Translater

10 اکتوبر 2020

بواڈ کی میٹنگ میں چین رہا نشانے پر !

چین کے بڑھتے جارہانہ رویہ اور کورونا وباءکے وقت جاپان اسٹریلیابھارت امریکہ کے وزیر خارجہ کی منگل کے روز ٹوکیو میں ہوئی میٹنگ کے کئی معنی ہیں۔ اس میں ہند پرسانت سمندری خطے کو سبھی ملکوں کو لئے یکساں موقعے والے خطے کو طور پر حکمت عملی رہی چاروں ملکوں کی میٹنگ میں عالمی سپلائی چین قائم کرنے پر غور وخوص ہو ا دونوں مسلکوں کا سیدھا تعلق چین سے ہے ۔ بواڈ یعنی باہمی سیکورٹی مزاکرات کے چاروملکوں کے وزیر خارجہ کی یہ دوسری ملاقات تھی ۔ ہند کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کی چارو دیش جغرافیائی سرداری کا احتمام کرنے اور تنازعات کا پر امن حل نکالنے کے لئے عہد بند ہیں بواڈ میں دیگر ملکوں کو بھی شامل کرنے پر بھی غور ہوا بھارت چین کے درمیان فوجی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ دنیا کے تمام دیش تھوک دوائیوں کےلئے چین پر منحصر ہیں حالیہ مہینوں میں چین پر سے بھروسہ کم ہوا ہے اگر میڈیکل سیکٹرمیں نئی سپلائی چین بنی تو سب سے زیادہ فائدہ بھارت کا ہوگا اور سب سے زیادہ نقصان چین کو ہوگا میٹنگ میں امریکی وزیر خارجہ پومپیو کا کہنا ہے کورونا کے لئے چین پر نقطہ چینی کی تو اسٹریلیا کا بیان بھی سب سے تلخ رہا چین کازریعے کئی دیشوں کے ساتھ جغرافیائی زمین کو قبضہ کو لیکر جھگڑوں کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے پومپیو نے کہا وبا ءکے وقت میں التوامسئلوں کو بھڑکانے سے بچھنا چاہئے کل ملاکر بھارت کے نقطہ نظر سے یہ میٹنگ اہم رہی ہے۔ (انل نریندر)

سرکار کسی کے کندھے پر بندوق نہیں رکھ سکتی !

ایک جمہوری نظام میں کسی معاملے پر احتجاج کرنے کا حق سب کو آئین دیتاہے ۔لیکن کیا ایک اختیار سے دوسرے حقوق کی خلاف ورزی کرنا کہاں تک مناسب ہے دہلی کے شاہین باغ میں شہری ترمیم قانون کے احتجاج میں 100دن چلے دھرنے پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیاہے وہ اہم ترین ہے ہی پبلک پلیس پر دھرنا مظاہرے کرنے کے خلاف بڑی عدالت کا یہ فیصلہ مستقبل میں نظیر بھی بنے گا سپریم کورٹ کے جسٹس سنجے کشن کول کی سربراہی والی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہمارا آئین احتجاجی مظاہروں کو حق دیتاہے لیکن سی اے اے کی آڑ لیکر پبلک جگہوں پر بے میعادی قبضہ نہیں کیا جا سکتا اور اس طرح کا احتجاج کسی طرح بھی قبول نہیں ہے ایسے معاملوں میں اب کسی حکم کی کوئی ضرورت نہیں انتظامیہ خود کاروائی کر سکتاہے ۔ امید ہے کہ مستقبل میں ایسے حالات دوبارہ نہ پیدا ہونگے جسٹس کول نے مقامی انتظامیہ اور سرکار بھی بڑی پھٹکار لگائی سرکار انتظامیہ کو فیصلہ لینے کے لئے انتظار نہیں کرنا چاہئے اورنہ ہی عدالت کے کندھے پر بندوق رکھنی چاہئے ۔ شاہین باغ معاملے میں بھی سرکار نے کورٹ کے کندھے پر بندوق رکھنے جیسا کام کیا تھا اور اب یہ انہیں خود دیکھنا ہے کہ عدالت یہ دیکھتی ہے کہ انتظامیہ کی کاروائی ٹھیک ہے یا نہیں دراصل سی اے اے کے خلاف پچھلے سال 15دسمبر کو ساو¿تھ ایسٹ دہلی کے شاہین باغ میں عورتوں کے دھرنے پر بیٹھنے سے آس پاس کے لوگوں کو بہت پریشانی ہوئی تھی کیونکہ نوئڈا وغیر اور فریدآباد سے آنے والے لوگوں کو سڑک بلاک کرکے روک دیا گیا تھا ۔ بازار بند ہوجانے سے تاجروں اور خریداروں کو نقصان اٹھا نا پڑ رہا تھا اب آخر کار کورونا کے سبب دفعہ 144لاگو ہوتے ہی 23مارچ کو مظاہرین کو شاہین باغ سے ہٹادیا گیا فیصلے میں عدالت نے دہلی پولس کی ٹالم ٹولی کےلئے بھی تلخ نقظہ چینی کی ہے ہائی کورٹ کی ہدایت کے باجود سڑک پر قبضہ ہٹانے کی کوشش نہیں کی ۔بہر حال اس کے پیچھے دہلی کے چناو¿میں ووٹروں کا پولرائیجیشن کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے پر شبہہ ظاہر کیا گیا جو پورہ نہیں ہوسکا۔ یقینی طور سے جمہوری طریقے سے مظاہرہ کرنے کا حق ہے لیکن یہ اختیا ر بھی تبھی مضبوط ہوتا ہے جب شہریوں کے حقوق پر جب کوئی چوٹ نہیں پہونچتی ۔عدالت نے دو ٹوک کہا کہ حکام کو کاروائی کرنی ہوگی وہ عدالت کے پیچھے چھپ نہیں سکتے۔ (انل نریندر)

مذمت کرنا ملکی بغاوت نہیںہے !

