Translater

17 جولائی 2021

9چینی انجینئروں سمیت 13لوگوںکی موت!

پاکستان کے شمالی ریاست خیبر پختون میں ایک بس کو نشانہ بنا کر بم دھماکہ کیا گیا جس میں 13لوگوں کی موت ہوگئی مرنے والوںمیں چین کے نو انجینئر بھی شامل ہیں ۔ وہ چین پاک اقتصادی گلیارے سے متعلق پروجیکٹ کے لئے کام کر رہے تھے دھماکے میں دو پاکستانی فوجی و دو مقامی شہری بھی مارے گئے پاکستان نے اسے ایک سازش بتایا جبکہ چین نے اسے حملہ کہا سماچار ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بس کو نشانہ بناتے ہوئے دہشت گردوں نے دھماکہ کیا پاکستان نے کہا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا جس کی جانچ جاری ہے اور اس حادثے کی وجہ گیس سلینڈر پھٹنا بتایا گیا ہے اندیشہ جتایا گیا کہ بس میں کوئی انجینئروں کوے ذریعے استعمال کوئی دھماکو سامان رہا ہوگا دھماکے کے بعد بس کھڈے میں جا گری چین نے اس کو حملہ بتاتے ہوئے پاکستان میں اپنے شہریوں صلاح دی ہے کہ جب تک ضروری نہ ہو وہ گھر سے باہر نہ نکلیں معلومات کے مطابق بس میں تیس انجینئر سوا ر تھے جو اوپری کوہستان میں واقع دادو ڈیم پر جا رہے تھے وہاں اقتصادی گلیارے کے تحت کام چل رہا ہے یہ سب چین کے 63ارب ڈالر کے بیڈ اینڈ روڈ پروجیکٹ کا حصہ ہے جس کے تحت چین نے اپنے مغربی حصے کے پاکستان کے گوادر بند ر گاہ سے جوڑنے جا رہا ہے چین نے اس پروجیکٹ کے لئے بری تعدا د میں اپنے انجینئروں کو بھیجا ہوا ہے لیکن گوا در اور بلوچستان میں مقامی شہریوں کے ذریعے چینی پروجیکٹوں کی زبردست مخالفت جاری ہے حال ہی میں کوئٹہ میں چین کے سفیر کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہوٹل میں دھماکہ کیا گیا حالانکہ وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے لیکن دھماکے میں پانچ لوگ مارے گئے یہاں چین مخالف بلوچستان لبریشن آرمی بھی حملے کرتی ہے ۔ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان ماو¿لزین نے کہا کہ اس حملے سے چین صدمے میں ہے اور وہ اس کی سخت مذمت کرتا ہے انہوں نے عمران سرکار سے مانگ کی ہے کہ اس پورے معاملے میں گہرائی سے جانچ ہو اور قصورواروں کو گرفتار کیا جائے ۔ پاکستان نے پہلی واردات کو حادثہ بتا کر چھپانے کی کوشش کی لیکن چینی سفارت خانے نے اسے ایک حملہ بتایا اس کے بعد پی ایم کے پارلیمانی مشیر بابر اعوان نے تصدیق کی چینی شہریوں پر بم سے حملہ کیا گیا تھا اور انہوں نے اسے بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے ۔ (انل نریندر)

حوالہ کے پیسے سے دہشت گردی کو ہوا دینا!

حزب المجاہدین کا سرغنہ محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین بیشک پاکستان میں چھپا بیٹھا ہے لیکن اس کے دونے بیٹے حوالہ نیٹ ورک سے پیسہ حاصل کرکے جموں کشمیر میں اس کی آتنکی وراثت کی کفالت دے رہے تھے انہوں نے خود بندوق نہیں اٹھائی لیکن دیگر کشمیری لڑکوں کو بندوق اٹھانے اور بے قصور کشمیروں کا قتل کرنے کے لئے پیسہ دیئے جانے پر اپنے والد اور اس کے آتنکی تنظیم حزب المجاھدین کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کےلئے ٹیرر فنڈگ میں پوری طرح سر گرم تھے انتہائی مطلوب دہشت گردوںمیں شامل صلاح الدین کے دونوں بیٹے سید احمد شکیل اور شاہد یوسف ان گیارہ سرکاری ملازمین میں شامل ہیں جنہیں جموں کشمیر انتظامیہ نے حال ہی میں بغاوت میں شمولیت کی بنیاد پر سرکاری نوکری سے باہر کا راستہ دکھایا ہے دونوں فی الحال تہاڑ میں بند ہیں امریکہ کے ذریعے گلوبل دہشت گردوں کی فہرست میں نامزد صلاح الدین این آئی اے کی فہرست میں انتہائی مطلوب فہرست میں ایک بڑا دہشت گرد ہے ذرائع نے بتایا کہ صلاح الدین کے دونوں بیٹوں کی دیش دشمن سر گرمیوں کے معلومات سے متعلق ایجنسیوں کو پہلے ہی تھی لیکن جموں کشمیر میں جو پہلے اقتدار تھا اس نے کنی وجہوں سے انہیں چھوٹ دے رکھی تھی دونوں کے خلاف ثبوتوں کی بنیاد پر کاروائی کے لئے ڈھونڈی گئی فائلوں کو ہمیشہ سے دبایا جاتا رہا ہے ۔ سید احمد شکیل شہر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس آف سورہ میں 1990کے دوران چور دروازے سے بطور لیب ٹیکنیشین رکھا گیا تھا اس نے قریب چھ بار دہشت گردوں کے لئے مالی مدد اکٹھا کی اور ان تک پیسہ پہونچایا ۔ صلاح الدین کا دوسرا بیٹا شاہد یوسف بھی چور دروازے سے سال2020اگریکلچر ڈیپارٹمنٹ میں رکھا گیا ۔ کشمیر میںدہشت گردانہ تشدد و علیحدگی پسند سرگرمیوں کو بڑھا وا دینے کےلئے وہ حوالہ اور دیگر طریقوں سے قریب نو بار پیسہ حاصل کر چکا ہے ذرائع نے بتایا کہ شاہد یوسف 1999-2000کے دوران پاس پورٹ کی بنیاد پر دبئی بھاگ گیا تھا اس کے پاسپورٹ پر والد کا نام یوسف میر رکھا گیا تھا جبکہ نام سید محمد یوسف ہونا چاہئے تھا ۔´ (انل نریندر)

ناراضگی دبانے کے لئے نہ ہو قوانین کا بیجا استعمال!

سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے دیش میں بنیادی حق کی حفاظت میں حقوق کی حفاظت میں بڑی عدالت کے رول کی نشان دہی کرتے ہوئے شہریوں کی ناراضگی کو کچلنے یا ان کو ٹارچر کرنے کے لئے دہشت مخالف قانون سمیت دیگر مجرمانہ قوانین کو بیجا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ارنب گو سوامی کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کی آزادی سے ایک دن بھی محروم کرنا زیادتی ہے عدالتوں کو یقینی کرنا چاہئے کہ وہ لوگوں کی آزادی کی حفاظت کے لئے پہلی لائن بنی رہے گی جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ سماجی و اقتصادی طور پر اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرنا بڑی عدالت کا فرض ہے سپریم کورٹ کو چوکس و سرپرست کی شکل میں اپنے رول کو آگے بڑھانے کے ساتھ آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہئے 21صدی کی چنوتیاں الگ طرح کی ہیں وبا سے لیکر عدم روا داری بڑھانے جیسے مسئلوں سے نمٹنا ہے کورٹ جب ایسے معاملوں میں مداخلت کرتی ہے تو اسے عدلیہ سر گرمی یا جوڈیشیل چوکسی کہا جائے گا جسٹس چندر چو ڑ پیر کے روز امریکہ بار اسوشیشن کے ذریعے سوسائٹی آف انڈیان لا ءفرمس چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف آر بی ٹریڈس کے ذریعے منعقدہ ایک سمپوزیم میں چیلنج بھرے دور میں بنیادی حقوق کی حفاظت میں بری عدالت کے رول پر خیالات کا اظہار کر رہے تھے انہوں نے وبا کے دوران جیلوں میں بھیڑ گھٹانے پر بڑی عدالت کے احکامات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ اہم ہے کہ جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کم ہو کیونکہ وہ وائرس کے لئے ہاٹ اسپوٹ بننے کے لئے بہت ہی بے حساس رہتے ہیں ۔ (انل نریندر)

16 جولائی 2021

خلائی سفر پر بھارت کی بیٹی !

