29 اپریل 2017

مودی کی لہر میں بہہ گئیں علاقائی پارٹیاں

دہلی کی تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ نتائج اعدادو شمار کی زبانی بھی بہت کچھ بیان کر گئے۔ مودی لہر میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی تو پھسڈی ثابت ہوئی ہی، قومی سیاست میں اپنا دخل رکھنے والی علاقائی پارٹیاں تو بہہ ہی گئیں۔ جنتا دل (یو) ، لوجپا، این سی پی اور راشٹریہ لوکدل کو جہاں ایک بھی سیٹ نہیں ملی وہیں بسپا، سپا، انیلو بھی بس کھال بچا سکی ہیں۔ چناؤ نتائج نے صاف کردیا ہے کہ عوام اب صرف کام چاہتی ہے۔ کاغذی یا کھوکھلے وعدوں پر اسے بیوقوف بنانے کا وقت چلا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اترپردیش میں ، جنتادل یونائیٹڈ اور راشٹریہ جنتادل بہار میں، انڈین نیشنل لوک دل ہریانہ میں، شیو سینا اور نیشنل کانگریس پارٹی مہاراشٹر میں ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیااور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی پشچمی بنگال میں خاصہ رسوخ رکھتی ہیں۔ ان پارٹیوں کے بڑے نیتا ملائم سنگھ یادو ،اکھلیش یادو ، مایاوتی، نتیش کمار، لالو پرساد یادو، اوم پرکاش چوٹالہ، سیتا رام یچوری ، ڈی راجہ، شرد پوار و ادھو ٹھاکرے کا ملک کی سیاست میں بھی بڑا نام ہے۔ باوجود اس کے دہلی میونسپل کارپوریشن چناؤ میں ان کا سکہ نہیں چلا۔ تینوں ایم سی ڈی کے272 میں سے 270 وارڈوں میں ہوئے چناؤ کیلئے کھڑے ہوئے 2516 امیدواروں میں سے1803 کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ ان میں کانگریس 92، عام آدمی پارٹی کے38 اور حیرانی کی بات ہے کہ بھاجپا کے5 امیدواروں کی بھی ضمانت ضبط ہوگئی۔ یہ امیدوار ضمانت بچانے کے لئے ضروری کل ڈالے گئے ووٹوں کا 16.33 فیصدی حصہ نہیں لے پائے۔ دہلی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اس چناؤ میں آزاد امیدواروں کے علاوہ18 مختلف پارٹیوں کے امیدوار چناوی میدان میں اترتے تھے۔ ان میں سے1139 امیدوار ضمانت نہیں بچا پائے۔ میونسپل کارپوریشن چناؤ میں بی جے پی نے امید کے مطابق کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس چناؤ میں بی جے پی کے مسلم امیدوار جنتا کو راس نہیں آئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس سال میونسپل چناؤ میں پانچ مسلم امیدوار اتارے تھے لیکن چناؤ میں ایک بھی امیدوار بھاجپا کے لئے جیت نہیں دلا سکا۔ غور طلب ہے کہ حال ہی میں اترپردیش میں ہوئے چناؤ میں بھاجپا نے ایک بھی مسلم امیدوار نہیں اتارا تھا۔بھاجپا کی اس نیتی کے چلتے بھاجپا پر الزام لگا تھا۔ اترپردیش چناؤ میں لگے الزاموں کو دھونے کیلئے بھاجپا نے مسلم کارپوریشن چناؤ میں پانچ امیدوار اتارے پر ایک بھی امیدوار جیت درج نہیں کرسکا۔ بھاجپا کی جیت کی ایک بڑی وجہ رہی موجودہ کونسلروں کو ٹکٹ نہ دینے کا فارمولہ۔ پچھلے 10 سالوں کی اینٹی ان کمبینسی فیکٹر کو کاٹنے کے لئے یہ فارمولہ کامیاب رہا۔ بھاجپا ہی نہیں بلکہ کانگریس نے بھی یہی حکمت عملی اپنائی۔ دراصل سیاسی پارٹیوں کی طرح ہی ووٹروں نے بھی پرانے چہروں پر زیادہ وشواس نہیں کیا۔ چناؤ میں قریب 45 موجودہ کونسلروں اور 30 سابق کونسلروں نے قسمت آزمائی تھی لیکن 17 موجودہ کونسلر ہی چناؤ جیت سکے۔ اس طرح تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے سدن میں 270 وارڈوں میں 245 نئے کونسلر پہنچیں گے۔ مزیدار سچائی یہ بھی ہے کہ بھاجپا اور کانگریس سے بغاوت کر ایسٹ دہلی میں آزادامیدوار کے طور پر چناؤ لڑنے والا کوئی بھی امیدوار نہیں جیت پایا ہے۔ عوام نے باغیوں کو پوری طرح سے نکاردیا۔ پٹ پڑ گنج سیٹ سے بھاجپا کی کونسلر رہی سندھیا ورما نے پارٹی سے ٹکٹ نہ ملنے پر بغاوت کر بطور آزاد امیدوارچناؤ لڑا تھا نتیجتاً انہیں ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ اسی طرح نیو اشوک نگر سیٹ پر بھاجپا کی باغی وکی سنگھ نے بھی بغاوت کرچناؤ لڑا اور 5223 ووٹ لیکر دوسرے مقام پر رہیں۔ اسی طرح کانگریس سے باغی ونود چودھری نے آئی پی ایکسٹینشن سے کانگریس کا ٹکٹ مانگا تھا، ٹکٹ نہ ملنے پر وہ آزاد امیدوار کے طور پر چناؤ لڑے، انہیں 2000 سے کم ووٹ ملے۔ اسی طرح پانڈو نگر سے کانگریس سے ٹکٹ مانگ رہی ساوتری شرما بھی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد چناؤ لڑیں اور ہار گئیں۔ میونسپل کارپوریشن چناؤ میں اس کراری ہار کے بعد استعفوں کا دور شروع ہوگیا ہے۔ بدھوار کو پردیش کانگریس ادھیکش اجے ماکن، کانگریس کے پربھاری(دہلی) پی سی چاکو اور عاپ کی دہلی اکائی کے سنیوجک دلیپ پانڈے نے استعفیٰ دے دیا۔ دہلی کے اقتدار میں لگاتار 15 سالوں تک قابض رہنے والی کانگریس پارٹی عام آدمی پارٹی کے خلاف بنے ماحول میں بھی میونسپل چناؤ میں دوسرے پائیدان پر نہیں آسکی۔ اس کے پیچھے سب سے بڑی وجہ یہ مانی جارہی ہے کہ پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں کو کنارے کر پردیش کانگریس ادھیکش اجے ماکن نے اپنی سطح پر اہم فیصلے لئے۔ چناؤ نتیجے آنے کے بعد کئی کانگریسی لیڈروں نے اپنے رد عمل میں کہا کہ کانگریس میں ون مین شو نے لٹیا ڈبائی۔ میونسپل کارپوریشن کے لئے ٹکٹ بٹوارے کے بعد سے ہی کانگریس میں پھوٹ ابھر کر سامنے آگئی تھی۔ اروند سنگھ لولی، برکھا شکلا سنگھ جیسے کئی پرانے کانگریسی لیڈر بھاجپا میں شامل ہوگئے۔ اب کانگریس کے سامنے پارٹی کو بچانے کی چنوتی کھڑی ہوتی دکھ رہی ہے۔ دوسری جانب کئی امیدوار ایسے بھی ہیں جو تیسری چوتھی بار بھی جیتنے میں کامیاب رہے۔ ان لوگوں کا کام جنتا سے سیدھا رابطہ انہیں جتانے کی بڑی وجہ رہا۔
(انل نریندر)

