Translater

29 جولائی 2017

بہار میں سیاسی زلزلہ کے وہ تین گھنٹے

بہار میں جو سیاسی بھکمپ آیا وہ کسی ہندی فلم سے کم نہیں تھا۔محض تین گھنٹے میں بہار کا سیاسی پس منظر بدل گیا۔ نتیش کمار بہار کے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینے گئے اور پھر یہ خبر بدھوار کو ساڑھے چھ بجے کے آس پاس آنی شروع ہوگئی تھی۔ جنتادل یونائیٹڈ کی اسمبلی پارٹی کے نیتاؤں کے ساتھ میٹنگ کے بعد نتیش کمار میڈیا سے بات کرتے دکھائی دئے لیکن اس سے پہلے انہوں نے سیدھا راج بھون کا رخ کیا۔ قیاس آرائیوں کا دور لمبا نہیں چل پایا کیونکہ محض آدھے گھنٹے کے اندر میڈیا کو نتیش نے جانکاری دی کے میں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ نتیش کمار نے اپنے استعفے کے اعلان میں لالو پرساد یادو کو نشانے پر لیا۔ انہوں نے کہا دھن سمپتی غلط طریقے سے اکھٹی کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔ کفن میں کوئی جیب نہیں ہوتی ہے، کوئی لیکر نہیں جاتا۔ ظاہر ہے لالو یادو پر جس طرح سے کرپشن کے معاملہ چل رہے ہیں، آمدنی سے زیادہ املاک بنانے کا الزام لگتے رہے ہیں ، اسے نتیش نے زور دار طریقے سے جنتا کے سامنے رکھا۔ نتیش کمار نے ان سب کے درمیان نریندر مودی سرکار کو حمایت کا معاملہ چاہے نوٹ بندی کا ہو ،چاہے صدارتی چناؤ ہو اس پر اپنی حکمت عملی کو بھی صحیح ٹھہرایا۔ حکمت عملی کی بات کریں تو ماسٹر اسٹروک تو پردھان منتری نریندر مودی کا تھا۔ مودی نے بہار میں جے ڈی یو ۔ آر جے ڈی اتحاد کو ختم کرنے کے ساتھ ہی اپوزیشن کے قومی سطح پر مہا گٹھ بندھن کھڑا کرنے کے امکانات کو بھی زبردست جھٹکا دیا ہے۔ مودی کئی دنوں سے نتیش کمار کے آگے چارا ڈال رہے تھے آخر کار بدھوار کو ان کی کوشش کامیاب ہوئی جب نتیش نے آر جے ڈی گٹھ بندھن سے باہر نکلتے ہوئے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اگلے دن ہی بھاجپا کے تعاون سے نئی سرکار بنالی۔ نریندر مودی کی کانگریس مکت بھارت اور پورے دیش کو بھگوا کرنے کا سپنا کافی حد تک کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس وقت پورے دیش میں بھاجپا اور اس کے حمایت سے17 راجیوں میں سرکار ہے جبکہ کانگریس محض 5 راجیوں میں ہی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ بہار میں گٹھ بندھن ٹوٹنے کے بعد کانگریس گھٹ کر 4 راجیوں میں رہ جائے گی اور بھاجپا کا آنکڑہ بڑھ کر 18 ہوجائے گا۔ آر جے ڈی چیف لالو یادو کا الزام تو ہے ہی کہ سیاسی جانکاروں کے مطابق بدھوار کے سیاسی واقعہ کے پوری کہانی طے تھی۔ سابق گورنر رامناتھ کووند کے استعفے کے بعد بہار کا ایڈیشنل چارج بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کے پاس ہے۔ انہیں بدھوار کو پٹنہ میں نہیں رہنا تھا۔ وہ خاص طور پر دوپہر کو وہاں پہنچے اور اسمبلی پارٹی کی میٹنگ کے بعد نتیش نے جب انہیں اپنا استعفیٰ سونپا تو انہوں نے فوراً منظور کرلیا۔ انہوں نے جے ڈی یو ممبران اسمبلی کی میٹنگ سے پہلے ہی گورنر سے وقت لیا تھا۔ اس کے چند منٹ بعد پی ایم مودی نے ٹوئٹ کر مبارکباد دی اور نتیش کو ساتھ آنے کی دعوت دے دی۔ مانا جارہا ہے کہ نتیش کا قد بڑھانے کے لئے ایسا کیا گیا ہے۔ گٹھ بندھن سرکار میں نائب وزیر اعلی رہے تیجسوی یادو نے پورے واقعہ پر سوال اٹھاتے ہوئے بدھوار کی رات 1 بجکر 20 منٹ پر ٹوئٹ کیا کہ گورنر نے ہمیں صبح 11 بجے کا وقت دیا تھا اور اچانک این ڈی اے کو 10 بجے حلف برداری کے لئے کہہ دیا گیا۔ اتنی جلدی کیا ہے شری ایماندار اور نیتک جی؟ تو کیا لالو کا الزام صحیح ہے کہ نتیش اور بھاجپا اتحاد پہلے سے ہی تھا۔ بھاجپا نتیش کے ساتھ کسی ڈیل کے تحت مہا گٹھ بندھن کو نہ صرف بہار میں ہی توڑنا چاہتی تھی بلکہ قومی سطح پر مہا گٹھ بندھن کے فروغ کو روکنا بھی چاہ رہی ہے۔ نتیش کمار کو مہرہ بنا کر بھاجپا نے اپنی حکمت عملی کو کامیابی دلا دی۔ بھاجپا ۔ جے ڈی یو اتحادی سرکار بنانے سے صاف ہے کہ یہ سب اچانک نہیں بلکہ پہلے سے طے حکمت عملی کے تحت ہوا۔ سیاستداں وہی ہوتا ہے جو آنے والے خطرے کی آہٹ سمجھ لے۔ زیادہ سیٹ ملنے کے باوجود آر جے ڈی ، جے ڈی یو کے ساتھ ساتھ چھوٹا بھائی والے برتاؤ سے دکھی تھا۔ نتیش نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں میرے لئے کام کرنا مشکل تھا۔ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو چاہتے تھے کہ میں انہیں سنکٹ سے نکالوں لیکن وہ سنکٹ ان کے خود کا لایا ہوا تھا۔ آر جے ڈی منتری میری کوئی بات نہیں سنتے تھے۔ وہ لالو کو رپورٹ کرتے تھے۔ ادھر لالو نے نتیش پر کئی الزام لگائے ہیں۔ نتیش قتل کے ملزم ہیں، لالو کا کہنا ہے زیرو ٹالیرینس والے پر 320 کا کیس ہے۔ 1991 ء میں قتل کا کیس لگا یہ نتیش کے چناؤ مشن میں دئے گئے حلف نامے میں ہے۔ کرپشن سے بڑا ہے ظلم کا کیس کو اسٹے کرادیا گیا۔ اب ہائی کورٹ میں معاملہ چل رہا ہے۔ اس سے انہیں عمر قید یا پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس لئے نتیش نے بھاجپا کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کر مہا گٹھ بندھن کو توڑا۔ تازہ واقعہ کے بعد لالو اور تیجسوی یادو کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟ نتیش کے بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد لالو کے لئے قومی سیاست میں خود کو سنجیدہ بنائے رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ تمام کرپشن کے مقدموں میں گھرنے کے بعد لالو کے سامنے اب زیادہ سیاسی متبادل بھی نہیں بچا ہے۔ ایسے میں اب یہ طے ہوگا کہ لالو 27 اگست کی ریلی کرپاتے ہیں یا نہیں؟ اس ریلی میں انہوں نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے نیتاؤں کو بلایا ہے۔ پھر اس بات کی بھی قیاس آرائیاں لگائی جارہی ہیں کہ حالیہ صورتحال میں کانگریس کا کیا رخ ہوتا ہے۔ راہل گاندھی ۔نتیش پر بڑا بھروسہ کرتے تھے۔ مودی کی بھاجپا کے خلاف 2019ء کی تیاری میں وہ اپوزیشن کی طرف سے نتیش کو اہم ذمہ داری میں رکھنا چاہتے تھے۔ کانگریس ابھی اس سوال کا جواب نہیں دے پارہی ہے کہ اس کی مستقبل کی حکمت عملی کیا ہے۔
بہار کا یہ واقعہ 2019ء کے لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپوزیشن کے اتحاد کو بڑا جھٹکا تو ہے ہی، کرپشن کے خلاف مہا گٹھ بندھن کو توڑ کر نتیش نے اپنی سیاسی زندگی کا ایک بڑا داؤں بھی کھیلا ہے۔ مہا گٹھ بندھن سے الگ ہونے کے لئے نتیش نے ضمیر کی آواز اور اخلاقیات کی دلیل دی۔ ایسا کرکے انہوں نے ہمدردی بھی پا لی۔ لالو اپنے بیٹے کا استعفیٰ دلا کر اسے حاصل کرسکتے تھے یہ اس لئے بھی نتیش کا سیاسی ٹیلنٹ کہا جائے گا کیونکہ انہوں نے اقتدار بھی نہیں گنوایا اور قومی پس منظر پراپنا قد بھی بڑھا لیا۔وہ خود کو ایسے نیتا کے طور پر پیش کرنے میں بھی کامیاب رہے جو کرپشن کو لیکر سنجیدہ نظر آتا ہے۔ دوسری طرف لالو یادو ایک بار پھر خود کو اقتدار کے گلیاروں سے باہر پا رہے ہیں۔ جہاں تک بہار کی جنتا کا سوال ہے اسے لگتا ہے کہ لالو فیکٹر کے ہٹنے سے بہار کو صاف ستھرا انتظامیہ ملے گا۔ کرپشن اور جنگل راج سے آزادی ملے گی۔ خیال رہے کہ نتیش نے بھاجپا کے ساتھ نہ صرف کہیں زیادہ کھل کر سرکار چلائی بلکہ بہار کو دردشا سے باہر نکالنے میں بھی کامیابی پائی تھی۔ حالانکہ اس واقعہ سے خودساختہ سیکولر طاقتیں ،تمام اپوزیشن کو تھوڑی سے پریشانی ہوگی لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ اور زیادہ بے سمت اورکمزور دکھائی دینے لگی ہے۔
(انل نریندر)

