Translater
12 جولائی 2025
پلوامہ حملہ : ٹیرر فنڈنگ بھی آن لائن!
آتنکوادی پچھلے کچھ برسوں سے اپنی ناپاک سازشوں کو انجام دینے کے لئے روایتی طریقے کے بجائے جدید تکنیک کا سہارا لے رہے ہیں ۔خاص کر انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف طرح کی مدد حاصل کرنا ان کے لئے آسان اور اچھا طریقہ بن گیا ہے ۔عالمی دہشت گردی نگرانی ادارہ ایف اے ٹی ایف نے فروری 2019 کے پلوامہ آتنکی حملے اور گورکھ ناتھ مندر میں ہوئی 2020 کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ای - کامر س اور آن لائن پیمنٹ سیواو¿ں کا بیجا استعمال دہشت گردی کو مالی مدد کے لئے کیا جارہا ہے ۔اپنے تجزیہ میں ایف اے ٹی ایف نے دہشت گردی کو سرکار کے ذریعے اسپانسر کئے جانے کی بھی نشاندہی کی ہے ۔اور کہا کہ کھلے طور سے دستیاب اطلاع کے مختلف ذرائع اور اس رپورٹ سے نمائندہ وفود کے غور سے اشارہ ملتا ہے ۔ٹیرر فنڈنگ پر نظر رکھنے والی اس عالمی انجمن کی حالیہ رپورٹ نے دہشت گردی کے الگ الگ پہلوو¿ں کی جانب توجہ مرکوز کائی ہے ۔اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے ٹیکنالوجی تک دہشت گرد تنظیموں کو آسانی سے پہنچ رہے ہیں ۔انہیں خطرناک بنا رہی ہیں ۔اس سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر نئی حکمت عملی کی ضرورت ہو گئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق 2019 میں پلوامہ اور 2022 میں گورکھ ناتھ مندر میں ہوئے آتنکی حملے کے لئے آن لائن پلیٹ فارم استعمال کیا گیا۔پلوامہ میں دہشت گردوں نے آئی ای ڈی کا استعمال کیا تھا ۔اور اسے بنانے کے لئے الیومیونیم پاو¿ڈر دیگر جگہ سے خریدا ۔گورکھپور کے گورکھ ناتھ مندر میں ہوئے حملے میں پیسے کا لین دین بھی آن لائن کے ذریعے پہنچایا گیا ۔یہ ہی نہیں آتنکی بچ پانے کا طریقہ بھی انٹرنیٹ سے سیکھ رہے ہیں جو سنگین تشویش کا باعث ہے ۔حالیہ برسوں میں ہوئے کئی آتنکی حملوں کی جانچ میں اس کے ثبوت ملے ہیں ۔اس سے صاف ہے کہ آن لائن سروسز کا بیجا استعمال کس قدر خطرناک شکل لے چکا ہے ۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پلوامہ حملے میں الیومونیم پاو¿ڈر کا استعمال دھماکہ کے اثر کو بڑھانے کے لئے کیا گیا تھا ۔جیش محمد آتنکی تنظیم نے فروری 2019 میں سیکورٹی فورس کے قافلے پر فدائی حملہ کیا تھا ۔لوک سبھا چناو¿ سے کچھ مہینے پہلے ہوئے دھماکے نے سی آر پی ایف کے 40 جوان بلیدان ہوئے تھے۔ایف اے ٹی ایف نے کچھ دن پہلے پہلگام کو لے کر کہا تھا کہ اتنا بڑا آتنکی حملے باہری مالی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہوسکے گا ۔اس کی حالیہ رپورٹ اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔دہشت گردوں نے اپنے کام کا طریقہ بدل لیا ہے اب وہ انٹرنیٹ کی دنیا کی طرف جارہے ہیں ۔ایف اے ٹی ایف کی اس اپڈیٹ رپورٹ نے سرکاری اسپانسر دہشت گردی کے دعوے پر بھی درپردہ طور سے مہر لگا دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد اپنے تشدد کے لئے ذمہ دارہیں ۔اور آپریشنس کے لئے ساز وسامان ہتھیار اور یہاں تک کہ تھری ڈی پرنٹنگ ساز وسامان کی خریداری تھی آن لائن سروسز کے ذریعے کررہے ہیں ۔