27 اپریل 2019

کیپٹن او ربادل دونوں کی ساکھ داو ¿ں پر لگی !

پنجاب کی سبھی 13لوک سبھا سیٹوں پر چناوی شطرنج کی بساط بچھ گئی ہے اس چناو ¿ میں پنجا ب کے وزیر اعلی کیپٹن امریند ر سنگھ اور سابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل کی ساکھ داو ¿ں پر لگی ہے اب شرومنی اکالی دل او رکانگریس امیدوار وں کی فہرست آجانے کے بعد اب چناوی پس منظر صاف ہوگیا ہے بے شک عام آدمی پارٹی چناوی میدان میں ہے لیکن اہم مقابلہ شرومنی اکالی دل اور کانگریس کے درمیان ہے کیپٹن امریندر سنگھ ان چناو ¿ کو لیکر کتنے سنجیدہ ہیں کہ انہوں نے اپنے وزیروں تک کو وارنگ دے ڈالی کہ لوک سبھا چناو ¿ میں اپنے حلقوں میں پارٹی کے امید وار کو جیتانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں کیبنٹ سے ہٹادےا جائے گا اس کے علاوہ انہوں نے ممبرا ن اسمبلی کو بھی خبر دار کردےا ہے کہ اگر ان کے حلقوں میں پارٹی امید وار نہیں جیت پائے تو ان کو آنے والے اسمبلی انتخابات کے لئے ٹکٹ نہیں دےا جائے گا ۔کانگریس صدر راہل گاندھی کی قےادت میں پارٹی اعلی کمان نے یہ ٹارگیٹ پردیش میں مشن 13کو حاصل کرناہے ۔اس کے فیصلہ کے مطابق اگر وزیر امیدوار وں کی جیت ےقینی نہیں کرپاتے تو انہیں وزیر کے عہدہ سے ہٹادےا جائے گا ۔اس مرتبہ کانگریس نے دو نوجوان اسمبلی کو ٹکٹ دیا ہے پٹیالہ سیٹ پر آپ پارٹی کے ڈاکٹر دھرم ویر گاندھی سے پچھلے چناو ¿ میں ہاری پرمیت کور کو کانگریس نے ایک بار پھر ٹکٹ دیا ہے لیکن اس مرتبہ عآپ پارٹی کو اپنوں سے ہی جتنا خطرہ اتنا دوسروں سے نہیں کانگریس پردیش صدر سنیل جاکھڑ اور وزیر اعلی کیپٹن امریند ر سنگھ کا کہنا ہے ریاست کی سبھی 13سیٹوں پر کامیاب ہوتی ہے تو مرکز میں کانگریس سرکار بننے میں راہل کے ہاتھ مضبوط کرے گی ۔ادھر شرومنی اکالی دل نے اپنے امید وار پہلے ہی طے کردیئے تھے جس وجہ سے پارٹی کے اندر گروپ بندی ہے اور اس سے الگ ہوئے گروپ کے میدان میں اتر نے سے پنتھک ووٹوں کے بٹنے سے نقصان ہونے کا اندیشہ ہے ۔سابق وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل بھی مکتسر میں پدیاتروں کے ذرےعہ لوگوں سے رابطہ قائم کررہے ہیں حالانکہ اب ان کی عمر زور دار چناو ¿ کمپین کی اجازت نہیں دیتی ۔اپنے بیٹوں بہو ہر سمرت کور وغیرہ لو گ چناو ¿ مہم میں لگے ہوئے ہیں بادل کا کہنا ہے کانگریس سرکار نے اپنے چناو ¿ منشور میں کئے وعدے پورے نہیں کئے او رکسانوں کی حالت جوں کی توں بنی ہوئی ہے مرکزی سرکار نے ریاست میں بہت سے ترقیاقی کام کئے اور مودی سرکار کی واپس طے ہے ۔

(انل نریندر)

لائٹ ،کیمرہ ایکشن کے آرٹسٹ چناوی دنگل میں پھنسے !

مغربی بنگال کے صنعتی ٹریڈ سینٹر آسنسول میں اس مرتبہ لوک سبھا چناو ¿ مہم میں دوستار ے زمین پر اتر آئے ہیں ان میں نوجواں دلوں کے دھڑکن سنگر بابل سپرےو جو اس وقت ایم پی اور مرکزی وزیر ہیں انکے سامنے مقابلہ پر نامور اداکارہ من من سین ہیں یہاں چوتھے مرحلے میں 29اپریل ڈالے جائیں گے ۔مغربی بنگال میں ان دونوں اداکاروں کی مقبولیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور دونوں کے اپنے اپنے فین اور اشو رہے ہیں کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں نے اس سیٹ پر بھاجپا نے سیندھ ماری کی ہے ۔ترنمول کانگریس اس سیٹ پر پہلی بار جیت کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔لائٹ ،کیمرہ ایکشن جیسے الفاظ کے ارد گرد ددونوں ادارکاروں کا وقت جیت کی منزل تک پہنچنے کے لئے کم ہوتا جارہا ہے ۔ددنوں کی ہی ٹیمیں چناو ¿ میدان سرگرم ہیں ۔بابل کو جیتانے کے لئے بھاجپاور کر دن رات لگے ہوئے ہیں لیکن ترنمول کانگریس امید وار من من سین سے مورچہ بندی کمزوری نہیں ہے ۔ترنمول ممبر اسمبلی رہے جیتندر تیوارکہتے ہیں کہ پچھلے چناو ¿ میں ہم مذہبی محاذ پر ہار گئے تھے ۔اس مرتبہ پارٹی اس محاذ مستعدہے اور حلقے میں مذہبی شورش روکنے کی ذمہ داری ہم نے اٹھائی ہے اور حلقے میں چار درجن مندروں میں شیو چرچہ کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔بھاجپا دھارمک پروگراموں کے انعقاد میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہی ہے لیفٹ کے گڑھ سے یہ سیٹ بھاجپا کے جھولی میں دلانے پر بابل سپرےو کو اانعام بھی ملا ہے اور انہیں مرکزی وزیر بنایا گیا ان کے ساتھ ساتھ بھاجپا کی ساکھ بھی داو ¿ پر لگی ہے اس لئے وہ کافی محنت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہے ہیں وہیں لیفٹ والوں کے لئے یہ سیٹ ساکھ سے جڑی ہے لیکن فی الحال یہاں لال جھنڈا دور ہی دکھائی دے رہا ہے ۔کمیونسٹ آئیڈیالوجی سے متاثر سدےپتومنتری پر سوال اٹھاتے ہیں جب سے وہ وزیر بنے ہیں تب سے حلقے کی دوبڑی کیبل کمپنیاں بندہوگئی ہیں او رسیکڑوں لوگ بیروز گار ہوگئے ہیں ترنمول کانگریس اسے اشو بنارہی ہے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپا صدر دونوں نے ہی مغربی بنگال میں اس مرتبہ پوری طاقت لگا دی ہے دیکھیں کی دی دی کے گھر کےا کمل کھلے گا ؟

(انل نریندر )

بہار میں لیفٹ کا مستقبل کنہیا پر ٹکا ہے !