28 جولائی 2017

وادی کشمیر میں ٹیرر فنڈنگ پر این آئی اے کا شکنجہ

کشمیر وادی میں دہشت گردی کے واقعات اور تباہی کی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے پاکستان سے مالی مدد لینے کے معاملے میں قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کو ایک ٹھوس قدم اٹھاتے ہوئے حریت نیتاؤں کو گرفتار کرنا پڑا۔گرفتار لوگوں میں حریت کانفرنس کے کٹر و علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کا داماد الطاف احمد شاہ عرف الطاف پھندوش اور حریت کے میرواعظ گروپ کے ترجمان اعجاز اکبر وغیرہ شامل ہیں۔ این آئی اے وادی میں تشدد پھیلانے کے لئے جاری ٹیرر فنڈنگ کو روکنے کے لئے سرگرم ہے۔ اس مہینے کی 5 تاریخ کو جموں و کشمیر پولیس نے علیحدگی پسند لیڈر میر واعظ عمرفاروق کی سکیورٹی میں کٹوتی کرتے ہوئے اس کی تعداد آدھی کردی تھی۔ اب میر واعظ کی سکیورٹی میں پہلے سے تعینات 16 جوانوں کی جگہ صرف8 جوان ہیں۔ جون میں علیحدگی پسند لیڈروں کے سرینگر میں کئی ٹھکانوں پر چھاپے ماری ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ دہلی کے بلیماران، چاندنی چوک اور روہنی و گریٹر کیلاش پارٹ 2 علاقوں کے ساتھ ہریانہ کے سونی پت میں واقع ایک کولڈ اسٹوریج میں بھی چھاپہ ماری کی گئی تھی۔ اس چھاپہ ماری میں ایک کروڑ روپے نقد ممنوع آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے لیٹرہیڈ اور قابل اعتراض دستاویزات برآمد کئے گئے تھے۔ اعجاز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے تعلقات حزب المجاہدین کے سرغنہ صلاح الدین سے ہیں۔ ایجنسی کا دعوی ہے کہ یہ لوگ حوالہ کے ذریعے پاکستان کی آتنکی تنظیموں اور کچھ لوگوں سے ہریانہ، ہماچل اور دہلی کے کچھ تاجروں کے ذریعے سے پیسہ لیتے تھے۔ اس پیسے کا استعمال عام کشمیریوں اور خاص کر طلبا کو بھڑکا کر سکیورٹی فورس پر پتھر بازی کرنا، اسکولوں اور سرکاری اداروں کو جلانے اور دیگر طریقوں سے نقصان پہنچانے کیلئے کیا جاتا تھا۔ 90 کی دہائی کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی مرکزی ایجنسی کو علیحدگی پسندوں کی مالی کفالت کے سلسلے میں چھاپہ ماری کرنے پڑی۔ آتنکی سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے ملزموں کی شمولیت کا خلاصہ پچھلے مہینے ایک نجی چینل کے اسٹنگ آپریشن سے ہوا تھا۔ پاکستان کے حکمراں شروع سے ہی بھارت مخالف سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے کے لئے کئی آتنک وادی اور علیحدگی پسند گروہ کو لگاتار پناہ،فروغ اور اقتصادی مدد دیتے آرہے ہیں۔ ایک طرف پاکستانی سرکار کشمیر وادی میں سرگرم علیحدگی پسندوں اور آتنکی گروپوں کو مدد دے کر یہاں خون خرابہ اور خونی کھیل کروا رہی ہے تو دوسری طرف پاکستانی فوجیں لگاتار جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ صرف اسی برس 22 جولائی تک وہ 250 سے زیادہ جنگ بندیوں کی خلاف ورزیاں کرچکی ہے۔ علیحدگی پسند لیڈر میرواعظ کے ادارے (انجمن نصرت السلامیہ) کو لیکر لشکر طیبہ کی سسٹر تنظیم جماعت الدعوی سے پیسہ حاصل ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ غور طلب ہے کہ کشمیر وادی میں قریب ایک سال سے آتنکی واقعات اور سکیورٹی فورس پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ اس کے علاوہ عام شہریوں کو بھڑکا کر ان سے پتھر بازی کرانے کے واقعات تو ہفتوں تک جاری رہے۔ کہا جارہا ہے کہ کچھ لوگ نوجوانوں ، دیہاتیوں اور مزدوروں کے لئے پیسہ مہیا کرواتے ہیں۔ ان گرفتاریوں سے ایسے لوگوں کا نقاب اترنے کی امیدکافی ہے۔ ان ثبوتوں کا استعمال بھارت دنیا کو یہ بتانے کے لئے کرسکتا ہے کہ کشمیر وادی میں شورش کی اصل وجہ کیا ہے اور کون اس کے پیچھے ہے۔ اس سے حال ہی میں پاکستان کو امریکہ کے ذریعے دہشت گردی کی پناہ گاہ کہنے کو بھی تقویت ملتی ہے۔ امریکہ نے دہشت گردی کی پناہ گاہ ملکوں کی فہرست میں ڈالتے ہوئے یہ الزام لگایا ہے کہ وہ لشکر اور جیش جیسی آتنکی تنظیموں کو پھلنے پھولنے کا موقعہ دے کر انہیں دنیا بھر میں آتنک مچانے میں مدد دے رہا ہے؟ امید ہے کہ گرفتار نیتاؤں سے اور کئی اہم جانکاریاں ملیں گی اور پورے کھیل کا پردہ فاش ہوگا۔
(انل نریندر)

