Translater

24 نومبر 2018

جوگی۔مایا سے چھتیس گڑھ میں مقابلہ سہ رخی ہوا

چھتیس گڑھ میں اسمبلی چناﺅ ختم ہو چکا ہے ۔منگلوار کو یہاں آخری مرحلے میں 72سیٹوں پر تقریبا72فیصدی ہی پولنگ ہوئی یہ نمبر بڑھا ہے دوسرے مرحلے کی 18سیٹوں پر 76فیصدی سے زائد ووٹ ڈالے گئے تھے اگر دونوں مرحلوں کی اوسط دیکھں تو مجموعی طور پر پولنگ 74فیصدی سے زیادہ ہے ۔ان سیٹوں کو جیتنے کےلئے کانگریس بھاجپا اور مایا وتی اجیت جوگی اتحادنے پوری طاقت جھونک دی ہے ۔لیکن پچھلے بار قریب دو درجن ایسی سیٹیں رہیں جن پر ہار جیت کا فاصلہ کل پڑے ووٹوں کے پانچ فیصدی سے بھی کم تھا ۔ان سیٹوں پر تمام حساب کتاب کے باوجود پارٹیوں کی سانسیں اٹکی تھیں ان کی سانسیںسابق وزیر اعلیٰ اجیت جوگی کی چناﺅی میدان میں انٹری سے اور تیز ہو گئی ۔ریاست کی حکمراں بھارتی جنتا پارٹی کے پاس ہی اقتدار رہے گا یہ پندرہ سال بعد کانگریس اقتدار میں لوٹے گی یا مایا وتی اجیت جوگی پارٹیوں کے اتحاد کی شکل میں تیسرے مورچے کے ہاتھ اقتدار کی چابھی رہے گی؟پچھلے چناﺅ میں بھاجپا کو 49سیٹوں کے مقابلے کانگریس کو 39سیٹیں ملیں تھیں لیکن دونوں پارٹیوں کو پوری ریاست میں ملے ووٹ کا فرق محض97ہزار(0.7فیصد)کا ہی تھا کل 90سیٹوں پر ہار جیت کا فرق پانچ ہزار سے بھی کم تھا ۔بھاجپا نے تخت پور میں کانگریس کو 567ووٹ سے تو بلہا اور مہلا میں کانگریس نے بھاجپا کو محض950اور936ووٹوں سے ہرایا تھا۔لیکن تب اجیت جوگی کانگریس کے ساتھ تھے۔اس مرتبہ جوگی بسپا کی سبھی 90سیٹوں پر موجودگی ہے کئی سیٹوں پر کانگریس بھاجپا کے باغی بھی چناﺅ کو سہ رخی بنا رہے ہیں ۔اس سے ہار جیت کا فرق کم ہونے کا امکان ہے ۔اس مرتبہ چھتیس گڑھ میں چناﺅ مہم تلخ رہی کانگریس صدر راہل کاندھی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک دوسرے پر جم کر سیاسی تنقید کی ان کے علاوہ امت شاہ نو جوت سنگھ سدھو بھی سرگرم رہے ۔پہلے مرحلے میں 8نکسل متاثرہ اضلاع کی 18سیٹوں پر 12نومبر کو پولنگ ہوئی تھی ۔لوگوں نے نکسلیوں کی دھمکیوں کے باوجود 76.28ووٹ ڈالے۔بیلٹ نے بلٹ کو مات دے دی ۔ان چناﺅ کے نتائج ویسے تو 11دسمبر کو آنے ہیں لیکن سروے شروع ہو چکے ہیں ۔ہندوستان ٹائمس ڈاٹ کام کے ایک سروے کے مطابق چھتیس گڑھ میں بھاجپا پھر جیت کی طر ف بڑھے گی اس سروے کے مطابق بھاجپا کو 42سے 43سیٹیں ملنے کا امکان ہے جبکہ کانگیس چھتیس سے 37سیٹیں لے سکتی ہے ۔اجیت جوگی مایاوتی اتحاد کو 7سیٹیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے یہ سروے سٹے بازوں کے بھاﺅ پر مبنی ہے فی الحال سبھی متعلقہ امیدواروں کی سانسیں اٹکی ہوئی ہیں
 (انل نریندر)

ٹی وی اینکر پر سومناتھ بھارتی کا بےہودہ تبصرہ

عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی اور سابق وزیر سومناتھ بھارتی بے ادبی اور گندی زبان کے لئے پہلے بھی سرخیوں میں آچکے ہیں اس بار تو انہوں نے بد زبانی میں ساری حدیں پار کر دیں۔معاملہ دور درشن نیوز میں ایک مہیلا اینکر سے بد زبانی کی ہے سومناتھ بھارتی نے چینل کی اینکر کو وہ الفاظ کہے جنہیں میں یہاں دہرانا نہیں چاہتا۔میں نے وہ ویڈیو کلپ دیکھا ہے ۔ایک وکیل و ممبر اسمبلی اس طرح کی زبان بول سکتا ہے میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا اس کلپ کے وائرل ہونے پر سومناتھ بھارتی نے سوشل میڈیا پر معافی تو مانگ لی لیکن ساتھ ہی چینل کو بھی دھمکی دے ڈالی کہ آگے سے کوئی بھی عآپ نیتا ان کے چینل سے کوئی بات نہیں کرے گا۔سومناتھ بھارتی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ مکمل طور سے افسوس ناک ہے نیوز چینل(دوردرشن نیوز)اپنی ٹی آر پی کے چکر میں فون پر کہی گئی میری بات کو توڑ مروڑ کر دکھا رہا ہے ۔میں سبھی عورتوں کو شکتی کا روپ مانتا ہوں یہ کہیں میں ان کی عزت کرتا ہوں حالانکہ میرے الفاظ خاتون صحافی کے لئے نہیں تھے اگر میرے الفاظ سے انہیں ٹھیس پہنچی ہے تو معافی مانگتا ہوں ساتھ ہی چینل سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ٹی آر پی بڑھانے اور پبلیسٹی پانے کے لئے اسٹنٹ نہ کریں ۔17منٹ33سیکنڈ میں سے صر ف 20سیکنڈ کے حصہ کو دکھانا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کا چینل بی جے پی کا ایک اوزار ہے سومناتھ بھارتی پر ایک خاتون صحافی نے ایف آئی آر درج کر دی ہے ۔دہلی کے وسنت کنج کی باشندہ صحافی رنجنا انکت دیویدی سیکٹر 57نوئیڈا کے ایک میڈیا ہاﺅس میں ٹی وی اینکر کے کام کو انجام دے رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ دہلی کے وزیر اعلی کی آنکھوں پر مرچ پاوڈر پھینکنے کے معاملے پر منگل کے روز ان کے ٹی وی چینل پر ایک پروگرام دکھایا گیا اسی مقصد سے ٹی وی پر چل رہی سیدھی بحث کے دوران مالیویہ نگر سے عآپ ممبر اسمبلی سومناتھ بھارتی سے جنتا کی ناراضگی سے وابسطہ کچھ سوال پوچھے گئے اس کے جواب میں انہوں نے گندی گندی گالیاں دیں بھاجپا کا دلال کہنے کے ساتھ کئی غیر مہذب زبان کا استعمال کر چینل کو بند تک کرانے کی دھمکی دے ڈالی انہوںنے مہیلا تھانہ پولس کو بحث کے دوران ریکارڈ ہوئی ویڈیو فوٹیج بھی سونپی ۔مہیلا تھانہ انچارج انسپکٹر سیتا کماری کا کہنا ہے کہ صحافی کی شکایت پر روپورٹ درج کر جا نچ کی جا رہی ہے ۔بھارتی کے خلاف دفعہ 504اور 509کے تحت مقدمہ درج ہو ا ہے ۔504کا مطلب بے عزت کرنے پر زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا اور جرمانہ وہیں دفعہ 509یعنی مہیلا کی آبرو کو تار تار کرنے میں زیادہ سے زیادہ 3سال کی سزا اور جرمانہ ہے ۔عآپ پارٹی کے ترجمان سوربھ بھاردواج نے کہا کہ سومناتھ بھارتی کو اس طرح کا تبصر نہیں کرنا چاہیے تھا۔

