Translater

21 دسمبر 2013

کیجریوال کا نیا ڈرامہ! سرکار بنائے یا نہیں فیصلہ رائے شماری سے؟

عام پارٹی کے ذریعے سرکار بنانے یا نہ بنانے کاڈرامہ بدستور جاری ہے بگ باس کے ریئیلٹی شو کی طرح اب کیجریوال بھی ا پنے حمایتیوں سے بوجھ رہے ہیں وہ سرکار بنائے یا نہ بنائے؟ آپ پارٹی کے تھنگ ٹینک گروپ کے اہم ممبر یوگیندر یادو نے کہا کہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ ہمارے پاس اخلاقی مینڈیٹ ہے حالانکہ سرکار بنانے کے لئے ضروری نمبر نہیں ہے اس لئے ہم جنتا سے معلوم کررہے ہیں کہ ہم کیا کریں؟ ایک دوسرے نیتا منیش سسودیا نے کہا ہمارا مقصد سرکار بنانے کا نہیں ہم چار لوگ ا ایک کمرے میں فیصلہ لے لیں ہمارے لئے جنتا کا فیصلہ ہی سرتسلیم ہے ۔ صحیح معنوں میں یہی جمہوری ڈھھنگ ٹھیک بھی ہے اگر اکثریت میں جنتا ہمیں حکوم دے گی تو ہم سرکار بنائے گے صرف ایک بار جنتا کو چناؤ کا موقع دے کر کامیاب لیڈروں کے فیصلے ان پر تھوپنا ٹھیک نہیں ہے ادھر بدھوار کو عام آدمی پارٹی کنوینر اروندر کیجریوال نے کہا کہ وہ شخصی طور سے دہلی میں مشترکہ سرکار کے خلاف ہے لیکن پارٹی کے اندر اس معاملے پر اختلاف کے بعد ہم نے دہلی کی جنتا سے رائے شماری کرانے کافیصلہ کیا ان کاکہنا ہے کہ وہ عوام کے فیصلہ کا احترام کریں گے چاہے وہ پارٹی کے لئے ہو یا اس کے خلاف۔ انہوں نے بتایا اس معاملے میں پارٹی میں اختلافات ہے اور ممبران اسمبلی کے میٹنگ کے دوران ایک گروپ کا خیال تھا کہ آپ کو سرکار بنانے سے بچنا نہیں چاہئے کیونکہ کانگریس اسے بغیر شرط حمایت دے رہی ہے کچھ ممبران کے مطابق پارٹی اپنا ایجنڈا لاگو کرپائیں گی اس لئے کانگریس کی طرف سے کوئی دخل اندازی نہیں ہونی چاہئے۔ کیجریوال کا کہنا ہے میں شخصی طور سے سرکار بنانے کے خلاف تھا کیونکہ ہم نے بار بار کہا کہ ہم کانگریس یا بھاجپا سے نہ تو حمایت لیں گے یا نہ دیں گے لیکن بعد میں لوگوں کے ایک گروپ نے یہ کہنا شروع کردیا کہ سرکار بنانی چاہئے جب کہ دوسرا گروپ اس کی مخالفت کررہا تھا۔ ہم نے اس بارے میں فیصلہ جنتا پر چھوڑ دیا ہے چاہے وہ ایس ایم ایس کو یا سوشل سائٹ ہوں کیجریوال کو ان پر زبردست حمایت مل رہی ہے 24گھنٹے کے اندر چار لاکھ میسیج آئے 100 گھنٹوں میں2362 خیالات 177 شیئر اور 2616 لائنز خود اروند کیجریوال پر 15000 ہزار604 مشورے 1709 مشترکہ رائے 14531 لائیکس ٹوئٹر پر زبردست رد عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ تبصرے اس طرح ہے سچن کمار ’’ ارے بھائی سرکار بناؤ کام کرکے دکھاؤ اور پھر بھی کانگریس حمایت واپس لیتی ہے تو جنتا اس کا جواب دے گی ٹینشن کیوں لیتے ہو‘‘ اروندتیواری۔ صاحب بی جے پی اور کانگریس دونوں میں کرپٹ لوگ ہے وہ نہیں چاہتے کوئی اور ہمارے بیچ کھڑا ہو یہ سب کیجریوال کو پھنسانے میں لگے ہیں۔ اوم مارشل: میں آپ کے ساتھ ہوں ۔انل مہتہ: لکھا ہے کہ نمبردار پہلے خود کو بدلو پھر سسٹم بدلنا۔ منیش چودھری: سرکار نہیں تو پارٹی بھی گئیں۔ وکاس مہاجن :جی بالکل جائیے سرکار بنائیں ورنہ دوسرا موقع شاید سامنے آئے۔ رنکی شرما: آپ کو سرکار بنا کر مثال پیش کری چاہئے کچھ لوگوں نے اس رائے شماری یا ریفرنڈم کے طریقے پر سوال اٹھایا ہے یہ رائے شماری کتنی منصبانہ ہوگی؟اس کے لئے چلائی جارہی موبائل انٹر نیٹ پول پر سوال اٹھ رہے ہیں اس سے یہ کیسے یقینی ہوگا کہ وہ شخص دہلی کاووٹر ہے یا نہیں حالانکہ عام آدمی پارٹی کا کہناہے کہ اس کا انتظام اس نے پہلے ہی کرلیا ہے۔ پارٹی کے دہلی پردیش سکریٹری دلیپ پانڈے کہتے ہیں کہ بدھوار کی شام تک کل 4.10لاکھ لوگوں کی رائے مل گئی تھی۔ پارٹی نے اب تک اس بات کا خلاصہ نہیں کیا ہے کہ اس میں کتنے حمایت میں اور کتنے مخالفت میں تھے کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ کانگریس اور بھاجپائی بھی عام آدمی پارٹی کو الجھن میں ڈالنے کے لئے دھرا دھرا میسج بھیجوا رہے ہیں ا دھر دہلی کے سابق چیف سکریٹری اومیش سہگل نے آپ کے کنوینر کیجریوال کے ذریعے دہلی میں نئی سرکار کے قیام کے لئے جنتا کی رائے پوچھنے کے طریقے پر سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ پوری کارروائی پرعام آدمی کے قریب ایک کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ کیجریوال کو بھیجے گئے اپنے خط میں سہگل کاکہنا ہے کہ اگر دہلی کا ہرووٹر ماننے لیں ایک کروڑ ووٹر فون یا ایس ایم ایس کے ذریعے رائے بھیجتا ہے تو اس میں ایک کروڑ روپے خرچ ہوگا۔ایسے میں سوال ہے کہ آپ کو فیصلہ کرناہے کہ اور پیسے جنتا کے خرچ ہو؟ جتنا وقت نکلتا جارہا ہے اتنا ہی عام آدمی پارٹی کی نکتہ چینی ہوتی جارہی ہے۔ انا نے کیجریوال پر طنز کرتے ہوئے ان کی تحریک غیرملکی چندے پر نہیں چلتی اور لوگوں نے میرے انشن کے لئے دن رات محنت کی ہے اور پانچ پانچ روپے اکٹھے کرکے ڈیڑھ لاکھ روپیہ اکٹھا کیا ہے جس میں سے ایک لاکھ تو ٹینٹ کا خرچہ ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی عام آدمی پارٹی کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے بھاجپا نیتا نتن گڈکری نے آپ پر تلخق حملہ کرتے ہوئے اروندر کیجریوال کی لیڈر شپ والی پارٹی کی سرگرمیوں کو جنوب پسندی ماؤ وادی قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ دہلی میں سرکار بنانے کے لئے لوگوں کے خیالات اکٹھا کرنے کا قدم جمہوریت کا مذاق ہے گڈ کری کاکہناہے کہ آپ مقبولیت جنادیش کا مذاق اڑا رہے ہیں اور لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کا آگے کا کیا قدم ہونا چاہئے جب کانگریس نے بناشرط حمایت پیش کی ہے تو آپ سرکار کیوں نہیں بنارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پارٹی اور لیڈروں کا اہم کام صرف دیگر پارٹیوں پر حملہ کرنا بے بنیاد الزام لگاناہے بھاجپا میں 32 سیٹوں کی ساکھ سب سے بڑی پارٹی ابھری تھی لیکن فیریکچر مینڈیٹ کے چلتے وہ سرکار نہیں بنا سکتی بے شک آپ بھاجپا اسمبلی پارٹی کے نیتا ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ آپ کو28سیٹیں دے کر دوسرے بڑی پارٹی کے طور پر چنا ہے پھر ریفرنڈم کاڈھونگ کیوں رچا رہے ہو جب کہ اس کا نتیجہ پہلے ہی سے طے ہے عام آدمی پارٹی سے 14 سوال بھی پوچھے ہے آپ جنتا کو جواب دے ۔ دہلی میں سرکار بنائے گی یا نہیں؟ کانگریس کی حمایت لے گی یا نہیں؟ غیریقینی حالت میں دہلی کی ترقی رک رہی ہے اس کے لئے آپ قصوروار ہے یا نہیں؟ آپ کے ذریعے ایک طرف کانگریس پر الزام لگائے جارہے ہیں دوسری طرف کانگریس حمایت سے سرکار بنانے والی ہے؟ کیا یہ نورا کشتی ہے؟ دونوں پارٹیوں میں اندر خانے کیاسودے بازی ہوئی ہے؟ بھاجپا صاف کہہ چکی ہے سرکار نہیں بنائے گی تو ’’آپ‘‘ نے بھاجپا کو کیوں خط لکھا ہے سرکار بنانے کے لئے آپ کے ذریعے ڈرامہ کیوں رچا جارہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
(انل نریندر)