ایرونیٹکل انجینئر گریشا بادلا پیر کو خلا میں پرواز کرنے والی ہندوستانی نژاد تیسری خاتون بن گئی ہیں انہوں نے امریکہ کے نیو میکسیکو صوبے سے برطانوی عر ب پتی ریچرڈ برنسن کے ساتھ ورجن گریٹک کی خلا کے لئے پہلی مکمل فلائنگ اسکوائیڈ والی کامیاب ٹریننگ شدہ پرواز بھیجی ہے گریشا سے پہلے کلپنا چاولا اور اس کے بعد سنیتا ولیمس خلا کا سفر کرچکی ہیں یکم فروری 2003کو اسپیس سٹل کولمبیا جب زمین پر واپس لوٹ رہا تھا تو حادثے کا شکار ہوگیا اس میں خلا باز کلپنا چاولا سمیت سات خلائی پروازوں کی موت ہوگئی تھی وہیں سنیتا ولیمس کے نام خاتون کی شکل میں سب سے زیادہ اسپیس واک کرنے کا ریکارڈ ہے سب سے پہلے ہندوستانی شہری کے طور پر ونگ کمانڈر راکیش شرما خلا میں گئے تھے اب گلیشا بادلا نے بتایا اوپر سے زمین کو دیکھنا ایک عجب اور زندگی بدلنے والا تجربہ رہا بتا دیں کہ بادلا قریب 53میل کی اونچائی پر چار منٹ تک تفریح کرنے و زمین کا نظارہ دیکھنے کے بعد واپس لوٹ آئے تھے بادلا نے ایس بی سی نیوز سے بات چیت میں کہا کہ لگتا ہے کہ میں ابھی وہی ہوں لیکن یہاں آکر بہت خوش ہوئی ہوں میں اس عجوبے سے بہتر لفظ کے بارے میں سو چنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن یہی یہ ایک واحد لفظ ہے جو میرے دماغ میں آسکتا ہے۔ زمین کا منظر دیکھتا زندگی بدلنے جیساہے اور خلا میں سفر کرنا حقیقیت میں ایک عجوبہ ہے اس پل کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں بچپن سے ہی خلا میں جانے کا خواب دیکھ رہی تھی اور یہ سفر ایک خواب کی تعبیر ہونے جیسا ہے۔ ادھر گریشا کے دادا بادلا رگوچا نے بتایا کہ ان کی پوتی بچپن سے ہی کی تمنا ہوائی جہاز اور خلا کی طرف بہت بے چینی سے دیکھتی تھی آخر اس کا خلا میں جانے کا خواب تعبیر ہوگیا ۔ (انل نریندر)

یوگی کی آبادی پالیسی پر اختلاف!

اتر پردیش آئےنی کمیشن کی جانب سے تیار کردہ آبادی کنٹرول ڈرافٹ میں تجویز دینے کے لئے چار دن میں پانچ ہزار سے زیادہ ای میل پہونچ چکے تھے لیکن اب وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کے اپنے ہی اس پالیسی مخالفت میں اتر آئے ہیں وشو ہندو پریشد نے ڈرافٹ کے کچھ نکتوں پر اعتراض جتایا ہے پریشد کے ایگزیکٹو ممبر آلوک کمار نے آئینی کمیشن کو خط لکھا ہے وہیں ڈرافٹ کی مخالفت میں وشو ہندو پریشد کے ساتھ اسلامی ادارے دارالعلوم دیوبند بھی شامل ہوگیا ہے اس نے پالیسی کو ہر سماج کے خلاف بتایاہے ادھر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بھی کہہ دیا ہے کہ یہ پالیسی کار گر نہیں ہے آبادی کنٹرول کوئی قانون بنا کر نہیں کی جا سکتی وی ایچ یو کے صدر آلوک کمار نے کمیشن کو بھیجے گئے خط میں لکھا ہے کہ ڈرافٹ کی ون چائلڈ پالیسی سے سماج میں آبادی میں عدم توازن پیدا ہوگا سرکار کو اس سلسلے میں سوچنا چاہئے کیونکہ یہ پیدائشی شرح کو 1.7فیصد پر لے جائے گا اس پر پھر سے غور کرنے کی ضرورت ہے پیر کو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی عبدالقاسم نے کہا کہ جن کے دو سے زیادہ بچے ہوں گے انہیں سہولیات سے محروم کیا جانے سے مطلب بچوں کے ساتھ بھی نا انصافی ہوگی کسی کو سہولیات سے محروم کیا جانا یہ کیسی پالیسی ہے ادھر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں بھاجپا ایم پی آبادی کنٹرول اور یکساں سول کوڈ پر مبنی پرائیویٹ بل لانے کی تیاری میں ہیں یہ جانکاری لوک سبھا راجیہ سبھا سکریٹریٹ سے ملی ہے اس لئے آئندہ سیشن جو 19جولائی کو شروع ہونے والا ہے ہنگامے دار ہونے کے آثار ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اتر پردیش آبادی بل 2021کی نکات کو ریاستی اسمبلی چناو¿ کے لئے بھی لاگو کر دیا جائے تو خود بی جے پی کے خود 50فیصد ممبر اسمبلی چناو¿ لڑنے کے نہ اہل ڈکلیئر ہو جائیں گے ۔ اتر پردیش اسمبلی کی ویب سائٹ کل 397ممبران اسمبلی کا پروفائل لوڈ کیا ہوا ہے ان میں 304ممبر اسمبلی بی جے پی سے ہیں ان کے پروفائل بتاتے ہیں کہ 152یعنی بلکل آدھے ممبران اسمبلی کے دو سے زیادہ بچے ہیں ان میں بی جے پی ممبر کے آٹھ بچے ہیں جس میں کسی اور ممبر اسمبلی کے اتنے زیادہ بچے نہیں ہیں ایک ممبر اسمبلی کے سات بچے ہیں اور بی جے پی کے آٹھ ایسے ممبر ہیں جن کے چھ چھ بچے ہیں وہیں پندرہ ممبران کے پانچ اور 44ممبران کے چار اور 83ممبران کے تین اور 103ممبران کے دو دو بچے ہیں 34ممبران کے ایک ایک بچہ ہے وہیں 15ممبران میں سے کسی کے بھی ایک بچہ نہیں ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی گورکھپور سے لوک سبھا ایم پی اور بھوجپوری فلم اداکار روی کشن نے آبادی کنٹرول پر پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا ہے روی کشن بھی بی جے پی کے ایم ہیں اور چار بچوں کے والد ہیں اگر لوک سبھا کی بات کی جائے تو اس کی ویب سائٹ پر 186ایم پی اس قانون کے دائرے سے باہر ہو جائین گے ان میں سے ایک سو پانچ ایم پی بی جے پی ہے جن کے دو سے زیادہ بچے ہیں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بڑھتی آبادی کا اثر ترقی اور لوگوں کی زندگی پر اثر پڑتا ہے مگر یہ بے حد حساس معاملہ ہے لحاظہ توجہ دینی ہوگی خاندان کو کنٹرول کرنے کے لئے لوگ خود ہی احتیاط برتیں۔ (انل نریندر)

15 جولائی 2021

طالبان کے بنائے ضلع میںشرعی قانون نافذ!

