Translater

29 ستمبر 2012

سرکار کا بابا رام دیو پر چوطرفہ حملہ


یوگ گورو بابا رام دیو کو سرکار ہر طرف سے گھیرنے میں لگ گئی ہے۔ سرکار نے بابا کے خلاف ایک ساتھ کئی مورچے کھول دئے ہیں۔ آچاریہ بالکرشن پر پہلے تو پاسپورٹ کیس میں غلط بیانی کا مقدمہ چل رہا ہے۔ اس کے بعد بابا کے غیر ملکی اثاثے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ بابا کو غیر ملکی کرنسی مینجمنٹ قانون ( فیما) کے تحت انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 24 اگست کو دویہ یوگ مندر ٹرسٹ میں 26 لاکھ روپے کی غیر ملکی کرنسی کے ناجائز لین کے الزام میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ۔دویہ یوگ مندر ٹرسٹ کے خلاف26 لاکھ کے علاوہ پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کے خلاف34 لاکھ روپے کے فیما کی خلاف ورزی کا نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ اترا کھنڈ سرکار نے بھی بابا پر شکنجہ کستے ہوئے پتنجلی آیوروید میں رام دیو کے قریبی ساتھی بالکرشن کو جھارکھنڈ میگافوڈ میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے کے فیما خلاف ورزی کے معاملے میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کررکھا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے محکمہ خوراک بھی بابا کے خلاف سرگرم ہوگیا ہے۔ 6 اگست کو دادوباغ کنکھل میں واقع دویہ یوگ مندر میں محکمہ خوراک کی ٹیم پہنچی۔ میونسپل علاقے کے فوڈ سیفٹی افسر کی نگرانی میں ٹیم نے آروگیہ کے پروڈکٹس تیل، بیسن، نمک، کالی مرچ،جیم اور شہد کے چار چار سیمپل بھرے۔ نمونوں کو جانچ کے لئے رودرپور میں واقع محکمے کے لیباریٹری میں بھیجا گیا۔ وہاں سے آئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بابا رام دیو کی کمپنی کے ذریعے تیار سامان میں جنتا کے ساتھ دھوکہ کیا جارہا ہے۔ سیمپل خراب پائے گئے۔بابا سامان کہیں اور بنوا رہے ہیں اور اپنا لیبل لگا کر اس کی کوالٹی کی گارنٹی دیتے ہوئے بیچ رہے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ ہری دوار سچن کربے کے مطابق بابا کی فیکٹری کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ اگر بابا کی کمپنی چاہے گی تو سینٹرل لیب جو پنے میں ہے، سے اس کا ٹیسٹ کرایا جائے گا۔ پنے میں بھی اگر اسٹیٹ لیب کی رپورٹ صحیح آتی ہے تو بابا کی کمپنی کے خلاف دفعہ 53 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ خبر تو یہ بھی آرہی ہے کہ بابا رام دیو اشیائے ضروریہ میں بھی ملاوٹ کے الزام کی زد میں آرہے ہیں۔ ان کی سامان بنانے والی کمپنیاں شبہ کے دائرے میں ہیں۔ بابا کے تین اداروں سمیت کل 15 کمپنیوں کو نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ ادھر چوطرفہ حملہ جھیل رہے بابا رام دیو نے فوڈ محکمے کی پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کے 6 پروڈکٹس پر آئی جانچ رپورٹ کو سرے سے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے محکمے کی بغیر منظوری اور سرٹیفکیٹ کے پتنجلی پروڈکٹس بنانے اور خود کی ساکھ خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے قانونی نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی ہے۔ بابا نے الزام لگایا ہے کہ یہ کام دہلی میں واقع کانگریس ہیڈ کوارٹر کے اشارے پر کیا گیا ہے۔ ایسا2 اکتوبر سے ایف ڈی آئی کے خلاف دیش بھر میں شروع ہونے جارہی سودیشی تحریک کو روکنے کی نیت سے کیا گیا ہے۔ سال2011ء کے جس ایکٹ کے تحت محکمہ فوڈ نے پتنجلی سامان کے گھٹیا ہونے کا الزام لگایا ہے اسی ایکٹ میں فروری 2013 ء تک کمپنیوں کو اپنے پروڈکٹس کی نئے ایکٹ کے تحت لیبلنگ کرنے کا موقعہ دیا گیا ہے۔ ایسے وقت سے پہلے پتنجلی کے پروڈکٹس پر اس طرح کا الزام لگانا قانوناً غلط ہے۔ بابا رام دیو بدھوار کی شام پتنجلی یوگ پیٹھ میں صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا بغیر حقائق اور ثبوت کے اس طرح کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگاکر ہمیں اور ہمارے کارخانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ بابا کے مطابق ان کے ٹرسٹ کے ذریعے تیار سبھی پروڈکٹس اصلی اور پائیدار ہیں۔ جن چیزوں کے نمونے فیل ہوئے ہیں ان میں آروگیہ بیسن، آروگیہ کچی دھانی، سرسوں کا تیل، نمک، کالی مرچ، لیچی، اصلی شہد اور انناس جیم میں کچھ کمی پائی گئی ہے۔ یہ سبھی پروڈکٹس پتنجلی کے ذریعے بیچے جارہے ہیں لیکن ان کی پیداوار پتنجلی کے ذریعے نہ کرکے اس میں سرسوں کے تیل کا پروڈکٹس آر ایم جے امپورٹ اینڈ ڈیر پرائیویٹ لمیٹڈ جھوڑواڑہ جے پور ،راجستھان سے تیار کرایا گیا۔ اس پر آروگیہ لکھ کرپتنجلی کے ذریعے اپنا اپنا پتنجلی فوڈ پارک کا لیبل لگا کر بیچا جارہا ہے۔ کالی مرچ کے پیکٹ میں تو نیوٹریشن ویلیو کی بھی تفصیل نہیں ہے۔ نمک جس کو پتنجلی کے ذریعے مارکیٹ میں لایا گیا ہے وہ کچھ کے گجرات کی ایک انکور نامی کمپنی نے بنایا۔ اصلی شہد کے نام پر لیچی کا شہد بیچا جارہا ہے جس میں شہد کی مقدار صرف5 فیصد بتائی جاتی ہے۔ حکومت نے بابا رام دیو پر چوطرفہ حملہ بول دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان الزامات میں کوئی سچائی بھی ہے یا نہیں۔ یا خالص بدلے کی کارروائی ہے؟
(انل نریندر)

