Translater

10 اکتوبر 2015

صدر محترم کی دیش واسیوں کو نیک صلاح

دادری کانڈ کے تکلیف دہ حادثے کے بعد سیاسی لیڈروں کے ذریعے دئے جارہے بھڑکیلے بیان کے پیش نظر صدر محترمہ پرنب مکھرجی نے دیش واسیوں کو ان کے بنیادی اقدار کی یاد دلاتے ہوئے مل جل کر رہنے کی نیک صلاح دی ہے۔ کشیدگی بڑھتی دیکھ بسیڑہ گاؤں میں منگل کی رات فوج تعینات کر دی گئی۔ صدر پرنب مکھرجی نے کہا اخلاقیات ،رواداری اور اکثریت بھارت کے اصولوں میں شامل ہے۔ اسے مٹنے نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے بنیادی اقدار کو دماغ میں بنائے رکھنا چاہئے۔ اسے یوں ہی نہیں گنوا دینا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا ہمارے بنیادی اصول ہیں رواداری،اخلاقیات اور اکثریت اور انیکتا میں ایکتا، جنہیں برسوں سے ہماری تہذیب نے جوڑ کر رکھا ہے اور اس کا جشن منایا۔ انہی اقدار نے ہمیں صدیوں تک ایک ساتھ باندھے رکھا۔ کئی قدیمی تہذیبیں ختم ہوگئی ہیں لیکن ایک کے بعد ایک حملہ اور لمبی غیر ملکی حکمرانی کے باوجود اگر ہندوستانی تہذیب بچی ہے تو یہ اپنے روایتی اقدار کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔ صدر نے حالانکہ بسیڑہ گاؤں کا نام تو نہیں لیا لیکن ظاہر ہے کہ وہ دادری کانڈ سے کافی فکر مند دکھائی دئے۔ یقینی طور سے دادری کاتکلیف دہ واقعے نے دیش کے دل کو ٹھیس پہنچائی ہی ہے دنیا میں بھارت کی ساکھ کو بھی ایسے واقعات سے دھکا لگتا ہے۔ مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس کا کھلے طور سے اظہار بھی کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں مرکزی وزارت داخلہ نے بھی اسی جذبے سے ریاستی حکومت کو ایڈوائزری جاری کر ماحول بگاڑنے والے واقعات پر سخت کارروائی کی صلاح دی ہے۔اس درمیان بسیڑہ میں بدھوار کو ضلع مجسٹریٹ کی موجودگی میں دونوں فرقوں کے لوگوں کی پنچایت ہوئی اوردونوں نے ہاتھ اٹھا کر ایک ساتھ گاؤں میں رہنے کی حامی بھری۔ پنچایت میں اخلاق کے تینوں بھائی پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ گاؤں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ اخلاق کے سب سے بڑے بھائی جمیل گاؤں کے باہر آکر میڈیا سے ملے۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ اب گاؤں چھوڑ دیجئے۔ پنچایت میں اخلاق کے چھوٹے بھائی جان محمد نے کہا کہ ہم گاؤں چھوڑ کر کیوں جائیں؟ یہ ہمارا گاؤں ہے۔ ہم لوگ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہیں گے۔ اخلاق کے بچے بھی واپس آئیں گے۔ اب گاؤں میں امن قائم ہوگیا ہے۔ ہمارا تو ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ ایسے فرقہ وارانہ حادثوں کو گاؤں کے سبھی فریقین کے بزرگوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر سلجھا لینا چاہئے۔ جہاں انتظامیہ اور سرکار آئی وہیں سیاست کی روٹیاں سینکنے والے کچھ سیاسی بھیڑیئے پہنچ کر ماحول میں آگ لگا دیتے ہیں اور ایک بار کشیدگی بھرے ماحول میں یہ سیاسی لیڈر گھس جائیں تو پھر معاملہ سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے اوردیش اور بیرونی ممالک میں بھارت کی ساکھ خراب ہوتی ہے۔ صدر کی صلاح پر سبھی غور کریں۔
(انل نریندر)

ایم پی کے گھر سے دو پپیتے چوری کا معاملہ؟

کبھی کبھی ایسی خبر پڑھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور دکھ بھی ہوتا ہے۔ اب دہلی پولیس پریشان ہے۔ ہوا یہ کہ ایک ایم پی کے گھر سے دو پپیتے چوری ہوگئے۔واردات پنڈت روی شنکر شکل لین میں اڑیسہ کے ایک ایم پی کے گھر ہوئی۔ دلچسپ یہ ہے کہ ایم پی رہائشگاہ کے اسٹاف نے پپیتا چور کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا لیکن وہ چکمہ دے کر بھاگنے میں کامیاب رہا۔ ہائی سکیورٹی زون میں پپیتا چوری سے پولیس کے کام پر پلیتا لگ رہا ہے۔ اس چوری سے ایم پی کی رہائشگاہ کی سکیورٹی انتظامات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ بیچاری پولیس کیا کرتی آخر معاملہ ایک ایم پی کے گھر میں چوری کا تھا۔ بیشک چوری دو پپیتوں کی کیوں نہ ہو۔ تلک مارگ تھانے میں پپیتا چوری کی ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ آس پاس کے سی سی ٹی وی فٹیج لیکر سرگرمی سے چور کی تلاش جاری ہے۔ قارئین کو یاد دلا دیں کہ جون 2014 میں تغلق روڈ علاقے میں ایک راجیہ سبھا ایم پی کے گھر سے دو کٹھل توڑ لئے گئے تھے۔ پولیس نے خوب چکر اور چھان بین کی تھی لیکن یہ کیس آج تک لٹکا ہوا ہے۔ ایسے میں پپیتا چور نے نئی چنوتی دے ڈالی ہے۔ پپیتا چوری کی یہ واردات اڑیسہ کے ایک حلقے سے ایم پی ارجن مرن سیٹھی کی کوٹھی نمبر21 میں ہوئی۔ کوٹھی کے ملازم سریش کمار نے بتایا کہ ان کے ساتھی ونود کا بیٹا ٹیوشن جا رہا تھا تب اس نے ایم پی رہائشگاہ کی ایک کھڑکی کے اوپر چور کو لٹکے دیکھا، جو چھوٹی سی جگہ سے کھڑکی میں گھس پر کنڈی کھولنے کی کوشش کررہا تھا۔ اس وقت لڑکوں کے شور مچانے پر سرونٹ کوارٹر کے اسٹاف نے قریب25 سالہ لڑکے کو پکڑلیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ اندر کیوں آیا؟ لڑکے نے بتایا کہ وہ پپیتا لینے آیا تھا۔ اسٹاف نے تلاشی لی تو بیگ میں دو پپیتے ملے۔ لڑکے نے بتایا کہ اس نے دونوں پپیتے ایم پی کے رہائشی باغیچے سے توڑے ہیں۔ وہ گیٹ کھول کر داخل ہوا تھا۔ اسٹاف اس سے پوچھ تاچھ کررہا تھا کہ لڑکا انہیں چکمہ دے کر بھاگ گیا۔ پولیس کو اس کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ تفتیش میں پولیس کو یہ پریشانی آئی کہ آخر چوری ہوئی کیا؟ آخر میں یہ لکھ کر ایف آئی آر درج کی گئی کہ چور نے دو پپیتوں کے علاوہ کچھ نہیں لیا لیکن اس کا ارادہ رہائشگاہ میں گھس کر چوری کرنے کا تھا۔ کیا یہ معاملہ صرف پپیتا چوری کا ہے، دال میں کچھ تو کالا ہے؟ 
(انل نریندر)

