Translater

19 اکتوبر 2013

مدنی کی کھری کھری:مودی کے نام پر مسلمانوں کو نہ ڈرائیں

جمعیت العلماء ہند کے لیڈر سید مولانا محمود مدنی کے تازہ بیان سے سیاسی بیان بازی شروع ہوگئی ہے۔ بیان ہی کچھ ایسا تھا۔ بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کا ڈر دکھا کر ووٹ مانگنے پر سیکولر پارٹیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مولانا محمود مدنی نے سیدھا الزام لگایا کہ ووٹ کیلئے سماج کو مذہب کے نام پر بانٹنے سے باز آئیں۔ پارٹی کو کسی دوسری پارٹی کے اقتدار میں آنے کا ڈر دکھا کر ووٹروں کو لبھانے کے بجائے اپنے کارناموں پر زیادہ مرکوز کرنا چاہئے۔ محمود مدنی نے کہا کہ ان نام نہادسیکولر پارٹیوں کو ایجنڈا اور چناؤ منشور میں صاف کرنا چاہئے کہ وہ جنتا کے لئے کیا کرنا چاہتے ہیں اور ان پارٹیوں کو بتانا چاہئے کہ مختلف ریاستوں میں ان کی سرکاروں نے کیا کام کیا ہے۔ انہوں نے کن کن وعدوں کو پورا کیا ہے اور کون کون سے وعدے ادھورے رہ گئے ہیں۔ انہیں اس بنیاد پر ووٹ مانگنا چاہئے نہ کے کسی کے اقتدار میں آنے کا ہوا کھڑا کرکے سبھی پارٹیوں کو منفی سیاسی نہیں کرنی چاہئے بلکہ لوگوں کو مطلع کرنا چاہئے کہ کیا انہوں نے یکساں مواقع دئے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ دیش میں سیکولرزم کی جڑیں بہت گہری ہیں اور مسلمانوں کو مودی کے ڈر سے کسی کو ووٹ دینے کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ مولانا نے کانگریس پر سیدھا حملہ تو نہیں کیا مگر ان کے نشانے پر کانگریس ہی تھی۔ مولانا کی باتوں سے ہم متفق ہیں۔ ان کے مقصد کچھ بھی رہے ہوں لیکن جو انہوں نے کہا وہ صحیح کہا۔ مذہب کے نام پر دیش کی سیاست کرنا سراسر غلط ہے اور مولانا مدنی اس بات کو کہنے کی ہمت دکھانے والے پہلے مذہبی پیشوا ہیں۔ اس لحاظ سے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ رہی بات نریندر مودی کی تو مولانا نے اتنی چالاکی ضرور برتی کے انہوں نے مودی کی حمایت میں سیدھا تو کچھ نہیں کہا لیکن یہ کہنا کہ مسلمانوں کو مودی قبول ہیں یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا۔ اپنے آپ میں خاص ہوجاتا ہے کہ یہ صحیح کہا کہ دیش میں سیکولرزم کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور اس کے خلاف جانے والے کوئی نیتا یا پارٹی عوام کو قبول نہیں ہوگی لیکن مسلمانوں کو ان کی یہ صلاح کے مودی کو وزیر اعظم بننے کے امکان سے وہ فکر مند نہ ہوں اتنا تو بتا رہا ہے کہ سیاسی ہوا کس طرف بہہ رہی ہے۔ چناوی موسم میں مدنی کے الزامات نے کانگریس کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔دراصل مودی کے بھاجپا کی طرف سے پی ایم عہدے کے امیدوار کے طور پر سامنے آنے کے بعد فرقہ وارانہ بنام سیکولرزم کی سیاسی کی ہوا بہہ رہی ہے۔ کانگریس فرقہ پرست بھاجپا کو اقتدار سے دور رکھنے کے نام پر سیکولر طاقتوں کو متحد ہونے کی اپیل کررہی ہے۔ یہ ہی کام تیسرے مورچے کی ہوا بھرنے والے سپا اور لیفٹ پارٹیاں بھی کررہی ہیں۔ اگر مدنی کے نشانے پر کانگریس کے آنے سے اس کیلئے فرقہ پرستی کیلئے بھاجپا کوکوسنا بیحد مشکل ہوسکتا ہے۔ یہ ہی نہیں ابھی تک کانگریس گجرات دنگوں کی بار بار یاد دلا کر مودی کو گھیر رہی ہے۔ مولانا مدنی کے الزامات کے بعد پارٹی کیلئے ایسا کرنا کی مشکل ہوسکتا ہے۔ حالانکہ اس وقت پارٹی مدنی پر پلٹ وار کرنے کے بجائے مودی کو ہی نشانہ بناکر اس تنازعے سے بچنے کی بات کررہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی کہتے ہیں کہ مودی کے وزی اعظم بننے کا سوال ہی نہیں اٹھتا تو ڈرنے ڈرانے کا سوال کہاں سے اٹھتا ہے؟
(انل نریندر)

