Translater

26 نومبر 2016

نوٹ بندی پر سرکار کو دیا سپریم کورٹ نے جھٹکا

نوٹ بندی پر مرکزی سرکار کو پارلیمنٹ سے سڑکوں تک اور گاؤں سے عدالت تک جھٹکے ہی جھٹکے لگ رہے ہیں۔ عدالتیں بار بار مرکزی حکومت کو جھٹکے دے رہی ہیں۔ تازہ جھٹکا بدھوار کو اس وقت لگا جب سپریم کورٹ نے دیش کی مختلف ہائیکورٹس میں نوٹ بندی کے متعلق التوا حکم جاری کرنے کی مرکزی کی اپیل کو یہ کہہ کر نامنظور کردیا کہ ہوسکتا ہے کہ عوام ان میں فوری راحت چاہتی ہو۔ مرکزی سرکار نے دعوی کیا ہے کہ نوٹ بندی کامیاب ہے کیونکہ اب تک بینکوں میں 6 لاکھ کروڑ روپے کے 500-1000 کے نوٹ جمع ہوچکے ہیں۔ 30 دسمبر تک یہ تعداد 10 لاکھ کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے صاف کہا کہ مختلف عدالتوں میں دائر اپیلوں کو روکنا نہیں چاہتے۔ چیف جسٹس ٹی۔ ایس۔ ٹھاکر کی رہنمائی والی تین نفری بنچ نے کہا کہ عدالتیں لوگوں کو فوراً راحت دے سکتی ہیں۔ بنچ کے ججوں ڈی وی آئی چندرچوڑ اور ایل ناگیشور راؤ نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی سے کہا ہمیں لگتا ہے کہ آپ نے ضرور کچھ مناسب قدم اٹھائے ہوں گے؟ اب کیا پوزیشن ہے؟ آپ نے ابھی تک کتنی رقم اکھٹی کی ہے؟ اس کے بعد 6 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ابھی تک بینکوں میں آچکی ہے۔ پیسے کے ڈیجیٹل لین دین میں کافی اچھال آیا ہے۔ انہوں نے کہا نوٹ بندی کا فیصلہ 70 سالوں سے جمع کالی کمائی کو ہٹانے کے مقصد سے لیا گیا ہے اور مرکزی سرکار حالات پر روز اور ہر گھنٹے نگرانی رکھ رہی ہے۔ بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت کیلئے2 دسمبر کی تاریخ طے کردی ہے۔ عرضی گزاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس وقت مرکزکی التوا کی اپیل کر اپنا جواب داخل کریں۔ قابل ذکر ہے عدالت عظمی نے 18 نومبر کو بینکوں و ڈاک گھروں کے باہر لمبی لمبی قطاتوں کو سنجیدگی کا اشو مانتے ہوئے مرکز کی اس عرضی پر اپنا اعتراض جتایا تھا جس میں یہ حکم دینے کی مانگ کی گئی تھی کہ8 نومبر کا نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر دیش میں کوئی دوسری عدالت غور نہ کرے۔ چیف جسٹس تارک سنگھ ٹھاکر اور انل دوے کی بنچ نے متعلقہ فریقین سے سبھی تفصیلات اور دوسرے نکتوں کے بارے میں تحریری دستاویز تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سنگین اشو ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دیکھئے عوام کس طرح کی مشکلات سے روبرو ہو رہی ہے۔ لوگوں کو ہائی کورٹ جانا ہی پڑے گا۔ اگر ہم ہائی کورٹ جانے کا اس کا متبادل بند کردیتے ہیں تو ہمیں مسئلے کی سنجیدگی کا کیسے پتہ چلے گا۔ عرضیوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ مرکزی سرکار کے اچانک لئے گئے اس فیصلے نے بد امنی کی صورتحال پیدا کردی ہے اور عام جنتا پریشان ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

پاک کی بربریت آمیز حرکت کا فوج نے کرارا جواب دیا

پاکستان اپنی بربریت آمیز حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ پاکستان نے پھر وہی حرکت کی ہے اور اس کا کرارا جواب بھی ملا ہے۔منگلوار کو جموں و کشمیر کے ماچھل سیکٹر میں سرحد پار سے آئے دہشت گردوں نے مڈ بھیڑ میں نہ صرف ہمارے تین جوانوں کو شہید کیا بلکہ دہشت گردوں نے ان میں سے ایک شہید کا سر بھی کاٹ لیا۔ جس طرح سے 57 ویں راشٹریہ رائفلز کے ایک جوان کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کئے وہ برداشت کی حد سے باہر ہے۔ ماچھل وہی علاقہ ہے جہاں گھات لگاکر کئے گئے حملہ میں 31 اکتوبر کو 17 ویں سکھ ریجمینٹ کے سپاہی مندیپ سنگھ کو شہید کر کے ان کی لاش کو بھی صحیح طرح سے مسخ کیا گیا۔ سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے پاکستان نے ایک ساتھ رینجر، فوج و دہشت گردوں کو ہر طرح کی کارروائی میں جھونک دیا ہے۔ تب سے 125 بار ان کی طرف سے جنگبندی کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ بھارت ان حملوں کا کرارا جواب دے رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے 29 ستمبر کو کی گئی سرجیکل اسٹرائک کے بعد تقریباً دو مہینے میں 12 فوجی شہید ہوچکے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں شہریوں کی جان مال کا جو نقصان ہوا وہ تو الگ ہے ہمارے جوان پاکستان کی ہر بربریت آمیز حرکت کا جواب دینے میں اہل ہیں۔ ماچھل میں تازہ بربریت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ہندوستانی فوج نے مورٹار اور بھاری توپوں کا استعمال کرتے ہوئے ایل او سی کے کئی سیکٹروں میں گولوں سے پاٹ دیا ہے۔ پاکستانی علاقوں میں ہائے توبہ کا ماحول ہے۔ ڈیفنس ذرائع کا دعوی ہے کہ جوابی کارروائی میں درجن بھر پاک فوجی مارے گئے ہیں اور بیسیوں پاکستانی بنکر اور محاذی چوکیوں کو نیست و نابود کردیا گیا ہے حالانکہ پاکستان کا دعوی ہے کہ ہندوستانی فوج کی گولہ باری میں نیلم وادی کے لواٹ گاؤں میں 9بس مسافروں کی موت ہوگئی ہے ۔ مانا جارہا ہے کہ2003ء کے بعدسے ہندوستانی فوج کی طرف سے سب سے بڑا حملہ ہے۔ ہندوستانی فوج پاکستان کی چوکیوں کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں سے دہشت گردی گھس پیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق ہندوستان کی جوابی کارروائی میں پی او کے میں 16 لوگ مارے گئے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی فوج نے 4 لوگوں کے مرنے اور 7 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے تو جواب تو پاکستان کو مل رہا ہے لیکن جس طرح بربریت پاکستان کرسکتا ہے ویسا بھارت نہیں کرسکتا۔ نہ ہم دہشت گرد بھیج سکتے ہیں اور نہ کسی فوجی کا سر کاٹ سکتے ہیں یا اس کے اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تو راستہ ایک ہی ہے پختہ نگرانی سے اپنا بچاؤ اور پاکستان کو حملے سے منہ توڑ جواب دے کر زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا۔ ابھی حال ہی میں پاکستان نے اقبال کیا تھا اس کے7 جوان ہندوستانی حملے میں مارے گئے ہیں۔ تازہ حملے میں پاکستان کے ایک کیپٹن کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان کو اینٹ کا جواب موقعہ سے ملے گا۔
(انل نریندر)

