Translater

17 اکتوبر 2015

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے

ایک کہاوت ہے کہ ’’جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے‘‘۔ وہ 2002 گجرات دنگوں سے متعلق آئی پی ایس (برخاست) سنجیو کمار کے مقدمے پر کھری اترتی ہے۔ گجرات کے اس مقبول آئی پی ایس سنجیو بھٹ کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ منگل کو سپریم کورٹ نے معاملوں کی جانچ ایس آئی ٹی کو سونپے جانے اور بھاجپا صدر اور گجرات کے اس وقت کے ریاستی وزیر داخلہ امت شاہ کو معاملے میں فریق بنانے کی بھٹ کی اپیل کو خارج کردیا ہے۔ عدالت نے نہ صرف متنازعہ آئی پی ایس کی عرضیاں خارج کیں بلکہ حقائق کوتوڑ مروڑ کر رکھنے کیلئے بھٹ پر تلخ تبصرے بھی کئے ہیں۔ عزت مآب عدالت نے سنجیو بھٹ کے ارادے پر بھی سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت نے اسی کے ساتھ سابق سرکاری وکیل تشار مہتا (اب ایڈیشنل سالیسٹر جنرل) کے ای میل ہیک کرنے اور اپنے ماتحتوں کو دھمکانے اور ان کے زبردستی حلف نامے دلانے کے الزام میں دائر ایف آئی آر پر سے اسٹے بھی ہٹا لیا ہے۔ سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں عرضیاں داخل کر مانگ کی تھی کہ گجرات دنگوں کے معاملوں میں دباؤ ڈال کر سپاہی کے ۔ ڈی پنتھ سے غلط حلف نامہ دلانے اور گجرات کے اس وقت کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے ای میل ہیک کرنے کے معاملوں کی جانچ ایس آئی ٹی کو سونپی جائے۔ چیف جسٹس ایچ ۔ ایل دوت اور جسٹس ارون مشرا کی بنچ نے بھٹ کی عرضیاں خارج کرتے ہوئے کہا کہ دونوں معاملوں کا ٹرائل جلد ہی پورا کیا جائے۔ بنچ نے کہا کہ یہاں معاملہ صرف اتنا ہے کہ کیا عرضی گزار (سنجیو بھٹ) نے زور ڈال کر کے۔ ڈی پنتھ کا حلف نامہ لیا تھا۔ اس معاملے کی جانچ پوری ہوکر چارج شیٹ بھی داخل ہوچکی ہے۔ چارج شیٹ داخل ہوئے 4 برس گزر چکے ہیں۔
عرضی گزار نے جانچ پر بھی سوال نہیں اٹھایا۔ چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے اور معاملے پر سماعت کے دوران غور ہوگا۔ عرضی گزار ان حالات کو ثابت نہیں کرپایا جس کی بنیاد پر جانچ ایس آئی ٹی کو سونپی جائے۔ سنجیو بھٹ اکلوتے ایسے شخص نہیں جو آدھے ادھورے یا من گھڑت حقائق کے ساتھ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا کر ان کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ ایسے خرافاتی عناصر کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کا مشغلہ ہی عدالت اور عدالت سے کھیلنا بن گیا ہے۔ دو دن پہلے ہی سپریم کورٹ نے مبینہ تابوت گھوٹالے کی جانچ کی مانگ کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی کو خارج کیا تھا۔یہ عجب ہے جب اس مبینہ گھوٹالے کا نپٹارہ دو برس پہلے ہی ہوگیاتھاتب پھر سپریم کورٹ کو اس کے متعلق عرضیوں کی سماعت کیوں کرنی پڑی۔ جیسا میں نے کہا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے سپریم کورٹ نے یہ ثابت کردیا ہے۔
(انل نریندر)

سرحد پار کرنا تو بچوں کا کھیل ہوگیا ہے

فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں تو ایک پاکستانی لڑکی سمجھوتہ ایکسپریس پر سوار اپنی ماں سے بچھڑ گئی تھی اور کیسے اسے سلمان خان نے واپس پاکستان پہنچایا۔لیکن پچھلے کچھ دنوں سے عجیب و غریب خبریں آرہی ہیں کہ کچھ پاکستانی بچے کھیلتے ہوئے ہندوستانی سرحد میں گھس آئے۔
راجستھان کی کھبر والا چوکی پر ہندوستانی فوج نے 3 پاکستانی بچوں سجن ،ساول اور سلیم خاں کو پکڑا تھا۔ کشن گڑھ کی بلج کی کھبر والا چوکی میں یہ بچے بارڈر پر لگی تاروں کی باڑھ کے نیچے گڈھا کھود کر ہندوستانی سرحد میں داخل ہوئے اور ہندوستانی علاقے میں قریب15 کلو میٹر اندر آگئے۔ ہندوستانی سرحد میں گھستے ہی تینوں بچوں کو زنک کھائی ایک ٹنکی ملی اور ایک لڑکا ملا جس نے انہیں پانی پلایا۔ اپنی کھولی میں لے جاکر کھانا کھلایا۔ اگلے دن یہ بچے کریاگاؤں تک پہنچ گئے۔گاؤں والوں کو ان پر شبہ ہوا تو انہوں نے پکڑ لیا۔ تینوں بچوں نے بی ایس ایف کو پوچھ تاچھ میں بتایا کہ وہ میڑھ میں بکریاں چرارہے تھے کچھ مویشی گم ہو گئے تو انہیں تلاشتے رہے، نہیں ملے تو مالک کی پٹائی کے ڈر سے وہ تاروں کی باڑھ کے پاس سے ریت ہٹا کر ہندوستانی سرحد میں آگئے۔ بچوں کے پاس سے ایک کلہاڑی ملی ہے۔ بی ایس ایف اس نظریئے سے بھی پوچھ تاچھ کررہی تھی کہ کہیں انہیں بھیجنے کے پیچھے کوئی سازش تو نہیں؟ پوچھ تاچھ کے بعد بی ایس ایف نے ان تینوں بچوں سجن ، ساول اور سلیم کو جمعرات کو دیر رات پاکستانی رینجروں کو سونپ دیا۔
بی ایس ایف کے ڈی آئی جی روی گاندھی نے بتایا کہ بچوں سے پوچھ تاچھ کے بعد سبھی ایجنسیوں کے افسر اس بات پر متفق تھے کہ وہ کھیل کھیل میں غلطی سے سرحد پار کر کے ہندوستانی علاقے میں آگئے اور وہ کسی غلط مقصد سے نہیں آئے تھے۔ حالانکہ ان میں سے دو بچے واپس نہیں جانا چاہتے تھے لیکن قواعد سے بندھے فورس کے افسران نے انہیں سمجھا بجھا کر واپس بھیج دیا۔ ان بچوں کی حرکت سے یہ نہیں لگتا کہ سرحد پار کرنا کتنا آسان ہے؟ بیکار ہے پاسپورٹ ویزا وغیرہ۔
(انل نریندر) 

16 اکتوبر 2015

Putin's tremendous political stake in Syria

There are reports that many youth have been prevented by the governments of various nations who were trying to go to Syria to join the extreme radical group Islamic State. The tremendous conflict between the Islamic State and the army of President Bashar Al-assad continues in Syria. The way IS was growing in Syria and Iraq seemed it will very soon occupy the entire region and since one year US and European Union did nothing to stop them. They acted as preventing them and instead supplied money and weapons in the dark.

