Translater

19 نومبر 2021

دہشت گر د تنظیموں کی چینی سانٹھ گانٹھ !

منی پور میں آسام رائفل کے قافلے پر ہوئے آتنکی حملے کے بعد نارتھ ایسٹ میں انتہاپسند گروپوں کے خطرے کو لیکر سکورٹی اور خفیہ ایجنسیاں ایک بار پھر ہائی الرٹ پر ہیں ۔ اور ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جارہی ہے ۔مانا جارہا ہے کہ اس وقت 20سے زیادہ شدت پسند تنظیمیں نارتھ ایسٹ میںسر گرم ہیں ۔ پی ایل اے سمیت درجن سے زیادہ گروپ منی پور میں بھی خونی کھیل کھیل رہی ہیں ۔ خفیہ ایجنسیوں کو یہ اندیشہ ہے کہ چین کی مدد سے شدت پسندی سرگرمیا ں نئے سرے سے شروع کر سکتی ہیں میانمار میں ان کے کیمپ ہیں ان کا چینی کنیکشن مضبوط ہے ایجنسیوں کو اندیشہ ہے کہ کچھ تنطیموں نے میانمار سے ہٹ کر ساتھ چین کے علاقے میں ٹھکانہ بنا یا ہے ۔ الفہ کے چیف نے میانمار کی سرحد سے لگی ساتھ چین کے روئلی علاقے نیا ٹھکانہ بنا یا تھا ۔ پچھلے سا ل ارونا چل پر دیش میں آسام رائفل کے قتل کے بعد اس طرح کے اندیشات ظاہر کئے گئے کہ چینی تنا رعہ کے دوران الفہ دہشت گر تنظیم نارتھ ایسٹ میں نیا مورچہ کھولنے کی تیا ر میں ہے۔ چینی فور س نارتھ کی ریاستوں میںانتہا پسند تنظیموں کو نہ صرف شہ دے رہی ہے بلکہ وہ ہتھیاروں کی سپلائی کو لیکر محفوظ ٹھکانہ بھی دے رہا ہے۔ چین 1975میںبھار ت سرکار اور ناگا نیشنل کانسل کے درمیان شیلانگ معاہدے کا ایس ایس کھاکلان و تھیونگ لینگ شیوا جیسے لیڈروں مخالفت کی تھی ،جو اس وقت چا ئنا ریٹر ن گینگ کہلاتے تھے 1950میںکھاکلانگ اور موئکانیشنل سوشلسٹ کانسل آف ناگا لن بنا ئی تھی اس کے بعد کئی تنظیمیں بنیں ۔ نارتھ ایسٹ میں باغیانہ واردات میں کئی برسوں سے کمی آئی ہے ۔ حالاں کہ منی پور ابھی بھی انتہا پسندی کا گڑھ بنا ہوا ہے علاقائی زمینی وسائل پر کنٹر ول کی کوشش ،پہچان بنا نے کی جد جہد اور مسلح اسپیشل پاور ایکٹ( افسفا )پر عمل ریاست میں تشد د کی اہم وجہ ہے ۔ (انل نریندر)

پرمبیر سنگھ کہاں ہے یہ ممبئی پولیس کو بھی پتا نہیں !

