Translater

20 اکتوبر 2012

اب چوٹالہ نے لگائے راہل گاندھی پر اسٹامپ ڈیوٹی چوری کے الزام


الزام در الزام کا ایسا دور چل پڑا ہے کہ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا الزام گھوٹالے کا پردہ فاش ہورہا ہے۔ سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کا ڈی ایل ایف زمینوں کی خریدو فروخت کا معاملہ ابھی رکا نہیں تھا کہ ہریانہ کے سابق وزیر اعلی و انڈین نیشنل لوک دل کے چیف اوم پرکاش چوٹالہ نے کانگریس سکریٹری جنرل کو بھی اپنے نشانے پر لے لیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہریانہ کے پلول ضلع کے حسن پور میں راہل سے زمین کی رجسٹری میں ریاستی حکومت نے کافی کم محصول لیا۔ وہیں انہوں نے خریدوفروخت میں کالی کمائی استعمال کی ۔چوٹالہ نے جالندھر میں بتایا کہ راہل گاندھی کے نام پر خریدی گئی زمین کی رجسٹری کے کاغذات دکھاتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر 51 کنال13 بھٹلہ زمین گاؤں موزاں حسن پور ،تحصیل ہوڈل، ضلع فرید آباد (اب پلول) میں خریدی گئی۔ زمین کو ایم ایم پہاوا ،ولد شیر سنگھ پہاوا باشندہ ڈی ایل ایف گوڑ گاؤں نے بیچا ہے۔ 3 مارچ 2008ء کو پہاوا نے راہل کو جس وقت زمین بیچی اس وقت اس کا محصول ریٹ 8 لاکھ فی ایکڑ تھا۔ لیکن اسٹامپ ڈیوٹی ڈیڑھ لاکھ روپے فی ایکڑ کے حساب سے جمع کی گئی۔ زمین کی رجسٹری میں گواہی للت ناگر نے دی تھی جس کو کانگریس نے اسمبلی کا ٹکٹ دے دیا۔ راشٹریہ لوک دل چیف نے الزام لگایا ایک ہی دن رابرٹ واڈرا اور راہل کی زمینوں کی رجسٹریاں کی گئیں اور دونوں میں ڈیڑھ لاکھ روپے فی ایکڑ محصول لیا گیا۔ اوم پرکاش چوٹالہ نے رابرٹ واڈرا پر کئی الزام لگائے ہیں انہوں نے گوڑگاؤں، مانیسر، فرید آباد، میوات، پلول میں کوڑیوں کے بھاؤں زمین دی گئی جس میں اربوں روپے کا گھوٹالہ ہوا۔ 7.50 کروڑ میں یہ زمین واڈرا کی کمپنی میسرز ریل ارتھ اسٹیٹ نے 58 کروڑ روپے میں ڈی ایل ایف کو بیچی ہے۔ 50 کروڑ روپے ایڈوانس لئے۔ رابرٹ واڈرا کی کمپنی نے مئی 2009ء میں میوات ضلع کے شنکرپوری گاؤں میں 6 الگ الگ رجسٹریاں کروا کر21 ایکڑ زمین خریدی۔ بازار میں بھاؤ 4 کروڑ روپے اور کلکٹر ریٹ ساڑھے چار کروڑ روپے سے زیادہ کا تھا۔ یہ رجسٹریاں 71 لاکھ روپے کے حساب سے کروائی گئیں۔ اس وقت شنکر پوری میں کلکٹر ریٹ 16 لاکھ روپے فی ایکڑ اور بازار کا باؤ40-50 لاکھ روپے فی ایکڑ تھا۔ یہ رجسٹریاں ڈھائی لاکھ روپے فی ایکڑ سے کم ریٹ پر کروائی تھیں۔ یہ رجسٹریاں رابرٹ واڈرا کے نام پر آفتاب احمد کے خاندان کے ذریعے کروائی گئیں۔ جو نوح اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے ممبر اسمبلی ہیں۔ سرکار کے ذریعے باز آبادکاری اسکیم کے تحت الاٹ کی گئی دلتوں کی زمین کی رجسٹریاں بھی واڈرا کی کمپنی کے نام پر کی گئیں۔ یہ غیر قانونی ہے۔ الاٹ شدہ زمین بک نہیں سکتی۔ کانگریس نے چوٹالہ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے کہا کہ راہل گاندھی کے خلاف چوٹالہ کے الزام بے بنیاد ہیں۔ چوٹالہ کو دیگر لوگوں کے خلاف الزام لگانے سے پہلے خود اور اپنے بیٹوں کے بارے میں بھی غور کرنا چاہئے۔ خود راہل گاندھی نے الزامات کو بے بنیاد اور توہین آمیز بتایا۔ ان کا کہنا ہے پلول میں خریدی گئی زمین کی اسٹامپ ڈیوٹی پوری ادا کی گئی اور چوٹالہ کے الزامات غلط ہیں۔
(انل نریندر)