(انل نریندر)

23 نومبر 2018

وسندھرا کے مقابلے میدان میں اترے مانو یندر سنگھ

راجستھان مےں کانگرےس نے اپنی پارٹی کے سبھی سرکردہ چہروں کو ٹکٹ دےنے کے بعد حکمراں بھاجپا کے مہارتھےوں کو گھےر نے کی حکمت عملی کے تحت جھالو راپاٹن سےٹ سے لڑ رہی وزےر اعلی وسندھرا راجے کے خلاف سابق بھاجپا لےڈر جسونت سنگھ کے بےٹے مانوےندر سنگھ کو اتار نے کا اعلان کےا ہے ۔کانگرےس ہائی کمان نے بھاجپا کے سرکردہ جسونت سنگھ کے بےٹے کو ٹھےک اسی وقت وسندھرا کے خلاف بنانے کا اعلان کےا تھا جس وزےر اعلی اپنا پرچہ داخل کررہی تھی وسندھرا کے خلاف سےاسی گھرانے کے مشہور چہرے کو اتار کر کانگرےس نے راجستھان مےں دہراسےاسی داو ¿ چلنے کا صاف سندےش دےا ہے ۔وزےر اعلی کے لئے اسمبلی کا چناو ¿ آسان تو نہےں ہے اقتدار مخالف لہر کا سامنا کررہی بھاجپا کی راہ کتنی مشکل ہے بھاجپا کا تقرےباًپورا چناوی دارومدار وسندھرا پر ہی ہے اےسے مےں وزےر اعلی کو اپنے حلقہ مےں زےادہ وقت دےنا پڑا تو وہ دےگر سےٹوں کے لئے چناوی کمپےن نہ کرنے سے پارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے جھالو راپاٹن کی سےٹ رواےتی طور سے بھاجپا کے کھاتے مےں ہی رہی ہے ۔وزےر اعلی وسندھرا 2003سے ےہاں تےن بار ممبر اسمبلی چنی جاچکی ہے اور چوتھی بار اپنی دعوہداری ٹھوک رہی ہے 2013کے پچھلے اسمبلی چنا و ¿ مےں 60869ووٹو ں سے جےتی تھی ۔انھےں 63.14فےصد ووٹ ملے تھے اور دوسرے مقام پر رہی تھی ۔مےنا شری چند راوت کی جھولی مےں 29.53ووٹ آئے تھے اس سےٹ پر تقرےباًڈھائی لاکھ ووٹر ہےں ۔پارٹی نے سال 2014مےں جسونت سنگھ کو ٹکٹ نہےں دےاتھا ۔مانوےندر سنگھ اور ان کے خاندان کے وزےر اعلی وسندھرا سے رشتے اچھے نہےں تھے اور مانوےندر سنگھ اکتوبر مےں باڑ ھ مےڑ ھ مےں سوابھمان رےلی کرکے بھاجپا سے الگ ہوگئے اور پچھلے مہےنے کانگرےس مےں شامل ہوئے ۔اس معابلے کے چلتے اب پوری رےاست مےں جھالو راپاٹن سےٹ سب سے اہم بن گئی ہے اور مقابلہ دلچسپ ہونے کے اثار ہےں ۔مانوےندر سنگھ کے آنے سے اب اس سےٹ پر راجے کے راجپوت ووٹ بےنک کا تجزےہ بگڑ گےا ہے ۔کانگرےس امےد اور مانوےندر سنگھ نے کہا وہ وسندھرا راجے کو پوری طاقت سے چنوتی دےں گے ۔وسندھرا صوبے مےں ٹھاکر فرقے کی بلاتنازعہ سب سے بڑی نےتا ہےں مگر جسونت سنگھ کی خاندان کی بھی ان کے علاقہ مےں اپنی پکڑ ہے حالانکہ بھاجپا کے لئے راحت کی بات ہے جھالوراپاٹن مانوےند رکے لئے نےا حلقہ ہے چناو ¿ مےں تےن ہفتہ سے کم کا وقت بچاہے اور وسندھرا کو انکی رواےتی سےٹ پر مات دےنا ان کے لئے آسان نہےں ہوگا ۔

(انل نریندر)

