Translater
23 مارچ 2024
چراغ پر مہربان ،پارس کو ٹھینگا !
بھارتیہ جنتا پارٹی (بھاجپا ) آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں بہار کی 17 سیٹ جنتا دل (یونائیٹڈ ) 16 سیٹ اور چراغ پاسوان کی قیادت والی لوک جن شکتی پارٹی (لوجپا) 5 سیٹ پر چناو¿ لڑے گی ۔سیٹ بٹوارے کو لیکر ہوئے سمجھوتہ میں این ڈی اے میں شامل مرکزی وزیر پشو پتی پارس کی رہنمائی والی راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے دعوے کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ہے ۔اور اسے ایک بھی شیٹ نہیں دی گئی ۔پارس خود حاجی پور لوک سبھا سیٹ سے ایم پی ہیں او رایل جے پی میں ہوئی ٹوٹ ہونے کے بعد پارٹی کے چاردیگر ایم پی بھی ان کے ساتھ ہیں ۔پشو پتی پارس کا کہنا ہے کہ میں نے ایمانداری سے این ڈی اے کی خدمت کی ۔نریندر مودی بڑے نیتا ہیں ۔بااحترام لیڈر ہیں لیکن ہماری پارٹی کے ساتھ شخصی طور سے میرے ساتھ ناانصافی ہوئی اس لئے میں بھارت سرکار کی کیبنیٹ منتری کے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں ۔پشو پتی کمار پارس لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر رام ولاس پاسوان کے بھائی ہیں ۔لوک جن شکتی پارٹی کے چراغ پاسوان کو ان کے چاچا و مرکزی وزیر پشوپتی کمار پارس سے زیادہ اہمیت دینے کے پیچھے بھاجپا پر چراغ کا کوئی دباو¿ نہیں ۔بلکہ اس کے پیچھے بھاجپا کی 400 پار کرنے کی حکمت عملی ہے ۔موجودہ سیاسی حالات میں چراغ پاسوان بھاجپا کو ان کے چاچا پشو پتی کمار پارس سے زیادہ فائدہ مند دکھائی دے رہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ بھاجپا نے چاچا کو درکنار کر بھتیجے کو ترجیح دی ۔پشوپتی پارس کو نظر انداز کرنے کے پیچھے اب چاچا کی جگہ بھتیجہ ۔بھاجپا کی پہلی پسند ہوگئی ہے ۔اس کے پیچھے بھاجپا کی تیسری بار اقتدار میں اانے کے لئے بھاجپا کی چناوی حکمت عملی رہی ہے ۔دراصل بھاجپا نے اس بار 400 پار کا نعرہ دیا ہے اور اپنے ٹارگیٹ کو حاصل کرنے کے لئے بھاجپا کسی طرح کا خطرہ مول لینے کے بجائے ایک ایک سیٹ کا گہرائی سے جائزہ کر اپنی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔چراغ کو چاچا سے زیادہ اہمیت دینا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ یہ سیاسی تجزیہ نگار بھی مانتے ہیں کہ جنتا کے بیچ جو سیاسی حیثیت چراغ کے والد رام ولاس پاسوان کی تھی وہ پشو پتی پارس کی نہیں ہے ۔اپنے بھائی کی کرپاسے ہی پشو پتی پارس ایم پی بنے تھے ۔رام ولاس پاسوان کے ندھن کے بعد یہ پہلا لوک سبھا چناو¿ ہے ۔ایسے میں رام ولاس پاسوان کے ندھن سے ان کے حمایتیوں کی ہمدردی کا فائدہ پشو پتی پارس کو نہیں بلکہ چراغ پاسوان کو ملے گا ۔این ڈی میں پشو پتی پارس یہ بے عزتی کے ملنے کے بعدجہاں یہ مانا جارہا تھا کہ وہ کوئی بڑا اعلان کریں گے ۔لیکن انہوں نے کیبنیٹ سے استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی بڑا اعلان ابھی تک نہیں کیا ہے ۔یہ ہی نہیں استعفیٰ کے اعلان کے بعد انہوں نے وزیراعظم کو بڑے قد کا لیڈر بتاتے ہوئے ان کی تعریف بھی کی۔دراصل پشو پتی پارس ابھی بھی این ڈی اے و بھاجپا سے کوئی سمان جنک پیش کش کی امید لگائے ہوئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پارس نے چپ چاپ بے عزتی تو سہہ لی لیکن ابھی تک این ڈی اے و بھاجپا کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔بھاجپا کے کچھ نیتا چاہتے تھے چاچابھتیجہ مل کر چناو¿ لڑیں لیکن بھتیجہ آخر کار اپنے چاچا پر بھاری پڑ گیا ۔پشوپتی کیا انڈیا الائنس میں جا سکے ہیں؟
(انل نریندر)
پوتن کی ریکارڈ توڑ جیت !