25 نومبر 2016

اخلاقی ذمہ داری لے کر ریزرو بینک گورنر کو استعفیٰ دے دینا چاہئے

جب 8 نومبر کی رات8 بجے وزیر اعظم نریندر مودی نے کرپشن اور کالے دھن کو ختم کرنے کے لئے 500 اور 1000 روپے کے بندی کا اعلان کیا تھا تو سارے دیش نے اس کا سواگت کیا تھا۔ کون نہیں چاہتا کہ کرپشن اور کالا دھن ختم ہو لیکن جیسے جیسے دن گزرے جنتا کی پریشانیاں بڑھتی چلی گئیں اور 15 دن کے بعد بھی لوگ گھٹوں لائنوں میں کھڑے نظرآرہے ہیں۔اپنی گاڑھی کمائی کو بینک سے نکالنے کے لئے بینکوں کے باہر آدھی رات سے ہی لائنیں لگ جاتی ہیں۔گھنٹوں بھوکے پیاسے لائن میں لگے رہے کے بعد بھی پتہ چلتا ہے کہ بینک میں پیسے ختم ہوگئے ہیں اور اگلے دن پھر لائن میں لگنا پڑے گا۔ نایاب سے نایاب اسکیم بھی عمل کی مفصل تیاری کے بغیر بے معنی ہوجاتی ہے۔ اس کی مثالیں ماضی میں کئی دیکھنے کو ملی ہیں۔ 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بند کرنے کے فیصلے میں جس طرح بار بار سدھار کرنا پڑ رہا ہے اسے دیکھ کر شاید ہی لگتا ہے کہ ا س کے لئے سرکار یا ریزرو بینک آف انڈیا نے مفصل پلان تیار کیا تھا۔ بار بار سرکار کے اعلان یہی بتاتے ہیں۔سرکار کو دیر سے ہی صحیح درپردہ طور پر یہ ماننا پڑ رہا ہے کہ لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسرے یہ اعلانات یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ اتنے بڑے فیصلے کو نافذ کرنے کی سرکار کی تیاری ایک دم لچر تھی جبکہ سرکار یہ دعوی کرتی ہے کہ اس کی تیاری مہینوں سے چل رہی تھی۔ اگر ڈھنگ سے غور و خوض کیا گیا ہوتا تو سرکار کو پتہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ بوائی،شادی بیاہ کا موسم ہے ایسے وقت لین دین اور کام کاج ٹھپ کردینے کا فیصلہ کتنا مناسب تھا؟ اس لئے ہی سرکار کو بار بار اپنے حکم کو بدلنا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم کی اسکیم پر عمل اور اس کو عملی جامہ پہنانے کا کام بھارتیہ ریزرو بینک کا تھا۔ اگر اس میں کمی رہی ہے تو یہ ریزرو بینک کی ہے اور ریزرو بینک کو دیش کو جواب دینا پڑے گا۔ درجوں موت ہوگئی ہیں ،اس کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ 22 نومبر کوتندیشوری (باندہ ۔ یوپی) علاقہ میں بچی کے علاج کے لئے والد پیسہ نہیں نکال سکا جس سے بچی نے بینک کمپلیکس میں ہی دم توڑدیا۔ دہلی میں ایک بزرگ بینک کے باہر لائن میں کھڑے کھڑے دم توڑ گئے۔ شادی والے گھروں کے لئے ریزرو بینک سے ڈھائی لاکھ روپے نکالنے کی خبر راحت کے بجائے آفت ثابت ہوئی ہے۔ منگل کو تمام بینکوں میں شادی کارڈ لیکر ڈھائی لاکھ کی نقدی لینے پہنچے سینکڑوں کنبوں کو ریزرو بینک کی تمام شرطوں کے درمیان پھنس کر خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ جن کنبوں میں دو ۔چار دن میں شادی ہے ان کنبوں کا مسئلہ اور بڑھ گیا ہے۔ لکشمی نگر کی باشندہ انیتا بتاتی ہیں کہ دو دن میں میری بیٹی کی بارات آنے والی ہے اور پھر گھر رشتے داروں سے بھرا پڑا ہے۔ ان کے پاس ہاتھ میں نقدی کے نام پر کچھ نہیں ہے۔ شادی والے گھروں میں کھلے پیسوں کی بہت ضرورت پڑتی ہے۔ اب بینک نے ایسی شرطیں رکھی ہیں انہیں ہم دو دن میں کیسے پورا کر پائیں گے؟ بینک جتنے کاغذ مانگ رہے ہیں وہ ایک دو دن میں اکھٹے کرنا ممکن نہیں۔ ہم شادی کی تیاری کریں یا کاغذات اکھٹے کرے کے لئے در در بھٹکیں؟ ابھی تو کارڈ بانٹنے کا کام بھی پورا نہیں ہوا۔ نوٹ بندی نے دیش کی اقتصادی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کیا ہے۔ انٹرنیشنل ریٹنگ ایجنسی فچ نے منگلوار کو اشارے دئے ہیں کہ آخری سہ مائی (اکتوبر۔دسمبر) میں بھارت کی جی ڈی پی اضافہ شرح کے اندازے میں کمی آجائے گی۔ فچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 500-1000 کے نوٹ بند کرنے کے فیصلے سے بھارت میں نقدی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ جس سے تمام اقتصادی سرگرمیاں دھیمی پڑ گئی ہیں۔ لوگ خریداری نہیں کر پارہے ہیں، کسانوں کو بیج خریدنے میں دقتیں ہورہی ہیں۔ بینکوں میں لمبی لائنوں سے دیش کی پیداوار بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو راجن کے مطابق شرح روز دیش کو 80 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ مطلب 50 دن میں 40 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان، اتنا تو کالا دھن بھی نہیں تھا؟ یہ کیسا معاشیاتی شاستر ہے؟ اس سب بربادی کا ذمہ داری ریزرو بینک ہے۔ آل انڈیا ریزرو بینک نے اس ادھوری تیاری کے لئے دیش کو بحران میں ڈالنے کیلئے ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل کا استعفیٰ مانگا ہے۔ یونین نے ان پر بغیر تیاری کے فیصلہ لینے اور اقتصادی تنگی کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے کا الزام لگایا ہے۔ یہ یونین دیش کے قومی اور نجی سیکٹر، کوآپریٹو اور زونل بینکوں کے 2.5 لاکھ سینئر بینک افسران کی نمائندگی کرتی ہے۔ یونین نے کہا کہ 11 بینک افسران سمیت تمام لوگوں کی ہوئی موت کی اخلاقی ذمہ داری آر بی آئی گورنر کو لینی چاہئے اور انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ حال ہی میں آر بی آئی گورنر صحیح فیصلہ لینے میں ناکام رہے جس کا خمیازہ عام جنتا کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔سینئر بینکر نے 500 روپے کی جگہ 2000 روپے کا نوٹ پہلے اتارنے پر بھی سوال اٹھایا ہے اور کہا کہ آر بی آئی گورنر نے 2000 کے نوٹ پر سائن کئے، ان کی ٹیم کو اس بات کا احساس کیوں نہیں ہوا کہ 2000 روپے کے نوٹ کا سائز 1000 روپے کے نوٹ سے چھوٹا ہے اس سے دو لاکھ بینک اے ٹی ایم مشینوں کو کیسے بدلہ جا سکے گا؟ فرینکو نے آر بی آئی کو کوستے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی کے معاملے میں یہ پوری تیاری ناکام رہی ہے اور سرکار کو صحیح ڈھنگ سے صلاح نہیں دے پایا لہٰذا سرکار کی اور درگتی ہونے سے پہلے ریزرو بینک گورنر کو اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
(اینل نریندر)

