Translater

16 مارچ 2023

سرکار کی نکتہ چینی پر اینکر ہٹایا !

بی بی سی یعنی برٹش براڈ کاسٹ اینڈ کارپوریشن اب اظہار رائے کی آزادی پر پھر سے سنکٹ آگیا ہے۔دراصل بی بی سی کے فٹبال پلے کے چیف اینکر اور انگلینڈ کے سابق فٹبالر گیری لینیکر نے وزیر اعظم رشی سونک حکومت کی پرواسی پالیسی پر تنقید کی تھی تو بی بی سی نے انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا ۔ اس فیصلے کے احتجاج میں بی بی سی کے سبھی اینکروں نے کام کرنے سے منع کردیا اور تنازعہ اس قدر بڑھ گیا کہ بی بی سی کو سنیچر کے اپنے اسپیشل پروگرام کی ٹیلی کاسٹ منسوخ کرنا پڑی ۔جس وجہ سے اتوار کو بھی پروگرام الٹ پلٹ رہے ۔ ادھرپرواسی پالیسی کے بچاو¿ میں خود برطانوی وزیر اعظم سونک سامنے آئے اور انہوںنے یہ بھی امید جتائی کہ اینکراور بی بی سی کے درمیان تنازعہ سلجھا لیا جائے گا۔ ساتھ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی کے استعفیٰ کی مانگ تیز ہو گئی ہے۔ اور انہوںنے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کردیا لیکن ٹیلی کاسٹ میں رکاوٹ کیلئے معافی مانگی ہے۔ کیا معاملہ ہے دیکھتے ہیں۔ میچ آف دی ڈے کے اینکر گیری لینیکر نے ٹویٹ کرکے برطانوی وزیر داخلہ سوئلن بیبرمین کی پروسی پالیسی کی نکتہ چینی کی تھی اور انہوںنے اس کا موازنہ 1930میں جرمنی میں ہٹلر کے دور سے کیا تھا اس پر وزیر داخلہ نے اپنا اعتراض جتا یا تھا۔ اس کے بعد بی بی سی نے جانچ پوری ہونے تک گیری کو پروگرام سے ہٹادیا تھا۔ بی بی سی کے فیصلے سے ناراض گیری کے باقی سبھی ساتھیوں کے ساتھ میچ آف دی ڈے کے ایکسپرٹس نے بھی اس شو کا بائیکاٹ کیا ۔ سنیچر کو پہلی بار بغیر اینکر کے یہ پروگرام ٹیلی کاسٹ ہوا ۔ بر طانیہ وزیر اعظم سونک کا کہنا تھا کہ سرکار اپنی پالیسی پر اٹل ہے ۔اور اس پالیسی کے تحت نیا بل آنا ہے۔ اس سے انگلش چینل کے راستے سے کشتیوں سے آنے والے ناجائز پنا ہ گزینوں پر روک لگانے کی تیاری ہے۔اسے لیکر سرکار کو مخالفت کا سامنا ہے ۔وہیں بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ڈیوی کا کہنا ہے کہ ہم ہر حال میں مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کامیابی تبھی ملے گی جب ہم گیری کو شو میں واپس لا پائیںگے۔ ادھر بھارت کے وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے بھی بی بی سی کی صحافتی آزادی پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ گیری لینیکر کو بحال کرنے کی خبروں کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے بی بی سی پر نکتہ چینی کی ۔ ٹھاکر نے ٹویٹ کیا کہ یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ صحافت کی غیر جانبدار ی و آزادی کے بارے میں بلند دعویٰ کرنے والے بی بی سی نے اپنے اسٹار اینکر کو ان کی سوشل میڈیا پر سرگرمی کو لیکر اینکر کو معطل کر دیا ۔ ٹھاکر نے لکھا ہے کہ دلچسپ یہ بھی ہے کہ بی بی سی سے سماج کے ایک طبقے کے ناراض ہونے کے ڈر سے اپنی ڈاکیومینٹری ٹیلی کاسٹ کو روک دیا ۔ من گھڑت حقائق کے ذریعے گمراہ کرنے والوں سے اخلاقی سمجھ یا صحافتی آزادی کیلئے جڑے ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی ۔ خبر آئی ہے کہ لینیکر کی نوکری بحال کر دی گئی ہے۔ (انل نریندر)

