلقے کے ذاکر نگر علاقے سے دبوچ لیا ہے اس کی پہچان 58سالہ عبداللہ دانش کے طور پر کی گئی ۔ اس پر الزام ہے کہ وہ ممنوعہ تنظیم سیمی کو نئے نام سے لانچ کرنے کی تیاری میں لگے تھے ممبئی آحمدآباد سلسلہ وار دھماکوں کے گناہ گار دہشت گردوں سے جیل میں مسلسل رابطہ بنائے ہوئے تھے دانش بنیادی طور پر یوپی کے علی گڑھ کے دودھ پور گاو¿ں کا باشندہ ہے پولس نے ملزم کو ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر سنیچر کے روز جال بچھا کر گرفتار کیا وہ 19سال سے فرار تھا اسپیشل سیل کے ڈی سی پی پرمود سنگھ کشواہا نے بتایا ملزم عبداللہ دانش ور دیش دشمنی کا مقدمہ درج ہونے کے علاوہ دہلی و دیش ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام ہیں پولس کو تب سے ہی تلاش تھی کافی عرشے تک فرار رہنے کی وجہ سے اسے 2002میں مفرور قرار دے دیا گیا تھا۔ ملزم پچھلے پچیس برسوں سے کئی مسلم لڑکوں کا برین واش کروا کر انہیں آتنکی تنظیموں اور سیمی سے جوڑ چکا ہے ملزم دہلی کے علاوہ اترپردیش مدھیہ پردیش گجرات جیسی ریاستوں سے مسلم لڑکوں کو جوڑتا تھا ۔ عبداللہ کے پریوار میں چار بھائی تین بہنیں ہیں پولس کی تفتیش کی مطابق اس کے ماں باپ پہلے ہندو تھے بعد میں انہوں نے اسلام مذہب اپنا لیا تھا ۔ عبداللہ دانش اعظم گڑھ کے مدرسے میں بھی پڑھا تھااس کے بعد وہ سیمی سے وابستہ ہوگیا اور وہ مسلسل لڑکوں کو سیمی سمیت دیگر ممنوعہ تنظیموں سے جوڑتا رہا ےہ ۔ دانش این آرسی اور سی اے اے کے خلاف منظم ہونے فرقہ وارانہ ماحول کو بگاڑنے کے لئے کٹر پسندی نظریات کو پروپیگنڈہ کر رہا تھا ساتھ ہی فرضی ویڈو کا استعمال کر رہا تھا مسلمانوں پر ہورے مظالم کا جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا ہے 27ستمبر 2001میں بھار ت سرکار نے سیمی پر پابندی لگائی تھی ۔ تنظیم کے عہدے داران نے جب پریس کانفرنس کی تبھی پولس نے چھاپے ماری کی اور سیمی کے کئی ورکروں کو گرفتار کیا اور بہت سے ورکر موقع سے فرار ہوگئے ان میں عبداللہ دانش بھی تھا اور تبھی سے یہ فرار چل رہا تھا سنیچر کو آخر کار وہ دہلی پولس کے شکنجے میں آگیا ۔ دہلی پولس اسپیشل کی ٹیم اس کی دیش دشمنی سرگرمیوں کی جانچ کررہی ہے ممکن ہے اس کی حرکتوں پردہ فاش ہوسکے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...