پرمبیر سنگھ کو اس سال مئی کے بعد سے نہیں دیکھا گیا ہے 1اکتوبر مہاراشٹر کے حکام نے بتایا کہ ممبئی پولیس کے سابق کمشنر پرمبیر سنگھ لا پتہ ہے۔ اس کے لاپتہ ہونے کا اعلان چوکانے والا تھا ۔دو سال پہلے ہی پرم بیر کو ممبئی پولیس چیف بنا یا گیا تھا ۔اب پرم بیر سنگھ نہ تو ممبئی اپنے اور نہ ہی اپنے آبائی شہر چنڈی گڑھ میں واقع گھر پر ہے ۔ ممبئی پولیس اپنے ہی سابق سربراہ کو تلاش رہی تھی لیکن ممبئی میں ان کی بیوی اور بیٹی اور بیرون ملک میں مقیم بیٹے اور وکیلوں نے ان کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی سوال یہ کھڑا ہوا تھا کہ اس پیچھے کون ہے۔ کچھ دنوں پہلے کار مبینہ مالک کی لاش شہر کے پاس سمندر میںملی تھی جانچ میں پتا چلا کہ وہ اس کو مار کر لاش پھینک دی گئی تھی ۔ جب متوفی کے ایک رشتہ دار پولیس والے کو گرفتار کیا گیا تو معاملہ اور پیچدہ ہو گیا ۔ جانچ کر نے والے یہ مانتے ہیں کہ گرفتا ر سب انسپیکٹر سچن واجے کا مکیش امبانی کے گھر کے باہر دھماکوسامان سے لدی کار اور قتل سے تعلق تھا ۔ مارچ میں پرم بیر سنگھ کو عہدے سے ہٹا کر ہوم گارڈ کا چیف بناکر بھیج دیا گیا تھا ۔ مہاراشٹر سرکار نے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں پرم بیر معاملے کی جانچ کیلئے ایک پینل قائم کیا ہے ۔پرم بیر سنگھ کے خلاف اب ریئل اسٹیٹ کاروباریوں اور ہوٹل مالکوں اور دلالوں کی طرف سے چار کرائم کے معاملے درج کرائے گئے ہیں ان کی جانچ چل رہی ہے ۔ مہاراشٹر سرکار نے پرم بیر سنگھ کے بعد انہیں بھی معطل کر نے کی کاروائی شروع کردی ہے ادھر ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے پرم بیر سنگھ کے خلاف گورے گاو¿ں تھانے میںاور دیگر کے خلاف وصولی کے معاملے میں بھگوڑا ملزم ڈکلئر کرنے کی کاروائی شروع کر دی ہے۔ (انل نریند ر)

کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن جہاز سے اتر وں گا !

وزیر اعظم نریندر مودی نے یوپی کے سلطان پور میں دیش کے سب سے لمبے 341کلو میٹر پوروانچل اکسپریس وے کا افتتاح کیا لکھنو¿ سے غازی پور کے درمیان 22,500کروڑ روپے سے بنے اس اکسپریس وے کا افتتا ح کیلئے مودی نے جنگی جہاز سپر ہرکیو لس سے اکسپریس وے پر لینڈنگ کی تھی اس موقع پر لینڈ کرنے والے دیش کے پہلے وزیر اعظم ہونے کا فخر حاصل ہوا ۔ انڈین ایئر فورس نے پور وانچل اکسپریس وے پر لینڈنگ کی اور ٹیک آف کر اس کے جہازوں نے اپنی طاقت دکھا ئی وزیر اعظم کے جہاز سے اتر نے کے بعد 30جنگی جہاز وہاں پہونچے ۔ وزیر اعظم نے یہاں ایئر شو بھی دیکھا 3.2کلو میٹر لمبی ہوائی پٹی پر جنگی جہاز سخوئی و مراج 200جیسے جنگی جہازوں کا ٹچ او ر گو آپریشن قریب ایک گھنٹے تک چلا ۔ خاص بات یہ ہے کہ مشرقی فرنٹ پر چین سے جنگ کے دوران ایمر جنسی استعمال میں آنے والا یہ پہلا اکسپریس وے ہو گا ۔ نارتھ اور مشرقی بارڈر کے قریب ہونے کے سبب یہا ں پہ چین پاک کے ساتھ جنگ کی صورت میں آسانی سے فائٹر جیٹ آپریٹ کئے جا سکیں گے ۔ یہا ں سے دونو ں فرنٹ کی دوری قریب 600کلو میٹر ہے ۔ڈیفنس معاملوں کے ماہر ایئر مارشل ریٹائرڈ جے ایس چوہان اور ایئر کماڈور آر این گائکواڈ نے اس کے فوجی معنی بتائے وزیر اعظم نریند ر مودی کہا کہ تین چار پہلے جہاں کچھ بھی نہیں تھا کہ کبھی اس جگہ پر جنگی جہاز سے اتر وں گا ۔ یوپی کے وکاس کیلئے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کی تعریف کرتے ہوئے مودی نے یوگی کو کرم یوگی بتایا ۔ کہا کہ آج یوگی سرکار نے بھلے ہی 22ہزار کروڑ روپے سے زیا دہ خرچ کئے ہوں لیکن یہ مستقبل میں ہزاروں کروڑ کی سرمایہ کاری یہاں لانے میں مدد کرئے گا ۔ مانو سماج اور شہری مہذیبوں ترقی کی جو کسوٹیا ں ہیں ان میں سڑکو ںکا جال سب سے اہم ہے ۔ آج بڑی آبادی کی بنسبت و ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے تو بنیا دی شرط ہے ۔ اس معاملے میں دیش دہائیوں تک ترقی نہیں کر پایا کیوں کہ معیشت کی کچھ حدود الگ تھی اور الگ الگ سرکاروں کی تر جیحا ت بھی الگ الگ تھی ۔ آج اٹل بہاری واجپئی کی سرکار کے وقت شروع چتر بھج یوجنا کو یاد کرتے ہیں بہر حال اتر پر دیش جیسی بڑی ریا ست میں جمنا اکسپریس وے میں یہ حوصلہ دیاہے کہ دیش میں تر قی کا پہیہ اب رکنے والا نہیں ہے ساڑھے تین برس کے اندر تقریبا ً22ہزار پانچ سو کروڑ روپے کی لاگت سے تیا ر یہ اکسپریس وے دیگر ریاستوں کیلئے بھی ایک مثال ہے ۔ اور یہ ترقی تعمیر کی کیا اہمیت ہے۔ (انل نریندر)

