Translater

04 اگست 2012

سشیل کمارشندے کو آتنکیوں کی سلامی


اسے اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا کہ شری سشیل کمارشندے کے وزارت داخلہ سنبھالتے ہی پنے میں دھماکے ہوگئے۔ بطور وزیر بجلی بلیک آؤٹ ہوا تو بطور وزیر داخلہ دھماکے۔ خود شری شندے نے وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالا کہ انہیں اندرونی سلامتی کی ذمہ داری قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک دلت ہونے کے سبب دی گئی ہے۔ ویسے بھی مرکزی وزیر بجلی اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی کی شکل میں ان کی کارکردگی اوسطاً نیچے رہی ہے۔ پنے میں بدھوار کی شام سلسلہ وار چار دھماکے ہوئے ان کی طاقت کم تھی۔ان دھماکوں می دو افراد زخمی ہوئے۔ سبھی دھماکے ایک کلو میٹر کے دائرے میں ہوئے۔ شہر کے درمیان مصرف سڑک جنگلی مہاراج روڈ پر یہ دھماکے ایک کے بعد ایک شام 7:27 سے8:15 کے درمیان ہوئے۔ واردات پر پولیس کو بیٹری اور تار بھی ملے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ بال گندھرو تھیٹر کے پاس بموں کو لے جارہا ایک شخص دھماکے میں زخمی ہوگئے۔ دیا نند پاٹل نام کے اس شخص سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ دھماکوں کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری نہیں لی ہے۔ آخر اس دھماکے کے پیچھے کون ہیں اور ان کا مقصد کیا تھا؟ پیٹنٹ اور طریقہ ایک تنظیم کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے ایسے دھماکے کرنے میں مہارت حاصل ہے تو وہیں دھماکے ہی قوت اور دوسری تنظیم کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ ان دھماکوں کو لیکر جو سوال ابھرکر سامنے آیا ہے وہ یہ کہ دھماکے ناکام ہیں یا پھر ریہرسل؟29 جولائی 2008 کو گجرات کے شہر سورت میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ پہلا سوال ہے کہ کیا یہ سازش تھی یا پھر سازش سے پہلے کی ریہرسل۔اس سوال کا جواب تھوڑا پیچیدہ ہے۔ اگر وقت پختہ ہو تو آتنکی کسی کی جان لینے سے کیوں چوکیں گے؟ مقصد تو وہی تھا لیکن پورا کیوں نہیں ہوا یا آتنکی ایسا چاہتے نہیں تھے؟ سورت میں 29 جولائی سے30 جولائی تک سلسلہ وار 21 غیر مستعمل بم برآمد ہوئے تھے لیکن ایک بھی پھٹا ہوا نہیں تھا آخر کیوں؟ 25 مئی 2011ء کو ہائی کورٹ کے گیٹ نمبر7 پر وکیلوں کی کار پارکنگ میں دھماکہ ہوا تھا اس میں جان مال کا کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن اس کے بعد دہلی ہائی کورٹ میں ہی ایک بڑا دھماکہ5 ستمبر 2011 کو گیٹ نمبر پانچ کے پاس ہوا جہاں عام لوگوں کی آمدروفت رہتی ہے اور نتیجہ 14 لوگوں کی موت اور درجنوں زخمیوں کی شکل میں سامنے آیا۔ اور پھر دھماکہ پنے میں ہوا اور دھماکہ بھی کچھ ایسا ہی اشارہ کررہا ہے کے کیا آتنکی کسی بڑی واردات کی ریہرسل کررہے تھے یا پھر انہیں زیادہ قوت والا دھماکوں سامان نہیں مل پایا۔ یہ کم طاقت والا ہی دھماکہ کرنا پڑا؟ سورت اور پنے میں بم رکھنے کا بھی طریقہ ایک جیسا ہی تھا۔ ٹفن باکس سائیکل یعنی ویسی چیزیں جس کو ایک بار کوئی بھی نظرانداز کردے۔ پہلے ہوئے دھماکوں پر غور کریں تو ایسے طریقے انڈین مجاہدین اپناتی ہے۔ دو بدنام آتنکی تنظیم جو دھماکوں کے لئے چھوٹی اور شک کے دائرے میں نہ آنے والی چیزوں کا استعمال کرتی ہے ایسے میں دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ان دھماکوں سامان کو کہیں اور لے جارہے تھے؟اس کہانی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے بموں کو ارادہ کہیں اور رکھنے کا تھا لیکن جلد بازی اور ہڑ بڑی میں یہ طے وقت اور طے جگہ سے پہلے ہی پھٹ گئے؟ جب سورت میں 21 جگہوں پر بم رکھے گئے اور ایک بھی پھٹا نہیں یعنی سورت، دہلی اور پنے کی تصویروں کو ملا کر معاوزنہ کریں تو دو باتیں سامنے آتی ہیں پہلا امکان جلد بازی ہوسکتا ہے دوسرا دہلی ہائی کورٹ دھماکوں کی طرح پنے میں دہشت کی ریہرسل کرنا اور اگر اس امکان میں دم ہے تو خطرہ ٹلا نہیں ہے۔ سازش میں کئی ایسے اور بم ہوسکتے ہیں جو تیار ہورہے ہوں اور بے گناہوں کا خون بہا دیں۔ نئے وزیر داخلہ کو آتنکیوں کی سلامی۔
(انل نریندر)

