Translater
17 اگست 2023
انصاف کے مند ر کی سرکشا کا سوال !
دہلی کی عدالتوںمیں فائرنگ کے حالیہ واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے دیش بھر کے ہر ایک عدالتی کمپلیکس میں مستقل عدالت سیکورٹی یونٹوں (سی ایس یو) کی تعیناتی سمیت ایک سیکورٹی پلان کی ضرورت کی نشان دہی ہے ۔عدالت نے کہا کہ انصاف کے مندر میں ہی سیکورٹی کوچھ کی کمی ہے ۔ بڑی عدالت نے کہا کہ ایسے واقعات سے نہ صرف جج صاحبان بلکہ وکیلوں،عدالت کے ملازمین مقدمہ لڑنے والوں اور عام آدمی کی حفاظت کیلئے اہم خطرہ پیدا کرتی ہے ۔ جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس دیپانکر دتا کی بنچ نے کہا کہ یہ اہم معاملے ہے کہ جوڈیشل ادارے سبھی مفاد فیضیافتگان کی بھلائی کی حفاظت کیلئے وسیع قدم اٹھائیں۔ انصاف کرنے والے ہی جب غیر محفوظ ہوںگے تو مقدمہ لڑنے والی پارٹیاں اپنے لئے انصاف کی کیسے امید کر سکتی ہیں۔ جج نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں سمیت جدید سیکورٹی کوچھ کے باوجود عدالت کی حفاظت کی خامیاں اکثر اجاگر ہوتی رہتی ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمرا لگانے کا خاکہ ضلع وار بنیاد رپر تیار کرنا ہوگا۔ جہاں متعلقہ ریاستی حکومتوں کو ایسی اسکیموں کیلئے وقت پر درکار پیسہ دستیاب کرانا چاہئے ۔ ہائی کورٹ سے متعلق ضلع اور سیشن جج صاحبان کو سی سی ٹی وی کیمروں کو لگوانا اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپ سکتے ہیں۔ یہ انتہائی سنگین معاملے ہے کہ قومی راجدھانی کے عدالتی احاطوںمیں فائرنگ کے کم سے کم تین بڑے بڑے واقعات ہوئے ہیں۔ اسی سال جولائی میں تیس ہزاری کورٹ میں وکیلوں کے دو گروپوںمیں فائرنگ ہوئی۔ بڑی عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹس کے چیف سیکریٹریوں ہر ایک ریاستی حکومت کے محکمہ داخلہ ،ریاستوں و مرکزی حکومت کے ریاستوں کی پولیس ،اس کے ڈائریکٹر جنرلوں یا پولیس کمشنروں کے رائے مشورے سے ایک سیکورٹی پلان تیار کرنا چاہئے ۔ اس پلان کے تحت ہر ایک عدالتی کمپلیکس میں مستقل طور پر کورٹ سیکورٹی یونٹ قائم کرنے کی تجویز شامل کرنا ہو سکتی ہے ۔ ایسی ہر ایک یونٹ کیلئے مسلح نہتھے ملازمین ،دوسرے افسران کی تعیناتی کی جا سکتی ہے ۔ اس سے سیکورٹی سسٹم پختہ اور مضبوط ہوگا۔ حالیہ دنوںمیں دہلی کی کئی عدالتی احاطوںمیں فائرنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔اسی مہینے ساکیت عدالت کمپلیکس میں وکیل نے ایک عورت کو گولی مار دی تھی۔ سرغنہ بد معاش جیتیندر گوگی کو ستمبر 2021میں عدالتی احاطے میں دو حملہ آور بد معاشوںنے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس طرح کے فائرنگ کے واقعات عدالت کی سیکورٹی کیلئے ایک سنگین چیلنج ہیں۔
(انل نریندر)
پرینکاگاندھی پر 41ایف آئی آر!