اسرائیلی صدر کے دورہ سے دونوں ملکوں کے رشتے مضبوط ہوئے ہیں

اسرائیل کے صدر ریووین رولن کے چھ روزہ دورۂ ہند سے ہند ۔اسرائیل میں بڑھتے رشتوں کی سمت میں ایک اور اہم قدم رہا۔ موجودہ عالمی پس منظر میں اسرائیل بھارت ایک دوسرے کے فوجی اور وسیع اقتصادی سیکٹر میں اہم سانجھے دار ہیں۔ اب بھارت کھل کر اسرائیل سے اپنی دوستی کے سامنے آنے سے نہیں گھبراتا۔نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت نے کئی ایسے ملکوں سے رشتے بہتر کئے ہیں جن سے پہلے کھلے عام دوستی قبول کرنے سے پرہیز تھا۔ بہت برسوں پہلے مجھے بھی اسرائیل جانے کا موقعہ ملا لیکن تب بھارت ۔ اسرائیل کے کھلے رشتے نہیں تھے۔ ایک تیسرے دیش سے ہوتے ہوئے میں تل ابیب گیا تھا۔ لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اب اسرائیل۔ بھارت کے رشتے نہ صرف کھلے ہیں بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ اسرائیل نے ہمیشہ بھارت کی مدد کی ہے۔ جب کارگل جنگ ہوئی تھی تو ہماری بوفورس توپ کے گولے ہمارے پاس نہیں تھے۔اسرائیل نے ہی ہمیں بوفورس توپ کے گولے دئے تھے۔ پٹھانکوٹ حملہ کے دوران اسرائیل نے ہی ہمارے ہیلی کاپٹروں کو ڈسکوری تکنیک دی تھی۔ جس سے ہمیں پتہ چلا تھا کہ دہشت گرد کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ اسرائیل مشرقی وسطیٰ میں واقع عالمی سیاسی پس منظر سے اہم ملک ہے۔ اسرائیل سے رشتے بہتر بنانے میں اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ کا خاص اشتراک رہا۔ انہوں نے 1992ء میں پہلی بار اسرائیل کے ساتھ رشتے قائم کئے تھے۔ آج دیش اسی کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے عہد میں یہ رشتے اور مضبوط ہوئے۔ اسرائیل کے صدر ریون رولن پچھلے 20 برسوں میں پہلے اسرائیل صدر ہیں جنہوں نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ ان کا گرمجوشی سے ہندوستان میں خیر مقدم ہوا۔ حیدر آباد ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد دونوں لیڈروں میں نمائندہ سطح کی بات چیت کے بعد دونوں ملک آبی وسائل مینجمنٹ اور ذرعی اشتراک کے لئے دو اہم سمجھوتے ہوئے تھے ۔اسرائیل آبی نظم میں ماہر ہے، ایسے میں بھارت میں جن مقامات پر پانی کی کسی وجہ سے کمی ہے اس میں اسرائیلی تکنیک فائدہ پہنچائے گی۔ پچھلے کچھ برسوں میں دونوں دیشوں کے باہمی رشتے کافی مضبوط ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی صدر نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں بھارت کا اہم تعاون کرنے کا عزم جتایا ہے اور دونوں ملکوں نے دہشت گردی نیٹ ورک اور اس کی پرورش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے کے لئے عالمی پس منظر میں دہشت گرد ی کسی ایک دیش کا مسئلہ نہیں رہ گئی ہے۔ حال ہی میں شاید ہی کوئی دیش ایسا ہو جو دہشت گردی سے متاثر نہ ہو۔ ڈیفنس سیکٹر میں اسرائیلی مہمان نے کہا کہ’ میک ان انڈیا‘ اور’ مک ود انڈیا‘ کے لئے ہم تیار ہیں۔ کل ملاکر کامیاب رہے مسٹر ریون رولن کے اس دورہ سے بھارت۔ اسرائیل رشتے اور مضبوط ہوئے ہیں۔(انل نریندر)

24 نومبر 2016

دیش کے سب سے لمبے ایکسپریس وے کا آغاز

میراج اور سخوئی جنگی جہازوں کے دلچسپ کرتب کے درمیان پیر کو دیش کے سب سے لمبے لکھنؤ۔ آگرہ ایکسپریس وے کاآغاز ہوگیا ہے۔ اگر اس کو یادو کنبے کے رشتوں کا ایکسپریس وے کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ دیش کے سب سے لمبے 302 کلو میٹر ، 110 میٹر چوڑا ، 6 لین کا یہ ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد نومبر 2014 ء کو ہوا تھا اور یہ 23 مہینے میں تیار ہوا ہے۔ اس میں سے 3.3 کلو میٹر لمبی ایئر ٹرپ پر انڈین ایئر فورس کے جنگی جہاز اتر و اڑ سکتے ہیں۔ کسی ہنگامی صورت میں ایسا کیا جاسکتا ہے۔پیر کو اس کی ریہرسل بھی کی گئی۔ آگرہ، فیروز آباد، اٹاوہ، اوریہ، قنوج، ہردوئی، کانپور نگر اور اناؤ ہوتے ہوئے لکھنؤ پہنچے گا۔ اس ایکسپریس وے پر 9026 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔ زمین ایکوائر کو ملا کر 15 ہزار کروڑ روپے کا کل خرچ آیا ہے اس سے لکھنؤ ۔آگرہ کی کل دوری میں 60 کلو میٹر کی کمی آجائے گی۔ 302 کلو میٹر لمبے اس ایکسپریس وے کے آغاز کے بعد وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا کہ اب اس سڑک کے ساتھ ترقی بھی تیزی سے بڑھے گی۔ جتنی رفتار بڑھائیں گے اتنی ہی معیشت بھی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا اگلے مرحلے میں غازی پور۔ بلیا تک ایکسپریس وے بنا کر پردیش کے ایک کونے کو دوسرے کونے سے جوڑ دیں گے۔ لکھنؤ سے تقریباً 70 کلو میٹر دور اناؤ ضلع میں بانگرماؤ علاقہ کو کھندولی گاؤں میں اس ایکسپریس وے کا شاندار آغاز ہوا۔ دیش کے سب سے لمبے آگرہ۔ لکھنؤ کے آغاز کی اہم کشش تھی۔ انڈین ایئر فورس کے جنگی جہاز میراج 2000 اور سخوئی 30 کی لینڈنگ اور ٹیک آف ۔ تین میراج اور تین سخوئی جہازوں کے کرتب دیکھ کر لوگ خوش ہوگئے۔ ساتھ ہی پیر کو اس آغاز کے موقعہ پر دیش کے سب سے بڑے سیاسی کنبے کے رشتے بھی رفتار پکڑتے دکھائی دئے۔ ایکسپریس وے کی آغاز تقریب میں ملائم سنگھ یادو کا کنبہ ایک ساتھ نظر آیا۔ یہی تلخی کی جگہ ہنسی خوشی کے ماحول میں تھی۔یہ تقریروں میں بھی صاف دکھائی دیا۔ ملائم ہی نہیں ،رام گوپال اور شیو پال یادو نے بھی اکھلیش کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے ان کے کام کاج پر مہر لگادی اور کہا کہ اکھلیش کی قیادت میں پردیش ترقی کے راستے پر گامزن ہے۔ اس افتتاحی تقریب پر سب کی نظریں یادو کنبے کے ہاؤ بھاؤ اور کیمسٹری پر لگی ہوئی تھیں لیکن تقریب میں شروعات سے آخر تک پورے کنبے نے اتحاد دکھا کر سب کو چونکا دیا، ان کی زبان اور برتاؤ بدلہ ہوا تھا۔ پروگرام کا پلان اس طرح بنایا گیا کہ یادو کنبے کے چاروں ممبران ملائم، رام گوپال، شیوپال، اکھلیش یادو کو بولنے کا موقعہ ملا۔ اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے اس ایکسپریس وے کے چالو ہونے سے پورے صوبے میں وکاس کا سندیش جائے گا۔ اس سے یادو کنبے میں اکھلیش کی شخصی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ 
(انل نریندر)