ولادیمیر پوتن پانچویں بار روس کے صدر چنے گئے ہیں اب ان کی میعاد 2030 تک ہوگی ۔اس چناو¿ میں پوتن کو ریکاڈ 87 فیصدی ووٹ ملے ۔اس سے پہلے چناو¿ میں انہیں 76.7 فیصدی ووٹ ملے تھے ۔حالانکہ ان کے سامنے کوئی مضبوط حریف نہیں تھا ۔کیونکہ کرملن روس کی سیاسی مشینر ی و چناو¿ پر سخت کنٹرول رکھتا ہے ۔مغربی دیشوں کے کئی لیڈروں نے اس چناو¿ پر نکتہ چینی کی ہے ۔ان کا کہنا ہے چناو¿ آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوئے ۔چناو¿ پر نکتہ چینی کرنے والوں میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی شامل ہیں ۔انہوں نے پوتن کو ایسا تاناشاہ بتایا ہے جس پر اقتدار کا نشہ حاوی ہے ۔71 سال کے ہو چکے پوتن 1999 میں پہلی بار صدر چنے گئے تھے جو اسٹالن کے بعد روس پر حکومت کرنے والے دوسرے لیڈر ہیں ۔وہ اسٹالن کا بھی ریکارڈ توڑ دیں گے ۔یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ تیسرے سال میں داخل ہو گئی ہے ۔اس جنگ میں روسیوں کی موتیں مسلسل ہو رہی ہیں ۔وہیں اس جنگ کی وجہ سے مغربی دیشوں نے روس کو الگ تھلگ کر دیا ہے ۔صحافی اودرئی سولہ توف معزولی میں لندن میں رہ رہے ہیں ۔انہیں 2020 میں روس چھوڑنے کو مجبور کیا گیا تھا ۔وہ کہتے ہیں کہ پوتن جانتے ہیں کہ دیش میں ہونے والی ہر طرح کی سیاسی بحث کو کیسے دبایا جائے ۔وہ کہتے ہیں کہ پوتن اس میں بہت ماہر ہیں ۔وہ اپنے سیاسی حریفوں کو ہٹانے میں سچ میں بہت اچھے ہیں ۔2024 کے چناو¿ پولنگ پر صرف تین دیگر امیدواروں کے نام تھے ۔اس میں سے کوئی بھی پوتن کے لئے حقیقی چیلنج ثابت نہیں ہوا ۔ان سبھی نے راشٹریہ پتی اور یوکرین میں جاری جنگ دونوں کے لئے حمایت دی ۔صدرکے حریفوں سے خطرہ ہوتا ہے تو یا تو جیل میں ڈال دیا گیا یا مار دیا گیا یا کسی دیگر طریقے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔حالانکہ کرملن اس میں کسی بھی طرح سے شامل ہونے سے انکار کرتا ہے ۔صدارتی چناو¿ شروع ہونے سے ٹھیک ایک مہینے پہلے پوتن کے کتر حریف 47 سالہ ایلکسی ویلنی کی جیل میں موت ہو گئی تھی ۔قابل ذکر ہے 1999 میں اس وقت کے روسی سدر بورس یلسن کے استعفیٰ کے بعد پوتن پہلی بار نگراں صدر بنے اور پھر 2000 میں صدر بنے تھے ۔آئینی مجبوری کے چلتے جب 2008 میں انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا تب انہوں نے اپنے ساتھی دیمیک میداف کو صدر بنایا اور انہیں خود دیش کے وزیراعظم بن گئے ۔