اسرائیلی کار پر حملہ کیس میں چارج شیٹ داخل


اسرائیلی سفارتخانے کی کار دھماکے معاملے میں دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے منگلوار کو تیس ہزاری کورٹ میں صحافی سید محمد احمد کاظمی کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ چیف میٹرو پولیٹن جج ونود یادو کے سامنے پیش کی گئی چارج شیٹ میں پولیس نے کاظمی کے خلاف کی گئی جانچ کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ گذشتہ13 فروری کو اسرائیلی سفارتخانے کی خاتون افسر کی چلتی کار پر اسٹیکی بم چپکایا گیاتھا۔ حادثے میں افسر اور ہندوستانی ڈرائیور دونوں زخمی ہوگئے تھے۔ کیونکہ یہ معاملہ ایک غیر ملکی سفارتخانے کے ملازم پر حملے کا تھا اور اس میں ایک صحافی بنیادی ملزم بنا یا گیا ہے اس لئے معاملہ بہت ہائی پروفائل بن گیا ہے۔ کہا یہ بھی گیا ہے دہلی پولیس زبردستی محمدکاظمی کو پھنسا رہی ہے اور پولیس کا سارا کیس فرضی ہے۔ کاظمی کی ضمانت کے لئے معاملہ ہائی کورٹ چلا گیا ہے۔ اب پولیس نے چارج شیٹ پانچ مہینے کی تفتیش کے بعد عدالت میں داخل کردی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے اس حملے کی سازش کے تار ملیشیا ،تھائی لینڈ ،اسرائیل اور دیگر مقامات سے وابستہ ہیں۔ اسرائیلی سفارتکار پر حملے کی ایک بڑی سازش کو سوچ سمجھ کر انجام دیاگیا۔ جانچ میں تعاون کے لئے عدالت کی طرف سے جارجیا ،ملیشیا، ایران، تھائی لینڈ اور اسرائیل کو لیٹر ریگیٹری جاری کیا گیا ہے تاکہ ان ملکوں سے ملزمان کو لیکر زیادہ جانکاری حاصل کی جاسکے۔ اس معاملے میں پولیس کی جانچ کی سوئی مئی سے ہی ایرانی نژاد لوگوں کی طرف تھی ۔پولیس نے معاملے کی جانچ کے دوران6 مارچ کو ایرانی نیوز ایجنسی کے پتر کار سید محمد کاظمی کو گرفتار کیا تھا۔ کاظمی سے پوچھ تاچھ اور اس کے موبائل فون کال کی جانچ کے بعد ایرانی شہری ہوشانگ افسر ایرانی کا نام خاص طور پر سامنے آیا تھا۔ حملے والے دن بھی ایرانی کی موجودگی بھارت میں بتائی گئی ہے اور وہ اسی دن شام کو بنکاک اور پھر وہاں سے کوالالمپور چلاگیا۔ معاملے کی جانچ کے دوران ہوشانگ افسر ایرانی کے علاوہ ایرانی شہری سید علی مہدی صدر ، محمد رضا عبدالمسعود کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی سفارتکاروں پر حملے کی ایسی ہی سازش جارجیا میں رچی گئی تھی لیکن اسے پہلے ہی ناکام کردیا گیا تھا۔ ملیشیا میں بھی 14 فروری کو آتنکی حملے ہوئے تھے۔ اس سلسلے میں مسعود کو گرفتار کیا گیا۔ جہاں تک سازش میں کاظمی کے کردار کا سوال ہے چارج شیٹ میں پولیس نے کہا انہیں کاظمی کے موبائل کی جانچ سے پتہ چلا کہ اسرائیلی سفارتکار پر دھماکے کو انجام دینے کے لئے بھارت آیااشرف پانچ ستارہ ہوٹل میں رکا تھا اور یہاں پر اس نے کاظمی سے فون پر رابطہ قائم کیا تھا۔اشرف کے ہوٹل میں رکنے کے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ کو پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کے بعد اشرف نے کاظمی کی مدد سے اسکوٹر خریدہ اور اس کا استعمال اس نے اسرائیلی سفارتخانے کی نگرانی کے لئے کیا۔ یہ اسکوٹر انہوں نے کاظمی کے گھر سے برآمد کیا ہے۔ اس کے بعد اشرف نے ہوٹل کے کمرے میں اسٹیکر بم تیار کیا۔ بم بنانے کا سامان انہوں نے ہوٹل میں چھاپہ ماری کے دوران برآمد کیا۔ سی ایف ایس ایل جان میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ وہی دھماکو ہے جس کے ذریعے سے کار میں دھماکہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ کاظمی دھماکے والے دن چاروں ایرانی شہریوں کے رابطے میں تھا اس کے ثبوت پولیس نے چارج شیٹ رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش کئے ہیں۔ اب چونکہ معاملہ عدالت میں ہے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہونے کا امکان ہے۔ دہلی پولیس کو عدالت میں اپنی چارج شیٹ کو ثابت کرنا ہوگا کیونکہ معاملہ بین الاقوامی سطح کا ہے اس لئے ہمیں لگتا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد، ایف بی آئی بھی کہیں نہ کہیں جانچ میں شامل ہوگی۔ ساری دنیا کی نظریں اس مقدمے پر اب لگی ہوئی ہیں دیکھیں کیا ہوتا ہے؟
(انل نریندر)

03 اگست 2012

آپ کے عہد میں یہ کیا ہورہا ہے اکھلیش بابو؟


اترپردیش میں جب مایاوتی سرکار کے عہد میں ہر روزبدنظمی اور امن قانون کی صورتحال خراب ہونے کے واقعات سنائی پڑتے تھے تو سماج وادی پارٹی کے لیڈر دعوی کرتے تھے کہ جب ان کی سرکار آئے گی تو ایسا نہیں ہوپائے گا۔ خود شری ملائم سنگھ یادو نے اقتدار میں آنے کے بعد ریاست میں امن و قانون و نظم کو چست درست رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد لگتا ہے کہ اکھلیش سرکار بھی قانون و نظام کے خراب حالات کو قابو کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے۔ یوپی کی جنتا کو پرانا ملائم سنگھ یادو کے عہد کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ اترپردیش میں بدامنی ختم کرنے اور امن کا راج قائم کرنے کے نعرے کے ساتھ آئی سماجوادی پارٹی کی حکومت میں پولیس کا دبدبہ بالکل ختم ہوگیا ہے۔ ہر روز خاکی وردی پر لگ رہے داغ سرکار کو پریشانی میں ڈال رہے ہیں۔ بدامنی کے سوال پر سپا کے وزرا کے منہ بند ہونے لگے ہیں۔ تین مہینے کا ہنی مون پیریڈ ختم ہونے کے بعد اب سپا کے بڑ بولے لیڈروں کے بھی منہ لٹک گئے ہیں۔ افسروں پر الزام لگانا بھی کسی کے گلے نہیں اتر رہا ہے کیونکہ سارے افسر انہی کے ذریعے تعینات کئے گئے ہیں۔ سرکار کے پاس اب یہ ہی جواب رہ گیا ہے کہ سرکار کا کام کارروائی کرنا ہے اور جو کررہی ہے۔ سپا سرکار میں خود پولیس ملازم بھی غنڈہ گردی میں لگ گئے ہیں اور وہ بھی تھانے کے اندر۔ ریاست کی راجدھانی لکھنؤ کے مال روڈ تھانے کے اندر ایک نگ ڈھرنگ داروغہ کو ایک عورت نے پیٹ دیا تھا۔ اس کے بعد سیتا پور میں ایک لڑکی کو تھانے میں رکھ کر دروغہ اور گاؤں کے چوکیدار کے ذریعے کئی دنوں تک بد سلوکی کئے جانے کی شکایت ملی تھی۔ اس کے بعد پیر کو کشی نگر کے کھڈا تھانے میں ایک دروغہ کے سرکاری مکان میں ایک عورت کے ساتھ اجتماعی بدسلوکی کا واقعہ روشنی میں آیا ہے۔ ان کے علاوہ علیگڑھ کے دادون علاقے میں ایک عورت کے ساتھ اجتماعی بدسلوکی کے ساتھ درندگی کے واقعے نے بھی لوگوں میں ناراضگی پھیلا دی ہے۔ اس عورت کو کچھ عورتوں نے بہکا کر بدلے کے جذبے سے کچھ لوگوں کے سپرد کردیا۔ ان لوگوں نے عورت کے ساتھ اجتماعی بدسلوکی کر اسے مردہ سمجھ کر چھوڑدیا۔ تین مہینے کے اندر تین شہروں میں دنگے ہوئے۔کوری کلا کے بعد پرتاپ گڑھ اور پھر بریلی میں دنگے ہونا پولیس انتظامیہ کی لاپروائی کی علامت ہے جو پچھلے سال کافی عرصے تک جلتا رہا۔ پیر کو فیز آباد میں ہی فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی اور وہاں پی اے سی تعینات کرنا پڑی۔ اعظم گڑھ کے علاقے میں جمعہ کی رات کچھ شر پسند عناصر نے تین مقامات پر امبیڈکر کی مورتیوں کو نشانہ بنایا۔ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی مورتی کو توڑ دیا۔ ابھی مایاوتی کی مورتی توڑنے سے پیدا کشیدگی ختم نہیں ہوئی تھی اب بابا صاحب کی مورتیاں توڑنے کے واقعے سامنے آئے ہیں۔ آپ کے راج میں اکھلیش بابو یہ کیا ہورہا ہے؟
(انل نریندر)

