Translater

01 اکتوبر 2022

طالبان کے سامنے جھکا امریکہ !

طالبان کے قریبی حاجی بشیر نو ر زعی امریکہ میں کئی دہائیوں کے قید کے بعد رہا ہو گئے ہیںاور پیر کے روز افغانستان کی راجدھانی کابل آ گئے ۔ افغانستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق نور زعی ان قیدیوں میں شامل تھے جنہیں دنیا کی سب بد نام جیل میں رکھا گیا تھا جس کا نام ہے گوانتو نا موبے۔وہ شدت پسندی کے خلاف جنگ کی شروعات کے بعد سال 2002میں یہاں ایسے لوگوں کو رکھا جاتا تھا جنہیں امریکی حکومت شدت پسند ڈکلیئر کرتی تھی ۔ گونتوناموبے جیل می پہلی بار 11جنوری 2002کو 20قید ی لائے گئے تھے اور اس کے بعد سے یہاں سیکڑوں لوگوں کو رکھا جا چکا ہے ۔کوئی چارج شیٹ عاید کی گئی اور نہ مقدمہ چلایا گیا ۔ نور زعی کی رہائی طالبان حکمرانوں اور امریکی حکام کے درمیان لمبی بات چیت کے بعد قیدیوں کی ادلا بدلی کا نتیجہ ہے سال 2020یرغمال بنائے گئے ایک امریکہ انجینئر مارک فرینچ کی رہائی کے بدلے طالبان کے نیتا نور زعی کو چھوڑا گیا ہے وہ 2005سے امریکی جیل میں بند تھے امریکہ نے حالاںکہ طالبان سرکارکو تسلیم نہیں کیا ہے لیکن پیر کو دونوں دیشوں کے حکام کے درمیان لمبی بات چیت کے بعد قیدیوں کے ادلا بدلی پر رضامندی بنی ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ طالبان اور امریکی حکام کے درمیان بات چیت کے راستے کھلے ہیں ۔ امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکی انجینئر کی رہائی کیلئے بات چیت آسان نہیں تھی یہ امریکی لوگوں کی حفاظت کیلئے ضروری ہے کہ ایسے فیصلوں کو قبول کیا جائے ۔ پیر کو کابل ہوائی اڈے پر امریکی حکا م کو اس انجینئر کو سونپا گیا اور اس کے بدلے میں امریکی حکام نے ڈرگ اسمگلنگ کے الزام میں بند نور زعی کو طالبان کے حوالے کیا ۔ 60سالہ امریکی انجینئر فرینچ کا طالبان نے افغانستان کے اقتدا پر قابض ہونے سے ایک سال پہلے اس انجینئر کا اغوا کر لیا تھا جو وہاں کام کر رہے ہیں ۔ یہ انجینئر کابل میں 10سال سے بطور سول انجینئر کام کر رہے تھے ۔ نور زعی طالبان کیلئے کتنے اہم ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اگست 2011میں افغانستان سے اقتدار چھننے سے کئی مہینے پہلے انہوں نے امریکہ سے امریکی انجینئر کے رہائی کے بدلے نور زعی کو چھوڑنے کی مانگ کی تھی حالاںکہ تب امریکہ نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی ۔ حاجی بشیر نور زعی کا افغانستان کی راجدھانی کابل پہنچنے پر زبردست استقبال کیا گیا ۔ نور زعی طالبان کے بانی ملا عمر کے قریبی تھے اور 1990 کی دہائی میں طالبان سرکار کو مالی مدد دی تھی ۔ افغانستان کے قبائلی لیڈر نور زعی کو نیو یارک کی عدالت نے 5کروڑ ڈالر کی ڈرگ اسمگلنگ معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی الزام تھا کہ وہ وسیع پیمانے پر افیم کی کھیتے کرتا ہے ۔ (انل نریندر)

حجاب کی چنگاری لندن -پیرس تک پہنچی !