راجدھانی میں بھی کھڑا ہوا نکسلی مسئلہ


راجدھانی میں غیر قانونی طور پر آئے بنگلہ دیشیوں کا سیلاب پہلے سے ہی ناک میں دم کئے ہوئے ہے اور اب نکسلی تنظیموں کی سرگرمی کسی ناخوشگوار اشارے سے کم نہیں ہے۔ پولیس کی مانیں تو علاج کرانے و چھپنے کے مقصد سے نکسلی راجدھانی کا رخ کررہے ہیں بلکہ اپنی سرگرمیوں کے لئے پیسہ اور دیگر وسائل اکٹھا کرنے ،عام اجلاس کرنے کے لئے نکسلی یہاں سرگرم ہورہے ہیں۔ یہ بیحد تشویش کی بات ہے کے حال ہی میں وزارت داخلہ نے مانا تھا کہ راجدھانی کے 7 اضلاع نئی دہلی، سینٹرل دہلی، ساؤتھ دہلی، ساؤتھ ویسٹ،نارتھ ایسٹ اور نارتھ ویسٹ ضلعوں میں نکسلیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نکسلیوں کی دھر پکڑ میں ایک بڑا مسئلہ ان کی پہچان کو لیکر ہے۔ کئی ایسے علاقے ہیں جہاں پر نارتھ ایسٹ کے لوگ بڑی تعداد میں رہتے ہیں ان کے درمیان ممنوعہ تنظیموں کا کونسا ممبر موجود ہے پتہ لگانا بیحد مشکل ہے۔ ایک افسر تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حالت کافی دھماکو ہے۔ دیش کی تمام ریاستوں میں سرگرم نکسلی تنظیم راجدھانی کو محفوظ ٹھکانے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر یہاں نکسلی موجود ہیں۔ جہاں تک گرفتاری کی بات ہے ،زیادہ تر وہ ہی لوگ پکڑے جاتے ہیں جن کے بارے میں متعلقہ ریاستوں کی پولیس یا خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات ملتی ہیں۔ نکسلی کی معاملے میں ایجنسیوں کو جانکاری ہو یہ بھی ممکن نہیں۔ گذشتہ برس راجدھانی میں پیپلز لبریشن آرمی کے خارجی معاملوں کے چیف این دلیپ سنگھ عرف بمبا کی گرفتاری سے تمام چونکانے والے راز سامنے آئے تھے۔ یہ نکسلی تنظیم نہ صرف دیش کی دوسری نکسلی تنظیموں کو ایک اسٹیج پرلانے کی مہم میں لگا ہوا تھا بلکہ بھارت سرکار کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے جموں و کشمیر کی آتنکی تنظیموں سے ہاتھ ملانے کے منصوبے بھی بنا رہا تھا اور خلاصہ ہوا کے جھارکھنڈ میں سی پی آئی ماؤ وادیوں کے ممبروں کو اس گروپ نے ہتھیاروں کی ٹریننگ بھی دی۔ ایم دلیپ سنگھ کے تار میانمار تک پھیلے ہوئے تھے۔ اسپیشل سیل نے9 نکسلیوں کوپکڑا تھا۔ ان میں کنگلئی پارو کمیونسٹ پارٹی کے ممبروں کا ارادہ راجدھانی میں منشیات کی کھیپ منی پور سے لے جاکر میانمار کے راستے ہانگ کانگ اور چین میں بھیج کر سرکار مخالف سرگرمیوں کے لئے پیسہ اکٹھا کرنا تھا۔ ان کے قبضے سے پولیس نے قریب 1200 کلو گرام منشیات برآمد کی۔ کٹواریہ سرائے سے چھتی ساگر کی نکسلی عورت سونی کی گرفتاری سے یہ سارا راز سامنے آیا تھا کہ کس طرح پولیس کا دباؤ بڑھنے پر نکسلی چھپنے کے لئے راجدھانی دہلی آرہے ہیں۔ دہلی پولیس اس مسئلے سے بیدار ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مسلسل نکسلیوں سے متعلق اطلاعات کا تبادلہ ہورہا ہے۔ اسپیشل سیل بھی اس سلسلے میں چوکس ہے۔ ایسے سبھی علاقوں پر پولیس کی گہری نگاہ ہے جہاں نکسلیوں کے پناہ لینے کا شبہ ہے۔ دہلی پولیس کو ابھی تک غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنی پڑتی تھی اب یہ نکسلی نیا مسئلہ کھڑا ہوتا جارہا ہے اور یہ نکسلی تو خالص تشدد میں یقین رکھتے ہیں۔ اس لئے اور بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
(انل نریندر)

28 ستمبر 2012

حنا۔ بلاول عشق کی کہانی حقیقت یا افواہ؟


پاکستان میں کوئی نہ کوئی ہنگامہ ہوتا رہتا ہے لیکن اس بار کے ہنگامے میں تھوڑا فرق ہے۔ بنگلہ دیش کے مشہور ہفت روزہ ٹیبلائٹ’بلٹز‘ نے دعوی کیا ہے پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور پاکستان کے صدر آصف زرداری کے انتہائی مقبول بیچلر بیٹے بلاول بھٹو میں زبردست عشق جاری ہے۔ پاکستانی عوام اپنی پریشانیاں بھول کر اس خبر میں دلچسپی لینے لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے خوبصورت پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور بلاول بھٹو کے درمیان کچھ کھچڑی پک رہی ہے۔ 34 سالہ حنا ربانی کھر کروڑپتی و بزنس مین فیروز گلزار کی بیوی ہیں اور اس شادی سے ان کی دو بیٹیاں عنایا اور دینا ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اپنے سے11 سال چھوٹے بلاول سے شادی کرنے کے لئے حنا اپنے شوہر سے طلاق لینے کی تیاری کررہی ہیں۔ پھر بلاول سے شادی کے بعد ان کا سوئٹزر لینڈ میں بسنے کا ارادہ ہے۔ اخبار نے غیر ملکی میڈیا کے کچھ ذرائع کی مدد سے یہ خبر شائع کی ہے اس رشتے کی اس وقت بھنک لگی جب صدر زرداری کے سرکاری مکان میں حنا اور بلاول ایک دوسرے کے ساتھ متنازعہ انداز میں دیکھے گئے۔زرداری نے اس واقعہ کے بعد اپنے اکلوتے بیٹی کی ٹیلی فون کال کی تفصیلات چیک کی تو شاید ان کی باتوں پر بھی انہیں یہ نہیں پتہ چلا کہ دونوں ایک دوسرے کو فون کرتے تھے۔معلوم ہوا ہے کہ اس رشتے سے زرداری کافی خفا ہیں۔ پچھلے سال21 ستمبر کو بلاول کی سالگرہ پر حنا نے اپنے ہاتھ سے ایک کارڈ بلاول کو بھجوایا اس میں لکھا تھا کے ہمارے رشتوں کی بنیاد پکی ہے۔ ہم جلد ہی ایک ہوجائیں گے۔ اس بار کی عید پر بھی حنا نے ہاتھ سے لکھا کارڈ بلاول کو بھجوایا۔ اس میں بھی دلچسپ انداز میں لکھا تھا ’’ہم نے اب کافی انتظارکرلیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنا انتظار ختم کریں۔عید مبارک‘‘۔ اخبار کے مطابق جب ڈیڈی (زرداری) کو پتہ چلا تو انہوں نے حنا ربانی کو بلا کر کافی ڈانٹ پلائی۔ لیکن حنا نے کہہ دیا کہ آپ اپنے عہدے کو ہمارے شخصی معاملے میں نہ لائیں۔ اس نے زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیرخارجہ کا عہدہ تک چھوڑنے کی دھمکی دے دی۔ اس خبر کے بعد حنا کے شوہر گلزارنے بھی حنا کی دونوں کے درمیان ہوئی ٹیلیفون بات چیت کی نگرانی شروع کردی ہے لیکن گلزار صاحب اس معاملے میں تھوڑے سے دبے ہوئے ہیں کیونکہ دو سال پہلے ان کے اپنے رشتے اپنے ہی اسٹاف کی ایک لڑکی کے ساتھ اجاگر ہوئے تھے۔ تب مایوسی میں حنا ربانی نے نیند کی گولیاں کھا کر جان دینے کی بھی کوشش کی تھی۔ ویسے بلاول کو کچھ ڈر اس لئے نہیں لگ رہا ہے کیونکہ اپنی ماں بینظیر بھٹو کی سوئٹزرلینڈ میں واقع ہزاروں کروڑ روپے کے اثاثے کے وہ اکیلے مالک ہیں اس لئے انہیں باپ کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں اور دونوں اس سال کے آخر میں یا اگلے سال کے شروع میں شادی کرکے سوئٹزرلینڈ میں بسنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ بہرحال یہ ایک لو اسٹوری ہے یا محض افواہ۔ یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ مردوں کے سماج میں اپنے بل پر اونچا مقام حاصل کرچکی ایک خاتون کو نیچا دکھانے کا آسان طریقہ یہ ہی ہوتا ہے اور پاکستان تو ایسی حرکتوں کے لئے مشہور ہے۔ یہ دونوں کا ذاتی معاملہ ہے اور اس میں کسی کو دخل دینے کا اختیار نہیں لیکن اس بات کا دکھ پاکستانی لڑکیوں کو ضرور ہوگا کہ پاکستان کے انتہائی لائق بیچلر نے چنی تو ایک شادی شدہ دو بچوں کی ماں جو ان سے11 سال بڑی ہے۔ پاکستان میں ایک سے ایک خوبصورت لڑکیاں ہیں لیکن عشق اندھا ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

