Translater

25 دسمبر 2021

مکیش چندر شیکھر کے راز کھولیں گی نورا فتیحی!

200کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں نیا موڑ آگیا ہے اس معاملے میں جیل میں بند ٹھگ مکیش چندر شیکھر کے خلاف فلم اداکارہ نورا فتیحی سرکاری گواہ بن گئی ہیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے نو را فتیحی سے اس معاملے میں پہلے ہی پوچھ تاچھ کر لی ہے اس سے پہلے چندر شیکھر نے ای ڈی کو دئے بیا نے میں جیکلن فر نانڈیز اور نو را فتیحی کے علاوہ شلپا شیٹھی ،شردھا کپور ،ہرمن بویجا جیسی کئی بالی ووڈ ہستیوں کانام لیا تھا اب اس معاملے نو را فتیحی کے سرکاری گواہ بننے سے مکیش چندر شیکھر کی مشکلیںایک با ر پھر سے بڑھتی نظر آرہی ہے مکیش نے رین بخشی کے سا بق بانی کو جیل سے باہر نکا لنے کا جھا نسا دیکر 200کروڑ روپے کی ٹھگی کی ہے اور یہی پیسہ وہ فلمی اداکاروں پر لوٹا رہا تھا ۔مکیش نے جیل سے فون پر کئی اداکا راو¿ں سے رابطہ قائم کیا اور خود کو بہت بڑا آدمی بتاکر انہیں اپنے جال میں پھسایا تھا انہیں مہنگے تحفے دئے ان میں گاڑی اور ہوائی سفر کا خرچ بھی شامل ہے ۔دعویٰ ہے کہ نیہا کپور اور نو را فتیحی نے مکیش سے جیل میں جا کر کئی بار ملا قا ت بھی کی تھی ذرائع نے بتا یا کہ نو را فتیحی نے پوچھ تاچھ کے دوران کہا تھا کہ افسر مکیش چندر شیکھر کے طرف سے دی گئی بی ایم ڈبلیو کار ضبط کر نے کیلئے آزاد ہے اسی طرح کی کار جیکلن کو بھی دی گئی تھی اس نے بتا یا کہ انہیں مکیش چندر شیکھر کے پچھلی زندگی کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی اور وہ ملے تھے ۔ اس پر وہ عدالت کی کاروائی میں تعاون کیلے تیار تھی ان معاملوں میں ساما ن کو ضبط کر نے کی کاروائی منی لانڈرنگ قانو ن کے تحت کی جائے گی۔ ای ڈی نے اداکارہ جیکلن کے بین ملک جانے کی درخواست کو خا رج کیا دیاہے ۔ ای ڈی لک آوٹ سر کولر کو ہٹا نے کیلئے راضی نہیں ہے۔ ڈسکلو زر بیانوں کے مطابق چندر شیکھر نے شلپا شیٹھی سے بھی رابطہ قائم کیا جس میں اس نے راج کندار کی مشروط رہا ئی کے بارے بات کی تھی پٹیا لہ ہاوس کورٹ نے حال ہی میں 200کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ معاملے میں مکیش چندر شیکھر پتنی لینا ما ریہ پال و دیگر کے خلاف دائر ای ڈی کی چارج شیٹ پر نو ٹس لیا تھا ۔ فی الحال سبھی ملزم جوڈیشل حرا ست میں ہیں۔ (انل نریندر)

حد بندی کمیشن کی سفارشوں میں مچا واویلا!

جموں کشمیر میں جلد سیاسی عمل شروع ہونے کے امکان پر حد بندی کمیشن کی تجا ویز نے گر می پید ا کر دی ہے ۔ اس نے ریا ست کی سیا ست کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے اس میں ایک حصہ جموں ہے جس کے نیتا ابھی بھی کم حصہ ملنے کی شکایت کر رہے ہیں تو دوسری طرف کشمیر ی لیڈر و کشمیر کے سیا سی پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ تجویز کشمیر کے چنا وی نقشے کو بدل کر رکھ دے گی جو کشمیر یوں کو منظور نہیں ہوگی در اصل حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی سیٹو ں کو نئے سرے سے تعین کر نے کے مقصد سے تشکیل جموں خطے میں چھ مزید سیٹیں اور کشمیر وادی میں ایک فاضل سیٹ کی تجویز رکھی ہے۔ نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی سمیت کشمیر کے تقریباً ہر ایک سیا سی پارٹی نے ان تجا ویز کی مخالفت کرنا شروع کر دی ہے۔کمیشن نے پیر کو دہلی میں ہوئی میٹنگ میں سبھی ممبران کے ساتھ اسمبلی میں سیٹوں کے الاٹمنٹ کی نئی تجاویز کو شیئر کیا ہے ۔سبھی سے 31دسمبر تک رائے مانگی گئی ہے ۔جموں کی 37سیٹوں کی تعداد بڑھ کر 43 ہو جائےگی اور کشمیر کی 46سے بڑھ کر 47ہو جائے گی مقبوضہ کشمیر کیلئے الگ سے 24سیٹیں ریزرو ہیں ۔ نیشنل کانفرنس کے نیتا اور سا بق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا کہ سیٹوں کا یہ الاٹمنٹ 2011کی مر دم شماری کی بنیا د پر نہیں کیا گیاہے ان کا الزام ہے کہ کمیشن بھاجپا کے سیا سی اجنڈ ے کا آگے بڑھا رہا ہے۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ حد بندی آئینی نقطہ نظر سے کی جائے گی لیکن یہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ کمیشن نے اسوسی ایٹ ممبر و نیشنل کانفرنس کے لیڈر حسنین مسعو دی کا کہنا کہ انہوں نے حد بندی کمیشن سے کہا کہ جس جموں وکشمیر دوبارہ تشکیل ایکٹ کے تحت حد بندی کی جارہی ہے اسے عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے ایسے میں اس کے خلاف فیصلے کیسے لئے جا سکتے ہیں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کا کہنا کہ کے کمیشن کو لیکر ان کے خدشا ت صحیح نکلے لو گوں کو مذہبی اور صو بائی بنیا د پر بانٹ کر لوگوںکوسیا سی مفا دات کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ حد بندی کے قواعد کے مطابق اسمبلی سیٹوں کا دوبارہ تعین آبادی کے بنیا د پر ہونا چاہئے ۔2011کی مردم شماری کے مطابق کشمیر کی آبادی 68.8لاکھ اور جموں کی آبادی 52.5لاکھ سے 15لاکھ زیا دہ ہے اسی وجہ سے جموں وکشمیر اسمبلی میں کشمیر 46سیٹیں تھیں اور جموں کی 37ان کے علاوہ لداخ کی 4سیٹیں تھی ۔ 2019میں ریا ست کا درجہ ختم کر دیا گیا اور جموں وکشمیر و لداخ نام سے دو الگ الگ مر کزی حکمر اں ریا ستیں بنا دی گئیں لیکن نئی تجویز کے مطابق آبادی کے اعداد وشمار اتنا فرق ہونے کے باوجود جموں میں کشمیر سے 4سیٹیں ہی کم رہ جائےں گی اور اسمبلی میں جموں کی نمائندگی بڑھ جائے گی ۔حد بندی پر رضا مندی بنانی ضروری ہے تاکہ سیاسی عمل جلد شروع ہو سکے کشمیر کے حالا ت پہلے سے ہی نازک ہیں ایسے میں کوئی بھی فیصلہ جس سے یہاں کا ایک طبقہ ٹھیک نہ مانے حالات کو بہتر بنا نے میں مدد گا ر ثابت نہیں ہو سکتاہے۔ اس لئے حد بندی کے معاملے کشمیر او ر جموکے علاقوں کے نمائندوں اور عوا م کا اعتما د حاصل کرن بہتر ہوگا۔ (انل نریندر)

