Translater

02 جنوری 2021

صحافیوں کیلئے سب سے بڑا جیلر چین ہے !

صحافیوں کو سز ا دینے کے معاملے میں چین سب سے آگے ہے اس کا انکشاف اپنی رپورٹ میں صحافیوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی کمیٹی نے کیا ہے اس کا کہنا ہے کہ چین میں 47صحافیوں کی جیل میں ڈالا گیا ہے جن میں سے تین کورونا پرسرکار کے اقدامات سے وابستہ خبریں دینے کے سبب جیل گئے ہیں دنیا بھر میں اپنے کا م کی وجہ سے اس ماہ کے شروعات تک 250صحافی جیل میں بند ہیں تین درجن ایسے ہیں جن پر فرضی خبریں دینے کا الزام ہے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جنرلسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین میں صحافیوں کے خلاف سب سے زیادہ کاروائیاں کی گئی ہے اس کے بعد ترقی اور مصر کا نمبر ہے مصر میں 27صحافیوں کو جیل بھیجا گیا جن میں کم سے کم تین صحافیوں کو کووڈ 19-وباءمیں لاپرواہی سے متعلق خبریں دینے کیلئے جیل میں ڈالا گیا وہیں مصر اور ہنراس میں جیل میں کورونا انفیکشن ہونے سے کئی صحافیوں کی موت ہوگئی کمیٹی نے آگے کہا مسلسل پانچواں ایسا برس ہے جب کم سے کم250صحافی ابھی بھی جیل میں بند ہیں جو سرکار کے کچلنے والے اقدامات کو دکھاتے ہیں صحافیوں میں 36خاتون صحافی بھی شامل ہیں امریکہ پریس فریڈم ٹریکٹ کے مطابق اس مہنے کی شروعات میں امریکہ میں کسی صحافی کا قتل ہوا اور کئی ابھی جیل میں ہیں 2020میں 110 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ان پر مجرمانہ الزامات لگائے گئے ہیں ۔اس بات پر بھی تشویش جتائی ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فرضی خبروں کو لیکر بار بار دیئے گئے بیانات سے کئی ملکوں کے اصلاح پسند لیڈر متاثر ہورہے ہیں۔ اور پچھلے کئی برسوں کے مقابلے اب زیادہ صحافی جیل میں ہیں ۔کمیٹی نے بتایا کہ 2005میں 131اور 2000میں یہ تعداد 92تھی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ کے رپورٹ کے مطابق اس سال بھارت میں چار صحافیوں کو جیل میں بند کیا گیا اسمیں سے دو کی موت ہوگئی ان میں ایک یوپی میں جل کر موت ہوگئی اور آسام میں ایک صحافی کی سڑک حادثے میں موت شامل ہے کمیٹی کے ایک عہدے دار کورٹ نی رائٹسن نے بتایا کورونا انفیکش کی وجہ سے اس سال جنگی علاقوں میں صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے جہاں وہ لڑائی کے شکار ہوسکتے تھے اس سال اب تک کل 69صحافی مارے جاچکے ہیں۔ جو پچھلے سال سے زیادہ ہیں۔ پچھلے سال 26صحافیوں کا قتل ہوا تھا۔ (انل نریندر)

بات بڑھی تو سہی پر آدھی رہ گئی !

کسان۔سرکار کے درمیان ساتویں دور کی بات چیت کا بھی کوئی حل نہ نکلنا مایوس کن ہے بات چیت سے بہت امیدیں جتائی جارہیں تھیں لیکن وگیان بھون میں منعقدہ بات چیت کے درمیان وزراءنے بھی کسانوں کے لنگر کا ذائقہ لیا لیکن کل ملاکر سبھی مسئلوں پر اتفاق رائے نہیں بن سکی اگلی بات چیت شاید 4جنوری کو ہوگی ،تب تک کسان تحریک جاری رہے گی۔ سرکار کے ساتھ اس دور کی بات چیت کے بعد کسان لیڈر ہنان ملا نے کہا کہ سرکار نے دو کمیٹیاں بنانے کی تجویز رکھی تھی ایک ایم ایس پی کی تعمیل کیلئے اور دوسری قانون واپسی کی مانگ کا متبادل تلاش کرنے کےلئے ہم نے دونوں کا نہ منظور کردیا ،سرکار کا رویہ نرم تھا اور آج کی بات چیت کے بنیاد پر نئی تجویز بھیجنے کو کہا لیکن کسانوں کی کوئی اور تجویز ہے ہی نہیں ہماری مانگ بس ایم ایس پی پر گارنٹی ملے اور تینوں قانون واپس لئے جائیں ہم اس پر ایک بار پھر 2جنوری کو غور کریں گے سرکار اور کسانوں کے درمیان ہوئی بات چیت میں التوا میں دو مسئلوں پر بڑے پیچ ہیں اور دور رس ہیں تین قانون واپس لینے سے سرکار کی عزت اور شان اور وسیع زرعی اصلاحات کے نظریئے کو دھکہ لگ سکتا ہے۔ایم ایس پی کو قانون میں شامل کرنے سے سرکار پر مالی بوجھ تو بڑھے گا ساتھ ہی ان تینوں قوانین کا اثر بھی کم ہوجائے گا کسانوں اور سرکار کےلئے بھی نئی چنوتیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں تینوں قوانین کے ذریعے سرکار نے ایم ایس پی اے پی ایم سی جاری رکھنے کے ساتھ ہی پرائیویٹ سیکٹر کو فصل فروخت کرنے کے متبادل بھی دیئے ہیں ۔ لیکن احتجاجی کسان ان تینوں قوانین کو اپنے لئے خطرناک مان رہے ہیں اس کی کئی وجہ گنا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ ایم ایس پی تو ملے گی نہیں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر ہاوی ہوتا جائے گا اور علاوہ ازیں کسانوں کی زمین بھی مشکل میں پڑ سکتی ہے زرائع کے مطابق کسان تحریک ایم ایس پی پر قانون کی مانگ اس لئے چل رہی ہے کہ سبھی فصلوں کے دام متعین ہوجائیں گے ابھی گیہوں ،دھان ،سرسو،دالیں ،جیسی کچھ چیزیں ہی ایم ایس پی کے دام پر خریدی جاتی ہیں باقی کھلے بازار میں جاتی ہیں۔ ایم ایس پی پر قانون کے بعد سبھی طرح کی فصل اسی بنیاد پر خریدی جائے گی پھل اور سبزیوں تک کے لئے بھی نئی بہتر راہ بن سکتی ہے جب سب چیزیں ایم ایس پی پر خریدی جائیںگی تو پرائیویٹ سیکٹر کو کچھ بیچنے کی بھاگ دوڑ اور ضرورت کہاں رہے گی ؟سرکار اس طرح کے کئی پینچ کو سمجھ رہی ہے کسانوں کے یہ سمجھانے کی کوشش بھی ہورہی ہے آخر سارا مال بکنا تو ہے ہی مگر کسان ایم ایس پی پر سب کچھ بیچتا ہے اور پرائیویٹ سیکٹر بیرونی ملک سے سستی شرح پر چیزیں منگا کر بازار میں اتار دیتا ہے تو کیا ہوگا ؟سرکار کسی کو بھی اپنا کاروبار کرنے سے نہیں روک سکتی؟اس طرح کے اور کئی پینچ پیدا ہوسکتے ہیں جن کی وجہ سے کسان اور دیگر کسی سیکٹر کے لوگ نئی مانگ کو لیکر آندولن کر سکتے ہیں واقف کاروں کے مطابق آندولن کاریوں نے قانون او راپوزیشن کی مدد سے سرکار کو صحیح پھنسایاہے اس سے نکلنے کی راہ سرکار آہستہ آہستہ بنا رہی ہے پرالی اور بجلی مسئلے پر سرکار کے ذریعے بھروسہ دینے کے بعد آندولن کاری لیڈروں تک پہونچایا جا رہا ہے کہ وہ بھی بھروسہ بڑھانے کے قدموں اور اپنے مطالبات رکھیں وہ تین قانو ن کی واپسی کی جگہ کوئی اور لفظ زبان تجویز کریں حالانکہ احتجاجی لیڈر فی الحال احتجاج تیز نہ کرنے کے اشارے دے رہے ہیں ، لیکن ان کے بھی متبادل کھلے ہیں۔ (انل نریندر)

01 جنوری 2021

فرضی ٹی آر پی کیس میں ارنب گوسوامی پر رشوت دینے کا الزام !