مدھیہ پر دیش حکومت پر کرپشن کے الزام لگانے والی سوشل میڈیا پوسٹ کو لیکر بھاجپا نے سنیچر کو اندو ر میں کانگریس سیکریٹری جنرل پرینکا گاندھی واڈرا ،سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ سمیت دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ مدھیہ پر دیش کے 41سے زیادہ گواہوں پر ان کے خلاف کیس درج ہوئے ہیں۔ اندور ،گوالیئر اور دیگر شہروںمیں یہ کیس درج کئے گئے ہیں۔ اسے لیکر بی جے پی کافی جارحانہ رخ اپنا رہی ہے۔وہیں کانگریس بھی منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔ اندور کے پولیس کمشنر منکٹو دیوسکر نے بتایا کہ معاملے کی جانچ سمت طے کرنے کیلئے ایکس کے متنازعہ پوسٹ کو لیکر جانکاری مانگی جائے گی ۔ انہوںنے بتایا کہ بھاجپا کے لیگل سیل کی مقامی یونٹ کے کنوینر نبھید پاٹھک نے شکایت کی ہے کہ گیانیدر اوستھی نا م کے ایک شخص نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور سے فرضی لیٹر وائرل کیا جس میں ٹھیکیداروں سے 50فیصد کمیشن مانگی جانے کی بات لکھی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوںنے بتایا کہ ایف آئی ر آئی پی سی کی دفعہ 420(جعل سازی) دفعہ 469(ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے جعل سازی ) کے تحت کیس درج کی گئی ہے۔ معاملے سے وابستہ پوسٹ کو لیکر ایکس سے جانکاری مانگی جائے گی۔ اور اس کی تفصیل کی بنیاد پر اگلا قدم اٹھایا جا ئے گا۔ ادھر کانگریس کے قومی صدر کلکا رجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ بھاجپا سرکار کا کام لوگوں کو ڈرانا ہے ۔ ہم لوگوںسے کہنا چاہتے ہیں کہ ڈریں نہیں ،کانگریس ایم پی کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پرینکا گاندھی ،راہل گاندھی ،کھڑگے اور دیگر کانگریسی نیتاو¿ ں کے خلاف سیکڑوں ایف آئی آر درج کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم ان سب چیزوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم کرپشن کا اشو اٹھائیںگے ۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ جب ٹھیکیدار خود لکھ رہے ہیں کہ 50فیصد کمیشن لیا جا تا ہے تو اس سے زیادہ کیا ثبوت چاہئے؟مدھیہ پر دیش اسمبلی میں چناوی برس میں مبینہ ٹھیکیدار انجمن کے مبینہ خط کو پوسٹ کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈروں کے ٹویٹ کے ایک دن بعد وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے کانگریس اور اس کے بڑے نیتاو¿ں کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ یہ سوشل پر حکمت عملی کے تحت جھوٹ اور غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چوہان نے اس سلسلے میں ایک پروگرام کے دوران اپنی تقریر کا ویڈیو ٹویٹر کے ذریعے پوسٹ کیا ہے ۔اس میں چوہان کا کہنا ہے کہ کانگریس پازیٹیو ڈیولپمنٹ جل کلیان کے معاملے میں بھاجپا سرکار کا سامنا نہیں کر سکتی ہے ۔ اس لئے سوشل میڈیا پر باقاعدہ حکمت عملی کے تحت جھوٹ اور غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ چناو¿ قریب ہونے سے وزیر اعلی چوہان کو کرناٹک کی طرح اس سے سیاسی نقصان نظر آیا اس لئے انہوںنے اس معاملے میں کاروائی کے احکامات دئے ہیں۔
(انل نریندر)
13 اگست 2023
چناو ¿ کمیشن کو کٹھ پتلی بنانے کی کوشش!