24 دسمبر 2021

مجیٹھیاپرڈرگس کا مقدمہ درج !

پنجا ب کی سیا ست میں نیا دھماکہ ہو گیا ہے چنی سرکار نے آدھی رات کو اکالی لیڈر اور سابق وزیر مجیٹھیا کے خلاف کیس درج کر دیا ہے یہ کیس مہالی میں بیو رو آف انویسٹیگیشن نے اسٹیٹ کرایم پولیس تھانے میں درج کرا یا ہے۔ مجیٹھیا کے خلا ف ڈرگس کیس کو لیکر مسلسل الزام لگائے جا رہے تھے ۔یہ کیس این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت درج ہوا ہے ۔ داخلہ محکمہ سمبھا ل رہے ڈپٹی سی ایم سکھبندر سنگھ رندھا وا نے کہا کہ مجیٹھیا کو گرفتا ر کیا جائے گا ۔ اگر نشہ کر نے والے گرفتار ہو سکتے ہیں تو ان کو بھی کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق اکالی دل کو مجیٹھیا کے خلا ف کیس کی بھنک پہلے ہی لگ چکی تھی ،مجیٹھیا رو پوش ہو گئے ہیں ۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ پنجاب سے باہر جا چکے ہیں ان کے ساتھ کوئی پولیس کا جوان نہیں ہے۔ وہ صر ف سیکورٹی فورس کے جوانون کو ساتھ لیکر گئے ہیں ۔ پورے معاملے کی جانچ کیلئے پنجاب سرکا رنے اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم بنا دی ہے جو مجیٹھیا جو گرفتا ر کر نے کیلئے کا روائی کرے گی ۔ اکالی دل کے صدر سکھبیر بادل نے کانگریس کا چیلنج قبول کر لیا ہے اور معاملے کو کورٹ میں دیکھیں گے اس کے علا وہ صا ف چیلنج کر دیا ہے کہ ان کی سرکار بن جانے بعد معاملوں کی جانچ ہوگی ۔ ڈی جی پی سدھارتھ چٹو اپادھیا ئے، ڈپٹی سی ایم سکھبندر سنگھ رندھا وا اور وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا ۔مجیٹھیا کیس سے پنجاب کی سیا ست میں ہل چلی مچ گئی ہے۔ (انل نریندر)

31برسوں میں آتنکی تشدد میں 1724افراد کا قتل !

کشمیر میں پچھلے 31برسوں میں دہشت گردوں نے کل 1724قتل کئے ہیں ۔ ان میں 89یعنی 5فیصد کشمیر ی پنڈت شامل ہیں ۔ اسی میعاد میں 1,54,161لوگوں نے کشمیر وادی سے ہجرت کی ہے اس میں سب سے زیادہ 88فیصد لو گ ہندوں رہے ہیں یہ انکشا ف پانی پت کے آر ٹی آئی رضا کار کپور کی طرف سے لفٹننٹ گورنر اور ایڈمنسٹریٹر جموں وکشمیر کے ذریعے آر ٹی آئی کی طرف سے ملی اطلا ع سے ہوا ہے۔ باقی 12فیصد دیگر مذاہب کے لوگ شامل ہیں ان میں زیادہ مسلمان ہیں حالاںکہ جو جانکاری ہندوں بتا کر دی گئی ہے اس کے لئے آرٹی آئی میں سوال کشمیری پنڈتوں سے متعلق پوچھا گیا تھا جس میں یہ بھی بتا یا گیا کہ ہر رجسٹرڈ کشمیر کو حکومت کی طرف ہر مہینے 3250روپے 9کلو چاول 2کلو آٹا 1کلو چینی ملتی ہے ۔ مرکزی سرکا ر کی طرف سال 2010سے 2011اور 2020سے 2021تک سبھی ہجرت شدہ کشمیریوں پر کل قریب 5476.58کروڑ روپے خرچ کئے گئے ان میں سے 1857.43کروڑ روپے کی نقد مدد دی گئی جبکہ 2100کروڑ روپے کی غذائی ساما ن تقسیم کیا گیا ۔بہر حال 106.42کروڑ روپے شہریوں کی قفالت اور باز آبادکا ری پر خرچ کئے کشمیر سے آر ٹی آئی میںملی اطلاع کے مطابق پچھلے 31برسوں میں ہجرت کا اشو جاری ہے کشمیر سے 1,54,161کشمیری ہندو اور مسلما نوں نے ہجرت کی ہندوو¿ں میں 53978ہندو¿ں اور 11212مسلما نوں اور 5013سکھوں اور دیگر 15کو سر کاری مدد مل رہی ہے ۔ اور دیگر برادری کے 83943افراد سر کاری مدد سے ابھی بھی محروم ہیں ۔ (انل نریندر)

دہلی اور نا رتھ انڈیا میں ٹھنڈ کا قہر !