18 نومبر 2021

عدلیہ کی آزادی سب سے اہم ہے!

دیش کے چیف جسٹس این وی رمن نے اتوار کو کہا کہ ہندوستانی عدلیہ کو دنیا کے لاکھو ں لوگ نچلی عدالتوں اور ضلع عدلیہ کے کامو ں کے ذریعے موٹے طور پر جان سکتے ہیں ۔ اس لئے عدلیہ کی آزادی اور سچی ایماندی کے سبھی سطحوں پر حفاظت کر نے اور اسے بڑھا وا دینے سے زیادہ کچھ بھی اہم ترین نہیں ہے۔ جسٹس نے کہا کہ ہندوستانی عدلیہ فلاحی ریا ست کو شکل دینے میں ہمیشہ سب سے آگے رہی ہے اور دیش کی آئینی عدالتوں کے فیصلو ں میں سماجی جمہوریت کو پھلنے پھولنے میں اہل بنا یا ۔ نیشنل جوڈیشل سر وس اتھارٹی زیر اہتمام منعقد بیداری اور رابطہ مہم کے اختتام کو خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹم رمن نے کہا کہ ہم ایک بہبودی ریا ست کا حصہ ہیں اور اس کے باوجود فائدہ نچلے سطح پر حقدار لوگوں تک نہیں پہونچا پارہے ہیں ۔ با عزت زندگی جینے کی لوگوں کے اندیشات کو چنو تیوں کا سامنا کر نا پڑ تا ہے جن میں سے ایک اہم چنوتی غریبی ہے ۔ ہندوستانی عدلیہ کے انسانیت کو لاکھوں لوگ نچلی عدالت اور ضلع عدالت کے کام کاج کے ذریعے جان سکتے ہیں ۔بہت بڑ ی تعداد میں مقدمہ لڑنے والوں کیلئے جو اصل اور آئینی جواز ہے وہ صر ف عدلیہ ہی ہے ۔ انصا ف فراہم کرنے کے سسٹم کو زمینی سطح پر مضبوط بنائے بغیر ہم صحت مند عدلیہ کا تصور نہیں کر سکتے ۔ اس لئے عدالتوں کی سبھی سطح پر آزادی اور سچی وفاداری کی حفاظت کر نے اور اسے بڑھا وا دینے سے زیادہ اہم ترین کچھ اور نہیں ہے چیف جسٹس اور جج صاحبان کو پہلی بار سیدھے طور پر خطاب کر رہے تھے ۔ این ایل اے ایس اے کے ایگز کٹیو چیئر مین جسٹم یوپو للت مہم میں شا مل پیر لیگل اور رضاکاروں کی خدمات کی تعریف کی ۔ (انل نریندر)

امریکہ کی دھمکی نہ چلی ،روس نے بھیجی مزائلیں!