سیاسی چندے کا معاملہ: اس حمام میں سبھی پارٹیاں ننگی ہیں

سیاسی پارٹیوں کو ملنے والے چندے کو لیکر پچھلے دنوں چلی آرہی بحث کے درمیان وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا یہ بیان حیران کرنے والا ہے کہ سیاسی پارٹیاں چندے کو شفاف بنانے کے معاملے میں ان کی تجویز کو آگے نہیں بڑھا رہی ہیں۔ موجودہ سسٹم میں اگر سیاسی پارٹیاں تبدیلی نہیں چاہتیں تو اس میں حیرانی کی بات نہیں ہے۔ اب تک کسی بھی سیاسی پارٹی نے اس بار کوئی تجویز نہیں دی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ تب ہے جب اس کے لئے زبانی اور تحریری درخواست بھی کرچکے ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی کرپشن کے اس سب سے بڑے اشو پر تبدیلی نہیں چاہتی۔ یعنی چناؤ اصلاحات کو لیکر سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دئے جانے والے بیان صرف محض دکھاوے کے لئے ہیں۔ ہاتھی کے دانت کی طرح ہیں۔ سیاسی پارٹیاں چناؤ لڑنے کے لئے اور روز مرہ کے خرچ کے لئے کاروباری گھرانوں سے بڑی تعداد میں چندہ لیتی ہیں ۔1951ء کے عوامی رائے دہندگان قانون کی دفعہ 29 پی کے مطابق ان مدوں پر صدفیصد چھوٹ کیلئے پارٹیوں کو 20 ہزار روپے سے اوپر کی رقم کے بارے میں چناؤ کمیشن کے سامنے اعلان کرنا ہوتا ہے۔ 303.42 کروڑ کے ایسے چندے ہیں جن کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہے اور ان کے پتہ کو سیاسی پارٹیوں نے نہیں بتایا۔ 183.915 لاکھ روپئے کا چندہ دینے والے 20 عطیہ کنندگان کے پین نمبر، پتہ وغیرہ کی کوئی تفصیل بھاجپا نے نہیں دی ہے۔ بھاجپا نے صرف عطیہ کنندہ کے نام اور رقم کا ذکر کیا ہے۔ 55.88 لاکھ روپئے کانگریس نے نقد حاصل کئے جبکہ 11 ایسے عطیہ کنندگان کے پین کی تفصیل نہیں ہے۔ کانگریس نے چناؤ کمیشن کے جاری ڈکومینٹ میں چندے کی تفصیل میں چیک کا نمبر نہیں ڈالا۔ 4.49 لاکھ روپئے 8 عطیہ کنندہ سے سی پی آئی نے لئے لیکن تفصیل نہیں دی۔ سی پی ایم نے بھی عطیہ کنندگان کے پتے نہیں دئے اور گول مول تفصیل پیش کردی۔ سبھی سیاسی پارٹیاں چناؤ اصلاحات کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کرتی ہیں، لیکن جب کسی نتیجے یہ فیصلے پر پہنچنے کی باری آتی ہے تو وہ کنی کاٹ جاتی ہیں۔ ایسے معاملوں میں سبھی پارٹیوں کمال کا اتفاق رائے نظر آتا ہے۔وزیر خزانہ بیشک جتنی تجاویز مانگیں کوئی بھی پارٹی اس معاملے میں سامنے آنے والی نہیں ہے۔ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ اگر مودی سرکار صحیح معنوں میں چناؤ اصلاحات چاہتی تو مناسب یہی ہوگا کہ سرکار اپنے سطح پر فیصلہ لے اور آگے بڑھے۔ اگر اس دیش میں کرپشن پر لگام کسنی ہے تو سب سے زیادہ ضروری ہے چناوی چندوں میں شفافیت لانا اور صحیح حساب کتاب جنتا کے سامنے پیش کرنا۔
(انل نریندر)

