10 فروری 2018

مودی سرکار حمایتی پارٹیوں میں ناراضگی

شیو سینا کے بعد اب مودی سرکار کی دوسری سب سے بڑی اتحادی جماعت تیلگودیشم نے بھی آنکھیں دکھانی شروع کردی ہیں۔ آندھرا میں پی ڈی پی نے فی الحال بھلے ہی این ڈی اے نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہو مگر اس نے اپنی ناراضگی ظاہر کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھی۔ اس سے پہلے بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی شیو سینا باقاعدہ اپنی قومی ورکنگ کمیٹی میں پرستاؤ پاس کرچکی ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ اپنا اتحاد اگلے لوک سبھا چناؤ میں جاری نہیں رکھے گی۔ شیو سینا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے لوک سبھا چناؤ اکیلے لڑے گی۔ 2019 میں لوک سبھا چناؤ سے پہلے دیش کے سیاسی تجزیئے بدلنے شروع ہوگئے ہیں۔ پی ڈی پی سمیت این ڈی اے میں شامل قریب آدھا درجن پارٹیاں فی الحال بھاجپا سے ناراض چل رہی ہیں۔ شیو سینا تو اتحاد سے ہی الگ ہوگئی ہے۔ یوپی میں سہلدیو بھارتیہ سماج پارٹی، اپنا دل، بہار میں لوک سمتا پارٹی ، مہاراشٹر میں راشٹریہ سماج بھی بھاجپا سے ناراض چل رہی ہیں۔ اس سال 8 ریاستوں کے اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ کئی پارٹیاں ان چناؤ کے نتیجوں کے بعد بھی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرسکتی ہیں۔ مودی کی رہنمائی میں لوک سبھا چناؤ جیتنے اور مرکز میں اپنی سرکار بنانے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ بھاجپا کی اتحادی پارٹیوں کی طرف سے ایسی علیحدگی پسندی والی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ بھاجپا کی رہنمائی والے این ڈی اے میں جب ناراضگی و دھمکی اور وارننگ وغیرہ کی آوازیں اٹھتی رہتی تھی مگر مودی کی لیڈر شپ والے اس دور کے لئے یہ نئی باتیں ہیں۔ دونوں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ واجپئی سرکار ان اتحادی پارٹیوں کی حمایت پر منحصر ہوتی تھی جبکہ آج بھاجپا کو لوک سبھا میں مکمل اکثریت حاصل ہے۔ این ڈی اے کی سبھی اتحادی پارٹیوں کو یہ بخوبی معلوم ہے کہ ان کی حمایت واپس لینے سے مودی سرکار کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔یہ صحیح ہے کہ مودی سرکار نے ان پارٹیوں کو کبھی خاص اہمیت نہیں دی۔ مگر اب چناؤ قریب آرہے ہیں سرکار اپنا آخری مکمل بجٹ پیش کرچکی ہے یعنی سماج کے ناراض گروپوں کے لئے ٹھوس کچھ کرنے کا اچھا موقعہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ حال ہی میں ہوئے مغربی بنگال ۔راجستھان ضمنی چناؤ میں بھی پارٹی کو مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ ضمنی چناؤ کو پھر بھی بھاجپا لیڈر شپ مقامی معاملہ کہہ کر ٹال سکتی ہے مگر اتحادی پارٹیوں کی ناراضگی کو نظرانداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اب یہ صرف پارٹیوں یا سیٹوں کا معاملہ نہیں ہے عام ووٹوں کی گول بندی کا سوال ہے۔ اس سے میں ذرا سا بھی الٹ پھیر ووٹ فیصد میں بڑی ردوبدل کرسکتا ہے بھاجپا کے اندر بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہیں۔ پارٹی میں بھی ناراضگی پائی جاتی ہے۔
(انل نریندر)

دہشت گردوں کو نوید کی نقل و حرکت کی جانکاری کیسے ملی

سرینگر کے سب سے پرانے مہاراجہ ہریندر سنگھ اسپتال میں منگل کو دہشت گردوں کا گھات لگاکر حملہ کرنا اور لشکرطیبہ کے آتنکی نوید عرف ابوہنجالہ کو چھڑا کر لے جانا جہاں سیکورٹی میں بڑی خامی ہے بلکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے آتنک وادیوں کو پل پل کی جانکاری تھی۔ اس میں پولیس پر بھی مخبری کا شک ہے۔ سرینگر سینٹرل جیل سے آتنکی نوید کو اسپتال لے جانے کی جانکاری صرف پولیس ملازمین کو ہی تھی ایسے میں یہ جانکاری ان دہشت گردوں تک کیسے پہنچی ،اسے لیکر سوال کھڑا ہونا فطری ہی ہے۔ اس واردات میں دوسری چوک سامنے آرہی ہے۔ سرینگر سینٹرل جیل سے 6 آتنک وادیوں کو میڈیکل چیک اپ کے لئے اسپتال لاتے وقت سیکورٹی میں صرف10-15 پولیس والے ہی تعینات کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ اسپتال میں مزید سیکورٹی کے لئے کوئی خاص انتظام نہیں کئے گئے تھے۔ پاکستانی دہشت گرد محمد نوید جٹ عرف ابو ہنجالہ26/11 کے ممبئی حملے میں شامل قصاب کے بعد زندہ پکڑا جانے والا تیسرا آتنکی تھا۔ نوید کو پانچ دیگر قیدیوں کے ساتھ علاج کے لئے شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال لایا گیا تو وہاں پہلے سے ہی موجود دو دہشت گردوں نے پولیس پر گولیاں برسانی شروع کردیں۔ اس میں دو پولیس ملازم ہیڈ کانسٹیبل مشتاق احمد و کانسٹیبل بابر احمد شہید ہوگئے۔ تینوں آتنکی موٹر سائیکل سے فرار ہوگئے۔ پارکنگ میں کھڑے ان دو دہشت گردوں نے جیل وین سے اترتے ہی آتنکی محمد نوید نٹ عرف ابو ہنجالہ کو پستول تھما دی۔ پھر دو پولیس ملازمین کو گولی مار کر تینوں فرار ہوگئے۔بھاری سیکورٹی والے اس اسپتال سے قریب 17 سال بعد اس طرح کوئی آتنکی بھاگا ہے۔ 2001 میں جنرل عبداللہ نام کا خطرناک آتنکی پہلی منزل سے کود کر فرار ہوا تھا۔ 22 سال کا پاک آتنکی جٹ 2014 میں ساؤتھ کشمیر کے کلگام سے پکڑا گیا تھا۔ جموں و کشمیر پولیس اسے اور دیگر پانچ قیدیوں کو وادی سے باہر شفٹ کرنا چاہتی تھی لیکن کورٹ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ آتنکیوں کا حملہ اتنا خطرناک تھا کہ پولیس ملازمین کو ایکشن لینے کا موقعہ نہیں مل پایا۔ فیرن پہنے دو آتنکی اسپتال کے او پی ڈی کے سامنے پارکنگ میں ہی کھڑے تھے ۔جیل وین قریب 11:33 بجے قیدیوں کو لیکر پہنچی۔ یہاں مریضوں کی کافی بھیڑ تھی ،پولیس اور دیگر قیدیوں کے ساتھ جیسے ہی جٹ وین سے اترا توفیرن پہلے ایک آتنکی نے اسے پستول تھمادی۔ پستول ملتے ہی جٹ نے پہلے کانسٹیبل مشتاق احمد کی چھاتی پر گولیاں برسائیں، دوسرے کانسٹیبل بابر احمد نے جوابی کارروائی کی کوشش کی۔ جٹ اور اس کے ساتھی ان پر گولیاں برسا کر بھاگ گئے۔ یہ حملہ بغیر پولیس کی ملی بھگت کے نہیں ہوسکتا تھا۔ آتنکیوں کو جٹ کے نقل و حرکت کی پوری جانکاری تھی۔
(انل نریندر)

