Translater

04 جولائی 2015

مہلا کا جسم اس کا مندر ہے ریپ کیس میں سمجھوتہ نہیں

پچھلے دنوں مدراس ہائی کورٹ کے ایک جج نے آبروریزی معاملے میں ایسا ہی فیصلہ دیا جس سے پورے دیش میں ہلچل مچ گئی۔ اس فیصلے میں ایک آبروریز ملزم کو اس بنیاد پر ضمانت دے دی تھی کہ وہ متاثرہ سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کرے۔اب عزت مآب سپریم کورٹ نے ایک دوسرے فیصلے کے سلسلے میں اس فیصلے کے متن کی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ عدالت نے سخت پیغام دیتے ہوئے بدھوار کے روز کہا کہ آبروریزی یا عصمت دری کی کوشش کے معاملوں میں کسی بھی طرح کا لچیلا نقطہ نظر اپنا یا ثالثی کا نظریہ آج بہت بڑی بھول ہوگی۔ جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ نے کہا جب انسانی جسم چھوا جاتا ہے تو اس کی بیش قیمتی عصمت ضائع ہوجاتی ہے۔ جسٹس دیپک مشرا کا کہنا ہے کہ آبروریزی کے معاملے میں سمجھوتہ کرنے کی کوشش کسی خاتون کے وقار کے خلاف ہے۔ خاتون کا وقار کبھی نہ ضائع ہونے والا زیور ہے اور کسی کو بھی اسے گندہ کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ ایسے معاملوں میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ خاتون کی عزت کے خلاف ہے جو اس کے لئے سب سے زیادہ اہم ہے۔موجودہ معاملے میں عدالت نے کہا کہ وہ صاف کرنا چاہتے ہیں کہ آبروریزی یا آبروریزی کی کوشش کے معاملے میں کسی بھی صورت میں سمجھوتے کے خیال کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ یہ ایک خاتون کے جسم کے تئیں جرم ہے جو اس کا اپنا مندر ہے ۔ یہ ایسا جرم ہے جو پوری زندگی اسے احساس دلاتا رہے گا اور متاثرہ کی ساکھ پر دھبہ لگتا ہے۔ عدالت نے کہا عزت ہی ایسا بیش قیمتی زیور ہے جس کے بارے میں زندگی میں تصور کیا جاسکتا ہے اور کسی کو بھی مٹانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے 7 سالہ متاثرہ کے والدین اور ملزم مدن لال کے درمیان سمجھوتے سے متاثر ہونے کے لئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی بھی تنقید کی۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ملزم کو قصوروار قراردیا اور اس کی پانچ سال کی قید کی سزا کو منسوخ کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے سزا کم کرنے کے پیچھے یہ وجہ ہے کہ ملزم نے متاثرہ خاندان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرلیا تھا۔ جسٹس وکشا نے عدالتوں سے درخواست کی کہ آبروریزی جیسے گھناؤنے معاملوں میں وہ نرم رخ قطعی نہ اپنائے اور صلاح سمجھوتے کے لئے مجبور نہ کرے۔ عدالت نے کہا عصمت دری کی شکار خاتون کے اس بدن پر گھناؤنا ظلم ہے جسے وہ اپنا مندر سمجھوتی ہے۔ یہ ایسا گھناؤنا جرائم ہے جس سے زندگی بھر دم گھٹتا رہتا ہے اور متاثرہ پر داغ لگ جاتا ہے۔ آبروریزی کے معاملوں میں مجرم اور متاثرہ کے درمیان سمجھوتہ کرنے کا چلن سماج کی سامنتی اور مردوں کی سوچ کا ہی نتیجہ ہے۔
(انل نریندر)

جنتا کے پیسوں کی’آپ‘ میں بندر بانٹ

سادگی کی دہائی دینے والی عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کا اقتدار سیوا کے بجائے میوہ خانے اور کھلوانے کی پالیسیوں پر چلنے لگا ہے۔ عام آدمی پارٹی صاف سیاست کرنے کے دعوے کے وعدے سے اقتدار میں آئی تھی۔ کیجریوال کی مہربانی سے ’آپ‘ رضاکار اقتدار کی ملائی کاٹ رہے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلی اور ان کے کابینہ وزرا کے دفتروں میں 200 لوگوں کا اسٹاف کام کررہا ہے۔ بھاجپا ممبر اسمبلی اوم پرکاش شرما کے سوال پر اس کی تحریری جانکاری بجٹ سیشن کے آخری دن منگل کو دی گئی تھی۔ جواب میں بتایا گیا کہ صرف سی ایم اور میں کل79 اسٹاف اورڈائیوٹڈ کیٹیگری میں 67 افسر ہے اور معاون ٹرمنس اسٹاف کی تنخواہ 18000 سے 15 لاکھ روپے تک ہے۔ مثلاً سی ایم کے پرائیویٹ سکریٹری وجے کمار 37400 سے 67 ہزار کے گریڈ پر ہیں جن کی کل تنخواہ 98627 روپے ہے جبکہ جوائنٹ سکریٹری کی حیثیت سے مقرر مرلی دھرن کو 15600 سے 3900 روپے کے گریڈ کے مطابق محض49 ہزار روپے ملتے ہیں۔ عام جنتا کی بات کرنے والی ’آپ‘ سرکار میں آپ رضاکار جم کر اقتدار کی ملائی کا ذائقہ لے رہے ہیں۔ کثیر منزلہ پلیئرس بلڈنگ یعنی دہلی سچیوالیہ میں سرکار کی مہربانی سے مختلف دفتروں میں جمے عام رضاکار بھلے ہی جنتا کے دکھ تکلیف کا ازالہ کرنے کا دعوی کرتے ہیں لیکن انہی سے اکھٹے کئے گئے ٹیکس سے بھاری تنخواہ لے کر الگ طرح کا کلچر پیش کررہے ہیں۔ ’آپ‘ رضاکار کی سرکار میں دو طرح کی تقرریاں کی گئی ہیں۔ پہلے زمرے میں پکی اور دوسرے زمرے میں ٹھیکے کی بنیاد پر تقرری کی گئی ہے۔ اس بنیاد پر وہ60 ہزار سے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حکومت سے لے رہے ہیں۔ معاملہ یہیں نہیں رکا۔ سرکار کی طرف سے انہیں بنگلہ ،گاڑی جیسی سہولت بھی دستیاب کرائی جارہی ہے۔ ان میں زیادہ تر ’آپ‘ کے رضاکار شامل ہیں جو کیجریوال کے ماتحت انڈیا اگینسٹ کرپشن کے دور سے جڑے ہیں۔ حلف کے بعد کیجریوال نے کہا کہ ان بنیادی سہولیات کے بغیر کام کاج نہیں ہوسکتا۔ ان کی صاف گوئی بہت سے لوگوں کو بھائی تھی لیکن اب مسلسل سچائی سامنے آرہی ہے کہ سرکاری مراعات لینے کا سلسلہ صرف کیبنٹ تک محدود نہیں ہے بلکہ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں اور ورکروں کو گھر ، گاڑی کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے کی تنخواہ سے فیضیاب کیا جارہا ہے۔ وزیر اعلی کے سیاسی اور میڈیامشیروں کو جس طرح گھر ، گاڑی اور لاکھوں روپے کی تنخواہ پر مقرر کیا گیا ہے صاف ہے کہ عام آدمی پارٹی اور ان کی سرکار اسی طرح کے وسائل کی بندر بانٹ میں لگ گئی ہے جیسا کرنے کے الزام وہ دوسری پارٹیوں پر لگاتے رہے ہیں۔ اسی طرح جس دھنگ سے درجنوں ممبران اسمبلی کو پارلیمانی سکریٹری بنا کر انہیں سرکاری سہولیات دی گئیں ہیں اس کی مثال تو دہلی میں کسی اور حکومت کے دور میں دیکھنے کو نہیں ملی۔کرپشن کا مطلب صرف کروڑوں کے گھوٹالے نہیں ہوتے۔ آخر یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے؟ جس شخص کے پاس گاڑی چلانے تک لائسنس نہ رہا ہو اسے کیجریوال سرکار ڈرائیور مقرر کردے اور اسے لائسنس حاصل کرنے کے لئے تین ماہ سے ایک سال کا وقت دے ،ظاہر ہے اپنے نیتاؤں ،ممبران اسمبلی ،رضاکاروں پر برسائی جارہی ان رعایتوں کا ہرجانہ دہلی کی جنتا سے ہی وصولا جائے گا۔ حالانکہ موٹی تنخواہ کا فائدہ اٹھا رہے ایک ’آپ‘ رضاکار کا کہنا ہے کہ اس میں حرج کیا ہے؟ ہم سرکار کے کام کاج سے دن رات جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس سوال پر کیا جنتا کی گاڑھی کمائی کو اس طرح ’آپ‘ رضاکاروں ،ممبران اسمبلیوں پر لٹانا کہاں تک جائز ہے، وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ انہی چند قدموں کی وجہ سے جنتامیں اب کیجریوال کی نکتہ چینی شروع ہوچکی ہے۔
(انل نریندر)