20 دسمبر 2013

آخر کار لوکپال بل کیلئے انا کا خواب پورا ہوا

46 سالوں کی کوششوں کے بعد آخر کار دیش کو اب ایک تاریخی لوکپال قانون مل گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں پہلے ہی بل کو پاس کردیا تھا اور بدھ کو لوک سبھا نے بھی لوکپال و لوک آیکت بل 2013 کو صوتی ووٹ سے پاس کردیا۔ سماجوادی پارٹی کو چھوڑ کر باقی دیگر پارٹیوں خاص کر بھاجپا لیفٹ، بسپا وغیرہ نے بل کی حمایت کی ہے۔بل کا احتجاج کررہی سپا کے ممبران ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔2011ء میں جب انا ہزار اسی لوکپال کو لیکر دہلی کے رام لیلا میدان میں انشن پر بیٹھے تھے تبھی لگنے لگا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب سرکار اور سیاسی پارٹیوں کو عوام کی مانگ کو ماننا پڑے گا۔ آج اگر یہ قانون بننے جارہا ہے تو اس کا سہرہ انا ہزارے کو جاتا ہے۔ یہ انہیں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ کانگریس بھاجپا نے بھی اس کی حمایت کرکے اچھا کیا ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں کانگریسی ایم پی اور پارلیمنٹری سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ ورت چترویدی کو نہیں بھولنا چاہئے اور ان کی تعریف کرنا سیاسی پارٹی بھی نہ بھولیں۔ اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ دو سال پہلے 27 دسمبر2011 کو اس سرکار نے لوکپال بل پر کنی کاٹ لی تھی۔ جیٹلی نے کہا بل پر عام رائے بنانے کے لئے سلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین ستیہ ورت چترویدی نے پارٹی لائن سے بالاتر ہوکر سخت محنت کی۔ ان کی بعد سبھی مقررین نے چترویدی کی کوشش کی تعریف کی۔ دراصل جب سرکار نے اپوزیشن پارٹیوں کے خدشات کو دور کردیا اور ان کے تقریباً سارے سجھاؤ نئے بل میں شامل کرلئے تو بل روکنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ بیشک لوکپال بل سے کرپشن پوری طرح سے نہیں رکے گا لیکن یہ صحیح سمت میں ایک صحیح قدم تو ہے ہی سب سے بڑی بات میری رائے میں اس بل سے ہر سطح پر پہلی بار لیڈروں اور افسروں وغیرہ کو جوابدہی ہوگی۔ اب تک تو کسی سطح پر جوابدہی طے نہیں تھی۔ جیسا کہ انا نے کہا اب میں خوش ہوں 50 فیصدی کرپشن تو مٹے گا۔ پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد بل کو صدر کو بھیجا جائے گا۔ ان کے دستخط کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ ریاستوں میں لوکپال کی طرز پر لوک آیکت معمور ہوں گے۔ اس کے لئے متعلقہ ریاستوں کو قانون بنانے کیلئے ایک سال کا وقت دیا گیا ہے۔ ترمیم لوکپال بل میں اہم شقات اس طرح ہیں۔ لوکپال کی جانچ کے دائرے میں وزیر اعظم، ممبر پارلیمنٹ، مرکزی سرکار کے گروپ اے بی سی ڈی افسر اور عام ملازم آئیں گے۔ لوک آیکت کے دائرے میں وزیر اعلی ریاستی وزراء، ایم ایل اے اور ریاستی سرکار کے افسر ہوں گے۔ لوکپال کو کچھ معاملوں میں دیوانی عدالت کے بھی اختیار ہوں گے۔یعنی یہ سزا دے سکتا ہے۔ لوکپال کے پاس کرپٹ افسر کی پراپرٹی باقاعدہ قرق کرنے کا اختیار ہوگا۔ خاص حالت میں بدعنوانی سے کمائی پراپرٹی اور ان کی دوسری املاک یا دیگر فوائد کو ضبط کرنے کا حق ہوگا۔ مرکزی سرکار کو کرپشن کے معاملوں کی سماعت کے لئے اتنی ہی خاص عدالتوں کو قائم کرنا ہوگا جتنی لوکپال بتائیں گے۔ اگر ایک سال کے وقت میں معاملہ پورا نہیں ہوتا تو خصوصی عدالت اس کے بعد معاملے پر سماعت کرے گی اور سماعت تین مہینے میں پوری کرنی ہوگی۔ یہ میعاد تین تین مہینے کے حساب سے بڑھائی جاسکتی ہے۔ بہرحال یہ ایک تاریخی قدم ہے ، اس کا اثر ضرور ہوگا۔
(انل نریندر)

امریکہ کی داداگری اب بھارت کو قبول نہیں!

