Translater
01 جون 2024
کیا نشکانت دوبے کو چوتھی بار جیت ملے گی؟
بھارت میں ہو رہے لوک سبھا چناو¿ کے آخری مرحلے میں یکم جون یعنی آج جن سیٹوں پر امیدواروں کی قسمت طے ہوگی ان میں جھارکھنڈ کی گوڈا سیٹ بھی شامل ہے ۔سنتھال پرگنا کی اس سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نیتا نشکانت دوبے جیت کی ہیٹ ٹرک لگا چکے ہیں ۔بی جے پی نے انہیں چوتھی مرتبہ پھر سے ٹکٹ دیا ہے ۔ان کا مقابلہ اسی سیٹ پر چار بار چناو¿ ہار چکے انڈیا الائنس کے کانگریس امیدوار پردیپ یادو سے ہے ۔ان کے درمیان سیدھی ٹکر ہے انہیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ ،راشٹریہ جنتا دل ،مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی جیسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے ۔وہ اس سیٹ سے ایک بار ایم پی رہ چکے ہیں ۔جھارکھنڈ میں بھی وزیر رہ چکے ہیں ۔آزاد امیدوار ابھیشیک آنند جھا اسے تکونہ مقابلہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔لیکن وہ اپنی اس کوشش میں کتنے کامیاب ہوں گے یہ بہت حد تک دیوگھر پنڈہ سماج کے ووٹروں پر منحصر کرتا ہے جو گوڈا میں تقریباً بیس لاکھ ووٹر ہیں ۔لوک سبھا حلقہ میں کل چھ اسمبلی سیٹیں ہیں ۔دیو گھر اور گوڈا مادھوپور،کوڈ ،چاہر مہا گاما اور جرمنڈی آتے ہیں ۔ان میں سے چار پر انڈیا الائنس کاقبضہ ہے ۔پچھلے اسمبلی چناو¿ میں صرف دو سیٹوں پر بی جے پی کامیاب ہوئی تھی ۔2019 کے چناو¿ میں نشکانت دوبے نے تب جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے پردیپ یادو کو پونے دو لاکھ ووٹوں سے زیادہ ووٹ سے ہرایا تھا ۔انڈیا الائنس کے امیدوار پردیپ یادو کیلئے کانگریس نے پرینکا گاندھی اور وزیراعلیٰ چمپائی سورین کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے ،ہیمنت سورین کی بیوی کلپنا سورین ،تیجسوی یادو جیسے نیتاو¿ں کی ریلیاں ہو چکی ہیں ۔نشکانت دوبے کیلئے وزیرداخلہ امت شاہ ،آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما ،شیوراج سنگھ چوہان ،بابو لال مانڈی جیسے سینئر لیڈر ریلیاں او رروڈ شو کر چکے ہیں ۔وزیراعظم نریندر مودی نے 28 مئی کو دنکا میں ایک ریلی کو خطاب کیا اس ریلی میں گوڈّا سمیت سنتھال پرگنا حلقہ کی تینوں لوک سبھا سیٹوں کے امیدوار موجود رہے ۔دیوو گھر میں مشہور بابا ویدناتھ مندر کے پاس رہنے والے 90 سالہ سری کرشن پرساد ساہو خود کو حالانکہ کانگریسی بتاتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کا رویہ تانا شاہی والا ہے اس کے باوجود وہ بی جے پی امیدوار نشکانت دوبے کی تعریف کرتے ہیں ۔ا ن کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی سے ہونے کے باوجود میرے ایم پی نشکانت دوبے کولوگوں کی حمایت ہے ۔انہوں نے گوڈّا میں ریلوے سروس شروع کرائی ۔دیوی پور میں ایمس بنوایا ،دیوو گھر ایئر پورٹ بنا ،سڑکیں بنیں ،ہم وکاس کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔بی جے پی کے امیدوار نشکانت دوبے پوری طرح مطمئن ہیں ۔اس چناو¿ میں ان کی جیت ہوگی ۔اور دیش بھر میں 400 سیٹوں سے زیادہ ملیں گی ۔وہیں دوسری طرف کانگریس امیدوار پردیپ یادو کا دعویٰ ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے الیکٹرول بانڈ کے زریعے سب سے بڑا گھوٹالہ کیا ۔صنعتکاروں سے مبینہ طور پر پیسہ وصولے اس لئے بی جے پی کی چناو¿ میں ہار طے ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ نشکانت دوبے کے خلاف انڈر کرنٹ ہے ۔بی جے پی گوڈا میں تو ہارے گی ہی بلکہ پورے دیش میں اس کا صفایا ہونے جا رہا ہے ۔پچھلی بار نشکانت دوبے نے پردیپ یادو کو ریکارڈ ووٹوں سے ہرایا تھا ۔دیکھیں اس مرتبہ کیا ہوتا ہے ۔
(انل نریندر)
افضال انصاری بنام پارس ناتھ رائے!