03 جولائی 2015

’’گے‘‘ یعنی ہم جنسی کو قانونی حیثیت دینے کی تیاری!

سماج میں ٹرانس جینڈر شادی کے اشو کو لیکر گھمسان مچا ہوا ہے۔ ہندوستانی آئین کی دفعہ377 یعنی ہم جنسی رشتوں کو جرائم کے زمرے میں رکھتی ہے۔ حالانکہ دنیا کے کئی ملکوں میں ’’گے‘‘ میرج کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور اس کے مطابق اسے جرائم کے زمرے سے نکال دیا ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی بڑی عدالت کے ذریعے اپنے دیش میں ہم جنسی شادی کو جائز ٹھہرایا ہے اور یہ پورے امریکہ میں قابل تسلیم ہوگیا ہے۔ آسٹریلیا میں بڑی اپوزیشن پارٹی لیبر پارٹی نے ہم جنس افراد میں شادی کو قانونی حیثیت دینے سے متعلق ایک ریزولوشن کو پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی سے وزیر اعظم ٹونی ایبٹ کے احتجاج کے باوجود لیبر پارٹی کے ریزولیوشن کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا پڑا۔آئر لینڈ میں ایک ماہ پہلے ہوئے ریفرنڈم میں اس طرح کی روایتوں کو بھاری اکثریت کے ساتھ حمایت ملی جبکہ اس روایتی کیتھولک دیش میں دو دہائی پہلے تک ’گے‘ رشتوں کو لیکر کافی امتیاز برتا جاتا تھا ۔ ادھر ہمارے دیش میں آئینی وزیر سدانند گوڑا نے منگل کے روز کہا بھارت نے ’گے ‘ شادیوں کو جائز قرار دینے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پلٹنے کا اشو ان کی وزارت کے سامنے زیرغور نہیں ہے۔ان کا یہ بیان امریکہ کی بڑی عدالت کے ذریعے اپنے دیش میں ’گے‘ شادیوں کو جائز ٹھہرانے کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اشو پر ایک اخبار نے ان کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اخبار نویس نے رضامندی ظاہر کی کہ اس اشو کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ گوڑ نے مبینہ طور پر اخبار سے کہا کہ بھارت کی آئی پی سی کی دفعہ377 کو ختم کر سکتا ہے اور ’گے‘ شادیوں کو جائز قرار دینے پر غور کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی یہ اشو آئے گا تب ہم صرف بحث کے بعد آگے جا سکتے ہیں۔ یہ بیحد حساس مدعا ہے اسے اتنی آسانی سے نہیں عمل میں لایا جاسکتا۔ سماج کی قومی دھارا سے ٹرانس جینڈر فرقے کو جوڑنے اور ان کے سماجی اختیارات سے وابستہ بل کو مرکزی سرکار پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پیش کرسکتی ہے۔ یہ بات سماجی انصاف و تفویض اختیارات وزیر تھاور چند گہلوت نے کہی۔ ٹرانس جینڈر کے ایک پروگرام میں شامل ہونے آئے گہلوت نے کہا کہ ہمارے کلچر میں ہمیں امتیاز برتنا نہیں سکھایا جاتا۔ آنے والے سیشن میں ٹرانس جینڈر کیلئے تیار ہورہے بل کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ حالانکہ پچھلے سیشن میں گہلوت نے اس سے جڑے بل کو واپس لینے کی بات کہی تھی۔ ہمارا سماج اس طرح کی شادی پر بٹا ہواہے۔ کچھ لوگ اسے بیماری اور غیر فطری رشتے مانتے ہیں تو کچھ اس کو قبول کرنے کی وکالت کررہے ہیں۔ ایسے نازک معاملے میں مرکزی سرکار کو جلدی نہیں کرنی چاہئے۔ سبھی متعلقہ زیر غور دفعات کو سمجھنا ہوگا اور پھر اگر کوئی نتیجہ نکلتا ہے تو آگے بڑھنے پر غور ہوسکتا ہے۔ ویسے تو ’گے‘ میرج بھارت میں شروع ہوچکی ہیں چاہے وہ غیر قانونی، جائز ہوں۔
(انل نریندر)