بہارکے چوتھے مرحلے میں 29اپریل کو پانچ پارلیمانی سیٹوں پر ہونے والے چناو ¿ میں سب سے زےادہ توجہ اس وقت بیگوسرائے پر لگی ہوئی ہے ۔قومی کوی رام دھاری دنکرکی سرزمین بیگوسرائے میں اس بار چناو ¿ نہیں بلکہ دو نظریات کی زبردست ٹکر ہے ۔ایک سامنے پھر سے چناو ¿ لڑنے کی چنوتی ہے تو دوسرے کے سامنے اپنی اچھائی ثابت کرنے کا موقع ہے ۔ہندوستانی کمےونسٹ پارٹی کے امید وار اور اجے این ےو اسٹوڈنٹ لیڈر کنےہا کمار اور بھاجپا کے بربولے نیتا گری راج سنگھ آمنے سامنے ہےں چوتھے مرحلے میں 29اپریل کو 19لاکھ 58ہزار ووٹر جب اپنا ووٹ ڈالیں گے تو ان کے سامنے ایک تیسرا متبادل بھی ہوگا جو آر جے ڈی کے نیتا تنویر حسن کو دوبارہ چناو ¿ میں اتار کر کنےہاکی سیاسی رفتار پر بریک لگانے کی کوشش کی ہے تاکہ لالوپرساد یادو کے جانشیں کا مستقبل محفوظ رہے ۔کنہیا کمار کے آنے سے دےش میں لیفٹ آئےڈےا لوجی کو پھر سے موجودگی درج کرانے کا موقع ملا ہے ۔کمیونسٹ پارٹی کی جڑیں مغربی بنگال کے بعد تری پورہ میں بھی ہل چکی ہے ۔کیرل ایک واحد ریاست ہے جہاں آج بھی لیفٹ آئیڈیالوجی چل رہی ہے ۔بہار کے لینن گراو ¿نڈ کے نام سے مشہور بیگوسرائے نے بھارتی کمیونسٹ پارٹی امید وار کنہیا کمار کے پرچار کرنے کے لئے کئی مشہور ہستیاں لگی ہوئی ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ بھومہاراکثریتی بیگوسرائے میں چاروں طرف برادری کی بات بھی اچھالی جارہی ہے گری راج اور کنہیار دونوں بھومہارہیں ۔تنویر مسلمان لہذا ذات دھرم کی بنیاد پر تجزیہ بنائے بگاڑ ے جارہے ہیں بھاجپا کے روایتی ووٹر اور برادری تجزیہ گری راج کے کام آسکتے ہیں ۔ایسا ہی اتفاق کنہیا کے ساتھ بھی ہے آر جے ڈی کے مضبوط ووٹ مسلم یادو تجزیہ کے سہار ے کھڑے ہیں تنویر حسن تینوں ہی اپنے اپنے ایک طرح سے وجو دکی لڑا ئی لڑرہے ہیں کنہیا کی کامیابی سے بہار میں ایک بار پھر لیفٹ واد کا دوبارہ جنم ہوسکتا ہے ۔گری راج سنگھ جس طریقہ کی سیاست کی علامت مانے جاتے ہیں کنہیا کی شہرت اس کے برعکس ہے ۔جے این یو میں 3سال پہلے کنہیا کی موجودگی میں جو کچھ بھی ہوا اس کی آہٹ بیگوسرائے کی گلی گلی میں سنائی دیتی ہے ۔کنہیا کو کئی جگہ مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے انہیں گھر کا بچہ ماننے والوں کے سامنے ان پر دیش دشمنی کا الزام لگانے والوں کی بھی کمی ہے ۔بھاجپا آجے ڈی کے لوگ اسے جم کر بھنا رہے ہیں ۔کنہیا کو کٹگھڑے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں نہ گری راج کے پیچھے نہ لوگ ہیں او رنہی تنویر کے ۔بات چھڑتے ہی دونوں خیموں میں دیش بھگتی کی بات چھڑجاتی ہے ۔ ظاہر ہے دونوں میں سے کوئی کامیاب ہواتو خمیازہ لیفٹ کو ہی بھگنا پڑے گا بھاجپا حمایتوںکا خیال ہے کہ بیگوسرائے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کشش کا مرکز ہے ۔جبکہ اپوزیشن اتحاد کو امید ہے کہ وہ اپنے سماجی حساب کتاب سے کئی مقامات پر اس کی کاٹ کرسکتے ہیں اگر کنہیا کامیاب ہوجاتے ہیں تو اگلی پارلیمنٹ میں ایک اچھا مقرر پہنچ جائے گا ۔اگر مودی کامیا ب ہوتے ہیں تو انہیں پارلیمنٹ میں کنہیا کا بطور مقرر زبردست سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔سیٹ بدلنے کے گری راج سنگھ چناو ¿ مہم دھیمی شروع ہوئی ہے اور بھاجپا کے اندر بھی انہیں ناکام ہونے کی کوشش سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔

(انل نریندر)

26 اپریل 2019

ہریانہ میں چارلالوں کی ساکھ داو ¿ پر ہے !

ہریانہ کی سیاست میں اہم اشتراک کرچکے تین اہم لالوں کی تیسری اور چوتھی پیڑی اس لوک سبھا چناو ¿ میں چوتھے لال کے ٹیم سے ٹکرائے گی ریاست کے پہلے لال سابق نائب وزیر اعظم سورگیہ دیوی لال کی چوتھی پےڑی دوشینت چوٹالا ،دگوجے چوٹالا اور کرن چوٹالا میدان میں تال ٹھوک رہے ہیں ۔دوسرے لال اور ریاست کے سابق وزیر اعلی رہے بھجن لال کے دونوں بیٹے چندر موہن اور کلدیپ بشنوئی اپنے والد کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھارہے ہیں کلدیپ بشنوئی حسار سے خود چنا و ¿ لڑ نا چاہ رہ تھے لیکن ان کی جگہ ان کے بیٹے بھوے بشنوئی کو کانگریس سے ٹکٹ ملا ہے ۔ہریانہ کے تیسرے لال او رسابق وزیر اعلی چودھری بنسی لال کی تو ان کے چھوٹے بیٹے سورگیہ سریندر سنگھ کی بیٹی کرن چودھری کانگریس ممبر اسمبلی ہونے کے ساتھ ہی اسمبلی میں کانگریس پارٹی کی نیتا بھی ہیں ۔تیسری پیڑھی کی شکل میں کرن کی بیٹی شروتی چودھری اپنے دادا کی وراثت بنائے رکھنے کےلئے بھیوانی سے چناو ¿ لڑ رہی ہیں اب بات کرتے ہیں ہریانہ کے چوتھے لال کی یعنی منوہر لال کٹھر جنہوں نے خود تو اپنی نسل کی بیل نہیں بڑھائی لیکن ریاست کی جنتا کو کنبہ مانا ہواہے ان کی ٹیم کی شکل میں بھاجپا کے 10امید وار ریاست کے الگ الگ لوک سبھا حلقوں میں سیاست کے تین لالو کی تیسری اور چوتھی پیڑھی کوٹکر دینے والے ہیں لالو کی دھرتی کے نام سے مشہور ہریانہ میں اقتدار کی چابی موجودہ وقت میں منوہر لال کھٹر کے ہاتھوں میں ہے حالانکہ 15برس پہلے تک ریاست کے اقتدار پر تینوں لالوں یا ان کی پیڑھیوں کا حق بنا رہا جس پر اس وقت کانگریسی وزیر اعلی پھوبندر سنگھ ہڈا نے اپنا اختیار جمالیا تھا ایک بار سے لوک سبھا چناو ¿ کے درمیان ہریانہ کے تینوں لالو ںکی تیسری اور چوتھی پیڑھی مقابلہ تیار ہے خا ص بات یہ ہے کہ سورگیہ دیوی لا ل کے دونوں پوتوں اجے سنگھ ،ابھے سنگھ کچھ مہینوں کے درمیان خاندانی تلخی کے چلتے الگ الگ ہوگئے تھے ۔دیوی لال کے بڑے بیٹے اجے سنگھ کے بیٹے دوشینت سنگھ چوٹالانے انڈین نیشنل لوک دل سے الگ ہوکر اپنی الگ پارٹی جن نائک پارٹی بنالی اور اب اسی سے حسار سے چناو ¿ لڑرہے ہیں ۔دوسرے پوتے ابھے سنگھ نے اپنے بیٹے کرن کو کروک چھےتر سے امید وار اعلان کیا ہے اجے سنگھ کے چھوٹے بیٹے دگوجے چوٹالاجن نائک پارٹی کی امید وار کی شکل میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلی بھوپند ر سنگھ ہڈ ا کے خلاف سونی پت سے چناو ¿ لڑرہے ہیں ۔کل ملاکر ہریانہ میں لوک سبھا چناو ¿ دلچسپ ہونے والا ہے ہریانہ کی 10سیٹوں پر 2014میں بھاجپا نے 7سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ انڈین نیشنل لوک دل کے ہاتھ 2سیٹیں لگیں تھی اور کانگریس اس چنا و ¿ میں محض ایک سیٹ جیت پائی تھی ۔لالو ںکی اس (پانی پت )کے جنگ میںدیکھیں کس لال کا پلڑا بھاری رہتا ہے ؟

(انل نریندر)

راجستھان میں دو وزرائے اعلی کے بیٹوں کی لڑائی !