جنگ سے خستہ حال ہوچکے افغانستان میں پھر طالبان کے لڑاکوں نے دیش کے چار سو سات میں سے 204ضلعوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان مین شرعی قانون نافذ کر دیا گیا ہے عورتوں ۔ میڈیا پر پابندیوں کا دور بھی شروع ہوگیا ہے حالانکہ طالبان کا دعویٰ ہے کہ اس نے اب تک افغانستان کے 85فیصد حصے پر اپنی بالا دستی قائم کر لی ہے امریکی و نیٹو فوجیوں کی واپسی کے ساتھ ہی طالبان تیزی سے دیش کے بڑے حصے کو اپنے کنٹرول میں لے رہے ہیں ایران ، ترکمانستان سے لگی سرحدی چونکیوں پر طالبانی جنگ بازوں نے اپنا قبضہ کر لیاہے 407میں سے صرف 74ضلعوں پر ہی افغانستان سرکار کا کنٹرول بچا ہے طالبان آہستہ آہستہ ان پر بھی قبضہ کر رہے ہیں پچھلے بیس سال سے عورتوںکو برابری کادرجہ دیئے جانے کی جو مہم چل رہی تھی وہ رک گئی ہے طالبان نے بلخ صوبے کئی ضلعوںمیں پرچے باٹ کر عورتوں پر تمام پابندیاں لگا کر فرمان جاری کر دیا ہے اور لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ انہیں سخت قوانین کی تعمیل کرنی ہوگی جیسا کہ 1996سے 2001کے دروان ہوتا تھا تب طالبان کا افغانستان میں کنٹرول تھا گل رحیم میاں جان وغیرہ نےکہا کچھ ضلعوںمیں نئی سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں یہ علاقہ راجدھانی مزار شریف سے صرف 20کلومیٹر نارتھ میں واقع ہے ۔ تخر، بدخشان اور قدون صوبے کے کئی ضلعے پورہ طرح طالبان کے کنٹرول میں ہے طالبان نے کہا کہ وہ چین کو افغانستان کے دوست کی شکل میں دیکھتا ہے اس نے چین کو با ور کیا ہے کہ اس کے شورش زدہ صوبے شنگیان کے ایغور اسلامی شدت پشندوں کو اپنے یہاں پناہ نہیں دے گا حالانکہ طالبان کی اس پیش کش کو لیکر چین کی طرف سے ابھی کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے ادھر افغانستان کے صدر اشر ف غنی نے طالبان کو دیش میں جاری تشدد اور اموات کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے بھارت کی لئے تشیو ش کی بات یہ بھی ہے کہ لشکر طبینہ جیش محد سمیت کئی آتنکی تنظیموں نے طالبان سے ہاتھ ملا لیا ہے ۔ ہزاروں آتنکی ساتھ مل کر افغانستان کی فوج سے لڑ رہے ہیں ہندوستانی ایجنسیاںبھی اسے لیکر پریشان ہیں معاملے کے واقف لوگوں نے بتایا کہ لشکر اور جیش کے زیادہ تر لڑاکے مشرقی افغانستان کے کنار نگہار صوبوں اور دیش کے جنوب مشرق میں واقع ہیل منداور قندھار صوبوں میں سر گرم ہیں یہ علاقے پاک سر حد سے لگے ہوئے ہیں ۔ بلخ صوبے کی 34سالہ خاتون ناہبہ نے بتایا کہ عورتیں بنا مرد ساتھی کے اور بنا حجا گھر سے نہیں نکل سکتی ہیں کئی عورتوں کے ذریعے خاندان کا گذر بسر کیا جا تاہے ان کے لئے یہ مشکل وقت ہے ۔ تیس فیصد سول خادمہ اب عورتیں ہیں جنہیں دقت ہوگی طالبان نے سیلون والوں کو داڑھی نہ کاٹنے کا حکم دیا ہے اور لوگوں کو داڑھی بڑھانے کو کہا جا رہا ہے ۔ (انل نریندر)

اوپر والے کا قہر !کہیں بجلی گری توکہیں بادل پھٹے

پورے شمالی ہندوستان میں برساتی موسم قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے یوپی ، راجستھان ، ہماچل اور مدھیہ پردیش اتوار اور پیر کے درمیان ہی بجلی گرنے کے کئی واقعات ہوئے ہیں جس میں قریب 73افراد کی جان چلی گئی خبروں کے مطابق اکیلے یوپی کے کئی ضلعوں میں بجلی گرنے سے 41لوگوں کی موت ہوئی اس کے علاوہ 22لوگ جھلس گئے جبکہ 200سے زیادہ مویشی مارے گئے راجستھان میں بجلی گرنے سے قریب 23لوگوں کی موت ہوئی یہ حادثے جے پور ، پھول پور، کوٹہ ، جھالاواڑ علاقوں میں ہوئے مدھیہ پردیش میں 11لوگوں کی موت ہوئی محکمہ موسم نے بھوپال ،گوالیار ، ہوشنگ آباد، اجین اور اندور میں آسمانی بجلی گرنے کی وارننگ جاری کی گئی وزیر اعظم مودی نے حادثوں پر افسوس جتا کر آسمانی بجلی گرنے سے جان گنوانے والوں کے ورثا کو پی ایم ریلیف نیشنل فنڈ سے 2لاکھ روپئے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا وہیں زخمیوں کو پچاس ہزارروپئے دیئے جائیں گے لمبے انتظار کے بعد اتوار شام جے پور میں مانسون کی پہلی بارش ہوئی تو لوگ اجمیر کے قلعے پہونچ گئے اسی دوران شام سات بجے جب کچھ لوگ پہاڑیوں پر بنے واچ ٹاور پر چڑھ کر سیلفی لے رہے تھے تب اچانک آسمان سے بجلی گر گئی اس وقت ٹاور پر دو درجن لوگ چڑھے ہوئے تھے بجلی گرتے ہی افر تفری مچ گئی لوگ ادھر ادھر بھاگنے لاگے کچھ لوگوں نے توجھلسنے کے بعد موقعے پر دم توڑ دیا کچھ لوگ بے ہوش ہو کر پہاڑیوں کے نیچے جھاڑی میں آگرے اس حادثے میں بارہ لوگوں کی موت ہوئی لیکن بعد کچھ لاشیں جنگلی علاقے سے بھی ملیں ۔ بجلی گرنے سے کیسے ہوتی ہے موت ؟ بجلی کئی طرح سے اپنے لپیٹے میں لیتی ہے اگر یہ کسی پر گر جائے تو اس کی فوراً موت ہو جاتی ہے یہ تبھی ہوتا ہے جب کوئی کھلے علاقے میں ہو خاص کر وہ جب بارش سے بچنے کو پیڑ کے نیچے کھڑا ہوجائے بجلی پیڑ پر گر یا آس پا س کسی اونچی چیز پر گر کر شخص کے جسم تک پہونچ کر نکل جاتی ہے اس میں جسم بری طرح جھلس جاتا ہے ۔ بھارت میں25سے31جولائی 2019کے درمیان چار لاکھ سے زیادہ بجلی گرنے کی وارداتیں ہوئی ہیں ۔ حالانکہ نارتھ ایسٹ ، چھوٹا ناگپور پٹھار میں حادثے زیادہ ہوتے ہیں ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں میکلاڈ گنج کے قریب 2کلو میٹر کی دوری پر فانگسو میں اتوار کی صبح بادل پھٹ گیا جس سے نالے میں بھاری بارش کے سبب اس نے اپنا راستہ بدل لیا ا س نے چار کاروں اور کئی موٹر سائیکلوں کو بہا لے گیا حادثے میں متعدد لوگ لا پتہ ہیں اس واقعے کے بعد مرکزی وزیر داخلہ نے ریاست کے وزیر اعلیٰ سے فون پر بات کرکے حالات کا جائزہ لیا ۔ ادھر جموں ضلع میں 32سال بعد یعنی 1981کے بعد جولائی مہینے میں اب تک کی سب سے زیادہ 150.6ملی میٹر بارش درج کی گئی وہیں اترا کھنڈ میں رشی کیش ، بدری ناتھ ہائیوے چمولی کے پاس بند ہوگیا تین لوگوں کی موت ہوگئی ابھی تک کئی علاقوں میں پوری طرح مانسون آیا بھی نہیںاور یہ حال ہے اوپر والا خیر کرے ۔ (انل نریندر)

14 جولائی 2021

ڈرگس اور دہشت گردی !