پھر کالیجیم اور حکومت میں ٹکراؤ

عدلیہ اور آئین سازیہ میں ٹکراؤ جاری ہے۔ یہ بھی ایسے وقت میں جب حکومت اور عدالتیں نوٹ بندی کے سبب آمنے سامنے آتی دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ معاملہ مختلف ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرری کا ہے۔ مختلف ہائی کورٹوں میں ججوں کی تقرری کے لئے کالیجیم کے ذریعے بھیجے گئے43 ناموں کو نامنظور کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے منظور کرنے سے منع کردیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کالیجیم نے پھر سے ان سبھی ناموں کو مرکزی حکومت کے پاس بھیجا ہے اور حکومت کو اس پر نظرثانی کرنے کے لئے کہا ہے۔ سپریم کورٹ کالیجیم کی صدارت کرنے والے چیف جسٹس ٹی۔ ایس ٹھاکر نے کہا ہم نے فائلوں کو دیکھ لیا ہے اور دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ لیا ہے کہ بنچ نے سرکار کو آگے کی کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب سماعت سردیوں کی چھٹی کے بعد ہوگی۔ معلوم ہوکہ پچھلی سماعت میں اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے بنچ کو بتایا تھا کہ مختلف ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کو لیکر کالیجیم کے ذریعے کئے گئے 77 ناموں کی سفارش میں سے 34 کو ہری جھنڈی دے دی ہے جبکہ 43 سفارشوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری کو لیکر سرکار نے 3 اگست کو میمورنڈم آف پروسیجر کا ڈرافٹ کالیجیم کو بھیج دیا تھا لیکن اب تک سرکار کو واپس نہیں ملا۔ عدالت لیفٹیننٹ کرنل انل ببوترا کے ذریعے داخل مفاد عامہ عرضی پر سماعت کررہی تھی۔ بڑی عدالت میں جج صاحبان کی تقرری کے لئے بنے کالیجیم کے ذریعے سرکار کی جانب سے واپس کئے گئے سبھی 43 ناموں کی دوبارہ سفارش کرنے کے بعد سرکار کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی متبادل دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ وہ ان ناموں کی منظوری فراہم کرے۔ کیونکہ کالیجیم کی دوبارہ سفارش سرکار کے لئے تعمیل کیلئے ضروری ہوتی ہے۔اس لئے امکان اسی بات کا ہے کہ ان ناموں کو مرکزی حکومت کی منظوری مل جائے۔ ججوں کی تقرریوں کا معاملہ لمبے عرصے سے سرکار اور عدلیہ کے بیچ کھینچ تان کا سبب بنا ہوا ہے۔ یہ کھینچ تان تب سے اور بڑھی دکھائی دے رہی ہے جب سے سپریم کورٹ نے جج صاحبان کی تقرری کے لئے بنائے گئے نیشنل جوڈیشیل اپوائنٹمنٹ کمیشن قانون کو غیر آئینی ٹھہرایا ہے۔ جو بھی ہو جج صاحبان کی کمی کو دور کرنا ملک کے مفاد میں ہوگا۔ اس سے دیش میں التوا مقدموں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ حالانکہ التوا مقدموں کا بوجھ بڑھ جانے کی واحد ایک وجہ کافی تعداد میں ججوں کا نہ ہونا ہی ہے ۔ بہتر ہے کہ اس جھگڑے کو جلد سلجھایا جائے۔ جس سے جنتا کو جلد انصاف مل سکے۔ ہم تو سبھی فریقین سے درخواست کریں گے کہ مل بیٹھ کر اس مسئلے کو سلجھائیں۔ آگے تبھی بڑھا جاسکتا ہے۔
(انل نریندر)