آئینی ترمیم کے ذریعے پوتن پھر 2012 اور 2018 میں صدر بنے پھر 2020 میں کی گئی آئینی ترمیم سے ان کی 2036 تک ان کے صدر بننے کا راستہ کھل گیا ہے ۔ظاہر ہے زیادہ تر تانہ شاہوں کی طرح پوتن بھی لمبے عرصے تک اقتدار مین رہنا چاہتے ہیں ۔چناو¿ نتائج کے فوراً بعد پوتن نے امریکہ کی قیادت والے نیٹو کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مغربی ملکوں نے یوکرین میں اپنی فوج تعینات کی تو تیسری جنگ عظیم چھیڑنے کا امکان ہے ۔دوسری روسی صدر کی اس سخت وارننگ پر فرانس کے صدر مینول میکروں کے آئے بیان کے سلسلے میں آیا جس میں انہوں نے یوکرین میں فرانس اور نیٹو کے فوجیوں کو تعینات کرنے کے بارے میں کہا تھا ۔امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی پوتن کو ظالم ،قاتل اور تانہ شاہ اور جنگی مجرم بتایا تھا ۔پوتن اگلے 6 برسوں تک مضبوطی کے ساتھ اقتدار میں بنے رہیں گے اور امریکہ و مغربی دیشوں کو اس بات کا دھیان رکھنا ہوگا۔
(انل نریندر)
21 مارچ 2024
ساو ¿تھ کی 129 سیٹیں فیصلہ کن ہوںگی!
عام چناو¿ میں اس مرتبہ ۵ساو¿تھ ہندوستانی ریاستوں کی 129 سیٹوں کا رول اہم ہونے جا رہا ہے ۔ایک طرف بھاجپا اپنے مشن 370 میں سے ان سیٹوں پر بڑی جیت حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔وہیں کانگریس کو ساو¿تھ سے بڑی امیدیں ہیں ۔ان دونوں سیاسی پارٹیوں کے علاوہ ڈی ایم کے وائی ایس آر ،بی آر ایس اور مقامی پارٹیاں جیسے کمیونشٹ ،علاقائی پارٹیاں بھی اپنی علاقائی دبدبہ بچائے رکھنے میں لگی ہیں ۔ایسے میں یہ سیٹیں قومی و علاقائی پارٹیوں کے لئے بے حد اہم ہو گئی ہیں ۔کرناٹک ،کیرل ،تملناڈو،آندھرا پردیش، اور تلنگانہ میں سے صرف ۲ریاست ایسی ہیں جہاں پچھلے چناو¿ میں بھاجپا نے سیٹیں جیتی تھیں ۔اس میں بھاجپا نے کرناٹک میں 25 اور تلنگانہ میں 4 سیٹیں جیتی تھیں ۔باقی ۳ ریاستوں میں ان کا کھاتہ تک نہیں کھل پایا تھا ۔اس کے باوجود جنوبی ریاستوں میں سب سے زیادہ سیٹیں بھاجپا کے پاس ہیں ۔ساو¿تھ کی باقی 100 سیٹوں پر بھاجپا نے پچھلے 5 برسوںمیں کافی کام کیا ہے اور اسے ان میں سے کچھ سیٹیں جیتنے کی بھی امید ہے ۔تملناڈو میں پروگریسو سیکولر اتحاد نے پچھلی مرتبہ اچھی پرفارمنس دی تھی ۔