یہ پہلا واقعہ نہیں جب امریکہ کے ذریعے کسی ہندوستانی کو بے عزت کیا گیا ہو۔ یہ پہلی بار نہیں جب اپنے کسی ڈپلومیٹ کے نازیبہ برتاؤ کی وجہ سے بھارت کو نیچا نہیں دیکھنا پڑا ہو۔ نیویارک میں بھارت کی ڈپٹی ناظم العمور دیویانی کھوبرا گڑھے پر الزام ہے کہ انہوں نے نوکرانی کے ویزا درخواست میں جعلسازی کی اور امریکی قانون کے مطابق تنخواہ بھتے ، چھٹیاں وغیرہ نہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ نہ صرف غیر انسانی تھا اور بھارت کو بے عزت کیا گیا جو کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں۔ اپنی بچی کو اسکول چھوڑنے جارہی آئی ایف ایس افسر دیویانی کو امریکی پولیس نے پکڑ لیا اور کپڑے اتروا کر تلاشی لی۔ بدسلوکی کا سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ اس کو جیل میں نشیڑیوں اور خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا اور طوائفوں کے ساتھ قطار میں کھڑا کیا گیا۔ وہ اپنی بچی کو اسکول سے لانے کی دہائی دیتی رہی مگر امریکی پولیس نے نہیں سنی۔ اب سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا بھارت دیش کی نمائندگی کرنے والی کسی افسر کے ساتھ قانونی کارروائی کا یہ عمل جائز ہے؟ دوسرا سوال انسانی حقوق کا جھنڈا اٹھانے کا دعوی کرنے والے امریکہ یہ غیر انسانی رویہ بین الاقوامی قانون کے خلاف نہیں ہے؟ بغیر دوسرے فریق کی بات جانے صرف شبہ کی بنا پر کسی دوسرے دیش کے افسر کو پکڑ کر اس کے ساتھ خطرناک جرائم پیشہ لوگوں جیسا سلوک کیا جانا کیا بین الاقوامی قانونی کی خلاف ورزی نہیں ہے؟سابق صدر ڈاکٹر کلام کو بھی سکیورٹی کے نام پر بے عزت کیا گیا تھا۔ این ڈی اے کے عہد میں وزیر دفاع رہے جارج فرنانڈیز سے بھی بد تمیزی کی گئی تھی۔ فلم اداکار شاہ رخ خان کو2001 میں محض مسلم نام کے سبب روک لیا گیا۔ اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہوگی کہ اس دہشت گردانہ واقعہ کے بعد بنی اپنی فلم ’مائی نیم اس خان‘ کے پرموشن کے لئے شاہ رخ خان وہاں گئے تھے اور بھی کئی معاملے ہیں فطری طور پر بھارت میں اس معاملے میں زبردست ناراضگی ہونی ہی تھی۔ پہلے معاملوں میں بھارت نے مناسب جواب نہیں دیا لیکن اس مرتبہ حکومت ہند نے وجہ جو بھی رہی ہو ، طے کیا ہے کہ امریکہ کو اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ اچھی طرح سے سمجھتی ہے۔ بھارت نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے امریکی سفارتخانے اور اس کے حکام ملازمین پر سختی برتنی شروع کردی ہے اور خاص مراعات بھی لے لی ہیں۔ امریکی کونسل خانے کے ڈپلومیٹ مرکزی سرکار کی طر ف سے جاری شناختی کارڈ بھی لوٹانے کو کہا گیا ہے۔ امریکی ملازمین اور رشتے داروں کو دیش کے ہوائی اڈوں کے اسپیشل پاس بھی منسوخ ہوں گے۔ امریکی سفارتخانے میں تعینات ہندوستانی اسٹاف کی سیلری کی بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ امریکی سفارتکاروں کے گھر کی نوکرانی اور نوکر کی تنخواہ کی جانکاری دینے کو کہا گیا ہے۔ اس سال کے علاوہ لوک سبھا اسپیکر میرا کمار اور وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اور قومی صلاحکار شیو شنکر مینن، نریندر مودی اور راہل گاندھی نے امریکی نمائندہ وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا ۔ ان اقدامات سے بھارت نے صاف پیغام دیا ہے کہ وہ ہندوستانی سفرا کے ساتھ بدتمیزی کا برتاؤ امریکہ ہلکے میں نہ لے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پہلے امریکہ چوری کرے اور پھر سینا زوری۔ امریکی افسر اب بھی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے قانونی خانہ پوری کے تحت کام کیا ہے۔ ویزا میں غلطی اور نوکرانی کو واجب تنخواہ نہ دینا وغیرہ کے الزام آپ کسی عورت و کسی ڈپلومیٹ خاتون کے کپڑے اتروا کر سڑک پر ہتھکڑی لگاکر گھمانا کونسی قانونی کتاب میں لکھا ہوا ہے؟ چاہے وہ لوک سبھا کا چناؤ کا دبدبہ رہا ہو یا چاہے بھاجپا کا دباؤ رہا ہو اس بار بھارت سرکار نے سخت رخ اپنایا ہے۔ ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے دادا سمجھے جانے والے امریکہ کے خلاف اتنی جرأت دکھانا واقعی میں کچھ حوصلہ تو دکھایا ہے۔ایسا ہی برتاؤپاکستان بھی ہندوستانی ڈپلومیٹ سے کرتا رہا ہے۔ امریکہ کو سخت پیغام دینے سے شاید پاکستان بھی سمجھ جائے۔ بس اب اور نہیں۔ جس طرح امریکہ اپنے قوانین کو سنجیدگی سے لیتا ہے اسی طرح اسے کارروائی کی مریادہ کا بھی دھیان رکھنا چاہئے۔ امریکہ کو بلا شرط معافی مانگنی چاہئے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی۔
(انل نریندر)

19 دسمبر 2013

کبھی نہ ختم ہونے والے اروند کیجریوال کے ڈرامے!