اصل اشو بھارتیہ بنام غیرملکی کاہے جسے گگوئی چھپا رہے ہیں



آسام کے وزیراعلی ترون گگوئی اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لئے کبھی تو فوج پر الزام لگاتے ہیں کہ وقت رہتے فوج نے کوکرا جھاڑ اورریاست کے دیگر حصوں میں تعیناتی کے آدیش نہیں دئے۔جب جولائی کے آخری دنوں میں وہاں خوفناک فرقہ وارانہ دنگا ہوا۔کبھی وہ کہتے ہیں مرکز سے خاص طور سے آئی بی نے انہیں پہلے خبردار نہیں کیا کے ریاست کے کچھ حصوں میں فساد ہوسکتا ہے۔ ہم گگوئی سے سیدھا سوال یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ اور آپ کی انتظامیہ پولیس کیا سوئی ہوئی تھی؟بوڈو اور گھس پیٹھیوں میں کشیدگی کئی دنوں سے چلی آرہی تھی کیا آپ کی پولیس کی سی آئی ڈی ، مقامی انتظامیہ کو پتہ نہیں چلا؟ دنگا روکنے میں آپ اور آپ کی سرکار فیل ہوئی ہے۔ یہ دنگا آپ کی پارٹی یعنی کانگریس اور آپ کی سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے اور آگے بھی ہوتا رہے گا کیونکہ آپ ووٹ بینک کی سیاست کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ بوڑو کی بالادستی والے کوکراجھار چھپڑی اور چرنگ سمیت بوڑو لین مختار حکمرانی اضلاع کے گاؤں میں غیر بوڑو مسلم فرقے کے حملو ں میں ایک نکتہ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ حملہ آوروں کا مقصد تھا کہ زیادہ لوگ نہ مریں وہ دہشت پھیلا کر لوگوں کو دیہات سے بھگانا چاہتے تھے اور وہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔ لاکھوں لوگوں کو گھر سے بے گھر ہونا پڑا اور کیمپوں میں پناہ لینی پڑی۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی پیر کو تشدد سے متاثرہ کوکراجھار ضلع کا دورہ کرکے آئے ہیں۔ انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کہ آج جو بھی حالت ہے وہ اس لئے ہے کیونکہ اس سے نمٹنے میں دیری کی گئی ہے جبکہ ایسا ہونے امکانات پہلے ہی موجودہ تھے۔ مسئلے کی اصلی جڑ کو پہچاننے کے لئے محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے جوکہ بنگلہ دیشی دراندازی سے جڑا ہوا ہے۔ آسام کا واقعہ دیش پر کلنک ہے۔ اس معاملے میں سات سال پہلے 2005 ء میں سپریم کورٹ سخت رائے زنی کرچکا ہے۔ بھاجپا نیتا نے کہا کہ مرکز اور ریاستی سرکار کی ملی بھگت سے ہوئی دراندازی کے نتیجے میں آسام میں بنیادی شہری محسوس کررہے ہیں کہ ان کی اپنی ہی زمین سے کنٹرول ختم ہورہا ہے۔ اڈوانی نے کہا کہ اگر بدیشی بنام بھارتیہ کے اس اشو کو جلد ہی نہیں سلجھایا گیا تو ریاست کے قدیمی باشندوں کی حالت ویسی ہو جائے گی جیسی کشمیری متاثرین کی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا میں دو راحت کیمپوں میں گیا تھا یہ حالت بہت تکلیف دہ ہے اور زیادہ تر لوگ بے گھر ہوگئے ہیں جس سے ان کی سلامتی اور مستقبل تاریک میں ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش سے یہاں آکر غیر قانونی طور سے بسے لوگوں کو ریاست کی موجودہ حالت کیلئے ذمہ دار مانتے ہوئے دعوی کیا کہ اس کے پیچھے غیرملکی بنام ہندوستانی اشو اہم ہے اور جسے سمجھنے کی سمت میں کوشش کی جانی چاہئے۔ ترون گگوئی اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتے۔ ان کی سرکار کو بنگلہ دیش سے آرہے غیر قانونی بنگلہ دیشیوں پر روک لگانی ہوگی۔ انہیں آسام کے مقامی شہریوں کے مفادات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کیونکہ انہی کی لیڈر شپ وہ کرتے ہیں۔ اگر ووٹ بینک سے چلتے رہے تو دیش کے مفاد سے وہ سمجھوتہ کرتے رہیں گے۔ سوال بھارتیہ بنام غیر ملکی کا ہے نہ کے مسلم بنام غیر مسلم کا۔
(انل نریندر)

02 اگست 2012

ریلوے کا نیا ریکارڈ ایک دن میں تین حادثے


پیر کا دن بھارتیہ ریلوے کے لئے سیاہ دن مانا جائے تو یہ کہناشاید غلط نہ ہوگا۔ ایک طرف تو پورا شمالی بھارت اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہیں پیر کے روز ایک ساتھ تین ریل حادثوں نے پورے دیش کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ ریلوے نے اس سے ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کردیا ہے۔ تین ریل حادثوں میں تقریباً40 لوگوں کی موت ہوگئی۔ سب سے دہلانے والا حادثہ تاملناڈو ایکسپریس میں ہوا جب اچانک اس میں خوفناک آگ لگ گئی اور ایک سلیپر ڈبے میں میٹھی نیند سورہے 32 مسافر پلک جھپکتے ہی جل گئے۔ نئی دہلی سے چنئی جارہی تاملناڈو ایکسپریس کی بوگی نمبرS11 میں پیر کی صبح آگ اس وقت لگی جب 110 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ٹرین دوڑ رہی تھی۔ یہ ٹرین تین گھنٹے میں اپنی منزل پر پہنچنے والی تھی۔ آگ کیسے لگی اسکو لیکر الگ الگ باتیں سامنے آئی ہیں۔ ریل منتری مکل رائے کے مطابق انہیں ڈویژنل ریلوے منیجر نے بتایا کہ ٹرین دھماکہ ہواتھا۔ وزیر موصوف کے مطابق کسی مسافر کے سامان میں ایسا کوئی کیمیاوی سامان رکھا ہوا تھا جس کے سبب آگ سے پلک جھپکتے ہی ڈبہ شعلوں میں تبدیل ہوگیا اور جل گیا۔ مکل رائے نے کیا اپنی جان بچانے کیلئے یہ پہلو سامنے رکھا ہے یا یہ تلخ سچائی ہے۔ اس کا پتہ تو جانچ کے بعدہی لگے گا۔ اگر یہ صحیح ہے تو نہ تو ہم ڈبے کی بجلی کے نظام کے شارٹ سرکٹ پر انگلی اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی ریلوے کے اس داؤ پر سوال داغ سکتے ہیں کہ سلیپروں کے بنانے میں آگ سے بچاؤ والے سامان کا استعمال کیوں نہیں کیا جارہا ہے تاکہ آگ لگنے پر اس کے پھیلنے کو کم سے کم روکا جا سکے۔ مکل رائے نے حال ہی میں عہدہ سنبھالا ہے۔ ان سے امید کی جاتی ہے کہ مسافروں کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ ریلوے وزارت کو ممتا کے عہد میں کافی نقصان پہنچا ہے۔ اب مکل رائے سے بھی بہت امید ہے کہ بغیر جانچ کے اس طرح کی قیاس آرائیاں کرنا انہیں زیب نہیں دیتا۔ سچائی چاہے کتنی بھی تلخ کیوں نہ ہو اس سے بھاگنے کی کوشش مستقبل کو اور زیادہ خطرناک بنا دیتی ہے۔ تاملناڈو ایکسپریس کا یہ دل دہلادینے والے آگ سانحہ کے پیچھے اسی دن دو اور حادثوں کی طرف جنتا کی توجہ کم ہی جاسکی۔ اسی دن پنجاب اور ہریانہ میں بھی ریل سے دو حادثے ہوئے۔ ان میں چار اسکولی بچوں سمیت 6 لوگوں کی جان گئی۔ امرتسر کے قریب پیسنجر ٹرین نے ایک اسکولی بس کو اپنی زد میں لے لیا تو بہادر گڑھ کے پاس ایک ٹرک ٹرین سے ٹکرا گیا۔ ریل منتری ممکن ہے ان حادثوں کے لئے بس اور ٹرک ڈرائیور کی لاپرواہی کو ہی ذمہ دار بتائیں گے کیونکہ وہ ٹرین کے راستے پر آگئے تھے۔شاید کوئی اس پر یقین کرنا چاہے کہ ڈیڑھ سو برس سے بھی پرانی بھارتیہ ریل آج بھی کیوں ہزاروں غیر محفوظ مسافروں کا بوجھ ڈھوتی دکھائی دے رہی ہے؟ عام طور پر یہ غیر محفوظ حادثے چھوٹے شہروں یا قصبوں کے پاس ہوتے ہیں جس میں کراسنگ پر گیٹ تک نہیں ہوتا اور ریل لائن کو پار کرنے والی گاڑیوں اور انسانوں کو لیکرتیزی سے آرہی ٹرین کو وارننگ دے سکے۔وہاں کوئی سگنل نہیں ہوتا۔ ریل وزارت کو اپنے گریباں میں جھانکناچاہئے اور سکیورٹی اقدامات پر زیادہ توجہ دینی چاہئے بہ نسبت دوسروں کو قصوروار ٹھہرانے کے۔
(انل نریندر)