پہاڑوں پر مسلسل ہو رہی برف باری سے دہلی سمیت پورا شمالی بھار ت سردی کی زد میں ہے ،دہلی میں سرد لہر جاری ہے ۔ موسم محکمہ کا خیا ل ہے کہ اگلے کچھ دنو ں تک سر د لہر سے راحت ملتی نہیں دکھا ئی رہی ہے اپنی سردیوں کےلئے بدنام رہی دہلی میں کم از کم درجہ حرارت 3.1ڈگری سیلسئس تک گر چکا ہے ۔ یہ موسم دہلی -این سی آر کے باشندوں کیلئے دوہری مصیبت لے کر آیا ہے ایک تو پہلے سے کہرا اور آب وہوا کی کوا لیٹی خرا ب ہونے سے پریشا ن ہے اوپر سے مسلسل گرتا درجہ حرا رت میں صبح میں ٹھٹھرن محسوس کی جارہی ہے ۔ اترا کھنڈ میں بھی کڑا کے کی سردی جاری ہے ۔ میدانو ں میں سر د لہر اور پہا ڑوں میں اوس پڑ نے کے سبب دشواریاں بر قرار ہیں ۔ اگلے کچھ دنو ں تک کہیں کہیں برف باری اور بارش کا اندیشہ جتا یا جا رہا ہے۔ وہیں برف باری میں دھوپ نکلنے سے بقدر راحت ملی ہے ۔جمو ں و کشمیر میں سب سے زیادہ ٹھنڈ کے دن یعنی چلے کی جاڑے کی شروعات ہو گئی ہے ۔ دہلی میں محکمہ موسم کے بطابق اگلے کچھ دنوں میں مغربی خطے میں سر د لہر بڑھنے سے موسم میں اتا ر چڑھا و¿ رہے گا ۔آسمان میں بادل چھا ئے رہیں گے صبح میںہلکا کہرا رہے گا۔ اسکائی میٹ کے موسم کے سائنسداں مہیش پلادت نے بتایا کہ اب اگلے آٹھ دن مغربی خطے میں آسمان میں کہرا چھا ئے رہے گا۔ درجہ حرارت میں 4ڈگری اضافہ ہوگا ۔ 26اور 27دسمبر کو کم از کم درجہ حرارت 9سے 10ڈگری سیلسئس پہونچ سکتا ہے ۔ 27سے 29دسمبر کے درمیا ن دہلی کے کچھ علاقو ں میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے ۔ قدرتی آفت منیجمنٹ آ تھا رٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دیش کی 17ریا ستوں اور مر کزی حکمراں ریا ست سر د لہر سے متا ثر ہو سکتی ہے ۔ حقیقت میں گرمیوں میں لو کے تھپیڑے ہو ں یا پھر سر دیوں میںسرد لہر ان کا سب سے زیا دہ قہر بے سہارا اور بے گھر وں کو بھگتنا پڑ تا ہے ۔ دراصل ایسے ہی وقت سرکاروں اور ان کی قدرتی آفت منیجمنٹ ایجنسیوں کی ہی نہیں بلکہ ایک سماج کی شکل میں ہمار ا بھی امتحا ن ہوتا ہے۔ (انل نریندر)

23 دسمبر 2021

اب جمع کنندگان کا پیسہ نہیں ڈوبتا !

وزیر اعظم نریندر مودی نے بیمہ سیکٹر میں جمع قانون میں اصلاحات سے کھاتے داروں کا اعتماد بڑھنے کا ذکر کیا اور کہا کہ سرکار کے اقدامات کے سبب بینکوںکے ڈوبنے پر اب کھاتے داروں کا پیسہ نہیں مر تا اور ان کی جمع رقم کا بر وقت اور ٹھیک طریقے سے ادائے گی کی جاتی ہے۔ وزیر اعظم نے جمع بیمہ پیمنٹ گارنٹی پروگرام میں کہا کہ ایک وقت کھاتے داروں کو ڈوبنے والے بینکوں سے اپنا پیسہ واپس لینے کیلئے کافی جد جہد کر نی پڑ تی تھی ۔غریب اور درمیانے طبقے برسوں تک پریشانی سے لڑ تے رہے لیکن سر کار کے جمع بیمہ اصلاحات سے کھاتے داروں کا بینکنگ سسٹم کے تئیں بھروسہ بڑھا ہے ۔ پارلیمنٹ نے اگست میںجمع بیمہ و قرض گارنٹی قاعدہ (ترمیم)بل 2021 کو پاس کیا تھا اس کے تحت کسی بینک پر ریزرو بینک کی روک کے بعد کسی بینک کو 90دنو ں اندر جمع کنندگان کو ان کی جمع میں سے پانچ لاکھ روپے تک کی رقم کی ادائے گی کی جاتی ہے ۔ وزیر اعظم کہا کہ ایک لاکھ سے زیا دہ کھاتے داروںکو ان کا پھنسا ہوا پیسہ واپس ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو بچا نا ہے تو کھا تے داروں کو سیکورٹی دینی ہوگی اورہم نے بینکوںبچا کر انہیں یہ ضمانت دی ہے مالی جمع خرچ اور قرض آسانی سے سب کو خاص کر عورتوں کو زیا دہ فائدہ مل رہا ہے ۔ اس موقع پر ریزرو بینک کے گورنر شکتی کانت داس نے سرمایہ کاروں سے کہا کہ اونچے ریٹرن یا زیادہ سودکے ساتھ خطرہ زیا دہ ہوتا ہے ۔ بینک زیا دہ سود شرح کی پیش کش کر رہا ہے تو پیسہ لگانے سے پہلے جمع کنند گان کو ہوشیا ر رہنا چاہئے ۔ (انل نریندر)

ممتا سرکار کو سپریم کورٹ نے دیا زبردست جھٹکا !

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال سرکا رکے ذریعے پیگاسس معاملے کی جاسوسی کے الزامات کے جانچ کیلئے اس کے ہی ریٹائرڈ جسٹس مدن بی لوکٹ کی رہنمائی میں قا ئم جانچ کمیشن کو کسی بھی طرح کی کاروائی روک لگادی ہے ۔ ریاستی حکومت نے عدالت میں کہا تھا کہ اب کمیشن پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اس کے بعد عدالت نے کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا ہے چیف جسٹس این وی رمن کی بنچ نے اس عرضی پر نو ٹس لیا ہے جس میں کہا گیا کہ مغربی بنگال سرکار کی یقین دہا نی کے بعد کمیشن نے کام شروع کر دیا ہے ۔حالاں کہ ریا ستی حکومت نے سپریم کورٹ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ جانچ کمیشن پیگاسس معاملے کی ابھی جانچ نہیں کرے گا۔ سماعت کے دوران بتایا گیا کہ جانچ کمیشن نے راہل گاندھی ، پرشانت کشور سمیت دیگر کو جانچ کیلئے پیش ہونے کو کہا ہے اس دوران سپریم کورٹ میں مغربی بنگال سرکار کی طرف سے پیش وکیل ابھیشیک منو سنگھوی سے سوال کیا اور یاد دلایا کہ آپ نے تو بھروسہ دلایاتھا کمیشن کو تحمل برتنے کو بتائیں گے معاملے میں کسی حکم کی ضرورت نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس کے بعدحکم پاس کر دیا غور طلب ہے کہ 27اکتوبر کو سپریم کورٹ نے پیگاسس جاسوسی معاملے میں تکنیکی کمیٹی بنا ئی تھی ۔ مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکڑ نے جمعہ کو کہا کہ پیگاسس جاسوسی کانڈ کیلئے جانچ کمیشن کے قیام کیلئے ادھوری معلومات دی گئی گورنر نے ریا ست کے چیف سیکریٹری اے کے دیویدی کو پور ا ریکارڈ ستیا ب کرا نے کو کہا ہے ۔ (انل نریندر)

