Translater

16 نومبر 2019

اسپیکرس کے آئینی فرائض !

کرناٹک کے دل بدلوﺅں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ریاست کا سیاسی ڈرامہ دلچسپ موڑ لے چکا ہے ۔سپریم کورٹ نے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کے سابق اسپیکر کے فیصلے کو تو برقرار رکھا لیکن بے معیاد ان ممبران اسمبلی کو چناﺅ لڑنے پر اسپیکر کی روک کے فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے پابندی ہٹا دی ہے اب وہ پانچ دسمبر کو ہونے والا ضمنی چناﺅ لڑ سکتے ہیں ۔ریاست میں سترہ میں سے پندرہ سیٹوں پر ضمنی چناﺅ ہو رہے ہیں کیونکہ دو سیٹیں مسکیں اور راجیشوری سے متعلق عرضیاں کرناٹک ہائی کورٹ میں التوا میں ہیں ۔سپریم کورٹ کے فیصلے سے ریاست کی حکمراں پارٹی بی جے پی کی پریشانی ضرور بڑھنے والی ہے دراصل ڈرامائی موڑ کے تحت کچھ مہینے پہلے اپنے ہی ممبران اسمبلی کے ذریعہ پالا بدلنے سے کانگریس اور جے ڈی ایس کی اتحادی حکومت گر گئی تھی اور وزیر اعلیٰ اسمبلی میں اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے ،اس کے بعد وزیر اعلیٰ کمار سوامی نے استعفی دے دیا تھا ۔اسپیکر نے سترہ ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا تو بی جے پی نے آسانی سے سرکار بنا لی ۔ہوا یوں کہ ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دینے کے بعد 24ممبری اسمبلی میں ممبروں کی تعداد گھٹ کر 207رہ گئی جبکہ حکومت کے لئے 104ممبر درکار ہوتے ہیں ۔بھاجپا کے پاس 106ممبروں کی حمایت تھی جس میں اس کے صرف 105اور ایک دوسرے ممبر اس کا ساتھ تھا اس لئے سرکار بنانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ کرناٹک کی موجودہ اسمبلی کی پوری میعاد یعنی 2023تک ان ممبران کے چناﺅ لڑنے پر روک کے اسپیکر کے حکم کو اس بنیاد پر خارج کر دیا کہ آئین کے تقاضوں کے مطابق اسپیکر کے پاس اس کا حق نہیں ہے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ نا اہلیت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوبارہ ہونے والے چناﺅ میں لڑنے سے نا اہل ممبران کو روکا جائے سپریم کورٹ نے بدھوار کو کہا کہ سیاسی پارٹیوں کی خرید و فروخت اور کرپٹ کلچر میں ملوث ہونے کے علاوہ اسپیکرس بھی غیر جانبدار رہنے کے آئینی فرائض کے خلاف کا م کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔جسٹس ایس وی رمن اور جسٹس سنجیو کھنا اور جسٹس کرشن مراری کی بنچ نے کہا کہ اسپیکر سے غیر جانبدار شخص ہونے کی وجہ سے اس سے توقع کی جاتی ہے کہ ایوان کی کارروائی چلانے اور عرضیوںپر فیصلہ لیتے وقت وہ آزادانہ طریقہ سے کام کریں گے ۔عدالت نے کہا کہ اسپیکر س کو سونپی گئی آئینی ذمہ داری کا ایمانداری سے تعمیل ہو اور انصاف کرتے وقت اس کی سیاسی وابستگی آڑے نہیں آسکتی عدالت نے کہا کہ اسپیکر اپنی سیاسی پارٹی سے خو دکو الگ نہیں کریں گے اور غیر جانبدار اور آزادانہ ہو کر کام کرنے کے جذبے کے مطابق برتاﺅ نہیں کریں گے تو ایسا شخص عوامی اعتماد کے لائق نہیں ہے یہی نہیں اسپیکر کے فیصلے کے خلاف ممبران اسمبلی نے جس طرح سے سپریم کورٹ کا رخ کیا عدالت نے اس کی بھی نکتہ چینی کی لہذا سیاسی نفع و نقصان سے بالا تر ہو کر فیصلے کو کیا جائے عدالت کے اس تبصرے کی روشنی میں دیکھنا چاہیے کہ سیاسی پارٹیوں میں آئینی آخلاقیات کی کمی ہے ۔اور حکمراں اور اپوزیشن میں رہنے پر اس کا برتاﺅ میل نہیں کھاتا ۔

(انل نریندر)

آئینی جمہوریت میں کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں !

