Translater

03 جنوری 2015

بڑھنے لگی ہیں رابرٹ واڈرا کی مشکلیں!

سونیا گاندھی کے داماد اور پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ واڈرا زمین گھوٹالے میں پھنستے جارہے ہیں۔ دونوں ہریانہ اور مرکزی سرکار ان پر شکنجہ کسنے لگی ہے۔ ان کے زمین سے جڑے معاملے کی جانچ کررہے ہریانہ سرکار کے دو افسروں کی کمیٹی نے پایا ہے کہ جس وقت واڈرا کو گوڑ گاؤں کے شکوہ پور میں متنازعہ زمین ملی تھی اس وقت ان کی کمپنی اسکائی لائٹ ہاسپیٹالٹی کے پاس حد سے زیادہ زمین تھی۔ ہریانہ کے لینڈ ریکارڈس اینڈ کانسولیڈیشن آف ہولڈنگس کے ڈائریکٹر اور ریوینو محکمہ کے ایڈیشنل سکریٹری نے سرکار کو بتایا کہ رابرٹ واڈرا کے پاس سال2008 میں 79 ایکڑ زمین تھی۔ہریانہ سیلنگ ایکٹ 1972 کے مطابق ایک پریوار یا شخص زیادہ سے زیادہ 53.8 ایکڑ زمین ہی اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ اب ریوینو محکمے نے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر سے اجازت مانگی ہے کہ واڈرا کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ سرکار کو جو رپورٹ سونپی گئی ہے اس میں دونوں افسران نے ایک جیسی باتیں کہی ہیں۔ یہ رپورٹ ہریانہ ریوینو وزیر کیپٹن ابھیمنیو سنگھ کو سونپی گئی ہے۔ اگر ان افسروں کی سفارشوں کو قبول کیا جاتا ہے تو رابرٹ واڈرا کے خلاف قانون کی خلاف ورزی کا معاملہ بن سکتا ہے اور انہیں دو سال کی سزا تک ہوسکتی ہے۔ادھر مودی سرکار نے رابرٹ واڈرا کے متنازعہ زمین سودوں اور معاشی لین دین کی جان کی سمت میں پہلا قدم اٹھایا ہے۔ انکم ٹیکس محکمے نے اس سے جڑی جانچ شروع کردی ہے۔ایک انگریزی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انکم ٹیکس محکمے نے اسکائی لائٹ ہاسپیٹالٹی کے چیف افسر کو نوٹس بھیجا ہے اور انہیں شکر وار کو بلایا ہے۔ اسکائی لائٹ ہاسپیٹالٹی رابرٹ واڈرا کی فرم ہے۔اس فرم کا نام ڈی ایل ایف کے ساتھ لین دین اور کمرشل لائسنس حاصل کرنے سے جڑے تنازعے کے مرکز میں ہے۔فرم کو 2005-06 کے بعد سے اس کی منقولہ جائیداد کی خرید یا فروخت کے ایگریمنٹ کا بیورا دینے کو کہا گیا ہے۔رپورٹ میں سوتروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے اسکائی لائٹ اور ڈی ایل ایف کے درمیان ہوئی ڈیل ، فرم اور اوم کیشور پراپرٹیز کے معاملات اور ہریانہ میں کمرشل کالونی لائسنس حاصل کرنے کے ضمن میں جانکاری مانگی ہے۔ اسکائی لائٹ ہاسپیٹالٹی کے پاس ہریانہ کے مانیسر میں 3.5 ایکڑ اور راجستھان کے بیکانیر میں470 ایکڑ کی زمین ہے۔ رپورٹ کے مطابق فرم سے منقولہ جائیداد کی خریدو فروخت کی تفصیلات کے علاوہ قرضے کی تفصیل، بورڈ میٹنگ کی کارروائی ، ڈائریکٹروں(جس میں واڈرا شامل ہیں) کے بارے میں جانکاری اور فرم سے جڑے دیگران کے بارے میں جانکاری مانگی ہے۔ فرم سے ڈی ایل ایف کیلئے لون کے بارے میں جانکاری دینے اور اوم کاریشور پراپرٹیز کے تعلقات کو سمجھانے کو کہا گیا ہے۔آئی ایس اشوک کھیمکا کے اعتراض کے بعد واڈرا لینڈ ڈیل معاملے سے غائب صفحوں کا الگ معاملہ چل رہا ہے۔ اس معاملے میں جانچ کیلئے تشکیل شدہ کمیٹی کو 10 دن کا وقت دیا گیا تھا۔ سوموار کو یہ وقت پورا ہوگیا ہے لیکن رپورٹ نہیں آئی ہے۔ ان سب الزامات ، کارروائیوں کے درمیان کانگریس نے رابرٹ واڈرا سے متعلق معاملوں کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی صدر سونیا گاندھی کے داماد کے خلاف قسطوں میں مان ہانی مہم چلائی جارہی ہے۔ پارٹی ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ہم پہلے ہی پوری طرح سے دکھا چکے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔ بلکہ قسطوں میں یہ مہم چلائی جارہی ہے۔یہ صرف مان ہانی ابھیان ہے اور کچھ نہیں بلکہ ایک مدعے کو کھینچنے والی بات ہے جس میں اعلی افسران کی تین ممبری کمیٹی کو کوئی کمی نہیں ملی ہے۔ سنگھوی نے کہا ہریانہ سرکار کے ذریعے تشکیل شدہ کمیٹی نے کوئی کمی نہیں پائی تھی۔اب ایک نئی سرکار اور نئے وزیر اعلی نے ریاست کی کمان سنبھالی ہے اور اس کے بعد پہلے والی تین افسران کی جگہ ایک نئی کمیٹی کی تشکیل کی گئی ہے یہ قطعی مناسب نہیں ہے۔
(انل نریندر)

ملیشیا کے جہازوں کا 9 مہینے میں تیسرا حادثہ!