نوئیڈا کے یشپال تیاگی دوسرے یادو سنگھ

یادو سنگھ کے بعد نوئیڈا اتھارٹی کے ایک اور دھن کبیر کا خلاصہ ہوا ہے۔ جمعرات کو انکم ٹیکس محکمہ نوئیڈا کی ایک ٹیم نے نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور یمنا اتھارٹی کے سابق او ایس ڈی یشپال تیاگی کے پانچ ٹھکانوں پر چھاپہ مارا جس میں بے انتہا جائیداد کا پتہ چلا ہے۔ افسرا ن نے شروعات میں جن جائیداد کی جانچ کی ہے ان کی قیمت 2 ہزار کروڑ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یشپال تیاگی دوسرے یادو سنگھ ثابت ہوسکتے ہیں۔سروے کے دوران 10 کروڑ روپے نقد اور قریب 10 کلو گرام سونا بھی ضبط کیا گیا ہے اس کے علاوہ آڈی، رینج روور، بی ایم ڈبلیو جیسی مہنگی کاریں اور 15 بڑی بڑی ایل ای ڈی ٹی وی ، جم کے سامان اور دیگر سامانوں کا بیورا بھی درج کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بینک کھاتوں اور لاکرس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ تیاگی کے ذریعے مبینہ طور پر نوئیڈا کی یونیورسٹی ، گووا اور ہری دوار میں لگزری ہوٹل میں سرمایہ کاری کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔یشپال کی بسپا حکومت میں دھمک تیزی سے بڑھی وہ2007-12 تک مایاوتی سرکار میں اتھارٹی میں او ایس ڈی تھے۔ اقتدار بدلنے کے ساتھ ہی انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ تیاگی کالے دھن کے انجینئر یادو سنگھ کے قریبیوں میں مانے جاتے ہیں۔ نوئیڈا میں تعیناتی کے دوران یشپال کا نام چرچت فارم ہاؤس گھوٹالہ میں بھی آیا۔ گھوٹالہ میں تیاگی کو اہم کڑیوں میں مانا جاتا ہے۔ اتھارٹی میں او ایس ڈی رہتے ہوئے ان پر بلڈروں کو منمانے ڈھنگ سے زمین کی الاٹمنٹ کرنے اور غیر ضروری فائدہ لینے کا بھی الزام لگا۔ بلڈروں نے جہاں زمین مانگی، جن شرطوں پر مانگی ان کی مانگ پوری کردی گئی یہی وجہ ہے کہ ضابطوں میں غیر ضروری بدلاؤ کرکے بلڈروں کو زمین دینے کے بعد بلڈروں نے بھی موقعہ کا فائدہ اٹھایا اور 100-100 ایکڑ کے پلاٹ لیکر انہیں دوگنی قیمت پر دوسرے بلڈروں کو بیچ دیا۔وہیں چھوٹے بلڈر اب پروجیکٹ کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں اور لاکھوں سرمایہ کار پریشان ہوکر دھکے کھا رہے ہیں۔ جتنی بھی الاٹمنٹ کمیٹی تھی ان میں اہم کردار یشپال کا ہی رہتا تھا۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ یادو سنگھ اور اب یشپال کے معاملہ میں پردے کے پیچھے بھائی صاحب اور پنڈت جی کی بھومیکا بھی رہی۔ یادو سنگھ کی جانچ میںیہ دونوں نام سامنے آئے ہیں جن کی جانچ چل رہی ہے اور بھائی صاحب اور پنڈت جی سی بی آئی کے نشانے پر ہیں۔ وہیں بسپا کے دو ر اقتدار میں تینوں اتھارٹیوں کے چیئرمین مہندر سنگھ تھے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ جن بلڈروں کو زمین لینی ہوتی تھی اس سے سیدھے بات یشپال ہی کرتے تھے۔ اتنے بڑے کھیل میں اور بڑے بڑے لوگ بھی شامل ہوں گے۔ جانچ سے پتہ چلے گا کہ کون کون شامل ہیں؟
(انل نریندر)

