26 نومبر 2011

بھنوری دیوی کے بعد راجستھان میں ایک اور سیکس اسکینڈل



Published On 26th November 2011
انل نریندر
بھنوری دیوی کا اتنے دن بعد بھی کوئی سراغ نہیں لگ سکا وہ کس حالت میں ہے، زندہ بھی ہے یا نہیں؟ جودھپور ضلع کے جالیواڑہ ہیلتھ سینٹر میں ملازم نرس بھنوری دیوی گذشتہ یکم ستمبر سے مشتبہ حالات میں لاپتہ ہے۔ سی بی آئی اس معاملے میں راجستھان کے برخاست وزیر مہیپال مدرینا اور اس کی بیوی لیلا مدرینااور کانگریس ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ ، اس کی بہن اندرا سمیت کئی لوگوں سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ سی بی آئی نے اس مقدمے میں شہاب الدین اور سوہن لال سمیت تین لوگوں کوگرفتار بھی کیا ہے ۔ یہ تینوں عدالتی حراست میں ہیں۔ 24 نومبر کو اس مقدمے کی راجستھان ہائی کورٹ میں تاریخ تھی۔ سی بی آئی کو عدالت میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنی تھی۔ سی بی آئی نے عدالت سے کہا کہ اسے اپنی جانچ رپورٹ پیش کرنے کے لئے کچھ اور دنوں کی مہلت چاہئے۔ عدالت نے اس کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے اسے وقت دے دیا۔ اب اگلی سماعت15 دسمبر کو ہونے والی ہے۔ جسٹس گووند ماتھر ، جسٹس ایم کے جین کی ڈویژن بنچ نے لاپتہ بھنوری دیوی کے شوہر کی عرضی پر بند کمرے میں سماعت شروع کی۔ سی بی آئی کو اس معاملے میں کوئی قابل توقع کامیابی اب تک نہیں مل سکی۔ 200 سے زیادہ پولیس ملازمین نے لوہاور کے چھوٹے موٹے علاقوں تقریباً 20 کلو میٹر تک کھیتوں و جھاڑیوں میں بھنوری کی باڈی کی تلاش کی۔ ساتھ ہی فورنسک سائنس لیباریٹری کے ماہرین سے بھی پوچھ تاچھ کی۔ جنہوں نے ملزم شہاب الدین کی اس بلیرو گاڑی کی بھی جانچ کی تھی جس میں بھنوری دیوی کا اغوا کیا گیا تھا۔ دراصل سی بی آئی یہ ایک قیاس آرائی کی بنیاد پر تفتیش میں لگی ہوئی ہے کہ اسی بلیرو کارمیں تو بھنوری کے ساتھ کوئی انہونی تو نہیں ہوئی؟
ابھی بھنوری دیوی کا معاملہ سلجھا نہیں تھا کہ ایک اور سیکس اسکینڈل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کا خلاصہ سرسہ کے سب ڈویژن ڈبوالی کے گاؤں ابوبراہر کی متاثرہ لڑکی نے کیا۔ اس معاملے میں عدالت کے حکم پر راجستھان کے ایک سابق وزیر سابق ایم پی اور لڑکی کے شوہر اور دیو سمیت 18 لوگوں کے خلاف مقدمہ جے پور کے ویشالی نگر تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ ابوبراہرکی لڑکی نے 19 نومبر کو جوڈیشیل مجسٹریٹ ڈویژن دو جے پور کی عدالت میں اپنا حلف نامہ دیکر اس معاملے میں انصاف کی اپیل کی تھی۔ لڑکی نے ہنومان گڑھ کے باشندے اپنے شوہر اوم پرکاش گودارا پر الزام لگایا تھا کہ وہ اپنا پراپرٹی ڈیلر کا کاروبار بڑھانے کے لئے اسے نشے کی گولیاں کھلا کر اونچے لوگوں کو اسے پیش کرتا تھا۔ اس کے بعد عدالت کے حکم پر 21 نومبر کی رات جے پور تھانہ ویشالی نگر میں معاملہ درج کیا گیا۔ معاملے کی جانچ کررہے انسپکٹر نے بتایا کہ جن کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے ان میں خاتون کا شوہر اوم پرکاش گودارا ، سابق وزیر جوگیشور گرگ، سابق ایم پی نیہال چند میگھوال، راجستھان یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سابق پردھان پشپندر بھاردواج، بھاجپا نیتاؤں کے پرائیویٹ سکریٹری رہے وویک آنند، ڈی ایس پی انل رائے ، پولیس انسپکٹر مہاویر سنگھ سمیت18 لوگ شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف دفعہ376/328/343/328/506 آئی پی سی اور120 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ سرخیوں میں آیا بھنوری دیوی معاملے کی طرح ایک اور سیکس ریکٹ سے راجستھان کی سیاست میں نیا طوفان کھڑا ہوسکتا ہے۔ جہاں تک بھنوری دیوی کا سوال ہے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اسے زمین نگل گئی ہے یا آسمان کھا گیا؟ اخباروں میں شائع خبر کے مطابق بھنوری دیوی کا قتل ہوچکا ہے لیکن اس حقیقت کے لئے سی بی آئی کو ابھی ثبوت اکٹھے کرنے ہیں یہ بات سی بی آئی نے جمعرات کو جودھپور ہائیکورٹ میں اپنی پیش رفت رپورٹ میں عدالت سے کہی ہے۔ اسی پر عدالت نے اسے15 دن کا وقت دے دیا ہے۔ ادھر ابوبراہر کی لڑکی نے الزام لگایا ہے کہ اس کے شوہر نے اس کی 34 سی ڈی بنائی ہیں۔ ان کے ذریعے وہ متعلقہ لیڈروں کو بلیک میل کرتاتھا۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, Daily Pratap, Rajassthan, Sex, Sex Racket, Sex Scandal, Vir Arjun