یہ بات صحیح ہے کہ آن لائن خریدار ی کے سسٹم سے لوگوںکو کافی سہولیت ہوئی ہے لیکن اس سہولت کا استعمال خطرناک منصوبوں کو انجام دینے کے لئے نہ ہو اس پر سرکار کی گہری نگاہ رکھنی ہوگی اور ایسے قاعدے بنانے ہوں گے جن سے یہ آ ن لائن سائٹ کی سہولت کا بیجا استعمال نہ کر سکیں ۔اور دہشت گردی پھیلانے میں مدد نہ کر پائیں ۔ساتھ ہی آن لائن سیلس انتظام کرنے والے اسٹیجز کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے سامان کی باقاعدہ طور پر نگرانی کریں تاکہ اس کے بیجا استعمال پر روک یقینی ہو سکے ۔ایف اے ٹی ایف کا یہ انکشاف بھی اہم ہے کہ آتنکی تنظیموں کو کچھ دیشوں کی حکومتوں سے مالی اور دیگر مدد ملتی رہی ہے ۔جن میں ساز وسامان سے متعلق مدد و ٹریننگ بھی شامل ہے ۔بھارت سمیت کئی دیش دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے متحدہ کوششوں پر زور دے رہے ہیں لیکن کچھ چنندہ ملکوں کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی کفالت سے اس پر پلیتا لگ رہا ہے ۔دہشت گردی کی اس چنوتی سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر کوششیں کرنی ہوں گی اس سے پہلے بھی ہم نے دیکھا کہ کس طرح پاک اسپانسر آتنکی واقعات ہمارے خلاف کئے جارہے ہیں ۔یہ بات چھپی نہیں ہے پاکستان دہشت گردوں کی کفالت کرکے انہیں ہتھیار کی طرح استعمال کرتا ہے ۔سرکار کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کیسے ای کامرس کمپنیوں پر پابندی لگائی جائے تاکہ وہ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والی سرگرمیوں کو بند کریں ۔
(انل نریندر)
10 جولائی 2025
رفال گرنے پر چین نے پھیلاہا بھرم!
آپ کو یاد ہوگا کہ بھارت ،پاکستان لڑائی میں پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارت کے کئی جہازوں کو مار گرایا ہے ۔ان میں رفال سخوئی ،اور مگ شامل تھے ۔آپریشن سندور کے دوران کیوں بھارت کے رفال جنگی جیڈ گرے تھے ؟ ایک انٹرویو میں ڈیفنس سکریٹری آر کے سنگھ نے سی این وی سی ٹی وی 18 کو دیے انٹرویو میں کہا آپ نے رفال لفظ بہووچن میں استعمال کیا ہے ۔میں بھروسہ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بالکل بھی صحیح نہیں ہے ۔پاکستان کو ہیومن اور فوجی ساز وسامان دونوں سطحوں پر بھارت کا موازنہ میں کئی گنا زیادہ نقصان ہوا ہے اور 100 سے زیادہ دہشت گردمارے گئے ۔وہیں پاکستان کے فوجی چیف جنرل منیر نے کہا بھارت سے فوجی لڑائی کے دوران باہری حمایت ملنے کا دعویٰ حقائق طور سے غلط ہے ۔اب خبر آئی ہے کہ آپریشن سندور کے درمیان ہوئی جھڑپوں کے بعد تیار رفال جیٹ جہازوں کے سلسلے میں غلط فہمی پھیلائی گئی تھی ۔چین نے اس کام پر اپنے سفیر کو تعینات کیا تھا ۔فرانسیسی فوجی حکام اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نکالے گئے نتیجہ کی بنیاد پر بتایاجارہا ہے کہ فرانس کے چیف جنگی جہاز کے ساتھ اور فروخت کو نقصان پہنچانے کا بیجنگ پروپیگنڈہ کررہا تھا ۔لگاتار کہہ بھی رہا ہے فرانسیسی خفیہ سروس کی بنیاد پر بتایا کہ چین کے سفارتخانوں میں ڈیفنس حکام نے رفال کی بکری کو متاثر کرنے کے لئے باقاعدہ مہم چلائی گئی ۔