کیپٹن اور بھاجپا میں اتحاد !

پنجاب اسمبلی چنا و¿ کو لیکر بھاجپا اور کیپٹن امریندر سنگھ کی نئی پارٹی کے درمیا ن اتحا دکا باقاعدہ اعلان ہو گیا ہے ۔پنجاب ایک ایسی ریا ست ہے جہاں بی جے پی کے لئے اقتدار پانا پہا ڑ توڑنے جیسا ہے لیکن کانگریس کے بڑے لیڈر اور پنجاب کی سیا ست کے کھلاڑی کیپٹن کو اپنی ٹیم کا بنا کر بی جے پی نے کو شش تو شروع کر دی ہے اور اکیلے اپنے دم پر چنا و¿ لڑکر نہ تو کیپٹن امریندر سنگھ ہیٹرک لگا پاتے اورادھر اکالی دل کے بغیر بی جے پی کیلئے پنجاب کا قلعہ فتح کر نا ایک سپنا بن کر رہ جاتا ۔ ایسے میں انڈین پالیٹیکل لیگ کی یہ نئی ٹیم اب کانگریس عام آدمی پارٹی اور اکالی دل -بسپا کیلئے بھی بڑی چنو تی بن سکتی ہے ۔ بی جے پی کے نظریے سے دیکھیں تو یہ صحیح حکمت عملی ہے ۔ پارٹی نے پنجاب کے شہری ہندوو¿ں کی نمائندگی کی ہے اور کیپٹن کے ساتھ ہاتھ ملا کر وہ سکھ کوٹے کو بھی لبھا نے میں کارگر ہوگی ۔ اس علاوہ کیپٹن پر دیش کے تین حصے -مالوا ،ماگھا اور دوابا کی زمینی سیا ست کو باریکی سے سمجھنے کے ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلے چنا و¿ میں کانگریس کہاں کہا ں کمزور تھی اور اب اس اتحا د کو انہوں نے کیسے مضبو ط کر نا ہے ۔ وہ کانگریس کے ساتھی اکالیوںکی بھی کمزور رگ سے واقف ہیں اسی وجہ سے اتحادکو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اسی طرح کے اشارے ملے ہیں ۔ چنا وی تاریخ اعلان ہونے کے بعد دوسری پارٹیوں کے کئی ممبر اسمبلی کیپٹن کے پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں ۔دوسری پارٹیوں کیلئے یہ نیا اتحا دہے اس لئے ٹینشن پیدا کر رہا ہے ۔ کچھ نہ کچھ سبھی کو نقصان کرے گا ۔ یہ زمینی حقیقت ہے کہ بی جے لی نے کیپٹن سے سمجھوتہ کر کے اکالیوں کے کسانوں کے سب سے بڑے ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کا داو¿ کھیلا ہے کیوں کہ کیپٹن امریندر سنگھ نے وزیر اعلی رہتے ہوئے کسانوںکی تحریک کی حمایت کی تھی اور ان کی مدد کرنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی ویسے بھی پنجاب کا کسان بی جے پی سے ناراض ہے لیکن وہ کیپٹن کو اپنا خیر خواہ مانتا ہے اس لئے اکالی دل سے ناطہ توڑنے کے بعد بھاجپا کو جس کسان ووٹ بینک کے کھسکنے کا خطرہ تھا اب وہ کیپٹن کے ذریعے کچھ حد تک اس کی جھولی میں آسکتا ہے۔ حالاں کہ اس اتحادکیلئے اقتدار کی راہ اتنی بھی آسان نہیں ہے اسے دیکھتے ہوئے اس کی طاقت کو کم سمجھنا بھول ہوگی ۔یہ ضرور ہو سکتاہے کہ کیپٹن کے چناوی میدان میں کودنے سے ووٹ بینک کا کچھ حصہ اس اتحاد کی طرف منتقل ہو سکتاہے۔ (انل نریندر)

22 دسمبر 2021

پا کستا نی سرزمین کا استعما ل کرتے ہیں آتنکی گروپ !

امریکی وزارت خارجہ نے دہشت گردی 2020پر ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے پاکستا ن کو آڑے ہا تھوں لیا اس کے مطابق بھار ت کو نشانہ بنا رہے آتنکی گروپ پاکستانی سر زمین سے اپنی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں پاکستان نے آتنکی تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر اور 2008میں ممبئی حملے کے سازشی سید میر سمیت دیگر دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے ۔ امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے دہشت گردی پر کنٹری رپورٹ 2020میں یہ انکشا ف کیا ہے اس کے مطابق افغان طالبان اور حقانی نیٹورک سمیت افغا نستا ن مخالف گروپوں کے ساتھ بھار ت کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ لشکر طیبہ مسعود اظہر جیسے دہشت گردوں پر کوئی کاروائی نہیں کی ہے رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مالی کاروائی فورس کی ورکنگ پلان کو پورا کرنے کی سمت میں 2020میں مزید پیش رفت کی لیکن ورکنگ پلا ن کے کاموں کو پور ا نہیں کیاایف ٹی اے ایف کی گرے لسٹ میں بنا ہے تازہ رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ آتنکی تنظیم آئی ایس میں بھار تی نزا د 66لڑاکے بھی شامل ہیں۔ (انل نریندر)

اتر پردیش چنا و ¿میں چھا پو ں کی انٹری !