بھتیجے اجیت نے چچا شردپوار کے ساتھ ساتھ کانگریس کی بھی مشکلیں بڑھا ئیں


مرکز میں ’’سب کچھ ٹھیک‘‘ (آل از ویل) نظر آنے کی کوشش کررہی کانگریس کو مہاراشٹر کے سیاسی حالات نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کانگریس این سی پی کی مشترکہ حکومت میں ایک بڑی دراڑ پڑ گئی ہے۔ این سی پی کے سینئر لیڈر اور صوبے کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ این سی پی کے چیف اور مرکزی وزیر ذراعت شرد پوار کے بھتیجے اجیت کے استعفیٰ کے دباؤ کے چلتے انہیں اپنی آبائی ریاست میں سخت چنوتی مل رہی ہے۔ اجیت کے استعفیٰ دینے کے محض15 منٹ بعد ان کی حمایت میں پارٹی کے 20 دیگر وزراء نے بھی استعفے کی پیشکش کردی۔ آخر کار وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو صفائی دینے کے لئے سامنے آنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ اجیت کا استعفیٰ مل گیا ہے لیکن فیصلہ وہ اعلی کمان سے بات چیت کے بعد لیں گے۔ اجیت پوار پر تقریباً60 ہزار کروڑ روپے کے مبینہ سینچائی گھوٹالے میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ وہ1999 سے 2009ء کے درمیان مہاراشٹر کے وزیر آبی وسائل رہے۔ اجیت نے جنوری سے اگست2009 کے درمیان 38 آبی پروجیکٹوں کو منظوری دی۔ ان میں 17700 کروڑ روپے کے 32 پروجیکٹ تین ماہ کے اندر پاس کئے گئے۔ آبی وسائل محکمے کے چیف انجینئر وجے پنڈارے نے مہاراشٹر کے گورنر کو ایک خط لکھا تھا اس میں سینچائی پروجیکٹوں میں قریب60 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ادھورے سینچائی پروجیکٹوں کے بارے میں وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے سوال اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 20 برسوں میں مہاراشٹر کی مختلف سینچائی اسکیموں پر قریب70 ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے لیکن سینچائی صلاحیت میں 0.1 فیصدی کا اضافہ ہوا۔ اجیت پوار نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی میں کل288 نشستیں ہیں۔ ان میں 82 ممبران کانگریس کے ہیں ،62 این سی پی کے ، بھاجپا۔ شیو سینا کے47، 45 ممبر ہیں اور ایم این ایس کے 12 اور10 ممبر ہیں پچھلے کئی دنوں سے مہاراشٹر میں کانگریس اور این سی پی اتحاد میں کشیدگی جاری ہے۔ دوسری طرف بھتیجے اجیت پوار اور ان کی پارٹی کے چیف شرد پوار کے رویئے سے بھی وہ خوش نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ شرد پوار کی سیاسی وراثت انہیں ملے لیکن شرد پوار اپنی ممبر پارلیمنٹ بیٹی سپریا سلے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سپریا ان دنوں مہاراشٹر میں ایک سیاسی مہم چلا رہی ہیں۔ یہ بات بھی اجیت پوار کوہضم نہیں ہوئی۔ این سی پی کے ذرائع کے مطابق اس موقعے پر بھتیجے نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کانگریس پر دباؤ بنانے کے ساتھ ساتھ این سی پی پر بھی اپنی بالادستی بنا رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا دعوی ہے ان کے ساتھ قریب 40 ممبران اسمبلی ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ شرد پوار کو سیدھے چنوتی کی شکل میں بھی دیکھا جارہا ہے لہٰذا پوار کو حالات سنبھالنے کے لئے خود میدان میں اترنا پڑ رہا ہے۔ اجیت پوار مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کوہٹانا چاہتے ہیں۔ کانگریس کی کوشش یہی ہے کہ این سی پی میں ناراضگی کا فائدہ اٹھا کر کانگریس میں وزیراعلی کا مخالف گروپ سر نہ اٹھائے۔ غور طلب ہے کہ این سی پی کے لیڈروں کے ساتھ کانگریس کی بھی ایک لابی مسلسل وزیر اعلی کو بدلنے کا دباؤ بنا رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی نہ تو ان کی سنتے ہیں اور نہ ہی ان کے علاقوں میں کوئی کام کاج ہورہا ہے۔ 
جونیئر پوار کا نیا داؤ کانگریس پر دباؤ بنا کر وزیر اعلی بدلنے کی بھی کوشش کرنا ہے۔ وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان سے ان کا شروع سے ہی 36 کا آنکڑا ہے۔ اجیت پوار کا یہ ماننا ہے تازہ سینچائی گھوٹالے کو سامنے لانے میں وزیر اعلی کا ہی ہاتھ ہے اور وہ مسلسل این سی پی کے گھوٹالوں کو سامنے لانے میں لگے ہیں۔ اگر این سی پی کا یہی رویہ رہا تو مہاراشٹر میں کانگریس اتحاد کی حکومت مشکل میں پڑ جائے گی۔ حالانکہ شرد پوار نے کانگریس لیڈر شپ کو یقین دلایا ہے کہ وہاں کے سیاسی حالات سے مہاراشٹر میں یا یوپی اے سرکار پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ دیکھیں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے۔
(انل نریندر)