ٹول پلازہ پر پیر کی شام سوفٹ کار میں پکڑے گئے چار لوگوں کو پولس نے ہاتھرس جاکر ماحول بگاڑنے کی کوشش میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے پولس کا دعوی ہے کہ ہاتھررس جارہے ان لوگوں کے پاس استعال پھیلانے والے کتابچہ بھی ملا ہے ان کا تعلق پاپلر فرنٹ آف انڈیا ،کیمپس فرنٹ آف انڈیا سے ہے یہ بات منگل کو چاروں سے پوچھ تاچھ کے دوران سامنے آئی ہے ۔ ان کو نقض امن کے اندیشے میں گرفتار کیاگیاہے عدالت میں پیش کیاگیا جہاں ان کو 14دن کےلئے عدالتی حراست میں جیل بھیجا گیا گرفتار لوگوں میں صدیق ہے جو کیرل کا پترکار ہے اسے ہاتھرس جاتے وقت یوپی پولس کے ذریعے گرفتار کئے جانے کے خلاف کیرل جنرلسٹ یونین نے سپریم کورٹ میں قیدمیں رکھنے کے خلاف عرضی دائر کر رہا کرنے کی مانگ کی اور کہا کہ گرفتاری قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک صحا فی کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے محذ ڈالنے کے ارادے سے کی گئی ہے رشتہ داروں کو کپن صدیق کی گرفتاری کے بارے میں خبر تک نہیں دی گئی یہ پترکار یونین کا سکریٹری بھی ہے کئی دہائیوں پہلے کی بات ہے ایک مشہور میگزین میں ایک کارٹو ن چھاپاتھا جس میں اس وقت کے وزیر اعظم ایک چھوٹے سے اجاڑ گاو¿ں میں بھوک مری سے بے حال چند غریب لوگوں سے کہہ رہی تھی کہ کچھ غیر ملکی طاقتیں ہماری خوشحالی اور ترکی سے جل رہی ہیں ۔ اترپردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ نے 50سال بعد وہی جملہ دہراتے ہوئے کہا کہ پردیش میں ہورہی ترقی کو برداشت نا کرنے والی کچھ طاقتیں ذات پرست تشدد بھڑکانا چاہتی ہیں ۔بھرم گیان اتساہی پولس آفسروں کے لئے کافی تھا ہاتھرس کی دلت لڑکی کے ساتھ بد فعلی اور قتل کو لیکر سیاسی ورکروں مقامی لیڈروں پر نسلی تشدد بھڑکانے سرکار کو بد نام کرنے کی دفعات میں مقدمے درج کر دیئے ۔شاید سرکار کے چیف کو معلوم نہیں کہ اگر سرکار کسی دلت لڑکی کی حفاظت نہیں کرپاتی اور اس کی لاس کو رات کے اندھیرے میں پورے گاو¿ں کو دہشت میں ڈال کر جلادیتی ہے جو ناراضگی پھیلنا سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ بیدار جنتا کا سرکار کے اس پر سرکار کے خلاف ہونا عام جمہوری رد عمل ہونا فطری ہے ۔ موجودہ سرکار بھی اسی بنیاد پر اکھیلیش سرکار کو ہرا کر اقتدار میں آئی تھی ۔ جاہل آفسروں کو نئے قانون تو چھوڑئے آئین کا بھی پتہ نہیں ایک سینئر آفسر نے بتایا آبروریزی نہیں ہوئی کیونکہ ایف ایس ایل رپورٹ میں تصدیق نہیں ہوئی اسے2006کے بعد بدلے قانون کے بارے میں علم نہیں تھا اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا ملک کی بغاوت کی دفعہ 24اے اور کسی بھی سرکار کے خلاف ناراضگی پیدا کرنے پر اس کے خلاف مظاہرہ یا شوشل میڈیا پر لکھنے پر لگتی تو دیش کی پارلیمنٹ سے لیکر میڈیا تک ملک دشمن ہونا چاہئے کیونکہ رپورٹ پر یہ حالت بنی شاید نہرو آج ہوتے تو انہیں آج لگتا کہ آئین بننے کے بعد ترمیم کے ذریعے دفعہ 19(2)کے تقاضوں میں عوامی نظام لفظ شامل کر ریاست کو کافی اختیارات دیتا آج کتنا مہنگا پڑ سکتاہے اقتدار کے نشے میں بھاجپا بھی شاید ربھول گئی ہے کہ راستہ دکھانے کے بعد کل وہ بھی اپوزیشن میں آ سکتی ہے۔ (انل نریندر)

09 اکتوبر 2020

ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی ممبروں کے خلاف بڑھتے جرائم کے معاملے !

دیش میں ماضی گزشتہ اور موجودہ ممبرا ن پارلیمنٹ و ممبران اسمبلی پر 4859جرائم کے مقدمے درج ہیں ان کی سماعت ہائی کورٹ کی نگرانی میں جلد پوری کرانے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ پچھلے دو سال میں موجودہ اور سابق ایم پی اور ممبران اسمبلی کے خلاف مجرمانہ معاملوں کی بڑھتی کی تعداد تیزی پر ہے ۔ ہائی کورٹ کے زریعے سخت نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ مقدمے کا نپٹارہ ہوسکے ۔جسٹس وجے ہنساریہ کی بڑی عدالت میں داخل نئے رپورٹ کے مطابق ان ممبران کے خلاف 4859معاملے ہیں جب کی ان کی تعداد محض 2020میں 4442تھی ۔لیکن معاملوں کے لٹکے ہونے کہ وجہ سے مجرمانہ معاملوں میں اضافہ ہوا ہے اس لئے ہائی کورٹ کے ذریعے ان کی پابندی کے ساتھ نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ مقدموں کا تیزی سے فیصلہ ہوسکے۔ جسٹس وجے ہنساریہ اور وکیل سنے لتا نے یہ رپورٹ بھاجپا نیتا اور وکیل اشونی اپادھیائے کی 2016سے دائر عرضی التو میں پڑی ہے اپادھیائے نے ایم اورممبران اسمبلی کے خلاف مجرمانہ معاملوں کے نپٹارے میں غیر ضروری کی دیری کی طرف توجہ مرکوز کراتے ہوئے ایک عرضی دائر کی ہے جس میں کچھ ہائی کورٹ عدالتوں سے مقدموں کی تیزی سے سماعت کے لئے ہر ایک ضلع میں شیشن اور مجسٹریٹ سطح پر اسپیشل عدالت کے قیام کے حق میں ہے رپورٹ کے مطابق کئی ہائی کورٹوں نے متعلقہ مقدموں کی سماعت ترجیہاتی بنیاد پر کرنے کی حمایت کی تھی ۔ سبھی عدالتوں نے بنیاد ی سہولیات کی کمی اور اس مد میں پیسے کی غیر فراہمی کی وجہ سے ویڈیو کانفرنس کی سہولت کے ساتھ ایک محفوظ گواہ نگراں سینٹر بنانے کی حمایت کی ہے رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مرکز نے سی بی آئی ،ای ڈی ،دوسری مرکزی ایجنسیوں کے سامنے ان ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کے خلاف مقدمے کی حالت اور مقدمہ چلانے کی اجازت کے التوا معاملوں کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں پیش کی ہے دہلی میں چار اسپیشل عدالتیں بنانے پر جو شیشن عدالت کی سطح پر اور ان میں 25مجسٹریٹ سطح پر 62معاملے التوا میں ہیں ان میں منی لانڈرنگ و کرپشن ،خاتمہ ایکٹ کے معاملے بھی شامل ہیں ہائی کورٹ یہاں چار عدالتیں بنانے پر غور کرہی ہے ۔ اب سوال یہ ہے جب قانون بنانے والوں پر ہی اتنے مقدمے چل رہے ہوں تو وہ دیش کی حفاظت خاک کریں گے؟ (انل نریندر)