09 اکتوبر 2015

کیا لالو کا بیف بیان بہار میں ٹرننگ پوائنٹ ہوسکتا ہے

بہار اسمبلی چناؤ میں پہلے دور کی پولنگ کو اب مشکل سے 48 گھنٹے بچے ہیں۔ کانٹے کی اس ٹکر میں کون فتحیاب ہوتا ہے اس کا پتہ تو 4 دور کی پولنگ کے بعد 8 نومبر کو ہی چلے گا جب ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ حالیہ واقعات کابہارچناؤ پر کیا اثر پڑے گا؟ مہا گٹھ بندھن کے سب سے بڑے کرائٹ پولر لالو پرساد یادو چناؤ سے ٹھیک پہلے بیف پر اپنے متنازعہ بیان اور دونوں بیٹوں کو لیکر بڑے جھمیلے میں پھنستے دکھائی دے رہے ہیں۔ بہار چناؤ میں گؤ ماس کا اشو سارے تجزیوں و حکمت عملیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہوا کا رخ بدل سکتا ہے۔وکاس،ریزرویشن، اگڑا پچھڑا جیسے تمام اشوز پربحث ختم ہوچکی ہے۔ دراصل لالو نے اپنے بیان میں نہ صرف ہندو تو گؤ ماس کھانے والا بتایا ہے بلکہ لالو سے مسلم بھی اس بات کو لیکر خفا ہیں کہ انہوں نے گوشت کھانے والوں کو غیرمہذب کہہ دیا ہے۔ مسلمانوں نے اسے اپنی توہین مانا ہے۔ اس پر نہ تو کوئی کانگریسی تبصرہ کررہا ہے اور نہ ہی جنتا دل (یو) کا ترجمان۔ مہا گٹھ بندھن کے لوگ بھی دبی زبان میں ماننے لگے ہیں کہ پہلے مرحلے کی پولنگ میں گؤ ماس ایک بڑا اشو ہوسکتا ہے۔ کانگریس لیڈر آف دی ریکارڈ کہتے ہیں کہ لالو کی طرف سے آرہی صفائی معاملے کو اور الجھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لالو فرماتے ہیں کہ ان کے منہ سے شیطان نے بیف والی بات کہلوادی ہے۔ لالو کی اس وضاحت سے بھی سیاسی سنگرام رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مخالف کہہ رہے ہیں کہ جب ابھی سے لالو کے منہ میں لفظ ’شیطان‘ آرہا ہے تو آگے کیا ہوگا؟ چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو میٹرک بھی پاس نہیں ہیں۔ ان کے لئے الگ ایک مصیبت ثابت ہورہا ہے۔ اسے لیکر چاروں طرف سے ان پر سوالوں کی بوچھار ہورہی ہے۔ بات یہاں پر ہی نہیں رکی ہے تیجسوی چھوٹے بیٹے ہیں لیکن نامزدگی کے وقت داخل کردہ حلف نامے اور پیدائشی سرٹیفکیٹ کے ثبوت کے مطابق تیجسوی بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو سے بڑے ہیں۔ بیٹا میٹرک پاس نہیں ہیں اور عمر کا تنازعہ اب تک پردے میں ہی تھا جو اچانک ایک ساتھ سامنے آگیا ہے۔ وہ اس وجہ سے کہ دونوں بیٹے پہلی بار چناؤ لڑ رہے ہیں اور نامزدگی کے وقت دونوں باتیں سامنے آگئی ہیں۔ دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ دادری کانڈ اور نیپال کے مدھیشیوں کے اشو پر کیا اثر پڑتا ہے؟ بہار اسمبلی چناؤ میں بیشک نیپال میں جاری مدھیشی تحریک تھی اس کا ذکرنیتاؤں کی تقریر میں نہیں سنائی دے رہا ہے لیکن نیپال سے آنے والی ہوا بہار کے سرحدی علاقوں میں بھاجپا کیلئے فیصلہ کن رخ طے کرسکتی ہے۔ مدھیش آندولن سے بہار کا ایک بڑا علاقہ سیدھے طور سے جڑا ہوا ہے۔ بہار اور مدھیش کے درمیان روٹی بیٹی کا رشتہ رہا ہے۔ مدھیش میں خاص طور سے دو برادریوں کا دبدبہ ہے۔ ایک یادو اور دوسرا برہمن۔ ان علاقوں میں پی ایم نریندر مودی کو لیکر لوگوں میں امید قائم ہے اور مودی کی ریلیوں کا بھاجپا اتحاد کو فائدہ مل سکتا ہے۔ دوسری طرف دادری کانڈ سے بھاجپا کو نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ بہار کی 50 سیٹوں پر مسلم ووٹ اہم ہے۔ 17 فیصدی ووٹر ہیں۔ بیشک بہار میں اسد الدین اویسی کی پارٹی کی اینٹری کے درمیان یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ اس بار مسلم ووٹوں کا رخ کس کی تقدیر کھلائے گا۔ کیا سیمانچل میں اویسی کامیاب ہوں گے یا پھر وہ مسلم ووٹوں کے بکھراؤ کو یقینی کر بھاجپا کیلئے راہ آسان کریں گے۔ ویسے ایک تازہ سروے آیا ہے۔ لوک نیتی ۔ سی ایس ڈی ایس کے ذریعے ستمبر کے آخری ہفتے میں کرائے گئے سروے میں یہ سامنے آیا ہے کہ بی جے پی اتحاد کو مہا گٹھ بندھن کے مقابلے 4 فیصدی کی بڑھت مل رہی ہے۔ سروے کے مطابق اگر ستمبر کے آخری ہفتے میں چناؤ کرائے جاتے تو این ڈی اے کو 42 فیصد ووٹ جبکہ مہا گٹھ بندھن کو28 فیصدی ووٹ حاصل ہوتے۔ سماجوادی پارٹی اور پپو یادو کے تیسرے مورچے کا کوئی اثر نظر نہیں آتا لیکن چناؤ میں ہر دن پوزیشن بدلتی ہے اور پچھلے کچھ دنوں میں تو ماحول تیزی سے بدل رہا ہے۔ دیکھیں کہ ان اشوز کا کیااثر چناؤ پر ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