فرضی ٹی آر پی کیس کی جانچ کر رہی ممبئی کرائم انٹیلی جینس یونٹ نے کورٹ میں ریپبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی پر رشوت دینے کا تحریر میں الزام لگایا ہے فرضی ٹی آر پی کیس میں چھ اکتوبر کو مقدمہ درج کیا گیا تھا تب سے ریپبلک ٹی وی اور دیگر دوسرے چینل تفتیش کے گھیرے میں ہیں لیکن اس کیس میں سرکاری طور سے ممبئی کرائم برانچ نے ارنب گوسوامی کا نام پہلی بار لیا ہے اور عدالت میں کہا کہ ارنب کے دئے گئے روپیوں میں سے بارک کے سابق سی اے او پارتھ داس گپتانے کیا خریدا اس کی بھی جانچ کرنی ہے اور اس کو ضبط کو کرنا ہے اسلئے پارتھ داس گپتا کو حراست میں لیا جائے اس کے بعد عدالت نے اس کو 30دسمبر تک کرائم انٹیلی جینس یونٹ میں بھیج دیا اس کے بعد ایجنسی نے عدالت کو بتایا ملزم کے پاس سے دو موبائل فون ایک لیپ ٹاپ اور ایک آئی پیڈ ضبط کیا ہے اس کی جانچ کی جارہی ہے کرائم برانچ نے داس گپتا کو فرضی ٹی آر پی کیس کا ماسٹر مائنڈ بتایا ہے داس گپتابارک میں 2019تک سی ای او رہے۔اسکے علاوہ بارک میں تقریباً لمبی مدت سی او سے مل رہے رام گڑھیا کا بھی رول رہا ان کو بھی گرفتار کر لیا گیا الزام ہے کہ ان ملزمان نے کچھ دیگر ملزمان کی مدد سے سازش ٹائم ناو¿ کے نمبر ون او ر نمبر دو اور ریپبلک ٹی وی کو ناجائز طریقے سے نمبر ون بنایا اس کیس میں اب تک پندرہ لوگ گرفتار ہوچکے ہیں ۔ ارنب گوسوامی تو ڈیزائنرانائک اور ان کی ماں کمد کو خود کشی کےلئے مبینہ طور ے اکسانے کے معاملے میں پچھلے مہینے گرفتار ہوئے بعد سپریم کورٹ سے انہیں ضمانت ملی تھی۔ (انل نریندر)

ایک اور اتحادی جماعت این ڈ ی اے سے الگ ہوئی !

کسانوں کے مسئلے پر نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس (این ڈی اے )کو ایک اور زبردست جھٹکا لگا ہے اس میں شامل جماعت آر ایل پی نے این ڈی اے کا ساتھ چھوڑ دیا ہے پارٹی کے کنوینر اور ناگوڑ سے ایم پی ہنومان بینیوال نے اس کا اعلان کردیا ہے انہوں نے کسان آندولن کی حمایت میں راجستھان کے ہزاروں کسانوں کو لیکر دہلی کوچ کیا اس سے پہلے کسانوں کے مسئلے پر این ڈی اے کی اتحادی جماعت اکالی دل بھی ساتھ چھوڑ چکی ہے ۔ یہ سبھی ساتھی پارٹیوں میں بھاجپا سب سے بڑی جماعت ہے۔ جو کسانوں کے زرعی قانون کے فائدے سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے دوسری طرف سندھو بارڈر پر پچھلے گزشتہ تین دنوں سے زیادہ کسان آندولن کر رہے ہیں اس سے پہلے بینیوال نے کہا تھا کہ مودی سرکار کے پاس تین سو ایم پی ہیں اس وجہ سے وہ زرعی قوانین کو واپس نہیں لے رہی ہے اس کے احتجاج میں انہوں نے این ڈی اے کا ساتھ چھوڑاہے اور یہ قوانین کسان مخالف ہیں ۔ لیکن میرے این ڈی اے چھوڑنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری پارٹی کانگریس کے ساتھ اتحاد کرے گی ۔بینیوال نے 19دسمبر کو تین پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا تھا۔حالانکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ استعفیٰ کہ اہم وجہ باڈ میر میں ان پر ہوا حملہ ہے اور اس کے لئے سال بھر سے کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔ (انل نریندر)