سکھ قتل عام میں پہلی بار34سال بعد پھانسی کی سزا

1984کے سکھ دنگوں مےں جس مےں 5ہزار سکھ پورے دےش مےں مارے گئے تھے جس اےک معاملہ مےں پولےس کلوزررپورٹ داخل کرچکی تھی اس مےں 34سال بعد دو ملزامان کو سزا دلواناآسان نہےں تھا اس کے پےچھے تےن سال پہلے ہی مرکزی حکومت کے ذرےعہ تشکےل اےس آئی ٹی کی سخت محنت ہے مرکزی سرکار نے دنگا متاثرےن کو انصاف دلانے کےلئے 2015مےں ہی ان نئی اےس آئی ٹی کا قےام عمل مےں آےا تھا ۔جس مےں دہلی پولےس کے تےز ترار افسر کمار گےانےش بھی شامل ہے۔ا ن کے علاوہ اےس آئی ٹی مےں رےٹائرڈ آئی پی اےس پرمود استھانہ اور رےٹائرڈ سےشن جج راکےش کمار بھی ممبر تھے ۔اےس آئی ٹی نے 32سال پرانے کےس مےں جس جڑےں کھود نی شروع کی تو پولےس کو اہم ثبوت اور گواہ مل گئے اس ٹےم کا سنگےن معاملوں مےں زبردست تفتےش کا تجربہ ٹےم کے کام آےا ۔سکھ دنگوں مےں مہی پال پور مےں دولوگوں پر قتل کے معاملے مےں انسپکٹر انل اور جگدےش کی ٹےم نے بےرونی ممالک تک مےں گواہوں کو ڈھونڈ لےا جس مےں اےک گواہ اٹلی مےں ملا ۔وہ متوفی اوتار سنگھ کا بھائی رتن سنگھ تھااس کی گواہی اس معاملہ مےں کافی اہم ثابت ہوئی ملزامان کو سزا کے بعد سکھ دنگوں کے معاملہ مےں دہلی پوےس کی صاف ستھری ساکھ سامنے آئی ہے ۔پٹےالہ ہاو ¿ س مےں واقع اےڈ ےشنل سےشن جج اجے پانڈے کی عدالت نے معاملہ کے قصور وار جسپال سنگھ کو کو پھانسی کی سزا سناتے ہوئے مہی پال پور وار دات کا ذکر کےا ہے وہےں اےک دوسرے قصوروار نرےش سہراوت کو عمر قےد کی سزا سنائی گئی ہے عدالت نے سکھ دنگوں کو انسانےت کے خلاف جرم مانتے ہوئے قتل عام کے زمرے مےں رکھا ہے ۔عدالت نے سنگت سنگھ ،کلدےپ سنگھ و سورجےت سنگھ کی چشم دےدگواہی کے فےصلوں کو اہم بنےاد مانتے ہوئے کہاکہ ان تےنوں گاہوں کے بےان محض ان کی آپ بےتی پر مبنی نہےں ہے بلکہ ہسپتال کے رےکارڈ سے بھی اس کی تصدےق ہوئی ہے ۔اےک نومبر 1984کو مہی پال پور علاقے مےں سنگےن طور سے جلے پانچ سکھوں کو مرامان کر ہسپتال پہنچی ان کو ڈاکٹروں کے سامنے لاشوں کی شکل مےں لاےا گےا تھا ۔لےکن ڈاکٹر نے جانچ کی تو پتہ چلا کہ تےنوں لوگوں مےں سانس آرہی تھی جب کہ دولوگ مرچکے تھے ۔ےہی تےن زندہ بچے لوگوں نے منگلوار کو جسپال سنگھ کے خلاف پھانسی کی سزی دلوانے مےں اہم کردار واردات کے درد کو بےان کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ رےکارڈ بتاتے ہےں کہ مہی پال پور مےں واقع سنگت سنگھ اور اوتار سنگھ کے دکان پر شر پسند بھےڑ پہنچی او ردکان کو لوٹنا شروع کردےا دونوں بھائی وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔راستے مےں انہےں ہردےو سنگھ وکلدےپ بھی اپنی جان بچانے کے لئے بھےک مانگتے نظر آئے ۔ان چاروں نے سکھ و کار گو کمپنی مےں کام کرنے والے سکھ سردار سنگھ کے گھر مےں پنا ہ لی اور وہاں چھپ گئے اور کھڑکی سے باہر کے حالات دےکھنے لگے ۔تبھی وہاں بلوائےوں کی بھےڑ کی قےادت جسپال اور نرےش کررہے تھے بھےڑ نے سرجےت کے گھر کی کھڑکی راڈ سے توڑی او رپھر پانچوں سکھوں کی بری طرح پٹائی کی ان پر مٹی کاتےل ڈالا گےا ۔اور آگ لگادی پانچوں جھلسی ہوئی حالت مےں سڑک پر پڑے تھے پوےس نے ان سب کو مرا ہوا مان کر وہاں سے اٹھاےا اور آر اےم اےل ہسپتال لےکر پہنچ گئی ۔ڈاکٹروں نے جانچ کی تو سنگت سنگھ اور دکلدےپ سنگھ اور سرجےت کی سانس چل رہی تھی جبکہ ہردےو اور اوتار سنگھ مر چکے تھے ۔32سال بعد تےنوں چشم دےد گوا ہ کے طور پر عدالت نے سامنے پےش ہوئے تھے انھوں نے ہی جسپال سنگھ اور نرےش کو پہچانا او رےہی پہچان ان ملزموں کو سزا کی بنےاد بنی ۔اےس آئی ٹی 1984کے دنگوں مےں 8معاملوں مےں چار شےٹ داخل کر چکی ہے جس مےں ےہ پہلی معاملوں مےں ےہ فےصلہ آےا ہے فےصلوں کو ہائی کورٹ سپرےم مےں چےلنچ کےا جائے گا ۔لےکن ہمےں نہےں لگتا کہ ٹھوس ثبوتوں کے چلتے فےصلوں مےں کوئی تبدےلی آئے گی ہوسکتا ہے کہ پھانسی کی سزا عمر قےد مےں بدل جائے جہاں ہمےں اس بات کی تسلی ہے کہ 34سال بعد سکھ دنگوں مےں آخر کار کچھ تو انصاف ملا ہے وہےں ہم امےد کرتے ہےں کہ اس قومی شرم کے معاملے مےں دےگر مقدمات مےں بھی اسی طرح کی گہری جانچ ہوگی اور انسانےت کے خلاف کئے گئے جرائم پےشہ کو سزا ملے گی ۔

(انل نریندر)