28 اپریل 2017

کیا کیجریوال سرکار کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے

دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نتائج تقریباًاسی لائن پر آئے ہیں جیسا کہ امید کی جارہی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جیت کی ہیٹ ٹرک لگائی ہے۔ تینوں کارپوریشنوں پر اپنا اقتدار برقرار رکھا ہے وہیں اس چناؤ میں عاپ اور کانگریس کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایگزٹ پول اور آخری نتیجوں میں اتنا فرق ضرور رہا کہ ایگزٹ پول میں بھاجپا کو 200 سے زیادہ سیٹوں کا اندازہ لگایا تھا جوگھٹ کر 181 تک رہی ہیں۔ وہیں عاپ کو 48 اور کانگریس کو 30 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔بیشک یہ چناؤ تو چھوٹے تھے لیکن چناؤ پر داؤں بڑے تھے۔ تینوں میونسپل کارپوریشنوں کے چناؤ میں اس مرتبہ ایک الگ سیاست کا ماحول بنا۔ بیشک یہ چناؤ کونسلروں کا تھا لیکن اس چھوٹے چناؤ پر بڑے بڑے دھرندروں کی ساکھ داؤ پر لگی تھی۔ اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں پچھلے دنوں ہوئے چناؤ کے بعد اب میونسپل کارپوریشن کے چناؤ نتیجے ثابت کرتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کی آندھی اب بھی چل رہی ہے۔ وہیں یہ نتیجے بھاری اکثریت کے ساتھ دو سال پہلے اقتدار میں قابض ہوئی اروند کیجریوال اور ان کی سرکار کی کارگزاری پر ایک طرح سے ریفرنڈم ہیں۔ کانگریس کے گرتے گراف پر کوئی روک نہیں لگی اور وہ اوندھے منہ گری ہے۔سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کی کھوتی زمین دو سال پہلے بھاری اکثریت حاصل کرنے والے کیجریوال کی ہار کی یہ ہیٹ ٹرک ہے۔ عاپ کے لئے تو اب سنکٹ ہی سنکٹ ہے وہ دہلی اسمبلی چناؤ کے اپنی کارکردگی کے آس پاس بھی نہیں ٹھہری۔ اسمبلی چناؤ میں 70 میں سے67 سیٹیں جیتنے والی عاپ 272 وارڈوں میں سے 90 فیصدی سے زیادہ میں مات کھا چکی ہے لیکن اسے صرف 48 وارڈ ہی ملے ہیں۔ ای وی ایم مشینوں کی خرابی کا رونا رو کر جنتا کا دل نہیں جیتا جاسکتا۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو ایم سی ڈی چناؤ نتیجوں کو قبول کرنا ہوگا۔ اس بار کیجریوال چاہ کر بھی نتیجے کے لئے ای وی ایم کو قصوروار نہیں ٹھہرا پائیں گے کیونکہ اس بار ای وی ایم پر الزام لگایا تو اسمبلی میں ان کی تعداد بھی شبہ کے گھرے میں آجائے گی۔ ریاستی چناؤ کمیشن سے ملی جانکاری کے مطابق اس چناؤ میں قریب 30 ہزار ای وی ایم مشینوں کا استعمال ہوا۔ ان میں سے قریب 8 ہزار مشینیں راجستھان میونسپل کارپوریشن سے لائی گئیں تھیں باقی مشینیں وہی ہیں جو دہلی اسمبلی چناؤ 2015 میں استعمال ہوئی تھیں، ایسے میں اگر کیجریوال ان مشینوں میں گڑ بڑ یا ہیک ہونے کا الزام لگائیں گے تو سال2015 میں انہیں ملی غیر متوقعہ جیت بھی شبہ کے گھیرے میں آجائے گی۔ ان کے لئے ٹھیک ویسی حالت پیدا ہوجائے گی کہ ایک انگلی دوسرے پر اٹھانے سے چار انگلیاں خود پر اٹھ جائیں گی۔ پانی معاف، بجلی کا آدھا بل کے بعد ہاؤس ٹیکس ختم کرنے کا لبھاونا لالچ دینے والی عاپ کو اگر اس قدر دہلی کا ووٹر کاٹ رہا ہے تو یہ فطری طور سے کیجریوال کے لئے تشویش کی بات ہونی چاہئے۔ پہلے پنجاب اور گووا پھردہلی اسمبلی چناؤ کی راجوری گارڈن سیٹ اور اب دہلی میونسپل کارپوریشن میں ہار کی ہیٹ ٹرک لگانے کے لئے خود اروند کیجریوال ذمہ دار ہیں۔ دہلی میں سرکار بنانے کے ساتھ ہی عاپ سرکار کے وزرا پر کرپشن اور طرح طرح کے الزام لگنے لگے ہیں۔ سرکار کا کوئی وزیر فرضی ڈگری میں تو کوئی سیکس سی ڈی میں پھنسا ۔ کیجریوال پی ایم مودی پر شخصی الزام لگانے و حملہ کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے۔ کئی بار تو حد پار کرتے ہوئے کیجریوال نے مودی پر قابل اعتراض تبصرہ بھی کردیا۔ دہلی کی جنتا نے کیجریوال کو دہلی کا وزیر اعلی چنا لیکن ہٹلری اسٹائل میں یہ کبھی گووا تو کبھی گجرات ،تو کبھی پنجاب میں سرکار بنانے کے خواب دیکھنے لگے۔ پارٹی میں جو کوئی بھی تنقید کرتا ہے اسے ہٹلری اسٹائل میں پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔ دہلی میں اگر آج اسمبلی چناؤ ہوجائے تو انڈیا ٹوڈے ایکسس مائی انڈیا کے ایک سروے میں دو تہائی اعدادو شمار تک نہیں پہنچے گی۔ دہلی ایم سی ڈی چناؤ میں بی جے پی کی شاندار جیت کے ساتھ ہی کیجریوال سرکار کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے کیونکہ عام آدمی پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کے خلاف زبردست ناراضگی اور ممبران اسمبلی کا ایک بڑا گروپ بغاوت کی تیاری میں سرگرم ہے۔ اس کی جھلک چناؤ سے پہلے بوانا کے ممبر اسمبلی وید پرکاش دکھا چکے ہیں۔ حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ خود کیجریوال کے اوپر استعفے کا زبردست دباؤ ہے ۔ ان کے طریقہ کار اور لگاتار مل رہی ہار نے ممبران اسمبلی کا حوصلہ بری طرح سے توڑدیا ہے۔ ان ممبران اسمبلی کو معلوم ہے کہ اب ان کے لئے عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر چناؤ جیتنا آسان نہیں ہوگا اوپر سے لالچ کے عہدہ معاملے پر درجنوں ممبران کی ممبر شپ ختم ہونے کا خطرہ بنا ہوا ہے۔ سیاسی پنڈت مان رہے ہیں کہ دہلی اسمبلی چناؤ کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔ ان نتائج سے بھاجپا ہائی کمان اور جیتے کونسلروں پربڑی ذمہ داری آگئی ہے۔ پچھلے 10 سال سے کرپشن سے پاک کارپوریشن میں بیشک پارٹی نے زیادہ تر موجودہ ممبران کو ہٹا کر نئے چہروں کو ٹکٹ دیا لیکن اب یہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ اور پردیش پردھان منوج تیواری کی اب ذمہ داری بنتی ہے کہ ایم سی ڈی میں کرپشن سے پاک اور صاف ستھرا انتظامیہ دیں۔ اس بار بھاجپا کونسلروں کی راہ اتنی آسان نہیں ہوگی۔ ان کی ہر سرگرمی پر پردیش لیڈر شپ کی کڑی نظر ہوگی۔ ان کے کام کاج اور برتاؤ کے بارے میں لگاتار فیڈ بیک بھی لیا جائے گا۔ ایم سی ڈی میں کہاں کہاں خامیاں ہیں اور انہیں کیسے دور کیا جائے اب اس کی ذمہ داری بھاجپا لیڈر شپ پر آگئی ہے۔ ہوسکے تو ہاؤس ٹیکس تو ختم کیا جائے یا کم تو ضرور کیا جائے اور اس کے ہونے والے محصول کے نقصان کو کرپشن کم کرکے پورا کیا جائے۔ یہاںیہ یادرہے کہ کیجریوال نے بجلی ۔ پانی کے بل آدھے کردئے تھے اگر کیجریوال کرسکتا ہے تو آپ کیوں نہیں کرسکتے۔ دہلی اسمبلی چناؤ ڈھائی سال میں ہونے ہیں۔ میونسپل کارپوریشنوں میں اگر بھاجپا اچھا انتظامیہ دیتی ہے تو اس کا سیدھا اثر اسمبلی چناؤ پر پڑے گا۔ افسر شاہی پر گہری نظر اور بہتری انتہائی ضروری ہے۔ میونسپل کارپوریشن میں افسران کرپشن کی جڑ ہیں۔ ماحول بہت اچھا ہے دیکھنا یہ ہے کہ یوگی سرکار کی طرح دہلی ایم سی ڈی میں پارٹی ایکشن کرکے دکھا سکتی ہے۔
(انل نریندر)

