Translater

02 مارچ 2019

عمران کا شانتی پرستاﺅ دکھاوا ہے مجبوری میں دیا گیا !

پاکستان میں بدھوار کو سب سے زیادہ ہلچل اسلام آباد کے ریڈ زون ائریا اور مظفرآباد آرمی سینٹر میں تھی ۔ریڈ زون ائریا پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا آفس کانسٹیٹیوشن ائیونیو میں ہے ۔جہاں صبح 8:30بجے سے فوجی افسروں اور وزرا کا آنا جانا شروع ہو گیا تھا ۔پاکستان اس تیاری میں تھا کہ عمران خان نے بھارت کے سامنے جو امن مذاکرات کا پرستاﺅ رکھا ہے اس سے مانتا ہے یا نہیں اگر ابھینندن کو چھوڑ دیا جائے تو اس سے کیا پاکستان کی ساکھ دنیا میں سدھرئے گی ؟سبھی سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد بھارت کے سامنے شانتی پرستاﺅ رکھنے کا فیصلہ ہوا باقی دیشوں کو اس کے بارے میں بتانے کی ذمہ داری وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دی گئی ۔انہوںنے جاپا ن سمیت اپنے تین دوروں کو منسوخ کر دیا ۔پاکستان کے پی ایم عمران خان نے سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دو ہندوستانی جنگی جہازوں کو مار گرائے جانے کا دعوی کرنے کے ساتھ ایک بار پھر سے امن کا دکھاوا کیا ۔انہوں نے پھر دہرایا کہ اگر دونوں ملکوں میں جنگ شروع ہوتی ہے تو حالات میرے کنڑول میں ہوں گے ۔اور نہ ہی بھارت کے پردھان منتری نریندر مودی کے ۔اگر بھارت سرکار آتنکواد پر کسی طرح کی بات چیت کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں نیوکلیائی کفیل ملک ہونے کے ناطے بھارت پاک کو بات چیت سے اشو کو سلجھانا چاہیے جس دن عمران خان یہ امن کی تجویز دے رہے تھے تو ان کی ائر فور س کے جنگی جہازوںنے آتنکوادی ٹھکانوں پر ہندوستانی کارروائی کے جواب میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی حالانکہ انڈین ائر فورس نے اسے ناکا م کر دیا ۔تھوڑی دیر بعد عمران خان میڈیا سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ ہماری کارروائی صرف یہ بتانے کے لئے تھی کہ اگر آپ ہمارے دیش میں گھس سکتے ہو تو ہم بھی آپ کے دیش میں گھس کر دکھا سکتے ہیں ۔پاکستانی ائر فورس نے بھارت کے دو مگ کو مار گرایا ہم یہ نہیں کہتے ہم پاکستان سے امن مذاکرات نہ کریں لیکن سوال یہ ہے کہ ہم بات کیا کریں گے؟یہ سار اسلسلہ آخر شروع کیوں ہو ا؟یہ پلوامہ حملے کی وجہ سے ہوا ۔بھارت نے کئی بار کہا کہ ہمار جھگڑا پاکستان سے نہیں دہشتگردی سے ہے کیا عمران خان نے کبھی یہ تسلیم کیا ہے کہ حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے شدت پسند پاکستانی پٹھو دیش میں موجود ہیں ۔پاکستان کی سرزمین کا وہ اپنی دہشتگردی کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور ہم انہیں آگے ایسے حملے کرنے سے روکیں گے ۔آج تک عمران نے ایک لفظ پلوامہ حملے میں مارے گئے 40جوانوں کو ایک مرتبہ بھی اپنا خراج عقیدت پیش نہیں کیا ۔متاثرہ کنبوں کے طئیں اپنی ہمدردی تک ظاہر نہیں کی ۔امن مذاکرات کا تبھی پیدا ہوگا جب پاکستان پہلی بات تو یہ قبول کرئے کہ حافظ سعید مسعود اظہر پاکستان میں ہیں ۔اور اپنی ناپاک حرکتوں کو انجام دے رہے ہیں اور مستقبل میں ہم انہیں ایسا کرنے سے روک لیں گے ۔کشمیر پر بھی بات ہو سکتی ہے لیکن یہ مسئلہ پچھلی پانچ دہائیوں سے چلا آرہا ہے ۔تازہ نہیں ہے۔

(انل نریندر)

ناپاک ارادے سے گھسے پاک ایف16-جنگی جہاز کو اُڑایا

بالا کوٹ میںانڈین ائر فورس کے حملے سے بوکھلائے پاکستان نے بدھوار کی صبح ہماری فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حماقت کی تھی اس کے تین جنگی جوان پونچھ اور راجوری میں گھس آئے اور انڈین ائر فورس جو پوری طرح چوکس تھی میں منھ توڑ جواب دینے کے لئے مگ 21اور صفوئی 30جنگی جہاز بھیجے جس میں پاکستان کا ایک ایف16-جنگی جہاز مار گرایا ۔حالانکہ اس دوران ایک انڈین مگ ایل او سی کے پاس تباہ ہو گیا ۔اس کا پائلٹ تھا ونگ کمانڈر ابھینندن وردمان ۔پاکستان نے اپنی عادت کے مطابق جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے ہوائی زون میں گھسے انڈین ائر فورس کے دو جنگی جہازوں کو مار گرایا ہے ۔اور دونوں پائلٹ اس کی حراست میں ہیں ۔پاک فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور اور یہاں تک کہ پی ایم عمران خان تک نے یہی دہرایا لیکن شام تک وہ پلٹ گئے اور کہا کہ صرف ایک ہی ہندوستانی پائلٹ ابھینندن حراست میں ہے ۔بدھوار کی صبح قریب پونے دس بجے ہندوستانی راڈار سسٹم نے پاکستان کے راولپنڈی اور اسلام آباد ائر بیس پر ایک ہی وقت میں سرگرمیوں کا پتہ لگایا ہندوستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئیے پاکستان کے دس جنگی جہازوں نے صبح پونے دس بجے اڑان بھری۔لیکن ہندوستانی ائر فورس کے ائر ڈفنس نیٹورک کو فورا چالو کیا گیا اور دو مگ 21و تین صفوئی 30ایس جنگی جہازوں کو امنتی پورٹ اور سری نگر ائر بیس سے روانہ کیا گیا ۔کیونکہ دونوں ائر بیس نو شیرہ سیکٹر کے بے حد قریب ہے ۔پاک فوج کے تین جنگی جہاز ہندوستانی سرحد میں داخل ہوئے اور دو سے تین منٹ تک ہندوستانی زون میں رہے بھارت کے مگ 21سے اس کا سامنا ہوا ۔ذرائع کے مطابق پاک جنگی جہازوں کے نشانوں پر ہندوستانی فوج بریگیڈ ہیڈ کوارٹر اور تیل ڈپو تھا پاک جہازوںنے تین نان گائیڈڈ بم گرائے جو نشانے سے بہت دور گرے ویسٹن ائر کمانڈ کے ذرائع کے مطابق ایک مگ 21جہاز نے ہندوستانی سیکٹر علاقے کی حفاظت اور گھس پیٹھ کر رہے ایف 16-جنگی جہاز کا پیچھا کیا اور کچھ دیر بعد لوگوںنے ایف 16-جہاز کو پاکستانی علاقہ میں گرنے کی تصدیق کی لیکن پاکستانی پائلٹ کا کچھ پتہ نہیں چلا ۔ہندوستانی پائلٹ ابھینندن نے پاکستانی ایف 16-جنگی جہاز کو گرا کر دنیا میں تہلکہ مچا دیا ۔آج امریکہ سمیت کئی ملکوں میں ایف 16-کا خوف بنا ہوا تھا ۔مجھے اس سے 1965کی جنگ یاد آگئی ایسے ہی اس وقت امریکی تیار جہازسیورجیٹ کا ہوا کرتا تھا ۔لیکن ہمارے چھوٹے سے بھارت میں بنے جیٹ نے کئی سیور جیٹ مار گرائے ۔کمانڈر ابھینندن نے پاکستان کی ہوا تو نکال دی ساتھ ساتھ امریکہ کی بھی ہوا نکال دی ۔ روس کا اس پر خوش ہونا فطری ہے ۔اس سے چین کو بھی سندیش جاتا ہے ۔کہ بھارتی فوج کا رد عمل بلا تاخیر اور اثر دار ہوگا ۔2019کا بھارت1965-67کا بھارت نہیں ہے ۔

