Translater

26 جنوری 2013

جسٹس ورما کمیٹی کی سفارشوں کو لاگوں کرنا ہی دامنی کو سچی شردھانجلی ہوگی

پورے دیش کو نیند سے جگانے والی تحریک اور16 دسمبرجیسے اجتماعی آبروریزی کے واقعے کو مستقبل میں کیسے روکا جائے۔ موجودہ قوانین میں کیا کیا خامیاں ہیں اور ان سے جڑے اشوز پر سجھاؤ دینے کے لئے جسٹس ورما کمیٹی نے اپنی رپورٹ دے دی ہے۔ جسٹس ورما کے آگے کام یہ تھا کہ وہ آبروریزی جیسے معاملوں میں قانونی اصلاحات پر شہریوں اور تمام سرکاری غیر سرکاری اداروں کی تجاویز پر اپنی سفارش سرکار کو سونپے۔ کمیٹی نے630 صفحات کی رپورٹ دے دی ہے اس کمیٹی کے پاس 80 ہزار سے زیادہ تجاویز آئی تھیں۔ کمیٹی کو یہ کام30 دن میں کرنا تھا۔ عام طور پر ایسے کام کے لئے میعاد اور وقت بڑھانے کی روایت ہے لیکن جسٹس ورما نے یہ کا محض29 دنوں میں کردکھایا ہے اس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جسٹس ورما کمیٹی نے عورتوں کے تئیں جرائم روکنے کے لئے اپنی جو تمام سفارشیں دی ہیں وہ صرف یہ ہی بتاتی ہیں کہ کتنا کچھ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اتنی دہائیوں کے بعد بھی قانون میں جھول ہیں۔ یہ صاف ہے کہ اس کمیٹی کی سفارشوں کو پورا کرنے کے لئے پولیس قانون، چناؤ اور جوڈیشیل کارروائی میں اصلاحات کرنی ہوگی۔ یہ ہی نہیں جرائم کے سیاسی کرن سے لیکر پولیس اور عدالتی اصلاحات تک جس طرح سے کمیٹی نے خواتین سلامتی کے لئے درکار ایک بڑی تصویر کھینچی ہے وہ موجودہ حالت کا ایک تجزیہ ہے۔ کمیٹی کو لگتا ہے کے قانون بنانے والوں اور پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ممبران پر کسی طرح کا دباؤ نہ ہو، اس کے لئے کمیٹی چناؤ اصلاحات کی بھی مانگ کرتی ہے۔ موٹے طور پر کمیٹی نے جوابدہی چاروں سسٹم کے لئے تجویزیں دی ہیں۔ پولیس۔ نیتاؤں کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بنے۔ آبروریزی کیس درج کرنے میں ناکامی یا تاخیرکرنے والوں پر کارروائی ہو، قانون پر تعمیل کرنے والی ایجنسیاں نیتاؤں کے ہاتھوں کھلونا نہ بنیں۔ پولیس ڈھانچے اور کام کرنے کے طریقے میں بہتری ہو۔ سرکار: جلد سے جلد قانون میں ترمیم کرے، بچوں کی اسمگلنگ معاملے میں جوابدہ بنائے۔ عوامی نمائندگان قانون میں ترمیم کی جائے۔ مسلح افواج خصوصی اختیار ایکٹ کا جائزہ ہو۔ عدالت: تیز سماعت اور جلد فیصلے کے لئے ججوں کی تعداد بڑھے لیکن یقینی بنایا جائے کے کوالٹی سے سمجھوتہ نہ ہو۔مہلاؤں کے خلاف جرائم سے نمٹنے کے لئے فاسٹ ٹریک عدالتیں بنیں۔ عوامی نمائندی : چناؤ لڑنے سے پہلے حلف نامے کی جانچ کریں۔ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے سرٹیفکیٹ کے بعد ہی نیتاؤں کو چناؤ لڑنے دیا جائے۔ کمیٹی کے سجھاؤ پر پارلیمنٹ میں بحث ہو۔ تجاویز کو لاگو کرایا جائے۔16 دسمبر کے اجتماعی آبروریزی کے واقعے کے بعد مرکزی داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ کے ذریعے دہلی پولیس کمشنر نیرج کار کی تعریف کرنا بھارت کے سابق چیف جسٹس جے ایس ورما کو راس نہیں آیا۔ انہوں نے کہا جب معافی مانگے جانے کی امید تھی اس وقت پولیس کمشنر کی پیٹ تھپتھپانا سن کر کافی حیرت ہوئی ہے۔ دامنی کی قربانی ضائع نہیں جائے گی۔ یہ عہد ہماری نوجوان پیڑھی نے لیا ہے اور وہ آج تک اس پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ورما کمیٹی نے بھی مانا ہے کہ بدفعلی کے قانون میں اصلاحات کا سہرہ نوجوانوں کو جاتا ہے۔ نوجوانوں میں بیداری کے سبب ہی سرکار کو پہل کرنی پڑی۔ نوجوان دیش کو امید ہے کے انہوں نے پرانی پیڑھی کو سبق سکھایا ہے اور نوجوانوں کو اکسانے کی کوشش کی لیکن پھر بھی وہ خاموش رہے۔ 16 دسمبر کی اس بربریت والی واردات کے بعد آج دیش بھر میں پیدا ناراضگی کے ساتھ ہی ملزمان کو پھانسی کی سزا کی مانگ کرنے والوں کو ورما کمیٹی کے ذریعے اس کی مخالفت کرنے سے مایوسی ہوئی ہوگی۔ کمیٹی نے ملزم کو موت کی سزا کی سفارش نہیں کی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی یہ سوال بھی بحث میںآگیا ہے کے ایسی سفارش کیوں نہیں کی گئی؟ کچھ لوگ قصورواروں کوکیمیائی تیزاب ڈال کر انہیں نا مرد بنانے کے حق میں تھے۔ ورما کمیٹی نے آبروریزی کے لئے 20 سال تک جیل کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کی تجویز ہے کے پھانسی لگنے سے تو کھیل ختم ہوجاتا ہے۔ اگر آبروریزی کے لئے تاعمر جیل کی سزا ہو تو بہتر متبادل ہوگا۔ قانون اور عورتوں کی انجمنوں سے وابستہ واقف کاروں کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے4 بڑی وجوہات لگتی ہیں۔ اس کے ساتھ جانکار یہ بھی مانتے ہیں کے ساری دنیا میں پھانسی کی سزا پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ کئی دیشوں نے تو اس پر پابندی بھی لگا دی ہے۔ جو چاربڑی دقتیں سامنے آتی ہیں وہ ہیں ایک تو یہ پھانسی کی سزا ہونے پر عورتوں کے قتل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور پھانسی کی سزا بڑا ڈر تو پیدا کرتی ہے لیکن وحشی لوگوں کو آبروریزی کے بعد مرڈر کرنے کے لئے بھی اکساتی ہے۔ ثبوت مٹانے کے لئے وہ قتل کرسکتے ہیں۔ دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ پھانسی کی سہولت بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہلچل کے برعکس ہے۔ ایک طرف بڑی وجہ مس یوز ہونے کا ڈر ، ریپ کے غلط الزام لگا کر قانون کا بیجا استعمال کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ نابالغ لڑکیوں کے مبینہ محبت کی شادی کے معاملوں میں اغوا اور آبروریزی کا کیس درج ہوتا ہے۔ ایسے معاملوں میں اتنی بڑی سزا دوسرے سوال بھی پیدا کرسکتی ہے۔ آبروریزی و قتل کے معاملوں میں موت کی سزا اب بھی دی جاسکتی ہے لیکن ایک بڑا اشو یہ بھی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں معاملے صدر کے پاس رحم کی اپیل شکل میں پہن جائیں گے تو کون انہیں دیکھے اور سمجھے گا؟ کون کتنی جلدی فیصلہ کر پائے گا؟ لہٰذا اب سرکار کو وہ سبھی قدم اٹھانے ہوں گے جن سے میٹرو شہروں کے ساتھ دور دراز کے علاقوں کی عورتوں کی سلامتی یقینی کی جاسکے؟ اس کے لئے سرکارکو سبھی پارٹیوں کے ساتھ مل کر اتفاق رائے بنانی چاہئے تاکہ پارلیمنٹ میں قانون میں ضروری ترمیم کی جاسکیں ۔ جسٹس ورما کمیٹی کی سفارشوں کو لاگو کرنا ہی دامنی کو اصل شردھانجلی ہوگی۔
(انل نریندر)