ڈی ایم کے کی قیادت میں کانگریس و لیفٹ پارٹیاں شامل تھیں ۔اس نے 39 میں سے 38 سیٹیں جیتی تھیں ۔یہ اتحاد اس بار بھی ہے اور اسے اپنی پرفارمنس دہرانے کی امید ہے ۔آندھرا پردیش میں بھاجپا نے کے ڈی پی اور جن سینا سے اتحاد کیا ہے ۔پچھلی بار 25 میں سے 22 سیٹیں جیت کر وائی ایس آر نے شاندار پرفارمنس دی تھی اور ٹی ڈی پی کو محض تین سیٹیں ملی تھیں ۔بھاجپا کوئی سیٹ نہیں جیت سکی تھی لیکن اس مرتبہ بھاجپا ٹی ڈی پی ،جن سینا اتحاد نے وآئی ایس آر کانگریس کے لئے چیلنج کھڑا کر دیا ہے ۔تلنگانہ میں اس بار بھی مقابلہ دلچسپ ہوگا ۔پچھلی بار بی آر ایس نے 9 بھاجپا نے 4 کانگریس نے 3 ، ایم آئی ایم نے 1 سیٹ جیتی تھی ۔یہاں کل 17 سیٹیں ہیں ۔ اس بار کانگریس وہاں اقتدار میں ہے ۔ڈی آر ایس کمزور ہوئی ہے ۔بھاجپا نے بھی بنیادی سطح پر اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کی ہے ۔کرناٹک میں پچھلے عام چناو¿ میں بھاجپا کی پرفارمنس شاندار رہی تھی ۔اس نے 28 میں سے 25 سیٹیں جیتی تھیں ۔کانگریس اور جے ڈی ایس 1-1 سیٹ جیت پائی تھی جبکہ ایک سیٹ آزاد امیدوار نے جیتی تھی ۔اس بار سیدھا مقابلہ بھاجپا اور کانگریس کے درمیان ہونے کے آثار ہیں ۔یہاں کانگریس اقتدار میں ہے اور ڈی کے شیو کمار جیسے ایک ہوشیار سیاستداں کانگریس کے پاس ہے ۔اس لئے وہاں سے بھاجپا کو پرانی تاریخ دہرانا مشکل ہوگی ۔کیرل میں پچھلی بار کانگریس کی پرفارمنس شاندار رہی تھی اس میں 20 میں 15 سیٹیں جیتی تھی ۔جبکہ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور آر ایس پی ایک ایک سیٹ پر کامیاب ہوئی تھی جبکہ کمیونسٹ پارٹی اور آر ایس پی ایک ایک سیٹ جیت پائی تھی ۔دو سیٹیں انڈین مسلم لیگ اور ایک سیٹ کے سی ایم نے جیتی تھی ۔بھاجپا کے ووٹ فیصد وہاں بڑھ کر 13 فیصدی تک ہوا لیکن وہ کوئی سیٹ نہ جیت پائی ۔بھاجپا کو امید ہے کہ اس مرتبہ یہاں اس کا کھاتا کھل سکتا ہے ۔پورے دیش کی طرح بھاجپا کا ٹرمپ کارڈ وزیراعظم نریندر مودی ہیں ۔اور مودی جی مسلسل ساو¿تھ انڈیا کے مندروں میں متھا ٹھیک رہے ہیں ۔چناوی ریلیوں میں بھی بھاجپا کا زور ساو¿تھ پر ہوگا ۔کانگریس کے لئے بھی ساو¿تھ انڈیا میں اچھی پرفرامنس کرنے کی چنوتی ہے ۔راہل گاندھی کی پہلی یاترا بھی کنیا کماری سے شروع ہوئی تھی ۔
(انل نریندر)
چندہ دینے والوں کے ناموں پر قومی پارٹیاں چپ!