Thanks to Russia who has tried to put a check on the growing speed of IS by precise air strikes. Deputy Chief of General Staff of the Russian Armed Forces Andre Kartapolov said on Saturday that we will not only continue air strikes but accelerate them also. Andre said that hideouts, ammunition and explosive material storage base, tools providing base and terrorist training centers of IS are on the target. He said that Russian planes have undertaken more than 60 operations during the continuous air strikes and have destroyed more than 40 per cent hideouts of IS. These air strikes have filled the Syrian troops with a new passion and confidence and they have become more aggressive in ground war against IS. Recently, Russia fired 26 missiles from the Caspian Sea over IS hideouts in Syria. The missiles from a ship hit the target around 1500 kms away. Russia has proved that it can't watch the show keeping a mum. Hitting missiles 1500 kms away, it has also shaken US and Europe. It is for the first time after the collapse of Soviet Union that Russia has demonstrated its military potential. It has also tried to regain its lost reputation in one stroke. Europe has been shaken by the Russian attacks. US is now openly opposing the Russian intervention. Putin exposed their double standards in such an effective way that one can understand the desperation of US.

On the other hand, Syrian President Bashar Al-assad said that Russian military intervention in the Middle East is a must for the extermination of terrorism. In an interview given to a state TV channel of Iran, President Assad said that Syria will have to join hands with Russia, Iran and Iraq to end terrorism (IS) in the region, or else the entire region will be destroyed. The success of this coalition is likely. Assad also condemned the air strikes from the US led coalition in Syria and Iraq. Amidst the growing Russian military activities in Syria, the US has cautioned Moscow not to interfere in the US led international efforts in the disturbed areas to eliminate Islamic State. White House's Press Secretary Josh Earnest told the reporters that the President Obama has made it clear that Russia should avoid the interference of the 65-member international coalition as they are strengthening the IS instead. Earnest said that the maximum Russian aerial attacks are being carried in areas where the presence of IS is less or nil.

Russia, Syria, Iran and Iraq are in one camp while the US and its NATO allies are in the other camp.  Some experts also believe that situations have become more entangled after the Moscow plunged into the Syrian domestic war. Russia is tightening its grip in Syria day-by-day and the entire world community including the US, NATO remains helpless. Arguably Vladimir Putin has a comprehensive strategy over Syria. Some analysts say that in fact there is a domestic pressure behind Putin's interference in Syria, as due to reduced oil prices and sanctions against Russia after Crimea incident Moscow's financial health is not sound or Putin wants to divert the people's attention towards the growing discontent in the Ukraine. Interestingly, the Arabian countries have kept absolute silence over the Russian air strikes. The reason for their silence may be such that they may be confused, because Russia has played such a game in Syria that nobody ever imagined.

Anil Narendra

ڈریگن کی نئی دھمک: برہمپتر پر باندھ

چین جو کرنا چاہتا ہے کرتا ہے۔ اسے کسی کی پرواہ نہیں۔ خاص کر بھارت کی تو بالکل نہیں۔ 2013ء میں بھارت سرکار کے ایک انٹر منسٹری ماہرین کے گروپ نے کہا تھا کہ چین برہمپتر ندی پر جو باندھ بنارہا ہے اس سے بھارت میں اس ندی کے بہاؤ پر نامناسب اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومت ہند نے سرکاری طورپر باہمی بات چیت میں اس اشو کو بھی اٹھایا تھا۔ مگر چین نے کوئی تشفی بخش جواب نہیں دیا۔ اب خبر آئی ہے کہ چین نے برہمپتر ندی پر یہ بڑا باندھ چالو کردیا ہے۔ برہمپتر پر بننے والے باندھوں سے بھارت کو دوہرا خطرہ ہے۔ چین اگر ان باندھوں سے پانی چھوڑتا ہے تو بھارت کے شمال مشرق سمیت کئی علاقوں میں سیلاب آسکتا ہے۔ اگر اس نے پانی کا ذخیرہ کیا تو ہندوستانی علاقے بوند بوند کو ترس سکتے ہیں۔ بھارت 2013ء میں ایسے حالات کا سامنا کر چکا ہے۔ جب تبت کی پارچھو جھیل سے پانی چھوڑے جانے پر ہماچل کے کئی علاقوں میں باڑھ آگئی تھی۔ چین کے ڈیڑھ ارب ڈالر والے اس ہائیٹرو پاور اسٹیشن نام کے اس باندھ کے چالو ہونے سے بھارت میں پانی کی سپلائی رکنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ چین ہمیشہ یہ کہتا رہا ہے کہ باندھ ایسا نہیں ہے، جس میں پانی جمع کرکے رکھا جاتا ہے بلکہ یہ تھرمل پاور پروجیکٹ کا حصہ ہے ، جو بہاؤ سے متاثررہے گا۔ اس کے باوجو د ایسے اندیشات کبھی بھی دور نہیں ہوئے کہ چین ان باندھوں کا استعمال بھارت (اور آگے بنگلہ دیش) کے حصے کا پانی روکنے اور کبھی ایک ساتھ زیادہ پانی چھوڑنے کے لئے کر سکتا ہے۔ اس لئے منگلوار کو جب جائے ہائیڈرو پاور اسٹیشن پروجیکٹ چالو ہوا تو بھارت کی تشویشات بڑھ گئیں۔ 
اس تھرمل پاور پروجیکٹ کے سبھی 6 سینٹر پاور گریٹ سے جوڑ دئے گئے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے اونچائی پر بنا باندھ ہے۔ اس سے ہر سال ڈھائی ارب کلو واٹ گھنٹہ بجلی پیدا ہوگی۔ برہمپتر تبت سے بہتے ہوئے بھارت آتی ہے۔ تبت میں اسے یارلنگ جھانگبو کہا جاتا ہے۔ جوائے بجلی سینٹر بنانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ اس ندی کے آبی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے اب اتنی بجلی پیدا ہوگی جس سے تبت میں بجلی کی کمی دور ہوجائے گی۔ بہت سے واقف کاروں نے کہا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں بجلی بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر پانی کا قدرتی بہاؤ راستہ بدلنا پڑ سکتا ہے۔
ایسا ہوا تو اندیشہ ہے کہ برہمپتر ندی پر بن رہے ہندوستانی پروجیکٹوں میں رکاوٹیں کھڑی ہوجائیں گی۔ پہلے کے اتفاق رائے کے مطابق چین ہر سال مئی سے اکتوبر تک برہمپتر ندی میں باڑھ کے حالات سے متعلق تفصیلات بھارت سے شیئر کرتا ہے۔مگر نیاباندھ بننے کے بعد اب حالت بدل گئی ہے۔ بہتر ہوگا کہ بھارت سرکار چین سے بات چیت میں اسے ترجیح دے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نئے پروجیکٹ سے چین کے ہاتھ ایک نئی طاقت آگئی ہے۔
(انل نریندر)