ملیشین ایئر لائنس سے متعلق ہوائی جہازوں کا9 مہینے میں تیسرا حادثہ ہوگیا ہے۔انڈونیشیا کے سخایا شہر سے سنگاپور کیلئے اڑان بھری لیکن پہنچا نہیں۔ جہاز میں17 بچوں سمیت162 لوگ سوار تھے۔ انڈونیشیائی ایئر ٹریفک کنٹرول سے جہاز کا رابطہ اڑان بھرنے کے42 منٹ کے اندر ہی ٹوٹ گیا۔ پائلٹ نے اے ٹی سی سے خراب موسم کی وجہ سے راستہ بدلکر 38 ہزار فٹ اونچائی پر اڑنے کی اجازت مانگی تھی تب وہ32 ہزار فٹ کی اونچائی پر تھا۔ اسی دوران اس کا رابطہ ٹوٹ گیا۔ گذشتہ9 مہینوں میں یہ تیسرا حادثہ تھا۔ ملیشیا سے جڑے جہازوں کا 18 مارچ کو ایم ایچ370 لا پتہ ہوا تھا، آج تک پتہ نہیں چلا کہ جہاز کا کیا ہوا۔ جہاز میں239 لوگ سوار تھے۔17 جولائی کو دوسرا حادثہ ہوا جب 298 لوگوں کو لے جارہے ایم ایس17 پر یوکرین میں میزائل حملہ ہوا تھا۔ تیسرا یہ ہے جو28 دسمبر کو غائب ہوئے جہازانڈونیشیائی کمپنی ایئر ایشیا کا تھا۔ ایم ایچ370 کاپر اسرار غائب ہونا ابھی تک سلجھا نہیں تھا کہ ایک اور حادثہ ہوگیا۔ ایئر ایشیا کے جہاز کا منگلوار کو ملبہ مل گیا اس کے ساتھ ہی مسافروں کی لاشیں بھی ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ شروعاتی خبروں میں40 لاشیں ملنے کی بات کہی گئی ہے۔ تین دن کی زبردست تلاش مہم کے بعد انڈونیشیا کے جاوا ٹٹ سے جہاز کا ملبہ ملا۔ ایئر ایشیا انڈونیشیا کے جہاز کی اڑان بھرنے کے دو سے ڈھائی گھنٹے کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ ٹوٹنا ویسا ہی تھا جیسا پچھلے سال8 مارچ کو ایم ایچ 370 غائب ہونے پر ہوا تھا۔ایئر ایشیا انڈونیشیائی کفایتی ہوائی سفر کی خدمت دینے والی ملیشیائی کمپنی ایئر ایشیا کا حصہ ہے۔ ایئر ایشیا کے اڑانوں میں حفاظتی انتظاموں کو لیکر پہلے سے ہی سوال اٹھ رہے ہیں۔2007 ء میں یوروپی یونین نے اپنے یہاں اس کے اڑانوں پر پابندی لگادی تھی۔ اس لئے یہ سوال گمبھیرتا سے اٹھ رہا ہے کہ کیا تازہ واقعہ سرکشا سے متعلق لاپرواہی کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ لیکن اس سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں مل رہا تو ملیشین ایئر لائنس سے سفر سے پہلے مسافروں کو کئی بات سوچنا ہوگا۔ سب سے بڑا مدعا یہ ہے کہ کیا ہوائی خدمات زیادہ سے زیادہ کفایتی خدمت دینے کی ہوڑ میں حفاظت کے بنیادی انتظاموں سے سمجھوتہ تو نہیں کررہی ہیں، خاص کر وکاس شیل دیشوں میں۔ کیا یہ حیرت انگیز مماثلت ہے کہ اس سال کے تین بڑے ہوائی حادثے ملیشیائی ایئر لائنس کے جہازوں کیساتھ ہی ہوئے۔ انڈونیشیا اور ملیشیا میں جہادی سنگٹھن بھی موجود ہیں۔ کیا یہ حادثے آتنک وادی واقعہ تو نہیں؟ تازہ واقعے کو اگر ہم پہلے کے دو حادثوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں تو 2014-15 میں یہ نظریہ بنتا ہے کہ ہوائی سفر لگاتار غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے ، خاص کر انڈونیشیا اور ملیشیا سے اڑنے والے جہازوں کا۔تکنیکی ناکامی کے اندیشے، سرکشا سے متعلق لاپرواہی اور نامعلوم جگہوں کے اوپر سے گزرنے کی مجبوری نے اڑانوں کے لئے جو جوکھم کھڑا کیا ہے دنیا بھر کی سرکاروں و جہاز کمپنیوں کے آگے اس نظریئے کو توڑنے کی کڑی چنوتی ہے ورنہ جہاز کے سفر سے مسافر کترانے لگیں گے۔
(انل نریندر)

02 جنوری 2015

ٹیم انڈیا کے کپتان کول دھونی کا ٹیسٹ کرکٹ سے سنیاس!

کہا جاتا ہے کہ کرکٹ بے یقینی کا کھیل ہے اور جس طرح ٹیم انڈیا کے کیپٹن کول مہندر سنگھ دھونی نے ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے یہ ثابت کرتا ہے۔ ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان مہندر سنگھ دھونی نے منگل کی شام ٹیسٹ کرکٹ سے سنیاس لینے کا اعلان کرکے اپنے پرستاروں کو ہی نہیں بلکہ خود کے ساتھی کھلاڑیوں اور بی سی سی آئی کو حیران کردیا ہے۔ کسی میچ میں ٹیم انڈیا جب جیت کی دہلیز پر پہنچتی تھی تب ناظرین کو بس ایک ہی چیز کا انتظار رہتا تھا کہ کپتان دھونی کامیابی دلانے والاشاندار شاٹلگائیں ۔6 برسوں سے بھارت کا یہ نوجوان جارحانہ کرکٹ پیڑھی کا چہرہ بن کر چمکتا رہا۔ ٹیم انڈیا کے برے وقت میں مہندر سنگھ دھونی کا ریٹائرمنٹ لینا حیرت میں ڈالنے والا فیصلہ کہا جائے گا۔ کسی کو یہ توقع بھی نہیں تھی کہ وہ اچانک اس طرح ٹیم کو چھوڑ جائیں گے۔بیشک تیسرے ٹیسٹ میچ کے بعد ٹیم انڈیا پر آئی مشکل کو دھونی دور کر لے گئے تھے لیکن دو کامیابیوں کے ساتھ آسٹریلیا باقاعدہ چار میچوں کی یہ سیریز جیت چکا ہے اور بچا ہوا ایک میچ تو محض خانہ پوری کا رہ گیا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ آخری میچ کی خانہ پوری ہونے تک مہندر سنگھ دھونی اپنی ٹیم کے ساتھ اپنے کھیل کو شیئر کرتے؟ آج سبھی قیاس آرائیاں لگانے میں لگے ہوئے ہیں کہ دھونی نے سنیاس لینے کا آخر فیصلہ کیوں کیا؟ بدائی کی 6 ممکنہ وجہ ہو سکتی ہیں۔ دھونی نے ٹیم کے ساتھیوں کے سامنے دی جذباتی تقریر میں بتایا کہ وہ ٹیم پر بوجھ نہیں بننا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں فورمیٹ ٹیسٹ (ٹیسٹ ، ونڈے اور ٹی ٹوئنٹی) میں کھیلنا ان کے لئے مشکل ہورہا تھا۔ تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ دھونی کی کپتانی میں ٹیم نے بیرونی ممالک میں 30 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں محض6 میں ہی کامیابی ملی اور15 ہار گئے۔ پچھلے کچھ عرصے سے دھونی اچھی بلے بازی بھی نہیں کرپائے اور لمبے وقت سے واپسی کیلئے جدوجہد کرتے دکھائی دئے۔ پانچویں وجہ تذکرہ یہ ہے کہ ٹیم میں وراٹ کوہلی کے بڑھتے قد نے بھی مہندر سنگھ دھونی کو ریٹائرمنٹ لینے کیلئے مجبور کیا ہوگا اور باقی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آئی پی ایل اسپاٹ فکسنگ میں بار بار نام آنے سے دھونی کی ساکھ تھوڑی خراب ہوئی ہے۔ وہ چنئی سپرکنگ کی کپتانی بھی چھوڑنے تجویز رکھ چکے ہیں۔ دھونی ابھی 33 سال کے ہیں اور بڑھتی عمر کے ساتھ عموماً کرکٹر ونڈے جیسے چھوٹے فارمیٹ والے کھیل سے سنیاس لے لیتا ہے تاکہ ٹیسٹ کرکٹ کھیل سکے اس کے باوجود یہ کہنا ہوگا کہ رانچی جیسے چھوٹے سے شہر اور بیحد معمولی بیک گراؤنڈ سے نکل کر ہندوستانی ٹیم کا کپتان بننے تک کا سفر نوجوان کھلاڑیوں کیلئے ایک مشعل راہ رہا ہے وہ اس وقت ٹیم انڈیا سے جڑے جب ٹیم میں سچن تندولکر، سورو گانگولی، راہل دراوڑ اور وی وی ایس لکشمن اور انل کمبلے جیسے سرکردہ کھلاڑیوں کے ساتھ ہی ویریندر سہواگ جیسے بہترین کھلاڑی کی موجودگی تھی اس کے باوجود کم وقت میں ہی دھونی نے نہ صرف اپنی جگہ بنائی بلکہ جلد ہی سلیکٹروں کا بھروسہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ حقیقت میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دلانے جیسی ان کے شاندار کارناموں کو ٹیسٹ میچوں میں د لائی گئی سب سے زیادہ کامیابیوں سے جوڑ کر دیکھیں تو دھونی کا کوئی سانی نہیں دکھائی دیتا۔ بیشک سورو گانگولی نے ٹیم انڈیا میں لڑنے کا جذبہ پیدا کیا مگر یہ دھونی ہی تھے جن کی رہنمائی میں ٹیم انڈیا نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بن سکی۔ لیکن آئی پی ایل کرکٹ فکسنگ تنازعوں میں پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں جب متنازعہ بی سی سی آئی چیئرمین سرینواسن پر فکسنگ کے الزام کھل کر لگے ساتھ ساتھ دھونی کا نام بھی اچھالا گیا تبھی سے اندیشہ ظاہر ہونے لگا تھا لیکن دھونی فکسنگ کے الزام کو تو کھل کر نہیں بلکہ اس کے اثر میں آنے والے اندیشات پر گہرائی سے غور کرتے تھے۔ آخر کار وہ سرینواسن کی ہی کمپنی میں سینئر افسر تھے اور انہی کی ٹیم کی کپتانی سنبھال رہے تھے۔ کرکٹ نمبروں کا کھیل ہے اور پچھلے کچھ برسوں کے نمبر بتاتے ہیں کہ دھونی ٹیم میں وہ جذبہ پیدا نہیں کرپارہے تھے جس سے کامیابی ملتی۔ لگتا ہے کہ اب ٹیم انڈیا کی ٹیسٹوں میں وراٹ کوہلی کپتانی سنبھالیں گے۔ بیشک کوہلی کی شکل میں ٹیم انڈیا کو دھونی کا جانشین ضرور مل گیا ہے مگر میدان میں مہندر سنگھ دھونی اور کپتان کول کی کمی ضرور محسوس ہوگی۔
(انل نریندر)