سپریم کورٹ نے خو دکے بارے میں تاریخی وقار قائم کیا ہے،قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے ۔یہ تبصرہ عدالت نے ایک ایسے معاملے پر فیصلہ دیتے ہوئے کیا جس میںاس کے چیف جسٹس کا دفتر کو بھی آر ٹی آئی یعنی اختلاط حق قانون (آر ٹی آئی)کے دائرے میں لانے کی مانگ کی گئی تھی ۔چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کی پانچ نفری ججوں کی آئینی بنچ نے بدھوار کو فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت سی جی او کا دفتر پبلک اتھارٹی ہے ،اس نے یہ بھی آگاہ کیا کہ اس کو نگرانی کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا جب بھی صاف گوئی کی بات ہوگی اس وقت عدلیہ آزادی کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا بنچ نے یہ بھی کہا کہ آئینی جمہوریت میں کوئی بھی قانون سے اوپر نہیں ہے ۔اور جج بھی اس سے الگ نہیں ہیں۔سی جی آئی دفتر کو یہ بتانا ہوگا کہ کالیجیم کے ذریعہ ججوں کی تقرری کے لئے کن ناموں پر غور کیا گیا ۔اور اس کے پیچھے کیا بنیاد تھی ؟اس کا خلاصہ نہیں کیا جاسکتا حالانکہ یہ عام انتظام ہے ،کہ آئین اور قانون کی کسوٹی پر دیش کے سبھی شہری اور پورے سسٹم کو چلانے والا ہر ایک شخص برابر ہے ۔بھلے ہی وہ کتنے ہی اونچے عہدے پر یا اہم ترین شخصیت کیوں نہ ہو ،مگر یہ بھی سچ ہے کہ کچھ معاملوں میں محض تصور اور رائج روایات کی وجہ سے کسی شخص یا عہدے کو لے کر رعایت کا نظریہ اپنایا جاتا ہے ۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے آفس کو آر ٹی آئی قانون کے دائرے میں لایا جاے یا نہیں اسی نظریہ کی وجہ سے کئی برسوں سے شش و پنج یا غور کا موضوع بنا ہوا تھا ،لیکن بدھ کے روز سپریم کورٹ کی پانچ نفری آئینی بنچ نے یہ صاف کر دیا کہ بڑی عدالت کے چیف جسٹس کا دفتر اب آر ٹی آئی کا قانون کے دائرے میں آئے گا اس سے نہی صرف جوابدہی اور شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عدلیہ کی مختاری بھی مضبوط ہوگی یہ بھی سچ ہے کہ پچھلے برسوں کے دوران ایسے بھی سوال اُٹھے ہیں کہ کچھ معاملوں میں آر ٹی آئی کو ہتھیار کی شکل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔اسی کے پیش نظر عدالت نے آگاہ کیا کہ عدلیہ کے معاملے میں آر ٹی آئی کے ذریعہ جانکاری مانگی جاتی ہے تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہوگا ۔اس کا استعمال نگرانی رکھنے کی ہتھیار کی شکل میں نہیں کیا جا سکتا ۔اور شفافیت کے معاملے پر غور کرتے وقت اور عدلیہ کی آزادی کو ذہن میں رکھنا ہوگا ،کیونکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا آفس کچھ شرطوں کے ساتھ ہی اطلاعات حق قانون کے دائرے میں آئے گا۔اس لئے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس سے کیا جانکاری حاصل کی جاسکتی ہے اور کیا نہیں ؟امید تو یہی ہے کہ اس فیصلے کا اثر کالیجیم کے کام کاج میں صاف ستھر ابناے گا بلکہ جج صاحبان کی تقرری اور ترقی و تبادلے کے معاملے میں بھی کارروائی سے متعلق اطلاع دینے کے سوال کو بحث کا موضوع مانا گیا ہے یہ فیصلہ ایک ضروری پیغام دیتا ہے کوئی بھی کہیں اور بھی اور یہاں تک کہ بڑی عدالت کے جج بھی قانون سے اوپر نہیں ہو سکتے ۔

(انل نریندر)

15 نومبر 2019

اب موڈیز نے بھارت کی ریٹنگ نگیٹیو دکھائی

بین الا اقوامی کریڈیٹ ریٹینگ ایجنسی موڈیز نے بھارت کو جو آئینہ دکھایا ہے وہ دیش کی معیشت پر زبردست چوٹ ہے اور جو بات ہم کہتے رہے ہیں دیش کی معیشت کی حالت بہت نازک ہے اس بات کی تصدیق کرتی ہے اقتصادی مندی کو لے کر بڑھتی تشویشات اور قرض کی بنیاد کو دیکھتے ہوئے موڈیز نے بھارت کی ریٹنگ اسٹیبل سے گھٹا کر منفی کر دی ہے ،موڈیز کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے بھارت کی گروتھ رفتار مزید گرنے کا امکا ن ہے ،کارپوریٹ ٹیکس میں کٹوتی اور جی ڈی پی گروتھ کی دھیمی رفتار کو دیکھتے ہوئے موڈیز کا اندازہ ہے کہ مارچ 2020میں ختم ہوئے مالی سال کے دوران بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.7فیصد رہ سکتا ہے جس کا نشانہ 3.3فیصد تھا اکتوبر مسلسل بھارت کی ریٹنگ گراتا چلا آرہا ہے۔اکتوبر 2019میں موڈیز نے جی ڈی پی گروتھ کا اندازے کو گھٹا کر 5.8فیصد کر دیا تھا پہلے اس نے 6.2فیصد کا اندازہ ظاہر کیا تھا اس کا مطلب صاف ہے کہ اس کی نیگیٹو ریٹنگ کے مطابق ہندوستان کی معیشت کی حالت تسلی بخش نہیں ہے اور معیشت کو لے کر طویل عرصے سے جو اندیشات بڑھ رہے تھے اور وقتا فوقتا ملک و بیرون ملک کے ماہرین اقتصادیات اور بین الا اقوامی مالی ادارے جس طرح سے آگاہ کر تے رہے ہیں موڈیز کی ریٹنگ ایک طرح سے اس پر مہر ہے ۔اس نے اقتصادی حالت کی کمزوری کی جو بڑی وجوہات پیش کی ہیں ان میں اقتصادی مندی بڑھتی بے روزگاری کئی خاندانوں پر اقتصادی دباﺅ غیر بینکنگ مال کمپنیوں میں بڑھتا نقدی بحران وغیرہ شامل ہیں موڈیز نے سب سے زیادہ تشویش اس بات کو لے کر جتائی ہے کہ اقتصادی مندی سے نمٹنے کے لئے سرکار نے پچھلے کچھ مہینوں میں جو قدم اُٹھائے ہیں وہ کارگر ثابت ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں ۔اس سے آنے والے دنوں میں بھارت کے اقتصادی پس منظر کو لے کر جو تصویر ابھرتی ہے وہ بڑے خطرے کی طرف اشارہ ہے اس سے اقتصادی ترقی کے نچلے معیار پر بنے رہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ہندوستانی معیشت میں مندی کے اثرات سال بھر پہلے ہی نظر آنے لگے تھے لیکن حکومت نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا ہے جب اس مالی سال کی پہلی سہہ ماہی (اپریل جون)کے لئے جی ڈی پی کے اعداد و شمار آئے تو پتہ چلا کہ جی ڈی پی اضافہ گھٹ کر 6سال میں کم از کم سطح پر پہنچ گیا کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے یہ ساکھ طے کرتے وقت سب سے پہلے ریٹنگ ایجنسیاں اصلاحات کے لئے اُٹھائے گئے قدموں اور دیش میں موجودہ اقتصادی حالات پر سب سے زیادہ غورکرتی ہیں حالانکہ بھارت سرکار ابھی سے اسے عارضی مان کر چل رہی ہے لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ یہ دور جلد ختم ہونے والا نہیں ہے دیش میں سرمایہ اور کھپت اور بچت کا جو توازن بگڑ گیا ہے اس سے نمٹنے کے قدم سرکار کو دکھائی نہیں دے رہے ہیں جب دیش ودیش میں بھارت کی اقتصادی ساکھ خراب ہوگی تو سرمایہ لگانے والا آئے گا کون؟کام دھندے تبھی چلیں گے اور روزگار تبھی ملے گا جب ملک میں سرمایہ کاری ہوگی اور وہ ہو نہیں رہی ہے۔