ٹوجی گھوٹالے میں کارپوریٹ افسروں کو ملی ضمانت



Published On 26th November 2011
انل نریندر
ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے معاملے میں پہلی مرتبہ کسی کو ضمانت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھوار کو پانچ کارپوریٹ کمپنیوں کے ملزم افسرو ں کو ضمانت دے دی ہے۔ ضمانت پانے والے ہیں سنجے چندرا ، ونود گوئنکا، ہری نائر، گوتم دوشی اور سریندر تپارا۔ ملزمان نے نچلی عدالت اور ہائیکورٹ میں ضمانت عرضی خارج ہونے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا معاملے میں ملزمان کے خلاف اقتصادی جرائم کا الزام ہے اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے اس سے دیش کی معیشت کو خطرہ ہوسکتا ہے لیکن سی بی آئی نے یہ نہیں کہا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ملزم ثبوتوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ہم ایسی کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ جس سے ملزم کو حراست میں رکھا جائے اور وہ بھی تب تک جب اس معاملے میں چھان بین پوری ہوچکی ہے اور چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے۔ ملزمان چھ مہینے سے زیادہ جیل میں رہ چکے ہیں اس معاملے میں انہیں حراست میں رکھنے کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوتا۔ ایسے میں ملزمان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے بونڈ پر ضمانت دینے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔ عدالت نے ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ کچھ شرطیں بھی لگائی ہیں۔ انہیں ضمانت دئے جانے کے بعد کنی موجھی سمیت چھ ملزمان کو ضمانت ملنے کی امید بڑھ گئی ہے۔ ٹوجی گھوٹالے میں ابھی بھی2 فروری سے اے راجہ بند ہیں۔کنی موجھی20 مئی سے تہاڑ جیل میں ہیں ۔ شرد کمار ( ایم ڈی کلیگنر ٹی وی) بھی 20 مئی سے بند ہیں۔ آر کے چندولیا 2 فروری کو جیل میں گئے تھے۔ سدھارتھ بہورہ جو سابق ٹیلی کام سکریٹری بھی ہیں 2 فروری سے جیل میں ہیں۔ شاہد عثمان بلوا سوان کے پرموٹر 2 فروری سے تہاڑ جیل میں ہیں۔ آصف بلوا (شاہد کا بھائی) 29 مارچ سے جیل میں ہیں۔ راجیو اگروال ڈائریکٹر کسے گاؤں فوڈس اینڈ ویجی ٹیبل پرائیویٹ لمیٹڈ29 مارچ کو جیل گئے تھے۔ کریم نورانی جو ایک فلم پروڈیوسر ہیں اور شاہ رخ خان کے دوست بھی ہیں 20 مارچ سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
کسی مجرمانہ معاملے میں ملزم کو کتنی میعاد تک جوڈیشیل حراست یعنی جیل میں رکھا جائے اور کب اسے ضمانت ملنی چاہئے یہ سوال اکثر اٹھتا ہے۔ ان دنوں بھی یہ سوال زیر بحث ہے۔ کچھ دن پہلے دگوجے سنگھ نے بھی ایسے ہی سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کسی ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اسے جیل میں رکھنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا اس لئے اسے ضمانت ملنی چاہئے۔ حالانکہ ان کے اس بیان کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وہ عدالتوں کو ہدایت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ دگوجے سنگھ کیونکہ ایک منجھے ہوئے سیاستداں ہیں اس لئے ان کے بیان پر رائے زنی ہونا فطری بات ہے لیکن کچھ عرصے پہلے خود سپریم کورٹ کی ایک تین نفری بنچ نے کہا تھا کہ وہ زیر بحث معاملوں میں ملزمان کو ضمانت نہ دینے کی عدالتوں کی مبینہ نئے ٹرینڈ کی پڑتال کریں گے کیونکہ یہ ٹرینڈ اس کے ذریعے قائم عدلیہ اصول کے خلاف ہے جو کہتا ہے کہ ضمانت ایک قاعدہ ہے اور جیل ایک مصیبت ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ پہل یقینی ہی لائق تحسین ہے لیکن سوال اٹھتا ہے کہ صرف ہائی پروفائل معاملوں پر ہی کیوں چھوٹے موٹے معاملوں میں بھی ملزمان کو عدالت کے برسوں تک چکر لگانے پڑتے ہیں۔ جب انہیں ضمانت ملتی ہے یا مقدمے کا فیصلہ آتا ہے اس وقت تک وہ سزا سے زیادہ وقت تو جیل میں گذار دیتے ہیں۔ تہاڑ جیل میں زیر سماعت قیدیوں کی تعداد دیکھی جائے تو نچلی عدالتوں کے ضمانت نہ دینے کی وجہ سے بہت سے ملزمان جیل میں بند پڑے رہتے ہیں۔ جہاں تک ٹو جی اسپیکٹرم مقدمے کا تعلق ہے جیل بھیجنا تو ٹھیک ہے لیکن اس سے زیادہ اہم ہے پیسوں کی برآمدگی ۔ اور اس سمت میں نہ تو حکومت اور نہ ہی سی بی آئی کوئی ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے۔ ایک لاکھ 60-70 ہزار کروڑ کے اس گھوٹالے میں آپ نے درجنوں لوگوں کو اندر تو کردیا لیکن جو پیسہ انہوں نے لوٹا وہ دیش کا ورثہ ہے اس کا کیا ہوا؟ کنی موجھی اور دیگر کی اب ضمانت ہوجائے گی۔ مقدمہ برسوں تک چلتا رہے گا۔آخر میں کچھ کو سزا بھی ہوسکتی ہے لیکن بنیادی سوال وہی اٹھتا ہے کہ لوٹے دھن کی برآمدگی کیسے ہوگی؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Karim Morani, Reliance Telecom, Shahid Balwa, Supreme Court, Swan Telecom, Unitech Wireless, Vir Arjun

25 نومبر 2011

چدمبرم کا بائیکاٹ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہے


Published On 25th November 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوتے ہی پہلے ہی دن سے سیاسی سرگرمی کی آنچ تیزی دکھانے لگی ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ سے لوک سبھا میں لیفٹ پارٹیوں کے نوٹس پر مہنگائی پر ہونے والی بحث میں بھی ایوان کا پارہ گرم ہوگیا۔ بڑھتی مہنگائی کے مسئلے پر اپوزیشن پارٹیوں کے تحریک التوا کے نوٹس پر بحث کے درمیان وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اعتراف کیا کہ امید کے مطابق نتیجے حاصل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے جیسا کہ اب ان کی عادت سی بن گئی ہے مہنگائی کا ٹھیکرہ ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن، ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ اور دیگر بین الاقوامی اسباب پر پھوڑدیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے افراط زر شرح مارچ2012ء کے آخر تک 6.7 فیصد تک آجائے گی۔ پرنب دا کے بیان سے اپوزیشن بھڑک اٹھا۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے پرنب مکھرجی کے بیان کو نمبروں کا کھیل اور جنتا کو مایوس کرنے والا بتاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو لوگ جلد ہی تشدد پر اتر آئیں گے۔ این ڈی اے ایوان کے پہلے ہی دن یہ اشارہ دے چکا ہے ۔وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر پوری طرح عمل کریں گے۔ حالانکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے وزیر داخلہ کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے کہا جہاں تک وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی بات ہے مجھے امید ہے سیاسی پارٹیاں اس طرح کے کسی قدم سے بچیں گی۔ کیونکہ وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف این ڈی اے کی جانب سے چدمبرم کے بائیکاٹ کو پوری طرح سے واجب قراردیتے ہوئے بھاجپا نے کہا یہ اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر اعظم کے نام لکھے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے پرچے کو عام ہونے کے پیش نظرایسا کیا جانا فطری قدم ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈو نے اخبار نویسوں سے کہا کانگریس ماضی گذشتہ میں جارج فرنانڈیز کے ساتھ ایسا کرچکی ہے جب بے قصور جارج فرنانڈیز کو انہوں نے چھ مہینے تک بولنے نہیں دیا تھا۔ اب یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ اگر چدمبرم نے پہل کی ہوتی تو یہ گھوٹالہ روکا جاسکتا تھا۔چدمبر کو بھاجپا ٹوجی گھوٹالے میں اتنا ہی ذمہ دار مانتی ہے جتنا اے راجہ کو۔ اس کا کہنا ہے جب چدمبرم وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے اس وقت راجہ جی جو بھی کررہے تھے ۔اس سبھی کے بارے میں نہ صرف چدمبرم کو واقفیت تھی بلکہ انہوں نے راجہ کی حمایت بھی کی تھی۔ انہوں نے راجہ کے اٹھائے گئے اقدامات کو اپنی رضامندی دی اگر وہ چاہتے تو اسی وقت اس گھوٹالے کو ہونے سے روک سکتے تھے۔ بھاجپا نے اپنے الزامات کی بنیاد پر وزارت مالیات کے پچھلے سال وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس نوٹ کو بھی جواز بنایا جو اس سال 25 مارچ کو بھیجا گیا تھا۔ اس نوٹ سے صاف ہوجاتا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کی نیلامی کے بجائے ''پہلے آؤ پہلے پاؤ'' کی پالیسی بنانے کے لئے بھی وزیر خزانہ کی شکل میں چدمبرم نے اپنی منظوری دی تھی۔ یہ ہی نہیں راجہ نے باقاعدہ چدمبرم کو اس بارے میں خط بھی لکھا اور میٹنگ بھی کی تھی۔ ایسے میں چدمبرم اس گھوٹالے کیلئے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے راجہ۔ دراصل چدمبرم کا بائیکاٹ کرکے این ڈی اے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اور چدمبرم کے لئے ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وہیں چدمبرم کو پسند نہ کرنے والے ٹیم انا کے لوگ بابا رام دیو اور تاملناڈو کی چیف منسٹر جے للتا تک نے بھی ایک میسج بھیجا ہے۔ بائیکاٹ کا وقت ماننا پڑے گا کہ اچھا ہے جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اپیل پر یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ چدمبرم کی لوک سبھا سیٹ بھی خطرے میں ہے کیونکہ ان کے چناؤ کے خلاف ایک عرضی کا فیصلہ کبھی بھی آسکتا ہے۔ ڈاکٹر سوامی کی ڈیمانڈ پر سی بی آئی کو ٹی جی سے وابستہ کاغذات دینے پڑے ہیں۔ سوامی دعوی کررہے ہیں کہ چدمبرم کو پوری جانکاری تھی اور وہ اسے دستاویزات کے ساتھ ثابت بھی کرسکتے ہیں۔ این ڈی اے نے نہ صرف دباؤ بنایا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی دے دیا ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے ساتھ رام لیلا میدان میں بیٹھے لوگوں پر پولیس کارروائی کے پیچھے بھی وزیر داخلہ کا حکم مانا جارہا تھا۔ بابا رام دیو کے حمایتیوں کی طرح ٹیم انا کے بھی کافی لوگ مانتے ہیں کہ انا اور ساتھیوں کی گرفتاری اور اس کے بعد معاملے کو الجھانے میں وزیر داخلہ اور وزیر انسانی وسائل کپل سبل کا خاص رول رہا۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو اپنی ہی ریاست کے چدمبرم کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔یہ بھی غور طلب ہے کہ گذشتہ ایتوار کو جے للتا کی پہل پر انا ڈی ایم کے کے تھمبی دورئی رام لیلا میدان میں ایل کے اڈوانی کی ریلی میں آئے تھے۔ اس کے ایک دن بعد چدمبرم کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہوگیا۔ جے للتا ممکن ہے مستقبل میں این ڈی اے سے جڑ جائیں۔ کل ملاکر بھاجپا کو لگتا ہے ان کے بائیکاٹ کی پالیسی صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔
2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, P. Chidambaram, Rath Yatra, Vir Arjun