کیا دنیامیں پھر آسکتی ہے 1930 جیسی مندی

ریزرو بینک کے گورنر رگھو راجن ان اہم ماہر اقتصادیات میں سے ہیں جنہوں نے 2008 کی اقتصادی مندی کی آہٹ کو بھانپ لیا تھا۔ اس لئے موجودہ عالمی اقتصادی پس منظر پر ان کی اس وارننگ کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کہ دنیا کی معیشت ایک بار پھر 1930 جیسی سنگین مندی کے دور میں پھنس سکتی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں سے کہا کہ بحران سے نکلنے کیلئے نئے اقدام تلاشنے ہوں گے۔ لندن بزنس اسکول میں ان تقریر کو اس لئے بھی سنجیدگی سے لیاگیا ہے کہ ان کی تشویش کی وجہ ترقی پذیر ممالک کی افراط زر پالیسیاں ہیں جن کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا حالانکہ بھارت میں حالات الگ ہیں جہاں آر بی آئی کو ابھی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے پالیسی ساز شرحوں میں کٹوتی کرنی ہے سال1929 میں ہوئی مہا مندی کا دور 1939-40 تک چلا تھا۔ مندی کا آغاز 29 اکتوبر 1929 میں امریکہ کے شیئر بازار میں گراوٹ سے ہوا تھا۔گراوٹ کاذہنی طور پر اتنا اثر پڑا کہ لوگوں کے اپنے خرچ میں 10 فیصدی کی کٹوتی کردی تھی جس سے مانگ میں بڑی گراوٹ آئی۔ اس دوران 5 ہزار بینک بند ہوگئے تھے۔ امریکہ میں اسی سال پڑے سوکھے نہیں ذراعتی پیداوار 60 فیصد تک گھٹا دی تھی۔ آہستہ آہستہ اس مہا مندی کا پوری دنیا پر گہرا اثر پڑا اور اس سے نکلنے میں کافی لمبا وقت لگا۔2008 کی مندی میں امریکہ یوروپ کے بینک دیوالیہ ہوئے تھے تو اس کے پیچھے یہی وجہ تھی کہ قرض لینے کے لئے بینکوں سے بے تحاشہ قرض لینے والوں کی دوڑ لگ گئی تھی۔ شکر ہے کہ اپنے بڑے قرض دینے کے ریزروبینک کے قواعد اب بھی کافی سخت ہیں اس لئے انہونی نہیں ہوئی۔ ویسے خدشہ بھی نہیں ہے لیکن صرف اس وجہ سے نہیں کہ راجن کی تشویش دراصل کرنسی کے گرنے کی کوشش کے اسباب بھی ہیں۔ کرنسی کے گھٹنے سے ایک دیش کو نقصان ہوتا ہے تو دوسرا اپنی برآمدات بڑھتا ہے۔ مجبوراً اسے بھی اس راستے پر چلنا پڑتا ہے۔ مہا مندی کے دور میں تب بھی بڑی معیشتوں میں اپنی کرنسیوں کو گھٹانے کی دوڑ لگی تھی۔ رگھو رام راجن کی آگاہی سچ ہوتی دکھائی پڑ رہی ہے۔ گریس کے وزیر اعظم ایلکسس نے پیر کو گریس کے سبھی بینکوں کو بند رکھنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایم مشینوں سے پیسہ نکالنے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ ہفتے بھر تک بینکوں میں کام کاج نہیں ہوگا۔ اس دوران کھاتہ ہولڈروں کو دن میں 60 یورو سے زیادہ نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لوگ اجازت کے پہلے اپنے پیسے کو دیش کے باہر نہیں بھیج سکیں گے۔ رگھو راجن کے نظریات کے برعکس آئی ایم ایف ریسرچ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ صرف کرنسی پالیسی آسان بنانے کو ہی مالیاتی عدم استحکام کیلئے قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ دنیا کے سامنے بڑے مسئلے مالیاتی سسٹم میں عدم استحکام کی حفاظت کے لئے موثر اور قواعد سسٹم کے سبب پیدا ہوا۔سوال تو یہ ہے کہ کرنسی پالیسی اور مالیاتی بازار کے ثالثوں کی نگرانی کے سسٹم کو کیسے چلایا جائے گا تاکہ مستقبل میں بحران دوبارہ نہ کھڑے ہوسکیں۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2015

ویاپم گھوٹالے کی الجھتی گتھی! سپریم کورٹ میں معاملہ

مدھیہ پردیش کمرشل امتحان منڈل (ویاپم) کے داخلے اور بھرتی گھوٹالے کے دو اور ملزمان کی موت کو ریاستی سرکار بھلے ہی ایک فطری موت بتا رہی ہو لیکن اس سے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ پردیش کے کمرشل کالجوں میں داخلہ امتحان ، پولیس اور جنگلاتی محافظ اور ناپ تول انسپکٹر سے لیکر ٹھیکہ ٹیچروں کی بھرتی امتحان کا انعقاد کرنے والے ویاپم کے گھوٹالے کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی تک نے جبلپور ہائی کورٹ کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ اب تک اس گھوٹالے سے وابستہ 23 گواہوں یا ملزمان کی اچانک موت ہوچکی ہے۔ کانگریس لیڈر دگوجے سنگھ نے اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے بڑی عدالت کی نگرانی میں معاملے کی سی بی آئی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے اور سپریم کورٹ میں اس مسئلے پر عرضی دائر کی ہے۔ منگلوار کو دگوجے نے کہا کہ معاملے سے وابستہ کم سے کم 24 ملزمان اور گواہوں کی اب تک پراسرار حالات میں موت ہوجانے کے ساتھ یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ کچھ رپورٹوں میں ایسی اموات کی تعداد40 تک پہنچنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے کہا کہ فی الحال گھوٹالے کی جانچ کررہی ریاستی پولیس کی اسپیشل تفتیشی ٹیم نے معاملے میں اس کے جواز اور پولیس سول سروس و عدلیہ کے سینئر افسران اور ساتھ ہی بھاجپا لیڈروں کے ملوث ہونے کے چلتے لاچاری دکھائی ہے۔ دگوجے نے کہا جس معاملے میں پردیش کے وزیر اعلی کا نام بھی شامل ہو، ریاستی سرکار کے تحت آنے والی کوئی ایجنسی جانچ نہیں کرسکتی اس لئے سی بی آئی جانچ ہونی چاہئے۔ یہ معاملہ کچھ کچھ اترپردیش کے قومی دیہی ہیلتھ مشن گھوٹالے کی راہ پر چلتا دکھائی دے رہا ہے، جس میں بھی کئی ملزمان اور گواہوں کی مشتبہ حالات میں موت ہوگئی تھی۔ ظاہر ہے اہم گواہوں اور ملزمان کی موت ہوجانے سے نہ صرف جانچ متاثر ہوسکتی ہے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس بڑے نیٹورک کا خلاصہ بھی نہ ہوپائے جس کے ذریعے اسے انجام دیا جارہا تھا۔ مثلاً جن دو ملزمان کی ابھی موت ہوئی ہے، ان میں سے ایک 29 سالہ اسسٹنٹ پروفیسر نریندر سنگھ تومر کے پتا کا الزام ہے کہ ان کا بیٹا کچھ بڑے ناموں کو سامنے لانے والا تھا۔ یہ معاملہ حالانکہ دو سال پہلے اجاگر ہوا لیکن جانچ سے یہ حقائق سامنے آئے کہ پچھلے 7-8 برسوں کے دوران کم سے کم ایک ہزارلوگوں کی غلط طریقے سے یا تو نوکریوں میں بھرتی ہوئی یا انہیں میڈیکل یا ویٹنری کالجوں میں داخلہ دلایا گیا۔ یہ گھوٹالہ کتنا بڑا ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس معاملے میں ایک سابق امتحان عملہ سمیت کئی افسران اور نیتاؤں کی گرفتار ہوچکی ہے۔ گورنر کے ایک ملزم بیٹے تک کی مشتبہ حالات میں موت ہوچکی ہے۔ بیشک یہ معاملہ بہت بڑا ہے جس میں قریب500 ملزمان اب بھی فرار ہیں لیکن متعین وقت پر طریقے سے اس کی جانچ پوری نہ ہوئی تو معاملہ الجھتا جائے گا۔
(انل نریندر)