والمارٹ کا بھارت کے خوردہ بازار میں مستقبل؟

دنیا کی سب سے بڑی خوردہ کاروباری کمپنی والمارٹ اسٹورس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خوردہ کاروبار یعنی ہندوستانی سانجھیداری نہیں کرے گی۔ والمارٹ نے بھارتیہ انٹرپرائزز سے بھارت میں سانجھیداری ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ کیش اینڈ کیری آپریشن کے لئے چلائے جارہے بیسٹ پرائز ماڈرن اسٹور میں بھارتیہ ایئرٹیل کی 50 فیصدی حصے داری کو والمارٹ خرید لے گی اور ہندوستان انٹرپرائزز لمیٹڈ کے نام سے چلائے جارہے ملٹی برانڈ اسٹور کاروبار کو جاری رکھے گی۔ اس واقعہ کو بھارت میں سرمایہ کاری کو لیکر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے آنے میں کمی سے بھی جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ 6 سال پہلے شروع ہوئی والمارٹ اور بھارتیہ کمپنی کے بیچ سانجھیداری ٹوٹنے پر حالانکہ بھارت سرکار نے کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا لیکن اس واقعہ کے بعد مستقبل قریب میں والمارٹ ، کے سی ایف کے بھارتیہ خوردہ بازار میں اترنے کے امکانات کافی مدھم ہوگئے ہیں کیونکہ اسے اس کے لئے 49 فیصدی حصے داری والے نئے سانجھیدار تلاشنے ہوں گے۔ سالانہ قریب 440 ارب ڈالر کا کاروبار کرنے والی والمارٹ اسٹورز پر بھارت نے ریٹیل کاروبار میں ایف بی آئی کے لئے لابنگ کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ان الزامات کے چلتے والمارٹ نے اپنے کچھ افسران کو ہٹا دیا تھا۔ ساتھ ہی پچھلے دنوں بھارتیہ والمارٹ جوائنٹ انٹرپرائز کے چیف راج جین نے بھی کمپنی چھوڑ دی تھی۔ امریکی سینیٹ کو دی گئی لابنگ کی معلومات نے بھارت میں والمارٹ کے طریق�ۂ کار پر بھی تنازعہ کھڑا کردیا تھا۔ والمارٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس نے بھارت سمیت دنیا کے دوسرے ملکوں میں لابنگ کے لئے قریب25 ملین ڈالر کی رقم چار برسوں میں خرچ کی تھی۔ معاملہ طول پکڑنے کے بعد بھارت سرکار نے جنوری میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق جسٹس شکل مدگل کی سربراہی میں ایک نفری کمیٹی بنائی تھی۔ اس جانچ میں کارپوریٹ افیئر ، وزارت اور انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور محکمہ انڈسٹریل پالیسی اور پرموشن بھی اپنے سطح پر کمیٹی کو تعاون دے رہے تھے۔ سانجھیداری پر تنازعات کے ساتھ والمارٹ کے اپنے کاروباری فروغ کے لئے لابنگ اور رشوت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کمپنی پر ہندوستانی بازار میں اینٹری کے لئے لابنگ کے الزام لگے جس کے بعد بھارتیہ والمارٹ کے سی ای او راج جین کوہٹنا پڑا۔ دنیا بھر میں اس طرح کے الزامات کا اثر والمارٹ اسکیموں پر پڑا۔ اکتوبر2012ء کے بعد بھارتیہ والمارٹ نے نیااسٹور نہیں کھولا۔ اس کے علاوہ بھارتیہ گروپ میں والمارٹ سرمایہ کاری کے سوالوں کے گھیرے میں رہا ہے۔ گزشتہ ستمبر میں ملٹی برانڈ ریٹیل میں ایف بی آئی کی راہ کھلنے کے باوجود ابھی تک کسی بھی غیر ملکی خوردہ کمپنی نے اینٹری نہیں کی ۔30فیصدی مقامی خرید اور بنیادی ڈھانچے جیسی پابندیوں کے چلتے خوردہ میں سرمایہ کاری کرنے سے جھجھک رہی ہیں۔ حالانکہ تھوک بازار میں بھارتیہ کے ساتھ اس کی سانجھیداری چھ سال سے چل رہی تھی ان چنوتیوں نے غیر ملکی نہیں بلکہ دیسی خوردہ دوکانداروں کو بھی اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کردیا۔
والمارٹ حکام نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی۔ پی ایم او کا بات چیت کی تفصیل دینے سے انکار کردیا۔ آرٹی آئی کے ذریعے سے ملی اطلاع میں بتایا گیا جو اطلاع مانگی گئی ہے اسے دینے کیلئے قانون کی دفعہ8 میں کوئی رعایت نہیں ہے جبکہ پی ایم او کے حکام کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ مانگی گئی اطلاع دفتر کے ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔ والمارٹ نے2012ء میں 33 کروڑ روپے کے مختلف معاملوں پر لابنگ کے لئے خرچ کئے۔ اس میں بھارت کے خوردہ سیکٹرمیں درپردہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا اشو بھی شامل ہے۔ 
(انل نریندر)

18 اکتوبر 2013

پاریکھ کا صحیح سوال،میں ملزم تو پی ایم کیوں نہیں؟

وقت وقت کی بات ہے آج سے 20-30 برس پہلے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کسی برلا کے خلاف کیس درج ہو یا ان میں سے کسی برلا کو پوچھ تاچھ کے لئے بلایا جاسکے۔ لیکن آج برلا بھی کٹہرے میں کھڑے ہورہے ہیں اور امبانی سے بھی پوچھ تاچھ ہورہی ہے۔یہ سب کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالے سے متعلق ہے۔ چناوی موسم کے درمیان کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے میں سی بی آئی نے مشہور صنعت کار ادتیہ برلا گروپ کے چیئرمین کمار منگلم برلا اور ان کی کمپنی ہنڈالکو انڈسٹریز لمیٹڈ کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ گھوٹالے کی اس14 ویں ایف آئی آر میں کمار منگلم کے ساتھ سابق کوئلہ سکریٹری پی ۔سی۔ پاریکھ اور کوئلہ وزارت میں کچھ گمنام حکام کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ معاملہ درج کرنے کے ساتھ ہی سی بی آئی نے ادتیہ برلا گروپ کے کئی اداروں پر دستاویز اور دیگر ثبوت اکٹھا کرنے کے لئے چھاپے مارے۔ ایف آئی آر کے مطابق2005ء میں کچھ لوگوں نے ایڈمنسٹریٹو حکام کے ساتھ مل کر مجرمانہ سازش اور تالابیرا2- اور تالابیرا ۔3 کو ئلہ بلاک کے الاٹمنٹ میں جانبداری کا رویہ اپنایا۔ دراصل تالابیرا۔2 بلاک تاملناڈو سرکار کے پبلک سیکٹر ادارے نویلی لگنائٹ کو دی جانی تھی لیکن اس وقت کے کوئلہ سکریٹری پی۔سی۔ پاریکھ نے ہنڈالکو کوفائدہ پہنچایا اور اس کول بلاک کو نویلی لگنائٹ کے ساتھ شیئرکرنے کی اجازت دے دی، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان ہوا۔ اتنی اہم شخصیتوں اور حساس اشوز پر چارج شیٹ کا فال آؤٹ ہونا فطری ہے۔ ادھر چارج شیٹ داخل ہوئی ادھر چارج شیٹ میں ملزم سابق کوئلہ سکریٹری پی ۔سی ۔ پاریکھ نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ پاریکھ نے اخبار نویسوں سے کہا اگر کوئی سازش ہوئی ہے تب اس میں مختلف لوگ شامل ہیں۔ ان میں ایک برلا بھی ہیں جنہوں نے عرضی لگائی تھی۔تب جس نے اس معاملے کو دیکھا تھا اور سفارش کی تھی ۔وزیر اعظم منموہن سنگھ اس وقت وزیر کوئلہ تھے اور انہوں نے آخری فیصلہ لیا تھا۔ وہ تیسرے سازشی ہیں۔ اس لئے اگر کوئی سازش ہوئی ہے تو ہم سب کو (وزیراعظم سمیت) ملزم بنایا جانا چاہئے۔ پاریکھ نے آگے سوال کیا کہ اگر سی بی آئی کو لگتا ہے کہ سازش ہوئی ہے تو برلا اور مجھے ہی کیوں چنا گیا، وزیر اعظم کو کیوں نہیں؟ اخبار نویسوں نے پوچھا کیا پی ایم کو سازشی نمبر ون بنایا جانا چاہئے؟اس پر پاریکھ کا کہناتھا بالکل آخری فیصلہ تو انہوں نے ہی کیا۔ اگر وہ چاہتے تو میری سفارش مسترد کرسکتے تھے۔ پاریکھ میں ہماری رائے میں بالکل صحیح سوال اٹھایا ہے۔ اگر کوئلہ بلاک کے الاٹمنٹ میں کوئی سازش ہوئی ہے تو کوئلہ وزیر کے طور پر وزیر اعظم کا نام بھی سازش کرنے والوں میں شامل کیوں نہیں ہے۔ بھلے ہی سی بی آئی یہ دعوی کررہی ہو کہ برلا اور پاریکھ کے خلاف اس کے پاس کافی اور ٹھوس ثبوت ہیں لیکن اس کی کارروائی کافی کچھ غیر متوقع نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ پہلی بات تو پاریکھ کی ساکھ ایک ایماندار افسر کی رہی ہے۔ دوسرا اس پر یقین کرنا مشکل ہورہا ہے کہ ایک بڑے صنعتی گھرانے کو سنبھالنے اور عام طور پر تنازعوں سے دور رہنے والے کمار منگلم ایک غیر مناسب اور غیر اخلاقی طریقے سے کوئلہ بلاک حاصل کرنے کی کوشش میں شامل ہیں۔ خود حکمراں کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار میں اس کیس کو لیکر ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ وزیر کمپنی امور سچن پائلٹ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے سرمایہ کاروں کا بھروسہ ڈگمگا سکتا ہے۔ وہیں وزیر تجارت اور صنعت آنندشرما نے اسے افسوسناک بتایا۔ پائلٹ نے کہا کہ یہ یقینی ضروری ہے کہ اس طرح کی کارروائی ٹھوس حقائق پر منحصر ہو۔ کیونکہ پچھلے واقعات سے کاروباری ماحول متاثر ہوتا ہے وہیں صنعتی دنیا نے ایف آئی آر میں برلا کا نام آنے پر دیپک پاریکھ اور کمپنی امور ٹی ۔بی موہن داس سمیت کئی صنعتی اداروں نے کہا کہ جب تک کسی کے پاس پختہ ثبوت نہیں ہو کسی صنعتکار کو نشانہ بنان سے معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ پورے واقعہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ کوئلہ بلاک میں نئے سرے سے الزامات کا سامنا کررہے پردھان منتری منموہن سنگھ کو اس بار اپنی پارٹی نے انہیں اکیلا چھوڑدیا ہے۔ متنازعہ آر ڈیننس پر کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کے ذریعے پی ایم کو پلائی گئی لتاڑ کا یہ نتیجہ ہے کہ اتنے بڑے الزام کے باوجود آج نہ تو سرکار کی طرف سے نہ ہی کانگریس کی طرف سے کسی بڑے لیڈر نے کھل کر ان کا ساتھ دیا ہے۔ یہاں یہ بھی بتایا ضروری ہے کہ اس کول بلاک الاٹمنٹ سے متعلق کچھ اہم فائلیں بھی غائب ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اس معاملے سے جڑی سی بی آئی کی ابتدائی جانچ رپورٹ چوری چھپے بدلنے کی کوشش کی گئی ہے؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ کوشش کوئلہ وزارت سے کی گئی ہے۔ صاف ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ساتھ ساتھ ایک بار پھر سی بی آئی کے کام کاج کے طریقے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ تازہ ایف آئی آر کانگریس کے لئے مصیبت بن گئی ہے۔ اپوزیشن کو تازہ اشو ملنے سے کانگریس کے لئے مقابلہ مشکل ہوسکتا ہے۔ اترپردیش کے ایک فوڈ پارک کے سنگ بنیاد کے موقعہ پر حال ہی میں راہل گاندھی کمار منگلم برلا کے ساتھ نظرآئے تھے۔ کانگریس پارٹی کو برلا گروپ نے کروڑوں روپیہ چندہ دیا ہے۔ اس ایف آئی آر سے صرف برلا ہی نہیں بلکہ ساری صنعتی دنیا سرکار کے خلاف ہوسکتی ہے۔ کانگریس کے اندر مانا جارہا ہے کہ تازہ ایف آئی آر سے ایک طرف کرپشن کا اشو اہم بن جاتا ہے وہیں وزیر اعظم کو بچانا مشکل بھی۔ دیکھیں کانگریس پارٹی اور یوپی اےII- سرکار تازہ حملے سے کیسے نمٹتی ہے۔ یہ بھی غور کرنا ہوگا کہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ ،خاص کر دہلی اسمبلی چناؤ میں تازہ واقعات کا کیا اثر پڑتا ہے؟
(انل نریندر)