رام سیتو قومی یادگار بناؤ: جے للتا


سپریم کورٹ نے متنازعہ سیتو سمندرم پروجیکٹ پر اپنا نظریہ صاف کرنے کے لئے پیر کو مرکزی سرکار کو چھ ہفتے کا وقت دیا۔ اس پروجیکٹ کا مقصد رام سیتو کو کاٹتے ہوئے بھارت کے جنوبی محاض پر 9لائنوں کا ایک راستہ تیار کرنا ہے۔ یہ اسکیم ڈی ایم کے پارٹی و حکومت نے تیار کی تھی جبکہ صدیوں سے یہ مانا جارہا ہے کہ یہ رام سیتو رامائن کے دور سے ہی رام کی وانر سینا نے راون کی راجدھانی لنکا تک پہنچنے کے لئے تیار کیا تھا۔ اس پروجیکٹ کے تحت سمندری علاقے میں 167 کلو میٹر لمبا، 70 میٹر چوڑا اور 12 میٹر گہرا 9 گاڑیوں کا راستہ تیار کرنا ہے۔ رام سیتو کروڑوں اربوں لوگوں کی عقیدت سے وابستہ ہے۔ درجنوں عرضیوں میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ سیتو سمندرم پروجیکٹ پر اگر موجودہ اسکیم کے تحت عمل کیا گیا تو سمندر میں کھدائی کے دوران قدیمی وراثت کا حامل رام سیتوضائع ہوجائے گا جو کروڑوں اربوں رام بھکتوں کو کبھی بھی قبول نہیں ہوگا۔ رام سیتو کو کسی طرح کا نقصان پہنچائے بغیر کسی دیگر متبادل راستے کو اپنا کر پروجیکٹ کرنے کے امکان تلاشنے کی بڑی عدالت کی اپیل پر وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ایک اعلی سطحی کمیٹی بنائی تھی۔ نامور ماحولیاتی ماہر آر کے پچوری کی سربراہی میں تشکیل اس کمیٹی نے مختلف موسموں کے دوران تمام پہلوؤں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی رپورٹ میں متبادل راستہ اپنانے پر سوال اٹھائے تھے۔ جسٹس ایم ایل دوت اور جسٹس چندر بھولی کمار پرساد کی بنچ نے پیر کو مرکزی سرکار کو اپنا موقف صاف کرنے کے لئے 3 دسمبر تک کا وقت دیا ہے۔ ڈی ایم کے سرکار کا ہندو مذہب کے تئیں نکتہ نظر کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پیسے کی خاطر وہ کروڑوں اربوں لوگوں کی عقیدت سے بھی کھلواڑ کرنے کو تیار ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ موجودہ انا ڈی ایم کے سرکار نے پچھلی حکومت کے موقف کے برعکس کہا ہے کہ وہ سیتو سمندرم پروجیکٹ کو پوری طرح منسوخ کر رام سیتو کو قومی یادگار بنانا چاہتی ہے۔ 
ریاست کی جے للتا حکومت نے اپنے سرکاری وکیل گورو کمار کے ذریعے داخل حلف نامے میں بڑی عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس پر جلد فیصلہ لے۔ ریاستی حکومت کے اس موقف سے مرکزی سرکار کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے اسے فی الحال ٹال دیا ہے۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے کہا کہ اس معاملے میں ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ پر فیصلہ نہیں لیا جاسکا ہے۔ اس کے لئے اسے اور وقت چاہئے اس پر جسٹس دوت کی ڈویژن بنچ نے سرکار کو اس معاملے میں دسمبر تک کا وقت دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مذہبی اعتماد اور عقیدتوں کو دیکھتے ہوئے 22 جولائی2008 ء کو 2400 کروڑ روپے کی اس اسکیم پر روک لگا دی تھی۔ سیتو سمندرم کی مخالفت کررہے عرضی گذاروں نے سمندری نہر کے لئے ایک متبادل راستہ الاٹمنٹ نمبر 4A تجویز کیا ہے۔ جس پر عدالت نے سرکار سے کہا تھا کہ وہ اس کی اہمیت کا مطالع کریں۔ ہم جے للتا کے موقف کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں۔ رام سیتو قومی یادگار بنائی جائے۔ جے شری رام
(انل نریندر)