ایران میں حجاب تنازعہ کو لیکر جاری احتجاجی مظاہرے اب دنیا کے الگ الگ حصوں تک پہنچ گئے ہیں۔پیر کو پیرس اور لندن میں ہزاروں مظاہرین نے حجاب مخالف مظاہرہ کیا اس میں مسلم خواتین بھی شامل تھیں۔ایران میں خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں طبعیت بگڑنے اور پھر موت کے بعد حجاب مخالف تحریک مسلسل جاری ہے ۔ ایران سے باہر پیرس میں ہزاروں کی تعدا د میں لوگوں نے ایرانی سفارت خانے کے باہر پولیس کے خلاف نعرے بازی کی پیرس کے علاوہ لندن میں بھی اسی طرح کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کینیڈا میں بھی کچھ جگہوں پر احتجاج ہوئے ہیں۔ایران نے امریکہ پر دیش میں گڑ بڑ پھیلانے کا الزا م لگایا ہے ۔ ایران نے کہاکہ امریکہ کی جانب سے بلوائیوں کی حمایت کی جارہی ہے ۔ وہ اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنا چاہتاہے ۔ امریکہ کی اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ایران سرکار کی طرف سے مظاہروں کو دبانے کی پوری کوشش ہو رہی ہے ۔ اس کڑی کے طور پر حکومت نے فیسبک،وہاٹس ایپ ، انسٹاگرام ،اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور انٹرنیٹ پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے ۔ ادھر ایران میں حجاب مخالف مظاہر منگل کو بارہویں دن 35شہروں تک پھیل گیا ۔اور اس سے ملک میں تختہ پلٹ کا اندیشہ بڑھ گیا ہے ۔ ایسے میں ایرانی فوج ریولیوشنری گارڈ کے اعلیٰ کمانڈروں کے علاقو ں سے انہیں دیگر مقامات پر بھیج دیا گیا ہے ۔ تہران میں ایک تیل کمپنی کے گیسٹ ہاو¿س میں لوگوں کی 24گھنٹے حفاظت کی جارہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق پریواروں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اگر تختہ پلٹ ہوتا ہے تو انہیں محفوظ طریقے سے پڑوسی ملک جارجیا بھیج دیا جائے گا ۔ اس درمیان صدر رئیسی کی سرکار نے حجا ب مخالف مظاہروں پر کئی شہروں میں طاقت کا استعمال جاری رکھا ہوا ہے ۔ جس وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 80اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً 2000سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکاہے ۔ وہیں ایرانی پولیس کی حراست میں ماری گئی مہسا امینی کی حمایت میں کئی ملکوں میں مظاہرے جاری ہیں۔ ایران کے چیف جسٹس محسنی عینی نے اعتراف کیا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کی وجہ سے پولیس سورس پست ہو گئی ہے ۔ایک وائرل ویڈیو میں چیف جسٹس نے فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پولیس کا حوصلہ ٹوٹ گیا ہے ۔ چھٹیاں نہ ملنے کی وجہ سے پولیس والے تھک چکے ہیں اور مظاہرین پر قابو نہیں جا رہا ہے ۔ رئیسی سرکار میں سپریم لیڈر آئت اللہ خمینی اور صدر ابراہیم رئیسی کے بعد چیف جسٹس محسنی کا تیسرا نمبر ہے ان کا ان کے اعتراف سے ملک کے حالات کی سچائی سامنے آئی ہے ۔ (انل نریندر)

29 ستمبر 2022

چین میں تختہ پلٹ کے افواہ!

