Translater

23 مئی 2015

راہل گاندھی کا نیا سیاسی روپ

اپنے نامعلوم جگہ سے واپسی کے بعد کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کافی سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم راہل کو نئے اوتار کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے راہل وزیر اعظم نریندر مودی پر سیدھے اور تلخ حملے کررہے ہیں۔ پارلیمنٹ سے لیکر سڑک تک راہل سخت محنت میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسا انہوں نے پہلے کبھی نہیں کیا۔ کانگریس پارٹی میں دوبارہ سے روح پھونکنے کیلئے راہل دن رات مشقت میں لگے ہیں۔ تلنگانہ دورہ پر کسانوں سے ملاقات کے بعد واڈیال گاؤں میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ اچھے دن صرف وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے کچھ کاروباری دوستوں کے لئے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا مودی کے پانچ سے چھ کاروباری دوست ہیں اور پورا دیش انہیں کیلئے چلایا جارہا ہے۔ یہ چنندہ لوگوں کی سرکار ہے۔ سوٹ ، بوٹ اور چنندہ صنعتکاروں کی سرکار ہے۔ انہوں نے کہا ایک سال گزر گیا کیا آپ نے کوئی نوکری پائی جس کا وعدہ مودی نے کیا تھا؟ میں جہاں کہی بھی جاتا ہوں لوگ یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے این ڈیاے سرکار کو ووٹ دے کر غلطی کی ہے۔ پیر کو اپنے پارلیمانی حلقے امیٹھی میں راہل نے مودی کے ایک سال کے عہد کے رپورٹ کارڈ پر کہا کہ میں مودی سرکار کو10 میں سے0 نمبر دیتا ہوں۔ مودی کے دوچار صنعتی دوست ہیں جو انہیں 10 میں سے10 نمبر دیتے ہیں۔ مودی سرکار تو سوٹ بوٹ کی سرکار ہے وہ کسانوں کا درد کیا سمجھے گی۔ کانگریس نائب صدر نے مودی سرکار کے غیر ملکی دوروں پر پھر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں لیکن ان کے پاس خودکشی کرنے والے کسانوں کے گھر جانے کا وقت نہیں ہے۔’’ میگھا فوڈ پارک‘‘ اشو پر راہل گاندھی نے کہا کہ یہ منصوبہ سارے لوگوں کے لئے فائدے مند تھا لیکن مودی سرکار نے اچھے چھین لیا۔ 
مرکزی سرکار بدلے کی سیاست کررہی ہے۔ راہل نے کسانوں سے سوال کیا کہ اچھے دن کہاں ہیں؟ کیا آگئے؟ جس کا جواب نہیں ملا۔ راہل چلچلاتی دھوپ میں دھول اور گدھوں والی کچی سڑکوں پر دو کلو میٹر پیدل چلے۔ امیٹھی سے لوٹنے کے بعد راہل چھتیس گڑھ اور کیرل جانے اولے ہیں۔ ان دوروں کے پیچھے راہل کا ایجنڈہ کسان اور مزدور کے مفادات کی لڑائی لڑنے کے ساتھ پارٹی تنظیم کی مضبوطی بھی ہے۔ راہل 26-27 مئی کو کانگریس کی رہنمائی والے کیرل جانے والے ہیں۔ کیرل میں اگلے سال مئی میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ راہل کا مقصد وہاں تنظیم کو مضبوطی کے ساتھ گروپ بندی سے بھی نجات دلانا ہے۔ راہل کی جلد تاجپوشی کا بھی تذکرہ ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنی سیاسی زمین تیار کرنا چاہتے ہیں۔ راہل کے اس نئے اوتار کا عام کانگریسیوں پر اچھا اثر پڑ رہا ہے۔ اب ان کے نکتہ چینی کرنے والے بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ زمین پر آئی کانگریس کو راہل کتنا اٹھا سکتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)

دنیا کی سب سے خونخوار خاتون آتنک وادی

پچھلے کچھ برسوں میں مختلف دہشت گرد گروپ عورتوں کا زیادہ استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ چھوٹی بچیوں کو بھی خودکش بم بنانے سے نہیں کتراتے۔ پچھلے دنوں نائیجریا کے نارتھ صوبہ یوبے میں خودکش بم دھماکے سے کم سے کم 7 لوگوں کی موت ہوگئی اور دیگر 27 زخمی ہوگئے اور اسے انجام دیا ایک 10 سالہ لڑکی نے۔ وہ ایک بس پڑاؤ پر پہنچی اور جسم سے بندھے بم نے دھماکہ کردیا۔ نائیجریا کی بوکوحرام خودکش حملوں میں اب بچوں کا استعمال کھلے عام کررہی ہے۔ ایک چونکانے والی داستان ایک 13 سالہ بچی نے سنائی۔ اس نے بتایا کہ میرے والد ہی مجھے بوکوحرام دہشت گردوں کے پاس لے گئے تھے۔ آتنک وادیوں نے مجھ سے پوچھا جنت دیکھنی ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد وہ مجھے ساتھ لے گئے اور مجھے دھماکوں سے بھری جیک پہننے کو دی کہا کہ بھیڑ والی جگہ جاکر اس کا بٹن دبا دینا ۔ میں ڈر گئی ار کہا ایسے تو میں مر جاؤں گی۔ انہوں نے کہا جنت میں جانے کے لئے مرنا ہی ہوتا ہے۔ میرے منع کرنے پر انہوں نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ ڈر سے میں نے جسم سے جیکٹ باندھنے کی حامی بھرلی۔ انہوں نے مجھے کانو شہر میں بھیج دیا۔ میرے ساتھ دو اور لڑکیاں بھی تھیں۔ 
انہوں نے کانو کپڑا مارکیٹ میں خود کو اڑادیا۔ مجھے لگا ایسے تو بہت بے قصور مارے جائیں گے۔ میں نے بٹن نہیں دبایا لیکن دھماکوں میں زخمی ہوگئی۔ میرے پیر زخمی ہوگئے۔ ایک ٹیکسی والے سے میں نے اسپتال پہنچانے کو کہا۔ وہاں سے پولیس نے مجھے گرفتار کرلیا۔ بچی نے پولیس کی موجودگی میں اپنی یہ کہانی سنائی۔ برطانیہ کی انتہائی مطلوب خاتون ٹیریرسٹ لیکویٹ عرف وائٹ ونڈو کو 200 ملکوں کی پولیس تلاش کررہی ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق وہ صومالیہ اور کینیا میں اب تک 400 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے۔ دہشت گرد حملوں سے لیکر خودکش حملوں اور کاربم دھماکوں کو ذریعے یہ لوگ مارے گئے۔ 32 سالہ سمنتا 4 بچوں کی ماں ہے اس کے والد ناردن آئر لینڈ میں فوجی تھے۔ اس کا شوہر جرمین لنڈسے تھا جو 2005 کے لندن حملوں میں شامل تھا اور خودکش حملہ آوروں میں سے ایک تھا۔ ان حملوں میں52 لوگ مارے گئے تھے۔ اسی کے بعد وہ برطانیہ سے فرار ہوگئی تھی۔ چار سال تک چھپتی رہی۔ صومالیہ کے سینئر اینٹی ٹیریرسٹ افسرکے مطابق سمنتا اب الشباب کے لیڈر احمد عمر کا داہنا ہاتھ بن چکی ہے۔ الشباب کے چیف کے عہدے پر آنے کے بعد سے وہ 400 لوگوں کی جان لے چکی ہے۔ انٹر پول اس کے نام پر ریڈ کارنر وارنٹ جاری کر چکی ہے اور دنیا کے200 ملکوں کی پولیس اس کا پیچھا کررہی ہے۔سمنتا لندن یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے۔ پچھلے مہینے کینیا یونیورسٹی میں ہوئے حملے کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ مانا جارہا ہے۔ اس حملے میں148 لوگ مارے گئے تھے۔ مانا جاتا ہے کہ اس نے 15 سال کی عمر کے کئی لڑکوں کا برین واش کر انہیں ہیروئن کے نشے میں دھت کرکے خودکش حملوں میں استعمال کیا ہے۔
(انل نریندر)