ڈاکٹر گوگل سرچ سے کررہے ہیں علاج

ڈاکٹروں کی لاپروائی سے مریضوں کی جان جانا معمولی لاپروائی نہیں ہے۔ آپ کسی کی جان سے کھیل رہے ہیں۔ ایک طرح سے ایک مریض کے قتل کرنے کی مانند ہے۔ کچھ دن پہلے دہلی کے دو بڑے ہسپتال صفدرجنگ و ہندوراؤ میں ڈاکٹروں کی لاپروائی سے ایک8 سالہ بچے کا پیڑ کٹا ہوا کہا تھا کہ بچے کے بائیں پیر میں شیشہ پھنس گیا تھا۔ دونوں ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی لاپروائی سے بچے کا پیر کاٹنا پڑا۔ معاملے میں دہلی میڈیکل کونسل (ڈی ایم سی) نے دونوں ہسپتالوں کے چار ڈاکٹروں کا لائسنس ایک مہینے کے لئے منسوخ کردیا ہے۔ یہ واردات دہلی میں ہیلتھ سہولیات کی بدحالی اور ڈاکٹروں کی لاپروائی کو بیان کرتی ہے۔ اس سے صاف ہے کہ دہلی کے ڈاکٹر خاص کر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو نہ تو صحیح ڈھنگ سے دیکھتے ہیں اور نہ ہی صحیح علاج کرتے ہیں۔ یہ حال اکیلے بھارت کا ہی نہیں اب تو ایک نیا مسئلہ کھڑا ہورہا ہے۔ آپ اسے ڈیجیٹل کلچر بھی کہہ سکتے ہیں اور میڈیکل سیکٹر کی بے بسی بھی۔ایشیا بھر میں ہوئے ایک مطالعہ کے مطابق90فیصد ڈاکٹر علاج کیلئے گوگل کا استعمال کررہے ہیں اور نیٹ سرچ کے بھروسے ہیں۔ ریفرینس کیورنگ ٹریٹمنٹ اینڈ سرجری کے تحت کئے گئے اس مطالعہ میں یہ پتہ لگانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ڈاکٹر علاج کے دوران کس ذریعے کی مدد لیتا ہے۔ کس میڈیسن پربھروسہ کرتے ہیں۔ اسٹڈی میں پایا گیا کہ ڈاکٹرز ایک دن کے کام میں تقریباً 6 پروفیشنل سرچ کرتے ہیں۔ یہ بھی پایا گیا کہ 58 فیصد فزیشن سسٹم پر ہی نیٹ سرچ پر یقین کررہے ہیں۔ جبکہ14 فیصد ابھی بھی شائع میڈیکل مواد پر بھروسہ کرتے ہیں۔ 3 میں سے1 فزیشین کا جواب تھا کہ وہ مریض کے علاج کے دوران موبائل سرچ کرلیتے ہیں۔ 
انٹر نیٹ آنے سے اور سب طرح کی معلومات دستیاب ہونے کی وجہ سے اب تو مریض خود بھی بیماری کی جانکاری نیٹ سے لے لیتے ہیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ مریض جاننے لگا ہے کہ اسے کیا بیماری ہے اور اس کا کیا علاج ہے؟ اب ایسے مریضوں کو ڈاکٹرآسانی سے بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ دیش میں مریضوں کا علاج کرنے والے کئی ڈاکٹروں کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اسٹڈی میں سامنے آیا ہے کہ کام کاج کے بوجھ سے سنبھلنے کے لئے کچھ ڈاکٹر اب نشے کے عادی بھی ہورہے ہیں۔ انہوں نے شروع میں مریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والی نشیلی دواؤں کا استعمال اپنی کشیدگی دور کرنے کیلئے کیا بعد میں انہیں نشے کی لت لگ گئی۔ بنگلورو میں واقعہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ یورو سائنس کے پانچ سال کی ایک اسٹڈی میں یہ خلاصہ ہوا ہے۔ اسٹڈی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ جرنل کے تازہ شمارے میں اسٹڈی کو شائع کیا گیا ہے۔ مریضوں کو بھلے ہی نشیلی گولیاں ملنا مشکل ہوں لیکن ڈاکٹروں کو یہ آسانی سے مل جاتی ہیں۔ 
(انل نریندر)

15 اکتوبر 2015

دیش کی تعمیر نو کے ساتھ منقسم نیپال میں اتحاد قائم کرنا ہوگا

کھڑگ پرساد شرمااولی کی نیپال کے 38 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے تاجپوشی کے بعد امید کی جانی چاہئے ہمالیہ کی گود میں بسے اس ملک میں جلد ہی استحکام قائم ہوجائے گا۔ چین حمایتی لیفٹ پارٹی کے سب سے بڑے لیڈر کے طور پر ان کا وزیر اعظم چنا جانا جتنا اچھا مانا جارہا ہے اتنا ہی فطری بھی ہے۔ ان سے بھارت اور دنیا کی بڑی توقعات ہیں۔ انہیں پرچنڈ کی قیادت والی دیگر لیفٹ پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤ وادی) کے ساتھ ہی ایک درجن سے زائد چھوٹی بڑی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہونے کا سیدھا مطلب ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کا راستہ آسان ہوگا۔ اپنے لمبے سیاسی اور جدوجہد بھری زندگی میں14 برس جیل میں گزار چکے اس کمیونسٹ لیڈر کیلئے یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ انہوں نے نیپالی کانگریس کے سابق وزیر اعظم سشیل کمار کوئرالہ کو ہرا کر پارلیمنٹ کے اندر اپنی پکڑ ثابت کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ راج شاہی کے خاتمے کے بعد پچھلی ایک دہائی سے نیپال سیاسی طور سے بیحد اتھل پتھل کے دور سے گزرا ہے اور بچی کچی کثر اس برس آئے خوفناک زلزلے نے پوری کردی۔ اب اولی کے سیاسی نظم اور ٹیلنٹ کے امتحان کی گھڑی آگئی ہے۔ ایک طرف بھارت تو دوسری طرف چین۔ ایک طرف مدھیشی اور دوسری طرف پہاڑ کی عوام ۔ ان میں کیسے تال میل بٹھاتے ہیں۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگیا ہے ۔ اولی نے دیش کی باگ ڈور ایسے وقت میں سنبھالی ہے جب نیا آئین بننے کے بعد مدھیشی اور تھارو جن جاتی کی تشدد آمیز تحریک کا سامنا کررہا ہے۔ آئین بناتے وقت ان کی توقعات پر توجہ نہ رکھے جانے کا الزام ہے۔ بھارت سے نیپال کی 1750 کلو میٹر لمبی سرحد لگتی ہے اور ترائی کا پورا علاقہ ہندوستان سے لگا ہوا ہے۔ مدھیشیوں کے کلچرل رشتے نیپال کے پہاڑی علاقوں سے زیادہ بھارت سے ہیں۔ تحریک کے تشدد اختیار کرلینے کی وجہ بھارت سے جانے والے سامان اور پیٹرو منصوعات نیپال نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ مدھیشی ناکہ بندی اس کی سب سے بڑی وجہ رہی ہے۔ ا نکار کے بعد بھی وہاں کی زیادہ تر پارٹیاں بھارت کو ہی قصوروار مان رہی ہیں۔ مدھیشیوں کی ہمدردی بھارت کے ساتھ ہے اور ان کی اس سے زیادہ توقعات بھی ہیں وہ چاہتے ہیں کہ بھارت درپردہ طور پر مداخلت کرے۔اولی کے سامنے دیش کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ مدھیشی اور تھارو جن جاتی سمیت دیگر ناراض لوگوں کو نیپال کی 67 سالہ تاریخ میں 7ویں آئین کی منظوری کے بعد ساتھ ساتھ مل کر دیش کو آگے بڑھانے کی زبردست چنوتی ہوگی۔ جہاں تک بھارت کا سوال ہے فی الحال ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ نیپال نے ہماری جگہ چین کے قریب آنا بہتر سمجھا۔ نیپال پر چین کی گہری نظر لگی ہوئی ہے۔ وہ تو چاہتا ہے کہ میکرین بھارت کو نیپال سے دور کردے تاکہ تبت کی طرح وہ نیپال میں بھی منمانی کرسکے۔ دیکھیں اولی ان سبھی مسائل کا کیا حل نکالتے ہیں۔
(انل نریندر)