09 فروری 2018

رافیل کی قیمت بتانے سے انکار پر اٹھے سوال

قریب ایک گھنٹے کے اندر دہلی سے پاکستان کے کوئٹہ شہر اور کوئٹہ سے دہلی واپسی یہ اس جنگی جہاز رافیل کی رفتار ہے جس کی خریداری میں کانگریس صدر راہل گاندھی گھپلے کی بار کررہے ہیں۔ رافیل سودے کو گھوٹالہ بتاتے ہوئے راہل نے کہا ایک کاروباری کو فائدہ پہنچانے کے ارادے سے سودے کو بدلنے کیلئے وزیر اعظم خودپیریس گئے تھے۔ بجٹ سیشن میں راہل نے ایک بار پھر یہ معاملہ اٹھایا۔ بدھوار کو انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اپنی خاموشی توڑنے کے بجائے کرپشن کرنے والوں کو بچا رہے ہیں۔ ادھر وزیر دفاع نرملا سیتا رمن کہتی ہیں کہ ہر ایک رافیل جیٹ کی قیمت کے لئے پی ایم نے جو بات چیت کی وہ راز ہے۔ انہوں نے کہا آرٹیکل 10 کے مطابق، سودے کی جانکاری راز میں رکھی جائے گی۔ سال2008 میں دونوں دیشوں کے درمیان ہوئے انٹر گورمنٹ ایگریمنٹ کے تحت ایسا کیا جائے گا۔ وزیر دفاع محترمہ سیتا رمن کے اس جواب اور راہل گاندھی کے الزامات کے بعد کانگریس نے پریس کانفرنس کر کچھ سوال پوچھے۔ یوپی اے سرکار کے وقت رافیل کی قیمت 526 کروڑ روپے تھی لیکن سننے میں آیا کہ مودی سرکار نے ایک رافیل جہاز 1570 کروڑ روپے میں خریدا ہے، یعنی قریب تین گنا۔ یہ سچ ہے یا نہیں یہ کون بتائے گا؟ اس نقصان کی وجہ اور ذمہ داری کس کی ہے؟ سال2016 میں فرانس سے جو معاہدہ ہوا اس سے پہلے کیا سیکورٹی پر بنی کیبنٹ کمیٹی سے منظوری لی گئی تھی؟ خانہ پوری کو کیوں نہیں مانا گیا، کیا کرپشن کا کیس نہیں بنتا؟ دیش کی ضرورت 126 جہازوں کی تھی اور مودی گئے اور جیسے سنترے خریدے جاتے ہیں ویسے رافیل جہاز خرید لئے گئے۔ سال 2010 میں یوپی اے سرکار نے خرید کی کارروائی فرانس سے شروع کی۔2012 سے 2015 تک دونوں ملکوں میں بات چیت چلتی رہی۔2014 میں یوپی اے کی جگہ مودی سرکار اقتدار میں آگئی اور ستمبر 2016 میں بھارت میں فرانس کے ساتھ36 رافیل جہازوں کے لئے قریب59 ہزار کروڑ روپے کے سودے پر دستخط کرلئے۔ مودی نے 2016 ستمبر میں کہا تھا کہ دفاعی تعاون کے سلسلے میں 36 رافیل جہازوں کی خرید کو لیکر خوشی کی بات ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان کچھ مالی پہلوؤں کو چھوڑ کر سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ مودی سرکار میک آف انڈیا کا جم کر پروپگنڈہ تو کرتی ہے لیکن اس سمجھوتہ میں بھارت کی ایک محض جہاز بنانے والی کمپنی ہندوستان ایرونوٹکس لمیٹڈ کو نظر انداز کیا گیا۔ ڈیفنس معاملوں کے جانکار اجے شکلا نے اپریل 2015 میں کہا تھا کہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ریلائنس (اے ڈی اے جی) کے چیف انل امبانی اور ان کے گروپ کے افسران بھی گئے تھے۔ انہوں نے رافیل بنانے والی کمپنی کے ساتھ بات چیت بھی کی تھی۔ راہل گاندھی کے الزام کے بعد سینئر وکیل پرشانت بھوشن بات آگے بڑھاتے ہیں انہوں نے منگل کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا، مارچ 2015 میں امبانی نے ریلائنس ڈیفنس کا رجسٹریشن کروایا۔ دو ہفتے بعد ہی مودی یوپی اے سرکار کی 600 کروڑ روپے کی خریدی جانے والی رافیل ڈیل کو 1500 کروڑ کی نئی ڈیل میں بدل دیتے ہیں۔ پبلک سیکٹر کی ایم اے ایل کی جگہ امبانی کی جگہ نے لی تاکہ 58 ہزار کروڑ کے کیک کو چکھا جا سکے۔ کچھ میڈیا رپورٹس کی مانیں تو رافیل کے لئے بھارت کو باقی ملکوں کے مقابلہ زیادہ قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ ڈیفنس ویب سائٹ کے مطابق سال2015 میں بھارت کے علاوہ قطر نے بھی فرانس سے رافیل خریدنے کا سمجھوتہ کیا تھا۔ قطر کو ایک رافیل قریب 108 ملین ڈالر یعنی 693 کروڑ روپے میں ملا ۔ اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو یہ قیمت بھارت کی رافیل کے لئے مبینہ طور پر چکائی قیمت سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ مودی سرکار کو اس سودے میں جہاز کی تکنیک کی جانکاریوں کو خفیہ رکھنے کے ساتھ ان کی ادا کردہ قیمت کی جانکاری دیش کو دینی چاہئے۔ چھپانے سے الٹا شبہ بڑھتا ہے۔ راہل گاندھی کو پارلیمنٹ کے اندر الزام لگانے چاہئیں باہر نہیں۔
(انل نریندر)