(انل نریندر)

مہاراشٹر میں صدر راج بھنو ر میں

مہاراشٹر میں اسمبلی چناﺅ کے نتیجے آنے کے بعد 19دنوں تک چلے سیاسی ڈرامے کا خاتمہ ریاست میں صدر راج لگانے سے ہوا سرکار بنانے کا دعوی کر رہی این سی پی ،کانگریس اور شینا نے آخری وقت تک شرائط پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا ،این سی پی نے منگل کے روز جب صبح گورنر سے سرکار بنانے کے لئے تین دن کا وقت مانگا تو انہوںنے اس کی اپیل کو ٹھکرا دیا ،اور ساتھ ہی ریاست میں صدر راج کے نفاذ کی سفارش کر دی۔بھاجپا اور شیو سینا کے درمیان نئی سرکار کی تشکیل کو لے کر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو پانے سے صاف ہو گیا تھا کہ یہ ریاست صدر راج کی جانب بڑھ سکتی ہے ،اور امید بھی یہی تھی کہ شاید این سی پی ،کانگریس ،شیو سینا کی اتحادی سرکار بن جائے ،لیکن ذرائع کے مطابق تینوں پارٹیاں نہ تو کامن منیمم پروگرام اور نہ ہی یہ طے کر پائیں کہ سرکار میں کس پارٹی کے کتنے وزیر وہوں گے حالانکہ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے پہلے شیو سینا پھر راشٹر وادی کانگریس پارٹی کو سرکار بنانے کے لے اپنا پیش کرنے کے لئے منگل کی رات ساڑھے آٹھ بجے تک کا وقت دیا تھا لیکن وقت پورا ہونے سے پہلے ہی انہوںنے صدر راج لگانے کی سفارش بھی کر دی اس کے بعد سفارش کو کیبنٹ اور پھر صدر کی منظوری ملنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی ۔مہاراشٹر کے گورنر کے مطابق ریاست میں سرکار کے تشکیل کی تمام قواعد کے بعد بھی سیاسی تعطل برقرار رہا ،اور دعوی کے باوجود شیو سینا حمایت کا خط نہیں دے پائی ۔اس کے علاوہ این سی پی اور کانگریس کے درمیان شش و پنج کی صورتحال بنی رہی اور ممبران کی خرید و فروخت کے الزام سامنے آنے لگے ممکن ہے گورنر نے سرکار کی تشکیل کو لے کر متعلقہ پارٹیوں کے اندر کشمکش کو مستقبل کی سیاسی عدم استحکام پیدا ہونے کا اشارہ مانا لیکن سیاسی حلقوں میں یہ امید تھی کہ بھاجپا کے سرکار بنانے میں ناکام رہنے کے بعد بنتی تصویر میں شیو سینا این سی پی کانگریس ،اتحادکو موقع دیا جائے گا اب یہ سوال اُٹھنا فطری ہے کہ گورنر نے مختلف فریقین کو وقت دینے کے معاملے میں اس طرح کا بے دلیل اور امتیازی رویہ کیوں اختیار کیا ؟خاص طور پر اس وقت جب شیو سینا اور این سی پی اور کانگریس کے لیڈروں کے درمیان آپسی بات چیت فیصلہ کن دور میں تھی ۔اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مہاراشٹر میں ووٹروں نے مینڈیٹ بھاجپا شیو سینا کے حق میں دیا تھا جس کل ملا کر 161سیٹیں بنتی ہیں ۔جن میں بھاجپا 105شیو سینا 56شامل ہیں مگر نتیجے آنے کے بعد شیو سینا نے انصاف اور سیاسی اور جمہوری تقاضوں کو در کنار کر وزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا اور کسی دوسرے کو دوسرے نمبر کی پارٹی کے ذریعہ سرکار بنانے کا دعوی کوئی جواز نہیں رکھتا جیسا کہ حال ہی میں کرناٹک میں دیکھا گیا تھا جہاں کم سیٹیں حاصل ہونے کے باوجود جنتا دل ایس اور کانگریس کی اتحادی سرکار میں جنتا دل ایس کے کمار سوامی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا ۔لیکن خیال رہے کہ بھاجپا شیو سینا کے درمیان چناﺅ سے پہلے اتحاد تھا مہاراشٹر کے اس واقعہ نے 2005کے بہار اسمبلی چناﺅ کی بھی یاد دلا دی جب کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہ ملنے پر گورنر بوٹا سنگھ کی سفارش پر صدر راج لگایا گیا تھا ۔اس پر سپریم کورٹ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ منتخب ممبران اسمبلی کو نئی سرکار کی تشکیل کا موقع دئے بنا صدر راج نافذ کرنا غیر آئینی ہے ۔این سی پی نیتا شرد پوار نے صدر راج لگانے پر کہا کہ ہم دوبارہ چناﺅ نہیں چاہتے ابھی کوئی جلدی نہیں ہے سرکار کیسے بنے گی پالیسی کیا ہوگی ؟تب تک کانگریس اور این سی پی کے درمیان معاملہ طے ہو جائے گا ۔وہیں کانگریس کے سینر لیڈر احمد پٹیل کا کہنا تھا کہ صدر راج لگانا جمہوریت اور آئین کا مذاق اُڑانے کی کوشش ہے ،ہمیں دعوت نہ دینا گورنر کی غلطی ہے این سی پی سے بات کئے بغیر کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہیے تھا ،سابق وزیر اعلیٰ اور بھاجپا نیتا دیوندر فڑنویس نے کہا کہ بھاجپا ،شیو سینا اتحاد کو واضح مینڈیٹ ملا اس کے باوجود صدر راج لگنا افسوسناک ہے ۔امید ہے کہ جلد ریاست کو پائیدار حکومت ملے گی بھاجپا سینر لیڈر اور وزیر داخلہ امت شاہ نے صاف کیا کہ ہم نے سبھی کو چھ مہینے کا وقت دے دیا ہے جسے بھی سرکار بنانی ہے وہ اس معیاد میں خانہ پوری کر کے بنا لے ۔

(انل نریندر)

14 نومبر 2019

جیلوں میں عدالت !