مجیٹھیا سے ڈرگس اسمگلنگ میں پوچھ تاچھ سنگین معاملہ ہے!

ڈرگس کے دھندے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کو لیکر پنجاب کے وزیر محصول وکرم سنگھ مجیٹھیا سے انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی پوچھ تاچھ سے اتنا تو صاف ہوگیا ہے کہ پنجاب میں ڈرگس کا مسئلہ ایک سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ پنجاب کے فتح گڑھ صاحب میں مارچ2013ء میں کینیڈا کے ایک تارکین وطن انوپ سنگھ کہلو کی گرفتاری سے 6 ہزار کروڑ روپے کے بین الاقوامی ڈرگس اسمگلنگ کا انکشاف ہوا تھا۔ اس میں گرفتار برخاست ڈی ایس پی جگدیش بھولا نے نومبر میں اس ڈرگس ریکٹ میں وکرم سنگھ مجیٹھیا کے شامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔ بھولا کے انکشاف کی بنیاد پر امرتسر کی فارما کمپنی چلانے والے لیڈر بٹو اولک اور جگدیش سنگھ چہل کو بھی پوچھ تاچھ کے لئے گرفتار کیا گیا تھا۔وکرم سنگھ مجیٹھیا اکالی دل کے بڑے لیڈر ہیں۔ مودی سرکار میں منتری ہرسمرت کور کے چھوٹے بھائی ہیں اور ڈپٹی وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل کے برادر نسبتی ہیں۔ پنجاب حکومت میں اہم عہدہ محکمہ محصولات کے وزیر ہیں۔ چہل کے مطابق مجیٹھیا نے بھارت دورے کے دوران این آر آئی ستا کو دو سکیورٹی جوان اور ایک ڈرائیور مہیا کرائے تھا۔ ذرائع کے مطابق مجیٹھیا کو حوالہ کے ذریعے70 لاکھ روپے دئے جانے کا بھی الزام سامنے آیا ہے۔ چہل ڈرگس سامان بنانے کیلئے ایفیڈرین اور اسپیوڈو فڈرین کیمیکل کی سپلائی کیا کرتا تھا۔ ریڈیوپر ’من کی بات‘ پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے پنجاب میں نشے کے پھیلتے جال کا اشو اٹھایا تھا۔ لوک سبھا چناؤکے دوران پنجاب میں منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کا بھی مودی نے وعدہ کیا تھا اور اقتدار میں آنے کے بعد اس پر انہوں نے تیزی بھی دکھائی۔ آج پنجاب کی حالت یہ ہے کہ ہر 10 افراد میں سے 4 مرد نشے کی آدی ہیں۔ 50 فیصد نشے کے آدیوں میں نوجوان طبقہ اور کسان ہے۔ 15 فیصدی کہتے ہیں مکی کا استعمال 550 سے 600 کلو تک ہیروئن کی پیداوار افغانستان میں 10 ٹن ہیروئن کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ بھارت میں یہاں سے پاکستان سے لگی سرحد پر بین الاقوامی ڈرگس مافیہ سرگرم ہے جو لاکھوں کی منشیات دلی اور پنجاب میں سپلائی ہوتی ہیں۔ اب تک یہ کہا جارہا ہے کہ جان لیوا نشے کی جگڑ میں جس طرح سماج کا نوجوان طبقہ آرہا ہے وہ کسی بھی قسم کی سیاسی سرپرستی کے بغیر یہ دھندہ کامیاب نہیں ہوسکتا لیکن اس سلسلے میں سرکاری طور پر باقاعدہ کسی سیاستداں سے سوال پوچھے جانے کا یہ پہلا موقعہ ہے۔ کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی نے پچھلے چناؤ کے دوران اسے اشو بنانے کی کوشش کی تو سبھی ان پر ٹوٹ پڑے۔ جیسے انہوں نے پنجاب کی زبردست بے عزتی کردی ہو۔ اس وقت ان سے شارے عام طور پر معافی کی مانگ کرنے والوں میں بی جے پی اور اکالی دل کے لوگ سب سے آگے آگے تھے۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ ادھر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مجیٹھیا سے پوچھ تاچھ شروع کی ادھر بی جے پی نے ان کے خلاف کمر کس لی۔ اے بی وی پی نے سڑک پر اتر کر مجیٹھیا سے استعفے کی مانگ شروع کردی۔ پچھلے مہینے کی12 تاریخ سے قومی صدر امت شاہ ڈرگس کے استعمال کے خلاف وہاں سے ملک گیر تحریک شروع کرنے والے ہیں۔ بی جے پی کی ان سرگرمیوں سے اہمیت اس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ پارٹی اس صوبائی سرکار میں شامل ہے جس میں مجیٹھیا آج بھی وزیر محصولات ہیں۔ مزیدار بات یہ بھی ہے بھاجپا کی ساتھی پارٹی شرومنی اکالی دل نے پاکستان میں بنی نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ روکنے کے لئے بی ایس ایف پر دباؤ بنانے کے لئے پانچ جنوری سے بین الاقوامی سرحد پر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ اکالی سارا الزام مرکز پر مڑھنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا بی جے پی اگلا چناؤ ریاست میں اکالی دل کے ساتھ لڑے گی یا اس کے خلاف؟
(انل نریندر)

01 جنوری 2015

2015ء میں ہڑتالیں اور سرکاری چھٹیوں کی بھرمار!

