Translater

11 اگست 2022

ایودھیا میں ناجائز زمین کی خرید و فروخت !

یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے کہ ایودھیا میں رام مندر بننے سے اس سے کروڑ وں اربوں لوگوں کی عقیدت جڑی ہوئی ہے یہ کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ شری رام مندر کی نگری ایودھیا میں زمین کا گھوٹالہ ہو لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے ایودھیا ڈولپمنٹ اتھارٹی نے اپنے دائرے اختیار علاقے میں ناجائز طور سے پلاٹ بیچنے اور ان پر تعمیراتی کام کرانے والے 40لوگوں کی فہرست جاری کی ہے ۔جس میں ایودھیا کے میئر رشی کیش اپادھیائے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر اسمبلی وید پرتا پ گپتا کا نام بھی شامل ہے اتھارٹی کے وائس چیئر مین وشال سنگھ نے شنیوار کو بتایا کہ ناجائز طور زمین کی خرید و فروخت اور اس پر تعمیر کرانے والے 40لوگوں کی ایک فہرست جاری کی گئی ہے اور ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔وہیں گپتا اور اپادھیا ئے نے الزام لگا یا کہ یہ ایک سازش ہے اور انہیں غلط طریقے سے اس میں انہیں پھنسایا جا رہا ہے ۔ فہرست میںملکی پور علاقے سے سابق بھاجپا ممبر اسمبلی گھورکھناتھ بابا کا نام بھی شامل ہے غور طلب ہے کہ اس سال کے شروع میں ہوئے اسمبلی چناو¿ سے پہلے ایودھیا میں غلط طریقے سے زمین کی خرید و فروخت کا معاملہ سرخیوں میں آیا تھا ۔علاقائی ایم پی للو سنگھ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر اس معاملے کی منصفانہ جانچ ایس آئی ٹی سے تفتیش کرانے کی مانگ کی تھی ریاست کی بڑی اپوزیشن پارٹی سپا سے بھاجپا کو آڑے ہاتھو ں لیتے ہوئے اس معاملے کی جانچ کرکے قصور واروں کے خلا ف سخت کاروائی کی مانگ کی ہے ۔ پارٹی نے اپنے سرکار ی ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایودھیا میں بھاجپایوں کا پاتھ اور بھاجپا کے میئر ،شہری ممبر اسمبلی اور سابق ممبر زمین مافیا کے ساتھ مل کر بسا رہے ناجائز کالونیاں ۔ذمہ دار محکموں کی ملی بھگت پر اب تک تیس ناجائز کالونیاں بسا کر سرکار کے اربو ں روپے کی محصول کو چنا لگا یا گیا ہے ۔معاملے کی جانچ ہو اور قصوار واروں کی خلا ف کاروائی کی جانی چاہئے ۔ (انل نریندر)

روز روز شوہر سے مار کھانے کی ہمت نہیں رہی!

