Translater

14 مئی 2021

سٹی اسکین سےریمیڈیشن کا خطرہ بھت کم ہے!

حال ہی میں ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے سٹی اسکین کو لیکر ایک بیان جاری کیا ہے جس کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے حالانکہ سبھی ڈاکٹروں نے ان کے بیان سے نا اتفاقی ظاہر کی ہے کچھ ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سٹی اسکین سے نہ تو کینسر کا خطرہ ہے اور نہ ہی ایک سٹی اسکین 300سے 400کے ایکسرے کے برابر خطرناک ہے در اصل ڈاکٹر گلیریا نے کہا تھا کہ کورونا کے اس وقت میں سبھی سٹی اسکین سے 300سے 400ایکسرے کے برابر نقصان دہ ہے اور اس سے کینسر ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے حالانکہ ان کے اس بیان پر راجیو گاندھی کینسر انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر نے انٹر ویشنل ریڈیلوجی ڈیپارٹمینٹ کے کنسل ٹینٹ ڈاکٹر ابھیشیک بنسل نے کہا کہ یہ بیان پوری طرح غلط ہے آج ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ سٹی اسکین مشین بے حد کم ریڈیشن ہوتی ہے آج سے 20یا 30سال پہلے سٹی اسکین مشینوں میں ریڈیشن بہت زیادہ ہوتی ہے اور کینسر کا خطرہ ہوتا تھا ۔ نئی سٹی اسکین مشینوں سے کینسر ہونے کا خطرہ اتنا ہی ہے جتنا ایک سال میں ہمارے آب و ہوا میں موجود ریڈیشن کا خطرہ بنا رہتا ہے آج ایک سٹی اسکین میں صرف پانچ سے دس ایکسرے کے برابر ریڈیشن ہوتی ہے جب کسی شخص کا سینے کا سٹی اسکین کیا جا تا ہے تو اسے مشین میں صرف اسے مشین میں 7سے 8سیکینڈ رکھا جاتا ہے اسٹا ر ایمجنگ اینڈ پیتھ لیب کے ڈائریکٹر سمیر بھاٹیا کہتے ہیں جب کسی بڑے ادارے سے وابستہ شخص کوئی بیان دیتا ہے تو اس کا لوگوں پر کافی اثر پڑتا ہے حال ہی میں سٹی اسکین پر ڈاکٹر رندیپ گلیریا کی جانب سے دیئے گئے بیان کے بعد یہی ہوا میری پہچان کے کئی لوگوں نے مجھے فون کیا وہ پوچھ رہے تھے کہ ایک ڈاکٹر نے انہیں سٹی اسکین کے لئے کہا ہے لیکن اب وہ کنفیویز ہے کہ وہ سٹی اسکین کروائیں یا نہیں ؟ سمیر کہتے ہیں کہ آج سٹی اسکین مشینیں اڈوانس قسم کی ہیں اور ان میں ریڈیشن کم ہوتا ہے اسی وجہ سے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوگا ڈاکٹر گلیریا نے جو بیان دیا ہے وہ آج سے بیس سے تیس سال پہلے کی مشینوں کے حساب ٹھیک ہے لیکن آج کی ماڈرن اور ایڈوانس کی مشینوں کے حساب سے یہ بیاب بلکل صحیح نہیں ہے حالانکہ ہم بھی لوگوں کو یہی صلاح دیتے ہیں کہ اگر ہلکے اثرات ہیں تو سٹی اسکین نہ کروائیں لیکن اگر زیادہ ہیں تو سٹی اسکین کروائیں ۔
نئی سٹی اسکین سے ریمیڈیشن کا خطرہ بہت کم ہے !حال ہی میں ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے سٹی اسکین کو لیکر ایک بیان جاری کیا ہے جس کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے حالانکہ سبھی ڈاکٹروں نے ان کے بیان سے نا اتفاقی ظاہر کی ہے کچھ ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سٹی اسکین سے نہ تو کینسر کا خطرہ ہے اور نہ ہی ایک سٹی اسکین 300سے 400کے ایکسرے کے برابر خطرناک ہے در اصل ڈاکٹر گلیریا نے کہا تھا کہ کورونا کے اس وقت میں سبھی سٹی اسکین سے 300سے 400ایکسرے کے برابر نقصان دہ ہے اور اس سے کینسر ہونے کا خطرہ بنا رہتا ہے حالانکہ ان کے اس بیان پر راجیو گاندھی کینسر انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر نے انٹر ویشنل ریڈیلوجی ڈیپارٹمینٹ کے کنسل ٹینٹ ڈاکٹر ابھیشیک بنسل نے کہا کہ یہ بیان پوری طرح غلط ہے آج ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ سٹی اسکین مشین بے حد کم ریڈیشن ہوتی ہے آج سے 20یا 30سال پہلے سٹی اسکین مشینوں میں ریڈیشن بہت زیادہ ہوتی ہے اور کینسر کا خطرہ ہوتا تھا ۔ نئی سٹی اسکین مشینوں سے کینسر ہونے کا خطرہ اتنا ہی ہے جتنا ایک سال میں ہمارے آب و ہوا میں موجود ریڈیشن کا خطرہ بنا رہتا ہے آج ایک سٹی اسکین میں صرف پانچ سے دس ایکسرے کے برابر ریڈیشن ہوتی ہے جب کسی شخص کا سینے کا سٹی اسکین کیا جا تا ہے تو اسے مشین میں صرف اسے مشین میں 7سے 8سیکینڈ رکھا جاتا ہے اسٹا ر ایمجنگ اینڈ پیتھ لیب کے ڈائریکٹر سمیر بھاٹیا کہتے ہیں جب کسی بڑے ادارے سے وابستہ شخص کوئی بیان دیتا ہے تو اس کا لوگوں پر کافی اثر پڑتا ہے حال ہی میں سٹی اسکین پر ڈاکٹر رندیپ گلیریا کی جانب سے دیئے گئے بیان کے بعد یہی ہوا میری پہچان کے کئی لوگوں نے مجھے فون کیا وہ پوچھ رہے تھے کہ ایک ڈاکٹر نے انہیں سٹی اسکین کے لئے کہا ہے لیکن اب وہ کنفیویز ہے کہ وہ سٹی اسکین کروائیں یا نہیں ؟ سمیر کہتے ہیں کہ آج سٹی اسکین مشینیں اڈوانس قسم کی ہیں اور ان میں ریڈیشن کم ہوتا ہے اسی وجہ سے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوگا ڈاکٹر گلیریا نے جو بیان دیا ہے وہ آج سے بیس سے تیس سال پہلے کی مشینوں کے حساب ٹھیک ہے لیکن آج کی ماڈرن اور ایڈوانس کی مشینوں کے حساب سے یہ بیاب بلکل صحیح نہیں ہے حالانکہ ہم بھی لوگوں کو یہی صلاح دیتے ہیں کہ اگر ہلکے اثرات ہیں تو سٹی اسکین نہ کروائیں لیکن اگر زیادہ ہیں تو سٹی اسکین کروائیں ۔ (انل نریندر)

نہ گلے ملیں اور نہ ہاتھ ملائیں -دور سے ہی” عید مبارک“ کہیں!