22 مئی 2015

دہلی میں بڑھتا آئینی بحران!

قومی راجدھانی دہلی میں اروند کیجریوال حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے درمیان ٹکراؤ کے سبب آئینی بحران کے حالات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ گیند اب صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے پالے میں ہے۔ یہ تنازعہ چھٹی پر گئے چیف سکریٹری کی جگہ لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے پاور سکریٹری شکنتلا گیملن کو نگراں چیف سکریٹری مقرر کردینے سے شروع ہوا تھا۔اس تقرری پر کیجریوال حکومت نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ اس نے چیف سکریٹری کے دفتر پر تالا بھی جڑ دیا۔باقی کسر نجیب جنگ نے حکومت کے ذریعے تعینات کئے گئے چیف سکریٹری کی تقرری منسوخ کرکے پوری کردی۔ دہلی حکومت کے کام کاج کو لیکر منگلوار کو دہلی ہائی کورٹ نے تلخ رائے زنی کی۔ سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان دائرہ اختیار کو لیکر جاری رسہ کشی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے عدالت ہذا نے کہا کہ عوام کو ایک بہتر سرکار کی امید تھی لیکن دہلی میں یہ کیا ہورہا ہے۔ سرکار کام کاج کے بجائے افسر کا دفتر سیل کرنے میں لگی ہے۔ چیف جسٹس روہنی اور جسٹس راجیو سہائے انڈلو کی ڈویژن بنچ نے ایک عرضی پر سماعت کے دوران یہ زبانی رائے زنی کی۔ یہ باتیں اس لئے بھی بیحد اہم ہیں کیونکہ وزیر اعلی کیجریوال کی ہدایت پر پیر کے روز پرنسپل سکریٹری (سروسز) انندو مجمدار کے دفتر کو سیل کردیا گیا ہے۔ اس درمیان دہلی سرکار میں کام کررہے 20 سینئر آئی اے ایس افسر کیجریوال سرکار کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپنے تبادلے کو کہا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اور لیفٹیننٹ گورنر نے صدر سے مل کر اپنی اپنی باتیں رکھیں لیکن ابھی تک اس مسئلے کا حل نہیں نکل سکا۔ صدر پرنب مکھرجی نے اس پر مرکزی سرکار سے رائے مانگی ہے۔ صدر کی رائے طلبی کو دیکھتے ہوئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اس مسئلے پر اٹارنی جنرل مکل روہتکی سے بات کی ہے اور ان سے دہلی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان جاری رسہ کشی پر آئینی پوزیشن واضح کرنے کو کہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے جو رائے راجناتھ سنگھ کو دی ہے اس کی جانکاری راشٹرپتی کو دی جائے گی۔ ریاست کے دو بڑے عہدوں پر بیٹھے افراد کے درمیان ٹکراؤ سے پیدا دہلی کی صورتحال کا اندازہ محض اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ حقیقت میں تین مہینے پہلے اسمبلی چناؤ میں عام آدمی پارٹی کو اکثریت ملنے کے بعد ہی ریاستی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کے رشتے ٹھیک نہیں رہے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دہلی ایک مکمل ریاست نہیں ہے اور یہاں کے وزیر اعلی اور لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات ٹھیک سے تشریح نہیں ہیں۔ اسے لیکر آئینی ماہرین تک میں اختلاف ہے۔ مثلاً ،لوک سبھا کے سابق سکریٹری جنرل سبھاش کشپ جہاں آئین کی دفعہ239 کا حوالہ دیکر کہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ گورنر چاہیں تو صدر راج کی سفارش کرسکتے ہیں وہیں راجیو دھون جیسے سینئر وکیل کے مطابق کیجریوال کو اپنی پسند کی افسر شاہی مقرر کرنے کا اختیار ہے۔ ظاہر ہے یہ معاملہ دو افراد کے درمیان کا نہیں ہے بلکہ قومی راجدھانی کے نظام سے وابستہ ہے۔ حالانکہ آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے چلتے نجیب جنگ کا پلڑا کافی بھاری ہے۔ کیونکہ دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ نہیں دیا گیا ہے۔ ایسے میں یہاں منتظم لیفٹیننٹ گورنر ہی ہے جس کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے تنازعات کو پیدا کرنے میں ماہر کیجریوال سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ایسے اشو اٹھا رہے ہیں تاکہ دہلی میں آئینی بحران کھڑا ہو۔49 دن کی سرکار میں بھی انہوں نے ایسا ہی کیا تھا۔ ہمیں لگتا ہے کیجریوال اپنے آپ کو دیگر وزیر اعلی ، یوپی کے اکھلیش، ہریانہ کے کھٹر وغیرہ کے برابر سمجھتے ہیں۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان ریاستوں میں حالات الگ ہیں دہلی کی صورتحال الگ ہے کیونکہ دہلی ایک مکمل ریاست نہیں ہے اس لئے یہاں وزیر اعلی کے اختیار بھی محدود ہیں۔ حالات اور نہ بگڑیں اس کے لئے ضروری ہے وزیر اعلی اور لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات کی ٹھیک سے تشریح کی جائے تاکہ دونوں ایک دوسرے کے دائرہ اختیار کی خلاف ورزی نہ کریں۔
(انل نریندر)