دنیا میں ایک سب سے اڈوانس اور طاقتور مزائل سسٹم میں شامل s-400کی سپلائی کو بھار ت کو ملنے لگی ہے اسے حاصل کر کیلئے بھار ت اور روس میں اکتوبر 2018میں سودا ہوا تھافوجی چنو تیوںکو دیکھتے ہوئے بھار ت اپنی حفاظت کو مضبوط کر نے کیلئے انتہائی جدید ترین ہتھیا ر اور ڈیفنس سسٹم حاصل کر رہا ہے ۔ فرانس سے جدید رافیل جنگی جہاز لئے گئے تو روس سے S-400مزائل ڈیفنس سسٹم لیا جا رہا ہے ۔ امریکہ کی پابند ی کی دھمکی کو درکنا ر کرکے بھار ت روس سے دنیا کا یہ ٹاپ مزائل ڈیفنس سسٹم حاصل کر نے جا رہا ہے ۔ اچھی خبر ہے کہ پانچ S-400مزائل سسٹم میں سے پہلے سسٹم کی ڈلیوری پوری ہونے کی امید ہے ۔ بھار ت کیلئے یہ مزائلیں بہت ضروری ہیں ۔ اس مزائل سسٹم سے ایک ساتھ 36ٹارگیٹ پا نشانہ لگا سکتا ہے ۔ انہیں ٹینکو ں پر جگہ جگہ تعینا ت کیا جا سکتا ہے ۔ اور ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی لے جایا جا سکتا ہے ۔ امریکہ کے پاس بھی ان کے مقابلے والی کوئی مزائل نہیں ہے ۔یہ روس کی بنائی S-200مزائلیں اور S-300مزائلوں کا چوتھا اور زیادہ مار کرنے والا ورزن ہے ۔ اسٹاکہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق S-400دنیا میں سب سے بہتر ایئر ڈیفنس سسٹم میں سے ایک ہے ۔ اس میں لگا ہو ااڈوانس رڈار - 400کلومیٹر دوری تک کے اپنے ٹارگیٹ کو دیکھ سکتا ہے ۔ اور اسے تباہ کر سکتا ہے ۔ اس سال کے آخر تک پہلے سسٹم کی ڈلیوری پورا ہو نے امید ہے۔ اس سے پہلے مغربی فرنٹ پر تعینا ت کیا جائے گا جہاں سے یہ چین اورپاکستان کے لگتے ایئر اسپیس پر نظر رکھے گا ۔ S-400سسٹم حملہ کر نے آرہے ڈرون ، جہاز یا بیلسٹک مزائلوں کو پہچان کر انہیں ہوا میں چار کلومیٹر پہلے ہی تباہ کر دیتا ہے ۔ اس سسٹم کو خریدنے کیلئے 35ہز ار کروڑ روپے کا معاہدہ ہوا تھا ۔ انڈین ایئر فورس کے کچھ افسر سسٹم کو چلانے کیلئے روس میںٹریننگ لے چکے ہیں ۔ بھار ت نے چین سے خطرے کے پیش نظر اس مزائل ٹکنا لوجی کو ضروری بتا یا تھا بھار ت کا کہنا کہ اس کی روس اور امریکہ دونو ں کے ساتھ حکمت عملی ساجھداری ہے اس بنیاد پر اس نے امریکہ سے وہا ں کے قانون سے راحت کی اپیل کی تھی ۔ لیکن امریکہ کے رخ سے لگتاہے کہ بھار ت کو راحت ملنے کا امکان کم ہی ہے ۔ پچھلے سال اسی قانون کے تحت امریکہ نے ترکی پر پابند ی لگادی تھی جب اس روس سے S-400مزائل سسٹم خریدا تھا ۔ بھارت نے امریکہ کی دھمکی کی کوئی پرواہ نہیں کی ہے ۔ اس کا استعمال پاک چین سرحد کو چوکس بنانے میں کیا جائے گا ۔ S-400ایئر ڈیفنس سسٹم کے آنے کے بعد دشمن کو دھول چٹا دیگا اس کے ساتھ ہی بھارت کا آسمان میں دبدبہ بن جائے گا ۔ مودی سرکار نے ڈیفنس کے محکمہ میں کئی ہتھیا ر لئے ہیں ۔ یو پی اے سرکار میں تو ان کی سپلائی ٹھپ ہو گئی ۔ S-400ایئر ڈیفنس سسٹم کو لینے پر مودی سرکار کو بدھائی ۔ (انل نریندر)