چھاپے کیا بھاجپا کی چناوی حکمت عملی کا حصہ ہےں؟

عام آدمی پارٹی سے لیکر آ ر جے ڈی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاو¿ں کے خلاف ای ڈی اور محکمہ انکم ٹیکس ،سی بی آئی کی کاروائیاں بی جے پی کی چناوی فائدے سے وابسطہ ہو سکتی ہیں۔ انگریزی اخبار دی ٹیلی گراف میں شائع خبر کے مطابق بھاجپا کی ذرائع مانتے ہیں کہ یہ کاروائی آنے والے عام چناو¿ کیلئے پارٹی سے منسلکہ تیاریوں سے جڑی ہو سکتی ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگا بھی یہی مانتے ہیں 2024کے لوک سبھا چناو¿ تک یہ اتھل پتھل جاری رہے گی ۔ اپوزیشن پارٹیوں پر چھاپے جاری رہیںگے۔ بھاریہ جنتا پارٹی کے ذرائع کے مطابق بی جے پی سال 2024میں چار سو سے زیادہ سیٹیں جیتنا چاہتی ہے جس کیلئے اسے اپوزیشن کو بانٹے رکھنا اور اس کو الجھائے رکھنا ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی مسلسل تیسری مرتبہ چناو¿ جیت کر نہ صرف بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہر کے ریکارڈ کی برابری کرنا چاہتے ہیں بلکہ جیت کے فرق کے لحاظ سے بھی ان سے آگے نکلنا چاہتے ہیں۔ بھاجپا کی مرکزی لیڈرشپ عام چناو¿ میں بی جے پی نے 543سیٹوں میں سے 303سیٹیں جیتی تھی ۔ وہیں دوسری پارٹیوں نے 50سیٹیں جیتی تھی اخبار نویسوں سے بات چیت میں ایک بی جے پی لیڈر نے بتایا کہ سال 1962میں نہرو نے 494سیٹوں والی لوک سبھا میں 361سیٹیں جیتی تھی ہمار نشانہ اس سے آگے نکلنے کا ہے۔ حالاںکہ بی جے پی کے چناوی حکمت عملی ساز مانتے ہیں کہ آنے والے چناو¿ میں 400سیٹیں حاصل کرنا تو دور پچھلے پر فارمنس کو بنائے رکھنا چنوتی بھرا کام ہوگا۔بی جے پی کے اندرونی تجزیہ کے مطابق پچھلے عام چناو¿ کے بعد سے پی ایم مودی کی مقبولیت اور امیج دونوںہی بڑھی ہیں۔لیکن پارٹی مانتی ہے کہ جیت کے فرق کو پہلے سے بڑھانے کیلئے اتنا کافی نہیں ہوگا۔ بی جے پی کے پاس اتحادیوں کے نام پر اب کوئی بڑا نام نہیںہے۔ جنتا دل یونائیٹید اکالی دل ان سے پہلے ہی کنارہ کر چکے ہیں اور شیو سینا دو ٹکڑوںمیں بٹ چکی ہے۔ بھاجپا کے ایک نیتا نے کہا کہ پچھلے سے زیادہ سیٹیں جیتنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اپوزیشن کو پوری طرح بانٹنا اور پریشان رکھنا اور بے عزت کرنا ہوگا۔ بھاجپا لیڈر نے بتایا کہ دیش کی جنتا سمجھتی ہے کہ کانگریس اور زیادہ تر علاقائی پارٹیاں بدعنوان ہیں ۔ مودی نے یوم آزادی پر کرپشن کے خلاف جنگ لڑنے کا اعلان کیا تھا اب اسی سمت میں قدم بڑھائے جا رہے ہیں۔ بھاجپا ترجمان گورو بھاٹیہ نے پچھلے اتوار کو بہار کے وزیر اعلیٰ کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ نتیش کمار جی کیا آپ نے نہیں کہا تھا کہ لالو یادو ،تیجسوی یادو ،رابڑی دیوی کے خلاف کرپشن کے سنگین الزام ہیں اور کیس ہیں ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے ۔ ایک آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ بھاجپا نہ صرف اپوزیشن کو بانٹنا چاہتی ہے بلکہ اپنے حریفوں کو اقتصادی طور سے بھی کنگال کرنا چاہتی ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ چناو¿ میں پیسے کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ (انل نریندر)

14 مارچ 2023

چین سے پریشان ہیں اس کے پڑوسی!

چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے پچھلے اتوار کو پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس شروع ہونے پر چین کے ڈیفنس بجٹ کو بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔اب چین اپنی فوج پر 225ارب ڈالر کی رقم خرچ کرے گا۔ یہ پچھلے سال خرچ ہوئے بجٹ کے مقابلے میں 7.2فیصد زیادہ ہے۔انگریزی اخبار انڈین اکسپریس میں شائع خبر کے مطابق کیانگ نے اس اعلان کے ساتھ ہی چین کیلئے بڑھتے غیر ملکی خطروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ ڈیفنس بجٹ سے چین کا ڈیفنس بجٹ اب بھی امریکہ کے مقابلے میں کافی کم ہے۔لیکن اس کے باوجود امریکہ کو آنکھیں دکھانے سے با ز نہیں آتا دونوں دیشوںمیں اتناٹکراو¿ بڑھ گیا ہے کہ آنے والے دنوںمیں جنگ کی نوبت آسکتی ہے۔بھارت سے تو چین کے بگڑتے کسی سے چھپے نہیں ہے ۔ لداخ میں چینی دراندازی کی خبریں آئے دن آتی رہتی ہےں ۔چین سال 2000کے بعد سے اپنی فوج جدید بنانے اور اسے بڑھاوا دینے کیلئے اسکیم پر کام کر رہا ہے۔ تائیوان کے نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکورٹی ریسرچ اسنٹی ٹیوٹ سے وابسطہ تجزیہ نگار زویون کہتے ہیں کہ چین کی طرف سے ڈیفنس بجٹ پر کیا جار ہا خرچ بتا تا ہے کہ وہ خود کو ایک بڑی زمینی فوج سے آگے بڑھ کر ایک بڑی بحری فوج بنانا چاہتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تائیوان اسٹریٹ ،ساو¿تھ چین ساگر اور مشرقی چین ساگر جیسے علاقوں میں سب سے پہلے چینی فوج کا بڑھا وا دیکھنے کو ملے گا۔ اس کے بعد چین اپنی نظریں جزیروں کی دوسری سیریز پر لگائے گا۔ جاپان ساو¿تھ کوریا سے لیکر فلپائن تک تما م دیش چین کے بڑھتے اثر کو لیکر پریشان ہیں ۔ان دیشوںنے اپنے تئیں بڑھتے خطرے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیفنس بجٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی صلاحیتوںمیں اضافہ شروع کردیا ہے۔ جاپان نے آنے والے برس کیلئے فوج پر 51.7ار ب ڈالر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ساو¿تھ کوریا میں چین کی بڑھتی فوجی طاقت کو لیکر فکر مند ہیں لیکن ساو¿تھ کوریا کی حالیہ تشویش کا موضوع نارتھ کوریا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوںمیں نارتھ کوریا جارحیت میں بھار ی اضافہ کیاہے ۔ چین کی بڑھتی طاقت تائیوان کیلئے سب سے بڑی تشویش کا باعث ہے ۔ امریکہ کے سینئر افسران کئی مرتبہ خبر دار کر چکے ہیں کہ چین آنے والے کچھ برسوںمیں تائیوان پر حملہ کرسکتا ہے۔ یہی نہیں چین کئی بار دھمکی دے چکا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔جسے لیکر وہ رہیںگے پچھلے کچھ مہینوںسے چین اور فلپائن کے درمیان کشیدگی بڑھتی دیکھی گئی ہے۔ اس نے ساو¿تھ ساگر چینی سرگرمیوں کو لیکر درجنوں شکایتیں درج کرائی ہیں۔چین جہاں اس پورے خطے پر اپنا دعویٰ جتا تا ہے وہیں فلپائن ، ویتنام ،ملیشیا اور برنوئی اس آبی خطے کو الگ الگ حصوںپر دعویٰ کرتے ہیں ۔فلپائن کے صدر فرنانڈیز مارکوس جونیئر کا کہنا ہے کہ ان کادیش ایک انج زمین پر بھی سے اپنا دعویٰ نہیں چھوڑے گا۔ ان کی سرکار نے امریکہ کے ساتھ اپنی فوجی رشتے مضبوط کر تے ہوئے چار نئے اڈے بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ چین کی فروغ وادی پالیسی سے سبھی پریشان ہیں۔ (انل نریندر)

آمنے سامنے!