جاپان میں دوڑی دنیا کی سب سے تیز ٹرین

دنیا کی سب سے تیز ٹرینوں کیلئے مشہور جاپان نے ایک بار پھر رفتار کے معاملے میں نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ اس کی میگلیو ٹرین نے 603 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار کا عالمی ریکاڈر بنایا ہے۔ یعنی اگر یہ ٹرین بھارت میں چلے تو دہلی سے ممبئی کی قریب1400 کلو میٹرکی دوری تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے کرلے جبکہ عام ٹرین سے یہ سفر طے کرنے میں24 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ ٹوکیو کے ساؤتھ میں واقع ماؤنٹ چھوجی کے پاس قائم بجلی پلانٹ کی مدد سے چلنے والی میگلیو ٹرین کی رفتار کا حال ہی میں تجربہ کیا گیا ہے۔ اس ٹرین کو ٹوکیو اور نگوچا کے درمیان چلانے کا منصوبہ ہے۔ قابل ذکر ہے جاپان اپنی تیز رفتار سے دوڑنے والی ایسی میگلیو اور بلٹ ٹرینوں کی اس تکنیک کو دنیا بھر کو بیچنے کے منصوبے پر کام کررہا ہے۔ سینٹرل جاپان ریلوے کے مطابق جدید ترین نظام سے آراستہ 7 ڈبوں والی اس میگنیٹک لیویٹیشن ٹرین نے 603 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار حاصل کر اپنے پہلے کے سارے ریکارڈ توڑ دئے۔ تقریباً11 سیکنڈ تک ٹرین 600 کلو میٹر سے زیادہ کی رفتار سے ٹریک پر دوڑتی رہی حالانکہ ایک ہفتے پہلے ہی اس ٹرین نے 590 کلو میٹر کی رفتار کا نشانہ حاصل کیا تھا۔ 2003ء میں بھی جاپان کی ایک ٹرین نے 581 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار کا نشانہ حاصل کر دنیا میں سنسنی مچا دی۔ جب ٹرین کی رفتار کا تجربہ ہو رہا تھا اس وقت وہاں 200 سے زائد لوگ جمع تھے۔ جیسے ہی ٹرین نے 600 سے زیادہ کی رفتار درج کی لوگ خوشی کے مارے اچھل پڑے۔ بجلی سے چلنے والی میگلیو ٹرین ٹریک سے 10 سینٹی میٹر (4 انچ) اوپر دوڑتی ہے۔ میگلیو ٹرین پوری طرح سے الیکٹرو میگنیٹک سسپینشن پر کام کرتی ہے۔ اس میں انجن کی جگہ ایک کنٹرول سسٹم ہوتا ہے۔ یہ چمبک ٹریک اور اس کی چمبک دیواروں کے سہارے چلتی ہے۔ اس ٹرین کے ڈبے ہوا میں چار پانچ انچ تک اوپر اٹھ جاتے ہیں اور اس میں گڑگڑاہٹ نہیں ہوتی۔ ہمارے بھارت میں سب سے تیز ٹرین نئی دہلی ،بھوپال، شتابدی ایکسپریس ہے جو150 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔ نئی دہلی ،ہاوڑہ راجدھانی 140 کلو میٹر فی گھنٹ کی رفتار سے چلتی ہے۔ دہلی۔ کانپور شتابدی بھی 140 کلو میٹر کی رفتار سے چلتی ہے۔ جاپان کی اس شاندار کامیابی پر مبارکباد۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت میں بھی مستقبل قریب میں ایسی ٹرین چل پائے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ چین نے ایک تیز رفتار ٹرین کے بارے میں بھی سمجھوتہ ہوا ہے لیکن ایسی ٹرینوں کو بھارت آنے میں وقت لگے گا۔
(انل نریندر)

21 مئی 2015

دہلی میں کراری ہار کے بعد بہار میں اگنی پریکشا

چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے اعلان کیا ہے کہ بہار اسمبلی چناؤ ستمبر۔ اکتوبر میں کرائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا ریاست میں چناؤ عمل کے دوران دبنگئی اور پیسے کی طاقت پر لگام لگانے کے لئے وسیع پیمانے پر سینٹرل فورسز تعینات کی جائیں گی۔ قابل ذکر ہے 243 ممبری اسمبلی کی میعاد 23 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔ سال2015ء کے اس دوسرے اسمبلی چناؤ میں بھاجپااور جنتا پریوار کی ساکھ داؤ پر ہے۔ سال کے ابتدا میں دہلی اسمبلی چناؤ میں کراری ہار جھیل چکی بھاجپا بہار میں ہار کا چہرہ شاید نہ دیکھنا چاہے گی۔ ریاست میں ہر حال میں جیت حاصل کرنے کے لئے پارٹی ابھی سے جوڑ توڑ و جیت کی کوششوں میں لگی ہے۔ وہیں اقتدار بچائے رکھنے کے لئے ریاست کے وزیر اعلی نتیش کمار جنتا پریوار کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ آر جے ڈی اور جے ڈی یو کانگریس و لیفٹ پارٹیوں کا اتحاد کو تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ فی الحال جنتا پریوار کی 6 پارٹیوں کے انضمام کی زور شور سے شروع ہوئی مہم اچانک کھٹائی میں پڑتی دکھائی پڑ رہی ہے۔ انضمام کا اعلان ہونے اور ملائم سنگھ یادو کو پریوار کا نیا چیف طے کرنے کے باوجود سپا بہار اسمبلی چناؤ سے پہلے جنتا دل (یو) اور آر جے ڈی کے بیچ سیٹوں کے بٹوارے کو لیکر پیدا تنازعے میں مداخلت کے لئے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ دونوں ہی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ سپا چیف ملائم سنگھ بیچ بچاؤ کر سیٹ بٹوارے کا کوئی فارمولہ طے کریں۔ دوسری طرف بہار میں آر جے ڈی ، جے ڈی یو اتحاد کے امکانات پر شش و پنج کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ اب آر جے ڈی چیف لال پرساد یادو کھلے طور سے نتیش کمار کی سرکار پر نکتہ چینی کررہے ہیں۔ لالو کو اس بات کی فکر بھی نہیں ہے کہ نتیش سرکار پر ان کے اس حملے کا اثر ریاستی اسمبلی چناؤ سے پہلے ہونے والے دونوں پارٹیوں کے اتحاد پر پڑے گا۔ لالو جی نے جنتا دل (یو) سرکار پر ایسے حملہ کیا ہے جیسے وہ اپوزیشن میں ہو۔ زلزلہ اور تیز آندھی سے متاثرہ خاندان تک راحت اور معاوضہ پہنچانے کو یقینی کرنے کے لئے نتیش کمار سرکار کی تنقید کررہے ہیں۔ لالو کا انداز اچانک بدل گیا ہے اور وہ نتیش سرکار پر جارحانہ دکھائی دے رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے لالو کے حملے کے پیچھے وجہ یہ ہو کہ وہ اسمبلی چناؤ میں سیٹ شیئرنگ سمجھوتے میں زیادہ سیٹوں کے لئے دباؤ بنانے کی کوشش کررہے ہوں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کو لیکر بہار کے دو دن کے دورے پر گئے سینئر کانگریسی لیڈر سابق وزیر جے رام رمیش نے کہا کہ بہار اسمبلی چناؤ سے ہی نریندر مودی کی الٹی گنتی شروع ہوگی۔ انہوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج میں ایئرپورٹ سے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس تک جانے کے لئے کار کے بجائے رکشے پر سفر کیا۔ کہا کہ دہلی کی طرح بہار میں بھی بھاجپا کو شکست ملے گی اور یہاں سے دیش بھر میں پیغام جائے گا۔ بہار اسمبلی چناؤ بھاجپا کی ممبر شپ مہم کی کامیابی کا پہلا چناوی امتحان ہوگا۔ پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ بہار میں بنائے جانے والے ممبروں کی تعداد 75 لاکھ سے زیادہ ہے۔یہ چناوی امتحان بھاجپا اور مودی کہ وقارکا سوال ہے۔
(انل نریندر)