27 ستمبر 2012

زمین آسمان کے بعد اب سمندر میں بھی گھوٹالہ


منموہن سنگھ سرکار کے گھوٹالوں کے پردہ فاش ہونے کا سلسلہ ابھی رک نہیں رہا ہے۔ زمین ۔آسمان کے بعداب سمندر میں بھی گھوٹالے کا پتہ چلا ہے۔ آکاش (ٹو جی اسپیکٹرم) زمین (کوئلہ الاٹمنٹ گھوٹالہ) اب سمندر میں بھی گھوٹالے سے اچھوتی نہیں رہی یہ سرکار۔ خلیجی بنگال اور بحر عرب میں معدنیاتی ذخیرے کی تلاش کے لئے بلاکوں میں الاٹمنٹ گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ شروع کردی ہے۔ سمندر میں معدنیاتی تلاش کے لئے کل 63 بلاکوں میں سے28 بلاک انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک سابق افسر کے گھر خاندان سے وابستہ چار کمپنیوں کو الاٹ کئے جانے کا الزام ہے۔ سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق ابتدائی جانچ کے معاملے میں ناگپور میں واقع سینٹرل کھدائی بیورو اور مرکزی وزارت کھان کے نامعلوم افسران کے ساتھ ساتھ چاروں نجی کمپنیوں اور ان کے ڈائریکٹروں کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ جن چار کمپنیوں کو تقریباً آدھے معدنیاتی بلاک الاٹ کئے گئے ہیں وہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سابق افسر اشوک اگروال اسی محکمے سے پہلے وہ وزارت کھان میں بھی کام کرچکے ہیں۔اشوک اگروال ڈیفنس دلال ابھیشیک ورما کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے سرخیوں میں رہے تھے۔ سمندر کے اندر چھپے کافی مقدار میں معدنیاتی اثاثے کو نکالنے کے لئے وزارت کھان نے پہلی بار 2010ء میں 636 بلاکوں کے لئے ٹنڈر جاری کئے تھے۔ کل 377 کمپنیوں نے درخواست دی اور مارچ2011ء میں وزارت کھان نے الاٹ بلاکوں کی فہرست جاری کی۔ ان میں سے28 بلاک ایک ہی خاندان سے جڑی چار کمپنیوں کو دئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے کچھ کمپنیوں نے ممبئی اور حیدر آباد میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہائی کورٹ نے الاٹمنٹ کے طریقے پر روک لگاتے ہوئے سی بی آئی کو پورے معاملے کی جانچ کا حکم دیا۔ 
ہائی کورٹ کے اسی حکم کے تحت سی بی آئی نے ابتدائی جانچ کرکے معاملہ درج کیا ہے۔ تفتیش سے وابستہ ایک سینئر افسر نے کہا کہ جلد اس سلسلے میں وزارت کھان اور مرکزی کھان بیورو کے افسروں کو پوچھ تاچھ کے لئے بلایا جائے گا ساتھ ہی وزارت کھان کو الاٹمنٹ سے جڑے سبھی دستاویز ایجنسی کو سونپنے کے لئے کہا جائے گا۔ بڑے دکھ کی بات ہے کہ منموہن سنگھ کے عہد میں گھوٹالے پر گھوٹالے کا پردہ فاش ہورہا ہے۔ اس حکومت نے تو کسی سیکٹر کو نہیں بخشا۔ دیش کو پتہ نہیں کتنے اربوں کا نقصان ہوا ہے۔ پتہ نہیں کبھی اس کا صحیح جائزہ لیا جا سکے گا یا نہیں۔ دیش کو کتنا لوٹا گیا؟ زمین ،آسمان اور اب سمندر کہیں بھی تو نہیں چھوڑا گیا اور یہ سب کچھ ایماندار وزیر اعظم کی آنکھوں کے نیچے ہوا۔ پھر بھی وہ’ مسٹر کلین‘ ہیں اور مسٹر کلین نے تو دیش کو لوٹنے کا جیسے لائسنس ہی دے دیا ہو۔ جہاں موقعہ ملے لوٹ لو۔ پتہ نہیں ابھی اور کتنے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہونا باقی ہے۔
(انل نریندر)

فصیح آتنکی ہے سعودی حکومت کو ثبوت درکار


بھارت میں بنگلورو اور دہلی میں بم دھماکوں کی سازش میں ملوث ہونے کا ملزم فصیح محمد کو بھارت لانے میں سعودی عرب روڑے اٹکا رہا ہے۔ اسکے حکام نے جہاں اس کی حراست کی بات مانی ہے وہیں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ وہاں اس کی سرگرمیں اور ٹھہرنے کے بارے میں احتیاط سے جانچ کررہے ہیں۔ سید ضیاء الدین عرف جندال کے سعودی عرب سے جلا وطن کی خبریں سامنے آنے کے کچھ دن بعد ہی سفارتی ذرائع اور سکیورٹی ایجنسیوں کی ملاقاتوں کے ذریعے ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے فصیح کو حوالے کرنے کی مانگ کی تھی۔ سعودی حکام نے ہندوستانی ایجنسیوں کو صاف کہہ دیا ہے کہ ہم فصیح کو تب تک آپ کے حوالے نہیں کریں گے جب تک آپ ہمیں فصیح کی دہشت گردانہ کارگذاریوں کے بارے میں ثبوت مہیا نہیں کراتے۔ ریاض کی جیل میں بند اس آتنک وادی کی حوالگی کا معاملہ فی الحال لٹک گیا ہے۔ سعودی حکام جاننا چاہتے ہیں کہ بنگلورو اور دہلی سمیت دیگر آتنکی وارداتوں میں فصیح کا کیا رول رہا ہے ؟بھارتی حکام کو حال ہی میں سعودی سکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے ایک خط ملا ہے۔ جس میں یہ بتانے کے لئے کہا گیا ہے کہ بھارت میں کن کن دہشت گردانہ وارداتوں میں خاص کر بنگلورو اور دہلی کے واقعات میں فصیح کا ہاتھ رہا ہے۔ وہ ان واقعات کو انجام دینے میں کس شکل میں شامل رہا۔ یہ بھی صاف کرنے کو کہا گیا ہے کہ بہار کے باشندے اس آتنکی کی انڈین مجاہدین جیسی ممنوعہ تنظیموں سے کس طرح وابستگی رہی۔سعودی ایجنسیوں نے بنگلورو دھماکے اور دہلی میں گولہ باری کے واقع سے متعلق کیس درج کرنے کی تفصیلات مانگی ہیں۔ ساتھ ہی ان واقعات کے سلسلے میں گرفتار ملزمان کے بیان کی کاپیاں بھی مہیا کرانے کو کہا گیا ہے۔ ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کا الزام ہے کہ پیشے سے انجینئر فصیح کا بنگلورو کے چننا سوامی اسٹیڈیم میں دھماکے اور2010ء میں دہلی میں جامع مسجد کے قریب ہوئی فائرنگ کے واقعہ میں فصیح کا ہاتھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں دہلی اور کرناٹک پولیس کو بھی اس دہشت گرد کی تلاش ہے۔ آتنکی وارداتوں میں فصیح کا نام انڈین مجاہدین کے گرفتار دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ کے دوران سامنے آیا۔ بھارت نے فصیح کو حوالے کرنے کی مانگ سعودی عرب سے کررکھی ہے۔ اس سلسلے میں انٹر پول کے ذریعے ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔
فصیح کو 13 مئی کو سعودی عرب میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی اہلیہ نکہت پروین نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس کا شوہر فصیح محمد ہندوستانی سکیورٹی ایجنسیوں کے قبضے میں ہے اسے ہندوستانی اور سعودی عرب کی سکیورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ آپریشن کے تحت گرفتار کیا ہے۔ حکومت نے ان سارے الزامات سے انکار کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے بھارت حوالے کردہ آتنک وادی ضیاء الدین انصاری عرف ابو جندال کو جس طرح سے میڈیا کوریج ملا ہے اس سے سعودی عرب حکومت ناراض ہے لہٰذا فصیح کے معاملے میں وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہی ہے۔
(انل نریندر)