ہمارا ہمیشہ خیال ہے کہ بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں سرکاری چھٹیاں کم ہونی چاہئیں۔ اس پر ان ہڑتالوں سے اور کام بند ہوتا ہے۔ نئے سال 2015 ء میں حکومت کو مختلف سیکٹروں میں لمبی ہڑتالوں سے بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔ کوئلہ سیکٹر میں 6 سے11 جنوری تک ہڑتال سے دیش میں بجلی بحران کھڑا ہوسکتا ہے وہیں 7,21,22,23 اور24 جنوری کو بینکوں میں پھر سے ہڑتال رہے گی جس سے معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح فروری میں سرکار کی ٹیلی کام کمپنیاں ہڑتال پر جانے والی ہیں۔ جمعہ کو سینٹرل ٹریڈ یونین کی میٹنگ ہوئی اس میں 11 مزدور انجمنوں نے فیصلہ کیا کہ سیکٹر وار ہڑتال کرکے سرکار پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔ میٹنگ آئی ایس ایس کے تنظیمی انڈین مزدور فیڈریشن کے دفتر میں ہوئی۔ روڈ سیفٹی کا جو قانون بن رہا ہے اس کے خلاف پورے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ناراضگی ہے اور وہ بھی ہڑتال پرجانے کا پلان بنا رہے ہیں۔ اسی طرح بجلی کیلئے بنائے جانے والے نئے قانون کو لیکر بھی مزدور انجمنیں خوش نہیں ہیں۔ جنوری میں پورا توانائی سیکٹر مظاہرہ کرے گا جس میں آئل سیکٹر بھی شامل رہے گا۔ بیمہ سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری کی وجہ سے ہڑتال کی پوری تیاری چل رہی ہے۔ بینک 16 مارچ سے بے میعاد ہڑتال پر جانے کیلئے پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں۔ ریلوے میں پہلے ہی طے کیا جاچکا ہے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران ہڑتال کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ اسی طرح اور بھی کئی سیکٹروں میں ہڑتال کا پلان بن رہا ہے۔ ہڑتالوں کو کامیاب بنانے کیلئے جنوری کے پہلے ہفتے میں پھر سے سینٹرل ٹریڈ یونین کی میٹنگ ہوگی۔ مودی سرکار کو کوشش کرنی ہوگی کہ جہاں تک ممکن ہو مزدوروں کی جائز مانگیں مانیں اور ان مجوزہ ہڑتالوں کو ٹالنے کی کوشش کریں۔ لیبر کمشنر کو سرگرمی سے بات چیت کرنی ہوگی۔ ادھر 2015ء میں سرکاری چھوٹیوں کی بھی بھرمار ہے۔ اگر آپ 2014 میں دفتری کام کاج کی وجہ سے اپنے خاندان کے ساتھ لمبی چھٹی پر جانے کا وعدہ پورا نہیں کرپائے تو فکر نہ کریں 2015ء میں اسے نبھانے کا بھرپور موقعہ ملا گا۔ سال کی ابتدا میں جمعرات سے ہورہی ہیں چھٹیاں۔ اس دن نئے سال کی چھٹی رہے گی جمعہ یعنی2 جنوری کا دن دفتر کھلنے کے بعدسنیچر اور ایتوار چھٹی رہے گی۔ ایسے میں آپ جمعہ کی چھٹی لیکر چار دن کیلئے گھومنے پھرنے جاسکتے ہیں۔ 15 جنوری کو مکر سکرانتی،3 فروری کوروی داس جینتی،16 فروری کو مہا شیو راتری،2-3 اپریل کو مہاویر جینتی، اور گڈ فرائڈے، 14 اپریل کو بیساکھی ،امبیڈکر جینتی، 17 ستمبر کو وشوکرما پوجا، 25 ستمبر کو بقرا عید،22 اکتوبر کو دسہرہ،25 جنوری کو گورونانک جینتی کی چھٹی کے دوران بھی دو دن کی چھٹی لیکر پانچ دن کا پروگرام بنا سکتے ہیں۔ اس طرح آنے والے سال میں چھٹیوں کی بھرمار ہے۔اس ترقی پذیر ملک میں کیا اتنی چھٹیاں ہونی چاہئیں؟ ہر چھٹی میں دیش کی پروڈکشن پر اثر پڑتا ہے۔ جتنی چھٹیاں ہندوستان میں ہوتی ہیں شاید کسی دوسرے ملک میں نہیں ہوتیں۔ خیر! سبھی قارئین کو نئے سال کی مبارکباد۔ یہ سال آپ کیلئے خوشحالی لائے۔
(انل نریندر)

آخر کب تک داؤد کو لیکر پاکستان جھوٹ بولتا رہے گا؟

ممبئی میں 1993ء میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کا ملزم دہشت گرد داؤد ابراہیم 21 سال بعد بھی بھارت کی گرفت میں نہیں آسکا۔ دھماکوں کے بعد وہ پاکستان بھاگ گیا تھا۔ تب سے وہیں رہ کر وہ اپنے گروہ کی سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ یہ ہی نہیں وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مدد سے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں درپردہ طور پر مدد دے رہا ہے۔ ایک ویب پورٹل کے ذریعے انکشاف سے ایک بار ثابت ہوچکا ہے داؤد ابراہیم نہ صرف پاکستان میں ہے بلکہ وہاں سے بے روک ٹوک دہشت کا کاروبار چلا رہا ہے۔ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کی دوبئی کے ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ سے ہوئی بات چیت کے ٹیپ کو ویب پورٹل نیوز موبائل نے جاری کیا ہے۔ ٹیپ میں بات چیت سے صاف ہے کہ داؤد ابراہیم اب بھی پاکستان میں ہے۔ وہ کراچی کے عالیشان علاقے کلفٹن میں ایک عالیشان بنگلے میں رہتا ہے اور وہاں سے اپنا دوبئی تک پورا کاروبار چلا رہا ہے۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں پہلے ہی کہتی رہی ہیں کہ داؤد کا برسوں سے کراچی ہی ٹھکانہ ہے جبکہ پاکستان جھوٹ بول کر گمراہ کرتا رہا ہے داؤد اس کے دیش میں نہیں ہے۔ ان پختہ ثبوت کی روشنی میں بے نقاب ہونے کے باوجود اس بات کی قطعی امید نہیں کہ پاکستان کا رویہ بدلے گا اور وہ داؤد کو بھارت کو سونپنے میں مدد کرے گا۔ دراصل داؤد جیسے بھارت کے گھر بھیدی پاکستان کیلئے اس ہتھیار کی طرح ہیں جن کا استعمال وہ بھارت کو لہو لہان کرنے کیلئے کرتا ہے۔ ظاہر ہے جب تک بھارت کے تئیں پاکستان کی دشمنی کا جذبہ ختم نہیں ہوگا ایسے ہتھیاروں کی ضرورت اسے رہے گی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ امریکہ سے بے شمار دولت اور فوجی مدد لینے کے باوجود پاکستان اس کے انتہائی مطلوب اسامہ بن لادن کو سالوں سال تک پناہ دیتا رہا ہے۔ ساتھ میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بھی وہ ساتھی بنا رہا تو اس سے یہ امید کبھی نہیں کی جانی چاہئے کہ وہ داؤد کو تحفظ دینا بند کردے گا۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ تمام پختہ ثبوت ہونے کے باوجود ہندوستان کیلئے سب سے مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شمار داؤد ابراہیم پر شکنجہ نہیں کسا جاسکا۔ اس کیلئے پچھلی یوپی اے سرکار ہی ذمہ دار ہے۔ پورے10 سال سرکار میں کانگریس رہی کبھی بھی اس نے داؤد کے معاملے پر پاکستان سے سختی سے بات نہیں کی۔ ایسا ہی لچر رویہ ممبئی میں 26/11 حملے پر اپنایا گیا۔ جما
عت الدعوی کے سرغنہ حافظ سعید اور زکی الرحمان لکھوی کے معاملے میں بھی بھارت نے پہلے سختی نہیں برتی تھی نتیجتاً پاکستان کا حوصلہ بڑھتا چلا گیا۔ بہرحال اگر داؤد آج تک ہماری عدلیہ مشینری کی پہنچ سے دور ہے تو اس کیلئے پاکستان پر الزام مڑھ کر اپنی ناکامی نہیں چھپائی جاسکتی۔ یہ ہماری خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کی زبردستی لاپروائی نہیں ہے تو کیا؟ تقریباً دو دہائی پہلے سینکڑوں ہندوستانیوں کی جان لینے والے آتنکی کی ایک عدد تصویر بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ہمارا ایک بھگوڑا 20 برسوں سے پڑوسی دشمن دیش کی پناہ میں بیٹھ کر دہشت کا کاروبار چلا رہا ہے اور ہم سوائے اسے دیکھنے اور کوسنے کے کچھ نہیں کرپاتے۔ کیا ہماری سکیورٹی و خفیہ مشینری کی یہ بہت بڑی ناکامی ہے؟ اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ اگر داؤد ابھی بھی پاکستان میں محفوظ ہے تو اس کیلئے ہماری سیاسی قوت ارادی کی بھی کمی رہی ہے۔ لیکن بھارت میں اب نریندر مودی کی ایسی سرکار ہے جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ داؤد اور حافظ یا لکھوی کے معاملے میں پاکستان کو کرارا جواب دے گی۔ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ داؤد معاملے میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا انتظار کیجئے والا بیان محض ایک خانہ پوری مانا جانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ ہماری سکیورٹی و خفیہ مشینری اپنے بوتے پر داؤد پر قابو کرنے کی اسکیم بنائے اور بار بار اسے سونپنے کی درخواست کرنے اور پاکستان کے ذریعے منع کرنے سے قومی ضمیر کو ٹھیس پہنچتی رہے گی۔
(انل نریندر)