چین کے صدر شی جن پنگ کا تختہ پلٹ ہونے اور انہیں گھر میں نظر بند کئے جانے کی خبریں زوروں پر چھائی رہیں انٹر نیٹ میڈیا اور دنیا بھر چل رہی اس بحث کی چین نے نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تر دید کی ۔ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر رد عمل ظاہر کرنے والا چین کا وزارت خارجہ سنیچر کے دن شی کے بارے میں چل رہی قیاس آرائیوں پر خاموش رہا ۔ ازبکستان میں ہوئی شنگھائی اشتراک تنظیم کی سمٹ میں حصہ لیکر 16ستمبر کو بیجنگ لوٹے شی جن پنگ اس کے بعد سے دیکھے نہیں گئے ۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ بیرون ملک سے لوٹے شخص کو کوارنٹائن ہونے کے چینی حکومت کے قاعدے کے مطابق صدر کوارنٹائن ہیں ۔ لیکن تین دن گزرنے کی وہ میعاد کے بعد بھی نظر نہیں آئے تب قیاس آرائیاں شروع ہو گئی اور یہ بحث اس وقت تیز ہوئی جب جن پنگ کی پانچ برس کی دوسری میعاد پوری ہونے کو ہے ۔ اور تیسری میعاد کیلئے حکمراں کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس میں تجویز پیش ہونے والی ہے ۔ پانچ برس میں ایک بار پھر یہ ہونے والی ہے یہ کانگریس 16اکتوبر کو شروع ہوگی اور اس میں پارٹی کے ورکروں کے ذریعے چنے گئے 2296نمائندے حصہ لیں گے ۔پارٹی کی طرف سے صدر کے عہدے کیلئے تجویز کئے جانے والے نا م پر یہی منتخب نمائندے مہر لگاتے ہیں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہونا ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ چین میں پردے کے پیچھے فوج کی حکمرانی قائم ہو گئی ہے ۔اور جنرل لی کیواو¿ں نے صدر کی حیثیت عہد ہ سنبھال لیا ہے ۔لیکن ابھی تک اس کو بتایا نہیں جا رہا ہے 16اکتو بر سے پارٹی کانگریس میں جنرل لی کے نام پر مہر لگا دی جائے گی ۔ ٹویٹر پر دعوے کے مطابق چین میں 6ہزار گھریلو اور انٹر نیشنل پروازیں روک دی گئیں ہیں ۔ یہ بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ نظر بندی میں جن پنگ کا ہر طرح سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے ۔ وہ نہ تو کسی پارٹی کے نیتا سے مل رہے ہیں اور نہ ہی کسی سے فون پر بات کر پا رہے ہیں۔ اگلے مہینے 16تاریخ کے بعد شاید پوزیشن صاف ہو جائے ۔ کہا جا رہا ہے کہ جن پنگ سے چینی فوج ناراض چل رہی ہے اور حال ہی میں انہوں نے ایک چینی سینئر افسر کو عہدے سے ہٹایا جو فوج کو اچھا نہیں لگا ۔ چین اتنا اکڑو دیش ہے کہ ٹھیک سے پتا نہیں چلتا کہ اندر خانے وہاں کیا ہو رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ جن پنگ کے تختہ پلٹ کی محض افواہ ہو جو ان کے حریفوں نے اڑائی ہو خیر جو بھی ہے جلد تصویر صاف ہو جائے گی ۔ ویسے تو بھار ت کے مفاد میں جن پنگ کا ہٹنا ہی بہتر ہوگا۔ بہر حال صدر جن پنگ منگل کے روز چینی قومی ٹی وی پر پہلی بار نظر آئے جس میں وہ ایک پروگرام میں شامل ہیں ۔ وہ ابھی بھی اقتدار میں ہیں یا نہیں اس کا جواب جلد مل جائے گا۔ وہ تیسری مرتبہ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کیلئے تیار دکھائی پڑتے ہیں۔ (انل نریندر )

28 ستمبر 2022

ہندووں پر بڑھتے حملے !