امریکہ میں نیو یارک کے کوئینس میں گھریلوتشدد سے تنگ آکر 32سالہ خاتون مندیپ کور نے خود کشی کر لی وہ ہندوستان کی ریاست اتر پر دیش کے ضلع بجنور کی رہنے والی تھی ۔ اپنی خودکشی سے پہلے انہوں نے ویڈیو ریکارڈ کر اپنا درد بیان کیا تھا ۔ پنجابی میں بولتے ہوئے مندیپ کور نے اس ویڈیو میں شوہر اور سسرالیوں پر خودکشی کیلئے مجبور کرنے کا الزام لگا یا ہے اس میں مندیپ نے روتے ہوئے کہا کہ پا پا میں روز روز کی مار کھاکر تھک چکی ہوں اب مجھ میں اور مار کھانے کی ہمت نہیں بچی ہے۔ میں مرنے والی ہوں ،برائے مہر بانی مجھے معاف کردینا ۔ اس ویڈویو کو 2 اگست کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے کچھ گھنٹے بعد ہی مندیپ نے چھت کے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کر لی ۔ مندیپ نے یہ بھی بتایاکہ میری چار اور دو سال کی دو بیٹیاں ہیں رنبودھ بیر سنگھ کو بیٹا چاہئے تھا ۔ مجھے کم جہیز کی بات کہہ کر پیٹا جاتا تھا میں اتنے دن سب کچھ جھیلتی رہی کہ مجھے امید تھی کہ شوہر سدھر جائے گا ۔اب آٹھ سال گزر چکے ہیں میں اپنے کو سجھانے کی کوشش کی اب میں روز روز مار نہیںکھا سکتی اس لئے خودکشی کرنے پر مجبور ہوں ۔ مندیپ کور کی خودکشی نے این آر آئی شادی میں عورتوں کو اذیت سے بچانے کیلئے سخت قانون کی ضرورت کا معاملہ پھر سے بحث میں آگیا ہے ۔ اس بارے میں بل بنا یا گیا ہے جسے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا اور اس کمیٹی نے اپنے رپورٹ بھی دے دی اب پاریمنٹ میں بل کے پیش ہونے اور پاس ہونے کا انتظار ہے ۔ یہ ایک ایسا اشو ہے جسے لیکر این آر آئی کئی برسوں سے نکتہ چینی کر رہی ہیں ۔ سرکار نے بھی کئی موقعوں پر ان کی مانگ کی نہ صرف ماننے کا بھروسہ دلایا بلکہ قانون بنانے کی پہل بھی کی لیکن اب تک تمام کو ششیں ناکام رہیں ۔این آر آئی عورتوں کو اذیت سے راحت دلانے کیلئے رجسٹریشن آف میریج آف نان ریزیڈنٹ انڈین بل ابھی پارلیمنٹ میں لٹکا ہوا ہے سبھی ریاستوں کے رجسٹرار آفس سے کہا گیا ہے کہ وہ سبھی شادی کے رجسٹریشن کو وزارت کی ویب سائٹ پر لوڈ کریں بل کے پاس ہونے کی بعد این آر آئی میں اذیت یا دھوکے کی شکار مہیلا کیلئے سنگل ونڈو سسٹم کا کام کرئے گا ۔مجوزہ بل میں کہا گیا تھا کہ سبھی این آر آئی کو شادی کے تیس دنوں کے اندر اس کا رجسٹریشن کر وانا ضروری ہوگا ۔ اگر وہ بیرون ملک رہنے والی کسی این آر آئی خاتون سے شادی کرنا ہے تو وہاں بھی شادی کے تیس دنوں کے اندر وہاں کے افسر کے سامنے رجسٹرڈ کرائے بغیر بیرون ملک کو جاتا ہے تو وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر اسے نوٹس دیا جائے گااور مانا جائے گا کہ اسے نوٹس مل گیا ہے ۔اور اس بنیاد پر قانونی کاروائی شروع ہو سکتی ہے این آر آئی شادی میں عورتوں کو اذیت دینے کا معاملہ اتنا بڑا ہے کہ یہ اسی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ 2017سے 2020کے درمیان وزارت خارجہ کو این آر آئی خواتین کی طرف سے گھریلو اذیت کی 3995شکایتیں درج ہوئی تھیں ۔ ہر ایک آٹھ گھنٹے میں بیرون ملک رہنے والی ایک ہندوستانی بیوی مدد کیلئے اپنے گھر فون کرتی ہے ۔الگ سے ان شکایتوں کیلئے ہیلپ لائن بنا نے کی ضرورت ہے۔ (انل نریندر)

09 اگست 2022

دہلی میں شراب بکری کا سوال !

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینا نے پیر کو پرائیویٹ شراب کی دکانوں کے ساتھ ساتھ ہوٹل اور بار کے شراب لائسنس کو ایک مہینے کیلئے دہلی سرکا ر کی سفارش کو منظوری دے دی اسی کے ساتھ شہر میں شراب کی دکانوں پر شراب کی سپلائی شروع ہو گئی ۔ حکام کا کہنا ہے کہ شراب پالیسی 2021-22کو ایک مہینے کیلئے بڑھانے کی تجویز اتوار کو بھیجی گئی تھی جس کو منظوری دے دی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 31جولائی کو ختم ہوئے موجودہ شراب لائسنس کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کے لوگوں میں بھروسہ بنا ئے رکھنے کیلئے یہ منظوری دی گئی ۔ ایل جی نے محسوس کیا ہے کہ اسٹاک کلیئرنس کیلئے موجودہ خوردہ اور تھوک لائسنس کی میعاد بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔کیو ں کہ اس سے ٹھیکے بند ہونے سے بچانے کیلئے دہلی کیبنٹ کے فیصلے سے متفق ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں تھا ۔کیوں کہ شراب کی قلت کے سبب شوقینوں کی طرف سے ہلڑ بازی سے شہر میں قانون و نظم بگڑ سکتا تھا اس لئے نئی شراب پالیسی کے واپس لینے کے حکم کے بعد جہاں شراب پینے والوں کو پریشانی بڑھے گی اور ساتھ ہی نئی شراب پالیسی ختم ہوئی تو کئی شراب لیڈر عدالت کا رخ کر سکتے ہیں نئی شراب پالیسی کے تحت وینڈرس نے کروڑوں روپے دکان لینے ،سجانے اور شرا ب اسٹاک کرنے میں خرچ کئے ہیں ۔دہلی محکمہ شراب کو محض ایک دن کا وقت دیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ شراب کے اسٹاک دکانداروں اور پرانی جگہ جہاں شراب کی بکر ی کی جاتی تھی کے ساتھ ساتھ محکمہ کے کتنے کرمچاری تعینا ت تھے اس کی تفصیل مانگی گئی تھی ۔پرانی شراب پالیسی کے تحت دہلی سرکا رکے چار ادارے مل کر شراب فروخت کرتے تھے ساتھ ہی کچھ پرائیویٹ دکانو ں کو بھی شراب فروخت کے لائسنس دئے گئے تھے ۔ پچھلے دنوں ہی دہلی سرکار کی نئی شراب پالیسی پر راج نیواس نے کئی سوال کھڑے کئے تھے اور مبینہ طور پر دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ پر کرپشن کے الزام بھی لگے تھے ۔ اچانک سے حکم آنے سے دہلی سرکار کٹگھرے میں کھڑی ہو رہی ہے ۔ (انل نریندر)

کانگریس مودی سرکار سے آر پار کے موڈ میں !