شرابیوں کوکھمبے سے باندھ کر پیٹا جانا چاہئے:انا


Published On 25th November 2011
انل نریندر
انا ہزارے کا ایک تازہ بیان تنازعات میں آگیا ہے۔ سماجی اصلاحات کے اپنے ایجنڈے کے تحت گاندھی وادی نیتا انا ہزارے نے شرابیوں کی شراب کی لت چھڑانے کے لئے ان کی پٹائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں انہوں نے حالانکہ پٹائی کو آخری قدم بتایا ہے۔ انا سے جب پوچھا گیا شرابیوں کی لت چھڑانے کے لئے وہ کیا طریقہ اختیار کرنے کی صلاح دیتے ہیں تو انہوں نے کہا پہلے شرابیوں کو تین بار بات چیت سے سمجھاؤ ،اگر نہیں مانتے تو اسے مندر لے جاکر شراب نہ پینے کی قسم دلاؤ،اس کے بعد بھی نہیں سدھرے تو مندر کے سامنے کھمبے سے باندھ کر اس کی کھلے عام پٹائی کرو۔ یہ پوچھے جانے پر کیا انہوں نے یہ طریقہ اپنے گاؤں میں آزمایا ہے تو انہوں نے کہا ہاں کبھی کبھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے گاؤں کے کچھ لوگ جو اب شراب چھوڑ چکے ہیں اب بھی ان سے کہتے ہیں اگر انہیں کھمبے سے نہیں باندھا گیا ہوتا تو وہ برباد ہوچکے ہوتے۔ انا ہزارے کے اس بیان پر تلخ نکتہ چینی ہورہی ہے۔ اس بارے میں ردعمل جاننے پر کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا انا ہزارے کی تجویز طالبان کے فرمان کی طرح ہے۔ یہ طالبانی طریقے سے میل کھاتا ہے جو شرعی قانون کی تعمیل نہیں کرتے تو ان کو سزا دینے کے لئے کرتے تھے۔ کانگریس نیتا ستیہ برت چترویدی فرماتے ہیں ہزارے کا نظریہ اس معاملے میں بیحد پاکیزہ ہے مگر طریقہ غلط ہے۔ بھاجپا کی ترجمان نرملا سیتا رمن اور شاہنواز حسین نے بھی انا کے تبصرے کو صحیح نہیں مانا اور کہا ان کی پارٹی انا کے اس طریقے سے شراب چھڑانے کی حمایت نہیں کرتی۔ شراب نوشی سے لڑنے کے لئے 74 سالہ گاندھی وادی رضاکار کے اس نظریئے سے سائبر دنیا میں بھی ایک بحث شروع کردی ہے۔ بلاگ پر انا کے تبصرے کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ کچھ بلاگر انا کے نظریئے کو صحیح مانتے ہیں کچھ نے کہا کہ گاندھی وادی انا ہزارے اپنی حدیں پار کررہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ شراب پینا یا نہ پینا آدمی کا اپنا شخصی فیصلہ ہے۔ آپ شراب پینے والوں کو اس سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے واقف کراسکتے ہیں لیکن اسے مجبور کرنا شاید ٹھیک نہیں ہوگا۔ حکومتوں نے ممانعت کرکے بھی دیکھ لیا الٹا جتنا پابندی لگاؤگے اتنی ہی اس کی مان بڑھے گی۔ انا کی تجویز ان کے گاؤں میں تو چل سکتی ہے لیکن باقی دنیا میں شاید ہی یہ تجربہ مانا جائے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Daily Pratap, Mahatma Gandhi, Taliban, Vir Arjun

24 نومبر 2011

فیصلہ لینے میں مایاوتی منموہن سنگھ سے کئی کوس آگے



Published On 24rd November 2011
انل نریندر
یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ کہ بہن جی جو ٹھان لیتی ہیں کر کے دکھاتی ہیں۔مایاوتی نے محض 15منٹ میں اتر پردیش کی تقسیم کا ریزولیوشن پاس کراکر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پیر کو ایوان میں ایک لائن کا ریزولیوشن رکھا کس کو شور غل کے دوران اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن نے لمبے چوڑے پلان بنا رکھے تھے وہ دھرے کے دھرے رہ گئے۔بہن جی نے سب سے پہلے تو سال 2012-13 کا مصارف بل پاس کرایا اور اس کے ممبر ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کا پرستاؤ پاس کرا دو روزہ اجلاس کو پندرہ منٹ میں ہی ملتوی کروا دیا۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی یہ نہیں چاہ رہی تھی کہ اسمبلی کے چناؤ سے پہلے راجیہ کی تقسیم کا ریزولیوشن آئے لیکن مایاوتی کو سیاسی طور پر یہ ٹھیک لگا اور انہوں نے آناً فاناً میں کیبنیٹ سے یہ پرستاؤ پاس کرایا۔اتنی پھرتی سے اسمبلی میں بھی یہ پاس کروا لیا۔بری طرح سے بکھری ہوئی اپوزیشن سرکار کی گھیرے بندی کے تمام منصوبوں کے باوجود کچھ نہیں کر سکی۔ایوان میں کانگریس،بسپا اور بھاجپا ممبران اسمبلی میں اتحاد کے بجائے سہرہ اپنے سر لینے کی دوڑ لگی رہی۔ اپوزیشن کی کمزوری کو بھانپ کر بسپا کی کمان خود مایاوتی نے سنبھالی اور اتر پردیش کے بٹوارے کا پرستاؤ پیش کر دیا گیا۔اپوزیشن کے تبصرے بھی پارٹی لائن کے ہی رہے۔ملائم سنگھ یادو کا کہنا تھا کہ محض 10سیکنڈ میں اسمبلی میں ساڑھے تین لائن پڑھ کر نئے راجیوں کی تقدیر نہیں لکھی جا سکتی۔کرپشن،مظالم کے سوالوں سے گھری ریاستی سرکار نے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے ریاست کے بٹوارے کا پانسہ پھینکا ہے۔بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا کہ فیصلہ چناوی ہتھکنڈہ ہے۔ ایوان کے اندر اور باہر یو پی اے اتحاد کی پارٹیوں نے مل کر اتر پردیش کو چار ریاستوں میں بانٹنے کا پرستاؤ تیار کیا۔بسپا اور کانگریس نے اپنی ناکامیوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے یہ حکمت عملی اپنائی تھی۔کانگریس کے لیڈرپرمود تیواری کا کہنا تھا کہ پہلے دوبارہ سے ریاستی کمیشن کا قیام ہونا چاہئے تھا۔سپا اور بھاجپا نے ویل میں گھس کر حالات کو گڑ بڑا دیا۔کانگریس بحث چاہتی تھی۔بعد میں اخبار نویسوں نے بہن جی سے پوچھا کہ کیا آپ اسمبلی کو بھنگ کرینگی۔بلا شبہ اس پرستاؤ کے پاس ہونے سے محض ریاست کی تقسیم نہیں ہونے جا رہی ہے اور مایاوتی بھی اچھی طرح جانتی ہونگی۔مایاوتی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ان میں فیصلہ کرنے کی ہمت ہے وہ کسی سے ڈرتی نہیں۔بدقسمتی سے اس معاملے میں سب سے قابل رحم حالت منموہن سنگھ سرکار کی ہے۔وہ سماج کے مفاد میں فیصلہ لینا تو دور رہا۔ خود اپنے مفاد کے فیصلے میں بھی ناکام رہے۔اس معاملے میں تو مایاوتی سردار منموہن سنگھ سے کہیں بہتر ثابت ہو رہی ہیں۔
بسپا پر یہ الزام لگ رہا کہ اس نے سوموار کو ایوان کو چلانے میں منمانی کی ساری حد پار کر دی اور پھر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اسمبلی اسپیکر نے آئین کے مطابق فیصلے لئے اور قاعدے کے مطابق ایوان کو چلایا۔ لیکن سب کچھ قاعدے کے مطابق نہیں تھا۔اس کی تصدیق اس سے ہو رہی ہے کہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب ایوان سے باہر دیا گیا۔یہ پہلی بار نہیں جب حکمراں فریق نے منمانے ایوان کی کارروائی چلائی ہے۔یہ ٹرینڈ بڑھتا جا رہا ہے اور اب اس نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔کچھ ریاستوں میں تو آئینی ایوان کو محض خانہ پوری کرنے کیلئے چلایا جانے لگا ہے۔بحث کیلئے تمام اشو ہونے کے باوجود اسمبلی اجلاس چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔دیکھا جائے تو محض 15منٹ میں 20کروڑ لوگوں کا مستقبل یوں دھکا مکی میں نہیں طے کیا جا سکتا اور یہ مایاوتی بھی جانتی ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Manmohan Singh, Mayawati, Vir Arjun