تیس ہزاری عدالت میں وکیل اور پولس کے ٹکراﺅ کا معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے ،پیر کے روز وکیلوں کی ہڑتال جاری رہی وہیں سبھی بار ایسوشی ایشن کی تال میل کمیٹی نے ہڑتال جاری رکھنے کا کمیٹی کے صدر دھرم ویر سنگھ شرما اور جنرل سیکریٹری دھیر سنگھ کسانا نے بتایا کہ وکیلوں کا بھروسہ توڑا گیا ،انہیں دس دن کے اندر وکیل وجے ورما اور دیگر پر گولی چلانے والے پولس ملازمین کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی گئی تھی ،لیفٹنینٹ گورنر کے سامنے ہوئی میٹنگ میں پولس کے اعلیٰ حکام نے ذمہ دار پولس ملازمین کی گرفتاری سے صاف انکار کر دیا ،ایسے میں وکیلوں کے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا پیر کے روز سبھی چھ ضلع عدالتوں میں وکیلوںنے کام کاج ٹھپ رکھا جس وجہ سے عدالتوں میں مقدموں کی سماعت نہیں ہو پا رہی ہے ۔ادھر پیر کو تیس ہزاری عدالت کے پانچ ججوں نے ہی تین جیلوں میں جا کر خود سماعت کی سبھی جج تہاڑ ،روہنی،اور منڈولی ،جیل پہنچے یہاں پندرہ سو زیر سماعت قیدیوں کے معاملے سنے وکیلوں کی ہڑتال کو لے کر دہلی مصلحہ پولس کی تیسری بٹالین کے ڈپٹی کمشنر نے دس نومبر 2019کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تیس ہزاری میں ہوئی واردات کے بعد تیسری بٹالین کے پولس کرمچاریوں میں دہشت کا ماحول ہے ۔وکیلوں کی ہڑتال کو دیکھتے ہوئے پولس ملازم زیر سماعت قیدیوں کو مختلف عدالتوں میں پیش کرنے نہیں لے جائیں گے بتایا گیا ہے کہ خط ملنے کے بعد تیس ہزاری عدالت سینٹر ڈسٹرک میں چیف میڈو پولیٹن مجسٹریٹ انشو گرگ کی طرف سے ایک حکم جاری کیا گیا ان میں پانچ جج صاحبان کو سبھی جیلوں میں زیر سماعت قیدیوں کے مقدموں میں ریمانڈ اور پی سی کارروائی کے لئے جیلوں میں جانے کی بات کہی تھی سبھی ججوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تین جیلوں میں جا کر مقدموں کی سماعت کی ادھر دو نومبر کو وکیلوں اور پولس کے درمیان ہوئی جھڑپ کے معاملے میں تیس ہزاری عدالت نے ہوئے جھگڑے کی دہلی پولس سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے ۔حالانکہ عدالت نے بار ایسوشی ایشن کی اس مانگ کو خارج کر دیا جس میں مبینہ طور سے گولیاں چلانے والے پولس والوں کی گرفتاری کی مانگ کی گئی تھی ،عدالت نے کہا کہ معاملے کی جانچ کر رہی دہلی پولس کی کرائم برانچ واقعہ کے بارے میں سبھی سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگھال رہی ہے ،عدالت نے 20نومبر تک پولس ڈپٹی کمشنر کو جانچ رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے عدالت دہلی بار ایسو شی ایشن کی عرضی پر سماعت کر رہی ہے ،جس میں حوالات کے اندر ایک وکیل پر مبینہ حملے اور دووکیلوں پر مبینہ گولی باری پر کارروائی کی مانگ کی گئی ہے ،معاملے کی سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے پیش ہوئے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دہلی پولس کی کرائم برانچ کے ذریعہ منصفانہ جانچ جاری ہے ۔اورا س میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

(انل نریندر)

بس اب اور نہیں ....!

ایودھیا رام جنم بھومی تنازعہ مغل عہد اور برطانیوی حکومت اور دیش کی آزادی کے بعد بھی دھائیوں تک سلجھ نہیں پایا ،اس دوران بہت کچھ رونما ہوا لیکن سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد آخر کار یہ تنازعہ ختم ہو گیا ،بس اور اب نہیں ۔ایودھیا فیصلے کے ایک طرف جہاں عدالت کے اندر اتفاق رائے تھی وہیں سرکار اور عدلیہ اور آر ایس ایس کا نظریہ بھی ایک ہی لائن پر دکھائی دیا ،الگ الگ الفاظ نے چیف جسٹس رنجن گگوئی ،وزیر اعظم نریندر مودی ،اور آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے صاف صاف کہا کہ تنازعات کو اب پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنے کا وقت ہے ظاہری طور پر یہ اشارے سیدھے سیدھے متھرا کاشی سے جڑتے ہیں ،یہ مان کر چلا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں فرقہ وارانہ مذہبی مقامات کے تنازعہ کی گنجائش ختم ہو گئی ہے ۔سنیچر کو فیصلہ پڑھتے وقت چیف جسٹس رنجن گگوئی نے 1991میں پوجا استھل قانون کا بھی ذکر کیا اور یہ بتایا کہ پارلیمنٹ کا یہ قانون واضح کر تا ہے کہ 15اگست 1947کے دن جس پوجا استھل کی (مندر،مسجد)کی پوزیشن تھی اس میں کوئی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے جڑے قانونی مقدمے بھی ختم مانے جائیں گے صرف رام جنم بھومی ،بابری مسجد کو ہی اس سے چھوٹ تھی وہیں آر ایس ایس موہن بھاگوت نے اپنے بیان میں صاف کیا کہ سنگھ آندولن نہیں کرتا ہے ،رام مندر آندولن میں جڑنا ایک دھارمک مسئلہ تھا ایودھیا فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے انہوںنے متھرا ،بنارس میں مندر کو لے کر بھی اپنی پوزیشن صاف کی ۔ہم بنارس اور متھرا میں مسجد کی جگہ مندر بنانے کی بات کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں گے ،دیش کے نام اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بہت باریکی سے یہ پیغام دیا کہ اب دیش میں کڑاوہٹ کے لئے کوئی جگہ نہیں اتنا ہی نہیں یہ بھی کہا کہ اب نئے بھارت کی تعمیر میں سب کو لگنا ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلے اور کرتارپور کوریڈور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن کا سندیش جوڑنے اور جڑنے کا ہے ،اور مل کر جینے کا ہے ۔اب تلخی اور نفرت کو تلانجلی دینے کا وقت ہے نئے بھارت میں خوف ،تلخی اور نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہوگی اشارہ صاف ہے رام مندر کے ساتھ ہی سب سے بڑے دھارمک تنازعہ سے نمٹنے کے بعد کوئی اور اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتا پورے دیش کا مسلم طبقہ بھی رام مندر تعمیر کے فیصلے کو مان چکا ہے ،سادھو سنت سماج کی طرف سے بھلے ہی متھرا اور کاشی جیسے اشو اُٹھائے جا سکتے ہیں لیکن اس سے بھاجپا یا سنگھ سے کھلی حمایت ملے اس کی گنجائش نہیں ہے ۔بھاجپا کے سیاسی چناﺅ منشور میں رام مندر 1991سے شامل تھا ۔لیکن کبھی بھی متھرا اور کاشی کا ذکر نہیں ہوا ۔سنگھ پریوار میں ہی ایم پی میں بھی اس اشو پر خاموشی ہے وہ اپنی پوری توجہ مندر کی تعمیر پر لگانا چاہتے ہیں ۔بس اب اور نہیں دیش کے مفا د میں نہ اب متھرا اور نہ کاشی کی بات ہونی چاہیے۔