کانگریس نے مہنگائی، ضروری چیزوں پرجی ایس ٹی اضافہ و سیاسی حریفوں کے خلاف جانچ ایجنسیوں کے استعمال کو لیکر کانگریس اب سرکار سے ٹکراو¿ کے موڈ میں نظر آ رہی ہے ۔ لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی اب مودی سرکا ر سے آر پار کے مو ڈ میں ہے۔ان مسئلوں کو لیکر جہاں ملک گیر مظاہرے ہو رہے ہیں وہیں پارٹی اپنے جارحانہ تیور کے ذریعے کہیں نہ کہیں یہ جتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کانگریس مکت بھارت جس نظریہ کو زمین پر اتارنے کیلئے بی جے پی پورا زور لگا رہی ہے ۔ اسی کانگریس کے جارحانہ تیوروں کو روکنے کیلئے اسے اپنے پورے عملے کو لگا نا پڑ رہا ہے ۔ اس پوری قواعد کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ پارٹی زمین پر یہ سندیش دینا چاہتی ہے کہ آج بھی دیش میں عام لوگوں کے اشوز اور مفادات کیلئے کوئی سیاسی پارٹی اگر بھاجپا سرکار سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتی ہے تو وہ کانگریس ہی ہے ۔کانگریس کے مظاہروں اور جارحانہ تیوروں کے پیچھے کئی اہم نکتے بھی ہیں ۔پچھلے دنوں جب راہل گاندھی اور کانگریس صدر سونیا گاندھی ای ڈی کے دفتر میں پیس ہوئے تو پارٹی نے ان کے تئیں پور ا بھروسہ اور اتحاد دکھاتے ہوئے احتجاجی مظاہر ہ کیا تھا حالاں کہ تب کانگریس کی نکتہ چینی ہوئی تھی ۔ گاندھی خاندان پر الزامات کے چلتے پارٹی متحد ہوئی اور تنقید کرنے والوں کی طرف سے کہا گیا تھا کہ لوگوں سے جڑے اشوز کیلئے پارٹی و پارٹی کے نیتا اور ورکرس زمین پر نہیں اترتے ۔ اس مظاہرے کو اس نکتہ چینی کا جواب مانا جا سکتا ہے ۔ ویسے کانگریس نے پہلے مہنگائی ،جی ایس ٹی ،بے روزگاری جیسے اشو پر بیداری مہم چلانے کا پلان بنا یا تھا ۔ اس درمیان ان مسئلوں موزو ہونے سے کانگریس نے اسے لیکر مظاہرہ کرکے اپنی تنظیم کے درمیان بنیادی اختلافات کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔پارٹی ورکر س کافی وقت سے زمین سے کٹا ہوا تھا اور خود کو مایوس اور کمزور اور حوصلہ شکن محسوس کر رہا تھا ۔ ان کوششو ں نے اس میں ایک نئی جان ڈال دی ہے آنے والے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے کانگریس کو اپنی ورکروں کی سرگرمی اور ان جوش بہت ضروری ہے ۔ ادھر راہل گاندھی کے حملے تلخ ہوتے جارہے ہیںراہل نے مہنگائی ،بے روزگاری اور سماجی حالات پر مرکزی سرکا ر پر تلخ حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ بھارت میں جمہوریت کی موت ہو رہی ہے ۔ صر ف چار لوگوں کی تاناشاہی ہے ۔ ہیرالڈ معاملہ میں ای ڈی کی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈرتا ہے وہیں دھمکاتا ہے اور گاندھی خاندان اپنی آئیڈیولوجی کیلئے لڑتی ہے اس لئے اس پر حملہ کیا جا رہا ہے ۔ اخبار نویسوں سے بات چیت میں راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ موجودہ وقت میں دیش کی ہر تنظیم اور ہر ادارے پر آر ایس ایس اور بھاجپا کا قبضہ ہے اور اداروں کے خود مختار نہ ہونے سے اپوزیشن کی لڑائی کا وہ اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے جو دکھائی دینا چاہئے ۔ ہندوستان میںجمہوریت کی موت ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا جو اس دیش نے ستر سال میں بنا یا اسے آٹھ سال میں ختم کر دیا گیا ۔ آج دیش میں جمہوریت نہیں ہے آج چار لوگوں کی تاناشاہی ہے پورا دیش اسے جانتا ہے ۔ہمیں پارلیمنٹ کے باہر اور اندر بولنے نہیں دیا جاتا ۔دو تین بڑے صنعت کاروں کے مفاد میں سرکار کام کر رہی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں کانگریس نیتا نے کہ کہا کہ میں جتنا ہی سچائی بولوں گا اتنا ہی میرے پر حملہ ہوگا میں ڈرنے والا نہیں مجھ کو سرکا جھکانے والی نہیں میں جتنا سے جڑے اشوز اٹھاتا رہوں گا ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...