اس عام آدمی سے 10گنا تنخواہ ’’آپ‘‘ ممبران کی ہوگی

دہلی میں عام آدمی پارٹی (آپ) عام آدمی کے بوتے پر سیاست میں شفافیت لانے کیلئے ، وی آئی پی کلچر ختم کرنے کے اشوز پر برسر اقتدار آئی تھی لیکن پچھلے 9 مہینوں میں اروند کیجریوال اپنے سارے وعدوں سے مکر گئے اور اپنے لوگوں ممبران اسمبلی چنندہ ورکروں کی دیوالی منانے پر لگے ہوئے ہیں۔ آج چنندہ آپ ورکروں کو بھاری تنخواہ ،گاڑی وغیرہ کی سہولت دی جارہی ہے۔ اب ممبران اسمبلی کی تنخواہ وغیرہ سہولیات بڑھانے کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اگر آچاریہ کمیٹی کی سفارشیں سرکار کی طرف سے منظور کر لی گئیں تو ممبران اسمبلی کے بھتوں میں بھاری اضافہ ہوجائے گا۔ اگر یہ سفارشیں مانیں تو راجدھانی کے ممبران کی تنخواہ اس عام آدمی کے مقابلے10 گنا ہو جائیں گی جس کی دہائی دے کر کیجریوال جیتے تھے۔ کمیٹی نے منگل کو سونپی اپنی رپورٹ میں ممبران کی ماہانہ تنخواہ میں موجودہ 88 ہزار روپیہ ماہانہ سے بڑھا کر 2 لاکھ10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ 2014-15 کے دوران دہلی میں فی شخص سالانہ آمدنی 2 لاکھ41 ہزار روپے تھی۔اس حساب سے یہاں عام آدمی کی اوسط تنخواہ قریب20 ہزار روپے ہے جو ممبران اسمبلی کی مجوزہ تنخواہ سے 10 گنا کم ہے۔ لوک سبھا کے سابق سکریٹری جنرل پی ڈی ٹی آچاریہ کی سربراہی میں بنی تین نکاتی کمیٹی نے اسمبلی اسپیکر رام نواس گوئل کو یہ رپورٹ سونپی ہے۔ ماہرین کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ نئی تنخواہ بھتے لاگو ہونے کے بعد ہر 12 ویں مہینے بنیادی تنخواہ میں 10 فیصدی اضافہ کیا جائے۔ یہ اضافہ ہر ہزار پر ہی ہوگا۔ یعنی اگلے پانچ سالوں کے دوران عام جنتا کے اس نمائندے کی تنخواہ میں25 ہزار روپے کا اضافہ ہوجائے گا۔ ممبران اسمبلی کی تنخواہ میں اضافے کی سفارش بھلے ہی ہوگئی ہو لیکن اس کے لاگو ہونے میں ابھی لمبا وقت لگ سکتا ہے۔دراصل ابھی ایک لمبی کارروائی کے بعد ہی ممبران اسمبلی کی تنخواہ میں اضافہ ہوگا۔ ابھی تو یہ سفارشیں دہلی سرکار کے پاس بھیجی جائیں گی۔ سرکار کا مالیاتی محکمہ اس پر اپنی رائے دے گا جس میں سرکار کو یہ بتایا جائے گا کہ اضافے سے کتنا مالی بوجھ پڑے گا۔ اس کے بعد دہلی کیبنٹ مہر لگا کر اسے دہلی اسمبلی میں تنخواہ اور بھتہ ترمیمی بل 2015 کی شکل میں پیش کرے گی۔ اسمبلی سے منظوری ملنے کے بعد اسے بھارت سرکار کی وزارت داخلہ کو بھیجے گی۔ وہاں سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری ملے گی پھر صدر کے پاس منظوری کے لئے بھیجا جائے گا ۔ اس میں لمبا وقت لگ سکتا ہے اور سفارشوں میں بھاری کانٹ چھانٹ ممکن ہے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے؟ ممبران اسمبلی کی تنخواہ و بھتے میں اضافے کا اثر اسمبلی کے دیگر ملازمین پر بھی ہوگا۔ لمبا ری ایکشن ہوگا۔
(انل نریندر)