کوئی ایک انچ حصہ بتائیں جہاں گنگا صاف ہے

گنگا کی صفائی کا عزم بار بار دوہرائے جانے کے باوجود حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور حالات تقریباً جوں کے توں بنے ہوئے ہیں۔ عدالتیں بھی کئی بار گنگا کو آلودگی سے بچانے کیلئے حکم دے چکی ہیں اور اس میں بڑھتی جارہی کوتاہی پر مرکز اور ریاستی سرکاروں کو پھٹکار لگا چکی ہیں۔ گنگا کو نرمل بنانے کی مہم میں نیشنل گرین ٹریبیونل یعنی قومی ہرت جوڈیشیلزم نے سخت رویہ اپناتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اتھارٹیوں سے پوچھا ہے کہ گزرے 23 برسوں میں ہزاروں کروڑ روپے پھونکنے کے بعد بھی 2500 کلو میٹر لمبی گنگا کا ایک انچ بھی حصہ کیا صاف ہے؟ گنگا کی حالت بدسے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ مرکزسے اتنا پیسہ ریاستوں کو ملا ہے اس کے باوجود گنگا بدحال ہے۔ اترپردیش اور اتراکھنڈ کو پھٹکار لگاتے ہوئے گرین پینل نے کہا کیوں انہیں چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے مرکز سے بھی پیسہ چاہئے؟ ریاست کی اپنی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ جبکہ پانی، ماحولیات جیسے اشو ریاست کے ہیں۔ گنگا ورکنگ پلان کو شروع ہوئے 30 سال گزر گئے ہیں۔ اس دوران قریب پانچ ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں ۔ مگر حالت یہ ہے کہ ہر سال گنگا میں گندگی مزید بڑھ جاتی ہے۔اس کی صفائی کا کام مرکز اور ریاستی حکومتوں کو مل کر کرنا تھا۔ اس میں 70فیصد پیسہ مرکز اور30 فیصد متعلقہ ریاستی حکومتوں کو لگانا تھا مگر حالت یہ ہے کہ انڈسٹریل یونٹوں اور شہری علاقوں سے نکلنے والے گندے پانی کے ٹریٹمنٹ کیلئے آج تک نہ تو کافی تعداد میں پلانٹ لگائے جاسکے ہیں اور نہ ہی انڈسٹریل کچرے کے نپٹان کا مکمل انتظام ہوپایا ہے۔
انڈسٹریل یونٹوں سے نکلنے والا زہریلا پانی جگہ جگہ گنگا میں سیدھے مل کر گنگا کو ناپاک بنا رہا ہے۔ بیشک کئی بارنیشنل گرین ٹریبیونل کی پھٹکار اور صنعتی یونٹوں کے خلاف سخت قدم اٹھانے کا منصوبہ ضرور باندھا گیا لیکن نتیجہ وہی صفر کا صفر رہا۔ وجہ صاف ہے نہ تو کوئی ٹھوس اسکیم بن سکی اور نہ ہی مرکز اور ریاستوں کے درمیان اس پر ضرور تال میل قائم ہوسکا۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود گنگا کو صاف کرنے کی بات کہہ چکے ہیں، بھاجپا نے تو گنگاکو آلودگی سے پاک بنانے کا چناوی اشو بھی بنایا تھا۔ وارانسی سے ایم پی چنے گئے نریندر مودی خود اس میں کافی دلچسپی لیتے رہے ہیں۔اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے امابھارتی کی رہنمائی میں اس کے لئے ایک محکمہ بھی قائم کیا، بڑے بڑے دعوے کئے گئے مگر ڈیڑھ سال میں ایک بھی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا جو سبززاری پلان پر عمل کرسکے۔ گنگا بھارت کی لائف لائن ہے اور اس کی پاکیزگی دیش اور دیش واسیوں کے روشن مستقبل سے وابستہ ہے۔ گنگا کی صفائی مذہبی اشو نہیں ہے اس میں سبھی دیش واسیوں کا مفاد جڑا ہوا ہے سبھی کو مل کر گنگا کو بچانا ہوگا۔
(انل نریندر)