(انل نریندر)

13 نومبر 2019

28سال بعد ہٹی گاندھی خاندان کی ایس پی جی سیکورٹی!

ایودھیا فیصلے کی گھما گھمی میں گاندھی خاندا ن کی ایس پی جی سیکورٹی جمع کے روز سرکار نے ہٹا دی اور یہ خبر ایودھیا فیصلے کی وجہ سے دب گئی ایس پی جی کانگریس کی ورکنگ صدر سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہل گاندھی اور بیٹی پرینکا گاندھی کی سیکورٹی میں تعینات تھی جو اب نہیں ملے گی اگست میں اسی سال سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی بھی ایس پی جی سیکورٹی ہٹائی گئی تھی اب گاندھی پریوار کو سی آر پی ایف جوانوں کی زیڈ پلس سیکورٹی دی جائے گی وزارت داخلہ نے کئی مرتبہ انتہائی غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ لیا وزارت کے ذرائع کے مطابق گاندھی پریوار ایس پی جی سیکورٹی میں جوانوں کو تعاون نہیں دے رہے تھے ۔راہل گاندھی نے 2015کے بعد 1892مرتبہ بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال نہیں کیا اور 1991سے 156مرتبہ بےرون ملک کا دورہ کیا جس میں وہ 143مرتبہ ایس پی جی کے جوانوں کو نہیں لیا ۔سونیا گاندھی نے بھی پچھلے چار سال میں دہلی میں صرف پچاس مرتبہ بلٹ پروف گاڑی کے استعمال سے انکار کیا اب پی ایم کو اکیلے ہی وی وی پی آئی سیکورٹی ملے گی ان کی حفاظت کا ذمہ تین ہزار افسران اور جوانوں والی ایس پی جی ہی کرئے گی ۔ایک وی وی پی آئی کی سیکورٹی میں عام طور پر ایس پی جی کے تین سو جوان ہوتے ہیں ۔ان کے پاس جدید ہتھیار اندھیرے میں دیکھنے والے چشمے اور اسنائپرس ،بم دسپوز ل ٹیم وغیرہ ہوتی ہے زیڈ پلس سیکورٹی میں ایک وی وی پی آئی کی سیکورٹی میں صرف 53جوان رہتے ہیں ان میں 19بلیک کیٹ کمانڈو ہوتے ہیں سیکورٹی میں ساتھ چلنے والی پائیلٹ گاڑیاں بھی شامل ہوتی ہیں ۔28سال میں یہ پہلا موقع ہے جب گاندھی پریوار کی ایس پی جی سیکورٹ نہیں ہوگی ۔ 1991میں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے بعد گاندھی خاندان کو ایس پی جی سیکورٹی دینے کا فیصلہ ہوا تھا ایس پی جی ہٹانے پر راہل گاندھی نے کہا کہ میری سیکورٹی میں تعینات رہے بھائی بہنوں کا شکریہ آپ بغیر تھکے میرے ساتھ ہر پل اور میرے خاندان کی حفاظت میں رہے ،اس محبت اور پیار کے لئے شکریہ ،گاندھی پریوار سے ایس پی جی واپس لینے کے اشو پر کانگریس کو اپنے لئے ایسا سیاسی ہتھیار مل گیا جس کا فائدہ اُٹھا کر وہ جنتا میں ہمدردی کی لہر کا فائدہ اُٹھائے گی ۔اس کے ذریعہ دیش کو ایک بار پھر سے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی قربانی کی یادوں کو تازہ کرائے گی اور بتائے گی کہ کس طرح سے اس کے دو بڑے نیتاﺅں نے دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے قربانی دی ،لیکن سرکار کا ایس پی جی ہٹائے جانے کا فیصلہ آنے کے ساتھ ہی جس طرح کانگریسی لیڈروں نے اپنے جارحانہ تیور دکھانے شروع کر دئے ہیں اس سے صاف ہے کہ پارٹی چپ بیٹھنے والی نہیں ہے اور وہ اس اشو کو لے کر پورے دیش میں یہ پیغام دیے گی کہ کس طرح مودی سرکار سیاسی رقابت کی نیت پر آمادہ ہو کر کانگریس کے لیڈروں کی ڈیوٹی کو خطرے میں ڈال رہی ہے ۔آندولن کی حکمت عملی پارٹی کی ورکنگ کمیٹی میں طے کی جائے گی سرکار کو گھیرنے کی حکمت عملی کے تحت ایس پی جی کی رپورٹوں کو بنیاد بنایا جائے گا جس میں وقتا فوقتا کانگریس خاندان کے تیں خطروں کو لے کر آگاہ کیا جاتا رہا ہے ۔

(انل نریندر)

لوگوں کی پرواہ نہیں تو آپ کو اقتدار میں رہنے کا بھی حق نہیں!