عشرت جہاں فرضی مڈ بھیڑ تھی



Published On 24rd November 2011
انل نریندر
گجرات کی نریندر مودی سرکار کو گجرات ہائی کورٹ نے ایک زبردست جھٹکادیا ہے۔ 2004 کے عشرت جہاں معاملے کی جانچ کررہی اسپیشل انوسیٹی گیٹنگ ٹیم نے کہاہے کہ عشرت کو فرضی مڈ بھیڑ میں ماراگیا تھا۔ اپنی رپورٹ میں ایس آئی ٹی نے کہا ہے کہ عشرت اور دیگر تین کو مڈ بھیڑ کی تاریخ 15جون 2004 سے پہلے ماراگیا تھا۔ یہ تین لوگ جاوید شیخ عرف پرنیش پلئی، امجد علی رانا اورذیشان جوہرتھے۔ غورطلب ہے کہ احمد آباد کرائم برانچ نے 15جون 2005 کو ایک انڈیکا کار پکڑوانے کا دعوی کیاتھا۔ بعد میں اس نے چار لوگوں کو مڈ بھیڑ میں مار گرایا۔ اس مڈبھیڑ کوا نجام دینے والی ٹیم کی سربراہی آئی پی ایس ڈی جی بنجارہ کررہے تھے انہو ں نے مارے گئے لوگوں کو لشکر طیبہ سے جڑے ہونے کادعوی کیا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہاتھا یہ سبھی نریندر مودی کو مارنے کے مشن پر تھے۔ ایس آئی ٹی نے گجرات ہائی کورٹ میں گزشتہ 18نومبر کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ جسٹس جینت پٹیل اور ابھیلاشہ کماری نے مڈبھیڑ میں شامل پولیس والو ں کے خلاف سیکشن 302(قتل) کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کاحکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے ساتھ اب کئی آئی پی ایس افسروں سمیت 24 سے زیادہ پولیس ملازمین کے خلاف معاملے میں ایف آئی آر درج ہوگی۔ ایس آئی ٹی کایہ نتیجہ خاص طور پر چونکانے والا ہے کہ ان لوگوں کو پہلے ہی کہیں گمنام جگہ مارڈالا گیا۔ چونکہ اس مڈ بھیڑ کے بعد کرائم برانچ نے دعوی کیاتھا۔ مارے گئے آتنکی نریندر مودی کو مارنے آئے تھے۔ اس لئے اگرکچھ لوگ اس نتیجے پرپہنچ رہے ہیں کہ پولس نے سرکار کی واہ واہی حاصل کرنے یا میڈل پانے کی خاطر چار لوگوں کو مڈ بھیڑ میں مارگرایا تو یہ ناقابل حالت ہے۔ گجرات پولیس پہلے ہی سے مڈ بھیڑ معاملے کے گھیرے میں آچکا ہے۔ اس معاملے میں ریاستی سرکار بھی کٹھگرے میں کھڑی ہے کیونکہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب اس پر فرضی مڈ بھیڑ کرانے کاالزام لگاہو۔ 2005 میں ہوئی اس مڈ بھیڑ میں گجرات پولیس نے خطرناک جرم سہراب الدین کو مارگرانے کادعوی کیاتھا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا یہ دعوی بھی جھوٹانکلا۔ اس فرضی مڈ بھیڑ کے سلسلہ میں تو خودگجرات کے سابق وزیرداخلہ شبیہ کے گھیرے میں ایس آئی میں ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے بنچ نے کہاہے کہ انکاؤنٹر کی جوتاریخ دکھائی گئی ہے حالانکہ اس تاریخ کو انکاؤنٹر ہوا ہی نہیں تھا۔ مڈ بھیڑ کی جگہ کاتضاد ہے۔ جس سے مڈ بھیڑ فرضی لگتی ہے قابل ذکر ہے کہ تمانگ نے اپنی رپورٹ میں مڈ بھیڑ کی تاریخ 4جون 2004 بتائی گئی تھی۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ جاوید کواس دن رات 8یا 9 بجے کے وقت میں ماراگیاتھا۔ باقی تین افراد کو 11سے 12 کی معیاد میں ٹھکانے لگایاگیا۔ اگلے دن 15جون کو پولیس انڈیکا کار چلا کریا ٹائنگ کرواردات کے پرچارت مقام پر پلاٹ کردیا۔ بے شک عشرت جہاں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ لشکر ورکر تھی اور نریندر مودی کاقتل کرنے کے ارادے احمد آباد آئی تھی لیکن پھر بھی جس ڈھنگ سے گجرات پولیس نے اس کو مارا وہ کسی بھی انصاف پرست دیش کے لئے ناقابل قبول ہے۔ ان مقدموں کی جانچ اور کارروائی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ بھلے ہی فی الحال گجرات پولیس فرضی مڈ بھیڑ کو لے کر کٹھگرے میں کھڑا ہوا لیکن حقیقت یہ توہے اس طرح کی مڈبھیڑ دیش کے دیگر حصوں میں بھی رہ رہ کر ہوتی رہتی ہے۔ یہ مسئلہ کتنا سنجیدہ ہے اس کے لئے ثبوت پولیس مظالم سے متعلق ان اعداد وشمار ملتے ہیں۔ جن میں اچھی خاصی تعداد میں فرضی مڈ بھیڑ ہوئی ہیں اور چونکہ ان کی جانچ خود پولیس کرتی ہے۔ سچائی سامنے نہیں آتی۔ فرضی مڈ بھیڑ اختیارات کابے جااستعمال ہوتا ہے اورمذہب سماج میں اس طرح کے عمل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔ سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئی نے گجرات سرکار کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے عشرت اور دیگر لوگ مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث لشکرطیبہ کی ویب سائٹ عشرت کو شہید کادرج دیاتھا۔
Anil Narendra, Batla House Encounter, Daily Pratap, Gujarat, Ishrat Jahan, Vir Arjun