سٹی اسٹیشن کے سامنے دوکان پر چائے پی رہے اموتوش رائے غازی پور کے سیاسی مزاج کے سوال پر شاعر ابرار کاشف کا یہ شعر :عدالتیں اچھال دیتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں بس ایسا ہی ہے اپنا غازی پور ۔یہاں کی گلیوں میں آپ کو ووٹر نہیں ملتے ہیں جہاں ملتے ہیں تو صرف بھومیار ،برہمن ،یادو ،راج بھر،راجپوت،دلت ،ہندو اور مسلمان ۔یہاں ٹکٹ بھی ذات اور مذہب کی بنیاد پر ملتے ہیں ۔یعنی سکے کے دونوں برادری اور دھرم ہی ملے گا ۔تجزیوں کو سمجھنے کے لئے چناوی باتوں سے پہلے سمر کے یودھاو¿ں کی چرچا ضروری ہے ۔بھگوا خیمے نے جموں کشمیر کے لفٹننٹ گورنر منوج سنہا کے قریبی مانے جانے والے پارس ناتھ رائے پر داو¿ لگایا ہے ۔وہیں 2019 میں بسپا سے مرحوم مختار انصاری کے بھائی افضل انصاری بدلے حالات میں اس بار سائیکل پر سوار ہیں ۔بسپا سے ڈاکٹر امیش کمار سنگھ میدان میںہیں ۔غازی پور کی فضا میںجس طرح کے سوال ہیں ان سوالوں پر و وٹروں کے جیسے خیالات ہیں ان کا ذہنی طور پر تجزیہ کریں تو صاف ہو جاتا ہے یہاں بھاجپا اور سپا کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے ۔البتہ بسپا لڑائی کو سہ رخی بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔پرمبیر چکر ونر ویر عبدالحمید کی سرزمین غازی پور کا ذکر آتے ہی لوگوں کو یاد آتے ہیں وشوناتھ سنگھ گھمیری 1962 میں ایم پی بنے تھے ۔انہوں نے صرف غازی پور میں ہی نہیں پورے پروانچل کے حالات ،بھکمری ،بے روزگاری کے درد کو جس طرح سے پارلیمنٹ میں رکھا تھا وہ سب کچھ لوگوں کی دعاو¿ں پر ہوتا ہے ۔بھکمری کا درد تو رکھتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ حالت ایسی ہے کہ علاقے کی ایک بڑی آبادی کیلئے بیل کے گوبر سے نکالا اناج ہی غذا کا اہم سہارا ہے ۔یہ سب سن سورگیہ وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے لیکر ہر ممبر کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں ۔اب عام عوام الناس کو سیاسی مزاج اور انداز کی بات چناوی ماحول کے سوال پر لنکا تراہے پر ملے ایک شخص کہتے ہیں کہ بھاجپا امیدوار کو تو کوئی پہچانتا تک نہیں ہے ۔کب تک مودی ،یوگی کے نام پر ووٹ ملیں گے اس پر پاس بیٹھے ایک دوسرے شخص نے طنز میں کہا کہ ہاں مافیہ کو تو سب پہچانتے ہیں ان کے نام پر ووٹ دیا جائیگا ۔پلٹوار کرتے ہوئے پہلا شخض کہتاہے کہ وہ مافیا نہیں تھے وہ غریبوں کے مسیحا تھے ۔اس پر دوسرا شخص کہتا ہے کہ میری جیب سے 100 روپے نکال کر کسی کو 10 روپے دے دینا اسے میسحا نہیں کہتے ۔دراصل یہاں بات مختار انصاری کی ہو رہی ہے ۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی مختار کی تکلیف دہ موت ہو چکی ہے لیکن چناو¿ تو مختار انصاری کے نام پر ہی لڑا جا رہا ہے ۔وہیں کچھ لوگ منوج سنہا کے وزیر مملکت ریل رہنے کے دوران غازی پور میں ہوئے وکاس کے کاموں کو گناتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارس ناتھ رائے تو پہچاننے یا نا پہچاننے بلکہ کمل کے پھول کو تو سب پہچانتے ہیں ۔ووٹ تو اسی کو ملے گا۔ منوج سنہا کے قریبی کہے جانے والے پار س ناتھ رائے کو ٹکٹ دے کر بھاجپا نے سب کو حیت میں ڈال دیا تھا ۔ٹکٹ کے اعلان ہوا تو پارس ناتھ رائے اپنے اسکول میں دستخط کررہے تھے تب انہوں نے کہا تھا کہ میں نے تو ٹکٹ کے لئے کوئی درخواست نہیں دی یہ ٹکٹ منوج سنہا نے ہی دلوایا ہے ۔
(انل نریندر)
30 مئی 2024
رام کرپال بنام میسا بھارتی !
