Translater

01 نومبر 2025

اور اب بہار چناﺅمیں راہل کی انٹری

بہار اسمبلی چناﺅ کی مہم اب آہستہ آہستہ اپنے شباب پر پہنچی جارہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ، بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو میدان میں اتر ہی چکے ہیں۔اگر کمی محسوس کی جارہی تھی تو کانگریس لیڈر لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کی۔ سیاسی گلیاروںمیں سوال پوچھا جارہا تھا کہ پچھلے ایک مہینے سے زیادہ راہل گاندھی کہاں غائب رہے؟ جب بہار کی چناﺅ مہم اپنے شباب پر پہنچتی جارہی ہے ایسے میں راہل گاندھی کی غیر موجودگی پر طرح طرح کے سوال کھڑے ہو رہے تھے۔ آخر کا راہل گاندھی بہار پہنچ ہی گئے اور اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے ڈرامائی انٹری کی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔راہل گاندھی نے مظفرپور سے اپنی پہلی چناوی ریلی کی شروعات کی اور دربھنگہ میں بھی ایک ریلی سے خطاب کیا ۔راہل گاندھی کی ریلیوں نے ہی ہنگامہ کھڑا کر دیا ۔اپنی پہلی ریلی میں ہی انہوںنے کچھ ایسا کہا جس پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ۔انہوں نے اپنی پہلی ریلی میں وزیراعظم نریندر مودی پر قابل اعتراض تبصرہ کر ڈالا۔راہل گاندھی نے کہا انہیں صرف آپ کو ووٹ چاہیے اگر آپ کہیں گے نریندرمودی جی آپ ڈرامہ کرو تو وہ کر دیں گے۔انہوں نے کہا ہم آپ کو ووٹ دیں گے اور آپ اسٹیج پر آکر ڈانس کرو تو وہ ڈانس بھی کر دیں گے۔چناو¿ سے پہلے جو بھی کرانا ہے کرا لو ۔چونکہ چنا و¿ کے بعد نریندر مودی دکھائی بھی نہیں دیں گے ۔چناو¿ کے بعد نریندر مودی جی امبانی جی کی شادی میں دکھائی دیں گے۔کسانوں مزدوروں کے ساتھ نہیں بلکہ سوٹ ووٹ والوں کے ساتھ دکھائی دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ آپ کے ووٹ چوری میں لگے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ چاہتے ہیں یہ الیکشن والی بیماری ختم کر دو مہاراشٹر ہریانہ میں انہوں نے چناو¿ میں چوری کی ہے اور بہار میں پوری کوشش کریں گے ۔بہار کی آوازکی سرکار نہ بنے ۔مہا گٹھ بندھن کی گارنٹی ہے کہ ہر طبقہ ذات ،مذہب کی سرکار بہار میں بنائیں گے کسی کو پیچھے نہیں چھوڑیں گے اسی دوران راہل گاندھی نے کہا کہ 20 سال سے نتیش کمار حکومت چلار ہے ہیں ،تعلیم ،ہیلتھ او رروزگار کے لئے انہوں نے کیا کیا ہے ؟ کیا جنتا ایسا وکاس چاہتی ہے جہاں اڈانی کو ایک دو روپے میں زمین دی جائے اور لوگوں کو روزگار نہ ملے ۔راہل گاندھی کے بیان کے بی جے پی نے مذمت کی ہے ۔بی جے پی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری نے ایکس پر پوسٹ کر راہل گاندھی کے بیان کو ایک لوکل غنڈے جیسی زبان بتایا اور لکھا راہل گاندھی ایک لوکل غنڈے کی طرح بولتے ہیں ۔راہل گاندھی نے کھلے طور پر بھارت اور بہار کے ہر غریب اور ہر اس شخص کی بے عزتی کی ہے جنہوں نے وزیراعظم نریندر مودی جی کو ووٹ دیا ہے ۔راہل گاندھی نے ووٹروں اور ہندوستانی جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے وہیں دربھنگہ کی ریلی میں راہل گاندھی نے کہا کہ امت شاہ کہتے ہیں کہ زمین کی کمی ہے ۔تو پھر اڈانی کو ایک روپے میں کونسی زمین دی جارہی ہے ؟ انہوں نے کہا جب امبانی اڈانی کو زمین دینی ہوتی ہے تو زمین مل جاتی ہے ،جب کسان سے زمین چھیننی ہوتی ہے تووہ منٹ میں زمین مل جاتی ہے ۔جب بہار کے بچوں کو بزنس یا کارخانہ چلانا ہوتو امت شاہ کہتے ہیں بہار میں زمین نہیں ہے ۔اسی دوران راہل گاندھی نے شاید پہلی بار کھلے طو رسے اعلان کیا کہ مہا گٹھ بندھن کی سرکار کے وزیراعلیٰ تیجسوی یادو ہوں گے ۔چلتے چلتے راہل نے کہہ دیا کہ این ڈی اے سرکار نے ریاست کو تعلیم صحت اور روزگار کے محاذوں پر پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بہارکی جنتا اب انڈیا بلاک کی جانب امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے ۔ہم بہار کو ہر معاملے میں نمبر ون بنائیں گے ۔ہمیں میڈ ان چائنا نہیں اب میڈ ان بہار چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام پر بھی سوال کھڑے کئے اور کہا ریاست کے نوجوان دن رات محنت کررہے ہیں لیکن آخر میں پیپر لیک ہو جاتا ہے ۔کچھ چنے لوگوں کو ایگزام سے پہلے ہی پیپر دے دیا جاتا ہے یہی تعلیمی نظام کا حال بدلنا ہے ۔آپ راہل گاندھی کی دلیلوں سے متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اس میں بہت دم ہے اور بہار میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ (انل نریندر)