عید الفطر کا تہوار آج یعنی جمعہ کو دیش بھر میں منایا جا ئے گا ابھی یہ طے نہیں ہے لیکن اس مرتبہ کووڈ پروٹوکال اور پاک دل سے سادگی کے ساتھ منائی جائے مساجد میں نماز ادا ہوگی پبلک پروگرام نہیں ہونگے اور مسلم علما ءنہ تو گلے ملیں گے اور نہ ہی ہاتھ ملائیں گے بس دور سے ہی عید کی مبارک باد دی جائے گی آل انڈیا مسلم پرسنلا ءبورڈ کے صدر مولان رابع حسنی ندوی کی جانب سے جاری اپیل میں کہا گیا ہے گلے یا ہاتھ ملانے کے بجائے اس مرتبہ صرف زبان سے ہی عید مبار ک باد دیں اور نماز میں دوری بنائیں رکھیں بریلوی پیشوا مولان شہاب الدین رضوی نے کہا کہ کورونا وبا کو ہرانے کیلئے ہم سبھی کو احتیاط برتنی ہوگی عید کی خوشیوں کو تہوار ہے اس لئے اس موقع پر ہمیں صبر سے کام لینا چاہئے انہوں نے بھی اسی طرح کی اپیل کی ہے کہ ایک دوسرے سے دوری بنائیں رکھیں دیوبندی مسلک کے علماءنے بھی اپیل کی ہے کورونا وائرس کا انفیکشن پھیلا ہوا ہے اس لئے عید پر گلے یا مصافے سے بچیں شیعہ مولان قلب جواد نے کہا کہ گھر میں رہ کر عید منائیں اور زکوٰ ة سے غریب بچوں اور پریشان حال لوگوں یا بیماروں کی یا مدرسوں میں عطیات دے کر مدد کریں وہیں اسلامک سینٹر آف انڈیا کے صدر مولان خالد رشید فرنگی محلی نے عید الفطر سادگی سے منانے نئے کپڑے نہ سلوانے بلکہ سب سے بہتر ہو اپنے پرانے ہی کپڑوںمیں نماز ادا کریں کورونا وائرس کےا نفیکشن کے چلتے دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ میں کہا کہ عید الفطر کی نماز امام سمیت پانچ افراد کی جماعت کے ساتھ اد ا کی جائے جہاں نماز کی صورت نہ بنتی ہو ایسے لوگوں پر نماز عید معاف ہے وہ جمعہ کی نماز ادا کر سکتے ہیں ۔ سبھی بھائیوں کو عید مبارک (انل نریندر)

الاقصیٰ مسجد کے صحن میں سیکورٹی فورسیز بنیں حملے کی وجہ!

اسرائیل اور فلسطینیوں کے مسلحہ اسلامی کٹر پسند تنظیم حماس کے درمیان ٹکراو¿برھتا جا رہا ہے حماس نے کہا کہ اسرائیل نے یروشلم اور الاقصیٰ مسجد میں استعال دلانے والا کام کیا ہے اور اس کی آگ غزہ تک پہونچ گئی ہے خبر رساں ایجنیس رائٹرس کے مطابق حماس نے کہا ٹکراو¿ برھنے کا جو بھی انظام ہوگا اس کی ذمہ داری اسرائیل پر ہوگی دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاھو نے کہا کہ حماس کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی وہین حماس کے لیڈر اسماعیل ھنیہ نے ٹی وی پر کہا قطر ، مصر اور اقوام متحدہ نے ہم سے رابطہ قائم کرکے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے لیکن ہم نے اسرائیل کو پیغام دے دیا ہے کہ اگر وہ ٹکراو¿ چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں اور اگر اسے روکنا چاہتے ہیں تو بھی ہم تیار ہیں واضح ہو کہ پیر کی دیر رات اسرائیلی پولس فلسطینی شہریوں کی خونی لڑائی مین بدل گئی ہے منگل وار کو صبح سویرے غازہ پر اسرائیل نے حملے شروع کردیئے اس سے پہلے حماس اور دیگر مسلحہ گروپووں نے درجنوں راکیٹ داغے ہوائی حملوں میں اسرائیل نے غازہ نو بچے سمیت 26فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے پچھلے جمعہ کی رات یروشلم کی اقصیٰ مسجد میں فلسطینی اور اسرائیلی فوج کے درمیان خونی جھڑپیں ہوئیں ۔ اور اس کے بعد سنیچر اور اتوار کی رات میں بھی الاقصیٰ مسجد میں تشدد آمیز جھڑپیں جا رہی ہیں شوشل میڈیا پر الاقصیٰ مسجد پر اسرائیلی سیکورٹی فورسیز کی کاروائی کی تصویریں شیئر کی جانے لگیں اس کے بعد اسلامی ملکوں سے تلخ رد عمل سامنے آئے اسرائیل رمضان کے مقدس مہینے میں الاقصیٰ مسجد کے اندر نمازیوں پر حملے کر رہا ہے ۔ سعودی عرب ترکی ، ایران ، پاکستان ، کویت اور خلیج کے کئی ملکوں نے اسرائیل کی کھل کر مذمت کی ہے ۔ سعودی عرب کے وزارت خارجہ نے یوروشلم سے فلسطینی پریواروں کو نکالنے کی اسرائیلی اسکیم کو مسترد کردیا ہے سعودی عرب نے اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا الاقصیٰ مسجد کی پاکیزگی اور نمازیوں پر اسرائیلی حملہ کھلی جارحیت ہے ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ٹکراو¿ کیلئے اسرائیل ذمہ دار ہے اور اسے فوراً روکا جائے ترکی کے صدر اردوان نے حماس کی سیاسی بیرو چیف اسماعیل ھنیہ سے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف مسلمانوں پر ہے بلکہ پوری انسانیت پر ہے ترکی کے صدر نے کہا اسرائیلی قبضے اور اس کی دہشت گردی کو روکنے کیلئے وہ پوری دنیا کو ایک کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ لیکن اس سے پہلے اسلامی ملکوں کو متحد کرنے کی ضرورت ہے ۔ الاقصیٰ کمپلیس میں سیکورٹی فورسیز نے حملے تیز کردیئے اسرائیل بھر میں عرب برادری کے سینکڑوں لوگ یروشلم کو لیکر راتوں رات داخل ہونے لگے اس درمیان اسرائیل کے لئے حماس سے ہی الٹی میٹم پاس ہونے کے کچھ گھنٹوں کے بعد الاقصیٰ کمپلیس سے سیکورٹی فورس کو ہٹانے کے لئے راکیٹ حملے شروع ہوگئے یہاں کے لوگوں نے ہوائی حملوں کے سائرن بھی سنے ۔ (انل نریندر)

13 مئی 2021

گنگا میں بہتی ملیں پندر ہ لاشیں !