حد بندی کے بعد بہار کی راجدھانی پٹنہ کو دو لوک سبھا حلقے میں ملے اس میں سے ایک پٹنہ کے پرانے نام پر پاٹلی پتر لوک سبھا حلقہ شامل ہے ۔بہار کی وی آئی پی سیٹوں میں ایک پاٹلی پتر بھی شامل ہے اس سیٹ سے آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو چناو¿ لڑ چکے ہیں ۔ان کی بیٹی میسا بھارتی بھی دو چناو¿ سے قسمت آزما رہی ہیں لیکن دلچسپ یہ ہے کہ پتہ پتری دونوں کو ہی ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔دونوں کو مات دینے والے ایک وقت لالو پرساد کے قریبی رہے ہیں ۔اس چناو¿ میں رام کرپال یادو ہیں جو ہیٹ ٹرک لگانے کے ارادے سے اترے ہیں ۔میسا بھارتی کھاتا کھولنے کے لئے میدان میں ہیں ۔رام کرپال کی حمایت میں 25 مئی کو پی ایم مودی کی ریلی ہوئی تو دوسری طرف میسا بھارتی کیلئے راوڑی دیوی اور تیجسوی یادو نے پوری طاقت جھونک رکھی ہے ۔جہان آباد سے مسوڑی ،آراءسے پالی گنج اور منیر و پٹنہ لوک سبھا سے پھلواڑی ،تانا پور اور وکرم کو ملا کر پاٹلی پتر حلقہ بنایا گیا ۔2009 میں پاٹلی پتر سیٹ کے لئے پہلی بار چناو¿ ہوا تھا ۔نئی حد بندی سے لیکر اب تک اس سیٹ پر این ڈی اے کا ہی قبضہ رہا ہے ۔2009 میں آر جے ڈی کوٹہ سے پارٹی کے چیف لالو پرساد یادو اور جے ڈی یو سے رنجن پرساد یادو چناو¿ میدان میں تھے ۔یادو اکثریتی اس سیٹ سے لالو پرساد یادو کی چناوی جیت پکی لگ رہی تھی لیکن چناو¿ نتیجہ نے سب کو حیرت زدہ کر دیا تھا ۔ایک وقت لالو پرساد یاد کے رائٹ ہینڈ مانے جانے والے جے ڈی یو کے راجیو رنجن یادو نے لالو پرساد یادو کو شکست دے دی تھی ۔حالانکہ قریب ڈیڑھ دہائی بعد رنجن یادو ایک بار پھر لالو پرساد یادو کی پارٹی میں شامل ہوگئے ۔سال 2014 اور 2019 کے چناو¿میں رام کرپال یادو میسا بھارتی کو ہرا چکے ہیں ۔2014 میں بھاجپا کی جیت کا پرچم لہرانے والے رام کرپال کو پارٹی نے کافی توجہ دی تھی وہ مرکز میں وزیر بھی بنے تھے ۔ایک بار پھر چناوی دنگل میں رام کرپال اور میسا بھارتی آمنے سامنے ہیں ۔دونوں کے درمیان جاری دلچسپ سیاسی لڑائی پر لوگوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔آر جے ڈی کے ٹکٹ پر چناو¿ لڑرہی میسابھارتی لالو پرساد یادو کی بڑی بیٹی ہیں ۔سال 1993 میں کس کو کوٹے پر اے جی ایم میڈیکل کالج جمشید پور میں کورس میں بھی داخلہ لیا ل۔بعد میں سیکورٹی اسباب کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پٹنہ میڈیکل کالج ہسپتال میں داخلہ دے دیا گیا ۔میسا بھارتی نے ایم ایس سی ایم سے زچہ بچہ امراض کے کورس میں ڈسٹرنگشن کیساتھ ایم بی بی ایس میںٹاپ کیا تھا ۔