31 دسمبر 2014

مارا گیا پیشاور فوجی اسکول کے بچوں کو مارنے والا ماسٹر مائنڈ!

پیشاور قتل عام کے ہر گزرے گھنٹے اور دن کے ساتھ اس کی مذمت کرنے و اس کی مخالف میں پاکستانی جس طرح سے متحد ہوئے ہیں یا ہورہے ہیں اسے دیکھ کر پاکستانی طالبان یقینی دہشت میں ہوگا۔ معصوم بچوں کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی مانگ اتنی تیزی پکڑ چکی ہے کہ جو ملا دہشت گردوں کے حمایتی ہوا کرتے تھے آج وہ بھی ناراض لوگوں کی آواز میں آواز ملانے پر مجبور ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف طالبان و دیگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھ ایک بڑی کامیابی اس وقت لگی جب انہوں نے دیش کے بیحد شورش زدہ علاقے خیبر ایجنسی میں طالبان کمانڈرصدام کو مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے صدام پیشاور آرمی اسکول قتل عام کا اہم سازشی تھا جس کی تلاش کی جارہی تھی۔ پاکستان میں16 دسمبر کو آرمی اسکول میں ہوا حملہ دیش کے اب تک سب سے بڑے آتنکی حملے کے طور پردیکھاگیا۔ اس میں141 بچوں سمیت150 افراد مارے گئے تھے۔ خیبر ایجنسی کے سیاسی نمائندے شہاب علی شاہ نے بتایا کہ جمرود کے گدی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے اپنی ایک کارروائی میں صدام کو مار گرایا اور اس کے ایک ساتھی کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان نے جمعہ کو دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام کرنے کے لئے فیڈرل آتک واد انسداد فورس بنائی ہے۔ اس کے علاوہ مالی اداروں کو ہدایت دی گئی ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو ملنے اولی اقتصادی مدد کی جانچ کریں اس کے ساتھ ساتھ ایک پینل بھی بنایا ہے جو اس لعنت سے نمٹنے کیلئے بنائی گئی اسکیموں کو نافذ کرنے پر نظررکھے گا۔ اس دوران پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے لاہور کی مشہور کوٹ لکھپت جیل پر حملے کی دہشت گردوں کی سازش کو ناکام کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس جیل میں 5 خطرناک آتنک وادیوں سمیت موت کی سزا پائے کم سے کم 50 دہشت گرد بند ہیں۔ لاہور کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہم نے آتنک وادیوں کی سازش کو ناکام کیا ہے اور جیل کے پاس فرید کالونی سے دو عورتوں اور ایک مرد کو گرفتار کیا ہے۔ افسر نے بتایا کہ جمعرات کو ان کے پاس سے ایک راکٹ لانچر اور سکیورٹی ایجنسیوں کی وردیاں بندوقیں اور موبائل فون برآمد کئے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا پائے پانچ خطرناک آتنک وادی بند ہیں۔ آج حالت یہ ہے پاکستانی عوام کے جس تھوڑے سے حصے میں تحریک طالبان کے لئے ہمدردی تھی وہ بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ پیشاور قتل عام نے حکومت کو یہ حوصلہ دیا کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے وہ اپنے سبھی طرح کے ذرائع کا استعمال کرے۔ پیشاور کی واردات نے پاکستان کو بدل دیا ہے۔ جیسا کہ میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی سرزمیں سے آتنک واد کو ختم کرنے میں پوری طرح سے لگے ہوئے ہیں۔ یہ آسان نہیں ہے لیکن اگر حکومت کا مضبوط ارادہ ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔
(انل نریندر)

’پی کے‘ فلم کی مخالفت اور کمائی دونوں میں اضافہ!