نقلی دوا کا زہر پھیلتا جارہا ہے

ایک سیکٹر ایسا ہے جس پر سرکار کو فوری توجہ دینا چاہئے یہ ہے نقلی دواؤں کا سیکٹر۔ دنیا کے کسی بھی مہذب دیش میں نقلی دواؤں کا چلن اتنا نہیں جتنا ہمارے دیش میں ہے۔ نقلی دواؤں سے لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں۔ اسمیک، گانجا، کوکن، ہیروئن جیسی منشیات لینے سے موت نہیں ہوتی۔ موت تبھی ہوتی ہے جب چیز کا زیادہ مقدار میں استعمال ہو لیکن نقلی دوائیں جان لیوا ہیں۔ یہ نقلی دوائیں عام بیماریوں جیسے بیمار، درد، زخم سکھانے کی ہوتی ہیں۔ جراثیم کش دوائیں تک نقلی موجود ہیں۔ ایسے کیمسٹوں کی کمی نہیں ہے جو چند روپے کے لالچ میں مریض کو موت کے منہ میں جھونک دیتے ہیں۔ ان نقلی دواؤں کا عام طور پر غریب طبقہ زیادہ شکار ہوتا ہے۔ یہ گروہ اپنی دواؤں کو جھگی بستی اور نچلے اور کم پڑھے لکھے علاقوں میں بیچنے ہیں، لوگ دوا خریدتے وقت اس کی پیکنگ پر خاص توجہ نہیں دیتے۔ نہ ہی وہ دوا کی ایکسپائری ڈیٹ پر توجہ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کم روپے کی دوائی کے بارے میں کیمسٹ سے زیادہ پوچھ تاچھ نہیں کرتے۔ اگر کرتے بھی ہیں تو گھر میں چلا رہے ڈاکٹری جیسے فرضی ڈاکٹر ان کی دوائیں بدل کر نقلی دوائیں لکھ دیتا ہے۔ نقلی دواؤں پر اصلی دوائی سے 40 فیصدی کا منافع ہوتا ہے۔افسران بتاتے ہیں کہ اگر کسی دوائی کا ایک پتہ40 روپے میں آتا ہے اور اس پر کیمسٹ کو10 روپے کا فائدہ ہوتا ہے تو وہی نقلی دوائی کا پتہ30 روپے میں ملتا ہے اور اس پر کیمسٹ کو 15 سے17 روپے مل جاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نقلی دوائی بنانے کے لئے ایک چھوٹا سا کمرہ اور چھوٹی سی دو تین مشینوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوائی بنانے کا سامان بھی آسانی سے میسر ہوجاتا ہے۔ حال ہی میں2016 کی دوائیاں مارکیٹ میں دیکھی گئی ہیں۔ دہلی پولیس نے پچھلے برس نقلی دوا بیچنے والے اور ان کا ساتھ دینے والے کیمسٹ کو گرفتار کیا تھا۔ نقلی دوا بنانے والے جھولا چھاپ ڈاکٹر ایسی دواؤں کی پرچی دینے والے اور نقلی دوا بیچنے والے کیمسٹوں سے ان کی ملی بھگت ہوتی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ آپ اچھے ڈاکٹر کو دکھائیں اور بھروسے مند کیمسٹ سے دوا خریدیں۔ کیمسٹ ان نقلی دواؤں سے اتنا پریشان ہیں تو کچھ پتتے کے پیچھے اپنی دوکان کی اسٹیکر بھی لگا دیتے ہیں۔کچھ نقلی دوا بنانے والے مریض بن کر دوا واپس کرنے کے چکرمیں ان نقلی دواؤں کو کیمسٹوں کو دے جاتے ہیں۔ یہ سماج دشمن عناصر لوگوں کی جان سے کھیل رہے ہیں۔ دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ سرکار نہ تو اس طرف توجہ دیتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس ایسا کوئی انتظام ہے کہ بازار میں ان نقلی دواؤں کو پکڑا جائے اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے۔ ہم راجدھانی میں مرکزی وزیر صحت اور دہلی حکومت کے وزیر صحت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس نقلی مال کو روکنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ جیسا میں نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں شاید ہی ایسی نقلی دواؤں کا گورکھ دھندہ چلتا ہو۔
(انل نریندر)