دنیا بھر میں ہندوو¿ ں پر حملوں کے واقعات بڑھ رہے ہیںاور نفرت کے معاملوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ امریکی دائرہ نیٹورک کنٹیجین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک اسٹڈی میں انکشاف ہوا ہے کہ ہندوو¿ں کے خلاف نفرت اور تشدد کے معاملوں میں 1000فیصدی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اس امریکی ادارے کے معاون بانی جوئیل فنکیلسٹائن کا کہنا ہے کہ ہندو مخالف نظریہ ،نفرت اور تشدد ایجنڈا بتا یا جا رہا ہے ۔دنیا بھر میں حملوں اور نفرت کا ماحول بنانے میں کٹر پسند اور دوسرے لوگوں کا ہاتھ ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ پچھلے پانچ سال میں ہندوو¿ں پر حملوں میں تیزی آئی ہے ۔ امریکہ ،کینیڈا ،آسٹریلیا جیسے بڑے ملکوں میں ہندوو¿ ں پر تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔ ہندوو¿فوبیا کو ایک سازش کے تحت بڑھا جا رہا ہے ۔ امریکی جانچ ایجنسی ایف بی آئی کے ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 2020میں ہندوستانی نژاد امریکیوں پر حملے 500فیصدے بڑھے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر ہندو دھرم کے پیشواہیں ۔ ادھر نارتھ امریکہ میں ہندوو¿ں کی تنظیم سی او این این اے کے ذمہ دار ویکرانت ترویدی کا کہنا ہے کہ جس بھی دیش میں ہندو زیاتر بستے ہیں وہاں کی ترقی میں اشتراک دیتے ہیں ۔ برطانیہ میں پچھلے کچھ دنوں سے ہندوو¿ں کو نشانہ بنا یا جا رہاہے ۔ یہاں کچھ اسلامی کٹر پسند عناصر ہنگامہ مچا رہے ہیں۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں پیش ریورٹ کے مطابق بر طانیہ کی ساتھ کروڑ کی آبادی میں چار فیصد مسلم ہیں ۔ لیکن ان کا کرائم ریٹ زیادہ ہے اور برطانیہ کی جیلوں میں بند قیدیوں میں 18فیصدی مسلم ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلس کی کل آبادی میں دو فیصدی ہندو ہیں لیکن کوئی بھی ہندو گھناونے جرم میں جیل میں بند نہیں ہے برطانیہ میں 14لاکھ سے زیادہ ہندو رہتے ہیں جبکہ یہاںکی آبادی میں تقریباً 11لاکھ پاکستانی ہیں اس طرح برطانیہ میں مسلمانوںکی آبادی 28لاکھ ہے۔ برطانیہ کے لسٹر اور برمنگھم کے ایمیڈیک میں حال میں مندروپر ہوئے حملوں میں پاکستانی جہاد گینگ کے بد معاشوں کا ہاتھ سامنے آیا یہ پاکستان آتنکی نیٹورک برطانیہ کو یوروپ میں جہاد پھیلانے میں لگا ہے ۔پاکستان سے دہشت گردوں کو لاکر برطانیہ کے مدرسوں میں چلنے والے سیف شیلٹر ہاو¿س میں رکھا جا تا ہے ۔برطانیہ میںتیس سال پہلے آتنکی مسعود اظہر نے ایک جہادی نیٹورک بنایا 2005میں لنڈن میں ہوئے بم دھماکوں میں القاعدہ نیٹورک کا ہاتھ تھا جس 56لوگ مارے گئے تھے لیکن ہندوو¿ پر بڑھتے حملے تشویش کا باعث ہے بھارت سرکار کو اس طرف دھیان دینا ہوگا اور جن جن ملکوں میں ہندوو¿ں کو نشانہ بنا یا جا رہا ہے ان دیشوں سے بات کرنی ہوگی اور ہندوو¿ کی حفاظت کرنے کیلئے کہا جائے ۔ (انل نریندر )

27 ستمبر 2022

خصوصی سیوا سے انکار!