22 نومبر 2018

لونگوال کے اصل ہیرو

بارڈر فلم دو باتوں کے لئے ہمیشہ یاد رہے گی ۔پہلی تو تھی ایک میجر کلدیپ سنگھ کی چاند پوری کی قابل قدر بہادری اور دوسرا تھا اپہار سنیما دہلی میں اس فلم چلنے کے دوران خوفناک آگ کا لگنا ۔اپہار سنیما کے مالک انسل بندھو ابھی تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔فلم کا ایک مشہور گانا سندیسے آئے ہیں ہمیں تڑپاتے ہیں ،جو چٹھی آتی ہے،وہ پوچھے جاتی ہے،کہ گھر کب آﺅگے،لکھو کب آﺅگے،کہ تم بن سے گھر سوناسونا ہے۔یہ اس فلم کا گانا ہے جو ہندوستانی فوج کے میجر کلدیپ سنگھ چاندپوری کی زندگی پر بنی تھی۔لونگوال جنگ کے اصلی ہیرو اور مہاویر میڈیل ونر چاندپوری کا دیہانت سنیجر کو موہالی میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں ہو گیا تھا ۔چاندپوری کے بڑے بیٹے ہردیپ سنگھ چاندپوری نے بتایا کہ سال 22اگست کو ہی ان کو کینسر کے بارے میں پتہ چلا تھا ۔1971میں بھارت پاک جنگ کے وقت لڑے گئے مغربی سیکٹر کے راجستھان میں واقع تھار منو استھل میں لونگوال چوکی پر میجر کلدیپ سنگھ تعینات تھے۔جنگ کے وقت ان کا حوصلہ کا مظاہرہ تاریخ میں درج ہو گیا ۔محض 22سال کے چاندپوری پنجاب ریجی منٹ کی تیسویں بٹالین کی رہنمائی کر رہے تھے ۔انہوںنے محض 90ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ پاکستان کے دو ہزار فوجیوں کو شکست دے دی تھی ۔لونگوال چوکی پرچاندپوری کو اطلاع ملی تھی کہ دشمن بڑی تعداد میں ان کی طرف بڑھ رہے ہیں چاندپوری نے ہندوستانی فوج سے مدد مانگی جو نہیں مل پائی اب ان کے سامنے یہی موقعہ تھا کہ پیچھے موجودہ وصائل کے ساتھ ہی دشمنوں کا مقابلہ کرئے ۔چاندپوری اپنی ٹکڑی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پوری رات لڑے اور دشمنوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اس کے لئے انہیں بہادری ایوارڈ مہاویر چکر سے سمانت کیا گیا تھا یہ بھارت کا دوسر ا سب سے بڑا بہادری اعزاز ہے ۔لونگوال کی جنگ اور اس میں چاندپوری کے چانکیہ کی ڈپلومیسی اپنانے کے لئے جے پی دتہ نے بارڈر فلم بنائی اس فلم میں کلدیپ سنگھ چاندپوری کا کردار سنی دیول نے بخوبی نبھایا تھا ان کی اداکاری دیکھنے والی تھی اور کی بہت تعریف بھی ہوئی اس لڑائی میں قریب 90فوجیوں کی بدولت ہندوستانی فوج ایک بڑی فوج کا سامنا کر رہی تھی کچھ ہی وقت کے اندر لونگوال چوکی پر پاکستانی ٹینک گولا بارود برسانے لگے رات ہوتے ہوتے پاکستان کے12ٹینک تباہ کر دئے گئے اور آٹھ کلو میٹر تک پاکستانی ٹیکنوں و فوجیوں کو بھگا دیا گیا ۔2004میں دہلی میں ایک دفتر میں سینئر بھاجپا لیڈر ایل کے اڈوانی نے چاندپوری کی کھلے اسٹیج سے تعرف کی تھی اور کہا تھا کہ برگیڈیر کلدیپ سنگھ چاندپوری نے 1971میں پاکستان کو ایسا کھدیڑا کہ اس کے بعد اس نے بھارت کے ساتھ سیدھی جنگ لڑنے کی ہمت نہیں دکھائی ایسے بہادر کلدیپ سنگھ چاندپوری کو ہم سلام کرتے ہیں اور ان کی آتما کو شانتی دینے کی پراتھنا کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

سی بی آئی بنام سی بی آئی کرائم تھریلّرکاسنسنی خیز ایپی سوڈ

سی بی آئی بنام سی بی آئی مہابھارت نے سپریم کورٹ میں ایک بار پھر سنسنی پیدا کر دی ہے ۔اس بار یہ سنسنی پیدا کرنے والے ڈی آئی جی منیش کمار سنہا تھے،انہوںنے اپنے تبادلے کے خلاف عرضی میں الزام لگایا کہ قومی سیکورٹی مشیر (این ایس اے)اجیت ڈوبھال نے سی بی آئی اسپیشل ڈائریکٹرراکیش کماراستھانہ کے خلاف چانچ میں مداخلت کی تھی ان پر درج تین کروڑ روپئے کی رشوت خوری کیس کی جانچ ڈی آئی جی سنہا کر رہے تھے انہوںنے پیر کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ میرے پاس ایک راءافسر کی کال ریکارڈنگ ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ پی ایم او کو میسج کر لیا ہے اس معاملے میں استھانا کا ساتھ دے رہے سرکار میں بیٹھے لوگوں کے نام سامنے آرہے تھے اسلئے میرا ناگپور ٹرانسفر کیا گیا ہے تاکہ جانچ آگے نہ بڑھے۔سنہا نے کہا کہ 20اکتوبر کو نئے سی بی آئی کے ڈپٹی ایس پی دیوندر کمار کے آفس اور گھر کی تلاشی لے رہا تھا اسی وقت سی بی آئی ڈائریکٹر کا فون آیا انہوںنے مجھ سے کہا کہ این ایس اے اجیت ڈوبھال نے کہا ہے کہ تلاشی روک دی جائے اس کے بعد اے کے بسی بھی استھانا کا موبائل ضبط کر کے ان کے گھر کی تلاشی لینا چاہتے تھے تب بھی کہا گیا کہ این ایس اے ڈوبھال نے اس کی اجازت نہیں دی ہے ۔مرکزی وزیر مملکت ہری بھائی پارتھی بھائی ،چودھری پر الزام لگے ہیں کہ انہوںنے وزارت پرنسل کے ذریعہ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کی جانچ متاثر کرنے کا دباﺅ بنایا ،چونکہ ورما کی رپورٹنگ وزارت پرسنل کو ہے الزام ہے کہ ہری بھائی کو کچھ کروڑ روپئے احمدآباد کے رپل نام کے ایک شخص کے ذریعہ پہنچائے گئے ثنا نے 20اکتوبر کو پوچھ تاچھ کے دوران یہ حقائق بتائے تھے۔ڈی آئی جی منیش سنہا نے سنسنی خیز الزام لگائے ہیں اور وہ بھی سپریم کورٹ میں ۔یہ کوئی چناﺅ ریلی میں لگائے جا رہے الزام نہیں ہیں جنہیں ہلکے سے لیا جا سکتا ہے۔یہ الزام دیش کی سپریم کورٹ میں ایک سی بی آئی کے ایک ذمہ دار افسر نے لگائے ہیں ۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے سنہا کے ذریعہ سپریم کورٹ میں دئے گئے حلف نامے کے پس منظر میں منگلوار کو نریندر مودی سرکار پر حملہ بولا اور کہا کہ دہلی میں یہ چوکی دار ہی چور نامی کرائم تھریلر چل رہا ہے اور جمہوریت رو رہی ہے ۔راہل نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ دہلی میں چوکیدار ہی چور تھریلر کے نئے ایپی سوڈ میں سی بی آئی کے ڈی آئی جی کے ذریعہ ایک وزیر ،این ایس اے قانون سیکریٹری اور کیبنیٹ سیکریٹری کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔انہوںنے دعوی کیا کہ وہیں گجرات سے لایا اس کا ساتھی کروڑوںکی وصولی کر رہا ہے۔افسر تھک گئے ہیں،بھروسے ٹوٹ گئے ہیں ۔کانگریس نے سی بی آئی کے ڈی آئی جی ایم کے سنہا کے ذریعہ تحریری حلف نامے میں لگائے گئے کرپشن کے الزامات کی آزادانہ جانچ کرانے کی مانگ کی تھی اور کہا تھا ان سے پی ایم اواور مودی سرکار کے کام کاج پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں ۔پارٹی نے یہ بھی کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں بھی یہ اشو اٹھائیں گے ۔پارٹی نے کہا ہے کہ اس نے مودی سرکار کے ساتھ سنئیر افسروں کی ایمانداری پر بھی سنگین سوال کھڑے کر دئے ہیں۔حلف نامے میں صاف ہے کہ وزیر قانون ،سیکریٹری ،سنیٹرل ویجی لینس کمشنر سے لے کر قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال تک جرائم پیشہ کو بچانے اور بے گناہوں کو پھنسانے کے کھیل میں شریک ہے۔کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بچانے اور پھسانے کے کھیل میں کرپشن کی بات سامنے آگئی ہے اس لئے پارلیمنٹ کے ذریعہ منصفانہ جانچ کرائی جانی چاہیے ۔میڈیا انچارج رندیپ سورجیوالا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سرکار کے سئنیر افسران اور وزراءپر سنگین الزام اپوزیشن یا راہ چلتے کسی شخص نے نہیں بلکہ سی بی آی کے ڈی آئی جی نے لگائے ہیں ۔70سال میں پہلی بار ہوا ہے کہ سی بی آئی کے ایک اعلی افسر نے نیشنل سیکورٹی مشیر اور سینٹرل وجی لینس کمشنر کے وی چودھری کو ملزم کو بچانے میں مشتبہ کردار پر روشنی ڈالی ہے ۔دیکھیں کہ اس کرائم تھریلر کے اگلے ایپی سوڈ میں کیا ہوتا ہے ؟