26 ستمبر 2012

پاکستانی وزیر نے فلم پروڈیوسر کے قتل کیلئے انعام مقرر کیا


پاکستان میں امریکہ میں بنی ایک فلم پر جس طرح سے ہنگامہ مچا ہوا ہے اس کی وجہ سے پہلے سے ہی کمزور حالت کا شکار ملک میں حالات اور خراب ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلام آبادمیں واقع غیر ملکی سفارتخانے جس علاقے میں ہیں ان کی حفاظت کے لئے فوج کو بلانا پڑا ہے۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے موقعے کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے۔ حد تو اس وقت ہوگئی جب پاکستان کے وزیر ریل غلام احمد بلور نے سنیچر کو اعلان کیا کہ فلم بنانے والے پروڈیوسر کو قتل کرنے والے کو 1 لاکھ ڈالر دیا جائے گا۔ انہوں نے دلیل دی کہ احتجاج اور مظاہرے کرنے و توہین مذہب کیلئے فلم ساز کے قتل کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ ا نہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ کہتے ہوئے ممنوعہ آتنک وادی تنظیموں طالبان اور القاعدہ سے بھی اپنی حمایت دینے کی اپیل کی۔ اگر انہوں نے بے حرمتی کرنے والی فلم کے پروڈیوسر کو ماردیا تو انہیں انعام سے نوازا جائے گا۔ بلور نے یہ اعلان ایک منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اس بیا ن نے بھڑکی آگ میں گھی کا کام کیا۔ پاکستان حکومت نے وزیر ریل کے اس بیان سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کی۔ سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزیر کے تبصرے سے ہم خود کو الگ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بلور کے بیان سے سرکار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک افسر نے بتایا کہ صدر اور وزیر خارجہ دونوں کا خیال ہے کہ یہ ویڈیو توہین آمیز اور نفرت پھیلانے اور قابل مذمت ہے لیکن اس سے تشدد کو جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ یہ ضروری ہے کہ ذمہ دار لیڈر تشدد کے خلاف کھڑے ہوں اور بولیں۔ بیان میں اس افسر نے کہا کہ ہم نے اس بات پر توجہ دی ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر میں بلور کے اس اعلان سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ مسلم مخالف اس فلم کے خلاف مظاہرے کے دوران دہشت گردی، لوٹ مار، اقدام قتل کے معاملے میں پاکستانی پولیس نے 6 ہزار سے بھی زائد نامعلوم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ لاہور پولیس کے ترجمان نے بتایا 36 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہیں نہ کہیں زرداری حکومت نے احتجاجی مظاہروں کو ہوا دی ہے تاکہ لوگوں کی توجہ پیچیدہ اشو اور سرکار کی ناکامی سے ہٹائی جا سکے۔ اگلے عام چناؤ زیادہ دور نہیں ہیں اور زرداری حکومت کی ساکھ تیزی سے گر رہی ہے۔ سرکار مذہبی کارڈ کھیل کر کچھ مقبولیت بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بھلے ہی اس کوشش میں حالات اور زیادہ بگڑیں۔ جب سرکار، اپوزیشن ، فوج سبھی مذہبی اشو کو ہوا دیں گے تو ظاہر ہے کہ بھیڑ کو فساد بھڑکانے میں مدد ملے گی۔ اگر امریکہ مخالف لہر اور تیز ہوتی گئی تو یہ حکومت کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ تمام انتہا پسند تنظیم پاکستان سرکار پر امریکہ کا ساتھ نہ دینے کیلئے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان میں اسلام مخالف فلم ’انوسینس آف دی مسلم‘ کو لیکر جمعہ کو ہوئے تشدد آمیز مظاہروں کے بعد بحث چھڑ گئی ہے کہ اس فلم کے خلاف پاکستان حکومت نے مظاہروں کی کھلی چھوٹ دی ہے۔ 
پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت والی حکومت نے جمعہ کو ’پیغمبرؐمحبت دوس‘ انعقاد کیا تھا تاکہ کٹر پسند تنظیموں تشدد پر مبنی مظاہروں کو روکا جاسکے۔ واقف کاروں کا کہنا ہے سرکار پورے حالات کا جائزہ لینے میں ناکام رہی ہے۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کے مدیر عمر آر قریشی نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ سرکار نے سوچا تھا کہ وہ مذہبی تنظیموں کو الگ تھلگ کر لے گی لیکن آخر میں اس نے ان تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرنے کا کام کیا۔ قریشی کی طرح پاکستان کے کئی تنقید نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت نے اس حساس ترین اشو پر کٹر پسند تنظیموں کو آگے بڑھنے کا موقعہ دیا ہے۔
(انل نریندر)

پرفل پٹیل پر کستا شکنجہ


عزت مآب سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایئر انڈیا کے جہاز خرید میں مبینہ دھاندلیوں کی جانچ ایک خصوصی ٹیم سے کرانے سے متعلق ایک عرضی پر مرکزی سرکار اور جہاز کمپنی سے جواب طلب کیا ہے۔ مبینہ دھاندلیاں سابق وزیر جہاز رانی کی شکل میں پرفل پٹیل کے عہد کے دوران ہوئیں۔ بتایا گیا ہے جسٹس ایم ایل دتو اور جسٹس سی کے پرساد کی ڈویژن بنچ نے غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پبلک انٹریسٹ لیٹی گیشن کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر مرکزی حکومت اور ایئر انڈیا اور سی بی آئی سے جواب مانگا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے پرفل پٹیل کے عہد میں لئے گئے مختلف فیصلوں کامقصد پرائیویٹ ایئر لائنس کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا تھا جس سے ایئر انڈیا کو نقصان ہوا۔ سی پی آئی ایل کے وکیل نے دلیل دی کہ پرفل پٹیل وزیر ہوا بازی کی شکل میں بہت سے فیصلے لئے جس سے پرائیویٹ جہازوں کی کمپنیوں کو فائدہ ہوا اور قومی محصول کو کروڑوں روپے کا چونا لگا۔ عرضی گذار کے مطابق پرفل پٹیل نے نہ صرف ایئر انڈیا، انڈین ایئرلائنس کو ملایا بلکہ فائدہ کمانے والے ہوائی راستوں کو بھی دوسری ایئر لائنس کمپنیوں کو دے دیا۔ اتنا ہی نہیں ان راستوں پر ایئر انڈیا اور انڈین ایئر لائنس کے جہازوں کی پرواز کا وقت بھی بدل دیا گیا جس سے پرائیویٹ ایئر لائنس کمپنیوں کو فائدہ ہوا۔ ڈویژن بنچ نے اس دلیل کو سننے کے بعد نوٹس جاری کیا۔ سی پی آئی ایل نے پہلے دہلی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی لیکن ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اسے خارج کردیا تھا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کی پی اے سی کے سامنے زیر التوا ہے۔ اس کے بعد سی پی آئی ایل نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عرضی گذار کا دعوی ہے کہ ایئر انڈیا نے 67 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے 111 جدید طیارے خریدے تھے۔ جس میں بھاری دھاندلیوں کی شکایتیں ملی ہیں۔ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ پٹیل کے کئی فیصلے ایسے ہیں جن سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔ ان میں کئی فیصلوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پرپبلک سیکٹر کی ایئر لائنس کمپنی کے لئے70 ہزار کروڑ خرچ کرکے 111 جہازوں کی بڑے پیمانے پر خرید اور جہازوں کو پٹے پر لینا اور فائدے والے راستوں اور وقت پرائیویٹ کمپنیوں کو دینا اور ایئر انڈیا، انڈین ایئر لائنس کو ایک کرنا شامل ہے۔ الزام لگایا گیا ہے اس وقت کے وزیر پرفل پٹیل کی کارروائی اور ان کے فیصلوں نے قومی ایئر لائنس کو برباد کردیا۔ ہزاروں کروڑ روپے کا بوجھ پڑا۔ گذشتہ10 ستمبر کو سپریم کورٹ کی دو نفری ڈویژن بنچ کے ممبر نے اس عرضی کی سماعت سے خود کو الگ کرلیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ نئی بنچ کے سامنے رکھا گیا۔ ایئر انڈیا ایک زمانے میں دنیا کی جانی مانی کمپنیوں میں شمار ہوا کرتی تھی لیکن بدانتظامی ،کرپشن اور دوسری پرائیویٹ کمپنیوں کو کھڑا کرنے میں کئی وزرا کا ہاتھ ہے۔ ان اسباب سے آج ایئر انڈیا کا وقار ملیا میٹ ہے۔ اس ایئر لائنس کے معاملوں میں باریکی سے جانچ ہونی چاہئے۔ ایئر انڈیا اور انڈین ایئر لائنس کو ایک کرنے کے پیچھے کیا کیا وجوہات تھیں اس کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔ ایئر انڈیا کا وقار براہ راست دیش سے جڑتا ہے کیونکہ یہ قومی ایئر لائنس ہے۔
(انل نریندر)