مالدیپ میں جمہوریت کو خطرہ

ہند مہاساگر میں واقع جزیرہ نما دیش مالدیپ ان دنوں سیاسی بحران کی طرف تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ جمہوری عمل اور شہری انتظامیہ کو تلانجلی دیتے ہوئے مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین نے نہ صرف اپوزیشن لیڈروں کی رہائی پر سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے سے انکار کردیا ہے بلکہ پارلیمنٹ کو بھی ایک طرح سے سیل بند کردیا۔ اس سے انہوں نے اپوزیشن کی پہنچ سے دور کردیا۔ حالت یہ ہے کہ وہاں کی فوج صدر کی حمایت کررہی ہے جس سے عدالتی حکم پر عمل ہی مشکل ہوگیا ہے۔ دراصل صدر یامین نے خود کو چوطرفہ بحران میں ڈال دیا ہے اور وہ کسی طرح اقتدار میں بنے رہنا چاہتے ہیں۔ مالدیپ میں جمہوریت کی بحالی 2008 میں ہوئی اور محمد نشید جمہوری طریقے سے دیش کے پہلے صدر بنے تھے۔2013 میں انہیں کرپشن کے الزامات میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور صدر یامین اقتدار پر قابض ہوگئے۔ مالدیپ میں اصل سیاسی بحران کی شروعات بھی یہیں سے ہوئی۔ اظہاررائے کی آزادی، اپوزیشن پارٹیوں اور جمہوری عمل و انسانی حقوق کے حمایتیوں کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی۔ اپوزیشن کے نیتا جیل میں ڈالے جانے لگے اور عدلیہ کی آزادی خطرے میں پڑ گئی۔ نشید کو13 سال جیل کی سزا سنائی گئی جس کی بین الاقوامی برادری نے سخت مذمت کی تھی۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ تک نے کہا کہ وہاں کی سرکار آئین اور بین الاقوامی قانون کو تلانجلی دے رہی ہے۔ خود نشید پہلے سے برطانیہ میں ہیں اور بھارت سمیت مغربی دیشوں میں ان کی اچھی خاصی پکڑ ہے جس کی وجہ سے یامین سرکارپر بین الاقوامی دباؤ ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو مانیں۔ مالدیپ کا صرف یہی بحران نہیں ہے اس دیش کا نام اسلامک اسٹیٹ کے ایک مرکز کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ چار لاکھ کی آبادی والے اس دیش میں 200 لوگوں کے عراق اور شام جا کر اسلامی اسٹیٹ میں شامل ہونے کی خبریں آچکی ہیں۔ مگر ان کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ لمبی تاناشاہی جھیل چکے اس دیش میں جمہوریت کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں چین نے یہاں جس طرح سے سرمایہ لگایا ہے اس سے مالدیپ کے ساتھ ہمارے رشتے خوشگوار نہیں ہیں۔ وزیر اعظم مودی کا 2015 میں مجوزہ دورہ کرنے کے بعد ان کا دوبارہ پروگرام نہیں بن سکا۔ بھارت کی نظر وہاں کے واقعات پر ہے لیکن حالات بدلنے سے پہلے اسے وہاں ضروری مداخلت سے نہیں ہچکچانا چاہئے۔
(انل نریندر)