الوداع! اشبھ سال 2020

تاریخ کے کالے صفحات میںکچھ ایسے سال رہے ہیں جب زبردست تباہی یا بڑی آفت کے چلتے پوری بنی نوع انسان کا وجود ہی داو¿ں پر لگ گیا ان برسوں کی فہرست میں 2020کو ضرور درج کیا جائے گا یہی سال تھا جب دنیا کا سامنا کووڈ 19-وباءسے ہوا ایک وائرس جسے دنیا بھر میں 17لاکھ سے زیادہ موتیں تو سرکاری ریکارڈ میں درج ہیں انسان کے مزاج میں یہ خواہش ہونا فطری ہے کہ برا وقت جلد سے جلد گزر جائے ایسی ہی دعائیں ہم کرتے ہیں جب ہم سال 2020کی بات کرتے ہیں ویسے تو سال 2020پوری دنیا کےلئے اشبھ رہا لیکن اگر ہم اپنے دیش کی بات کریں تو مارچ 2020کے بعد سے کورونا کی آہٹ نے صرف زندگی میں اتھل پتھل پید اکردی بلکہ اس سے ہماری معیشت بھی چوپٹ ہوگئی ۔ گزرا برس قدرتی آفت کا شکار رہا اس کے سبب کاروبار بھی بری طرح ٹھپ رہا کورونا سے پہلے ہی مندی کا کالا سایا تھا اور اقتصادی ترقی شرح کافی نیچے آگئی تھی ۔ آٹو موبائل سیکٹر ہو یا ریل اسٹیٹ سبھی سیکٹر میں پروڈیکشن کی رفتار تھم گئی تھی ۔ لیکن کورونا کے بعد تو حالات اتنے تباہ کن ہوگئے کہ سرکار کی آمدنی پر ہی تالا لگ گیا ۔ معیشت کا سب سے بڑا ذریعہ آج ٹرانسپورٹ سیکٹر میںجیسے ریلوے ہوا بازی وغیرہ ہیں دونوں ہی ٹھپ ہوگئے ۔یہی اثر ہمارے انڈسٹیریل سیکٹر پر بھی پڑا اور تمام بڑے چھوٹی صنعتیں اپنا خسارہ کم کرنے کےلئے اپنی اسکیموں کو سمیٹنے پر مجبور ہوئے۔ صنعتی ترقی کی رفتارعجیب و غریب ہوتی اگر ترقی کی چال وقت کے مطابق نہیں چلی تو یہ خسارے کا شکار ہوجاتی ہے ۔صنعتی ترقی و بڑے بڑے کارخانوں کے ٹھپ ہونے سے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار ہونا پڑ ابے روزگاری 2020میں بے تحاشہ بڑھی ۔ رہی صحیح کثر لاک ڈاو¿ن لگنے سے پوری ہوگئی عوام مہینوں تک گھروں میں قید ہوگئے اور لاکھوں لوگوں لاکھوں مزدور دیش کی مختلف ریاستوں سے اپنے گھر پر جانے پر مجبور ہوئے سبھی کی حالت پریشان کن رہی فلم صنعت کی بات کریں تو اس سیکٹر سے سرکار کو انکم ٹیکس حاصل ہوتا ہے پورے برس یہ فلم انڈسٹری بند رہی اور تمام سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں تو اس کا اثر پرنٹ میڈیا صنعت پر بھی پڑا اور یہ فطری تھا کی بڑے بڑے اخباروںنے اپنے اسٹاف کی چھٹنی شروع کردی اور صحافیوں کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ۔سارے سیکٹر نہ صرف اپنے خسارے پر قابو پانے مرکوز رہے اس لئے اشتہارات پر کسی نے توجہ نہیں دی پرنٹ میڈیا کا تو پران وایو ہی وگیاپن ہے ایسی حالت میں کسی سیکٹر نے اشتہار نہیں جاری کئے سال کے آخر میں آتے آتے کورونا کی نئی شکل اختیار کرتے دیکھی گئی کہا جا رہا ہے انگلینڈ سے نیا کورونا اسٹرین آیا ہے ویکسین کے انتظار میں مہینوں گزر گئے ابھی بھی یہ کب آئے گی دعویٰ سے نہیں کہا جا سکتا سال کے آخر میں کسانوں کی تحریک دیکھنے کو مل رہی کئی دور کی بات چیت کے بعد کسانوں کے مسئلے کے حل کی تھوڑی امید بندھی ہے ۔ امید کی جاتی ہے کہ نئے سال کے شروع میں اس کا کوئی حل نکل آئے گا لاک ڈاو¿ن ہمیں یہ بھی سکھایا کہ ہم کو گزر بسر کرنے کیلئے کتنی کفایت ساری برتنی چاہئے گھر پر رہنے سے مجبوری کے سبب خاندان میں آپسی پیار بنا رہا اور لوگوں کو کنبے میں وقت گزارنے کا موقع ملا ہم آپ کو نئے سال کی نیک خواہشات پیش کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ آج شروع ہوا نیا سال 2021گزرے سال سے ہر لحاظ سے بہتر ثابت ہوگا۔ (انل نریندر)

31 دسمبر 2020

وکیل محمود پراچہ کے خلاف مقدمہ درج ہوا!

نظام الدین تھانہ میں مشہور وکیل محمود پراچہ اور دیگر لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیاہے ۔ان پر سرکاری کام میں مداخلت کرنے اور پولیس ٹیم کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا الزام ہے ۔محمود پراچہ کے دفتر میں دہلی پولیس اسپیشل کی ٹیم کا سرچ آپریشن 11گھنٹے چلا ۔دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور پولیس کے حکام کے مطابق نارتھ ایسٹ دہلی میں ہوئے دنگوں میں ایک فساد متاثرکوغلط بیان دینے کو کہاگیا ہے حلف نامہ جس نوٹری کے نام پر بنایا گیا ان کی تین سال پہلے 2017میں موت ہو چکی ہے اس کی بیوی وکیل ہے نوٹری کو دہلی حکومت سے نوٹری لائسنس ملا ہوا تھا ۔عدالت میں بحث کے دوران اس کی پول کھل گئی ۔نوٹری کی بیوی نے عدالت میں بیان دیا کہ ان کے پتی کے موت ہو چکی ہے اس نے کوئی حلف نامہ نہیں بنایا ا س پر کورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر ایس این سریواستو کو اسپیشل سیل و کرائم برانچ کو اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کے احکامات دئیے ۔عدالت کی ہدایت پر 22اگست 2020کو اسپیشل سیل نے مقدمہ درج کر جانچ شروع کر دی ۔پولیس کا کہنا ہے محمود پراچہ نے جانچ میں تعاون نہیں دیا اور پولیس کے پوچھنے پر پراچہ نے کمپیوٹر اور اس کے پاس ورڈ کے بارے میں نہیں بتایا ۔پولیس نے کمپیوٹر و لیپ ٹاپ وغیرہ کو کنگھالا الزام ہے کہ وہاں دیگر لوگوں کو بلا لیا گیا تھا اسپیشل سیل کی طرف سے نظام الدین تھانہ میں شکایت درج کردی گئی اسپیشل سیل نے اس بارے میں صفائی دیتے ہوئے کہا پراچہ اور جاوید دفتر پر چھاپہ ماری عدالت کے حکم پر کی گئی ہے ۔15گھنٹے تک چلے سرچ آپریشن کے دوران پولیس ٹیم کے ساتھ ایک غیر پولیس گواہ وردی میں پولیس کانسٹبل اور مہیلا پولیس کانسٹبل سمیت ڈی سی پی منیشا چندر وغیرہ افسران بھی موجود تھے چھاپہ ماری کی ویڈیو گرافی کی گئی ہے ۔وکیل محمود پراچہ نے کہا ان کے دفتر میں دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کے ذریعے چھاپہ ماری کرنے کے دوران ویڈیو گرافی کو محفو ظ رکھنے کے لئے عدالت میں ایپلی کیشن فائل کی ہے ۔اتنا ہی نہیں انہوں نے اپنے خلاف درج معاملے کی جانچ کی لگاتا ر نگرانی کی بھی درخواست کی ہے عدالت میں اس معاملے میں پولیس کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے ۔پٹیالہ ہاو¿س کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ انشل سنگھل نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کر جواب مانگا تھا ۔اور اگلی سماعت پانچ جنوری تک کے لئے ملتوی کر دی ۔دہلی دنگوں کے ملزمان کی پیروی وکیل محمود پراچہ کررہے ہیں پورے معاملے کی سماعت متعلقہ عدالت میں ہوگی اور وہ عدالت میں ضبط سامان کو دلوانے اور نا ویڈیو کی کاپی دلوانے سے متعلق مانگ پر غور کرے گی اس معاملے میں عدالت میں دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا اور جانچ افسر کو ضبط سامان و ویڈیو کو ساتھ لانے کو کہا ہے معاملہ عدالت میں ہے اوراب اس پر کسی طرح کی رائے زنی کرنا صحیح نہیں ہے ۔محمود پراچہ اگر بے قصور ہے تو یقینی طور سے وہ اپنی پیروی کرکے اپنے آپ کو بے قصور ثابت کر سکتے ہیں اگر ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی تو بھی عدالت فیصلہ کر لے گی ۔ (انل نریندر)