(انل نریندر)

01 مارچ 2019

جیش کی کمر توڑنے کےلئے بالا کوٹ میں آتنکی ٹھکانون کو تباہ کرنا ضروری تھا

پلوامہ حملے کے بعد سے ہی مودی سرکار پر دہشت گردوں اور انکے آقاو ¿ں کو جواب دےنے کا دباو ¿ تھا وقت کم تھا لےکن جوش مےں کوئی کمی نہےں تھی تمام اےجنسےوں نے آپسی اشتراک سے 10دن مےں ہی پاک پر بڑی کارروائی کی تےاری کرلی اور آتنکی تنظےم جےش محمد کے سب سے بڑے بالاکوٹ ٹھکانہ کو تباہ کردےا کارروائی مےں تےن نشانہ طے کئے گئے ۔مظفر آباد ،چکوٹی ،اور بالاکوٹ شامل ہےں حالانکہ ہندوستانی خفےہ اےجنسےوں نے پاک مقبوضہ کشمےر مےں 13آتنکی ٹھکانوں کی جانچ کی تھی ۔ےہ تھے کےل ،راہدی ،دومےال ،اتھےو کام ،زورا لےپا ،لاجوت ،چھٹلی ،نکےال ،مندھار وغےرہ ہےں ۔ان علاقوں مےں جےش کے کےمپ چل رہے تھے ۔بالاکو ٹ کو اسلئے چنا گےا کےوں کہ ےہ جےش کا سب سے بڑا ٹرےننگ ،لانچنگ پےڈ تھا بالاکوٹ مےں 500سو سے 700سو آتنکوادےوں کے رہنے اور سب طرح کی ٹرےننگ سہولت ہے اور کمپلکس مےں پانچ ستارہ رےزورٹ کی طرح سوئمنگ پل وغےرہ سہولےات تھےں ۔ےہاں ہتھےاروں کے ساتھ گھس پےڈ کےلئے ٹرےننگ دی جاتی تھی اور پاک فوج کے سابق افسران دہشت گردوں کو ٹرےننگ دےا کرتے تھے اور کئی بار جےش سرغنہ مسعود اظہر اور دےگر آتنکی دےکھے گئے ۔پاکستان کے صوبہ خےبر پختون خواہ کے مانداہےرا ضلع کی کاگان وادی مےں پہاڑ کے اوپر واقع ہے صبح ساڑھے گےا رہ بجے خارجہ سےکرےٹری وجے گوکھلے نے آپرےشن کی کامےابی کی جانکاری دےتے ہوئے بتا ےا کہ جےش بھارت مےں بڑے آتنکی حملے کی تےاری کرنے کےلئے بالاکوٹ مےں فدائن اسکاےڈ تےار کررہا ہے ۔آتنکےوں کا سب سے بڑا کےمپ ہونے کے علاوہ اس کے کےمپ کی لوکےشن اےلوسی سے آگے پاکستان سرحد مےں تھی ۔دہشت گردی پر کارروائی کا بڑا اواضح سندےش دےنا تھا ذارئع کے مطابق بالاکوٹ مےں ائےر فورس کی کارروائی کے درمےان مسعوداظہر کا سالا وجےش نے نمبر دو کا کمانڈر ےوسف اور اس کا بھائی ابراہےم اظہر کےمپ مےں موجود تھے حملے مےں ےہ دونوں ڈھےر ہوگئے ۔مار ے گئے دےگر سےنئر کمانڈر مےں مولانا طلحہ سےف مولانا مفتی اظہر خان مولانا عمار بھی شامل ہےں ذرائع کا تو ےہ بھی کہنا ہے کہ اس کےمپ مےں 42آتنکوادےوں کے ہےومن بم (سوسائڈ )تےار کئے جارہے تھے ۔پاک فوج کے رےٹائرڈ افسران کو ٹرےننگ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور بھارت کے نشانے پر مسعود اظہر تھا مسعود کو بار بار پاکستانی فوج کی حفاظت مےں الگ الگ ٹھکانوں پر رکھا جارہا تھا ۔پلوامہ حملے کی ذمہ داری لے چکا جےش نے ہی دسمبر 2001مےں پارلےمنٹ وجنوری 2016مےں پٹھان کورٹ حملے کا ذمہ دار تھا بالاکوٹ مےں مارا گےا مسعود کا بڑا بھائی او ربہنوئی کے مارے جانے کے ساتھ ہی پاکستان مےں جےش کی سےنئر لےڈر شپ اےک طرح سے ختم ہوگئی جےش کا دعوی ہے کہ ےوسف حملے کے وقت بالا کوٹ مےں نہےں تھا حملے مےں ہمارے مےراج جہازوں کے ذرےعہ کارروائی کا ابھی تک کوئی ثبوت پےش نہےں کےا ہے ۔لےکن بالاکوٹ کے قرےبی دےہات کے باشندے گھبرائے ہوئے ہےں ان کا کہنا ہے کہ رات مےں اچانک جہازوں کو آوازوں نے چونکا دےا اےسا لگا جےسے کہ ژلزلہ آگےا ہو ۔شہرےوں نے تصدےق کی کہ جس جگہ حملہ ہوا وہاں جےش محمد کا ٹرےننگ کےمپ تھا ۔نا م نہ بتانے کی شرط پر اےک شہری کا کہنا تھا کہ مےں اسی جگہ کا رہنے والا ہوں وہاں آتنکےوں کا ٹرےننگ کےمپ ہوا کرتا تھا ۔امرےکہ کے ذرےعہ پاکستان کے شہر اےبٹ آباد مےں اےکشن کے بعد جس مےں اسامہ بن لادن مارا گےا تھا اب ہندوستانی فوج کے حملے کے بعد لوگ اس مےں نگرانی سسٹم پر سوال اٹھارہے ہےں ۔در اصل ہندوستان فضائےہ فوج کی تےاری اتنی مکمل تھی کہ پاکستان کو اندازہ لگانا آسان نہےں تھا ۔انڈےن اےئر فورس نے روس کے دو ائے 50اواکس خرےد تھے اور راڈار سسٹم اورالکٹرونک سروےلانس کے لئے کافی اہم تھا بھارت نے جب اسے خرےداتھا اس وقت کے پاک کے رےٹائرڈ اےئر مارسل اےاض احمد نے کہا تھا کے بھارت کے سسٹم سے پاکستان کے اندر اور پاکستانی ہوائی زون کی مکمل حفاظت کرنا مشکل ہوجائے گا لگتا ہے کہ انڈےن ائےر فورس جہازوں کی انٹری کا پاکستان کو شاےد پتہ نہےں لگ سکا ۔کےونکہ اس جہاز نے پاکستان کے راڈار جام کردےئے ہونگے ۔اس پوری کارروائی کا سہرہ انڈےن ائےر فورس کے چےف بی اےس دھنوآ کو جاتا ہے جنہوں نے ائےر اسٹرائک کا متبادل پےش کےا اور اس پر عمل مےں اہم ترےن رول نبھاےا ۔انہےں اےسی کارروائےاں انجام دےنے کا اچھا تجربہ ہے اےک فاٹر پائلٹ کی شکل مےں ان کا 37برسوں کا تجربہ سرجےکل اسٹرائےک دو مےں بہت کام آےا ہم اےئر مارسل اور انکے تمام مراج جہازوں کے پائلٹوں اور ائےر فورس کو اس انتہائی کامےاب کارروائی پر بدھائی دےتے ہےں جے ہند ۔