بھارت کے الیکشن کمیشن نے الیکٹرول بانڈ کو لیکر سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ملی جانکاری اتوار کو اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی ہے ۔سپریم کورٹ نے الیکٹرول باند کی آئینی جواز پر سماعت کے دوران چناو¿ کمیشن سے کہا تھا کہ وہ سبھی سیاسی پارٹیوں سے الیکٹرول بانڈ کو لیکر جانکاری حاصل کریں ۔چناو¿ کمیشن کو سیاسی پارٹیوں سے جانکاری لینی تھی کہ اسے کونسا بانڈ کس نے دیا ۔بانڈ کتنی رقم کا تھا یہ رقم کس کے کھاتے میں اور کس تاریخ کو ڈالی گئی ۔سال 2018 میں الیکٹرول بانڈ لائے جانے سے ستمبر 2023 تک یہ جانکاری الیکشن کمیشن کو بند لفافے میں سپریم کورٹ کو سونپی تھی اب اسے چناو¿کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیا ہے ۔کچھ پارٹیوں نے تو پوری جانکاری سونپی ہے کہ کس نے انہیں کتنے روپے کے بانڈ دئیے ۔اور انہیں کب بھنایا گیا ۔جبکہ کئی پارٹیوں نے صرف یہ بتایا ہے کہ کس بانڈ سے انہیں کتنے روپے ملے ۔بڑی سیاسی پارٹیوںمیں اے آئی ڈی ایم کے ، ڈی ایم کے اور جتنا دل سیکولر نے یہ جانکاری دی ہے کہ انہیں کس نے الیکٹرول بانڈ کے ذریعے چندہ دیا ۔جبکہ سکھم ڈیموکریٹک فرنٹ اور مہاراشٹر گومنتک پارٹی جیسی چھوٹی پارٹیوں نے یہ بتایا ہے کہ انہیں الیکٹرول بانڈ کے ذڑیعے جو چندہ ملا تھا وہ کلیکشن سے ملا ۔وہیں عام آدمی پارٹی ،سماج وادی پارٹی ،راشریہ جنتا دل ،جموں کشمیر نیشنل کانفرنس نے 2019 تک چندہ دینے والوں کی ہی تفصیل دی ہے ۔جبکہ نومبر 2023 میں تازہ جانکاری چناو¿ کمیشن کو سونپی تو اس میں چندہ دینے والوں کی جانکاری نہیں دی ۔ان کے علاوہ زیادہ پارٹیوں نے چندہ دینے والوں کے بارے میں جانکاری نہیں دی ہے ۔انہوں نے صرف یہ بتایا کتنی رقم کے بانڈ تھے اور انہیں کب بھنایا گیا ۔مغربی بنگال میں حکمراں آل انڈیا ترنمول کانگریس نے 2019 میں اپنے جواب میں کہا تھا کہ یہ بانڈ ہولڈر والے بانڈ ہیں ۔یعنی اس کا کوئی رجسٹریشن کا مالک نہیں ہے ۔اور ان کے اوپر خریدنے والوں کی جانکاری نہیں چھپی ہے ۔ٹی ایم سی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بانڈ اس کے آفس کے پتہ پر بھیجے گئے تھے ۔پھر وہاںسے بینکوں میں ڈالے گئے تھے یا ہماری پارٹی کی حمایت کرنے والوں نے خفیہ رکھنے کی خواہش سے کسی اور کے ذریعے سے بھیجے تھے ۔ادھر نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو نے بھی کہا کہ ان کے پٹنہ آفس میں کون چناوی بانڈ رکھ گیا ۔انہیں پتہ نہیں ہے ۔حالانکہ جے ڈی ایس نے اپریل 2019 میں ملے 13 کروڑ روپے میں سے 3 کروڑ روپے کے ڈونر کی پہچان بتائی ۔لیکن ٹی ایم سی نے کسی ڈونر کی پہچان نہیں بتائی ۔2023 میں دئیے گئے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مختلف قوانین میں سیاسی پارٹیوں کے ذریعے چناوی بانڈ سے متعلق ملومات دینے سے جڑے قواعد کا حوالہ دیا تھا ۔بی جے پی نے کہا تھا عوامی نمائندگان ایکٹ کے مطابق سیاسی پارٹیوں کو ہر سال الیکٹرول بانڈ سے ملی رقم کی تفصیل پبلک طور پر سیاسی پارٹیوں کو ہر سال الیکٹرول بانڈ سے ملی رقم کی تفصیلات ہی عام کرنا ہوتی ہیں ناکہ یہ جانکاری دینی ہوتی ہے کہ اسے بانڈ کہا ں سے ملے ۔بی جے پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت بھی پارٹی کو صرف اتنی جانکاری دینی ہوتی ہے اس کا کہنا تھا قانون کے تحت پارٹی کو الیکٹرول بانڈ دینے والوں کی جانکاری دینا ضروری نہیں تھی اس لئے اس نے اپنے پاس یہ تفصیل نہیں رکھی ۔کانگریس سمیت کئی دیگر پارٹیوں نے بھی الیکٹرول بانڈ کی جانکاری نہ دیتے ہوئے ایسی وجوہات بتائیں ان کو نہ صرف یہی بتایا کہ کب انہوںنے بانڈ کوبھنایا اور کتنی رقم ان کے کھاتہ میں آئی۔
19 مارچ 2024
نتن گڈکری اور راجناتھ سنگھ کو ٹکٹ!