08 فروری 2018

سیزفائر کے باوجود گائڈڈ میزائلوں کا استعمال

پاکستان سے لگی سرحد پر کنٹرول لائن پر دونوں طرف سے فوجیوں کے درمیان فائرنگ ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ایتوار کو راجوری سیکٹر میں جو کچھ ہوا اسے محض اتفاقی جھڑپ مان کر ہلکے سے نہیں لیا جاسکتا۔ پاکستانی فوج نے پہلی بار وہ بھی امن زون میں یعنی جب جنگ کی پوزیشن واضح نہ ہو، ہندوستانی فوجی چوکی پر میزائل مارا۔ اس سے فوج کے کیپٹن کنڈو سمیت چار جوان شہید ہوگئے۔ پاکستان سے ملحق 814 کلو میٹر لمبی کنٹرول لائن پر سیز فائر کے باوجود اب میزائلوں کے استعمال نے سرحدی باشندوں کی نیند اڑادی ہے۔ ساتھ ہی سیز فائر پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ ہندوستانی فوج نے اسے مانا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اینٹی ٹینک گائڈڈ میزائل کا استعمال ہورہا ہے۔ سال2003 میں26 نومبر کو دونوں ملکوں کے درمیان جموں وکشمیر سے لگی 264 کلو میٹر لمبی بین الاقوامی سرحد اور 814 کلو میٹر لمبی کنٹرول لائن پر سیز فائر نافذ کرنے کا زبانی سمجھوتہ ہوا تھا۔ اب جبکہ پاکستانی فوج توپ خانوں سے بھاری گولہ باری اور اینٹی ٹینک گائڈڈ میزائل داغ رہی ہے ایسے میں سرحد کے باشندوں کا کہنا ہے کہ آخر سیز فائر ہے کہاں؟ سیز فائر کے باوجود پاکستانی فوج کے ذریعے اس سال ایک مہینے میں 120 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی۔ جبکہ پچھلے سال یہ اعدادو شمار900 تھی۔ سرکاری اعدادو شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے تقریباً ہر دن سرحد اور کنٹرول لائن پر فائرننگ کی ہے، گولے داغے ہیں۔ اب تو پاک فوج سرحدی دیہات کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔ سرکاری اعدادو شمار سے تصدیق ہوتی ہے کہ پاک فوج کی مسلسل فائرننگ کے سبب 47449 لوگوں کو محفوظ مقامات پر بھیجا گیا ہے۔ ہند۔ پاک کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر سال2016 کے ستمبر میں ہوئے سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے کشیدگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ بتادیں کہ 2017 میں کنٹرول لائن پر 860 مرتبہ سرحد پارسے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آرمی چیف جنرل بپن راوت کا کہنا ہے کہ پاک فوج کو سیز فائر کی خلاف ورزی میں ہماری توقع سے تین گنا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جیسے تیسے اس کو سبق سکھایا جارہا ہے۔ ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ پاک فوج کو ہم سے زیادہ نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی فوج اپنے یہاں وہ نقصان کو اپنی پارلیمنٹ میں اٹھانے سے گھبرا رہی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق پچھلے سال سیز فائر کی خلاف ورزی میں بھارت کی طرف سے کی گئی جوابی کارروائی میں 130-140 پاکستانی فوجی مارے جاچکے ہیں۔ بیشک ہم دشمن کے ایک کے بدلے چار مار رہے ہیں،یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟ اب جب توپوں اور میزائلوں کا استعمال شروع ہوگیا ہے تو یہ غیر اعلان جنگ بندی کہاں تک پہنچے گی؟ سیکورٹی فورس کے مارے جانے اور عام شہریوں کے گھر، اسکول، کاروبار تباہ ہونے میں کسی طرح کی کمی نہیں آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن مودی سرکار سے کئی سوال تو پوچھ رہی ہے لیکن حکمراں اتحادی پارٹی بھی کہہ رہی ہے کہ کیا ہماری میزائلیں یوم جمہوریہ پر مظاہرہ کے لئے ہی ہیں؟ پچھلے دنوں بھارت ۔ پاک کے قومی سیکورٹی مشیر تھائی لینڈ میں بات چیت کرچکے ہیں۔ اپوزیشن سوال کررہی ہے کہ بھاجپا کے جو نیتا 2014 میں اقتدار میں آنے سے پہلے بڑے بڑے بیان دے رہے تھے آج وہ خاموش کیوں ہیں؟ آج جیسی غیراعلانیہ جنگ ہے کہیں مکمل جنگ میں نہ بدل جائے۔ جموں وکشمیر میں پی ڈی پی ۔ بھاجپا اتحادی حکومت ہے اس سرکار کی دوغلی پالیسی جموں و کشمیر کو تباہ کررہی ہے۔ بدنامی بھاجپا کی ہورہی ہے۔ پاکستان میں اسی سال عام چناؤ ہونے ہیں اور بھارت میں بھی 2019 کے بجائے 2018 میں کئی ریاستوں کے ساتھ عام چناؤ کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ یہ صاف دکھائی دے رہا ہے پاکستان جنگ بندی سمجھوتے کو لیکر قطعی سنجیدہ نہیں ہے۔ سوال ہے کہ مودی سرکار ان بدلے حالات سے کیسے نمٹے گی؟
(انل نریندر)

ایم آر آئی مشین جان لیوا بن گئی

کبھی کبھی ایسی خبر سننے کوملتی ہے جس کا آدمی نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔ ممبئی کے ایک سرکاری اسپتال میں لاپروائی کی انتہا ایک لڑکے کی موت کا سبب بن گئی ہے۔ حادثہ ممبئی میں واقعہ سرکاری نائر اسپتال میں ہوا ۔پولیس نے بتایا کہ 32 سالہ راجیش چارو اپنی ماں سے ملنے مائر اسپتال گیا تھا ،وہاں اس کی ماں کی ایم آر آئی اسکین ہونی تھی۔ وہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ماں کا سٹی اسکین کرانے کے لئے ایم آر آئی وارڈ میں لے گیا۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق چارو ایم آر آئی زون کے باہر ڈاکٹرکا انتظار کررہا تھا اس دوران اسپتال کے ایک وارڈ بوائے نے انہیں ایم آر آئی زون میں آکسیجن سلنڈر پہنچانے کے لئے کہا۔ وہ آکسیجن سلنڈر لیکر جیسے ہی زون میں گھسا ایم آر آئی مشین نے اپنی چمبک پاور سے اسے کھینچ لیا اور وہ سلنڈر سمیت ایم آر آئی مشین سے چپک گیا۔ اس کا ہاتھ میں مشین میں پھنس گیا۔ اسی دوران سلنڈر کھل گیا جس سے نکلی گیس سانس کے ذریعے چارو کے جسم میں پہنچ گئی۔ چارو کے رشتہ داروں اور وارڈ بوائے نے انہیں ایم آر آئی مشین سے الگ کرنے کی کوشش کی لیکن تب تک اس کے جسم میں آکسیجن بھر گئی تھی اور جسم سے خون نکلنے لگا۔ انہیں فوراً ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس کے مطابق سلنڈر میں آکسیجن رقیق کی شکل میں تھی جو زہریلی ہوتی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس معاملہ میں نائر اسپتال کے ڈاکٹر سدھانت شاہ ، وارڈ بوائے بٹھل بھون اور ایک خاتون صفائی کرمچاری کے خلاف معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے وارڈ بوائے کو معطل کردیا ہے۔ ممبئی میں ایسا ہی ایک واقعہ پہلے بھی ہوچکا ہے۔ دہلی کے آر ایم ایل اسپتال میں بھی ایک بار ایسا ہوا تھا لیکن تب کسی کی جان نہیں گئی تھی۔ ایم آر آئی مشین کے ساتھ چپکنے سے ہوئے حادثے بیرونی ممالک میں بھی ہوچکے ہیں۔ ایسا ہی ایک حادثہ ایک خاتون مریض کے ساتھ بھی ہوا۔ ایم آر آئی روم میں جانے سے پہلے ایک خاتون مریض نے اپنا ہیئرپن نئی نکالا تھا۔ میگنیٹک فیلڈ کے دائرے میں آنے کی وجہ سے وہ ہیئر پن خاتون کے بال سے نکل کر ناک میں ہوتے ہوئے اس کے گلے میں جا پھنسا ،جس کے بعد اس خاتون کی جان بچانے کے لئے اس کی سرجری کرنی پڑی تھی۔ یہ تصور کسی نے بھی نہیں کیا ہوگا کہ ایم آر آئی مشین جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔ ایم آر آئی کرانے سے پہلے مریض، ڈاکٹر وغیرہ کو خاص توجہ دینی چاہئے۔
(انل نریندر)