14 اکتوبر 2015

شام میں پوتن کا زبردست سیاسی داؤں

آئے دن خبریں آ رہی ہیں کہ مختلف ملکوں میں کئی لڑکوں کو وہاں کی حکومتیں نے روکا ہے جو کٹر پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ میں شامل ہونے کے لئے شام جانے کی کوشش کررہے تھے۔ شام میں اسلامک اسٹیٹ اور صدر بشرالاسعد کی فوج میں زبردست جنگ چل رہی ہے۔ شام اور عراق میں جس رفتار سے آئی ایس بڑھ رہی تھی اس سے لگتا تھا کہ وہ بہت جلد ہی اپنا قبضہ پورے علاقے میں کر لے گی اور ایک سال سے امریکہ اور یوروپی ساتھی ملکوں نے انہیں روکنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ روکنے کا ڈرامہ کرتے رہے اور اندر خانے انہیں پیسہ و ہتھیار بھی سپلائی کرتے رہے۔بھلا ہو روس کا جس نے تابڑ توڑ ہوائی حملے کرکے آئی ایس کی بڑھتی رفتار پر روک لگانے کی کوشش کی ہے۔ روس کی مصلح فورسز کے جنرل اسٹاف کے ڈپٹی چیف اینڈری کرتفکولاف نے سنیچر کو کہا کہ ہم نہ صرف ہوائی حملے جاری رکھیں گے بلکہ انہیں تیز بھی کریں گے۔ اینڈری نے کہا کہ آئی ایس کے حملہ بولنے والے ٹھکانے گولہ بارود اور دھماکو سامان والے اڈے اوزار مہیا کرانے والی جگہ اور دہشت گردی ٹریننگ کیمپ خاص طور سے نشانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا روس کے جہازوں نے تابڑ توڑ حملوں کے دوران 60 سے زیادہ کارروائیاں کی ہیں اور آئی ایس کے 40 فیصد سے زیادہ ٹھکانوں کو تباہ برباد کردیا ہے۔ ان ہوائی حملوں سے شام کے فوجیوں میں بھی نیا جوش آگیا ہے اور وہ آئی ایس کے خلاف زمینی لڑائی میں جارحیت دکھانے لگے ہیں۔ پچھلے دنوں روس نے کیسپین سی سے 6 مزائلیں شام میں آئی ایس کے ٹھکانوں پر داغیں۔ ایک جہاز سے ان مزائلوں نے تقریباً 1500 کلو میٹر دور تک ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ اس حملے سے روس نے یہ بھی ثابت کردیا کہ روس چپ بیٹھ کر تماشا نہیں دیکھے گا۔ اس نے ان میزائلوں کو 15 کلو میٹر دور سے داغ کر امریکہ اور یوروپ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سوویت روس کے زوال کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب روس نے اس طرح کی اپنی فوجی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ روس نے اپنی کھوئی ساکھ کو بھی ایک جھٹکے میں دوبارہ سے بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ یوروپ تو روسی حملوں سے ہل گیا ہے۔ امریکہ اب کھل کر روسی مداخلت کی مخالفت کررہا ہے ان کے دوہرے پیمانوں کو جتنے موثر ڈھنگ سے پوتن نے بے نقاب کیا ہے اس سے امریکہ کی بوکھلاہٹ سمجھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف شام کے صدر بشر الاسد نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشرق وسطی میں روسی فوجی مداخلت ضروری ہے۔ صدر اسد نے ایران کے ایک سرکاری ٹی وی چینل کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگر اس علاقے میں دہشت گردی (آئی ایس) کو ختم کرنا ہے تو شام کو روس، ایران اور عراق کے ساتھ ہونا پڑے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پورا خطہ تباہ ہوجائے گا۔ اس اتحاد کی کامیابی کا پورا امکان ہے۔ اسد نے شام اور عراق میں امریکی قیادت والے محاذ کے ذریعے ہو رہے ہوائی حملوں کی بھی مذمت کی تھی۔ شام میں روس کی بڑھتی فوجی سرگرمیوں کے درمیان امریکہ نے جنگ زدہ علاقے میں اسلامک اسٹیٹ کے خاتمے کے لئے اپنی قیادت میں چل رہی بین الاقوامی کوششوں میں ماسکو کو مداخلت نہ کرنے کیلئے آگاہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جان اورنیسٹ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ صدر اوبامہ نے یہ صاف کردیا ہے کہ روس کو65 ممبروں والے اس بین الاقوامی اتحاد میں مداخلت سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ الٹا آئی ایس کو مضبوط کررہے ہیں۔ اورنیسٹ نے کہا کہ روسی فوج کے زیادہ تر ہوائی حملے ان علاقوں میں کئے جا رہے ہیں جہاں پر آئی ایس کی موجودگی نہ کے برابر ہے۔ روس ،ایران اور عراق ایک خیمے میں ہے اور امریکہ و اس کے ساتھی دوسرے خیمے میں ہیں۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ شام گھریلو جنگ میں ماسکو کے کودنے سے حالات اور زیادہ پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ روس۔ شام میں اپنی پکڑ دنوں دن مضبوط کرتا جارہا ہے اور امریکہ، نیٹو سمیت پوری عالمی برادری بے بس تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ولادیمیر پوتن کے پاس شام کو لیکر یقیناًایک مفصل حکمت عملی ہے۔ کچھ واقف کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں پوتن کی دخل اندازی کے پیچھے دراصل گھریلو دباؤ ہے، کیونکہ تیل کی گھٹی قیمتیں کیریمیا کے واقعہ کے بعد روس کے خلاف لگی اقتصادی پابندیوں کے سبب ماسکو کی مالی حالت پتلی ہوگئی ہے یا پھر پوتن یوکرین میں بڑھتی ہوئی شورش سے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے چاہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عرب دیش روسی ہوائی حملوں پر بالکل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کی خاموشی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ غلط فہمی کی حالات میں ہوکیونکہ شام میں روس نے ایسا ہی داؤں کھیلا ہے جس کا تصور بھی کسی کو نہ ہو۔
(انل نریندر)

غلام علی کے پروگرام کی مخالفت

شیو سینا کے احتجاج کے چلتے پاکستان کے مشہور غزل گلوکار غلام علی کا ممبئی کے بعد پونے میں بھی پروگرام منسوخ ہوگیا ہے۔ شیو سینا کے اس احتجاج کی دونوں طرف حمایت بھی ہورہی ہے اور مخالفت بھی۔ شیو سینا نے اپنے احتجاج کو صحیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیش میں فوجی شہید ہوتے رہے اور یہاں آننداٹھایا جاتا رہا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ پارٹی نے کہا کہ وہ تب تک پاکستان کا بائیکاٹ جاری رکھے گی جب تک وہ دیش دہشت گردی سرگرمیوں پر روک نہیں لگاتا۔ یوتھ سینا (شیو سینا کی یوتھ ونگ) کے چیف آدتیہ ٹھاکرے نے کہا پاکستان لگاتار جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ ہم یہاں آنند نہیں اٹھا سکتے اور وہ بھی تب جبکہ سرحد پر ہمارے فوجی تکلیف میں ہوں۔ شیو سینا کے چیف ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ہم سبھی کو غلام علی کے گیت پسند ہیں لیکن ہمیں فوجیوں کے تئیں تھوڑی ہمدردی رکھنے کی ضرورت ہے۔ شیو سینا کوکچھ فلمی ہستیوں سے بھی اس مہم میں حمایت ملی ہے۔ غزل گلوکار ابھیجیت، اشوک پنڈت دونوں نے پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کو بھارت آنے اور شو کرنے کی مخالفت کی ہے۔ پنڈت کا کہنا تھا کہ ان پاکستانی فنکاروں نے کبھی بھی پاکستان اسپانسر بھارت کے خلاف جاری دہشت گردی کی مخالفت نہیں کی۔ کبھی بھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ غلط ہورہا ہے اور اسے روکنا چاہئے۔ کچھ وقت پہلے راج ٹھاکرے چناؤ بھلے ہی ہار گئے ہوں مگر ان کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا نے بھی مہاراشٹر میں پاکستانی فلم ’بن روئے‘ کی ریلیزکی مخالفت کی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فلم ریاست میں ریلیز نہیں ہوئی۔ ایم این ایس کی فلم یونٹ نے بالی ووڈ میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف حملہ بول کا اعلان کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی بالی ووڈ فلم میں پاکستانی فنکاروں کو برداشت نہیں کرے گی۔ اس شاخ کے چیف ابھے کھوپکر نے میڈیا سے کہا کہ ہم ایسے کسی بھی فلم ساز کو نہیں بخشیں گے جو پاکستانی آرٹسٹ کو اپنی فلم میں لے گا۔ ہم مانتے ہیں کہ سیاست اور فن الگ الگ چیزیں ہیں اور ہمیں انہیں ملانا نہیں چاہئے لیکن پاکستان مسلسل بھارت پر حملے کررہا ہے اور ہم ہمیشہ دوستی کا ہاتھ بڑھاتے رہے ہیں۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ کیا پاکستان یا کسی بھی پاکستانی تنظیم نے لتا منگیشکر ،امیتابھ بچن کو اپنے دیش میں مدعو کیا ہے؟ یہ پاکستانی آرٹسٹ پیسہ اور شہرت کمانے کے لئے بھارت آتے ہیں اور پھرپاکستان چلے جاتے ہیں۔ کچھ وقت پہلے راحت فتح علی خاں اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر 50 لاکھ روپے لیکر جاتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔وہ دہلی میں ایک شادی تقریب میں شرکت کیلئے آئے تھے۔ ہماری فلموں پر پاکستان میں پابندی لگتی ہے۔ حال ہی میں ’فینٹم‘ فلم پر اس لئے پابندی لگائی گئی ہے کیونکہ اس میں ایک اداکار کی شکل اور نام لشکر طیبہ کے چیف حافظ سعید سے ملتی تھی۔ اگر پاکستان ہندوستانی آرٹسٹوں اور فلموں پر پابندی لگاتا ہے تو ہم کیوں ان کے آرٹسٹوں کو یہاں پیسہ اور شہرت کمانے پر پابندی نہیں لگا سکتے؟ یہی وجہ ہے کہ بھارت۔ پاک کرکٹ سیریز نہیں ہوپائے۔ اگر ہم پاکستانی کرکٹ ٹیم یہاں آنے اور آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی لگا سکتے ہیں تو پاکستانی آرٹسٹوں پر کیوں نہیں؟
(انل نریندر)