دہلی کے باشندے ان دنوں چوطرفہ مسائل سے گھرے ہوئے ہیں۔ ایک تو دہلی میں بڑھتا کوہرا، صبح شام چھایا رہتا ہے کہ گھروں سے نکلنا دشوار ہوگیا ہے۔ جہازوں کی پروازیں منسوخ ہورہی ہیں۔ ٹرین منسوخ ہورہی ہیں یا گھنٹوں لیٹ چل رہی ہیں۔ مہنگائی پچھلے14 ماہ میں اپنی سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے۔رہی سہی کثر کیجریوال اینڈ کمپنی نے اپنے ڈراموں سے نکال دی ہے۔ کانگریس کی بنا شرط حمایت کے بعد بھی ’آپ‘ پارٹی ڈرامہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ دہلی میں سرکار نہیں بن پارہی ہے۔ مشکلوں کے باوجود مرکز ی سرکار دہلی میں صدر راج لگانے میں جلد بازی میں دکھائی نہیں پڑتی اور وزارت داخلہ میں سرکار بنانے کے لئے متبادل پر غور خوض جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال نے سرکار بنانے سے ابھی تک انکار نہیں کیا ہے بلکہ صلاح مشورہ کرنے کے لئے اور وقت مانگا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا دہلی میں جلد صدر راج لگانے کی کوئی آئینی مجبوری نہیں ہے۔ 10 دسمبر کو صدر نے کامیاب ممبران اسمبلی کی فہرست کو نوٹی فائی کر دیا ہے۔ اس سے اسمبلی وجود میں آگئی ہے۔ ان کے مطابق دہلی میں بدلتے سیاسی حالات پر نظر رکھی جارہی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کسی پارٹی کی سرکار نہ بننے کی صورت میں اسمبلی کو معطل رکھتے ہوئے صدر راج لگانے کی سفارش کی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے سنیچر کو ہی دہلی کی سیاسی صورتحال کے بارے میں مرکزی حکومت کو واقف کرادیا تھا۔ دہلی میں سرکار کی تشکیل کو لیکر اب گیند ایک پالے سے دوسرے پالے میں گھوم رہی ہے۔ کانگریس نے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کی گیند کو ایک بار پھر انہی کی عدالت میں ڈال دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’آپ‘ کیا کرے گی؟ کانگریس سکریٹری جنرل اور دہلی کے انچارج شکیل احمد نے کیجریوال کو ایک خط لکھ کر بیحد سادگی اور نرم گوئی سے کیجریوال کو ان کی مانگیں مان لینے کا پیغام بھیج دیا ہے۔ اپنے خط میں شکیل احمد نے ان18 اشوز کا بھی تذکرہ کیا ہے جن کا ’آپ‘ پارٹی نے حوالہ دیا تھا۔ شکیل نے کہا ایک بار حکومت قائم ہوجانے کے بعد18 میں سے 16 اشوز پر عمل درآمد دہلی حکومت خود کرسکتی ہے۔ یعنی اگر کیجریوال حکومت بناتے ہیں تو ان کی سرکار ان اشوز پر تعمیل کرانے میں اہل ہے۔ اس میں پارلیمنٹ یا مرکزی سرکار کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ باقی بچے دو سوال جن میں جن لوکپال بل اور دہلی کو مکمل ریاست کا درجہ دینا شامل ہے، یہ معاملے دہلی سرکار کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
مرکزی حکومت کے دائرے والے ان دونوں اشوز پر کانگریس پارٹی آپ کا ساتھ دے گی۔ جب کانگریس نے اتنی کھلی حمایت کردی ہے تو پتہ نہیں اور کیا چاہتے ہیں اروند کیجریوال۔ پھر بھی سرکار بنانے میں آنا کانی کررہے ہیں۔ کانگریس نیتا اور سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت نے پیر کو بھاجپا و’آپ‘ پر سیدھے رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ چناؤ میں انہوں نے ووٹ پانے کے لئے ایسے وعدے کئے ہیں جو پورے نہیں کرسکتے۔اس وجہ سے وہ سرکار بنانے کے لئے آگے نہیں آ پارہے ہیں۔ محترمہ شیلا دیکشت نے کہا کہ اب دوبارہ سے چناؤ ہوتے ہیں تو کانگریس پھر اقتدار میں آجائے گی۰ چناؤ کے بعد سے ہی دہلی میں عدم استحکام کا خطرہ منڈرارہا ہے۔ اس دوران ارون کیجریوال اور ان کی ’آپ‘ پارٹی کے ڈرامے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور یہ ان کی چال ہے۔ پچھلے 10 دنوں سے ’آپ‘ یہ طے نہیں کرپائی کے وہ سرکار بنائے گی یا نہیں؟ دہلی کے تیزی سے بدلتے سیاسی پس منظر میں کہیں نہ کہیں عام آدمی پارٹی پھنستی جارہی ہے۔ چاروں طرف سے یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ آپ کو سرکار بنانے کے بعد کم سے کم بجلی کے دام گھٹانے اور ہر خاندان کو700 لیٹر پانی مفت دینے جیسے چناوی وعدوں پر کام شروع کرنا چاہئے۔ اب آپ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر جنتا کے دربار میں جائے گی۔ آپ نیتا عام جنتا سے پوچھیں گے کیا ہم سرکار بنائیں یا نہیں؟ کیا کانگریس پارٹی سے حمایت لے لیں؟ سرکار بن گئی اور کانگریس پارٹی کو آپ کا ایجنڈہ پسند نہیں آیا تو وہ ایک دو ماہ میں حمایت واپس لے لے؟ مرکز کے جن اشوز پر کانگریس نے ساتھ دینے کی بات کہی ہے اس پر بھروسہ کریں یا نہیں؟ کہیں یہ حمایت آنے والے چناؤ میں خودکشی تو نہیں ثابت ہوگی؟ کرپشن کی فائلیں جب پلٹی جائیں گی تو نیتا جیل بھی جائیں گے ایسے میں کانگریس ان کا ساتھ چھوڑدے گی تو؟ ایک بار پھر وہیں پہنچ گئے ہیں جہاں سے یہ سیاسی دنگل شروع ہوا تھا۔ دیکھیں کیجریوال آگے کونسا ڈرامہ کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

علماؤں کا انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف فتویٰ لائق خیر مقدم!

ہم جمعیت العلمائے ہند کے ذریعے بلائی گئی سہ روزہ عالمی امن کانفرنس کی تعریف کرتے ہیں۔ رام لیلا میدان میں منعقدہ اختتامی ریلی میں سب سے زیادہ نمائندے پاکستان سے آئے تھے۔ دوسرے نمبر پر بنگلہ دیش، انگلینڈ، نیپال، سری لنکا، مال دیپ، میانمار کے نمائندے موجود تھے۔ شروعات کے دو دن تک یہ کانفرنس دارالعلوم دیوبند میں ہوئی اور ایتوار کو اس کا اختتام دہلی کے رام لیلا میدان میں ہوا۔ اختتام کے دن کئی اتفاق رائے سے ریزولوشن پاس ہوئے مگر سب سے خاص تھا دہشت گردی کی جم کر مذمت کرنا اور ا س کے خلاف ایک آواز میں فتویٰ جاری کرنا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارت اور اس کے پڑوسی ملکوں کے اسلامی علماء دہشت گردی کے خلاف ایک اسٹیج پر جمع ہوکر ایک رائے پر متفق ہوئے۔ کانفرنس کی صدارت دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور جمعیت العلماء ہند کے صدر مولانا محمد سید عثمان منصوری نے کی تھی اور اس کو چلانے کا کام جمعیت العلماء ہند کے سابق ایم پی اورجنرل سکریٹری محمود اسد مدنی نے کی۔ فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نہ صرف تباہی ہورہی ہے بلکہ یہ پوری طرح سے اسلام کے خلاف ہے۔ پاکستان جمعیت العلمائے اسلام کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہمیں جنگ سے پرہیز کرنا چاہئے اور دونوں ملکوں کے سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ بات چیت کے ذریعے کشمیر مسئلے کا حل کریں تاکہ امن قائم ہوسکے۔سری لنکا کے مفتی ریاض صاحب نے کہا دہشت گردی کی وجہ سے ترقی میں رکاوٹ آرہی ہے۔ کئی مقررین نے کہا اس وقت دنیا ایک طرح سے گلوبن ولیج بن چکی ہے جس میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے دشمنی بڑھتی ہے اور اگر اس میں بات چیت کی گنجائش ہو تو دشمنوں کو مات دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح نیپال سے آئے مولانا خالد صدیقی اور مالدیپ سے شیخ فہمی اور میانمار سے مولانا نور محمد نے بھی دہشت گردی کے اسباب کا پتہ لگانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کانفرنس میں مظفر نگر فسادات پر پاکستان سمیت تقریباً سبھی ملکوں سے آئے علمائے کرام نے نہ صرف افسوس ظاہر کیا بلکہ فسادات کے لئے اترپردیش سرکار کی جم کر کھنچائی کی۔ ایک برس پہلے دارالعلوم دیوبند نے دہشت گردی کے خلاف ریزولوشن پاس کیا تھا جس میں قریب دنیا بھر سے 800 علمائے کرام نے شرکت کی تھی لیکن ان تجاویز کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے اس کانفرنس کو بلایا گیا تھا۔ ہم دارالعلوم دیوبند کو اس کامیاب امن کانفرنس اور اس میں لائے گئے ریزولوشن کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
(انل نریندر)