دیش کے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کیلئے بنے پینل میں اہم تبدیلی سے متعلق جمعرا ت کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا۔ بل کے مطابق سبھی چناو¿ کمشنروں کی تقرری وزیر اعظم لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور کیبنٹ وزیر سمیت تین ممبری پینل کرے گا۔ قانون کے دباو¿ میں آنے کے بعد سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ کے ذریعے 2مارچ 2023کو لیا گیا فیصلہ بے اثر ہو جائے گا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ چناو¿ کمشنروں کی تقرری صدر کے ذریعے وزیر اعظم اور اپوزیشن اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پینل کی صلاح پر کی جائے گی۔ تب سپریم کورٹ نے صاف کہا تھا کہ یہ فیصلہ اثر انداز رہے گا جب تک کمشنروں کی تقرری والا قانون نہیں بن جاتا ۔ اسی لئے سرکارنے فیصلے 5مہینے بعد قانون بنانے کی پہل کر دی ہے ۔ مجوزہ بل کے سیاسی ٹکراو¿ کا ایک اور راستہ کھل گیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے اسی سیشن میں دہلی آرڈیننس سے متعلق بل پاس کیا گیا جس پر اپوزیشن کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت سپریم کورٹ کے حکم کو زبردستی پلٹ رہی ہے ۔ اب اگلے کچھ دنوں میں اس پر بھی سیاست تیز ہو جائے گی۔ حالاں کہ سرکار کی دلیل ہے کہ چاہے دہلی سے جڑا بل ہو یا چناو¿ کمیشن میں تبدیلی والا بل ہو وہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ہی کا م کر رہی ہے ۔ سرکار کی دلیل ہے کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ گائڈ لائن تب تک اثر انداز رہیںگی جب تک پارلیمنٹ میں کوئی قانون نہیں بن جاتا ۔ اگر قانون پاس ہوتا ہے تو اس کی قانونی جائزہ کا بھی راستہ کھل سکتا ہے۔ اپوزیشن نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی پر سیدھا حملہ بولتے ہوئے کہا کہ یہ چناو¿ ادارے کو وزیر اعظم کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنانے کی کوشش ہے۔ عآپ پارٹی نے کہا کہ پی ایم ایک ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں۔ اور تقرر ہونے والے چناو¿ کمشنر بی جے پی کے تئیں وفادار ہوںگے ۔ وہیں ترنمول کانگریس نے الزام لگایا کہ یہ 2024کے چناو¿ میں دھاندھلی کی سمت میں ایک صاف قدم ہے۔ کانگریس نیتاو¿ ں نے سوال کیا کہ اس کا مقصد چناو¿ کمیشن کو اپنی کٹھ پتلی بنانا ہے ۔دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ انہوںنے ہمیشہ کہا ہے کہ موجودہ مرکزی حکو مت عدالت کے ایسے کسی بھی حکم کوپلٹ دے گی جو اسے پسند نہیں آئے گا۔ یہ خطر ناک صورت حال ہے اور اس طرح سے چناو¿ کو منصفانہ کنڈکٹ نہیں ہو سکتے ۔ ترنمول کانگریس کے قومی ترجمان ساکیت گوکھلے نے کہا کہ بی جے پی 2024کے عام چناو¿ کیلئے دھاندھلی کر رہی ہے ۔ اور الیکشن کمشنر کی پوری طاقت مرکزی حکومت کے ہاتھ میں آ جائے کیوں کہ پینل میں سرکار کے دو ممبر ہوںگے۔
(انل نریندر)
آپ نے بھارت کی ہتیا کی ہے!