راجستھان کی 25سیٹوں کو برقرار رکھنا بھاجپا کے لئے سخت چنوتی ہے 29اپریل کو چوتھے مرحلے میں یہاں کی 13سیٹوں پر ووٹ پڑنا ہے راجستھان میں جودھپور ،جھالا واڑ سیٹیں زےادہ توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ ان دوسیٹوں پر ایک موجودہ وزیر اعلی اور ایک سابق وزیر اعلی کے بیٹوں کی چناو ¿ لڑا ئی ہے ۔وزیر اعلی گہلوت کے بیٹے اور جھالا واڑ سے سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے کے لڑکے دوشینت چوتھی مرتبہ ایم پی بننے کے لئے میدان میں اترے ہیں جبکہ ویبھوگہلوت پہلی بار سیاسی میدان میں اترے ہیں دونوں کو ہی اس مرتبہ سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔جودھپور میں وےبھو کا مقابلہ مرکزی وزیر وجیندر سنگھ شیخاوت سے جبکہ دوشینت کے سامنے پرمود شرما کو بھاجپا نے مید ان میں اتار ہے ۔کانگریس کی سیاست میں 2003سے وےبھو سرگرم ہیں انہوں نے یوتھ کانگریس سے ہوتے ہوئے پارٹی کی جنرل سیکریٹری کی ذمہ داری سنبھالی ہے ۔جودھپور سیٹ سے ان کے پیتا اشوک گہلو ت پانچ مرتبہ ایم پی رہے ہیں وہیں شیخاوت کا کہنا ہے کہ دیش کی جنتا نریندر مودی کو وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے ۔ادھر جھا لا وڑا سیٹ پر چناو ¿ لڑ رہے وسندھر ا راجے کے بیٹے دوشینت کا کہنا ہے کہ دیش نریند رمودی کی رہنمائی میں ترقی کرسکتا ہے ۔ جھالاواڑ سیٹ سے وسندھراراجے پانچ بار ایم پی اور ممبراسمبلی بنتی آرہی ہیں کانگریس کے پرمود شرما جو بھاجپا چھوڑ کر کانگریس میں آئے تھے پردیش کے وزیر معدنیات پرمود جین ماما کا اس پارلیمانی حلقہ میں کافی اثر ہے ۔جین کا کہنا ہے اس مرتبہ تبدیلی کا لہر چلے گی اس سیٹ پر 30سال سے ایک ہی خاندان کا قبضہ چلا آرہا ہے جنتا اس میں تبدیلی لائے ریاست کی اشوک گہلوت سرکار نے 6مہینہ کی اپنی میعاد میں کئی فلاحی اسکیمیں شروع کی ہے جن کی بدولت کانگریس مضبوط ہوگئی ہے ۔دیکھیں ای وی ایم کیا نتیجہ نکالتی ہے ۔

(انل نریندر )

13ریاستوں کی 353سیٹوں کی اہمیت !

بھارتےہ جنتا پارٹی اس لوک سبھا انتخابات میں کتنی سیٹیں جیتنے جارہی ہے ۔اس کے دعوے توآئے دن ہوتے رہتے ہیں لیکن چناوی پیشگوئیاں ہمیشہ خطرناک ہوتی ہیں ۔کسی بھی پارٹی کو کتنی سیٹےں ملیں گی ےہ دو فیکٹروں پر منحصر ہوتا ہے ان میں ووٹ شیئر میں تبدیلی اور اپوزیشن و وٹ کا اکٹھا ہونا شامل ہے ۔دیکھا جائے تو بھارت کی رواداری ایسی ہے کہ کئی عوامل ریاستی سطح پر مختلف ہیں ۔ایک جائزہ کے مطابق 2019لوک سبھا چناو ¿ میں بھاجپا کی جیت میں ایک مرتبہ پھر 13ریاستوں کی 353لوک سبھا سیٹیں کافی اہم ثابت ہوں گی ۔2014میں این ڈی اے نے ان ریاستوں میں 74فیصدی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔اب ان سیٹوں پر بھاجپا کی سیاسی چنوتی کو تین زمروں میں بانٹا جاسکتا ہے ۔پہلا زمرے میں 8ریاستیں شامل ہیں جہاں بھاجپا اور اتحادی پارٹیوں کے ساتھ بغیر ان کے سیدھے مقابلہ میں ہے ۔ان میں ہماچل پردیش ،اتراکھنڈ ،راجستھان ،مدھےہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،گجرات ،مہاراشٹرشامل ہیں ۔2014کے لوک سبھا چناو ¿ میں ان 162سیٹوں میں سے 151سیٹیں این ڈی اے کو ملی تھی ےہاں بھاجپا کا اہم چیلنج 2014ووٹروں کو اپنے ساتھ رکھنا اور کانگریس اور اس کے ساتھیوں کے پاس جانے سے روکنا ہے ۔مہاراشٹر کو چھوڑ کر بھاجپا ریاستوں میں اپنے دم خم پر لڑی تھی جبکہ کانگریس کے پاس مہاراشٹر ،گجرات اور جھارکھنڈ میں اتحاد تھا 2014میں این ڈی اے کو دوفیصد یوپی اے سے کافی زےادہ تھا13ریاستوں کی 353سیٹوں کی اہمیت !دوسرے زمرے میں تین ریاستیں ہیں بہار ،کرناٹک اور یوپی ہے 2014میں این ڈی اے نے یہاں 148سیٹوں میں سے 121پر کامیابی حاصل کی تھی ۔2014لوک سبھا اور 2017کے اسمبلی انتخاب میں سپا ،بسپا کا ووٹ فیصد بھاجپا کو ملے ووٹ فیصد تقریبًا برابر تھا ۔اگر دونوں کے ووٹ فیصد کو جوڑیں تو یوپی میں این ڈی اے 73سے 37سیٹےں ہوجائیں گے ۔بہار میں جے ڈی یو 2014میں 22سیٹوں پر چناو ¿ لڑی تھی اور دو ہی سیٹیں جےت پائی جبکہ این ڈی اے کو 17سیٹیں ملی تھی اس مرتبہ جے ڈی یو بھاجپاکے ساتھ ہے دیکھنا یہ ہے کہ جب 2014میں ملے 16فیصد ووٹ کو این ڈی اے نے لا پاتی ہے یا نہیں کرناٹک میں اگر کانگریس اور جے ڈی ایس 2014میں ایک ساتھ لوک سبھا کا چناو ¿ لڑتی تو بھا جپا کو 2سیٹوںکا نقصان ہوتا بھاجپا نے 2014میں یہاں 17سیٹیں جیتیں تھی ۔تیسرے زمرے میں دوریاستوں کو شامل کےا گےا جہاں بھاجپا کو بڑا فائدہ ملنے کی امید ہے۔یہ ہیں مغربی بنگال او راڈیشہ یہاں بھاجپا 2014میں 63میں سے 3سیٹیں جیت پائی تھی ۔اڈیشہ میں بھی بی جے ڈی اور ترنمول کانگریس مغربی بنگال میں ہے یہاں دیگر اپوزیشن پارٹیوں میں لیفٹ پارٹی اور اڈیشہ میں کانگریس ہے ۔ان کے ووٹ شیئر کا استعمال کرکے بھاجپا کی اہمیت کو یہاں سمجھا جاسکتا ہے اگر 2014میں مغربی بنگال میں بھاجپا اور لیفٹ پارٹی کوووٹوں کی منتقلی ہوتی ہے تو ریاست کی 42سیٹوں میں سے بھاجپا کو 32سیٹوں پر جیت مل سکتی ہے ۔اڈیشہ میں اسی طرح 2014میں کانگریس کو ووٹ مل جاتے ہیں تو وہ ریاست کی 21سیٹوں 
میں سے 13پر جیتی ہے اگر بھاجپا کو کانگریس کا آدھاووٹ شیئر ملتا ہے تو وہ اس سے پانچ سیٹیں زےا دہ جیت جاتی ۔

(انل نریندر )

25 اپریل 2019

ایسٹر پر عیسائےوں کے قتل عام سے لہولہان سری لنکا !