01 جولائی 2015

دہشت گردوں کو ناکام کرنے کیلئے 80 مساجد بند ہوں گی

برطانیہ نے شمالی افریقی دیش تیونس میں ایک ہوٹل پر جمعہ کو ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد دیش میں ایسے ہی اور حملوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس حملے میں 39 لوگ مارے گئے تھے جس میں 15 برطانوی شہری تھے۔ ادھر فرانس، کویت اور تیونس کے بعد دہشت گردتنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) سنیچر کو برطانیہ کو دہلانے کے فراق میں تھی لیکن پولیس نے مسلح افواج ڈے پریڈ کے دوران دھماکے کی سازش کو ناکام کردیا ہے۔ لی ریایوے ریجمنٹ کے فوجیوں کی پریڈ دیکھنے آئے لوگوں کو نشانہ بنا کر پریشر کوکر بم کے ذریعے یہ حملہ کیا جانا تھا۔ 2003 میں بھی اس ریجمنٹ کے فوجیوں کو اسلامی کٹرپسندوں نے نشانہ بنایا تھا۔ جمعہ کو تیونس پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد اگلے دن سنیچر کو یہاں کی حکومت نے دیش کی 80 مساجد بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہیں ایک ہفتے کے اندر بند کردیا جائے گا یہ مساجد سرکاری کنٹرول کے باہر ہیں۔ وزیر اعظم حبیب الاشید نے کہا کہ ان مسجدوں میں زہر افشاں تقریریں کی جاتی ہیں اور تشدد بھڑکایا جاتا ہے۔ جمعہ کو تیونس کے سیاحتی مقامی سوس میں ہوئے آتنکی حملے میں 39 لوگ مارے گئے تھے ان میں کافی تعداد میں یوروپی شہری بھی تھے۔ حملے کی ذمہ داری آتنکی گروپ آئی ایس نے لی ہے۔ وزیر اعظم حبیب الاشید نے کہا کہ آئین کے خلاف کام کرنے والی پارٹیوں اور گروپوں پر بھی کارروائی ہوگی۔ اس درمیان برطانوی ٹور آپریٹروں تھامسن اور فرسٹ چوائس نے سیلانیوں کو تیونس سے نکلنے کے لئے 10 جہاز بھیجے ہیں ان سے2500 لوگوں کو بچاکر لایا جاسکے گا۔ دونوں آپریٹروں نے بھی کہا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر ان کے گراہک تھے۔ تیونس کے جی ٹی پی کا 15.2 فیصدی حصہ سیاحت سے آتا ہے اور قریب13.2 فیصد ملازمتوں کے مواقع بھی سیاحتی سیکٹر سے جڑے ہیں۔ پچھلے سال تیونس میں آنے والے سیاحوں کی تعداد60 لاکھ تھی۔ جمعہ کو آئی ایس نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ساؤس کے ایک ایسے ہوٹل پر حملہ کیا جہاں یہ غیر ملکی سیاح ٹھہرے ہوئے تھے۔ انہوں نے تیونس کے معیشت پر چوٹ پہنچانے کے لئے ایسا مقام چنا جہاں سیاح ٹھہرتے ہیں تاکہ دیش کا ٹورازم متاثر ہو۔ دوسری طرف تیونس کے وزیر اعظم حبیب الاشید کی ہمت کی داد دینی ہوگی کہ انہوں نے 80 مساجد کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان مساجد سے کٹر پسندی کو اکسانے کیلئے تقریریں کی جاتی ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ساری مساجد میں کٹر پسندی کا پروپگنڈہ ہوتا ہے لیکن کچھ مساجد میں نوجوانوں کو بھڑکانے کا کام کیا جاتا ہے یہ تلخ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن عوام اور مولویوں و کٹر پسندوں کے ڈر سے کوئی دیش ایسی مساجد پر کسی بھی طرح کی کارروائی کرنے سے کٹراتے ہیں۔ تیونس نے ہمت دکھائی ہے اگر وہ ان 80 مساجد کو بند کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ کام ساری دنیا کے لئے ایک مثال ہوگی۔
(انل نریندر)

ٹیم انڈیا کی رسہ کشی سطح پر آئی

بنگلہ دیش سے سیریز گنوانے کے بعد یہ بات تقریباً ظاہر ہوچکی ہے کہ ٹیم انڈیا کے ڈریسنگ روم کا ماحول کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعی ٹیم کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ کھلاڑیوں کے انتخاب اور ان کے ٹکراؤ کے سبب ٹیم دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ ٹیسٹ کپتان ویراٹ کوہلی اور ون ڈے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے درمیان کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور چل رہی ہے ۔ ویراٹ کوہلی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بنگلہ دیش کے دورے میں میدانی فیصلہ لینے میں خود اعتمادی کی کمی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ کپتان کول مہندر سنگھ دھونی کی طرف تھا، کیونکہ فیصلہ تو کپتان ہی لیتا ہے۔ کوہلی کے اس بیان کو بحران سے گھرے مہندر سنگھ دھونی کی قیادت پر حملے کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ کوچ کے معاملے میں بھی دونوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں۔ کوچ کے مسئلے پر جہاں ویراٹ ابھی بھی ٹیم کے ڈائریکٹر روی شاستری کو بہتر مان رہے ہیں وہیں دھونی کہیں نہ کہیں ڈنکن پلیئر کے مہان مارگ درشن پر غور کررہے ہیں۔ جہاں کوہلی کو ٹیم کے تیز گیند بازوسے کوئی شکایت نہیں ہے وہیں دھونی نے تیز رفتار گیند بازوں پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ کھلاڑی کوہلی کی جارحیت کے مرید ہیں تو کچھ کو دھونی کے عجیب و غریب فیصلے راس نہیں آئے۔ کوہلی کا یہ بیان آر اشون کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے اپنے کپتان کے لئے جان دینے تک کی بات کی تھی۔ سریش رینا نے بھی دھونی کی حمایت کی ہے۔ کوہلی کے بیان سے دھونی کے خلاف بغاوت کی بو آرہی ہے۔ دھونی کی لیڈر شپ میں ٹیم انڈیا نے کئی شاندار کارنامے انجام دئے ہیں۔ دھونی کے فیصلے عام طور پر صحیح اترتے ہیں لیکن وہ بھی کبھی غلطی کر سکتے ہیں۔ آخر وہ بھی انسان ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ویراٹ کوہلی تھوڑے احسان فراموش ہیں۔ سپراسٹارویراٹ کوہلی گزشتہ برس انگلینڈ کے دورے میں جب بیحد خراب دور سے گزر رہے تھے تب کپتان مہندر دھونی نے ان کی لگاتار حمایت کی تھی لیکن ویراٹ نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز ہار کے بعد جس طرح سے میدانی فیصلہ لینے میں غلطی کی بات اٹھائی ہے اس سے صاف ہوتا ہے کہ وہ دھونی کی اس حمایت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ ویراٹ کوہلی کو گیم کے تین فارمیٹ میں کپتان بننے کی جلدی ہے اور وہ دھونی کو اس میں سب سے بڑا روڑا مانتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کہا جارہا ہے کہ ٹیم کے ڈائریکٹر روی شاستری ،ویراٹ کوہلی کی حمایت کررہے ہیں۔ دھونی نے بھی سیریز کے دوران کہا تھا کہ ٹیم انڈیا کا کوچ رکھنے میں کسی طرح کی جلد بازی نہیں کی جانی چاہئے تھے جبکہ ایسا مانا جارہا ہے کہ روی شاستری ٹیم انڈیا کے اگلے کوچ بن سکتے ہیں۔ ویراٹ کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ کسی وقت سچن نے کپتانی کے بوجھ سے اپنی بلے بازی کو متاثر ہوتا دیکھ کپتانی ہی چھوڑ دی تھی اس کے بعدان کا کیریئر لمبا چلا تھا۔ ٹیسٹ کپتانی ویراٹ کوہلی کو مل چکی ہے اور اگلے کچھ برسوں میں وہ ون ڈے کپتان بھی بن سکتے ہیں لیکن اگر ان کی بلے بازی متاثر ہوتی رہی تو وہ خود بھی اپنی جگہ کو لیکر کوئی دلیل نہیں دے پائیں گے۔ فی الحال انہیں دھونی کی کپتانی سے سیکھنا چاہئے اور دھونی کے اشتراک کو کم نہیں مانا جاسکتا۔
(انل نریندر)