کانگریس نیتا راہل گاندھی نے بدھ کے روز منی پور میں جاری تشدد کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں سرکار کے خلاف لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک پر مودی حکومت کی تلخ نکتہ چینی کی ۔ پچھلے مہینے 20جولائی سے شروع ہوئے پارلیمنٹ کی مانسون سیشن کی راہل گاندھی کی یہ پہلی تقریر تھی۔ اس سے پہلے تک مودی سرنیم تنازعہ میں اپنی پارلیمنٹ کی ممبر شپ کھونے کی وجہ سے وہ لوک سبھا کی کاروائی میں شامل نہیں ہو پا رہے تھے۔ انہوںنے اپنی 37منٹ کی تلخ تقریر میں سے تقریباً 50فیصدی وقت منی پور کو دیا ۔ انہوںنے تقریر کی شروعات میں اپنی بھارت جوڑو یاترا اور اس سے ملے تجربوں کو ذکر کیا۔ اس کے منی پور میں جاری تشدد پر بولنا شروع کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ میں کچھ دن پہلے ہی منی پور گیا لیکن ہمارے وزیر اعظم آج تک نہیں گئے ۔ کیوں کہ ان کے لئے منی پور ہندوستان نہیں ہے۔ منی پور کو آپ نے دو حصوںمیں بانٹ دیا ہے ۔ اپنے منی پور دورے کے دوران ملے تاثرات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایک عورت نے مجھ سے کہا کہ ان کا بیٹا تشد د میں مارا گیا ۔اور وہ اس کی لاش کے ساتھ پوری رات رہی ۔ وہ اپنا گھر بار چھوڑ آ گئی اور ان کے پاس صرف اپنے مارے گئے بیٹے کی فوٹو تھی۔ میں ایک دوسری عورت سے ملا جس سے میں نے پوچھا کی تمہارے ساتھ کیا ہوا تو وہ عورت کانپنے لگی اور بے ہوش ہو گئی ۔میں نے صرف دو مثالیں دی ہیں ۔ انہوںنے منی پور کا نہیں بلکہ ہندوستان کا قتل کیا ہے۔ جب راہل گاندھی ہندستا ن کے قتل کی بات کر رہے تھے تبھی ان کے ساتھ بیٹھے کسی ممبر نے بھارت ماتا راشٹر استعمال کرنے کی طرف اشارہ کیا ۔ اس کے بعد راہل نے کہا کہ منی پور کے لوگوں کی قتل کرکے آپ نے بھارت ماتا کی ہتیا کی ہے۔ آپ نے یہ کرکے دیش دروہ کیا ہے ۔ اس وجہ سے پی ایم مودی منی پور میں نہیں جاتے ہیں۔ ایک طرف میری ماں یہاں بیٹھی ہے اور دوسری ماں کو آپ نے منی پور میں مارا ہے ۔ بھارت غرور کو ایک دم مٹا دیتا ہے ۔ کیوں کہ بھارت جوڑو یاترا میں پہلے دو تین دین میں میرے گھٹنے میں درد شروع ہو گیا ۔جب میںبھی گھٹنے کو لیکر درد بڑھتا تھا تب کوئی نہ کوئی طاقت آجاتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوںنے رامائن کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ راون کی لنکا کو ہنومان نے نہیں اس کے غرور نے جلایا تھا۔ انہوںنے کہا راون دو لوگوں کی سنتا تھا،میگھناتھ اور کنبھ کرن۔ اسی طرح نریندر مودی جی صرف دو لوگوں کی سنتے ہیں۔ امت شاہ اور اڈانی ۔لنکا کو ہنومان نے نہیں بلکہ راون کے غرور نے جلایا تھا۔ رام نے راون کو نہیں مارا تھابلکہ اس کے غرور نے اسے مارا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے جس انداز میں تقریر کی اس میں اخلاقی ہمت کی جھلک ملتی ہے۔ وہ جو بھی کہہ رہے تھے دل سے کہہ رہے تھے۔ راہل گاندھی نے جس طرح تقریر کی اس میں خود اعتمادی،اخلاقی ہمت اور عزم ضرور نظر آیا ۔ منی پور پر بولے تو دل سے بولے ۔ایک خاص بات دیکھنے کو ملی ۔ تقریر کے دوران حکمراں فریق شور شرابہ ٹوکا ٹاکی کرتا رہا لیکن راہل نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پنا خطاب جاری رکھا۔ بنا کہیں اٹکے انہوںنے پوری بات رکھی ۔ راہل گاندھی نے بیحد تسلی کے ساتھ کم وقت میں پور ی بات رکھی۔ اب راہل ایک سنجیدہ سیاسدان کی طرح نظر آنے لگے ہیں۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...