19 اکتوبر 2012

کیجریوال نے نتن گڈکری کو کٹہرے میں کھڑا کیا


حکمراں کانگریس اور وزراء و سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کونشانہ بنانے کے بعد اب بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کے پردھان نتن گڈکری پر حملہ کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے خاص طور سے تین چار الزام لگائے۔ ان میں گڈکری نے کسانوں کی 100 ایکڑ سے زیادہ زمین ذاتی فائدے کے لئے ہتیالینے کا الزام بھی شامل ہے۔ گڈکری کے پاس پانچ بجلی گھر، تین چینی ملیں سمیت کوئلہ ،کھاد، سپر بازارجیسے کئی کاروبار ہیں ۔ اپنے کاروباری مفادات کے لئے وہ بھاجپا کا استعمال کررہے ہیں۔ گڈکری نے ٹھیکیداروں کی غلط طریقے سے مدد کے لئے اجیت پوار سے لیکر مرکزی وزیر پون کمار بنسل تک سے سفارش کروائی۔ اجیت پوار سے سانٹھ گانٹھ کرکے 100 ایکڑ زمین اپنے ٹرسٹ کے نام کروالی۔ بیشک شری نتن گڈکری نے کیجریوال کے الزامات کا نکتہ بہ نکتہ جواب دیا اور بعد میں سشما سوراج، ارون جیٹلی نے کیجریوال کے الزامات کی ہوا نکالنے کی کوشش کی لیکن اس سے گڈکری پاک ثابت نہیں ہوتے۔ گڈکری بھی مانتے ہیں کہ انہیں100 ایکڑ زمین اجیت پوار نے دی ہے۔ یہ زمین کیسی ہے، کتنے برسوں کے لئے پٹے پر ہے ،اس میں کیا پیداوار ہورہی ہے ، اس کا کیا ہورہا ہے ،وہ سب اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ این سی پی لیڈر اجیت پوار نے سارے قانون کو بالائے طاق رکھ کر گڈکری کی تنظیم کو زمین دی۔ کیجریوال نے دراصل بھاجپا کے ساتھ ساتھ کانگریس کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے کیونکہ جو الزام گڈکری پر فائدہ لینے کیلئے ہیں وہی الزام کانگریس او اس کی ساتھی جماعت این سی پی پر فائدہ پہنچانے کیلئے ہیں۔ حالانکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ اجیت پوار اس معاملے میں پہلے ہی اپنا استعفیٰ دے چکے ہیں اور اب باری نتن گڈکری کی ہونی چاہئے۔ کل تک جس کیجریوال کے سہارے بھاجپا کانگریس کو کرپشن کے نام پر ناک میں دم کرارہی تھی آج اسی کیجریوال نے بھاجپا کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ ان کے ذریعے گڈکری پر عائد الزامات سے جنتا میں یہ پیغام جاتا ہے کہ دونوں قومی پارٹیاں کرپشن کے دلدل میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کررہی ہیں۔ کیجریوال نے دونوں پارٹیوں کو جس طرح کرپشن کے اشو پر جنتا کی عدالت میں کھڑا کیا ہے اس سے یہ بات تو صاف ہوگئی ہے کہیں نہ کہیں دونوں قومی پارٹیوں میں کرپشن کو لیکر گٹھ جوڑ صاف دکھائی پڑتا ہے۔ اگر اب جانچ گڈکری کی ہوتی ہے تو کانگریس اور اس کی ساتھی این سی پی بھی اس کے دائرے سے اچھوتے نہیں رہیں گے۔ ایک اور بات کیجریوال کچھ حد تک ثابت کرنے میں کامیاب رہے وہ یہ ہے کہ نتن گڈکری اگر ایک صنعت کار کے زمرے میں نہیں بھی آتے تو ایک بڑے بزنس مین ضرورت ہیں، جن کی اپنی چینی ملیں ہیں، بجلی گھر ہیں، کئی بڑے دھندے ہیں اور ایک بزنس مین کا ذاتی مفاد کبھی کبھی پارٹی کے مفادات سے بھی سمجھوتہ کرنے پر بھی مجبور کردیتا ہے۔ اروند کیجریوال کے الزام پوری طرح صحیح ہیں یہ کہنا مشکل ہے لیکن گڈکری پر عائد الزام جس طریقے سے لگائے گئے ہیں اس سے عام جنتا کے دل میں شبہ پیدا ہونا فطری ہے۔ کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔عام جنتا کو کچھ ایسا ہی شبہ رابرٹ واڈرا اور سلمان خورشید کے معاملوں کو لیکر بھی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس شبے کا ازالہ کیسے ہو؟جانچ سے ہو، مشکل یہ ہے کہ الزامات کے گھیرے میں کھڑے لوگ محض صفائی پیش کر اور کچھ خود ساختہ دستاویزات پیش کرکے اپنے آپ کو پاک صاف قرار دے رہے ہیں۔ الزامات کو سرے سے مستردکرنے اور الزام لگانے والوں کی نیت پر سوال اٹھانے یا پھر سلمان خورشید کی طرح دھمکانے سے تو ’چور کی داڑھی میں تنکے والی کہاوت ہی صادق آرہی ہے۔ بھاجپا نیتا بیشک ہر ممکن صفائی دے رہے ہوں اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ صدر نتن گڈکری کی ساکھ کو بٹہ لگا ہے۔ بھاجپا اب کانگریسی لیڈروں پر اس طرح کے الزام لگاکر ان کے استعفے کی مانگ کرتی ہے تو آج اگر کانگریس گڈکری کے استعفے کی مانگ کرتی ہے تو کیا غلط ہوگا؟ ایک اور بات کیجریوال کے الزامات سے بھاجپا کے اندر جاری وجود کی لڑائی کو بھی ہوا ملے گی۔ ویسے تو نتن گڈکری کو بھاجپا صدر کی دوسری میعاد ملنا تقریباً طے ہوچکا ہے۔ لیکن پارٹی میں ایک ایسا بھی طبقہ ہے جو نہیں چاہتا کہ گڈکری دوبار پارٹی صدربنیں۔ کیجریوال کے الزامات کے خلاف بھلے ہی پوری پارٹی گڈکری کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہوں لیکن اندر خانے بھاجپا کا ایک طبقہ خوش ہے ۔ بھاجنا سنگھ کے آگے مجبور ہے لیکن اب ممکن ہے کہ بھاجپا کے اندر گڈکری کو دوبارہ میعاد ملنے پر کھل کر مخالفت شروع ہوجائے۔
(انل نریندر)

بوکھلاہٹ میں سلمان خورشید نے ساری حدیں پار کیں


یقین نہیں ہورہا ہے مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید اتنے بوکھلا گئے ہیں کہ وہ ساری حدیں اور اخلاقیات کو بھول گئے ہیں۔ معذوروں کے نام پر ملی سرکاری رقم میں دھاندلی کے الزامات میں پھنسے سلمان خورشید جھنجھلاہٹ میں سیاسی تقاضے بھی بھول گئے۔ فرخ آباد میں سلمان کے خلاف مظاہرہ کرنے کا اعلان کرچکے اروند کیجریوال کو انہوں نے کہاکہ وہ فرخ آباد ضرور آئیں مگر وہاں سے لوٹ کر دکھائیں کی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے ایک پرائیویٹ چینل تقریب میں یہ بیان کیمرے کے سامنے دیا اس لئے اب وہ بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرا بیان میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ اس تقریب کی فٹیج کچھ نیوز چینلوں نے ٹیلی کاسٹ کی ہے ۔ اس میں انہوں نے دو قدم آگے بڑھ کر کہا۔ مجھے قانون منتری بنایا گیا ہے اور قلم کے ساتھ کام کرنے کو کہا گیا ہے۔ میں قلم سے کام کروں گا لیکن لٹھ سے بھی کام کروں گا۔ کیجریوال نے یکم نومبر سے فرخ آباد میں دھرنا دینے کا چیلنج دیا ہے۔ ان کے اس اعلان کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا فرخ آباد جائیں اور فرخ آباد سے لوٹ کر بھی آئیں۔ انہوں نے جب یہ دھمکی دی تو اس وقت پروگرام میں ان کی بیوی لوئس بھی موجود تھیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ وہ کیجریوال سے سوال پوچھیں اور آپ کو جواب دینے ہوں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ جواب سنیں تو سوال پوچھنے کے بارے میں بھی بھول جائیں۔کیجریوال نے سلمان خورشید کے اس بیان کو اپنی جان کے لئے خطرہ قراردیا ہے۔ انہوں نے جس طرح کی زبان کا استعمال کیا ہے وہ دیش کے قانون منتری کو زیب نہیں دیتی۔ 
کیجریوال کا کہنا ہے کہ مجھے مارنے سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ دیش جاگ گیا ہے ۔ اگر ایک اروند مارا جاتا ہے تو 100 اروند کھڑے ہوں گے۔ اس طرح سے دھمکانے کے بجائے بہتر ہوگا کہ کانگریس لوگوں کے غصے کو محسوس کرے اور کرپشن کے خلاف کچھ اور ٹھوس قدم اٹھائے۔ شری سلمان خورشید نے کیونکہ کیمرے کے سامنے یہ دھمکی دی ہے تو یہ ایک کرائم ہے اور اس میں ان کے خلاف دھمکی دینے کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو یقینی طور سے سلمان بچ نہیں سکتے اور چونکہ وہ ایک مرکزی وزیر ہیں اس لئے یہ ایک کرائم اور سنگین ہوجاتا ہے۔ خورشید جتنا بچنے کی کوشش کررہے ہیں اس سے کہیں زیادہ اس دلدل میں پھنستے جارہے ہیں۔ دراصل اب وہ کانگریس پارٹی اور منموہن سنگھ کیلئے ایک بوجھ بن گئے ہیں اور ایک ذمہ داری بھی۔ بہتر ہے کہ جب تک معاملے کی جانچ پوری نہیں ہوتی سلمان خورشید کو وزارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پارٹی اور سرکار دونوں کا ہی بھلا کریں گے۔
(انل نریندر)