07 فروری 2018

ضمنی چناؤ نتیجے سے مضبوط ہوتا اپوزیشن اتحاد

گجرات اسمبلی چناؤ میں بہترین مظاہرہ کرنے اور راجستھان ضمنی چناؤ میں تین سیٹیں (دو پارلیمانی ایک اسمبلی) سیٹ پر بھاجپا کا صفایا کرنے کے بعد کانگریس اور تمام اپوزیشن پارٹیوں کا حوصلہ بڑھا ہے۔ یوپی اے کی چیئرپرسن سونیاگاندھی کی رہنمائی میں 17 اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں اسے محسوس بھی کیا گیا۔ بیٹے راہل گاندھی کو پارٹی کی باگ ڈور سونپنے کے بعد سونیا گاندھی کی یہ پہلی میٹنگ تھی۔ 17 پارٹیوں کے نمائنوں کی سانجھے داری والی اس میٹنگ کو شروع سے ہی خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے ایک طرح سے میٹنگ کا ایجنڈا طے کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی ، بے روزگاری، کسانوں پرچھائے بحران اور کاسگنج سمیت دیش کے کئی حصوں میں نفرت کی لکیر پرہوئے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی اہمیت کے اشو پر اپوزیشن کو متحد ہونا چاہئے۔ سونیا گاندھی سمیت کانگریس کے سبھی نیتاؤں نے اس وقت اپوزیشن کی ایکتا کو دیش کے لئے ضروری بتایا۔ میٹنگ میں دوسری پارٹی کے نیتاؤں نے بھی کہا کہ وقت کی پکار ہے کہ اپوزیشن متحد ہوکر مودی کا مقابلہ کرے۔بلا شبہ کانگریس کے حالیہ پردرشن نے اسے سنجیونی دے دی ہے اور اب پارٹی کا سارا زور نہ صرف بھاجپا کی حریف پارٹیوں کو ایک ساتھ اسٹیج پر لانا ہے بلکہ ان کے ساتھ اشوز پر عام رائے بنانے کا بھی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد کو کیسے پٹری پر لایا جائے اور اس کا کیا خاکہ ہو ،اس پر شرد پوار جیسے اپوزیشن کے سرکردہ لیڈروں کو لگتا ہے کہ وہ پرانے اور تجربہ کار نیتا ہیں اور وہی اپوزیشن کو ایک کر سکتے ہیں یا اپوزیشن کو انہی کی لیڈرشپ میں متحد ہونا چاہئے۔ پچھلے دنوں شرد پوار نے اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ بلا کر شاید یہ ہی جتانا چاہا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ سونیا گاندھی کی پہل سے مشترکہ میٹنگ بلانے کے پیچھے کانگریس کا ارادہ سب کو یہ احساس کرانا رہا ہو کہ اپوزیشن کا مقصد وہی ہے ۔ سونیا نے میٹنگ میں صاف طور پر کہا کہ ہمیں ہر حال میں سابقہ اختلافات پر پانی پھیرنا ہوگا۔ قومی سطح پر اتفاق رائے کا مسودہ تیار کرنا ہوگا ساتھ ہی جن اشو کو لیکر2019 میں چناوی میدان پر اترنا ہوگا اس پر بھی تفصیل سے غور کیا گیا۔ مثلاً نفرت کی آئیڈیالوجی، فرقہ وارانہ تشدد ،ذات پات کی نفرت کو ختم کرنے کی سمت میں کیسے مل کر کام کرنا چاہئے۔ تازہ میٹنگ میں سماجوادی پارٹی تو شامل ہوئی لیکن بسپا غیر حاضر رہی۔ پھر مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی میں کانگریس کے ساتھ میل جول کو لیکر دو رائے ہے جس کا اشارہ پچھلے دنوں کولکتہ میں کوئی سینٹرل کمیٹی کی میٹنگ کے وقت ملا۔ پھر کیرل میں تو مارکسوادی پارٹی کی بڑی حریف پارٹی کانگریس کی ہے۔ ان سب تضاد کا احساس کانگریس کو بھی ہے ہوگا۔ شاید اس لئے سونیا گاندھی نے کہا کہ ریاستوں میں مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے الگ الگ مفاد ہوسکتے ہیں اور یہ فطری بپی ہے لیکن انہیں قومی اہمیت کے اشو پر متحد ہونا چاہئے۔ پہلے بھی کئی بار ایسے اتحاد بنے ہیں لیکن آپسی ٹکراؤ کے سبب چل نہیں سکے۔ قومی سطح پر ایک پائیدار اتحاد کے لئے یہ میٹنگ کتنی کارگر ہوگی یہ تو مستقبل پر منحصر ہے لیکن 17 اپوزیشن پارٹیوں کا ایک ساتھ گول میز پر آنا آنے والے دنوں میں کچھ دلچسپ اور حیرت انگیز نظارہ اور حقائق کے ساتھ دیکھنے کو ضرور ملے گا۔
(انل نریندر)