بغیر ڈرائیور کے میٹرو ٹرین کتنی محفوظ ہے؟

وزیر اعظم نریند ر مودی نے مجینٹا لائن پر چل رہی دیش کی پہلی بغیر ڈرائیور میٹر و ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل جی کی کوششوں سے دیش میں پہلی میٹرو ٹرین شروع ہوئی اس وقت 2014میں ہماری سرکار تھی اور یہ اس وقت صرف پانچ شہروں میں میٹرو سروس تھی جو آج بڑھ کر میٹرو سروس جاری ہے اور 2025تک ہمارا نشانہ میٹرو سروس کو پچیس شہروں میں شروع کرنا ہے دہلی میں میٹرو بغیر ڈرائیور کے آٹو میٹک میٹرو چلنے لگی ہے آج آپ کی دہلی میٹرو دنیا میں مشہور شہروں میں شمار ہوگئی ہے اپنی دہلی تیزی سے ترقی کر رہی ہے دیش کی پہلی ڈرائیور لیس میٹرو 38کلو میٹر لمبی میجینٹا لائن پر چل رہی ہے 390کلو میٹر میں دہلی میٹرو کا نیٹورک دہلی سمیت آس پاس کے شہر نوئیڈا ،گوروگرام ، فریدآباد ، غازی آباد جیسے شہروں کو جوڑتا ہے ۔دہلی میٹرو دیش کی سب سے بڑی سروس ہے ۔پہلی بار اس کوچلانے کا کام 24دسمبر 2002کو شاہدرہ اور تیس ہزاری اسٹیشنوں کے درمیان 8.4کلو میٹر کے راستے پر ہوا تھا ۔میجٹا لائن دہلی مین جنکپوری ویسٹ اور نوئیڈا میں بوٹینیکل گارڈن کو جوڑتی ہے ۔اس لائن پر ہی پہلے ڈرائیور لیس ٹرین تکنیک کا آغاز ہوا ۔اور اس کو 2021کے درمیان تک پنک لائن، مجلس پارک -شیو وہار کے درمیان شروع کرنے کا منصوبہ ہے وزیراعظم نے ڈرائیور لیس ٹرین کے آغاز کے بعد کہا کہ تین سال پہلے میجنٹا لائن کے افتتاح کا بھی مجھے سوبھاگیہ حاصل ہوا اورآج پھر اسی روٹ پر دیش کی پہلی آٹو میٹک میٹرو کا افتتاح کرنے کا موقع ملا ہے یہ دکھاتا ہے کہ بھارت کتنی تیزی سے اسمارٹ سسٹم کی طرف بڑھ رہا ہے وہیں ڈی ایم آر سی کے مطابق ابھی بھی زیادہ تر ٹرین کو ریموٹ کنٹرول سے آپریشن روم سے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے ۔جسے آپریشن کنٹرول سینٹر یا او سی سی کہتے ہیں یہان سے انجینئروں کی ٹیمیں نیٹ ورک میں ریل ٹائم ٹرین موومنٹ پر نظررکھتی ہیں اور یہ ائیر ٹریفک کنٹرو ل کی طرح ہوتا ہے ڈی ایم آر سی کے پاس ابھی تین او سی سی ہیں جنہیں دو میٹرو ہیڈ کوارٹر کے اندر اور ایک شاستری پارک میں ہے ۔ڈی ایم آر سی کا کہنا ہے ڈرائیور لیس ٹرین پوری طرح محفوظ ہے میٹرو کو چلانے سے جڑے کام پہلے سے ہی آٹو میٹک ہیں ہائی ریزولیشن کے کیمرے لگ جانے سے ٹریک پر کیبن سے نظر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی اس نئے پلان کے مطابق ٹریک اور ٹرین کے اوپر سے گزرنے والی تاروں پر لگاتا ر نظررکھی جاتی ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں فوراً قدم اٹھایا جاسکے گا ۔ریلوے سیفٹی کمشنر جس نے 18دسمبر کو ڈرائیور لیس ٹرین چلانے کی کلیرنس دی تھی ان کا یہ یقینی کرنے کا حکم ہے کہ کمان سنٹر پر سب کچھ دکھائی دے اور ٹرین پر لگے کیمروں کو ابھی سے آزاد رکھا جائے ۔ڈی ایم آر سی کے مطابق یومیہ دیکھ بھال اور جائزے کے لئے ایک مشیر بھی مقرر کیا ہے اس کی رپورٹ ڈی ایم آر سی ، سی ایم آر ایس کو چلانا شروع کرنے کے بعد کمان سنٹرپر انفارمیشن کنٹرولر ہوں گے جو کہ مسافروں اور بھیڑ کی نگرانی کریںگے اس کے علاوہ ٹرین سے جڑی ساری جانکاریوں اور سی سی ٹی وی کی بھی لگاتار مانیٹرنگ کی جائے گی مسافروں میں ڈرائیور لیس ٹرینوں میں بیٹھنے کا ڈر تو رہے گا لیکن وقت کے ساتھ جب عادی ہو جائیں گے کہ ٹرین محفوظ ہے تو یہ ڈر بھی ختم ہو جائے گا ۔ (انل نریندر)

30 دسمبر 2020

آزادی کی لڑائی دیکھی ، اب میں کسانوں کے مفاد کےلئے لڑوں گی

کسان تحریک ہر نئے دن وسیع شکل اختیار کررہی ہے۔ اس وقت لاکھوں ان داتا دارالحکومت کی سرحدوں پر موجود ہیں۔ ان میں چھوٹے بچوں سے لے کر بڑی تعداد میں بزرگ بھی شامل ہیں۔ ایسی ہی ایک خاتون جسویندر کور ہیں ، جنہوں نے 15 سال کی عمر میں 1945 کی آزادی کی جدوجہد میں انگریزوں کا مقابلہ کیا تھا۔ اب وہ دہلی کے ٹکری بارڈر پر چلنے والی تحریک میں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مرکزی حکومت زرعی قانون کو واپس نہیں لیتی ، وہ احتجاج کرنے والے کسانوں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ جسویندر کور (90) کا تعلق دہلی کے نانگلوئی علاقے سے ہے اور وہ اصل میں پنجاب کے ضلع سنگرور کی رہنے والی ہیں۔ وہ سخت سردی اور کورونا کے خوف کے باوجود پچھلے ایک ہفتہ سے ٹکری سرحد کے کنارے کسانوں کی مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح انہوں نے ملک کی آزادی کی جنگ لڑی ، اسی طرح وہ کسانوں کی تحریک میں کسانوں کے مفاد کے لئے بھی لڑیں گی۔ وہ کسان کا وارث ہے اور اپنی چوتھی نسل کو دیکھ رہا ہے۔ ان کے قبیلے میں 1 ‹0 لوگ ہیں۔ سبھی کسی نہ کسی طرح کھیتی باڑی سے منسلک ہیں۔ جسوندر کور کا کہنا ہے کہ وہ کئی دنوں سے ٹی وی پر کسان تحریک کی خبریں دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ سردی کی سردی میں بھی کسان سڑکوں پر پھنس چکے ہیں۔ بہت سارے کھانے فراہم کرنے والے اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اسے یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی اس لڑائی میں تحریک میں شامل ہوں گی اور قوانین کی واپسی تک کسانوں کی حمایت جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں کاشتکاری ہوتی تھی ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ مبارک ہے جسوندر کور کے جذبات۔ یہاں تک کہ اس عمر میں بھی وہ کھڑی ہے۔ (انل نریندر)

بھاجپا کا یہ قدم اتحادی دھرم کے خلاف ہے!