تاریکی میں ڈوبا شمالی بھارت گرڈ فیل ہونے کا ذمہ دار کون؟


ایسی بہت سی خدمات ہوتی ہیں جسے ہم مان کر چلتے ہیں یعنی ہم ٹیک ان فار گرانٹڈمان کرچلتے ہیں۔ وہ اچانک غائب ہوجائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے ہم ان کے کتنے عادی ہوچکے ہیں اور بغیر اس کے ہماری زندگی کا گزارا نہیں ہوسکتا۔ اور وہ کچھ وقفے کے لئے رک سا جاتا ہے ۔ ایسے ہی زمرے میں بجلی آتی ہے۔ پیر اور کے روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب دہلی سمیت 9 ریاستوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہی اس کی وجہ ناردن گرڈ فیل ہوجانے تھا۔ ایسے ہی منگل کے روز اچانک تین گرڈ کے فیل ہوجانے سے22 ریاستوں میں بجلی کا سنکٹ کھڑا ہوگیا جس سے لوگوں میں ہائے توبہ مچ گئی۔ 8ریاستوں میں 15 گھنٹوں تک عام زندگی متاثر رہی۔ ناردرن گرڈ فیل ہونے سے دہلی، ہریانہ، پنجاب، جموں و کشمیر، ہماچل، اتراکھنڈ، اترپردیش ،راجستھان اور چندی گڑھ میں تاریکی چھا گئی اور صبح میں دہلی میں کئی گھنٹوں تک میٹرو ریل اور ٹرینیں ٹھپ رہیں کیونکہ وہاں بجلی کی سپلائی بند ہوگئی۔ 300 ٹرینوں میں تاخیر ہوئی جبکہ کروڑوں مسافروں کو بھاری پریشانی ہوئی۔ ناردرن گرڈ میں ایسی خرابی دس سال پہلے بھی آئی تھی اس سے پہلے 8 جنوری 2002 کو یہ گرڈ فیل ہوا تھا۔ دیش میں پانچ بجلی گرڈ ہیں۔ ناردن،ایسٹرن،نارتھ ایسٹرن، ساؤتھ ، ویسٹ شامل ہیں۔ ان میں ساؤتھ گرڈ کے علاوہ سبھی گرڈ آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ اس کا کنٹرول پاور گرڈ کارپوریشن کے ہاتھ میں ہے اسکے پاس قریب 95 ہزار سرکٹ کلو میٹر کی ٹرانسمیشن لائن ہے۔ بجلی بنانے والی سرکاری کمپنی این ٹی سی پی کے مطابق گرڈ کے فیل ہونے سے6بجلی گھروں سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار ٹھپ ہوئی۔ ان میں ریہند میں 2500 میگاواٹ، سنگرولی میں 2000، دادری میں 1820، اوریہ میں 652 اورآرا میں 413 ، بدر پور میں 705 میگاواٹ بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔ ناردن گرڈ فیل ہونے سے راجستھان کے نیوکلیائی بجلی گھر کی پانچ یونٹیں ٹھپ ہوگئیں۔ ان میں قریب 1100 میگاواٹ بجلی بنتی ہے۔ کیا ہوتا ہے گرڈ فیل ہونا؟ پاور سینٹر سے لوگوں کے گھروں تک بجلی کی سپلائی ایک یقینی فریکوئنسی پر کی جاتی ہے۔ جب یہ سپلائی فریکوئنسی جنرل سے بہت زیادہ یا کم ہوجاتی ہے تو تب گرڈ فیل ہوجاتا ہے۔ نارتھ گرڈ کی فریکوئنسی 48.5 سے لیکر 50.2 ہارٹس کے درمیان ہے۔اس رینج میں رہنے پر معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجودگرڈ چلتا رہتا ہے ۔ گرڈ میں ہر ایک ریاست کو بجلی کا کوٹا ہوتا ہے۔ فریکوئنسی کم ہونے پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کونسی ریاست زیادہ بجلی کھپت کررہی ہے۔ اسے وارننگ دے کر منع کیا جاتا ہے۔ پیر کو گرڈ فیل ہونے کے لئے ریاستوں کے غیر ذمہ دارانہ برتاؤ بھی کم ذمہ دار نہیں ہے۔ ریاستیں نہ تو ٹرانسمیشن لائن بچھانے کیلئے مرکزی اسکیم لاگو کرنے میں تیزی دکھا رہی ہیں اور نہ ہی تقسیم میں ہونے والے نفع نقصان کو کم کرنے میں مناسب مدد کررہی ہیں۔ نیشنل گرڈ سے اوور ڈرا کرنے والے کھلنائک ریاستوں میں اترپردیش سب سے آگے تھا۔ یوپی پاور آفیرس کے جنرل سکریٹری شیلندر دوبے نے بتایا کہ ریاست میں بجلی کی مانگ 9 ہزار میگاواٹ ہے اور پیداوار کافی کم ہے۔ ایسے میں کافی وقت سے ریاست نیشنل گرڈ سے اوور ڈرا کررہی ہے جو کبھی کبھی 2500 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے کیونکہ جتنی بجلی کی مانگ ہے اتنی سپلائی نہیں ہے۔ جب تک بجلی کی پیداوار نہیں بڑھتی تب تک سبھی ریاستوں کو تھوڑا ڈسپلن میں رہ کر کام لینا ہوگا۔ فریکوئنسی درست رکھنے کیلئے علاقائی گرڈ کا اپنا لوڈ ڈسپیج سینٹر ہوتا ہے جہاں کمپیوٹروں سے الیکٹرانک طریقوں سے ہر ایک پاور پلانٹ سے آنے والی بجلی اور ہر ایک ریاست کے ذریعے لی جانے والی بجلی پر نظر رکھی جاتی ہے۔ گرڈ میں ہر ایک ریاست کا بجلی کا کوٹہ مقرر ہوتا ہے۔ اس کنٹرول اور تقسیم سسٹم کو سختی سے لاگو کیا جانا چاہئے۔ ہر ایک ریاست کو اپنے مقررہ کوٹے کے حساب سے ہی بجلی ملنی چاہئے۔ کمپیوٹر کے ذریعے تقسیم ہوتی ہے تو اس میں کئی بارآف وائٹ سختی سے لاگو ہوتبھی سسٹم صحیح رہ سکتا ہے۔ ویسے تو حل بجلی پیداوار بڑھانے سے ہی ہوگا۔ مانگ تو دن بدن بڑھتی جائے گی۔ جہاں ایک طرف مرکز کا سوال ہے تو مرکزی وزیر برقیات سشیل کمار شندے کو پاور فیلیئر کے لئے الٹا ترقی دے دی گئی اور انہیں وزیر داخلہ بنا دیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