27 جولائی 2017

آر ٹی آئی سی خلاصہ :ای وی ایم گڑبڑی ہوئی

پانچ ریاستوں میں ہوئے چناؤ نتائج سامنے آتے ہیں مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) میں گڑبڑی کے الزام لگنے شروع ہوئے اب ای وی ایم میں گڑبڑی ایک بڑا اشو بنتا جارہا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے ای وی ایم کو لیکر ایک بار پھر سوال اٹھائے ہیں۔ عوام آدمی پارٹی نے ایتوار کو کہا کہ اسے تو چناؤ افسر نے اطلاع کے حق کے تحت مان لیا ہے کہ چناؤ میں گڑبڑی ہوئی تھی۔ آزاد امیدوار کا ووٹ بھاجپا کو گیا۔ عاپ نے کہا بھاجپا کو اب یہ مان لینا چاہئے کہ مودی لہر نہیں ، بے ایمانی کی لہر تھی۔ بھاجپا ای وی ایم میں گڑبڑی سطح پر پہلے سے طے سیٹنگ کر سبھی چناؤ کو بے ایمانی سے جیتتی آئی ہے اور اب چناؤ کمیشن کو سبھی دلیلیں کنارے کر اعلی سطحی جانچ کرنی چاہئے۔ عاپ کے چیف ترجمان سورو بھاردواج نے مہاراشٹر میں ہوئے ضمنی چناؤ کو لیکر ٹوئٹ کرکے کہا کہ آر ٹی آئی کے جواب میں کہا گیا ہے کہ آزاد امیدوار کو ملے ووٹ بھاجپا کو چلے گئے۔ یہ معاملہ بلڈھانہ ضلع چناؤ پریشد کا ہے۔ ریٹرننگ افسر نے اس معاملہ کی تصدیق کی ہے کہ چناؤ کمیشن کے دعوؤں کے برعکس مہاراشٹر میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی بات ثابت ہوئی ہے۔ اب اطلاع کے حق کے تحت ملی جانکاری سے خلاصہ ہوا ہے۔ آر ٹی آئی رضاکار انل گلگلی نے بتایا کہ مہاراشٹر کے بلڈھانہ ضلع میں حال ہی میں ہوئے پریشد چناؤ کے دوسران لونہار کے سلطان پور گاؤں میں پولنگ کے دوران ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی بات سامنے آئی ہے۔ گلگلی نے کہا کہ ووٹر جب بھی ایک امیدوار کو الاٹ چناؤ نشان ناریل کا بٹن دباتے ہیں تو بی جے پی کے چناؤ نشان کمل کے سامنے والا ایل ای ڈی جل اٹھتا ہے۔ چناؤ افسر نے اس کی جانکاری ضلع افسر کو دی جس کا خلاصہ آرٹی آئی سے ملی جانکاری سے ہوا ہے۔ چناؤ حلقہ سے کئی چناؤ افسران کے ذریعے ضلع ادھیکاری کے پاس شکایت کرنے کے بعد اس پولنگ مرکز پر پولنگ منسوخ کردی گئی۔ پولنگ مرکز کوبند کردیا گیا۔ گڑبڑ ای وی ایم مشین کو سیل کردیا گیا۔ بعد میں پولنگ پوری طرح سے منسوخ کر پانچ دن بعد 21 فروری کو دوبارہ کرائی گئی۔ کیا واقعی ای وی ایم مشین میں گڑبڑی ممکن ہے؟ کیوں دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں اس تکنیک کو نہیں اپنایا ہے؟ بین الاقوامی سطح پر خیال ہے کہ ای وی ایم گڑبڑیوں سے آراستہ ہے اور اس کے ساتھ آسانی سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے اور اس کے لئے راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس تکنالوجی کے دور میں تو یہ اور بھی زیادہ حساس ترین اشو بن گیا ہے۔ یوروپ اور نارتھ امریکہ اس سے پہلے ہی توبہ کرچکے ہیں۔ نیدر لینڈ نے ای وی ایم مشین سے شفافیت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے پابندی لگادی تھی۔ آئرلینڈ نے 51 ملین اس کی ریسرچ پر خرچ کرنے کے بعد شفافیت کا حوالہ دیتے ہوئے پابندی لگادی۔ جرمنی نے بھی اس میں شفافیت نہ ہونے کا حوالہ دے کر غیر آئینی قراردیا اور پابندی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا آسان ہے۔ امریکہ کے کیلیفورنیا نے اس میں پیپر ٹریل نہ ہونے کی وجہ سے پابندی لگادی تھی۔ فرانس و انگلینڈ میں بھی اس کا استعمال نہیں کیا جاتا وہیں یہ بھی سچ ہے کہ آج تک بھارت میں کوئی بھی سیاسی پارٹی ای وی ایم کی ہیکنگ کا پختہ ثبوت نہیں دے پائی ہے۔ چناؤ کمیشن کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ مشین کو دو بار چیک کیا جاتا ہے۔ اسے امیدوار کے سامنے جانچ کرکے سیل کیا جاتا ہے۔ کاؤنٹنگ سے پہلے بھی ای وی ایم کو امیدوار کے سامنے کھولا جاتا ہے۔ بتادیں کہ اس سے پہلے بھی چھیڑ چھاڑ کی شکایتوں پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ معاملہ کو خارج کر چکی ہے۔ چناؤ کمیشن نے دعوی کیا تھا کہ یہ مشینیں پوری طرح سے محفوظ ہیں اور ان میں کسی طرح کی گڑبڑی کئے جانے کی گنجائش نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں سی بی آئی جانچ کی مانگ کو لیکر فی الحال کوئی حکم دینے سے انکار کردیا ہے کیونکہ اب آر ٹی آئی نے نیا خلاصہ کیا ہے اس لئے ای وی ایم پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ سب سے بہتر متبادل یہ ہے کہ ای وی ایم میں پیپر ٹریل لگادیا جائے۔ چناؤ کمیشن کو اپنی ضد چھوڑنی چاہئے اور شفافیت لانے کیلئے وی وی پیڈ کے ساتھ مستقبل میں سبھی چناؤ کرانے چاہئیں۔
(انل نریندر)

چینی مصنوعات کو بھارت سے بھگاؤ

آر ایس ایس کے ماؤتھ پیس پیپر ’پانجنہ‘ میں ایک آرٹیکل چھپا ہے جس کا عنوان ہے ’بول غلط تیل غلط‘ اس آرٹیکل میں چین کو لیکر بھارت کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی پالیسی پر سوال اٹھائے گئے ہیں ساتھ ہی بھارت میں اپنا مال کھپانے کیلئے قیمت سے بھی لاگت پر اپنا مال اتارنے کی پالیسیوں کی بھی بخیا ادھیڑی گئی ہے۔ چین کے بعد بھارت، بھوٹان سرحد پر ہورہی کشیدگی ، چین کے سرکاری میڈیا کے ذریعے روزانہ دئے جارہے بھڑکیلے بیانوں کے پیش نظر سودیشی جاگرن منچ نے چین کو دشمن دیشوں کی فہرست میں ڈالنے کی وکالت کی ہے۔ ساتھ ہی چین کے ساتھ پوری طرح تجارت پر پابندی لگانے کو بھی کہا ہے۔ سیوا بھارتی نے بھارت چین کے باہمی رشتوں کو لیکر ایک سیمینار میں سودیشی جاگرن منچ کے قومی کو کنوینر اشونی مہاجن نے چین کی پالیسیوں اور بھارت کے ساتھ اس کے رشتوں پر اپنی بات رکھی ۔ اشونی مہاجن کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ہمارے ساتھ دشمنی کا برتاؤ کرے اور ہم اس دیش سے 42 ہزار کروڑ روپے کا مال درآمد کررہے ہوں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس دیش کی کمپنیوں کو اپنے یہاں ریل،سڑک، ٹیلی کام سمیت تمام کمپنیوں کو تعمیراتی ٹھیکے بھی دے رہے ہیں۔ انہوں نے چین کا دورہ کرنے والے پالیسی سازوں پربھی سوال اٹھائے۔ مہاجن کا کہنا ہے پالیسی ساز چین کا دورہ کرتے ہوئے پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں جبکہ حساس ترین اورفوجی اہمیت کے ٹھکانوں پر چین کی سرکاری کمپنیاں قابض ہیں۔ کئی ریاستوں کے وزیر اعلی تو یہ کہتے پائے گئے کہ چین سے درآمدتو نہیں لیکن سرمایہ کاری کا سواگت ہے۔ چین کے ذریعے مسعود اظہر کو بین الاقوامی سطح پر آتنک وادی گھوشت کرنے کو لیکر بھارت کی نیوکلیئر سپلائرگروپ (این ایس جی) میں ممبر شپ پراڑنگا لگانا اس کی بھارت کے خلاف دشمنی پر مبنی رویہ ، چین کا ہر معاملہ میں آنکھ بند کر پاکستان کی حمایت کرنا اس کا یہ نظریہ ظاہرکرتا ہے۔ پچھلے سال دیوالی کے موقعہ پر چینی مال کے بائیکاٹ کے چلتے ہندوستانی بازاروں میں چینی سامان کی مانگ 50 فیصد تک کم ہوگئی تھی۔ اس بار بھی چین کے مال کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئے۔ سودیشی جاگرن منچ نے چین کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم عام لوگوں کے ساتھ دہلی کے بازاروں میں بھی جڑنے کی تیاری کرلی ہے اس کے تحت 1سے15 اگست تک دہلی کے بازاروں میں مہم چلائی جائے گی اور دوکانداروں کو چین کے سامان سے توبہ کرنے کے لئے راغب کرتے ہوئے ان سے بائیکاٹ کرنے کا حلف نامہ بھی بھروایا جائے گا۔ چین صرف پیسے کی مار سمجھتا ہے۔ ہم سودیشی جاگرن منچ کی مانگ سے متفق ہیں۔ بھارت سے چینی مصنوعات کو بھگاؤ۔
(انل نریندر)