اروناچل پردیش میں جنتا دل (متحدہ) کے چھ ممبران اسمبلی نے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات پر کوئی اثربھلے نہ پڑے ، لیکن بی جے پی کے اس قدم نے اتحاد میں عدم اعتماد کی بنیادضرور ڈال دی ہوگی۔ اروناچل میں جنتا دل (متحدہ) کو چونکا دینے والی ، اس کے سات ایم ایل اے اتحادیوں میں سے چھ نے حکمراں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ نیز ، پیپلز پارٹی آف اروناچل پردیش (پی پی اے) کے ایک ایم ایل اے نے بھی پارٹی کو بدل کرکے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ یہ تبدیلی پنچایت اور بلدیاتی انتخابات کے انتخابات کے اعلان سے ایک روز قبل ہوئی ہے۔ جنتا دل (یو) ، جس نے 2019 کے اسمبلی انتخابات میں 15 نشستیں حاصل کیں ، بی جے پی کے بعد دوسری سب سے بڑی پارٹی بن گئیں ، سات سیٹیں جیت کر۔ بی جے پی نے 41 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس تبدیلی کے بعد ، بی جے پی کو اب 60 سیٹوں والی اسمبلی میں 48 ایم ایل اے مل چکے ہیں ، جبکہ کانگریس اور این سی پی کے پاس چار چار ہیں۔ جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے کہا کہ یہ اتحاد مذہب کی روح کے خلاف ہے۔ جے ڈی یو کے لئے ، یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ بہار میں اتحاد کے باوجود بی جے پی نے یہ فیصلہ کیوں لیا۔ کے سی تیاگی کا کہنا ہے کہ جے ڈی یو اروناچل پردیش میں دوستانہ حزب اختلاف تھا۔ دونوں جماعتیں این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ یہ ایسی حالت میں کیوں ہوا ، صرف بی جے پی ہی بتا سکتی ہے۔ در حقیقت ، بی جے پی شمال مشرق میں خود کو مضبوط بنانے کی مستقل کوشش کر رہی ہے۔ آسام میں ، بوڈولینڈ علاقائی کونسل کے انتخاب میں ، بی جے پی نے اتحادی بوڈو پیپلز مورچہ چھوڑ دیا اور یونائیٹڈ پیپلز پارٹی لبرل اور گانا تحفظ پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ یہ بھی بحث کی جارہی ہے کہ جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان اتحاد صرف بہار تک ہی محدود ہے۔ 2019 اروناچل پردیش اسمبلی انتخابات میں ، جے ڈی یو نے 15 نشستوں پر مقابلہ کیا اور سات سیٹیں جیت کر سب کو حیران کردیا۔ جے ڈی یو نے ریاست کے دارالحکومت اتانگر میں بھی کامیابی حاصل کی۔ تاہم ، دوسری بڑی پارٹی ہونے کے باوجود ، جے ڈی یو نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کے بجائے باہر سے حکومت کی حمایت کی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی بڑی پارٹی نے اقتدار میں رہتے ہوئے اپنے اتحادیوں کے ایم ایل اے کو شامل کیا ہے۔ سات میں سے چھ ایم ایل اے کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے ، بی جے پی نے جے ڈی یو کو ایک بڑا پیغام دیا ہے۔ کانگریس اور آر جے ڈی نے جے ڈی یو کے ممبران کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی بی جے پی پر طنز کیا ہے۔ کانگریس نے کہا ہے کہ بی جے پی اپوزیشن پارٹی کو توڑ رہی ہے ، لیکن اروناچل پردیش کے واقعے نے یہ واضح کردیا ہے کہ اب اس نے اتحادیوں کو توڑنا شروع کردیا ہے۔ہے اسی دوران ، آر جے ڈی نے کہا کہ بی جے پی نے پارٹی میں شامل ہوکر جے ڈی یو ایم ایل اے کو مار ڈالا ہے اور اتحاد مذہب پر حملہ کیا ہے۔ اس سے این ڈی اے کے دیگر حلقوں خصوصا کم ایم ایل اے والے لوگوں کو حیرت کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اور اب ہر کوئی پریشان اور سوچ رہا ہوگا کہ شاید ان کی پارٹی بی جے پی پر کانچ نہیں ڈال سکے گی۔ یہ ناقابل فہم ہے کہ جب 60 نشستوں والی اسمبلی میں بی جے پی کے پاس 41 سے زیادہ نشستیں (41) تھیں تو انہوں نے جے ڈی یو کے ممبروں کو کیوں توڑا؟ اروناچل میں جے ڈی یو کو بڑا دھچکا لگنا فطری ہے۔ جے ڈی یو نہ صرف مرکز میں این ڈی اے کا حصہ ہے ، بلکہ بہار میں بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بھی چلاتی ہے۔ کیا نتیش نہیں چاہتے کہ ان کی پارٹی بی جے پی میں ضم ہوجائے؟ (انل نریندر)

اس لئے شرد پوار کو یو پی اے کا صدر بنایا جانا چاہئے!

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کو قومی صدر شرد پوار کو متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) کا صدر بنانے کی بات کو پندرہ دن میں دوسری بار اٹھایا گیا ہے۔ ان کی 80 ویں سالگرہ سے ٹھیک پہلے ہی بات چیت بھی ہوئی تھی۔ اب شیوسینا نے اپنے” اخبار سامنا“ کے ذریعہ شرد پوار کا نام لئے بغیر یو پی اے کی ذمہ داری کی وکالت کی ہے۔ ہفتہ کو سامنا کے اداریہ میں جہاں کانگریس کی قیادت پر یو پی اے کے اندر کھینچ تان کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ ہی ، پوار کی تعریف میں قصیدے گڈھے گئے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کی سربراہی میں یو پی اے (یو پی اے) کی حالت کسی این جی او کی طرح نظر آتی ہے۔ اس میں کون سی پارٹی شامل ہے کیا کرتی ہے۔ یو پی اے کے اتحادی کسان کسان تحریک کو سنجیدگی سے لیتے دکھائی نہیں دیتے۔ پوار کے زیرقیادت این سی پی کے سوا ، یو پی اے کے دیگر اتحادیوں کے درمیان کوئی حرکت نہیں ہے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ ö پوار کی ایک آزاد شخصیت ہے۔ دیگر جماعتیں ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہیں جن میں پے ایم نریندر مودی شامل ہیں۔ بنگال میں بی جے پی سے لڑنے والی ممتا بنرجی نے حال ہی میں ان سے بات کی ہے۔ کانگریس مہاراشٹرا کی شیوسینا کی زیرقیادت حکومت میں شامل ہے ، لہذا سمن نے کانگریس کے صدر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی براہ راست تنقید کی بجائے صرف یو پی اے کی کوتاہیوں کو ہی اجاگر کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ کانگریس کے پاس ایک سال سے سابق صدر نہیں ہے۔ سونیا یو پی اے کی چیئرپرسن ہیں اور کانگریس کی سربراہی کر رہی ہیں۔ لیکن آس پاس کے پرانے رہنما پوشیدہ ہوچکے ہیں۔ موتی لال وورا اور احمد پٹیل جیسے لوگ اب نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں کانگریس کی قیادت کون کرے گا؟ اس بارے میں الجھن ہے کہ یو پی اے کا مستقبل کیا ہے۔ جس طرح یو پی اے میں کوئی نہیں ہے ، یو پی اے میں بھی کوئی نہیں ہے۔ لیکن بی جے پی پوری صلاحیت کے ساتھ اقتدار میں ہے اور ان کی نریندر مودی جیسی مضبوط قیادت اور امیت شاہ جیسے سیاسی منتظم ہیں۔ سمن میں لکھا گیا تھا کہ اپوزیشن نے جس طرح کی حکمت عملی اپنائی ہے وہ مودی اور شاہ کے خلاف غیر موثر ہے۔ یو پی اے میں قیادت کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ بہت سی جماعتیں جیسے ترنمول کانگریس ، شیوسینا ، اکالی دل ، مایاوتی کی بی ایس پی ، اکھلیش کی ایس پی ، آندھرا میں جگن کی وائی ایس آر کانگریس ، چندرشیکھر راو¿ کی ٹی آر ایس ، نوین پٹنائک کی بی جے ڈی وہ حزب اختلاف میں ہیں لیکن کانگریس کی زیرقیادت یو پی اے میں شامل نہیں ہوئے۔ جب تک یہ پارٹیاں یو پی اے میں شامل نہیں ہوں گی اپوزیشن حکومت کو تمیز نہیں دے سکے گی۔ چہرے پر نشانہ بننے کے بعد ، کانگریس نے اب جوابی کارروائی کی ہے۔ شیوسینا کو ہدایت دیتے ہوئے کانگریس کے رہنما اور سابق سی ایم اشوک چوان نے کہا کہ جو پارٹی یو پی اے کا حصہ نہیں ہے اسے کانگریس کو یوپی اے کی قیادت کے بارے میں مشورہ نہیں دینا چاہئے۔ سونیا جی کی قیادت قابل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خود شرد پوار نے واضح کر دیا ہے کہ وہ یو پی اے کی کمان سنبھال نہیں لیں گے۔ اسی دوران ، کانگریس کے رہنما نسیم خان نے بھی شیوسینا پر کہا کہ پارٹی نے مہاراشٹرا میں کامن کم سے کم پروگرام کی بنیاد پر شیوسینا کی حمایت کی ہے۔ شیوسینا یوپی اے کا حصہ نہیں ہے ، لہذا شیوسینا کو یوپی اے کے بارے میں اپنے خیالات بیان کرنے کا حق نہیں ہے اور شیوسینا کو اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہئے۔ (انل نریندر)