27 اپریل 2017

آخر کب تک ہمارے بہادر جوان شہید ہوتے رہیں گے

بستر کی خونی زمین پر ایک کے بعد ایک بار پھرگھناؤنی لیکن اس مرتبہ یہ حرکت نکسلیوں نے ان خونین سوالوں کو پھرسے زندہ کردیا ہے جوعام طور پر ان حملوں سے لگاتار سلگ رہے ہیں۔ اس بار چھتیس گڑھ کے گنجان نکسلی علاقے سکما میں پیر کو دوپہر پولیس و نکسلیوں کے درمیان ہوئی مڈ بھیڑ میں سی آر پی ایف کے 26 جوان شہید ہوگئے اور 6 جوان زخمی ہوئے۔ دو مہینے میں یہ دوسری بار حملہ ہوا ہے۔ نکسلی شہید جوانوں کے ہتھیاربھی لوٹ لے گئے۔ حملہ کے بعد سے 8 جوان لا پتہ ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں نکسلی تشدد کے 5960 واقعات ہوئے ہیں ان میں 1221 شہری ، 455 سکیورٹی ملازم اور 581 نکسلی مارے گئے۔ آر ٹی آئی کے تحت وزارت داخلہ سے ملی معلومات کے مطابق سال 2012ء سے 28 اکتوبر 2017ء کے درمیان نکسلی تشدد کے چلتے دیش میں 91 ٹیلی فون ایکسچینج اور ٹاور کو نشانہ بنایا گیا۔ 123 اسکول بھی نکسلیوں کے نشانے پر رہے۔ سال 2017ء میں 28 فروری تک اعدادو شمار کے مطابق 181 واقعات ہوئے ان میں 32 شہری مارے گئے تو 14 سکیورٹی جوان شہید ہوئے، 35 نکسلی مارے گئے۔ نکسلی جہاں بار بار خون کی ہولی کھیل رہے ہیں ساؤتھ بستر کا یہ علاقہ دہشت گردی کا گڑھ ہے۔ قریب 900 سے 1000 مربع کلو میٹر گھنا جنگل ہے۔ اس کا ہیڈ کوارٹر جگرگڑا ہے۔اسی جگر گڑا کو تین طرف سے گھیرنے کے لئے تین الگ الگ سڑکیں بنائی جارہی ہیں۔ پہلی وورناپال سے جگرگڑا تک 60 کلو میٹر کی سڑک ہے جس پر سب سے زیادہ واقعات ہو رہے ہیں۔ پیر کو بھی اسی پر نکسلی واردات ہوئی۔وورنا پال سے داتے واڑا میں جو دوسری سڑک بن رہی ہے یہ سب سے بڑی چنوتی ہے۔ 17 سال تک نکسلیوں کے قبضے میں رہی۔ سڑک بنانے کے لئے وورناپال میں سی آر پی ایف کا کیمپ لگادیا گیا ہے۔ اسی کیمپ کے جوان روڈ اوپننگ کے لئے نکلے تھے۔ روڈ اوپننگ سے مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی وی آئی پی کے قافلے میں سڑک خالی کرائی جارہی ہو، یہاں روڈ اوپننگ کا مطب ہے بلا رکاوٹ کام چلتا رہے اور نکسلی کوئی دخل نہ ڈال سکیں۔بارودی سرنگ نہ بچھا سکیں۔ یہ کام کافی عرصے سے جوان کررہے تھے۔ عورتوں اور چرواہوں کے ذریعے نکسلیوں نے کئی بار ٹہو لی تھی پھر جوانوں کو گھیر کر حملہ بول دیا۔ ٹھیک اسی طرح تاڑمیٹلا میں کھانا کھاتے وقت 76 جوانوں کو چھلنی کردیا گیا تھا۔ پیر کو بھی کھانا کھانے کے بعد تھوڑا آرام کررہے جوانوں کو سنبھلنے کا موقعہ نہیں دیا اور نکسلی گوریلاوار میں اسی طرح حملہ کرتے ہیں۔یہ حملہ یقینی طور سے قابل مذمت ہے اور بزدلانہ حملہ ہے لیکن اس کے لئے ذمہ دار کون ہے؟سی آرپی ایف کی تیاری کا یہ حال ہے کہ فورس کا ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ قریب دو مہینے سے خالی پڑا ہوا ہے۔ مرکزی سرکار نے اب تک باقاعدہ طور پر نئے ڈائریکٹر جنرل کی تقرری نہیں کی ہے۔ اس درمیان دیش کی سب سے بڑی پیراملٹری فورس اس دوران دو بڑے حملوں میں اپنے38 جوانوں کو کھو چکی ہے۔ نکسلیوں کے گوریلا حملہ کا سامنا کررہے سی آر پی ایف جوان بلٹ پروف ہیلمٹ ،جیکٹ اور ایم پی وی گاڑی جیسی سہولیات کی کمی سے لڑرہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں نکسلی حملوں میں شہید ہونے والے جوانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کی یہ بھی بڑی وجہ ہے کئی بار گھات لگاکر یا آئی ای ڈی سے حملہ کی پختہ اطلاع ہونے کے باوجود جوان شکار بن جاتے ہیں۔ ایسا سی آر پی ایف جوانوں کو مینی ٹرک، جیپ یا بائیک سے متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کے سبب ہوتا ہے۔ 1.25 لاکھ بلٹ پروف ہیلمٹ کی ضرورت ہے جو 1800 بلٹ پروف سے ہی کام چلانے پر مجبور ہیں۔ 38000 ہیلمٹ پہلے منظور بلٹ پروف جیکٹ ابھی نہیں مل پائی۔ بار بار اپنے منصوبوں میں کامیاب رہتے نکسلیوں کی وارداتوں کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے انٹیلی جنس اکھٹی کرنا اور سرکار کے خفیہ سسٹم کا فیل ہونا۔ بستر کے آئی جی وویک آنندسنہا نے کہا کہ حملہ میں بڑی تعداد میں مہلا نکسلی بھی شامل تھیں۔ ان کے پاس پہلی بار انڈر بیٹل گرینیڈ لانچر جیسے خطرناک ہتھیار بھی تھے جن کی وجہ سے نکسلیوں نے وہاں جاکر تباہی مچائی۔ حملہ میں زخمی ایک جوان نے کہا کہ نکسلیوں کا حملہ سیدھا نہیں تھا بلکہ انہوں نے اس بار بھی دیہاتیوں کو اپنی ڈھال بنایا۔ انہی کے ذریعے سے ٹہو لیکر کارروائی پر اتنی بڑی واردات کو انجام دیا۔ ہسپتال میں بھرتی زخمی جوان نے بتایا گشتی ٹیم پرحملہ کرنے والے نکسلیوں کی تعداد 300 سے400 کے قریب تھی۔ ایک دوسرے جوان نے بتایا کہ اس نے مہلا پولیس نکسلیوں کو دیکھا تھا جنہوں نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے اور ہتھیاروں سے لیس تھیں۔ جوانوں نے مزید بتایا کہ نکسلیوں نے حملہ کی کمان تین سطح پر بنائی ہوئی تھی۔ تیسرے نمبر پر بھی سادے بھیس میں مہلا نکسلی تھیں۔ یہ حملہ کے بعد شہید جوانوں کے پرس ،موبائل اور ہتھیار لوٹ لے گئیں۔ اپنے مرے کامریڈوں کی لاشیں بھی اٹھا کر لے گئے۔ خفیہ پولیس کی مانیں تو پچھلے سال نکسلیوں نے ملٹری کمان کی دوبارہ تشکیل کی تھی۔ ان میں 2000 سے زیادہ مہلا نکسلیوں کو بھرتی کیا گیا تھا۔ حملہ کے لئے ذمہ دار آخر کون ہے؟ پچھلے 14 برسوں سے ریاست میں بھاجپا کی سرکار ہے اور تین برسوں کے قریب مرکز میں مودی حکومت ہے۔ دونوں ہی ماؤوادیوں اور نکسلیوں کی بنیاد کو تباہ کرنے کے وعدے اور دعوے کرتے تھکتے نہیں۔ نوٹ بندی کے بعد کہا گیا تھا کہ نکسلیوں کو کالے دھن کی سپلائی کی گئی اب نکسلیوں کی خیر نہیں ہے۔ چھتیس گڑھ کے ان علاقوں سے کبھی نکسلیوں کے نام پر، کبھی بے سہارا اور بے قصور آدی باسیوں اور انسانی حقوق ورکروں کے پولیس اور نیم فوجی فورس کی زیادتیوں کی خبریں آتی ہیں تو کبھی ان کو دبانے میں لگے ماؤوادیوں کو گھات لگا کر کئے گئے حملوں میں پولیس اور نیم فوجی فورس کے جوانوں کے مارے جانے کی خبریں چلتی رہتی ہیں۔ ماضی گزشتہ میں ماؤ وادی حکمت عملی کی مخالفت کرنے والے کانگریس کے کچھ بڑے نیتاؤں کو بھی ماؤ وادی تشدد کا شکار بننا پڑا ہے۔ یہ محض اتفاق ہے یا کسی طرح کا درپردہ معاہدہ حکمراں پارٹی کے کسی بڑے نیتا یا سرمایہ دار کو ماؤ وادیوں نے ابھی تک نشانہ نہیں بنایا ہے۔ ہم ہر طرح کے تشدد کے خلاف ہیں چاہے وہ پولیس یا سکیورٹی فورس کی بندوقیں ہوں ،چاہے بندوق کے زور پر اقتدار ہتیانے کا سپنا دیکھ رہے ماؤ وادیوں کی بندوقوں سے نکلنے والی گولیاں ہوں۔ گولی اور بندوق مسئلہ کا پائیدار حل نہیں ہوسکتا۔ سرکار کو ٹھوس نیتی پر غور کرنا ہوگا اور نئے سرے سے حکمت عملی بنانی ہوگی۔ ابھی تک کی حکمت عملی تو فیل رہی ہے۔
(انل نریندر)