کیا کھیتی قوانین کو ریاستیں نظر انداز کر سکتی ہیں ؟

حال ہی میں قانون میں تبدیل ہوئے تین زراعت سے متعلق بلوں پر اب پارلیمنٹ کے بعد اب سڑکوں پر گھمسان جاری ہے۔پنجاب ،ہریانہ سمیت دیش کی کچھ ریاستوں میں ان کے خلاف تحریکیںچل رہی ہیں اکالی دل بادل نے این ڈی اے سے دہائیوں پرانا رشتہ توڑ لیاہے ۔پنجاب اور مہاراشٹر سرکار نے انہیں کالا قانون قرار دیتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ وہ اسے اپنی ریاست میں لاگو نہیں کریں گے ۔سوال یہ ہے کہ کیا مرکز کو اس طرح کا قانون بنانے یا ریاستوں کو ان قوانین کو نظر انداز کرنے کا حق ہے ؟مرکزی سرکار کا کہنا ہے مگر یہ ریاست کا اشو ہے تو زرعی چیزوں کی بین الریاستی تجارت اور کمرشیل فیڈریشن فہرست میں آتاہے اس لحاظ سے اس مسئلے پر مرکز کو قانون بنانے کا حق ہے۔جب ریاستیں فہرست میں ریاست کے اندر کا کاروبار آتاہے لیکن دوسری فہرست میں بھارت سرکار کے ذریعہ کے کنٹرول صنعتوں کی چیزوں کی تجارت شامل ہے اس مسئلے پر سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ابک ساہا کہتے ہیں کہ موجودہ آئینی تقاضوں کے مطابق فیڈریشن فہرست اور سیماورتی فہرست پارلیمنٹ کو زراعت کے بارے میں قانون بنانے کا حق نہیں دیتی آئین کی فیڈریشن فہرست میں مرکز اور ریاستوں کے درمیان غذائی اجناس کے ریاست گیر کاروبار کے معاملے میں قانون بنانے کا حق ہے لیکن زرعی مارکیٹ کے لئے قانون بنانے کا حق نہیں ہے زراعت اور زمین ریاست کا معاملہ ہے اس لئے مرکز کا کنٹریکٹ پر کھیتی کے معاملے میں قانون بنانے کا حق نہیں ہے ۔ زرعی کاروبار کے معاملے میں اشوک دلوئی اور رمیش چندر کمیشن نے زرعی کاروبار آئین کی سیماورتی فہرست مین ڈالنے کی تجویز رکھی تھی ان کے مطابق 5مئی 2015کو سرکار نے لوک سبھا میں کہا تھا سوامی ناتھن کمیشن نے زرعی مارکیٹ کو سیماورتی فہرست میں ڈالنے کی سفارش کی تھی تکہ ریاستیں اور مرکز اس مسئلے پر اپنی ضرور ت کے حساب سے قانون بنا سکیں پنجاب کے سینئر کسان لیڈر کا کہناہے کہ نئی زرعی قوانین سے ناراض ریاستیں سپریم کورٹ جا سکتی ہیں جہاں اس کے آئینی جواز کو چیلنج کیا جا سکتاہے سپریم کورٹ ہی معاملے میں ریاستوں اور مرکز کے اختیارات کی تصریح کر سکتی ہے ۔کیرل کے ایک ایم پی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں کیس بھی دائر کردیا ہے ۔ (انل نریندر)

08 اکتوبر 2020

ایم آر آئی صرف 50 روپئے میں !

گورودوارا بنگلہ صاحب میں دیش اور دنیا کی سب سے سستی ایم آر آئی شروع ہو گئی ہے گورودوارے میں بنی شری گورو ہری کرشن پالی کلینک میں مشین اگلے مہینہ لگ جائے گی اور دسمبر سے یہ سہولت ضرورت مندوں کو ملے گی ۔دہلی سکھ گورودوارا کمیٹی کے ذرائع نے بتایا ایم آر آئی اسکین کا ریٹ صرف 50روپئے طے کی گیا ہے اور جدید ترین ایم آر آئی مشین کا آرڈر دے دیا گیا ہے اس کے علاوہ دہلی کا سب سے سستا ڈائی لیسز سینٹر بھی کھلنے جا رہا ہے ۔پرائیویٹ اسپتالوں میں ایم آر آئی اسکین کا ریٹ 4سے 5ہزار روپئے کا ہے ۔اس کے علاوہ گورودوارا کمیٹی نے بنگلہ پریتم دو اکھانہ کا بھی آغاز کیاہے ۔جہاں بازار سے 80سے 90فیصدی سستی دوائیں مل رہی ہیں ۔اور روزانہ صبح سے ہی لائنیں لگ جاتی ہیں ۔گورودوارا کمیٹی کے صدر خود مریض کا نام سینٹر پر بھیجیں گے ۔جس کی مالی حالت بہت کمزور ہوگی اس کٹیگری میں رکھا جائے گا جس میں ایم آر آئی 700سے 1000روپے میں ہوگا ۔ا س سے ضرورت مند لوگ آئیں گے ایسے ہی ایم آر آئی تیسیری کٹیگری میں 1400سے 1500روپئے میںکرا سکتا ہے ۔ایسے ہی دہلی کا سب سے سستا ڈائی لیسز سنٹر کے قیام کے لئے 4مشینیں خریدی گئی ہیں جو لگائی جارہی ہیں اس کی جلد ہی شروعات ہوگی ۔جے واہے گورو ستنام! (انل نریندر)

کورونا کی بھینٹ چڑھیں دہلی کی رام لیلائیں!

نوراتروں کے دوران دہلی کے لال قلع کے سامنے اس سال پہلے کی طرح پہلے کی طرح چہل پہل نظر نہیں آئے گی اور نا ہی چاٹ وغیرہ کی دکانیں ہوںگی اس سال بڑی رام لیلا کرنے والی زیادہ تر رام لیلا کمیٹیوں نے گائڈ لائنس نا آنے کے چلتے رام لیلاو¿ں کے انعقاد سے ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔لو کش رام لیلا کمیٹی کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ اتنے کم وقت میں رام لیلا کرنا مشکل ہے ۔اور ابھی تک دوسری کمیٹیوں کے عہدیداران نے بھی اپنی رام لیلا کرنے کے بارے میں ہامی نہیں بھری ہے کیوں کہ ابھی تک دہلی سرکار کی طرف سے کوئی گائڈ لائن نہیں طے ہوئی ہے ۔لو کش رام لیلا کے پردھان اشوک اگروال کا کہنا ہے کہ رام لیلا کا انعقاد مشکل ہے ۔کیوں کہ رام لیلا گراو¿نڈ میں قریب دو ڈھائی مہینہ پہلے تیاریاں شروع ہوتی ہیں اور تبھی جاکہ رام لیلا شروع ہوتی ہے اگر دہلی سرکار اگلے دو دن میں گائڈ لائن جاری بھی کرتی ہے تو رام لیلا کے انعقاد کے لئے صرف دس دن بچیں گے ایسا ہی خیال نو شری دھارمک رام لیلا کمیٹی کے جنرل سکریٹری جگموہن گوٹے والا کا کہنا ہے کہ کورونا کے حالات کو دیکھتے ہوئے لیلا منچن مشکل ہے ۔تما م کمیٹیوں کے عہدیداران کی میٹنگ میں رام لیلاو¿ں کے انعقاد پر غور کیا اور طے کیا کہ کورونا انفیکشن کی وجہ سے زیادہ تر کمیٹیاں اس مرتبہ رام لیلاو¿ں کے انعقاد کے حق میں نہیں ہیں ۔کیوں کہ اس کے لئے پیسہ کی کمی ہے ۔اور گراو¿نڈ کے لئے کرایہ سوا لاکھ روپئے مانگا جارہا ہے اتنے پیسہ کسی کے پاس نہیں ہیں ۔دہلی میںتقریباً 350ایسی دھارمک لیلا کمیٹیاں ہیں جو بڑی سطح پر رام لیلا کا انعقاد کرتی ہیں ان میں روہنی کی بارہ کمیٹیاں ہیں جو نہیں کررہی ہیں اس کے علاوہ دوسری کمیٹیوں کے عہدیدار بھی حالات کو دیکھ کررام لیلائیں کرنے کے حق میں نہیں ہیں ۔ (انل نریندر)

ہاتھرس نے دی کانگریس کو سنجیونی !