(انل نریندر)

اروناچل پردیش میں آگ کیوں لگی ہوئی ہے؟

پچھلے کچھ دنوں سے اروناچل پردےش مےں آگ لگی ہوئی ہے مظاہرےن نے اتوار کو کرفےو کو نظر انداز کرتے ہوئے اےٹا نگر مےں اروناچل پردےش کے ےونا مےں واقع گھر کو آگ لگا دی دوپولےس تھانوں کو بھی آگ کے حوالے کردےا وہےں وزےر اعلی کی رہائش گاہ کی طرف بڑھ رہے مظاہرےن کو روکنے کےلئے پولےس کو گولی چلانی پڑی فائرنگ مےں دومظاہرےن کی موت ہوگئی ۔تشدد اور آگ زنی کے بعد اےٹا نگر اور ناہر لگون مےں فوج کو بلانا پڑا ہے دونوں جگہ بے مےعاد ی کرفےوں لگا دےا گےا تھا رےاست مےں انٹر نےٹ پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی ۔در اصل پورا معاملہ کےا ہے ؟اروناچل پردےش پہلے آسام رےاست کی ہی حصہ ہوا کرتا تھا اور 1987مےں اسے الگ رےاست کا درجہ ملا ۔نئے رےاست کے دوضلعوں ناب سانسی اور چھاگ لنگو مےں دہائےوں سے ان غےر اروناچلی برادری کے لوگ دباو ¿ ڈال رہے تھے کہ انکی آبادی قرےب بےس پچےس ہزار ہے ان کے پاس زمےن تو ہے کےوں کہ وہ اس پر دہائےوں سے بسے ہوئے ہےں لےکن ان کے پاس پی آر سی نہےں ہے جسکی وجہ سے کئی طرح کی انہےں پرےشانی اٹھانی پڑ رہی ہے ۔اروناچل سرکار نے مئی 2018مےں اےک مشترکہ اعلی اختےاراتی کمےٹی بنائی تھی جس کو ےہ طے کرنا تھا ان غےر اروناچلی برادرےوں کےلئے کےا راستہ نکالا جائے کمےٹی نے سفارش کی ہے کہ ےہ غےر اروناچلی 6فرقوں کوبھی رےاست مےں پی آر سی دی جائے اسکے احتجاج مےں طلبہ اور سےول سوئٹی سمےت رےاست کی کئی تنظےموں نے جمعرات کو سےنچر کت 48گھنٹوں کی بند کی اپےل کی تھی ۔بی جے پی کے نائب صدر تاور کے مطابق غےر اروناچلی لوگوں کو اگر پی آر سی ملتا ہے تو اس سے وہ کئی طرح کی پرےشانےوں سے بچ سکتے ہےں ۔اروناچل اےسٹ لوک سبھا سےٹ سے کانگرےس کے اےم پی ننونگ شرنگ کا بھی خےال ہے کہ اس پر غور کےا جاسکتا ہے ۔جبکہ مظاہرےن انجمنوں کا کہنا ہے کہ اگر سفارش مانی گئی تو مقامی مستقل باشندوںکو کے اختےارات پر منفی اثر پڑےگا۔سابق اسٹو ڈےنٹ لےڈر رتے مسومانےو نے کہا کہ اروناچل مےں پہلی ہی روز گار کا مسئلہ ہے تو اگر قبائلی برادرےوں کو پی آر سی دی گئی تو رےاست مےں دوسری برادرےوں کے برابر وہ ہوجائےں گے اور سارے حقوق انہےں بھی ملنے لگےں گے اس سے اروناچل لوگوں کو نقصا ن ہوگا ۔حالات پر نگران رکھنے والے تجزےہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اروناچل مےں تحر ےک نے تشدد کی خوفناک شکل اس وجہ سے لے لی ہے کےوں نے پےماکھانڈو نے شہر ےت ترمےمی بل کی بھی حماےت کی تھی جبکہ منی پور کے وزےر اعلی نے بی جے پی کے ہو تے ہوئے بھی اس بل کی مخالفت کی تھی وہےں مرکزی وزےر مملکت داخلہ کرن رججو نے کا نگرےس پر اروناچل مےں ہورہے چھ فرقوںکو مستقل رہائش سرٹےفکٹ دےنے کےخلاف مظا ہرہ کےلئے لوگوں کو بھڑکانے کا الزال لگاےا شروع سے ہی سرکار سے د ر خو ا ست کی ہے کہ مقامی لوگوں کی حقوق کی مکمل حفاظت ہونے سے پہلے پی آر سی نہےں دےنا چاہئے ۔

(انل نریندر)