17 اکتوبر 2013

دہلی دیکھنے میں انتہائی خوبصورت رہنے والوں کیلئے چلینج بھری!

گزشتہ دنوں میرا ایک اسکول کا دوست شکاگو امریکہ سے دہلی آیا میں اسے ہوائی اڈے لینے گیا باہر نکلتے ہی اسنے اندراگاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ہوائی اڈا تو بیں الااقوامی معیار کا بن گیا ہے راستے میں فلائی اوور اور ٹول بریئج کی سڑکوں اور عمارتوں کی تعریف کرتے ہوئے اس نے کہا کہ دہلی کا تو نقشہ اور شکل ہی بدل گئی اور چاروں طرف ترقی ہی نظر آرہی ہے بیرونی ملک سے آنے والوں کی بات تو چھوڑیے دوسرے ملکوں سے آنے والے بھی یہی کہتے ہیں اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ شیلا دیکشت کی قیادت میں دہلی کی تصویر بدل دی لیکن اس ترقی کی وجہ سے آنے والے دہلی اسمبلی چناؤ میں کانگریس کی جیت ہوگی یہ دعوے سے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس کی وجہ ہے بے شک باہر سے آنے والوں کو دہلی کی چوطرفہ ترقی نظر آتی ہے لیکن دہلی کی شہریوں کا شہر میں رہنا اتنہائی مشکل ہوتا جارہا ہے چاہے ہم لااینڈ آرڈر کی بات کریں چاہے ٹریفک کی بات کریں ،بجلی پانی کے بارے میں بات کریں یا مہنگائی کی بات کریں ،بچوں کی اسکولوں کی بات کریں ان سب نے دہلی کی شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہےْ ۔گھوٹالے پر گھوٹالے کا آئے دن پردہ فاش ہو رہاہے زہ مثال دہلی میں راشن تقسیم کے اناج میں کروڑوں کی روپے کی کالا بازاری کو لے لیں ۔ایک نجی ٹی وی چینل آج تک نے ایک اسٹنگ آپریشن کرکے دیکھایا ہے غذائی گارنٹی اسکیم کے تحت سستا گیہوں لے کر اناج کے گودام سے نکلا ٹرک مقررہ مقام کے بجائے نجی آٹا مل پہنچ گیا ہے اس میں محکمہ خوراک کے کئی ملازم اور افسروں کے شامل ہونے کے بات کہی گئی ہے اس سے غریبوں کو ملنے والا سستا راشن نہیں مل سکا اور مرکز و ریاستی حکومت نے ضرورت مندوں کو جو سہولت دینے تھی وہ چوپٹ ہوگئی ۔یہ گھوٹالہ بھی کروڑوں روپے ہے آسمان چھوتی مہنگائی دہلی کے شہریوں کو اتنا ستا رہی ہے کہ کہیں اس کا غصہ کانگریس سرکار کو نہ جھیلنا پڑے پیاز روز مرہ کی کھانے والی دیگر سبزیوں کی قیمتوں کے سبب تھوک اور خوردہ مہنگائی شرح ں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔مہنگائی شرح پچھلے سات مہینے میں سب سے زیادہ اونچائی سطح 6.46فیصدی پر پہنچ گئی جبکہ ستمبر میں خوردہ کرنسی پوزیشن شرح 9.84درج کی گئی رسوئی گیس پیٹرول کے دام اور مہنگائی میں سالانہ 9اعشاریہ 64فیصدی اضافہ درج کیا گیا پچھلے مہپینے ستمبر میں کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی تین سال میں سب سے زیادہ بڑھ کر 18.4فیصدی ہوگئی پچھلے سات مہینوں تھوک مہنگائی کا بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے پیاز 322فیصدی سے زیادہ جبکہ سبزیاں 89فیصدی مہنگی ہوئی ہیں اس دوران آلو اور دال 13فیصدی سستے ہوئے لیکن پھلوں پر مہنگائی ہے کہ ترقی شرح گر کر 5فیصدی کے نیچے آگئی ایک سال کے اندر دہلی میں تیسری دودھ مہنگا ہوا ہے امول نے دو روپئے بڑھا دیے ہیں ۔اب دہلی میں دودھ 44روپیے لیٹر ملے گا جبکہ ٹونڈ دوسھ کی قیمت 32سے بڑھ کر 34روپے لیٹر ہوجائے گااسی طرح ڈبل؛ ٹونڈ 30روپے فی لیٹر ہوگیا۔راجدھانی میں پیاز نے پھر آنسو رلانے شروع کردئے ہیں اس وقت پیاز خوردہ بازار میں 60سے 70روپے کیلو بک رہی ہے جبکہ تھوک بازار میں 50روپے کیلو ہے ۔اس کی دلیل دی جارہی ہے کہ فائلن طوفان کے سبب فصل برباد ہونے سے غذائی سامان کے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور تہواری سیزن اس مہنگائی کا اثر پڑنا لازمی ہے اگر ہم دہلی کی ٹریفک کی با ت کریں سڑکوں پر تیز دوڑتی گاڑیوں کے سبب ہر چوتھی سڑک پر لوگ دم توڑتے ہیں دہلی کا سڑک حادثوں میں مقام نمبر 1 ہے دہلی میں 2012میں 1822سڑک حادثوں میں 866لوگ مرے تھے پچھلے 9سالوں میں جب سے کانگریس سرکار آئی ہے 432فیصد اضافہ ہوا ہے اگر ہم دہلی میں لااینڈ آرڈ رکی بات کریں تو دہلی میں عورتوں کیلئے ان کی حفاظت کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے پچھلے سال گینگ ریپ کے بعد سے اور بھی اہم بن چکا ہے لیکن قومی راجدھانی ہونے کے سبب دہلی پولیس ریاستی سرکار کے ماتحت نہ ہونے کے سبب کوئی بھی پارٹی اس ایشو کا ٹھوس سبب نہیں رکھ سکی اور بلکہ آبرو ریزی کے واقعات بڑھے ہیں اور اب دہلی کو ریپ کیپیٹل آف انڈیا کہا جانے لگا ہے کوئی بھی دہلی کی عورت اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی بجلی کی داموں کا اشو بھی کم اہم نہیں اسی طرح پانی کی قلت اور اس کے داموں میں اضافے نے اور اس کے بھاری بھرکم بلوں کے آنے سے دہلی کے باشندے پریشان ہیں ۔دہلی میں ٹریفک جام کے سبب لوگوں کا وقت ضائع ہوتا ہے ر اس میں 40سے 50فیصدی پیٹرول ڈیزل ضائع ہوتا ہے جو گاڑیاں روڈ پر 1لیٹر میں 15کیلو میٹر چلتی ہیں وہ جام کی وجہ سے 8 سے 10کیلو میٹر تک ہی محدود رہ جاتی ہیں دہلی میں اوسطا ساڑھے سو بسیں خراب ہوتی ہیں 2012میں راجدھانی میں 4086بچے لاپتہ ہوئے جن کا آج تک پتہ نہیں چلا بحر حال ایسے بہت سے اشو ہیں کل ملاکر دہلی دیکھنے میں تو بہت خوبصورت ہے لیکن رہنے والوں کیلئے بہت چلنج بھری ہے ۔
انل نریندر