پتھر بازوں پر کیس واپس فوج و سکیورٹی فورسز پر ایف آئی آر

جموں و کشمیر میں حالات خراب ہوتے جارہے ہیں۔ انسانی فوج کو ایک ساتھ دو محاذ پر لڑنا پڑرہا ہے۔ کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج سے اور ریاست کے اندر بلوائیوں سے۔ حال ہی میں تو ریاستی حکومت کی پولیس نے فوج کے خلاف ہی ایف آئی آردرج کردی۔ جموں و کشمیرکے شوپیاں ضلع میں اپنے دفاع میں پتھر بازوں پرفائرنگ کرتے ہوئے تین لوگوں کی موت ہوگئی۔ فوج کے مطابق شوپیاں ضلع کے گنوپورا گاؤں میں سکیورٹی فورسز کا قافلہ گزر رہا تھا اسی درمیان مظاہرین نے پتھراؤ شروع کردیا۔ قریب250 مظاہرین نے کچھ گاڑیوں اور جوانوں کو گھیر لیا اور بھیڑ مشتعل ہوگئی۔ ایک نے جے سی او کو پیٹنے اور اس کی رائفل چھیننے کی کوشش کی۔ گاڑیوں کو جلانے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس دوران بچاؤں میں فوج کو فائرننگ کرنی پڑی جس میں کچھ لوگ زخمی ہوگئے جو بعد میں چل بسے۔ فوج کے 7 جوان بھی زخمی ہوئے اور 11 گاڑیوں کو نقصان ہوا۔ پولیس نے واقعہ کو لیکر فوج کی یونٹ پر ہی کیس درج کردیا۔ ایک طرف اپنا بچاؤ کرنے پرفوج پر کیس درج ہورہے ہیں وہیں دوسری طرف جموں وکشمیر حکومت 2008 اور 2017 کے درمیان پتھر بازی کے واقعات میں شامل 9730 لوگوں کے خلاف معاملہ واپس لینے کی منظوری دے رہی ہے۔ وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے سنیچر کو یہ جانکاری اسمبلی میں بھی ریاستی پولیس نے فوج کی گڑھوال یونٹ کے 10 فوجی ملازمین جن میں ایک میجر بھی شامل ہے، کے خلاف دفعہ302 (قتل) اور دفعہ 307 (اقدام قتل) کا مقدمہ درج کیا ہے۔ اسی معاملہ میں ریاست میں اقتدار میں اہم سانجھیدار پی ڈی پی اور بھاجپا کے درمیان تلواریں کھنچ گئی ہیں۔ پی ڈی پی جہاں اس معاملہ کو دلائل تک پہنچانے کی بات کررہی ہے وہیں بھاجپا کسی بھی حالت میں فوج کے خلاف مقدمے بازی کی جارحانہ طریقے سے مخالفت کررہی ہے ۔ بھاجپا نیتا سبرامنیم سوامی نے فوجیوں کے خلاف ایف آئی آردرج کئے جانے پر جموں وکشمیر سرکار کو گرانے تک کی بات کہہ دی۔ فوج سے وابستہ ذرائع نے بتایا یہ کارروائی سیاسی دباؤ میں کی گئی ہے اس لئے فوج کوئی رد عمل نہیں ظاہر کررہی ہے لیکن فوج اس رائے پر قائم ہے کہ کارروائی مناسب تھی۔ اس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل راجندر سنگھ (رٹائرڈ) نے کہا کہ فوج کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرنا غلط ہے۔ کشمیر سمیت تین مقامات پر آفسپا لاگو ہے وہاں مرکز کی اجازت کے بغیر فوج کے خلاف معاملہ درج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے اپنے دفاع میں بلوائیوں پر کارروائی کی۔ اگر فوج خود کو نہیں بچاتی تو اس کا غلط سندیش جاتا۔ اس لئے یہ کارروائی جائز ہے۔
(انل نریندر)

06 فروری 2018

فی الحال سیلنگ ابھیان نہیں رکے گا

سیلنگ کی زد میں آئے دہلی کے سات لاکھ تاجروں کو راحت دینے کیلئے ماسٹر پلان میں ترمیم کا مسودہ تیار کیا گیا ہے اس کے لئے جمعہ کو ڈی ڈی اے بورڈ کے میٹنگ میں تین تجاویز پر مہر لگائی گئی ہے پہلی دوکان اور معاون رہائشی والے فلور اےئر یا ریشیو (ایف اے آر) 180 سے 300 اور لوکل شاپنگ شاپنگ سینٹر سمیت پوری دہلی میں225سے بڑھا کر 350 ہو گا. دوسرا کنورجن چارج زمرے وار ہوگا جرمانہ 10گنا سے گھٹا کر دوگنا کیا جائیگا . تیسرا ، نان کنفرمنگ اےئریا میں گودام کلستر کے ری ڈوپلنمنٹ قوانین بنائے جائیں گے ۔ لیکن دہلی کے تاجروں راحت دینے اور دوکانوں کو سیلنگ سے بچانے کے لئے مجوزہ راحت دینے سے خو ش نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی اے ماسٹر پلان 350 میں ترمیم کرکے ایف اے آر کو بڑھا کر 350کردیا ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ سہولت ان لوگوں کو فراہم کرے گی جو اپنی دکان یا کاروباری اداروں کی گراؤنڈ فلور پرپارککنگ کی سہولت د ے گا ڈی ڈی اے نے تجارتی علاقوں میں تہ خانے چلانے کی سہولت کے علاوہ 12 میٹر وسیع سڑکوں پر ایک زرعی گودام چلانے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شرط موجود ہے کہ گودام یا تہہ خانے کے مالک کے علاوہ، فائر ڈپارٹمنٹ کو این او سی دینا چاہئے، صر ف جرمانہ کو گھٹاکر دو گنا کردیا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ڈی ڈی اے نے ابھی تک مطلع نہیں کیا ہے کہ جب کنورجن چارج کب تک دیا جائے گا؟ اس چارج پر سود ختم کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ تاجروں کا خیال ہے کہ بڑھے ایف اے آر کی سہولت کیلئے پارکنگ سہولت کے لئے لاگو نہیں ہوگی. ۔پہلی بات تو یہی ہے کہ ، پرانی دہلی جیسے علاقوں میں یہ سہولت زمین کی سطح پر کیسے دستیاب ہوگی؟ وہاں کاروبار چل رہا ہے، کون اسے خالی کرے گا؟ وہاں ہر منزل پر دکانیں کھلی ہیں اور اس کا مالک الگ ہے۔ آل انڈیا کنفیڈریشن کے جنرل سیکریٹری پروین کھندیلوال کہتے ہیں کہ رعایت غیر معمولی ہے. یہ فائدہ نہیں مل سکا. دوسرا تہہ خانے اور گودام چلانے کے لئے لگائی شرط کو پورا کرنا مشکل ہے. دوسری طرف، سپریم کورٹ کی نگرانی کمیٹی نے حکومت سے کوئی درخواست یا آرڈر نہیں ملاہے ۔ مانیٹرنگ کمیٹی کا خیال ہے کہ سیلنگ مہم جاری ر ہے گی ۔
(انل نریندر)