(انل نریندر)

21 نومبر 2018

کےا نجی گاڑےوں پر پابندی لگانا کثافت کا حل ہے؟

راجدھانی دہلی۔ اےن سی آر مےں بڑھتی کثافت کے مسلہ سے کےسے نپٹا جائے ؟ کےا آڈ اےون اسکےم کو پھر سے لاگو کےا جائے ےا پھر نجی پےٹرول۔ ڈےژل گاڑےوں پر پوری طرح روک لگائی جائے؟ ےہ سوال انوائنمےنٹ پالوشن کنٹرول بورڈ (ای پی سی اے) کے سامنے ہے۔ ای پی سی اے نے اےن سی آر مےں دوبارہ اےمرجنسی صورتحال بننے پر نجی گاڑےوں پر مکمل پابندی ےا آڈ اےون انتطام لاگو کرنے کی سفارش کی ہے۔ےہ حےران کرنے والی بات ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے مقابلہ مےں اس سال دہلی مےں کم پالوشن درج کےا گےا ہے۔ سی پی سی بی نے ےکم جنوری سے 11 نومبر تک دہلی کی ہوا کا معےار 158 دن خراب درج کےا ہے، جب کے اسی مےعاد مےں سال 2016 مےں 197 دن اور سال 2017 مےں 166 دن دہلی کی ہوا کا معےار خراب رہا تھا۔ کہنے کا مطلب ےہ ہے کہ پالوشن کا مسلہ صرف اس سال کا نہےں ہے۔ اس کے لءٹھوس مستقل قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگر ای پی سی اے دہلی مےں نجی گاڑےوں پر روک لگاتی ہے تو دہلی ٹھپ ہو جائے گی۔ اس پابندی سے دہلی نواسی کا اس کی پابندی کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ستمبر 2018 تک راجدھانی مےں رجسٹرڈ گاڑےوں کی تعداد قرےباً 1.10 کروڑ ہے۔ اس مےں سے 38لاکھ گاڑےاں 10 و 15 سال پرانی گاڑےوں کی فہرست مےں آگئی ہےں۔بچے 72 لاکھ گاڑےوں مےں 30 فےصدی کارےں و66فےصدی دوپہےہ گاڑےاں ہےں۔ آٹو ٹےکسی اور دےگر کمرشےل گاڑےوں کی تعداد محض چار فےصد ہےں۔اس طرح قرےب 48لاکھ دوپہےہ اور 25 لاکھ کارےں ہے۔دو پہےہ تو پےٹرول سے چلتے ہےں۔ کاروں مےں لگ بھگ 10.5فےصد سی اےن جی، 2.5لاکھ ڈےژل سے چلنے والی اور قرےب 12لاکھ پےٹرول سے چلنے والی ہےں۔اعدادو شمار کے مطابق 30لاکھ مسافر روزانہ بسوں مےں سفر کرتے ہےں اور لگ بھگ 29لاکھ مےٹرو سے چلتے ہےں۔ جبکہ تقرےباً 60 لاکھ لوگ بپتر پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی مےں مجبوری مےں نجی گاڑےوں کا سہارا لےنے پر مجبورہےں۔اےسے مےں اگر نجی گاڑےوں پر پابندی لگا دی جاتی ہے تو ےہ تمام ساٹھ لاکھ لوگ ےاتو سڑکوں پر آجائےں گے ےا پھر گھر بےٹھنے پر مجبور ہوجائےں گے۔ان زائد اشخاص کو ڈھونے کی صلاحیت نہ تو ڈی ٹی سی اور کلسٹر بس سروس کی ہے اور نہ ہی دہلی میٹرو کی ۔چونکہ اولا اور ابرکمپنی کی بھی زیادہ تر ٹیکسیاں ڈیژل سے چلتی ہیں لہذا ان کا بھی کوئی سہارا نہیں مل پائےگا۔اب اگر دہلی میں پالوشن کے اعداد و شمار پر آئیں تو 38فیصد پالوشن کی وجہ سڑکوں کی دھول ،11فیصدی انڈسٹریل اکائیاں ،12فیصدی پرالی،6فیصدی کنکریٹ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ج نجی گاڑیاں دہلی۔این سی آر میں صرف 3فیصد پالوشن کے لئے ذمہ دار ہیں ،اس لئے جب تک کافی بڑی وجوہات کی نشاندہی نہیں کی جائے اور اس کے مستقل حل کے لئے ٹھوس قدم نہیں اٹھائے جاتے نجی گاڑیوں پر پابندی لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔یہ مسئلہ آج کا نہیں ہے۔پرالی جلانے سے معاملہ اور خراب ہو رہا ہے۔

(انل نریندر)