16 اکتوبر 2013

طوفان سے بچے ،بھگدڑ میں مرے!

ہمارے سامنے دو مثالیں ہیں جب ایک خدائی قہر اور خوفناک طوفان فیلن آیا اور دوسرا دکیا سے 60 کلو میٹر دور مدھیہ پردیش میں واقعہ رتن گڑھ دیوی مندر میں بھگدڑ ہوئی۔ حالانکہ قدرتی قہر طوفان فیلن کہیں زیادہ خطرناک تھا اور بھاری تباہی مچا سکتا تھا۔وہیں بطور تیاری اور قدرتی آفات روک تھام محکمے کے سبب سینکڑوں زندگیاں بچائی جاسکیں۔ اس کامیابی کا سہرہ مرکزی اور قومی قدرتی آفات مینجمنٹ یعنی این ڈی ایم اے کے ساتھ ساتھ ریاستوں کے مقامی انتظامیہ کو جاتا ہے۔ اگر مقامی انتظامیہ بروقت رتن گڑھ دیوی مندر میں چوکس ہوتی تو شاید یہ حادثہ نہ ہوتا لیکن لاپروائی کے سبب115 شردھالوؤں کی جانیں گئیں اور150 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں معصوم بچے ،عورتیں شامل ہیں۔ نوراتری کی نویں پر مدھیہ پردیش کے اس مشہور دیوی مندر میں پل ٹوٹنے کی افواہ کے بعد بھگدڑ مچنے سے 115 لوگوں کو جان گنوانی پڑی۔ مندر کے لئے راستہ سندھ ندی پر بنے پل سے ہوکر جاتا ہے۔ پل پر کافی بھیڑ جمع تھی ،تبھی کچھ لوگوں نے افواہ پھیلا دی کے پل ٹوٹنے والا ہے جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ حالانکہ کچھ چشم دید کا کہناہے کہ کچھ لوگوں نے تو پل سے مندر تک لگی لمبی لائن کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ اس طرح عورتیں ،بچے اور بزرگ ادھر ادھر بھاگنے لگے اور بھگدڑ مچ گئی۔ رتن گڑھ ماتا مندر کے قریب بہہ رہی سندھ ندی کے پل پر جہاں بھی نظر دوڑائے لوگوں کی لاشیں اور زخمی پڑے ہزاروں کی تعداد میں مسافروں کے جھولے بیگ اور جوتے چپل بکھرا پڑا نظر آئے گا۔ مدھیہ پردیش حکومت نے اس حادثے کی جوڈیشیل انکوائری کے احکامات دئے ہیں۔ مرنے والوں کو ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ اور سنگین طور پرزخمیوں کو 50 ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ حادثے پر کچھ ایسے سوال کھڑے ہوگئے ہیں جن کا جواب ملنا چاہئے۔ آخر پل ٹوٹنے کی افواہ کس نے اور کیوں پھیلائی؟ کیا پولیس ملازمین نے ہی یہ کہاتھا کہ پل ٹوٹ رہا ہے اور لوگوں کو وہاں روکنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی اور پولیس کو صبر و تحمل کا مظاہرہ دکھانے کے بجائے لاٹھی چارج کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟ بھیڑبڑھنے پر محدود لوگوں کو الگ الگ گروپوں میں مندروں تک چھوڑا جاسکتا تھا۔ اگر تعداد کم تھی تو پولیس کو لاٹھی چارج کرنے کا حکم کس نے دیا؟ پولیس کو جبکہ یہ معلوم تھا لاٹھی چارج میں بھگدڑ مچ سکتی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے پولیس کسی نیتا کے لئے راستہ بنانے کی کوشش کررہی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اہم شخصیت کے آنے کا پلان پہلے سے نہیں بنایا گیا اور یہ غور نہیں کیا گیا کے اہم شخصیات کو بھیڑ والے راستے سے نہ لاایا جائے۔ واقعہ کے کچھ دیر بعد متاثرہ لوگوں کو مدد تک نہیں ملی اور دیر شام تک لاشوں کا ڈھیڑ لگا رہا۔ بڑی تعداد میں جب لوگ نویں کے موقعہ پر آنے والے تھے تو وہاں فائر برگیڈ ،ایمبولنس یاچلتے پھرتے ہسپتالوں کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا؟نیا پل بننے کے بعد بھی لوگ سندھ ندی میں گر گئے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق ندی میں گرے لوگوں کو ڈھونڈھا نہیں جاسکا۔ بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔ ندی میں آخر یہ لوگ گرے کیسے؟اکتوبر2006 ء کو بھی سندھ ندی میں 50 لوگ بہہ گئے تھے۔ اس کے بعد جانچ کرائی گئی اور رپورٹ میں کچھ تجاویز پیش کی گئیں کیا ریاستی حکومت نے جوڈیشیل کمیشن کی سفارشوں کی بنیاد پر کوئی کارروائی کی۔ اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے اس حادثے کا شیو راج سنگھ چوہان کی سرکار کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
(انل نریندر)