چھاپے نہ مارنے کی پروٹکشن منی

ممبئی میں، انڈرولڈکے ذریعہ تحفظ کے پیسے کے بارے میں توہم نے سنا تھا لیکن پہلی بار، جی ایس ٹی چھاپے نہیں مار کی پروٹکشن منی کے بارے میں پہلی بار سن رہے ہیں ۔. بدعنوان کے سلسلے میں، سی بی آئی نے کان پور میں تعینات جی ایس ٹی کمشنر سمیت دیگر افراد کو گرفتار کیا ہے. گرفتار شدہ افراد میں جی ایس ایس کمشنر سنسارچندکے تین ساتھی اہلکار بھی ملوث ہیں. سی بی آئی کی مانے تو سنسار چند ، ان حکام کے ساتھ ، رشوت کا ایک منظم ریکیٹ ہی نہیں چلا رہا تھا بلکہ رشوت سے ملی رقم کا حوالہ کاروبار کے ذریعہ وارے کے نیارے کررہا تھا ۔رشوت کی رقم ایک ساتھ جمع نہ ہو اس لئے الگ الگ تاریخوں میں پیسہ لیا جاتاتھا ۔ یہ ادائیگی 15 دن اور 30 دن میں بٹی تھی۔ سینٹرل ایکسچینج کے چھاپے نہ مارنے کرنے کے عوض میں شہر کے تاجروں سے بھی پیسہ لیا جاتا تھا ۔ جس کوڈ ۔ ورڈ میں پروٹکشن منی کا نام دیا گیا تھا۔چھاپے نہ مارنے پر کس کاروباری سے کتنی رشوت لینی ہے ۔ اس کی پڑتال کا ذمہ تینوں اعلی افسروں پر تھا ۔ اگر انہوں نے اس پر چھاپہ نہیں مارا تھا ۔
یہ افسر اس تاجر کی مالی حیثیت کو چیک کرنے کے لئے استعمال کیاجاتاتھا اور اس کی رپورٹس بنانے اور کمشنر کو سونپتے تھے ۔. پھر ٹیکس کی چوری کی بنیاد پر مقرر کیا گیا تھا کس سے کتنی شوت لینی ہے ۔یعنی بڑے ٹیکس کی چوری کے عوض میں بڑی رشوت اتنا ہی نہیں چھوٹی موٹی ٹیکس چوری میں یہ افسر مہنگے آئی فون ا سمارٹ ٹی وی اور فریج تک بھی رشوت کے طور پر لیتے تھے ۔. جی ایس ٹی کمشنر، سنہسار چند کا سنڈیکیٹ انتہائی منصوبہ بند تھا ۔ رشوت کا پیسہ وہ اپنے پاس نہیں رکھتا تھا ، بلکہ حوالے کے ذریعہ سے اسے دہلی بھیجتا تھا ۔ وہاں،حوالہ کاروباری رقم کو نہ صر ف وائٹ منی میں بدلتے تھے بلکہ سنسار چند کی بیوی کوبھی پیسے دینے کا کام کرتے تھے ۔. بے شک یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سی بی آئی نے ہندوں ستانی محصولاتی افسر کو رشوت خوری کے الزام میں گرفتار کیا ہو۔ دوسری سروس میں رشوت خور افسران کی گرفتاری کاسلسلہ جاری ہے یہ رشوت خور افسر صرف بیلک منی کے سوداگر ہی نہیں بلکہ ٹیکس چوری سمیت بہت سی غیر قانونی کارروائیوں کو فروغ دیتے ہیں . ہم نے نوٹ بندی کے دوران، ہم نے دیکھا کہ کس طرح مٹھی بھر سرکار افسر جنتا کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے رہے ہیں ۔ر اب جی ایس ٹی چھاپہ نہ مارنے کے عوض پیسہ لینا ،افسران پر شکنجہ کیسے اور مضبوط ہو سرکار کو دیکھنا ہوگا ۔
(انل نریندر)