چوروں نے کمال کردیا پنٹون برج کے ٹکڑے ہی لے گئے

چوروں نے تو دہلی میں کمال ہی کردیا ہے۔ گیتا کالونی فلائی اوور بننے کے بعد لوہے کا پنٹون برج کا استعمال بند ہوگیا تھا۔ دہلی سرکار نے اسے اترپردیش کو دینے کا ذہن بنا لیا تھا لیکن اس کی بکری نہیں ہو پائی تھی۔ چوروں نے اس لوہے کے پل کو ہی چوری کرلیا۔ دہلی میں ایسے 42 بنکر ہیں ان کی لمبائی قریب20 فٹ ہے ۔ ان میں پکا لوہا استعمال کیا گیا ہے۔ معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔ رپورٹ درج کرنے میں بھی تاخیرہوئی ہے۔ مانا جاتا ہے جس طریقے سے کام ہوا ہے اس سے لگتا ہے اس معاملے میں محکمے کے افسران کی ملی بھگت ہے۔ جمنا ندی کا پنٹون پل چرانے والوں کو اندر کی خبر ہوگی۔ پل چرانے کے لئے چیف ایگزیکٹو انجینئر کے فرضی کاغذات کا استعمال کیا گیا تھا۔ ان کاغذات میں کسی بھی سرکاری فائل کے لئے ضروری سبھی کارروائی کو پورا کیا گیا تھا۔ اس میں فائل کو بھیجنے کے لئے استعمال کئے جانے والے نمبربھی ڈالے گئے تھے۔ اس کارروائی میں اب شک کی سوئی پی ڈبلیو ڈی کی طرف ہے۔ پنٹون پل معاملے کی جانچ میں لگی پولیس کا کہنا ہے یہ جعلسازی کا کھیل کسی کباڑی کا نہیں، یہ چار پانچ لوگوں کی ملی بھگت سے انجام دیا گیا ہے۔ کباڑی سے لی جانکاری کی بنیادپر پولیس اس سے وابستہ لوگوں کی تلاش میں دہلی، این سی آر میں چھاپہ ماری کررہی ہے۔ گرفتاری ملزم پروین نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کے اسے ایک شخص نے کاغذات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس نے یہ خرید لیا ہے۔ اس کے بعد اس نے پروین سے سودا کیا تھا۔ لیکن پولیس ا س شخص کی تلاش کررہی ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اس چوری میں مقامی پولیس ملازمین کا کیا رول ہے؟ کیا پل کی کالی کمائی میں مال کی بندرباٹ کا حصہ مقامی پولیس کو بھی جانا تھا؟ ذرائع کے مطابق پنٹون پل کو ٹھکانے لگانے کا کا پچھلے ایک ماہ سے جاری تھا۔ بتایا جارہا ہے کے جس دن کباڑی کی جے بی سی مشینیں اور کٹر جمنا کنارے پہنچے تھے اسی دن گیتا کالونی پولیس کو بھی اس کی بھنک لگ گئی تھی۔ تھانے کے بیٹ کانسٹیبل پیٹرولنگ اسٹاف نے ان مشینوں کے مالک یعنی کباڑی سے ملنے کی بات وہاں موجود مزدوروں اور اسکے ٹھیکیداروں سے کی تھی۔ اس دن کام بند بھی کروادیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اگلے دن بیٹ والوں نے کباڑی پروین سے جمنا کنارے ملاقات کی تھی۔ کباڑی پل خریدے جانے کے فرضی کاغذات بیٹ والوں کو دکھانے کے بعد پولیس والوں کو لوٹادیا تھا۔ مطلب صاف ہے اس کے بعد گیتا کالونی تھانے کے بیٹ کانسٹیبل نے کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ پولیس اور کباڑی کے اس کھیل میں تھانہ پولیس کے علاوہ پی سی آر اور پیرولنگ اسٹاف بھی شامل تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کے پولیس نے پل کاٹنے کے لئے پی ڈبلیو ڈی کے فرضی ورک آرڈر کے بارے میں کسی طرح کی چھان بین نہیں کی۔ جیسا کے میں نے کہا چوروں نے تو کمال کردیا۔ ایسی چوری کا شاید ہی کسی کو تصور رہا ہو۔
(انل نریندر)


25 جنوری 2013

آخر کار آر ایس ایس کو اڈوانی کے سامنے جھکنا ہی پڑا!