29 دسمبر 2020

کرسمس پر امریکہ کے علاقے نیش ولے میں دھماکہ !

کرسمس کے دن 25دسمبر کو صبح صبح امریکہ کے نیش ولے شہر میں ایک سڑک پر دھماکہ ہو ایہ بہت زبردشت تھا جس سے آس پاس کی عمارتوں کی کھڑکیوں کے سیسے توٹے اور کئی عمارتوں کو نقصان ہوا اس میں تین افرا د بھی زخمی ہوئے امریکی جانچ ایجنسی ایب بی آئی کے سابق افسر نے اس دھماکے کو دہشت گردانہ کاروائی بتایا پولس کے ترجمان ڈون ایرون کا کہنا ہے کہ دھماکہ صبح سویرے 6:30پر ہوا اس میں زخمی تین لوگوں کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا اور معاملے کی ایف بی آئی نے جانچ شروع کر دی ہے ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر اینڈریو میکوے کے مطابق دھماکے کی جانچ ممکنہ دہشت گردانہ واردات کے اینگل سے کی جانی چاہئے ان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پولس کو نشانہ بنانا مقصد رہا ہوگا حالانکہ یہ نہیں بتایا کہ کرسمس کو دیکھتے ہوئے یہ دھماکہ کیا گیا ہوگا ۔ ایک شہر کے ایک چشم دید نے بتایا کہ موقع واردات کے آس پاس پیڑ گرے تھے اور کھڑیوں کے سیشے ٹوٹے پڑے تھے اگر یہ دہشت گردانہ واردا ت ہے تو یہ سنگین معاملہ ہے امریکہ میں دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لئے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ اگر پھر بھی دھماکے ہوتے ہیں تو یہ افسوس ناک بات ہے ۔ (انل نریندر)

ریٹرو اسپکٹیوٹیکس معاملوں میں حکومت ہند کو بڑا جھٹکا

ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس کا معاملہ مرکزی حکومت کے گلے کی ہڈی ثابت ہورہا ہے اور معاملے میں ووڈافون سے قریب 20ہزار کروڑ روپئے کا مقدمہ ہارنے کا بعد اب بھارت سرکار برطانوی کمپنی کیرن اینرجی سے 10247کروڑ روپئے کے ٹیکس کا مقدمہ بھی ہار گئی ہے ۔نیدر لینڈ کے ایک ٹریبونل نے اس معاملے کے کیرن کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے عدالت نے کہا کہ اس نے بھارت سرکار کے خلاف میں وصولی کا عدالت میں کیس جیت لیا ہے جس میں ریٹرو اسپکیٹو ٹیسٹ کی شکل میں 10247کروڑ روپئے مانگے گئے تھے تین ججوں کی بنچ نے حکم دیا کہ 2006-07میں کیرن کے ذریعے بھارت کے کارو بار کے اندرونی روح پھونکنے پر بھارت سرکار کی یہ رقم دینے کا دعویٰ مناسب نہیں ہے حکومت ہند کی جانب سے مقرر ایک جج بھی بحث میں شامل ہو ا بھارت سرکار سے یہ بھی کہا کہ کمپنی کا جو پیسہ اس کے پاس ہے وہ سود سمیت کمپنی کو واپس کیا جائے حکومت نے اس کمپنی کا ٹیکس ڑیفنڈ روک رکھا ہے اس میں ساتھ ہی منافع بھی ضبط بھی کیا ہوا ہے بقایہ ٹیکس کی ادائیگی کے لئے کچھ شیئر بھی بیچ دیئے گئے ہیں ۔ حالانکہ بھارت سرکار اس فیصلے خلاف اپیل کر سکتی ہے اس سے پہلے ٹریبونل نے ووڈا فون کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کمپنی سے ٹیکس کی شکل میں قریب 22ہزار کروڑ روپئے کی مانگ کو غلط قرار دیا تھا ۔ دراصل 2012اس وقت کی حکومت نے پارلیمنٹ میں ریٹرو اسپکٹیو ٹیکس سے متعلق قانون کو منظوری دے دی تھی جس کے تحت کمپنیوں سے کئے گئے سودوں کی بنیاد پر کیپٹل گین ٹیکس وصولا جاسکتا ہے ۔ووڈا فون اور کیرن سے جنس سودوں کو لیکر مانگ کی گئی وہ اس قانون کے وجود میں آنے سے پہلے کے تھے اسی سال ستمبر میں بین الاقوامی ماتحت عدالت نے ووڈا فون سے ٹیکس وصولی اور نیدر لینڈ کی کمپنی میں ہوئے باہمی سرمایہ کاری معاہدے میں دی گئی مباسب اور یکساں برطاو¿ کی گارنٹی کی خلاف ورزی مانا اور ٹیلی کمیو نیکیشن کمپنی کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کے احکامات دیئے در اصل بھارت سرکار کا صاف ماننا ہے ٹیکس سسٹم دیش کی سرداری سے جڑا ہے اس میں باہر ی مداخلت قبول نہیں کی جاسکتی ۔ٹریبونل میں ووڈا فون اور کیرن جیسے ریٹرو ریسپیکٹیو کے ایک درجن معاملوں پر سما عت ہورہی ہے قانونی ماہرین کا کہنا ہے ووڈا فون کے معاملے کی نظیر کو دھیان رکھتے ہوئے ان معاملوں میں بھی بھارت سرکار کے خلاف فیصلہ سنایا جا سکتا ہے ۔ آخر یہ کمپنیاں بھارت سے باہر کیوں لڑنا پسند کرتی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ہندوستانی عدلیہ نظام میں بار بار دبدبہ ہے اور وہ غیر ملکی وکیلوں اور قانونی فرموں کو دیش میں وکالت کرنے سے روکتی ہیں ۔ اس وجہ سے کمپنیوں کو لگتا ہے کہ وہ اپنے لئے بڑھیاں وکیل کھڑا نہیں کرسکتی دوسری وجہ یہ ہے کہ کمپنیوں جلد فیصلے کی تمنا رہتی ہے چونکہ مقدمہ لمبا کھنچنے سے دونوں فریقوں کو نقصان ہوتا ہے پھر انہیں لگتا ہے کہ ہماری عدالتوں پر سرکاری دباو¿ہوتا ہے ۔ (انل نریندر)