کمپیوٹر انجینئر سلیش کمار سے شادی ہوئی ۔میسا پہلی بار 2014 میں پاٹلی پتر سے چناو¿ لڑیں لیکن وہ ہار گئیں ۔پاٹلی پتر کے موجودہ ایم پی رام کرپال یادو ایک وقت لالو پرساد یادو کے کافی بھروسہ مند ہواکرتے تھے اور وہ پٹنہ نگر نگم کے ڈپٹی میئر بھی رہے ۔پٹنہ لوک سبھا حلقہ سے پہلی بار ڈپٹی میئر رہے ۔سال 1991 میں پہلی بار ایم پی بنے ۔اس کے بعد 1996 اور 2004 کے چناو¿ میں راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر ایم پی بنے۔رام کرپال یادو 2014 میں پاٹلی پتر سیٹ سے چناو¿ لڑنا چاہتے تھے لیکن انہیں ٹکٹ نہیں ملا ۔سال 2014 میں وہ آر جے ڈی سے استعفیٰ دے کر بھاجپا میں شامل ہوئے ۔انہوں نے 2014 اور 2019 کے چناو¿ لگاتار جیتے ۔لالو یادو کے قریبی رہے رام کرپال ان کی طاقت اور کمزوری دونوں ہی جانتے ہیں ۔
(انل نریندر)
ساتواں مرحلہ بھاجپا کیلئے پریشانی کا سبب!
اٹھارہویں لوک سبھا کیلئے آخری مرحلے کے چناو¿ میں بھاجپا کیلئے پنجاب مغربی بنگال اور اترپردیش پریشانی کا سبب ہیں ۔بہار میں پارٹی کو اپنی سیٹیں بچائے رکھنے کا بھی دباو¿ ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی کا چناو¿ حلقہ وارانسی سے بھی اس مرحلے میں ووٹ پڑنے والے ہیں ۔قریب ڈھائی مہینے کے انتظار کے بعد ساتویں مرحلے کی پولنگ پہلی جون کو ہونی ہے ۔اب کی بار 400 پار کے نعرے کیساتھ چناو¿ میدان میںاتری بھاجپا کیلئے یہ مرحلہ بھی اہم ترین ہے ۔پنجاب کی 13 لوک سبھا سیٹوں میں سے بھاجپا کے پاس محض 2 اور مغربی بنگال کے ساتویں مرحلے کیلئے 9 لوک سبھا حلقوں میں سے بھاجپا کو پچھلی بار کوئی بھی سیٹ نہیں ملی تھی ۔ان دونوں ریاستوں میں بھاجپا نے بڑی محنت کی ہے ۔مغربی بنگال میں مودی جی لگاتار اور روڈ شو کررہے ہیں اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ امت شاہ اور پارٹی صدر جے پی نڈا بھی چناو¿ کمپین میں لگے ہوئے ہیں ۔بھاجپا نے مغربی بنگال کیلئے 30 سیٹیں جیتنے کا نشانہ طے کیا تھا ۔اگر بھاجپا ساتویں مرحلے کی 9 سیٹوں میں سے آدھی سیٹیں نکال لیتی ہے تو پارٹی کو ریاست میں 20 سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں ۔چھٹے مرحلے میں یہاں بہت سی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں اس پولرائزیشن کے سبب بھاجپا کو کولکاتہ اور اس کے آس پاس کے شہری ہند ووٹروں پر امیدیں لگی ہوئی ہیں ۔سندیش کھالی حلقہ میں بھی اسی مرحلے میں ووٹ پڑنے ہیں ۔پنجاب میں بھاجپا کو پچھلی بار صرف 2 سیٹیں ملی تھیں جبکہ بھاجپا کا اکالی دل کیساتھ اتحاد تھا لیکن اس بار دونوں الگ الگ چناو¿ لڑرہی ہیں ۔