پنجاب کو پھر سے غےر مستحکم کرنے کی کوشش

پنجاب مےں ہائی الرٹ کے باوجود امرتسر کے راجہ سانسی بےن الاقوامی ہوائی اڈے سے کچھ دوری پر واقع ادلےوال گاو ¿ں مےں نرنکاری بھون پر اتوار صبح چل رہے سماگم کے دوران کےا گےا گےنےڈ حملہ پنجاب کو اےک بار پھر اشانت کرنے کی الگاو ¿وادےوں کی منصوبہ بند سازش ہو سکتی ہے، لحظہ اس معاملہ کو بے حد سنجےدگی سے لےنے کی ضرورت ہے۔ اےسی واقعات وہی عناصر انجام دےتے ہےں جو معصوم ۔نہتے لوگوں کی جان لے کر آتنک اور نفرت کا ماحول پےدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہےں۔ چونکہ پنجاب مےں اےسے عناصر گاہے بگاہے سر اٹھانے کی کوشش کرتے رہے ہےں اس لئے ےہ مناسب ہے کہ پنجاب پولےس ادلےوال گاو ¿ں کے نرنکاری بھون مےں کی گئی اس کائرانہ واردات کو آتنکی حملہ کے طور پر لے رہی ہے۔ اتنی جلدی بلے ہی کسی نتےجہ پر نہ پہونچا جاسکے، لےکن سماگم مےں موجود دو ڈھائی سو لوگوں کو نشانہ بناکر کئے گئے اس حملہ کو کسی شخص پر حملہ بھی نہےں مانا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ اس کے ذرےعے ماحول خراب کرنے کا ناپاک ارادہ تھا۔حملہ آوروں کو پتہ تھا کہ نرنکاری بھون مےں اتوار کی صبح بہت بھےڑ ہوتی ہے، اس لئے انہوں نے ےہ دن اور ےہ موقع چنا۔ پولےس کے مطابق نرنکاری بھون مےں ست سنگ چل رہا تھا۔ گےٹ پر دو سےوادار گگن دےپ سنگھ اور ارجن تعےنات تھے۔ قرےب 11.15 بجے بائک پر پگڑی پہنے دو شخص آئے ،وہ پنجابی بول رہے تھے۔ نقاب پوش دونوں حملہ آوروں نے سےواداروں کی کمر پر پستول رکھی ، اس کے بعد اےک نے ہال مےں 100 مےٹر اندر جاکر اسٹےج کی طرف گرےنےڈ پھےنکا۔ عےنی شاہدگورمان سنگھ نے بتاےا کہ گرےنےڈ کان کے پاس سے نکلا اور دھماکہ ہوگےا۔ اسی درمےان حملہ آور فرار ہوگئے۔ پنجاب مےں نرنکاری اور چرم پنتھےوں کے ٹکراو ¿ سے ہی پنجاب مےں آتنک واد شروع ہوا تھا۔ خاتمہ کے باوجود پاکستان کی خفےہ اےجنسی آئی اےس آئی کی مدد سے ببر خالصہ کے چےف ودھوا سنگھ خالصتان زندہ باد فورس کے رنجےت سنگھ نوٹا آتنک واد کو پھےلانے کی کوشش کررہے ہےں۔ پنجاب پولےس اور ساتھ ہی راجےہ سرکار کو اس لئے بھی کہےں زےادہ ہوشےار ی برتنے اور اس واقعہ کی گہرائی سے جانچ کرنے کی ضرورت ہے ، کےونکہقرےب 40 سال پہلے انہےں حالات مےں آتنک واد کا پنجاب مےں شروعات ہوئی تھی ےہ محض اتفاق نہےں ہوسکتا کہ تب بھی نرنکاری نشانہ پر تھے اور گزشتہ دنوں مےں انہےں ہی نشانہ بناےا گےا ہے۔ محض تےن دن پہلے پنجاب پولےس نے ےہ خفےہ جانکاری جاری کی تھی کہ راجےہ مےں جےش محمد کے کچھ آتنکی گھس آئے ہےں۔ اس کے اگلے دن خونخوار آتنکی ذاکر موسا کو امرتسر مےں دےکھے جانے کی بات بھی کہی گئی تھی۔شہر مےں موسا کے پوسٹر بھی لگائے گئے تھے۔ اسی طرح گزشتہ ہفتہ پٹھانکوٹ ضلع کے مادھوپور مےں کچھ لوگوں نے ہتھےار کے بل پر اےک گاڑی لوٹ لی تھی۔اےسے مےں ہونا تو ےہی چاہئے تھا کہ تمام مذہبی اور حساس جگہوں پر سےکےورٹی کے انتظام چاق و چوبند کردئے جاتے۔ اگر سےکےورٹی صحےح ہوتی تو موٹر سائےکل سوار نقاب پوش ہتھےار کا ڈ دکھاکر نرنکاری بھون کا دروازہ کھلواکر ہوں بھےڑپر گرےنےڈ پھےنکنے مےں کامےاب مہےں ہوپاتے۔ چند دنوں پہلے ہی آرمی چےف نے پنجاب مےں نئے سرے سے آتنک واد کو ابھارنے کی کوششوں پر دےش کو آگاہ کےا تھا۔ اگر ان کے اندےشوں کو سنجےدگی سے لےا گےا ہوتا تو شائد اس خوفناک حملہ کو روکا جاسکتا تھا جس مےں تےن لوگوں کی جان گئی اور قرےب 20 لوگ گھائل ہوگئے۔

(انل نریندر)