بہار کے بکسر علاقے میں پیر کو گنگا ندی میں کئی بہتی لاشیں ملی ہیں انتظامیہ نے اطلا ع ملتے ہی جے سی بی کی مدد سے لاشوں کو نکلوایا ایسا اندیشہ ہے کہ ان لاشوں کو کورونا انفیکشن ہونے کے سبب بہا دیا گیا لیکن ایسی پندرہ لاشیں بر آمد ہوئی ہے یہ بکسر علاقہ یوپی کی سرحد سے لگا ہوا ضلع ہے یہ لاس بکسر کے چوسہ بلاک میں دیکھی گئیں وہاں کے ویڈیو نے بتایا کہ لاشیں ضلع کے لوگوں کے نہیں ہیں یہ اوپر سے بہا و¿ کے ساتھ یہاں آگئی ہیں مقامی چوکیدار نے انہیں سب سے پہلے دیکھا ہمیں پتہ نہیں کہ لاشیں کووڈ پازیٹیو ہیں یا نہیں لیکن ہم سبھی احتیاط برت رہے ہیں بتا دیں کہ اس سے پہلے سنیچر کو ہمیر پور کے کچھ لاپتہ لاشیں جمنا ندی میں بہتی دیکھی گئی تھیں۔ (انل نریندر)

اولمپین سشیل کی مبینہ قتل معاملے میں تلاش!

دوبار اولمپک میڈل ونر اور دیش کی شان بڑھانے والے پہلوان سشیل کمار کی مشکلیں بڑھتی جا رہی ہیں منگل وار کی دیر رات چھترسال اسٹیڈیم کی پارکنگ میں پہلوانوں کے دو گروپووں کے درمیان ہوئے جھگڑے میں ایک پہلوان کی موت کے معاملے میں پولس سشیل و ان کے ساتھیوں کی تلاش کر رہی ہے سشیل ساتھیوں کے ساتھ فرار ہے پولس نے دہلی کے علاوہ ہریانہ میں بھی کئی جگہ دبش دی ہے خود کو بے قصو ر بتانے والے سشیل کا موبائل بھی مسلسل بند آرہا ہے ۔ سشیل کے ملنے جلنے والے اس معاملے میں کچھ کہنے کو تیار نہیں معاملے کی جانچ کر رہے پولس حکام کا کہنا کہ سشیل سے بات چیت ہونے کے بعد ہی صحیح پوزیشن سامنے آئے گی ۔ معاملے میں پولس جھجھر کے باشندے پرنس دلال کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے اسٹیڈیم سے بر آمد گاڑیوں میں ایک کار پرنس کی بتائی جا رہی ہے باقی سشیل کے دوستوں کی ہے پولس کے ذرائع کے مطابق پورہ تنازع ماڈل ٹاو¿ن کے ایک فلیٹ کو لیکر بتایا جا رہا ہے ۔فلیٹ سشیل پہلوان کا ہے جونیئر نیشنل چمپیئن عمرتا ساگر اپنے دوستوں کے ساتھ فلیٹ میں رہ رہا تھا اور یہ کرائے پر سشیل کی کچھ بات ہوگئی تھی الزام ہے کہ منگل وار کی دیر رات پانچ چھ گاڑیوں میں 20سے 25لڑکے ماڈل ٹاو¿ن دو کے فلیٹ میں پہونچے وہاں ساگر اور اس کے دوست سونو ، امت و دیگر کو زبردستی اٹھا کر چھترا سال اسٹیڈیم لایا گیا اور یہاں سبھی کو بری طرح پیٹا گیا اس دوران کچھ لڑکوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی جس میں سونو امت شدید زخمی ہوگئے پولس کوخبر دینے کے بعد ملزم اپنی اپنی کاریں وہیں چھوڑ کر فرار ہوگئے واردات کے بعد پولس سشیل نے ساگر و اس کے دوستوں کی پٹائی کی تھی اسپتال میں ساگر کی موت ہوگئی ۔اس پر قتل اور لوٹ مار کا معاملہ درج ہے پولس معاملے کی جانچ کر رہی ہے حکام کا کہنا یے کی کرائم برانچ کی ٹیم اور ایف ایس ایل ٹیم موقعے پر پہونچی جس میں اس کو اہم سراغ ملے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس معاملے میں گرفتار ملزم پرنس دلال کو موبائل فون سے پولس کو ملی ویڈیو کلپ نے سشیل اپنے ساتھیوں کے ساتھ ساگر و اس کے دوستوں کے پٹائی کر رہا ہے اسی کی بنیا د پر پولس کی ٹیمیں دہلی این سی آر کے علاوہ ہریانہ اتراکھنڈ میں سشیل و اس کے دوستوں کی تلاش کر رہی ہے وہیں سشیل کے قریبیوں کا کہنا کہ وہ فی الحال قانونی رائے لینے کیلئے سامنے نہیں آرہے ہیں واردات میں اس کا ہاتھ نہیں ہے سشیل کی تلاش کر رہے ایک افسر نے بتایا کہ اس کی لوکیشن فی الحال اتراکھنڈ میں ملی ہے اس کی تلاش میں دہلی این سی آر ہریانہ کے علاوہ اتراکھنڈکی پولس کی ٹیمیں بھیج گئی ہیں ۔ (انل نریندر)

کووڈ بحران سے لاگا مودی برانڈ کو زبردست جھٹکا!