تھکادوبھگا دو پالیسی پر کام کر رہی ہے حکومت!

حکومت نے کسانوں کو پھر خط لکھا ہے اور بات چیت کےلئے بلا یا ہے۔ کسان اور سرکار مین بات چیت ہونے والی ہے دونوں ایک دوسرے کو اب تک سمجھ چکے ہیں ۔ احتجاجی کسانوں نے حکومت سے ان باتوں کا جواب مانگا ہے جس کو انہوں نے شروع سے ہی اٹھایا ہے سرکار ان مسئلوں پر نہ تو بات چیت کر رہی ہے اورنہ ہی ان بوتوں کو مانا دور کی بات وزیر اعظم کے حکم پر سرکار کا ہر لیڈر آج کل جنتا کو ان قوانین کے بارے میں سمجھانے میں نکلا ہے اور وزیر اعظم ہر تقریر میں ان قوانین کی اچھائیوں کو گنانے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں پر بھی الزام لگاتے ہیں کہ یہ بھولے بھالے کسانوں کو ورغلا رہی ہیں اگر کسان اپوزیشن لیڈروں سے گمراہ ہورہا ہے جنہیں میڈیا ویسی توجہ نہیں دیتا تو پارٹی کے وزیر اور مقامی لیڈروں کی بات کون سنے گا ؟دوسرا اگر اپوزیشن پارٹیوں میں ورغلانے کی اتنی ہمت ہوتی تو وہ ڈیڑھ سال پہلے ہوئے عام چناو¿ میں کامیاب نہ ہوجاتے ؟کیا اپوزیشن پارٹیوں کی ساخ لاکھ کسانوں کو سردی میں سڑکوں پر بھی اسی عظم سے تکلیف سہنے سے مجبور کر سکتی ہے ؟اقتدار کی کی نیت یہ ہے کہ اس کے ہوشیار نیتا بھی کئی بار غلطیاں کرتے رہتے ہیں اور آخر تک انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کہنا کیا تھا؟مثال دیکھیں کینڈا میں ان کسانوں کے رشتہ دار نے جو خود ہی کسانوں کے کنبوں سے ہیں جو مالی مدد بھیج رہے ہیں اس پر کچھ وزیر اس کو غیر ملکی فنڈ بتا کر آندولن کو عوام میں داغ دار کرنا چاہتے ہیں وہ یہ نہیںدیکھ رہے ہیں کہ کون سے اسباب اس تحریک کو انوکھا بنا رہے ہیں ؟سرکار یہ کیوں نہیں سمجھ رہی کہ یہ کسانوں کے وجود کی لڑائی ہے ۔ اور سرکار نے انہیں گزر بسر کا کوئی دوسرا متبادل نہیں دیا کانگریس نے دعویٰ کیا کہ مرکزی سرکار ان داتاو¿ں کو تھکاو¿اور بھگا دو کی پالیسی پر کام کر رہی ہے کانگریس کے جنرل سیکریٹری رندیپ سرجےوالا نے اخبار نویشوں سے کہا کہ 21دن بڑے سخت سردی میں دیش کا کسان دہلی کے دروازے پر انصاف کی درخواست کر رہا ہے اب تک 44کسانوں کی شہادت ہوچکی ہے مگر سرمایہ داروں کی پچھل لگو مودی سرکار کا دل نہیں پسیج رہا ہے انہوں نے دعویٰ کہ وزیر اعظم مودی اور بھاجپا سرکار کسانوں کو تھکا دو اور بھگا دو کی پالیسی پر کام کر رہی ہیں وزیر اعظم ٹی وی پر صفائی دیتے ہیں جبکہ ان کے وزیر خطوں کی دھائی دیتے ہیں، مگر مٹھی بھر سرمایہ داروں کی خدمت گار سرکار کسانوں کی دشمن بن گئی ہے کڑوا سچ یہ ہے کہ مودی سرکار سیاسی بیمانی ،ہٹ دھرمی اور داو¿ں پیچ کا سہار الیکر مسئلہ کا حل نہیں کرنا چاہتی کسانوں کے راستے میں سڑک خودوانے والے کسانوں پر سردی میں پانی برسانے والے اور لاٹھی برسانے والے وزیر اعظم مودی اب پھر سمان ندھی کا ڈھونگ رچ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا آپ آج کسانوں کو دہشت گرد اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ خالستانی بتا رہے ہیں اور آپ الٹا خود ورغلا رہے ہیںاپوزیشن نہیں،وزیر زراعت نے بھی اپنے خط میں کسانوں کو سیاسی کٹ پتلی تک کہہ دیا ۔ (انل نریندر)

27 دسمبر 2020

وزیر اعظم نریندرمودی کو منھ بولا بھائی ماننے والی کریمہ بلوچ نہیں رہیں !