08 اکتوبر 2015

ہماری لڑائی پاکستان سے نہیں دہشت گردی اور دہشت گردوں سے ہے

جموں و کشمیر میں جوانوں کی شہادت پر پورادیش فکرمند ہے۔ آئے دن پاکستانی ہمارے بہادر جوانوں کو مار تے رہتے ہیں اور ہم سوائے اظہار غم کے کچھ اور جوابی کارروائی نہیں کرتے۔ اب تو ساری دنیا کو یہ پتہ چل چکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی پناہ گاہ ہے اور وہ بھارت پر حملے کرنے سے باز آنے والا نہیں۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ شیو سینا نے اپنے ماؤتھ پیس پیپر ’’سامنا‘‘ کے ذریعے مودی سرکار کی قوت ارادی پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ سامنا میں لکھا ہے پاکستان اسپانسر دہشت گردی کا صحیح جواب ہے پاکستان میں گھس پر منہ توڑ جواب دینا اور اس کے لئے قوت ارادی کی ضرورت ہے اور ہمت بیرونی ممالک سے ادھار نہیں لی جاسکتی۔ اب تو’’ ہمت دکھاؤ‘‘ عنوان سے لکھے اداریہ میں شیو سینا نے لکھا ہے کہ فوجیوں کی قربانی دہشت کو بے چین اور کمزور کررہی ہے۔ ہندوستان میں تینوں فوج زبردست اہل ہیں پھر وہ چاہے ایئر فورس ہو، بری فورس ہو یا بحری فورس ہو۔ ہماری فوجوں کی قوت کی تصدیق ایئر فورس چیف انوپ شاہ نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں گھس کر میانمارجیسی فوجی کارروائی کی مانگ کرتے ہوئے اداریہ میں آگے لکھا ہے کہ ایئر فورس چیف کہتے ہیں ہمیں صرف سرکاری حکم کی ضرورت ہے اب یہ قوت ارادی کہاں سے لائیں۔ یہ امریکہ، فرانس، جرمنی، برطانیہ جیسے ملکوں سے تو ادھار نہیں لی جاسکتی۔ اس کیلئے سرکار کے حوصلے اور دبنگی پیدا ہونی چاہئے۔ پتہ نہیں ہم کارروائی کرتے کرتے آخری لمحوں میں کیوں رک جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد اٹل سرکار نے 9 مہینوں تک ہندوستانی فوج کو الرٹ پر رکھا تھا۔ 9 مہینے تک بھارت اور پاکستانی فوجیں آمنے سامنے تھیں پھر بھی کوئی جوابی کارروائی نہیں ہوئی۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے دو دن پہلے چونکانے والا انکشاف کیا ہے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں انہوں نے دعوی کیا کہ26/11 ممبئی حملے کے بعد بھارت نے پاکستان میں ہوائی حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ بھارت کا مقصد لشکر طیبہ و جماعت الدعوی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ قصوری نے کہا کہ امریکی صدر کے عہدے پر سابق امیدوار جان میکن کی قیادت میں امریکی نمائندہ وفد26/11 حملے کے بعد ان سے ملا تھا۔ میکین نے بتایا کہ بھارت لاہور کے پاس لشکر اور جماعت الدعوی کے ٹھکانوں پر ہوائی حملہ کرسکتا ہے۔ قصوری نے کہا کہ میکین نے انہیں بتایا تھا کہ وہ بھارت سے آرہے ہیں۔ حملے کے بعد بھارت میں بہت غصہ ہے۔ پاکستانی فوج نے میکین سے کہا تھا کہ وہ بھارت کے ہوائی حملے کا نپا تلا جواب دے گی۔ ادھر ایئر فورس کے چیف اروپ راہ نے چند دن پہلے کہا تھا کہ بھارتیہ فوج پاکستان میں گھس پر آتنکی کیمپوں کو تباہ کرنے میں اہل ہے لیکن سیاسی لیڈر شپ سے اجازت ملے تو کنٹرول لائن سے لیکر مقبوضہ کشمیر تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پچھلے دنوں میانمار میں جیسی کارروائی کی گئی تھی ویسی ہی مقبوضہ کشمیر میں بھی کیا ہوسکتا ہے؟ راہ نے کہا اہلیت تو ہے لیکن اس کا فیصلہ ہم نہیں لے سکتے ۔ اس کا فیصلہ تو سیاسی طور پر ہونا چاہئے۔ ہمارا خیال ہے بھارت کی جوابی کارروائی میں تھوڑا خطرہ ضرور ہے ہمیں یہ خطرہ مول لینا ہی پڑے گا۔ ہمارا دشمن پاکستان نہیں دہشت گرد اور دہشت گردی ہے اور اسے کند کرنے میں ہمیں کسی بھی حد تک جانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔ وقت آگیا ہے مودی سرکار پاکستان کو ایسا سبق سکھائے کہ وہ بھارت کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے لیکن اس کے لئے قوت ارادی کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

دہلی میں تو سانس لینا بھی دشوار ہوگیا ہے

دہلی میں ہوائی آلودگی کی ساری حدیں پارہوتی جارہی ہیں۔ اب تو دہلی میں سانس لینے سے بھی ڈر لگنے لگا ہے۔ بھارت کے سب سے زیادہ آلودہ 13 شہروں میں دہلی نمبر 1 پر ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایم ایل دوت نے اپنے گھر و کنبے کی کچھ مثالیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں سانس لینا دشوار ہوگیا ہے اور ہوا میں زہر گھل رہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں یہاں تک کہ میرا پوتا بھی ماسک پہنتا ہے۔ جب وہ ماسک لگاتا ہے تو کارٹون کریکٹر نرجا جیسا دکھائی پڑتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلے کواخبار کے صفحے اول پر شائع کریں۔ عام طور پر اخباروں کو ایسی نصیحت نہیں کی جاسکتی لیکن لوگوں میں بیداری لانا ضروری ہے اس لئے شائع کریں۔ چیف جسٹس اس مسئلے کے تئیں کتنے سنجیدہ ہیں ان کے اس تبصرے سے پتہ چلتا ہے۔ معاملے میں ایک 1985 میں داخل عرضی کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس سامنے آئے۔ قانون داں و سینئر سالیسٹر ہریش سالوے نے عدالت کو بتایا کہ کمرشل گاڑیاں پیسہ بچانے کے لئے قومی شاہراہ سے نہیں گزرتی ہیں بلکہ دہلی کے اندر سے ہو کر گزرتی ہیں اس وجہ سے بھی دہلی میں آلودگی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق قریب 20 ہزار کمرشیل گاڑیاں روزانہ دہلی میں اینٹری کرتی ہیں۔ ایم سی ڈی کے مطابق 22628 جبکہ پرائیویٹ ایجنسیوں کے مطابق 38588 بڑی گاڑیاں (ٹرک) ہر روز باہر سے دہلی میں آتے ہیں۔ 30 فیصد سے زیادہ آلودگی ٹرکوں سے ہی بڑھتی ہے اور بچے و بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کسی مذہبی کتاب میں نہیں لکھا ہے کہ دیوالی پر پٹاخے چھوڑے جانے چاہئیں۔ یہ روشنی کا تہوار ہے شور کا نہیں۔ نیشنل گرین ٹریبیونل کے جسٹس چوڑی سالوے نے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے تبصرہ کیا تھا۔عرضی دیوالی پر چھوڑے جانے والے پٹاخوں اور اس سے ہونے والی ہوائی آلودگی سے متعلق تھی۔اس پر مرکز سے 12 اکتوبر تک جواب مانگا گیا ہے۔ 4 دن پہلے دہلی کے تین کنبوں نے 3سے14 مہینے کی عمر تک کے بچوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں بھی ایک اپیل دائر کی گئی ہے۔ اس سے صاف ہوا میں سانس لینے کے لئے معقول ماحول قائم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔وکیل سالوے نے عدالت میں کہا میری بیٹی اور بیوی کو دمہ ہے ۔ کچھ دن پہلے انہیں اسٹرائڈ لینا پڑا ہے۔ بہت بری حالت ہے۔ سانس لینا مشکل ہورہا ہے۔ ماحولیاتی قانون کا اصول ، آلودگی پھیلانے والوں کو جرمانہ کرنا ہوگا۔ اب آئینی انصاف نظام کا حصہ بن چکا ہے۔ دہلی میں اگر آلودگی روکنی ہے تو ہم سبھی کو اس کے لئے متحد ہونا پڑے گا۔ سرکار، عدالتیں تو اپنا کام کررہی ہیں لیکن جب تک دہلی کے شہری اس میں ہاتھ نہیں بٹاتے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ وہ بھی آلودگی کی مار سے بچ نہیں سکتے۔
(انل نریندر)