18 دسمبر 2013

آپ کی سنئے اناکورووں کے ساتھ ہیں:لوکپال بل پر اختلافات

لوکپال بل کے لئے ایک ساتھ تحریک چھیرنے والے انا ہزارے اور اروند کیجریوال کی اسی بل کو لیکر اختلافات سامنے آگئے ہیں یا یوں کہیں کہ اسکو لیکر دونوں میں ٹھن گئی ہے۔ اس کے پہلے بل راجیہ سبھا میں اتفاق رائے سے پاس ہو جس کے آثار اب بن گئے ہیں، عام آدمی پارٹی اور انا ہزارے کے درمیان تلخ بحث چھڑی ہوئی ہے۔ آپ نے تو لوکپال اشو پر خود کو پانڈو اور انا کو ایک طرح سے سنگھ سے جوڑ کر کورووں کا ساتھ دینے والا بتادیا۔ انا مرکزی سرکار کے لائے گئے لوکپال بل کی جہاں حمایت کررہے ہیں وہیں کیجریوال اسے اب جوگپال(مذاقیہ بل) بتا رہے ہیں۔ آپ پارٹی کے بڑبولے لیڈر کمار وشواس نے انا کے رخ پر فیس بک پر لکھا مہا سمر میں کبھی کبھی ایسا وقت آتا ہے جب بھیشم پتاما کے مون اور گورو درون کے سنگھاسن سے متفق ہوجانے پر بھی ٹکراؤ کے راستے پر چل کر پانچ پانڈوں کو جنگ جاری رکھنی پڑتی ہے۔ آپ پارٹی جنگ جاری رکھے گی۔ اسی درمیان اروند کیجریوال نے پھرموجودہ لوکپال کو جوگپال بتاتے ہوئے کہا کہ اس بل سے منتری تو چھوڑیئے چوہا بھی جیل نہیں جاسکے گا۔ اس بل سے کرپشن نہیں روکے گا بلکہ یہ بدعنوانوں کو بچانے کا کام کرے گا۔ دوسری طرف انا ہزارے نے کہا کہ لگتا ہے کہ اروند کیجریوال نے اس بل کو اب تک ٹھیک سے نہیں پڑھا ہے۔ انہیں ٹھیک سے پڑھنا چاہئے۔ اگر عام آدمی پارٹی کو سرکاری لوکپال پسند نہیں آرہا ہے تو وہ اس میں کمیاں دور کرنے کے لئے آندولن چھیڑیں۔ ادھر انا ہزارے کا انشن ابھی جاری ہے۔ اس دوران ان کا وزن بھی مسلسل گھٹ رہا ہے۔ بلڈپریشر لگاتار بڑھ رہا ہے۔ حمایت میں عوامی سیلاب بھی امڑ رہا ہے۔ دہلی سمیت کئی ریاستوں سے ہزاروں لوگ رالیگن سدھی پہنچے ہیں۔ ممبئی میں ڈبے والوں نے بھی انشن میں حصہ لیا۔ دونوں کے بیچ نااتفاقی کے 8 نکتے ہیں۔ تقرری، وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر، اسپیکر، چیف جسٹس اور ایک اور عدلیہ کمیٹی چناؤ کرے گی۔ اس میں نیتاؤں کی اکثریت ہے جبکہ لوکپال کو ان کے خلاف ہی جانچ کرنی ہے۔ برخاستگی: اس کے لئے سرکار یا 100 ایم پی سپریم کورٹ میں شکایت کرسکیں گے۔ اس سے لوکپال کو درخواست کرنے کا حق سرکار اور نیتاؤں کے پاس ہی رہے گا۔جانچ : لوکپال سی بی آئی سمیت کسی بھی جانچ ایجنسی سے جانچ کرا سکے گی لیکن اس کے ہاتھ میں انتظامی کنٹرول نہیں رہے گا یعنی جانچ افسروں کا تبادلہ ، تقرری سرکار کے ہاتھ نہیں رہے گی۔ وہسل گلیمر پروٹکشن: سرکار نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے کو تحفظ دینے کے لئے الگ بل بنایا ہے۔ اسے اسی بل کا حصہ ہونا چاہئے۔ سٹی زن چارٹر:سرکار نے ضروری خدمات کے وقت میں پورا کرنے کیلئے الگ سے بل بنایا ہے جبکہ اسے بل کا حصہ بنانا چاہئے تھا تاکہ لوکپال افسروں کے خلاف کارروائی کرسکے۔ راجیوں میں لوک آیکت: لوک آیکتوں کی تقرریوں کا مسئلہ ریاستوں کے ضمیر پر چھوڑا گیا ہے۔ اگست2011ء میں پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے یہ یقین دہانی کرائی تھی ۔ فرضی شکایتیں:جھوٹی یا فرضی شکایتیں کرنے والے کو ایک سال کی جیل ہوسکتی ہے۔ اس کے ڈر سے لوکپال میں صحیح شکایتیں نہیں ہوں گی۔ جن لوکپال میں جرمانے کی سہولت ہے جیل کی نہیں آخری ہے دائرے کو لیکر عدلیہ کے ساتھ ممبران پارلیمنٹ کے پارلیمنٹ میں تقریر و ووٹ کے معاملوں کو الگ رکھا گیا وہیں جن لوکپال بل میں ججوں اور ممبران سمیت سبھی لوک سیوکوں کو رکھا گیا ہے۔
(انل نریندر)