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمس نے حال ہی میں ایک ہیڈ لائن میں لکھا ، مودی بھارت کو لاک داو¿ن سے نکال کر کووڈ تباہی کی طرف لے گئے اخبار دآسٹریدین نے اپنے اداریہ کو دوبارہ شائع کیا ہے جس کی مختصر تفصیل میں لکھا تھا۔ تنقید نگاروں کا کہنا ہے اکھڑ پن ، اندھ وسواس راشٹر واد اور نا اہل نوکر شاہی نے ایسا بڑا بحران کھڑا کیا جس میں شہری تو گھٹ رہے ہیں لیکن بھیڑ سے پیا ر کرنے والے بھارت کے وزیر اعظم مگن ہیں بھارت نے اس آرٹیکل کا جواب دیا لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بہت قرینے سے گڑھی گئی ساک پر برا اثر پڑا ہے بھار ت میں کورونا وبا کی دوسری لہر پریشان کر دینے والی کہانیاں دنیا بھر کی میڈیا اور شوشل میڈیا فیڈ پر چھائی ہوئی ہیں اسپتال میں بستر اور آکسیجن کا انتظار کر رہے لوگوں کی سانسیں ٹوٹ رہی ہیں پریشان حال خاندان علاج دستیاب کرانے کیلئے ہر طرح سے وسائل جھونک رہے ہیں ڈاکٹر کے اپائنت مینٹ سے لیکر آکسیجن سلینڈر تک کیلئے مشقت کرنی پڑ رہی ہے درجنوں لاشیں ایک ساتھ جلائی جا رہی ہیں لاشوں کو گنگا میں بہا یا جا رہا ہے بڑی تعداد میں مارے جا رہے لوگوں کیلئے انتم سنسکار کیلئے پارکنگ جگہوں کو شمشان بنایا جا رہا ہے ۔ دنیا بھر کے میڈیا میں ان حالات کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے وزیر اعظم نریندو مودی نے اپنے آپ کو ایک قابل حکمراں کے طور پر پیش کیا ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر کمان رکھتے ہیں لیکن جب بھارت میں کورونا کے نئے معاملے ریکارڈ بنا رہے ہیں ، مودی بری طرح ناکام رہے ہیں ایک تجزیہ نگار کہتا ہے کہ اگر کام کی صلاحیت ہی ان کی پہچان تھی تو بہت سے لوگ اس پر سوال کیوں اٹھانے لگے ہیں ایسا نہیں کہ سرکار صر ف لڑکھڑائی یا غیر موجود دکھائی دی بلکہ بات یہ ہے کہ سرکار نے حالات کو خراب کر دیا ہے مودی دنیا کے ایسے اکیلے لیڈر نہیں ہے جو کووڈ بحران کے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں لیکن انہوں نے سب سے زیادہ عزت کھوئی ہے کیونکہ امریکہ کے سابق صدر یا برازیل کے صدر بولاناٹا کی طرح انہوں نے کووڈ کو مسترد نہیں کیا تھا ان کے پاس وارمنگ کے سبھی اشارے تھے لیکن پھر بھی جو ہو رہا ہے لیکن اسے روکنے وہ بری طرح ناکام رہے ہین وزیر اعظم نریندو مودی نے ہریدوار میں کمبھ ہونے دیا جس میں 10لاکھ لوگوں نے گنگا میں دبکی لگائی وہ مغربی بنگال میں ایک مہینے چناو¿ کرانے پر زور دیتے رہے ۔ ریلیوں میں بغیر ماسک بغیر سوشل ڈسٹینسنگ کے پرچار کر تے رہے ان کی ریلیوں میں لاکھوں کی بھیڑ اکٹھا ہوئی یہ مودی برانڈ ای میج کا ایک برننگ پہلو تھا ہندو اکثریتی راشٹر کا ایک مقبول نیتا جس نے جنور ی میں ہی داو¿و¿س میں دی گئی ایک تقریر میں دنیا سے کہا تھا کہ بھارت نے کورونا کو ہرا دیا ہے پچھلے سال کووڈ وبا کوروکنے کیلئے انہوں نے راتوں رات دیش میں ملک گیر لاک ڈاو¿ن لگا دیا تھا لیکن اس دوران بھی لاکھوں ہندوستانیوں کو نوکری گنوا نی پڑی اور ہزارہ لوگ بھاگے بھارت کی معیشت بھی لاک ڈاو¿ن کے اثر سے اچھوتی نہ رہ پائی وہیں راتوں راتوں نوٹ بندی ہو یہ پھر لاک ڈاو¿ن۔ وزیر اعظم اپنے بچاو¿ میں کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسا قومی مفاد میں کیا تھا لیکن وہ اپنی تازہ غلطی سے آسانی سے نہیں بچ پائیں گے لیکن اب ان کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے معافی مانگنے میں یا مدد کی درخواست کرنے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے وزیر اعظم بننے کے بعد مودی نے کبھی کسی بھی پریس کانفرنس کوخطاب نہیں کیا یہاں تک کہ کووڈ میں بھی نہیں لیکن اب بھارت میں لوگو ں کے پاس سوال ہی بچے ہیں ۔ غریب ڈرا ہوا ہے درمیان طبقہ علاج کیلئے بھٹک رہا ہے ، سب سوال اٹھا رہے ہیں لیکن جواب دینے والا کوئی نہیں ہے۔ (انل نریندر)

12 مئی 2021

سوالوں کے گھیرے میں سینٹرل وسٹا پروجیکٹ !