پچھلے اتوار کی صبح سری لنکاکی راجدھانی کولمبو سمیت کئی گرجاگھروں وعالی شان ہوٹلوںمیں دھماکوں میں متعدد افراد کی موت ہوگئی ۔ےہ فدائی حملہ آروںنے انجام دیا تھا ۔ایسٹر جیسے مقدس تہوار پر منظم طریقے سے جگہ جگہ عیسائےوں کو جس طرح نشانہ بناےا گےا وہ اور بھی تکلےف دہ ہے 10پہلے لبرےشن ٹائےگر تنظیم کے خاتمے کے بعد سری لنکا میں اور مضبوط حالات تھے ۔اتوار کو جیسا خوفناک حملہ ہوا اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے حملوں کو جس منظم طریقوں سے انجام دیا گےا ےہ ظاہر کرتاہے کہ حملے منظم ساز ش کا حصہ تھے ۔پانچ ستارہ ہوٹلوں میں جس طریقے سے نشانہ بنایا گےا اس سے صاف ہے آتنکوادی عیسائی فرقہ کے لوگوں کو ہی نشانہ بنارہے تھے ۔اس لئے جب دھماکہ ہوئے تو گرجا گھروں میں وہاں ایسٹرکی خصوصی دعا ہورہی تھی ۔ ےہ حقیقت میں بہت افسوسناک ہے کہ 21صدی کہ اس جدید وقت میں سماج میں دنیا کے الگ الگ حصہ میں ہونے والے کٹر مذہبی کی اپنی خوفناکی کے ساتھ ساتھ ہماری عدم سلامتی کی بھی یاد دلاجاتے ہےں ۔ایسٹر کے دن لوگ مذہبی کام کےلئے اکٹھے ہوئے تھے اور خوشیاں منارہے تھے اور آپس گلے مل جل رہے تھے لےکن آتنکیوں کو ےہ پسند نہیں آےا ان کی شیطانی ذہنیت کا اس بز دلانہ حملہ سے پتہ چلتا ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ےہ حملہ انسانیت پر ٹھیک اسی طرح سے حملہ ہے جیسے حال ہی میں نیوزی لینڈی مسجد پر حملہ ہواتھا ۔دونوں ہی جگہ مذہبی رسوم میں لگے لوگوں کو نشانہ بنایاگیا ۔اب تک کی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے کٹر نتظیم توحید جماعت کا ہاتھ ہے ۔جو بھی ہو تلخ حقیقت تو ےہ جب کسی دیش میں لااینڈ اور آڈر اور حکمرانی الز ام مضبو ط نہ ہو اور سیاسی عدم استحکا م کا اندیشہ ہوتو بد امن پسند فاسسٹ اور دہشت گردانہ طاقتوں کو سراٹھانے کا موقع مل جاتاہے ۔فی الحال توحید جماعت نامی تنظیم پچھلے سال کچھ بودھ مورتیو توڑ نے کے بعد سرخیو ں میں آئی تھی ۔لیکن بد قسمتی ےہ ہے کہ 10دن پہلے گرجا گھروں پر امکانی حملے کی وارننگ کے باوجود اگر انتظامےہ چوکس نہ ہونے کی وجہ سے ان حملوں او رتباہی کو روکا نہیں جا سکا ۔جہاں تک ایسٹر پر اتوار کو دیکھتے ہوئے بھی گرجا گھروں کو باقاعدہ حفاظت فراہم کرنے ضرورت نہیں سمجھی گئی ۔دہشت گردی کے لمبے وقت سے سامنا کررہے بھارت کا سری لنکا کے ساتھ مصیبت کے گھڑی کھڑا ہونا فطری ہے ۔بہر حال پڑوس میں ہوئے اس تشدد سے خود ہمیں بھی چوکس رہنے کی تلقین ملتی ہے ۔بھگوان متاثرین کو اتنی طاقت او رصبر دے کہ وہ اپنی کھوئے ہوئے پرےوارکے لوگوں کے صدمے کو برداشت کرسکیں ۔

(انل نرےندر)

بہار میں لالٹین کی لوبنائے رکھنے کی چنوتی !

بہار کی 40لوک سبھا سیٹوں پر ہورہے چناو ¿ میں آر جے ڈی مرکزی اشو ہے ۔پارٹی کے لئے یہ چناو ¿ اگر ہم کہیں تو اس کے وجود کی لڑا ہے تو شاید غلط نہ ہواس مرتبہ کانگریس کے علاوہ ریاست کی 4علاقائی پارٹیوں کے ساتھ مل کر چناو ¿ لڑ رہی ۔آر جے ڈی نے این ڈی اے کے مقابلہ کےلئے ایک وسیع اتحاد بنایا ہے ۔بڑا معاہدہ کرتے ہوئے اپنے کوٹے کی سیٹ چھوٹی پارٹیوں کودیدی ۔اسے سوشل انجینئر نگ کہا جارہا ہے اس میں کئی برادریوں کو ساتھ لینے کی منشا ہے ۔آج بھی آر جے ڈی کی سب سے بڑی مضبوطی اس ٹھوس ووٹ بینک بناہوا ہے ۔پارٹی نے مسلمان یادو کو اپنے ساتھ قائم رکھا ہو اہے ۔اسلئے رےاست کی کئی سیٹوں پر مسلمان یادو فیصلہ کن صلاحےت رکھتے ہےں ۔راشٹرےہ جنتا دل کے نیتا تیجسوی یادو نے اس بار کے عام چناو ¿ کو مذ ہب کی لڑا ئی بتاےا اور کہا لوگ دھرم کی کشتی پر سوار ہوکر ادھرم کی نیا کو ڈوبودیں تاکہ سماج اور دیش کی حفاظت ہوسکے تیسجوی کا کہنا ہے کہ شری مودی جملے باز ہے انہو ں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اس مرتبہ کا چناو ¿ دیش کی آئین کوبچانے کی لڑا ئی بھی ہے ۔دیش میں ترقی کا کام پوری طرح ٹھپ ہوگیا ہے ۔لالو ےادو سے جیل میں نہ ملنے دینے پر تیجسوی ےادو نے اسے سیاسی قرار دیا ہے ۔وہیں لالو کی بیوی وسابق وزیر اعلی رابڑی دیوی نے الزام لگایا لالو یادو کو جیل میں زہر دیکر مارنے سازش رچی جارہی ہے اور اسکے پیچھے سشیل کمار او رنتےش کمارہیں۔اور ےہ نرےندر مودی کے اشارہ پر ہورہی ہے ۔بہار کے اس لوگ سبھا چناو ¿ میں آر جے ڈی کے چناو ¿ سامان میں بھی چوکید ار کی ٹی شٹ کی دھوم مچی ہوئی ہے ۔وہیں لالو یادو ،تیجسوی یاد و کے ساتھ کانگریس صدر راہل گاندھی کی ٹوپی کی بھی اچھی کاصی مانگ ہے ۔ریاست میں چناو ¿بخار بڑھنے کے ساتھ ساتھ آرجے ڈی گٹھ بندھن چناو ¿ کو اعلی برادری بنام پسماندہ طبقہ اشو بناکر آگے بڑھانے کے مونڈ میں ہے تو بی جے پی کی رہنمائی مےں این ڈی اے قومیت کے اشو سے اس کا مقابلہ کرنے کوشش کررہا ہے ۔ایسے میں اب زےادہ تر سیٹوں پر بی جے پی نے اعلی برادری کے لوگوںکو چناو ¿ میں ٹکٹ دیئے ہیں اس وجہ سے اب ےہ اشو سامنے آنے سے این ڈی اے کو پریشانی میں ڈال سکتا ہے ۔ آر جے ڈی اپنی چناو ¿ مہم میں اعلی برادری کے لوگوں کو 10فیصد ریزر وےشن دےنے کے مودی سرکار قدم کو پسماندہ لوگو ںکا ریز رویشن ختم کرنے کی سمت میں قدم مان رہی ہے ۔پارلیمنٹ میں اس بل کی مخالف کرنے والوں میں آر جی ڈی اکیلی پارٹی تھی حالانکہ اس اشو پر پارٹی کا کانگریس سے اختلاف بھی تھا ۔اتحاد کے پسماندہ کارڈ کا مقابلہ کرنے کےلئے بی جے پی نتےش کو آگے کررہی ہے ۔انہےں لگتا ہے نتےش کے ساتھ رہنے سے انتہائی پسماندہ طبقوں کا اثر نہیں ہوگا وزیر اعظم نے ارریہ میں ایک ریلی میں وضاحت کردی تھی ریزر ویشن سے کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی بی جے پی کو ےقےن ہے کہ مودی سیکٹر سے گٹھ بندھن کی کوشش کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہوگی ۔

(انل نریندر)

24 اپریل 2019

کم ووٹنگ سے کس کو خسارہ ؟سارا زور تیسرے مرحلے کی ووٹنگ پر مرکوز !