دہلی پولس کی اسپیشل سیل نے ڈرگس کے انٹر نیشنل ریکیٹ کا پردہ فاش کرکے اب تک کی سب سے زیادہ مقدار میں ہیروئن کی بر آمدگی کی ہے اندیشہ ہے کہ ڈرگس کو بیچ کر ہوئی کمائی کو دہشت گردانہ واقعات میں استعمال کیا جاتا تھا اس ریکیٹ میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے بھی شامل ہونے کا امکان ہے ۔ ان کا مقصد ہیروئن کی کالی کمائی سے کشمیر اور پنجاب میں دہشت گردی پھیلا نا ہوسکتا ہے ۔ پولس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پکڑے گئے ملزمان کے آقا پاکستان اور پرتگال میں بیٹھے ہیں ان کے گرگے ان سے ہدایات لیکر افغانستا ن کے راستے بھارت میں اس کاروبار کو بڑھا رہے تھے ۔ ریکیٹ کا سراخ اس وقت لگا جب پولس نے رضوان احمد عرف رضوان کشمیر کو دبوچا تھا پولس نے بتایا کہ رضوان نے انکشاف کیا کہ وہ افغانستان میں سر گرم ہینڈلر عیسیٰ خان کے اشارے پر ہیروئن کا دھندا کرتا ہے اس کی نشان دہی پر فریدآباد کے سیکٹر 65کی ایک سو سائیٹی سے گرجیت عرف گر پریت کو گرفتار کر لیا گیا اور ان دونوں کی نشان دہی پر پارکنگ میں کھڑی دو کاروں سے ایک سو چھاچھٹ کلو گرام اور ایک سو پندرہ کلو گرام ہیروئن بر آمد ہوئی دونوں کے اما پر فلیٹ میں رکھے بیڈ میں سے بھی ستر کلو گرام ہیروئن بر آمد ہوئی ۔ ان کا ہینڈلر نو پریت سنگھ عرف نو پرتگال میں بیٹھا ہوا ہے اس کے حکم پر دیش کی الگ الگ ریاستوں میں ہیروئن سپلائی ہو رہی تھی رضوان سے پوچھ تاچھ میں افغانی شہری علی کو بھی پکڑا گیا اور اس کی نشان دہی پر پولس نے اس کے گھر سے سو کلو گرام کیمکل بر آمد کیا ۔علی کا کام مال میں کیمکل ملا کر ہیروئن تیار کروانا تھا اسپیشل سیل کو پتہ چلا ہے کہ افغانستان سے کنسائٹ مینٹ کے ذریعے افیم کو بھارت بھیجا جاتا تھا افغانستان سے آنے والے ناجائز سامان کے ساتھ اس کو ڈبوں میںیا دیگر چیزوں میں چھپا کر کنٹینر سے افیم کو ایران کے راستے ممبئی بھیجا جاتا ہے ممبئی سے افیم کو سیو پوری مدھیہ پردیش بھیج دیا جاتا ہے وہاں کیمکل کی مدد سے افیم اور باقی نشیلی چیزوں سے ہیروئن تیار کر لی جاتی ہے اس کے بعد کوریئر سے دیش کی الگ الگ حصوں میں بھیجی جاتی ہے بر آمد کھیپ کو پنجاب جانا تھا پولس کا کہنا پورہ نیٹورک افغانستان اور یوروپ میںبیٹھے اسمگلر چلا رہے ہیں ان کے بارے میں متعلقہ ایجنسیوں سے جانکاری لی جار ہی ہے دہلی پولس کی اسپیشل سیل کو کچھ ایسی خفیہ جانکاریاں ملی ہیں کہ پاکستان کے راستے بھی ڈرگس بھارت میں بھیجی جا رہی ہے اس وجہ سے یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ بر آمد ڈرگس سے ملنے والی کمائی کا استعمال کہیں دہشت گردانہ سر گرمیوں میں تو نہیں ہو رہا تھا۔ (انل نریندر)

چین پیچھے ہٹنے کے بجائے جنگی مشقیں کر رہا ہے!

بھارت نے پچھلے دنوں چینی سرحد پر پچاس ہزار مزید فوجی جوان تعینات کئے ہیں ۔ یہ 1962کی جنگ کے بعد پہلی بار ہے کہ جب ایل اے سی پر ہندوستانی فوجیوں کی تعداد دو لاکھ کے قریب پہونچ چکی ہے چین نے پچھلے مہینے ہندوستانی سرحد کے پاس اتنے ہی فوجی تعینات کئے ہیںالگ الگ ذرائع سے بتایا گیا ہے بھارت نے چین سے لگی سرحد کے تین الگ الگ علاقوں میں فوجی ٹکڑیوں کے علاوہ جنگی جہازوں کے بیڑے تعینات کئے ہیں ایل اے سی پر ہندوستانی جوانوں کی تعیناتی پچھلے سال کے مقابلے چالیس فیصد بڑھ گئی ہے ایک وادی سے دوسری وادی میں فوجیوں کو ایئر لفٹ کرنے کے لئے زیادہ ہیلی کاپٹر تعینات کئے گئے ہیں اس کے علاوہ ان جنگی ہیلی کاپٹروں سے بھاری توپین بھی بھیجی جا سکتی ہیں بھارت کے اس قدم کے پیچھے چین کی بڑھتی سر گرمیاں ہیں فروری میں سمجھوتا میں ہوا تھا کہ فوجوں کی تعیناتی میں کمی کی جائے گی لیکن چین نے ایسا نہیں کیا بلکہ الٹے جنگی مشقیں شروع کر دیں اس کے بعد بھارت نے یہ اپنی فوجیں بڑھا دی ہیں دوسری طرف چین نے طبت کی متنازعہ سرحد پر رنوے ، عمارتیں اور جنگی جہاز رکھنے کے لئے بم کا توڑ کرنے والے بنکر اور نئی ایئر فیلڈ بنانا شروع کر دی ہیں وہیں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ سے لوٹ کر چیف آف ڈفینس اسٹاف جنرل وپن راوت اور بڑے سینئر افسروں کے سامنے چین کی سر گرمیوں سے پیدا حالات کا جائزہ لیا ہے ۔ (انل نریندر)

اے ڈی جی پی سنگھ پر ملک بغاوت کا مقدمہ!