آلودگی سے فکر مند سپریم کورٹ نے ریاستی سرکاروں کے رویہ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بے حد تلخ لہجے میں کہا کہ اگر لوگوں کی پرواہ نہیں ہے تو آپ کو اقتدار میں رہنے کا بھی حق نہیں ہے ۔جسٹس ارون مشرا اور جسٹس دیپ گپتا کی بنچ نے سرکاروں کو فٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ آپ نوابوں کے محلوں میں بیٹھ کر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں آپ کو ذرا بھی پرواہ نہیں ہے کہ لوگ مر رہے ہیں ۔اور آلودگی سے نمٹنے کے لے سرکاریں پوری طرح سے ذمہ دار ہیں ۔دہلی ،اترپردیش ،ہریانہ ،اور پنجاب کے چیف سیکریٹروں کی موجودگی میں بنچ نے سرکاروں سے سوال کیا کہ آپ آلودگی سے لوگوں کو یہوں کی مرنے کے لے چھوڑ سکتے ہیں ؟کیا دیش کو سو سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں؟جمہوری سرکار سے ہر کوئی اور زیادہ امید کرتا ہے کہ وہ آلودگی پر لگام کسنے کی کوشش کرئے گی ۔پرالی جلانے کے اشو سے نمٹے گی ۔آپ کو شرمندگی نہیں ہوتی ہے کہ اڑانوں تک کے راستے بدلے جا رہے ہیں لوگ گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔تصور نہیں کر سکتے کہ آلودگی کے چلتے لوگ کن کن بیماریوں سے لڑ رہے ہیں ؟عدالت نے کہا کہ جس نے بھی قاعدہ قانون توڑے اسے بخشا نہیں جائے گا ،ماحولیات آلودگی (روک تھام )و کنٹرول اتھارٹی(این جی ٹی)کی عرضی پر بھی طنز کسا اور کہا کہ بہتر بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے لئے ورلڈ بینک سے آنے والے فنڈ پر سوال اُٹھایا کہ اسمارٹ سٹی کہاں ہے،سڑکیں کیوں نہیں سدھاری جا رہی ہیں؟سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ سب جانتے ہیں کہ ہرسال پرالی جلائی جاتی ہے سرکاریں پہلے سے اس کو روکنے کے لئے تیاری کیوں نہیں رکھتی ،کسانوں کومشینیں کیوں نہیں دی جاتیں؟پتہ چلتا ہے کہ پورے سال آلودگی روکنے کے لئے کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا آخر کار سرکاری مشینری پرالی جلانے پر روک کیوں نہیں لگا سکتی؟ریاستی حکومتیں کسانوں سے پرالی کیوں نہیں خریدتیں؟آخر کار سپریم کورٹ کو آلودگی کے خلاف خود نوٹس لینا پڑا سیاسی حکمرانی کا اصول تو یہ کہتا ہے کہ جمہوریت میں حکومتیں عوامی مفاد کے تیں حکومتی سرگرمی سے زیادہ ہوتی ہے ۔لیکن بھارت میں سرکاروں کی ترجیح کچھ الگ دکھائی دیتی ہے ۔قانون کے مطابق اگر کوئی کسی کا قتل کرئے تو اسے پھانسی یا عمر قید کی سزا ملتی ہے ،ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور شکاگو یونیورسٹی کے مطابق بھارت میں آلودگی پچھلے بیس برسوں میں 69فیصد بڑھی ہے ۔جس سے کروڑوں لوگوں کی عمر دس سال کم ہوئی ہے ہر سال ایک لاکھ بچوں کی موت ہوتی ہے لیکن سرکاریں کبھی بھی اتنے بڑے امواتی سانحات سے فکر مند نہیں ہوئیں اگر ہر سال دیش کی راجدھانی گیس چیمبر بن جاتی ہے اور دھیرے دھیرے دبے پاﺅں آلودگی لاکھوں کی زندگیاں ختم کر جاتی ہیں تو اس کی ذمہ داری اس کے سر پر ڈالی جائے یہاں تو ایک ریاستی سرکار کی اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے ہر سال پڑوسی ریاست کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنا پڑلہ جھاڑ لیتی ہے۔

(انل نریندر)

12 نومبر 2019

عوام پریشان حکمراں اپنے میں مست :نوٹ بندی کے تین سال

نوٹ بندی کے اعلان کو تین سال پورے ہو چکے ہیں 2016میں 8نومبر کی رات 12بجے 500اور 1000کے نوٹ بند کر دئے گئے تھے یہ قدم مودی حکومت کے پہلے عہد کا متنازع مانا جاتا ہے جس پر آج بھی بحث جاری ہے ۔نوٹ بندی سے ملک کی معیشت اور لاکھوں لوگوں کی زندگی برباد ہو گئی تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کی موجودہ معیشت کی خستہ حالی نوٹ بندی کی ہی دین ہے اس کے اعلان کرنے کے بعد حکومت نے کئی مقصد گنائے تھے جس میں بلیک منی ،جعلی نوٹ ،آتنکی فنڈنگ اورمنی لاڈرنگ پر روک لگے گی ۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نا تو بلیک منی بند ہوئی اور نا ہی جعلی نوٹوں کا چلن بند ہوا ہاں البتہ منی لانڈرنگ میں الٹے اضافہ ہوا ہے ۔آر بی آئی پچھلے دنوں 2ہزار کے نوٹوں کی چھپائی روکنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ لوگ جمع خوری میں لگے ہیں اس وجہ سے چھپائی بند کی جا رہی ہے ۔کیا جمع خوری بند ہوئی یا کم ہوئی ؟یہ صحیح ہے سرکار کی کوششوں کے بعد ڈیجیٹل لین دین کی ادائیگی بڑھی ہے لیکن آج بھی نقدی کا زیادہ چلن بنا ہو ا ہے لیکن نئی نسل کے لوگ نوٹ بندی کے بعد ڈیجیٹل لیکن دین کی طر ف بڑھ رہے ہیں دیس واسیوں کو اب آن لائن دھوکہ دھڑی معاملوں سے ڈر رہے ہیں اور ایک مرتبہ پھر لوگ نقدی کے چلن کو ترجیح دے رہے ہیں۔نوٹ بندی کے سب سے بڑے اسباب میں کالی کمائی پر روک لگانا شامل تھا حالانکہ حال ہی میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے دوران انکم ٹیکس حکام نے عربوں روپئے کی کرنسی ضبط کی اس سے صاف لگتا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد نقدی کا چلن زیادہ بڑھ گیا ہے ۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے پچھلے دنوں ایک سوال کے جوا ب میں پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ 4نومبر 2016کو 17741عرب روپئے مالیت کے نوٹوں کا چلن تھا جو 29مارچ 2019تک 21037.64روپئے تک پہونچ گیا اس طرح آج دیس میں 3396عرب کی نقدی چل رہی ہے اسی طرح آر بی آئی کے ڈاٹا کے مطابق 2016میں جہاں24.61کروڑ روپئے کے جعلی نوٹ پکڑے گئے تھے وہیں 2017میں یہ بڑھ کر 28کروڑ پہونچ گئے نوٹ بندی کے تین سال پورے ہونے پر کانگریس نے مودی سرکار کو کئی محاظ پر آڑے ہاتھوں لیا ۔پارٹی نیتا راہل گاندھی نے 2016میں اٹھائے گئے نوٹ بندی کے قدم کو آتنکی حملے سے تشبیح دی ہے 500اور1000کے نوٹ بند کرنے میں سرکار کے فیصلے کا موازنہ 1330میں محمد بن تغلق کے ذریعہ کرنسی کو چلن سے باہر کرنے کے فیصلے سے کیا ہے ۔راہل نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ نوٹ بندی کو تین سال گزر گئے ہیں جس نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا ،بہت سے لوگوں کی جان چلی گئی ،لاکھوں چھوٹے کاروبار ختم کئے ،اور لاکھوں نوجوان عام آدمی کو بے روزگار کر دیا ۔پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجوالہ نے کہا سلطان محمد بن تغلق نے 1330میں دیس کی کرنسی کو بندکیاتھا آج کے تغلق نے بھی 8نومبر 2016کو بند کیاتھا ادھر کانگریس کی جنر ل سکریٹر ی پرینکا گاندھی واڈرا نے مودی سرکار پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ دیس کی معیشت کی حالت بہت خراب ہے اور حکومت کرنے والے اپنے آپ میں مست میں ہیں جنتا ہر محاظ پر پریشان ہے ۔
(انل نریندر)