ہم جنسی جرم یا حق؟

جنسی رشتوں کو جائز ٹھہرانے والے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے پلٹ کر اس مسئلے پر وسیع بحث اور توجہ مرکوز کردی ہے۔ جہاں ایک طرف ترقی پسند کہے جانے والے طبقے نے اسے خوش آئین قراردیا ہے وہیں مذہبی تنظیموں وا طفال حق کے لئے کام کررہیں انجمنوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں صاف کہا ہے کہ جب تک آئی پی سی کی دفعہ370 وجود میں ہے جنسی استحصال و رشتوں کو قانونی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ اگر پارلیمنٹ چاہے تو اس پر بحث کرکے مناسب فیصلے لے سکتی ہے۔ دیش کی سپریم عدالت نے دہلی ہائی کورٹ کے سال2009 کے فیصلے کو ٹال دیا۔ 1861 کے اس قانون کو نہ صرف جائز قراردیا بلکہ ہندوستانی معاشرے اور مذہبی جذبات کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اصل میں جنسی رشتوں کو جائز قراردینے والی دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر بہت سی مذہبی اور کلچر تنظیموں نے چنوتی دی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے یوگ گورو بابا رام دیو نے کہا کہ میں اس فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ ہم جنسی انسانیت حق کی خلاف ورزی ہے اور غیر فطری ہے۔ یہ ایک دماغی شرارت کا حصہ ہے جس کا علاج ہے۔ بابا رام دیو نے ہم جنسی کو جینیٹک کہی جانے والی دلیل کو غلط بتایا۔ انہوں نے کہا اگر ہمارے ماں باپ ہم جنس ہوتے تو ہماری پیدائش نہیں ہوتی۔ یہ غیر قدرتی ہے اور ایک بری عادت ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا سہارنپور ،دیوبند کی اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی عبدالقاسم نعمانی نے فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ انسانیت اور معاشرے کے تقاضوں کے مطابق ہے جس پر سختی سے عمل کیا جانا چاہئے۔ مذہب اسلام میں ہم جنسی جرم کی بہت بڑ ی سزا ہے اور دوسری طرف ہم جنسوں کی لڑائی لڑنے والی ریتو سین نے کورٹ کے فیصلے پر تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا فیصلے سے ہمارا حق ختم ہوگیا ہے جبکہ آئین میں ہم سبھی کو اپنے طریقے سے جینے کا حق ہے۔ہیجڑہ تنظیم استتو کی چیف لکشمی پانڈے نے کہا آج ہمیں ہندوستانی ہونے پر دکھ ہے کیونکہ ہمیں وہ حق نہیں ہے جو عام ہندوستانی شہری کو حاصل ہے۔ فیصلے سے ہیجڑوں اور ہم جنس افراد پر ظلم بڑھے گا۔ متر ٹرسٹ سے جڑی ایک ہم جنس عورت روپانی نے کہا کہ 2009 کے کورٹ کے فیصلے کے بعد لوگوں کی ہمارے بارے میں رائے بدلی تھی۔ پولیس بھی کم پریشان کرتی تھی لیکن اب پولیس ہمیں زیادہ پریشان کرے گی۔اگر ہم نمبروں کی بات کریں تو بھارت میں تقریباً 25 لاکھ ہم جنس ہیں جن میں 1.7 لاکھ ہم جنس HIV سے متاثر ہیں۔ کچھ دیشوں میں 1 سے14 سال تک کی سزا ہے اور کچھ دیشوں میں ہم جنسی کرنے والوں کو موت کی سزا تک دی جاتی ہے۔ تقریباً77ملکوں میں یہ جرم مانا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے آنے کے بعد جس طرح سے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی نے ان لوگوں کی آزادی سے جڑا معاملہ بتایا ہے اس کے بعد اس اشو پر کانگریس پارٹی اور سرکار میں بحث تیز ہوگئی ہے کہ ہم جنسوں کو راحت پہنچانے کے لئے شاید سرکار ایک آرڈیننس لانے کی تیاری شروع کررہی ہے۔ غور طلب ہے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی نجی رائے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ ٹھیک تھا۔ اس کے بعد وزیر قانون کپل سبل نے اس میں راحت کا اشارہ دیا اور وزارت قانون کے ذرائع کاکہناہے سرکار جلد ہی اس بارے میں آرڈیننس لا سکتی ہے۔ ادھر بھاجپا نے اپنا موقف صاف کرنے سے بچتے ہوئے گیند سرکار کے پالے میں ڈال دی اور کہا اگر سرکار اس بارے میں تجویز لانا چاہتی ہے تو وہ اس معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلائے۔ سشما سوراج نے کہا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ اس معاملے کو طے کر سکتی ہے۔ ہم جنسی کی وکالت کرنے والے کہتے ہیں کہ دو بالغ اگر تنہائی میں آپس میں تعلق بناتے ہیں تو موجودہ ترقی پسند دور میں اس میں قانونی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے بھی ہمارے آئین کا یہ بنیادی حق ہے۔ آپ کی آزادی حد وہاں تک ہے جہاں سے دوسروں کی آزادی شروع ہوتی ہے۔ اس بنیاد پر اگر کچھ لوگ کورٹ کے فیصلے کی تلخ نکتہ چینی کررہے ہیں تو ان کی اظہار آزادی کا بھی احترام کیا جانا چاہئے لیکن اس بات کابھی خیال رکھا جانا چاہئے کہ نہ توبھارتیہ سماج اور نہ ہی ہمارے مذہب ایسے رشتوں کو جائز مانتے ہیں۔ فرض کیجئے اگر سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ٹھیک طریقے سے عمل ہوتا تب بھی اس کی اتنی ہی نکتہ چینی ہوتی۔ اب مناسب یہ ہی ہوگا کہ سپریم کورٹ نے 370 کو ہٹانے یا اس میں ضروری ردوبدل کرنے کی ذمہ داری پارلیمنٹ پر چھوڑی ہے تو اسے اپنا رول نبھانا چاہئے ۔ ساتھ ہی یہ بھی غور کرنا چاہئے آخر کیا وجہ ہے کہ جن اشوز پر پارلیمنٹ میں زبردست غور خوض ہونا چاہئے وہ عدالتی کارروائی کا اشو بنے ہی کیوں؟ 
(انل نریندر)

17 دسمبر 2013

آخر کب ملے گا نربھیہ کو انصاف؟

16 دسمبر 2012ء کی وہ سردی کی رات سڑک کنارے بغیر کپڑوں کے پڑے پیرا میڈیکل کی طالبہ و اس کا دوست وہ سین آنکھوں کے سامنے ابھی بھی لوگوں کے دلوں میں تازہ ہوگا۔ شاید ہو کبھی اسے بھول پائیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ کل ہی کو تو بات ہے۔ نربھیہ ٹریجڈی کو ایک سال ہوگیا ہے لیکن اس سال میں کیا بدلا؟ بیشک کئی سیکٹروں میں جیسے بہتر پولیسنگ عورتوں کی حفاظت کے لئے اٹھائے گئے اقدام، قانون وغیرہ وغیرہ میں ضرور تبدیلی آئی ہے لیکن درندگی میں کمی نہیں آئی۔ دیش کو ہلا دینے والی وسنت وہار گینگ ریپ کی واردات اور اس کے بعد اٹھائے گئے قدموں کے باوجود ہ دہلی والے نہیں سدھر پائے ہیں۔ دہلی میں اس کے بعد بہت سے بدفعلی کے واقعات ہوئے ہیں جن کی تعداد پچھلے ریکارڈ توڑ گئی ہے۔ یہ جان کار حیرانی ہوگی کہ نربھیہ معاملے کے بعد دہلی میں بدفعلی کے واقعات دوگنا ہوئے ہیں جبکہ چھیڑ خانی کے معاملوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ تین چار ایسے واقعات، پانچ سات چھیڑ خانی کے کیس درج ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اہم بات یہ بھی ہے کہ پہلے جہاں عورتیں لڑکیاں اپنے ساتھ ہوئی ذیادتی کی شکایت سے کترایا کرتی تھیں اور بچتی تھیں وہیں اب وہ اپنے ساتھ ہوئے واقعات کے بارے میں بتانے لگی ہیں۔ یہ نربھیہ معاملے کا ہی اثر مانا جاسکتا ہے کہ راجدھانی کے ہر تھانے میں لیڈیز ڈیکس نے کام کرنا شروع کردیا ہے جبکہ شراب خانوں، سنیما ہال، مال و بس اسٹاپ سے نکلنے والے لورس جوڑوں کو مانگ کے مطابق اب پی سی آر ان کے گھر تک چھوڑتی ہے۔ وہ بدنصیب جینا چاہتی تھی، ہسپتال میں علاج کے دوران گذرے 13 دن میں اس نے اس کا ثبوت بھی دیا لیکن دردناک حادثے نے اسے اتنے درد دئے کے اسے بچانا مشکل ہوگیا تھا۔ سنگاپور جانے سے پہلے اسنے محض تین بار اپنی بات لکھ کر سمجھانے کی کوشش کی۔ تینوں بار اس نے یہ ہی سوال کیا میرے پر حملہ کرنے والے قصورواروں کو سزا ملی یا نہیں؟ لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اس واقعہ کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی قصورواروں کے مقدمے عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہائی کورٹ نے بھلے ہی سماعت روزانہ کرنے کا فیصلہ لیا ہو لیکن بچاؤ فریق کے رویئے کے چلتے سماعت لمبی کھنچتی جارہی ہے۔ ملزمان کے وکیل کبھی دستاویز کے ہندی ترجمے کو لیکر معاملہ لٹکا رہے ہیں تو کوئی دوسرا بہانا بنا کر عدالت سے غیر حاضر ہوجاتے ہیں۔ 23 ستمبر سے ہائی کورٹ کی سماعت شروع ہوئی لیکن مقدمہ درج ہونے کے بعد کارروائی نومبر سے شروع ہوپائی تھی۔ سرکاری وکیل نے محض8 دنوں میں جریح پوری کرلی لیکن بچاؤ فریق32 دنوں میں جریح شروع نہیں کرپایا تھا۔ ہائی کورٹ کی جلد سماعت کے فیصلے سے لگ رہا تھا کہ نومبر تک معاملے کا نپٹارہ ہوجائے گا اور 16 دسمبر سے پہلے نربھیہ کے قصورواروں کو سزا مل جائے گی مگر بچاؤ فریق نے ایسا قانونی داؤ چلا کہ اب تک مقدمے میں جریح نہیں ہوپائی۔ اس کے بعد ابھی سپریم کورٹ باقی ہے پتہ نہیں قصورواروں کو کب سزا ملے گی؟ نربھیہ کی قربانی بیکار نہیں جائے گی سسٹم میں بہتری ہورہی ہے لیکن ابھی کافی خامیاں ہیں ان پر سبھی کو توجہ دینی ہوگی۔ دہلی ریپ کیپیٹل آف انڈیا بنتی جارہی ہے۔ اکیلے پولیس قصوروار نہیں سماج بھی اتنا ہی ذمہ دار ہے۔ ضرورت لوگوں کی ذہنیت بدلنے کی ہے۔ عورتوں کے تئیں عزت بحال کرنے کی ہے، کچھ کا خیال ہے ایک بار نربھیہ کانڈ کے قصورواروں کو پھانسی پر لٹکادیا جائے تو شاید حالت میں بہتری آئے لیکن سوال یہ ہے کب لٹکیں گے یہ پھانسی پر؟ اور کب ملے گا نربھیہ کو انصاف؟
(انل نریندر)