30 جون 2015

للت مودی:بھگوڑا یا وہیسل بلوور؟

پچھلے 15 دن میں للت مودی نے تہلکہ مچا رکھا ہے۔ لندن میں بیٹھ کر بھارت کی پوری سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہر ٹوئٹ خبر بن رہی ہے۔ چاہے وہ تعریف اور یا طنز ہو یا کسی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والا ہو۔ 14 دن میں کوئی ڈیڑھ سو سے زیادہ ٹوئٹ کر چکا ہے للت مودی۔ سنیچر کو ایک آدمی نے للت سے پوچھا کہ آپ سب سے زیادہ مشکل وکٹ پربھی فرنٹ فٹ پر کھیلتے ہیں ، ہمارے وزیر اعظم کو کیا صلاح دینا چاہئیں گے؟ پانچ منٹ میں للت مودی کا جواب آیا۔ ہمارے پی ایم جانکار شخص ہیں جب وہ بلے بازی کرتے ہیں تو گیند کو چھکا مار کر میدان سے باہر بھیج دیتے ہیں۔ ایک دن پہلے پرینکا رابرٹ واڈرا سے ملاقات کے بارے میں ٹوئٹ کرکے نیا تنازعہ کھڑاکردیا۔ سنیچر کو کرکٹ میں ہلچل پیدا کرنے والا بڑا انکشاف کرتے ہوئے للت مودی نے ٹوئٹ کیا کہ چنئی سپر کنگ کے رویندر جڈیجہ ،ڈیوین برابو اور سریش رینا کے ریئل اسٹیٹ کے ایک بڑے کاروباری سے تعلقات ہیں اور اس کاروباری جو ایک سٹے باز بھی ہے ،سے موٹا پیسہ لیا ہے۔للت مودی پر کروڑوں کے کرپشن کا الزام ہے انہیں بھگوڑا بھی کہا جارہا ہے۔ للت مودی نے ٹوئٹ کر ٹوئٹر پرللت لیگس کی شروعات کی ہے۔ اپنے پروفائل میں بھی لکھا ہے پولیٹیکل مافیہ کی صفائی میں مصروف ۔ ٹوئٹ کے ذریعے ہی اعلان کیا مجھے اختیار دوبھارت کو کو کرپشن سے پاک کر دوں گا۔ مودی نے لکھا وہ سب جو بدلے کے جذبے سے کام کررہے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ بھی شیشوں کے گھروں میں رہتے ہیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہرے رنگ کے ہر ایک روڈ کو سامنے لادوں گا۔ آہستہ آہستہ میں اس خودساختہ بی سی سی آئی ،ایف ایم،مافیہ سیریز کو دفنانا شروع کردوں گا، جلدی کیا ہے؟ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوستوں ۔ میں جو نام دوں گا وہ آپ کو سوچنے پر مجبور کردے گی۔میں انہیں میڈیا اوروزارت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا موقعہ دے رہا ہوں۔ مودی کے ہر ٹوئٹ میں للکار ہوتی ہے۔ چنوتی اور سسپینس بھی کہ اب کس کا نام آئے گا؟ کیا خلاصہ ہوگا؟ 9 لاکھ سے زیادہ فال اوور پل پل کے ٹوئٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور للت بھی خطرناک تیوروں سے سوالوں کے جواب دینے میں دیر نہیں کرتے۔ ایک فال اوور نے ان سے پوچھا کہ کانپور کے ایک چھوٹے سے اخبار میں رپورٹر ہونے کے باوجود راجیو شکلا کروڑ پتی کیسے ہوگئے؟ مودی نے جواب دیا کیا کسی میں جانچ کرنے کی ہمت ہے؟ پھر ایک ٹوئٹ میں امیتا پال کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا، سب سے بڑے حوالہ آپریٹر وویک ناگپال کو امیتا کا بیڈ مین مانا جاتا ہے۔ اس کے پاس کئی معلومات ہیں کیا کسی نے اس کی جانچ بھی نہیں کی ،کیوں؟ اس کے بعد للت نے ناگپال کے سودے سے وابستہ100 صفحوں کا تفصیلات اپ لوڈ کردیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ للت مودی یہ سب کیوں کررہے ہیں؟ پچھلے چار سال سے وہ بھارت سے فرار ہوکر لندن میں بیٹھے ہیں جبکہ یہاں جانچ ایجنسیاں خاص کر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ان سے پوچھ تاچھ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ مودی بھگوڑا ہے یا وہیسل بلوور؟
(انل نریندر)

عہدہ ایک دو دو سربراہ ، ٹکراؤ تو ہونا ہی ہے!

دیش کی راجدھانی دہلی میں دہلی سرکار بنام لیفٹیننٹ گورنر و مرکزی حکومت کے درمیان زبردست ٹکراؤ جاری ہے۔ ایک ایسی حالت پیدا ہوگئی ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ معاملہ ایک عہدے پر دو دو سربراہوں کی تقرری کا ہے۔ دونوں اپنے اپنے وجود کو لیکر آمنے سامنے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں افسر دہلی پولیس کے ہی ہیں۔ ایک عام آدمی پارٹی کا نامزد اینٹی کرپشن بیورو کا چیف ہے تو دوسرا لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے مقرر اینٹی کرپشن برانچ کے چیف ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے جہاں ایس ایس یادو کو اینٹی کرپشن بیورو کا چیف بنایا ہے وہیں لیفٹیننٹ گورنر نے مکیش میناکو مقرر کیا ہے۔ اس واردات کو سلسلہ وار ڈھنگ سے دیکھا جائے تو تھوڑی بہت پوزیشن صاف ہوسکتی ہے۔ آپ سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان جاری سیاسی لڑائی کے درمیان آپ کے ذریعے نامزد اے سی بی چیف ایس ایس یادو نے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے مقرر ایم کے مینا پر دھمکی دینے کا دباؤ ڈالنے اور اے سی بی کے کام کاج میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ ذرائع کے مطابق مینا یادو کے دفتر گئے تھے اور ان سے ایف آئی آر بک مانگی جس کے بعد دونوں میں تلخی اور نوک جھونک ہوئی ۔ کیونکہ یادو نے ایسا کرنے سے صاف منع کردیا۔ ایسی درمیان پتہ چلا ہے کہ مینا نے یادو کو ایک نوٹس بھیج کر کہا ہے کہ اگر وہ ایف آئی آر بک دستیاب نہیں کراتے تو اس کے خلاف قانونی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایس ایس یادو نے دھمکی کا بھی الزام لگایا ہے۔ انہوں نے 24 جون کو ویجی لنس سکریٹری و ڈائریکٹر کو لکھے خط میں ایم کے مینا کے ذریعے ناجائز طور سے اے سی بی دفتر میں قبضہ جما کر بیٹھنے کا بھی تذکرہ کیا۔ مینا نے سی آر پی ایف کے ایک مسلح جوان کو اپنے دفتر میں تعینات کررکھا ہے۔ وہ یادو کے مطابق ناجائز ہے۔ یادو نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور جان کو خطرہ ہونے کی شکایت لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی پولیس کمشنر سے بھی کی ہے۔ دہلی اسمبلی میں جمعہ کو اسی کے چلتے ٹکراؤ کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ ممبر اسمبلی الکا لانبہ اور راجیش گپتا نے قاعدہ 108 کے تحت ایوان میں یہ اشو اٹھایا۔ انہوں نے کہا ایمانداری سے اپنا کام کررہے اے سی بی چیف کے اوپر بڑے افسر مقرر لیفٹیننٹ گورنر نے کردیا ہے جبکہ جس افسر کی تقرری کی گئی ہے اس کے اوپر ٹریننگ اسکول کیلئے خریداری پردہ گھوٹالے ، و حوالہ کاروبار سے جڑے ہونے کا الزام ہے۔ دہلی سرکار نے اب اس معاملے کو ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ لیا ہے۔ ہائی کورٹ میں ماضی میں جاری مرکزی حکومت کے نوٹی فکیشن کو لیکر دائر عرضی سے ناراض سرکار نے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے ذریعے راجدھانی میں افسران کی تقرری کے ان کے اختیارات کو لیکر عرضی ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو عرضی میں مینا کو فریق بنانے کی مانگ کرے گی۔ یہ بھی مانگ کی جائے گی کہ عدالت سے عرضی پر فیصلہ آنے تک مینا کے کام کرنے پر روک لگائی جائے۔ عرضی میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ مینا ایف آئی آر بک کو اے سی بی دفتر سے باہر لے جانا چاہتے تھے ،جس کی اجازت نہیں ہے۔ فی الحال اے سی بی کا کام ٹھپ پڑا ہوا ہے اور دونوں فریقین کوامید ہے کہہائی کورٹ کوئی فیصلہ کن حکم سنائے گا۔
(انل نریندر)