نریندر مودی کے دوسرے عہد میںجب راجناتھ سنگھ وزیر داخلہ بدلے گئے اور وزیر دفاع بنے تو ان کے سیاسی مستقبل کو لیکر قیاس آرائیاں تیز ہو گئیں ۔اسی طرح نتن گڈکری کو بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ اور مرکزی چناو¿ کمیٹی سے باہر کیا گیا تو ان کے سیاسی مستقبل کو لیکر بھی کئی باتیں ہونے لگیں تھیں ۔شیوراج سنگھ چوہان مدھیہ پردیش کے مقبول ترین وزیراعلیٰ رہے ہیں ۔اور اسمبلی چناو¿ جیتنے کے بعد بھی انہیں ریاست کا وزیراعلیٰ نہیں بنایا گیا ۔تو بھی کئی طرح کے سوال اٹھنے لگے تھے ۔لیکن بی جے پی نے ان تینوں کو 2024 کے عام چناو¿ کیلئے ٹکٹ دے دیا ہے ۔ان تینوں سرکردہ لیڈروں کو بی جے پی نے بھلے ہی لوک سبھا چناو¿ میںاتارا ہے لیکن آنے والے دنوں میں سرکار اور پارٹی میں ان کی حیثیت کیا ہوگی ۔یہ اہم سوال ہے ۔بی جے پی دس سالوں میں پوری طرح سے بدل گئی ہے ۔نریندر مودی اور امت شاہ کی قیادت ان کے ہاتھوں میں ہے ۔اس لحاظ سے تنظیم اور حکومت انہیں کی ٹیم کا دبدبہ ہے ۔راجناتھ سنگھ ،نتن گڈکری ،شیوراج سنگھ چوہان ،اٹل - اڈوانی کی قیادت والی بی جے پی سے ہیں ۔راجناتھ سنگھ اور نتن گڈکری خود بھی بی جے پی کے صدر رہے ہیں ۔شیوراج سنگھ چوہان کو مدھیہ پردیش کے ودیشا ،نتن گڈکری کو ناگپور اور راجناتھ سنگھ کو لکھنو¿ سے ٹکٹ دیا گیا ہے ۔بی جے پی کی پہلی فہرست میں نتن گڈکری کا نام نہ آنے کے بعد یہ کہا جانے لگا تھا کہ ان کا ٹکٹ کٹ سکتا ہے ۔لیکن بی جے پی نے انہیں ناگپور سے ایک بار پھر میدان میں اتارا ہے ۔شیوراج سنگھ چوہان کو مدھیہ پردیش کا وزیراعلیٰ نہ بنانے کے بعد سے ہی انہیں مرکز کی سیاست میں بھیجے جانے کی باتیں ہونے لگی تھیں ۔2019 میں سرکار بننے کے بعد کچھ وقت بعد ہی جون میں راجناتھ سنگھ کو کئی کمیٹیوں سے باہر کر دیا گیا تھا ۔لیکن 24 گھنٹے کے اندر ہی یہ فیصلہ بدل گیا ۔نتن گڈکری اور راجناتھ سنگھ کے بارے میں باتیں کہی جا رہی تھیں کہ ان کا ٹکٹ کٹ سکتاہے لیکن بی جے پی نے بتایا کہ وہ اپنے ان لیڈروں پر داو¿ کھیل رہی ہے ۔دراصل بی جے پی کے درمیان کچھ بھی اتھل پتھل کے موڈ میں نہیں ہے ۔ان کی یہ کوشش ہے کہ کس طرح سے وہ اپنی جیت پکی کرسکتے ہیں ۔پارٹی کسی بھی سیٹ پر کوئی چانس لینا نہیں چاہتی ۔نتن گڈکری اور راجناتھ سنگھ کو ٹکٹ ملنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔بھاجپا اندر سے تھوڑی گھبرائی ہوئی ہے ۔وہ اب کی بار 400 پار تک پہونچ جائے گی ؟ اسی لئے بی جے پی اپنے ہی اس فارمولہ کو لاگو نہیں کر رہی ہے ۔ستر سال سے زیادہ ٹکٹ نا دینے کا دعویٰ کررہی تھی کہ پرانے چہرے باہر اور نئے چہروں کو موقع دیا جائے گا ۔دراصل بھاجپا ہائی کمان سیف پلے کرنا چاہتی ہے ۔تاکہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کر سکیں ۔نئے چہروں پر اس لئے نہیں داو¿ چلا گیا کیوں کہ پتہ نہیں وہ سیٹ نکال پائیں یا نہیں ۔اس لئے پرانے چہروں پر ہی داو¿ لگایا جائے ۔2023 میں جب راجناتھ سنگھ پارٹی کے صدر تھے تو انہوں نے ہی نریندرمودی کے نام اعلان بطور پی ایم امیدوار کیا تھا ۔انہوں نے تب ایک انٹرویو میں کہا تھا یہ ضروری نہیں ہے کہ پارٹی صدر لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے والا بھی ہو ۔اور وزیراعظم کا امیدوار بھی ہو ۔راجناتھ سنگھ کو بھی گڈکری کی طرح سیاسی تجزیہ نگار مودی کیمپ سے باہر مانتے ہیں ۔نتن گڈکری کو ٹکٹ ملنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ بی جے پی اندر خانے اس بات پر مطمئن نہیں ہے کہ اب کی بار 400 پار اندر سے پارٹی کا اعتماد ڈگمگا رہا ہے ۔
(انل نریندر)
کیا گیم چینجر ہو سکتا ہے الیکٹرول بانڈ ؟
الیکٹرول بانڈ پر سپریم کورٹ کے سخت رخ سے اپوزیشن خوش ہے ۔آنے والے لوک سبھا چناو¿ میں اپوزیشن اتحاد انڈیا اس مسئلے کو بڑا ہتھیار بنانے کی کوشش کررہا ہے ۔اپوزیشن کے کئی نیتاو¿ں کا خیال ہے کہ اگر اپوزیشن نے اسے ٹھیک سے جنتا کے سامنے رکھا تو یہ گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے ۔اپوزیشن پارٹی کانگریس کا الزما ہے کہ وہ پہلے سے ہی کہہ رہی ہے کہ سرکار جانچ ایجنسیوں کا ڈر دکھا کر چندرہ وصول رہی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ایسی کئی کمپنیاں جن کو لیکر کہا جا رہا ہے کہ ان کی طرف سے دیا جانے والا چندےے کی وجہ جانچ ایجنسیوں کے چھاپے کا ڈر ہے ۔اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے چناو¿ کمیشن کو بانڈ خریداروں کی فہرست سونپ دی ہے ۔اس میں کئی اہم معلومات سامنے آئی ہیں ۔سب سے زیادہ بانڈ خریدنے والوں میں کئی ایسی کمپنیاں شامل ہیں کہ ان کے خلاف ای ڈی اور انکم ٹیکس محکمہ کی کاروائی ہو چکی ہے ۔دلچسپ یہ ہے کہ یہ کاروائیاں بانڈ خریدنے کے وقت آس پاس ہوئی ہیں ۔فیوچر گیمنگ ،ویدانتا لمیٹڈ اور میدھا انجینئرنگ جیسی کمپنیاں سب سے زیادہ بانڈ خریدنے والوں میں شامل ہیں ۔لیکن ان کمپنیوں کی طرف سے یہ خریداری ہوئی ہے ۔اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی کاروائیوں کے آس پاس ہوئی ہے ۔