28 فروری 2019

شہیدوں کی تیرھویں سے پہلے گھر میں گھس کر بدلہ لیا

پلوامہ کا بدلہ مانگ رہے دیش واسیوں کی مراد شہیدوں کی تیرھویں سے پہلے پوری ہو گئی ۔انڈین ائر فورس نے پاکستان اور ان کے پالتو کتوں سے ایسا بدلہ لیا جسے وہ تمام زندگی نہیں بھول سکتے ہندوستانی فضائی فوج کے مراج بم باروں نے پہلی مرتبہ بین الا اقوامی سرحد پار کر پاکستان کے اندر بالا کوٹ میں جیش محمد کے سب سے بڑے فائب اسٹار بیس کیمپ کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔انڈین ائر فورس نے صبح سویرے(جے بجرنگ بلی ) 3:30بجے پاکستان کے مقبوضہ کشمیر اور خیبر پختون خواہ صوبے میں اندر گھس کر ائر اسٹرائک کیا تھا ہندوستان کے 12جنگی مراج جہازوں نے بالا کوٹ،چکوٹی،اور مظفرآباد میں جیش محمد کے ٹھکانوں کو 21منٹ تک چلے حملے میں تباہ کر دیا ۔سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے سارے بارہ جنگی جہاز محفوظ کارروائی کر کے لوٹ گئے پاکستان کئی دنوں سے کہہ رہا تھا کہ ہم ہائی الرٹ پر ہیں اور پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ۔پاک کا ہائی الرٹ دھر ا دھرایا رہ گیا ۔1971کی جنگ کے بعد ہندوستانی ائر فورس کی یہ پہلی کارروائی یاد رہے گی ہم نے دشمن کے گھر میں گھس کر مارا ہے ہماری لڑائی دہشتگردی سے ہے نہ کہ پاکستان سے جو ٹارگیٹ چنے گئے وہ آتنکوادیوں کے گڑھ تھے پاکستان کو تو الٹا ہمارا شکر گزار ہونا چاہیے ہم نے وہ کام کر دیا جو انہیں کرنا چاہیے تھا ۔جو وہ کر نہیں پا رہا تھا یہ سال 1971کے بعد پاکستان کے خلاف سب سے بڑی کارروائی تھی پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے بھی 65کلو میٹر اندر جیش کے ٹھکانوں پر ہمارے جہازوں نے 1ہزار کلو سے زیادہ وزن کے چھ بم گرائے۔اوریہ کارروائی 21منٹ میں پوری ہو گئی اور سبھی جہاز محفوظ لوٹ آئے اس کارروائی میں 350آتنکی اور ان کے ٹرئینر مارے گئے ۔پاکستان کی وہ دھمکی کی ہم نیوکلیائی بم سے کارروائی کو بھی بے نقاب کر دیا ۔پاکستان کی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں پاک نے ضرور بھارت سے بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی لیکن واقف کاروں کے مطابق پاکستان کی خستہ مالی حالت نے بھی کسی جوابی کارروائی کے متبادل محدود کر دئے ہیں ایسے میں پاکستان نے منگلوار کو کنٹرول لائن پر فائرنگ کی جس میں پانچ ہندوستانی جوان زخمی ہوئے بھارت نے نہ صرف فوجی جواب دیا ہے بلکہ پاکستان کو آج دنیا میں الگ تھلگ کر دیا ہے ۔اس حملے کے بعد کوئی بھی دیش کھل کر ہمایتی سامنے نہیں آیا ہے ۔یہاں تک کہ چین نے بھی پاکستان کی ہمایت نہیں کی پلوامہ حملے کے جواب میں بھارت کی طرف سے کی گئی کارروائی کے کچھ دیر بعد دیش کے اندر موجود تمام ملکوں کے سفارتکاروں کی فیڈریشن نے بیان جاری کر بھارت کے قد م کو پوری طرح سپورٹ کیا وزیر خارجہ سشما سوراج نے امریکہ،چین،سنگاپور،بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہم منصب سربراہوں سے بات کی اور سرجیکل اسٹرائک کے بارے میں انہیں بتایا انہوںنے امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو سے جیش کے ٹھکانوں پر کارروائی کی ضرورت کو مفصل سے بیان کیا ۔اور چین کے وزیر خارجہ سے بھی اسی طرح سے واقف کرایا ۔یہ پوری طرح غیر فوجی اور خدشات کے پیش نظر کی گئی کارروائی ہے ۔بالا کوٹ پاکستان کے فوجی ہیڈ کوارٹر راول پنڈی سے ذرا دور نہیں ہے جہاں پر امریکی فوجیوںنے اسامہ بن لا دین کو مار گرایا تھا ۔پاکستان کو یہ سمجھ میں آنا چاہیے کہ اگر بھارت کے جنگی جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے بالا کوٹ تک پہنچ سکتے ہیں تو راول پنڈی بھی ان کی پہنچ سے دور نہیں ہے ۔نیوکلیائی بم کا استعمال کرنے کی دھمکی کام آنے والی نہیں ہے ۔بالا کوٹ میں جس آتنکی اڈے کو ملیہ میٹ کیا گیا ویسے تمام اڈے پاکستانی فوج کی سرپرستی اور ہمایت سے ہی چلتے ہیں ائر فورس کا حملہ بھارت کے مضبوط قدم اور یہ کارروائی ہندوستانی قیادت کی قابلیت ،طاقت،قوت ارادی ،کا جیتا جاگتا ثبوت اور شہید جوانوں کا بدلہ ہے ۔بھارت نے صاف کر دیا ہے کہ اس قدم کو آخری نہ مانا جائے پاکستان آگے بھی پلوامہ جیسی حرکت کرنے کی جرت کرتا ہے تو بھارت کی طرف سے زیادہ ہی جارحانہ طریقہ اختیار کیا جائے گا ۔بھارت نے تازہ حملے سے امریکہ کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ وہ پاکستان کی زیادہ طرف داری نہ کرئے اور خوش آمدی کی پالیسی نہ اپنائے ورنہ بھارت کے اس کے رشتوں پر بھی اثر پڑئے گا یہ بھارت بھولا نہیں کہ ہر آتنکی حملے کے بعد ہم نے امریکہ کو تمام ثبوت دئے جواب میں صرف اس کی طرف سے خانہ پوری ہی دکھائی گئی ہے ۔اب امریکہ کو بھی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ اگر وہ پاکستان کے خلاف تقریر بازی کرئے گا اور کوئی کارروائی نہیں کرئے گا تو بھارت پاکستان کو سخت جواب دینے میں اہل ہے ۔اس یک دم فوجی کارروائی میں اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے نہ تو پاکستان کے رہائشی علاقوں میں بم برسائے اور نہ ہی ان کے فوجی اداروں کو نشانہ بنایا ہم نے صرف وہی کیا جو ایک جواب دہ خود مختار ملک کو کرنا چاہیے پلوامہ حملے کے بعد پاک کی سرحد میں گھس کر سرجیکل اسٹرائک ٹو کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی جارحانہ انداز میں نظر آئے اور آنا بھی چاہیے تھا انہوںنے یہ کارنامہ انجام دیا جس کی دیش کو 14فروری کے پلوامہ حملے کے بعد سے انتظار تھا ۔وزیر اعظم مبارکباد کے مستحق ہیں انہوںنے زبردست قوت ارادی اور پختہ قیادت کا ثبوت دیا پوری کارروائی کو مودی دیکھتے رہے اور رات بھر جاگ کر پورے آپریشن پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔اور تبھی آرام کرنے گئے جب سبھی جہاز اور پائلٹ محفوظ لوٹ آئے اب اگر پاکستان بھارت کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کرئے گا تو یہی پیغام جائے گا کہ وہ دہشتگردی کو نہ صرف پالتا پوستا ہے بلکہ اسے سرکاری سرپرستی بھی دیتا ہے اور اس کا پالنہار ہے ۔یہ بہت تسلی کی بات ہے پورے دیش کے ساتھ پوری اپوزیشن نے ائر فورس کے اس بیان کی ہمایت کی اور سرکار کو پوری طرح سے سپورٹ دیا ۔چالیس کے بدلے 400سو مارے ہیں انڈین ائر فورس کے جانباز پائلٹوں کو آج پورا دیش سلام کرتا ہے ۔جے ہند