13 اکتوبر 2015

آئی ایس کی بھارت میں دستک ، حملے کی تیاری

شام اور عراق و لیبیا میں کہرام مچا رہی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) اب بھارت میں بھی دستک دینے لگی ہے۔ خفیہ بیورو کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایس نے بنگلہ دیش میں تو اپنی سرگرمیاں چالو کی ہی ہیں لیکن اس سے لگے مغربی بنگال کے کچھ اضلاع میں وسیع پیمانے پر پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ ان پوسٹروں میں لڑکوں سے تنظیم میں بھرتی ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ کشمیر میں تو آئے دن آئی ایس کے جھنڈے لہراتے کچھ کشمیری نوجوان نظر آتے ہی تھے، اب مغربی بنگال میں بھی آئی ایس کے حمایتیوں نے اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔ یہ پوسٹر مغربی بنگال کے مرشد آباد و نادیہ ضلع میں لگائے گئے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ مغربی بنگال میں سرگرم جماعت مجاہدین بنگلہ دیش میں نئی بھرتیاں آئی ایس کو مضبوط بنانے کیلئے کررہی ہے۔ پچھلے ہفتے اسلامک اسٹیٹ نے بھارت کے پڑوس میں دہشت کی دستک دے دی ہے۔ اس کٹر دہشت گرد تنظیم کی مانیں تو اس نے بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کے ہائی سکیورٹی والے ڈپلومیٹک ایریا میں اٹلی نژاد ایک معاون ملازم کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے کیونکہ بنگلہ دیش سے لگتی بھارت کی زیادہ سرحدیں کھلی ہوئی ہیں ایسے میں اس دہشت گرد تنظیم کے بھارت میں پاؤں پھیلانے کا اندیشہ تیز ہوگیا ہے۔ ایسی ہی ایک رپورٹ کے مطابق آئی ایس تہواروں میں راجستھان اور دہلی پر آتنکی حملہ کرسکتا ہے۔ آپ کو بتادیں ، اسلامک اسٹیٹ ہندوستانی نوجوانوں کو رجھانے کے لئے سوشل میڈیا کا جم کر استعمال کررہی ہے اور حالیہ مہینوں میں قریب40 لڑکے اس کے جھانسے میں آچکے ہیں۔ چونکانے والی خبر یہ بھی ہے کہ آئی ایس کے خلاف دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے باقاعدہ ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ سیل کی آتنک انسداد یونٹ نے آئی ایس کے خلاف دیش میں یہ پہلی ایف آئی آر درج کی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو مقدمہ قریب دو مہینے پہلے درج کیا گیا اور اسے بیحد راز میں رکھتے ہوئے صرف وزارت داخلہ کو ہی اطلاع دی گئی۔ گذشتہ دنوں خفیہ ایجنسیوں نے آگاہ کیا تھا کہ آئی ایس دہلی اور آس پاس کی ریاستوں میں آتنکی حملے کی اسکیم بنا رہی ہے اس میں نوجوان شامل ہوسکتے ہیں لہٰذا پولیس نے نوجوانوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی شروع کردی ہے تاکہ وہ آئی ایس کی حمایت میں نہ آئیں۔ دہشت گردی تنظیم سے وابستہ ترکی شہری بھارت کے خلاف حملے میں شامل ہوسکتے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے اس اطلاع کی بنیاد پر جانچ کیلئے دہلی پولیس نے آئی ایس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم تیزی سے بھارت میں جڑیں پھیلا رہی ہے۔ و ہ خاص فرقے کو تنظیم سے جوڑ رہی ہے۔ ان کے نشانے پر ایسے ہندوستانی نوجوان ہیں جو بیرونی ممالک میں رہ رہے ہیں اور اس کے اصول سے آراستہ ہیں۔ ادھر امریکی سکیورٹی ایجنسی ایف بی آئی نے ایک نہایت سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ ایف بی آئی حکام نے پانچ سال میں ایسی چار کوششوں کو ناکام کیا جس کے تحت روس سے رابطے والے اسمگلنگ کے گروہ نو آئی ایس سے سودے بازی کرنی چاہی تھی۔ سب سے تازہ معاملہ اسی سال فروری میں سامنے آیا جب ایک اسمگلر آئی ایس کو کوئی نشہ آور چیز بیچنے کے فراخ میں تھا۔ اس کی تھوڑی سی مقدار سے ہی سینکڑوں گھروں اور دفتروں کو ایک ساتھ نرغے میں لینے والے اثر ڈالنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ انڈر کور جانچ کو مولڈووا میں مرکوز رکھا گیا تھا۔ مولڈووا مغربی یوروپ میں رومانیہ اور یوکرین کے درمیان واقع ہے۔2011 میں دی کولونل کے فرضی نام والے ایک روسی شخص کی قیادت میں چلنے والے گروپ نے بم بنانے میں استعمال ہونے والے یورینیم کو سوڈان کے ایک شخص کو بیچنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے ساتھ ڈرٹی بم بنانے کا بلو پرنٹ بھی تھا۔ بتایا جاتا ہے دی کولونل روس کی انٹیلی جنس ایجنسی میں افسر رہ چکا ہے۔ اس کوشش کو مڈل مین کے گھر پر چھاپہ مار کر ناکام کیا گیا لیکن وہ بھاگنے میں کامیاب رہا۔ اب یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ بلیک مارکیٹ میں دستیاب روس کی ریڈیو ایکٹیو سامان کا اسمگلر کہاں لین دین کرا رہے ہیں لیکن ہماری تشویش کا باعث یہ بھی ہے کہ آئی ایس اب بھارت میں پاؤں جمانے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ جسے ہر قیمت پرہمیں ناکام کرنا ہے۔
(انل نریندر)