07 اکتوبر 2015

شام کو لے کر امریکہ اور روس میں اختلافات

مشرقی وسطی میں پہلے سے ہی الجھی ہوئی سیاست اور زیادہ الجھ گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق روسی جنگی جہازوں نے شام میں اسلامی اسٹیٹ کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے شروع کردیئے ہیں۔ یہ حملے ہومز سے کئے گئے امریکہ کو پہلے سے جانکاری دی گئی تھی۔ روس کے صدر ولادیمیر پتن نے حملے کے ساتھ ہی شام کے صدر بشرالاسد سے فون پر بات کی۔ پتن نے اپیل کی کہ وہ شام میں جاری خونی لڑائی کو ختم کرانے کے لئے سیاسی سمجھوتے کے لئے تیار ہوجائے۔ اس سے پہلے روسی پارلیمنٹ نے شام میں روسی ایئر فورس کو ہوائی حملے کے لئے اپنی منظوری دے دی تھی۔ روس کے سینئر افسر سرگئی رونوف کے مطابق شام کی بحریہ کی مدد کے بعد روس نے یہ فیصلہ لیا ہے ۔ رونوف نے صاف کیا ہے کہ شام میں مزید فوج کی تعیناتی نہیں ہوگی صرف ایئر فورس ہی تعینات کی جائے گی۔ شام اور عراق میں آئی ایس کے فوجی ٹھکانوں پر امریکی قیادت والی اتحادی فوج پچھلے ایک سال سے ہوائی حملے کررہی ہیں لیکن صدر پتن کے چیف آف اسٹاف رونوف کے مطابق امریکہ اور فرانس کے ذریعے شام پر کئے جارہے حملہ بین الاقوامی قوائد کے مطابق نہیں ہے کیونکہ اس کے لئے اقوام متحدہ یا شام کی سرکار سے کوئی اجازت نہیں لی گئی ہے۔ روس اپنے قومی مفادات کو ذہن میں رکھ کر ایسا کررہا ہے۔ اس کے مطابق ہزروں روسی شہری آئی ایس میں شامل ہوچکے ہیں اور روس لوٹنے کے بعد یہ روس کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ادھر امریکی صدر براک اوبامہ نے کہاہے کہ شام کو لے کر روس کی حکمت عملی تباہ کاری کاذریعہ ہے کیونکہ صدر ولادیمیر پتن اسلامی اسٹیٹ کے دہشت گردوں اور شام کے کٹر حکمراں بشرالاسد حکومت کا مقابلہ کرنے والے اصلاح پسند گروپ کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ خطرناک دہشت گرد گروپ اسلامی اسٹیٹ آئی ایس کو ختم کرنے میں دونوں دیش اور پوری دنیا یکساں مفاد شامل ہے انہوں نے بہرحال پتن اس سلسلے میں جو بھی بات کہی اس سے یہ صاف ہے کہ وہ آئی ایس اور اسد کو ہٹانے کی خواہش رکھنے والے مخالف اصلاح پسند سنی کے بیچ فرق نہیں کرتے۔ دراصل ہمیں لگتا ہے کہ روسی صدر شام میں بمباری سے امریکہ پریشان ہوگیا ہے۔ کیونکہ امریکہ کی طرح روس دہرے پیمانے نہیں اپناتا امریکہ ایک طرف آئی ایس کے خلاف ڈرامہ کرتا ہے اوراس کا اصل مقصد بشرالاسد کی سرکار کا تختہ پلٹنا ہے جب کہ روس آئی ایس کو ختم کرنے کے لئے اسد کی فوج کی مدد کررہا ہے۔ مستقبل قریب میں ہے اس سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا روسی فوج شام میں کود پڑیں۔
(انل نریندر)