26 جولائی 2017

کلائمکس کی طرف بڑھتی بہار کی کہانی کا آخری باب

بہار کی سیاست میں لالو پرساد یادو کے رشتہ داروں کے گھروں پر سی بی آئی کے چھاپوں سے پیدا غیر یقینی صورتحال رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار اشارے دے رہے ہیں کبھی کہتے ہیں مہا گٹھ بندھن قائم رکھنے کے لئے الزامات سے گھرے لالو یادو کے بیٹے اور نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو کا استعفیٰ ضروری ہے تو اس سیاسی بحران کو سلجھانے کیلئے کبھی کانگریس نائب صدر راہل گاندھی سے مل رہے ہیں تو کبھی ان کے سپہ سالار بیان بازی کررہے ہیں اور پوسٹر وار شروع کررہے ہیں۔ پٹنہ میں آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے درمیان چھڑی تکرار اب پوسٹر وار میں بدل گئی ہے۔ راجدھانی کے آس پاس گول بند اور اسمبلی کے قریب لگائے گئے پوسٹروں پر جے ڈی یوکے ترجمانوں پر بھاجپا کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پوسٹر کے نیچے لکھا گیا ہے کہ نتیش جی کے منع کرنے کے بعد بھی یہ لوگ باز نہیں آرہے ہیں۔ یہ سب سشیل مودی کے اشارے پر ہورہا ہے۔ اس معاملہ میں سنجے سنگھ نے کہا ہورڈنگ لگانے سے کوئی سچ کو دبا نہیں سکتا۔ جے ڈی یو سچ کو سامنے لانے کے لئے آواز اٹھاتی رہے گی۔ سچ کے لئے ہمیں سو بار بھی گردن کٹانی پڑے تو ہم قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میں اپنی پارٹی کا ترجمان ہوں، سچ بولتا رہوں گا۔ ادھر نئی دہلی میں جب نتیش کمار راہل گاندھی سے ملے تو دونوں کے درمیان کوئی تیسرا شخص نہیں تھا۔ مطلب صاف تھا کہ نتیش اور راہل آپس میں تمام اشوز پر کھل کر بات کرنا چاہتے تھے۔ ذرائع کے مطابق نتیش نے راہل سے صاف کہا کہ وہ گٹھ بندھن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور 2019ء میں اپوزیشن اتحاد کو مضبوط رکھنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے راہل کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کوششوں کے درمیان مودی کے مقابلے کا تصور بھی کمزور ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق راہل اور نتیش کے درمیان یہ رائے بنی کہ بھلے ہی تیجسوی استعفیٰ دینے کی ہڑبڑی نہ دکھائیں لیکن ان پر لگے الزامات کا وہ نقطہ وار جواب دیں اور اعلان کردیں کہ اگر ان کے خلاف ثبوت سامنے آتے ہیں یا چارج شیٹ ہوتی ہے تو وہ خود عہدہ چھوڑ دیں گے لیکن اب لالو پرساد اور تیجسوی سے بات کرنے کی ذمہ داری کانگریس کی ہوگی۔نتیش برے پھنسے ہوئے ہیں ان کی مشکل یہ ہے اگر وہ تیجسوی اور تیج پرتاپ کو کیبنٹ سے باہر کرتے ہیں تو ان کا اہم اتحادی دل راشٹریہ جنتا دل الگ ہوسکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف ان کی سرکار اقلیت میں آجائے گی بلکہ جن اصولوں پر انہوں ن ے راشٹریہ جنتادل اور کانگریس کے ساتھ مل کر اتحاد بنایاتھا اور بھاجپا کو اقتدار سے باہر رکھنے میں کامیابی حاصل کی تھی وہ کہیں حاشیئے پر نہ چلا جائے۔ آر جے ڈی کے 80 ممبران اسمبلی نتیش کے ساتھ ہیں۔ حالانکہ سشیل مودی بہت پہلے اعلان کرچکے ہیں کہ نتیش کمار پر سنکٹ نہیں آنے دیں گے۔ سرکار چلانے میں ان کی مدد کریں گے۔ اشارہ صاف ہے کہ وہ انہیں بھاجپا کے ساتھ مل کر سرکارچلانی ہوگی۔ بھاجپا نے یہ بھی صاف صاف وارننگ دے دی ہے کہ اگر نتیش نے تیجسوی اور تیج پرتاپ کا استعفیٰ نہیں لیا تو وہ اگلی اسمبلی کی کارروائی نہیں چلنے دے گی۔ اگر تیجسوی یادو اپنی بے گناہی کے ثبوت جنتا کے سامنے نہیں لا پائے تو 28 جولائی سے ہفتے بھر چلنے والے اسمبلی کے مانسون اجلاس میں حکمراں اور اپوزیشن کے درمیان اگنی پریکشا طے ہے۔ لالو پریوار کے سنکٹ کے بعد بہار کے سیاسی حالات بتا رہے ہیں کہ ایوان کے اندر اور باہر مہا سنگرام کی کہانی آخری باب تک پہنچ چکی ہے۔ تیجسوی کے پاس خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے وقت کافی کم ہے۔
(انل نریندر)

سینٹری نیپکن جیسی ضروری چیز پر 12% جی ایس ٹی

دنیا بھر کے ترقی یافتہ مکوں میں سینٹری پیڈ کو ہیلتھ پروڈکٹ مانا جاتا ہے۔ امریکہ میں تو اسے میڈیکل ڈیوائز مانا گیا ہے۔ یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اس پر نگرانی رکھتی ہے۔ اسے کئی کوالٹی ٹیسٹ پاس کرنے پڑتے ہیں جبکہ بھارت میں اسے تولئے اور پینسل کی طرح مسلینیس آئٹم کی کٹگری میں رکھا گیا ہے۔ ہمارے دیش میں قریب 47 فیصد مہلائیں ہیں یہ ان کے لئے سب سے ضروری چیز ہے لیکن سرکار اسے مسلینیس کے کیٹگری میں رکھ کر 12% جی ایس ٹی لگا رہی ہے اس کی دیش بھر میں مخالفت ہونا فطری ہے۔ سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو اس کے احتجاج میں ویڈیو بھیجنے والی ون شری وینکٹ کا کہنا ہے کہ آج بھی دیہی علاقوں میں عورتوں اور لڑکیوں میں سینیٹری پیڈ استعمال کرنے کی عادت نہیں ہے ایسے میں انہیں بیدار کرنا ہے تو فری میں پیڈ دستیاب کرانا ہوگا اسے میں 12 فیصد ٹیکس دینا غلط ہے۔ اگر سرکار فری نہیں دے سکتی تو اس پر سبسڈی تو دے سکتی ہے۔ اس پر جی ایس ٹی واپس کرنا چاہئے۔ اس معاملہ میں نیشنل وومن کمیشن کی چیئرمین للتا کمار منگلم کہتی ہیں کہ سیلف ہیلتھ گروپ کے بنائے گئے پیڈ پر جی ایس ٹی بالکل بھی نہیں ہونا چاہئے لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے کبھی یہ چھوٹ کچھ شرطوں کے ساتھ ہی ہونی چاہئے۔ گاؤں میں محض نیپکن دستیاب کرائیں اور عورتوں کو بیدار بھی کریں ساتھ ہی پروڈکٹ کی کوالٹی بھی چیک کرنی چاہئے۔ آسام سے ممبر پارلیمنٹ سشمتا دیو کہتی ہیں کہ سینٹری نیپکن پر اتنا زیادہ جی ایس ٹی لگانے کا مطلب ہے اس کا استعمال کرنے کے تئیں عورتوں کا حوصلہ توڑنا۔ نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت چل رہی اسکیم کو مضبوط کیا جانا چاہئے۔ سرکار کا یہ فیصلہ بالکل غلط ہے۔ عورتوں کی اس مانگ سے خود مرکزی وزیر مینکا گاندھی بھی اتفاق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے اس کو لیکر وزیر خزانہ کو کئی بار خط لکھا ہے یہی نہیں اس کے خلاف چل رہی کمپین کا بھی ذکر کیا ہے۔ سرکار کو اس قدم کے بارے میں نظرثانی کرنی چاہئے۔وومن آگنائزیشن کے تحت کام کرنے والی این جی او شی سیز نے عدالت میں بھی اس قدم کو چنوتی دی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مسلینیس کی کیٹگری سے نیپکن کو نکال کر بیسک ضرورتوں کی فہرست میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس معاملہ کی سماعت 24 جولائی کو تھی لیکن پتہ نہیں چل سکا کہ عدالت نے اس معاملہ پر کیا رخ اپنایا ہے۔ اس تنظیم کے مطابق دیش کی 49.7 کروڑ خواتین میں سے قریب 88 فیصد عورتیں (قریب 43.7) سینیٹری پیڈ کا استعمال نہیں کرتی۔ وہ اس کی جگہ پھٹے پرانے کپڑے اور دیگر چیزوں کا استعمال کرتی ہیں۔ سینٹری نیپکن کوجی ایس ٹی سے مستثنیٰ کیا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