رائے کے سینئر آئی پی ایس و اے ڈی جی پی سنگھ پر ایس بی کے چھاپے اور معطلی کے بعدپولس نے بدھ کے روز ملک بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے بعد تلاشی اور گرفتاری شروع کر دی اس کے لئے دستاویز تیار کر لئے گئے لیکن پولس کو یہ بھی اطلاع مل گئی ہے کہ جی پی سنگ اپنے بنگلے سے غائب ہے بدھ کو بلاس پور جانے اور پھر وہاں سے دوسری کار میں بیٹھ کر کہیں اور چلے جانے کے پختہ ثبوت پولس کے ملے ہیں ادھر جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جی پی کے بنگلے سے ملے کاغذات خط اور ڈائری کے صفحوں میں ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو سرکار کے خلاف سنگین سازش اور سماج میں نفرت پھیلانے کی سازش کی طرف اشارہ کر رہی ہیں ایف آئی آر کے مطابق گزیندر پال سنگھ کے گھر کی تلاشی کے دوران اس کے پچھلے حصوں سے کاغذوں کے پھٹے ٹکرے ملے ہیں ان کا میٹر کٹا ہوا اور ٹائپ کیا گیا تھا جنہیں گاو¿ں کے سامنے دوبارہ سے مرتب کیا گیا ان میں سنگین اور حساس حقائق سامنے آئے ہیں ان صفحات میں پڑی پارٹیوں کے نمائندوں کے خلاف بڑی بیہودہ اور قابل اعتراض باتیں لکھی گئی ہیں ان کے خلاف سازشی پلانگ کا بھی ذکر ہے ریاست کے مختلف اسمبلی حلقوں کے نمائندوں و امیدواروں کے بارے میں خفیہ تبصرے لکھے ہیں سرکارکی اسکیموں و فرقہ وارانہ مذہبی مسئلوں کو لیکر بھی غلط باتیں دستاویزوں میں درج ہیں ام دستاویزات میں جو لکھی باتیں ہیں ان کی بنیاد پر ملکی بغاوت کا مقدمہ درج ہوتے ہی ملزم جے گزیندر پال سنگھ عرف جے پی سنگھ چھتیس گڑھ ہائی کورٹ گئے اور وہ لا پتہ بتائے جا رہے ہیں رائے پور کی کوتوالی تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 124A(ملک کی بغاوت )اور 153A(نفرت آمیز تقریر)کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ (انل نریندر)

13 جولائی 2021

مشعل رلے سے ٹوکیو اولمپک مرحلے سے آغاز !

اولمپک منتظمین نے جمعہ کو اولمپک مشعل کے ٹوکیو آمد کے ساتھ اس کو روشن تقریب منعقد کی ہے اس کے ایک دن پہلے ہی حکومت نے ٹوکیو میں کورونا ایمرجنسی ڈکلیئر کی تھی چونکہ ڈیلٹا ویرئینٹ کے معاملے زیادہ بڑھتے جا رہے ہیں مشعل رلے راجدھانی کی سڑکوں پر نہیں نکالی جا سکی اور وہ ٹوکیوکے ساحلی جزیروں پر ہی نکالی گئی اور اس کے لئے کئی بار راستہ بدلا گیا اور نیا راستہ بنایا گیا جنتا سے اس کو دور سے دیکھنے کے لئے پارک اور سڑکیں بنائی گئیں ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ اسٹیڈیم میں تقریب کے آغاز کے لئے مشعل کیسے آئےگی ویسے ٹوکیو اولمپک کے انعقاد میں مصبتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں پہلی بار کوویڈ وبا کے چلتے پچھلے سال ملتوی کیا گیا اب 23جولائی سے 8اگست تک ٹوکیو اولمپک کا انعقاد ہونا لیکن عجب صورتحال بنی ہوئی ہے کیونکہ ٹوکیو میں بڑھتے مریضوں کو دیکھ کر وزیر اعظم نے وہاں ایمرجنسی ڈکلیئر کر دی ہے نتیجتاً ٹوکیو اور اس سے لگے شہروں میں کھیل ناظرین کو بھی اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ غیر ملکی ناظرین پر پہلے ہی پابندی لگ چکی ہے یعنی پہلی بار آئی پی ایل کی طرح اولمپک بھی ٹی وی تک محدود رہےگا اور یہ سسٹم اولمپک منتظمین کے لئے بڑھا جھٹکا ہے جنہوں ٹکٹوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر کی آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑے گا اولمپک جیسا ایوینٹ کسی دیش کی معیشت کے لئے بہترین موقع ہوتا ہے لیکن وبا نے جاپان کیلئے یہ ایک اچھے موقعے سے محروم کر دیا ہے اس سلسلے میں وزیر اعظم فوگا کا یہ کہنا کہ ناظرین پر پابندی کے باوجود ٹوکیو اولمپک اپنے صبر اور اتحاد کا ایک تاریخی مثال بنے گا۔ (انل نریندر)

20 ہندوستانی اثاثوں کے ضبط کرنے کے احکامات !

وزارت مالیات نے برطانوی کمپنی کیئرس اینرجی کے اس دعویٰ کی تردید کی ہے جس میں کیئرس کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے فرانسیسی عدالت نے ثالثی کے احکامت کے تحت فرانس میں قائم 20ہندوستانی اثاثوں کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے وزار ت مالیات نے کیئر ن کے حوالے سے میڈیا میں آرہی خبروں کو لیکر کہا کہ بھارت سرکار کو اس سلسلے میں کسی بھی فرانسیسی عدالت سے نوٹس نہیں ملا ہے بھارت کے ساتھ تنازع میں فرانس کی عدالت نے برطانیہ کی کیئرن کمپنی کے حق میں فیصلہ سنا دیا کیئرن کے حکام کے حوالے سے پتہ چلا ہے کہ برطانیہ کی اس کمپنی نے ثالثی حکم کے تحت 1.7عرب امریکی ڈالر کا حرجانہ اصولنے کے لئے ایک فرانسیسی عدالت میں فرانس میں موجود بیس ہندوستانی سرکار ی اثاثوں کو ضبط کرنے کا حکم حاصل کیا ہے لیکن اس سلسلے میں بھارت سرکار کو فرانسیسی وزارت سے کوئی بھی نوٹس یا حکم حاصل نہیں ہوا ہے اگر کوئی حکم ملے گا تو بھارت کے مفادات کی لڑائی کے لئے اپنے وکیلوں سے مشورہ کرے گیا ور مناسب قانونی قدم اٹھائے گی ساتھ ہی وزارت نے کہا کہ کیئرن کے سی ای او اور نمائندوں نے معاملے کو سلجھانے کے لئے بھارت سرکار سے رابطہ قائم کیا ہے اور سرکار دیش کے قانونی ڈھانچے کے دائرے میں تنازعہ کے ہل کے لئے تیار ہے عدالت نے دسمبر میں بھارت سرکار کو حکم دیا تھا کہ وہ کیئر ن اینرجی کو 1.2عرب ڈالر سے زیادہ کا سود اور جرمانہ چکائے حالانکہ بھارت سرکار نے اس حکم کو قبول نہیں کیا ہے ۔ (انل نریندر)

دیش میں میں یونیفارم سول کوڈ!