لڑکی انکیتا بھنڈاری کے بے رحمانہ قتل کے پورے اتراکھنڈ میں بے چینی ہے اور ناراض بھیڑ نے گنگا موگ پور میں قتل کے ملزم پلکت آریہ کی فیکٹری کو جلا دیا ۔نیلا نہر سے اتوار کو لڑکی انکیتا کی لاش بر آمد کرکے پوسٹ مارٹم کیلئے جیسے ہی لائی گئی تو وہاں جمع لوگوں نے ملزمان کو پھانسی دینے کیلئے نعرے بازی کرنے لگے ۔آگ بگولہ لوگوں نے ممبر اسمبلی کی گاڑی پر حملہ کیا اور ونترا ریزورٹ کے پیچھے بنی ایک فیکٹری کو جلا دیا ۔ دراصل سارا معاملہ 19سالہ لڑکی استقبالیہ انکیتا بھنڈاری کے قتل سے پیدا ہوا اترا کھنڈ پولیس چیف نے کہا کہ بھیلا نہر سے لڑکی کی لاش ملی ہے ۔اس پر ریزورٹ کے مالک مہمانوں کو خصوصی سیوا فراہم کرنے کیلئے دباو¿ ڈال رہا تھا ۔ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اشوک کمار نے کہا کہ یہ لڑکی اپنے دوست کے ساتھ گئی تھی اور چیٹ کی مدد سے جانکاری ملی ہے اس سے پہلے اس لڑکی ایک فیسبک فرینڈ نے مبینہ طور سے بتایا کہ اس کے دوست کا قتل کر دیا گیا ہے ۔کیوں کہ اس نے ریزورٹ کے مہمانوں کے ساتھ جسمانی رشتہ بنانے سے انکار کر دیا اور مالک نے اس کیلئے اس سے ایسا کرنے کو کہا تھا۔ ریسیپشنسٹ کو ریزورٹ کے مالک اور اس کے دوسرے دو ملازمین نے مبینہ طور سے مار ڈالا یہ ریزور ٹ بھاجپا کے نیتا کے بیٹے کا ہے ۔ ریزورٹ کے مالک ملکت آریہ اور اس کے منیجر انکت گپتا کو گرفتار کیا گیا تھا جو اس وقت 14دن کی عدالتی حراست میں ہے ۔اس معاملے میں اہم ملزم ونود آریہ اتراکھنڈ بھاٹی کلا بور ڈ کے چیئر مین بھی رہ چکے ہیں جب ملزمان کو کورٹ دوار عدالت میں لے جایا جا رہا تھا تب ان پر بھیڑ نے حملہ کر دیا ۔تینوں ملزمان کے ساتھ مارپیٹ ہوئی پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق ریزورٹ میں غیر مہذب سرگرمیوں کا انکشاف کرنے کی دھمکی دینے پر ملزمان نے انکیتا کو مارڈالا تھا ۔وزیر اعلیٰ پشکر دھامی کی ہدایت پر جمعہ کو دیر رات پلکت کے ریزورٹ پر بلڈوزر چلا یا گیا ۔ وہی بھاجپا نیتا ونو د آریہ کو بھاجپا اعلیٰ کمان نے پارٹی سے نکا ل دیا ہے ۔پارٹی ملزم کے بھائی انکت بھی پارٹی سے نکالے گئے ۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے دہرادون میں بتایا کہ سرکار انکیتا قتل معاملے کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت سے کر وائیں گے ۔ گھناو¿ نے جرائم کرنے والوں کو بخشا نہیں جانا چاہئے ۔ان کے کیس کو دوسروں کیلئے مثال بنا نا ہوگاتاکہ آئندہ ایسے جرائم کرنے والوں کو سبق ملے ۔یہ انکیتا کا کیس تو پکڑا گیا ہے لیکن نہ جانے کتنی انکیتا ان گھناو¿نے کانڈ میں انصاف نہ پانے کی منتظر ہوتی ہیں۔ (انل نریندر)

نفرت کی دیوار !