ممبئی ٹرین دھماکوں میں 5کو موت کی سزا اور 7کو عمر قید

ممبئی کی اسپیشل مکوکا عدالت نے 2006 کے لوکل ٹرین دھماکوں کے کیس میں 9 سال بعد ہوئے حادثے کے بارے میں اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اس مقدمے میں 7قصورواروں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بم لگانے کے 5 قصورواروں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔9 سال پرانے سلسلے وار بم دھماکوں میں 188 لوگ مارے گئے تھے۔ کورٹ میں موجود کئی متاثرین نے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس فیصلے سے راحت ملی ہیں۔ 11جولائی 2006 کی شام آتنک وادیوں نے 11منٹ میں 7جگہوں کو نشانہ بنایا تھا۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے۔ 6:24 بجے پہلا دھماکہ کھار روڈ پر ہوا۔ اس کے بعد 6:25 پر دوسرا6:26پر تیسرا دھماکہ6:29 پر میرا روڈ پر اور سامتا کروز میں ہوا اور 6:30 بجے ماہین اور ساتواں دھماکہ 6:35پر ماٹونکا پر ہوا۔ اتنی سوچ سمجھ کر بنائی گئی سازش کے تحت یہ دھماکہ کیا گیا ان دھماکوں کی سازش لشکر طیبہ کمانڈر اعظم یحی نے رچی تھی۔ اور سیمی کے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کو انجام دیا گیا۔ مارچ2006میں پاکستان کے شہر بھاؤلپور میں چیما کے گھر یہ سازش کاپورا خاکہ بنایا گیاتھا۔ مئی 2006میں اسے آگے بڑھاتے ہوئے ایک ٹریننگ کیمپ میں آتنکیوں کو بم بنانے اور ہتھیار چلانے کی ٹریننگ دی گئی۔
اے ٹی ایس نے اپنی چارج شیٹ میں کہاہے کہ دھماکوں کے لئے سازو سامان اکٹھا کرنے سے لے کر ٹرینوں کی آمدوروفت کے بارے میں ٹوہ لینے کے لئے ملزمان نے بڑی صفائی سے اپنے کاموں کو انجام دیا لیکن وہ بچ سکے کچھ ملزمان نے لوکل ٹرینوں کے ساتھ ورلڈ ٹریڈ سینٹر ممبئی اسٹاک ایکسچینج مہا لکشمی مندر، سدھی نائک مندر کا بھی معائنہ کیاتھا۔ لیکن انہیں بم دھماکوں کے لئے لوکل ٹرینوں کو اس لئے چنا کیونکہ انہوں نے جن مقامات کا سروے کیاتھا وہاں زبردست سیکورٹی تھی۔ اے ٹی ایس کے مطابق ملزم شیخ، سہیل محمود، شیخ امیر احمد شیخ اور ندیم حسین خاں نے سازش رچے جانے کے بارے میں ہوئی میٹنگوں میں شرکت کی اورمقامی ٹرینوں کا سروے بھی کیا۔ دھماکوں میں رول نبھانے والے 13 پاکستانی شہری یہ سب فرار ہے اے ٹی ایس کے اس وقت کے چیف پی ایس رگھونشی نے 7 ٹیمیں بنا کر ان کی نگرانی کی تھی۔ پولیس نے 400 لوگوں کوحراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی۔ دھماکوں کی جگہ سے ملے پریشر کوکر کے ہینڈل سے جانچ کو نئی راہ ملی اور ان دکانوں کاپتہ لگایا گیا جہاں سے یہ لے گئے تھے۔ایک ہفتے کے بعد پہلا ملزم بہار کا باشندہ کمال انصاری پکڑ میں آگیا۔ رگھونشی نے کہا کہ فیصلے نے ہماری کوششوں کو صحیح ثابت کیاہے کہ دیر آئے درست آئے۔
(انل نریندر)

06 اکتوبر 2015

Even critics of Modi will admit he has boosted the pride of every Indian

I am neither a blind follower of Prime Minister Narendra Modi nor his compulsive critic. I neither admire him blindly nor seek faults in him. I openly speak whatever I like and whatever I dislike. Even his critics will admit the fact that Narendra Modi has presented a new image of India before the world after assuming office. He has made Indians feel proud. Or else India had an image abroad of being a country of snake-charmers where elephants walk on road. The red carpet welcome of Modi in various countries of the world including the US is spectacular. This welcome is not stage managed one. He has always talked for the Indian interests, keeping the nation first. The red carpet welcome accorded to him recently has not been accorded to any other PM. Even Dr. Manmohan Singh considered a pet of US was never given such a welcome. India was big then, having a large market but despite all these he could not leave a mark on the world stage. Though Narendra Modi has to face criticism in India, within own country Modi is being criticized and questions are asked frequently about the Good Days he had promised? Having faced a shameful defeat in the polls, the irritated Congress may be naming him as aerial or NRI PM yet they also admit that Modi has given every Indian in the world a new identity in his own nation.

CEOs of the companies like Google, Facebook, Microsoft and Apple are not common men. At present they have the best minds in the world and run these millionaire companies. It’s not easy to talk with these stalwarts in the same wave length. You need equal capacity, equal knowledge to talk at their level. PM has tried to connect India with the Digital World of today through his Silicon Valley visit and if these stalwart companies are ready today to help in Digital India it’s just because of Narendra Modi’s efforts.

Rajiv Gandhi was the first Prime Minister to talk about the computer. After him it’s Modi to move ahead the vision of Rajiv. Modi has an art of touching the heart of the audience besides being a good orator and giving an impressive speech. During his visit to Facebook headquarter, Modi alongwith CEO Mark Zuckerberg answered to the questions of people there. During the question-answers, Mark mentioned that there was a time when people called to buy Facebook. I was also in trouble. Then I visited Steve Jobs. He told me that you must visit a temple if you go to India. I visited India and also a temple. I was shown the way asked at the temple and see where I am now. Zuckerberg coloured his profile picture in Indian tricolour to support Digital India. Millions of Facebook users changed their profile picture in tricolour. Doesn’t it depict the significance, honour of India and the temple? During the course of question-answer Mark asked about his mother. Modi told him candidly – I belong to a poor family. I have sold tea in my childhood. My father had passed away. My mother is above 90 years of age and still she does all her work. While we were young, my mother used to wash utensils at homes to earn livelihood and feed us. He was emotional while saying it. The fact touched the heart of hundreds of Facebook employees present there; most of them were of Indian origin. Modi has such quality that he talks in such a way every person connects himself with him. At the same time parents of Mark Zuckerberg were present in the hall, they stood up in his honour. A question rose there: why should India look towards the world with a hope? Modi replied – India is the largest democracy and the fastest growing economy of the world. If you ask an Indian during the last one and a quarter year, his approach has changed. He looks towards India with a feel of much pride. India is emerging as a better option of investment. We want to make India an eight trillion to 20 trillion economy. 

On the concluding day of his US visit, Modi strongly targeted Pakistan in SAP Centre. Addressing 18 thousand people of Indian origin there; he said that debate is going on over the good and bad terrorism in the world. Terror is terror. We are making the world understand the terrorism and the world is raising questions only about us. Terrorism may reach any part of the world. It is the responsibility of the UN to clearly define the terrorism so that the world may decide the path to proceed and there is peace in the world. He said that the UN has not defined the terrorism in the lest70 years. You can imagine how many years it will take to end the terrorism in this way. I have written to all the nations of the world and appealed to take strict action on terrorism.