عام آدمی پارٹی نے تہاڑ جیل میں سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کی حفاظت کو لیکر تشویش جتائی ہے اور الزام لگایا کہ انہیں خطرناک جرائم پیشہ قیدیوں کے ساتھ والے بیرک میں رکھا گیا ہے۔حالاںکہ جیل حکام نے پارٹی کے اس الزا م کو مستردکر دیا ہے ۔ ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ سسودیا کو جیل میں ویپشیانہ سیل میں رکھنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔اور انہیں بڑے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ میں بنے بیرک میں رکھا گیا ہے ۔عآپ پارٹی نے الزام لگایا کہ سسودیا کو مرکزی تفتیشی ایجنسیوںنے ذہنی طور پر ٹارچر کیا اور پھر انہیں خطرناک کرائم ریکارڈ والے جرائم پیشہ کے ساتھ تہاڑ جیل نمبر 1میں رکھا گیا ہے۔ ان پر ان کاغذات پر دستخط کرنے کا بھی دباو¿ بنایا جا رہا ہے جہاں ان کے خلاف جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں ۔جیل افسران نے الزام کو بے بنیاد قراردیا اور کہا کہ منیش سسودیا کی حفاظت کو دماغ میں رکھتے ہوئے انہیں الگ وارڈ میں رکھا گیا ہے جس میں بہت کم قیدی ہیں جو خطرناک ملزمان کی کٹیگری نہیں ہیں۔ ان کا اچھا برتاو¿ ہے جیل حکام کے مطابق الگ کوٹھری ہونے سے ان کیلئے بلا رکاوٹ کے دھیان لگانا یہ ایسی مصروفیات ممکن ہے ۔ان کی حفاظت کیلئے جیل قواعد کے مطابق سبھی بندوبست کئے گئے ہیں۔ انہیں جیل میں رکھنے کیلئے کسی بھی طرح کے الزام بے بنیاد ہیں ۔وہیں آمنے سامنے کی ٹکر میں دہلی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر رام بیر سنگھ بیدھوڑی نے کہا کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا جیل میں پوری طرح محفوظ ہیں ۔عام آدمی پارٹی نیتا بلاوجہ بیان بازی کر رہے ہیں۔سسو دیا کو جیل میں بتائے گئے خطرے کے پیچھے عآپ نیتاو¿ں کا ہی کوئی خطرناک مشن ہو سکتا ہے کیوں کہ جیل تو دہلی سرکار کے ماتحت ہے عآپ کے ترجمان سوربھ بھاردواج نے جس طرح جیل میں سسودیا کیلئے خطرہ بتایا ہے ،یہ تو انہیں عآ پ سرکار ہی لاپروائی ،سازش کے تحت ہی ہو سکتا ہے ۔ اس میں کسی اور کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔اگرجیل میں سسودیا کو کوئی خطرہ محسوس ہو رہا ہے تو اس کے بارے میں دہلی سرکار کوئی قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے ؟ عآ پ سرکا ر کوہی بتانا ہوگا کہ وہ ایسی لاپرواہیاں کیوں کر رہی ہے ۔جنتا پوچھنا چاہتی ہے کہ آخر اس کے پیچھے عام آدمی پارٹی کی ہی کوئی سازش تو نہیں ہے؟ ای ڈی کے ذریعے سسودیا کی گرفتاری کولیکر پر دیش بھاجپا صدر ویریندر سچدیوا نے کہا کہ سسودیا شراب گھوٹالے کے کئی فائدہ یافتگان کی بڑی چین کا حصہ ہیں اور ان کی گرفتار ی تو ہونی ہی تھی۔شراب گھوٹالہ دہلی سرکار کا بڑا اسکینڈل ہے ۔اب عام آدمی پارٹی جب کسی بھی چناو¿ میں جائے گی تو اس سے پہلے منیش سسودیا پر جواب دینا ہوگا۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...