اتر پر دیش میں اسمبلی چنا و¿ کی تیا ری ہائی وولٹیج کمپین کے درمیان چھاپے ماری کی انٹری ہو گئی ہے۔ سپا نیتا اکھلیش یادو کے قریبی ساتھیوں کے گھروں اور دفتروں پر انکم ٹیکس محکمہ کے چھاپوں نے یو پی کی سیا ست میں ایک نیا رنگ دے دیا ہے ۔ سپا اسے بھاجپا کا گھٹیا ہتھکنڈہ بتا رہی ہے وہی محکمہ کی طرف سے اشارہ ہے کہ بڑی گھٹیا بھاجپا کی سا زش ہے ۔ نکم ٹیکس محکمے کی طرف سے اشارہ ملا ہے کہ بڑی بے نامی رقم جمع کر نے کی اطلاع کی بنیا د پر چھا پے ماری ہوئی ہے۔ جمعہ کو سپا کے قومی جنرل سیکریٹری راجیو رائے کے گھر چھاپے پڑے انکو گھر میںنظر بند کر کے ان کے گھر میں بینک دستاویز اور زیورات اور شیئر وں میں سرمایہ کاری کے بارے میں جانچ پڑ تال کی اور ان کے لیپ ٹا پ سمیت کئی دستاویز ضبط کر لئے چھاپہ ماری کے دوران ان کی فیزیوتھیرپی چل رہی تھی چھاپے ماری کی خبر ملتے ہی سیکڑوں ورکر پہونچے اور ہنگامہ شروع کر دیا راجیو رائے کے گھر کے باہر پی اے سی تعینا ت کر دی گئی اور سی او سی ٹی دھننجے مشرا شہر کے چار تھانوں کی فورس کے ساتھ وہاں ڈٹے رہے ۔ سپا کے لیڈروں کا کہنا کہ سیاسی بد نیتی کے چلتے یہ چھا پے ڈالے گئے اس کے علاوہ سپا کے نیتا اکھلیش یادو کے قریبی دوست راہل بھسین کے یہاں بھی چھاپے ماری ہوئی انہیں پارٹی کا فا ئیننسر مانا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گومتی نگر میں جینندر یادو عرف نیتو کے گھر بھی چھا پہ مارا وہ لکھنو¿ میں بنگلے کے ایک سرونٹ روم میں رہتے ہیں بہر حال کئی سپا نیتا و¿ں پر انکم ٹیکس کے چھاپہ ماری پر سوال اٹھا تے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کانگریس کی طرح ہی بر تاو¿ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی چنا و¿ ہونے جا رہا ہے یہاں پر ابھی ایس آئی ٹی کی ٹیم آئی ہے ای ڈی والے بھی آئیں گے ۔ رائے بریلی میں انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس پہلے سے کوئی جانکاری تھی تو کاروائی ہو نی چاہئے تھی ۔ اس سے پہلے سیا سی انتقا م لینے کیلئے کانگریسی ڈرا نے کیلئے ایجنسیوں کا استعمال کرتے تھے اب اسی راستے پر بھا جپا والے بھی چل رہے ہیں ۔ بی جے پی جنتا کو لگا تا ر پریشانیاں دی ہے اب چنا و¿ سے پہلے چھا پے ماریا ں کیوں کی جارہی ہیں ؟کوئی بھی سرکار میں محفوظ نہیں ہے اعظم خان پر کتنے مقدمے لگے ہیں ایسے ہی کسانوں پر کتنے مقدمے لگے ہیں ؟یہ کوئی نیا طریقہ نہیں ہے۔ (انل نریندر)

خطرہ بن سکتے ہیں بے ادبی کے واقعات !

پنجاب کے گورودواروں میں 24گھنٹوں کے اندر بے ادبی کے دو واقعات کا ہونا شدید تشویش کا باعث ہے ۔ پنجاب میں اسمبلی چنا و¿ قریب ہیں ایسے میں امرتسر کے بعد کپور تھلا میں بے ادبی کے واقعات خوشحال پنجاب کیلئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں پہلے ہی پنجاب ماضی میں ایسے کالے دور جھیل چکا ہے جس سے نکلنے کیلئے پنجاب کو دہائیاں لگ گئیں ۔ اب چنا و¿ سے پہلے اچا نک بے ادبی کے واقعات ہونے کے پیچھے سیا ست یعنی پنجاب کے ہندو-سکھ بھائی چارے پر کالے داغ نہ چھوڑ دے اس پیچھے بھی کوئی وجہ رہی ہوگی لیکن سماج کے تئیں فکر مند لوگوں میں سوال اٹھنے لگا ہے کہ اتنی کٹر پسندی کہی سماج کیلئے خطرنا ک ثابت نہ ہو؟کچھ ایسے ہندو-سکھ بھائی چارے میں دراڑ ڈالنے کی کو شش ہو سکتی ہے ۔ لوگوں کے دلوں نا معلوم خوف بھی گھر کر نے لگا ہے جس کو اچھا اشارہ نہیں مانا جا سکتا ہے کیوں کہ ایسے واقعات پنجاب کے ماحول کو خراب کر سکتے ہیں اس کی گہری جانچ ہونی چاہئے تاکہ پتا چل سکے کہ لوگوں کے جذبات کو بھڑ کانے اور سماجی بھائی چارے کو نقصا ن پہونچانے والے یہ واقعات منظم سازش کا حصہ تو نہیں ہیں ۔ ایسے میں پتہ لگا نا ضروری ہے کہ اس طرح کے واقعات کیوں ہو رہے ہیں اور ان کیلئے ذمہ دار کون ہے کیوں کہ چنا و¿ سے پہلے یہ خطرنا ک سازش دیش کے اندر رچی جارہی ہے یا سرحد پار پاکستان میں ۔ان لڑکوں کو زندہ ہونے پر اس سازش کا شاید راض کھل سکتا تھا لیکن وہ مر چکے ہیں کیوں کہ دونوں ہی جگہ ملزمان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا۔ پوتر دھرم گرنتھ کی بے ادبی پنجاب میں ہمیشہ ایک جذباتی اشو رہا ہے ۔ کسان آندولن کے دوران میں بھی دہلی کے سنگھو بارڈر پر بھی مبینہ بے ادبی کے الزام میں ایک شخص کو مار ڈالا گیا تھا ۔ اگر شروع سے ہی ان معاملوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکتا تھا ایسے معاملے اس لئے بھی بڑھ رہے ہیں کیوں کہ ریا ستی سرکاریں قصور وار کو سزا دلانے میں ناکام رہیں پولیس کا رویہ بھی ٹھیک نہیں رہا پنجاب کی پچھلی سرکار کے دوران بھی بے ادبی کے کئی معاملے سامنے آئے تھے اور کئی جگہ بھاری مظاہرہ ہوا تھا ۔ قصوروار وں کے معاملے میں لاچاری اور کوٹک پورہ گولی کانڈ کی شری مونی اکالی دل نے پچھلے چنا و¿ میں بھاری قیمت چکائی اگر امرتسر اور کپور تھلا جیسے واقعات ہوں گے تو حکومت کا مزاق اڑے گا ۔ دیش دنیا میں کئی طرح کے سوال اب بھی اٹھے جن کا جواب دیش کو بھی دینا مشکل ہوگا ۔ بہر حال سارے معاملے کو پولیس کے حوالے کیا جانا چاہئے تھا نہ کہ خود قصورواروں کو سزا دیتے پولیس اور سرکار کے اس مانگ کو پورا کر نے کیلئے حرکت میں آنا چاہئے بلکہ ایسا بھی دکھا نا چاہیے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ چینی نے دربار صاحب کا دورہ کیا اور بے ادبی معاملے کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی بنا دی لیکن اس کا مطلب تھی ہے جب معاملے کا کوئی ٹھو س نتیجہ ملے چوںکہ کچھ مہینے بعد پنجاب اسمبلی چنا و¿ ہونے ہیں ایسے میں چوکس رہنا ہوگا تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہونے پائیں یہ سماج کی بھی مانگ ہے کہ پنجاب سرکار یہ بھی دیکھے کہ جو کچھ امرتسر اور کپور تھلا میں ہوا وہ آگے نہ ہو پائے ۔ (انل نریندر)