At last I would like to mention that while Modi was in the US; at the same time Pakistani Prime Minister Nawaz Shareef was also there to address the United Nations. Now hear what the Pakistani media reports on the visit of their PM: A Pakistani newspaper mentioned Modi as a rock star and a clever politician and reported that he was welcomed as a rock star everywhere in the US. Another reputed newspaper of Pakistan “The Nation” while openly praised PM Modi in its editorial, cursed own prime minister in this context. The paper reports that Modi from India is attending various celebrations and programmes and expressing his views, while our prime minister (Shareef) has just one platform of UN to plead his view, freely The editorial has also reported Modi’s visit to Google and Facebook. The paper asks that while Modi is inviting the CEO of Silicon Valley to invest in India what is our prime minister doing?

-        Anil Narendra

 

Frank speech of Russian President Vladimir Putin

While speaking at the 70th Annual Session of United Nations in New York on 28th September, President of Russian Federation Vladimir Putin, without naming US, blamed its domineering and arbitrary policy for today’s biggest problem of terrorism and asked all the nations to fight against all terrorist powers including Islamic State (IS). He also expressed the Russian willingness to form a comprehensive forum and front to serve this aim. Analysing the present situation of North Africa, Syria and entire Western Asia, President Putin in about 23-minutes speech said that it’s the result of their policy of toppling the reigns of dislikes by revolt, creating anarchy and violence and abusing the human rights, forcing millions of people to take shelter in other nations leaving behind all their belongings. Pointing towards the US, Putin asked - do you know what you’ve done? He reminded that at a time erstwhile Soviet Union had spread instability and anarchy in various regions of the world through the export of revolution and ideology; and now the sole power point (US) of the world, emerged after the cold war, is also repeating the same mistake by spreading mayhem by destroying Iraq, Libya and local regime on the pretext of restoring democracy. To serve this purpose, terrorists were nursed; initially they targeted on toppling the secular governments of dislikes but now thousands of jehadis are joining the Islamic State born with the times. What President Vladimir Putin frankly said, Indian Prime Minister Narendra Modi has been saying. Addressing thousands of Indian origin people gathered in St. George in the US, Modi clearly said that the terrorism cannot be fought partially. He urged all the nations of the world and the UN to frame a single policy and sharp action on terrorism instead of separate policies. Not only this, targeting the people drawing a dividing line between the good and bad terrorism he said that it should be clear that what is the definition of terrorism and what should not be treated as terrorism? It would be fatal for all of us if we leave a space between the ‘yes’ and ‘no’ to the terrorism. We will never be able to combat terrorism like this. Modi put Pakistan in the dock without naming it. The entire world is serious on PM’s demand that terrorism should be fully defined.  We get this acknowledgement from the speech of President Putin.
PM Modi’s campaign against the terrorism is succeeding. UN Secretary General Ban Ki-moon has said that the entire world needs to put combined efforts to combat growing terrorism. He said that the governments alone can’t do this. All together the whole world will have to work for it. Terrorism today, whether in any form, under any banner, has become the biggest problem of the world and it needs global efforts to combat this problem.  Addressing the summit of leaders for combating the violent terrorism he also said that the violent terrorist groups are dangerous for international safety and security. It’s dangerous not only to a particular nation but also to every nation. We appreciate the frank speech of Russian President Putin exposing the root of terrorism.
Anil Narendra

پی او کے کے کشمیریوں کو اس جہنمی زندگی سے آزاد کرائیں

پاکستان کے قبضے والے کشمیر کے حالات حالیہ موصولہ ویڈیو سے بے نقاب ہوئے ہیں۔ سیدھی بات چیت کے عین موقعے پر بھاگ جانے والے پاکستان کو بھارت کو کوسنے کی جگہ اپنے اندرونی حالات پر غور کرنا چاہئے۔ جو ویڈیو پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے بارے میں عام ہوئے ہیں ، ان پر نہ تو ہمیں کوئی تعجب ہوا ہے اور نہ ہی ان کے اصلی ہونے پر ہمیں کوئی شک ہے۔ یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ ان ویڈیو اورخبروں کی اشاعت میں ہندوستانی پبلسٹی اور خفیہ مشینری کا ہاتھ ہو لیکن تعجب تو اس بات کا ہونا چاہئے کہ اب تک پاکستان کے قبضے والے کشمیر (پی او کے)سے اس طرح کی خبریں کیوں نہیں آئیں۔ دنیا بھی حیران ہوگی کہ بین الاقوامی اسٹیج سے بھارت کے کشمیر کی زیادتیو ں کا تو پاکستان ہر ممکن موقعے پر رونا روتا ہے لیکن اپنے علاقے کے کشمیر میں وہ جو کشمیریوں سے کررہا ہے ان کے بارے میں کبھی کچھ کیوں نہیں بولتا یا بتاتا۔ بھارت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا اہم اسپانسر ہے اور صاف کیا کہ امن کشمیر سے فوج ہٹانے سے نہیں بلکہ پاکستان کو دہشت گردی چھوڑنے سے ہوگا کیونکہ اسلام آباد دہشت گردی کو اپنی سرکاری پالیسی کے جائز ہتھیار کی شکل میں استعمال کرتا رہا ہے۔ بھارت نے پاکستان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کو جلد خالی کرے۔ کاٹ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی اس لئے پاکستان کی لاکھ کوششوں کے باوجود دنیا اب اس جھمیلے میں نہیں پڑے گی کہ کون دنیا میں دہشت گردی کا گڑھ ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بھارت میں کشمیریوں کو کئی شکایتیں ہیں۔ کوئی بھی علاقہ برسوں سے فوج کے ماتحت رہے تو عام شہریوں کو طرح طرح کی پریشانیاں ہونا لازمی ہیں۔ اس کے باوجود بھارت میں جموں و کشمیر کے شہریوں کو کافی آزادی ہے۔ کم سے کم وہ اپنی شکایتوں کو کھلے طور پر کر سکتے ہیں۔ کشمیری اسمبلی چناؤ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور اپنی من پسند سرکار کو چنتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں تو جمہوریت کی کمی رہی ہے ۔ پاکستان میں فوجی حکومت کا لمبا دور رہا ہے اس لئے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو زیادہ شکایتیں ہونا فطری ہے۔ کشمیری کلچر الگ ہے چاہے وہ بھارت میں ہو یا پاکستانی حصے والے کشمیر میں ہو۔ پاکستان میں جیسے کٹر وہابی عناصر کا ، پنجابیوں کا بول بالا ہے اس کا بھی دباؤ کشمیریوں پر ہونا چاہئے۔ پاکستان کی معیشت بہت بری حالت میں ہے اور جو غیر ملکی مدد ملتی ہے اس کا سب سے بڑا حصہ فوج کو ملتا ہے۔ جو ویڈیو پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے سامنے آئے ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہاں غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ ایسے میں اگر وہاں کی جنتا میں ناراضگی ہے اور لوگ سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہیں تو اس میں تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ناراضگی تو پہلے بھی تھی لیکن فوج کی کچلنے کی کارروائی کے سبب یہ عام نہیں ہوسکا۔ ہمیں دنیا کے سامنے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی حقیقت کو لانا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ وہاں کے لوگ کن بدتر حالات میں زندگی گزر بسر کررہے ہیں۔ وہاں کی عوام کس بدحالی اور دمن کا سامنا کررہی ہے۔ غلام کشمیر کے باشندوں کی جو بری حالت چل رہی ہے وہ بھی دنیا دیکھ رہی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اب غلام کشمیریوں کو بدحالی سے پاکستان کے چنگل سے گوا کی طرح آزادی کا تحفہ دیں۔
(انل نریندر)