بھارتیہ جنتا پارٹی کا صدر کون ہوگا آخر یہ فیصلہ ہوہی گیا۔ اس کی تو کسی کو امیدبھی نہیں تھی۔ نتن گڈکری کو دوسری میعاد ملناطے تھی۔ آر ایس ایس نے تو ایک طرح سے باقاعدہ اعلان بھی کردیا تھا لیکن سنگھ اور گڈکری خیمے نے بھاجپا کے سپریم لیڈر لال کرشن اڈوانی کو نظر انداز کیا۔ اڈوانی جی نے ایسا چکر چلایا کہ سنگھ اور گڈکری دونوں چکر کھا گئے۔ منگلوار کی رات نتن گڈکری کو دوسری میعاد ملنا طے تھی لیکن پہلے مہیش جیٹھ ملانی نے اعلان کردیا کے وہ گڈکری کو بلا مقابلہ پردھان نہیں بننے دیں گے۔ شام ہوتے ہوتے یہ خبر آئی کے بھاجپا کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے اپنا امیدواری کا پرچہ بھرا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کے وہ بھی چناؤ لڑنے کے موڈ میں تھے۔ گڈکری خیمے کے تیور تو منگل کی رات کو ہی ڈھیلے پڑ گئے تھے۔ رہی سہی کثر بدھوار کی صبح پوری ہوگئی جب خبر آئی گڈکری کی پورتی کمپنی میں ممبئی، پنے سمیت 9 مقامات پر انکم ٹیکس محکمے نے چھاپے مارے۔ ان چھاپوں نے آر ایس ایس کو بھی مجبور کردیا اور نئے صدر کی تلاش شروع ہوگئی۔شری لال کرشن اڈوانی پہلے دن سے ہی گڈکری کو دوسری میعاد دینے کے خلاف تھے اور وہ اسکے لئے اپنے موقف پر آخر تک ڈٹے رہے۔ وینکیانائیڈو، ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی، سشما سوراج کا نام بھی آیا لیکن ان کے ناموں پر اتفاق رائے نہ ہوسکا اور رات8 بجے طے ہوا کے گڈکری استعفیٰ دے دیں۔9 بجے مسٹر راجناتھ سنگھ پر اتفاق رائے ہوا۔ 9:15 بجے گڈکری نے استعفے کا اعلان کردیا اور اس طرح راجناتھ سنگھ بھاجپا کے نئے پردھان چن لئے گئے۔ خاص بات یہ ہے اس سارے معاملے کا پہلو یہ ہے کہ خود آر ایس ایس کو لال کرشن اڈوانی کے سامنے آخر کار جھکنا ہی پڑا۔ آخری وقت میں نتن گڈکری کی دوبارہ تاجپوشی رکوا کر اڈوانی نے ثابت کردیا ہے کہ وہ آج بھی بھاجپا کے سب سے طاقتور لیڈر ہیں۔ دراصل پورتی گروپ پر تمام الزام لگنے کے بعدبھی سنگھ اپنے چہیتے گڈکری کی دوبارہ تاجپوشی کے لئے اڑا ہوا تھا لیکن اڈوانی کی دلیل تھی گڈکری پر شبہ کی انگلی اٹھ جانے کے بعد انہیں دوبارہ پارٹی کی کمان نہیں سونپی جاسکتی۔ وہ بھی تب جب بھاجپا یوپی اے سرکار کے کرپشن کے معاملے اٹھاتی رہی ہے۔ سنگھ گڈکری کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا۔ مجھے یاد ہے کے جب اروند کیجریوال نے پہلی بار پورتی گروپ میں مالی گھوٹالے کا معاملہ اٹھایا تو سنگھ نے اسے کاؤنٹر کرنے کے لئے گورومورتی سے جانچ کرواکر گڈکری کو کلین چٹ دلوادی تھی۔ مگر اڈوانی اس سے متفق نہیں ہوئے اور آخر کار اڈوانی کی ہی جیت ہوئی ہے۔ اپنے عہد میں نتن گڈکری کوئی بھی ایسی چھاپ نہیں چھوڑ سکے جس سے کہا جائے کے سنگھ نے ان کی تقرری صحیح کروائی تھی۔ ان کو سیاسی تجربہ بھی قومی سطح کا نہیں تھا۔ مہاراشٹر سرکار میں یہ وزیر تھے لیکن اس سے آگے نہیں بڑھے۔ ہاں ایک صنعت کار تھے اور پیسہ اکٹھا کرنا جانتے تھے اور شاید یہ ہی سنگھ چاہتا بھی تھا۔ نتن گڈکری کے عہد میں کرناٹک میں پوری پارٹی ٹوٹی۔ یدی یروپا نے گمراہی کی وجہ سے پارٹی چھوڑی اب راجناتھ سنگھ کے لئے یہ راجیہ چنوتی بن کر ابھرا ہے۔ کرناٹک میں بھاجپا سرکار کو بچانا ، جھارکھنڈ میں پیسے کی طاقت پر جوڑ توڑ کر گڈکری نے سرکار تو بنوادی لیکن اس کا کیا حشر ہوا ،سبھی کے سامنے ہے۔ نتن گڈکری کی قیادت میں بھاجپا نے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ میں اپنی سرکاریں گنوائیں اور اتنا اچھا ماحول ہونے کے باوجود گڈکری جنتا میں یہ بھروسہ پیدا نہیں کرسکے کے بھاجپا کانگریس کا متبادل بن سکتی ہے۔ راجناتھ سنگھ نے کانٹوں کا تاج پہن لیا ہے۔ یہ چار سال تک بھاجپا کے قومی صدر کی حیثیت سے کمان اور اترپردیش کے وزیر اعلی رہ چکے راجناتھ سنگھ کی پہچان زمین سے جڑے ہونے کی ہے۔ ایماندار ساکھ والے راج نیتا کی شکل میں جانے جاتے ہیں۔
سیاست میں انہیں ہندوتو وادی نظریئے کے حامی لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اترپردیش کے چندولی ضلع کی چکیا تحصیل میں ایک کسان خاندان میں پیدا راجناتھ سنگھ نے اپنا کیریئر بطور سائنس لیکچرار کے طور پر شروع کیا۔ راجناتھ سنگھ کا آر ایس ایس سے بھی تعلق رہا ہے۔ وہ 1975ء میں محض 24 سال کی عمر میں جن سنگھ کے ضلع پردھان بنے۔ بعد میں جن سنگھ کے بھاجپا میں شامل ہو جانے سے پارٹی کے نوجوان لیڈر کی شکل میں ان کا قد تیزی سے بڑھا۔ 2005 سے2009 تک وہ بھاجپا کے قومی صدر کا عہدہ بھی سنبھال چکے ہیں۔ حالانکہ ان کی قیادت میں 2006ء میں پانچ ریاستوں میں ہوئے انتخابات میں پارٹی نے کوئی اچھا پردرشن نہیں کیا تھا لیکن 2007 میں بھاجپا نے اتراکھنڈ ۔ پنجاب میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔ ساتھ ہی2008ء میں ان کی صدارتی میعاد میں ہی بھاجپا نے ساؤتھ انڈیا کی ریاست کرناٹک میں پہلی بار سرکار بنائی۔ راجناتھ سنگھ کے عہد میں مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں بھاجپا کی شاندار واپسی ہوئی۔ راجناتھ سنگھ کی تاجپوشی ہونے سے قومی سیاست میں اترپردیش کی اہمیت ایک بار پھر سے سامنے آئی ہے۔ لوک سبھا چناؤ کے عین پہلے یوپی کے اس سینئر اور تجربے کار لیڈر کو پارٹی کی کمان سونپے جانے سے صوبے میں بھاجپائی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ سیاسی نبض کی جانکاری رکھنے والوں کا تو یہاں تک اندازہ ہے کے اگر چناؤ میں بھاجپا کی اچھی کارکردگی رہتی ہے تو راجناتھ سنگھ بھی وزیر اعظم کی امیدواری کے دعویدار بن سکتے ہیں۔ یہ بھی لگ رہا ہے کہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنے گا۔ ایک طرف بھاجپا اور راجناتھ سنگھ کی سرپرستی میں این ڈی اے ہوگا اور دوسری طرف کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی رہنمائی میں یوپی اے ہوگا۔ 
بھاجپا کی کافی دنوں سے یہ کوشش چل رہی تھی کے لوک سبھا چناؤ کا مقابلہ یوپی میں سپا ۔بسپا کے پولرائزیشن کو توڑ کر قومی پارٹیوں کے درمیان ہو۔ مانا جارہا ہے کہ راجناتھ سنگھ اور کلیان سنگھ کی واپسی کے ساتھ یوپی میں بھاجپا کو نئی زندگی ملے گی اور پارٹی کو امید ہے کے پارٹی میں پیدا مایوسی کا ماحول ختم ہوگا اور ورکر پورے حوصلے کے ساتھ لوک سبھا چناؤ کی تیاریوں میں جٹیں گے لیکن اس سے پہلے راجناتھ سنگھ کو کرناٹک اور عام چناؤ سے پہلے 9 ریاستوں کے اسمبلی چناؤ سے نمٹنا ہوگا۔
(انل نریندر)

24 جنوری 2013

کیا کلیان سنگھ اپنا پرانا کرشمہ دوہرا پائیں گے؟

اترپردیش کے سابق وزیر اعلی و سرکردہ لیڈر کلیان سنگھ ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کی پناہ میں آگئے ہیں۔ پیر کو ان کی جن کرانتی پارٹی (راشٹروادی) کا باقاعدہ طور پر انضمام لکھنؤ میں اٹل شکھانند ریلی میں ہوگیا۔ریلی میں کلیان کے بیٹے راجیویر سنگھ نے اس کا اعلان کیا۔ حالانکہ دل بدل قانون کے سبب کلیان سنگھ خود ابھی بھاجپا کی ممبرشپ نہیں لے سکتے۔ ریلی کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت میں کلیان سنگھ نے کہا میں ابھی بھاجپا کی ممبر شپ نہیں لے رہا ہوں ، مجھے ایسا کرنے کے لئے پہلے لوک سبھا کی ممبر شپ سے استعفیٰ دینا ہوگا، اس سے ضمنی چناؤ کی حالت بنے گی جو غیر ضروری ہے کیونکہ2014 ء میں عام چناؤ ہیں۔ بھاجپا کے ساتھ آئے کلیان نے جے شری رام کے ساتھ جے ہنومان کا بھی نعرہ دیا۔ ’بھارت ماتا کی جے ‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے وہ بیحد جذباتی ہوگئے اور کہا کہ میری ارتھی بھی بھاجپا کے جھنڈے میں لپٹ کر جائے۔ کلیان سنگھ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو اترپردیش میں پارٹی کے کلیان کی امیدیں ہیں۔ کلیان کی دوسری بار بھاجپا میں واپسی کے پیچھے کچھ حد تک مرکز میں بھاجپا کا دبدبہ بنائے رکھنے کے لئے بھی حکمت عملی کام کررہی ہے۔ ایک طرح سے یہ بھاجپا میں وزیر اعظم کے امیدوار کے دعویداروں کی پیش بندی ہے جنہیں کلیان سنگھ کے کندھوں کی درکار ہے۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کلیان سنگھ کے آنے سے بھاجپا کی اترپردیش میں لوک سبھا کی سیٹیں بڑھیں گی اور مرکز میں سرکار بنانے کا موقعہ ملنے پر اترپردیش کے بھاجپا نیتا وزیر اعظم کے عہدے کے لئے دعوی مضبوطی سے پیش کر سکیں گے۔ دوسری طرف کلیان سنگھ کا مقصد اپنے بیٹے راجویر سنگھ کو سیاست میں قائم کرنا بھی ہے۔ پیر کو راجویر نے اسٹیج سے بھاجپا ریلی کو بھی خطاب کیا۔ 2014 لوک سبھا چناؤ میں اترپردیش کی اہمیت رہے گی۔ 2004ء میں چناؤ میں اترپردیش کی وجہ سے ہی بھاجپا پٹی تھی۔ بھاجپا کے ایک قومی لیڈر کا کہنا ہے کے گجرات میں جتنی بھی لوک سبھا سیٹیں ہیں بھاجپا اترپردیش میں اس میں زیادہ سیٹیں جیتنے کی پوزیشن میں ابھی بھی ہے۔ کلیان سنگھ کے آنے سے اس میں اضافہ ہوگا۔ ریلی میں بھاجپا کے نئے پردھان بننے جارہے راجناتھ سنگھ نے کہا کے پارٹی نے کم سے کم50 سیٹیں جیتنے کا نشانہ طے کیا ہے۔ اگر ہم اترپردیش میں 50 سے زیادہ سیٹیں جیت گئے تو مرکز میں این ڈی اے کی سرکار بننے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ جواب میں کلیان سنگھ نے کہا ہم تو پہلے ہی 60 سیٹیں جیت چکے ہیں۔ ان کا اشارہ1998 ء کی طرف تھا۔ کیا بھاجپا کلیان سنگھ کو واپس لاکر ایودھیا اشو کو پھر سے ابھارنا چاہتی ہے؟ ایودھیا تنازعے کی تاریخ کے اکیلے نیتا کلیان سنگھ ہیں۔ جنہیں سپریم کورٹ نے متنازعہ ڈھانچہ گرانے کے بعد حلف نامہ داخل نہ کرنے کا قصوروار پایا گیا تھا اور انہیں سزا بھی ملی تھی۔
سوال یہ ہے کے کیا اپنی دوسری پاری میں کلیان سنگھ اپنا پرانا کرشمہ دوہرا پائیں گے؟ وہ دو بار وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ 10 بار یوپی کے ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں۔بھاجپا سے ناراض ہوکر کلیان سنگھ نے 1999 ء میں اپنے17 ویں جنم دن پر راشٹریہ کرانتی پارٹی نام سے ایک نئی جماعت بنائی۔ پھر کچھ عرصے تک وہ ملائم سنگھ یادو سے بھی جڑے۔ 2002ء کے اسمبلی چناؤ اور کلیان سنگھ اور بھاجپا نے الگ الگ چناؤ لڑا تھا۔ یہ وہی چناؤ تھا جہاں بھاجپا کا یوپی میں گراف گرنا شروع ہوا تھا۔ سیٹوں کی تعداد177 سے گھٹ کر88ہوگئی۔ پردیش کی 403 سیٹوں میں سے72 پر کلیان کی کرانتی پارٹی نے دعویداری ٹھوکی تھی۔ انہی سیٹوں پر بھاجپا کو سب سے زیادہ نقصان ہوا تھا۔
(انل نریندر)