پانی پت جنگ سے بہت پہلے آئے تھے نانک دیو جی ایودھیا

وزیر اعظم نریندر مودی نے سنیچر کو بیر پور صاحب میں متھا ٹیکنے کے بعد کرتارپور صاحب گلیارے کا افتتاح کیا اور ادھر اسی دن ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں گرو نانک دیو جی کی یاتر اکے حوالے سے ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کے وجود کو بابر کی بھارت آمد سے پہلے قیام کرنے کی بات سامنے آئی ہے سپریم کورٹ کے فیصلے میں 2010میں ہائی کورٹ کے فیصلے کچھ حصے کا ذکر ہے جس میں ہائی کورٹ کے اس وقت کے جج سدھیر اگروال نے ایک گواہ کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ گرونانک دیو جی نے 1510-11کے دوران ایودھیا جا کر رام جنم بھومی کے درشن کئے تھے یاد رہے یہ وقت بابر کے بھارت پر حملے سے کافی پہلے کا ہے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میںکہا کہ سکھ دھرم کے بانی گرو نانک دیو جی نے ایودھیا یاترا کرکے ہندوو ¿ں کی آستھا اور اعتماد کو پختگی کی تھی اور یہ جگہ بھگوان رام کا جنم استھان ہے عدالت نے کہا ریکارڈ پر لائے گئے جنم سہاروی میں گرونانک دیو جی کے ایودھیا آمد کا ذکر ہے ۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی پانچ نفری آئینی بنچ نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ یہ الگ ثبوت ہے کہ متنازع ڈھانچا ہندوو ¿ ں کی آستھا اور اعتماد کی علامت بھگوان رام کا جنم استھا ن ہے بنچ میں شامل جج نے کہا کہ رام جنم بھومی کی صحیح جگہ کی پہچان کرنے کے لئے کوئی صحیح چیز نہیںہے ۔رام جنم بھومی کے درشن کے لئے گرو نانک دیو جی کا ایودھیا جانا ایک ایسا واقعہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ 1528عیسوی سے پہلے بھی تیرتھ یاتری وہاں جاتے آتے رہے عدالت میں کہا گیا تھا کہ بابری مسجد کی تعمیر مغل بادشاہ بابر کے میرباقی نے 1528میں کرائی تھی انہون نے کہا کہ یہ مانا جا سکتاہے کہ بھگوان رام کے جنم استھان سے متعلق جو ہندوں کی آستھا اور بھروسہ ہے وہ بالمیکی رامائن اور سنکد پران سمیت سبھی دھرم گرنتھو اور دیگر دھارمک کتابوں سے جڑی ہوئی ہے انہیں بے بنیاد نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔جج نے کہا کہ کہا گیا ہےکہ 1528عیسوی کی میعاد سے پہلے لکھے گئے ایسے دھارمک گرنتھ قابل قبول ہیں جو رام جنم بھومی کے موجودہ مقام کو بھگوان رام کے جنم استھان کی شکل میں مانتے ہیں جس سے ہندو ¿ں کی آستھا کو مانیتا ملتی ہے ۔جے بابا گرونانک دیو جی ،جے شری رام ۔

(انل نریندر)