18 اکتوبر 2012

واڈرا کی جانچ کھیمکا کو بھاری پڑی


سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کیس میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔ہریانہ کی کانگریسی بھوپندر سنگھ سرکار نے واڈرا کو بچانے کے لئے اپنے سینئر آئی اے ایس افسر کھیمکا کو بیشک ہٹا دیا ہے لیکن جاتے جاتے ایسا کام کر گئے کے واڈرا کے پچھلے 7 سال میں کئے گئے زمین سے متعلق سبھی سودے اب جانچ کے دائرے میں ہیں۔ اس افسر کا نام اشوک کھیمکا ہے اور یہ 1991ء بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ انڈیا اگینسٹ کرپشن کے کیجریوال جہاں واڈرا سے جڑے معاملوں کا انکشاف کررہے تھے تبھی 11 اکتوبر کو ہریانہ کے چکمندی و زمین رجسٹرار کے عہدے پر فائض کھیمکا کا تبادلہ کردیا گیا۔ اگلے ہی دن12اکتوبر کو کھیمکا نے راجدھانی دہلی کے قریب ہریانہ کے 4 اضلاع میں واڈرا کے خریدے گئے پلاٹوں کے لئے سودوں کی جانچ کے حکم ضلع افسروں کو دے دئے گئے۔ اشوک کھیمکا کی ایمانداری کی وجہ سے ان کی 20 سال کی نوکری میں ان کے43 تبادلے ہوچکے ہیں۔ جیسے ہی کھیمکا کو ان کے تبادلے کی خبر ملی تو انہوں نے سرکار پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ایماندار ہونے اور گھوٹالوں کو بے نقاب کرنے کے سبب انہیں سزا دئے جانا پوری طرح سے نا مناسب ہے۔ مانیسر شیخو پور میں اس 3.5 ایکڑ کے پلاٹ کے داخل خارج کرنے کا حکم دیا تھا جسے واڈرا نے ڈی ایل ایف کو بیچ دیا تھا۔ اشوک کھیمکا نے اپنے تبادلے کو لیکر ہریانہ سرکار کی صفائی پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ۔ہریانہ ہائیکورٹ نے انہیں دو عہدوں کی ذمہ داری سے مستثنیٰ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ریاستی حکومت نے انہیں سبھی عہدوں سے نجات دے کر تبادلہ کردیا ہے۔ کھیمکا کے مطابق جن 4 عہدوں کی ذمہ داری ان کے پاس تھی ان میں سے دو ایسے تھے جس پر ان کے فیصلے کے جائزے کا اختیار کھیمکا کے جونیئر افسر کو تھا لہٰذا کھیمکا نے ایسے عہدوں سے خود کو ہٹائے جانے کی مانگ کی تھی لیکن حکومت نے انہیں چاروں عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ اشوک کھیمکا کو ان کی ایمانداری کی وجہ سے ہٹایا گیا یا پھر سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت رابرٹ واڈرا کے خلاف ہاتھ دھوکر پیچھے پڑے تھے، اس کا فیصلہ کیسے ہو؟ کانگریسی دلیلیں دے رہے ہیں کہ کھیمکا نے اپنے تبادلے کے احکامات کے بعد واڈرا اور ڈی ایل ایف کمپنی کے درمیان ہوئے زمین جائیداد کے سودوں کی جانچ کے احکامات کیوں دئے؟ کھیمکا کا تبادلہ11 اکتوبر کو کردیا گیا تھا مگر کھیمکا نے12 اکتوبر کو زمین رجسٹریشن ڈائریکٹر جنرل کے دفتر میں جاکر صرف اخباروں میں شائع خبروں کو بنیاد با کرواڈرا اور ڈی ایل ایف کے درمیان ہوئے زمینی سودوں کی جانچ کے احکامات دئے اور بعد میں اپنے ریاستی ڈولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے ہونے تک 15 اکتوبر کو گوڑ گاؤں کی اس زمین کا سودا منسوخ کرنے کے احکامات دئے جس میں ساڑھے تین ایکڑ زمین کو واڈرا نے ڈی ایل ایف کمپنی کو بیچا تھا۔ اس سے کھیمکا کی ایک سرکاری افسر کے طور پر کام کرنے والے غیر جانبدار افسرکی ایمانداری پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ کانگریسی خیمہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ سرکار خانہ پوری کے تحت کوئی بھی آئی ایس افسر اپنے تبادلے کے حکم کے بعد اس محکمے کو دیکھنا بند کردیتا ہے۔ بیشک اس کی دوسرے عہدے پر تقرری کا حکم دو تین دن بعد آئے ہیں۔ اشوک کھیمکا نے جان بوجھ کر رابرٹ واڈرا ، ڈی ایل ایف کے خلاف کارروائی کی یا پھر اس کارروائی کی وجہ سے ان کا تبادلہ ہوا، یہ تنازعہ کا اشو ہے۔ دونوں فریق اپنی دلیلیں دے رہے ہیں۔ اتنا طے ہے کہ اشوک کھیمکا کا تبادلہ رابرٹ واڈرا کے معاملے کی جانچ کے سبب ہی کیا گیا ہے۔ رابرٹ واڈرا کے ساتھ ساتھ اب ہریانہ کی ہڈا سرکار بھی تنازعات میں پھنستی جارہی ہے۔ رابرٹ واڈرا نے کہاں کہاں، کتنی جائیداد خریدی اس کی پوری تفصیل دیش کو ملنی چاہئے۔ ہریانہ سرکار میں اگردم ہے تو جو جانچ اشوک کھیمکا کروائی اس کے نتیجے سامنے لائے جائیں۔ یہ معاملہ یہیں دبنے والا نہیں اشوک کھیمکا پوری طرح باغی ہوچکے ہیں۔ چینلوں میں چیخ چیخ کر انصاف کی دہائی دے رہے ہیں۔ پھر اس دیش میں آئی ایس لابی بھی بہت بااثر ہے۔ رابرٹ واڈرا کے گھوٹالوں کو اب دبانا ممکن نہیں لگتا۔
(انل نریندر) 