جے بی ٹی ٹیچر بھرتی گھوٹالہ میں شکایت کنندہ خود بھی پھنس گیا

ایک اہم واقعے میں منگلوار کو خصوصی سی بی آئی جج ونود کمار نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ اورا ن کے بیٹے اجے چوٹالہ کو جونیئر بیسک ٹرینڈٹیچر بھرتی کے 9 سال پرانے معاملے میں 10-10 سال جیل کی سزا سنائی۔ اس سے پہلے شری اوم پرکاش چوٹالہ نے عدالت کو اپنے آپ کو جسمانی طور پر 80 فیصدی معزور بتایا۔ ایک عرضی میں مسٹر چوٹالہ نے کہا میری عمر 74 سال کی ہوچکی ہے اور میرا 80 فیصدی جسم ناکارہ ہوچکا ہے۔ میری طبیعت کافی خراب ہے اور میں بغیر مدد کے چل پھر نہیں سکتا۔ چوٹالہ کے وکیل آنند راٹھی نے پیر کو سی بی آئی کے اسپیشل جج ونود کمار کے سامنے یہ عرضی پیش کی۔ چوٹالہ کا کہنا تھا روہتاس نامی ان کا ایک معاون ان سب کاموں میں ان کی مدد کرتا تھا اور عدالت چاہے تو روہتاس کو پھر سے ان کی مدد میں تعینات کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے اس دلیل کا نوٹس لیا۔ وہ بغیر کسی مدد کے اپنے روز مرہ کے ضروری کام بھی نہیں کرپاتے۔ جج نے تہاڑ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو جیل کے قاعدے کے مطابق اس بارے میں فیصلہ لینے کوکہا۔یہ سارا معاملہ آخرکیا ہے؟ جے بی ٹی ٹیچنگ بھرتی گھوٹالے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار اس وقت کے پرائمری تعلیم ڈائریکٹر سنجیوکمار نے نبھایا تھا۔ سنجیو کمار نے ہی اس معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ کے آدیش پر سی بی آئی نے ابتدائی جانچ 2003ء میں شروع کی اور2004ء میں سی بی آئی نے اوم پرکاش چوٹالہ، ان کے لڑکے شکایت کنندہ سنجیو کمار سمیت کچھ 62 لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ تعجب تو اس بار کا ہے کے معاملے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار نبھانے والے سنجیو کمار کو بھی سی بی آئی نے معاملے میں ملزم بناتے ہوئے ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کردیا۔ سی بی آئی کے مطابق دیگر لوگوں سے تنازعہ ہونے پر انہوں نے گھوٹالے کے خلاف آواز اٹھائی۔ کورٹ نے اپنے فیصلے میں سنجیو کمار کو بھی قصوروار ٹھہرایا اور انہیں بھی 10 سال کی سزا سنائی ہے۔ حالانکہ کورٹ نے سنجیو کمار کو سزا سنانے میں تھوڑی دقت محسوس کی۔ قانون گھوٹالہ اجاگر کرنے والے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ اگر وہ بے قصور ہے صرف وہ حالات کا شکار ہو تو اسے بچاؤ فریق کی طرف سے گواہ بنایا جانا تھا۔ یہ تبصرہ جج ونود کمار نے سزا سناتے وقت کیا۔ عدالت کا کہنا ہے سنجیو معاملے اٹھانے والا ہے ایسے میں انہیں سزا سنانے میں یہ پریشانی محسوس کررہا ہوں کیونکہ اس سے غلط پیغام جاسکتا ہے کے قانون ’وہیسل بلوور ‘کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ لیکن موجودہ وق میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے۔ 
عدالت نے کہا سنجیو کمار اگر سپریم کورٹ نہیں جاتے تو یہ معاملہ روشنی میں نہیں آتا۔ انڈین لوکدل نے جے بی ٹی ٹیچر معاملے میں سی بی آئی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے ممبر اسمبلی ابھے سنگھ چوٹالہ نے کہا کہ کاپی ملتے ہی وہ اسے اوپری عدالت میں چنوتی دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیش کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا کے دفعہ467 کے تحت کسی کو 10 سال کی سزا سنائی گئی ہو۔ بنیادی ملزمان کو4 سال اور اوم پرکاش چوٹالہ اور ان کے بیٹے کودفعہ120B سازش میں شامل بتایا گیا ہے اس لئے انہیں10 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا پورے معاملے میں کہیں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ سازش میں کیسے شامل ہیں۔ بھرتی میں کرپشن کا الزام لگایا جارہا ہے جبکہ نوکری پر لگائے گئے 3206 ٹیچروں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے یہ کہا ہو کے اس نے نوکری میں کوئی پیسہ دیا ہو۔ وہ مایوس نہیں ہے۔ اگر فائدہ پانے والے ٹیچروں میں سے ایک نے یہ نہیں کہا کہ اس نے بھرتی کے لئے پیسہ دیا تو کرپشن ہوا ہے یہ ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے اسلئے تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ میں شاید اور خلاصہ ہو کے کرپشن اور سازش کا معاملہ کیسے بنتا ہے؟ یہ معاملہ سیدھا سیدھا سنجیو کمار کے ذریعے سپریم کورٹ جانے کی وجہ سے بنا ہے۔ اس میں کانگریس کی ہریانہ سرکار کا کوئی رول ظاہرتو نہیں ہوتا۔
(انل نریندر)