سیاست کو ٹرینڈ کا کھیل کہا جاتا ہے ۔عام طور پر زمین سے فرش پر فرش سے زمین تک پہونچا دیتا ہے ۔یوپی میں ایس پی اور بی ایس پی بھلے ہی کانگریس سے بڑی پارٹیاں ہوں لیکن وہ بنیادی طورپر مضبوط مینڈیٹ والی پارٹیاںہوں لیکن آج کی تاریخ میں وہاں سڑکوں پر کانگریس لڑتی دکھائی دے رہی ہے یہ تبدیلی پرینکا گاندھی کے یوپی کانگریس انچارج بننے کے بعد آئی ہے ورکروں اور بڑے نیتاو¿ں کے سڑک پر اترنے میں فرق ہوتا ہے ۔تصور کیجئے پرینکا اور راہل گاندھی نے خود کے بجائے پارٹی کے دوسرے لیڈرں کو ہاتھرس جانے کو کہا ہوتا تو شاید یہ اشو اتنا بحث کا موضوع نا بنتا جتنا بہن بھائی کی وجہ سے بنا ۔کیا ریاستی سرکار تب بھی اتنا ہی دباو¿ میں آتی جتنا ان دونوں کی وجہ سے آئی ؟ دونوں سوالوں کے جواب ہیں نہیں او رنہیں ۔ہاتھرس کے واقعہ کے بعد کانگریس اب جارحانہ انداز میں ہے اور ایسے میں آج دونوں بڑے لیڈروں کے ایک ساتھ اتر پردیش سرکار کا رویہ کانگریس پارٹی کو سنجیونی دینے کا کام کر سکتا ہے ۔ہاتھرس میں متاثرہ خاندان سے ملنے جار ہے راہل پرینکا گاندھی کو جس طرح سے یوپی پولیس کے ذریعے روکا گیا اور ان سے دھکا مکی کی گئی اس سے کانگریس اپنے لئے ایک بڑے سیاسی فائدے کی شکل میں دیکھ رہی ہے۔پارٹی اس اشوکو اب بڑی تحریک میں بدلنے کی تیاری میں ہے ۔اتنا ہی نہیں ریاست میں عورتوں کے ساتھ ہو رہے مظالم کو لے کر پارٹی بہار اسمبلی چناو¿ اور مدھیہ پردیش کے ضمنی چناو¿ میں بھی اشو بنائے گی اور پرینکا نے اس کے بارے میں صاف اشارہ دے دیا ہے ۔راہل اور پرینکا پھر سے متاثرہ لڑکی کے گھر والوں سے ملنے جا سکتے ہیں ذرائع کی مانیں تو ریاست میں 2022کے اسمبلی انتخابات سے پہلے ریاست میں عورتوں سے آبر ریزی اور قتل کے واقعات اور نظم و قانون کی خراب حالت کو ایک اچھے موقع کی شکل میں دیکھ رہی ہے ۔پارٹی یوگی سرکار میں آبرو ریزی کے سبھی بڑے واقعات کی تفصیل تیار کر رہی ہے اس کے بعد عورتوں کی حفاظت و عزت کے لئے تحریک کی تیاری ہے ۔پارٹی بہار چناو¿ میں اترپردیش کے واقعات کو بڑا اشو بنا سکتی ہے ۔پرینکا گاندھی پچھلے ایک سال سے اناو¿ میں اسی طرح کے واردات کو لے کر سرگرم رہی تھی اس معاملے میں ریاست میں کانگریس نے ایک بڑا مظاہر ہ بھی کیا تھا اس مرتبہ یہ مظاہرہ اس سے بھی بڑا ہونے جا رہا ہے اور یہ صرف یوپی میں ہی نہیں بلکہ دیش بھر میں ہوگا ۔اس کا کانگریس کے سکریٹری جنرل کیسی وینو گوپال نے پروگرام تیار کردیا ہے ۔کیوں کہ معاملہ ایک دلت بیٹی کا ہے ایسے میں سبھی سیاسی پارٹیاں اسے اپنے لئے ایک سیاسی فائدے مند موقع کی شکل میں دیکھ رہی ہیں کیاپرینکا کی سرگرمی سپا اور بسپا پر بھاری پڑے گی ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ (انل نریندر)

07 اکتوبر 2020

پلازمہ دینے میں دیر نا کریں ورنہ بے کا ر ہو جائے گا !

اگر آپ کورونا سے ٹھیک ہو کر لوٹے ہیں اور دیگر مریضوں کے لئے پلازمہ عطیہ (خون ) دینا چاہیں تو دیر ناکریں ۔کناڈا میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق ٹھیک ہوئے لوگوں میں اینٹی باڈیز ضائع ہونے لگتی ہے اس لئے جتنی جلدی آپ پلازمہ دیںگے اتنی جلدی مریض ٹھک ہوں گے ۔ایک میگزین میں شائع رپورٹ کے مطابق ریسرچ کاروں نے وبا سے ٹھیک ہوئے لوگوں پر اسٹڈی کی زیادہ تر لوگوں میں تین ماہ بعد ہی اینٹی باڈیز وائرس پنپا ہے ۔اس کے 21دن بعد تو یہ آدھے سے بھی کم ہو گیا اس لئے اگر آپ کسی متاثر ہ کی جان بچاناچاہتے ہیں تو اثرات دکھائی دینے سے تین مہینہ تک پلازمہ دینا ضروری ہے ۔پلازمہ دینے کاوقت کیا ہونا چاہے ؟ نتیجے چوکانے والے ملے ریسرچ کاروں کا کہنا ہے کہ ہم نے دیکھا ٹھیک ہوئے لوگوں میں اینٹی باڈیز کی سطح کم ہونے لگی اور مریض پازیٹو سے نگیٹو ہو گئے وہ پھر سے انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں کیوں کہ طے وقت کے بعد ایک بھی اینٹی باڈیز نہیں بچی ۔ (انل نریندر)

آپ کا دامن تھام سکتے ہیں بہت سے دہلی بھاجپا نیتا!