10 نومبر 2019

وزیر اعلیٰ روپانی کےلئے خریدا گیا 191کروڑ کا نیا جہاز

دیش تو اقتصادی مندی کے دور سے گزر رہا ہے اور صنعتی پیداوار میں گراوٹ جاری ہے بے روزگاری کی وجہ سے ہائے توبہ مچی ہوئی ہے اور اس میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نئے جہاز خرید رہے ہیں حکومت گجرات نے وزیر اعلیٰ وجے روپانی اور دیگر اہم شخصیتوں جیسے گورنر نائب وزیر اعلیٰ کے لئے 191کروڑ روپئے کا نیا جہاز خریدا ہے اس کی کارروائی پچھلے پانچ سال سے التوا میں تھی جو آخر کار پوری ہو گئی ہے ۔اس مہینے کے تیسرے ہفتے میں یہ جہاز آجائے گا ۔وزارت شہری جہاز رانی کے حکام نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ کے لئے موجودہ جس جہاز کا استعمال ہوتا ہے وہ 20سال پرانا ہو چکا ہے اس لئے نیا خریدا گیا ہے ۔محکمے کے ڈائرکٹر کیپٹن اجے چوہان کے مطابق نئے جہاز کی ڈیوری کے بعد مختلف ضروری کارروائی پوری کی جائے گی ۔اس کے دو مہینے بعد اس جہاز کا استعمال شروع ہو جائے گا ۔حال ہی میں وزیر اعلیٰ کے لئے سپر کنگ جہاز کا استعمال ہو رہا ہے جو کم دوری کے راستے کے لئے قابل استعمال ہے ۔جبکہ نیا جہاز لمبی پرواز کر سکتا ہے ۔بومب واڈئر یہ کناڈا کے یویک صوبے میں واقع جہاز کی کمپنی ہے اب تک اس نے چیلنجر سریج کے کل 11سو جہاز بنائے ہیں ادھر پی ایم مودی کے لئے بھی ایک اسپیشل جہاز بن رہا ہے ۔اب یہ خاص جہاز ائیر انڈیا کا نہ ہو کر ائیر فورس کا ہو سکتا ہے اس جہاز کی خاص بات یہ ہے کہ اس پر کسی میزائل کا اثر نہیں ہوتا ۔پردھان منتری کے لئے ملنے والا یہ جہاز جون 2020تک بھارت آجائے گا ۔جو انڈین ائیر فورس کے بیڑے میں شامل ہوں گے نہ کہ ائیر انڈیا کو ملیں گے ۔اس میں اینٹی میزائل تکنیک لگی ہوگی ۔ایک خبر کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ بوئنگ 747-200Bجہاز کا استعمال کرتے ہیں اس کے بعدا ب بھارت کے وزیر اعظم کے لئے بھی بوئنگ 777-300EI جہاز لانے کی تیاری تیز ہو گئی ہے اس کی خرید کے پیچھے اہم وجہ یہ ہے کہ اس کا استعمال وزیر اعظم نریندر مودی صدر رامناتھ کووند ،نائب صدر وینکیا ءنائیڈو کریں گے ابھی تک یہ لوگ ائیر انڈیا کے بوئنگ جہاز استعمال کرتے تھے سیکورٹی کے معاملے میں یہ جہاز امریکہ کے صدر کے جہاز کی معیار کے برابر ہوگا ۔اس کی خاص بات یہ ہوگی کہ ایدھن بھرنے کے بعد بھارت اور امریکہ کے درمیان سفر کو آسانی سے طے کر سکے گا ۔اس میں دو میزائل ڈیفنس سسٹم ہوں گے جو امریکہ بیچنے کے لئے راضی ہو گیا ہے۔اینٹی میزائل تکنیک کو نئے جہاز میں لگانے کے لئے قریب 19کروڑ ڈالر کا سمجھوتہ کیا گیا ہے ۔یہ ہیں بھارت کے 
حکمرانوں کے ٹھاٹھ۔
(انل نریندر)


کھاتہ داروں کو بینکوں میں اپنا پیسہ غیر محفوظ لگنے لگا

بینکوں میں دھوکہ دھڑی کے معاملے میں اتنی تیزی آئی ہے کہ آئے دن اخباروں میں خبریں آتی رہتی ہیں کہ آج فلاں بینک میں دھوکہ دھڑی کا معاملہ روشنی میں آیا ہے حال ہی میں سی بی آئی نے کناٹ پلیس میں قائم اورینٹل بینک آف کامرس اور راجیندر پلیس میں واقع آندھرا بینک میں 363.72کروڑ روپئے کے گھوٹالے کے سلسلے میں کرول باغ کے لال سنس جویلرس او ر شری ناتھ رولرس ملز کے سرمایہ کاروں اور گارنٹروں سمیت بینک کے نا معلوم افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپئے کے گھوٹالے میں شامل لال سنس جوئیلرس کے تار دبئی کے جڑے ہیں اس معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق اورینٹل بینک آف کامرس کے ڈی جی ایم راجیو کمار کی طرف سے سی بی آئی ہیڈ کوارٹر میں درج کرائی گئی شکایت میں کہا گیا تھا کہ کرول باغ ریگر پورہ میں واقع لال سنس جویلرس کے سرمایہ کار سونے کے کاروبار سے وابسطہ ہیں سال 1994میں کمپنی نے مشین سے زیور بنانے شروع کئے بینک کی طرف سے کمپنی کو سول بینکنک کے تحت قرض کے لئے کئی طرح کی سہولیات دی جا رہی تھیں ۔بینک نے کمپنی کو کل 222.96کروڑ روپئے کا قرض دیا تھا جو واپس نہیں لوٹایا ۔سی بی آئی کو جانچ کے دوران پتہ چلا کہ کروڑوں کے اس گھوٹالے میں لال سنس کی دبئی میں کمپنی پاسی جوئیلرس کے درمیان ساٹھ گانٹھ ہے،گھوٹالے میں دونوں کمپنیوں کے سرمایہ کاروں اور نامعلوم بینک کے کام کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔آج ہر شخص اپنے پیسے بینک میں رکھنے سے ڈرا ہوا ہے ۔یہ فطری ہے کہ پورا دیش چاہتا ہے کہ دھوکہ دھڑی پر لگام لگے اور بینک کے ملازمین قانون کے شکنجے میں آئیں ۔سی بی آئی نے حال ہی میں جعلسازی کے معاملے میں ایک ساتھ قریب 175مقامات پر دیش بھر میں چھاپہ مارا تھا جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں جو سبھی معلومات سامنے آئیں ہیں اس میں 2018-19میں جعلسازی کے تقریبا سات ہزار معاملے سامنے آئے ۔اور 72ہزار کروڑ روپئے کا گھپلہ ہوا اے ٹی ایم اور کریڈیٹ کارڈ کے ذریعہ پیسہ نکال لینے سے لے کر سیدھا کھاتے تک سے پیسہ غائب ہو رہا ہے ۔ایسے معاملے روزناہ سننے پڑنے کو ملتے ہیں ۔قرض کے نام پر لیا گیا پیسہ اسکا کیا ہوا پتہ نہیں یہ کام بینک حکام کی ملی بھگت سے ممکن ہے ۔کچھ ایسے معاملے بھی سامنے آئے ہیں بینک کے حکام نے ڈیڈ اکاﺅنٹ سے بھی موٹے پیسے نکال لئے ۔بھارتیہ ریزرو بینک نے قائدہ بنا لیا ہے کہ کسی کھاتے سے دھوکہ دھڑی سے پیسے نکالے ہیں تو متعلقہ بینک اتنا ہی پیسہ جمع کرئے گا ۔لیکن یہ آسان ہے مگر اس کی خانہ پوری میں برسوں لگ جاتے ہیں اور بینکوں کو یہ پیسہ لوٹانے میں کھاتے داروں کو کافی چکر لگانے کے بعد ملتا ہے ۔لیکن زیادہ تر نہیں یہ صورتحال بدلنی چاہیے آج ہر شخص کے لئے اپنا جمع پیسہ بینک میں رکھنا ضروری ہے ان کے پیسے کی حفاظت بینکوں کی ذمہ داری ہے ۔اس لئے سرکار کے سامنے وقت پر سیکورٹی کا جائزہ لینا چاہیے لوگوں میں جو خوف پیدا ہو گیا ہے کہ آج بینکوں میں ان کا پیسہ کھویا تو نہیں یہ ڈر دور ہونا چاہیے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...