عزت مآب سپریم کورٹ نے ایک بار پھر نیوز چینلوں اور سماجی اسٹیج پر بے لگام نفرت آمیز تقریروں کو لیکر اعتراض جتایا ہے ۔ میڈیا میں نفرت بھر ے پروگراموں کی بہتاط پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے زبانی تبصرہ کیا کہ دیش آخر کدھر جا رہا ہے ۔ ہیٹ اسپیچ کوکنٹرول کرنے کیلئے سخت میڈیا ریگولیشن کی ضرورت ہے ۔عدالت نے کہا کہ اس مسئلے پر مرکزی حکومت چپ کیوں ہے ؟پچھلے دو برسوں میں یہ تیسری مرتبہ ہے جب سپریم کورٹ نے سخت الفاظ میں نفرتی تقاریر پر تبصرہ کیا ہے ۔ چینلوں اور سماجی اسٹیجیز پر نفرت پھیلانے والے پروگراموں اورجا نبدارانہ نیو ز دکھانے کے ٹرینڈ پر جنتا کا فی عرصے سے اعتراض جتا رہی ہے سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کی عرضی پر بھی سوال کھڑا کیا اور کہا کہ یہ سب جو رہا ہے اس پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جسٹس کے ایم جوسیف اور جسٹس رشی کیش رائے کی بنچ ہیٹ اسپیچ کو کنٹرول کرنے کیلئے عرضیوں پر وسماعت کررہی ہے ۔ اس میں یو پی ایس سی ،لو جہاد،اور دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والی تقریروں و کورونا کے دوران فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والے بیانات کو لیکر دائر عرضیاں شامل ہیں ۔ بنچ نے کہا کہ نفرتی تقریرپر قانون کمیشن کی رپورٹ پر مرکزی حکومت اپنا رخ صاف کرے ۔اب تو اپوزیشن پارٹیاں بھی پبلک اسٹیجیز پر سیدھے سرکار کی طرف انگلی اٹھاکر کہ میڈیا کے بےجا استعمال پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔ حالاںکہ عدالت کے تبصرے پر ایک سرکار کا رخ کچھ ضرور سخت دکھائی دیا مگر اس ٹرینڈ پر روک لگانے کی قوت ارادی نظر نہیں آئی ۔ کچھ مہینے پہلے وزارت اطلاعات نے کچھ ٹی وی چینلوں کو سخت ہدایات جاری تھی کہ وہ نیوز کی پیشکش میں وقار کا خیال رکھیں ساکھ خراب نہ کریں ۔ لیکن اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا ۔تازہ بیان کے وقت سپریم کورٹ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ می ایک نیوز چینل پر بھاری جرمانہ بھی لگایا گیا تھا ۔ مگر ہمارے یہاں یہ سسٹم نہیں ہے نفرتی تقریر یا افواہ پھیلانے کے قانون میں تشریح طے کی ہے ۔ بنچ نے سرکار سے جواب کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ سارے معاملے میں وہ خاموش تماشائی کو بنی ہوئی ہے۔ سرکار کو ایک اتھارٹی بنائی چاہئے جس کی گائڈ لائنز کی تعمیل پر عمل کیلئے پابند ہونا چاہئے ۔ ٹی وی چینلوں کے نیوز اینکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ جیسے ہی کوئی نفرت پھیلائے تو اسے روکے لیکن ہوتا ہے اس کا الٹا ۔اگر کوئی پینلسٹ اپنی بات رکھنا چاہتا ہے تو اسے موقع ہی نہیں دیا جاتا اور اس کی آواز ناظرین کیلئے بند کر دی جاتی ہے ۔ بحث پوری طرح آزادانہ ہونا چاہئے ۔ لیکن لائن کہاں کھینچنی ہے یہ مقرر کرنا پڑے گا۔ ٹی وی کا عوام الناس پر گہرا اثر پڑتا ہے ہیٹ اسپیچ سے سماج کا تانا بانا کمزور ہوتا ہے اور نفرت کی اس دیوار پر لگام کسنی ہی چاہئے ۔ (انل نریندر)

25 ستمبر 2022

چیتے تو آ گئے لیکن چنوتیاں کم نہیں!