بھاتیہ جنتا پارٹی کی دہلی یونٹ کی نئی ٹیم کافی قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آگئی ہے ۔اس میں کوئی نیا چہرہ نہیں ہے اور مضبوط اور بڑے نیتا اپنے چہیتہ لوگوں کو جگہ دلانے میں پھر کامیاب ہو گئے ہیں اس بار ان لوگوں کو امید تھی کہ پارٹی نے کچھ بدلاو¿ آئے گا لیکن حالت وہیں کی وہیں رہی کچھ پرانے اور نئے چہروں کو ملا کرٹیم بنائی گئی ہے ۔پارٹی کی طرف سے اعلان شدہ آرٹ سکریٹریوں میں ایم سی ڈی نیتاو¿ ںکا بول بالا ہے اور نئی ٹیم میں ہار چکے کئی لیڈروں کو جگہ ملی ہے ۔بھاجپا کی نئی ٹیم میں مانا جارہا تھا کہ دہلی میں بھاجپا کے سب سے سرگرم لیڈوں میں سے ایک نیتا کپل مشرا کو تنظیم میں جگہ نہیں ملی۔اسی طرح بے حد تجربہ کار اور پارٹی کے لئے وقف نیتا راجیش بھاٹیا کو بھی جگہ نہیں ملی ہے ۔پرانی انجمن میں وہ جنرل سکریٹری تھے اس مرتبہ تنظیم میں زیادہ تر عہدے دار نوجوان ہیں بھاجپا کی حکمت عملی ہے کہ یوتھ نیتاو¿ں کے سہارے ہی ایم سی ڈی کو اقتدار میں برقرار رکھناچاہتی ہے حالانکہ جس طرح قیاس آرائیاں جاری تھی بھاجپا نے کوئی خاص نیا لیڈر شامل نہیں کیا ۔مشرقی دہلی کے مئیر رہے ہرش ملہوترا کا بھی جنرل سکریٹری کی دوڑ میں نام طے تھا۔چوں کہ وشو ہندو پریشد کے نگراں صدر آلوک کمار نے انہیں وقا ر کا اشو بنایا ہوا تھا اسی طرح نائب صدر کے عہدے پر 8نیتاو¿ں نام جڑے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نام نہیں جو لگے کہ وہ اپنے بل بوطے پر پارٹی کو مضبوط کر سکے ۔اسی طرح جنرل سکریٹی کے عہدے پر بھی اب نو نام ہیں وہ بھی کون کس کا ہے صاف نہیں ہے لیکن مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن بھی اپنے دو قریبی دوستوں کو اہم ترین عہدوں پر بٹھانے میں کامیاب رہے ہیں اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر بھی اپنے لوگوں کو جگہ دلانے میں کامیاب رہے ۔دہلی بھاجپا نے کچھ نئے چہرے جوڑ کر ٹیم کا اعلان تو کردیا لیکن پچھلے کچھ برسوں سے بے توجہی جھیل رہے سابق کونسلروں کو ایک بار پھر مایوسی ہاتھ لگی ہے ۔ان کا ٹکٹ پچھلے چناو¿ میں تجربہ کے تحت کاٹا گیا تھا ۔کئی لوگ مسلسل تین بار چناو¿ جیتے لیکن ٹکٹ کٹنے کے بعد تنطیم میںبھی جگہ نہیں ملی ۔ذرائع کے مطابق بھاجپا کے قریب 25سابق کونسلر آپ کے رابطہ میں ہیں ۔اور ان میں سے آدھے تو دو سے تین مرتبہ کونسلر رہے ہیں اس لئے ان سابق کونسلروں کو ایم سی ڈی چناو¿ میں بھی ٹکٹ ملنے کی کوئی امید نہیں ہے ان نظر انداز لیڈروں کا کہنا ہے کہ بھاجپا کی نئی ٹیم مین کئی ایسے نام ہیں جو مسلسل چناو¿ ہارتے رہے ہیں پھر بھی انہیں پارٹی میں جگہ ملی ہے ۔اور اب نئی ٹیم میں شامل نئے چہروں کی کوئی بنیاد نہیں ہے ان لیڈروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جان بوجھ کر ایک خاص طبقہ کے لوگوں اور سابق صدر کے نزدیکیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ (انل نریندر)

NDAمیں دراڑ!نتیش کی رہنمائی میں چناو ¿ لڑنے سے انکار

بہار اسمبلی چناو¿ سے پہلے حکمراں این ڈی اے کو زبردست جھٹکا لگا ہے ۔کیوں کہ لوگ جن سکتی پارٹی نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر جم کر نکتہ چینی کی اور ان کی رہنمائی میں این ڈی اے کے ساتھ چناو¿ لڑنے سے انکار کر دیا حالانکہ پارٹی کا بھاجپا سے اتحاد قائم رہے گا ایل جی پی کی اتوار کو پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں جے ڈی یو کے خلاف امیدوار اتارنے اور وزیراعظم نریندر مودی کا ہاتھ مضبوط کرنے والا پرستاو¿ پاس کیا ۔جس میں کہاگیا بہار فسٹ بہاری فسٹ کی پالیسی کے تحت پارٹی جے ڈی یو کے خلاف امیدوار اتارے گی ۔قومی سطح پر اور لوک سبھا چناو¿ میں بھاجپا کے ساتھ مضبوط گھٹھ بندھن بنا ہوا ہے ایل جے پی بھاجپا منی پور میں اس فارمولہ سے چناو¿ لڑ چکی ہے ۔سال 2017منی پو ر چناو¿ میں ایل جے پی نے بھاجپا سے الگ ہو کر چناو¿ لڑا تھا لیکن بعد میں وہ سرکار میں شامل ہو گئی لیکن اب ایل جے پی نے اکیلے بہار اسمبلی چناو¿ میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے یہ پارٹی سن 2000میں وجو د میں آئی تھی اس کے پانچ سال بعد فروری 2005میں پہلی بار بہار اسمبلی چناو¿ میدان میں اتری تھی ۔اس چناو¿ میں ایل جے پی کا واضح طور سے کسی پارٹی سے اتحاد نہیں تھا ،لیکن کانگریس کے ساتھ تال میل ضرور تھا اس لئے دونوں پارٹیوں نے کئی سیٹوں پر ایک دوسرے کےخلاف امیدوار نہیں اتارے تھے جس کا فائدہ ایل جے پی کو ملا اور اس کے 178امیدواروںمیں سے 29کامیاب ہوئے تھے ۔اب تک کے اسمبلی چناو¿ میں یہ سب سے بڑی جیت تھی ۔2010میں آر جے ڈی کے ساتھ آئی ایل جے پی کے ساتھ اتحاد ہو گیا اور اس نے 75امیدوار میدان میں اتارے لیکن ایل جے پی کو محض 3سیٹوں پر کامیابی ملی وہیں 2015میں ایل جے پی این ڈی اے کے تحت 22سیٹوں پر چناو¿ لڑی اور اس کو محض 2سیٹوں پر ہی کامیابی ملی ۔2015میں جب ایل جے پی آر جے ڈی کے ساتھ تھی تو آر جے ڈی اور جے ڈی یو بہار کے مہا گٹھبندھن کی ریاست میں اچھی کامیابی ہوئی تھی تب ایل جے پی این ڈی اے کا حصہ تھی اس طرح دیکھیں تو دو اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی پرفارمینس بہت اچھی نہیں رہی ۔چناو¿ میں جے ڈی یو کا تال میل رہا اور اسے بڑی کامیابی ملی اس بار ایل جے پی نے اپنے زور پر 143سیٹوں پر امیدوار اتارنے کی تیاری کر لی ہے ۔ایل جے پی نے یہ بھی فیصلہ کیا جہاں بھاجپا کے امیدوار ہوں گے وہاں وہ اپنا امیدوار نہیں کھڑ اکرے گی ایل جے پی کے این ڈی اے سے الگ ہونے کے بعد نئے تجزیہ میں جنتا دل یگ کے حصہ میں 122اور بھاجپا کے حصہ میں 121سیٹیں آئی ہیں ۔جے ڈی یو نے اپنے کوٹے سے جتن رام مانجھی کی جماعت ہم کو سیٹیں دے گی ۔ایل جے پی الگ چناو¿ لڑنے سے جے ڈی یو کو کوئی فرق نہیں پڑے گا جے ڈی یو کے نگراں صدر اشوک چودھری کا کہنا ہے کہ پتہ نہیں یہ کیسا اختلاف ہے نتیش کی وجہ سے ہی آپ لوک سبھا پہونچے اور چراغ پاسوان کو صاف صاف بتانا چاہیے کہ یہ غیر ضروری اختلاف کیا ہے ؟ ایل جے پی کے این ڈی اے سے باہر ہونے پر چناو¿ الگ سے لڑنے کے فیصلے تین سہہ رخی مقابلہ ہونے والاہے ۔اسمبلی چناو¿ میں اپوزیشن کو بڑی امید ہے ۔بڑی اپوزیشن جماعت آر جے ڈی اور کانگریس الرٹ پارٹیوں کا خیال ہے کہ پاسوان کی پارٹی این ڈ ی اے کے ووٹ توڑے گی اس سے انہیں بڑھت ملنے کا امکان بھی بڑھے گا ۔ (انل نریندر)

06 اکتوبر 2020

کورونا یودھاو ¿ں کو مہینوں سے نہیں ملی تنخواہ!