23 نومبر 2011

مسلم پرسنل لاء قانون میں اصلاح کی مانگ




Published On 23rd November 2011
انل نریندر
ملک میں مسلم فیملی قانون میں اصلاح اور مسلم نجی قانون سیکشن میں دئے جانے کی مانگ اب زور پکڑ رہی ہے اس لئے بھارتیہ مسلم مہلا تحریک سے جڑی مسلم مہلا شکشا ، سلامتی، روزگار، قانون و صحت کے اشوز پر بیداری لانے و سیاسی چیتنا قائم کرنے میں لگی ہے۔ اب اترپردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ مسلم مہلا آندولن و پرچیہ سنستھا مشترکہ طور سے خواتین کے درمیان جا کر انہیں بااختیار بننے کی راہ دکھارہی ہے دیش میں مسلم خواتین کی حالت ہمیشہ سے بحث کاموضوع رہی ہے۔ مسلم خواتین کی حالت اور مسلم کنبہ قانون میں اصلاح کے امکان پچھلے کافی عرصہ سے مسلم آندولن وپرچیہ سنستھا چلارہی ہے۔ لکھنؤ ، سہارنپور، مظفر نگر سمیت اترپردیش کے کئی مختلف شہروں میں اس منچ کی طرف سے جو اشوز اٹھائے جارہے ہیں ان میں مسلم مہلا اب کافی دلچسپی لینے لگی ہے اب وہ خود چاہتی ہیں کہ ان کی زندگی کے فیصلے خاندانی اشو پر انہیں بھی سہارا ملے تاکہ اپنے فیصلے وہ خود کرسکے۔ بھارتیہ مسلم آندولن اب دیش کے پندرہ راجیوں میں سرگرم ہے اس آندولن سے وابستہ نائش حسن نے بتایا کہ وہ اس مسئلے کو ہرجگہ جا کر مسلم خواتین میں بیداری پیدا کررہی ہے۔ اس تحریک کو گاؤں تک لے جایا گیا ہے۔ قومی سطح پر وہ ایم پی پر دباؤ بنانے کے لئے بیداری وسیاسی چیتنا قائم کرنے کاکام کررہا ہے۔ وہ مانتی ہے کہ کوئی بھی سماج پسماندہ نہیں رہناچاہئے۔ آندولن بھارتیہ آئین کے دائرے میں اپنے اختیارات اور ترقی کی مانگ کو آگے بڑھانے میں بھروسہ رکھتا ہے۔ حسن نے بتایا کہ ایک طرفہ بھارتیہ آئین کی دفعہ 14,14,21,26,29,30 اور350اے ہندوستان کے سبھی شہریوں کے لئے یکساں مواقعوں کا اعلان کرتی ہے۔ ایک طرف قانونی برابری کی بات کرتی ہے تووہی دوسری طرف دیکھاجائے تو ان دفعات کو غیرضروری طورپر عمل میں نہیں لایاجارہا ہے۔ کسی بھی مذہب کے نجی قانون خواتین کو سیکورٹی نہیں دیتے جہاں تک مسلم پرسنل لاء کاسوال ہے وہ ایک آئینی عہد بند نہیں ہے۔ یہ قانون عورتوں کو سیکورٹی نہیں دیتا۔ تین طلاق کے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں مسلم شادی سیکشن ایکٹ 1939 میں مسلم خواتین کو اختیار تو دیا لیکن مردوں کوایک طرف زبانی تین طلاق کے حق پر پابندی نہیں لگائی۔ جہاں مسلم مرد ثالثی کی کوئی کوشش کئے بغیر اپنی بیوی کو ایک طرفہ طلاق دے سکتا ہے شریعت میں کیا انتظامات کئے گئے ہیں اس سے وابستہ تشریحات کئی بہت سی جانی مانی قانونی ہستیوں نے بھی کی ہے لیکن کوئی آئینی قانون نہیں ہے۔ قانون کی تشریح کب تک قانون نہیں بنتا جب تک اسے پارلیمنٹ پاس نہیں کرتی۔ پارلیمنٹ صرف 1937,1939 و1986 کے قانون کو پاس کیا ہے۔نائش حسن نے بتایا کہ الجرائز میں خاندانی کورٹ 1984 ، مصرمیں یہ شخصی حالات ( ترمیم )قانون 1985 عراق میں شخصی حالات کا قانون (ترمیم) 1987 میں اردن میں شخصی حالات کاقانون 1976 کویت میں 1984 لیبیا میں بھی 1984 وغیرہ کئی ممالک میں نئی ترمیمات ہوئی ہے۔ لیکن بھارت میں ایسانہیں ہوا۔ ملکی مسلم فرقے اور مسلم خواتین کی خراب حالات کو دور کرنے میں بھروسہ کررہی ہے۔ لیکن مسلم پرسنل لاء پر بحث مسلم سماج کے سبھی طبقے دور بھاگتے ہیں اب دیش میں مسلم پرائیویٹ قانون کی دفعہ بنائے جانے کی ہر سطح پر مانگ اٹھائی جائے گی۔ سرکار مسلم خواتین کے لئے بات نہیں کرناچاہتی۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Manmohan Singh, Rath Yatra, Sushma Swaraj, Vir Arjun

جن چیتنا یاترا کا شاندار اختتام




Published On 23rd November 2011
انل نریندر
بھاجپا کے سینئر لیڈر شری لال کرشن اڈوانی میں ماننا پڑے گا غضب کا جذبہ ہے۔ اتنی عمر ہونے پر بھی وہ نوجوانوں سے زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ ایتوار کے روز اڈوانی نے اپنی سات ہزار کلو میٹر 22 ریاستوں،5 مرکزی ریاستوں سے ہوتی ہوئی جن چیتنا یاترا پوری کی۔ دہلی میں ان کاشاندار خیر مقدم ہوا۔رام لیلا میدان یا تو اتنا انا کی تحریک کے وقت بھرا تھا یا پھر جن چیتنا یاترا کے اختتام پر۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ اڈوانی جی کا خیر مقدم کرنے کیلئے آئے تھے۔ ایم سی ڈی چناؤ سے پہلے شری اڈوانی کی جن چیتنا یاترا کے اختتام کو راجدھانی کی بھاجپا سیاست میں طاقت کی آزمائش کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور اس پروگرام پر سبھی کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں کیونکہ یہاں کا پیغام دور تک جانا تھا۔ دہلی بھاجپا پردھان وجیندر گپتا نے لگتا ہے کہ ایتوار کو یاترا کے اختتام کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی۔ اس کامیاب پروگرام سے ان کا نجی قد بھی بڑھا ہے۔ بہت کم جذباتی شری اڈوانی یہ کہنے سے اپنے آپ کو نہیں روک پائے کہ دہلی میں اتنا بڑا عوامی سیلاب دیکھ کر میں بہت حیرت زدہ ہوں اور دہلی سرحد سے رام لیلا میدان تک 30 کلو میٹر کے راستے میں جو قابل قدر خیر مقدم ہوا ہے اسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ اڈوانی جی کا یہ کہنا اپنے آپ میں کئی معنوں میں اور بھی اہم ہے کیونکہ وہ اس وقت پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور دہلی کے لئے انجام نہیں ہیں۔ ان کی پوزیشن یہاں تک ہے کہ دہلی بھاجپا ہی نہیں منڈل سے لیکر مورچے کے عہدیداران تک کے نام جانتے ہیں۔ کس علاقے میں پوزیشن کیا ہے انہیں آج بھی پتہ ہے۔ اس لئے اگر تیاریوں کو سراہتے ہیں تو وہ صحیح ہیں۔ اڈوانی کی اس طویل یاترا نے تمام دیش میں بھاجپا کے ورکروں کو جگانے میں مدد کی ہے۔ جس طریقے سے دیش کے مختلف حصوں میں جنتا کا سیلاب امڑا ہے مقامی ورکروں اور نیتاؤں نے بہت محنت کی ہے۔ جو لاکھوں ورکر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گئے تھے وہ ایک بار پھر سرگرم ہوئے اور سڑکوں پر اتر آئے۔ اڈوانی جی سے میں نے راجستھان کے چورو کے سجان گڑھ ریلی کے بعد پوچھا کہ آپ اتنے ہجوم کا کیا تجزیہ کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا آج پورے دیش میں اس منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار کے خلاف بھاری ناراضگی ہے غصہ ہے۔ اس غصے کو وہ ظاہر کرنے کے لئے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مجھے تاملناڈو، آندھرا پردیش کے فوٹو دکھائے۔ ان ریاستوں میں تو بھاجپا کی زیادہ سے زیادہ سیاسی موجودگی نہیں ہے لیکن یہاں بھی دیکھ کر میں بھی حیران ہوگیا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ سیاسی طور سے اس یاترا کا بھاجپا کو کیا فائدہ ہونے والا ہے۔ تو ان کا کہنا تھا یہ بھیڑ ضروری نہیں ہمیں سب ووٹ دے ، یہ ایک ماحول دکھاتی ہے۔ باقی چناؤ میں ابھی وقت ہے ہم کوشش کریں گے کہ چناؤ تک یہ اثر بنا رہے۔ اس یاترا سے بھاجپا کی این ڈی اے اتحادیوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش رنگ لاتی نظر آنے لگی ہے۔ اڈوانی اپنی یاترا کے لئے این ڈی اے کی پارٹیوں کو ساتھ لانے میں کچھ حد تک کامیاب بھی رہے۔ شرد یادو، نتیش کمار، بادل پریوار تو یاترا میں ساتھ ہی تھا۔ ایتوار کو اختتامی ریلی میں جے للتا نے اپنے نمائندے کو بھیج کر سیاسی اشارہ دے دیا ہے۔ دہلی میں اپنی تقریر میں اڈوانی جی نے کہا یہ یاترا ختم ہوئی ہے لیکن کرپشن کے خلاف جنگ پوری نہیں ہوئی ہے۔ دیش کو تسلی ملنے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ صبح جب میں غازی آباد سے چلا تھا تو کہرا تھا جو خوشگوار موسم کے سبب چھٹ بھی گیا لیکن جو کہرا آج بھارت کی سیاست پر دیش کی اب تک کی سب سے کرپٹ سرکار کی وجہ سے چھایا ہوا ہے وہ موسم کے سبب نہیں ہٹے گا بلکہ وہ جن چیتنا اور عوامی ریفرنڈم سے ہی دور ہوگا۔ کرپشن کے معاملے میں گھری مرکزی سرکار پر دباؤ بنانے کے لئے نئی حکمت عملی کے تحت انہوں نے بھاجپا اتحاد کے سبھی ممبران پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ این ڈی اے کے سبھی ایم پی لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین کو یہ لکھ کر دیں کہ وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ بھارت کے باہر کسی بھی بینک میں ان کا کوئی ناجائز کھاتا نہیں ہے نہ ہی کوئی ناجائز پیسہ ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ ایک ہفتے کے اندر اس طرح کا خط سونپ دیا جائے۔
ایتوار کو رام لیلا میدان میں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے بھی سما باندھ دیا۔ اپنی تقریر میں سشما نے کہا جب پردھان منتری منموہن سنگھ کو کسی بھی معاملے میں کوئی جانکاری نہیں ہے تو وہ کس مرض کی دوا ہیں؟ اور ایسے وزیر اعظم کی رہبری پر ہمیں ملال ہے۔ سبھی معاملوں میں وزیر اعظم اپنے ساتھیوں پر معاملہ ٹال کر بری ہونا چاہتے ہیں۔ گھوٹالہ ہونے پر وہ کہتے ہیں کہ راجہ سے پوچھو اور مہنگائی کے مسئلے پر شرد پوار سے پوچھو۔ جب وزیر اعظم کو کچھ پتہ ہی نہیں تو آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں۔ سشما سوراج نے کہا میں نے لوک سبھا میں وزیر اعظم سے ایک نوٹ کے ذریعے سوال کیا تھا کہ ''تو ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا۔ مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تیری رہبری کا سوال ہے'' اس پر وزیر اعظم نے ایک غیر رسمی شعر کے ذریعے جواب دیا انہوں نے کہا ''لیکن اپنے شعر کا ہی میںآج پردھان نتری کو یہ کہہ کر جواب دیتی ہوں میں بتاؤں کہ قافلہ کیوں لٹا، تیرا رہزنوں سے واسطہ تھااو ر اسی کا ہمیں ملال ہے''۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Manmohan Singh, Rath Yatra, Sushma Swaraj, Vir Arjun