26 اپریل 2017

نتیجے طے کریں گے تینوں پارٹیوں کا مستقبل:بڑی چنوتی

دہلی میونسپل کارپوریشن چناؤ میں اس مرتبہ دھاکڑ ووٹر کا دم نکال دیا۔ پچھلی بار ایم سی ڈی چناؤ کے لئے سال 2012ء میں 15 اپریل کو چناؤ ہوئے تھے۔ اس وقت پولنگ فیصد 59 فیصدی رہا تھا۔ اس دن زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیس تھالیکن اس برس پولنگ کے دن زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت39.6 ڈگری تھا۔ ووٹوں کا فیصد گرنے کی ایک وجہ یہ بھی رہی کچھ ووٹر ناراض تھے انہوں نے کسی کو ووٹ نہیں دیا۔ دہلی کی دیہی علاقوں میں زیادہ ووٹ پڑے۔ بڑی کالونیوں کے ووٹر گھر سے نکلے ہی نہیں۔ اب سبھی چائے کے کپ کیساتھ ہار جیت کا انتظار کررہے ہیں۔ میونسپل چناؤ کے نتیجوں کا جہاں سبھی دہلی کے شہریوں کو انتظار ہے وہیں یہ چناؤ بھاجپا۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی تینوں سیاسی پارٹیوں کیلئے خود کو ثابت کرنے کے لئے بڑی چنوتی ہے۔بھاجپا ان چناؤ میں بھی اپنی پیٹ قائم کرنا چاہتی ہے۔ کانگریس کو اپنا وجود بچانے کی چنتا ہے تو عام آدمی پارٹی کے لئے یہ اپنا مینڈیٹ جانچنے کا موقعہ ہے۔ بھاجپا دہلی پردھان منوج تیواری کا یہ پہلا چناؤ ہے۔ ایسے میں ان پر بہتر کارکردگی کا دباؤ ہے تو کانگریس پردیش پردھان اجے ماکن کے سامنے پارٹی کی کھوئی ہوئی زمین کو واپس پانے کی چنوتی ہے وہیں عاپ کو اسمبلی چناؤ میں ملی زبردست اکثریت کے بعد اب پارٹی کے سامنے دہلی کے شہریوں کے دل میں جگہ بنائے رکھنے کا امتحان ہے۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے دہلی کے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ ووٹ ڈالنے جائیں تو اپنے رشتے داروں کا چہرہ سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کے کارپوریشن میں اقتدار میں رہتے ہوئے گندگی کے چلتے دہلی کے لوگوں کو ڈینگو اور چکن گنیا جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ایسے میں اگر عام آدمی پارٹی ایم سی ڈی میں آتی ہے تو اس کے سامنے سب سے بڑی چنوتی ہوگی کہ اس برس ڈینگو، چکن گنیا جیسی بیماریاں دہلی میں نہ پھیلیں۔ دہلی اسمبلی چناؤ میں سوشل میڈیا پر ’مفلر مین‘ کے نام سے سرخیوں میں چھائے رہے اروند کیجریوال اب ایم سی ڈی چناؤ میں ’جھاڑمین‘ بن کر لوٹے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس بار ان کی کمپین ’جھاڑو چلاؤ‘ نام سے چلائی ہے۔ عام آدمی پارٹی کا کہنا ہے کہ دہلی اسمبلی چناؤ میں ’مفلر مین‘ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اس تجربے کو دوہرایا جارہا ہے۔ بھاجپا اگر چناؤ میں کامیاب ہوتی ہے تو اینٹی ان کمبینسی پر مودی لہر بھاری پڑے گی۔ جیت سے بھاجپا کو دہلی میں مضبوطی ملے گی۔ کیجریوال کی گھیرا بندی تیز ہوگی۔ ایم سی ڈی چناؤ کی جیت گجرات ،ہماچل جیسی ریاستوں میں بھاجپا کی چناوی تیاروں کوتقویت دے گی۔ بھاجپا ہاری تو مودی لہر پر مخالف پارٹیاں سوال اٹھائیں گی اور بھاجپا کے خلاف مورچہ بندی تیز ہوسکتی ہے۔ کانگریس جیتی تو پارٹی کے لئے یہ سنجیونی ثابت ہوگی۔ اجے ماکن ٹیم راہل کے قریبی ممبر مانے جاتے ہیں اس لئے جیت کو راہل کے ساتھ بھی جوڑا جائے گا۔ کانگریس اگر تھوڑی سی بھی بہتر پرفارمینس کرتی ہے تو گجرات سمیت دیگر چناؤ میں بھی اسے بھنائے گی۔پارٹی کارپوریشن کی جیت کو کانگریس مکت بھارت کی بات کرنے والی بھاجپا پر پلٹ وار کی شکل میں استعمال کرسکتی ہے۔ اگر کانگریس ہاری تو دہلی میں رسہ کشی بڑھے گی۔ اجے ماکن ہوں گے نشانے پر۔ اب بات کرتے ہیں اروند کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کی۔ بہت سے لوگ ایم سی ڈی چناؤ کو دہلی سرکار کی کارگزاری پر ریفرنڈم مان رہے ہیں۔ پنجاب اور گووا چناؤمیں کراری ہار کے بعد اگر دہلی میں کیجریوال اچھی پرفارمینس نہیں دے پاتے تو ان کی سرکار پر دباؤ بڑھے گا۔ اگر عام آدمی پارٹی ہاری تو ان کا ایک واحد گڑھ دہلی کمزور ہوگا۔ کیجریوال پر قول اور فعل میں فرق کا الزام لگے گا۔ پارٹی میں رسہ کشی بڑھے گی اور اس رسہ کشی سے اسے دوچار ہونا پڑے گا۔ مرکزی سرکار کا دبدبہ دہلی میں اور بڑھے گا۔ کیجریوال کے فیصلوں پر بھی سوال اٹھیں گے۔ تینوں پارٹیوں کے لئے ایم سی ڈی چناؤ نتائج اہم ہیں جو تینوں پارٹیوں کا مستقبل کچھ حد تک طے کریں گے۔
(انل نریندر)