انڈین ایکسپریس نے اپنی ایک خاص رپورٹ میں کہا ہے صرف یہی کمپنیاں نہیں بلکہ دس کمپنیوں کے بانڈ خریدار ی میں بھی یہی پیٹرن نظرآتا ہے ۔اخبار لکھتا ہے کہ آئی پی جی ایس کی ہلدیا اینرجی ڈی ایل ایف ، فارمہ کمپنی ہیترو ڈرگس ویل اسپن گروپ ڈویز لیوتے انڈسٹریز اور بایو کان کی کرن مجندار نے کافی بانڈ خریدنے ہیں ۔لیکن یہ ساری خریداری مرکزی ایجنسیوں کی جانچ کے سائے میں خریدے گئے ہیں ۔مثلاً الیکٹرول بانڈ کی چوتھی سب سے بڑی خریداری ہلدیا اینرجی پر سی بی آئی نے 2020 میں کرپشن کا مقدمہ درج کیا تھا ۔آر پی ایس جی گروپ کی کمپنیاں ہلدیا اینرجی نے 2019 سے لیکر 2024 کے درمیان 377 کروڑ روپے کے بانڈ خریدے ۔مارچ 2020 میں سی بی آئی نے ہلدیا اینرجی اور اڈانی و ویدانتا جندل اسٹیل بی آئی ایل ٹی سمیت 24 کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج کئے ۔ڈی ایل ایف بڑے بانڈ خریداروں میں شامل ہے ۔اس نے 130 کروڑ روپے کے بانڈ خریدے ۔سی بی آئی نے نومبر 2017 کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد کیس درج کیا تھا ۔25 جنوری 2019 کو سی بی آئی نے کمپنی کے گروگرام کے دفتر اور کئی اہم ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی تھی ۔ان کاروائیوں کے بعد ڈی ایل ایف نے ۹ اکتوبر 2019 کو بانڈ خریدنے شروع کئے ۔کمپنی نے کل 130 کروڑ روپے کے بانڈ خریدے ایک بار پھر 25 نومبر 2023 کو ای ڈی نے کمپنی کے گوروگرام میں موجود دفتروں پر چھاپہ ماری کی تھی ۔فارمہ کمپنی ہیترو بائیو لیف کے ذریعے 60 کروڑ روپے کے بانڈ خریدے یہ کمپنی 2021 سے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں تھی ۔اکتوبر 2021 میں انکم ٹیکس محکمہ نے کمپنی کے کئی ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی تھی اور 140 کروڑ رروپے سے زیادہ کی نقدی برآمد کی تھی ۔اس کے بعد سب سے بڑی اے ڈی آئی مینوفیکچرنگ شامل ہے ۔اس کمپنی پر 2023میں55کروڑ روپے کے بانڈ خریدے ۔کمپنی کے ٹھکانوں پر 14سے 18 فروری تک انکم ٹیکس چھاپے پڑے تھے ۔بایو کون کی شاہ کمپنی نے 6 کروڑ روپے کے بانڈ خریدے ۔ایسے ہی فہرست بہت لمبی ہے یہ شاید ہی جنات کے سامنے آئے ۔مگر صاف ہے کہ ای ڈی انکم ٹیکس اور سی بی آئی کے ذریعے نہ صرف سرکاریں گرائی جاتی ہیں پارٹی توڑ ی جاتی ہے بلکہ الیکٹرول بانڈ کے ذریعے سے پارٹیوں کو فنڈ بھی دیا جاتا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...