دہلی ہائی کورٹ نے دیش میں یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ)قانون کو لیکر بڑی بات کہی ہے عدالت نے کہا کہ دیش میں ایسے قانون کی ضرورت ہے جو سبھی کے لئے برابر ہو اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے مرکزی سرکار سے اس معاملے میں ضروری قدم اٹھانے کو کہا ہے فیصلے کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس پرتیما سنگھ نے اپنے فیصلے سے مرکزی قانون وزارت کو واقف کرائے جانے کی ہدایت دی جس سے وہ اس مسئلے پر مناسب قدم اٹھائے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس سنگھ نے کہا کہ بڑی عدالت نے 1985میں حکم دیا تھا کہ اس معاملے میں مناسب قدم اٹھانے کے لئے اشو کو قانون وزارت کے سامنے رکھا جائے حالانکہ تب سے تین دہائی کو عرصہ گزر چکا ہے اور یہ صاف نہیں کہ ہے اس بارے میں اب تک کیا قدم اٹھائے گئے ہیں وقت آگیا ہے آئین کی دفعہ 44کی روشنی میں یہ یونیفارم سول کوڈ کی طرف بڑھا جائے سپریم کورت نے وقتاً فوقتاً آرٹیکل 44کے تحت یونیفارم سول کوڈ کی ضرورت کو دہرایا موجودہ کیس جیسے معاملے بار بار ایسے آرٹیکل کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہین جو سبھی کے لئے برابر ہوں جو شادی ، طلاق، جانشینی وغیرہ جیسے پہلو¿ں پر برابر وصولوں کو لاگو کرنے میں مدد کرتے ہوں بتا دیں کہ آرٹیکل 36و 51کے ذریعے ریاست کو صلاح دی گئی ہیں امید کی گئی ہے کہ ریاستیں اپنی پالیسی طے کرتے ہوئے ان پر دھیان دیں گی انہیں میں آرٹیکل 44ریاست کو مناسب وقت آنے پر سبھی مذاہب کے لئے یکساں سول کوڈ بنانے کی ہدایت دیتا ہے ۔ کل ملاکر آرٹیکل 44کا مقصد کمزور طبقوں سے امتیاز کے مسئلے کو ختم کرکے دیش بھر میں مختلف تہذیبی اصولوں کے درمیان تال میل بڑھانا ہے ۔ کیا کامن سول کوڈ؟ابھی دیش بھر میں الگ الگ مذاہب کے لئے الگ الگ پرسنل لا ءہے اس کے حساب سے ان کی شادی ، طلاق گزارہ بھتا گوند لینے جیسی کاروائی وراثت سے متعلق حقوق وغیرہ طے ہوتے ہیں ، کامن سول کوڈ کے لاگو ہونے پر سب کے لئے ایک ہی قانون ہوگا اب یہ مانگ کیوں اٹھ رہی ہے ؟مسلم پرسنلاءمیںکثیر شادی کی چھوٹ ہے دیگر مذاہب میں ایک میاں بیوی با قاعدہ شادی قواعد لاگو ہیں ہندو عیسائی پارسی کے لئے دوسری شادی جرم ہے آئی پی سی کی دفعہ 494میں سات سال کی سزا ہے اسلئے کئی لوگ دوسری شادی کرنے کے لئے مسلم مذہب اختیار کر لیتے ہیں قومی سطح پر ایک پائیدار ویونیفائیڈ قانون مل سکے گا ۔ الگ الگ مذہبوں کے لئے الگ الگ قانون ہونے کے سبب غیر ضروری مقدمے بازی میں الجھنا پڑتا ہے ابھی شادی کی عمر الگ الگ مذاہب میں الگ الگ ہے قانون بننے کے بعد یہ ایک ہو جائے گی 1980میں سرخیوں میں چھائے شاہ بانو و بلقیس کیس میں سول یونیفار م کووڈ کا معاملہ اٹھا تھا تب سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بنیادی حق اور پالیسی ساز اصولوں کے درمیان بھائی چارہ تواز ن کا خیال رکھنا اہم بنیادی اصول ہے ۔ 1985میں شاہ بانو کس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ انتہائی دکھ کا موضوع ہے کہ ہمارے آئین کہ دفعہ 44ایک مردہ الفاظ بن کر رہ گئی ہے ۔ (انل نریندر)

12 جولائی 2021

شادی میں 50 لوگ اور شراب کی دوکانوں پر 500 کیوں؟

مسلسل کورونا کی تیسری لہر کی آگاہی کے باوجود سیاحتی مقامات ،بازاروں اور تمام پبلک مقامات پر بڑی تعداد میں لوگوں کے پہونچنے سے بھی مرکزی اور ریاستیں فکر مند ہیں ۔وہیں کیرل ہائی کورٹ نے شراب کی دوکانوں کے باہر بھیڑ جمع ہونے پر ناراضگی جتائی ہے ہائی کورٹ نے پوچھا ہے ایک طرف شادی میں صرف پچاس لوگوں کو آنے کی اجازت ہے تو دوسری طرف شراب کی دوکانوں کے باہر بھیڑ لگ رہی ہے وہاں شوشل ڈسٹنسنگ کی تعمیل نہیں ہو رہی ہے اورزیادہ تر لوگ بنا ماسک کے ہوتے ہیں عدالت نے کہا بھیڑ کے ذریعے آپ لوگوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ ہائی کورٹ کے جج جسٹس جیون رام چندرن نے کی یہ رائے زنی توہین عدالت معاملے میں سماعت کے دوران کی عدالت نے شراب کی دوان کے باہر بھیڑ کم کرنے کا بھی حکم دیا تھا لیکن دوکانوں کے باہر سماجی دوری نہیں بنائی جارہی ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کرفیو مین مل رہی ڈھیل سے سیاح خوب آرہے ہیں اور اب ان کو خطرہ نہیں رہا ۔اتراکھنڈ میں عالم یہ ہے کہ بھیڑ کے چلتے روزانہ بازاروں میں اور شاہراہوں پر جام لگ رہے ہیں اور شراب کی دوکانوں پرلمبی لمبی لائنیں لگرہی ہیں اورسڑکوں پر شراب پینا معمولاتی طور سے سماج کی ایمیج کو خراب کرتا ہے ریاستی حکومت یقین کرے کہ لوگوں کو سہولیا ت دی جائیں تاکہ ان کے سامنے کسی دوسر ے سامان کیطرح شراب بھی مہذب طریقہ سے خریدنے کا متبادل ہو کورٹ نے کہا کہ ہم کبھی نکلنا نہیں چاہتے لیکن یہ مسئلہ مسلسل بنا ہوا ہے ۔اس کا کوئی پائیدار نکالنا ہی چاہتے ہیں۔ (انل نریندر)

طالبان کے بڑھتے قدموں میں بھارت کی تشویش بڑھائی !

افغانستان سے پوری طرح افواج ہٹانے کے امریکی فیصلے او ر طالبان کے برھتے قبضہ نے بھارت کی تشویش بڑھا دی ہے افغانستان کے سب سے بڑے باغ راج ایئربیس سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد طالبان کے حوصلے کچھ زیادہ ہی بلند ہو گئے ہیں ۔اور وہ وہاں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے طالبان کے جنگباز جس طرح سے عام شہریوں ،عورتوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے20 برسوںمیں طالبان نے کچھ سیکھا نہیں ہے یہ بات پوری دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت کے لئے پریشانی کھڑی کرنے والی جس رفتار سے طالبان آگے بڑھ رہا ہے اس سے بھارت کا فکرمند ہونا فطری ہے طالبان اور پاکستان کے قریبی رشتے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں بھارت کے لئے جموں کشمیر می دہشت گردی سے تیزی سے آسکتی ہے جموں کشمیر میں داعش جیسی کٹر اسلامی شدت پسند کا نیا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔دیش قریب ایک تہائی حصہ پر طالبا ن نے قبضہ کر لیا ہے افغانستان میں تیزی سے بگڑتے حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت نے اپنے شہریوں اور ملازمین کو واپس بلانے پر غور کرنے پر فیصلہ لیا ہے ۔افغانستان میں 1700 قریب ہندوستانی رہتے ہیں ہندوستانی سفارت خانہ نے اپنی ایڈوائزری میں کہا افغانستان میں موجود ہندوستانی غیر ضروری آنے جانے اور بڑے شہروں سے باہر جا نے سے بچیں اگر جانا ضروری ہو تو ہوائی جہاز سے جائیں کیوں کہ سڑک کا راستہ محفوظ نہیں ہے ۔ہندوستانی شہریوں پر خاص طرر سے اغوا کرنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق 2001 میں طالبان کے جواز کے بعد سے افغانستان میں بھارت کی وسیع پیمانہ پر موجودگی بڑھی ہے اور خانہ جنگی کی آگ سے جھلس رہے افغانستان میں سیکورٹی کے حالات بیحد خراب ہوتے جارہے ہیں اسی وجہ سے وہاں موجود اپنے شہریوں اور ملازمین کو واپس بلانے کے پلان پر نئی دہلی میں غور خوض ہوا ہے ۔بھارت میں قابل سفارت خانہ کے علاوہ قندھار مزار شریف میں قونسل خانہ ہیں جہاں ان کے 500 سے زیادہ ملازم کام کرتے ہیں ۔ہیرات اور جلال آباد میں بھارت کے دو قونسل خانہ بند کئے جاچکے ہیں یہ صاف نہیں ہو پایا کہ وہاں سے سارے ملازمین لوٹے ہیں یا نہیں ۔افغانستان سے نیٹو اور امریکی فوجیوں کی واپسی کے ساتھ طالبان کی بڑھتی جیت کو دیکتے ہوئے نارتھ افغانستان میں غیر ملکی قونسل خانوں پر تالے لگنے شروع ہو گئے ہیں افغانستان کے چوتھے سب سے بڑے شہر مزار شریف میں ترکی اور روس کے بھی سفارت خانہ بند ہونے کی خبر ہے ۔جہاں ایران ،بھارت ،پاک ،نے اپنے قونسل خانوںمیں کام کاج بند کر دیاہے جہاں تک بھارت کا سوال ہے وہ اپنی حفاظت کے لئے فکر مند ہے اگلے ہفتہ وزیر خارجہ جے شنکر اورروسی وزیر خارجہ لاواروف کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر بات چیت ہونے والی ہے ۔ (انل نریندر)