25 ستمبر 2012

گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے ملائم سنگھ یادو


ترنمول کانگریس کی حمایت واپسی کے فیصلے سے لڑکھڑائی منموہن سنگھ سرکار کو اس وقت بڑا سہارا مل گیا جب سماجوادی پارٹی نے فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کی خاطر حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کردیا۔ اس طرح ملائم دوہرا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ایک طرف ان کے ہاتھ میں احتجاج کا گھڑا ہے، دوسرے ہاتھ میں سرکار کو بچانے کا ایجنڈا۔ یہ دوسری بار ہے جب ملائم نے اس حکومت کو سنجیونی دی ہے۔ 2008ء میں بھی جب امریکہ سے نیوکلیائی معاہدے پر لیفٹ پارٹیوں نے حمایت لی تھی توسپا نے منموہن سنگھ سرکار کے ڈھائی سال کی نیا پار لگادی تھی۔ ملائم سنگھ یادو دراصل اپنے دونوں ہاتھوں میں لڈو رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کانگریس کے دشمن بھی دکھائی دینا چاہتے ہیں اور پردے کے پیچھے دوسی کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مرکزی سرکار سے فائدہ بھی لینا چاہتے ہیں اور ساتھ میں یہ بھی چاہتے ہیں کہ سرکار جلدی سے رخصت ہوجائے تاکہ یوپی میں انہیں فائدہ مل سکے۔ وہ مسلم ووٹوں کی ناراضگی کے خوف سے سرکار گرانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ ملائم کے دل میں تیسرے مورچے کا خواب اور مرکز میں سرکار چلانے کا کنگ میکر بننے کا تصور ہے لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ سپا کی کسی چال سے بسپا اور کانگریس میں دوستی گہری ہوجائے۔ داؤ پیچ میں ماہر ملائم سنگھ یادو سیاست میں دو کشتیوں کی سواری کی کہاوت کو دوہراتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بار ہر بار کی طرح منموہن سرکار کی حمایت جاری رکھنے کے پیچھے فرقہ وارانہ طاقتوں کو آگے بڑھانے سے روکنے کی دلیل دی گئی ہے۔ منموہن سرکار کو آنکھیں دکھا رہے ملائم سنگھ یادو 72 گھنٹے سے بھی کم وقت میں لائن پر آگئے۔ ٹھیک 24 گھنٹے پہلے سرکار کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتاری دینے والے ملائم کو ایک بار پھر فرقہ وارانہ طاقتوں کی یاد آگئی اب وہ کانگریس کو حمایت دینا جاری رکھیں گے کیونکہ انہیں ان طاقتوں کو اقتدار میں آنے سے روکنا ہے۔ پچھلے تین دنوں میں ملائم سنگھ نے کئی رنگ بدلے ہیں۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر ملائم سنگھ یادو نے 19 ستمبر کو کہا تھا کہ ایف ڈی آئی کو منظوری اور ڈیزل کے دام میں اضافے کا فیصلہ مرکزی سرکار کو واپس لینا ہوگا۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ عوام مخالفت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سرکار سے حمایت واپس لینے کا فیصلہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں رائے مشورہ کرنے کے بعد لیں گے۔ یہ میٹنگ 20 ستمبر کو ہونی تھی۔ 20 ستمبر کو ملائم مرکزی سرکار کے خلاف جنتر منتر پر دھرنا دے رہے تھے۔ چندرا بابو نائیڈو، پرکاش کرات، سیتا رام یچوری، اے بی بردھن کی موجودگی میں سرکار کی مخالفت تھی۔ ملائم کے ساتھ چھوٹی پارٹیوں کے لیڈروں کی موجودگی نے تیسرے مورچے کی قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی۔ خود ملائم یہ بولے کے وزیر اعظم تیسرے مورچے کا ہوگا۔ پورے دن یہ بیان بحث کا موضوع رہا۔ ملائم نے حمایت واپسی پر کوئی بات نہیں کی۔ ان کی پارٹی کی پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ ہوئی ۔ ان کے چھوٹے بھائی و ترجمان راج گوپال یادو نے تو یہاں تک کہہ دیا کے ایسی کوئی میٹنگ ہونی ہی نہیں تھیں۔ جمعہ کو ملائم کے تیور پوری طرح بدلے ہوئے تھے۔ ترنمول کانگریس کے تیور پوری طرح سے سخت تھے جب ان کے وزیر وزیر اعظم کو اپنے استعفے سونپنے جا رہے تھے تب ملائم میڈیا کو دیش پر فرقہ وارانہ خطرے کی باتیں بتا رہے تھے۔فرقہ وارانہ طاقتوں سے ان کا مطلب بھاجپا ہے۔ سپا۔بھاجپا کو چاہے جس طرح سے تشبیہ دے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت وہ کئی ریاستوں میں برسر اقتدار ہے۔ اس کا مطلب ہے دیش کی عوام کے ایک بڑے طبقے کو سپا کی اس دلیل میں کوئی دم نظر نہیں آتا۔ فرقہ وارانہ طاقتوں کو دور رکھنے کے لئے وہ یوپی اے سرکار کو حمایت دینے کیلئے مجبور ہو۔ سپا جسے اپنی مجبوری بتا رہی ہے وہ ان کی بڑی کمزوری ہے۔ دیش کی عوام کو یہ ہی پیغام جارہا ہے کہ سپا سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے یوپی اے سرکار کو راحت دے رہی ہے۔ کچھ ایسی ہی حالت بسپا کی بھی ہے یہ دونوں پارٹیاں جس طرح دو کشتیوں کی سواری کررہی ہیں اس سے انہیں گھاٹا اٹھانا پڑے گا۔ ملائم بھلے ہی کانگریس کی حمایت کی وجہ سے فرقہ وارانہ طاقتوں کو مضبوط نہ ہونے دیں لیکن یہ اکیلی وجہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ملائم کا اپنا حساب کتاب ہے۔ وہ مرکزی سرکار پر دباؤ بنا کر اسے اپنی انگلی پر نچانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی اترپردیش کے لئے مرکز سے زیادہ سے زیادہ اقتصادی فائدہ بھی لینا چاہتے ہیں اور اس دوران اپنے آپ کو زیادہ مضبوط بھی کرنا چاہیں گے۔
(انل نریندر)