22 نومبر 2011

ونود کامبلی کے میچ فکسنگ الزام میں کتنا دم ہے؟




Published On 22th November 2011
انل نریندر
کرکٹ میں میچ فکسنگ ایک ایسا مکڑ جال ہے جس میں پھنسنے سے نہ تو کھلاڑی بچ پا رہے ہیں اور نہ ہی آئی سی سی اس پر لگام کس رہی ہے۔ سال2002ء میں جب جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہینسی کرونئے سمیت چار ہندوستانی کرکٹروں پر میچ فکسنگ کا الزام لگا تھا تو کوئی ٹھوس ثبوت نہ ملنے پر بھی انہیں بین الاقوامی کرکٹ سے ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ کچھ چونکانے والے حقائق ابھر کر سامنے آتے کہ اس سے پہلے ہی کرونئے کی ایک طیارہ حادثے میں پراسرار ڈھنگ سے موت ہوگئی۔میچ فکسنگ میں حال ہی میں تین پاکستانی کرکٹر پھنس گئے اور آج کل وہ انگلینڈ کی جیل میں ہیں۔ اب15 سال بعد ونود کامبلی نے الزام لگایا ہے کہ 1996ء کا ورلڈ کپ سیمی فائنل میچ بھار ت اور سری لنکا کے درمیان تھا وہ فکس تھا۔ کامبلی نے اس وقت کے کپتان محمد اظہر الدین سمیت اس ٹیم کے دیگر بلے بازوں اور منیجر کے اس فکسنگ میں شامل ہونے کی بات کہی ہے۔ کامبلی نے کہا کہ جب اظہر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو ساری ٹیم چونک گئی کیونکہ ہم نے فیصلہ کررکھا تھا کہ اگر ہم ٹاس جیتتے ہیں تو ہم پہلے بیٹنگ کریں گے۔ اس ارادے سے ہمارے تین چار بلے بازوں نے پیڈس بھی پہنے ہوئے تھے لیکن اظہر کا یہ فیصلہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا اور ہم جیتا ہوا میچ ہار کر ورلڈ کپ سے باہر ہوگئے۔ صرف ونود کامبلی نے ہی نہیں بلکہ اس وقت کے کیوریٹر کلیان مشرا کے بعد اس وقت کے بھارتیہ ٹیم کے منیجر سبرن بنرجی اور سری لنکائی ٹیم کے سابق لوکل منیجر سمیرداس گپتا کے سوال سے شک اور گہرا ہوگیا ہے۔ سمیر داس نے کہا کہ میں نے سری لنکا ٹیم کے ساتھ چار پانچ دن بتائے۔ سری لنکا ٹیم بھی ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنا چاہتی تھی اور انہیں لگا کہ بھارتیہ ٹیم بھی ایسا ہی کرے گی لیکن جب اظہر نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو سری لنکائی ٹیم حیران رہ گئی۔ اور اس کے بعد سبھی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ اب سری لنکا کے جیتنے کا موقعہ اور بڑھ گیا۔ وہیں بنرجی نے کہا کہ یہ بھی اظہر کے فیصلے پر حیران تھے جبکہ کیوریٹر مشراکا کہنا ہے کہ پچ میں کوئی گڑ بڑی نہیں تھی۔ اروند ڈیسلوانے سنچری جبکہ سچن نے یہاں 50 رن بنائے تھے۔ ٹاس کے وقت سنیل گواسکر ، روی شاستری ،ٹانی گریگ بھی پچ پر موجود تھے۔ ٹاس جیتنے کے بعد سنی نے پوچھا کہ کیا ہوا اظہر ۔ اس نے کہا فیلڈنگ اس پر سبھی حیران رہ گئے۔