دہلی میں جتنی ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی ہوتی ہے اتنی اور کہیں نہیں

گذشتہ ہفتے میں ایک پرائیویٹ پروگرام میں شرکت کے لئے ممبئی گیا تھا۔ دہلی اور ممبئی میں ایک بہت بڑا فرق جو میں نے دیکھا تھا وہ ٹریفک قوائد کی تعمیل۔ ممبئی میں گاڑی ڈرائیور چاہے وہ کاروں کے ہوں ،یا دوپہیہ کے ہوں یا پھر آٹو کے ہوں، سبھی ڈسپلن میں چلتے ہیں، ٹریفک قوائد کی تعمیل کرتے ہیں۔ دہلی میں یہ صحیح ہے کہ گاڑیوں کی تعداد ممبئی کے مقابلے تین چار گنا زیادہ ہے لیکن شاید ہی کوئی ٹریفک قانون کی تعمیل کرتا ہوں یہ ہی وجہ ہے کہ دہلی میں جتنے لوگوں کا قتل ہوتا ہے اس میں چار گنا زیادہ لوگ سڑک حادثات میں مرتے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس میں کوئی بہتری نہیں ہورہی ہے اور سڑکوں پر مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ حادثے کا معاملے درج کر مجرمانہ کارروائی کے بعد فائل ٹھنڈے بستے میں ڈال دی جاتی ہے کیونکہ ایسے معاملوں میں سزا نہ کے برابر ہے۔ بدقسمتی دیکھئے قتل کو لیکر خوب ہائے توبہ مچتی ہے۔ کہا جاتا ہے دہلی شہریوں کے لئے محفوظ نہیں ہے لیکن سڑکوں پر حادثے کم ہوں، لوگ بیدار ہوں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ ٹریفک پولیس بیشک وقتاً فوقتاً اسپیشل مہم چلا کر یا چھپے پمفلٹ جاری کر اس سمت میں قدم اٹھاتی ہے لیکن جب تک گاڑی ڈرائیور خود تھوڑے ڈسپلن میں نہیں آتے مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔ سب کو جانے کی جلدی لگی رہتی ہے۔ لائن کے پیچھے لگنے کو کوئی تیار نہیں۔ لائن کو کاٹ کر آگے نکلنا چاہتے ہیں۔ بھلے ہی سامنے سے آرہے ٹریفک میں رکاوٹ کیوں نہ پڑے؟ حادثات ہورہے ہیں، لوگ مررہے ہیں لیکن گاڑی چلانے کے طور طریقوں میں بہتری نہیں آرہی۔ ڈرائیوروں کو پتہ ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرکے گاڑی سڑک پر دوڑا رہے ہیں۔ گاڑی مالکان کو بھی یہ معاملوں ہے کہ ان کی گاڑی میں ٹریفک قوانین کی تعمیل نہیں ہورہی ہے لیکن سب چلتا ہے کی طرز پر وہ اپنے رویئے پر قائم ہیں۔ ڈرائیوروں کو دیکھئے کہ وہ اپنی گاڑی فٹا فٹ دوڑا رہے ہیں، مانولوگوں کی جان سے کھیلنا ان کی عادت بن چکی ہے۔ اعدادو شمار کی کہانی بڑی عجب ہے۔ سال2011ء میں راجدھانی میں قتل کی 543 وارداتیں ہوئیں وہیں سڑک حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 2107 تھی۔ اس سال ٹریفک پولیس نے سختی دکھائی جس کا اثر سڑک حادثات میں کمی کی شکل میں سامنے آیا۔لیکن ابھی بھی راجدھانی کے کئی علاقوں میں ٹریفک پولیس کی مہم کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ شہر کے سرحدی علاقے جہاں سڑکوں پر آر ٹی وی دوڑتی ہیں، یا تین پہیہ یا فٹافٹ سواری سروس کھلے عام قوائد کی خلاف ورزی کررہی ہیں۔ مال بردار گاڑیوں میں جہاں سواریاں ڈھوئی جارہی ہیں وہیں اس کی ڈھلائی طاقت سے زیادہ سواریاں ڈھوکر تین پہیہ اور آر ٹی وی عام لوگوں کی جان سے کھلواڑ کرنے سے باز نہیں آتے۔ اتنا ہی نہیں شہر کی تمام سڑکوں پر ایسی انگنت گاڑیاں دوڑتی مل جائیں گی جن میں لائٹ یا انڈیکیٹر تو چھوڑئیے نمبر پلیٹ تک نہیں ہوگی۔ ایسے میں شہر کی سڑکوں پر چلنے والے شہریوں کی کہاں تک جان محفوظ ہے آپ خود ہی اندازہ لگا لیں؟
(انل نریندر)