23 نومبر 2016

حادثہ سے پربھو کے زیرو ٹالرینس مشن پر سوالیہ نشان

کانپور میں ہوئے خوفناک ریل حادثے نے ایک بار پھر ریلوے کی حادثے میں زیرو ٹالرینس پالیسی کی اصلیت اجاگر کردی ہے تو اندور۔ راجندر نگر ایکسپریس ریل حادثہ دل دہلانے والا ہے۔ 140 سے زیادہ لوگوں کی موت اور300 سے زیادہ لوگوں کے زخمی ہونے کا مطلب ہے کہ ریل کے زیادہ تر مسافر اس حادثے کے شکار ہوئے ہیں۔ یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ جب کسی تیز رفتار سے چلتی ٹرین کے 14 ڈبے پٹری سے اتر کر الگ ہوجائیں اور اس طرح پچک جائیں کے پھنسے ہوئے مسافروں کو ویلڈنگ کٹرسے نکالا جائے تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ حادثہ کتنا خوفناک تھا۔ بلٹ ٹرین ہائی اسپیڈ اور سیمی ہائی اسپیڈ ٹرینوں کی طرف تیزی سے آگے بڑھنے والے ریل منتری سریش پربھو کو اس حادثے نے ریلوے کے زمینی ڈھانچے کی حقیقت پر سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ ریل منتری کے سامنے سب سی بڑی چنوتی تو یہ ہے کہ بے پٹری ہورہی ریل کو کیسے روکا جائے؟ زمینی سطح پر ایسی کونسی خامیاں ہیں جسے اولین ترجیح کی بنیادپر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ حادثہ کس وجہ سے ہوا اس کا ٹھیک ٹھاک پتہ تو جانچ رپورٹ سے ہی چل پائے گا، لیکن ابتدائی طور پر یہ قیاس لگائے جارہے ہیں کہ پٹری میں دراڑآنے سے یہ حادثہ ہوا۔ حالانکہ حادثہ کی جگہ پر اس حادثے سے کچھ ہی منٹ پہلے اسی پٹری سے ایک اور ٹرین سامبرمتی ایکسپریس گزری تھی۔ اس حادثے کی ٹھوس وجہ فی الحال سامنے نہ ہونے کے باوجود دو ثبوت ایسے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ریل سفر کو محفوظ بنانے کے تئیں توجہ اب بھی کم ہے۔ایک تو یہ ہی کہ اندور پٹنہ ایکسپریس کے ڈبے اگر ایل ایچ بی کوچ ہوتے تو اسٹین لیس اسٹیل کے ہوتے اور حادثہ ہونے پر بھی اس کا اندرونی اثر بہت کم ہوتا تو زخمیوں کی تعداد اتنی نہ ہوتی۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ریل حادثات میں مرنے والوں کی تعداد معمولی ہوتی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ ایل ایچ بی کوچ ہے۔ ہمارے یہاں بہت سی ٹرینوں میں ایل ایچ بی کوچ ہے لیکن سبھی ٹرینوں میں ہیں۔ لہٰذا سب سے پہلا ٹارگیٹ تو یہ ہونا چاہئے کہ سبھی ٹرینوں میں ایسے ایل ایچ بی کوچ لگیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی ریلوے کی کایا پلٹ کی بات کررہے ہیں اور بارے میں کام بھی ہورہا ہے لیکن ابھی دنیا کے بڑے دیشوں کے مقابلے میں حادثوں میں مرنے والوں کی تعداد ہمارے یہاں زیادہ ہے، کیوں ؟ اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ عام انسانی بھول بڑے حادثات کا سبب بن جاتی ہے لیکن یہاں نہ تو ریلوں کے ٹکرانے کا واقعہ ہے اور نہ پٹریوں کے اکھڑنے کا اور نہ ہی بغیر گارڈ کراسنگ پر کسی دوسرے گاڑی سے ٹکرانے کا۔ ظاہر ہے اس حادثے میں ریلوے کی اندرونی خامیاں کہیں نہ کہیں اس حادثے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ بھارت میں حادثات سے بڑی ٹریجڈی وقت پر اور صحیح طریقے سے راحت اور بچاؤ کام کا نہ ہونا رہتا ہے۔ اس معاملے میں یوپی کے وزیر اعظم اکھلیش و ریلوے اور انتظامیہ کی مستعدی سے بہت سی جانیں بچ گئی ہیں۔
(انل نریندر)

میں نے ایسا کیا کردیا کہ سبھی مجھے ڈاکٹر ٹیرر کہنے لگے

نوٹ بندی کے شور میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ممنوع اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (آئی آر ایف) کے بانی ذاکر نائک کا معاملہ لگ رہاتھا کہ دب گیا ہے لیکن ادھرجتنی تیزی سے اس کے خلاف اب کارروائی ہورہی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ذاکر نائک کے دن اب لد گئے ہیں۔ قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) نائک اور دیگر کے خلاف معاملے درج کرنے کے بعد ممبئی میں آئی آر ایف کے 10 ٹھکانوں پر تلاشی لی گئی۔ این آئی اے کی ممبئی شاخ کے ذریعے آئی پی سی کی دفعہ153-A مذہب کی بنیاد پر مختلف طبقوں کے درمیان کڑواہٹ کو بڑھاوا دینا اور بھائی چارگی کو نقصان پہنچانے والے کام کرنا اورغیر قانونی سرگرمی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس کی مدد سے گزشتہ سنیچر کو چھاپہ ماری شروع کی گئی۔ ڈھاکہ کیفے حملے میں شامل دہشت گردوں میں سے ایک نے مبینہ طور سے سوشل میڈیا پر لکھاتھا کہ وہ نائک کی تقریروں سے متاثر تھے۔ جس کے بعد آئی آر ایف مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کی جانچ کے دائرے میں آگیا تھا۔ اس سال کے ابتدا میں اسلامک اسٹیٹ میں شامل ہونے کے ارادے سے ممبئی کے مضافاتی شہر سے اپنا گھر چھوڑ کر گئے کچھ لڑکے بھی مبینہ طور سے مبلغ سے متاثر تھے۔ گرفتاری سے بچنے کے ارادے سے دیش سے باہر رہ رہے نائک کی تقریروں پر ملیشیا اور برطانیہ سمیت کینیڈا میں بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق آئی آر ایف کے چیف ذاکر نائک نے کئی اشتعال انگیز تقریریں کی اور وہ دہشت گردی کے فروغ میں بھی شامل رہا۔ مہاراشٹر پولیس نے بھی لڑکوں کو کٹر پسندی کی طرف جھونکنے اور انہیں لالچ دے کر دہشت گرد سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لئے نائک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ بات تو پہلے ہی ثابت ہوچکی ہے کہ نائک نے قابل اعتراض پروگراموں کے انعقاد کے لئے آئی آر ایف کے غیر ملکی فنڈ سے پیس ٹی وی کو پیسہ بھیجا تھا۔ ان پروگراموں کو بھارت میں بنایا گیا اور ان میں نائک کی اشتعال انگیزتقریریں تھیں۔ پیس ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ اپنی ان تقریروں میں نائک نے اسلام مذہب کی جو تشریح کی اس سے نوجوانوں کو دہشت گرد بننے کی تلقین ملی۔ دیش میں نائک حمایتیوں کی تعداد بھی کم نہیں ہوگی لیکن ان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی شخص مذہب کی آڑ لیکر اگر دوسرے مذہب کے خلاف نفرت پھیلاتا ہے یا دہشت گردی کو فروغ دے گا، دہشت گرد بننے کی ترغیب دے گا تو قانون اس کے خلاف کارروائی ضرور کرے گا۔ اپنے خلاف ہوئی کارروائی کو ذاکر نائک نے دیش کے سبھی مسلمانوں پر حملہ بتاتے ہوئے کہا میں نے ایسا کیا کردیا جو سبھی مجھے ڈاکٹر ٹیرر اور دہشت گردی کا مبلغ کہنے لگے ہیں؟
(انل نریندر)