پچھلے 9 سالوں میں بچوں کی اسکول فیس 432 فیصدی بڑھی

عوام صرف آلو ،پیاز، آٹا ،دال بھات جیسی ضروری چیزوں کی مہنگائی سے پریشان نہیں ہے بلکہ ایسے کئی خرچ ہیں جنہوں نے لوگوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ9 سال میں بچوں کی اسکول فیس سب سے زیادہ 432 فیصدی تک بڑھی ہے۔ اس میعاد میں سبزی ،آٹا،دودھ، دال اور چینی سمیت تقریباً ڈیڑھ سو چیزوں کے دام دگنے سے زیادہ ہوگئے۔ اتنا ہی نہیں مٹن سمیت درجن بھر چیزوں کے بھاؤ بڑھ کر تین گنا سے زیادہ ہوگئے۔انڈیکس اور پروگرام تعمیل وزارت سے موصولہ اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ2004ء میں دیہی علاقوں میں ایک اسکولی طالبعلم کی اوسطاً فیس 48.71 روپے ہوا کرتی تھی جو اب بڑھ کر259.60 سے اوپر ہوگئی ہے۔ اس طرح اسکول فیس میں 432 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران دالیں مونگ، اوڑد، ارہر میں بھی 190,176 فیصدی کے درمیان اضافہ ہوا ہے۔ آلو کی قیمت158، پیز کی قیمت 144، ٹماٹر کی قیمت 129 فیصدی بڑھی ہے۔ اس میعادمیں ڈاکٹر کی فیس بھی 155فیصد بڑھی ہے۔ وزارت نے 260 اجناس اور خدمات کی قیمتوں سے متعلق اعدادو شمار جاری کئے ہیں۔ یہ اعدادو شمار دیش بھر کے 603 دیہات سے نیشنل سیمپل سروے آفس نے نتھی کئے ہیں۔ حالانکہ بیتے 9 برسوں میں سالانہ فی شخص آمدنی چالو قیمتوں پر24.143 روپے سے بڑھ کر 68757 روپے ہوئی۔ غور طلب ہے کہ فی شخص آمدنی قومی سطح پر ایک اوسط ہوتی ہے اس لئے یہ ضروری نہیں کہ دیہی علاقے میں لوگوں کی آمدنی میں اتنی تیزی سے اضافہ ہو۔ حالانکہ منریگا جیسے پروگراموں کے تحت دیہی علاقوں میں حال کے برسوں میں غیر متوقع سے زیادہ پیسہ گیا ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کے دام نہیں بڑھے ہیں یہ ہیں پوسٹ کارڈ، انلینڈ لیٹروغیرہ۔ یہ اعدادو شمار مارچ2013 تک کے ہیں۔ سرکارنے اس سال مارچ کے بعد ریل کرایہ بڑھایا ہے جس کی تفصیل اس انڈیکس میں نہیں ہے۔ تعلیم اور صحت جیسی خدمات حالیہ برسوں میں کافی مہنگی ہوئی ہیں ہسپتالوں کا تو پوچھئے مت۔ کسی بھی اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کرانا پڑجائے تو بل لاکھوں میں بن جاتا ہے۔ یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔ عام آدمی پر مہنگائی کی چوطرفہ مار پڑ رہی ہے تازہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اگست کے دوران تھوک مہنگائی شرح 6 ماہ کے اندر سب سے بلندی سطح 6.1 فیصدی پر تھی جو پچھلے سال اسی میعاد کے مقابلے اگست میں سبزیاں قریب78 فیصدی اور پیاز244فیصدی تک مہنگی ہوگئی۔ تہواری سیزن میں یہ مہنگائی اپنا رنگ ضرور دکھائے گی۔ بڑھتی مہنگائی ،گرتا روپیہ اور دھیمی اقتصادی ترقی نے مرکزی سرکار کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ مختلف اسمبلیوں کے چناؤ سر پر ہیں لوک سبھا کے چناؤ بھی اب دور نہیں۔ ایک مطالعہ میں بتایا گیا ہے کہ تیل کمپنیوں کو سبسڈی کا بوجھ کم کرنے کے لئے پیٹرول کے دام میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تھوک مہنگائی شرح 0.5 فیصدی تک اور بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اگست میں دودھ کی تھوک مہنگائی شرح 5.6 فیصدی بڑھ گئی۔ اسی سال جولائی میں دودھ کی تھوک مہنگائی شرح2.3 فیصدی بڑھ گئی تھی۔ ایک سال کے اندر 10 فیصدی سے زیادہ دودھ مہنگا ہوگیا۔ اسکول فیس کے علاوہ کتابوں، کاپیوں، پین، پینسل،بستہ وغیرہ کی قیمتیں بھی بڑھی ہی ہیں۔ پتہ نہیں یہ بڑھتی مہنگائی کہاں جاکر رکے گی، رکے گی بھی یا نہیں؟
(انل نریندر)عوام صرف آلو ،پیاز، آٹا ،دال بھات جیسی ضروری چیزوں کی مہنگائی سے پریشان نہیں ہے بلکہ ایسے کئی خرچ ہیں جنہوں نے لوگوں کا جینا حرام کررکھا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ9 سال میں بچوں کی اسکول فیس سب سے زیادہ 432 فیصدی تک بڑھی ہے۔ اس میعاد میں سبزی ،آٹا،دودھ، دال اور چینی سمیت تقریباً ڈیڑھ سو چیزوں کے دام دگنے سے زیادہ ہوگئے۔ اتنا ہی نہیں مٹن سمیت درجن بھر چیزوں کے بھاؤ بڑھ کر تین گنا سے زیادہ ہوگئے۔انڈیکس اور پروگرام تعمیل وزارت سے موصولہ اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ2004ء میں دیہی علاقوں میں ایک اسکولی طالبعلم کی اوسطاً فیس 48.71 روپے ہوا کرتی تھی جو اب بڑھ کر259.60 سے اوپر ہوگئی ہے۔ اس طرح اسکول فیس میں 432 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران دالیں مونگ، اوڑد، ارہر میں بھی 190,176 فیصدی کے درمیان اضافہ ہوا ہے۔ آلو کی قیمت158، پیز کی قیمت 144، ٹماٹر کی قیمت 129 فیصدی بڑھی ہے۔ اس میعادمیں ڈاکٹر کی فیس بھی 155فیصد بڑھی ہے۔ وزارت نے 260 اجناس اور خدمات کی قیمتوں سے متعلق اعدادو شمار جاری کئے ہیں۔ یہ اعدادو شمار دیش بھر کے 603 دیہات سے نیشنل سیمپل سروے آفس نے نتھی کئے ہیں۔ حالانکہ بیتے 9 برسوں میں سالانہ فی شخص آمدنی چالو قیمتوں پر24.143 روپے سے بڑھ کر 68757 روپے ہوئی۔ غور طلب ہے کہ فی شخص آمدنی قومی سطح پر ایک اوسط ہوتی ہے اس لئے یہ ضروری نہیں کہ دیہی علاقے میں لوگوں کی آمدنی میں اتنی تیزی سے اضافہ ہو۔ حالانکہ منریگا جیسے پروگراموں کے تحت دیہی علاقوں میں حال کے برسوں میں غیر متوقع سے زیادہ پیسہ گیا ہے۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کے دام نہیں بڑھے ہیں یہ ہیں پوسٹ کارڈ، انلینڈ لیٹروغیرہ۔ یہ اعدادو شمار مارچ2013 تک کے ہیں۔ سرکارنے اس سال مارچ کے بعد ریل کرایہ بڑھایا ہے جس کی تفصیل اس انڈیکس میں نہیں ہے۔ تعلیم اور صحت جیسی خدمات حالیہ برسوں میں کافی مہنگی ہوئی ہیں ہسپتالوں کا تو پوچھئے مت۔ کسی بھی اچھے پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کرانا پڑجائے تو بل لاکھوں میں بن جاتا ہے۔ یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔ عام آدمی پر مہنگائی کی چوطرفہ مار پڑ رہی ہے تازہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اگست کے دوران تھوک مہنگائی شرح 6 ماہ کے اندر سب سے بلندی سطح 6.1 فیصدی پر تھی جو پچھلے سال اسی میعاد کے مقابلے اگست میں سبزیاں قریب78 فیصدی اور پیاز244فیصدی تک مہنگی ہوگئی۔ تہواری سیزن میں یہ مہنگائی اپنا رنگ ضرور دکھائے گی۔ بڑھتی مہنگائی ،گرتا روپیہ اور دھیمی اقتصادی ترقی نے مرکزی سرکار کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ مختلف اسمبلیوں کے چناؤ سر پر ہیں لوک سبھا کے چناؤ بھی اب دور نہیں۔ ایک مطالعہ میں بتایا گیا ہے کہ تیل کمپنیوں کو سبسڈی کا بوجھ کم کرنے کے لئے پیٹرول کے دام میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تھوک مہنگائی شرح 0.5 فیصدی تک اور بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اگست میں دودھ کی تھوک مہنگائی شرح 5.6 فیصدی بڑھ گئی۔ اسی سال جولائی میں دودھ کی تھوک مہنگائی شرح2.3 فیصدی بڑھ گئی تھی۔ ایک سال کے اندر 10 فیصدی سے زیادہ دودھ مہنگا ہوگیا۔ اسکول فیس کے علاوہ کتابوں، کاپیوں، پین، پینسل،بستہ وغیرہ کی قیمتیں بھی بڑھی ہی ہیں۔ پتہ نہیں یہ بڑھتی مہنگائی کہاں جاکر رکے گی، رکے گی بھی یا نہیں؟