کورونا دور میں کام کرنے والے نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن کے اسپتالوں کے ڈاکٹروں ،نرسوں ،اساتذہ کو پچھلے کئی مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے جبکہ ہندوراو¿ اسپتال کے ملازمین کو پچھلے چار مہینہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے اور ڈاکٹر وں اور نرسوں کو پندرہ جون سے تنخواہ نہیں ملی ہے جبکہ گروپ ڈی کے ملازمین کو جولائی سے اب تک تنخواہ کی ادائیگی نا ہو پائی بطور نرس اسٹاف کا م کرنے والی ایک خاتون اندو نے بتایا ان کے کئی ساتھیوں کو تنخواہ نا ملنے پر د و مہینہ سے پیسہ گھر سے منگانا پڑ رہا ہے ۔اور خرچ چلانا مشکل ہوگیا ہے ۔ایسے ہی اس کی ایک ساتھی نے بتایا کہ کرایہ دینے کے لئے بھی گھر والوں سے پیسہ کے لئے مجبوری بتانی پڑتی ہے ہم کورونا یودھا ہیںایسے میں تنخواہ نہیں ملے گی تو کام کیسے چلے گا ایسے ہی ڈاکٹر ا بھی نو کا کہنا ہے تنخواہ دیری سے ملتی ہے لیکن پچھلے چار مہینہ سے وہ بھی نہیں ملی ۔ایسے ہی دہلی کے کوچہ سیٹھ میں قائم سینئر سکنڈری اسکول کے ٹیچر للت کمار کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ مہینہ سے ایک بار بھی تنخواہ کھاتہ میں نہیں آئی قرضہ لینے کی وجہ سے قسط کے لئے بینکوں سے نوٹس آرہے ہیں ۔وہیں ہندوراو¿ اسپتال کی نرسنگ یونین نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں تنخواہ نہیں ملتی تو ہڑتال پر جانے کے لئے مجبور ہوں گے جس وجہ سے مریضوں کو پریشانی ہو سکتی ہے ۔اس سوال کے جواب میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا جب کھانے اور گھر چلانے کے لئے پیسہ نہیں بچے گا تو وہ کیسے کام کر سکتے ہیں ۔ (انل نریندر)

انفیکٹڈ ٹرمپ اگر زیادہ بیمار ہوئے تو کیا ہوگا؟

امریکہ کے صدر صدارتی چناو¿ میں اب صرف کچھ ہفتہ باقی رہ گئے ہیں رپبلکن پارٹی کے امیدوار موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو کورونا سے بچنے کے لئے ماسک کو غیر ضروری بتاتے تھے اب وہ خود کورونا انفیکشن کے شکار ہو گئے ہیں ان کی اہلیہ ملانی بھی اس بیمار ی کی ضد میں آگئی ہیں ایسے میں یہ سوال پیدا ہو گئے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے ؟صدارتی چناو¿ پر اس کا کس طرح کا اثر پڑے گا ؟ انفیکشن کے سبب ڈونالڈ ٹرمپ اب کن کن چناوی ریلیوں میں شامل ہو پائیں گے ؟ ایک اکتوبر کو ٹرمپ کا کووڈ 19-جانچ کی گئی جس میں انہیں کورونا سے متاثر پایا گیا ۔جس کے بعدا نہیں کم سے کم دس دنوں کے لئے کوارنٹائن میں رہنا پڑے گا ۔اگر ایساہوتا ہے تو وہ اصلی صدارتی بحث یعنی صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والے بحثوں میں حصہ لے پائیں گے جو پندرہ اکتوبر کو ہونا ہے اس کو لےکر ششو پنج کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔صدر ٹرمپ کی چناوی مہم چلانے والی ٹیم نے بتایا کہ فی الحال اگلے دس دنوں کی چناوی ریلیوں کو یا تو منسوخ کردیا گیا ہے یا اگلی تاریخوں کے لئے طے کر دی گئی ہیں اس سے صاف ہے صدر ٹرمپ کے کوارنٹائن ہو جانے کا سیدھا اثر ان کی چناوی مہم پر پڑیگا ۔کیا یہ سوال بھی کھڑا ہو رہا ہے کہ چناو¿ ٹالا جا سکتا ہے ؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ امریکی قانون کے تحت صدارتی عہدے کا چناو¿ہر 4سال میں ہوتا ہے ۔اس لحاظ سے 2020کا چناو¿ 3نومبرکو ہونا ہے اگر چناو¿ کی تاریخ بدلی جاتی ہے تو یہ فیصلہ امریکی سینیٹر کریں گے ۔صدر ٹرمپ نہیں اور اس کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ریزولیشن پاس کرانے کے لئے اکثریت ہونا ضروری ہے ۔لیکن چناو¿ ٹالا جا سکتا ہے اس کا امکان بہت کم ہے ۔ہاو¿س آف نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی اکثریت میں ہے ۔انہوں نے کہا تھا کہ چناو¿ میں کسی طرح کی تاخیر کے پرستاو¿ پر پارٹی حمایت نہیں کرے گی ۔امریکی آئین کے مطابق بھلے ہی چناو¿ 20جنوری 2021کو صدر ٹرمپ کی میعاد پوری ہو جائے گی ۔اس تاریخ کو بدلنے کے لئے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہو گی اسے دو تہائی امریکی ممبر پارلیمنٹ یا ریاستی سطح پر ممبران اسمبلی کے ذریعے منظورکراناہوگاجس کا پھر سے امکان بہت کم ہے ابھی تک تو صدر ٹرمپ میں کورونا انفیکشن کے ہلکہ اثرات پائے جاتے ہیں جسکی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داریوں کو پوران کرنے کے لئے کام پر نہیں آئے تو اس صورت کے لئے بھی امریکی پارلیمنٹ میں ایک سسٹم ہے ایسے ایمرجنسی حالات میں صدر کو اپنے نائب کے ہاتھ میں اقتدار سونپنے کی آئین اجازت دیتا ہے اس کا مطلب ہے ٹرمپ کے زیادہ بیمارہونے پر نائب صدر مائک پینس امریکہ کے نگراں صدر ہو سکتے ہیں اورٹھیک ہونے پر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے کام پر دوبارہ لوٹ سکیں گے ۔ (انل نریندر)

ہاتھرس کانڈ ،وومینس سکورٹی پر سرکار کی ساکھ پر بٹا!