42 سال بعد ارونا شان باغ کو ملی سکون کی نیند

40برس تک نزعے کی حالت میں رہنے کے بعد دنیا چھوڑدینے والی ممبئی کے کے ۔ایم ہسپتال کی سابق نرس ارونا شان باغ کو ایسی اذیت جھیلنی پڑی جس نے ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ موت تو ارونا شان باغ کی27 نومبر1973ء میں ہی ہوگئی تھی جس رات بدفعلی کے بعد وہ نزعے میں چلی گئی تھی اب تو قانونی موت ہوئی ہے۔ 68ویں جنم دن سے13 دن پہلے 42 سال کے انتہائی درد جھیلنے کے بعد اسے سکون کی نیند آگئی۔ پیر کی صبح ارونا کی موت کے بعد یہ لفظ تھے اس کی دوست پنکی ویرانی کے۔ارونا کے۔ ای۔ ایم ہسپتال میں نرس تھی، یہیں کے وارڈ بوائے نے ان سے بدفعلی کی کوشش کی تھی۔ ارونا کا کتا باندھنے والی چین سے گلا دبا دیا تھا اس سے ارونا کے دماغ میں خون کی سپلائی رک گئی اور وہ کوما میں چلی گئی۔ پھر وہ کبھی نہیں اٹھی۔ نزعے سے باہر نہیں نکل سکی۔ ارونا کے خاندان نے بھی منہ موڑ لیا لیکن موت کے بعد ارونا کے دو بھانجے ہسپتال آئے لیکن نرسوں نے کہا ارونا ہماری بیٹی تھی ،انتم سنسکار ہم ہی کریں گے، یہ پریوار آج کہاں سے آگیا؟ دہلی میں ہوئے نربھیا کانڈ کے بعد نہ صرف آبروریزی کی تشریح سخت کی گئی ہے بلکہ ایسے معاملوں میں سزا کی دفعات بھی سخت کی گئیں۔ مگر ارونا کے ساتھ جنسی تشدد کرنے والے سوہن لال پر جان لیوا حملہ اور ڈکیتی کے معاملے تو چلے اور اسے سزا بھی ہوئی لیکن اس پر آبروریزی یا جنسی تشدد کا معاملہ نہیں چلایا گیا۔ شاید اس وقت کا سماجی تانا بانا اور دباؤ میں ہسپتال انتظامیہ کو یہ مناسب لگا تھا مگر اس حادثے نے ارونا کے وجود کو ختم ہی کردیا اور اگر کے ۔ای ۔ ایم ہسپتال کے ان کے ساتھی اور نرس ان کی سیوا نہیں کرتی تو وہ اتنے لمبے عرصے تک زندہ نہیں رہ پاتی۔ ارونا شان باغ 42 سالوں سے کنگ ایڈورڈ میموریل(کے ای ایم) ہسپتال کے گراؤنڈ فلور پر وارڈ نمبر چار سے جڑے کمرے میں بھرتی تھیں۔ یہ کمرہ ہی ان کا گھر تھا اور ہسپتال کا اسٹاف پریوار۔ اس لمبے عرصے کے دوران وہ کبھی نہیں بولیں لیکن ان کی خاموشی دیش میں خواہشی موت پر بحث اور پھر قانون بنے میں سب سے طاقتور ہتھیار بنی۔ صحافی پنکی ویرانی نے ارونا کو خواہشی موت دینے کے لئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ ارونا کے ساتھ دردناک حادثے کے بعد قریب38 برسوں بعد24 جنوری2011ء کو کورٹ نے عرضی منظور کرتے ہوئے تین ڈاکٹروں کا پینل بنایا تھا۔ بعد میں 7 مارچ 2011ء کو یہ عرضی خارج کردی گئی۔ عدالت نے کہا کہ پوری طرح بے جان حالت میں پڑے مریضوں کو زندگی دینے والے آلات کو ہٹا کر پیسیو (خواہشی موت) دی جاسکتی ہے۔ اس عمل کو تبھی جائز مانا جائے گا جب ہائی کورٹ کی نگرانی میں ہو۔ ارونا بھارت میں خواہشی موت کے حق سے جڑی بحث کی علامت بن گئیں۔ ارونا کی طرح سابق وزیر اور کانگریسی لیڈر پریہ رنجن داس منشی اور بھاجپا کے سابق سینئر لیڈر جسونت سنگھ بھی نزعے میں ہیں۔ منشی اکتوبر2008ء سے ہارٹ اٹیک کے بعد سے نزعے میں ہیں جبکہ 76 سالہ جسونت سنگھ کو 8 اگست 2014ء کو سر میں چوٹ لگی تھی اور وہ اب نزعے میں ہیں۔
(انل نریندر)