(انل نریندر)

15 اکتوبر 2013

فرقہ وارانہ فساد سیاسی فائدے کیلئے سیاسی پارٹیاں کراتی ہیں!

حالانکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات ہوتے نہیں ہیں کرائے جاتے ہیں لیکن کبھی کسی بھی سیاستداں کو یہ اقبال نامہ اچھا لگتا ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے مظفر نگر فسادات کو لیکر پچھلے بدھوار کو علیگڑھ اور رامپور کی ریلیوں میں سماجوادی پارٹی اور بھاجپا پر جم کر تنقید کی اور کہا فساد ہوتے نہیں کروائے جاتے ہیں۔ مظفر نگر میں بھی ایسا ہی ہوا ہے یہاں سیاسی طاقتوں نے محض اس لئے خون خرابہ کرایا کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ فرقہ وارانہ ٹکراؤ کے بغیر چناؤ نہیں جیت سکتے۔ عام آدمی تو یہ مانتا رہا ہے کہ فسادات سیاسی فائدے کے لئے کرائے جاتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں ووٹ کے لئے لوگوں کے درمیان ذات اور مذہب کا بھید بھاؤ پیدا کرتی ہیں۔ عام طور پر لوگ امتیاز کو بھول کر پیار محبت سے مل کر رہنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم مظف نگر کی بات کریں تو یہاں کبھی فرقہ وارانہ دنگا نہیں ہوا۔ 1947ء میں بھی نہیں ہوا۔ برسوں سے ہندو مسلمان بھائی چارے سے رہتے آئے ہیں لیکن سیاسی فائدے کیلئے وہاں فسادات شروع ہوئے اور انہیں روک پانے کے الزام میں سزا کے طور پر معطل چار دروغاؤں کی دلیل سننے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے ان کی معطلی پر روک لگا دی۔ دروغاؤں کی طرف سے کہا جانا کی کوال گاؤں میں لڑکی چھیڑنے کے خلاف احتجاج کررہے سچن اور گورو کے قتل کے الزام میں پکڑے گئے ملزمان کو وزیر کے دباؤ میں چھوڑے جانے کے بعد وہاں فرقہ وارانہ فساد بھڑک اٹھا۔ وہاں لوگوں نے اکھلیش سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ مظفر نگر فسادات کے بعد سپا سرکار ایکطرفہ کارروائی کے الزامات میں گھرتی جارہی ہے۔ سرکار پر دنگے کے بعد فرق�ۂ خاص کے پولیس ملازمین کے تبادلے کے الزام کے علاوہ بڑے پیمانے پر ایک فرق�ۂ خاص سے متعلق لوگوں کے اسلحہ لائسنس معطل کرنے کا بھی الزام لگ رہا ہے۔ ہائی کورٹ پہنچے اسلحہ لائسنس معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے کہ معاملے کی اگلی سماعت23 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ جسٹس دلیپ گپتا نے مظفر نگر کے راجندرسنگھ نام کے ایک شخص کی عرضی پر سماعت کے بعد اکھلیش حکومت سے جوابی حلف نامہ دو ہفتے میں داخل کرنے کو کہا ہے۔ راجندر سنگھ کے وکیل انل شرما نے عدالت کو کوال کے واقعے کے بعد پیدا حالات کی تفصیل بتائی اور کہا فساد کے بعد بھیروکلاں تھانے نے 9 ستمبر کے نوٹس جاری کرکے اسلحہ کے لائسنس منسوخ کرنے کی اطلاع دی۔ اس سے 23 اکتوبر تک اپنا اسلحہ تھانے میں جمع کرنے کوکہا گیا۔ اتنا ہی نہیں اسی طرح کا نوٹس نوآباد گاؤں کے ایک ہی فرقے کے 70 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔وکیل انل شرما نے مزید دلیل پیش کی کہ آئین کی دفعہ14 کے تحت حکومت مذہب کی بنیاد پر اسلحہ لائسنس جاری یا منسوخ کرنے میں امتیاز نہیں برت سکتی۔ ادھر سپریم کورٹ نے مظفر نگر سمیت ریاست کے کئی علاقوں میں بھڑکے دنگوں کے معاملے میں وزیر اعلی اکھلیش یادو اور وزیر شہری ترقی اعظم خاں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے یہ نوٹس داخل دو دیگر لوگوں کے ذریعے ہائی کورٹ کی الہ آباد اور لکھنؤ بنچ میں عرضی کو اپنے یہاں منقتل کرنے کے بعد دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلے سے داخل عرضیوں سمیت ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کی تین عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کی ہے۔ سماجی رضاکار ڈاکٹر نوتن ٹھاکرنے لکھنؤ بنچ میں مفاد عامہ کی عرضی پیش کر سی بی آئی کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ دیگر عرضیوں میں دکھائے گئے اسٹنگ آپریشن سمیت کئی متنازعہ نکتوں کی غیر جانبدارانہ جانچ کی مانگ کی ہے۔ اترپردیش سرکار کے ذریعے جانچ کے لئے تشکیل سہائے کمیشن کے ساتھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی شامل کیاگیا ہے اور کہا گیا ہے کہ منصفانہ جانچ کرائیں۔ رپورٹ آرہی ہے کہ سپا چیف ملائم سنگھ یادو کو اب اترپردیش کے تئیں جنتا کی ناراضگی کا ڈر لگ رہا ہے۔ سنیچر کو ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے نوارن دوس پر منعقدہ پروگرام میں کہا کہ ان کے ممبران اسمبلی اور وزرا کی خامیوں کی سزا جنتا انہیں دے گی۔ ظاہر ہے یہ بات لوک سبھا چناؤ کے پیش نظر کہی ہے جو پارٹی کے لئے کافی اہم ہے۔ سپا چیف نے کہا اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو جنتا پر گہری نظر رکھی ہوگی۔ آپ کے کہنے سے سرکار اچھی نہیں ہوگی اب جنتا اچھا کہے تب سرکار اچھی مانی جائے گی۔
(انل نریندر)

بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ!

آسا رام باپو کے تو سیکس کے قصے سن ہی رہے ہیں لیکن اب ان کے بیٹے کے قصے بھی سننے کو مل رہے ہیں۔ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔ نابالغ لڑکی سے آبروریزی کے معاملے میں75 سالہ آسا رام کو اگست میں گرفتار کیا گیا تھا ، تب سے وہ جیل میں بند ہیں۔ سورت کی دو بہنوں کے جنسی استحصال کے ملزم سے پوچھ تاچھ کرنے کا اب راستہ بھی صاف ہوگیا ہے۔ گجرات پولیس کو جودھپور کی ایک عدالت نے آسارام کو یہاں لانے کی اجازت دے دی ہے۔ سورت پولیس کمشنر راکیش آستھانا نے گذشتہ دنوں بتایا کے ہم لوگوں میں جنسی استحصال اور ناجائز طریقے سے یرغمال بنانے اور دیگر الزامات کو لیکر آسا رام اور دوسری ایف آئی آر ان کے بیٹے نارائن سائیں کے خلاف درج کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کے متاثرہ دو بہنیں ہیں۔ نارائن سائیں کے خلاف شکایت سورت کے جھانگی پور تھانے میں درج کی گئی ہے۔ بڑے بہن نے آسا رام کے خلاف جنسی استحصال کا الزام لگایا ہے جبکہ چھوٹی بہن نے ان کے بیٹے کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ واقعہ 2001 ء سے 2006ء کے درمیان کا ہے۔ نارائن سائیں کے خلاف کئی دفعات لگائی گئی ہیں۔ وہ اس کے بعد سے فرار ہے اور پیشگی ضمانت لینے کے چکر میں ادھر ادھر دوڑ رہا ہے۔ نارائن سائیں کے خلاف پولیس نے تلاش کے لئے نوٹس جاری کردیا ہے۔ آستھانا نے بتایا کے ہم نے نارائن سائیں کے خلاف یہ لک آؤٹ نوٹس جاری کیا ہے تاکہ وہ دیش سے بھاگ نہ سکے۔ سائیں پر بدفعلی کے الزام لگانے والی سورت کی لڑکی نے پولیس کو چھ اور لڑکیوں کے نام بھی بتائے ہیں۔ اس کے مطابق ان سے بھی نارائن سائیں نے چھیڑ خانی کی۔ ان میں تین لڑکیاں اندور، تین ودودرہ کی ہیں۔ بدفعلی کے معاملے میں جانچ کے بعد یہ نئی جانکاری سامنے آئی ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی سانبرکاٹھا میں واقع ایک آشرم کی نگراں رہی ہے۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ نارائن سائیں کا اتنا خوف تھا کے سادھیکائیں اس کے خلاف نہیں بول سکتی تھیں۔ اس کا الزام ہے کہ آشرم چلانے کے دوران اس کے سامنے دیش کے کئی حصوں سے لڑکیاں لائی گئی تھیں بعد میں انہیں کاٹھمنڈو کے ناگ ارجن پہاڑی میں واقع اوشو آشرم میں لایا گیا۔ اوشو آشرم میں میڈیٹیشن میں لیکر انہیں برہنہ حالت میں رقص کرواتا تھا۔ انہیں دکھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کو دیکھو اور سیکھو کے مرد اور عورت کے بیچ کوئی فرق نہیں ہوتا۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے گاندھی نگر میں نگراں پولیس ڈائریکٹرجنرل سے معاملے کی پوری جانکاری لی ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی نے معاملے کی الگ سے جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ سورت پولیس نے متاثرہ سے ملے حقائق کی بنیاد پر ودودرہ۔ اندور کی تین تین لڑکیوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ ان لڑکیوں کی نیگ نگر(مدھیہ پردیش ) اور بہار بھی لے جایا گیا تھا۔ یہ لڑکیاں سورت کے جہانگیر پور آشرم میں دسمبر2001ء سے نارائن سائیں کے ست سنگ میں شامل ہونے گئیں تھیں۔ نارائن سائیں نے اس دوران گجرات کے مقامی اخبارات میں اشتہار شائع کرا کر کہا کہ وہ بے قصور ہے اور بھگوڑا نہیں ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سائیں اس معاملے میں قانونی راستہ اپنائیں گے۔ سائیں کے وکیل گوتم ڈیسائی کے ذریعے جاری اس اشتہار میں کہا گیا ہے کہ ہمارے موکل کہیں گئے نہیں ہیں اور وہ نہیں بھاگیں گے۔ جیسا ہم نے اوپر کہا ہے کے بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔
(انل نریندر)

14 اکتوبر 2013

بی ایس پی ممبر اسمبلی علیم چودھری کی بیوی کا بے رحمانہ قتل!