17 اکتوبر 2012

دہلی میں سرکار کیخلاف بڑھتا عوام کا غصہ


دہلی ہندوستانی کی راجدھانی ہے اور دہلی میں جو حالات چل رہے ہیں اس سے صاف ہواشارہ ملتا ہے کہ انا ہزارے، بابا رام دیو، اروند کیجریوال بھاجپا کی مسلسل جاری تحریکوں سے دہلی میں کانگریس کے خلاف منفی ہوا کا چلنا فطری ہی ہے۔ دو دن پہلے ہوئے دو واقعات سے کانگریس لیڈر شپ کو ضرور فکر مند ہونا چاہئے۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کی ریلی میں چپل اور انڈے پھینکے جانے سے جنتا کی ناراضگی کا پتہ چلتا ہے۔ مہنگائی، گھوٹالوں اور بجلی پانی کے بلوں کے سبب لوگوں کا غصہ اب سامنے آنے لگا ہے یا پھر انڈیا اگینسٹ کرپشن کے لیڈر اروند کیجریوال کی تحریک کا اثر ہوسکتا ہے لیکن جس طرح دہلی کے ایک بڑے لیڈر کو عوامی ناراضگی سے بچ کر یا تقریر پوری کئے بغیر ہی لوٹنا پڑا اسے دہلی کی سیاست میں ایک چیلنج ضرور مانا جارہا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ دہلی کے اقتدار پر پچھلے14 سال سے قابض اور دہلی کو پیرس بنانے کا دعوی کرنے والی وزیر اعلی شیلا دیکشت کے سامنے شاید یہ پہلا تجربہ رہا ہوگا۔ اس سے پہلے تو شیلا جی جہاں گئیں وہاں ان کی حمایت میں نعرے لگتے سنے ہوں گے۔ یہ بھی تعجب کی بات کہ جس مصطفی آباد اور نند نگری کے لوگوں کے غصہ کا سامنا شیلا جی کو کرنا پڑا وہ کانگریس کے ممبر اسمبلی ویر سنگھ چھگن اور حسن احمد کے حلقے ہیں اور وہاں سے ایم پی ہیں جے پرکاش اگروال۔ یہ ایک دہلی کا اوپن کرکٹ ہے کہ پردیش صدر اور ممبر پارلیمنٹ جے پرکاش اگروال اور شیلا دیکشت میں پٹتی نہیں ہے۔ اعلی کمان کی ساری کوششوں کے باوجود دونوں میں دوریاں کم نہیں ہوئیں۔ پچھلے ایک ہفتے میں شیلا دیکشت کے ساتھ جو واقعات ہوئے ہیں انہیں دہلی کی سیاست میں احتجاج کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مصطفی آباد کے واقعے کے بعد روہتاش نگر میں جے پرکاش اگروال اور حلقے کے ممبر اسمبلی ونے شرماکے خلاف احتجاج میں کانگریسیوں نے ڈھول بجائے۔ دہلی کانگریس آج بری طرح بٹی ہوئی ہے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھلوانے سے پیچھے نہیں رہتی۔ بجلی کے تیز دوڑتے میٹر، پانی کا نجی کرن، بڑھتی مہنگائی سے پریشان عوام کے سامنے اب کھل کر سڑکوں پر اترنا نیتاؤں کی ریلیوں میں احتجاج کرنا ان کی ناراضگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب سرکار اور نیتا عوام کی جائز مانگوں کو مسترد کردیتے ہیں تو وہ سڑکوں پر آجاتی ہے۔ ایک کے بعد ایک گھوٹالوں کا پردہ فاش ہونے سے جنتا کو یہ یقین ہوتا جارہا ہے کہ یہ یوپی اے سرکار مرکز میں ہو یا ریاست میں ان گھوٹالوں میں کچھ کرنے والی نہیں ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو سی اے جی کی رپورٹ ،شنگلو کمیٹی کی رپورٹ دہلی کے لوک آیکت کے ذریعے دہلی کے وزرا کے خلاف اٹھائی گئی انگلیوں کا یہ حشر نہ ہوتا جو ہورہا ہے۔ آخر کیوں نہیں ان اشوز پر جانچ کرائی گئی اور قصورواروں پر کارروائی نہیں کی گئی؟کانگریس کے تئیں ووٹروں کی ناراضگی میونسپل چناؤ میں دیکھ چکی ہے لیکن پھر بھی کانگریس و سرکار سنبھل نہیں رہی ہے۔ جنتا کو فار گرانٹڈ (سرسری طور پر )لینا بھاری بھول ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