21 دسمبر 2021

روہنی کورٹ دھماکہ ملزم نے ریموٹ سے کیا تھا!

دہلی کی روہنی کورٹ میں ہوئے بم دھماکہ کی جانچ کررہی دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ایک سینئر سائنسداں کو گرفتار کیا ہے ۔اس کا نام بھوشن کٹاریہ ہے جو اشوک وہار کا باشندہ اور ڈی آر ڈی او میں کام کرتاہے ۔جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے ملزم نے پڑوسی وکیل سے رنجش کے چلتے اسے مارنے کے لے سازش رچی تھی ۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانا نے اتوار کو بتایا کہ گرفتار ملزم بھار ت بھوش کٹاریہ سے پوچھ تاچھ میں پتہ چلا ہے کہ اس نے اپنے ایک پڑوسی وکیل سے شخصی دشمنی کے سبب عدالت میں اس کے بیٹھنے کی جگہ کے پاس آئی ڈی سے بھرا ایک بیگ رکھا تھا اور ریمورٹ کے ذریعہ دھماکہ کیا جانا تھا ۔دھماکہ کی جگہ آس پاس لگے سی سی ٹی وی کمیروں کی جانچ میں پتہ چلا جب سائنسداں عدالت میں داخل ہوا تھا اس کے پاس دو بیگ تھے جب باہر نکلا تو اس کے پاس صرف ایک ہی بیگ تھا اس کے پاس ملزم سے پوچھ تاچھ کی گئی اس نے واردات میں ملوث ہونا مان لیا ۔دونوں وکیل اور اس میں کافی عرصہ سے جھگڑا چل رہا ہے ۔اور ایک دوسرے کے خلاف چار پانچ مقدمہ بھی چل رہے ہیں ۔پولیس کمشنر نے بتایا جانچ کے دوران روہنی بم دھماکہ کی گتھی سلجھانے کے لئے عدالت کمپلیکس میں کھڑی ایک ہزار سے زیادہ کاروں کے مالکوںسے گہری پوچھ تاچھ کی گئی اور سی سی ٹی وی کیمرے بھی کنگھالے گئے اور وہی سے سوراغ ملااور ملزم پکڑا گیا ۔دہلی پولیس کی تعریف کرنی ہوگی کہ اتنے کم وقت میں روہنی بم دھماکہ کی گتھی سلجھا لی ہے ۔ (انل نریندر)

اب 21برس ہوگی لڑکیوں کی شادی کی عمر!

دیش میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر اکیس سال ہونے جارہی ہے پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان مرکزی کیبنٹ نے لڑکیوں کی شادی آئینی عمر 18سال سے بڑھا کر لڑکوں کی طرح 21برس کرنے سے متعلق تجویز کو منظوری دے دی ہے ۔مرکزی سرکار اطفال وواہ انسداد قانون 2006میں سلسلے میں قانون میں ترمیم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے اسی سیشن میں بل لاسکتی ہے ۔کم از کم عمر حد کی تبدیلی کا یہ فیصلہ جیا جیٹلی کی کمیٹی کی سفارشوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔پچھلے سال بنی اس کمیٹی کو یہ دیکھنا تھا کہ شادی اور زچگی کی عمر کا ماہ اور نوزائدہ بچے کی صحت اور مختلف ہیلتھ پیچیدگی جیسے نوزائدہ بچوں کی شرح اموات وغیرہ پر کیسا اور کتنا تعلق ہے ؟ جنسی برابری کی سمت میں واقف اہم قدم ہے ۔وزیراعظم مودی نے 2020میں یوم آزادی پر لال قلعہ سے اپنی تقریر میں اس کے بارے میں اعلان کیا تھا یہ قدم اس لحاظ سے بھی اہم ہے کیوں کہ قریب 13برس پہلے آئینی کمیشن نے لڑکے لڑکیوں دونوں کے لئے شادی کی قانونی عمر 18سال کرنے کی سفارش کی تھی ۔اپنے آپ میں یہ تجویز ترقی پسند ہے ۔آج جب ہر سیکٹر میں لڑکے اور لڑکیوں کو لیبل پلینگ فیلڈ مہیا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔تب کوئی وجہ نہیں کہ شادی کی کم از کم عمر کو لیکر اختلاف کیا جائے ۔18سال کی عمر میں تو کالج کی پڑھائی بھی پوری نہیں ہوتی ایسے میں اگر لرکوںکو اپنی پڑھائی پور ی کر خودکو اچھی نوکری کیلئے تیار کرنے کا موقع ملتا ہے تو لڑکیوں کو تین سال پہلے شادی کے جھنجھٹ میں ڈال دینے کی وکالت بھلا کیسے کی جاسکتی ہے؟ بل قانون کی شکل دے کر لڑکیوں کے لئے شادی کی کم ازکم عمر 1929میں لڑکیوں کی 14سال لڑکوں کے لئے 19سال طے کی تھی ۔کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ قانون لمبے عرصہ تک لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی وجہ بنی ۔آخر کار 1978میں قانون میں ترمیم کے بعد لڑکیوں کی شادی کی عمر کم ازم کم 18برس اور لڑکوں کی عمر 21سال کی گئی آج جب لڑکیاں ہر سیکٹر میں لڑکوں سے کم نہیں ہیں تو شادی کی عمر میں فرق کیوں؟ (انل نریندر)

پروانچل میں وزیراعظم کے دوروں کی اہمیت!