20 مئی 2015

مہنگائی کے ایک اور زبردست جھٹکے کیلئے تیار رہیں

دال ،چاول، خوردنی تیل اور پھل سبزیوں کی مہنگائی کی مار جھیل رہے لوگوں کو اب مہنگائی کا ایک اور جھٹکا سہنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔گزشتہ 15 دنوں میں دوسری مرتبہ پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی اور بڑھے گی۔ پیٹرول کے دام 3.13 روپے اور ڈیزل میں2.71 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مئی میں پیٹرول کی قیمتوں میں 3.96 روپے اور ڈیزل کے دام 2.37 روپے اضافہ ہوا تھا۔ نئی قیمتیں جمعہ کی آدھی رات سے لاگو ہوگئی ہیں۔ بڑھے داموں کے بعد حالیہ 63.16 روپے فی لیٹر کے مقابلے دہلی میں پیٹرول کی قیمت اب66.29 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ وہیں 49.57 کے مقابلے دہلی میں اب ڈیزل52.28 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ اس وجہ سے مہنگائی اور بڑھے گی۔ ٹرکوں کے کرائے7-8 فیصدی بڑھنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔گزشتہ 30 اپریل کو پیٹرول میں فی لیٹر 30.96 روپے جبکہ ڈیزل میں فی لیٹر 2.37 روپے اضافہ کیا گیا تھا۔ جمعرات کو قیمت میں پھر اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر دونوں اضافوں کو ملادیں تو محض16 دنوں میں پیٹرول 7.09 فی لیٹر جبکہ ڈیزل 5.8 روپے فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے۔ ادھر روپے کی کمزوری نے اب دیش کے سامنے نئی چنوتی کھڑی کردی ہے۔ ڈالر کے مقابلے روپے کا بھاؤ20 مہینے میں نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اب ایک ڈالر کی قیمت64 روپے تک ہوگئی ہے۔ روپے کی گراوٹ سے کچے تیل کی درآمدات مہنگی ہوگی۔ اگر روپے میں رکاوٹ جاری رہی تو عام آدمی خاص طور پر مڈل کلاس کا پورا بجٹ بگڑ جائے گا۔ موجودہ وقت میں بھارت کھاد ، لوہا اور غذائی تیل و دالوں کی کافی درآمد کرتا ہے۔دالوں کی درآمد کل ڈمانڈ کر 40 فیصدی تک ہوتی ہے۔ غذائی تیلوں کی درآمدات کل مانگ کی 60 سے70فیصدی تک ہوجاتی ہے۔ روپے میں گراوٹ ان سب کی امپورٹ قیمت بڑھے گی اس سے کسان اور عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ بڑھے گا۔ انڈسٹری چیمبر ایسوسچیم کے ڈائریکٹر جنرل ڈی۔ ایس ۔راوت کا کہنا ہے کھاد کے دام بڑھنے سے کسانوں کی کھیتی مہنگی ہوگی۔ اس کا اثر ذراعت اور غذائی اجناس پر بھی پڑے گا۔ 
سرکار ایک حد تک ہی سبسڈی ڈے سکتی ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے اگر ٹرک آپریٹروں نے کرائے میں اضافہ کردیا تو تعجب نہیں ہوگا کہ سبھی چیزوں کے دام بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ ڈیزل کا استعمال کسانوں سے لیکر ٹرک آپیریٹر، فیکٹریاں چلانے والے اور ریلوے بھی کرتی ہے۔ ریلوے اس وقت قریب 270 کروڑ لیٹر ڈیزل کا استعمال کرتی ہے اس پر بھی بوجھ بڑھا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی چیزوں اور خدمات کا کرایا بڑھائے گی۔ سرکار دعوی کرتی ہے کہ افراط زر نچلے سطح پر ہے مگر اس سے روز مرہ کی چیزوں کے بازار میں بکنے کے دام میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے۔ آج غریب آدمی ، مزدور یہاں تک کے مڈل کلاس بھی مہنگائی سے پریشان ہے اور سرکار کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔
(انل نریندر)

مرسی کی موت کی سزا :احتجاج میں 3 ججوں کا قتل

مصر کے معزول صدر محمد مرسی اور مسلم برادر ہڈ کے105 ممبروں کو سنیچر کو قاہرہ کی ایک عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے۔ انہیں سال 2011ء میں دیش میں بھڑکی بغاوت کے دوران جیل توڑنے کے واقعات میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔ قاہرہ کی پولیس اکاڈمی عدالت میں سزا سنائے جانے کے وقت 63 سالہ محمد مرسی پنجرہ نما کٹہرے میں موجود تھے۔ انہوں نے مٹھیاں تان کر فیصلے کے خلاف احتجاج ظاہرکیا۔ مصر کے قانون کے تحت موت کی سزا جیسے معاملوں پر دیش کے بڑے مذہبی مفتی اعظم سے رائے لی جاتی ہے۔ مرسی و دیگر کو سزا پر مفتی کی رائے لی جائے گی ۔ اس سے پہلے سزا پر عمل نہیں ہوگا۔ حالانکہ مفتی کی رائے کی پابندی نہیں ہے۔ عدالت اس معاملے میں قطعی فیصلہ 2 جون کو سنائے گی۔ مرسی اور دیگر 128 پر الزام تھا کہ انہوں نے جنوری2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے خلاف بغاوت کے دوران جیل تورنے کی سازش رچی تھی۔ اس دوران20 ہزار سے زیادہ قیدی جیل سے بھاگ گئے تھے۔ ان الزامات کے تحت موت کی سزا سننے والوں میں مسلم برادر ہڈ کی چیف محمد حادی بھی شامل ہیں۔ ان سبھی پر مصر کو کمزر کرنے کے لئے فلسطین کے اسلامی کٹر پسند تنظیم حماس، ایران کی ریولوشنری گارڈ اور لبنان کے حزب اللہ جیسی غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرنے کا الزام ہے۔ اس معاملے میں مرسی بھی ملزم ہے اگر عدالت2 جون کو اپنے ابتدائی فیصلے پر مہر لگادیتی ہے یا پھر مرسی کی مجوزہ اپیل خارج کردیتی ہے تو مصر کی تاریخ میں موت کی سزا پانے والے مرسی پہلے صدر ہوں گے۔ مرسی کو موت کی سزا سنائے جانے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی دیش کے شورش زدہ صوبہ شینائی میں تین ججوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ یہ قتل شینائی الارش میں ہوا۔ حملے میں تین دیگر بری طرح زخمی ہوگئے۔ افسران نے بتایا کہ حملہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے حمایتی آتنکیوں نے کیا۔ انہوں نے ایک بس کو نشانہ بنایا جس پر جج سوار تھے۔ حملے میں بس ڈرائیور بھی مارا گیا۔ مرسی کو صحیح ٹھہرانے والے بہت سے لوگوں میں شینائی صوبے کے باغی بھی شامل ہیں۔ اس لئے اس حملے کے تار اس سزا سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ واقعہ کے کچھ گھنٹے پہلے ہی دیش کے پہلے معزول صدر رہے محمد مرسی کو عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ جون 2012ء میں صدر مرسی نے کرسی سنبھالی تھی۔ وہ پہلے صدر تھے جن کا انتخاب جمہوری طریقے سے ہوا تھا۔ جولائی 2013 میں احتجاجی مظاہروں کے بعد فوج نے انہیں معزول کردیا اور ان پرتنظیم مسلم برادر ہڈ کی حمایت کا بھی الزام لگا تھا۔ مصر کے اندر سیاسی اتھل پتھل انتہا پر ہے اگر اتنی بڑی تعداد میں ملزمان کی موت کی سزا پر عمل ہوتا ہے تو یہ اس دیش کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک نئی بات ہوگی۔
(انل نریندر)