اس کا مقصد ان ملکوں کور اضی کرنا تھا جنہوں نے پہلے بھی فرانس سے تیار جنگی جہاز کا آرڈر دے رکھا ہے ۔خاص طور سے انڈونیشیا رفال جہاز نہ خریدنے اور دیگر امکانی خریداروں کو چین میں تیار ایف 10 اور ایف 15- وغیرہ یا ایف 33- جنگی جہاز انتخاب کرنے کے لئے ترغیب دی ۔رافیل سمیت دیگر تمام ہتھیاروں کی بکری فرانس کی ڈیفنس انڈسٹری کا اہم کاروبار ہے ۔جس سے پیرس کے دنیابھر کے دیشوں سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں ۔ان میں کیوں کہ ایشیائی ملک بھی شامل ہیں جہاں چین بڑی طاقت بن چکا ہے ۔چین کے مشرقی ایشیا میں مسلسل بڑھتا اثر ہے ۔بھارت پاک لڑائی کے دوران پڑوسی ملک کی ایئر فورس کے ذریعے ہندوستنانی جہازوں کو مار گرانے کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا تھا جن میں چین رافیل جہاز گرائے بتائے گئے ۔فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس گمراہ کن پروپیگنڈہ سے رافیل کی پرفارمنس پر سوالیہ نشان لگانے کی کوشش چین نے کی ہے ۔فرانسیسی ایئر فورس کے چیف جنرل ویروم بیلنگر نے کہا کہ انہوں نے صرف تین ہندوستانی جہازوں کو نقصان ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ثبوت دیکھے ہیں ۔ان کے مطابق ان میں ایک رافیل ،ایک سخوئی اور ایک فرانس میں تیار چراغ 2000- جنگی جہاز شامل ہیں ۔فرانس میں آٹھ دیشوں کو رافیل جنگی جہاز بیچے ہیں جن میں سے بھارت پاک لڑائی میں ان جہاز کے گرنے کا پہلا نقصان کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔شوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ مبینہ طور پر رافیل کے ملبہ سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔تصویر اے آئی سے بنائے کنٹینٹ اور جنگ کا تجزیہ کرنے والے ویڈیو وغیرہ کی مہم کا حصہ تھا ۔ہماری رائے میں تو بھارت سرکار کو دیش کو اب بتا دینا چاہیے کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کے کتنے جہاز وں کو نقصان ہوا تھا اور یہ کون کون سے جہاز تھے ؟ چھپانے سے افواہ اور پھیلتی ہے اور دشمنوں کو بھرم پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
08 جولائی 2025
پاکستان تو محض مہرا ،سرحد پر کئی دشمن تھے !
آپریشن سندور کے دوران بھارتیہ سینا کو کن کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا یہ معمہ ابھی بھی آہستہ آہستہ سامنے آرہا ہے ۔آپریشن سندور کی پرتیں کھلنے لگی ہیں ۔بھارت کی فوجی حکمت عملی میں ایک میل کا پتھر بن کر آپریشن سندور ابھرا ہے ۔جو خفیہ جانکاری سے چلے جنگ اور اضافہ پر کنٹرول اور تکنیکی صلاحیت کے بارے میں بیش قیمت سبق دیتا ہے۔یہ بات ڈپٹی چیف آرمی اسٹاف لیفٹننٹ جنرل راہل آر سنگھ نے کہی ہے۔جمعہ کو امریکی ملیٹری ٹیکنالوجی پر فکی کے ایک پروگرام میں اپنے خیالات میں جنرل سنگھ نے اس آپریشن کو بھارت کی یونیفائیڈ فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صحیح وقت پر لڑائی کو روکنے کے لئے تیار کیا گیا ۔ایک ماسٹر لی اسٹروک بتایا ۔پوز میوٹ باقی وقت 9.44 مکمل پیمانہ پر جنگ کے بغیر حکمت عملی فروغ جنگ شروع کرنا آسان ہے ۔لیکن اسے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے ۔