23 جنوری 2013

دہشت نہ تو رنگ دیکھتی ہے نہ مذہب سماج کو بانٹنے کی کوشش قابل مذمت

عام طور پر وزیر داخلہ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد شری سشیل کمار شندے نے متوازن بیان دئے ہیں اور متنازعہ بیانوں سے بچتے رہے لیکن اب انہوں نے ساری رہی سہی کثر پوری کردی۔ کانگریس کے چنتن شور کے آخری دن وزیر داخلہ شندے نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی کھلی میٹنگ میں کہہ دیا کہ بھاجپا اور سنگھ کے کیمپوں میں ہندو آتنک واد کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس، مکہ مسجدا ور مالیگاؤں دھماکوں کے پیچھے سنگھ کا ہاتھ ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ شندے کے اس بیان نے سیاسی ماحول ہی بدل دیا ہے اور سیاست میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ وزیر داخلہ کا بیان اس لئے بھی سنگین ہے کیونکہ یہ بھارت کے وزیر داخلہ نے دیا ہے۔ شندے بغیر کانگریس ہائی کمان کی مرضی کے ایسا بیان نہیں دے سکتے تھے۔پچھلے کچھ برسوں سے کانگریس کی ووٹ بینک کی سیاست اس کی حکمت عملی کا حصہ بن گئی ہے۔ اقلیتی ووٹ بینک کو کسی بھی قیمت پر اپنی طرف راغب کرنے کے لئے کانگریس کسی بھی حد تک جارہی ہے۔ اسے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کے ان کے بیان سے دیش کے دشمن غیر مناسب فائدہ اٹھائیں گے۔ ہوا بھی یہ ہی۔ دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گردی فہرست میں اول نمبر پر لشکرطیبہ کے چیف حافظ سعید نے شندے کے بیان پر بلا تاخیر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا بھارت ہمیشہ پاکستانی تنظیموں کے خلاف آتنک واد پھیلانے کا گمراہ کن پروپگنڈہ کرتا رہا ہے لیکن اب وہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ زخم پر نمک چھڑکنے کی کسر کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے پوری کردی۔ دگوجے سنگھ نے حافظ سعید کو حافظ سعید صاحب کہہ کر پوری کردی۔ یہ بدھوار کی بات ہے۔ کانگریس پارٹی اب دہشت گردی کو مذہب اور رنگ کے حساب سے نشاندہی میں لگی ہوئی ہے۔ آتنک واد کا نہ تو کوئی رنگ ہوتا ہے اور نہ ہی مذہب۔ ہم نے تو یہ کبھی نہیں کہا کہ مسلم آتنک وادی ہیں، ہندو آتنک وادی ہیں، سکھ آتنک وادی ہی، عیسائی آتنک وادی ہیں یا یہودی آتنک وادی ہیں۔ نہ ہی ہم نے کبھی کہا یہ لال رنگ کا آتنکی ہے، ہرے رنگ کا آتنکی ہے، بھگوا رنگ کا ۔ جب کوئی آتنک وادی کسی پبلک مقام پر بم مارتا ہے تو وہ نہیں سوچتا اس بم کے ٹکڑے کسی بچے، عورت، بزرگ یا پھر ہندو ، سکھ، مسلمان، عیسائی کو لگیں گے؟ وہ تو اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے تشدد کے ذریعے سے اپنا مقصد پورا کرتا ہے۔ جے پور چنتن شور میں دیا گیا شندے کا بیان اس لئے بھی سنگین بن جاتا ہے کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ بھارت کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے کہا اور یہ بھی دعوی کیا کے ان کے پاس اس کے ثبوت ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر شندے کے پاس اس بارے میں ثبوت ہیں تو کیا وہ اس مبینہ خلاصے کے لئے جے پور چنتن شور کا انتظار کیوں کررہے تھے؟ جب ٹھوس ثبوت ہیں تو ان کی بنیاد پر متوقعہ کارروائی کیوں نہیں کی ؟ اگر واقعی ان کے پاس آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے آتنک واد کو بڑھاوا دینے کے پختہ ثبوت ہیں تو انہیں ضروری کارروائی کرنے سے کس نے روکا؟ بھلے ہی دگوجے سنگھ شندے کے بیان کی حمایت کررہے ہوں اور دیگر کانگریسی لیڈر بھی ان کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہوں لیکن یہ مان لینا صحیح نہیں ہوگا کے شندے نے جو کچھ کہا وہ حقیقت میں وہ سب صحیح ہوگا۔ کانگریس کے نیتاؤں کو تو صرف بیان بازی کرنے کی جگہ ٹھوس کارروائی کرتے ہوئے دکھائی پڑنا چاہئے تھے۔ اس لئے اور بھی کیونکہ مرکز میں اکیلی ان کی پارٹی والی سرکار ہے۔ اب اگر اس طرح سے سماج کو بانٹنے والے بیانوں کی بنیاد پر اپوزیشن کی گھیرا بندی کی جائے گی اور آنے والے لوک سبھا چناؤ کے لئے ماحول تیار کیا جائے گا تو ایسا لگتا ہے کہ اس بیان کا مقصد بنیادی اصولوں سے عام جنتا کی توجہ ہٹانی ہے۔ ایسے وقت پر جب سرحد پر کشیدگی کے سبب بھارت کو نہ صرف سنگین چیلنج کا سامنا ہے بلکہ دیش کے اندر دہشت گردی اور نکسلواد کے خطرے کہیں زیادہ خطرناک شکل اختیارکرتے جارہے ہیں، وزیر داخلہ کی سطح پر ایسے بیانوں کا جواز ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔ اس کا ہمیں تو محض ایک مقصد صرف اپنے سیاسی مخالفوں کو کٹہرے میں کھڑے کرنے کے علاوہ دوسرا نظر نہیں آرہا۔ سیاست کا معیاراس حد تک گر جائے گا کے جہاں سے بھارت مخالف فائدہ اٹھا سکیں، چنتن تو اس پر ہونا ضروری ہوگیا ہے۔سیاسی الزام تراشیوں کی لچھمن ریکھائیں بھی مٹتی جارہی ہیں۔ یہ نہ تو دیش کے لئے اچھا ہے ،نہ سیاسی پارٹیوں کے لئے اور نہ ہی جنتا کے لئے سماج کو اس طرح سے بانٹنا کبھی بھی صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
(انل نریندر)

پھر لوٹی ٹیم انڈیا اپنے پرانے رنگ میں: نمبرون رینکنگ پر پہنچی

ٹیم انڈیا نے رانچی میں انگلینڈ کو تیسرے ونڈے میچ میں 7 وکٹ سے ہرا کر آئی سی سی ونڈے رینکنگ میں ایک بار پھر نمبرون پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ آئی سی سی رینکنگ ہر سیریز کے بعد اپ ڈیٹ کی جاتی ہے لیکن سیریز کے درمیان میں فی الحال ٹیلی میں تبدیلی ہوئی ہے۔ جس میں بھارتیہ ٹیم 2009 کے بعد پہلے نمبر پر پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ستمبر2009ء میں سیریز میں سہ ملکی سیریز کے دوران قریب ایک دن کے لئے ٹیم انڈیا ونڈے رینکنگ میں نمبر ون بنی تھی جہاں ہم ٹیم انڈیا کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں وہیں کپتان مہندر سنگھ دھونی کو شاندار شخصی پرفارمینس اور ٹیم کی کپتانی کی ستائش کرتے ہیں۔ اکیلے اپنے کندھوں پر دو میچوں میں جیت کا سہرہ انہی کے سر بنتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کے محنت پوری ٹیم کرتی ہے اور کرکٹ بھی ٹیم گیم ہے، لیکن اگر کپتان فرنٹ سے لیڈ کرے تو فیلڈنگ، بیٹنگ، بالنگ سب میں بہتری آجاتی ہے۔ بدھوار کو انگلینڈ و ٹیم انڈیا کا چوتھا میچ ہے۔ اس میچ میں سیریز طے ہوگی۔ جس ڈھنگ سے ٹیم انڈیا کا زور اور خود اعتمادی ہے اس میں انگلینڈ کے ذریعے ٹیم انڈیا کوہرانا آسان نہیں لگتا لیکن ٹوئنٹی۔ 20 گیم ایسا ہے کے جو بھی ٹیم اس دن بہتر کھیلے گی وہی سکندر ہوگا۔ ٹیم انڈیا کا نمبرون پر پہنچنا اس لئے بھی بیحد خاص ہے کیونکہ کئی سینئر کھلاڑیوں نے سنیاس لے لیا ہے اور اس ٹیم کو نئے سرے سے زندگی ملی ہے۔ 
پاکستان کے ہاتھوں ملی شکست اور انگلینڈ کے خلاف جاری سیریز کا آغاز ہار ہونے کے بعد یہ خدشہ ظاہر ہوگیا تھا کہ انگریزوں کے سامنے بھی ٹیم انڈیا اسی طرح گھٹنے ٹیک دے گی جیسے پاکستان کے ساتھ ہوا۔ لیکن پہلے کوچی پھر رانچی میں ٹیم انڈیا نے انگریزوں کو مسلسل بڑے فرق سے ہراکر یہ ثابت کردیا کے وہ باؤنس بیک کرسکتی ہے۔ نئے نوجوان کھلاڑیوں نے بھی سماں باندھ دیا ہے۔ بھونیش کمار کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اسے دیکھتے دیکھتے ایشانت شرما، اشوک ڈنڈا نے بھی اپنی گیند بازی سدھاری ہے۔ سب سے بڑا فرق نوجوان کھلاڑیوں کی ٹیم میں شامل ہونے پر فیلڈنگ پر اثر پڑا ہے۔ ونڈے میچ میں اگر آپ اپنی بہتر فیلڈنگ سے20-25 رن بچا لیتے ہیں تو یہ ہار جیت میں کئی بار فرق ہوجاتا ہے۔ یہ بھی تسلی کی بات ہے کے یووراج سنگھ اپنے پرانے رنگ میں لوٹتے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ اب امید تو یہ ہی ہے کہ ٹیم انڈیا انگلینڈ کے خلاف باقی بچے دو میچوں میں اپنی شاندار کارکردگی بنائے رکھے گی اور ثابت کردے گی کے وہ واقعی نمبر ون ونڈے ٹیم ہے۔ ٹیم انڈیا، مہندر سنگھ دھونی اور سلیکٹروں کو مبارکباد۔
(انل نریندر)