22 نومبر 2016

نوٹ بندی کا فیصلہ تاریخ بدلے گا

نوٹ بندی کو 13 دن ہوچکے ہیں اس دوران جنتا کے سامنے کئی طرح کی مشکلیں آئیں۔ بہت سے لوگوں نے اپنی چھپاکر رکھی گئی بچت کا استعمال کیا تو کسی نے اپنے بچے کی گلک توڑ کر کام چلایا۔ دوکانداروں سے ادھاری بھی جم کر ہوئی۔ کسی نے پلاسٹک منی سے کام چلایا تو کسی نے پے ٹی ایم کا سہارا لیا۔ سبھی لوگوں نے مانا کہ ان کے یہ دن نہ بھولنے والے تھے۔ حالانکہ کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے آرام سے انتظام کرلیا۔ وزیر اعظم کے یہ نوٹ بندی کے فیصلے کو عام طور پر لوگوں نے سراہا ہے۔ ایتوار کے لوگ ہمارے سامنے جو سروے آئے۔ ایک تھا ہندی روزنامہ ’’دینک جاگرن‘‘ و ایجنسی مارکٹنگ ڈولپمنٹ اینڈ ریسرچ ایسوسی ایٹ (ایم ڈی آر اے) کا اور دوسرا تھا ہندی اخبار رونامہ ’ہندوستان‘ کو لائیو ہندوستان بھی کہا جاتا ہے۔ دینک جاگرن کے سروے کے مطابق دیش کی85 فیصدی عوام نریندر مودی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے سے خوش ہیں۔دہلی، ممبئی، کولکتہ ، بنگلورو، لکھنؤ، وجے واڑہ جیسے شہروں و آس پاس کے دیہات میں الگ الگ طبقے کے 825 لوگوں سے رابطہ قائم کیا گیا ۔ اس میں 18 سے25 برس کی عمر کے لوگوں کی موجودگی زیادہ تھی۔ یہ سروے 16-17 نومبر کو کرایا گیا تھا۔ دینک۔ ہندوستان کے سروے میں 8 نومبر کو جب وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا تو انہیں 78 فیصد کی حمایت حاصل تھی یعنی78 فیصد لوگوں نے وزیر اعظم کے اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔ 7 دن بعد 61.93 فیصدی لوگ کالے دھن کے خلاف قدم کا تعاون کرنے کو تیارتھے۔ یا یوں کہیں نوٹ بندی حمایتی قریب 62 فیصدی تھے۔ 10 دن بعد حمایتیوں کی جو تعداد 62 فیصدی تھی وہ گھٹ کر 46 فیصدی رہ گئی۔ اس میں 20.41 فیصدی لوگ ایسے ہیں جن کے خرچوں پر کوئی اثر نہیں پڑا جبکہ 24.25 فیصدی کو خرچ 20-30 فیصدی گھٹانا پڑا۔ تینوں سروے میں 28 ہزار سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ لب و لباب یہ ہے کہ وٹ بندی کے عمل سے لوگ پریشان و حیران ہوئے اور اس وجہ سے جو شروع میں وزیر اعظم کے فیصلے کی حمایت کررہے تھے وہ اب کھل کر مخالفت میں آگئے ہیں۔ آج پورا دیش اس اشو پر متحد ہے۔ دیش میں کالا دھن و کرپشن ختم ہو اور اسی وجہ سے وزیر اعظم کے نوٹ بندی کے فیصلے کی حمایت کررہا ہے۔ کیا نوٹ بندی سے یہ مقصد پورا ہوگا؟ دنیا میں نوٹ بندی کی تاریخ تو زیادہ خوش آئین نہیں رہی دنیا کے کئی ملکوں میں نوٹ بندی یعنی ڈمونیٹائزیشن ہوئی ہے، ہر جگہ وہ فیل ہوئی ہے۔ جنوری1991ء میں سوویت یونین نے میخائل گورباچیف کی قیادت میں روس نے بلیک معیشت پر قابو پانے کے لئے 50 اور 100 روبل (روسی کرنسی) کو واپس لیا تھا۔ مودی نے بھی اسی ٹارگیٹ سے یہ قدم اٹھایا ہے۔ تب روس کی رائج کرنسی میں 50 سے 100 روبل کی موجودگی ایک تہائی تھی۔ حالانکہ گورباچیف کے اس قدم سے مہنگائی روکنے میں کوئی مدد نہیں ملی تھی۔ روس نے یہ قدم لوگوں کا بھروسہ جیتے کے لئے اٹھایا تھا۔ تب وہاں کے حالات (اقتصادی) بیحد خراب تھے۔ گورباچیف کو تب تختہ پلٹ کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد ہی سوویت یونین کا زوال ہوا تھا۔ اس سے سبق سیکھتے ہوئے روس نے 1998ء میں اس قدم کو واپس لے لیا تھا۔ 2010ء میں نارتھ کوریا کے اس وقت کے لیڈر کنگ جانگ ال نے پرانی کرنسی کی قیمت میں سے دو صفر ہٹا دئے تھے۔ یعنی 100 کا نوٹ 1 کا رہ گیا تھا۔ انہوں نے ایسا معیشت کو نئی روح دینے اور کالہ بازاری پر لگام لگانے کے لئے کیا تھا۔ اس وقت وہاں کھیتی بحران کے دور سے گزر رہی تھی اور کوریا غذائی بحران کا سامنا کررہا تھا۔ اس قدم سے نارتھ کوریا کی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اسی کو لیکر حکمراں پارٹی کے مالیاتی چیف کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ ڈکٹیٹر موبتو ایسے ماہر معاشیات تھے کو 1990ء کی دہائی میں بھاری اقتصادی اتھل پتھل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تب موبتو بھی بینک نوٹ میں اصلاح کے نام پر کئی چیزوں کو عمل میں لائے تھے۔ 1993ء میں سسٹم سے منسوخ کرنسی کو واپس لانے کی اسکیم تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مہنگائی بڑھ گئی اور ڈالر کے مقابلے وہاں کی کرنسی میں بھاری گراوٹ آئی تھی۔ 1997ء میں ایک سول وار کے بعد موبتو اقتدار سے بے دخل ہوگئے تھے۔ میانمار میں 1987ء کی فوجی حکومت نے دیش میں رائج 80 فیصدی کرنسی کو غیرمنظور قرار دے دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے بلیک مارکیٹ کو قابو کرنے کے لئے کئی قدم اٹھائے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طالبعلم طبقہ سڑک پر اتر آیا اور بھاری احتجاج کرنے لگے۔ میانمارکو اس قدم سے اقتصادی مورچے پر سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1982ء میں گھانا نے ٹیکس چوری روکنے کے لئے 50روپے کے نوٹ کو منسوخ کردیا تھا۔ گھانا نے پیسے کی ویلیو کو تو کم کرنے اور کرپشن پر قابو پانے کے لحاظ سے بھی ایسا کیا تھا۔ اس سے بلیک منی کا دائرہ کم ہونے کے بجائے بڑھا تھا۔ دیہاتیوں کو میلوں دور چل کر نوٹ بدلوانے بینک پہنچنا پڑتا تھا لیکن طے تاریخ کی حد ختم ہونے کے بعدسارے نوٹ بربادہوگئے۔ 1983ء میں نائیجریامیں محمدبخاری کی قیادت والی فوجی حکومت نے کرپشن کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے نئے نوٹ الگ رنگ میں جاری کئے تھے۔ ایسا محدود وقت میں پرانے نوٹوں کو ختم کرے کے لئے کیا گیا تھا۔ نائیجریا کا یہ قدم بری طرح سے فلاپ ہوا تھا اور مہنگائی کے ساتھ معیشت کی صحت میں کوئی بہتری نہیں آئی تھی۔ اس کے بعد بخاری کو تختہ پلٹ کے سبب اقتداربے دخل ہونا پڑا تھا۔ اس لئے وزیراعظم نریندر مودی کا یہ نوٹ بندی کا فیصلہ تاریخ بدلنے والا ثابت ہوگا یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)