مرکزی سرکار کے اہم ترین پروجیکٹ سینٹرل وسٹا پر چارو طرف سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔ حالانکہ اس پروجیکٹ کو شروع ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے ۔ لیکن دیش میں حالانکہ یہ پروجیکٹ شروع ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے لیکن دیش میں کورونا وبا کے چلتے اپوزیشن اس پروجیکٹ پر ہورہے خرچ کو لیکر جہاں سرکار کو کٹ گھرے میں کھڑا کر رہی ہے اپوزیشن وہیں اسے لیکر شوشل میڈیا پر بھی زبردست نقطہ چینی ہوئی ہے یہاں تک کہ شوشل میڈیا پر فرضی فوٹو جاری کر اس پروجیکٹ کے نام پر سینکڑوں پیڑ کاٹنے بھی الزام لگائے جا رہے ہیں انڈیا گیٹ سے وجے چوک تک سینٹرل وسٹا کی تزئین کاری کرنے کے منصوبے مرکزی سرکار کے اہم ترین پروجیکٹ ہیں اس پروجیکٹ کی ایک حصے کی شکل میں سینٹرل وسٹا کے دونوں کے طرف وزارتوں کے لئے نئی عمارتیں و نئے پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر کی جانی ہے اس پروجیکٹ پر کام شروع ہوگیا ہے سال 2020میں جب دیش میں پہلی بار کورونا بہران کھڑا ہوا تو بھی اس دوران کانگریس نے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کو بند کرنے کی مانگ کی تھی اب دوسری لہر سے دیش میں کہرام مچا ہوا ہے تو ایک بار پھر اپوزیشن اس پروجیکٹ پر وہونے والے خرچ کو لیکر سرکار کو گھیر رہی ہے اس کا الزام ہے کورونا بحران میں ہزاروں کروڑ روپئے کیوں خرچ کئے جا رہے ہیں مرکزی سرکار کے مطابق اس پروجیکٹ پر کل 20ہزار کروڑ روپئے خرچ ہونگے اور یہ پروجیکٹ 2024تک پورہ ہو جائے اور یہ رقم ایک ساتھ خرچ نہیں کی جا رہی ہے ابھی تک 862کروڑ روپئے کا کام لیا گیا ہے سرکار اس بات کی بھی دلیل دی رہی ہے ہیلتھ سیکٹر میں سرکار اس برس تقریباً3لاکھ کروڑ روپئے خر چ کر رہی ہے ۔ شیوسینا نے سنیچر کو کہا کہ کووڈ 19سے نمٹنے میں جہاں پڑوس کے چھوٹے دیش بھارت کو مدد کی پیش کش کر رہے ہیں وہیں سرکار کئی کروڑ کے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے کام کو روکنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے پارٹی نے کہا پنڈت جواہر لال نہرو اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ سمیت سابق وزراءاعظم کے ذریعے پچھلے 70برس میں بنائے گئے سسٹم میں دیش کو مشکل وقت سے نکال پانے میں مدد کی ہے ۔ جس کا سامنہ آج دیش کر رہا ہے شیوسینا نے اپنے اخبار سامنہ کے اداریہ میں لکھا کہ یونیسیف نے ڈر ظاہر کیا ہے کہ بھارت میں جس رفتار سے کورونا پھیل رہا ہے اسے اس سے دنیا کو وائرس سے زیادہ خطرہ ہے ا س نے یہ بھی اپیل کی ہے زیادہ تر دیشوں کو کووڈ 19کے خلاف لڑائی میں بھار ت کی مدد کرنی چاہئے ۔ بنگلہ دیش نے ریمیڈی سیور کی 10ہزار سیسیاں بھیجی ہیں جبکہ بھوٹان نے میڈیکل آکسیجن نیپال میانمار ،ا ورسری لنکا نے آتم نربھر بھارت کی مدد کی پیش کش کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ صاف طور پر بھار ت نہرو گاندھی کے ذریعے بنائے گئے سسٹم کے سہارے چل رہا ہے کئی غریب دیش بھارت میں مدد کی پیش کش کر رہے ہیں اس سے پہلے پاکستان ، روانڈہ ، کونگو جیسے دیش دوسروں سے مدد لیتے تھے لیکن آج کے حکمرانوں کے غلط پالیسیوں کے چلتے بھارت آج اس حالت سے گزر رہا ہے شیوسینا نے کہا غریب دیش اپنے اپنے طریقے سے بھارت کی مدد کر رہے ہیں ۔ وہیں وزیر اعظم 2020ہزار کروڑ روپئے کے اہم ترین سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کو روکنے کیلئے تیار نہیں ہیں پارٹی نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ شیو سینا نے کہا کہ پوری دنیا کووڈ 19کے عالمی وبا کے دوسری لہر سے لڑ رہی ہے ماہرین کا اندازہ ہے کہ تیسری لہر اور زیادہ خطرناک ہوگی لیکن حکمراں بھاجپا کوآج بھی مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے گھیرنا اس کو اس کی پڑی ہوئی ہے اس نے کہا کہ بھاجپا ایم پی سبرا منیم سوامی نے وزارت صحت اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کو دینے کی مانگ کی ہے یہ اس بات کا ثبو ت ہے موجو دہ ہیلتھ وزار ت پوری طرح ناکام رہی ہے ۔ (انل نریندر)

کانگریس پس منظرکے نویں بھاجپا وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا!

ہیمنت بسوا سرماکے آسام کے وزیر اعلیٰ بننے کے ساتھ کانگریس سے باہر جا کر وزیر اعلیٰ بننے والے نیتاو¿ں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اب دیش میں نو غیر کانگریسی حکمراں ریاستوں کے وزیر اعلیٰ کانگریس کے سیاسی پس منظر سے ہونگے ۔ نارتھ ایسٹ کی سات میں سے پانچ ریاستوں کے وزیر اعلیٰ کانگریسی ہوجائیں گے ۔ ابھی جن پانچ ریاستوں میں چناو¿ ہوئے ہیں ان سے تین ریاستوں کے وزراءاعلیٰ کا سفر کانگریس سے ہی شروع ہو ا تھا ۔ آسام میں بھاجپا کا چمکتا ستارہ بن چکے ہیمنت کو کانگریس چھوڑے ہوئے 6سال بھی نہیں گزرے کہ وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ بن گئے ہیں انہوں نے 2015کے اگست میں جب کانگریس چھوڑی تھی تب پارٹی کے بڑے لیڈر کی شکل میں ابھرے تھے مگر تب نہ تو اس وقت وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی نے انہیں کوئی اہمیت دی اور نہ ہی ہائی کمانڈ نے تب ہیمنت کانگریس چھوڑ کر بھاجپا کا دامن تھام لیااور 2016میں بھاجپا کی پردیش میں پہلی سرکار کے وزیر بنے بنگال میں ترنمول کانگریس لیڈر ممتا بنرجی مسلسل تیسری بار وزیر اعلیٰ بنی ہیں لیکن ممتا کی سیاسی پہچان بھی کانگریس سے بنی تھی ۔ بے حد نوجوان عمر میں لوگ سبھا ممبر ی سے لیکر نرسمہا راو¿ سرکار میں مرکزی وزیر رہ چکی ممتا نے 1997میں کانگریس کی اس وقت کی قیادت سے ناراض ہوکر پارٹی بنائی اور آج بنگال میں کانگریس کا صفایا ہوگیا ہے پڈوچیری میں مارچ تک اقتدار میں رہی کانگریس کو اس کی ہی ایک سابق سرکردہ این رنگا سوامی نے اقتدار سے باہر کردیا ۔ رنگا سوامی پہلے پردیش میں کانگریس سرکار کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں کچھ سال پہلے انہوں نے کانگریس چھوڑ کر این آر کانگریس بنا لی وہ چناو¿ میں این ڈی اے ساجھیدار کی شکل میں کانگریس سے اقتدار چھینا ۔ اروناچل کے وزیر اعلیٰ پیما کھنڈو 2017میں کانگریس کے 13ممبران اسمبلی کے ساتھ پالا بدلا اور بھاجپا آئے اور ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں ۔ منی پور کے وزیر اعلیٰ این وریندر سنگھ نے 2016میں کانگریس چھوڑی تو وہ صوبے کانگریس سرکار کے وزیر تھے ایسے ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ مچھو ریو ایک دھائی تک ریاست میں کانگریس حکومتوں میں وزیر رہے ۔ 2002میں انہوں نے کانگریس چھوڑی اور 2003میں علاقائی پارٹی کا اتحاد بنا کر چناو¿ جیتا وزیر اعلیٰ بنے ایسے ہی کیناڈ سمھا این سی پی اتحاد سرکار کے وزیر اعلیٰ ہیں اور وہ پرانے کانگریس کے سرکردہ لیڈر پی اے سنگما کے لڑکے ہیں آندھرا میں تو 2014میں کانگریس نے اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی اور آندھرا کے بٹوارے اور لیڈر شپ کو نظر انداز کرنے کے بعد جگن موہن ریڈی نے کانگریس چھوڑ کر وائی ایس آر کانگریس بنا لی ۔ 2019کے چناو¿میں جگن موہن ریڈی بڑی جیت کے ساتھ آندھرا کے وزیر اعلیٰ بنے اب تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راو¿ نے بھی سیاسی سفر کانگریس سے ہی شروع کیا تھا اب آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ایک بار پھر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو خط والے ٹویٹ کی کھلی آڑائی تھی ۔ اکتوبر 2017میں راہل نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس میں وہ پالتو ڈاگ پدی کے ساتھ تھے ۔ سرما نے ٹویٹ کیا تھا انہیں مجھ سے بہتر کون جانتا ہے مجھے یاد ہے جب ہم اہم معاملوں پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے تھے تو آپ اسے (پدی )ڈاگ کو بسکٹ کھلانے میں مصروف تھے آج اگر کانگریس کا یہ حال ہے تو اس کی ذمہ دار خود کانگریس لیڈر شپ ہے انہوں نے قابل لیڈروں کو نظر انداز کیا بھاجپا نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ (انل نریندر)

11 مئی 2021

مودی پر سورین کے ٹویٹ پر واویلا!