(انل نریندر)

27 فروری 2019

آتنکی کا سر لاﺅ اور ووٹ لے جاﺅ

کسی نے اپنا شوہر کھویا تو کسی نے اپنا بیٹا کھویا یا پتا جناب ہم نے تو اپنا وہ جوان کھو دیا جو ہماری حفاظت کے لئے دن رات بارڈر پر تعینات تھا ۔کچھ اس طرح سے تمام دیش واسیوں کا درد چھلک رہا ہے ۔جموں وکشمیر کے پلوامہ سے سی آر پی ایف کے جوانوں پر ہوئے آتنکی حملے کے بعد سے ہی دیش کا بچہ بچہ بدلے کی مانگ کر رہا ہے اس کا ایک نظارہ ان دنوں ہم جنتر منتر سے لے کر انڈیا گیٹ تک دیکھ چکے ہیں ۔پندرہ دن گذرنے کے بعد اب سرکار نے پاکستان پر دوسرا سرجیکل اسٹرائک کر دیا ہے امید ہے کہ لوگوں کی مانگ پوری ہونے سے ان کی ناراضگی دور ہوگی کیونکہ وہ کہہ رہے تھے کہ آتنکی کا سر لاﺅ اب بدلے میں ووٹ پاﺅ ۔لوگوں کی بڑھتی ناراضگی سے صاف تھا کہ وہ اس بار صرف سرکار کی یقین دہانیوں پر مطمئن نہیں ہونے والے تھے اس بار سر بدلے سر چاہیے ووٹ پانے ہیں تو آتنکی کا سر لان ہی پڑئے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ آنےوالے لوک سبھا چناﺅ میں وہ مودی سرکار کے خلاف کہیں ووٹ نہ ڈال دیں یا پھر نوٹا کا بٹن دبا دیں ؟ہر بار ہمارے جوانوں پر آتنکی حملہ کیوں؟ہر بار ہی ہمارے جوان ہی شہید کیوں ؟ا س بار پاکستان کو منھ توڑ جواب دینے کا صحیح وقت ہے اور یہ موقع سرکار کو چھوڑنے کی بڑی قمیت چکانی پڑ سکتی ہے ۔اگر سرکار اب بھی لیپا پوتی کرتی رہی تو لوک سبھا چناﺅ میں جنتا حکومت کو سبق سکھا سکتی ہے ۔محض یقین دہانیوں یا تقریروں سے ہمارے جوان واپس نہیں آئیں گے اور نہ ہی ہمارے خون کے پیاسے یہ آتنکی رکنے والے ہیں ۔اب تو مرکزی کیبنٹ کی میٹنگ میں بھی کچھ وزراءنے وزیر اعظم کی موجودگی میں تشویش جتائی تھی کہ اگر پاکستان سے جلد بدلہ نہیں لیا گیا تو لوک سبھا میں اس کی سیاسی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے ۔وزیر اعظم نے اپنی تقریروں میں دیش بھر میں پاکستان میں پھیلی ناراضگی کا بھی ذکر کیا ۔اور وعدہ کیا تھا کہ ایک ایک آنسو کا بدلہ لیا جائے گا حالانکہ کچھ وزراءسنئیر وزرا نے کیبنٹ کی میٹنگ میں کوئی جلد فیصلہ نہیں لیا گیا تو یہ غصہ مایوسی میں بدل سکتا ہے ان وزراءنے مانا کہ فی الحال کانگریس سمیت اپوزیشن چپ ہے لیکن چناﺅ قریب آتے ہی سرکار پر حملہ بولیں گی ۔اور پوچھیں گی کہ کیا کہ سرکار کہ خفیہ نیٹ ورک کی ناکامی کا نتیجہ ہے ؟اتنی زیادہ مقدار میں آر ڈی ایکس آتنکوادیوں کے پاس کیسے پہنچا ؟اور سال بھر میں اتنی بڑی تعداد میں آتنکوادیو ں کو وادی میں مارنے کے بعد بھی دہشتگردی کیوں نہیں تھم رہی ہے؟محبوبہ مفتی کے ساتھ سرکار بنا کر بی جے پی نے کیا حاصل کیا؟ دہشتگردی کو روکنے و کشمیر ی نوجوانوں کو مکھیہ دھار امیں لانے کے لیئے کیا قدم اُٹھائیں ؟جیسے دوا کی شیشیوں پر معیاد درج ہوتی ہے تاریخ گذر جائے تو وہ دوا بھی زہر بن جاتی ہے یہی بات لاگو ہوتی ہے پاکستان کے سامنے بھارت کے صبر کی اس کی معیاد گزرے بھی زمانہ ہو گیا ہے اب یہ صبر زہر ہوتا جا رہا ہے ۔ہمیں اب مثبت رخ نہیں جارہانہ اپنانا ہوگا ۔بس اور نہیں اب پتا چلا ہے کہ ہماری فوج نے پاکستان میں آتنکیوں کے کیمپوں پر حملہ کر دیا ہے جس میں متعدد کیمپ اور آتنکی مارے گئے ہیں بھارت سرکار کے اس قدم سے لوگوںکو مودی سرکار کے تئیں تسلی ہو سکے گی ۔

(انل نریندر)