ہندوؤں کے بعد اب شیعوں کو کشمیر سے نکالنے کی سازش


جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن کے دونوں طرف چین اور پاکستان کے ذریعے نہ صرف اس سابقہ رجواڑے کی آبادی کی شکل بدلی ہے بلکہ اس کے مذہبی اور سماجی اور سیاسی سائز کو بھی بدلنے کی سازش تشویش کا باعث ہے۔ 80 کی دہائی میں وادی کشمیر سے ہندوؤں کو بھاگنے کے لئے مجبور کرنے کے بعد کنٹرول لائن کے دونوں جانب آباد شیعوں کو بھی اب نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس سازش کے ذریعے بنیادی جمہوری سسٹم کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں شیعوں اور بھارت کی جانب سے کشمیر میں پنچایتی راج کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ نامعلوم بندوقچیوں کے ذریعے سرپنچوں کو استعفیٰ دینے کی دھمکیوں کے چلتے قریب ایک درجن سے زائد سرپنچ مارے جاچکے ہیں اور قریب500 نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی فوج شیعہ آبادی کی اکثریت کو ختم کررہی ہے کیونکہ وہ لوگ قراقرم ہائی وے پر واقع اہمیت کے حامل گلگت۔ بلتستان علاقے میں انجینئروں اور مزدوروں کے بھیس میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے لوگوں کی موجودگی کی مخالفت کررہے ہیں۔ سال کی ابتدا سے پڑوس کے خیبرپختونخواہ سے فوجیوں کو یہاں لاکر بسایا جارہا ہے جو مغربی جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں سوچی سمجھی سازش کے تحت شیعہ لوگوں کا قتل کررہے ہیں۔ ادھر بھارت میں ایک خاموش انقلاب کی ہوا چل رہی ہے۔ پچھلے سال پنچایتی راج چناؤ کے ذریعے قائم جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے ارادے سے لشکر طیبہ حرکت المجاہدین سے وابستہ پاک حمایتی آتنک وادی پرمکھ ، سرپنچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اور پوسٹروں کے ذریعے پنچوں کو مسجدوں میں نماز جمعہ کے دوران یا اخباروں میں بیانات کے ذریعے سے استعفوں کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس سب کا مقصد جمہوری نظام کو نقصان پہنچانا ہے جس نے ریاست میں جڑیں جما لی ہیں اور آتنک وادیوں کو عوامی نمائندوں کی شکل میں بحال ہونے میں مدد کرنا ہے یہ پاکستان کی اس سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں تربیت یافتہ آتنک وادیوں کو عوامی لیڈروں کی شکل میں پیش کرنا ہے۔ بھلے ہی عام چناؤ اور پنچایتی چناؤ میں لوگوں نے انہیں نامنظور کیوں نہ کردیا ہو۔ چناؤ میں ریاست کے لوگوں کے بھاری تعداد میں حصہ لینے سے اس ضمنی حقیقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کسی بھی آتنک وادی گروپ کی دھمکیوں کی حقیقت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی بھی آتنک گروپ نے سرپنچوں کے قتل ذمہ داری نہیں لی ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس طرح کے کام کروانے والوں کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ جمہوری عمل میں لوگوں کی وسیع ساجھیداری اس بات سے ظاہر ہوتی تھی کہ 2011 ء کے چناؤ کے آخری نتیجوں کے مطابق جموں و کشمیروادی اور لداخ سمیت پورے جموں و کشمیر میں پنچایتوں کے لئے 40 ہزار سے زیادہ مقامی نمائندوں کو چنا گیا ہے۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے اس سال کے آخر تک بلاک اور ضلع سطح کے دوسرے اور تیسرے چناؤ بھی کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ سرحد پار بیٹھے آتنکیوں کے آقاؤں کو یہ قطعی منظور نہیں ہے اس لئے وہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب ہر ممکن رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

16 اکتوبر 2012

کانگریس کا مسلسل گرتا سیاسی گراف


عام طورپر ضمنی چناؤ نتائج کا اتنا اثر نہیں ہوتا لیکن جو حالات آج کل ہیں ان میں حال میں ہوئے ضمنی چناؤ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ دیش میں کانگریس کے خلاف تیزی سے ہوا بہہ رہی ہے۔ مہنگائی ،بدعنوانی اور خوردہ بازار میں ایف بی آئی کے خلاف بنے ماحول کے درمیان دو لوک سبھا سیٹوں کے ضمنی چناؤ میں ووٹروں نے کانگریس کے تئیں اپنے نظریئے کو کافی حد تک صاف کردیا ہے۔ اتراکھنڈ کی ٹہری سیٹ سے وزیر اعلی وجے بہوگنا کے بیٹے ساکیت بہوگنا چناؤ ہار گئے ہیں۔ یہ سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں گئی ہے۔ ادھر مغربی بنگال کے جنگیر پور سے صدر پرنب مکرجی کے بیٹے صرف2500 ووٹ سے ہی جیت پائے۔ یہ وہی سیٹ ہے جہاں سے پرنب داایک لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے جیتے تھے۔ یہ بھی ممتا کی مہربانی سمجھئے کہ انہوں نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا نہیں تو ابھیجیت مکرجی ہار جاتے۔ اقتصادی اصلاحات پر دئے گئے فیصلوں کے بعد پہلی بار ہوئے ضمنی چناؤ کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کس حد تک حکومت سے خفا ہے۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی وجے بہوگنا دعوی کرتے تھے کہ مہنگائی کوئی اشو نہیں ہے لیکن بیٹے کی ہار نے ثابت کردیا ہے کہ مہنگائی کا زخم عوام کے دلوں پر کتنا گہرا ہے۔ ٹھیک ایک سال پہلے17 اکتوبر 2011ء کو حصار میں ضمنی چناؤ کے نتیجے سے کانگریس پارٹی کی جو ہار کا سلسلہ شروع ہوا تھا وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ حصار سے ملی ہار کے بعد ممبئی میں ڈی ایم سی چناؤ، پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو بری طرح ہار ملی۔ دہلی میونسپل کارپوریشن میں بھی کانگریس کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ آندھرا میں 18 میں سے15 اسمبلی سیٹیں کانگریس کے باغی رہے جگن موہن کے کھاتے میں گئیں۔عوام میں اتنی ناراضگی ہے کہ دہلی جیسی جگہ میں وزیر اعلی شیلا دیکشت کی ریلی میں چپل ،انڈے پھینکے جارہے ہیں۔ 
یوپی اے سرکار نئے نئے تنازعوں میں گھرتی جارہی ہے۔ کل ہی بابو لال مرانڈی کی جھارکھنڈ وکاس مورچہ نے سرکاری طور سے مرکز کی یوپی اے سرکار سے حمایت واپس لے لی۔ وہیں وزیر قانون سلمان خورشید پر کرپشن کے معاملے نے اتوار کو مشتعل شکل اختیار کرلی ہے۔ پچھلے ایک مہینے سے شاید ہی کوئی ایسا دن رہا ہوں جب کانگریس کے لئے کوئی نیا درد سر پیدا نہ ہوا ہو۔ رابرٹ واڈرا کے چلتے پارٹی کی سینئر لیڈر شپ پہلی بار نشانے پر آگئی ہے۔ اس سے پہلے سونیا گاندھی اور ان کے خاندان پر سیدھے حملے نہیں ہوا کرتے تھے لیکن رابرٹ واڈرا نے یہ سب بدل دیا ہے۔ اب تو خود کانگریسی پارٹی لیڈر شپ پر کھلے عام ہورہے ہیں۔ ایک سینئر کانگریسی لیڈر کا کہنا تھا کہ عوام کی یادداشت بہت کم ہوتی ہے وہ جلد ہی اسکینڈل بھول جائے گی لیکن یہاں تو ایک کے بعد ایک اتنے اسکینڈل سامنے آرہے ہیں کہ عوام کیا بھولے گی؟ اگر حالات ایسے ہی بنے رہے اور کانگریس کا گراف اتنی تیزی سے ہی گرتا رہا تو شاید مرکز کی منموہن سرکار بھاجپا کے ذریعے دئے گئے الٹی میٹم سے پہلے ہی گرجائے گی۔ کانگریس لیڈر شپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے؟
(انل نریندر)