19 مئی 2015

کیجریوال کا سرکولر انہی کی بھدپٹوانے کا سبب بنا

سپریم کورٹ کا جمعرات کو آیا حکم دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے لئے جھٹکا تو ہے ہی ساتھ ساتھ سبق بھی ہے۔ عدالت نے دہلی سرکار کے متنازعہ فرمان پر پابندی لگادی ہے جس میں سرکاری افسران سے کہا گیا تھا کہ میڈیا میں جن خبروں سے سرکار کی ساکھ خراب ہوتی ہے ان کے خلاف مجرمانہ معاملہ درج کیا جائے۔ دہلی سرکار نے گزشتہ 6 مئی کو یہ سرکولر جاری کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا اگر کوئی شخص دہلی کے وزیر اعلی ، وزیر یا دہلی سرکار کے افسران کی ساکھ خراب کرنے والی خبر چھاپتا ہے تو اس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت ہتک عزت جرائم کا مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔ سرکولر پر روک لگانے کے ساتھ ہی عدالت نے دہلی سرکار سے ڈیڑھ مہینے کے اندر یہ بھی بتانے کو کہا ہے کہ اس طرح کا سرکولر کیوں جاری کیا گیا۔ عدالت کا یہ حکم وکیل امت سبل کی عرضی پر آیا۔امت سبل کی جانب سے جمعرات کو پیش ہوئے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ کیجریوال دوہرا پیمانہ اپنا رہے ہیں۔ ایک طرف تو انہوں نے ہتک عزت کے قانون آئی پی سی کی دفعہ499 اور500 کے جواز کو چنوتی دیکر بڑی عدالت سے راحت لے رکھی ہے دوسری طرف اسی قانون کے تحت میڈیا کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے لئے سرکولر جاری کیا ہے۔ جسٹس دیپک مشرا کی ڈویژن بنچ نے پوچھا کہ دونوں باتیں کیسے ہوسکتی ہیں؟ امت سبل نے کیجریوال کے خلاف دہلی کی نچلی عدالت میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کررکھا ہے۔جو سبل کے بارے میں کیجریوال کی طرف سے دئے گئے بیان پر داخل کیا گیا ہے۔ کیجریوال نے ہتک عزت قانون کی دفعہ499 اور 500 کے جواز کو سپریم کورٹ میں چنوتی دی ہے۔ عدالت نے کیجریوال کی عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف نچلی عدالت میں زیر التوا ہتک عزت کے مقدمے پر روک لگادی تھی۔ عدالت کے موقف سے صاف ہے کہ میڈیا کو نشانے پر لینے اور اسے ڈرانے کے دہلی سرکار کے رویئے کو اس نے کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔جمہوریت میں ایسی کارروائی کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ یہ حیرت کی بات ہے ایسا نہایت غیر جمہوری قدم اس پارٹی کی سرکار نے اٹھایا ہے جو شفافیت اور جوابدہی کا دم بھرتی ہے۔ کیا ہو اپنے اصولوں سے بھٹک گئی ہے؟ کیجریوال کچھ عرصے سے میڈیا کے خلاف زہر اگلتے رہے ہیں، حال ہی میں بغیر کوئی ٹھوس ثبوت پیش کئے انہوں نے کہا تھا کہ میڈیا نے ان کی پارٹی کو ختم کرنے کی سپاری لے رکھی ہے۔ جیسے یہ الزام کافی نہ ہو انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ میڈیا کے خلاف پبلک ٹرائل چلائیں گے یعنی اسے جنتا کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ ایک جمہوری نظام میں سرکاروں اور سیاسی پارٹیوں کی تنقید عام بات ہے۔ تنقید کا اختیار بغیر جمہوریت کے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ تنقید کے تئیں جیسی غیر حساسیت کا مظاہرہ کیجریوال نے پیش کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو یہ سوچ کر بھاری راحت محسوس کرتے ہوئے شکر ہے کہ کیجریوال کے ہاتھ میں پولیس کا کنٹرول نہیں ہے۔ کیجریوال کی یہ شکایت کچھ حد تک صحیح ہوسکتی ہے کہ میڈیا کا ایک طبقہ ان کے تئیں منفی نظریہ رکھتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹیکس دہندگان کی گاڑھی کمائی اس کی ساکھ بچانے پر خرچ کی جائے۔ سرکولر نکالنے سے بہتر یہ ہوتا کہ میڈیا کے جس حصے سے انہیں شکایت تھی اپنے پارٹی ورکروں ، حمایتیوں اور عام جنتا سے اس کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل جاری کرتے۔ اس کے بجائے یہ الزام لگانا کہ پورا میڈیا ہی انہیں اور ان کی پارٹی کو ختم کرنے کی سپاری لے چکا ہے، بیحد اعتراض آمیز ،بچکانا اور بیہودہ رویہ ہے۔جمہوری نظام میں اگر اطلاعات یا نظریات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے جمہوریت کے لئے خراب ہوتے ہیں۔ میڈیا کی لگام تو ہر منٹ جنتا کے ہاتھ میں رہتی ہے۔ یہ سیاست کی طرح اس کے سامنے مجبوری نہیں ہوتی کہ غلط چناؤ کا احساس ہونے کے باجود کسی پارٹی کی سرکار کو پانچ سال تک جھیلنا ہی پڑے۔ بہرحال جس ساکھ کوبچانے کے چکر میں کیجریوال نے یہ سرکولر نکالا وہی ان کی بھد پٹوانے کا سبب بن رہا ہے۔ کیا اب بھی وہ باآور ہوں گے؟
(انل نریندر)