سٹہ بازار کا دعوی، بہار میں کمل کھلے گا

بہار میں اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلے کی پولنگ میں اب 7 دن سے بھی کم کا وقفہ رہ گیا ہے۔ اسمبلی کی 47 سیٹوں کے لئے 12 اکتوبر کو ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ جنتا پریوار اور این ڈی اے کے درمیان ساکھ کی لڑائی بن چکے اسمبلی چناؤ میں دونوں فریق اب ہر تیر آزمانے کی تیاری میں ہیں۔ جس طرح سے ریاست میں ریزرویشن کے اشو سے لیکر ذات پات تجزیوں کو جنتا پریوار ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے ہی بی جے پی اب اس کی کاٹ تلاشنے میں لگی ہے۔ مندر تعمیر کے اشو پر بی جے پی نیتا سبرامنیم سوامی اور وشو ہندو پریشد کے لیڈروں کی مشترکہ ڈیمانڈ کو بھی بہار چناؤ سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ یہ قدم بھی ووٹروں کو اشارہ دینے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کیلئے اس مہینے ہونے والے اسمبلی چناؤ اب تک کا سب سے بڑا چناوی امتحان ہوگا۔ امریکہ کے ایک سرکردہ تھنک ٹینک کے ماہرین نے کہا کہ اس چناؤکے نتائج کا اثر ریاست کی سرحدوں سے باہر بھی پڑے گا۔ کورنگی ایڈومینٹ فار انٹر نیشنل پیس کے ماہرین ملان ویشنو اور سکھشم کھوسلہ نے ایک اداریہ میں لکھا ہے بہار کے ووٹر کیا فیصلہ لیتے ہیں یہ معنی نہیں رکھتا ہے لیکن اس کے نتیجے کا اثر سرحدوں کے پار محسوس کیا جائے گا۔ انہوں نے لکھا ہے 12 اکتوبر کو شروع ہونے والے بہار چناؤ 8 نومبر کو ختم ہوں گے جو مودی کی قیادت والی بی جے پی سرکار کیلئے اب تک کی سب سے بڑی چناوی آزمائش ہوگی۔ اگر جیت ملتی ہے تو یہ جیت مرکزی سرکار کو نئی رفتار فراہم کرسکتی ہے۔ اس جیت سے بی جے پی راجیہ سبھا میں اکثریت کے قریب پہنچ سکتی ہے اور2016-17 میں ہونے والے ریاستی اسمبلی چناؤ میں اس سے مضبوطی ملے گی۔ اگر ہار ملتی ہے تو یہ ایک بہت بڑا جھٹکا ہوگا خاص کر اس لئے کیونکہ مودی نے کمپین میں اپنی ساکھ داؤ پر لگا رکھی ہے۔ یہاں تک کہ ریاست کیلئے 1.25 لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی پیکیج کا بھی اعلان کررکھا ہے۔ اگر سٹہ بازار کی مانیں تو بہار میں نتیش کمار کے انگنے میں امت شاہ نے جو زمین تیار کی ہے اس سے بہار اسمبلی میں اس سال بی جے پی کا کمل کھلے گا۔ اس رنگ اتنا چمکدار ہوگا کہ اس کے سامنے نتیش اور اس کے سیاسی ساتھی لالو پھینکے پڑ جائیں گے۔ سٹے بازوں کے مطابق شروع میں تو نتیش ۔ لالو۔ کانگریس مہا گٹھ بندھن کی این ڈی اے گٹھ بندھن سے کانٹے کی ٹکر تھی اور مہا گٹھ بندھن کچھ بڑھت بنائے دکھائی دے رہا تھا لیکن بی جے پی نے اب اسے بہت پیچھے چھوڑدیا ہے اور یہ ساری تبدیلی پچھلے15 روز میں ہوئی۔ ڈیڑھ مہینے پہلے تک سٹہ مارکیٹ کا اندازہ تھا کہ نتیش اور ان کے مہا گٹھ بندھن کے سامنے بی جے پی کمزور ہے۔ بی جے پی کی جیت پر ہر ایک روپے کے دام پر 1 روپیہ 10 پیسے کی بنیاد تھی ۔ تب اندازہ تھا کہ بی جے پی 100 سیٹوں تک پہنچ سکے گی مگر این ڈی اے کا سیٹ شیئرننگ سمجھوتہ ہونے کے بعد رجحان تیزی سے بدلا ہے ۔سٹے باز کہتے ہیں کہ این ڈی اے کو135 سیٹوں پر کامیابی مل سکتی ہے اور اکثریت حاصل کرنے میں کامیابی ملے گی۔ وہیں مہا گٹھ بندھن مشکل سے100 سیٹوں تک پہنچ پائے گا۔ ابھی سٹہ مارکیٹ 135 سیٹوں کے ساتھ این ڈی اے کی جیت پر لگے ہر ایک روپے کے داؤ پر صرف60 پیسے دے رہا ہے۔ دوسری طرف نتیش مہا گٹھ بندھن کی جیت کے امکان پر لگائے ہر ایک روپے پر وہ 1 روپیہ80 پیسے دے رہا ہے۔ چناؤ میں ہر دن حالات بدلتے ہیں ، دیکھیں آگے کیا کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...