عاصم کی برخاستگی ایک مثال یا ڈرامہ

اس میں کوئی شبہ نہیں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنے ایک وزیر کو برخاست کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ کرپشن سے کہیں سمجھوتہ نہیں کریں گے چاہے وہ شخص کوئی بھی ہو۔ انہوں نے صاف ستھری سیاست کا ثبوت دیا ہے جو دوسری پارٹیوں و لیڈروں کیلئے بھی ایک مثال ہے۔ بیشک ایسا کرنے کا ان کا پورا اختیار ہے لیکن انہوں نے جس ڈھنگ سے اپنے وزیر عاصم خاں کو برخاست کیا ہے وہ طریقہ شاید صحیح نہیں ہے۔ اس طریقے سے تو کوئی اپنے چپڑا سی کو بھی نہیں نکال سکتا۔ کیا انہیں عاصم احمد خاں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقعہ نہیں دینا چاہئے تھا؟ انہوں نے وہ ویڈیو کلپ صحیح بھی ہے کیااس کی جانچ کی تھی۔ ویڈیو کلپ میں اکیلے عاصم ہی بات نہیں کررہے تھے، وہ بچولیہ کون تھا؟ اس کا نام کیوں نہیں بتایا گیا اور کیا وہ بچولیہ عام آدمی پارٹی کا ممبر ہے؟ عاصم خاں تو یہی کہتے ہیں لیکن سوال اس لئے اٹھ رہے ہیں کیونکہ پہلے جب بھی ایسے دیگر معاملے سامنے آئے ہیں، آڈیو کلپ سامنے آئے ہیں تو ان کی سچائی پر خود کیجریوال سوال کھڑے کرتے رہے ہیں۔ جانچ کرنے کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے اور ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقعہ دیا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے عاصم خاں حقیقت میں کرپٹ ہوں اور اس کے خلاف کی گئی کارروائی صحیح بھی ہو لیکن اس کے خلاف کارروائی کا طریقہ کئی سوال ضرور کھڑے کرتا ہے۔ مکان تعمیرات میں 6 لاکھ روپے رشوت مانگنے کے معاملے میں برخاست منتری عاصم خاں نے الزام لگایا ہے کہ انہیں ایک بڑی سازش کا شکار بنایا گیا ہے اور انہیں ہٹانے کی وجہ آپ پارٹی کی اندرونی سیاست ہے اپنی جان کوخطرہ بتاتے ہوئے عاصم خاں نے کہا کہ کیبنٹ سے نکالے جانے سے پہلے انہیں ڈھائی گھنٹے تھے کمرے میں بند رکھا گیا۔ انہوں نے منتری بنائے جانے والے عمران حسین پر بھی کئی سنگین الزام لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ایک ایسے شخص کو کیجریوال کیبنٹ میں شامل کیا جارہا ہے جس کے خلاف پہلے سے ہی سنگین الزام ہیں۔ سابق وزیر نے کہا کہ وہ دو تین دن میں ایک بڑا خلاصہ کریں گے۔ خاں نے یہ بھی کہا جس بلڈر (جاوید)سے 6 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام لگایا جارہا ہے وہ بلڈر ان کے ساتھ ہے ۔ پریس کانفرنس کے دوران جاوید بھی ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ جب کرپشن کے الزامات پر عاصم کو برخاست کیا جا سکتا ہے تو سومناتھ بھارتی، جتیندر تومر، منوج کمار ، سریندر کمار، منیش سسودیا، کپل مشرا اور ستیندر جین کے خلاف کیجریوال نے ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ جب سے کیجریوال نے ذمہ داری سنبھالی ہے تبھی سے ان کی ہر پریس کانفرنس میں چاہے اشو کوئی بھی ہو، وہ پردھان منتری پر نشانہ لگانے سے باز نہیں آتے؟ اب آپ دیکھئے کہ معاملہ عاصم کو ہٹانے کا تھا لیکن کیجریوال نے مودی کے خلاف اپنی بھڑاس نکال لی۔انہوں نے فوراً وزیر اعظم سے یہ مانگ کر ڈالی کہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان و راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے کو بھی ہٹانا چاہئے۔ کیا عاصم خاں کا موازنہ شیو راج اور وسندھرا سے کیا جاسکتا ہے؟ کیا ان کے معاملے بھی عاصم معاملے کی طرح ہیں؟ انہوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ اگر انہیں کوئی شکایت ملتی ہے تو وہ ثبوت دیں۔سبھی جانتے ہیں کہ انہوں نے فرضی ڈگری والے اپنے وزیر کو تب تک نہیں ہٹایا جب تک عدالت نے انہیں جیل بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے ماکن نے اس معاملے میں وزیر اعلی کیجریوال پر زبردست حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں وزیر اعلی کو یہ بھنک لگ گئی تھی کہ سی بی آئی عاصم کے خلاف کارروائی کرنے والی ہے لہٰذا اپنا بچاؤ کرنے کے لئے انہوں نے سی بی آئی کارروائی سے پہلے ہی ناٹک رچ دیا۔ سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت نے بھی کیجریوال کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے عاصم احمد خاں کو نکالا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ دکھاوا کرنا چاہتے ہیں۔ شیلا نے کہا کہ وزیر اعلی کو اپنی کیبنٹ کو طے کرنے کا اختیار ضرور ہے لیکن جس طرح اپنے وزیر کو نکالا ہے وہ وقار کے لئے مناسب نہیں ہے۔ صرف ایک ناٹک ہے۔
(انل نریندر)