عامر خاں کی فلم ’پی کے‘ کو لیکر دن بدن تنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ مذہبی دقیانوسی اور سادھو سنتوں کو نشانے پر لینے والی عامر خاں کی اس فلم پر کئی ہندو انجمنوں نے اعتراض کیا ہے اور کئی ہندو تنظیموں اور مذہبی پیشواؤں نے اس فلم پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم’ پی کے‘ میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی بے عزتی کی گئی ہے۔ دھرم آچاریوں میں ہندو مسلم دونوں شامل ہیں۔ حالانکہ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے فلم کی تعریف کی ہے۔ فلم میں ہندو مذہب کے تقاضوں اور روایات و باباؤں اوربھگوان پر تلخ تبصرے کئے گئے ہیں۔ اس فلم کے احتجاج میں اتری ہندو وادی تنظیم جاگرن منچ نے کہا کہ اس فلم پر پابندی لگنی چاہئے کیونکہ یہ فلم ہندو روایات کا مذاق اڑا رہی ہے۔ دوارکا پیٹھ کے شنکر آچاریہ سوامی سروپ آنند سرسوتی نے بھی کہا کہ اس میں ہندو مذہب کی بے عزتی کی گئی ہے۔ مسلم عالم پھرنگی محلی کہتے ہیں کہ فلم میں کئی ایسی باتیں ہیں جن سے گنگا جمنی تہذیب پر خراب اثر پڑ سکتا ہے۔ یوگ گورو بابا رام دیو نے ’پی کے‘ میں ہندو دیوی دیوتاؤں کے تئیں توہین آمیز رائے زنی اور مناظر کو دکھائے جانے پر سخت اعتراض کیا ہے کہ صرف ہندو دیوی دیوتاؤں کی ہی فلم میں کھلے عام بے عزتی کیوں کی جاتی ہے؟انہوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ’پی کے‘ کا بائیکاٹ کریں تاکہ ہندو مذہب و کلچر کی بے حرمتی نہ ہوسکے۔ فلم کو لیکر وشو ہندو پریشد ، بجرنگ دل، ہندو جن جاگرتی کمیٹی ،اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا نے مظاہرہ کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر مولانا خالد رشیدی پھرنگی محلی نے بھی ’پی کے‘ فلم کے کچھ مناظر میں مبینہ طور سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا دیس اور پردیس کا ماحول خراب کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ایسے میں فلموں میں ایسی چیزیں قطعی نہیں دکھائی جانی چاہئیں۔ پھرنگی محلی کا کہنا ہے فلم میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی باتیں سامنے آرہی ہیں جو بالکل غلط ہے۔ اظہار آزادی کا مطلب کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے۔ اگر فلم میں ایسے منظر ہیں تو سینسر بورڈ کو انہیں ہٹا دینا چاہئے تھا تاکہ فرقہ وارانہ بھائی چارے کا ماحول نہ بگڑے۔ سینسر بورڈ کی چیئرمین لیلا سیمسن کا کہنا ہے عامر خاں کی فلم ’پی کے‘ سے کوئی منظر نہیں ہٹایا جائے گا۔ سیمسن کہتی ہیں کہ فلم کو ریلیز کیا جاچکا ہے۔ ہر فلم کسی نہ کسی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے اس پر ہم سین ہٹا کر کسی کے تعمیری نظریئے کو ختم نہیں کرسکتے۔ کوئی سین نہیں کٹے گا ۔ دوسری طرف ’پی کے‘ باکس آفس میں بزنس کے ریکارڈ توڑتے ہوئے صرف9 دن میں 214 کروڑ روپے کی کمائی کرچکی ہے۔عامر خاں نے ’پی کے‘ کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ ساؤتھ کے کٹر پسند نیتاؤں نے مسلم ہونے کی وجہ سے عامر خاں پر ہندو مذہب کی بے عزتی کرنے کا الزام لگایا ہے اور اس کی تنقید کا انہوں نے جواب دیا ہے کہ ہم سبھی مذہب کا احترام کرتے ہیں۔ میرے سبھی ہندو دوستوں نے فلم دیکھی ہے، انہیں ایسا نہیں لگتا۔ فلم کے ہدایتکار، پروڈیوسر اور کہانی کے مصنف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ راجو ہیرانی ہندو ہیں،ودو ونود چوپڑا ،ابھیجیت ہندو ہیں، فلم پروڈکشن ٹیم کے 99 فیصدی لوگ ہندو ہیں،فلم کے پروڈیوسر ،ڈائریکٹر نے کہا فلم کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ہم ہندو، مسلم ، سیکھ ،یا عیسائی پیدائشی علامت کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے۔ہمیں باقاعدہ طریقہ زندگی اور کچھ روایت کی تعمیل کرنی پڑتی ہے۔ کچھ سال پہلے ایک اور فلم آئی تھی ’او مائی گاڈ‘ اس میں بھی ایسے مناظر دکھائے گئے تھے۔ فلم ’پی کے‘ کی کہانی بھی اسی فلم سے ملتی جلتی ہے۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ محض ہندو مذہبی اقدار و روایات پر ہی حملہ کیوں ہوتا ہے۔ کیا عامر خاں اپنے مذہب پر ایسی فلم بنا سکتے ہیں؟یا کسی اور مذہب پر؟
(انل نریندر)

30 دسمبر 2014

خلاصی کا بیٹا بنا جھاڑ کھنڈ کا وزیراعلی

ٹاٹا اسٹیل جمشید پور کارخانے میں مزدوری سے اپنی زندگی کاسفر شروع کرنے والے رگھوورداس جھاڑ کھنڈ کے نئے وزیراعلی بن گئے ہیں۔ رانچی کے موھرا بادی کے میدان میں ایک شاندار تقریب میں ان کو وہ ان کے کیبنٹ کے چار ساتھیوں کو حلف دلایا گیا ہے ان میں سی پی سنگھ، نیل کنٹھ سنگھ منڈا، ڈاکٹر لوئس مرانڈی اور آج سکھے چندر پرکاش چودھری شامل ہے۔ رگھورداس جھاڑ کھنڈ کے دسویں وزیراعلی ہے۔ بھاجپا نے جھاڑ کھنڈ غیر قبائلی لیڈر رگھورداس کو وزیراعلی بنا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے وہ گھسی پیٹھی راہ پر چلنے پر نہیں بلکہ وہ روایت کو توڑنے میں یقین رکھتی ہے اس سے پہلے ہریانہ میں غیر جاٹ کو وزیراعلی بنا کر وہ اس نظریہ کا ثبوت دے چکی ہیں۔ جب جھاڑ کھنڈ بنا تھا تو تب بھی بھاجپا نے ہی سرکار بنائی تھی گزرے چودہ سالوں میں زیادہ تر وقت بھاجپائی ہی اقتدار میں رہی ۔ باپو لال مرانڈی اور ارجند منڈا وزیراعلی رہے۔ قبائلی اکثریتی ریاست میں یہ ایک فطری معجزہ ہے جب پارٹی نے غیرقبائلی نے لیڈر کو رگھورداس کو وزیراعلی کی شکل میں ریاست کی کرسی پر بیٹھایا ہے۔ ٹاٹا اسٹیل کارخانے میں مزدور والد کے مزدور لڑکے کی شکل میں ا پنی زندگی کی پریشانیاں دیکھ چکے رگھورداس ریاست کو درپیش پریشانیوں کو سمجھتے ہیں۔ پارٹی کے ضلع سطح کے ورکر سے لے کر دو مرتبہ پردیش پردھان اور نئے وزیراعلی کی حیثیت سے ان کے پاس تنظیم اور انتظامیہ کا چلانے کا وسیع تجربہ ہے لہذا چیلنجوں سے نمٹنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ حالانکہ ریاست میں بی جے پی نے اپنے بل بوتے اکثریت نہیں پائی ہے اور سرکار چلانے کے لئے وہ آل جھاڑ کھنڈشبھو سورن کی حمایت پر منحصر رہے گی۔ اس کے باوجود رگھورداس جھاڑ کھنڈ کے پہلے وزیراعلی ہوں گے۔ جن کے سامنے کمزور حکومت جیسی حکومت چنوتی نہ ہوگی اور نہ اندر خانے اتنی رسہ کشی کااندیشہ۔ لیکن وزیراعلی کاعہدہ ان کے لئے پھولوں کی سیج پر نہیں ہوگی۔ یہ صرف غیرقبائلی ہونے کے سبب نہیں بلکہ سب سے زیادہ اس لئے کہ مرکز میں اپنی ہی پارٹی کی اکثریتی حکومت ہونے کی وجہ اپنی ناکامی کے لئے وہ کسی کو الزام نہیں دے پائیں گے۔غیرقبائلی وزیراعلی کی شکل میں ان کا کام کاج ایسا ہو کہ قبائلیوں کو یہ محسوس کرنے کا موقعہ نہ ملے کہ ان کی برادری کاوزیراعلی نہیں بنا اس کے لئے پسماندہ جھاڑ کھنڈ انتہائی پس ماندہ قبائلی فرقے کی بھرپور ترقی کے ساتھ ان سے رشتے بنائے رکھنا ایک چنوتی ہوگی۔ بڑھتی نکسلی کا مسئلہ دوسرا بڑا چیلنج بھی اسی سے جڑا ہوا ہے۔ جھاڑ کھنڈ ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں تعلیم، روزگار، سینچائی ، خواتین کی بہبود اور قبائلیوں کی بہتری اور نکسلیوں جیسے کئی خاتمہ اشو پر بنیادی کام کرنا ہوگا۔قریب ڈیڑھ ڈھائی نو وزیراعلی اور تین بار صدر راج دیکھ چکے جھاڑ کھنڈ ریاست کرپشن سے عاجز آچکی ہے اورنئی ابتدا کی امید اس لئے ہے کہ وہ عوام میں سیاست دانوں کو ہٹا کر بھاجپا کو ایک موقع دیا ہے۔ دیکھیں! جھاڑ کھنڈ کے نئے وزیراعلی کے سامنے بدعنوانی سے پاک ترقی کے ساتھ ساتھ قبائلیوں پسماندہ لوگوں کی ترقی اور ان کو مکھیہ دھارا میں لانے کا بھی رگھورداس کو کرنا ہوگا۔ شری رگھورداس مکھیہ منتری بننے پر بدھائی۔