سلمان خورشید بنام انڈیا ٹوڈے بنام اروند کیجریوال


وزیر قانون سلمان خورشید بنام اروند کیجریوال اور انڈیا ٹوڈے گروپ کی لڑائی نے اتوار کو خطرناک شکل اختیار کرلی۔ سلمان نے لندن سے لوٹتے ہی پریس کانفرنس میں جس طرح سے انڈیا ٹوڈے گروپ پر حملہ کیا ہے اس سے ان کی اور ان کی بیوی کی بوکھلاہٹ صاف نظر آتی ہے۔ میاں بیوی دونوں نے ذاکر حسین میموریل ٹرسٹ کے فنڈ میں 71 لاکھ روپے کے مبینہ غبن کے الزامات کو پوری طرح سے غلط قراردیتے ہوئے کچھ دستاویز پیش کئے اور کسی بھی جانچ کا سامنا کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی صاف کردیا کہ وہ استعفیٰ دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ سلمان خورشید نے اپنی بیوی کے ساتھ میڈیا کے سامنے کچھ تصویریں اور دستاویز رکھ کر یہ بتایا کہ ہمارے این جی او نے معزور لوگوں کے لئے کیمپ لگائے تھے ۔ انہوں نے اعلان کیا کے ہم اس نیوز چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کریں گے جس نے اس معاملے میں اسٹنگ آپریشن کرایا۔ خورشید نے اپنے ٹرسٹ سے فائدہ پانے والے اس شخص کو بھی دکھایا جسے اسٹنگ آپریشن میں دکھایا گیا تھا۔رنگی مستری نام کے اس شخص نے کہا کے مجھے ٹرسٹ کی طرف سے دو سال پہلے سننے کی مشین ملی تھی۔ خورشید نے کہا میں کسی بھی اتھارٹی کی جانچ کا سامنا کرنے کو تیار ہوں لیکن بھاجپا لیڈر شری ارون جیٹلی اور انڈیا ٹوڈے گروپ کے کردار کی جانچ ہونے چاہئے۔میں استعفیٰ دے دوں گا اور میرے ساتھ اس میڈیا گروپ کے چیئرمین بھی استعفیٰ دے دیں۔ ڈیڑھ گھنٹے چلی پریس کانفرنس میں انڈیا ٹوڈے گروپ کے دیپک شرما کی خورشید سے کئی بار تو تو میں میں بھی ہوئی۔ خورشید اپنا آپا کھو چکے تھے اور چلا رہے تھے۔ میں نے اس سے پہلے کسی بھی مرکزی وزیر کو ایک پریس کانفرنس میں اس طرح آپا کھوتے نہیں دیکھا۔ خیر! اپنے ٹی وی نیٹ ورک کی رپورٹ جسے لیکر سلمان خورشید بوکھلائے ہیں اس پر انڈیا ٹوڈے گروپ نے کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ پر قائم ہے۔ گروپ کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا خورشید کو رپورٹ میں اٹھائے گئے سوال کے جواب دینے چاہئیں اور یہ بحث یا ناراضگی کی بات نہیں۔ بیان میں آگے کہا گیا ہے رپورٹ ریاستی اور مرکزی حکومت کے دستاویزوں سے حاصل کردہ ٹھوس اور بلا تنازعہ حقائق پر مبینی جانچ رپورٹ تھی۔ 
ادھر اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں تازہ ثبوت پیش کریں گے۔ ایتوار کو سلمان کے ذریعے اپنی صفائی میں تصویریں پیش کرنے کے کچھ ہی گھنٹے بعد کیجریوال نے کہا کہ ہم پھر سلمان خورشید کے خلاف تازہ ثبوت لائیں گے۔ کیجریوال نے ان کو مسترد کردیا اور کہا جب تک خورشید وزیر قانون بنے رہیں گے وہ اپنے خلاف سارے ثبوت ضائع کرا سکتے ہیں۔ اس معاملے کی کوئی غیر جانبدارانہ جانچ نہیں ہوسکتی؟ انہوں نے وزیر اعظم سے اس مسئلے پر خاموش رہنے کی وجہ بھی پوچھی۔ کیا وہ نہیں سوچتے ہیں سلمان خورشید کو ان حالات میں استعفیٰ دے دینا چاہئے؟ کیجریوال نے الزام لگایا کہ اترپردیش سرکار خورشید کے فائدے کے لئے حکام کے جعلی دستخط کروا رہی ہے۔ معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے جج سے کروائی جانی چاہئے۔
(انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...