جنگلی جانوروں کے ماہرین کا خیال ہے کہ مدھیہ پر دیش کے کونو نیشنل بائیولوجیکل پارک میں دیش سے ناپید ہوئے چیتوں کو بسانے کی کئی دہائیوں سے کوششوں کی محنت رنگ لائی جب افریقی ملک نامیبیاسے آٹھ چیتوں کی پہلی کھیپ یہاں پہنچی اس کے پیچھے کئی برسوں کی ریسرچ اور محنت تھی ۔ بھارت اور ساو¿تھ افریقہ کے ماہرین شامل رہے 17ستمبر کو ایک شاندار تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ان چیتوں کو باقاعدہ طور سے پارک میں واقع باڑو میں چھوڑ دیا ۔ لیکن جنگلاتی ماہرین مانتے ہیں کہ صرف اتنا ہی کافی نہیں ہوگا حالاں کہ سبھی چیتوں کی گردنوں میں کالر بیلٹ بندھے ہوئے ہیں اور جنگل میں بھی سی سی ٹی کیمرے اور ڈرون سے بھی ان کی نگرانی جاری ہے ۔فی الحال یہ چیتے کوارنٹائن ہیں اور ایک مہینہ پورا ہونے کے بعد انہیں جنگل میں چھوڑا جائے گا ۔ لیکن اس کے بعد مدھیہ پر دیش کے جنگلاتی عملے اور کونو نیشنل پارک کے حکام کے سامنے کئی چنوتیاں کھڑی ہو جائیں گی ۔ ریاستی حکومت کے چیف جنگل محافظ اور چیف ورلڈ لائف وارڈن جسبیر کہتے ہیں کہ چنوتی اس وقت شروع ہوگی جب ان کا سامنا دوسرے پرندوں چرندوں اور جانوروںسے ہوگا ۔وہ کہتے ہیںکہ ویسے ان کے آنے سے پہلے ہی بہت سارے انتظام ان کے سی سی ٹی وی کیمرے جنگل کے بڑے حصے میںلگا ئے گئے ہیں اور کنٹرولر روم بھی بنا یا گیا ہے یہاں ان پر دن رات نظر رکھی جاتی ہے جب یہ جنگل میں چھوڑ دئے جائیںگے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے توجہ ہٹ جائے گی۔ ہر چیتے کی گردن میں کالر لگا ہوا ہے جس سے اس کے ہر پہلو کی نگرانی ہوگی ۔وہیں کچھ جنگلاتی ماہرین کو لگتا ہے کہ کہیں چیتے چھلانگ لگاکر پارک کے آس پاس بسے دیہات میں نہ گھس جائیں ؟ یہ چنوتی اس لئے بڑی ہے کیوںکہ یہ افریقی چیتے ہیں یہ دوسرے ایشائی چیتوں سے تھوڑ ے الگ ہیں ۔ کونو میں تیندو¿ں کی تعدا د بھی کافی زیادہ اور یہاں لکڑ بگھے بھی کافی تعدا دمیں ہیں جو ان چیتوں سے زیادہ طاقتور ہیں اور ان پر حملہ بھی کر دیتے ہیں اس لئے انہیں جنگلی کتوں کے حملوں سے بھی بچانا ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح ان کیلئے قدرتی رہائش تیار کی گئی ہے تاکہ انہیں پریشانی نہ ہو ایک دوسرے جنگلاتی ماہر تھاپر کا کہنا ہے کہ ان چیتوں کو جنگل کے آس پاس بہت سارے دشمن ملیں گے ان کے لئے شکار بہت کم ملے گا۔ دوسرا اہم پہلویہ ہے کہ گراس لینڈ کی کمی وہ افریقہ کی مثال دیتے ہیں کہ وہ چیتوں کی تندرستی اس لئے ہے کہ ان کے دوڑنے کیلئے کافی لمبی چوڑی جگہ ہے یہاں ویسا نہیں ہے ۔جنگلی جانوروں کے ڈاکٹر کارتی کین کا اندیشہ ہے کہ افریقہ سے آئے نئے ماحول میں چیتو ںکے درمیان انفیکشن ہو سکتا ہے ۔دیگر طرح کے وائرس کا بھی اندیشہ زیادہ ہوگا ۔ چیتے چوٹ یاوائر س انفیکشن برداشت نہیں کر سکتے ۔ (انل نریندر)

جب مسجد پہنچے آر ایس ایس چیف !