22 جنوری 2013

راہل گاندھی نے اپنے سورگیہ پتا راجیو گاندھی کی یاد تازہ کردی

نیاعہدہ سنبھالنے کے بعد راہل گاندھی نے جے پور کانگریس چنتن شیور میں جو تقریر کی اس نے مجھے سورگیہ راجیو گاندھی کی تقریر ان کے اسٹائل کی جھلک نظر آئی۔ راجیو نے بھی اسی طرح اقتدار کے دلالوں پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرکار جو غریبوں کے لئے خرچ کرتی ہے اس میں مشکل سے15 پیسے ہی اس شخص تک پہنچتا ہے جس کے لئے دیا جاتا ہے۔ دو قدم آگے بڑھتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہم یہ یقینی کریں گے کے پورا پیسہ جس آدمی کے لئے بھیجا گیا ہے اس تک پہنچے۔ راہل کی قریر بیحد جذباتی تھی اور وہ ورکروں کے دلوں کو چھونے والی زبان میں کی گئی تھی۔انہوں نے دراصل کانگریس تنظیم میں آئی کمزوریوں کو ایک ایک کر گنایا اور انہیں دور کرنے کا پلان بھی بتایا۔ راہل نے پچھلے برسوں میں خود گاؤں گاؤں جاکر جنتا کے دکھ درد کو سمجھا۔ اس لئے جنتا کے مسائل کو سمجھنے میں بھی انہیں کوئی دقت نہیں ہے۔ یہ تقریر تنظیم سے متعلق کانگریسی ورکروں کے گرتے حوصلے کو جگانے کے لئے تھی اور اس نے کافی حد تک کانگریس ورکروں میں ایک نیا جوش و امید ضرور پیدا کی ہے۔ جس طریقے سے راہل کا خیر مقدم ہوا اس سے لگا کے کانگریس پارٹی نے 2014ء کا چناؤ ہی جیت لیا ہو۔ راہل گاندھی کے کانگریس میں نئی ذمہ داری سنبھالنے سے پارٹی میں ہر طرف خوشی کا ماحول ہے لیکن ماں سونیا گاندھی کو ایک انجانا ڈر پریشان کرنے لگا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ اقتدار کے اس سیاہ پہلو کا جس میں سونیا نے اپنے کئی قربیوں کو کھوتے ہوئے دیکھا ہے اور محسوس کیا ہے۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے دیش کو بتایا میرے وائس پریسیڈنٹ بننے کے بعد کل رات ماں میرے کمرے میں آئیں ، پاس بیٹھیں اور رو پڑیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ اقتدار زہر کی طرح ہے۔ راہل کی تقریر میں اتنے جذبات بھرے ہوئے تھے کہ اسٹیج پر موجود ان کی والدہ سونیا گاندھی، وزیراعظم منموہن سنگھ اور کئی کانگریسی لیڈروں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ راہل نے تنظیم میں آئی برائیوں کی تو بات کی لیکن ان کی بنائی ہوئی یوپی اے سرکار کی عوام مخالف پالیسیوں پر ایک لفظ نہیں بولا۔ نہ تو انہوں نے مہنگائی کیسے دور ہوگی، کرپشن پر لگام کیسے لگے گی،دیش میں بگڑتے قانو و انتظام کیسے چست درست ہوں گے، ان پر ایک لفظ کہا ۔ آخر یہ سرکار بھی تو کانگریس کی ہے۔ راہل گاندھی ہمیشہ سے اس پوزیشن میں رہے ہیں کہ وہ سیدھا وزیر اعظم سے بات کر ان کی پالیسیوں کو متاثر کرسکتے تھے۔ پھر آج تک انہوں نے کیوں نہیں کیا؟ آگے کیسے کریں گے؟ راہل نے کہا کہ ہمیں40-50 ایسے لیڈر تیار کرنے ہیں جو ضرورت پڑنے پر وزیر اعظم یا وزیر اعلی بن سکیں۔ ایسے لیڈروں کی تو لمبی قطار پہلے سے ہی کانگریس میں موجود ہے۔ ضرورت تو ایسے لیڈروں کی ہے جو ورکروں کے جذبات کو ان تک صحیح طریقے سے پہنچا سکے۔ آج چاہے وہ کانگریس پارٹی ہو یا بھاجپا، عوامی حمایت اور جنتا سے وابستہ کم رہ گئے ہیں۔ اقتدار کے دلال چاروں طرف دکھائی دیتے ہیں۔ ان اقتدار کے دلالوں کو راہل کیسے دور رکھ سکیں گے، یہ دیکھنا ہوگا۔ راہل کو اپنے منصوبوں کو موثر ڈھنگ سے نافذ کرنے کا موقعہ بھی2014ء کے چناؤ سے پہلے ملنے والا ہے۔ اب سے لوک سبھا چناؤ (2014ء ) کے درمیان اسمبلی چناؤ ہونے ہیں ۔ ان میں کئی ریاستی اہم ہیں جیسے راجستھان، مدھیہ پردیش، دہلی وغیرہ۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا ان میں کانگریس کی کارگزاری اور ریزلٹ پہلے سے بہتر آتا ہے؟ راہل کے ہاتھوں کمان اور چناوی کمان تو پہلے بھی رہی ہے لیکن بہار ۔اترپردیش میں کانگریس کا کیا حال ہوا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کیا راہل گاندھی کے ساتھ کانگریس کے حکمت عملی سازیا اقتدار میں تبدیلی ہوگی؟ کیونکہ آج کانگریس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ نیتا گن تو ورکروں کی پرواہ کرتے ہیں اور کیونکہ وہ ورکروں سے کٹے ہوئے ہیں اس لئے جنتا کے صحیح جذبات کا انہیں پتہ نہیں چل پاتا۔ راہل کو اس حالت کو بدلنا ہوگا۔ ورکروں سے جہاں تک ممکن ہوسکے سیدھارابطہ قائم کرنا ہوگا۔ ورکروں کی باتیں ان تک بنا نمک مرچ لگے پہنچیں یہ یقینی کرنا ہوگا۔ ویسے تو جے پور کے چنتن کیمپ میں بہت کچھ ہوا ہے اور آنے والے دنوں میں ان پر بھی بحث کروں گا۔ لیکن یہ ضرور کہنا چاہوں گا کے جے پور کانگریس کے اس چنتن شور میں دو باتیں صاف نکل کر آئی ہیں پہلا کے کانگریس نے 2014ء کے چناؤ کو جیتنے کا مقصد طے کرلیا ہے اور دوسرا کے راہل گاندھی 2014ء میں پارٹی کو اقتدار میں لانے کی پوری ذمہ داری خود سنبھالیں گے۔ آج تک بیشک راہل گاندھی ہمیشہ سے نمبر2 پر تھے لیکن پہلی بار انہوں نے پبلک طور سے عہدہ سنبھالا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس نے لیڈ لے لی ہے۔ بڑی اپوزیشن پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی تو دلدل میں پھنسی پڑی ہے نہ تو پارٹی کے چیف پر تنازعہ ختم ہورہا ہے اور2014ء میں کون پارٹی کی قیادت کرے گا یہ تو دور کی بات ہے کم سے کم کانگریس نے 2014ء کے لئے اپنی توجہ مرکوز کرلی ہے۔