ڈکٹیٹر کم جونگ نے اپنے ہی وزیر دفاع کو توپ سے اڑوایا

دنیا میں سرپھرے لوگوں کی کمی نہیں ، ان میں سے ایک ہیں نارتھ کوریا کے حکمراں کم جونگ ۔ان کی پاگل پن کی عادتوں کا وقتاً فوقتاً پتہ چلتا رہت ا ہے۔ تازہ واقعہ شمالی کوریا کے 66 سالہ وزیر دفاع ہیون یول کا ہے۔ ساؤتھ کوریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق ہیون یول کے جھپکی لینے سے تانا شاہ حکمراں کم جونگ اتنے ناراض ہوئے کہ انہیں سرعام توپ سے اڑا دیا ۔ یہ جانکاری ساؤتھ کوریا کی قومی خفیہ ایجنسی (این آئی ایس) نے بدھوار کو اپنے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں دی۔ ایجنسی کے مطابق 66 سالہ ہیون کو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں30 اپریل کو ایک فوجی تجربہ گاہ میں جہاز ٹہو لینے والی توپ سے اڑادیا گیا۔ این آئی ایس کے مطابق ہیون کی موت کی سزا ان کی گرفتاری کے تین دن بعد دی گئی۔ ہیون پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ اس سے انہیں صفائی دینے کا بھی کوئی موقعہ نہیں ملا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہیون کو سزا کم کے ایک پروگرام میں جھپکی لینے اور پیچھے بیٹھ کر ایک سینئر افسر سے بات کرنے کی وجہ سے دی گئی۔کم نے اسے اپنے فرمان کی خلاف ورزی مانا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہیون کم جونگ کے ان اصولوں کی مسلسل خلا ف ورزی کرتے آرہے تھے۔ کچھ وقت پہلے روس میں ایک کانفرنس کے دوران بھی انہوں نے کم کے خلاف رائے زنی کی تھی اس سے بھی کم ان سے کافی ناراض تھے۔ حالانکہ ابھی تک سزا کی آزادانہ طور سے تصدیق نہیں ہوپائی ہے لیکن مانا جارہا ہے کہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو نارتھ کوریا سرکار کی طرف سے اب تک اس کی تردید آچکی ہوتی۔ ڈکٹیٹر حکمراں کم جونگ اتنے سر پھرے ہیں کہ انہوں نے اپنے رشتے داروں کو بھی نہیں چھوڑا۔ دسمبر 2013 ء میں کم نے اپنے پھوپھا جانگ سانگ تھیف کو بھوکے کتوں کے پنجرے میں ڈال کر موت کی سزا دی تھی۔ مئی 2014ء میں اپنی بوا کم کیونگ ہوئی کو بھی زہر دے کر موت کی نیند سلایا تھا۔ اس کا انکشاف حال ہی میں ہوا تھا۔2011ء میں اپنے والد کم جونگ ال کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالتے ہی کم جونگ ان اپنے سیاسی حریفوں یا اقتدار کو چیلنج دینے والے قریب70 لیڈروں اور افسران کو موت کے گھاٹ اترواچکے ہیں۔ ایسے 15 لوگوں کو اسی سال سزا دی گئی ہے۔ توپ سے اڑادئے گئے ہیون 2012ء میں نارتھ کوریا کے وزیر دفاع بنے تھے۔ 2010ء سے وہ جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔دسمبر2011ء میں مرحوم لیڈر کم جونگ ال کے انتم سنسکار کے لئے بنی کمیٹی کے لئے بھی انہوں نے اپنی خدمات دی تھیں۔ نارتھ کوریا آج دنیا کے سب سے غیر محفوظ ملکوں کی فہرست میں شامل ہے۔ نیوکلیائی ہتھیاروں سے آراستہ نارتھ کوریا کے اس سرپھرے تانا شاہ کم جونگ کی وجہ سے امریکہ سمیت مغربی ممالک اس ملک سے فکرمند رہتے ہیں۔ یہ کب کیا کردے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ آئے دن نارتھ کوریا، ساؤتھ کوریا و امریکہ کو دھمکاتا رہتا ہے۔نیوکلیائی بموں سے مسلح نارتھ کوریا آج دنیا کے سب سے غیر محفوظ ملکوں میں سے ایک بن گیا ہے۔
(انل نریندر)

17 مئی 2015

کیجریوال نے چھیڑی نجیب جنگ کے خلاف جنگ!