کیا ڈونلڈ ٹرمپ اپنے چناوی وعدوں پر قائم رہیں گے

امریکہ کے ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف اپنا صدارتی عہدہ سنبھالنے کی تیاری میں لگے ہیں تو دوسری طرف دیش کے ہی لوگ ان کے خلاف مظاہرے پر اترے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ٹرمپ اپنے ایجنڈے پر بھی کام کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ساتھ انہیں اپنی ساکھ اور دیش کو متحد رکھنے کی بھی چنوتی ہے۔ سالانہ ایک ڈالر تنخواہ لیکر لگاتار بغیر چھوٹی کے کام کرنے کی بات کہہ کر وہ اس طبقے پر بھی اپنی پکڑ بنانا چاہتے ہیں جو ان کی مخالفت کررہے ہیں۔ حالیہ وقت میں امریکہ کے اب تک کے سب سے تلخی بھرے چناؤ میں کامیاب ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے صاف کردیا ہے کہ ناجائز امیگریشن ان کے لئے صرف چناوی اشو نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ترجیحات میں ہے۔ ویسے بھی اپنی پوری چناؤ کمپین کے دوران ٹرمپ نے ناجائز تاریکین وطن کے اشو کو خاص طور سے اٹھایاتھا اور اس کی وجہ سے ان کو کافی نکتہ چینی بھی جھیلنی پڑی تھی۔ یہاں تک کہ غلط ثابت ہوچکے چناوی پنڈت اور میڈیا نے اسی وجہ سے ان کی ہار تک یقینی کردی تھی۔ ٹرمپ کی جیت کے لئے جس امریکی راشٹرواد کو بڑی وجہ مانا جارہا ہے اس میں تارکین وطن کے تئیں ناراضگی بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے میکسیکو سے وابستہ سرحد کی سکیورٹی کا اشو اٹھاتے ہوئے وہاں سے آنے والے ناجائز تارکین وطن کو نشانے پر لیا ہی تھا ان کا اشارہ ایسے لوگوں کی طرف تھا جن کی وجہ سے امریکی لوگوں کے مفادات متاثر ہورہے تھے۔ انہوں نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے اور خار دار تار لگانے کی بھی بات کہی۔ البتہ میکسیکو حکومت نے اس کے خرچ میں کسی طرح کی حصے داری نبھانے سے صاف منع کردیا ہے۔ سرکاری اندازہ ہے کہ امریکہ میں قریب 1 کروڑ 10 لاکھ تارکین وطن بغیر دستاویزات کے رہ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے قومی سکیورٹی مشیر جیسے انتہائی اہم عہدے کیلئے سابق لیفٹیننٹ جنرل مائیکل ٹی فلن کو دینے کی بھی پیشکش کی ہے۔ ٹرمپ کی ٹرانزیشن ٹیم کے سینئر افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا مائیکل فلن ایک ریٹائرڈ خفیہ افسر ہیں جو مانتے ہیں کہ اسلامی دہشت گردی نے فوجی اور خارجہ پالیسی میں سب سے طاقتور کردار نبھاتے ہوئے دنیا کے سامنے وجود سے متعلق خطرہ پیدا کردیا ہے۔ 57 سالہ جنرل فلن ایک رٹائرڈ ڈیموکریٹ بھی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ چناؤ کمپین میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف مشیرکار تھے۔ انہیں روس کا قریبی بھی مانا جاتا ہے اور فوج اور خارجہ پالیسی سے متعلق امور کا بھی تجربہ ہے۔ قابل غور ہے خود ٹرمپ بھی روس کے قریبی مانتے جاتے ہیں۔ اس لئے نئے صدر کا یہ فیصلہ ان کے ذریعے نئے سرے سے امریکی پالیسیوں کو بنانے کا اشارہ دیتا ہے۔ جنرل فلن نے ایک مشیرکے طور پر ہمیشہ ٹرمپ کو یہ ہی سمجھایا ہے کہ اسلامی دہشت گردوں کے خلاف امریکہ میں عالمی جنگ چل رہی ہے جس سے نمٹنے کیلئے کسی سے بھی سمجھوتہ کرنا پڑے تو کرنا چاہئے۔ چاہے وہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن ہی کیوں نہ ہوں؟ وہ مسلمانوں کی عبادت کو اپنے آپ میں مسئلے کی جڑ مانتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کوئی مذہب نہیں بلکہ ایک سیاسی آئیڈیالوجی ہے۔ ادھر امریکی اوبامہ انتظامیہ شام کے صدر بشرالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے 4 سال سے باغیوں کی مدد کررہا ہے۔ اب صدر اسد نے کہا ہے کہ وہ نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر اپنے چناوی وعدوں پر قائم رہے تھے وہ دہشت گردی کو ختم کرنے میں شام حکومت کی مدد کریں گے۔ امریکہ میں نیویارک ٹائمس سمیت میڈیا نے کہا تھا کہ ٹرمپ اقتدار سنبھالنے کے بعد شام میں اسد مخالفین کو مدد کرنا بند کردیں گے۔ بے چینی امریکہ کے اس طبقے میں ہے جسے لگ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں ان کے یہاں ریسزم کی وہ ماڈل کی شکل دیکھنے کو مل سکتی ہے جو امریکہ کے جمہوری اقتدار کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے چناؤ نتیجے آنے کے ساتھ ہی کئی بڑے امریکی شہریوں میں لوگ جلوس نکال کر کہہ رہے ہیں کہ وہ ٹرمپ کو اپنا صدر نہیں مانتے۔
(انل نریندر)