25 جولائی 2017

رائٹ ٹو پرائیویسی آئین کے تحت بنیادی حق ہے

پرائیویسی بنیادی حق ہے یا نہیں اس اہم ترین سوال کا جواب ہمیں جلدمل جائے گا۔دیش کی سپریم کورٹ کی توجہ اس طرف گئی ہے جب چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیر کی سربراہی والی ڈویژن بنچ اس اشو پر سماعت کررہی تھی۔ اب عدالت کی 9 ججوں کی آئینی بنچ طے کرے گی کہ رائٹ ٹو پرائیویسی آئین کے تحت بنیادی حق ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ نے معاملہ کو 9 ججوں کی بنچ کے حوالہ کردیا ہے۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کھڑک سنگھ اور ایم پی شرما سے متعلق معاملہ میں سپریم کورٹ کی دو نفری بنچ نے کہا ہوا ہے کہ رائٹ ٹو پرائیویسی بنیادی حق نہیں ہے۔ 1950 میں 8 ججوں کی آئینی بنچ نے ایم پی شرما سے متعلق کیس میں کہا تھا کہ رائٹ ٹو پرائیویسی بنیادی حق نہیں ہے وہیں 1961 میں کھڑک سنگھ سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کی 6 ججوں کی بنچ نے بھی رائٹ ٹو پرائیویسی کو بنیادی حق کے دائرے میں نہیں مانا۔ سارا معاملہ آدھار کارڈ کو لیکر شروع ہوا۔ آدھار کے لئے جانے والا ڈیٹا رائٹ ٹو پرائیویسی کی خلاف ورزی کرتا ہے یا نہیں اس مسئلہ پر سپریم کورٹ کی 5 ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا رائٹ ٹو پرائیویسی بنیادی حق ہے یا نہیں؟ غور طلب ہے کہ 23 جولائی 2015 کو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ رائٹ ٹو پرائیویسی آئین کے تحت بنیادی حق نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے اس وقت کے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے دلیل دی تھی کہ آئین میں پبلک کے لئے رائٹ ٹو پرائیویسی کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا رائٹ ٹو پرائیویسی سے متعلق قانون غیر واضح ہے۔ سپریم کورٹ میں اس مسئلہ پر سماعت کے دوران عرضیوں کی وکیلوں نے دوسری زوردار دلیلیں پیش کیں۔ عرضی گزاروں کی طرف سے پیش چاروں وکیلوں کا کہنا تھا کہ آئین میں دئے گئے بنیادی حقوق میں ہی پرائیویسی کا حق شامل ہے۔ اگر پرائیویسی کو بنیادی حق قرار نہیں دیا گیا تو باقی بنیادی حق بے مطلب ہوجائیں گے۔ جینے اور آزادی کے حق اور قدرتی حقوق کے زمرے میں آتے ہیں اور کسی آئینی سسٹم کے قائم ہونے سے پہلے وجود میں ہیں۔ آئینی روایت سبھی بنیادی حقوق کے سلسلہ میں پرائیویسی حق کے بنا جینے کا حق محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ عرض گزاروں کی طرف سے پیش وکیل گوپال سبرامنیم نے کہا کہ پرائیویسی صرف بیڈروم تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ شخصی آزادی کے حق میں بھی شامل ہے۔ آزادی کے حق کا مطلب ذاتی پسند ہے اور اس کے لئے پرائیویسی کا حق ضروری ہے۔ سولی سوراب جی کے مطابق آئین میں پریس کی آزادی کا بھی ذکر نہیں ہے یہ تبھی آئین سے نکال دیا گیا ۔ پرائیویسی کے حق کی بھی بڑی پوزیشن ہے اور اس کی تشریح ہے شیام دیوان کی دلیل تھی کہ پرائیویسی میں جسمانی یکجہتی بھی شامل ہے۔ صرف ناکارہ انتظامیہ میں ہی شہری کا جسم اس کا اپنا نہیں رہتا ہے۔بھارت سرکار کی طرف سے آدھارکارڈ کو ضروری کئے جانے کے بعد تمام لوگوں نے بڑی عدالت میں عرضیاں داخل کی تھیں۔ عرضیوں میں کہا گیا ہے کہ آدھار کیلئے بایومیٹرک پہچان اکٹھا کیا جانا اور سبھی چیزوں کو آدھار سے جوڑنا شہری کی پرائیویسی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے بھی مانا کہ اس معاملہ میں سب سے پہلے یہ طے ہونا چاہئے کہ آئین میں پرائیویسی کو بنیادی حق مانا گیا ہے یا نہیں؟ چیف جسٹس کا تبصرہ تھا پہلے اسے طے کرنے کی ضرورت ہے۔ نہیں تو ہم آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔ آئین بننے کے وقت سرکار کا ادارہ اتنا طاقتور نہیں تھا جتنا آج ہوگیا ہے بلکہ آج راجیہ سے بھی آگے بڑھ کر بازار تھا آج کے دور میں ادارے بھی بہت طاقتور ہوگئے ہیں راجیہ اور بازار سے تمام ایسے ادارہ ہیں جو ان دنوں اشاروں پر کام کرتے ہیں اور وہ شخصیت کی نجی زندگی میں جھانکنے اور مداخلت کرنے کی بھرپور طاقت رکھتے ہیں۔ اس لئے پرائیویسی کا تحفظ صرف آدھار پر نہیں ہوسکتا۔ آئی پی سی کی دفعہ اور آئین میں تمام اختیار دئے گئے ہیں۔ حالانکہ آئین سازوں نے پرائیویسی کو بنیادی حق نہیں مانا تھا تب شاید انہیں اس کا احساس نہیں تھا کہ ایک دن ملک اتنا طاقتور ہوجائے گا اور شخص اتنا کمزور۔ حالانکہ مہاتما گاندھی ملک کو کمزور کرنے اور شہری کو طاقتور بنانے کے حق میں تھے۔ مہاتما گاندھی سمجھتے تھے کہ راجیہ ڈیولپ ہوں گے تو تشدد بہت کم ہوگا لیکن آج تشدد سے نہ صرف راجیہ کے ادارے ہی غیر محفوظ ہیں بلکہ عام شہری بھی ہیں۔ راجیہ نے اسی عدم تحفظ کو دور کرنے اور سماجی انصاف فراہم کرنے کیلئے اپنے پاس لا محدود اختیار لے رکھے ہیں۔ یہ بحث چلنی چاہئے کہ سماجی سرکشا، سماجی انصاف دینے سے بڑھے گی یا سخت قانون بننے سے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیر کی سربراہی والی 9 ججوں کی آئینی بنچ نے کہا کہ پرائیویسی کا حق غیر واضح طور پر تشریح شدہ اختیار ہے اور یہ پوری طرح نہیں مل سکتا۔ یہ آزادی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ بنچ نے مثال دے کر سمجھایا کہ بچے کو جنم دینا پرائیویسی کے حق کے دائرے میں آسکتا ہے اور ماتا پتا یہ نہیں کہہ سکتے کہ سرکار کے پاس یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہر بچے کو اسکول بھیجنے کی ہدایت دے۔
(انل نریندر)