لوک سبھا چناو ¿ کے دوسرے مرحلے مےں پچھلے جمعہ کو جاری پولنگ کے اعداد شمار کے مطابق گےار ہ رےاستوں اور پوڈو چےری کی 95سےٹےوں پر69.13فےصد پولنگ ہوئی تھی جبکہ پہلے مرحلے مےں ےہ 69.43پولنگ ہوئی تھی ۔2014کی با ت کرےں تو عام چناو ¿ کے مرحلے مےں 69.62فےصد پولنگ ہوئی تھی کیا پہلے دومرحلوں کی ووٹنگ فےصد گرنے کا ٹرےنٹ اگلے مرحلوں مےں بھی جاری رہے گا ؟پہلے دومرحلوں مےں ہوئی دھیمی پولنگ کے بعد اب سےاسی پارٹےوں کی سب سے بڑی پرےشانی ےہ ہے 11اور 18اپریل کو ختم ہوئے دوسرے مرحلے کی 95سےٹےوںپر 2014کے مقابلے کم پولنگ ہوئی 186لوک سبھا سےٹوں پر تقرےبًا 68.3ووٹنگ درج ہوئی کل 23اپرےل کو ہوئے پولنگ فےصد کا پتہ نہےں لگ پاےا اس مےں 116لوک سبھا سےٹوںپر ووٹ پڑے تھے اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی آدھے سے زےادہ سیٹ پر چناو ¿مکمل ہوگےا ہے ۔اب تک کہ چناوی اعداد شمار کے مطابق شہری سیٹوں پر کم ووٹ پڑے خاص کر بنگلور و اور تامل ناڈو کے باقی شہروں مےں مانا جاتاتھا عام سے زےادہ ووٹنگ ہونے سے اےسا پےغام جاتا ہے کہ ےہ تبدیلی کی بھیڑ اکٹھا ہوئی ہے جبکہ ناراض ووٹ سے پیغام جاتا ہے کہ چناو ¿ کے تئیں ان کا جوش نہےں ہے جسے حکمراں فرےق اپنے لئے امےد کی شکل مےں دیکھتا ہے ۔لیکن یہ بھی اےک خیال دور ہوا ہے اب سب کی نظریں تیسرے مرحلے کی پولنگ پر لگی تھی ۔بھاجپا این ڈی اے کو ان انتخابات مےں اپنا قلعہ بچانا ہوگا ساتھ ہی جہاں کچھ انہےں نقصان نظر آےا تو اس کی بھرپائی پوری کرنی ہوگی ۔چھتےس گڑھ مےں 7لوک سبھا سےٹوں پر کانگرےس کو اپنی جےت کی امےد ہے کےوں کہ ےہاں کانگرےس کو اسمبلی انتخابات مےں کامےابی سے پر جوش دکھائی پڑ تی ہے حالانکہ 2014مےں بھاجپا نے کانگرےس کا صفاےا کردےا تھا ۔اسی تارےخ مےں کرناٹک کی باقی 14سےٹوں پر بھی ووٹ پڑے ۔اس مےں کانگرےس جنتا دل اےس اتحاد کو اسمبلی چناو ¿ کے طرز پر پوری طاقت لگانی ہوگی جبکہ اس مرحلے مےں ہوئی پولنگ سے مودی لہر پر پورا بھروسہ ہے ۔مہاراشٹر اور کرناٹک کی14 ۔14سےٹوں پر پچھلے چناو ¿ مےں اےن ڈی اے کا پلری بھاری رہا تھا ۔اس مرتبہ اےن ڈی اے کی اتحادی بڑھ گئے ہےں جنتا دل ےو بھاجپا کے ساتھ ہے مودی ٹےم کی کوشش ہوگی پچھلی 26مےں سے زےادہ سے زےادہ سےٹےں جےتے ۔ جبکہ اپوزےشن بھی کوئی کسر نہےں چھوڑے گا آخری مرحلے مےں بہار مےں جہاں پولنگ ہوگی ان مےں دربھنگہ ،عثمان پور ،حاجی پور ،مظفر پور وار مالمےکی نگر ،پٹنہ صاحب قابل ذکر شامل ہےں ۔23اپرےل کو وزےر اعظم نرےندرمودی اور بھاجپا صدر امت شاہ کی آبائی رےاست گجرات کی 26سےٹوں پر پولنگ مکمل ہوگئی ہے ۔2014مےں بی جے پی سبھی 26سےٹوں پر کامےاب رہی تھی ۔راجستھان کی 25سےٹوں پر چوتھے اور پانچوےں مرحلے مےں ووٹ پڑے گے اترپردےش کی 80سےٹوں مےں سے 16پر چناو ¿ مکمل ہوچکے ہےں اور باقی 64سےٹوں پر ووٹ ڈالنے ہےں ۔بھاجپا 2014مےں 57سےٹوں پر کامےا ب ہوئی تھی ۔ مغربی ےوپی کی 16سےٹوں کے بعد تےسرے مرحلے مےں اتحاد کو ان 10سےٹوں پر زور آزمائش کا سامنا کرنا پڑا جہاں ملائم خاندان کی ساکھ داو ¿ پر ہے سال 2014مےں سپا کو اپنا وجود بچائے رکھنے کے لحاظ سے ےہ علاقہ مدد گار ثابت ہوا ۔کل ملاکر اےک طرف اور دوسری طرف کانگرےس سپا ،بسپا اتحاد کی ساکھ داو ¿ پر لگی ہے ۔

(انل نرےندر)

پوری پارلیمانی سیٹ پر ترجمانو ںکی ٹکر !