بہار اسمبلی چناو¿ سے پہلے ہاتھرس اجتماعی بدفعلی معاملے نے بھاجپا کی بے چینی جہاں بڑھا دی ہے وہیں اپوزیشن کو چناو¿ سے پہلے ایک بڑا اشو ہاتھ لگ گیا ہے اپوزیشن اسے اتر پردیش سے لے کر دیش تک بڑا اشو بنانے کی کوشش میں ہے اس کا ارادہ یوگی سے لیکر مودی سرکار کو اس معاملے میں گھیرنا ہے ۔دراصل حالیہ برسوں کا ٹرینڈ دیکھیں تو وومینس سکیورٹی یا ریپ جیسے اشو پر سب سے زیادہ عوامی تحریکیں چلی ہیں پچھلے تین برسوں میں الگ الگ ریاستوں میں درجن بھر بڑے آندولن ہو چکے ہیں جس کا سیاسی اثر بھی صاف دیکھنے کو ملا یہی وجہ ہے کہ ہاتھرس کے بعد اپوزیشن جارحانہ طور سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے ۔تو حکمراں بھاجپا نے حالات کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ڈیمج کنٹرول موڈ میں ہے ۔جہاںبھی ریپ کے خلاف تحریکیں چلی ہیں وہاں کی سرکارو ں کو دباو¿ میں آنا ہی پڑا ہے ۔بھاجپا کو ڈر ہے کہ ہاتھرس کا معاملہ چار سال پہلے حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کی طالبہ روہت ویمولہ کی خودکشی معاملے کی طرح یہ بھی طول نا پکڑ لے لہذا متاثرہ کی موت کے بعد اب پی ایم مودی نے یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو سخت کاروائی کرنے کی ہدایت دی ہے ۔روہت ویمولہ کی طرح خودکشی کے معاملے کو سنبھالنے میں مودی سرکار اور بھاجپا کے ہاتھ پھول گئے تھے ۔دراصل ہاتھرس معاملے میں پولیس کی غیر انسانی حرکت اور سنگین لاپرواہی نظرآرہی ہے ۔متاثرہ کے رشتہ داروں سے بدتمیزی کرنے آدھی رات کو لڑکی کا انتم سنسکار ،دس دن بعد ملزمان کے خلاف آبروریزی کی دفعات لگانے کا معاملہ میڈیا اور شوشل میڈیا میں طول پکڑتا جارہا ہے ۔ناراضگی کی آگ آہستہ آہستہ بہار تک پہونچ گئی ہے ۔یہاں دلتوں کی آبادی 16فیصدی ہے ۔بھاجپا کو چنتا ہے ریاست کی دلت آبادی لوک سبھا اور اسمبلی کی کئی انتخابات میں این ڈی اے کے ساتھ کھڑی رہی ہے ۔حالانکہ اس معاملے نے اگر طول پکڑا تو اس طبقہ میں پھیلی ناراضگی کا اثر بھاجپا پر بھاری پڑ سکتا ہے ۔پارٹی کے سینئیر لیڈر کے مطابق دلت انجمنوں نے قومی سطح پر ایکتا رہی ہے یہ ہی وجہ ہے ویمولہ معاملے میں پارٹی کی بے حد مشقت کرنی پڑی تھی ۔دراصل قانون و نظام کے سوال پر مرکزی سرکار یوپی کو لیکر فکر مند رہی ہے خاص طور پر ممبرا سمبلی کلدیپ سینگر اور سابق مرکزی وزیر چنمیا آنند کے سبب ریاستی حکومت مخالفین کے نشانہ پر رہے ہیں ۔ریاست میں 2022میں اسمبلی چناو¿ ہیں اگر این سی آر کے اعداد شمار کے مطابق مہیلاو¿ں اور دلتوں کے خلاف یوپی دیش میں سب سے آگے ہے ۔اور مہیلاو¿ں کے خلاف کل جرائم میں اکیلے یو پی اے کی حصہ داری پندرہ فیصدی تھی ۔دیش بھر میں کل 405861جرائم ہوئے ان میں اکیلے 59853یوپی کے ہیں ۔یعنی دیش میں سال میں عورتوں کے خلاف جرائم کی وارداتوں میں 7.3فیصدی کا اضافہ ہوا ہے ۔وہیں یوپی میں اکیلے 14.7فیصدی اضافہ ہواہے ۔ہاتھر س معاملے میں بی جے پی اب پوری طرح ڈیمج کنٹرول میں آچکی ہے اگر دلت بہت زیادہ ناراض ہو گئے تو اس کا خمیازہ بی جے پی کو بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

04 اکتوبر 2020

محبت میں جسم کی سپردگی آبروریزی نہیں!

محبت میں پریمی کو سپرد جسم آبرو ریزی نہیں ہے ۔محبو ب و محبوبہ کے درمیان زندگی بھر ساتھ رہنے کا وعدہ ایک قدرتی عمل ہے ۔برسوں کا پیار اگر شادی میں تبدیل نہیں ہوتا تو یہ قطعی ریپ نہیں ہے ۔شادی کا وعدہ کرکے شادی سے مکر جانے کے سبب 21سال سے آبرو رزیزی کا الزام جھیل رہے پریمی کو سپریم کورٹ نے 7سال کی سزا سے آزاد کر دیا ۔جسٹس روہنٹن اور نیرج نویل سنہا اور اندرا بینرجی کی بنچ نے کہا شادی کا جھونٹا وعدہ کرکے جسمانی رشتے نبھانے پر آبرو رویزی کے معاملے میں یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ پریمی کا شروع سے ارادہ جھانسہ دیے کر رشتہ بناناتھا یا نہیں موجودہ معاملے میں بھی نہیں لگتا کہ ملزم مہیشور ٹگانے محبوبہ کو جھانسہ دیا ۔دونوں پڑوسی تھے لیکن ان کے مذہب الگ الگ تھے لڑکی قبائلی تھی جبکہ تگا عیسائی دونوں میں پیار محبت کا رشتہ تقریباً 4برس تک چلا لڑکا اور لڑکی کے رشتہ دار ان کے بیچ قریبی رشتوں سے اچھی طرح واقف تھے اور ان کے لو رشتہ اتنے مضبوط تھے کہ لڑکی اپنے پریمی کے گھر میں تقریباً پندرہ دن تک رہی لڑکا لڑکی کے گھر آتا جاتا تھا شادی سے پہلے ہونے والے رسم ادائیگی بھی ہو چکی تھی لیکن شادی نہیں ہو سکی لڑکے نے کہا کہ اور گھر بسانے کا فیصلہ کیا کہا اس کی شادی ہونے والی تھی شادی سے سات دین پہلے محبوبہ نے پولیس میں ایف آئی آر درج کراد ی سپریم کورٹ نے کہا آئی پی سی کی دفع 90کے تحت یا دھوکہ یا غلط فہمی میں یہ الزام لگایا گیا دونوں میں رضامندی منظوری نہیں مانی جاتی لیکن مسلسل چار سال تک جاری رشتہ بتاتے ہیں کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے رشتہ بنائے اور دونوں کے درمیان لو لیٹرس کی ادلا بدلی ہوتی رہتی تھی ان خطوط کو پڑھنے سے صاف ہے کہ دونوں کے بیچ گہرا پیارتھا انہیں یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کا الگ الگ مذہب شادی میں آڑے آئےگا اور وہی ہوا بھی ۔ (انل نریندر)

وہ بولتے ہیں آپ جھوٹے ہیں ،جوکر ہیں ،شٹ اپ مین!