دہشت گردوں پر کیس واپس نہیں لے سکتی اکھلیش حکومت!

یہ دکھ کی بات ہے کہ اترپردیش کی سماجوادی حکومت کو عدالتی جھاڑ سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور انہیں ان کی کوئی پرواہ بھی نہیں۔ اکھلیش سرکار کو اکثر پھٹکاریں لگتی ہی رہتی ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے جہاں دہشت گردی کے واقعات میں ملزمان پر مقدمے چل رہے ہیں ان کو واپس لینے کو لیکر یہ جھاڑ لگائی گئی وہیں سپریم کورٹ نے مظفر نگر اور شاملی فسادات کے بعد راحت کیمپ میں رہنے والے 39 بچوں کی موت کے معاملے میں تشویش جتاتے ہوئے یوپی سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیمپ میں رہنے والوں کے لئے سردی کے پیش نظر تمام سہولیات مہیا کرائے۔ چیف جسٹس پی ۔سداشیوم اور جسٹس رنجن گوگئی کی بنچ نے معاملے کو بیحد سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا بچوں کی موت کے سلسلے میں میڈیا رپورٹ کی سچائی کا پتہ لگایا جائے۔ دوسرا کرارا جھٹکا الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعے19 لوگوں کے خلاف دہشت گردی کے معاملے واپس لینے کے اس کے فیصلے کو منسوخ کرنا ، ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف مرکزی دفعات کے تحت معاملے درج ہوئے ہیں اس لئے مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر ریاستی سرکار معاملے واپس نہیں لے سکتی۔ جسٹس دیوی پرساد سنگھ، جسٹس اجے لامبا اور جسٹس اشوک پال سنگھ کی بنچ نے یہ فیصلہ دیتے ہوئے صاف کیا کہ دہشت گردی کے واقعات یا ملک کی بغاوت کے الزامات کے مقدمے واپس لینے کے لئے ٹھوس اسباب ہونے چاہئیں۔ اگر سرکار بغیر کوئی وجہ بتائے مقدمے واپس لینے کا فرمان دیتی ہے تو سرکاری وکیل کو اپنی آزادانہ رائے رکھنی چاہئے۔ 96 صفحات کا یہ فیصلہ ایک بنچ کے معاملے سے جڑا ہے اس سے پہلے معاملے کی سماعت کررہی ایک بنچ نے چار قانونی سوال طے کرتے ہوئے جواب کے لئے معاملے کو سب بنچ کو بھیجا تھا۔ ریاستی سرکار کے لئے یہ ایک سیاسی جھٹکا تو ہے ہی کیونکہ وہ مظفر نگر فسادات کے بعد سماجوادی پارٹی اقلیتوں کا بھروسہ جیتنے کی پرزور کوشش کررہی ہے اس فیصلے سے اقلیتیں تو خوش نہیں ہوں گی ساتھ ہی سرکار مخالف طاقتوں کو اپنی سازشیں رچنے کا موقعہ ضرور مل جائے گا۔ ریاستی سرکار اقلیتوں کی خوش آمدی میں لگی ہوئی ہے کیونکہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بے قصور مسلم لڑکوں کے خلاف درج معاملے واپس لے لے گی۔ اسی سلسلے میں اس نے2007ء میں لکھنؤ ، وارانسی اور فیض آباد میں ہوئے فسادات کے سلسلے میں گرفتار 19 لوگوں کے خلاف معاملے واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ آتنک واد دیش کے لئے سب سے بڑے خطروں میں سے ایک ہے لیکن پورے کانڈ میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاسی لیڈر شپ ووٹ بینک پالیٹکس کے چلتے ان برننگ اشوز سے نمٹنے کے لئے کتنی سنجیدہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کسی بے قصور لڑکے کو محض فائل کی خانہ پوری کرنے کے لئے زبردستی کسی معاملے میں خاص کر آتنکی و ملک کی بغاوت کیس میں قطعی پھنسایا نہیں جانا چاہئے لیکن ملزم بے قصور ہے یا قصور وار یہ طے کرنا عدالتوں کا کام ہے۔ اکھلیش سرکار کی اپنی غیر جانبدارانہ ساکھ کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے معاملوں کو عدالتوں پر چھوڑ دیں۔ بار بار پھٹکار سے تو اترپردیش کی سماجوادی پارٹی بے نقاب الگ ہورہی ہے اور چاروں طرف سے وہ اپنے اوپر تھو تھو کروا رہی ہے۔
(انل نریندر)

15 دسمبر 2013

تیسری بار ڈاکٹر ہرش ودھن کے ہاتھ سے چیف منسٹر کی کرسی پھسلی!

اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے میری رائے میں بی جے پی نے دہلی میں مینڈیٹ کو ایک طرح سے انکار کردیا ہے۔بی جے پی کے سی ایم امیدوار ڈاکٹر ہرش وردھن نے لیفٹیننٹ گورنر کو آگاہ کردیا ہے کہ ان کی پارٹی کیونکہ اکثریت میں نہیں ہے اس لئے سرکار بنانے میں لاچار ہے اور انہوں نے دہلی کے شہریوں سے سرکار نہ بناپانے کے لئے معذرت کی اور کہا کہ صدر نے لیفٹیننٹ گورنر کو صاف ہدایتیں دی ہوئی ہیں کہ سرکار بنانے کا دعوی پیش کرنے والی پارٹی کو 7 دن کے اندر ایوان میں اکثریت ثابت کرنی ہوگی کیونکہ بھاجپا کے پاس اکثریت نہیں ہے تو وہ بھلا کیسے سرکار بنا سکتی ہے۔ سیاست میں نمبر اور شفافیت و صاف ستھری ساکھ کی دہائی دیتے ہوئے انہوں نے کہا بھاجپا کسی دیگر پارٹی میں توڑ پھوڑ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی ایسی سرکار میں۔ بھاجپا نے وسیع معیار اور اونچے سیاسی پیمانے تو قائم کردئے ہیں لیکن آئے ہوئے اقتدار کو ٹھکرادیا۔ دہلی میں 15 سال اپوزیشن میں بیٹھنے کے بعد شاید بی جے پی کو بیٹھنے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ یہ ہی تو فکر ہے کانگریس اور بی جے پی میں ۔ کانگریس تو اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتی چاہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔ بی جے پی اقتدار لینے کو تیار نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ڈاکٹرہرش وردھن کے پاس اکثریت نہیں تھی لیکن اگر وہ اقلیتی حکومت بنا لیتے اور حلف لے لیتے تو شاید تاریخ میں اپنا نام درج کرا لیتے۔ سبھی چنے ہوئے نمائندے ممبر اسمبلی بن جاتے۔ حلف لینے کے بعد وہ لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھتے کہ ہم چاہتے ہیں کہ طاقت آزمائی کے بعد اگر ہمیں اکثریت ملتی ہے تو یہ دو تین قدم اٹھائے جائیں۔ بجلی کے شرحوں میں 30 فیصد کٹوتی ، پانی کے بلوں میں راحت اور 9 گیس سلنڈروں کی جگہ12 وغیرہ وغیرہ۔ اکثریت ثابت کرنے کی جب باری آتی تو ممکن تھا کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ نہ تو کانگریس اور نہ ہی آپ کے ممبر اسمبلی اور نہ ہی دہلی کی جنتا 6 مہینے میں دوبارہ چناؤ چاہتی ہے۔ ممکن ہے پولنگ کے دن کانگریسی ممبران اسمبلی میں کسی نہ کسی بہانے واک آؤٹ کرجاتے۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا مان لو اکثریت ثابت نہ ہوتی تو استعفیٰ دے دیتے اور جنتا سے کہہ سکتے تھے کہ ہم تو عوام کے مفاد میں بہت کچھ قدم اٹھانا چاہتے تھے لیکن کانگریس اور آپ نے ہمیں ایسا کرنے سے روکا۔ دوبارہ چناؤ میں پارٹی کی پوزیشن اور مضبوط ہوتی۔ بی جے پی کو سرکار بنانی چاہئے تھی۔ اس نظریئے کے بہت سے بی جے پی کے ممبران بھی ہیں۔ دہلی بی جے پی پردھان وجے گوئل تو کھل کر بول رہے ہیں بی جے پی کو راجدھانی میں سرکار بنانے کی کوشش رکھنی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے پارٹی کے چنے ہوئے زیادہ تر نمائندہ چناؤ نہیں چاہتے۔ اس کے علاوہ جنتا بھی دوبارہ چناؤ کے موڈ میں نہیں۔اور آپ پارٹی سے بات کرنی چاہئے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس چناؤ میں جیتے ہوئے زیادہ تر پارٹی امیدوار ان سے گزارش کررہے ہیں کہ دہلی میں دوبارہ چناؤ نہ ہونے دینے کے لئے کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ بی جے پی کو سرکار بنانی چاہئے۔ اکثریت نہ ملنے کے باوجود بھاجپا کے ممبران کا یہ بھی دباؤ تھا کہ وہ سرکار بنائے لیکن پارٹی اعلی کمان کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ ایسے ممبران کی تعداد ایک درجن سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔ بدھوار کی رات دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی دعوت پر جمعرات کو بھاجپا کے اسمبلی پارٹی کے لیڈروں سے رابطے میں رہے حالانکہ اسمبلی پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر ہرش وردھن صبح ہی چھتیس گڑھ کے لئے روانہ ہوگئے تھے لیکن ممبران نے اپنے پردیش سطح کے لیڈروں سے خواہش ظاہر کی۔ا ن لیڈروں نے پردیش پردھان وجے گوئل سے کہا کہ سرکار بناکر بھاجپا کو جنتا کے وعدے پورے کرنے چاہئیں اور وہ اقلیتی سرکار میں بہتر انتظامیہ دے سکتے ہیں۔ جب اکثریت ثابت کرنے کی بات آئے گی تو ڈاکٹر ہرش وردھن یہ ایوان میں ثابت کردیں گے ۔دہلی کے شہریوں کو مہنگائی سے تھوڑی راحت دی جاسکتی تھی لیکن دوسری پارٹیوں کے ممبران نے ان کا ساتھ نہیں دیا اس لئے وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہیں۔ یہ تیسرا موقعہ ہے جب ڈاکٹر ہرش وردھن کے ہاتھ سے دہلی کے وزیر اعلی کی کرسی پھسلی ہے۔ اس سے پہلے بھی دو بار انہیں وزیر اعلی بننے کا موقعہ ملنے والا تھا لیکن آخری وقت میں پانسہ پلٹ گیا۔ پہلی بار ڈاکٹر ہرش وردھن کا مکھیہ منتری بننے کا موقعہ اس وقت آیا جب سال 1993 سے98 تک چلی بھاجپا سرکار کے حالات بگڑنے لگے تھے اس وقت صاحب سنگھ ورما کو کرسی گنوانی پڑی تھی۔ اس وقت طے ہوا تھا ڈاکٹر ہرش وردھن کو وزیر اعلی بنایا جائے گا لیکن آخری وقت پر پروفیسر وجے کمار ملہوترہ کو دہلی کے وزیر اعلی کا امیدوار اعلان کردیا گیا۔ اس وقت بھی پارٹی کی جیت کے پورے آثار تھے لیکن نتیجہ الٹا ہوا۔ دوسرا موقعہ 2008 ء میں آیا ۔ تب بھی ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ سے کرسی کھسک گئی۔ سیاست کا آخری پڑاؤ اقتدار ہوتا ہے اس لئے تو آپ سیاست میں آتے ہو بھلے ہی آپ کی سرکار گر جاتی ہے لیکن آپ کو کوشش تو کرنی چاہئے تھے۔ تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ کانگریس پارٹی چھ مہینے کے اندر دہلی میں پھر سے اسمبلی چناؤ نہیں کروانا چاہے گی۔ چناؤ میں زبردست ہار کے غم سے کانگریس ابھی نکل نہیں پائی ہے اور دوبارہ چناؤ کے اندیشے نے پارٹی کے لئے لیڈر شپ کا بحران کھڑا کردیا ہے۔ کانگریس کسی بھی قیمت پر چناؤ کے لئے عام آدمی پارٹی کو بغیر شرط کے حمایت دینے کی پہل بھی کررہی ہے۔ 
دراصل نگراں وزیر اعلی شیلا دیکشت سمیت پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈروں کے چناؤ ہارنے کے سبب کانگریس پردیش یونٹ میں لیڈر شپ کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو شیلا جی کی لیڈر شپ میں پارٹی دوبارہ چناؤ میدان میں نہیں اترنا چاہتی۔ ساتھ ہی چار ریاستوں میں پردیش پردھانوں کو بدلنے کے پارٹی ہائی کمان کے فیصلے کو عمل میں لانے کے لئے دہلی راہ کا روڑا بن رہی ہے۔ کانگریس اعلی کمان موجودہ پردھان جے پی اگروال کی جگہ ایسا لیڈر بنانا چاہتی ہے جس کی لیڈرشپ میں چناؤ لڑا جاسکے۔ موجودہ حالات میں اگر دہلی میں مستقبل قریب میں اسمبلی چناؤ ہوتے ہیں تو کانگریس کو اتنی سیٹیں بھی نہ ملیں۔ رہی بات بھاجپا کی تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے دوبارہ چناؤ میں اسے واضح اکثریت مل جائے؟ اگر چھ مہینے بعد معلق اسمبلی آئی تو؟ دہلی کی گدی تک نریندر مودی کو پہنچانے کی خاطر بھاجپا لیڈر شپ نے ڈاکٹر ہرش وردھن اور پارٹی کی دہلی یونٹ کو داؤ پر لگادیا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ صحیح ثابت ہوں اور یہ غلط ہے سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس غیر یقینی سیاسی حالات کے چلتے دہلی کی جنتا مہنگائی کی مار سے پس رہی ہے اور مہنگائی اور بڑھے گی۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...