بھگوان جگنناتھ نے بھی کبھی نہےں سوچا ہوگا ان کے ساتھ رہنے والے دونشان ےوں آپس مےں ٹکرائیں گے لےکن اس لوک سبھا چنا و ¿ مےں ایساہورہا ہے ۔بھگوان جگنناتھ کی پوری نگری مےں شنکھ اور پدم کے درمےان لڑائی ہے ۔دراصل بیجو جنتا دل کی علامت شنکھ اور بی جے پی کی علامت کمل (پدم )کے درمےان اس مرتبہ مقابلہ ہے ےہی نہیں تےنوں بڑی پارٹےوں بی جے ڈی اور بی جے پی ،کانگریس اپنے ترجمانوں کو یہاں میدان میں اتاراہے ۔بنےادی طور پر بی جے ڈی کی مضبوط مینڈےٹ والی سےٹ پر پچھلے دوچناو ¿ مےں جےت حاصل کررہے پنا کی مشرا پھر مےدان مےں ہے وہ 2009مےں کانگرےس چھوڑ کر بی جے ڈی مےں آئے تھے دوسری طرف بھاجپا نے اپنے قومی ترجمان سنبت پاترا کو ٹکٹ دےا ہے جو انوکھے طرےقہ سے اپنی موجودگی درج کرارہے ہےں ۔وہےں کانگرےس نے ستےہ پرکاش نائک کو ٹکٹ دےا ہے خاص بات ےہ ہے کہ ترجمانوں کی لڑائی مےں ووٹر طے نہےں کرپارہا ہے کہ کس کو اپنا قےمتی ووٹ دےں ۔؟ستےہ پرکاش نائک کانگرےس پردےش کمےٹی مےڈےا سےل کے چےف ہےں تقرےبًا 14لاکھ ووٹر اس پارلےمانی سےٹ پر عام طور پر 50فےصدی ووٹ بی جے ڈی کو ملتے آئے ہےں ۔پارلےمانی سےٹ کے تحت آنے والی 7اسمبلی سےٹوں مےں سے 5بی جے ڈی کے پاس ہے۔سنبت پاترا کی امےدواری کی ذرےعہ بھاجپانے اس مرتبہ باقی 4اسمبلی سےٹوں پر موجودگی درج کرائی ہے ووٹوں کے درمےان کبھی گےت گاکر کبھی مقامی لوگوں مےں گھل مل کر پاترانے اپنی چناو ¿ مہم مےں تےزی دےنے کی کوشش کی ہے ۔اس کے باوجو د بھاجپا پورا چناو ¿ وزےر اعظم نرےندرمودی مقبولےت کے اردگرد مرکوز رہا ہے ۔بھاجپا کے حق مےں بہتر ماحول کے پےچھے سنبت پاترا کو مودی کے نمائندے کے طور پر دےکھا جارہا ہے ۔وےد کی تعلےم حاصل کررہے آشےش دوبے کا کہنا تھاکہ پی اےم کودی اس کو اس مرتبہ موقعہ ضرور ملنا چاہئے ۔وہےں دوبار اےم پی رہ چکے پناکی مشرا کے تئےں رائے دھندگان مےں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔پوری کے عوام کہتے ہےں پناکی ہمارے نمائندے ہےں لےکن وہ ےہاں صر ف چناو ¿ کے وقت آتے ہےں عوام مےں نارضگی کی سب سے بڑی وجہ پناکی کا عوام کےلئے موجود نہ ہونا ہے مےندر وں کے اس شہر مےں جاری چناوی لڑا ئی مےں نرےندر مودی کی مقبولےت کا لٹمس ٹسٹ بھی ہوگا ۔2014کی مودی لہر مےں اڈےشہ مےں بھاجپا محض اےک سےٹ ہی جےت پائی تھی 21سےٹوں کی اس رےاست مےں باقی سےٹےں بی جے ڈی نے جےتی تھی ۔دھوتی کرتا پہنے ماتھے پر چندن لگا ئے پاترا مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہےں ۔بالاکو ٹ ائےر اسٹرائک کے بعد ےہاں وزےر اعظم کی مقبولےت بڑھی ہے بھاجپا ےہاں بڑھتے جرائم اور ٹورزم کو نظر انداز اور ماہی گےروہ کے مالی بحران کے اشو ےہاں قابل ذکر ہےں ۔ےہاں پارٹےوں کے ترجمانوں کی لڑائی تو ہے لےکن اونچے سطح پر مودی اور وزےر اعلی وبےجو جنتا دل چےف نوےن پٹنائک کا بھی اےک امتحان ہے پوری مےں تجربہ کار اےم پی پناکی مشرا سےاست کے پورانے کھلاڑی ہےں اور اتنی آسانی سے ہار مانے والے نہےں ہےں ۔وزےر اعظم مودی کی ساکھ اور کارناموں کے باوجود پہلی مرتبہ پوری سے چناو ¿ لڑ رہے ڈاکٹر سنبت پاترا کھارے پانی کمل کھلانے کی پوری کوشش کرےں گے ۔

(انل نرےندر)

23 اپریل 2019

سہ رخی مقابلے میں پھنسے شرد یادو !

بہار میں ہورہے تیسرے مرحلے کے چناوٌ میں آج دلچسپ مقابلہ مدھے پورا لوک سبھا سیٹ کے لئے ہونے جارہاہے ۔رام پوپ کا مدھےہ پورا گوپ کا نریندر کے بیچ کا ہے سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ سہ رخی اس چناوٌ لڑا ئی میں پھنسا مدھےہ پورا کا چناوی مقابلہ بھی تین یادو کے درمیان ہے حالانکہ اس چناوٌ میں جے ڈیو کے دنیش چند ریادو کا مقابلہ آرجے ڈی کے شرد یادو سے ہے یہاں کا یہ مقابلہ کا تیسرا کون جن ادھیکار پارٹی کے امید وار راجیش رنجن عرف پپویادو بنارہے ہیں لیکن درپردہ طور سے مدھےہ پورا کے لوک سبھا مہا سنگرام میں موجود آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو وجنتا دل یو کے قومی صدر نتیش کمار کی ساکھ بھی داوٌں پر لگ گئی ہے ۔آر جے ڈی امید وار شرد یادو جنتا دل یوسے ناراض ہوکر کئی سیاسی نیتا وٌں کو لےکر الگ پارٹی بنائی لیکن بعد میں لالو پرساد کو آر جے ڈی کی ممبر شپ دلاکر مدھےہ پورا کی جنگ میں شامل کرواکر نتیش کمار کے سامنے ایک چنوتی پیش کردی مدھےہ پورا کا چناوٌ شرد یادوں کےلئے بھی اس لئے اہم ہے کہ اس بار وہ چناوٌ جیت جاتے ہیں تو مدھےہ پورا سے پانچویں بار ایم پی بننے کا اعزاز حاصل ہوگا ۔پہلی بار شردیادو 1991میں جنتا دل سے چناوٌ لڑے تھے انکا مقابلہ اس وقت جنتاپارٹی کے نیتاآنند موہن سے ہوا تھا اور انہیں ہرایا تھا ۔تب جنتا دل امیدوار شرد یادوکو 437483ووٹ ملے تھے جبکہ آنند موہن کو ایک لاکھ باون ہزار ایک سو ایک ووٹ ملے تھے ۔مدھےہ پورا لوک سبھا سیٹ پر آج ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔یادو اگر اس چناوٌ میں یادو برادی کے لئے جیت کی کونجی ثابت ہوسکتے ہیں ۔یہاں تو اب افواہ گرم ہے کہ کون امیدوار غیر یادو ووٹروں کوزیادہ سے زیادہ اپنے حق میں کرسکتا ہے ؟آر جے ڈی کانگریس کے درمیان تکرار کی سب سے بڑی وجہ پپو یادو تھا وہ اتحاد کا حصہ بن کر مدھےہ پورا سے سیٹ چاہتے تھے لیکن آر جے ڈی نے انہیں ٹکٹ نہ دیکر شرد یادو کو کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا اب پپو یادو بطور آزاد امیدوار شرد یادو کی نیند حرام کرنے اترے ہیں اگر شرد یادو چناوٌ جیت جاتی ہیں تو یہ بات اہم نہیں بلکہ اصلی لڑا ئی لالو پرساد یادو ،تیجسوی یادو ونتیش کمار کے درمیا ن ہے ۔نتیش کمار کے کار نامے ونریندر مودی کی ساکھ یہ شرد یادو کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ہے۔
(انل نریندر)