تیسری لہر اگر آتی ہے تو اس کیلئے ہم خود ذمہ دارہوں گے!

کورونا وائرس کی تیسری لہر کو لیکر اب امکانات اور بڑھتے جارہے ہیں۔ہیلتھ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح سے لوگ گھومنے کے لئے پہاڑوں پر جارہے ہیں خاص طور پر مسوری،شملہ ،نینی تال وغیرہ اسے دیکھتے ہوئے دیش میں کورونا کی تیسری لہر جلد دیکھنے کو مل سکتی ہے ۔جس طرح سے باہر لوگوں کی بھیڑ بڑرہی ہے اس کاآنے والے دو چار ہفتوں میں اثر دیکھنے کومل سکتا ہے ۔انفیکشن کے اثرات دکھائی دینے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اس لئے آنے والے دو سے چار ہفتہ اہم ہو سکتے ہیں۔خاص کر جس طرح لوگ اس وقت سیاحتی مقامات پر جیسے شملہ منالی ،وغیرہ جگہوں پر گھومنے جارہے ہیں اور ماسک وشوشل ڈسٹنسنگ ندارد ہے ایسے میں تیسری لہر کا آنا کوئی حیرانی کی بات نہ ہوگی حالانکہ اگلے دو سے چار ہفتے میں کورونا کیس بڑھ سکتے ہیں ۔وہیں قومی سطح پر ابھی کورونا کا زیادہ اثر دیکھنے کو نہ ملے ۔وزارت صحت میں جوائنٹ سکریٹری لو اگروال کے مطابق پابندیاں ہٹانے پر لوگ یاترا کرنے پر نکل پڑے ہیں ۔راجدھانی دہلی میں لکشمی نگر صدر بازار ،لاجپت نگر ،غفار مارکیٹ جیسے مصروف ترین بازاروں میں بھیڑ دیکھی جا سکتی ہے ۔لوگ کورونا سے بچنے میں احتیاط نہیں برت رہے ہیں ۔جس وجہ سے دہلی سرکار کے ایس ڈی ایم اور پولیس کو بازارتک بند کرانے پڑے ہیں جبکہ دوکانداروں کا کہناہے کہ ہم اپنی دوکان میں گراہکوں کو ماسک پہن کر آنے کوکہتے ہیں لیکن وہ سڑک پر گھوم رہے ہیں انہیں کیسے روکا جائے ۔انہیں خود اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے یہ سب دیکھ کر لگتاہے کہ بھارت میں وبا جیسا کوئی بیماری نہیں ہے ۔لوگوں کو اس بات کا بھی خوف نہیں ہے کہ ذرا سی لاپرواہی ان کو پھر بڑے خطرے کی طرف لے جا سکتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہوئے ایسا خطرہ کیوں مول لے رہے ہیں ۔اس میں کوئی دورائے نہیںکہ لمبے عرصہ سے گھروں میں قید سے لوگوں کی ذہنی حالت متاثرہوئی ہے لیکن ابھی جان بچانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے وبا سے بچاو¿ کے لئے ماسک پہنیں بار بار ہاتھ دھوئیں اور ایک دوسرے سے دوری رکھیں لیکن سیاحتی مقامات سے لیکر بازاروں میں ان قواعد کی دھجیاں اڑرہی ہیں ۔شہروں میں سامنے آیا ہے کہ دیش میں 24 فیصدلوگ ماسک نہیں پہن رہے ہیں ۔تو 45 فیصد لگا رہے ہیں ۔بہرحال جہاں تک سماجی دوری بنائے رکھنے کی بات ہے اس معاملے میں بھی 11 فیصد لوگ اس قواعد کی تعمیل کررہے ہیں اس درمیان تشویش بڑھانے والی بات یہ ہے کہ کورونا کی دوسری شکل بھی سامنے آگئی ہے ایسے میں بہتر ہے کہ ابھی ہم اپنی حفاظت پر دھیان دیں ورنہ وبا پر جتنا بھی قابو پایا گیا ہے اس پر پانی پھر جائے گا تیسری لہر زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے اگر وبا بڑھتی ہے اس کے لئے سرکار نہیں ہم خود ذمہ دار ہوںگے ۔ (انل نریندر)

11 جولائی 2021

بڑی کمپنیوں کی بمپر کمائی ، چھوٹی برباد!

کوویڈ وبا کا دور بڑی کمپنیوں کے لئے بہتر موقع ثابت ہو رہا ہے جبکہ چھوٹی کمپنیاں شکار بن رہی ہیں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے بعد بڑی کمپنیوں کے کارو بار میں اضافہ دکھائی دیا جبکہ چھوٹی کمپنیوں کو اپنا دھندہ بند کردینے پڑا ریزرو بینک نے اپنی حالیہ مہانہ رپورٹ میں بتایا کہ اکتوبر 2020کے بعد مالی بحران سے نکلنے کی کوشش میں لگی صنعتوں کو کورونا کی دوسری لہر نے بڑا نقصان پہونچایا اس دوران معیشت میں بہتری کے لئے دو لاکھ کروڑ روپئے کی چپت لگی اس بار چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میںاثر دکھائی دیا ہے جس سے چھوٹے دکانداروں پر دھندہ چوپٹ ہوگیا لوکل سرکل کی رپورٹ کے مطابق وبا نے دیش نے بھر موبائل کی دس ہزار دکانین بند ہوچکی ہیں جو قریب کل دکانوں کا 8فیصد ہے ان کی جگہ بڑی کئی کامرس کمپنیوں نے لے لی دیش کی 49فیصدی اسٹارٹ اپ اور ایم ایس ای کے پاس فنڈ نہیں بچا اور وہ جولائی سے کام بند کرنے اور لاگت گھٹائے اور ملازمین کی تعداد کرنے پر مجبور ہور رہی ہیں22فیصدی کے پاس تین مہینے کا فنڈ بچا ہے جب کہ 41فیصدی کے پاس محذ ایک مہینے پروڈیکشن چلانے کا فنڈ ہے ماہر اقتصادیا ت کے مطابق کسی معیشت میں جب چھوٹی کمپنیوں کا سائز بڑھتا ہے تو روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں وبا کے بعد بھارت میں چھوٹی کمپنیوں کا کاروبار زیادہ متاثر ہوا ہے جن سے روزگار کے مواقع گھٹ گئے ہیں اس کے علاوہ ورک فروم ہوم جیسے سسٹم سے کیب اور ٹیکسی ڈرائیوروں اور امالکوں کی کمائی بھی ٹھپ ہوگئی ہے پچھلے پندرہ مہینوں سے اولا ۔ اوبر ،ٹیکسی مالکوں کی کمپنی تقریباً سفر ہوگئی جو زیادہ تر آفس جانے والے لوگوں پر منحصر تھیں ۔

ہتھیار کی بر آمدگی سزا کےلئے ضروری نہیں!