30 اکتوبر 2025

بہار چناومیں خواتین کارول!

بہار اسمبلی چناو¿ میں اس بار ایک بڑی تبدیلی نظر آرہی ہے چناو¿ میں پہلے کے مقابلے عورتوں کی زیادہ حصہ داری دیکھنے کو مل رہی ہے ۔کئی ایسی اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکی بیٹیاں بھی چناوی میدان میں اتری ہیں جن کے کاندھوں پر والد کی سیاسی وراثت کو آگے لے جانے کی چنوتی ہے۔اسمبلی چناو¿ میں اس بار جو اچھی بات دیکھنے کو مل رہی ہے وہ ہے عورتوں کی ساجھیداری جو عام طور پر کم دیکھنے کو ملتی ہے ۔میدان میں ایسی خواتین داو¿ آزما رہی ہیں جنہوں نے بڑے بڑے تعلیمی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے ۔بہار کی ان بیٹیوں کو لے کر چناوی دنگل میں اترنے کی ہمت دکھانے والی ان بیٹیوں کا آنا ایک اچھا اور نیک اشارہ مانا جائے گا ۔حکمراں پارٹی این ڈی اے کی بات کریں تو وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بزرگ اور بیوہ پنشن بڑھا دی ہے۔ڈومیسائل پالیسی کے تحت بہار کی سرکاری نوکریوں میں 35 فیصدمقامی عورتوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔رضاکار آشا ورکروں اور آنگن واڑی دیدیوں کی تنخواہ بھی بڑھا دی ہے دوسری طرف تیجسوی یادو نے عورتوں کو 2500 روپے ماہانہ دینے کا اعلان کیا ہے اور ٹیچر دیدیوں کی تنخواہ 30 ہزار کرنے کا اعلان کیا ہے اس کے علاوہ مہا یوجنا کے تحت کئی اسکیموں کے بھی اعلان کئے ہیں ۔دراصل بہار میں بڑی تعداد میں مردوں کے روزگار کے لئے ریاست سے ہجرت کی وجہ سے عورت ووٹروں کی ووٹنگ پیٹرن مردوں سے زیادہ رہی ہے ۔سال 2020 کے اسمبلی چناو¿ میں بھی عورتوں نے مردوں کے مقابلے زیادہ پولنگ کی تھی پچھلے اسمبلی چناو¿ میں مردوں نے 54.45 فیصد ووٹ ڈالے تھے تو عورتوں نے 56.69 پولنگ کی تھی ۔مطلب مردوں کے مقابلے نے عورتوں نے قریب 2 فیصد زیادہ ووٹ ڈالے تھے ۔ٹیچروں آنگن واڑی رضاکاروں آشا ورکروں کی مدد سے چناو¿ کمیشن نے بھی عورتوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے ترغیب دینے اور انہیں بیدار کرنے کی کوشش کی ہے ۔کئی سیٹوں پر عورتیں مضبوطی سے ٹکر دینے کے لئے تیار ہیں ایسے میں اس بار مہا گٹھ بندھن کے مقابلے میں این ڈی اے نے عورتوں کو زیادہ بھروسہ جتایا ہے ۔جانکاری کے مطابق این ڈی اے کی 5 اتحادی پارٹیوں نے مل کر 34 عورتوں کو چناوی میدان میں اتارا ہے جبکہ انڈیا اتحاد کی سات پارٹیوں نے مل کر صرف 31 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔این ڈی اے کی بات کریں تو بی جے پی اور جے ڈی یو 101-101 سیٹوں پر مل کر چناو¿ لڑ رہی ہے اس کے ساتھ ہی دونوں پارٹیوں نے 13-13 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔دیگر پارٹیوں کی بات کریں تو چراغ پاسوان کی ایل جے پی جن کے حصے میں 24 سیٹیں آئی ہیں نے 5 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔جتن رام مانجھی نے دو سیٹوں پر اوپندر کشواہا نے ایک عورت کو ٹکٹ دیا ہے ۔خواتین امیدوار اپندر کشواہا کی خاتون امیدوار اوپندر کشواہا کی بیوی ہیں ۔اسی طرح انڈیا اتحادکی بات کریں تو 254 سیٹوں پر لڑ رہی ہے آر جے ڈی نے 24 عورتوں کو چناوی میدان میں اتارا تھا ۔حالانکہ موہنیا سیٹ سے امیدوار شویتا سمن کی نامزدگی منسوخ ہو گئی ہے جس کے بعد یہ نمبر 23 رہ گیا ہے ۔کانگریس 61 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے اور اس نے 5 عورتوں کو ٹکٹ دیا ہے ۔اس کے علاوہ سی پی آئی ایم ایل جو 20 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے نے صرف ایک خاتون کو ٹکٹ دیا ہے۔جبکہ وی آئی پی اور آئی آئی پی نے بھی ایک ایک عورت پر بھروسہ جتایا جبکہ کمیونسٹ پارٹیوں نے کسی عورت کو ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔بہار میں اقتدار میں آنے کے لئے عورتوں کا ووٹ اہم مردوں سے زیادہ عورتوں کا پولنگ فیصد زیادہ رہا ۔بہار میں جب سے نتیش کمار وزیراعلیٰ بنے ہیں انہیں ریاست کے اقتدار کے اونچی چوٹی پر پہنچانے میں عورتوں نے ہمیشہ اہم رول نبھایا ہے ۔اس بار بھی مہیلا ووٹر اگلی بہار سرکار بننے میں اہم کردار نبھائے گی۔ (انل نریندر)