17 نومبر 2021

بچوں کے قاتلوں سے بات کیوں؟

سال 2014میں پشاور (پاکستان )کے آرمی پبلک اسکو ل میں ہوئے آتنکی حملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کو پیشی کے دوران جم کر پھٹکار لگا ئی اور کہا کہ وہ 132اسکولی بچوں کے قاتلوں سے کیو ں سمجھو تہ کر رہے ہیں ؟ بلکہ قتل عام میں شامل لوگوں کے خلا ف سخت کاروائی کرنی چاہئے تھی۔ تین نفری ججوں کی بنچ نے کہا کہ وہ قتل عام میں ملوث قصو ر واروں سمجھو تے کی میز پر کیوں لائے عمران خاں نے کہا کہ ہم پاکستان میں کوئی بھی سوالوں اور جانچ گھیرے میں نہیں ہیں اور انکی سرکار عدالت کے حکم کے مطابق قصورواروں پر کاروائی کرے گی ۔ عمران خان سرکا ر کچھ عرصے سے پاکستان کی آتنکی تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے سمجھو تہ کر رہی ہے ۔ خیال رہے اس تنظیم کے آتنکیوں نے ہی سال 2014میں پشاور آرمی پبلک اسکول کے بچوں پر بربریت آمیز حملہ کر کے کل 147لوگوں کو مار ڈالا تھا جن 132بچے تھے ۔ حملے کے وقت عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی خیبر پختونستان میں اقتدار میں تھی اور اس نے متا ثرین کے رشتہ داروں کو مالی مدد دی تھی ۔ اس جواب سے عدالت کی بنچ اور نا راض ہو گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم متا ثرین کی زخمو ںپر نمک چھڑک رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے حکم کے باوجود سرکار نے کچھ نہیں کیا کو رٹ نے عمرا ن خان کر 20اکتوبر کے فیصلے پر تعمیل کر نے کو کہا اپنی صفائی میں عمران خان نے کہا کہ وہ مارے گئے بچون کے والدین سے مل کر بات کر چکے ہیں اور آگے بھی کرتے رہیں گے ۔ اس بیان سے ناخوش جسٹس خان نے کہا کہ پتا کیجئے 80ہزار لوگ کیو ں مارے گئے معمول کیجئے پاکستان میں 480ڈرون حملو ں کیلئے کون ذمہ دار ہے ؟ عمران خان نے بتایا کہ پی ایس حملے کی جانچ کیلئے اعلیٰ سطحٰی جانچ کمیشن قائم کر سکتی ہے ۔ اس پر چیف جسٹس نے پی ایم عمران کو یاد دیالا کہ اس قتل عام کو 7سال گزر چکے ہیں ۔ ان سات سالوں میں بتائیں سرکار نے کیا کاروائی کی ہے؟ (انل نریندر)

کا نگریس کیلئے بگھیل اہم بنے !

چھتیس گڑھ میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کانگریس کی سیا ست میں مرکزی شخص بن کر ابھر نے لگے ہیں ۔ اتر پردیش اسمبلی چنا و¿ کیلئے سینئر مبصر بنائے جانے کے بعد یہ صاف ہو گیا ہے کہ کانگریس نے بگھیل کی اہمیت کو پرکھ لیا اور ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے وہیں اب انہیں بڑے لیڈروں کی فہرست میں شمار کیا جانے لگا ہے ۔ وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے ارد گرد چھتیس گڑھ کی سیا ست بھی ان کے ارد گرد پر وان چڑ ھنے لگی ہے اتر پردیش چنا و¿ میں کر می ووٹروں کو شیشے میں اتارنے کے ساتھ کسانوں کو بھی ساتھ لانے کیلئے بگھیل کو چنا و¿ میں ایک بڑا فیس ما نا جارہا ہے ۔ کیوںکہ انہوں نے چھتیس گڑھ میں کسانوں کی مالی حالت سدھارنے کیلئے شروع کی گئی اسکیموں کو بھی یو پی میں دہر انے کی تیا ری ہے ۔ کسانو ں کی مضبوطی کا ماڈل بگھیل یوپی میں بہتر ڈھنگ سے سمجھا سکتے ہیں یہیں وجہ ہے کہ انہیں بڑی ذمہ داری دی گئی ہے اور پرینکا اور راہل گاندھی کا بھی ان پر بھروسہ ہے ۔ کانگریس پارٹی حکمت عملی سازوں کا خیال ہے کہ یوپی میں اگر جادو چلا تو کانگریس کی بہتر حا لت ہوگی ۔ اب سیا سی گلیا روں میں بھی با تیں ہونے لگی ہیں چھتیس گڑھ میں بگھیل کی قیا دت میں کانگریس نے پر چم لہرا یا تھا اور وہ اس کے بعد کانگریس میں باعث احترام اور قومی لیڈر کے طور پر ابھر نے لگے ہیں ۔ اور ان کی الگ امیج ابھر کر سامنے آئی ہے ۔ (انل نریندر)

رافیل سودے کیلئے دی گئی تھی دلالی !