01 اگست 2012

پاک ٹی وی چینل میں ہندو کے دھرم پریورتن کا لائیو کوریج


پاکستان میں بچے ہوئے ہندوؤں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی اکثر خبریںآتی رہتی ہیں۔ گذشتہ دنوں ہندو لڑکیوں سے زبردستی اسلام قبول کروانے کی خبر نے ساری دنیا کو چونکا دیا تھا لیکن اب ایک پاکستانی ٹی وی چینل نے تب ساری حدیں پار کردیں جب پاکستان کے ایک متنازعہ ٹی وی اینکر نے ایک ہندو لڑکے سے اسلام قبول کرنے کا لائیو کوریج دکھا دیا۔ اس واقعے سے جہاں دیش کے اصلاح پسند لوگوں میں کھلبلی مچ گئی ہے وہیں اقلیتی فرقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس ہندو لڑکے کی پہچان سنیل کے طور پر ہوئی ہے۔ پاکستان کے ایک سرکردہ ٹی وی چینل اے آر وائی ڈیجیٹل پر مایا خان کی میزبانی میں رمضان پر سیدھے ٹیلی کاسٹ میں ایک خاص شو میں سنیل کو مولانا مفتی محمد اکمل نے اسلام قبول کروایا۔ منگل کو ٹیلی کاسٹ شو کے دوران بچوں اور بڑوں کے ایک گروپ میں بیٹھے سنیل نے کہا کہ انسانی حقوق رضاکار انصار برنی کی غیر سرکاری تنظیم کے لئے کام کرتے ہوئے اس نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا اکمل کے ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا دو برس پہلے میں نے رمضان میں روزہ رکھا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے لئے مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ ٹی وی چینل نے اس کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا۔ اس قصے پر پاکستان کے ایک بڑے اخبار نے لکھا ہے کہ اس سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان میں اسلام مذہب کی بہ نسبت دیگر مذاہب کو برابری کا درجہ نہیں ملتا ہے۔ اینکر مایا خان نے شو کے دوران سنیل کا نیا نام محمد عبداللہ رکھے جانے کا بھی اعلان کیا۔ دیش کے انسانی حقوق رضاکار انصار برنی نے کہا کہ کسی ٹی وی شو میں حصہ لینے کے سبب انہوں نے اپنے بھائی کو این جی او سے ہٹا دیا ہے۔ اس لائیو ٹیلی کاسٹ پر پاکستانی میڈیا نے بھی اس شو کی تنقید کی ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ دیش کا الیکٹرانک میڈیا کسی بھی چیز کو چٹپٹا بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے لیکن یہ تو حد ہی ہوگئی ہے کہ اب وہ مذہب کے نام پر کھلواڑ کرنے لگا ہے۔ کسی کے جذبات کا مذاق بنانے لگا ہے۔ اس واقعے کے ٹیلی کاسٹ سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ میڈیا نے اپنے کاروباری مقاصد کی تکمیل کے لئے اخلاقی اقدار اور نظریات میں کھلا پن اور عام علم کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ ایک دوسرے اخبار ’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کے ادارتی صفحے پر مدیر عمر قریشی نے کہا کہ مایا خان کا شو ٹی وی ریٹنگ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس طرح کے شو کبھی بھی کسی کے تبدیلی مذہب کا ٹیلی کاسٹ نہیں کرتے یہ اصولوں کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ امتیازی برتاؤ ہے۔ ہندو لڑکے سنیل کے مذہب تبدیل کرنے کے قصے سے پہلے کئی ایسے ہی قصے ہو چکے ہیں۔ فروری 2012 ء میں 19 سالہ لڑکی ٹوئینکل کماری کی مثال پیش کی گئی۔ ٹوئینکل کماری کا اغوا کیا گیا پھر زبردستی مذہب تبدیل کرایا گیا، پھر ایک پاکستانی مسلمان لڑکے سے اس کی زبردستی شادی کی گئی۔ اس کے کچھ دن بعد ایک عیسائی خاتون سے بھی یہ ہی رویہ اپنایاگیا۔ پاکستان میں اقلیتوں کی کوئی سکیورٹی نہیں ہے حالانکہ کہنے کو وہاں ایک چنی ہوئی جمہوری سرکار ہے لیکن مجال ہے وہ وہاں کے ملاؤں کے سامنے اپنی زبان کھول سکے۔
(انل نریندر)