وزیر اعظم نریندو مودی کچھ ریاستوں کے وزراءاعلیٰ سے فون پر بات کرکے کورونا وبا کی صور تحال کی جانکاری لی جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو بھی فون کیا تھا انہوں نے خود ٹویٹ کر اس کی جانکاری دی ساتھ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم پر ایک طرفہ بات چیت کا الزام لگاتے ہوئے تنز بھی کسا ہیمنت سورین نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ اگر پی ایم مودی کام کی بات کرتے اور سنتے انہوں نے ٹویٹ میں کہا آج عزت مآب پردھان منتری جی نے انہیں فون کیا انہوں نے صرف اپنے دل کی بات کہی بہتر ہوتا کہ وہ کام کی بات کرتے اور کام کی بات سنتے اس ٹویٹ کے بعد کئی بھاجپا حکمراں ریاستوں کے وزراءاعلیٰ اور مرکزی سرکار کے وزراءسمیت کئی بڑے نیتا سورین کی مخالفت میں اتر آئے اور ان کو نصیحت دیتے ہوئے وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے نظر آئے ۔ مرکزی وزیر کرن رججو نے ہیمت سورین کو جواب دیتے ہوئے کہا برائے کرم آئینی پودوں کے وقار کو اس نیچی سطح تک نہ لے جائیں وبا کے اس مشکل وقت میں سیاست نہیں ہونی چاہئے آسام سرکار میں وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا نے سورین کو جواب میں لکھا کہ آپ کا یہ ٹویٹ نہ صرف نچلی وقار کے خلاف ہے بلکہ اس ریاست کی عوام کے درد کا مذاق اڑایا گیا ہے میڈیا رپورٹ کے مطابق ہیمنت سورین نا خوش ہیں کیونکہ انہیں اپنی ریاست کے متعلقہ اشوز کے بارے میں آگاہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ (انل نریندر)

خان مارکیٹ گینگ کا کووڈ کنیکشن !

لودھی کالونی کے باڑ سے 419آکسیجن کنسٹریٹر بر آمد گی کے معاملے میں ساو¿تھ دہلی پولس نے خان مارکیٹ کے دو بڑے خان چاچا اور ٹاو¿ن حال ریستورانت میں چھاپے ماری کی اور دونوں جگہ سے قریب 105کنسنٹریٹر برآمد کئے پولس نے ایک ملزم کی نشان دہی پر خان چاچا ریستو راں سے 96اور ٹاو¿ن حال سے کنسنٹریٹر مشین بر آمد کی ہے پولس اب تک 524مشینیں بر آمد کر چکی ہے پولس حکام کا کہنا ہے کہ تینوں ہی ریستوراں کا مالک نونیت کالرا نام کا شخص ہے اس معاملے میں پولس نے ایک کمپنی میٹرک سیلولر سروس لمیٹیڈ کمپنی کے سی ای او گورو کھنہ کو گرفتا ر کیا ہے اس نے سبھی مشین باہر سے بر آمد کی تھی اس معاملے میں مزید گرفتاریاں بھی ممکن ہیں ۔ ساو¿تھ دہلی پولس کمشنر کمار ٹھاکر نے بتایا کہ بدھ کو لودھی کالونی تھانے نے سینٹرل مارکیٹ کے ایک ریستوراں میں چھاپے مارے تھے وہاں سے پولس نے چار سو انیس کنسنٹریٹر مشینیں بر آمد کرکے چار لوگوں گورو ستیس اور وکرانت اور ہتیش کو گرفتار کیا تھا ۔یہ لوگ آکسیجن کی کالا بازار ی کر رہے تھے پولس نے یہاں سے دوسرا سامان بھی بر آمد کیا ہے نونیت کالرا سے پولس نے پاچھ تاچھ کی تو اس نے بتایا کہ کچھ دیگر کنسنٹریٹر مشین خان مارکیٹ میں خان چاچا ریستوراں اور ٹاو¿ن حال میں بھی موجود ہیں اس کے بعد وہاں جمعہ کو چھاپا ماری ہوئی جہاں سے 105مشینیں بر آمد ہوئی پولس کی جانچ کا مرکز بار مالک نونیت کالرا بنا ہوا ہے قریبی ذرائع کی مانیں تو نونیت کالرا کا کئی بڑے فلمی ہستیوں و کرکٹر سے اور کئی بڑے سیاسی نیتاو¿ں سے اچھے تعلقات ہیں ۔ایسے لوگ اکثر اس کے بار یا ریستوراں میں آتے جاتے ہیں ایسے لوگ نونیت کالرا کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس کی پیشگی ضمانت کی بھی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ پولس فی الحال پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے ادھر پولس نے دیر رات جانچ کے بعد میڑکس سیلولر سروسیز لمیٹیڈ کے سی ای او گورو کھنہ کو دبوچ لیا ہے ۔ منڈی گاو¿ں میں کھلر فارم جہاں سے پولس نے 387آکسیجن کنسنٹریٹر مشینیں بر آمد کی تھی ان کا فارم ہاو¿س میں استعمال کیا جا رہا تھا اس کے ساتھ اس معاملے میں اب تک پانچ لوگ پکڑے جا چکے ہیں دہلی میں کورونا مریضوں کے درمیان آکسیجن کی قلت کو لیکر مچھی ہائی طوبہ کے درمیان کالرا کے لودھی کالونی اور خان مارکیٹ کے بار ریستوراں میں بلیک مارکیٹنگ کیلئے رکھے گئے آکسیجن کنسنٹریٹر کی بڑی تعداد میں دہلی پولس کمشنر ایس این سری واستو نے گہری تشویش ظاہر کی ہے انہوں نے صاف کہا کہ اس پورے معاملے کی تہہ تک پہونچنے کی سخت لفظوں میں بات کی ہے اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ کل ہندوستانی ہمیشہ سے غریب و مزدور لوگوں کی مدد کو سمان دیتے آئے ہیں اس پر اب ایسے مشکل حالات میں اس واردات نے ہندوستانیوں کی اس ساکھ کو ہی داغ دار کر دیا ہے انہوں نے ٹاو¿ن حال خان چاچا وغیرہ پر مناسب کاروائی کرنے کا بھی پورہ بھروسہ دلایا ہے ۔ (انل نریندر)