جھوٹا ،باتونی ،چپ رہو،(شٹ اپ)...امریکہ میں صدارتی چناو¿بحث کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور جوائے بیڈن ایک دوسرے کے لئے جس طرح کی زبان کا استعمال کررہے تھے اویو کے کوالیڈنٹ میں گرما گرم بحث کے دوران ناظرین گیلری میں ٹرمپ کی بیوی ملانیہ اور بیٹی کے علاوہ گنتی کے لوگ تھے لیکن پورا امریکہ ٹی وی پر یہ تماشہ دیکھ رہاتھا ۔بیڈن نے کہا کہ آپ امریکی تاریخ کے سب سے بدتر صدر ثابت ہوئے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی جوڑا کہ ٹرمپ دوسری صدر پوتن کی کٹپتلی کی طرح کام کررہے ہیں ۔ٹرمپ نے جواب دیا لوگ جانتے ہیں میں کیا کررہا ہوں اور اسی وجہ سے ایک بار پھر صدر کے طور پر لوگ مجھے منتخب کرنا چاہتے ہیں ۔90منٹ کی بحث کا انعقاد فوکس نیوز مشہور اینکر کرس والیس کررہے تھے ۔بحث کے دوران بیدن بوالے کہ یہ شرم کی بات ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں کورونا سے دو لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے اور ٹرمپ انتظامیہ کے پاس اس بیماری سے نمٹنے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔فروری تک تو ٹرمپ کو اندازہ ہی نہیں تھاکہ یہ کتنی سنگین بیماری ہے وہ دیش کے لوگوں سے سچائی چھپانہ چاہتے تھے ۔ٹرمپ نے کہا جب آپ بھیڑ کے سامنے بات کرتے ہیں تو کیا آپ کو پتہ ہے چین میں کتنے لوگ مرے ہیں اور روس نے بھارت میں کتنی جانیں گئیں ؟یہ دیش میں مرنے والوں کی تعداد صحیح نہیں بتا رہے ہیں ۔میں یہ کہتا ہوں وائرس چین کی وجہ سے پھیلا تو کیا غلط ہے میں نے شاندار کام کیا ہے ۔اب موتیں بھی کافی کم ہیں میری جگہ آپ ہوتے تو دولاکھ نہیں بیس لاکھ لوگ مر چکے ہوتے ۔جوائے بیڈن نے کہا کہ دیش کے لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وبا کے دوران ٹرمپ جیسے عرب پتیوں نے کیسے فائدہ اٹھایا دیش کی معیشت چوپٹ ہو گئی ہے ۔جب تک کورونا کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک ملک کی معیشت میں بہتری نہیں آئے گی ۔ٹرمپ بولے میں نے کب کہا بازار بند رکھو سب کچھ بند کردو اگر آپ ہوتے پورے دیش کو بند کردیتے آپ یہ ہی چاہتے تھے ہم بیماری سے بھی نمٹ رہے ہیں اور معیشت کوبھی سنبھال رہے ہیں ۔بیڈن کا الزام تھا ٹرمپ کے دور میں نسلی تشدد بڑھے ہیں ۔وہ شروع سے ہی نفرت کی سیاست کررہے ہیں ۔انہوں نے سیاہ فام امریکیوں کے لئے کچھ نہیں کیا ۔اس پر ٹرمپ کا جواب تھا کہ آپ ان کی سیاست کیوں کررہے ہیںجوائے بیڈن نے یہ کہتے ہوئے ٹوکا کہ آپ خود نسل وادی ہیں ۔اس پر ٹرمپ نے کہا اوباما کے بعد سب سے زیادہ نسل پرستی کا بٹوارا ہوا ۔آپ کب نائب صدر تھے ان دنوں تو آپ سیاہ فاموں کی بات نہیں کرتے تھے ویسے تو کئی اہم ترین اشوز پر سوال جواب کا سلسلہ چلا ۔میں نے تو کچھ اہم ترین باتوں کا ذکر کیا ہے ۔سی بی سی نیوز کے مطابق ٹرمپ نے بیڈن کو 73بارٹوکا آخر ان کو کہنا پڑا” ول یو شٹ اپ “یہ غیر نظیر ہو رہا ہے ۔بیڈن نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ ٹرمپ نے اب تک جو بھی کہا وہ جھونٹ ہے اس پر ٹرمپ نے کہا جھوٹے تو وہ ہیں ۔اگلی بحث میامی میں 15اکتوبر کو ہوگی ۔ (انل نریندر)

پاکستان نارکو ٹورزم میں لگا !

دہشت گردی کے نیٹ ورک کی کمر ٹوٹنے کے بعد بوکھلائے پاکستان نے ٹیرر فنڈنگ کے لئے نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ تیز کی ہے ۔ پچھلے ایک سال میں جہاں جموں کشمیر میں دہشت گرد سرغنوں کا تیزی سے صفایا ہوا ہے وہیں اس دوران پاکستان سے اسمگل1500کروڑ روپئے کی ہیروئن بھی پکڑی گئی ہے یہ شمار نارکو ٹورزم کا پیمانہ ظاہر کرتے ہیں در اصل جموں کشمیر میں پہلے بھی ڈرگس کی امنگلنگ ہوتی رہی ہے لیکن پچھلے ایک سال میں ڈرگس کے ساتھ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے معاملوں میں اضافہ ہواہے ریاست میں این سی بی ،پولیس،بی ایس ایف فوج وغیرہ نے ملکر پچھلے ایک برس میں ملکر یہ سب سے زیادہ ہیروئن پکڑی ہے ۔اتنے بڑے پیمانے پر ہیروئن کی کھیپ کو بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن سے وابستہ سڑکوں پر پکڑا گیاہے ۔ زیادہ تر معاملوں میں سرحد کے اس پار ڈرگس پہونچنے کے بعد ٹرکوں کے ذریعہ اسے پورے دیش کی ریاستوں میں پہونچایا جارہاتھا اب تک دو درجن سے زیادہ دہشت گرد اور اسمگلرسو سے زیادہ لوگ پکڑے جاچکے ہیں ۔پی او کے سے کشمیر اور پھر اگلے روٹ پر افغان سے لائی گئی اس ہیروئن کو سپلائی کیا جاتاہے ۔اسمگلنگ خاص طور پر پونچھ ،راجوری ،باندی پورہ، بارہمولہ،کپواڑا کی ایل او سی سے اور کٹھوا سے ہوکر لائی جاتی ہےپہلے ہیروئن کو پیک کرتے وقت افغانستان کا مارکہ لگایا جاتا تھا لیکن اب نہیں لگتا اور پیکنگ پر کوڈ ہوتاہے ۔بین الاقوامی بازار میں اس ہیروئن کی قیمت 5کروڑ روپئے ہے ہیروئن سب سے مہنگی ہے ۔ اس کو 2ہزار روپئے میں آدھا گرام بیچا جاتاہے اور اس ہونے والی کمائی کو دہشت گردانہ والی سرگرمیوںمیں لگا یا جاتا ہے اور اس پورے دھندے کو بڑ ی تعداد میں اسمگلر اور آتنکیوں کے گرگے انجام دے رہے ہیں۔ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب گجرات اور دہلی میں این ڈی پی ایس قانون کے تحت قصور وار پائے گئے 872ڈرگس سپلائی کرنے والوں کو قریب 84فیصد نے ماناہے کہ بھارت میں منشیا ت پڑوسی ملکوں خاص کر پاکستان سے آتی ہے ۔ جب کہ 2.52فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ بنگلہ دیش سے کاروبار کی بات کہی ہے بھار ت میں ڈرگس سپلائی کرنے کا سب سے بڑا آ سا ن پلیٹ فارم پب اور بار ہوتے ہیں ۔ اور اس کے عaلاوہ یہ کمزور طبقوں کے نشیڑیوں کی باز آباد کاری سینٹر اور اسکولوں میں کھلے عام سپلائی کی جاتی ہے اس دھندے میں 1000گنا منافع کماتے ہیں پیڈ لروں نے کہا کہ پرکشش دکھا نے والے گانے نوجوانوں کو منشیات کی طرف راغب کرتے ہیں 89.36فیصد پیڈلروں نے مانا کہ ڈرگس کو اس کی پبلیسٹی کر کھلانے والی فلموں کی وجہ سے نوجوانوں میں منشیات لینے کا چلن بڑھ رہاہے ۔ (انل نریندر )

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...