 (انل نریندر)

انڈین مجاہدین کے نشانے پر راجستھان

خطرناک دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین نے راجستھان کی سرزمین کو سلسلے وار دھماکوں سے دہلا نے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے بعد ریاست بھر میں مکمل چوکسی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ راجستھان کے وزیرداخلہ گلاب چند کٹاریاں سمیت 16 وزراء کو ملے دھمکی بھرے ای میل کے بعد ڈائریکٹر جنرل پولیس یوگیندر بھاردواج نے اے ٹی ایس اور خفیہ مشینی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ خاص میٹنگ کرکے ریاست میں سیکورٹی سسٹم کو مزید چوکس کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ڈی جی پی گوگل اور این آئی اے کے مشتبہ افراد کی تلاش میں انٹر پول سے بھی رابطہ قائم کرنے کو کہا ہے۔ غور طلب ہے انڈین مجاہدین نے راجستھان کی راجدھانی جے پور سمیت کئی اضلاع میں سلیپر سیل کی شکل میں دہشت گردوں کی فوج کھڑی کی تھی۔ درندے ریگی کر ریاست میں دھماکوں کا منصوبہ بناچکے تھے۔ مگر دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کو ملی اطلاع پر اے ٹی ایس پر راجستھان نے پل رہی دہشت گردوں کی فوج کو دبوچ کر ان کی کمر توڑ دی تھی۔ قریب 6ماہ پہلے سیکورٹی ایجنسیوں نے جے پور، سیکر، اجمیر ، چودھپور میں آئی ایم کے تقریبا 16 گروگوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ ان سے پوچھ تاچھ سے ہوئے منصوبوں کی بنیاد پر ریاست میں حفاظتی انتظامات سخت کئے گئے ہیں۔ راجدھانی کے مذہبی مقامات ، ریلوں اسٹیشنوں، بس اڈے ، بڑے مال اور مشہور اسکول ، اور ہوائی اڈے کے علاوہ حفاظت سخت کردی گئی ہے۔ ہوٹلوں، دھرمشالوں اور سرائے میں گہری تلاشی کارروائی شروع کر مشتبہ افراد پر سی سی ٹی وی کیمروں سے نظر رکھی جارہی ہے۔ انگریزی زبان میں ملے ای میل کے ہندی میں لکھا ہے پیارے دوستوں، ہم انڈین مجاہدین ہے ہم آپ کو خبر دے رہے ہیں کہ ہم آپ کو بڑے بینک، سرپرائز دینے والے ہیں آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارا مقصد کیا ہے اس لئے آپ جو اچھا کرسکتے ہوں کرلو۔ ہم آپ کھلی وارننگ دیتے ہیں کی ہمارا ایکشن راجستھان میں کئی مقامات پر ہوگا۔ اگر اس کو روک سکتے ہو تو روک لو۔ ہماری یہ کارروائی 26 جنوری 1915کو ہونی ہے۔اطلاع بذریعہ آئی ایم۔ ڈی جی پی یوگیندر بھاردواج میں ریاست کے شہریوں کو فکر مند نہ ہونے کی نصیحت دیتے ہوئے سیکورٹی انتظامات کو بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے میل کو افواہ پھیلانے کے نظریے سے دیکھتے ہوئے اس کو شرارتی عناصر کی سازش بتایا ہے ڈی جی پی کے مطابق میل سے پہلے بھی آتنک وادیوں کو گڑ بڑی پھیلانے کی خبریں مل چکی ہے۔ آتنک وادیوں کے دھماکے کرنے کی تاریخ او رمقامات کا صاف پتہ نہیں چلتا۔ پولیس کے علاوہ اے ٹی ایس ، پی ڈی ایس سی آئی ڈی اور آئی بی سمیت دیگر خفیہ مشینی سرگرم ہوگئی ہے۔ سرحد پار سے آنے جانے والے فون کالوں کے علاوہ سیٹیلائٹ فون رکھنے والوں کو بھی لا آرڈر پر لے کر جانچ میں جٹی ہے۔ اس بیچ وزیراعلی وسندھرا راجے کی سیکورٹی بڑھاتے ہوئے سیکریٹری ایٹ پر بھی بھاری حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ ا مید کرتے ہیں کہ یہ آتنکی اور دہشت گردی کا منصوبہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
(انل نریندر)

28 دسمبر 2014

پچھلے14 مہینوں میں 12 چناؤ میں ہاری اور یہ سلسلہ تھم نہیں رہا!

یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے جتنی تیزی سے بھاجپا آگے بڑھ رہی ہے اس سے دوگنی رفتار سے کانگریس زوال پذیر ہورہی ہے۔ اتنی پرانی پارٹی کی یہ حالت دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ پچھلے14 مہینوں میں کانگریس نے 12 ریاستوں میں مسلسل ایک کے بعد دیگر چناؤ ہارے ہیں۔ اپنی 129 سال کی تاریخ میں ایسی ناکامی اور مسلسل گرتا سیاسی گراف پہلے کبھی کانگریس نے نہیں دیکھا تھا۔ جھارکھنڈ ۔کشمیرکی ہار کے بعد جہاں پہلے وہ سرکار میں ہواکرتی تھی اب اس سے بھی بے دخل ہوگئی ہے۔ کانگریس کے پاس صرف9 ریاستیں ہی بچی ہیں۔ ان میں بھی شمال مشرق میں پانچ اور شمالی ہندوستان میں دو یعنی ہماچل اور اتراکھنڈ اور 2کرناٹک اور کیرل میں باقی ریاستی بچی ہیں۔ وہ جن ریاستوں میں چناؤ ہاری ہے ان میں زیادہ تر وہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر کھسک گئی ہے۔ دوسری طرف اب بھاجپا کے پاس 11 ریاستوں میں اقتدار آگیا ہے۔ان میں آندھرا پردیش ، پنجاب میں وہ اتحادی پارٹی ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کا مظاہرہ اس کی اب تک کی تاریخ میں سب سے خراب رہا اور وہ 44 سیٹوں پر ہی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ اس کے بعد اس نے مہاراشٹر ، ہریانہ میں اقتدار گنوایا۔ دونوں ریاستوں میں وہ تیسرے نمبر پر رہی۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ساتھ اقتدار میں رہی کانگریس اب اس ریاست میں چوتھے نمبر پر آگئی ہے۔ یہاں اسے محض6 سیٹیں ملیں جو علاقائی پارٹی جھارکھنڈ وکاس مورچہ سے بھی کم ہے۔ جھارکھنڈ وکاس مورچہ کو 8 سیٹیں ملیں جبکہ آرجے ڈی اور جنتا دل (یو) کے ساتھ مل کر وہ چناؤ لڑی تھی۔ وہیں جموں و کشمیر کی بات کریں تو یہاں بھی کانگریس پانچ سال تک اقتدار میں سانجھے دار رہی لیکن نتائج میں چوتھے نمبر پر رہی۔ پچھلے 14 مہینوں میں کانگریس 12 چناؤ ہاری ہے۔یہ ریاستیں ہیں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، دہلی، مہاراشٹر، ہریانہ، سکم، آندھرا پردیش، تلنگانہ، اڑیسہ، جموں و کشمیر، جارکھنڈ۔ بھاجپا کے پاس ابھی تک 11 ریاستیں ہیں جس میں گوا سب سے چھوٹی ریاست ہے باقی سب بڑی ریاستیں ہیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ کانگریس اعلی کمان نے کبھی بھی اس ہار کے اسباب کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی اس کا محاسبہ کیا۔ نہ تو سونیا گاندھی نے ہار کے اسباب جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی ان کے صاحبزادے راہل گاندھی نے۔ الٹا انہوں نے تو اپنا غصہ پارٹی کے جنرل سکریٹریوں پر ہی اتاردیا۔جموں وکشمیر اور جھارکھنڈ میں ملی زبردست شکست کا جائزہ لینے کیلئے بلائی گئی میٹنگ میں راہل پارٹی کے حکمت عملی سازوں پر بھڑک گئے۔ 12 تغلق لین میں اپنی رہائش گاہ پر بلائی گئی اس میٹنگ میں پہلی بار راہل اپنے جنرل سکریٹریوں سے ناراض دکھائی دئے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق راہل نے کہا کہ اگر آپ لوگوں نے محنت کی ہوتی تو ان دونوں ریاستوں میں نتیجے مختلف ہوتے۔ ایک سوال کے جواب میں ناراض راہل گاندھی نے ان حکمت عملی سازوں پر نکتہ چینی کی جنہوں نے چناؤ کے دوران کانگریس کی حالت بیحد خراب ہونے کے بارے میں رپورٹ دی تھی۔ راہل گاندھی نے میڈیا شعبے کا کام کاج دیکھ رہے پارٹی جنرل سکریٹری اجے ماکن کی طرف بھی مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ کیا وجہ ہے پارٹی کے ذریعے پارلیمنٹ سے لیکر سڑک تک مودی سرکار کے خلاف جارحانہ مہم چھیڑنے کا اثر عام آدمی تک نہیں پہنچ پایا۔ انہوں نے کہا پچھلے 7 مہینے میں مودی سرکار نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس کو سراہا جائے الٹے تبدیلی مذہب مشن کے چلتے ان کی بھاری بدنامی ہوئی، پھر کیا وجہ ہے کہ مودی کی مقبولیت ابھی بھی برقرار ہے؟ ہم (کانگریس) کے لوگ اپنی بات آخر جنتا تک پہنچانے میں کیوں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں؟ راہل نے تجویز رکھی کہ پارٹی عہدیداران بنیادی سطح کے پروگراموں سے جڑیں اور ان کی باتیں اور تجاویز سنیں اور جاننے کی کوشش کریں کہ عام جنتا کانگریس سے کیا امیدیں رکھتی ہے؟ اور کانگریس کی مقبولیت کا گراف کیوں گرتا جارہا ہے؟ کانگریس لیڈر شپ بیشک اپنے عہدیداران کو کوسے لیکن اصل مسئلہ تو لیڈرشپ کا ہے۔ کانگریس آج بے قیادت لگتی ہے۔ یہ بات کون راہل۔ سونیا گاندھی کو سمجھائے۔
(انل نریندر)

دہلی اسمبلی چناؤ میں مودی اور شاہ کی اگنی پریکشا ہوگی؟

جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر کے بعد بھارتیہ جنتاپارٹی کی نظریں اب دہلی اسمبلی چناؤ پر لگی ہیں۔ 16 سال بعد دہلی کے اقتدار پر دوبارہ واپسی ہونے کو پارٹی بڑا چیلنج مان کر چل رہی ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی کے لئے ایک اگنی پریکشا سے کم نہیں ہے۔ بقول پارٹی صدر امت شاہ دہلی میں بھاجپا کی کڑی پریکشا ہونی ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی طرح کی چوک سے بچنے کے لئے بھاجپا پردھان امت شاہ چناوی حکمت عملی کی باگ ڈور پوری طرح سے اپنے ہاتھ میں رکھنے والے ہیں۔آنے والے دنوں میں دہلی چناؤ کو لیکر کئی اہم قدم اٹھائے جائیں گے۔ جس میں16 برسوں کے بعد دہلی میں پھر سے بھاجپا کی واپسی ہوسکے۔ جھارکھنڈ میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کے بعد اب جموں و کشمیر میں بھی اکثریت کا نمبر جٹانے کیلئے پارٹی پوری کوشش میں لگی ہے۔ ان دونوں ریاستوں کے بعد اب امت شاہ کی پوری توجہ دہلی اسمبلی چناؤ پر مرکوز ہے۔ ذرائع کی مانیں تو امت شاہ عام آدمی پارٹی کو ہلکے میں لینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ حال ہی میں سامنے آئے کچھ سروے نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ دہلی میں وزیر اعلی کے طور پر اروند کیجریوال لوگوں کی سب سے زیادہ پسند ہیں۔ حالانکہ ان میں بھی بھاجپا کی جیت کی بات کہی گئی ہے لیکن پارٹی کسی طرح کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتی۔جمعرات کے دن امت شاہ نے پارٹی کے پردیش دفتر کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں سینئر لیڈروں کے ساتھ بات چیت کی۔ دہلی اسمبلی میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کے لئے پارٹی کو پوری طرح سے جارحانہ کمپین میں لگ جانے کی صلاح دی۔ پارٹی کے لیڈروں کے بیانوں سے صاف لگتا ہے کہ پارٹی دہلی اسمبلی چناؤ کو لیکر پورے جوش میں دکھائی دیتی ہے جبکہ پارٹی کے کچھ سینئر لیڈر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی ارجن سنگھ منڈا کی ہار نے پارٹی کو ایک ایسا صاف پیغام دے دیا ہے کہ اب ہر نیتا صرف نریند ر مودی کے بھروسے چناؤ نہیں جیت سکتا۔ پھر دہلی کی حالت جھارکھنڈ اور جموں و کشمیر سے بالکل الگ ہے۔ دہلی میں بجلی ،پانی، لا اینڈ آرڈر جیسے برننگ اشو ہیں جن کو کیجریوال پوری طرح سے بھنانے میں لگے ہیں۔ ادھر کانگریس بھی یہ ہی امید کررہی ہے کہ شاید دہلی سے پارٹی کی گھر واپسی ہوگی۔ بیشک نریندر مودی کی مقبولیت ابھی بھی ہے لیکن یہ گھٹ رہی ہے۔ اکیلے مودی لہر پر پارٹی دہلی اسمبلی چناؤ نہیں جیت سکتی۔پھر بھاجپا یہ بھی نہیں بتا رہی ہے اگر وہ کامیاب ہوئی تو اس کا وزیراعلی کون ہوگا؟ اس کے فائدے بھی ہیں نقصان بھی۔ بغیر وزیر اعلی اعلان کر چناؤ لڑنا مودی ۔امت شاہ کی نئی تھیوری ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ کی آہٹ شروع ہوچکی ہے چیف الیکشن کمشنر نے بدھ کودہلی کے چیف الیکٹرول افسر اور ضلعوں کے چناؤ افسران اور پولیس کے اعلی افسروں کے ساتھ میٹنگ کی اور چناؤ سے متعلق سبھی اشوز پر تبادلہ خیالات کئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤ فروری2015 میں ہو سکتے ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...