تھیریسا کا جوااور فرانس میں صدارتی چناؤ

یوروپ کے دو ملکوں میں سیاسی ماحول گرمانے لگا ہے۔ فرانس اور انگلینڈ میں عام چناؤ ہیں۔ فرانس میں سب سے زیادہ اتھل پتھل اور غیرمتوقعہ چناؤ ایسے وقت ہورہا ہے جب دیش دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے۔ اس کے چلتے راشٹرپتی کیلئے کل11 امیدواروں میں سے1 محترمہ میرن لی پین کو اچانک بڑھت مل گئی ہے جو اس کے پہلے سروے میں دوسرے مقام پر تھیں۔ محترمہ پین کٹر دکشن پارٹی نیشنل فرنٹ کی امیدوار ہیں جو فرانس میں ٹرمپ کی آئیڈیا لوجی کی متاثر مانی جاتی ہیں۔ فرانس میں صدارتی چناؤ کئی مرحلوں میں ہوتا ہے۔ پہلا دور 23 اپریل کو ہوگیا جس میں ووٹر11 امیدواروں میں سے چناؤ کریں گے ۔ دوسرے اور آخری مرحلہ کا چناؤ7 مئی کو ہونا ہے جس میں اگر کسی کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں ملا (اس کا زیادہ امکان ہے) توزیادہ ووٹ پائے دو لوگوں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ دہشت گردی اب سب سے بڑا اشو بن چکا ہے۔ ادھر برطانیہ میں وزیر اعظم تھیریسا نے منگلوار کو اچانک اعلان کردیا ہے کہ دیش میں عام چناؤ 8 جون کو کرائے جائیں گی۔ انہوں نے کہا وہ بریگزٹ پر یوروپی یونین سے بات چیت کے لئے مضبوط قیادت چاہتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ بات شروع ہونے سے پہلے عام چناؤ کرا دئے جائیں۔ انہوں نے اسکاٹ لینڈ کی لیڈر نکولا اسٹرجن کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے کچھ لیڈر رکاوٹ ڈال رہے ہیں ایسے میں عام چناؤ ضروری ہوگئے ہیں۔ پچھلے چناؤ مئی2015ء میں ہوئے تھے اور اگلے چناؤ 2020ء میں ہونے تھے یعنی دو سال کچھ مہینوں میں ہی لیکن تھیریسا عام چناؤ کروا رہی ہیں۔ تھیریسا کا یہ بڑا یو ٹرن ہے وہ اب تک کہتی رہی ہیں کہ وسط مدتی چناؤ نہیں کرائیں گی تب انہوں نے کہا تھا کہ وقت سے پہلے چناؤ کروانے سے بدامنی پھیلے گی اور دیش کو دھکا لگے گا۔ تھیریسا نے مہارانی ایلزبتھ کو فون کر جلد چناؤ کرانے کی خبردے دی ہے۔ تھیریسا نے یہ فیصلہ لگتا ہے بریگزٹ میں اپنا موقف مضبوط کرنے کے لئے حکمت عملی بدلی ہے۔ اس کے لئے 2015ء میں ڈیوڈ کیمرون کوحیرت انگیز جیت دلانے والی سیاسی گرو کلنٹن کلاس بی کو ذمہ سونپا ہے حالانکہ انہیں ایک جھٹکا بھی لگا ہے۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے کمیونی کیشن چیف کیری پیریئر نے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی لیڈر نکولا اسٹرجن کا کہنا ہے کہ میں نے چناؤ کا فیصلہ لینے سے پہلے ملک کی مفاد نہیں بلکہ پارٹی مفاد دیکھا ہے۔ جواب میں تھیریسا نے کہا کہ ہم عام چناؤ چاہتے ہیں۔ برطانیہ کو مضبوط چاہئے۔ہم یوروپی یونین سے باہر ہورہے ہیں جو فیصلہ بدلہ نہیں جاسکتا۔ 
(انل نریندر)

25 اپریل 2017

کیا کشمیر میں بھاجپا۔ پی ڈی پی اتحاد فیل ہو گیا

کشمیروادی میں قانون و نظم کے حالات دھماکہ خیز ہوتے جارہے ہیں۔ جموں و کشمیر میں پہلی بار اقتدار کا مزہ چکھنے والی بھاجپا کا ذائقہ ریاست میں سرگرم علیحدگی پسندوں نے پتھر بازوں و اتحادی پی ڈی پی نیتاؤں کی آپسی کھینچ تان نے حالات اتنے خراب کردئے ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ خود وزیر اعظم اعتراف کرتے ہیں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ ہمارے فوجی کشمیرمیں سیلاب آنے پر لوگوں کی جان بچاتے ہیں لوگ ان کے لئے تالیاں بجاتے ہیں لیکن بعد میں ہمارے فوجی پر پتھر بھی برساتے ہیں۔تازہ حالات یہ ہیں کہ وادی میں سکیورٹی فورسز پر الگ الگ مقامات پر یومیہ اوسطاً8 مرتبہ پتھر بازی ہورہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کے لئے تلاشی کارراوئی میں رکاوٹ ڈالنے پر ہی سکیورٹی فورس کے ذریعے سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ دیگر معاملوں میں بھی ہمارے بہادر جوان پتھر جھیل کر بھی صبر کرنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک سال میں پتھر بازی کے 7889 واقعات ہوئے ہیں۔ ہر ماہ اوسطاً240 مرتبہ پتھر بازی ہورہی ہے۔ پچھلے سال اپریل میں 97 مقامات پرپتھر بازی کے واقعات ہوئے۔ اپریل کے15 دنوں میں 60 سے زیادہ واقعات ہوچکے ہیں۔ سرینگر ضمنی چناؤ کے بعد پتھر بازی کے واقعات اور بڑھ گئے ہیں۔ دہشت گرد برہان وانی کے مڈبھیڑ میں مارے جانے کے بعد جولائی2016ء میں شر پسندوں نے سکیورٹی فورس پر 837 مقامات پر پتھر برسائے لیکن ان دنوں کشمیر میں قانون و نظم کے حالات اتنے خراب ہیں کہ اتنے کبھی حالیہ تاریخ میں نہیں ہوئے۔ اب تو اسکولی طلبہ کلاسوں سے نکل کر وردی میں سکیورٹی فورس پر پتھر مارنے لگے ہیں۔ مشکل سے 15 دن پہلے ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست میں سب سے لمبی سرنگ کا افتتاح کرتے ہوئے ریاست کے نوجوانوں سے اپیل کی تھی ان کے پاس دو متبادل ہیں ٹورازم یا دہشت گردی۔ جن میں سے وہ کسی کو چن لیں۔روزگار اور تعلیم کے ذریعے وادی میں گمراہ لڑکوں و طلبہ کو قومی دھارا سے جوڑنے کی کوشش ضروری ہے۔ پہلے ان سے رابطہ قائم کیا جائے اور ان کا بھروسہ جیتا جائے لیکن کرنا تو پی ڈی پی سرکار کوہی ہے؟ کیا جموں وکشمیر میں صدر راج کا نفاس بہتر متبادل ہوگا؟ بری فوج کے چیف سرل وپن راوت کے جموں وکشمیر دورہ کے بعد جو رپورٹ سرکار کو سونپی گئی اس نے ریاست میں قانون و انتظام کے حالات باعث تشویش بتائے جانے کے ساتھ ہی اس کی بنیادی وجہ محبوبہ مفتی سرکار کے ذریعے پتھر بازوں کے ساتھ برتی جانے والی نرمی کو بتایا گیا ہے۔ کچھ اسی طرح رپورٹ ریاست کے گورنر ایم ۔ این ۔ووہرا اور قومی سلامتی مشیراجیت ڈوبھال نے بھی دی ہے۔ بھاجپا نے جو کچھ بھی سوچ کر ریاست میں پی ڈی پی کے ساتھ مل کر سرکار بنانے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ تجربہ فیل ہوگیا ہے۔ کشمیر میں اس سے بدتر حالات نہیں ہوسکتے۔ ذرائع کی مانیں تو بھاجپا نے ریاست میں طلاق کے لئے اپنا من بنالیا ہے لیکن طلاق سے پہلے وہ آخری کوشش کرنا چاہے گی۔ اسی کے چلتے بھاجپا صدر امت شاہ 29 اپریل کو جموں جانے والے ہیں۔ وہیں رام مادھو کی پی ڈی پی نیتاؤں سے ریاست میں قانون و انتظام کو لیکر لمبی بات چیت ہوئی ہے۔ دراصل بھاجپا کے لئے جموں و کشمیر کافی جذباتی ریاست رہی ہے لیکن جس طرح سے ریاست میں تقریباً خانہ جنگی کے حالات بنے ہوئے ہیں اس سے کہیں نہ کہیں بھاجپا کو یہ ڈرستانے لگا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں بنی رہی اور ریاست کے حالات نہیں سدھرے تو2019ء میں اپوزیشن پارٹیاں اسے زور شور سے چناؤ میں اٹھائیں گی تو پاکستان بھی پتھر بازی کے واقعات کی آڑ میں اسے پھر سے بین الاقوامی محاذ پر آزادی کی لڑائی کی شکل میں پروپگنڈہ کرنے لگے گا جس کا اثر نہ صرف بھاجپا کی قومیت والی ساکھ پر پڑسکتا ہے بلکہ اسے چناوی سیاست میں بھی خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ریاست میں صدرراج لگانا بھی بہتر متبادل ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