آدیواسیوں پر لٹکی بے دخل ہونے کے حکم کی تلوار

سپریم کورٹ کے اس حکم سے دیش میں قریب 12لاکھ آدیواسیوں اور ون واسیوں کے اپنے گھر وں سے بے دخل ہونا پڑ سکتا ہے ۔دراصل عدالت عظمی نے سولھ ریاستوں کے قریب 11.8لاکھ آدیواسیوں کے زمین پر قبضے کے دعووں کو مستر د کرتے ہوئے حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے قوانین کے مطابق ان سے اپنی زمینیں خالی کرائیں ۔ جسٹس ارن مشرا ،نوین سنہا ،اور اندرا بنرجی کی بنچ نے سولھ ریاستوں کے چیف سیکر یٹر یو ں کو حکم دیا ہے کہ وہ بارہ جولائی سے پہلے حلف نامہ داخل کر بتائیں طے میعاد میں زمین خالی کیوں نہیں کرائی گئی ؟دراصل بڑی عدالت نے ان آدیواسیوں اور جنگلی باشندوں کے دعوں کو اس لئے بھی خارج کیا کہ وہ لاکھوں ہیکٹیر زمین پر ناجائز قبضہ کئیے ہوئیے ہیں ۔یہ فیصلہ ان کے لئیے جھٹکا تو ہے ہی ،یہ محروموں کے حق کی لڑائی کے معاملے میں ہمارے غیر ہمدردانہ ریاکارڈ کی ایک اور مثال بھی ہے قریب 80سال بعد 2006میں آدیواسیوں اور ون واسیوں کو جنگلاتی حق ایکٹ کے طور پر ایک ایسا قانون ملا تھا جو انہیں جنگلوں میں رہنے کا حق فراہم کرتا تھا ۔قانون کو فطری ہی طور پر ائین کی پانچویں اور چھٹے سیکشن کی توسیع مانا گیا تھا ۔جس میں آدیواسیوں کے مفاد محفوظ ہیں ۔برادری معاملوں کی وزارت کے ذریہ اکٹھے اعداد شمار کے مطابق 30نومبر2018تک دیش بھر میں 19.39لاکھ دعوں کو خارج کر دیا گیا تھا ۔اس طرح سپریم کورٹ کے حکم کے بعد قریب 20لاکھ آدیواسی ون واسیوں کو جنگل کی زمین سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو لاکھوں کنبوں کو جنگلاتی زمین سے ہٹانے کا سخت حکم پاس کرنا پڑا جس پر عمل ہوا تو بڑی تعداد میں لوگوں کو اس زمین سے باہر نکلنا ہوگا ؟دراصل اس قانون کے پاس ہونے کے ساتھ ہی ان عناصر نے اس کی مخالفت شروع کر دی تھی جن کے مفاد ات اس سے متاثر ہونے والے تھے ۔ضروری تو یہ ہے کہ جنگلوں میں جو مافیاﺅں کا قبضہ ہے انہیں ہٹایا جائے اور محروم خاندانوں کو بسایا جائے ۔یہ غلط نظریہ ہے جنگلاتی زمین میں رہنے والے جنگل کو تباہ تو کرتے ہی ہیں بلکہ دیش دنیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ وہ وہی جنگل کی حفاظت کرتے ہیں ہمارے نکسلی مسئلے کی ایک وجہ جنگلوں میں بسے لوگوں کی مسائل کے بارے میں نہ آشنائی ہے ۔مرکزی سرکار کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ جنگلاتی زمینوں سے نکلنے والے لوگوں کی اعداد شمار ملنے کے بعد ہی وہ قدم اُٹھایں گی ۔اسے جلد ہی اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے کیونکہ اس معاملے میں لا پرواہی سے ان آدیواسیوں اور ون واسیوں کے وسیع پیمانے پر بے گھر ہونے کا سامنا کر نا پڑئے گا ۔ان کی دوبارہ بساست کے مسئلے پر ہمار ا ریکارڈ پہلے سے ہی خراب ہے مرکزی وزیر جنگلات و ماحولیات ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ دیش بھر میں دس لاکھ سے زیادہ آدیواسیوں جنگلی لوگوں کو زمین سے بے دخل کرنے کے اشو کو ہمددردانہ انداز میں دیکھا جا نا چاہیے ۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف کانگریس صدر راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کو نظر ثانی عرضی دائر کرنے کو کہا ہے ۔

(انل نریندر)

26 فروری 2019

ملائم سنگھ یادوکو گٹھ بندھن پر غصہ کیوں آیا؟

بھاجپا کو اترپردیش میں مات دینے کے مقصد سے سماج وادی پارٹی اور بھوجن سماج پارٹی نے سیٹیوں کے بٹوارے میں ایک دوسرے کے سرکا احترام کرتے ہوئے پوری طرح سے تال میل بٹھانے کی کوشش کی ہے ۔نمبر دو والی سیٹوں کے فارمولے کو پوری طرح نافذ نہ کرتے ہوئے سیٹوں کی ادلا بدلی ہوئی ہے ۔کوشش یہ رہی کہ ریاست کے چاروں حصوں میں دونوں پارٹیوں کی دم دار موجودگی تو نظر آئی ہی ساتھ ہی ہر منڈل میں سپا بسپا دونوں کے امیدوار لڑتے نظر آئے کسی بھی خاص حلقہ میں کوئی بھی پوری طرح غیر موجود نہ ہو اب 38سیٹوں پر بسپا ،37پر سپالڑے گی ۔دو سیٹ کانگریس کے لئے چھوڑی گئیں ہیں ۔اس سے پہلے بسپا کے ساتھ اتحاد سے خفا سپا کے سرپرست ملائم سنگھ یادو نے امیدوار طے نہ ہونے پر سپا صدر اکھلیش یادو کو نصیحت دی تھی اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اکھیلش آپ اپنی ہی پارٹی کو ختم کر رہے ہیں ۔اس کے محض ایک گھنٹے بعد سپا بسپا کے درمیان 75سیٹوں کا بٹوارہ کرتے ہوئے پوری فہرست جاری کر دی ۔پانچ سیٹوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ان میں امیٹھی ،رائے بریلی سیٹ کانگریس کو باغپت ،مظفر نگر،متھرا سیٹ راشٹریہ لوک دل کے لئے چھوڑی گی ہے ۔اسی کے ساتھ ریاست میں تکونی چناﺅی مقابلہ کا میدان تیار ہو گیا ہے ۔ملائم نے کہا کہ مایاوتی کے ساتھ تال میل کر آدھی سیٹیں کیوں دی گیں ہماری پارٹی زیادہ مضبوط ہے ہم آرام سے 80سیٹوں پر مضبوطی سے لڑ سکتے تھے ۔لیکن ہمارے لوگ ہی پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں ۔ایک وقت تو ہم اکیلے لڑ کر ہی 39لوک سبھا سیٹیں جیت چکے ہیں ۔سپا ہیڈ کوارٹر میں ملائم کی ان کھری کھری باتوں سے جو ش میں نظر آئے اس سے کچھ ہی دیر پہلے اکھلیش یادو نے ہاردک پٹیل کے ساتھ کانفرنس کر رہے تھے تبھی ملائم اچانک پارٹی کے دفتر آگئے اب ملائم کے ساتھ اکھلیش پورے کانفرنس میں آکر بیٹھ گئے اور بولنا شروع کر دیا تو اکھلیش کو تھوڑی سی پریشانی ہونے پر اُٹھ کر چلے گئے ملائم نے کہا کہ پارٹی نے تین بار اکیلے سرکار بنائی ہے اپنے دم پر یہاں تو لڑنے سے پہلے ہی آدھی سیٹیں دے دی گئی ہیں ۔بتادیں کہ اسمبلی چناﺅ 2017تک ہوئے جب مرکز میں بھاجپا سرکار تھی تب سپا نے 310سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے باقی سیٹیں کانگریس کو دے دی تھیں سپا نے اپنے بوتے پر 47ممبر اسمبلی چنوا لئے لیکن کانگریس کے 114سیٹوں پر صرف 7ہی امیدوار جیت سکے تب بھی مانا گیا تھا کہ سپا کو کانگریس سے اتحاد کرنے کے بجائے نقصان ہوا ہے ۔سپا کو اس چناﺅ میں کل 28.32فیصد ووٹ ملے جبکہ بسپا کو 403سیٹوں پر 19امیدوار ہی جتانے میں کامیابی ملی دو فیصد بھی سپا سے کم 22.23فیصد ووٹ ملے تھے مسلم ووٹروں کی اکثریت والی اترپردیش کی 25سیٹوں میں سے 13بسپا کو اور دس سپا کے اجتمائی جبکہ ایک سیٹ مظفر نگر راشٹریہ لوک دل کے کوٹے میں آئی ہے ۔سپا کو پوروانچل کا بڑا حصہ ملا ہے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ کانگریس اس گٹھ بندھن میں فٹ ہوتی ہے یا نہیں اسے اپنے بل پر چناﺅ لڑنا پڑئے گا ۔خیر ابھی تو لوک سبھا چناﺅ ہے ۔دیکھنا ہے کہ عام چناﺅ میں بسپا سپا اتحاد اپنا کتنا کرشما دکھا پاتا ہے۔