انا کی تحریک کو عوامی حمایت کی کمی


جنتر منتر پر انشن کررہی ٹیم انا کے حمایتیوں میں مسلسل کمی آئی ہے۔کم سے کم انشن کی جگہ پر بھیڑ کی کمی ہے۔ بھیڑکے لئے ترستی تحریک میں تھوڑی جان بابا رام دیو نے آکر ڈال دی تھی۔ رام دیو کے ساتھ پہنچے قریب دو ہزار لوگوں نے ماحول میں تھوڑی دیر کے لئے جان ڈال دی لیکن انا کی حمایت میں جیسی بھیڑ رام لیلا میدان میں اکٹھی ہوئی تھی ویسے اب نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ کئی کئی دن تو مشکل سے چار پانچ سو لوگوں ہی نظر آئے۔ جھنڈے، ٹوپی، ٹی شرٹ بیچنے والے بھی مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے زیادہ سامان بنا لیا اور خریدار غائب ہیں۔ اس مایوس کن حالت کے لئے ٹیم انا بھی خود کسی حد تک ذمہ دار ہے۔ وہ پہلے دن سے نہ صرف مشکل میں دکھائی پڑرہی ہے بلکہ اپنے غرور کا بھی مظاہرہ کررہی ہے۔ بار بار اپنا موقف بدلنا جنتا کو پسند نہیں آرہا ہے۔ پہلے یہ کہا گیا کہ جن لوک پال کے لئے تحریک ہے ۔ پھر موقف بدل گیا اور مرکزی سرکار کے15 کرپٹ وزیروں کو نشانے پر لیاگیا۔ اس فہرست میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اس وقت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کو بھی شامل کیا گیا تھا ۔ اس سے جنتا تھوڑی گمراہ ہوگئی اور جنتا میں انا کی تحریک کے تئیں تھوڑی دلچسپی کم ہوگئی۔ خود انا ہزارے نے پرنب مکھرجی (صدرجمہوریہ) کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی اپنی اور اپنے ساتھیوں کی کوشش کو مسترد کردیا۔ ٹیم انا کے ساتھی اروند کیجریوال کے متنازعہ بیانوں نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ آر ایس ایس سے لیکر بھاجپا سمیت تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں پر تحریک کی مخالفت میں اتر آئے۔ بابا رام دیو آئے لیکن بابا اور کیجریوال کے اختلافات اسٹیج پر ہی سامنے آگئے۔ ادھر بابا رام دیو کے ساتھی بال کرشن کی گرفتاری سے بھی جنتا کا بے توجہ ہونا فطری تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ ان کے موقف واضح نہیں ہیں۔ ٹیم انا میں کتنے نظریات پر اتفاق ہے اور انا اور رام دیو میں کتنا اتحاد ہے؟ کوئی تعجب نہیں اس سب کے چلتے حمایتیوں میں جوش پیدا نہیں ہو پارہا ہے۔ حمایتیوں کی جو حالت نئی دہلی میں دیکھنے کو مل رہی ہے کچھ ویسی ہی حالت دیش کے دوسرے حصوں میں بھی سننے میں آرہی ہے۔ کہیں بھی بڑی تعداد میں لوگ اس تحریک کے ساتھ نہیں جٹے۔ بہتر ہوتا کہ ٹیم انا کو پہلے اس کا احساس ہوجاتا کہ بدلے ہوئے ماحول میں صرف یہ شور شرابہ کرنے سے بات نہیں بننے والی۔ کیونکہ ایک طرف کرپشن پھیلا ہوا ہے اور پھر انا کی ٹیم کو یہ تو صاف پتہ چل ہی گیا تھا کہ کو ئی بھی ایم پی، ممبر اسمبلی، افسر دل سے انا کی تحریک کی حمایت نہیں کرتا۔ عام جنتا اس کرپشن سے اچھی طرح واقف ہے اور اس نتیجے پرپہنچتی جارہی ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں کوئی ٹھوس بہتری نہیں ہوسکتی۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ ٹیم انا خود اپنا محاسبہ کرے۔ آخر کیوں جنتا ان کی تحریک کے تئیں دلچسپی نہیں لے رہی اور حوصلہ کم ہوجتا جارہا ہے؟ انا تحریک میں بھیڑ کی کمی سے بیشک حکمراں کانگریس پارٹی کو فائدہ ملے گا لیکن اسے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ کرپشن کا اشو ختم ہوگیا ہے۔ کرپشن سے نمٹنے میں یہ سرکار پہلے بھی ناکام تھی اور آج بھی ہے۔
(انل نریندر)

31 جولائی 2012

مایاوتی کی مورتیاں توڑنے کی جگہ ترقی و قانونی نظام و پائیدار کھیتی پر زیادہ دھیان دیں


دکھ کی بات ہے کہ لکھنؤکے گومتی نگر علاقے میں واقع امبیڈکر پارک میں ریاست کی سابق وزیر اعلی و بسپا چیف مایاوتی کی مورتی توڑنے کا قصہ سامنے آیا ہے۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اسے ریاست کے قانون و نظام بگاڑنے کی سازش قراردیتے ہوئے مورتی کو فوراً درست کرنے کا حکم دے کر حالات کو مزید بگڑنے سے بچا لیا۔ ایک سینئر سرکاری افسر نے سماجی تبدیلی استھل پر مقرر سکیورٹی گارڈوں کے حوالے سے بتایا کہ دوپہر بعد چار یا چھ نوجوان موٹر سائیکل پر وہاں پہنچے اور بڑے ہتھوڑے سے مورتی پر حملہ کرنا شروع کردیا۔ نامعلوم سی تنظیم نو نرمان سینا نے اس واردات کو انجام دینے سے کچھ گھنٹے پہلے ہی باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے دھمکی دی تھی کہ اگر72 گھنٹے میں لکھنؤ اور نوئیڈا سے مایاوتی کی مورتیاں نہیں ہٹائی گئیں تو انہیں توڑ دیں گے۔ بہرحال مورتی توڑنے والے گرفتار ہوچکے ہیں لیکن یہ واقعہ ریاست میں دلتوں کے خلاف پھیلی نفرت و غصے کی ایک مثال ہے۔اس لئے ضروری ہے آگے بھی ہوشیار رہا جائے۔ مایاوتی نے اترپردیش سے دلتوں میں ایک سوابھیمان پیدا کیا جو صدیوں سے سماج میں دبے کچلے رہے ہیں۔ بہن جی نے اس کے لئے ذات پرستی کی سیاست کی اور جگہ جگہ ڈاکٹر امبیڈکر ،کانشی رام کی مورتیاں لگوادیں۔ پریورتن استھل اور پارک بنوائے جہاں دلت مہا پرشوں کے ساتھ ساتھ اپنی اور اپنے چناؤ نشان ہاتھیوں کی مورتیاں بھی نصب کروائیں۔ اپنے عہد میں مایاوتی نے ان پر سینکڑوں کروڑوں روپے خرچ کئے یہ پروگرام کافی لوگوں کو پسند نہیں آیا۔ اس میں ایسے لوگ بھی تھے جنہیں جنتا کے پیسے کی بربادی لگی اور شاید ایسے بھی لوگ تھے جنہیں دلتوں کا اقتدار پانا اور اس کا یوں پردہ فاش کرنا برا لگا۔ جن لوگوں کی یہ دلیل تھی کہ جنتا کے پیسے کا بہتر استعمال ترقیاتی کاموں میں ہوسکتا ہے وہ اس بات سے بھی متفق ہوں گے کہ ایک بار ان مجسموں یا یادگاروں کے بن جانے کے بعد ہٹانا یا ان پر سیاسی کرن صرف ایک بیکار کی چیز ہے بلکہ اس سے ریاست فضول اشوز پر مشتعل اور لڑائی جھگڑے کی سیاست میں پھنس جائے گا۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی کے درمیان چھتیس کا آنکڑا رہا ہے۔ سپا اور بسپا کے حمایتیوں کے درمیان کچھ طبقاتی اختلاف ہے جبکہ کچھ حد تک یہ دشمنی میں بدل رہی ہے ۔ یہ ایک سچائی ہے کہ سپا لیڈروں نے کہا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ مایاوتی اور ان کے ہاتھیوں کی مورتیاں ہٹوادیں گے۔ حالانکہ اکھلیش یادو حکومت نے اب تک کہیں بھی ایسا ہونے نہیں دیا۔ مگر جب پارٹی کے بڑے نیتا اپنے کسی حریف کے بارے میں نفرت کا ماحول بناتے ہیں تب لکھنؤ کے امبیڈکر پارک جیسے واقعات کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔ مورتی توڑنے والا شخص امت جانی اپنے آپ کو بھلے ہی خودساختہ یوپی نو نرمان سینا کا ممبر بتاتا ہے مگر وہ سپا نیتاؤں سے کہیں نہ کہیں ضرور وابستہ رہا ہے۔ اترپردیش کافی طویل عرصے تک ذات پات کے جھگڑوں اور مشتعل سیاست کے دور سے گزرا ہے۔اب اکھلیش سرکار کو اس سے بچنا چاہئے اور پردیش میں اچھا ماحول ، پائیدار کھیتی اور ترقی پر زیادہ توجہ دینی چاہئے نہ کے اس توڑ پھوڑ اور ذات پات کی لڑائی اور بدلے کا جذبہ رکھنا۔
(انل نریندر)