ٹیلی کام سیکٹر میں گھمسان طے ہے

پچھلے سال ستمبر میں مفت کالنگ اور ڈاٹا کی سہولت دے کر 12.5 کروڑ گراہکوں کا ایک وسیع پریوار بنانے کے بعد اب ریلائنس جیو ہینڈ سیٹ کے بازار کو بھی اپنی جیب میں قید کرنے کے لئے انٹیلی جنس اسمارٹ فون لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ بھی گراہکوں کو مفت ملے گا اور کالنگ بھی فری ہوگی۔ 15 اگست سے یہ فون تجربہ کے لئے دستیاب ہوگا۔ 24 اگست سے باقاعدہ بکنگ شروع ہوگی۔ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیادپر ستمبر میں ڈلیوری ہوگی۔ 50 لاکھ لوگوں تک فون پہنچانے کا ٹارگیٹ ہر ہفتے رکھا گیا ہے۔ اسکیم کے تحت انلمیٹڈ ڈاٹا ملے گا اور جیو ان لمیٹڈ دھن دھن پلان صرف 153 روپے میں دستیاب ہوگا۔ جمعہ کو مفت میں 4G موبائل فون کے اعلان کے ساتھ ہی جس طرح کے ایئرٹیل اور ووڈا فون جیسی بڑی موبائل سروس دینے والی کمپنیوں کے شیئر گرے ہیں اس سے مستقبل میں اس سیکٹر میں مچنے والی اتھل پتھل کی جھلک صاف مل رہی ہے۔ صرف موبائل سروس دینے والی کمپنیاں ہی نہیں بلکہ کیبل ، ٹی وی سیکٹر میں سرگرم ٹاٹا اسکائی، ڈش اور دیگر ٹی وی کمپنیوں کے بھی شیئر گرے ہیں کیونکہ ریلائنس جیو اپنے فیمر فون کے ساتھ ایک کیبل بھی دے رہا ہے جیسے ٹی وی سے جوڑ کر ویڈیو پروگرامنگ کا بھی مزہ لیا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے ایئر ٹیل اور ووڈا فون نے جیو کے خلاف ٹرائی میں شکایت درج کرائی لیکن ریلائنس اپنی راہ چلتی رہی۔ کیونکہ ایک تو اسے گراہکوں کی حمایت حاصل تھی اور دوسرے اسے سرکار کے ذریعے سرپرستی ملنے کا بھروسہ، نتیجہ یہ ہوا کہ باقی کمپنیوں کو بھی اپنی کال و ڈاٹا شرحوں میں ترمیم کرنی پڑی۔ بھارت کے کمیونیکیشن بازار میں یہ مانا جاتا ہے کہ اس میں آگے بڑھنے کے امکانات کافی محدود ہوچکے ہیں۔ دیش میں اس وقت 1 ارب سے زیادہ موبائل فون کنکشن ہیں یعنی اوسطاً ہر شخص کے پاس ایک موبائل فون ہے۔ ریلائنس جیو کا اصلی ٹارگیٹ فکسڈ لائن سروس ہے۔ مکیش امبانی نے شیئر ہولڈروں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا اب گھر اور صنعتوں دونوں کو فکسڈلائن کنکٹوٹی دینے کی اسکیم ہے جہاں ایئر ٹیل، ووڈا فون و دیگر سروس پروائیڈروں کے لئے آگے کا وقت بہت چنوتی بھرا ہوگیا ہے وہیں ریلائنس نے لگتا ہے طے کرلیا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کو تباہ کرکے چھوڑے گی۔ رہا سوال گراہکوں کا تو ان کے دونوں ہاتھوں میں لڈوں ہوں گے۔ موبائل اور انٹرنیٹ سیوائیں سستی ہوں گی ۔بازار میں اس نئی اسکیم کے آنے سے کمیونی کیشن سیکٹر کا یہ سنکٹ اور گہرا ہوسکتا ہے کہ کچھ کمپنیوں کا تو مستقبل ہی داؤں پر لگا ہے۔
(انل نریندر)