(انل نریندر)

پورا دیش صدمے میں تھا پی ایم فلم کی شوٹنگ میں تھے مصروف

پلوامہ حملے کو لے کر اب تک سیاسی سوال اُٹھانے سے بچ رہی کانگریس نے اب اپنے ترکش سے تیر چلانے شروع کر دئے ہیں ۔کانگریس نے پی ایم مودی پر ایک سنگین الزام لگایا ہے کانگریس کے ترجمان رندیپ سورجیوالا نے ایک پریس کانفرنس میں تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت ہمارے جوانوں کی شہادت سے دیش صدمے میں تھا اسی وقت اتراکھنڈ کے جم کواربیٹ پارک میں پی ایم مودی فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے کیا کوئی میں کوئی ایسا پی ایم ہے ۔انہوںنے کہا کہ 14فروری کو دوپہر 30:10بجے آتنکی حملہ ہوا تھا جس میں 40جوان شہید ہو گئے یہ خبر پورے دیش میں آگ کی طرح پھیل گئی لیکن پی ایم مودی شام پونے سات بجے تک کچھ نہیں بولے سورجیوالا نے کہا کہ یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ میڈیا کی پل پل کی رپورٹ بتاتی ہے ۔کانگریس نے کہا کہ پاکستان اعلانیہ دہشتگردی کے خلاف لڑائی میں سرکار کو پورا سمرتھن ہے لیکن اگر وزیر اعظم شہید جوانوں کو بھول کر فلم کی شوٹنگ یا سیر کو بیرونی ملک جائیں گے تو وہ ضرور سوال پوچھے گی ۔پارٹی نے پلوامہ خفیہ میں خامیوں پر سوال پوچھتے ہوئے الزام لگایا کہ سرکار ی خرچ سے سیاسی پروپگنڈے کے لئے اس واقعہ کے بعد قومی سوگ اعلان نہیں کیا گیا ۔شہید جوانوں کو دہلی میں شردھنانجلی دینے کے لئے وزیر اعظم ائیر پورٹ پہ ایک گھنٹے دیر سے اس لئے پہنچے کہ وہ جھانسی میں پرچار کرنے کے بعد اپنے گھر گئے پلوامہ واقعہ کے بعد پردھان منتری کو سیکورٹی امور کی کیبنٹ میٹنگ کرنی چاہئے تھی۔تب انہوںنے چار گھنٹے کوربریٹ پارک میں ڈسکوری چینل کی فلم کی شوٹنگ اور سیاسی کمپین و مہمان نوزای میں بتائے ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو پی ایم کہہ کر طنز کیا اور کہا کہ جب لوگ پلوامہ کے شہیدوں پر آنسوبہا رہے تھے مودی ہنستے ہوئے فوٹو شوٹ کرانے میں مصروف تھے ۔راہل گاندھی کے اس ٹوئٹ کے بعد کانگریس ترجمان منیش تواری نے پی ایم پر حملہ کرتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ مودی پلوامہ حملے کے فورا بعد کیا کر رہے تھے ؟دو گھنٹے بعد اتراکھنڈ کے رودر پور ضلع میں ریلی کو خطاب کرنے کے دوران حملے و اس کے متاثرین کا ذکر کرنے میں کیوں نا کام رہے ؟ہم وزیر اعظم سے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ سہہ پہر 3:10بجے جب پلوامہ میں حملہ ہوا تب سے پانچ بج کر دس منٹ کے درمیان کیا کر رہے تھے ؟چار چالیس بجے انہوںنے موبائل فون سے ایک ریلی کو خطاب کیا کانگریس نے سوال کیا کہ کیا پی ایم وزیر داخلہ اور این ایس اے پلوامہ کو خفیہ مشینری کی ناکامی کی شکل میں قبول کرنے کی ہمت دکھائیں گے ؟مقامی آتنکیوں کے پاس اتنی بڑی تعداد میں بارودی سامان اسلحہ ،راکٹ لانچر جیسے آلات کیسے ہاتھ آگئے ؟کیا گاڑیوں کو چیک کرنے کے پروٹوکول کا پلان نہیں تھا ؟کیوں واقعہ سے پہلے جاری کئے گئے جیش کے ویڈیو کو نظر انداز کیا گیا ؟کیا جموں وکشمیر پولس نے 8فروری کو جو اطلاع دی تھی اسے نظر انداز کیا گیا ؟سرکار کو یہ جواب دینے ہوں گے ۔

(انل نریندر)