(انل نریندر)

جنرل بکرم سنگھ کا شہید پریواروں کے گھر جانالائق تحسین ہے

ہم بری فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ کواس بات کی مبارکباد دینا چاہتے ہیں کے وہ پہلے حال ہی میں ہوئے دو شہیدجوانوں لانس نائک ہیمراج اور لان نائک سدھاکر سنگھ کے گھر پر ان کے رشتے داروں سے ملنے گئے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کے فوج کے سربراہ خود چل کر کسی لانس نائک کے گھر گیا ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینا کے چیف کو جس طریقے سے پاکستان نے ان شہیدوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اس کا جنرل سنگھ کو کتنا دکھ ہے اور غم ہے یہ فوج کے باقی جوانوں کے حوصلے کو بڑھانے کے لئے بھی ضروری تھا۔ مینڈھر سیکٹرکی اس وارادت نے نہ صرف متاثرہ راجدوت ریجمنٹ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ پورے دیش میں اس کے تئیں ناراضگی ہے۔ دیشوں کی فوجوں میں لڑائی ہوتی ہے ، جنگ ہوتی ہے، ایک دوسرے کے فوجیوں کو مارنا لڑائی میں ہوتا ہے لیکن دشمن کے فوجیوں کے سر قلم کرنا آج کے دور میں قابل قبول نہیں ہے۔ آج سے200 سال پہلے ہوتا ہوگا آج نہیں۔ جنرل سنگھ نے شہیدوں کے رشتے داروں سے نوکری کا وعدہ کیا ہے۔ شہید لانس نائک سدھاکر سنگھ کے خاندان کو اب تک تقریباً65 لاکھ روپے کی مدد دی جاچکی ہے۔ فوج کے ذریعے 44 لاکھ روپے اور ڈیفنس وزیر مملکت جتندر پرساد کے ذریعے 5 لاکھ روپے اور مدھیہ پردیش سرکار کے ذریعے15 لاکھ روپے شامل ہیں۔ اسی طرح لانس نائک ہیمراج کے پریوار کو بھی اقتصادی مدد دی گئی ہے۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان نے شہید جوان کو کندھا بھی دیا اور شہید کی بیوی کے لئے سرکاری نوکری اور خاندان کے لئے اسی گاؤں میں زمین کا پلاٹ اور شہید سدھاکر کی یاد میں گاؤں میں ایک یادگار بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تقریباً اسی طرح کی کئی سہولیات اترپردیش سرکار نے بھی شہید ہیمراج کے خاندان کو دی ہیں۔ ایسا نہیں کے ریاستی سرکاریں اپنی طرف سے شہیدوں کی مدد نہیں کرتیں لیکن جب بری فوج کا سربراہ خود چل کر فوج کی قائم روایت کو توڑ کر ان کے گھروں میں پہنچ رہا ہو تو ریاستی سرکاریں بھی زیادہ سرگرم ہوں گی۔ ان قدموں کا ہمارے بہادر جوانوں کے حوصلے پر بھاری اثر پڑے گا۔ انہیں یہ تو لگے گا کے چلو ہم اگر مارے بھی جاتے ہیں تو پیچھے ہمارے خاندان کو بھیک تو نہیں مانگنی پڑے گی۔ ہمیں دکھ تو اس بات کا ہے سابق فوج کے سربراہ کبھی بھی اس طرح کے معاملوں میں شہیدوں کے گھر نہیں گئے۔ لانس نائک ہیمراج کی شہادت نے مہاراشٹر کے کول گاؤں کے باشندوں کو 12 سال پرانی کہانی یاد دلادی ہے۔ اس چھوٹے سے گاؤں کا سپوت ماؤصاحب تلیکر بھی ہیمراج کی طرح شہید ہوا تھا۔ پاکستانی فوج نے گھات لگاکر حملہ کیا اور ماؤ صاحب تلیکرکاسر اپنے ساتھ لے گئے۔ اب اس خاندان کے پاس کچھ ہے تو بیٹے کی یادیں اور ماتم۔ جب ہیمراج اور سدھاکر کے ساتھ ہوئی واردات کی خبر ٹی وی پر آئی تو اس کا خاندان برداشت نہیں کرسکا اور پھوٹ پھوٹ کر روپڑا۔ یہ بات27 فروری2002ء کی ہے۔ اس واقعہ میں پاکستانی فوج نے ہماری سرحد پر گھات لگاکر حملہ کیا اور بم مارے۔ یہ بھارتیہ فوجی شہید ہوئے۔ ماؤ صاحب نے جوابی حملہ کیا اور ان کے بھی پانچ فوجی مار گرائے لیکن پھر اپنی جان گنوادی۔ حملہ آوروں میں الیاس کشمیری بھی تھا۔ اسی نے ماؤ صاحب کا سر کاٹا تھا اور ساتھ لے گیا تھا۔ مشرف نے اسی کشمیری کو پانچ لاکھ روپے کا انعام بھی دیا تھا۔ اس وقت الیاس کشمیری فوج میں تھا۔ کشمیری آج خطرناک آتنک وادی ہے۔ ماؤ صاحب کی بہن میناکشی کہتی ہیں تابوت لایا گیا تو ماں نے بیٹے کا چہرہ دیکھنے کی ضد کی۔ فوج والوں نے کہا کیسے مانیں کے اس میں انہیں کا بیٹا ہے۔ انہیں سمجھایا گیا کے اس کا آئی کارڈ اور گھڑی پاس ہی ملی تھی۔ہمارا من تب تھی نہیں مان رہا تھا۔ انہوں نے تابوت سمیت لاش کا انتم سنسکار کردیا۔ انہیں فوج نے قریب12 لاکھ روپے دئے تھے۔ ان پیسوں سے تو میناکشی کی شای کی، گھر ٹھیک ٹھاک کرالیا۔ وٹھل سدا شیو کہتے ہیں کے12 سال میں تلیکر خاندان کا دکھ سکھ پوچھنے فوج کا کوئی بھی آدمی نہیں آیا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کیا شہیدوں کے خاندان کی خیر خبر صرف بھوک ہڑتال کرنے کے بعد ہی لی جائے گی؟ ہیمراج کے خاندان نے غصہ دکھایا تو فوج اور سرکار ان کے گھر پہنچ گئی۔
(انل نریندر)