کیا ممتا کی جیت سے سنگھ خوش ہے؟

اگر یہ کہا جائے کی بنگال اسمبلی چناو¿ میں ممتا بنرجی کی جیت سے آر ایس ایس خوش ہے تو کیا آپ کویہ بات ہضم ہوپائے گی ؟ بھلے ہی آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہوں گے کہ کیا یہ بات صحیح ہے؟ 2021کے مغربی بنگال اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا بری طرح ہار گئی اور اس کی پالتو تنظیم اس سے کیسے خوش ہوگی ؟نریندر مودی اور بی جے پی دونوں ہی سیاست داں یا پارٹی کا آخری مقصد چناو¿ جیتنا اور سرکار بنانا ہے لیکن آر ایس ایس شروع سے آخر تک دھارمک انجمن مانی جاتی ہے اور اس کا نشانہ اقتدار پر قبضہ اتنا نہیں جتنا بھارت کو ہندو راشٹر بنانا ہے ۔ آر ایس ایس کا بنیادی مقصد ہے ہر ہندو میں ہندتو کا وقار پیدا کرنا ہے ۔ بنگال چناو¿ کمپین کے دوران ممتا بنرجی کا چندی پاٹھ اور خود کو برہمن پریوار کی بیٹی کی شکل میں دکھانا ، بیشک موہن بھاگوت کیلئے خوشی کی بات ہوگی۔ اسے لیکر سوال اٹھ سکتا ہے؟ کہ بی جے پی کے ہندوتو کو لیکر تو بہت ساری باتیں ہوتی ہیں ، تو پھر ؟ در اصل یہاں کا تجزیہ تھوڑا ہٹ کر ہے ۔ ہندوتو پارٹی کا تمغہ تو شروع سے ہی بی جے پی کو ملا ہوا ہے لیکن حال کے کچھ انتخابات نے یہ سمجھا دیا ہے کہ صرف ممتا بنرجی ہی نہیں اروند کیجریوال سے لیکر راہل گاندھی تک ، ہر سیاست داں چناو¿ کے وقت بڑی آسانی سے ہندوتو کا سہارہ لیتا ہے ۔ کیجریوال کو ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کرنا پڑ رہا ہے۔ وہیں راہل گاندھی کو مندر مندر جا کر جنو دکھانا پڑ رہا ہے ۔ ہندوتو واسی تنظیم کے طور پر بی جے پی ہمیشہ ہی کٹر ہندوتو کی حمایتی رہی ہے ۔ لیکن آر ایس ایس کے کرتا دھرتا ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے نیتا اپنے آپ کو ہندوتو کی شکل میں پیش کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے ۔ ایسے میں موجودہ حالات میں تاریخ کا پہیا اگر گھومتا ہے اور رہا سیاسی پارٹی کے نیتا ہندوتو کی حیثیت کو اجاگر کرنے میں لگ جائیں تو کیا سنگھ کو خوشی نہیں ملے گی؟ لمبے عرصے سے پل رہی یہ امید سنگھ کو خوشی دینے کے باوجود بی جے پی کے بنیاد ہلانے کیلئے کافی ہے ۔ بنگال چناو¿ مودی اور بھاجپا کیلئے خطرے کا اشارہ ضرور ہیں 0سے سیدھے اتنی سیٹیں جیتنا بیشک بڑی کامیابی ہے لیکن نمبروں کی کسوٹی پر ایک بڑی ناکامی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ بی جے پی 2016میں مغربی بنگال میں چناو¿ میں صرف 3سیٹیں اور 10فیصدی ووٹ سے ہی بی جے پی کو تسلی کرنی پڑی تھی ۔ سال 2019کے لوک سبھا چناو¿ میں اس سے بہت آگے 18سیٹ اور 40فیصدی وو ٹ ملے لوک سبھا سیٹ کے اس نتیجے سے فطری طور پر 2021کے اسمبلی چنا و¿ کو لیکر جوش تھا ۔ وزیر اعظم سے لیکر امت شاہ و دیگر مرکزی لیڈر باقی سب کچھ چھوڑ کر بنگال کو ہی نشانہ بنا کرکے میدان میں اتر پڑے لیکن بازی ان کے ہاتھ سے نکل گئی ۔ اس ہار کی کئی وجہ ہیں ۔ سال 2002میں جس طرح نریندر مودی گجراتی ساکھ کا کارڈ کھیل کر گجرات چناو¿ جیتے اسی طرح ممتا نے 2021میں بی جے پی کے جارہانہ رویئے کے جواب میں بنگالی ساکھ کا استعمال کیا بی جے پی کے جے شری رام کے نعریٰ جیسا اثر نارتھ انڈیا میں تو کرتا ہے ویسے بنگال میں نہیں پید ا کر پایا اس کے جواب میں ممتا نے جے چنڈی ، جے درگا کا نعری دیکر بنگالیوں کا دل جیت لیااس کے برعکس بی جے پی کے پردیش صدر دلیپ گھوش نے بنگال کی ناری شکتی درگا کی پہچان کو لیکر جس طرح کا تنز کیا اس سے بھی پارٹی کے خلاف بنگالیوں میں ناراضگی بڑھی ۔ بنگالی کلچر کو لیکر بی جے پی کی وقت کی کمی نے ممتااشو بنا کر گھمایا ۔ بنگال اپنی بیٹی کو اکثریت کے ساتھ لیکر آیا اور جھٹکا لگا ہندوتو وادی سروے سروا بھاجپا کو۔ (انل نریندر)

09 مئی 2021

ترنمول کے کچرے کو ٹکٹ دئیے ،مشکل میں ہے پارٹی!