20 نومبر 2018

سوال آندھرا ۔بنگال میں سی بی آئی کی نو اینٹری کا

آندھرا پردیش اور پشچمی بنگال کی سرکار وں نے شکروار کو اپنے راجیہ میں سی بی آئی کے داخلہ پر روک لگادی ہے۔ سرکار نے راجیہ کے قانون کے تحت اب اپنی طاقتوں کے استعمال کے لئے دی گئی جنرل رضامندی واپس لے لی۔ اس رضامندی کو واپس لینے کے بعد سی بی آئی کو ان راجیوں میں کسی بھی قسم کے چھاپہ یا جانچ کی کارروائی کے لئے راجیہ سرکار کی اجازت لینی ہوگی، جبکہ جنرل منظوری خودکار منظوری کی طرح ہوتی ہے۔ بتادیں کہ سی بی آئی دہلی پولیس اسٹیبلشمنٹ قانون 1946 کے تحت کام کرتی ہے۔ اس قانون کی دفعہ 6 کے تحت سی بی آئی کو معاملوں کی جانچ کے اختیار ملے ہیں۔ دفعہ6 کے مطابق سی بی آئی کے کسی بھی ممبر کو راجیہ کے کسی حصہ میں جانچ و کارروائی سے جڑے اختیارات کے استعمال کےلئے راجیہ سرکار کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مودی سرکار سے مارچ میں رشتے توڑنے کے بعد سے نائیڈو الزام لگاتے رہے ہیں کہ مرکزسی بی آئی جیسی ایجنسیوں کا استعمال سیاسی مخالفوں کو نشانہ بنانے کے لئے کررہا ہے۔ نائیڈو کچھ کاررباری اداروں پر انکم ٹیکس محکمہ کے حالیہ چھاپہ سے بھی ناراض ہیں۔ وہیں شکروار کو پشچمی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نائیڈو کے سمرتھن میں اترتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے سرکار پر سی بی آئی اور آر بی آئی جیسی اہم تنظیموںکو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ بھاجپا سیاسی فائدوں و بدلے کے لئے سی بی آئی کا استعمال کرہی ہے وہیں بھاجپا نے آندھرا اور پشچمی بنگال سرکار کے ذریعے سی بی آئی کو دئے گئے اختیارات واپس لینے پر سخت حملہ بولا۔ بھاجپا ترجمان جی بی ایل نرسمہاراﺅ نے الزام لگایا کہ یہ بدعنوانی چھپانے کی کوشش ہے۔ وہیں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے نائیڈو کے فیصلہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صحیح کیا ہے۔ سی بی آئی اور انکم ٹیکس محکمہ کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ نائیڈو انکم ٹیکس محکمہ کے افسران کو بھی اپنے راجیہ میں مت گھسنے دینا۔ سی بی آئی ترجمان نے کہا کہ آندھرا پردیش میں پابندی پر راجیہ سرکار کی جانب سے کوئی جانکاری نہیں ملی ہے۔آرڈر کی اطلاع ملنے کے بعد قانونی متبادل پر غور کریںگے۔ ویسے سی بی آئی کے قانونی طور پر جائز ہونے پر پہلی بار سوال نہیں اٹھے ہیں۔ اعلی سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ڈی ایس آئی کے تحت سی بی آئی کی تشکیل اور کام پر پہلے بھی کئی بار مرکزی سرکار کو بچاﺅ کرنا پڑچکا ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ تونومبر2013 کو اپنے فیصلہ میں سی بی آئی کی تشکیل اور اس کے کام کاج کو ہی غیر قانونی قرار دے چکا ہے حالانکہ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ معاملہ کا آندھرا پردیش کے مکھیہ منتری چندرابابو نائیڈو کے اس فیصلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپیل کرنے والے دیویندر کمار کی رٹ پر سنوائی کے بعد سی بی آئی کی تشکیل کو ہی غیر قانونی بتایا تھا۔ فیصلہ میں ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ عدالت ایک اپریل 1963 کے اس پرستاﺅ کو خارج کرتی ہے جس کے تحت سی بی آئی کی تشکیل کی گئی تھی۔ سی بی آئی ڈی ایس پی ای کا حصہ یا انگ نہیں ہے۔ سی بی آئی کو کسی بھی لحاظ سے ڈی ایس پی ای ایکٹ 1946 کے تحت پولیس ادارہ نہیں مانا جاسکتا۔ گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ سے گہار لگائی تھی۔مرکزی کی اپیل پر اس وقت کے چیف جسٹس نے اپنی رہائش پر ہی سنوائی کی تھی اور ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگادی تھی۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ التوا میں ہے۔ اس چناوی سال میں سی بی آئی پر پابندی مرکزی سرکار کے لئے دھکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو بھی سرکار مرکزمیں آئی اس نے سی بی آئی کا غلط استعمال کیا۔ چاہے وہ یو پی اے ہو اور چاہے این ڈی اے ہو۔ سوال یہاں بھی اہم ہے کہ ان ریاستوں میں جو کیس سی بی آئی نے درج کررکھے ہیں جن میں جانچ ہوچکی ہے ان کا کیا ہوگا؟ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ نائیڈو کے اس قدم کے پیچھے ان کا شخصی ڈر ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما کو دو کروڑ اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کو دو کروڑ95 لاکھ روپے کی رشوت دینے کا دعوی کرنے والے ستیش بابو سنا حیدر آباد کے ہیں۔اسے نائیڈو کا قریبی مانا جاتا ہے۔ چرچا ہے کہ نائیڈو کے ساتھ اس کے لین دین کے پختہ دستاویز موجود ہیں۔ سنا نے سی بی آئی کے سامنے مانا ہے کہ ایک ٹی ڈی پی ممبر پارلیمنٹ نے اسے بچانے کے لئے سی بی آئی ڈائریکٹر سے بات کی تھی۔ جانچ میںان دستاویز کے باہر آنے کے امکانات ہیں۔ نئے نوٹیفکیشن کے بعد آندھرا پردیش میں سنا کے خلاف سی بی آئی جانچ روکی جاسکے گی۔ بتایا جارہا ہے کہ سی بی آئی خود معاملہ کی جانچ شروع نہیں کرسکتی۔ راجیہ اور مرکزی سرکار کے کہنے یا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے حکم پر ہی جانچ کرسکتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی راجیہ سی بی آئی کو بین کرتا ہے تو کورٹ کے حکم کے بعد راجیہ سرکار کاحکم رد ہوجائے گا۔ یہ طے ہے کہ مرکزی سرکار آندھرا اور پشچمی بنگال کے تازہ بین پر سپریم کورٹ کا دروازہ ایک بار پھر کھٹکھٹائے گی۔ ویسے بھی سپریم کورٹ میں گوہاٹی ہائی کورٹ کا فیصلہ التوا میں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسی بنیاد پر مرکزی سرکار ان دو راجیوں کے بین کو چنوتی دے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے؟

(انل نریندر)