اگروالمارٹ اتنی اچھی ہے تو نیویارک میں اس کی مخالفت کیوں؟


دنیا کی نامور خوردہ کاروبار کرنے والی کمپنی والمارٹ کا راستہ صاف کرنے کے لئے بھارت میں تمام فائدے گنائے جارہے ہیں۔ امریکہ کی یہ نامور کمپنی 16 دیشوں میں 404 ارب ڈالر کا کاروبار کرتی ہے۔ حالانکہ اور بھی کئی بڑی کمپنیاں ہیں جیسے فرانس کی کیئرفور(36 ملکوں میں122 ارب ڈالر کا کاروبار) جرمنی میں میٹرو اے جی (33 ملکوں میں 2009 میں 91 ارب ڈالر کا کاروبار) برطانیہ کی ٹیسکو جس کی اسٹریٹ13 ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے اور اس کا محصول کاروبار 90.43 ارب ڈالر کا تھا لیکن سب سے بڑی کمپنی والمارٹ ہے۔ اس کے ایشیا پریزیڈنٹ اور سی او اسکوات پرائس نے کہا ہے کہ ہندوستان میں پہلا والمارٹ ریٹیل اسٹور 12 سے18 مہینوں کے اندر کھل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی ہم دیگر ریاستوں سے اجازت مانگیں گے جو غیر ملکی خوردہ دوکان اپنے یہاں کھلوانے کی خواہش جتا چکے ہیں۔ حالانکہ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ بھارت میں ہم کہاں کہاں اور کتنے اسٹور کھولیں گے۔ اس وقت بھارتی کے ساتھ 17 کیش اینڈ کیری اسٹورس میں والمارٹ کی حصہ داری ہے۔ سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بیشک وزیراعظم منموہن سنگھ جتنے بھی والمارٹ کے فائدے گنائیں لیکن یہ کمپنی خود اپنے دیش میں ہیں زبردست جھٹکے سے دوچار ہورہی ہے۔ چاہے معاملہ امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک کا ہی کیوں نہ ہو۔ کمپنی نے یہاں اپنا پہلا بڑا اسٹور کھولنے کی اسکیم بنائی تھی لیکن وہاں کے مقامی چھوٹے تاجروں کی زبردست مخالفت کی وجہ سے کمپنی کو اپنے قدم پیچھے ہٹانے پڑے تھے۔ویسے نیویارک میں پہلے سے ہی چھوٹے اسٹور موجود ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق والمارٹ نے مشرقی نیویارک کے برک لن میں نیا شاپنگ سینٹر بنایا ہے ۔ اسی میں وہ میگا اسٹور کھولنے کی تیاری کررہی تھی مگر مقامی یونین سٹی کونسل کے ممبران اور لوگوں کے گروپ نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ اس کے بعد کمپنی نے پچھلے ہفتے اس منصوبے کو منسوخ کردیا۔ امریکہ کے تقریباً ہر چھوٹے شہر میں کمپنی کے 4 ہزار سے زیادہ اسٹور ہیں مگر سکے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ بڑے اسٹور کھولنے کے لئے کمپنی کوہر جگہ چنوتیوں سے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ نیویارک سے پہلے کئی اور بڑے شہروں میں کمپنی کے بڑے اسٹوروں کے خلاف احتجاج ہوچکا ہے۔ نیویارک میں میگا اسٹور کھولنے کے لئے کمپنی 2007 سے کوشش میں لگی ہوئی تھی لیکن ابھی تک اسے کامیابی نہیں ملی۔ نیویارک کو والمارٹ سے نجات دلانے کے لئے باقاعدہ ایک تنظیم بنائی گئی ہے۔ والمارٹ فری نیویارک سٹی گروپ کے ترجمان اسٹیفنی یاگزی کے مطابق کمپنی کے پیچھے ہٹنے سے ثابت ہوگیا ہے نیویارک کے لوگوں کو بھی والمارٹ کا کاروباری طریقہ پسند نہیں آرہا ہے۔ احتجاج کرنے والے امریکیوں کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی اپنے ملازمین کو تنخواہیں کم دیتی ہے ساتھ ہی انہیں جو سہولتیں ملنی چاہئے تھیں وہ بھی بدتر ہوتی جارہی ہیں۔ یہ کم دام رکھ کر اپنے آس پاس کے چھوٹے دوکانداروں کے منافع پر چوٹ پہنچاتی ہیں تاکہ انہیں بھگایا جاسکے۔ منموہن سنگھ دلیل دے رہے ہیں اس سے کسانوں اور صارفین کو فائدہ ہوگا مگر کچھ واقف کار اس دلیل کو مسترد کرتے ہیں۔ زراعتی ماہر دویندر شرما کہتے ہیں کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک کے منظم خوردہ کاروبار میں بھلے ہی تیزی آئی ہو لیکن اس کا فائدہ کسانوں کو کم ہی ہوا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ان ملکوں کا زرعی سیکٹر ابھی بھی بھاری سرکاری سبسڈی پر نہیں چل پاتا۔ منموہن سنگھ بھلے ہی والمارٹ کو بھارت لانے میں جو بھی دلیلیں دیں لیکن حقیقت کچھ اور ہی ظاہر کرتی ہے۔ (انل نریندر)