11 اکتوبر 2015

ہیپی برتھ ڈے امیتابھ بچن

آج11 اکتوبر کو فلمی دنیا کے سب سے بڑے ستون امیتابھ بچن کا 73 واں جنم دن ہے۔ہم تمام قارئین کی جانب سے روزنامہ پرتاپ ، دینک ویر ارجن اور ساندھیہ ویر ارجن کی جانب سے انہیں ان کے جنم دن پر بدھائی دیتے ہیں اور ان کی درازی عمر کی دعا کرتے ہیں۔فلموں کے اس ایک دوسرے سے آگے نکل جانے والے مقابلہ جاتی دور میں جب ایکٹر 50 کی عمر آتے آتے تک ریٹائرڈ ہونے کی کوشش کرتا ہے امیتابھ آج بھی اتنے ہی سرگرم ہیں جتنے 40 سال پہلے تھے۔ 73 سال کی عمر میں ایک سال میں تین تین فلمیں کرنا ، ٹی وی پر ڈھیروں اشتہارات کرنااچھے سے اچھوں کی بس کی بات نہیں ہے لیکن بگ بی کو سنیما کا مہا نائک یوں ہی تھوڑی کہا جاتا ہے۔بگ بی نے یہ تو کچھ سال پہلے اپنی فلم ’بڈھا ہوگا تیرا باپ‘ کے ذریعے ہی ثابت کردیا تھا کہ بڑھتی عمر ان کے پیر کی بیڑی نہیں بن سکتی۔ اس عمر میں بھی بگ بی انڈسٹری کے سب سے زیادہ سرگرم ایکٹروں میں سے ہیں۔ فلموں کے علاوہ بگ بی ایڈ ورلڈ کے بھی چہیتے ہیں تو ساتھ میں ہی ٹی وی پر اپنے ہارٹ شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے علاوہ پچھلے سال انہوں نے اپنے پروڈکٹس کے ٹی وی شو ’یدھ‘ سے فکشن ٹی وی شو میں بھی ڈیبیو کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہندی فلموں میں ایک عمر کے بعد ایکٹر کو پتا کے رول سے ہی سنتوش کرنا پڑتا ہے لیکن بگ بی نے بالی ووڈ کا یہ ٹرینڈ ہی بدل کر رکھ دیا۔ آج بھی فلمی رائٹر انہیں دھیان میں رکھ کر رول لکھتے ہیں۔ فلم میکر ان کے قد کے مطابق فلمیں بناتے ہیں۔ محبتیں، بلیک، چینی کم، نشبد،بڈھا ہوگا تیرا باپ، سرکار، بوتھ ناتھ، باغبان ایسی فلموں کی لمبی فہرست ہے پر امیتابھ کے کیریئر کی میری رائے میں سب سے بہترین فلمیں ہیں دیوار، زنجیر اور شعلے۔ آرکشن، سرکار، وقت، بابل جیسی فلمیں جن میں بگ بی نے پتا کا رول نبھایا میں بھی فلم کا محور ان کے ارد گرد رہا۔ کئی تبصرہ نگاروں کا تو یہاں تک ماننا ہے کہ بگ بی70-80 سال سے اپنے ینگ مین والے زمانے کی اینگری ینگ امیج والی شبیہہ کے مقابلے اس کم بیک والے دور میں کہیں زیادہ ورائٹی والے رول کررہا ہے۔ بگ بی کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دور کے دوسرے ایکٹروں کے مقابلے وقت کے ساتھ قدم تال کرنے میں کافی آگے ہیں۔ فلموں کا پردہ ہو ، ٹی وی شو ہو یا پھر سوشل میڈیا بگ بی نے سبھی ذرائع کو بڑے ہی پیار اور اتساہ سے گلے لگایا۔ کئی سال پہلے ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے سفر کے طور پر ٹی وی پر آکر چھوٹے پردے کو بڑا بنانے کا سہرہ کافی حد تک امیتابھ بچن کو دیا جاسکتا ہے۔ وہیں بلاگ لکھنے اور ٹوئٹر پر سرگرمی کے معاملے میں بھی وہ ینگ جنریشن کے کلاکاروں سے بھی آگے ہیں۔ یہ ٹوئٹر پر ان کی سرگرمی ہی ہے کہ جس نے ان کی مقبولیت کے گراف کو اب بھی سبھی سلیبریٹیوں سے کہیں اوپر بنا رکھا ہے۔ ٹوئٹر پر سب سے زیادہ 12.4 ملین فالو ورز بگ بی کی ہیں۔وہ اپنی فلموں کے لئے کتنی محنت کرتے ہیں یہ فلم کی ایک مثال سے دے سکتا ہوں انہوں نے مجھے بتایا کہ فلم میں ’پا‘ کے میک اپ کے لئے 7 گھنٹے لگتے تھے اور اتارنے میں کئی گھنٹے۔ یوں ہی نہیں کوئی امیتابھ بچن بن جاتا ہے۔ ہیپی برتھ ڈے امیتابھ۔
(انل نریندر)

میری شکایت پر ہی اتنا ہنگامہ کیوں؟ اعظم خاں

گزشتہ کچھ وقت سے ہمارے سماج میں جو دھروی کرن کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں وہ یقینی طور سے فکر مندی کا باعث ہیں۔ جو دیش دنیا کا لیڈر بننے جارہا ہے وہاں اس قسم کے فرقہ وارانہ واقعات دیش کے اندر تناؤ بناتے ہیں اور غیر ممالک میں بھارت کی شبیہہ کو دھبہ لگتا ہے۔ پر جب ہمارے اپنے سیاستداں خود ہی دنیا کے سامنے یہ رونا رونا شروع کردیں تو کیا کیا جائے۔میں اترپردیش کے شہری وکاس منتری اعظم خاں کی بات کررہا ہوں۔ اعظم خاں نے حال میں دادری کانڈ کے بعد5 اکتوبر کو اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کو خط لکھ کر انہیں دیش کے مسلمانوں کے خلاف چلائی جارہی مہم کو روکنے کے لئے مداخلت کرنے کی مانگ کر ڈالی ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ بھارت کے اندرونی معاملے میں اقوام متحدہ کو بیچ میں لانا کہاں تک مناسب ہے؟ کونسی دیش سیوا ہے؟ اس طرح ایک گھریلو تنازعے کو اونچائی پر لے جاکر بھارت کی دھجیاں اڑانا صحیح کیسے مانا جاسکتا ہے؟ فاشزم طاقتوں کی ہندوستان کو ہندو راجیہ بنانے کی مبینہ کوششوں کی اقوام متحدہ سے شکایت کرنے والے اعظم خاں نے اپنے قدم کو صحیح قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دوسرے بھی یو این گئے تھے تو میری شکایت پر ہی ہنگامہ کیوں برپا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب بدایوں کانڈ اوردیگر سے جڑے تمام مدعوں کو عالمی ادارے کے سامنے لے جایا گیا تب سماج کے ٹھیکیدار کہاں تھے۔ اعظم خاں کی اس دلیل پر شیو سینا بھڑک گئی ہے۔ پارٹی نے اپنے اخبار ’سامنا‘ کے ذریعے ان پر زور دار حملہ بولا ہے۔ شیو سینا نے اعظم خاں کو دیش دروہی تک کہہ دیا۔ پارٹی نے ’سامنا‘ میں لکھا اعظم خاں ایک ناپاک آدمی کی طرح گھریلو تنازعے کو عالمی منچ پر لے جاکر ہندوستان کی شبیہہ کی فضیحت کرنے کا کام کررہے ہیں۔ اعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہئے اور اگر ملائم میں ذرا سی بھی دیش بھکتی بچی ہے تو انہیں اعظم سے استعفیٰ مانگ لینا چاہئے۔ سامنا میں لکھا گیا کہ اعظم نے ایک خط اقوام متحدہ کو لکھ کر مانگ کی کہ مسلمانوں کی بری حالت پر وہ دھیان دے۔ یہ ایک طرح کی دیش دروہی حرکت ہے اور اعظم خاں کو دیش کے کسی آئینی عہدے پر بنے رہنے کا حق اب نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کو اس پر توجہ دیتے ہوئے اعظم خاں کو چناؤ لڑنے کے لئے نا اہل قرار دیا جانا چاہئے۔ ایڈیٹوریل میں یہ بھی لکھا ہے کہ دادری معاملے پراعظم خاں کو اتنا دھکا لگا ہے تو اترپردیش کی بڑھتی فرقہ پرستی کے واقعات پر چنتا کیوں نہیں ہے۔ اعظم خاں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو لکھے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کی سازش رچ رہا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...