بنگال اسمبلی چناو¿ کے نتیجہ آنے کے بعد سیاسی تشدد جاری ہے ساتھ ہی اب بھاجپا میں گھشان شروع ہو گیا ہے ۔سینئر بھاجپا نیتا اور میگھالہ تریپورہ کے سابق گورنر تتھاگت رائے نے کہا کہ انچارج کیلاش ورگیہ بنگال بھاجپا صدر دلیپ گھوش اور دیگر پارٹی نیتاو¿ں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کا نام خراب کیا ہے رائے کا کہنا ہے انہیں نیتاو¿ں نے بنگال میں بھاجپا چناو¿ ہیڈ کوارٹر اور سات ستارہ ہوٹلوں میں بیٹھ کر ترنمول سے آئے کچرے کو ٹکٹ بانٹا ۔اب جب ورکروں کا غصہ پھوٹ رہا ہے تو تبھی یہ وہیں بیٹھ کر طوفان گزرنے کا انتظار کررہے ہیں چناو¿ کے بعد ہو رہے تشدد پر انہوں نے کہا کہ بھاجپا ووکر ترنمول کے ظلموں کا شکار ہو رہے ہیں کیلاش ورگیہ اور دلیپ گھوش اور شیو اروند انہیں بچانے نہیں جا رہے بلکہ لوگ اسی بات سے سکون پانے کی کوشش میں ہیں کہ بھاجپا تین سے 77 شیٹوں پو پہونچ گئی رائے کا کہنا ہے کہ مجھے دو باتوں کا خدشہ ہے پہلا جو کچرا ٹی ایم سی سے آیا ہے وہ واپس چلا جائے گا دوسرا ہو سکتا ہے بھاجپا ورکروں کو اگر پارٹی کے اندر تبدیلی نہیں نظرآئی تو وہ بھلے ہی چلے جائیں اور یہ بنگال میں بھاجپا کا انت ہوگا ۔رائے کو ہائی کمان نے دہلی بلایا ہے ۔بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ بھاجپا جن آدیش کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے مرکزی سرکار کے وزیر ریاست میں آکر تشدد بھڑکا رہے ہیں ۔پردیش میں قانون و نظام جب پچھلے تین مہینہ سے چناو¿ کمیشن کے ہاتھ میں تھا تو اس دوران تشدد میں 16 لوگ مارے گئے ان میں سے آدھے ٹی ایم سی کے تھے اور آدھے بھاجپا کے ایک ورکر سنجوک مورچہ کا تھا ۔ (انل نریندر)

تیسری لہر کے لئے کیا پلان ہے !

دہلی میں آکسیجن کی کمی پر سماعت کرتے ہوئے دیش کی بڑی عدالت سپریم کورٹ نے کورونا کی تیسری لہر آنے کی سائنس دانوں کی وارننگ پر تشویش جتاتے ہوئے کہا خاص تیسری لہر کی بات کررہے ہیں اس میں بچوں کو متاثر ہونے کا اندیشہ زیادہ ہے ۔کورٹ نے مرکز سے کہا کہ اگر بچے متاثر ہوتے ہیںتو ماں باپ کیا کریں گے ۔اسپتال جانا ہوگا ؟ اس پر کیا پلان ہے ؟ اسے دیکھتے ہوئے ویکسی نیشن تیز کرنا چاہیے اور بچوں کے لئے بھی سوچناچاہیے اگر آج سائنسی طریقہ سے تیاری کریں گے تبھی اس سے نمٹ پائیں گے ۔جسٹس چندر چور اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے دہلی میں آکسیجن کی کمی پر قریب 5 گھنٹہ کی سماعت کی مرکز کی جانب سے سینئر وکیل تشار مہتا نے بتایا دہلی کو 700 میٹرک ٹن کی جگہ 730 میٹرک ٹن دی گئی ہے لیکن اسے ہنگامی حالات میں پہوچانے کا سستم نہیں ہے دہلی میں 700 میٹرک ٹن کی مانگ صحیح نہیں ہے دوسری ریاستوں کو آکسیجن نہٰں دے پائیں گے اس پر بنچ نے کہا کہ آکسیجن الارٹ کرنے کے ساتھ اسپتالوں تک پہوچانا ہوگا ہم اس مسئلے پر دہلی پر مرکوز نہیں کرنا چاہتے مرکزاپنے آکسیجن سپلائی فارمولہ پر پھر سے غور کرے سماعت کے دوران دہلی سرکار نے بدحالی کاتھیکرا مرکز پر پھوڑا تومہتا نے کہا دہلی سرکار کورٹ کو اکھاڑا نہ بنائے اسے درکار آکسیجن دی گئی استعمال کے آرڈر کی ضرورت ہے دہلی سرکار نے کہا دہلی ہی کیوں پورے دیش کی ان آڈٹ ہو ۔ (انل نریندر)

میڈیا کی شکایتیں بند کریں ادارے!

شپریم کورٹ نے کہا کہ عدالتی کاروائی کی رئیل ٹائم رپورٹنگ پر روک نہیں لگائی جا سکتی ہے عدالت نے کہا پریس کی آزادی کے تحت اظہار رائے کی جو آزادی ہے اس میں اوپن کورٹ کی کاروائی کو ور کرنا بھی شامل ہے ۔عدالت نے کہا مدراس ہائی کورٹ کے اس ریمارک کو ہٹانے کا معاملہ نہیں بنتا کیوں کہ چناو¿ کمیشن کے حکام کے خلاف جو رائے زنی کی گئی تھی وہ محض زبانی تھی اور آرڈر کا حصہ نہیں تھی ۔عدالت نے کہا وبا کے دوران مدراس ہائی کورٹ کا رول لائق تحسین ہے ۔لیکن ساتھ ہی سپریم کورٹ میں ہائی کورٹ کے چناو¿ کمیشن کے حکام پر قتل کا کیس چلانے سے متعلق زبانی تبصرے کو سخت بتایا اور کہا یہ نا مناسب تھا ۔اس تبصرے کے خلاف چناو¿ کمیشن نے عرضی دائر کرکے چیلنج کیا تھا جس میں مدراس ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ قتل کا کیس چناو¿ کمیشن کے حکام پر چلنا چاہیے ۔عدالت نے کہا کہ آئینی اداروں کو کورٹ کی شکایت کرنے ک بجائے اپنا کام بہتر طریقہ سے کرنا چاہیے ۔عدالت کے جسٹس ڈی وائی چندر چور کی بنچ نے کہا آئینی فریم ورک میں چیک اور بیلنس ہوتا ہے ۔، کرنا ہم چاہتے ہیں کہ کورٹ اوپن ہوتا ہے ۔صرف ان کیمرہ کاروائی میں اوپن نہیں ہوتا ۔میڈیا کی آزادی میں کورٹ کاروائی کی رپورٹ بھی شامل ہے اس کے لئے آئین میں دفعہ 19(1)(A)- کے تحت جو آطہار رائے کا ذکر ہے اس میں کورٹ کی کاروائی کو کور کرنا بھی شامل ہے عدالت نے کہا یہ انٹر نیٹ کا دور ہے اور کورٹ کی کاروائی کی رپورٹنگ کو دبایا نہیں جا سکتا ہے سپریم کورٹ نے کہا کہ میڈیا کو اس طرح کے تبصروں کو رپورٹ کرنے سے نہیں روکا جا سکتاکیوں کہ یہ جواب دہی طرے کرتی ہے امریکی سپریم کورٹ اور یہاں تک کہ گجرات ہائی کورٹ نے لوگوں کو عدالتی کاروائی دیکھنے تک کی اجازت دی ہے ۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...