20 جنوری 2013

بندوق کلچر پر کنٹرول کرنے کا اوبامہ کا حوصلہ افزا قدم

امریکہ کے صدر براک اوبامہ اس بات کے لئے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے دوسرے عہد کا حلف لینے کے محض چار دن میں ایک ایسا حوصلہ افزاء قدم اٹھایا ہے جو آج تک کوئی امریکی صدر نہیں اٹھا سکا۔ یہ تاریخی قدم ہے امریکہ میں بڑھتابندوق کلچرپر پابندی لگانا۔ آج امریکہ میں حالت یہ ہے کہ ہر 100 امریکیوں میں سے 89 کے پاس اپنی ذاتی بندوقیں ہیں۔ جیساکہ سبھی جانتے ہیں کہ امریکہ میں بڑی بڑی کمپنیوں ملٹی نیشنل کا راج ہے۔ اربوں ڈالر کی بندوق صنعت امریکہ میں انتہائی طاقتور ہے۔ اسی وجہ سے کوئی بھی امریکی صدر آج تک اس پر کنٹرول نہیں کرسکا۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ میں بڑھتے قتل عام کی وجہ سے اب عام امریکیوں کا یہ خیال بن گیا ہے کہ بندوق کلچر پر کنٹرول ہونا چاہئے۔ دراصل تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ میں پچھلے کچھ برسوں میں پبلک مقامات پر گولہ باری کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سال2012ء میں ہی اس طرح کے 7 سے زائد واقعات میں 64 لوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ71 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ کنٹکٹ صوبے میں نیوٹاؤن میں ایک حملہ آور نے سینڈی ہک پرائمری اسکول کے معصوم بچوں پر گولیاں چلا دی تھیں۔ دسمبر کی 14 تاریخ کو ہوئے اس حملے میں 20 بچوں سمیت 26 لوگ مارے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعداوبامہ دیش کے نام خطاب میں روپڑے تھے۔ ان کا کہنا تھا آگے ایسے واقعات روکنے کے لئے ہرممکن قدم اٹھائے جائیں گے۔ نیو ٹاؤن کے واقعے کے ایک مہینے کے اندر ہی انہوں نے یہ فرمان جاری کردیا۔ امریکہ میں ہتھیار خریدنا ،رکھنا اب مشکل ہوگا۔ صدر اوبامہ نے اس کے لئے 23 آرڈیننس جاری کئے ہیں۔ ان کے ذریعے ہتھیاروں کی فروخت پر کنٹرول کیا جانا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ ان احکامات کو کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) کی منظوری لینا ضروری نہیں ہوگا۔ انہیں نہ پارلیمنٹ میں چنوتی دی جاسکتی ہے۔ خاص حکم یہ ہے کہ نئے ہتھیار لائسنس جاری کرتے وقت گراہک کو اس شخص کا بیک گراؤنڈ جاننا ہوگا اور جرائم پیشہ بیک گراؤنڈ رکھنے والے یا گھریلو ذیادتیوں میں ملوث رہے شخص کو ہتھیار نہیں بیچے جائیں گے۔ اسکولوں میں زیادہ سکیورٹی مہیا کرائی جائے گی۔ جنتا کے لئے ذہنی سکون پہنچانے کے لئے زیادہ بہتر قدم اٹھائے جائیں گے۔ اوبامہ کے ذریعے اٹھائے گئے ان قدموں کی امریکی بندوق کاروباری لابی نے جم کر مخالفت کرنا شروع کردی ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جاتا رہا ہے کے آج تک کوئی بھی امریکی لیڈر اس انتہائی اہم طاقتور بندوق لابی سے ٹکر لینے کی ہمت نہیں کرپایا ۔لیکن اوبامہ کو وسیع حمایت مل رہی ہے۔ امریکہ میں رہنے والے سکھ خطے نے کھل کر اوبامہ کی تعریف کی تھی۔سکھ فرقے وسکاسن ریاست میں واقع گورودوارے میں گذشتہ اگست میں ہوئی فائرنگ کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے سکھ فرقے کے لیڈر نے کہا بہت سارے بے قصورلوگ ان بیوقوفی پر مبنی حرکتوں کا شکار ہورہے ہیں۔چیئرمین رجاوت سنگھ نے کہا کے سکھ فرقہ امریکی سماج میں خطرناک ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے صدر اوبامہ کے ذریعے اٹھائے گئے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
(انل نریندر)

ڈیزل کا ڈی کنٹرول والا فیصلہ عوام مخالف ہے جس کے دوررس مضر اثرات ہوں گے

اقتصادی اصلاحات کے نام پر وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار بھارت کی غریب جنتا کی کمر توڑنے پر تل گئی ہے۔پہلے سے ہی دو وقت کی روٹی کمانے میں کسان ،مزدور، چھوٹے طبقے کے لوگوں کو جینے کے لئے پیٹ کاٹنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ رہی سہی کثر اس حکومت نے ڈیزل کی قیمت کو اپنے کنٹرول سے آزادکرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 51 پیسے فی لیٹر تو بڑھا دیا گیا ہے۔ ڈیزل کی اب ہر مہینے قیمت بڑھتی رہے گی۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی اور بڑھے گی۔ ہر چیز مہنگی ہوگی۔ اس فیصلے کی چوطرفہ مخالفت ہونا فطری ہے۔ چاہے وہ اپوزیشن پارٹیاں ہوں ، چاہے وہ سرکار کی حمایتی پارٹیاں ہوں سبھی کھل کر مخالفت کررہی ہیں۔ بھاجپا کا کہنا ہے یہ عوام مخالف فیصلہ ہے۔ چاہئے تو یہ تھا سرکار اس قدم کو اٹھانے سے پہلے تیل سیکٹر میں ضروری بہتری لاتی۔ ڈیزل کی قیمت بڑھانے کے لئے وقت بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ لوگ پہلے ہی مہنگائی سے لڑ رہے ہیں۔ مارکسوادی سکریٹری جنرل پرکاش کرات نے کہا کہ ڈیزل کے دام ڈی کنٹرول کرنے سے عام آدمی پر فاضل بوجھ پڑے گا جو پہلے ہی روزمرہ کی چیزوں کے دام بڑھنے سے مشکل میں ہے۔ مارکسوادی پارٹی کے سکریٹری جنرل ڈی راجہ نے کہا سرکار کی اس دلیل کو قبول نہیں کیا جاسکتا کے مالی خسارے کو کم کرنے کے لئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ کیونکہ جو بھی خسارہ ہے وہ اس سرکار کی معیشت کی بدانتظامی کے سبب ہوا ہے۔یوپی اے ۔II کی سنکٹ موچک بنی رہی بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی جیسی پارٹیاں بھی ڈیزل کی قیمتوں کو بازار کے حوالے کرنے کے سرکارکے فیصلے کی مخالفت کررہی ہیں۔ مایاوتی نے کہا ڈیزل اور رسوئی گیس مہنگا کرکے سرکار جنتا پر بوجھ بڑھارہی ہے۔ سرکار نے نہ صرف ڈیزل کی قیمت بڑھانے کا اختیار ڈیزل کمپنیوں کو دے دیا ہے بلکہ وقت بوقت انہیں ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کی پوری چھوٹ بھی دے دی ہے۔ نارتھ ایسٹ کی تین ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو دیکھتے ہوئے ایسے فیصلے کی امید نہیں تھی لیکن سرکار نے چناؤ کمیشن کے سامنے یہ دلیل پیش کی اور اس کی منظوری حاصل کرلی۔ یہ فیصلہ چناؤ قواعد نافذ ہونے سے پہلے ہی لیا جاچکا تھا اور ان کا اعلان اب کیا جارہاہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار نے اس فیصلے میں جلد بازی کیوں کی ہے؟ اس فیصلے کو لاگو کرنے کے پیچھے سرکار کی دلیل بھلے ہی کچھ بھی رہی ہو لیکن سچائی یہ ہے یہ فیصلہ سرکار کی دوررس سیاسی نظریہ کا نتیجہ ہے۔ 
شمال مشرق کی تین ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے علاوہ 2014ء میں عام چناؤ بھی ہونے ہیں جس کے چلتے سرکار کو اگلے مہینے دیش میں ہونے والے عام بجٹ کو عوامی پسندیدہ بجٹ بنانا ہے۔ عام بجٹ میں سرکار کوئی ایسا اعلان نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے ووٹر کانگریس سے دور ہوں اس لئے اس نے بجٹ سے پہلے ہی ڈیزل کو ڈی کنٹرول کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ڈیزل کے دام بڑھنے سے عام آدمی کے استعمال کی تقریباً سبھی چیزیں مہنگی ہوجائیں گی۔ مہنگائی بڑھے گی تو ریزرو بینک پر سود بھی بڑھے گا۔ جس سے قرض مہنگا ہوگا اور صنعتوں میں پیدا وار گھٹے گی۔ جی ڈی پی میں اہم اشتراک رکھنے والا زرعی سیکٹر بھی بری طرح متاثر ہوگا۔ کسانوں کو سینچائی و جتائی کے لئے ڈیزل مہنگا ملے گا تو اس کی آمدنی متاثر ہوگی اور وہ قرض لینے پر مجبور ہوں گے۔ قرض ادا نہ کرنے پر کسانوں میں خودکشی کرنے کا رجحان بڑھنے کا خطرہ ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ سرکار ڈیزل کی قیمتیں ڈی کنٹرول سے پہلے ایک ایسا خاکہ تیار کرتی جس میں غذا اور دیگر اشیائے ضروریہ کے ڈھلائی پر لگنے والے بھاڑے پر ڈیزل قیمت میں اضافے کا اثر نہ پڑتا۔ ساتھ ہی کسانوں کو بھی بغیر روک ٹوک کے سستا ڈیزل ملتا رہتا۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کا مین ردعمل دیکھنے کو ملے گا۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...