پاکستانی سپریم کورٹ کا ’سموسہ انصاف‘


پاکستان کی سپریم کورٹ پچھلے کافی عرصے سے سرخیوں میں چھائی ہوئی ہے۔ صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے عدالت کی کھلی جنگ کے بیچ ایک دلچسپ قصہ سامنے آیا ہے۔ پاکستان سپریم کورٹ کس چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں دخل اندازی کررہی ہے اس معاملے سے پتہ چلتا ہے۔ معاملہ تھا پاکستان میں سموسے کی قیمت کا۔ دیش کی سپریم کورٹ نے سموسے کی قیمتوں کو لیکر سرکار اور دوکانداروں کو لیکر چل رہی لڑائی میں ایک اہم فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے پنجاب سرکار کے اس حکم کوخارج کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دوکاندارسموسے کو 6 روپے (بھارت کے ساڑھے تین روپے) سے زیادہ قیمت میں نہیں بیچ سکتے۔ صوبائی سرکار کے اس فیصلے کے خلاف پنجاب ورکس اینڈ سوئٹس فیڈریشن نے بڑی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ پاکستان میں سموسے بیحد مقبول ہیں اور رمضان کے مہینے میں اس کی بکری آسمان چھونے لگتی ہے لیکن کئی برسوں سے اس کی بڑھتی قیمت کو لیکر لوگ ناراض تھے۔ اس پر2009ء میں لاہور انتظامیہ نے سموسے کی قیمت (زیادہ سے زیادہ 6 روپے تک) طے کر دی تھی اور ایک عدالتی حکم کے تحت مہنگا سموسہ بیچنے والے دوکانداروں پر جرمانہ لگانے کی سہولت تھی۔ پنجاب ورکس اینڈ سوئٹس فیڈریشن نے اس وقت بھی اپیل دائر کی تھی۔لاہور ہائی کورٹ نے اسے خارج کردیا تھاتب فیڈریشن سپریم کورٹ گئی۔ اب عدالت عظمیٰ ایک مرتبہ پھر دیش میں چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش بھی کرچکی ہے لیکن وہ بھی طے قیمت سے زیادہ بکتی ہے۔ فیڈریشن نے دلیل دی تھی کہ سموسہ پنجاب غذائی سامان (کنٹرول) قانون 1958 کی فہرست میں نہیں ہے۔ ایسے میں صوبائی سرکار اس کی قیمت طے نہیں کرسکتی جبکہ پنجاب حکومت کی دلیل تھی کہ مفاد عامہ میں وہ ایسا کرسکتی ہے۔ پاکستانی میڈیا کے ایک گروپ نے سپریم کورٹ کے ذریعے سموسے کے معاملے کا نوٹس لیا اور فیصلہ دینے کا مذاق اڑایا ہے۔ اخبار ’ڈان‘ نے اسے سپریم کورٹ کے فیصلے کو’ سموسہ انصاف‘ قراردیا ہے۔ اس نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے دوکانداروں کو تو اس سے فائدہ ہوگا لیکن دیش کے سینکڑوں اہم معاملوں میں انصاف کا انتظار کررہے لاکھوں لوگوں کو اپنی باری آنے کی راہ دیکھنی ہوگی۔ اس نے کہا کہ آپ لاہور کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں سموسہ چھ روپے سے زیادہ میں ہیں بک رہا ہے ایسے میں کیا عدالت کو اپنا قیمتی وقت سموسے میں برباد کرنا چاہئے؟ ہمارا خیال ہے کہ جہاں دیش میں سیاسی اتھل پتھل کا دور چل رہا ہوں اور امن و قانون کی سنگین حالت ہے تو دیش کی سپریم کورٹ کو ایسے چھوٹے چھوٹے غیر اہم اشو سے بچنا چاہئے۔ ہم سمجھ سکتے تھے کہ اگر آٹا، چاول ،چینی ،دودھ جیسی ضروری غذائی چیزوں کی قیمت پر سپریم کورٹ قابو کرتی ۔ لیکن سموسے جیسے کھانے کی چیز پر ٹائم برباد ہی کرنا ہے؟؟
(انل نریندر)

29 جولائی 2012

اگر میں قصوروار ہوں تو مجھے پھانسی پر لٹکا دو:نریندر مودی

بھاجپا کے ہونے والے وزیراعظم کے امیدوار اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پچھلے کچھ عرصے سے اخباروں و ٹی وی کی سرخیوں میں پہلے سے زیادہ چھائے ہوئے ہیں۔ نریندر مودی آہستہ آہستہ اپنے نئے سیاسی کردار کے لئے تیار ہورہے ہیں۔ اسی کے تحت انہوں نے اپنی سیاست میں گجرات کے 2002ء فرقہ وارانہ فسادات کے دھبے کو دھونے کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اب ان کا چہرہ کسی طرح سے پورے دیش میں قابل قبول ہوجائے۔ دہلی سے شائع ہونے والے ایک اردو کے ہفت روزہ اخبار ’نئی دنیا‘ کے مدیر اور سماج وادی پارٹی کے سابق راجیہ سبھا ایم پی شاہد صدیقی کو دئے گئے ایک انٹرویو میں مودی نے تمام سوالوں کا جواب دیا یا صفائی دی جو پچھلے 10برسوں سے ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔ مودی نے ایک بار پھر ان فسادات کو لیکر معافی مانگنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی مانگ کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے فسادات کے بارے میں انہوں نے کہہ دیا ہے کہ اگر وہ ان دنگوں میں قصوروار پائے جائیں تو وہ پھانسی پر چڑھنے کوتیار ہیں لیکن وہ گجرات دنگوں کے لئے دیش سے معافی مانگنے کو تیار نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ 1984ء میں ہوئے سکھ کش دنگوں کے لئے کانگریس چیف سونیا گاندھی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سکھ سماج اور دیش سے معافی مانگ لی ہے تو وہ گجرات دنگوں کے لئے اسی طرح کی معافی کیوں نہیں مانگتے؟ اس سوال پر مودی نے یہ ہی کہا کہ جب انہوں نے اور ان کی سرکار نے دنگوں کی آگ بھڑکانے میں کوئی رول نہیں نبھایا تو معافی کیوں مانگیں؟ مودی نے چیلنج بھرے لہجے میں کہا کہ اگر ان کارول دنگوں کیلئے گنہگار مانا جائے تو وہ معافی ہی نہیں چاہیں گے بلکہ پھانسی کا پھندہ بھی چاہیں گے۔ مودی نے منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی معافی مانگنے کی سیاسی چال پر تلخ ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ وہ معافی مانگنے کی پاکھنڈی سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ شری نریندر مودی سے سوال کیا جاسکتا ہے کیا سونیا ،راجیو اور منموہن سنگھ کے ذریعے 84 کے دنگوں کے لئے یہ مطلب نکلتا ہے کہ وہ خود تشدد برپا کرنے والوں میں شامل تھے؟ اگر انہوں نے معافی مانگی تو اس کے پیچھے ہمیں دو وجوہات نظر آتی ہیں۔ پہلی اس حکومت کے دوران اپنے آئینی فرض سے منہ موڑنا۔ دوسرا صدمے کا شکار سکھ فرقے کا بھروسہ جیتنا۔ دراصل سرکار کے فیصلہ کن عہدے پر بیٹھے شخص کا تجزیہ اس بات سے لگتا ہے کہ مشکل کی گھڑی میں اس نے کیا کیا؟ آسام میں پچھلے 10 دنوں سے نسلی فسادات ہورہا ہے۔ وزیراعلی ترون گگوئی بیشک خود فساد کے ذمہ دار نہ ہوں لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وقت رہتے انہوں نے فساد روکنے کے لئے ضروری قدم نہیں اٹھائے اور فسادبڑھتا گیا۔ گجرات دنگوں کے وقت نریندر مودی کے کردار پر اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ مودی کوراج دھرم نبھانا چاہئے۔ سیاسی حلقوں میں مودی کی پچھلے کچھ دنوں سے شروع ہوئی میڈیا مہم کی بحث تیز ہوئی ہے۔ مانا یہ جارہا ہے کہ وہ اگلے چناؤ میں پکے طور پر قومی سیاست میں اپنا ہاتھ آزمانا چاہتے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت اردو اخباروں کو انٹرویو دینے میں وہ پرہیز نہیں کررہے ہیں۔وہ جتانا چاہتے ہیں کہ حقیقت میں اتنے کٹر ہندووادی نہیں ہیں جتنا انہیں پیش کیا جارہا ہے یا سمجھ جارہا ہے۔ کئی موقعوں پر وہ کہہ چکے ہیں کہ احمدآباد سمیت ریاست کے کئی شہروں میں رہنے والی مسلم آبادی مسلسل خوشحال ہورہی ہے۔ پچھلے دس سالوں میں ریاست میں ایک بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ حالانکہ اپوزیشن پارٹیوں نے فرقہ وارانہ فساد کی آگ بھڑکانے کے لئے کوئی کثر نہیں چھوڑی لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔سوال یہ ہے کہ مودی اگر کوئی نئی بات نہیں کررہے اور گجرات دنگوں کو لیکر ان کا موقف اور صفائی وہی ہے تو پھر ان کی کئی باتوں کو لیکر اتنا سیاسی واویلا کیوں اب مچا ہوا ہے؟ اصل میں اصلی کھیل وقت کاہے۔ 2014ء میں وہ بھاجپا اور این ڈی اے کی طرف سے وزیر اعظم کے امکانی امیدوار بننا چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے انہیں اس سال کے آخر میں گجرات اسمبلی چناؤ میں نہ صرف ایک بار پھر جیت دلانے ہوگی بلکہ بڑی جیت درج کرانی پڑے گی۔ مودی کو یہ امتحان بھی دینا ہے جب ان کی اپنی پارٹی اور ریاست اور اتحاد میں بھی ان کو لیکر شش و پنج کی حالت بنی ہوئی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ قومی سیاست میں بھاجپا کی قیادت کرنے اور اگلے عام چناؤ میں ہونے والے وزیر اعظم بن کر ابھرنے کی ان کی توقعات تبھی پوری ہوسکتی ہیں جب ان کی ساکھ سدھرے اور وہ سب کے لئے ایک قابل قبول لیڈر بن سکیں۔ ابھی تو ان کے نام کو لیکر ہی سنگھ کے ساتھ ساتھ بھاجپا میں بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔ این ڈی اے میں تو ان کے نام کو لیکر کھلی دراڑ دیکھنے کو ملتی ہے۔ (انل نریندر)