29 جون 2015

India cheated again, China defends Lakhwi

Commander of Jamaat-ud-Dawa and mastermind of Mumbai attacks Zaki-ur-Rahman Lakhwi was released from jail in April last just because Pakistan failed to submit necessary records and proofs and now the initiative of Sanctions Committee of United Nations seeking clarification from Pakistan on release of Lakhwi has been upheld by China saying that India did not provide sufficient information to Pakistan. China has again betrayed India. China, being a permanent member of the Security Council, is the member of the Committee which decides action against terrorists. We should not be surprised on the attitude of China taken in United Nations about Zaki-ur-Rahman Lakhwi.  This is not for the first time China has obstructed such efforts of India. India had tried to include Kashmiri terrorist and Hizbul Muzahidin leader Syed Salahuddin in the United Nations list of international terrorists in May, which was obstructed by China. At many times it has been noticed that China is strengthening its strategic pivot with Pakistan but it was not expected it will support Pakistan on such sensitive matter like terrorism. The reason is that China itself is prey to Islamic terrorism. Besides it claims to be committed towards the international treaties against terrorism. Besides being an open proof of China and Pakistan union in defending a terrorist like Lakhwi, this event depicts that Pakistan is nurturing terrorism from its land just because it is backed by China. When Lakhwi was released from jail, the nations like US, France, UK had demanded to arrest Lakhwi again expressing deep concern. Everyone knows Pakistan and China are fast friends, but supporting Pakistan is one thing and supporting terrorist gangster is another. It is a clear support to terrorism. China’s union with Pakistan regarding Lakhwi is not a new issue. History has witnessed that from the very beginning China is working on such strategy not only to limit the role of India but to obstruct its freedom and sovereignty, and progress also. China treats Pakistan as the most suitable nation for it. Aims of China and Pakistan regarding India are the same to much extent. The only difference is China wants Indian markets be full of Chinese products while Pakistan wants to ruin it. By adopting anti-India attitude in Lakhwi case, now China has made it clear it is working on well planned mission of encompass India. Now India’s priority is to combat Chinese strategy.

 

Anil Narendra

 