بلوچستان کی جانی مانی سیاسی رضا کار اور بلوچ اسٹوڈینٹس آرگانزیشن کی سابق صدر کریمہ بلوچ کی لاس کنیڈا کے ٹورنٹو شہر میں ملی وہاں کی صحافی صبا اعجاز نے بی بی سی کو بتایا کریمہ کی پولس نے تصدیق کردی ہے کریمہ بلوچ کے خاندان اور دوستوں نے بتایا کہ ان کی لاش پولس کے پاس تھی اس کے بعد اس کے پوسٹ مارتم کے بعد لاش کو دے دیا گیا کریمہ بلوچ کی موت کے اسباب کو پتہ نہیں چل سکا وہیں اس کی موت کے خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر اسکی موت کی جانچ کی مانگ ہونے لگی بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ٹویٹ کیا سماجی کارکن کریمہ بلوچ کی موت ٹورنٹو میں ہونا بے حد تکلیف دہ ہے اور معاملے کی جانچ قصور واروں کو سزا ملنی چاہئے 37سالہ کریمہ بلوچ کنیڈا میں بطور رفیوجی رہ رہیں تھیں بی بی سی نے انہیں دنیا کی سو سب سے طاقت ور عورتوں کی فہرست میں شامل کیا تھا ۔ کریمہ بلوچ سال2005میں اپنے بلوچستان کے شہر تربت میں اس وقت سرخیوں میں آئیں جب لا پتہ ایک نوجوان کی پر اسرار تصویر ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھیں یہ شخص ان کا قریبی رشتہ دار تھا اس لوگ کچھ لوگ ہی کریمہ کو جانتے تھے کہ یہ نقاب پوش خاتون کون ہے کریمہ بلوچ کے ماں باپ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن ان کے چچا اور مامو بلوچ سیاست میں کافی سر گرم رہے بی ایس او کے سینئر نائب صدر ذاکر مزید کے لاپتہ ہونے کے بعد کریمہ کو تنظیم کا صدر بنایا گیا وہ بی ایس او کی پہلی خاتون صدر بنیںتنظیم کے لئے وہ مشکل دور تھا جب اس تنظیم کے لیڈر اچانک غائب ہورہے تھے کچھ چھپ گئے تھے اور کچھ نے الگ راستے اختیار کرلئے بلوچستان کی آزادی کی مانگ کرنے والی ایک تنظیم وی ایس او آزاد پر پاکستان کی حکومت نے سال 2013 میں پابندی لگا دی تھی ان حالات میں بھی کریمہ بلوچ نے تنظیم کو سرگرم رکھا اور بلوچستان کے دور دراج علاقوں میں تنظیم کی پہچان بنائی کریمہ بلوچ ایسی پہلی خاتون لیڈر تھیں جنہوں نے احتجاجی مظاہروں کا تربت سے کوئیٹا تک سڑکوں پر لائیں انہوں نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا تھا ان کا احتجاج لوگوں کو زبرا غائب کرنے اور ریاست کی کاروائیوں کے خلاف ہے سال 2008میں ایک ریلی کے لئے دہشت گرد انسداد قانون کے تحت الزامات لگائے گئے اور بھگوڑا تک قرار دے دیا گیا اس کے بعد ان پر فرنٹیر فورس سے رائفل چھیننے اور لوگوں کو اکسانے کا الزام لگاگیا جب پاکستان میں حالات خراب ہوگئے تو وہ کنیڈا چلی گئیں جہاں انہوں نے سیاسی پناہ لی اب ان کی موت سے بلوچیوں کے لئے تحریک کو دھکا لگا ہے ان کے بلوچ نیشنل مومنٹ نے کریمہ بلوچ کی موت پر چالیس دن کے سوگ کاا علان کیا ہے ۔ کریمہ بلوچ نے کچھ سال پہلے رکچھا بندھن کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی سے مدد کے لئے اپیل کی تھی بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر ثناءاللہ بلوچ نے ٹویٹ کیا کہ کریمہ کی اچانک موت ہونا ایک قومی ٹریجڈی سے کم نہیں دنیا کے سب سے محفوظ دیش کینڈا میں ایک بلوچ بیٹی کے غائب ہونے اور قتل سے وابستہ سارے حقائق سامنے آنے چاہئے کریمہ بلوچ کے غائب ہونے والے افرادکی مضبوط آواز تھیں اب وہ ہمارے ساتھ نہیں رہیں اس دکھ کےلئے الفاظ نہیں ہیں ۔ (انل نریندر)

کسان آندولن کو مل رہا ہے جن سمرتھن !

نئے مرکزی قوانین کو منسوخ کرانے اور ایم ایس پی کی گارنٹی کی مانگ کو لیکر جاری کسان آندولن انتہا پر پہونچ گیا ہے اسے عوامی جن سمرتھن مل رہا ہے ۔ اور آندولن کو بڑھاوا دینے کےلئے آرٹیسٹ جوش جگانے میں لگ گئے ہیں ۔ پنجابی گلوکار اور کھلاڑی سندھو بارڈر پہونچے انہوں نے کسانوں کے حق میں آواز بلند کی اور مرکزی سرکار سے درخواست کی کسانوں کی سبھی مانگیں مان لینی چاہئے کسان آندولن کے طئیں لوگوں کی رغبت بڑھتی جارہی ہے ۔ پنجاب کا رہنے والا ایک کھیتی مزدور 370کلو میٹر سائیکل چلا کر سندھو بارڈر پہونچا اس کا نام 36سالہ سکھ پال بازوا ہے موگا ضلع کا باشندہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر یہ قانون واپس نہیں لئے گئے تو ان کا زندگی کا گزر بسر مشکل ہوجائے گا دو دن تک سائیکل چلا کر یہاں پہونچے اور وہ مشکل سے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں ۔ اس لئے موٹر سائیکل یا ٹرین سے آنا مشکل تھا اور مالی تنگی کے سبب وہ سائیکل سے ہی یہاں آئے ہیں۔ وہ اپنے خاندان میں اکیلے کمانے والے ہیں ایک اور ایسے ہی کھیتی مزدور 67سالہ امرجیت سنگھ 265کلومیٹر کا سفر طے کر کے دھرنے کی جگہ پہونچے ان کا تعلق پٹیالہ سے ہے اور پنجاب کے سینچائی محکمے میں چیف انجینئر رہ چکے ہیں ان کے ساتھ دس اور کسان سائیکل سے یہاں پہونچے ہیں۔ مظاہرے کو پچھلے کئی دنوں سے ٹی وی پر دیکھ رہے تھے۔ اس لئے انہوں نے بھی آندولن میں شامل ہونے کا فیصلہ لیاسندھو بارڈر پر سرکار کے خلاف جاری کسان تحریک کے کئی روپ دیکھنے کو مل رہے ہیں کوئی تو کئی کلومیٹر سائیکل چلا کر پہونچ رہا ہے تو کوئی نعرے بازی اور ہاتھوں میں جھنڈے لیکر سرکار کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کر رہے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو ضرورت مند لوگوں کے لئے بلیڈ ڈونیٹ کر رہے ہیں ۔ سرکار ان کی مانگوں کو مانے اس کے لئے وہ لوگ اپنے خون سے خط لکھ کر تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کی مانگ کر رہے ہیں ۔ خون سے خط لکھنے والوں میں کے بارے میں بھائی دھنیہ جی مشن سیوا سوسائیٹی کے پردھان کرن جیت سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے پیر کو یہاں ضرورت مند لوگوں کے لئے بلیڈ ڈونیٹ کیمپ لگوایا ہے جس میں بڑی تعداد میں کسان بھائیوں نے اپنا خون دیا انہوں نے کہا ہم خون سے لکھا یہ خط کسان تنظیموں کے ممبران کو دے دیتے ہیں اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ پی ایم تک ان خطوط کو پہونچانے کا وعدہ کرتے ہیں ۔مظاہرے کی جگہ پر کئی ایسی چیزیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں جو لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں انہی میں سے ایک ہیںدھان فصل کی اور کسان کی پینٹنگ جو قریب پانچ فٹ لمبی ہے اور پندرہ فٹ چوڑی ہے اس کے بارے میں ایک آرٹسٹ روی کہتے ہیںکسان اور فصل کا رستہ ایک بیٹے کی طرح ہوتاہے وہ یہاں اپنے پینٹنگ کے ذریعے کسان تحریک کو حمایت دینے کےلئے پہونچے ہیں کسان کئی مہینوں تک فصل کو پالتا پوستا ہے پھر جب کٹائی ہوتی ہے تواس کی تمنا ہوتی کہ اس کے فصل کے اونچے دام ملیں لیکن ہمارے دیش میں ایسا نہیں ہے کسان فصلوں کو بچانے کےلئے اپنی جان تک گنوا دیتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ سرکار اس کالے قانو ن کو واپس لے اور صنعتی گھرانوں کے ہاتھوں ہماری فصلوں کو جانے سے بچا سکیں ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...