دہلی کے شمال مشرقی ضلع کی بستی نیو جعفرآباد علاقے میں بسپا ممبر اسمبلی علیم چودھری کی اہلیہ ریحانہ کو تین دن پہلے بڑی رحمی سے مار ڈالنے کا معاملہ آج کل سرخیوں میں چھایا ہوا ہے۔ ریحانہ کے سینے میں ایک گولی ماری گئی اور خاتون کے جسم پر گردن ،پیٹھ اور پیٹ وغیرہ حصوں میں چاقو سے حملہ کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے حملہ آور نے واردات کو لوٹ مار کی شکل دینے کے لئے سامان بکھیردیا۔ ممبر اسمبلی کے بڑے بھائی کا کہنا ہے گھر سے 15-20 لاکھ روپے کی نقدی بھی غائب ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق یوپی کے بلند شہر سے بسپا ممبر اسمبلی علیم چودھری نے ریحانہ سے دوسری شادی کی تھی۔ اس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ علیم کی پہلی بیوی سے چار بیٹے ہیں۔علیم نے پانچ سال پہلے یہاں ڈی ڈی اے کی نیو جعفر آباد کالونی میں گراؤنڈ فلور پر فلیٹ خریدہ تھا۔ وہ یہاں بیچ بیچ میں اپنی دوسری بیوی کے ساتھ آتا جاتارہتا تھا۔ 7 ستمبر کو علیم حج پر چلے گئے تب سے ریحانہ یہاں اکیلی تھی۔ ریحانہ کو سپرد خاک کر بسپا ممبر اسمبلی اچانک غائب ہوگئے اور میڈیا اور دیگر ملنے آئے لوگ انہیں تلاشتے رہ گئے۔ ان کا پتہ نہیں چلا۔ ریحانہ کی لاش ممبر اسمبلی کے گھر لائی گئی۔جمعرات کی صبح علیم سفرِ حج بیچ میں چھوڑ کر واپس آئے تھے۔ ریحانہ بیگم کے قتل کے معاملے میں شک کی سوئی خود ممبر اسمبلی اور ان کے خاندان کی طرف گھوم رہی ہے۔ پولیس کو کچھ نئے ثبوت ملے ہیں جس کی بنیاد پر پولیس مان رہی ہے واردات کو انجام دینے میں کسی قریبی کا ہاتھ ہے اور قتل کسی سپاری کلر نے کیا ہے۔ واردات کے دو دن پہلے علیم سعودی عرب مکہ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ 
ریحانہ کے قتل کی خبر سننے کے بعد وہ جمعرات کی شام ساڑھے تین بجے واپس آ گئے۔ ان سے ریحانہ اور رشتے داروں کے بارے میں پوچھ تاچھ ہوسکتی ہے کیونکہ پچھلے کچھ مہینوں سے دونوں میں کسی لڑکی کو لیکر جھگڑا چل رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ لڑکی ویشالی کی بتائی جاتی ہے۔ ریحانہ کو یہ پسند نہیں تھا۔ ریحانہ کے کوئی اولاد نہ ہونے کے سبب علیم کافی دکھی بھی تھا اس کے لئے اس نے ریحانہ کا علاج بھی کروایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ شمال مشرقی ضلع کے ایڈیشنل کمشنر وی ۔ وی چودھری کی مانیں تو قتل جس طرح ہوا اس سے صاف ہوتا ہے کہ ریحانہ کو ملزمان مارنے کے مقصد سے ہی اندر گھسے تھے اور ان کی تعداد دو سے تین ہوسکتی ہے۔ جس میں ایک کوئی واقف کار رہا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے ریحانہ کے گھر پر کافی جان پہچان کے لوگ آتے تھے۔ اکثر حاجی علیم ان کے چھوٹے بھائی حاجی یونس رات گزارنے یہاں آتے رہتے تھے۔ کوئی انجان شخص یہاں نہیں آتا تھا۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے پتہ لگ رہا ہے کہ قتل قریب2:30 سے5:30 بجے کے درمیان ہوا۔ ریحانہ کے جسم پر درجن بھر چاقو کے نشان پائے گئے۔ بعد میں موت کو پکا کرنے کے لئے اس کے سینے اور سر پر گولی ماری گئی۔ ریحانہ کو جس بے رحمی سے مارا گیا اس سے تو اتنا صاف ہے کہ اس کا قتل لوٹ مار کا مقصد کم اسے جان سے مارنا تھا۔ یہ قتل کسی پیشہ ور سپاری کلر نے کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ سپاری کس نے دی اور کیوں دی؟
(انل نریندر)

عامر خان کی فلم میں بھگوان شیوبنے اداکارسے رکشا چلوانے کا معاملہ

دیش میں جگہ جگہ جہاں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی سازشیں چل رہی ہیں ایسے میں دیش کی راجدھانی دہلی کی گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار چاندنی چوک میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس سے مشہور فلم اداکار ہدایتکار عامر خان کی یونٹ نے بغیر اجازت چاندنی چوک کی سڑک پر بھگوان شیو کی علامت بنے ایک آرٹسٹ سے رکشا کھنچوایا۔ پیچھے بیٹھی تھی برقعہ پہنے اداکارہ۔فلم کی شوٹنگ کے دوران بھگوان شیو کے بھیس میں ایک شخص کو رکشا چلاتے ہوئے دکھانے پر فلم کے معاون ڈائریکٹر ایوب حسن کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ واقعے کے وقت عامر خان اور فلم کے ہدایتکار راجکمارہرسے دہلی میں نہیں تھے۔ مذہبی نفرت بھڑکے اس سے پہلے بھاجپا کے ایک نیتا نے اس کی پولیس کو خبر کردی۔ پولیس نے بھی موقعے کی نزاکت سمجھتے ہوئے رام لیلا کے دنوں میں اس طرح کے واقعے کو روکنے کے لئے فوراً کارروائی کردی۔ عامر خان یونٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر و تینوں آرٹسٹوں کو حراست میں لے لیا بعد میں ان کو چھوڑ دیا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر بغیر اجازت کے اس طرح کے سین فلمانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق اداکار عامر خان کی ہوم پروڈکشن فلم ’’پی کے موونگ‘‘ کی چاندنی چوک علاقے میں شوٹنگ ہونی تھی۔
اجازت نہ ملنے کے سبب عامر خان خود دہلی نہیں آپائے اسی دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹرایوب حسن نے اس فلم کے اس سین کو شوٹ کرنے کی کوشش کی تھی۔اسی وقت بھاجپا نیتا اجے اگروال نے پولیس کو خبرکردی۔ پہلے تو ایسا لگا کے شایدرام لیلا کے آرٹسٹ ہوں لیکن بھگوان شیو کی شکل میں کھلے طور سے رکشا چلانا مذہبی جذبات سے کھلواڑ کرنا ہے۔ پولیس نے بغیر اجازت فلم کی شوٹنگ کرنے کا معاملہ درج کیا ہے۔ پی کے فلم میں اداکارہ انشکا شرما ،سشانت سنگھ راجپوت، ارشد وارثی اور شاہد کپور بھی رول نبھا رہے ہیں۔ مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ عامرخان راجکمار ہیرانی جیسے نامور ،سمجھدار مذہبی لوگ اس سے کیسے جڑے ہیں۔ آخر کہانی لکھنے اور اسے فلمانے سے پہلے کسی نے سوچا نہیں کے اس طرح کی فلم بندی سے مذہبی نفرت پیدا ہوسکتی ہے؟ کیا سوچ کر انہوں نے چاندنی چوک جیسے حساس علاقے میں یہ شوٹنگ کی؟ ویسے بھی پورا دیش اس وقت فرقہ وارانہ دنگوں و کشیدگی کے دور سے گزر رہا ہے ایک چھوٹی سے چنگاری خطرناک آگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرکے بڑی واردات ہونے سے دہلی کو بچا لیا لیکن اس سے ان لوگوں کا قصور کم نہیں ہوجاتا جو سستی مقبولیت کی خاطر مذہب کا بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ مجھے عامر خان سے اس لئے بھی زیادہ مایوسی ہوئی کیونکہ وہ ایک اچھے ،سچے ،حزب الوطن آرٹسٹ ہیں۔ سمجھ میں نہیں آیا کے انہوں نے ایسی غلطی کیسے کی؟
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...