گؤ ہتیا تو ٹھیک پر سڑکوں پر لاوارث گؤوں کا رکھ والا کون

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی دیش میں گؤ ہتیا پر پابندی لگانے کے لئے ایک قانون بنے۔ آرایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت نے بھی مطالبہ کیا ہے لیکن گؤ ہتیا کا اشو الگ ہے لیکن دیش بھر میں لاوارث گؤوں کی حالت پر بھی بحث ہونی چاہئے۔ پچھلے کچھ عرصے سے گائے کو لیکر پورے دیش میں تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے پھر چاہے راجستھان ہو، مدھیہ پردیش یا مہاراشٹر ہو وہاں کی بات تو چھوڑیئے پہلے دہلی میں گؤوں کا کیا حال ہے اس پر تو نظر ڈالیں۔ ایم سی ڈی سے ملی اطلاعات کے مطابق دسمبر 2016ء میں ڈابر ہرے کرشن گؤسدن میں قریب 192 گائے کی موت ہوئی ،یہاں ہر روز اوسطاً 6 سے زیادہ ۔ گوپال گؤ سدن میں تقریباً4 ہزار گائے رکھنے کا انتظام ہے یہاں بھی 172 گائے کی موت ہوئی تھی۔ دہلی کی سب سے بڑی شری کرشن گؤ شالہ میں ساڑھے سات ہزار گائے ہیں یہاں بھی 295 گائے کی موت ہوچکی ہے یعنی ہرروز 8 گائے دم توڑتی ہیں۔ 1994ء میں دہلی میں بی جے پی کی سرکار تھی مدن لال کھرانہ وزیر اعلی ہوا کرتے تھے۔ اسی وقت سے گؤ شالہ کے نام پر زمینی الاٹ ہوئی تھیں جو 1 ر وپیہ فی ایکڑ کے حساب سے دی گئیں اسی وقت لمبی چوڑی زمینیں لی لی گئیں۔ تب سے اب تک اگر گؤوں کی دیکھ ریکھ کی جاتی تو ممکن ہے کہ یہ گؤ شالائیں آج صحت مند گؤوں کا بڑا مرکز ہوتیں لیکن آج تو یہ گؤ شالائیں گؤوں کے لئے نرک بن چکی ہیں۔ ان کے رکھ رکھاؤ کے لئے دہلی سرکار گؤشالاؤں کو یومیہ فی گائے 20 روپیہ گرانٹ رقم دیتی ہے۔ ان میں کھانے کی گرانٹ بھی شامل ہے۔ وہیں ایم سی ڈی کی طرف سے بھی ایک گائے کے کھانے پینے کے لئے 20 روپیہ یومیہ مدد دی جاتی ہے یہاں گؤ شالہ کے پاس یومیہ فی گائے40 روپے آتے ہیں لیکن یہ ناکافی ہیں۔ اس میں دودھ کی قیمت بھی جڑ جائے تب بھی ان کے کھانے پینے کا خرچ نہیں نکل پاتا۔ بتایا جاتا ہے ایک گائے کو یومیہ 15 سے20 کلو تک ہرا چارہ، 5-7 کلو تک بھوسہ، دو سے ڈھائی کلو تک دانا و چوکر دیا جاتا ہے جس پر 250 روپے خرچ آتا ہے۔ دہلی میں گؤوں کی حفاظت اور سڑکوں پر گھومنے والے آوارہ جانوروں کو لیکر سرکار نے 5 شیلٹرس ہوم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ان میں گائے کے علاوہ بیل ، بھینس، بچھڑا وغیرہ کو بھی رکھا جاتا ہے۔ شیلٹروں کا انتظام این جی او کے پاس ہے لیکن سرکار انہیں باقاعدہ رقم فراہم کرتی ہے۔ ایم سی ڈی کی ٹیم میں شامل ایک ملازم نے بتایا ہمارا کام صرف گائے پکڑ کر پاس کی گؤ شالہ تک چھوڑنا ہوتا ہے۔ گؤ شالہ کی حالت کیا ہے یہ جا کر دیکھ سکتا ہے۔ وہاں گائے بیمار پڑی ہے، کہیں زخمی پڑی ہے تو کئی بار گؤ شالہ کنٹرولر باہری لوگوں کو گھسنے نہیں دیتے۔ ایم سی ڈی کے ملازمین کا جانوروں کے تئیں رویہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ گؤوں کو ٹرکوں سے اتارنے چڑھانے کے دوران کافی لاپروائی برتی جاتی ہے جس سے جانور زخمی ہوجاتے ہیں اور جتنا بھی دودھ نکلتا ہے اس کا زیادہ حصہ دواؤں میں استعمال ہوجاتا ہے باقی ملازم ٹھکانے لگا دیتے ہیں۔ 20 فیصدی گائے ہی جو صرف2 فیصدی دودھ دیتی ہیں۔ گؤ ہتیا پر پابندی کی مانگ کرنے والوں سے ہم اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ان سڑکوں پر آوارہ گھومنے والی گؤوں جو پلاسٹک بیگ کھا کر پیٹ بھرتی ہیں ان کی دیکھ بھال کون کرے۔ گائے ہر دیش واسی کے لئے پوجنیہ ہے لیکن شاید ہی کسی کو سڑکوں پر گھومتی لاوارث گؤں کی چنتا ہے۔
(انل نریندر)