23 ستمبر 2012

راجدھانی میں بڑھتا سینس لیس قتل کا دور باعث تشویش


راجدھانی میں ایک بار پھر قتل عام کے دور نے تشویش پیدا کردی ہے۔ ایک طرفہ محبت، ناجائز رشتے و پاگل پن کے چلتے بڑھتی اور کبھی بالکل بے تکے قتل اور خودکشی کا دور کم ہی دیکھا گیا ہے۔ 3ستمبر کو ایک سرپھرے عاشق روی نے بندا پور اور غازی آباد میں ایک کے بعد ایک پانچ قتل کی وارداتوں کو انجام دیا اور اس کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔7 ستمبر کو سروپ نگر میں دو دوستوں منیش اورراجبیر نے پیار کی ناکامی میں و کنبے میں اندرونی رسہ کشی سے پریشان ہوکر پانچ لوگوں کو گولی مارنے کے بعد خود کو بھی گولی سے اڑالیا۔ دو دن پہلے دہلی پولیس کے ایک کانسٹیبل وجے کمار کو جب لگا کہ اس کی بہن کے 9 سال پہلے جہیز کے لئے قتل معاملے میں اسے عدالت سے انصاف ملتا نظر نہیں آرہا ہے تو اس نے اپنی سرکاری بندوق سے باہری دہلی کے علی پور فارم ہاؤس علاقے میں اپنے بہنوئی منوج کمار (36 سال) اس کی ماں پرکاش دیوی (62 سال) پر تابڑ توڑ فائرنگ کر دونوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ باہری دہلی کے روہنی سیکٹر 17 علاقے میں ایک بدمعاش نے گھر میں گھس کر کاروباری اور اس کی بیوی و بیٹی پر دھار دار ہتھیار سے گلا کاٹ کر ماڈالا۔ تینوں کو اسی دن ویشنودیوی تیرتھ یاترا پر جانا تھا لیکن سب سے تکلیف دہ حادثہ سر گنگا رام ہسپتال کے ڈاکٹر سنجیو دھون کے قتل کا ہے۔ نیو راجندر نگر میں نوکرانی کے پیار میں پاگل سابق فوجی نے سینئر امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر سنجیو دھون کو گولی مار کر قتل کردیا۔ ڈاکٹر دھون ہسپتال میں کارڈیولوجی شعبے میں وائس چیئرمین تھے۔ ڈاکٹر دھون نے اپنے 20 سال کے کیریئر میں تقریباً 500 لوگوں کی زندگی بچائی تھی۔ ان میں 15 زندگیاں تو ایسے ڈاکٹروں کی ہیں جو آج سیکڑوں لوگوں کی جان بچا رہے ہیں۔ ڈاکٹر سنجیو تو اپنی موت کے بعد بھی لوگوں کو زندگی دینا چاہتے تھے ان کی خواہش تھی کے ان کے اعضاء عطیے میں دے دئے جائیں لیکن دل میں گولی لگنے سے ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ ایسے قابل شخص جس نے سینکڑوں جانیں بچائی ہوں اور مستقبل میں وہ دانی ہو، اسے مارنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ ڈاکٹر بھگوان کا روپ ہوتا ہے اسے ہی پاگل پریمی نے اپنی جلن کا شکار بنادیا؟ اس قتل پر حیرت زدہ ہونا فطری ہے۔ ستمبر میں ہی اس طرح کے قریب 10 معاملے آ چکے ہیں۔یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں راجدھانی میں برداشت کی کتنی کمی آرہی ہے۔ رشتوں کے بگڑے تانے بانے سے کس طرح سماج میں بکھراؤ کی حالت پیدا ہورہی ہے۔ تنک مزاجی، ایک طرفہ محبت و ناکامی کے چلتے خود سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح کی حالت پورے سماج کے ڈھانچے کو متاثر کررہی ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق خاندانی دوریاں اور زیادہ کشیدگی ،کونسلنگ کی کمی اس کی خاص وجہ بن رہی ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہورہا ہے کہ ہمارے صبر اور اخلاقی اقدار میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ علیحدہ خاندانوں کا چلن اور جلدی میں سب کچھ پانے کی للک و تیز بھاگتی زندگی میں بڑھتی مایوسی اس طرح کے سینس لیس تشدد کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ پھر آسانی سے ہتھیاروں کا ملنا، فلموں میں بڑھتے تشدد کے مناظر بھی لڑکوں کو جرائم کی راہ پر لے جارہے ہیں۔ جرائم کی یہ شکل پورے سماج کے لئے ایک بڑی چنوتی ہے۔ یہ محض پولیس اور بگڑتے قانون و نظم کی وجہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)

سائنا نہوال نے سائن کیا 40کروڑ کا معاہدہ


کھیل کی دنیا میں اب بھارت کا نام بھی آرہا ہے اور یہ ہر ہندوستانی کے لئے فخر کی بات ہے کہ بھارت میں ہنر یعنی ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ کمی ہے تو کھلاڑیوں کو سہولیت اور ان کے کھیل کو فروغ دینے کی۔ آج کرکٹ دنیا میں ٹیم انڈیا ورلڈ کی چوٹی ٹیموں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے میری رائے میں بی سی سی آئی کا بہت بڑا اشتراک ہے۔ کرکٹ کھلاڑیوں کو حوصلہ افزائی کی شکل میں اتنا پیسہ مل رہا ہے کہ وہ اور بھی بہتر کھیل کا مظاہرہ کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ہم ہاکی میں اس لئے پچھڑے ہوئے ہیں کیونکہ ہم نے اس کی بہتری کے لئے قدم نہیں اٹھائے ۔ جن کے بنا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ لندن اولمپکس میں ایک کھیل جس میں بھارت کا نام پہلی بار آیا ہے وہ ہے بیٹ منٹن کا کھیل، بیشک ہم نے نشانے بازی ، کشتی، باکسنگ و ایتھلیٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کے سائنا نہوال نے جو کمال دکھایا ہے وہ قابل قدر ہے۔ میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کے بیٹ منٹن ایک ایسا کھیل ہے جس میں برسوں سے چین کا دبدبہ رہا ہے اور بالادستی رہی ہے۔ سائنا نے اس دبدبے کو پہلی بار توڑا ہے اس لئے جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ ایک اسپورٹس مینجمنٹ کمپنی نے سائنا کے ساتھ تین سال کے لئے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اس کو پورے40 کروڑ روپے ملیں گے تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ دراصل سائنا ایک برانڈ کے طور پر اسی وقت سے ابھرنا شروع ہوئی تھی جب انہوں نے لندن اولمپکس میں چین کے وانگشن کو ہراکر اولمپک میں میڈل اپنے نام کرلیا تھا۔ کرکٹ کو چھوڑ کر کسی دیگر کھیل میں دیش کی سب سے زیادہ پیسہ کمانے والی کھلاڑی اب سائنا بن گئی ہیں۔ سائنا نے رتی اسپورٹس سے یہ معاہدہ کیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ اس کمپنی سے جڑ کر کافی خوش ہیں اور رتی کے بگراؤنڈ اور اس کے بھروسے کو دیکھتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس طرح سے چیزوں کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں اور یہ ان کا سب سے مثبت پہلو ہے۔ رتی اسپورٹس کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ارون پانڈے نے کہا ہے کہ ہم سائنا سے جڑ کر کافی خوش ہیں جنہوں نے اپنے کھیل سے دیش کے وقار کو بڑھایا ہے۔ سائنا اس طرح رتی اسپورٹس سے جڑنے والی پہلی ہائی پروفائل ہستیوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں جس میں بھارتیہ کرکٹ کپتان مہندر سنگھ دھونی بھی شامل ہیں۔ لندن اولمپکس سے لوٹنے کے بعد سچن تندولکر نے انہیں بی ایم ڈبلیو کار تحفے میں دی تھی۔ کرکٹر کے علاوہ کسی ہندوستانی کھلاڑی کے ساتھ ایسے معاہدے اپنے آپ میں کافی خوش آئین ہیں۔ پچھلے برس کے مقابلے سائنا کا برانڈ ویلیو بھی بڑھا ہے۔ موجودہ وقت میں وہ 10 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہارات میں نظر آرہی ہیں۔بگ بی کے ساتھ بھی انہیں ایک بیوٹی سامان بیچنے والی کمپنی کے اشتہار میں کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ سلور میڈل جیتنے والے پہلوان سشیل کمار بھی ایک اشتہار میں نظر آرہے ہیں۔ اس تبدیلی کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ باکسنگ ، ویٹ لفٹنگ اور نشانے بازی ،ہاکی، فٹبال اور تیز اندازی کے بھی کچھ کھلاڑی اسی طرح پردے پر نظر آئیں گے اور ہندوستانی کھلاڑیوں کو وہ عزت ۔ پیسہ ملے گا جس کے وہ پوری طرح سے حقدار ہیں۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...