23 جولائی 2017

رائے سیناہل پر رام

بیشک بھاجپا کے رامناتھ کووند دیش کے 14 ویں صدر چن لئے گئے ہیں اور ان کی کامیابی یقینی ہی تھی لیکن انہیں صرف 65.65 فیصد ہی ووٹ ملے۔ یہ 44 سال میں کسی صدر کو ملا سب سے کم ووٹ شیئر بھی ہے۔ اس سے پہلے 1974 میں کانگریس کے فر خ الدین علی احمد کو 56.23 فیصد ووٹ ملے تھے۔ کووند کو 25 جولائی کو صدر کے عہدے کا حلف دلایا جائے گا۔ ان کی جیت بھلے ہی کم ووٹ سے ہوئی ہو لیکن وینکیانائیڈو کے نائب صدر چنے جانے کے بعد بھاجپا کو پہلی بار اپنا راشٹرپتی ملا ہے اور بھاجپا 33 سال پہلے کانگریس جتنی مضبوط ہوجائے گی۔ صدر اور نائب صدر بھاجپا کے ہوں گے۔ لوک سبھا میں اکثریت بھی ہے ،17 ریاستوں میں اس کی حکومتیں بھی ہیں۔1984 میں 4 سیٹیں جیت کر راجیو گاندھی نے کانگریس حکومت بچائی تھی تب 17ریاستوں میں کانگریس کی سرکار ہوا کرتی تھی۔ صدر گیانی زیل سنگھ اور نائب صدر وینکٹ رمن بھی کانگریسی تھے۔ رامناتھ کووند اترپردیش کے پہلے صدر ہیں۔ اس کے پہلے دیش میں 13 صدر ہوئے ان میں تیسرے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین ضرور اترپردیش کے تھے لیکن بنیادی طور سے وہ آندھرا پردیش کے حیدر آباد کے ایک بڑے زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ اخبار پڑھنے والوں یا ٹی وی دیکھنے والوں کے لئے بھلے ہی رامناتھ کووند کا نام زیادہ ناواقف رہا ہو لیکن بھاجپا کے بھروسے مند کو خبروں میں رہنا پسند نہیں اور وہ لو پروفائل شخصیت ہیں۔ اترپردیش کے کانپور دیہات کے فاروق گاؤں میں واقع ان کے اپنے آبائی گھر میں جشن کا ماحول ہونا فطری ہی ہے۔ کووند 71 سال کے ہیں اور صدر چنے گئے ہیں۔ بھاجپا کے پہلے ممبر اور دلت نیتا ہیں۔ یوپی کے دلت فرقے سے آنے والے رامناتھ کووند کو دیش کے سپریم عہدے پر پہنچا کر بھاجپا نے 2019 کے عام چناؤ کے لئے چناوی تجزیوں کی بنیاد بھی تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ نو منتخب صدر کووند اب بھلے ہی بھاجپا کے سرگرم نیتا نہ رہے ہوں لیکن درپردہ طور سے بھاجپا کے سب سے بڑے دلت چہرہ بن گئے ہیں۔بھاجپا کی چناوی حکمت عملی میں دلت اور پسماندہ تجزیہ سب سے اوپر ہے۔ دونوں سپریم عہدوں پر دلت اور پسماندہ طبقے کے نیتا اس کی نئی پہچان بنتے جارہے ہیں۔ رامناتھ کووند کے لئے بیشک یہ جیت آسان تھی لیکن آگے کی چنوتیاں یقینی طور سے اتنی آسان نہیں ہوں گی۔ سب سے بڑی چنوتی تو یہ ہے کہ انہیں سیاست کے منجھے ہوئے دانشور لیڈر پرنب مکھرجی کی جگہ لینی ہے۔ پانچ سال پورے ہونے کے عہد میں ایسا کوئی موقعہ شاید نہیں آیا جب پرنب مکھرجی کے کسی فیصلے کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ملا ہو جبکہ وہ ایک ایسے دور میں صدر رہے جب دیش میں بہت بڑا تبدیلی اقتدار ہوا ۔ اس پورے دور میں انہوں نے نہ صرف ایک مثالی صدر کی ساکھ بنائی ہے بلکہ جہاں ضرورت پڑی حکومت کو آگاہ کرنے کا کام بھی کیا لیکن رامناتھ کووند کا پورا سیاسی سفر جس طریقے سے بلا تنازعہ رہا اسے دیکھتے ہوئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ ان چنوتیوں پر کھرے اتریں گے اور چنوتیاں کووند کے لئے بھی کم نہیں ہوں گی۔ 
سب سے اہم اشو جو مستقبل قریب میں سامنے آئے گا وہ ہے ایودھیا میں رام مندر کا اشو۔معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں ہے۔ عدالت کہہ چکی ہے کہ دونوں فریق کو عدالت کے باہر سمجھوتہ کرلینا چاہئے حالانکہ فی الحال تو اس کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ ایودھیا تنازعہ میں سپریم کورٹ نے اگر بھاجپا کی امیدوں کے الٹ کوئی فیصلہ دیا تو سرکار اس کے مطابق کوئی آئینی قدم اٹھا سکتی ہے۔ ایسے میں راشٹرپتی بھون بڑا سہارا رہے گا۔ بھاجپا مذہب کی بنیاد پر سول کورٹ کی شروع سے ہی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ کے دوران تین طلاق بڑا اشو بنایا تھا۔ اس معاملہ میں 2019 کے چناؤ سے پہلے کوئی بل لایا جاسکتا ہے اور لوک سبھا میں بھاجپا کی اکثریت ہے لیکن راجیہ سبھا میں 49 ووٹ کم پڑیں گے۔ اگر راجیہ سبھا میں وینکیا اتحادی پارٹیوں کی حمایت سے بل پاس کروانے میں اہل ہوئے تو صدر بھی کوئی اڑچن نہیں پیدا کریں گے۔ حالانکہ راشٹرپتی چناؤ کے معاملے میں کوئی اشو نہیں ہوتا لیکن اس عہدے کے لئے دونوں امیدوار کا دلت طبقہ سے ہونے سے دلتوں کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ نامزد صدر کووند پورے دیش کے مکھیا ہیں کسی طبقہ خاص کے نہیں اس لئے انہیں صرف دلت طبقہ کے نیتا کی شکل میں اب نہیں دیکھا جاسکتا۔ لیکن پھر بھی ان کے صدر بننے سے ایک فرق تو پڑے گا کے دیش کا دلت طبقہ اس میں اپنی طاقت کی جھلک دیکھے گا۔ اس کا بھارت کے جمہوری نظام پر اعتماد اور پختہ ضرور ہوگا۔ دیہی آنچل سے ایک غریب خاندان اور دلت طبقے کا شخص دیش کے اعلی ترین عہدے پر فائض ہوجائے یہ بھارت جیسی مضبوط جمہوریت میں ہی ممکن ہے۔ امید کی جانی چاہئے شری رامناتھ کووند اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی عہدے کے وقار اور آئینی تقاضوں کے مطابق کریں گے۔ ہم شری کووند کو بھارت کے 14 ویں صدر چنے جانے پر مبارکباد دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ پاکستان

دہشت گردی کے اشو پر پاکستان کو گھیرنے کی بھارت کی مہم کو بدھ کے روز اس وقت بڑی کامیابی ملی جب امریکہ نے آخر کار پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست دیش اعلان کرہی دیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ ’کنٹری رپوٹ آن ٹیررازم ‘ میں کہا گیا ہے کہ لشکر طیبہ ، جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان سے اپنی سرگرمیاں چلا رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں وہاں دہشت گردوں کو ٹریننگ دیتی ہیں، حملے کرواتی ہیں اور کھلے عام چندہ اکھٹا کرتی ہیں۔ یہ ہی الزام بھارت بھی بار بار لگاتا رہا ہے اب امریکہ نے اس کی تصدیق کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں لگاتار آتنکی حملے ہورہے ہیں ان میں پاک میں واقع آتنکی تنظیموں اور نکسلیوں کے ذریعے کئے جانے والے حملہ شامل ہیں۔ بھارت جموں و کشمیر میں ہونے والے آتنکی حملوں کے لئے پاکستان کو ذمہ دار بتا رہا ہے۔جنوری میں بھارت کے پٹھانکوٹ میں فوجی ایئر بیس پر آتنکی حملہ ہواتھا۔ بھارت نے اس کا الزام جیش محمد پر لگایا۔ 2016 میں حکومت ہند نے امریکہ کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کا ایک رشتہ بنانے اور اطلاعات کو شیئرکرنے کی کوشش کی ہے۔ بھارت سرکار آئی ایس آئی ایس جیسی آتنکی تنظیم اور ہندوستانی برصغیر میں القاعدہ کے خطرے پر بھی قریبی نظر رکھ رہی ہے۔ یہ تنظیم اپنے آتنکی پروپگنڈے کے ذریعے بھارت کو دھمکیاں دیتی ہی ہیں۔ بھارت میں آئی ایس آئی ایس سے جڑے اور حملہ کی سازش تیار کرنے کے الزام میں کئی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ ممبئی آتنکی حملہ کا ماسٹر مائنڈ اور اقوام متحدہ کے ذریعے آتنکی قرار حافظ سعید پاکستان میں اب بھی ریلیاں کررہا ہے جبکہ فروری 2017 میں پاکستان میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔ امریکہ کے ذریعے دہشت کے پناہ گاہ دیشوں کی فہرست میں شامل ہونے والا پاک 13واں ملک ہے۔ اس فہرست میں افغانستان، صومالیہ، جنوی فلپئن، مصر، عراق، لبنان، لیبیا، یمن، کولمبیا اور وینزویلا وغیرہ دیش شامل ہیں حالانکہ امریکی قدم سے پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا دباؤ ضرور پڑے گا لیکن اس سے پاک پوری طرح دہشت گردی پر نکیل کسے گا اس میں شبہ ہے۔ دراصل امریکی کانگریس پاکستان کو دہشت گرد دیش قرار دینے کے حق میں تھا لیکن ٹرمپ حکومت نے دو قدم آگے اور ایک قدم پیچھے کا ڈپلومیٹک اشارہ دے دیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا پاک امریکہ کے دباؤ میں کتنا آتا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کی پناہ گاہ اعلان کرکے امریکہ نے سیاسی اور ڈپلومیٹک رشتوں کا راستہ کھولے رکھا ہے تاکہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک پر کارروائی کی گنجائش بنی رہے۔ دیکھنا ہوگا کہ پاک اب لشکر و جیش پر کتنی بھروسے مند کارروائی کرتا ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...