کاشی وشوناتھ دھام کے کوریڈور کے افتتاح کے لئے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پارلیمانی حلقہ بنارس کے لئے دو دن کا وقت نکالا پچھلے دو مہینوں میں وزیراعظم نے پروانچل کا یہ چھٹا دورہ کیا ہے ۔بنارس میں کاشی وشوناتھ مندر ہندوو¿ں کی آستھا کا ایک بڑا مرکز رہا ہے ۔اس نظریہ سے کوریڈور کے سنگ بنیاد اور افتتاح دونوں ہی بھاجپا حکومت کے پورا ہونے کو یوگی سرکار کے ایک بڑے کارنامہ کے طور پر پیش کررہی ہے ۔وزیراعظم جس طرح سے بار باراترانچل کے دورے کررہے ہیں ۔وہ اس علاقہ کی مسلسل بڑھتی سیاسی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے ۔اتر پردیش پروانچل کے چار اہم سیاسی علاقوں جیسے بندیل کھنڈ ، اودھ اور مغربی اتر پردیش میں اسمبلی سیٹوں کے لحاظ سے پروانچل کافی اہم ہے ۔پچھلے دو مہینوں میں بی جے پی نے پروانچل میں پورا انتظامیہ اور سیاسی طاقت جھونک دی ہے ۔2022کے اسمبلی چناو¿کوڈ آف کنڈکٹ لگنے کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے اس لئے بی جے پی اپنے تمام بڑے منصوبوں کا آغاز مودی سے کروا رہی ہے ۔ایسے پروجیکٹوں کی فہرست کافی لمبی ہے ۔وزیراعظم پہلے 20اکتوبر کو گورکھپور سے لگے کوشی نگر ضلع میں انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی نقاب کشائی کی تھی ۔اس کے بعد 25اکتوبر کو پروانچل کے نواضلاع میں میڈیکل کالجوں کا سنگ بنیاد کیا ۔پھر پی ایم نے 16نومبر کو سلطان پور میں لکھنو¿ سے غازی پور کو جوڑنے والے 341کلو میٹر لمبے پروانچل ایکسپریس وے کا افتتاح کیا ۔پھر سات دسمبر کو 96سو کروڑ کی کئی اسکیموں کا آغاز کیا ۔اس میں گورکھپور میں ایمس کے علاوہ ایک بڑا کھاد کارکھانہ لگانا بھی شامل ہے ۔11دسمبر کووزیراعظم نے گونڈا بلرامپور ،اور بہرائج ضلعوں میں 91600کروڑ روپے کے سریو کرنالپ پروجیکٹ کو لانچ کیا ۔اور سب سے تازہ پروگرام پیر کا رہا ۔جس میں انہوں نے اپنے پارلیمانی حلقہ بنارس میں 339کروڑروپے سے بنائے گئے کاشی کوریڈور کا آغاز کرتے ہوئے اس موقع پر ایک تہوار کی شکل میں فنکشن کیا گیا ۔دراصل بی جے اپنے حق میں سیاسی ماحول بنائے رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اس میں مودی اور یوگی دونوں کی شاکھ شامل ہے ۔اور اس کو برقرار رکھنا بڑا سوال ہے ۔آپ کو یاد ہوگا کہ 2008میں گورکھپور لوک سھبا چناو¿ میں یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے بی جے پی یہ شیٹ ہار گئی تھی تب جگہ جگہ ان کی نکتہ چینی ہوتی تھی اور لوگ ان پر سوال کھڑے کرتے تھے ۔جی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پردیش کے تقریباً 26ضلعہ پروانچل میں اتے ہیں اور 2017کے اسمبلی چناو¿ میں یہاں کی 154میں سے 106شیٹوں پر بی جے پی کو جیت ملی تھی ۔بہرھال اور پروانچل میں 30میں سے 21شیٹوں پر بی جے پی کے ایم پی چنے گئے تھے اب 2022کے اسمبلی چناو¿ میں بھی پارٹی کی کوشش ہوگی کہ وہ کسی بھی طرح اس علاقہ میں اپنا دبدبہ قائم رکھے ۔حال ہی میں اے بی پی نیوز سی ووٹر سروے کے مطابق موجودہ حالات میں پروانچل میں بھاجپااور اس کی ساتھی پارٹیوں کو چالیس فیصدی سپا اور اس کے ساتھی پارٹیوں کو 34فیصدی بسپا کو 17فیصدی ووٹ ملنے کا اندازہ ہے ۔کسان آندولن ختم ہونے کے بعد مغربی اتردیش میں بی جے پی کے حق میں ماحول بدلنے میں ابھی تھوڑا وقت لگے گا ۔کسان آندولن سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی پروانچل سے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ویسے وزیراعلیٰ کا علاقہ گورکھپور و بنارس دونوں پروانچل میں ہی ہیں اس لئے وزیراعظم کا بار بار اترانچل دورہ پر جانے کا مطلب سمجھا جا سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

19 دسمبر 2021

ناسا کے اسپیس کرافٹ نے سو رج کو چھو ا!

امریکہ اسپیس ایجنسی نا ساکے خلائی شٹل پا رکرسولر پروب نے سورج کو چھونے کا حیر ت انگیز کارنامہ کر دکھا یا ۔ اس وقت تک نا ممکن مانا جانے والا یہ کارنامہ خلائی شٹل نے 8مہینے پہلے یعنی اپریل میں ہی حاصل کر لیا تھا لیکن خلا ءمیں کروڑوں کلو میٹر کی دوری پر واقع اس شٹل گاڑی سے جانکاری پہونچنے اور اس کے بعد اس معلومات کا تجزیہ کرنے میں سائنسدانوں کافی وقت لگ گیا ۔ ناسانے اپنا پارکر سولر پروب خلائی شٹل 20اگست 2018کو لانچ کیا تھا اس کا کہنا ہے کہ پارکر پروب سے جو جانکاری ملے گی اس سے سورج کے بارے ہماری نئی رائے قائم ہوگی ہارورڈ اسٹروفیزکس سینٹر کی ٹیم نے پروب میں ایک لگے ایک اہم آلہ سولر پروب کپ کو بنا یا ہے اس کپ سے سورج کے وایو منڈل سے ذرات کو اکٹھا کر نے کام ہو رہاہے ۔اسی سے پتا لگا نا ہے کہ اسپیس کرافٹ سورج کے وایو منڈل کے باہر ی سطح تک پہونچنے میں کامیا ب رہی سولر پروب کا یہ کارنامہ فیزیکل ریویو سینٹر میں ریسرچ کا ہے ۔ انل نریندر)

پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے !

پاکستان ایف بی آر کے سابق چیئر مین شبر زیدی عمران خان کی سر کار میں ہی 10مئی 2019سے 8اپریل ،2020تک ایف بی آر کے چیئر مین تھے۔پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو یعنی ایف بی آر کے سابق چیئر مین شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار کا یہ دعوی ٰ سب کچھ ٹھیک ہے اور چیزیں اچھی ہو رہی ہیں یہ ساری باتین جھوٹ ہیں شبر زیدی نے یہ بات حال ہی میں ہمدرد یو نیورسیٹی میں ایک لیکچر میں کہی حا لاں کہ اب زیدی نے ٹویٹر پر اسے لیکر صفائی پیش کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کی تقریر کے تین منٹ کے کلپ پر ہی بات ہو رہی ہے اور نہوں نے صرف مسائل کے حل کی بات کہی تھی اور کس نے قرض لیا تھا اس پر طعنی دینے سے کوئی بات نہیں بنے گی یہ پاکستان کا قرض ہے سو د شرحوں پر فیصلہ دلائل کے طریقے سے ہو نا چاہئے ۔دنیا کے کسی بھی ملک کی ترقی اس کے برآمدات کے دم پر ہوتی ہے ہمیں برآمدات کو ٹھیک کر نا ہوگا اور ریمٹنس کے نظرئے سے باہر نکلنا ہو گا اس سے دیش نہیں چلے گا۔ ہمیں اپنی پروڈکٹس کو برآمد کرانا ہے نہ کہ کام کرنے والے لوگوں کو اکسپورٹ کر نا ہے ۔ افغانستان میں جب تک جمہوری سرکار نہیں آئے گی تب تک پاکستان پھنسا رہے گا۔پاکستان کا اکسپورٹ 20ارب ڈالر کا ہے اور ہمار ا کوئی خریدار ہے تو وہ مغربی ممالک ہیں اور ہمیں برآمدات کرنی ہے تو امریکہ سے دوستی کر نی ہوگی مجھے تو آج تک سی پی ای ایس سمجھ میں نہیں آیا اس میں صاف ستھرا پن لانا ہو گا اس سے ہماری معیشت تبا ہ ہورہی ہے بھارت سے ہم دوائیاں لے رہے ہیں یہ جو ڈرامہ بازی ہے کہ بھارت سے تجارتی تعلق نہیں رکھیں گے یہ بند ہونی چاہئے ۔ ملک میں ہر پرائمری اسکول میں انگریزی ہونی چاہیے جو بچہ انگریزی نہیں پڑھتا تو وہ نمبر دو درجے کا شہری بن جاتا ہے ۔ تمام مذہبی تعلیم گریجویشن کے بعد ہونی چاہئے ۔پاکستان کے دیوالیہ ہونے والی بات کو طول ملنے پر شبر زیدی نے ٹویٹر پر کہا کہ ہمدرد یونیورسیٹی میں غلط تشریح ہو رہی ہے وہاں آدھے گھنٹے کا پریزنٹیشن تھا اس میں سے صر ف تین منٹ کے کلپ پر بات ہورہی ہے میں نے کرنٹ اکاونٹ خسارہ اور محصول خسارے کی بات اٹھا ئی گئی تھی اور یہ دیوالیہ کا اشو ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے ہمیں ا س کے حل کی طرف دیکھنا ہے میں نے اپنی بات کنوکشن کے ساتھ کہی ہے۔ (انل نریندر)

ایک ماہ میں 25لاکھ شادیاں!

گزشتہ ایک ماہ ہوئی زبردست شادیوں کے چلتے سونے کی ڈیمانڈ زبردست رہی اس لئے پہلے تہواروں کی سیزن میں بھی بھار ی سونے کی مانگ دیکھی گئی تھی ۔2021میں تقریبا 900ٹن سونا درآ مد کرنے کا اندازہ ہے جو مقدار کے لحاظ سے پچھلے سات سال میں سب سے زیا دہ ہے ۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق یہ پچھلے سال کے مقابلے میں 350ٹن اور 2019کے مقابلے میں 79ٹن زیادہ ہے وسط نومبر سے اب تک دیش میں 25لاکھ سے زیا دہ شادیاں ہوئی ہیں ۔ نتیجتاًسونے چاندی اور زیو رات کا بازار گراہکو ں سے گلزار ہے ڈھیڑ سال سے بھی زیا دہ عرصے تک زیا دہ شادی بیا ہ کی خریداری کیلئے ترس رہے زیورات کاروباری بڑی ڈیمانڈ پوری کر نے میں لگے ہوئے ہیں ۔دراصل پچھلے سال کووڈ وباءکے چلتے دھوم دھام سے ہونے والی شادیوں پر روک لگی ہوئی تھی اور کورونا کے خوف کی وجہ سے شادیا ں ٹل گئی تھیں اب شادیوں کی چھوٹ ملنے کے بعد شادیوں کی بکنگ اور شادیوں کی جھڑی لگی ہوئی ہے ۔ یلو میٹل پر نظر رکھنے والے ایک کنسلٹنٹ نے کہا کہ سونے کے دام گھٹنے کے علا وہ بڑھے ہیں اور اب ڈیما نڈ نے بھی بکری بڑھا دی ہے لیکن سونے کی مانگ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ پچھلے سال ٹلی شادیاں ہیں اس سال ریکارڈ سطح پر شادیاں ہو رہی ہیں ۔انڈیا بلین جویلر س ایسوسی ایشن کے ترجما ن کے مطابق ایک اس سال گراہک بھاری جویلری پسند کر رہے ہیں مشکل وقت میں سہارے کی شکل میں سونے پر بھروسہ لوٹ رہا ہے اور گراہکو ں کے جذبات میں بھی بہتری آئی ہے پچھلے سال کے مقابلے میں سونے کے دام گھٹنے سے بھی ڈیمانڈ بنی رہنے کی امید ہے ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...