18 نومبر 2018

سری لنکا میں سنگین ہوتا سیاسی بحران

پڑوسی ملک سری لنکا میں سیاسی گھمسان جاری ہے ۔اب تو بات ہاتھا پائی تک پہنچ چکی ہے۔سری لنکا کی پارلیمنٹ میں جمعرات کے روز اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب مہندرا راج پکش و ان کے حمایتیوں نے نئے چناﺅ کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کو ایک آواز سے انہیں عہدے سے ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔اس کے بعد دونوں فریقین کے بیچ لات گھوسے چلے ۔راج پکشے حمایتیوں نے اسپیکر پر بوتلیں و کتابیں بھی پھینکی دراصل راج پکشے میں ادم اعتماد پرستاﺅ پاس ہونے کے بعد جب دوسرے دن ایم پی دوبارہ پارلیمٹ میں اکٹھا ہوئے تو اسپیکر کارو جے سوریا نے کہا کہ دیش میں اب کوئی بھی پردھان منتری نہیں ہے اس پر راج پکشے نے کہا کہ نہ تو ایک آواز سے وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسپیکر جے سوریا کو ۔وزیر اعظم مقرر کرنے یا ہٹانے کا کوئی اختیار ہے ۔ہنگامے کی شروعات اس وقت ہوئی جب اسپیکر نے برخواست وزیر اعظم وکرم سنگھے کو پارٹی کی یہ درخواست قبول کر لی کہ راج پکشے کی نئے چناﺅ کی مانگ پر ایوان کی رائے لی جائے ۔سری لنکا کے سپریم کورٹ نے سری سینا راج پکشے کی جوڑی کو بیشک بڑا جٹکا دیا ہے لیکن سری لنکا کی سیاست اب سری سینا بنا م وکرم سنگھے کے تنازع کے بجائے راسٹر واد بنام اصلاح پسند کی بحث میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔جس میں راسٹر وادی سری سینا اور راج پکشے کے مقابلے جنہیں سنہالیوں اور بودھوں کی ہمایت حاصل ہے۔اصلاح پسند وکرم سنگھے کے کمزور پڑنے کا انڈیشہ ہے اس لئے سری سینا چناﺅ بھی کرانا چاہتے ہیں۔یہ اچھی بات ہے کہ بڑی عدالت کے ذریعہ فیصلہ دینے کے بعد اسپیکر نے نئے پارلیمنٹ کی میٹنگ بلائی ہے لیکن راج پکشے اور ان کے حمایتوں کے طور طریقوں کو دیکھتے ہوئے یہ صاف نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کتنے دن چلے گی ۔اب نگاہیں سپریم کورٹ پر ٹکی ہیں وہ اگلے مہینے کیا فیصلہ سناتی ہے؟یہ کتنی بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ جنوری 2015میں صدر چنے گئے جس سری سینا نے سری لنکا کے جمہوری نظام کو مرکزیت فراہم کرتے ہوئے طاقت دی تھی جس کے سبب آج سپریم کورٹ سے لے کر چناﺅ کمیشن جیسے ادارے صدر کے فیصلے کو غیر آئینی بتا رہے ہیں آج وہی سری سینا راسٹر واد کی دلیل دے کر اپنے دیش کو پرانے نظام میں لے جانا چاہتے ہیں ۔وہ راج پکشے کے تانا شاہی طور طریقوں سے بھرے متنازع صدارتی عہد کو بھول کر ان کے ساتھ ہو گئے ہیں۔سری لنکا میں سیاسی تعطل کے پیچھے اقتصادی بحران ہے ۔ادائیگی ادم توازن کے مسئلے سے دیش کا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے اور اس پر بھاری غیر ملکی قرض ہے اسی کو بنیاد بنا کر سر ی سینا ،راج پکشے وکرم سنگھے پر دیش کو چین ،بھارت اور سنگا پور کے ہاتھوں بیچ دینے کا الزام لگا رہے ہیں ۔یہ سبھی کے مفاد میں ہے کہ سری لنکا میں سیاسی بحران جلد ختم ہو اور جمہوریت مظبوط ہو۔

(انل نریندر)

تاﺅ دیوی لال کی خون پسینے سے سینچی وراثت تار تار

ہریانہ کے سب سے طاقتور سیاسی پریوار میں گذشتہ کافی دنوں سے زبردست مہابھارت چھڑا ہوا ہے۔تاﺅ دیوی لال اور ان کے خاندان سے ہمارے پریوار کے پرانے رشتے ہیں ۔تاﺅ اکثر میرے سورگیہ پتا شری کے نریندر سے ملنے آیا کرتے تھے۔انہوں نے اپنے خون پسینے سے انڈین نیشنل لوک دل پارٹی کو کھڑا کیا ۔پرانے تعلق کی وجہ سے تاﺅ دیوی لال کی وراثت کو تار تار ہوتے دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے۔جہاں تک چودھری اوم پرکاش چوٹالہ کا تعلق ہے میں انہیں ایک بہت بردبار سیاسی لیڈر مانتا ہوں وہ ہر قدم سوچ سمجھ اٹھاتے ہیں۔چوٹالہ اور ان کے بھائی کے خاندان میں جو جنگ چھڑی ہوئی ہے اس میں روز نئے نئے موڑ آرہے ہیں۔پارٹی کس کی ہے ،کون ہے اس کا مالک یہ لڑائی زوروں سے جاری ہے۔پیر کو دونوں گروپوں نے ایڈین نیشنل لوک دل پر اپنا اپنا حق جتایا ہے۔پیرول پر جیل سے باہر آنے آنے کے بعد دہلی میں ورکروں سے خطاب میں اجے چوٹالہ نے کہا کہ پارٹی کے ورکروں کی یہ پارٹی ہے اور ورکروں سے ان کا کوئی حق چھین نہیں سکتا ۔انڈین نیشنل لوک دل ورکروں کو کانگریسی کہنے والوں کو کانگریس مبارکاں اور دوسری طرف ابھے چوٹالہ جند اور حسار میں میٹنگ کر کے طاقت کا مظاہرہ کیا اور دعوی کیا کہ انڈین نیشنل لوک دل پر ان کا حق ہے ۔تہاڑ میں چودہ دن کی پیرول ملنے کے بعد دہلی کے اٹھارہ جن پت رہائش گاہ پر ورکروں سے ملنے پہنچے پارٹی کے پردھان جنرل سیکریٹری دشینت و دگ وجے کے پتا ڈاکٹر اجے چوٹالہ کھل کر اپنے بیٹوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کے تیور کافی تلخ تھے۔اجے نے کہا کہ پارٹی کسی کوبپوتی نہیں ہے ۔اوم پرکاش چوٹالہ کی بھی نہیں ادھر دشینت اور دگ وجے چوٹالہ کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھانے کے بعد بدھ کے روز پردھان جنرل سیکریٹری اجے چوٹالہ کو بھی انڈین نیشنل لوک دل سے نکال دیا گیا ہے۔اپوزیشن لیڈر ابھے چوٹالہ کی پریس کانفرینس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ اخراج پارٹی چیف اوم پرکاش چوٹالہ کے دستخط سے ہوا ہے ۔دگ وجے چوٹالہ نے کہا کہ اجے چوٹالہ کا اخراج کا خط فرضی ہے ۔اسے چنڈی گڑھ میں منگلوار کی رات تیار کیا گیا ۔اوم پرکاش چوٹالہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔یہ بات دنیا جانتی ہے کہ اوم پرکاش چوٹالہ کے دونوں بیٹے اجے سنگھ اور ابھے سنگھ کی شروع سے ہی ٹھنی رہی ۔ابھے سنگھ کی ساخ متنازع رہی ہے ۔گرین برگیڈ میں ان کے کارناموں اور دہلی کے پانچ ستارہ ہوٹل میں ہنگامے کی کہانیاں کون نہیں جانتا ؟وقت نے رنگ بدلا اورٹیچر گھوٹالے میں اوم پرکاش چوٹالہ اور بڑے بیٹے اجے سنگھ دونوں ہی 10-10سال کے لئے جیل چلے گئے ۔اجے سنگھ کی وراثت کی کمان دشینت چوٹالہ اور ان کے بھائی دگ وجے سنگھ نے سنبھالی ۔ابھے سنگھ ان دنوں ہریانہ اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں ۔تاﺅ دیوی لال کے خون پسینے سے سینچی گئی انڈین نیشنل لوک دل یوں تار تار ہوتے دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے ۔امید ہے یہ خاندانی اندرونی لڑائی کا کوئی جلد حل نکل آئے گا۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...