سپریم کورٹ نے قتل کے ایک ملزم کو قصور وار بر قرار رکھتے ہوئے کہا کہ ایک ملزم کو قصور وار ٹھہرانے کے لئے جرم میں استعمال کئے گئے ہتھیار کی بر آمدگی کی شد ضروری نہیں ہے جسٹس ڈی وائی چندر چو اور ایم آر شاہ کی بنچ نے کہا کہ معمولی تضاد جو معاملے کی تہہ تک نہیں جاتے اور یا تضاد معنی جو اصلاً تضاد نہ ہوں ایسے گواہوں کے ثبوت کو مستر دنہیں کیا جا سکتا اور اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا معاملے میں ملزم کو 28جنوری 2006کو ہوئے واقعے میں رشی پال سنگھ کے قتل کے لئے آئی پی سی کی دفعہ 302/34کے تحت قصور وار ٹھہرا یا گیا تھا اپیل میں ملزم کی طرف سے اہم دلیل یہ تھی کہ فورن سک بیلسٹک رپورٹ کے مطابق واردات کی جگہ سے ملی گولی بندوق سے گور سے میل نہیں کھاتی اس لئے مشتبہ بندوق کے استعمال کی بات مشتبہ خیز ہے اس لئے شبہہ کا فائدہ متعلق کو دیا جانا چاہئے لیکن عدالت نے اس دلیل کو خارج کر دیا اور کہا کہ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ملزم سے بر آمد بندوق کا استعمال قتل کے لئے نہیں کیا گیا ہوسکتا ہے اس لئے قتل کے لئے استعمال اصلی ہتھیار کی بر آمدگی کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور اسے مانا جاسکتا کہ کوئی بر آمدگی ہوئی نہیں لیکن ایک ملزم کو قصور وار ٹھہرانے کےلئے جرم میں استعمال ہتھیار کی بر آمدگی ایک ضروری شرط نہیں ہے معاملہ یوپی کے ہاتھرس کا ہے ۔ (انل نریندر)

حد بندی کے بعد جموں کشمیر میں کیا بدل سکتا ہے ؟

حد بندی ہونے سے جموں کشمیر میں سیاسی تصویر بدل سکتی ہے ؟اس کاروائی کا کیا اثر ریاست پر کس طرح پڑے گا، کیا اس سے کسی علاقے کو زیادہ فائدہ ملے گا؟کچھ سیاسی پارٹیاں حد بندی کاروائی کے پورے ہونے سے پہلے ہی اس کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ حد بندی سے ریاست میں کتنی اسمبلی سیٹیں بڑھنے کا امکان ہے یہ سوال اس وقت اٹھے ہیں جب ایسا اتفاق رائے بنتا دکھائی دے رہا ہے کہ جموں کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹنے کے بعد سیاسی کاروائی حد بندی عمل کے پورے ہونے کے فوراً بعد شروع ہوسکتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حال میں جموں کشمیر کے سیاست دانوں سے ہوئی ملاقات میں بھی سرکار کی طرف سے کہا گیا کہ حد بندی جلد مکمل ہوجائے گی 5اگست 2019کو جب جموں کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹاتے ہوئے اس سے ریاست کا درجہ واپس لے لیا گیا تو اس کے بعد یہ دو مرکزی حکمراں ریاستیں جموں کشمیر اور لداخ وجود میں آگئے مرکز نے یہاں نئے سرے سے اسمبلی اور پارلیمنٹ کی سیٹوں کو بنانے کے لئے پچھلے سال فروری میں ایک خصوصی حد بندی کمیشن بنایا تھا ۔ تین نفریز کمیشن کو سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج رنجن پرکاش دیسائی اس کی سربراہی کر رہے ہیں ۔ کمیٹی کے ایک سال میں رپورٹ دینی تھی لیکن کوویڈ کے سبب ایسا نہیں ہوپایا اپنی رپورٹ دینے کے لئے اس نے ایک سال کا وقت مانگا جو دے دیا گیا ۔ پچھلے کچھ دنوں سے تمام سیاسی پارٹیوں اور حکام کے ساتھ حد بندی کمیشن کی مسلسل میٹنگ ہو رہی ہیں ۔ مانا جا تا ہے کہ اس سال اگست تک حد بندی کمیشن اپنی رپورٹ دے سکتا ہے ۔ حد بندی کیا ہوتی ہے ؟حد بندی آبادی کی بدلی شکل کو دیکھتے ہوئے ان تبدیلیوں اور اس کے دیگر پہلو¿ں کو بھی نئے سرے سے تجویز کرنے کا ایک عمل ہے ہر مردم شمار ی کے بعد حد بندی کی کاروائی شروع کی جاتی ہے جموں کشمیر میں حد بندی اس لئے کہ دوسرے حصو ںسے الگ تھا کیونکہ آرٹیکل 370کے تحت ایسا کیا گیا تھا مخصوص اختیار ریاست اسمبلی کے پاس تھا حد بندی کی بنیاد پر کم عوامی نمائندگی والے علاقے میں توازن قائم کرنے کی کوشش ہوتی ہے ساتھ ہی ریزرو سیٹوں کی نمائندگی کو نئے سرے سے متعین کرنے کا راستہ کھلتا ہے ۔ جموں کشمیر میں آخری بار حد بندی 1995میں ہوئی تھی موجودہ پس منظر میں چناو¿ میں جو کشمیر میں بہتر کار کردگی دکھاتا ہے وہ فائدہ میں رہتا ہے لیکن نئی حد بندی کے بعد اگر جموں کے حق میں اعداد و شمار زیادہ آگئے تو اس کا اثر پورے علاقے کی سیاست پر پڑ سکتا ہے ۔ کشمیر کی سیٹیں لداخ کے بھی علاقے میں آتی تھیں جو پہلے ہی الگ ہو چکا ہے پچھلے دنوں ضلع ڈیولپمنٹ کونسل کے چناو¿ میں اس کا صاف اثر دیکھا گیا ۔ جموں میں بی جے پی تقریباً پوری جیت حاصل کی تو کشمیر میں گپ کار اتحاد نے بازی ماری بی جے پی کا ہمیشہ سے خیال رہا ہے کہ اگر جموں کے حق میں اعداد و شمار کا حساب کتاب آگیا تو جموں کشمیر میں اکیلے حکمرانی کا راستہ کھل سکتا ہے اور ٹھیک یہی اندیشہ کشمیر کی پارٹیوںمیں بھی ہے اور وہ موجود فائدہ کسی بھی صورت میں کھونا نہیں چاہتی ۔ یہی وجہ حد بندی کاروائی پر اپنی رضا مندی دیں یا نہیں اسے لیکر کئی دنوں تک سیاسی پارٹیوں میں شش و پنج کی حالت بنی رہی ۔ سیاسی پارٹیوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اگر اس کے پاس کوئی حقائق پر مبنی اعتراض ہو تو اسے ضرور سنا جائے گا ۔ (انل نریندر)

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم تری...