23 اپریل 2017

بال بال بچی نواز شریف کی کرسی

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اپریل مہینے کے شکار بننے سے بال بال بچ گئے ہیں۔ دراصل اسی مہینے ماضی گزشتہ میں پاکستانی حکمرانوں کا تختہ پلٹ ہوا ہے۔ انہیں عمر قید کی سزا ملی ہے اور پھانسی پر لٹکایا گیا ہے۔ پاکستان سپریم کورٹ کی جانب سے3-2 سے دئے گئے مخلوط فیصلہ کے سبب نواز شریف اپنی کرسی بچانے میں فی الحال جمعرات کو کامیاب رہے۔ بتادیں کہ پاکستانی سپریم کورٹ پنامہ پیپرس لیک معاملہ کے کیس کی سماعت کررہی تھی۔ پچھلے سال امریکہ میں واقع تفتیشی صحافیوں کو بین الاقوامی فیڈریشن نے پنامہ پیپرس کے نام سے لیک ہوئے دستاویز دنیا سے شیئرکردئے تھے۔ناجائز سرمایہ کاروں کی فہرست میں شریف اور ان کے خاندان کا نام بھی شام ہے۔ کرپشن کے چلتے شریف کو پارلیمنٹ ممبر شپ سے نا اہل قرار دینے والی عرضی پر پانچ نفری سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ کے تین ممبران الزامات کی جانچ کرانے کے حق میں تھے جبکہ دو جج شریف کو نا اہل قرار دینے کے حق میں تھے۔ اکثریت کی بنیاد پر آئے 590 صفحات کے فیصلے کے الزامات کی جانچ کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ دیا گیا جس کے سامنے نواز شریف اور ان کے دو بیٹے حسن اور حسین کو پیش ہونا ہوگا۔ اس جانچ دل میں فیڈریشن انویسٹیگیشن ایجنسی ،نیشنل اکاؤنٹی بلٹی بیورو، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن اور ملٹری انٹیلی جنس کے حکام ہوں گے۔ جے آئی ٹی کو ہر دو ہفتے کی جانچ کی پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنی ہوگی اور 7 دنوں میں فائنل رپورٹ دینی ہوگی۔ دلچسپ ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اسی مہینے آیا ہے جس مہینے اب سے پہلے شریف کو 2000ء میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور ان کی سرکار 1993ء میں برخاست کردی گئی تھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کی سرکار کو اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے مبینہ کرپشن کو لیکر اپریل 1993ء میں برخاست کردیاتھا۔ اس کے بعد 6 اپریل 2000ء کو نام نہاد جہاز اغوا معاملہ میں ایک عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ حالانکہ دوسرے پردھان منتریوں کے لئے بھی اپریل کا مہینہ برا رہا ہے۔ 4 اپریل 1979ء کو سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایک بڑے نیتا کے قتل کی مجرمانہ سازش رچنے کو لیکر پھانسی کے پھندے پر لٹکادیاگیا تھا۔ اس کے کئی برس بعد 26 اپریل 2012ء کو اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت کے ایک حکم کی خلاف ورزی کا قصوروار پایا گیا۔ اسی دن گیلانی کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ موجودہ وزیر اعظم نواز شریف کو فی الحال راحت ضرور مل گئی ہے۔ ان کی اتھارٹی ضرور کم ہوگی، پاکستان میں اب فوج اور زیادہ حاوی ہو جائے گی۔ اس وجہ سے بھارت ۔ پاکستان کے رشتوں میں کڑواہٹ اور بڑھ سکتی ہے۔ حالانکہ دونوں دیشوں کے رشتوں میں پہلے ہی کافی کشیدگی ہے کچھ حد تک یہ رشتے کلبھوشن جادھو کے مستقبل پر ٹکے ہوئے ہیں کیونکہ نواز شریف پہلے سے اور زیادہ کمزور ہوں گے اس لئے فوج کا ان کی سرکار پر اور حاوی ہونا فطری ہے۔ پنامہ پیپرس معاملہ میں سپریم کورٹ کا حکم نواز شریف کو دو طرح سے متاثر کرتا ہے کورٹ نے شریف کو گدی سے فوراً ہٹانے لائق ثبوت نہیں مانیں ہیں۔ حالانکہ کہیں کچھ ٹھیک ٹھاک گڑ بڑ پہلی نظر میں دیکھنے کو ملی ہے۔ جانچ ٹیم کی تشکیل سے نواز شریف سیاسی اور اخلاقی دونوں ہی سطحوں پر کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس لئے عمران خان اور دیگر نیتاؤں نے ان کے استعفیٰ کی مانگ کردی ہے۔ آنے والے دنوں میں نواز شریف اور کمزور ہونے سے اب وہ فوج کے رحم و کرم پر ہیں۔ فوج اس نئے واقعہ کا پورا فائدہ اٹھائے گی اور منمانی اور کرسکتی ہے۔
(انل نریندر)

پہلے آئی ایس آئی اور اب آئی ایس

پاکستانی فوج اور اس کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور آئی ایس نے بھارت کے خلاف کئی مورچے کھول دئے ہیں۔ جموں وکشمیرمیں آئے دن ہماری سکیورٹی فورس پر حملہ ہوتے رہتے ہیں تو دیش کے باقی حصوں میں ان کے حمایتی آتنکی یکدم سرگرم ہوگئے ہیں۔ دیش میں بڑے حملہ کی سازش رچ رہے آئی ایس کے خراسان ماڈول کے 10 مشتبہ آتنکیوں کو یوپی اے ٹی اے سمیت 6 ریاستوں کی پولیس ٹیموں نے جمعرات کو دبوچ لیا ہے۔ ان کو یوپی ، دہلی ،مہاراشٹر، پنجاب ، بہار اور آندھرا پردیش کی مشترکہ کارروائی میں آئی ایس کے 4 مشتبہ آتنک وادیوں کو گرفتار کیا جبکہ6 دیگر کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا گیا۔ یوپی اے ٹی ایس کے ڈائریکٹر جنرل اسیم ارون نے بتایا کہ 4 لوگوں کو دہشت گردی کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کی دیش میں بڑے حملہ کی سازش تھی۔ آتنکی تنظیم آئی ایس بھی اب ہمارے لئے تشویش کا سبب بنتی جارہی ہے۔ پڑھے لکھے درمیانے طبقے کے نوجوان اس کے نشانے پر ہیں۔ مارچ تک دیش میں آئی ایس سے وابستہ 75 آتنک وادی گرفتار ہوئے ہیں۔ این آئی اے یوپی ، بہار، گجرات، مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں سے آتنک وادیوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ گرفتار ہوئے آئی ایس دہشت گردوں میں سے قریب20 کے پاس انجینئرنگ کی ڈگری ہے۔ آئی ایس کی تحریک میں شامل ہوئے30 آتنکی درمیانے طبقے کے پریواروں سے ہیں وہیں 9 اعلی خاندان سے ہیں اور13 غریب کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ تازہ انکشاف کے بعد خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کی چنوتیاں بڑھی ہیں تو ہماری پریشانی بھی بڑھی ہے۔ سچ تو یہ ہے تین چار سال پہلے تک ہماری سرکاریں آئی ایس کے ایسے کسی جال سے انکار کرتی رہی ہیں لیکن پچھلے ڈیڑھ دو سال میں یہ گرفتاریاں خود اپنی کہانی بیان کررہی ہیں۔ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ اپنے گھر میں بری طرح گھرنے کے بعد آئی ایس نے افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں۔ اب بھارت اس کے نشانہ پر ہے۔ ان کی مدد کرنے کیلئے آئی ایس آئی پوری حمایت کررہی ہے۔ آئی ایس آئی کے سلیپر سیل کے ایکٹیویٹ کرانہیں آئی ایس سے جڑنے کو کہا جارہا ہے۔ انٹر نیٹ کے ذریعے دستیاب مواد سے متاثر ہورہے ہیں اور وہ بڑے حملہ کو انجام دینے کے لئے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو چوکسی بڑھانے کا وقت ہے۔
(انل نریندر)