گجرات میں کانگریس بنام بھاجپا لڑائی اہم کیوں !؟

گجرات میں آج یعنی 23اپریل کو ریاست کی سبھی 25سیٹوں کے لئے پولنگ ہونی ہے یہ وزیر اعظم اور بھاجپا صدر امت شاہ ونریندر مودی کی آبائی ریاست ہے بھاجپا یہاں قریب 20سال سے برسراقتدار ہے حالانکہ 2017کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور نوجوان لیڈروں کی تکونی (ہاردک پٹیل ،جنیش ،میوانی اور الپیش ٹھاکر)سے ملی سخت ٹکر کے بعد گجرات لوک سبھا چناوٌ بھاجپا کےلئے بے حد اہم بن گیا ہے ۔2017اسمبلی انتخابات میں بھاجپا کو 22سالہ اقتدار کو چنوتی دینے والی کانگریس بھلے ہی سرکار نہ بناپائی ہو لیکن اس نے بھاجپا کو 100سیٹوں کا نمبر تک پہنچنے سے روکا بلکہ اپنی سیٹوں میں اضافہ کر 78 سیٹیں جیتی اگر ہم لوک سبھا چناوٌ کی بات کریں تو 1991کے بعد سے بھاجپا کے کھاتے میں زیادہ سیٹیں آئی ہیں ۔بھاجپا نے 1991میں 20،1996میں 16،1998میں 19اور 1999میں 20،2004میں 14،2009میں 15اور 2014میں لوک سبھا کی سبھی 26سیٹیں جیتی تھی ۔2014لوک سبھا چناوٌ کے بعد نریند رمودی نے دہلی رخ کرلیا ۔2017میں بھاجپا کے لئے صورتحال کافی پیچدہ ہوگئی تھی لیکن امت شاہ نے چھاتی ٹھوک کر کہا تھا کہ وہ 150سے 182سیٹیں لائیں گے ۔پہلی بار پارٹی 100سیٹوں سے نیچی آگئی ہے ۔آج کے پس منظر میں کانگریس کی سب سے بڑی کمزوری شہری علاقوں میں ہے بے شک یہ بھا جپا کا گڑھ رہے ہوں لیکن دیہی علاقوںمیں بھاجپا کمزور رہی ہے لیکن بھاجپا اپنا بیس نہیں بناپائی ۔یہا ں کے لوگ ریاستی سرکا رکے کام کاج سے مطمئن نہیں ہیں کہیں پانی کا مسئلہ کہیں روزگار اور کسان کے اشو ہیں ۔کہیں امتیاز برتنا بتایاجاتاہے تو کہیں نیتا وٌں کا غرور روپانی سرکار کو لیکر جتنی ناراضگی ہے لیکن لوگ نریندر مودی کے تئیں نرم رویہ رکھتے ہیں راہل گاندھی میں تبدیلی کی آس لگا ہوئے ہیں ۔پرینکا کی سیاست میں آنے سے گجرات میں کافی فرق پڑ سکتا ہی ۔بھاجپا کے حق ایئر اسٹرائک ہے تو کانگریس کے حق میں انصاف اور کسانوں کی قرض معافی ۔نیرومودی ،مہول چوکسی ،وجے مالیہ کو بھگانے کے اشو کو کانگریس مدعی بنارہی ہے جبکہ بھاجپا حمایتی کہتے ہیں کہ بھگا تا وہی جسے ڈر ہوتا ہے او رانکو مودی کا ڈر تھا اس لئے وہ بھا گ گئے ۔صاف اشارہ ہے مودی آج بھی گجرات میں مقبول ہیں ۔سوراشٹر میں پانچ سیٹیں جنا گڑھ ،جام نگر ،پور بندر ،امریلی ،سریندر نگر اور نارتھ گجرات میں 4سیٹیں ہیں اور قبائلی علاقوں میں پانچ سیٹیں بھاجپا کے لئے چیلنج بھری ہیں ۔کانگریس پوری طرح گجرات کی 26سیٹوںپر توجہ نہیں د ے رہی ہے بلکہ وہ 13سیٹوں پر توجہ لگائے ہوئے ہے اور کم سے کم آٹھ یا 10سیٹیں جیتنے کی آس لگائے ہوئے ۔گجرات میں پانی کی قلت اور کسانوں کو پانی مہیا نہ ہوپانا بڑ ا اشو ہے ۔گجرات میں تین نوجوان لیڈر بڑا رول نبھاتے نظر آرہے ہیں ۔پارٹی دار آندولن کمیٹی کے نیتا ہارد ک پٹیل ،اونا کانڈ سے ابھر ے نیتا جگنیش میوانی ،او راوبی سی نیتا الپیش ٹھاکر نے بھاجپا کو کافی پریشان کیا ہوا تھا ۔ان نیتاوٌں نے بےروز گاری او ربھاجپا کی فرقہ پرستی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی ۔بھاجپا کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا لیکن کانگریس کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔بھاجپا اگر ایک سیٹ بھی ہار تی ہے تو اسی کو انقصان ہوگا ۔
(انل نریندر)

24سال کی تلخی بھلاکر ایک اسٹیج پر آئے مایاوتی ،ملائم

24پرانی دشمنی بھول کر بسپا چیف مایاوتی اور سپا کے سرپرست ملائم سنگھ یادو نے مین پوری میں ایک چناوی ریلی میں اسٹےج شیئر کیا اور مایاوتی نے باقاعدہ ملائم کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے انہیں بچھڑوں کا اصلی نیتا قرار دیا ۔1995میں ہوئے گیسٹ ہاوٌں کانڈ کے بعد سپا سے رشتہ توڑ چکی مایاوتی جب ریلی کے لئے مین پوری کے کرسچن کالج میدان میں پہنچی تو ان کا زور دارخیر مقدم کیا گیا ۔یہاں سے ملائم سنگھ یادو کو سپا ،بسپا ورکروں سے انہیں جیتا نے کی اپیل کی گئی ۔مایاوتی نے کہا میں ملائم کی حمایت میں ووٹ مانگنے آئی ہوں اور مفادہ عامہ میں کبھی کبھی کچھ مشکل فیصلے لینے پڑتے ہیں اور موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے سپا ،بسپا اتحاد کا فیصلہ لیا گیا ۔آپ مجھ سے جاننا چاہیں گے 2جون 1995کے گیسٹ ہاوٌ س کانڈ کے بعد بھی سپا ،بسپا اتحاد کیوں چناوٌ لڑ رہا ہے ۔یوپی میں دومرحلے کے چناوٌ کے بعد حکمراں بھاجپا کے حمایتوں کو لگ رہا ہے کہ زمین پر پولارائزیشن جاری ہے کسی کا دعوی ہے کہ مودی کا نام چل گیا تو اس کے بر عکس اپوزیشن زمین ہری بھری دیکھ رہے لوگوں کا دعوی ہے کہ پولا رائزیشن کا تجزیہ کے بدلے انکا دبدبہ حاوی ہے ۔پاکستان سے لےکر پرگیہ ٹھاکر تک پولارائزیشن کارڈ کے پتے بھاجپا کے پاس ہے ان کا اثر مسترد نہیں کیا جاسکتا ،لیکن دلت ،پسماندہ طبقے اقلیتوں کا تجزیہ کا گٹھ بندھن کا دعوی بھی کمزور نہیں ہے دونوں طرف سے پورا زور لگایا جارہا ہے محض ووٹر ہی سیاسی پارٹیوں او ر انکے حمایتیوں کے دعوے کی پڑتال کر سکتے ہیں بھاجپا نے قریب ڈھائی دہائی بعد ملائم ،مایاوتی کی مشترکہ ریلی پرطنزکرتے ہوئے کہا کہ ریلی سے صاف ہوگیا ہے کہ اترپردیش میںوزیر اعظم نریندر مودی کی آندھی چل رہی ہے ۔
24سال کی تلخی بھلاکر ایک اسٹیج پر آئے مایاوتی ،ملائم  اور انکا جنتا سے اتحاد بہت زیادمضبوط ہے بھاجپا نیتا شاہنواز حسین نے کہا کہ مودی کی آندھی سے بد حواس لوگ کھوکھلے پیڑ پر لپٹ رہے ہیں نہ سپا میں دم بچا ہی اور نہ ہی بسپا میں ۔دونوں کے عہد میں کرپشن ہوا ہے ،دونوں ہی کنبہ پرستی اور بھائی بھتیجا وادی ہی مین پوری کی یہ ریلی سپا ،بسپا کے ساتھ اسٹیج پر ہونے کہ سبب ہی کوئی اہم نہیں تھی بلکہ صوبے میں اتحاد کو منظور ی دلانے کے لحاظ سے بھی اس ریلی کی اہمیت ہے ایسا ہمارا ماننا ہے ۔سپا ،بسپا وسیع ذات برادری کی بنیا دنہیں ہے اترپردیش میں انکا بڑا نیٹ ورک بھی حریفوں کے لئے چنوتی ہے یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اس بار نشانے پر ہیں نریندرمودی ،۔سپا ،بسپا اتحاد تو یہ ثابت کرچکا ہے کہ انکا اتحاد مضبوط ہے اس اتحاد نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی گورکھپور سیٹ او رپھولپور میں لوک سبھا کا ضمنی چناوٌ جیت کر دکھا دیا ہے سپا بسپا کے ورکروں نے واقعی ہی دل مل جاتے ہیں تو بھاجپا کو یوپی میں بھاری نقصان ہوسکتا ہے ۔تیسرے مرحلے میں سپا کی ساکھ داوٌ پر ہے اس مرحلے میں ملائم خاندان کی گڑھ مین پوری ،فیر وز آباد اور بدایوں سےٹوں پر پولنگ ہونی ہی یہ تو ای وی ایم کھولنے سے پتہ چلے گا کہ کسکا پلڑا بھاری رہا ۔
(انیل نریندر )

21 اپریل 2019

پاکستان میں ایک لیٹر دودھ 120سے 180روپے !