24 فروری 2019

گانجہ ،بھانگ کی لت میں پھنستا بھارت

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز گرو جمیشور یونیورسٹی (حصار)میں منعقدہ ڈرگس فری انڈیا کمپین پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوجوانوں کو ڈرگس کے استعمال سے دور رہنا چاہیے کیونکہ ڈرگس کے استعمال سے نہ صرف جسمانی و ذہنی اور مالی طور سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں بلکہ جانے ان جانے میں دیش میں پنپ رہی منفی طاقتوں کی مدد بھی کرتے ہیں ڈرگس کا مسئلہ ملک میں خوفناک ترین شکل اختیار کرتے جا رہا ہے منشیاتی چیزوں کے استعمال پر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس )کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے دیش کی منشیاتی لت کی تصویر سامنے آئی ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین کروڑ سے زیادہ لوگ لڑکے لڑکیا ں دن میں چار سے چھ مرتبہ بھانگ ،چرس،اور گانجے کا استعمال کرتے ہیں جبکہ 16کروڑ لوگ شراب کے عادی ہیں مرکزی سماجی انصاف و تفویض اختیارات وزارت اور ایمس کے اشتراک سے تیار اس رپورٹ کو محکمہ کے وزیر تھاور چند گہلوت نے پیش کیا ہے ۔اس رپورٹ کی بنیاد پر دیش کو نشہ سے نجات دلانے کے لئے مرکز سبھی ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایکشن پلان تیار کرئے گا تازہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ دیش کی کتنی بڑی آبادی نشے کی عادی ہو چکی ہے ۔اور یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔ڈاکٹر انتل آبے کے مطابق شراب کے بعد بھانگ ،گانجہ اور چرس کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے ۔دس برس تک کی عمر کے معصوموں میں اس کی لت ہے دیش میں تین کروڑ دس لاکھ لوگ اس کی زد میں ہیں جن میں سے 72لاکھ لوگوں کو فورا علاج کی ضرورت ہے ۔اترپردیش ،پنجاب،سکم،چھتیسگڑھ کے علاوہ دیش کی راجدھانی دہلی میں ان نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنے والے سب سے زیادہ لوگ ہیں دہلی والے سب سے زیادہ شراب پیتے ہیں یہاں 21فیصد لوگ شراب پینے کے شوقین ہیں پورے دیش کے مقابلے میں 5فی صد زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے شراب کے بعد 3.5فیصد دہلی والے چرس،گانجہ کی لت کے شکار ہیں ۔تشویش کی بات یہ ہے کہ شراب کی لت کے شکار چھ فیصد کو فوری علاج کی ضرورت ہے لیکن 38میں سے صرف ایک فیصد لوگوں کو ہی علاج مل پاتا ہے ۔نارتھ ایسٹ انڈیا میں افیم کی گولیوں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے سکم اروناچل پردیش ،ناگا لینڈ ،منی پور،اور میزورم سمیت دیگر ریاستوں میں قریب دو کروڑ لوگ افیم ،اور ہیروئن اور ڈوڈا جیسی نشہ آور چیزوں کو لے رہے ہیں ۔پچھلے دنوں زہریلی شراب کے پینے سے بہت سی زندگیاں اور کنبے تباہ ہو گئے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ڈرگس کے استعمال سے آتنکوادیوں کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں اور نشے کے کاروبار کو دیش دشمن اور سماجی حرکتوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔حکومت ہند کے ذریعہ سرحد پار سے نشہ کے نا جائز کاروبار اور ڈرگس کاروبار کو روکنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان لاگو کیا جا چکا ۔ڈرگس ایڈیشن کے خلاف مفصل حکمت عملی پلان بن رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے لوگوں سے اپیل کی ڈریگس کے عادی لوگوں وک مجرم کی طرح نہ دیکھیں اور ان کے تیں ہمدردانہ رویہ اپناتے ہوئے انہیں نشے کی عادت سے چھٹکارا دلانے میں معاونت کریں ۔

(انل نریندر)

دہشتگردی ،کرفیو نے تباہ کی جموں و کشمیر کی معیشت

دہشتگردی نے جہاں پورے دیش کو متاثر کیا ہے وہیں جموں وکشمیر کی معیشت کو تو بالکل تباہ کر دیا ہے پچھلے تیس برسوں میں دہشتگردانہ سرگرمیوں کے چلتے ریاست کو 4.55لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے ۔مرکزی سرکار دیش کی جی ڈی پی کا دس فیصدی حصہ یہاں خرچ کرتی ہے ،باوجود اس کے جموں و کشمیر میں دہشتگردی اور بے روزگاری دونوں ہی بڑھی ہیں ایسا تب ہوا ہے جب پچھلے 18 برسوں میں جموں و کشمیر میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے مرکز نے مدد رقم میں 55 فیصد کا اضافہ کیا ہے ۔جموں و کشمیر ہی ایک ایسی اکلوتی ریاست ہے جہاں اوسطا 80 فیصد سے بھی زیادہ رگرانٹ مرکز کی طرف سے کسی ریاست کو اس کے ڈولپمینٹ کے لئے ملی ہے باقی ریاستوں سے تیس فیصدی زیادہ ہے فی شخص کے حساب سے بات کریں تو جموں و کشمیر کے لوگوں کو سرکار باقی ریاستوں کے مقابلے میں 8گنا زیادہ رقم دیتی ہے ۔جموں و کشمیر میں میڈیا رپورٹ کے مطابق پانچ لاکھ سے زیادہ سیکورٹی فورس تعینات ہے کچھ ڈیفنس ماہرین کا دعوی ہے کہ اتنی فوج تعینات نہیں ہے ۔ریاست میں فوجیوں کی تعداد2,10,800بتائی جاتی ہے ۔تیس سال کے دہشتگر دی نے جموں و کشمیر کی معیشت الگ الگ سے تباہ کر دی ہے ۔1988میں 7لاکھ سے زائد لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔سیاحت کو تو ایک طرح سے تباہ کر دیا ہے ۔1988میں سات لاکھ سیاح جموں وکشمیر آئے تھے 1989میں تشدد کا دور شروع ہوا تو یہ تعداد 6,287رہ گئی ۔بیچ میں جب حالات تھوڑے بہتر ہوئے تو سیاحوں کی تعداد 27,356تھی۔2012میں ریکارڈ 13 لاکھ سیاح ریاست میں آئے ۔30سال میں کرفیو ،مظاہرے اور ہڑتال سے کشمیر میں 1796دن بند رہا ۔ 1991میں سب سے زیادہ 207دن 2016میں130دن بند رہا ۔ان بند سے کشمیر کو 250کروڑ روپئے کے محصول کا نقصان ہوا ۔2016میں 51دن کے مکمل بند سے 10500کروڑ روپئے کا نقصان اُٹھانا پڑا ۔جموں وکشمیر کی معیشت میں اہم کردار نبھانے والے ٹورزم سیکٹر کی بھی حالت خراب ہو چکی ہے ۔جہاں 1989میں دہشتگردی کے دور سے پہلے ریاست کی جی ڈی پی میں ٹورزم سیکٹر کا دس فیصدی سے زیادہ اشتراک ہوتا تھا پچھلے تیس برسوں میں یہ بڑھنے کی جگہ اوسطا چھ فیصدی پر آگیا ۔اس کی وجہ دہشتگردی کے چلتے دیسی و غیر ملکی دونوں ہی سیاحوں کا وادی سے منھ موڑ لینا ہے ۔جنوری 2019میں جموں وکشمیر میں بے روزگاری شرح 21فیصدی رہی جو دیش میں ترپورا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے ۔18سے 29عمر کے طبقے میں 24.6بے روزگار ہیں ریاست میں سالانہ2.74فیصد ی لاکھ آبادی بڑھ رہی ہے ۔2007میں یہ تعداد 1.68فی صد تھی جموں میں نئے بجنس شروع نہیں ہو پا رہے ہیں ۔جموں و کشمیر میں صرف 86بڑی اور درمیانے درجے کی صنعتیں ہیں اس میں 19314 لوگوں کو ہی روزگار ملا ہوا ہے ۔وادی میں 30120چھوٹے صنعتی کاروبار ہیں ۔ان میں 142307لوگوں کو روزگار ملا ہوا ہے لیکن چھوٹے درمیانے اور بڑی صنعتوں کے دھندے نے گزشتہ دس برسوں میں صرف پانچ ہزار نوکریاں ہی دی ہیں ان اعداد شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دیش اور جموں و کشمیر ریاست کو دہشتگردی کی کتنی قیمت چکانی پڑ رہی ہے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...