ونود کامبلی کے بیان کے بعد شک کے دائرے میںآئے محمد اظہر الدین نے اس الزام کو بکواس قراردیا ہے اور کامبلی سے سوال کیا کہ وہ15 سال بعد یہ الزام کیوں لگا رہے ہیں؟ تنازعے کی سنجیدگی کو بھانپتے ہوئے حکومت ہند کے وزارت کھیل نے اس کی سی بی آئی جانچ کرنے کو کہا لیکن آئی سی سی کے افسر اس کو تیار نہیں۔ وہیں سابق کپتان سورو گانگولی نے اظہر سے خود کو بے داغ ثابت کرنے کو کہا۔ اس سے ایک دن پہلے اظہر الدین نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے کامبلی کے اس بیان کو بکواس قراردیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کامبلی کو اپنا منہ بند رکھنے کی نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو 15 سال بعد اٹھانے کا کیا مطلب ہے۔ لیکن اظہر شاید بھول گئے کہ1996ء کے ورلڈ کپ کے بعد ہی سال2000ء میں ان پر میچ فکسنگ کا الزام لگا تھا۔ جنوبی افریقہ کے اس وقت کے کپتان ہینسی کرونئے نے جانچ کے دوران ہندوستانی کھلاڑیوں کا نام لیا تھا۔ اس معاملے میں بی سی سی آئی جانچ کمیٹی کے سربراہ اے مادھون نے ان پر تاحیات پابندی اور اجے جڈیجہ پر چار سال کی پابندی لگائی تھی۔ لیکن 2006ء میں اظہر الدین پر سے پابندی ہٹا لی گئی یہاں تک کہ چمپئن ٹرافی کے دوران انہیں سنمانت بھی کیا گیا۔ یہ معاملہ آج بھی التوا میں پڑا ہوا ہے۔ ونود کامبلی نے روتے روتے یہ بھی کہا کہ اس میچ کے بعد نہ صرف میرا کیریئر ختم ہوگیا بلکہ میرے اوپر کئی الزام لگے۔ کہا گیا کہ اس نے کلائیولوائڈ کو گالیاں دیں۔یہ برابر پارٹیوں میں جاتا تھا اور لیٹ نائٹ آتا تھا۔ آئی سی سی کے چیئرمین شردپوار نے کامبلی کے الزام کو سرے سے خارج کردیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ان الزامات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ سچن اور کامبلی نے ایک ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں داخلہ کیا تھا لیکن کامبلی نے کھیل پر توجہ نہیں دی اگر توجہ دی ہوتی تو آج ہمارے پاس ایک نہیں دو سچن ہوتے۔ وہیں سابق کرکٹر سید کرمانی بولے کہ اگر انہیں معلوم تھا تو 15 سال پہلے کیوں شکایت نہیں کی؟یہ قابل غور سوال ہے کہ کیا واقعی کامبلی کے پاس میچ کو فکس کہنے کی پختہ بنیادہے؟ اب تک کامبلی نے ایک ہی بات کہی ہے کہ کپتان اظہر الدین نے ٹاس جیتنے کے بعد اچانک ٹیم کے فیصلے کو پلٹ دیا لیکن اظہر نے ایسا نہیں کیا تھا۔ سچ تو یہ انہوں نے وہی کیا جو ٹیم میٹنگ میں طے ہوا تھا۔ ٹیم کے کئی ممبران اور منیجر اجیت واڈیکر نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس بنیاد پر کامبلی کی دلیل خارج ہوجاتی ہے۔ اگر کامبلی کے پاس شک کی کوئی اوروجہ ہے تو وہ اس طرف صاف اشارہ کیوں نہیں کرتے؟ کامبلی کیوں نہیں بتاتے کہ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ میچ فکس تھا؟ اگر وہ اتنے سمجھدار ہیں تو انہیں ان لوگوں کے نام کھل کر بتانے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بات سچن کے ساتھ شیئرکی تھی کیا؟ ونود کامبلی کچھ برسوں پہلے تک ہمیشہ دعوی کرتے تھے کہ وہ اپنی ہر بات سچن سے بتاتے ہیں لیکن اتنی بڑی بات انہوں نے سچن کو کیوں نہیں بتائی۔ اتنے دنوں تک بی سی سی آئی سے بھی کیوں چھپائی؟ فکسنگ کی جانچ کرنے والی سی بی آئی یا مادھون کمیٹی کے سامنے اسے کیوں نہیں رکھا؟ سال1999ء میں بی سی سی آئی نے اس کی جانچ کی تھی پھر مادھون کمیٹی نے اس کو آگے بڑھایا۔ اس نے ان تمام لوگوں سے بات کی اس میں کرکٹر بھی شامل تھے۔ اس دور کے ہر کرکٹر سے ان دونوں نے اپیل کی تھی کہ اگر انہیں میچ فکسنگ کے بارے میں ذرا سی بھی کچھ بات معلوم ہو تو اسے بتائیں۔ تب کامبلی چپ کیوں بیٹھے رہے؟ جس ٹیم کی کامبلی بات کررہے ہیں اس ٹیم میں سچن تندولکر، سنجے منجریکر، نوجوت سنگھ سدھو، اجے جڈیجہ، نین مونگیا، اظہرالدین، سری ناتھ، انل کمبلے، ونکٹیش پرساد اور آشش کپور شامل تھے۔ ان میں سے کوئی بھی کرکٹر کیوں ان کے ساتھ نہیں آرہا ہے؟ سنجے منجریکر نے تو صاف کہہ دیا کہ کامبلی جھوٹ بول رہے ہیں۔ سچن تو ان کے خاص دوست ہیں لیکن وہ بھی ایک باربھی نہیں بولے؟ اس دن ونود کامبلی نے خراب کھیل کیوں دکھایا؟ کامبلی اس دن پانچویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے۔ ان کی امیج ونڈے میں ہٹر کی تھی انہوں نے 29 گیندیں کھیلیں اور 49 منٹ کریز پر رہے۔ایک بھی چوکا نہیں لگایا۔ انہیں کھلنے میں دقت کیوں ہورہی تھی کیا وہ بتائیں گے ؟انہوں نے اتنی خراب بیٹنگ کیوں کی؟ دوسری طرف سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایسی پچ پر جب سبھی مان رہے ہیں کہ بیٹنگ پہلے کرنی چاہئے تھی پھر بھی پہلے بالنگ کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ نشانے کا پیچھا کرتے ہوئے ہندوستان نے محض22 رن پر اپنے6 وکٹ کیسے گنوائے؟ میچ سے پہلے کوچ اجیت واڈیکر سے کوئی ان بن ہوئی تھی اور ہوئی تھی تو کیوں ہوئی۔ واڈیکر ہوٹل چھوڑ کر گھر واپس کیوں جارہے تھے۔ کونسا ایسا ضروری کام آگیا تھا جس کے چلتے میچ سے پہلے پریکٹس روک دی گئی۔ کیا ٹیم میٹنگ میں نوجوت سنگھ سدھو نے پہلے بلے بازی کرنے کی صلاح دی تھی؟ ٹاس کے وقت بھارتیہ اوپنر پیڈس باندھ کر کیوں تیار تھے۔ کل ملاکر معاملے کی جانچ ضروری ہے۔ دونوں طرف سے سوالوں کے جواب آئے بغیر کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے اور معاملے کی گہرائی سے جانچ اس لئے بھی ضروری ہے کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو سکے تو مستقبل میں ایسا کوئی نہ کرسکے۔
Anil Narendra, Azharudding, Cricket Match, Daily Pratap, Match Fixing, Vinod Kamble, Vir Arjun