20 نومبر 2016

نوٹ بندی پر بڑھتی ناراضگی شاید دنگوں کا انتظار ہورہا ہے

نوٹ بندی سے ہورہی عوام کو دقت پر سپریم کورٹ و ہائی کورٹ نے مرکزی سرکار کے خلاف سخت تبصرہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی نوٹ بندی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر بڑی عدالتوں کے غور کرنے پر روک لگانے سے انکارکرتے ہوئے کہا لوگ سنگین طور سے متاثر ہیں اور ایسی حالت میں عدالتی دروازے بند نہیں کئے جاسکتے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر لمبے قطاروں کو سنگین معاملہ بتاتے ہوئے عدالت نے کہا کیا مرکزی سرکار سڑکوں پر دنگے ہونے کا انتظار کررہی ہے؟ چیف جسٹس ٹی ۔ ایس ۔ ٹھاکر کی سربراہی والی بنچ نے 500-1000 کے نوٹ بند کرنے کے نوٹیفکیشن کو مختلف عدالتوں میں چیلنج کرنے والی عرضیوں پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کو اپنے مسائل کورٹ میں لانے سے نہیں روک سکتے۔ عدالت نے کہا کہ مختلف عدالتوں میں دائر عرضیوں کو دہلی ہائی کورٹ میں منتقل کیا جاسکتا ہے۔ مرکزاس کے لئے منتقلی عرضی دے۔ بنچ نے کہا کہ کچھ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ دیکھئے جنتا کس طرح کی پریشانیوں سے روبرو ہورہی ہے، لوگوں کو ہائی کورٹ جانا ہی پڑے گا۔ اگر ہم ہائی کورٹ جانے کا ان کا متبادل بند کردیں گے تو ہمیں پریشانی کی سنگینی کا کیسے پتہ چلے گا؟ لوگوں کے مختلف عدالتوں میں جانے سے ہی مسئلے کی سنگینی کا پتہ چلتا ہے۔ بڑے نوٹوں کے چلن کو بحال کرنے کے احتجاج میں کولکتہ ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے نریش چندر گپتا اور آئیدم سنہا کی بنچ نے مرکز کے فیصلے کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکار نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا اس وجہ سے دیش میں نقدی کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ حالانکہ عدالت نے کہا کہ ہم مرکزی سرکار کے فیصلہ منسوخ کرنے کا حکم نہیں دے سکتے۔ لگتا ہے کہ اگلی سماعت میں سپریم کورٹ و ہائی کورٹ نوٹ بندی پر کوئی سخت قدم اٹھا سکتی ہے۔ بینکوں کے باہر جمعہ کو لائن میں تھوڑی کمی ضرور ہوئی ہے۔ صرف 2000 روپے ملنا ہی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ بینکوں میں پرانے نوٹ فٹا فٹ جمع ہورہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک 4-5 لاکھ کروڑ روپے پرانے نوٹوں میں جمع ہو چکے ہیں۔ ریزروبینک کی پلاننگ پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ پرانے نوٹوں کو بینک سے واپس منگانے کے لئے ان کی سپلائی بھی ٹھیک طرح سے کام نہیں کررہی ہے۔ پرانے نوٹوں سے بینکوں کے کرنسی چیسٹ فل ہوچکے ہیں۔ وہاں اور نوٹ رکھنے تک کی جگہ نہیں بچی۔ آر بی آئی، پنجاب نیشنل بینک کے کرنسی چیسٹ کے حکام نے بتایا کہ ریزرو بینک چلن سے واپس ہوئے نوٹوں کو بینکوں سے واپس ہیں مانگ رہا ہے۔ کرسی چیسٹ والے بینک دو مشکلوں سے دوچار ہیں پہلی یہ کہ نوٹوں کے کرنسی چیسٹ پوری طرح خالی ہوچکے ہیں۔ دوسرا یہ یہاں پرانے نوٹ اب رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ آدھی ادھوری تیاری کے ساتھ اتری سرکار کی پول اسی سے کھلتی ہے کہ آس بینکوں کے پاس درکار نئی کرنسی نہیں ہے۔ کبھی سیاہی لگا کر تو کبھی 4500 سے 2000 کی حد کر کے کمی ، جس بینک میں کھاتہ ہے اسی بینک میں جمع کرسکتے ہیں، یہ سب اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ ریزرو بینک کے پاس درکار تعداد میں نئی کرنسی نہیں آسکی ہے۔ ضرورت کے مطابق نئے نوٹ چھاپنے کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا کے ذرائع کے مطابق ابھی تک ٹنڈر کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے۔ میسور میں بھارت سرکار کی پیپر مل میں تجربے کے طور پر تھوڑے کرنسی کاغذ بنائے گئے تھے، انہی سے کام چلایا جارہا ہے۔ وہاں ضرورت کا پانچ فیصد کاغذ تیار کرنے بھر کی صلاحیت ہے باقی 95 فیصد کاغذ کے لئے امریکہ، انگلینڈ اور جرمنی کی کمپنیوں پر آر بی آئی منحصر کرتا ہے۔ آر بی آئی کے ذریعے وزارت مالیات کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق نئے نوٹ چھاپنے کے لئے 22 ہزار میٹرک ٹن کرنسی کاغذ کی ضرورت ہوگی۔ اس کی خرید کے لئے جلد سے جلد کارروائی شروع کرنی ہوگی۔ بھارت کے پاس ضرورت کا محض 10 فیصد کاغذ دستیاب ہے جسے دیش میں تیار کیا گیا ہے۔ جہاں تک سیاہی کا سوال ہے ایک سوئس کمپنی ایس آئی سی پی اے دنیا کے تمام ملکوں (ہندوستان سمیت) کو نوٹوں کی چھپائی کے لئے سیاہی سپلائی کرتی ہے۔ سیاہی کیلئے آر بی آئی اسی کمپنی سے سیاہی خریدتی ہے۔ اس وقت چھپے 212 کروڑ نوٹوں میں 80فیصد بڑے نوٹ تھے۔ بھارت سرکار ہر سال نئے نوٹ چھاپنے کے لئے 22 ہزار میٹرک ٹن کرنسی کا استعمال کرتی ہے اس کی خرید میں نوٹوں کی چھپائی کی لاگت 40 فیصد خرچ ہوجاتی ہے، کچھ نوٹوں کا 80 فیصد حصہ 1000-500 کے نوٹوں کا تھا۔ بڑے نوٹوں نہ چلنے کو لیکر کانگریس نے وزیراعظم پر تلخ حملہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ تغلقی فیصلے کے 10 دن بعد پورا دیش خون کے آنسو رو رہا ہے اور دیش کو اقتصادی بحران یا اقتصادی بدامنی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجیوالا نے کہا کہ محض ایک شخص کی سنک اور اس کی ساکھ چمکانے کے لئے یہ سارا بونڈر رچا گیا ہے۔ اب تک55 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ ان موتوں کی تفصیل جاری کی ہے۔ پرانی نقدی کا چلنا بندہونے سے جہاں ایک طرف لوگ کالی کمائی کو سفید کرنے کی کوشش میں لگے ہیں وہیں دیش میں ٹیکس چوری کا ٹرینڈ اور اچانک نوٹ بندی کے چلتے افراتفری میں بہت سے لوگوں کی محنت کی سفید کمائی کالی کمائی میں بدل گئی ہے۔ کرپشن پر کام کرنے والی تنظیم ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل انڈیا میں ہندوستانی شاخ کے چیف رماناتھ جھا نے بتایا کہ دراصل بھارت میں ابھی نقدی سے ہی لین دین کی ذہنیت ہے۔ ابھی یہاں کے لوگ پلاسٹک منی کے استعمال سے ناواقف ہیں۔ بینکنگ سسٹم سے جوڑنے اور بینک بیداری کے بغیر اچانک کئے گئے اس فیصلے سے بیکار نتیجے تو سامنے آئیں گے ہی۔ عام طور پر ہمارے یہاں ٹیکس چوری کو جرم نہیں سمجھا جاتا۔ چھوٹے دوکاندار سے لیکر بڑے تاجر اور عام شہری سبھی لوگ سرکاری ٹیکس چرانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ دیش کے دور دراز علاقوں میں دبنگ جبراً غریبوں کے کھاتے میں پیسہ جمع کرا کر اسے سفید بنانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ راجدھانی میں بھی مل مالکوں نے اپنے مزدوروں کو بینکوں کی لائن میں لگا کر پرانے نوٹ بدلوانے کی رپورٹ آرہی ہے۔ کل ملاکر مرکزی سرکار کی اس فیصلے سے چوطرفہ کرکری ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...