پچھلے کچھ دنوں سے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال و دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے درمیان اختیارات کو لیکر کھینچ تان چل رہی ہے۔ اب کیجریوال نے اس کھینچ تان کو آگے بڑھاتے ہوئے بصد احترام لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات کو سیدھے چیلنج کردیا ہے۔ انہوں نے بدھوار کو جنگ کو خط لکھ کر سیدھے کہہ دیا ہے کہ پولیس اور زمین وقانون و نظام کے معاملوں پر ان کا نہیں بلکہ دہلی سرکار کا ہی اختیارہے۔ اپنے دعوے کے حق میں انہوں نے کہا آئین اور قومی راجدھانی خطہ حکومت (جی ایس ٹی سی)قانون اور دہلی سرکار کے کام چلانے کے قواعد (ٹی ڈی آر) میں کہیں بھی لیفٹیننٹ گورنر کو ان قواعد کے اختیارات نہیں دئے گئے ہیں۔ کیجریوال نے جنگ کی طرف سے لکھے گئے خط کے جواب میں انہیں بھیجے گئے خط میں کہا دہلی سرکار کو مرکز کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن صرف آئین کے مطابق ہی کام کریں گے۔ جنگ نے اپنے خط میں کہا تھا کیجریوال کو ریاست کے چیف سکریٹری اورپرنسپل سکریٹری (ہوم) کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ وہ نہ تو ان کی تقرری کرنے والے افسر ہیں اور نہ ہی ان کے کیڈر کنٹرول کا اختیار ہے۔ اس کے جواب میں کیجریوال نے کہا انڈین ایڈمنسٹریٹو افسران (آئی اے ایس) کی تقرری صدر جمہوریہ کرتے ہیں اور ان کے کیڈر کا کنٹرول مرکزی سرکار کے پرسنل (ڈی او پی ٹی) وزارت کے تحت ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ریاستوں میں کام کرنے والے آئی ایس افسران کا سارا کنٹرول مرکز پر چھوڑدیا جائے تب تو فیڈرل ڈھانچہ چرمرا جائے گا۔ کیجریوال نے جنگ کو یاد دلایا کہ تقرری اور کیڈر کنٹرول اختیار نہ ہونے کے باوجود خود ایل جی نے بھی دہلی سرکار کے افسران کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ اپنے خط میں وزیر اعلی نے کہا ہے کہ جہاں ضرورت ہوگی وہ مستقبل میں بھی ان سے رابطہ قائم کرتے رہیں گے لیکن پولیس ،زمین اور قانون و سسٹم کے معاملوں پر صرف آئین کی ہی تعمیل کریں گے۔ کیجریوال نے کہا آئین، مختلف قواعد اور قوانین میں کہیں بھی ان موضوعات پر لیفٹیننٹ گورنر کو اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ایک بھی دفعہ بتا دیجئے جس کی تعمیل کرتے ہوئے متعلقہ فائلیں ان تک بھیجی جائیں۔ جس کے چیف سکریٹری کے۔کے شرما کی امریکہ دورہ اور لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلی کے درمیان جاری سیاسی ٹکراؤ کی نئی وجہ ثابت ہوسکتا ہے۔ شرما 10 دنوں کے اپنے پرسنل دورے پر امریکہ چلے گئے ہیں۔ اب بڑا سوال یہ ہے ان کی ذمہ داری کس افسر کو دی جائے گی؟ قاعدے کے مطابق چیف سکریٹری کی تقرری مرکزی وزارت داخلہ کرتی ہے جبکہ ایگزکٹو چیف سکریٹری کی تقرری لیفٹیننٹ گورنر کرتا ہے۔ پہلے ایسی تقرریوں میں کسی تنازعے کی گنجائش اس لئے نہیں ہوتی تھی کیونکہ وزیر اعلی اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان کسی قسم کا تنازعہ نہیں تھا لیکن اب اس کا امکان اس لئے بڑھ گیا ہے کیونکہ ان دنوں عہدوں پر قابض لوگوں کے رشتوں میں تلخی بہت زیادہ ہے۔ ان دونوں کی لڑائی اب مرکزی وزارت داخلہ اور پی ایم او تک پہنچ گئی ہے۔
(انل نریندر)

پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی مدد سے مرا لادن !

دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گردتنظیم القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کے بارے میں ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو لادن کے ٹھکانے کی معلومات پاکستان کے ایک خفیہ افسر نے دی تھی۔ یہی نہیں لادن پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی حفاظت میں ایبٹ آباد میں ایک قیدی جیسی زندگی گزار رہا تھا۔ اسی جانکاری کی بنیاد پر امریکی نیوی شیل نے2 مئی 2011ء میں آتنکی سرغنہ کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ پاکستان کے ہی ایک سراغ رساں نے 2.5 کروڑ ڈالر کے انعام کے لالچ میں امریکہ کولادن کا ٹھکانہ بتایا تھا۔انگریزی اخبار ’دی ڈان‘ نے امریکی تفتیشی صحافی اور مصنف سیمور ایس ہرپ کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے۔ اس نے کہا کہ اگست2010ء میں پاکستان کے ایک سابق سینئر خفیہ افسر نے اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے میں سی آئی اے کی اس وقت کی اسٹیشن چیف جوناتھن بینکے سے رابطہ قائم کیا تھا۔ اسی نے سی آئی اے کو اسامہ کا پتہ بتانے کی پیشکش کی تھی اور اس کے عوض وہ انعام مانگا جو واشنگٹن نے2001ء میں اس کے سر پر رکھا تھا۔ ہرپ نے کہاکہ خفیہ افسر فوج کا تھاوہ اب سی آئی اے کا ایک صلاح کار ہے اور واشنگٹن میں رہتا ہے۔ میں اس کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتا۔ ہرپ نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو آپریشن کیلئے راضی کیا اور اسے ’کل اوسامہ‘ پلان کے بارے میں بتایا۔ ہرپ نے دعوی کیا کہ اوبامہ انتظامیہ نے اسامہ کو مارنے کے لئے آپریشن کے بارے میں جو کچھ بھی بتایا وہ خیالی تھا۔ اور اصل کہانی پوری طرح الگ تھی۔ ہرپ کے مطابق سب سے بڑا جھوٹ یہ بولا گیا تھا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ اور آئی ایس آئی چیف کو اس آپریشن کی کوئی معلومات نہیں تھی۔ ہرپ کے مطابق پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے اسامہ کو قید کررکھا تھا اور امریکی شیل کمانڈو کے حوالے کردیا تھا۔ امریکہ نے اسلامی روایت کے ساتھ اسامہ بن لادن کی لاش کو سمندر میں نہیں دفنایا بلکہ رائفل کی گولی سے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور کچھ حصے ہندو کش پہاڑی پر پھینکے اور پولیس سولجر ایوارڈ ونر ہرپ نے دعوی کیا لادن کو مناسب اسلامی روایت سے دفنانے کی امریکہ کی سرکار کی بات غلط ہے۔ امریکی مالبردار بیڑاایس کارل ونسن سے اس کی لاش لے جاکر سمندر میں نہیں پھینکی گئی۔ صدر براک اوبامہ کے ذریعے نیوی شیل کے ہاتھوں لادن کے خاتمے کے اعلان کے بعد ہر کوئی اس کی لاش سامنے آنے کی امید کررہا تھا لیکن لادن کی موت کے کچھ گھنٹوں بعد اس کے برعکس امریکی حکومت نے اس کی لاش افغانستان کے جلال آباد میں امریکی فوج کے ایک ہوائی زون میں لے جائی گئی۔ اس کے بعد اسے نارتھ بحر عرب میں ٹھکانے لگانے والے مالبردار بیڑے امریکی ایس کارل ونسن سے لے جاکر سمندر میں پھینکا گیا۔ پاکستان کے اس وقت کے فوجی چیف جنرل اشفاق کیانی اور خفیہ چیف جنرل احمد شجاع پاشا ہر پلاننگ میں شامل تھے جبکہ ابھی تک امریکہ لادن کو مارنے کا سہرہ خود ہی لیتا رہا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...