20 نومبر 2011

نیتاؤں کے دباؤ کے سبب جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بٹّہ



Published On 20th November 2011
انل نریندر
ہماری جانچ ایجنسیوں کی جانب سے مختلف معاملوں میں کی گئی جانچ عدالتوں میں ٹک نہیں پارہی ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیاستداں جانچ ایجنسیوں کے معاملوں کی جانچ کو متاثر کرتے ہیں؟ سیاستداں دباؤ کے چلتے چاہے وہ دہلی پولیس ہو یا قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے) یا پھر سی بی آئی ہی کیوں نہ ہو۔ پچھلے 15 روز میں کم سے کم چار ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں عدالتوں نے ان ایجنسیوں کو پھٹکار لگائی ہے۔ اور ان کے جانچ کرنے کے طریقے اور نتیجوں دونوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ پہلا معاملہ مالیگاؤں بم دھماکے کا ہے۔ ایک عدالت نے سال2006ء میں مالیگاؤں بم دھماکے کے معاملے میں9 ملزمان میں سے 7 کورہا کردیا ہے۔ این آئی اے نے کہا کہ سلمان فارسی، شبیر محمد، زاہد اور فاروق گوئی انصاری کو ممبئی کی آرتھر جیل سے رہا کردیا گیا۔ خانہ پوری ہونے کے بعد ایک دیگر ملزم ابرار احمد کو بھی واچکولہ جیل سے چھوڑاگیا۔ معاملے کے دو دیگر ملزمان آصف خان اور محمد علی کو بھی ضمانت مل گئی لیکن انہیں چھوڑا نہیں گیا کیونکہ وہ 2006ء کے ممبئی ٹرین سلسلہ وار دھماکوں میں بھی ملزم ہیں۔ معاملے کی جانچ کررہی قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے ) نے رہائی کی مخالفت بھی نہیں کی۔ این آئی اے نے دلیل دی کہ مکہ مسجد بم دھماکے معاملے میں گرفتار سوامی اسیمانند کے انکشاف کے بعد اس نے تازہ ثبوتوں کے علاوہ سابقہ کی جانچ ایجنسی اے ٹی ایس اور سی بی آئی کے ذریعے اکٹھے کئے گئے ثبوتوں کا جائزہ لیا تھا۔ این آئی اے نے کہا کہ ''حقائق اور حالات کی بنیاد پر کافی غور و خوض کے بعد سبھی9 ملزمان کی ضمانت عرضیوں کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنہیں ماضی گذشتہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور ملزم بنایا گیا تھا۔''
دوسرا معاملہ سہراب الدین شیخ مد بھیڑ سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے سہراب الدین شیخ فرضی مد بھیڑ معاملے میں گجرات کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کے مبینہ کردار پر سی بی آئی کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ سی بی آئی نے کئی گمنام دستاویزات کو شاہ کی پھروتی ریکٹ میں مبینہ کردار سے جڑی شکایتوں کے طور پر پیش کیا۔ ایجنسی کے اس قدم کو عدالت نے کسی کو خوش کرنے کا قدم بتایا۔ جسٹس آفتاب عالم اور جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی ڈویژن بنچ نے کہا ''یہ سچائی ہے کہ کسی کو خوش کرنے کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے جو بالکل غلط ہے۔'' سی بی آئی نے امت شاہ کے خلاف ایسی تقریباً 200 شکایتیں پیش کی تھیں جنہیں دیکھنے کے بعد بنچ نے کہا ''آپ نے (سی بی آئی نے) ہم سے کہا ہے کہ پردیش سرکار نے ان شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان دستاویزات پر عدالت کی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ شکایتیں پوری طرح سے بکواس لگ رہی ہیں۔'' سی بی آئی نے گجرات اور دیگر عدالتوں کی جانب سے شاہ کو ضمانت دئے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا ''آپ کو ہمارا سب سے اچھا سراغ رساں مانا جاتا ہے اور اب آپ کو ان خامیوں کا جواب دینا ہوگا۔'' سماعت کے دوران شاہ نے الزام لگایا کہ وہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی نے انہیں اس معاملے میں غلط پھنسایا ہے۔ شاہ کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ شاہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ تیسرا کیس بھی سی بی آئی سے متعلق ہے ۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے کی سماعت کررہی خصوصی جج اوپی سینی کی عدالت میں عزت مآب جج موصوفہ نے سی بی آئی سے ثبوتوں کو مٹانے کے لگ رہے الزامات پر جانکاری مانگی ہے۔ سی بی آئی کو23 نومبر تک جواب دینا ہے۔ سی بی آئی کو ملزمان نے یہ کہتے ہوئے کہ الزامات طے کرنے کے حکم میں جو غلطیاں اور تضاد ہیں ،غیر جانبدار سماعت کے لئے ان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ملزم ونود گوئنکا نے سی بی آئی پر الزام لگایا ہے گواہ کو غیر قانونی طور پر بلا کر ثبوت متاثر کئے جارہے ہیں۔ بدھوار کو گواہی دے رہے ریلائنس افسر اے این سنتھورین نے بتایا تھا کہ اس کے بیان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ گواہ نے دعوی کیا کہ اس نے ہری نائر کے دستخط کی کبھی پہچان نہیں کی تھی۔اس کے باوجود سی بی آئی نے اسے پیش کردیا ہے۔ گوئنکا کے وکیل مجید مینن نے کہا کہ گواہ کی یادداشت تازہ کرنے کے نام پر سی بی آئی کے ذریعے اپنائی گئی کارروائی کے معاملے کو متاثر کرنے کی طرح ہے۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو حکم دیا جائے کہ یادداشت تازہ کرنے کے نام پر گواہ یا ثبوتوں کو متاثر نہ کرے۔ چوتھا معاملہ ہماری دہلی پولیس سے متعلق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بدھوار کو صاف کیا کہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملہ کرپشن نہیں بلکہ محض ایک اسٹنگ آپریشن تھا۔ عدالت نے کہا ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ معاملے کے ملزم تینوں ملزمان نے رشوت مانگی یا لی۔ اتنا ہی نہیں اگر وہ رشوت لیتے تو چپ چاپ لیتے نہ کہ ٹی وی چینل کے سامنے لے کر اسے اس طرح سے پارلیمنٹ میں پیش کرتے۔ وہیں ہماری پارلیمنٹ بالاتر ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے بھی ثبوت نہ ہونے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے یہ رائے زنی بھاجپا کے موجودہ ایم پی اشوک ارگل اور دو سابق ایم پی پھگن سنگھ کلستے اور مہاویر سنگھ بھگورا سمیت سبھی چھ ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کی تھی۔جسٹس ایم ایل مہتہ نے اپنے فیصلے میں کہا ایف آئی آر اور چارج شیٹ کا جائزہ لینے سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ ممبران پارلیمنٹ و دیگر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اس کے علاوہ سی ایف ایس ایل کی رپورٹ سے بھی صاف ہے کہ ٹی وی چینل کی جانب سے اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی و آڈیو میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے کسی بھی ایم پی اور دیگر نے مبینہ طور پر رشوت کی رقم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہیں دوسری طرف بچاؤ فریق کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس ممبر پارلیمنٹ و دیگر ملزمان کا مقصد محض کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی ملی بھگت کا پردہ فاش کرنا تھا۔
مندرجہ ذیل معاملوں سے صاف ہے کہ سیاستدانوں کے دباؤ کے سبب ہماری جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بھی دھبہ لگ رہاہے۔ سیاستداں زبردستی اپنے سیاسی مفاد کے لئے جانچ ایجنسیوں پر ناجائز دباؤ ڈلواکر جھوٹے معاملے بنواتے ہیں جو عدالتوں میں جاکر ٹھہر نہیں پاتے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گااور جلد ایک بھی ایجنسی نہیں ہوگی جس کی جانچ پر عوام بھروسہ کرسکے۔
2G, Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, CBI, Daily Pratap, delhi Police, NIA, Vir Arjun

دو دھاری تلوار کے درمیان لٹکے آصف زرداری



Published On 20th November 2011
انل نریندر
پاکستان میں عدم استحکام کا دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک طرف کٹر پسندوں کا بڑھتا دباؤ تو دوسری طرف سیاسی عدم استحکام۔ صدر آصف علی زرداری بہت چیلنج بھرے دور سے گذر رہے ہیں۔ امریکہ۔ بھارت اور مغربی ملکوں کا الگ دباؤ ہے۔ امریکہ کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے سابق چیئرمین مائک مولن نے آصف زرداری کے ذریعے بھیجی گئے سکریٹ لیٹر کی تصدیق کی ہے۔ بتایا جاتا ہے زرداری نے یہ خط پاکستانی فوج کے ذریعے تختہ پلٹ کے اندیشے میں امریکہ کو بھیج کر مدد مانگی تھی۔ مولن کا کہنا ہے مجھے ایسا میموضرور ملا تھا لیکن میں نے اس پر توجہ نہیں دی تھی۔ ادھر امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے استعفے کی پیشکش کردی ہے۔ ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے کہ زرداری نے فوجی تختہ پلٹ کے اندیشے سے اوبامہ انتظامیہ کو خفیہ سندیش بھیجا تھا جس میں حقانی کا مبینہ کردار تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پیغام میں زرداری نے پاکستانی فوج کی اس کارروائی کو روکنے کیلئے امریکہ کی مدد مانگی تھی۔ بدھوار دیر رات جنرل اشفاق کیانی آصف زرداری سے دو بار ملے۔ منگلوار کو بھی دونوں کی ملاقات ہوئی تھی حال ہی میں زرداری کی ضیافت میں پاکستانی فوج کا کوئی چیف شامل نہیں ہوا تھا اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی کہ حکومت اور فوج کے درمیان رشتے ٹھیک نہیں ہیں۔ بدھوار کی رات صدر کی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔ صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے میٹنگ کے بارے میں مفصل جانکاری دینے سے انکار کردیا ۔ محض اتنا کہا تینوں لیڈروں نے دیش کے سلامتی حالات پر تبادلہ خیالات کئے ہیں۔
کٹر پسندوں کی بڑھتی طاقت نہایت خطرناک منصوبوں سے بھی پاکستان حکومت کی تشویشات بڑھ گئی ہیں۔ خبر آئی ہے لشکر طیبہ اب نیوکلیئر جہاد کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اس کے لئے اس نے ایک طویل حکمت عملی پر کام بھی شروع کردیا ہے۔ لشکر کی اسکیم پاکستانی نیوکلیائی ادارے پر جہادی مزاج کی ٹریننگ پائے نیوکلیائی سائنسدانوں کے ذریعے قبضہ کرنے کی ہے۔ اس مقصد کے لئے لشکر اپنے اسکولوں میں اب انگلش کے ساتھ ساتھ سائنس کی تعلیم بھی دلوا رہے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہی لشکر کے ایسے 175 اسکول چل رہے ہیں۔ آتنکواد کے معاملوں کے ماہر آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سینئر فیلو ولسن جان کی تازہ کتاب 'کیلی فیٹس سولجرس:دی لشکر اے تیواز لانگ وار' میں پاکستانی آتنکی تنظیم لشکر کے خطرناک ارادوں کا خلاصہ کیا گیا ہے۔ ولسن جان کے مطابق پاکستانی فوج میں اب جہادی ذہنیت والے زیادہ تر افسر اعلی عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ اسی طرح سے لشکر نے انگلش پڑھے لکھے جہادی طلبا کو پاکستان کے نیوکلیائی اداروں میں بھرتی کرانے کی سوچی سمجھی حکمت عملی پر عمل شروع کردیا ہے۔ جان کے اس خلاصے سے ساری دنیا کو چوکس ہوجانا چاہئے اور لشکر کے ناپاک منصوبے صرف جموں و کشمیر یا بھارت۔ پاک تک محدود نہیں ہیں یہ پوری دنیا کے لئے القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ بننے جارہا ہے۔ پاک حکومت پتہ نہیں اس عدم استحکام کا کامیاب مقابلہ کیسے کرے گی؟ 
26/11, America, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, Pakistan, USA, Vir Arjun