28 اکتوبر 2025

کون بنے گا این ڈی اے کا وزیراعلیٰ؟

بہار اسمبلی چناو¿ 2025 جیسے جیسے قریب آرہے ہیں این ڈی اے یعنی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو لے کر سسپنس بڑھتا جارہا ہے ۔مہا گٹھ بندھن نے جہاں تیجسوی یادو کو سی ایم فیس ڈکلیئر کر چناوی میدان میں صاف سندیش دیا کہ چناو¿ کے بعد تیجسوی ہی وزیراعلیٰ بنیں گے ۔وہیں این ڈی اے کی طرف سے ابھی تک کوئی چہرہ ڈکلیئر نہیں کیا گیا ۔جب حال ہی میں مرکزی وزیرداخلہ اور بی جے پی کے چانکیہ امت شاہ سے اس پر تلخ سوال پوچھا گیا کہ آپ کے اتحاد کا سی ایم فیس کون ہوگا تو انہوں نے صاف کہا کہ اسمبلی چناو¿ کے بعد اسمبلی پارٹی کا لیڈر بہار کا وزیراعلیٰ طے کرے گا ۔یعنی کہ انہوںنے صاف اشارہ دیا کہ ابھی وزیراعلیٰ کون ہوگا یہ ابھی طے نہیں کیا گیا ہے ۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی ) نیتااور مہا گٹھ بندھن کی جانب سے وزیراعلیٰ کے امیدوار تیجسوی یادو نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ اگر بہار میں ایک بار پھر این ڈی اے کی سرکار بنی تو نتیش کمار کو وزیراعلیٰ نہیں بنایاجائے گا ۔این ڈی اے نیتا نے دعویٰ کیا امت شاہ پہلے ہی صاف کر چکے ہیں کہ چناو¿ کے بعد ممبرا ن اسمبلی طے کریں گے کہ وزیراعلیٰ کون ہوگا ؟ اگر این ڈی اے کو اقتدار ملا تو نتیش کمار وزیراعلیٰ نہیں بنائے جائیں گے انہوںنے آگے الزام لگایا نتیش کمار کو بھاجپا نے ہائی جیک کر لیا ہے ۔اور گجرات کے دولوگ اشارے کی شکل میں علامتی طور پر مودی اور امت شاہ بہار چلا رہے ہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ نتیش کمار کی آج پوزیشن کیا ہے ؟ کیا وہ وزیراعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہوچکے ہیں؟ یا اندر کھانے نتیش کوئی بڑا کھیل کھیلنے جارہے ہیں ؟ پچھلے بیس سال سے بہار کی سیاست میں دو بہاری نیتا و¿ں کے ارد گرد گھومتی رہی سیاست ۔لالو یادو اور نتیش کمار پچھلی دو دہائیوں سے تو نتیش کی بہار میں سب سے زیادہ سیاسی نیتا رہے ہیں اب سوال یہی ہے کہ کیا چناو¿ کے بعد بی جے پی نتیش کمار کو کنارے کر اپنا وزیراعلیٰ بنائے گی ؟ یا پھر انہیں ایک بار پھر جنتا کا فیس بنا کر اقتدار میں بٹھائے گی ۔سیاسی تجزیہ نگاروں اور اعداد شمار کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے لئے نتیش کو درکنارکرنا آسان نہیں ہے ۔آیے سمجھتے ہیں کیوں؟ 71 سیٹوں کا حساب طے کرے گا ۔فیصلہ اس بار جے ڈی یو 101 سیٹوں پر چناو¿ لڑرہی ہے ان میں سے 71 سیٹیں ایسی ہیں جہاں نتیش کمار کی جے ڈی یو کا مقابلہ سیدھا تیجسوی کی آر جے ڈی اور لیفٹ پارٹیوں سے ہے ۔یعنی 70 فیصدی سے زیادہ سیٹوں پر نتیش اور تیجسوی آمنے سامنے ہیں ۔یہ بڑی حکمت عملی ہے جو بہار کی سیاست میں سالوں سے دیکھی جاتی ہے ۔نتیش اور لالو ،تیجسوی ایک دوسرے کے خلاف زیادہ سیٹوں پر لڑے تاکہ بھاجپا پر انحصار کم ہو ۔بہار میں عام طور پر یہ کہنا ہے کہ دونوں لا لو اور نتیش ایک بات پر ایک رائے ہیں کہ بہار میں کسی بھی حالت میں بی جے پی کو گھسنے نہیں دینا کیوں کہ ایک بار بی جے پی گھس گئی تو اگلے بیس سالوں تک اور پارٹی اقتدار میں نہیں آسکے گی ۔نتیش کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ این ڈی اے اگر اقتدار میں آیا تو مکھیہ منتری کوئی اور ہی ہوگا ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے اند ر اپنا وزیراعلیٰ بنانے کی خواہش بھلے ہی پرانی ہو لیکن اس بار وہ سبھی وجوہات اتنی آسان نہیں ہے کیوں کہ جے ڈی یو بھلے ہی کم سیٹوں پر چناو¿ لڑے لیکن اس کی جیتنے والی سیٹ آر جے ڈی کے خلاف ہوگی ۔جس سے بھاجپا کے دباو¿ کی گنجائش کم رہ جائے گی۔بہار میں سیاسی تاریخ گواہ ہے نتیش کبھی بھی پالا بدلنے میں جھجھکتے نہیں ہیں۔چودہ نومبر کو نتیجے بھی آجائیں گے ۔نتیجے جو بھی ہوں لیکن اشارہ صاف ہے بھاجپا کی حکمت عملی چاہے جتنی بھی جارحانہ کیوں نہ ہو نتیش کمار ابھی بھی این ڈی اے کی یونیفائیڈ سیاست کے پاور بیلنسر بنے ہوئے ہیں ۔جے ڈی یو کے پاس اتنی سیٹیں بھلے ہی نہ ہوں کہ وہ سرکار اکیلے بنا سکے لیکن اتنا ضرور ہے کہ بغیر اس کے بی جے پی کا وزیراعلیٰ بننا تقریباً ناممکن ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...