فکی پروگرام سے خطاب میں بھارت اور پاکستان لڑائی کے دوران چین کے رول پر بھی بات کی ۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے پانچ سال میں پاکستان کو ملنے والا 81 فیصد فوجی ہارڈ ویئر چین سے ہی آیا ۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائی میں پاکستان کے ساتھ چین کا تو بڑا رول تھا ہی لیکن اس دوران ترکی پاکستان کو دی گئی فوجی مدد کا بھی تذکرہ کیا ۔انہوں نے کہا جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے کئی درون استعمال کئے گئے جو ترکیہ سے آئے تھے ۔وہ کہتے ہیں آپریشن سندور کے بارے میں جو سبق ہے جو ہمیں ضروری سمجھتا ہوں بتانا ۔سب سے پہلے ایک سرحد پر دو دشمن نہیں تھے ۔ہم نے صرف پاکستان کوتو سامنے دیکھا لیکن دشمن اصل میں دو تھے بلکہ اگر کہیں تو تین یا چار تھے ۔پاکستان تو صرف سامنے دکھائی دینے والا مہرہ تھا ۔۔۔ ہمیں چین سے (پاکستان) کو ہر طرح کی مدد ملتی نظر آئی ۔اور یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے چونکہ چین پچھلے پانچ برسوں سے پاکستان کی ہر سیکٹر میں مدد کرتا رہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ایک بہت جو چین نے دیکھی وہ یہ کہ اپنے ہتھیاروں کو الگ الگ سسٹم کے خلاف آزما سکتا ہے جیسے ایک طرح سے لیب سے مل گئی ہو ۔اس کے علاوہ ترکیہ نے بھی بہت اہم رول نبھایا جو پاکستان کو ہر طرح سے مدد کررہا تھا ۔ہم نے دیکھا کہ کئی طرح کے درون بھی وہاں پہنچے اور اس کے ساتھ ان کے ٹرینر لوگ بھی تھے ۔جنرل سنگھ نے کہا کہ ایک اور بڑا سبق یہ ہے کہ کمیونیکیشن نگرانی اور فوج اور شہری تال میل اس کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں جب ڈی جی ایم او لیول کی بات چیت ہو رہی تھی تب پاکستان کہہ رہا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی ایک یونٹ پوری طرح تیار ہے ۔برائے کرم اسے پیچھے کر لیں یعنی چین انہیں لائیو ان پٹ دے رہا تھا اس معاملے میں ہمیں بہت تیزی سے کام کرنا ہوگا ۔میں نے جنرل سنگھ نے کہا کہ ایک طرف بڑا سبق ملا ہے کہ ہمارے پاس مضبوط اور سیف سپلائی چین ہونی چاہیے اسے فوج کے نظریہ سے سمجھاتے ہوئے کہا کہ جو آلات ہمیں اس سال جنوری یا پچھلے سال اکتوبر نومبر تک ملنے چاہیے تھے وہ وقت پر نہیں پہنچ سکے ۔میں نے ڈرون بنانے والی کمپنیوں کو بلایا تھا اور پوچھا تھا کہ کتنے لوگ طے میعاد پر ساز وسامان دے سکتے ہیں تو کئی لوگوں نے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے لیکن ایک ہفتہ بعد جب پھر سے بات ہوئی تھی تب بھی کوئی سامنے نہیں آیا ۔اس درمیان کانگریس نیتا جے رام رمیش نے کہا ہے کہ ڈپٹی چیف آرمی اسٹاف لیفٹننٹ جنرل راوت آر سنگھ پبلک اسٹیج سے وہی بات صاف کر دی ہے جو لمبے وقت سے موضوع بحث تھی ۔انہوں نے اپنے ایکس پر لکھا اور بتایا کہ کس طرح چین نے پاکستان ایئر فور س کی غیرمعمولی طریقہ سے مدد کی تھی ۔یہ وہی چین ہے جس نے پانچ سال پہلے لداخ میں پوزیشن کو پوری طرح بدل دیا تھا ۔جنرل سنگھ نے دیش کو آگاہ کیا کہ اگلی لڑائی میں بھارت کو کن کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گاجس کے لئے ہمیں تیاری ابھی سے شروع کرنی ہوگی ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...