جمعرات کو دو خبریں دیش میں اہمیت سے چھائی رہیں پہلی کٹر مسلم تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)سے جڑے ٹھکانوں پر این آئی اے کے چھاپے اور اس کے حکا م و ورکروں کی گرفتاری اور دوسری آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کا ایک مسجد میں جانا انہیں اماموں کی ایک تنظیم کے صدر نے راشٹر پتا کہا۔حالاںکہ آر ایس ایس سے جڑے نیتا کو مہاتما گاندھی کو راشٹر پتا کہے جانے پر اکثر اعتراض جتاتے ہیں ۔ اخبار میں شائع خبروں کے مطابق مدرسوں کے بچوں سے بات چیت کے دوران امام عمر احمد الیاسی نے بھاگوت کو راشٹر پتا کہا تھا جس پر موہن بھاگوت نے کہا کہ سب لوگ ایک قوم کی اولاد ہیں ۔ کستربا گاندھی مارگ پر واقع مسجد کے امام آل انڈیا آرگنائزیشن کے سرے سروا عمیر احمدالیاسی سے آر ایس ایس چیف نے تنہائی میں تقریبا ً 40منٹ تک بات کی ٹی وی نیوز چینل 24نے مولانا الیاسی سے پوچھا تھا کہ وہ موہن بھاگوت کے بیان پر کیا کہیں گے کہ ہندو اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہے اور کہا کہ مسلمانوں کے بغیر ہندوستان مکمل نہیں ہوتا اس کے جواب میں عمیر احمد نے کہا کہ جو انہوں نے کہا وہ صحیح کیوں کہ وہ راشٹر پتا ہیں ۔ الیاسی نے بتایا کہ موہن بھاگوت ان کے دعوت پر ہی آئے تھے ۔ آر ایس ایس چیف کو نہ صر ف راشٹر پتا بلکہ راشٹر رشی بھی کہا مانا جا رہا ہے کہ آر ایس ایس اپنی مسلم مخالف ساکھ کو چھوڑنے اور مسلمانوں کے ایک طبقے کو اپنے ساتھ جوڑ نے کی کوشش کے تحت رابطہ مہم چلا رہی ہے ۔ آر ایس ایس چیف کا دہلی میں مسجد اور مدرسے جانا ٹھیک اسی دن ہوا جس دن کئی اخباروں اور ویب سائٹ کے ذریعے سے موہن بھاگوت اور پانچ مسلم دانشوروں کی ملاقات کی خبر باہر آئی یہ ملاقات پچھلی 22اگست کو ہوئی تھی لیکن اس کی خبر اب سامنے آئی ۔ بھاگوت کے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی اور دہلی کے سابق لیفٹننٹ گورنر نجیب ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ضمیرالدین شاہ اور سابق ایم پی ساہل صدیقی اور بزنس مین سعید شیروانی شامل تھے ۔ بھاگوت سے دہلی میں واقع آر ایس ایس کے ایک دفتر میں ملاقات ہوئی تھی ۔ اس ملاقات کے بعد سابق لیفٹننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ نے بی بی سی سے کہا کہ ملک میں جس طرح کے حالات ہیں ان سے اگر کوئی موثر طریقے سے نمٹ سکتا ہے تو وہ یا وزیر اعظم نریندر مودی ہیں یا پھر موہن بھاگوت ہم نے ان سے بات چیت کیلئے وقت مانگتے ہوئے کچھ وقت پہلے خط بھیجا تھا اس ملاقات کے بارے میں ہم پرانے دوستوں کے درمیان مہینوں بات چیت ہوئی اور اس کے بعد ہی بات چیت کیلئے وقت طے کیا گیا۔ (انل نریندر)

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...