پلوامہ حملے کے بعد سے بدلے حالات میں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ مہنگائی شرح چار گنا آخر کیوں بڑھ گئی۔ آتنکی حملہ 14فروری کو ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں خود بھارت نے سرجیکل اسٹرائک کیا تھا کیا اس کا پاکستان میں مہنگائی سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟ ہم یہ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ پلوامہ آتنکی حملہ سے پہلے مہنگائی شرح 2.2 فیصد تھی۔ جبکہ 60 دن بعد بڑھ کر اب یہ 9.4 ہوگئی ہے۔ مہنگائی کے سبب وہاں کی عوام پریشان ہے، وہاں کے کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی اخبار دی ڈان کے مطابق انتظامیہ نے دودھ کے دام 94 روپے کلو طے کئے ہیں لیکن زیادہ تر دودھ کاروباری 120 سے 180 روپے فی لیٹر بیچ رہے ہیں۔ یہاں پہلے دودھ 70روپے لیٹر بک رہا تھا۔ ڈیری ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت سے دام بڑھانے کی درخواست کی تھی جب اس نے نہیں مانی تب دودھ ڈیلروں نے خود ہی دودھ کے دام بڑھا دیئے۔ اس کے بعد انتظامیہ چھاپے مار رہا ہے اور اب تک گیار لاکھ روپے جرمانے کے طور پر وصول کرچکا ہے، اس کے علا وہ ٹماٹر جیسی سبزیاں 150روپے کلو بک رہی ہیں۔ ہندوستان میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان سے انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ چھین لیا تھا اور پاکستانی اجناس پر 200 فیصد ڈیوٹی لگادی تھی۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان جولائی 2018 سے جنوری 2019 تک سات ہزار آٹھ سو کروڑ روپے کی باہمی تجارت ہوئی تھی۔ جبکہ ہندوستان نے پاکستان سے17 سوکروڑ کا کاروبارکیا پاکستان نے بھارت سے 61.00 کروڑ روپے کا سامان منگایاتھا۔ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کو سافٹا سے بھی ہٹانے کی تیاری کرلی تھی۔ کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ ہی پاکستان میں دوائیاں بھی مہنگی ہوگئی ہیں اس کے بعد ڈرگ اتھارٹی نے کراچی، لاہور، پشا ور میں 28 دوا کمپنیوں پر چھاپہ ماری کی اور مقدمات درج کئے۔ پاکستان میں دوا صنعت کا کاروبار نوے لاکھ کروڑ روپے کا ہے حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان نہایت خطرناک دور سے گذ ر رہا ہے۔ دیش خستہ حالی کے دہانے پر ہے اور بھاری مدد پر منحصر ہے۔ سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی مالی مدد بھی کی ہے لیکن جب تک پاکستانی معیشت اپنے پاوں پر کھڑی نہیں ہوتی یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے اس کے چلتے پاکستانی عوام مہنگائی کے بوجھ سے دبتی چلی جارہی ہے ۔
(انل نرےندر)

جیٹ ایئر ویز کے بند ہونے سے ہزاروں سپنے ٹوٹے !

آخر کار وہی ہوا جس کا اندیشہ پچھلے کئی مہینوں سے تھا ۔جیٹ ائیر ویز نے بدھوار کو اپنی آخری اڑان امرتسرسے رات ساڑھے دس بجے ممبئی کے لئے بھری۔ حالانکہ اس کا کہنا ہے کہ پروازیں عارضی طور پر بند کی جارہی ہیں۔ اب پروازیں کب شروع ہونگی یہ اس کی نیلا می پر منحصر ہے۔ نیلامی میں شامل ہونےوالی کمپنیوں کے پاس 10مئی تک کا وقت ہے موجودہ سرکار یعنی مودی حکومت کے پانچ سالہ عہد میں بند ہونے والی جیٹ ایئر ویز ساتویں ایئر لائن ہے اس سے پہلے ائیر ویگوسس، ائےر کاسٹا ،ایمن کار نیوال، ائیردکن۔ ائیر اوڈیشہ۔ اور زوم ائیر بھی بند ہوگئی۔ ایک وقت دیش کی سب سے بڑی جہاز کمپنی رہی جیٹ کے بند ہونے کی وجہ جو بھی رہی ہو پر اس کا خمیازہ 20 ہزار ملازمین کو بھگتنا پڑیگا اور وہ آج سڑ ک پر آگئے ہیں۔ ہوم لون کی ای ایم آئی، بچوں کے اسکول کی فیس یہیں تک نہیں زندگی کے سارے خواب ایک پل میں ان کے ٹوٹ گئے ہوں۔ قریب دودہائی سے جیٹ کے ملازمین کی زندگی اچھی طرح گذررہی تھی، اچانک وہ ایسی مشکل سے دوچار ہے جس کے ختم ہونے کے آثار نظر نہےں آرہے ہےں کل ملاکر جےٹ کا مستقبل مےں ےقےن رکھنے والے لوگ کم ہے حالانکہ اس کے 20ہزار ملازمےن کو امےد ہے کہ ےہ ائےر لائن بہتر دن دےکھے گی چناوی سےزن مےں 20ہزار ملازمتوں کا خطروں مےں پڑنا اےک حد تک سےاسی طورپر حساس ترےن مسئلہ ہوسکتا ہے لےکن دےکھنے کی بات ےہ بھی ہے کہ صرف نوکرےاں بچانے کےلئے سرکاری بےنکوں کو اس بات کے کئے مجبور نہےں کےا جاسکتا ۔
کہ وہ جےٹ ائےر وےز مےں اپنی رقم لگائے ۔سرکاری بےنکوں ےا پراوےٹ سرماےہ داروں کو اپنے جائزے کے حساب سے ےہ طے کرنے کاحق ہے کہ انہےں اس کاروبار مےں سرماےہ لگا ناہے ےا نہےں ۔جےٹ اےئر وےز کی اس بدحالی کے لئے بہت حد تک اس کے چلانے والے نرےش گوئل ذمہ دار ہےں ۔گوئل برسوں سے اس زد پر اڑے رہے کہ وہ اپنی کمپنی کے انتظام کا حق نہےں چھوڑےں گے ۔اس بار اےسی تجاوےز آئی جن مےں سرماےہ دار نرےش گوئل کی جگہ اپنے من موافق منتظمہ ٹےم لگانا چاہتے تھے ۔لےکن گوئل کے ز د کے آگے ساری تجاوےز ضائع ہوگئی ۔حےرانی کی بات ےہ ہے 2012مےں اےسے ہی حالات مےںوجے مالےہ کی کنگ فشر ائےر لائن بند ہوگئی تھی ۔ا سکے باوجود کوئی سبق نہےں لےا گےا جہاں تک اس کے بند ہونے سے ہزارو ملازمےن سڑک پر آگئے ہےں ،وہےں جےٹ کی پروازےں بند ہونے سے ہوائی جہاز سروس سکٹر مےں مانگ اور سپلائی کا توازن بگڑ گےا ہے ۔جس کا اثر اس ہوائی سفر پر دکھائی دےنے لگا ہے حکومت کو دےکھنا چاہئے کہ چناو ¿ ضابطہ نافذکے درمےان وہ اس بحران کو دور کرانے مےں کےسے مداخلت کرسکتی ہے ۔اےئر لائنس مےں پھر سے جان ڈال سکتی ہے ؟ےہ اشو صرف اےک کمپنی اور اس کے ملازمےن کے مفاد ات سے نہےں جڑا ہے بلکہ اس کا تعلق پورے جہاز سےکٹر کے سرماےہ داروںکے بھروسے پر بھی ہے ۔اب سب معاملہ نےلامی پر منحصر ہے ۔اسٹےٹ بےنک آف انڈےا کے افسر نے بتاےا کہ جےٹ ائےر وےز مےں نئی جان ڈالنا اس پر منحصر کرےگا کہ خرےد ار کتنا پےسہ لگا رہے ہےں ؟اتحاد جےسی تجربہ کار اےئر لائنس اس کے لئے فائدہ مند ہوسکتی ہے ۔
(انل نرےندر)