28 جون 2015

دو گھنٹے:تین ملکوں میں آتنکی حملے

جمعہ کے روز دہشت گردوں نے دنیا کے الگ الگ حصوں میں تقریباً ایک ہی وقت پر قہر برپایا۔ تیونس اور فرانس میں قتل عام تو کویت میں بمباری۔ ان حملوں کا سیدھا شبہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) پر ہوتا ہے۔ یہ تنظیم کتنی طاقتور ہوگئی ہے ان وارداتوں سے پتہ چلتا ہے۔ شمالی افریقی دیش تیونس میں غیر ملکی سیاحوں کے بیچ مشہور ایک ریزاٹ میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔ ہتھیاروں سے مسلح آتنکی سانسے شہر میں واقع انپیریل مرحبہ ہوٹل میں اندر داخل ہوا اور اندھا دھند گولیاں برسانی شروع کردیں۔ اس حملے میں تقریباً28 لوگوں کی موت ہوگئی اور 36 لوگ زخمی ہوگئے۔ بعد میں اس حملہ آور کو مار گرایا۔ اس سال مارچ میں بھی تیونس میں ایک حملے میں 21 غیر ملکی سیاح مارے گئے تھے۔ یہ دوسرا حملہ تھا۔ ادھر کویت جیسے پرامن دیش میں ایک شیعہ مسجد میں ماہِ رمضان میں نماز کے دوران خودکشی حملہ آور نے دھماکہ کردیا۔ اس میں25 لوگوں کی موت ہوگئی اور2 سے زائد زخمی ہوگئے۔ سعودی عرب میں آئی ایس سے وابستہ تنظیم نزب پراونس نے حملے کی ذمہ داری لی ہے۔ آئی ایس کا دعوی ہے کویت کی کسی شیعہ مسجد میں پہلی بار اور کسی خلیجی ملک میں2006 کے بعد یہ پہلا حملہ ہے۔ فرانس کی ایک گیس فیکٹری میں دن دہاڑے کم سے کم ایک اسلامی مشتبہ حملہ آور نے ایک شخص کا سرقلم کردیا جبکہ دو دیگر کو دھماکوں سے زخمی کردیا۔ صدر فرانسواولاندے نے کہا کہ ارادہ یقینی طور سے دھماکہ کرنا تھا۔ یہ ایک آتنکی حملہ تھا۔ اہم یوروپی ملک فرانس میں سرقلم کرنے کا یہ پہلا معاملہ مانا جارہا ہے۔اس واردات کیلئے بھی اسلامک اسٹیٹ پر ہی شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ سر قلم کرنا اس کا ٹریڈ مارک بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق متوفی حملہ آور کم عمر تھا۔ پچھلے کئی مہینوں سے یوروپ اور خلیجی ممالک لون ولف حملوں کو دیکھتے ہوئے ہائی الرٹ پر ہیں۔ لون وولف حملے ان آتنکی حملوں کو کہتے ہیں جسے کوئی شخص کسی آتنکی گروپ کی مدد کے بغیر اکیلے انجام دیتا ہے۔ ان حملوں کو روکنا بہت مشکل ہے کیونکہ اسلامی کٹر پسند اپنے حمایتیوں سے جہاں بھی ممکن ہو حملے کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ فرانس میں اس سے پہلے آتنکی حملہ جنوری میں ہوا تھا۔ اس وقت ایک طنز نگارمیگزین شارلی ایبدو کے دفتر پر ہوئے حملے میں10 صحافیوں سمیت17 لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ فرانس کے ایک لڑکے نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ایک اسٹور پر حملہ کرکے 4 لوگوں کی جان لے لی تھی۔ تازہ حملے میں ایک حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دوسرا مڈ بھیڑ میں مارا گیا ہے۔ حملہ آور آئی ایس کا جھنڈا لئے ہوئے تھا۔ گرفتار ہوئے مشتبہ شخص کا نام یٰسین صالح ہے۔ اس کا کوئی پچھلا کرمنل ریکارڈ نہیں ہے۔ یقینی طور سے آئی ایس دنیا کی سب سے طاقتور اور خوشحال آتنکی تنظیم بن گئی ہے۔آئی ایس پیسے کے دم پر دنیا بھر کے مسلمانوں کو لبھا رہی ہے۔ وہ عراق اور شام میں اپنے قبضے والے علاقوں میں ایک نیا ملک بنوانا چاہتی ہے۔ باغیوں کو راغب کرنے اور ان کی گرہستی جمانے کے لئے وہ کئی اسکیمیں چلا رہی ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق اسکائپ کے ذریعے صحافیوں کو دئے گئے انٹرویو میں تنظیم کے ایک لڑاکے نے اس کا انکشاف کیا ہے۔ ابو بلال الحمزی نامی اس لڑاکے نے بتایا کہ خلیفہ مملکت کے اعلان کے بعد سے آئی ایس نیتا صرف لڑاکو کو ہی دعوت نہیں دے رہے ہیں عرب ملکوں یوروپ اور وسطی ایشیا اور امریکہ کے ڈاکٹروں ،انجینئروں اور ملازمین اور دوسرے سیکٹر کے ماہرین کو بھی بلایا جارہا ہے۔ایک دوسرے لڑاکے الاقصاوی نے بتایا کہ شام شہر رکا اب نیا نیویارک بن چکا ہے۔قابل ذکر ہے رکا آئی ایس کی راجدھانی ہے۔ عراق اور شام سے شروع ہوئی آئی ایس آج پوری دنیا کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ اس کی تپش امریکہ سمیت ایشیائی دیش بھی اب محسوس کررہے ہیں۔ ایسے میں مغربی ملکوں نے اگر ٹھوس کارروائی نہیں کی تو حالات بے قابو ہوسکتے ہیں۔دھونس پٹی دیکر ٹیکس جمع کررہی اسلامک اسٹیٹ ہر روز 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم اکھٹی کررہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے باوجود اپنے خرچ پورے کرنے کے لئے اس کے پاس کافی پیسہ ہے۔
(انل نریندر)

امام باڑوں پر لگے تالے کھلوانے کا تنازعہ

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے آصفی امام باڑہ اور چھوٹا امام باڑے پر لگے تالوں پر سخت رخ اپنایا ہے۔ عدالت نے تالوں کو فوراً کھولنے کے احکامات دئے ہیں ساتھ ہی کہا ہے کہ ضلع مجسٹریٹ خود فوراً تالا کھولنے کا انتظام کریں۔ ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ کوئی بھی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ جسٹس ارون ٹنڈن اور جسٹس انل کمار کی بنچ نے کہا کہ جنتا کو تالالگانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اپنے حکم میں عدالت نے کہا لکھنؤ کے ضلع مجسٹریٹ امام باڑوں سے فوراً تالے کھلوائیں اوروہ خودیقینی کریں کہ یہ کام پورا ہو۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ امام باڑے سیاحوں کیلئے اسی طرح کھلے رہنے چاہئیں جیسے تالا بندی سے پہلے تھے اس املاک کا انتظام کرنے والوں، ضلع مجسٹریٹ اور دیگر متعلقہ لوگوں کو یقینی کرنا ہوگا کہ امام باڑوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے۔ وہیں سیاحوں کو امام باڑے میں آنے جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہئے۔ اس سے پہلے مفاد عامہ کی عرضی پر ہائی کورٹ نے مولانا کلب جواد اور حسین آباد ٹرسٹ کو نوٹس جاری کرکے پوچھا تھا کہ انہوں نے کس اختیار یا حکم سے امام باڑوں پر تالے لگائے ہیں۔ جواب میں مولانا کلب جواد نے کہا تھا یہ تالا بندی پبلک نے کی ہے۔ لکھنؤ کے تاریخی امام باڑوں پر جڑے گئے تالے کھلوانے کے حکم کو نہ ماننے کے بڑے شیعہ مذہبی پیشوا مولانا کلب جواد کے اعلان کے بعد ضلع انتظامیہ اور آندولن چلا رہے شیعہ فرقے کے درمیان ڈیڈ لاک اور گہرا ہوگیا ہے۔ اترپردیش شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو ہٹائے جانے کو لیکر جاری تحریک کی رہنمائی کررہے بڑے شیعہ عالم مولانا کلب جواد نے ضلع انتظامیہ پر عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے اور احتجاج کے طور پر امام باڑوں پر ڈالے گئے تالے نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کلب جواد نے امام باڑوں پر تالے نہ کھولنے سے توہین عدالت ہونے سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ عدالت کا پورا احترام کرتے ہیں لیکن ان سے امام باڑوں کو پبلک املاک بتا کر گمراہ کیا گیا ہے جبکہ وہ عمارتیں مذہبی مقامات ہیں۔ انہوں نے کہا رہا سوال توہین عدالت کا تو یہ کارروائی پہلے تو لکھنؤ کے ضلع مجسٹریٹ راجیشور کے خلاف ہونی چاہئے جنہوں نے حیدر عباس کو امام باڑوں کی دیکھ بھال کرنے والے حسین آباد ٹرسٹ کا چیئرمین بنانے سمیت عدالت کے کئی احکامات کی اب تک تعمیل نہیں کی گئی ہے۔ کلب جواد نے کہا کہ ہندوستانی آثار قدیمہ سروے قانون میں امام باڑوں کے مذہبی پیشواؤں کو ہی ان کے کمپلیکس میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہے۔جسٹس ارون ٹنڈن اور انل کمار کی لی سیشن ڈویژن بنچ نے یہ حکم مسرت حسین کی عرضی پر دیا ہے۔ ریاستی شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی مانگ کو لیکر شیعہ فرقے کے لوگوں نے مشہور امام باڑوں پر پانچ جون سے تالا لگا رکھا ہے۔ مولانا جواد نے رضوی کو ہٹانے کی مانگ کو لیکر تحریک رمضان کے بعد اور تیز تر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...