فرانس کی تفتیشی میگزین میڈیا پارٹ نے نئے سرے سے دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی جنگی جہاز کمپنی ڈسالٹ ایویشن نے بھار ت سے رافیل جنگی سودا حاصل کر نے کیلئے ایک بیچولیے کو کم سے کم 75لاکھ یو رو (65کروڑ)روپے دیے تھے میگزین نے اپنی چھان بین میں پایا کہ دلا ل کو یہ ادائے گی سال 2007-12کی میعاد میں ماریسش میں کی گئی اس وقت مر کز میں کانگریس کی یو پی اے سرکار تھی ۔ فریچ پورٹل میڈیا کی رپورٹ کے بعد ایک بار پھر رافیل جنگی جہاز کی خرید میں مبینہ کرپشن کا اشو گرما گیا ۔ کانگریس نے جہاں مودی سرکا ر پر حملہ بولا ہے وہیں بھاجپا نے یو پی اے سرکار پر سوال اٹھائے ہیں ۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے سوال کیا رافیل کا 526کروڑ کا سودا 1600کروڑ روپے بغیر ٹنڈر سے کیوں کیا گیا اب سرکار آپریشن لیپا پوتی چلا رہی ہے ۔ گھوٹالے پر پر دہ ڈالنے کیلئے سی بی آئی - ای ڈی کے درمیان سانٹھ گانٹھ ہو گئی ہے ۔ ہماری مانگ ہے کہ سرکا رجوائنٹ مارلیمانی کمیٹی سے جانچ کروائے وہیں بھاجپا کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ رافیل سودے میں کمیشن کا کھیل 2007سے 2012کے درمیا ن ہو تب دیش میں کس کی سرکا رتھی ؟ راہل گاندھی اس کا جواب دیں ۔ انڈین نیشنل کانگریس یعنی آئی این ڈی کا نام آئی نیڈ کمیشن کر دیا جانا چاہئے پاتر ا کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی ، راہل گاندھی ، پرینکا واڈرا وغیرہ سبھی کہتے ہیں کہ انہیں کمیشن چاہئے ۔ کانگریس کا سوال کہ آدھی رات سی بی آئی میں تختہ پلٹ کیوں؟ ملزم سوزین گپتا سے رافیل ڈیل سے جوڑے اہم دستاویز بر آمد ہونے کے باوجود سرکار نے اس کے رول کی جانچ کیوں نہیںکر وائی ۔2018میں اسی معاملے کو دبانے کیلئے سی بی آئی میں تختہ پلٹ کیا گیا جولائی 2015میں سر کاری سمجھوتے کو زور دینے کے باوجود 2016میں حکومت کی جانب سے کرپشن مخالف سیل کو کیوں ہٹا یا گیا؟ایئر فورس سے صلاح مشورہ کئے بغیر جہازوں کی تعداد 126سے گھٹا کر 76کیوں کی گئی ؟بھاجپا نے حملہ کر تے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو اس میں کچھ غلط نہیں ملا رپور ٹ میں 2007سے 2012کے درمیا ن رشوت دینے کا ذکر ہے تب حکومت یو پی اے کی تھی اس وقت رافیل سودا اس لئے نہیں ہو ا کیوں کہ کانگریس دلالی کی رقم سے مطمئن نہیں تھی راہل گاندھی جواب دیں کہ رافیل کو لیکر غلط فہمی پھیلانے کی کوشش آ پ نے اور آ پ کی پارٹی نے اتنے برسوں تک کیوں کی؟دلال سریش گپتا کا نام رافیل معاملے میں سامنے آیا تھا ۔ وہ وی وی آئی پی جہاز خریدیں جانے والے معاملے میں بھی ملزم تھا سپریم کورٹ اور سی اے جی نے مودی سرکا ر کے رافیل سودے کی تفصیلا ت کو دیکھا ہے اور اس میں کچھ بھی غلط نہیں پایا ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ٹویٹ کر تے ہو ئے کہا کہ سر کار کا کرپشن سامنے آ چکا ہے لیکن سرکار جے پی سی سے جانچ سے کیوں ڈر رہی ہے ؟ ہماری مانگ کیا غلط ہے ؟مودی سرکار رافیل سودے میں کرپشن ،رشوت اور ملی بھگت کو دبانے کیلئے لیپا پوتی میں لگی ہوئی ہے اور معاملے کو رفا دفا کر نے کی کاروائی مہم ایک بار پھر اجاگر ہو چکی ہے ۔ رافیل سودے پر پردہ ڈالنے سے مودی سرکار سی بی آئی -ای ڈی کے درمیان مشتبہ سانٹھ گانٹھ کا پتہ چلتا ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...