04 فروری 2018

راجستھان میں کانگریس نے ماری ہیٹ ٹرک ،بی جے پی کو جھٹکا

جس وقت مودی سرکار پارلیمنٹ میں اپنا آخری مکمل بجٹ پیش کررہی تھی ٹھیک اسی وقت راجستھان کے ضمنی چناؤ میں پارٹی کو زبردست ہار مل رہی تھی۔ ان چناؤ میں کانگریس نے بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تینوں سیٹیں جیت لیں۔ وہاں کی دو لوک سبھا سیٹیں الور اور اجمیر کے علاوہ ایک اسمبلی حلقہ منڈل گڑھ میں ہوئے ضمنی چناؤ کے نتیجہ بی جے پی اور ریاست کی وزیر اعلی وسندھرا راجے سندھیا کے لئے زبردست جھٹکا ثابت ہوئے ہیں۔ کانگریس کی جیت اس لئے بھی اہم ترین ہوجاتی ہے کیونکہ ہار جیت کا مارجن بہت بڑا تھا۔ الور میں کانگریس کے امیدوار کرن سنگھ یادو نے بی جے پی امیدوارجسونت یادو کوڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ ووٹوں سے ہرایا۔ وہیں اجمیر لوک سبھا سیٹ پر کانگریس کے رگھو شرما نے بی جے پی کے رام سروپ کو چناؤ میں ہرادیا۔ منڈل گڑھ اسمبلی سیٹ پر کانگریس کے وویک دھاکڑ نے بھی بی جے پی کے شکتی سنگھ کو مات دے دی۔ یہ تینوں سیٹیں پہلے بی جے پی کے پاس تھیں۔ اس جیت نے جہاں سال کے آخر میں راجستھان اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے کانگریس کو بہت بڑا حوصلہ دیا تو بی جے پی کے لئے بڑی تشویش بن کر سامنے آئی۔ 2013 میں بی جے پی بہت بڑی جیت کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی اور 2014 میں پارٹی نے ریاستی کی سبھی 25 لوک سبھا سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی چناؤ کے پیش نظر یہ ضمنی چناؤ کہیں نہ کہیں سیمی فائنل مانے جارہے ہیں۔ اس چناؤ نتیجے کے بعد کانگریس کے اندر سچن پائلٹ کا قدتیزی سے بڑھے گا ۔ معلوم ہو کہ پارٹی نے سچن پائلٹ کو راجستھان کی ذمہ داری سونپی۔ وہ تبھی سے وہاں جمے ہوئے ہیں۔ اس چناؤ کو ان کی لیڈر شپ کا پہلا ٹیسٹ بھی مانا جارہا تھا ساتھ ہی وہاں کانگریس کے اندر دو خیموں میں پائلٹ گروپ اور اشوک گہلوت گروپ کے درمیان بھی بالادستی کی لڑائی چل رہی تھی۔ اس سے بھی اب اس نتیجے کے بعد سچن پائلٹ کا قد بڑھے گا ساتھ ہی چناؤ نتیجے سے راجستھان کی وزیر اعلی وسندھرا راجے کا گراف گرا ہے اور ان کی لیڈر شپ پر سنگین سوال اٹھیں گے۔ حالیہ دنوں میں یہ کئی مورچوں پر گھری وسندھرا سرکار کے لئے یہ نتیجہ بہت سنگین نتیجے لا سکتے ہیں۔ اس سے پارٹی کے اندر بھی ان کے خلاف آوازیں اٹھ سکتی ہیں۔ بی جے پی کے اندر ایک بااثر گروپ کا خیال ہے کہ وسندھرا کی لیڈر شپ میں اس سال کے آخر میں ہونے جارہے اسمبلی چناؤ پارٹی جیت نہیں سکتی لہٰذا چناؤ سے پہلے ان کو بدلا جائے۔بی جے پی میں کئی مہینے پہلے یہ مانا جارہا تھا کہ راجستھان میں وسندھرا سرکار پر اینٹی کمبینیسی ہے لیکن الور، اجمیر اور مانگل گڑھ کے نتیجے اتنے خراب آئیں گے ، اس کی امید نہیں تھی۔ اب ان نتیجوں کو خطرے کے گھنٹی مان کرتشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ ہوسکتا ہے پارٹی میں کچھ نیتا وسندھرا راجے کو بدلنے کی صلاح بھی دینے لگے ہوں۔ 
یہ ضمنی چناؤ حکمراں بی جے پی کے لئے اپنے روایتی ووٹ بینک کے کھسکتے رشتوں کی کہانی بن گیا ہے۔ راجپوت تنظیموں نے فلم پدماوت اور دوسرے اشو کو لیکر بی جے پی کو ہرانے کی اپیل کی تھی۔ کرنی سینا نے دعوی کیا ہے کہ پہلا موقعہ جب راجپوت گروپ نے بی جے پی سے اپنا پرانا رشتہ توڑا اور اس کے خلاف ووٹ کیا۔ کرنی سینا کے مطابق بی جے پی سے ناراضگی کے کئی اسباب تھے۔ پچھلے سال 24 جون کو آنند پال انکاؤنٹر نے بی جے پی سرکار و راجپوت سماج کے رشتوں میں دوری پیدا کردی تھی۔آنند پال رانا راجپوت سماج کے تھے۔ راجپوت سماج خود کو راونئی سماج کے قریب مانتا ہے ۔ اس واقعہ سے بی جے پی اور اس کے روایتی ووٹ بینک سمجھے جانے والے راجپوت سماج میں فاصلہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس کی بھرپائی نہیں ہوپائے تھی۔ سنجے لیلا بھنسالی کی فلم نے اس دراڑ کو اور چوڑا کردیا۔
راجپوت کبھی بھی کانگریس حمایتی نہیں رہے مگر یہ پہلا موقعہ تھا کہ جب بی جے پی کوہرانے کے لئے ووٹ دینا پڑا۔ ساتھ ہی جاٹ اور گوجر فرقہ میں ریزرویشن کا معاملہ بھی پنپ رہا تھا۔ بی جے پی کے اندر بھی ایک گروپ وسندھرا راجے سے خوش نہیں تھا۔ پارٹی ہائی کمان نے ایک بھی مرکزی نیتا کو راجستھان میں چناؤ پرچار کرنے کے لئے ہیں بھیجا۔ راجستھان کی دو لوک سبھا سیٹوں جیتنے کے ساتھ ہی کانگریس چا لوک سبھا سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ جہاں ضمنی چناؤ ہوئے ہیں یہ چاروں سیٹیں پہلے بی جے پی کے پاس تھیں۔ کانگریس نے مدھیہ پردیش کی رتلام اور پنجاب میں گورداس سیٹ بی جے پی سے چھیننے میں کامیابی پائی۔ اب سب کی نظر یوپی کی دو لوک سبھا سیٹوں ،گورکھپور۔ پھولپور اور بہار کی ارریہ سیٹ پر ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کو نئے سال کا تحفہ مل گیا ہے۔ ان کی لیڈر شپ کو اور مضبوطی ملے گی۔
(انل نریندر)