کنگ جارج کو سلامی دیتی سماجوادی پارٹی

اترپردیش میں اکھلیش یادو سرکار کے 8 ضلعوں کے نام بحال کرنے کے فیصلے کی عام طور پر تعریف ہورہی ہے۔ اترپردیش کی سماجوادی پارٹی سرکار نے ریاست کے 8 ضلعوں کے پرانے نام بحال کردئے ہیں۔ یہ ضلع مایاوتی کے وزیر اعلی کے عہد کے دوران بنائے گئے تھے۔ ساتھ میں لکھنؤ میں چھترپتی شاہو جی مہاراج میڈیکل یونیورسٹی اب پھر سے اپنے پرانے نام کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے نام سے جانی جائے گی۔ کیبنٹ نے قصبہ پرنب نگر کا نام شاملی ، بھیم نگر کا نام سنبھل اور پنچشیل نگر کا نام بدل کر ہاپوڑ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔اسی طرح مہامایا نگر کا نام ہاترس ،جوتی باپھولے نگر کا نام امروہہ، کانشی رام نگر کا نام قاص گنج، چھترپتی شاہو جی مہاراج نگر کا نام امیٹھی اور رما بائی نگر کا نام اب کانپور دیہات رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ غور طلب ہے ان قصبوں ضلعوں کے باشندوں اور نمائندوں کی جانب سے اس بارے میں مانگ کی جاتی رہی ہے۔کیونکہ لوگ پرانے نام سے ان شہروں کوجانتے اور پکارتے تھے نئے نام بدلنے سے علاقوں کی معلومات نہیں ہو پاتی تھی۔ اس کے علاوہ اترپردیش و ریاست کے باہر کے لوگوں کواپنی پہچان بتانے کیلئے پختہ مقام بتانے اور اس کی پلیٹ بنوانے میں کئی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس لئے اکھلیش سرکار نے ان 8 شہروں کے موجودہ نام بدل کر پرانے نام بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوال چھترپتی شاہو جی مہاراج میڈیکل یونیورسٹی لکھنؤ کا نام کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کرنے کے فیصلے پر تھوڑا تنازعہ کھڑا ہورہا ہے۔ 70 کی دہائی میں لوہیا کا نعرہ اچھالتے ہوئے اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں انگریزی کی اتنی سخت مخالفت ہوا کرتی تھی کہ انگریزی میں لکھے سارے بورڈ پر سیاہی پوت دی جاتی تھی۔ اس دور میں سماجوادی تحریک کے سبب ہائی اسکول میں انگریزی مضمون کو اختیاری کردیا گیا تھا مگر پچھلے اسمبلی چناؤ میں سماجوادی کا چال ڈھال ، کردار اور چہرہ تینوں بدلے تو دوسری پارٹیاں بھی سکتے میںآگئیں۔ سماجوادی پارٹی کے نئے چہرے نوجوان لیڈر اکھلیش یادو نے ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ کا نیا نعرہ دیا اور پرانا ریکارڈ توڑ کر اکثریت کے ساتھ اقتدار میں پارٹی لوٹ آئی۔ سرکار کے اس فیصلے سے ورکروں میں بھی پریشانی بڑھی کیونکہ یہ ایسا کوئی کام نہیں تھا جسے یہ سرکار ترجیحات پررکھے۔ خاص کر بجلی سے لیکر کسانوں کے دیگر مسائل کو دیکھتے ہوئے ۔دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ لکھنؤ کے مشہور چڑیا گھر کا نام آج بھی پرنس آف ویلز زولوجی کل گارڈن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نہ تو کبھی مایاوتی کے راج میں یہ بدلہ نہ ملائم کے راج میں۔ حالانکہ ایک طبقے کا خیال ہے کنگ راج میڈیکل یونیورسٹی کا نام بحال کرنا تو بہتر ہوتا کے نام آچاریہ نریندر دیو ایس ایم جوشی ، رام منوہر لوہیا، جے پرکاش نارائن، مدھولمے، سریندر موہن جیسے کسی لیڈر کے نام پر رکھتے بجائے کنگ جارج کے۔ حالانکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کنگ جارج ایک بین الاقوامی شخصیت کے حامل ہیں۔ اس نقطہ نظر سے وہی پرانا نام صحیح تھا۔ پچھلے چناؤ میں ایک طبقہ سپا کی حمایت میں ایسا آیا جو بین الاقوامی چشمے سے سماج کو دیکھتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اکھلیش کے اس فیصلے سے میڈیکل سیکٹر میں پھر سے ریاست کا وقار بحال ہوگا۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...