پنجاب میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس بھی الگ الگ چناو¿ لڑرہی ہیں ۔بھاجپا نے پنجاب میں زیادہ سیٹیں جیتنے کیلئے کانگریس کے سرکردہ لیڈروں (کیپٹن امرندر سنگھ ،ان کی بیوی پرنیتی کور کو شامل کیا ہے ۔لیکن کسان آندولن کی وجہ سے بھاجپا کی مخالفت شباب پر ہے ۔کسانوں کے احتجاج کا کتنا اثر ہوتا ہے یہ 4 جون کو ہی پتہ چلے گا ۔پنجاب میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس بیشک الگ الگ لیکن ان کا بھی اپنا دبدبہ ہے ۔آخری مرحلے میں یوپی کی 13 لوک سبھا سیٹیں شامل ہیں ان میں سے 3 کوسی ،بلیا اور غازی پور کی ایسی سیٹیں ہیں جہاں یوتھ کیلئے بھاجپا کے سامنے سابقہ دو چناو¿ کے مقابلے لمبی لکیر کھیچنے کی چنوتی ہے ۔2019 کے عام چناو¿ میں بھی کوسی اور غازی پور میں بھاجپا مات کھا گئی تھی ۔یوپی میں ساتویں مرحلے کی سیٹوں میں مہاراج گنج ،گورکھپور،کوشی نگر ،دیوریا ،بانس گاو¿ں سلیم پور، اور چندولی وغیرہ شامل ہیں۔آخری مرحلے کی سات سیٹیں ایسی ہیں جہاں پر 2022 میں اپوزیشن کا کھاتا بھی نہیں کھل پایا تھا ۔کوسی اور غازی پور اور بلیا لوک سبھا حلقوں میں بھاجپا کے سامنے آرہی چنوتیوں کو 2022 کے اسمبلی چناو¿ سے جوڑکر دیکھا جارہا ہے ۔ودھان سبھا چناو¿ میں ان تین سیٹوں کی 15 اسمبلی سیٹوں میں صرف دو بھاجپا جیتی تھی ۔باقی سات سیٹوں پر اپوزیشن پارٹیوں ،سپا ،بسپا اتحاد کے کھاتے میں گئی تھی ۔کل ملا کر یہ ساتواں اور آخری مرحلہ بھاجپا کے لئے اہم ترین ہے ۔اگر اسے پار 400 پار کرنا ہے تو اسے اس مرحلے میں اسے بھاری جیت درکار ہے ۔
(انل نریندر)
28 مئی 2024
بلیا میں بہار کیساتھ اندر بھی چنوتی !
بغاوت کی رہنمائی کررہے بلیا کے لوگوں میں سیاست پھولی پھلی ہے اس لئے یہاں کے سیاسی مزاج کو سمجھنا آسان نہیں ہے ۔فی الحال یہاں حکمراں اور اپوزیشن دونوں ہی امیدوار باہر کے ہیں ۔باہر کیساتھ اندر کی لڑائی سے لڑنے کی چنوتی ہے ۔بلیا میں ساتویں اور آخری مرحلے میں یکم جون کو چناو¿ ہونے ہیں ۔ذات پات کیساتھ سیاسی وجود بنائے رکھنے کے اندر کھانے مخالفت کے سُر بھی صاف سنے جا رہے ہیں اس لئے بی جے پی اور سپا ایک دوسرے کو گھیر کر ووٹروں میں سیندھ ماری کیلئے پسینہ بہا رہی ہیں ۔بی جے پی بلیا میں جیت کی ہیٹ ٹرک بنانے کی لڑائی لڑ رہی ہے ۔2014 میں بھرت سنگھ نے ایس پی کے نیتا نیرج شیکھر کا ہی رتھ روک کر پہلی بار کمل کھلایا تھا ۔اس بار نیرج خود کمل کے پیروکار ہیں ۔اس سیٹ پر سب سے زیادہ آبادی برہمن برادری کی ہے اس کے بعد ٹھاکر ،یادو اور دلت ہیں ۔گوجر بند ،ملاح وغیرہ انتہائی پسماندہ برادریوں کا اثر ہے تو ایک لاکھ سے زیادہ مسلم ووٹر بھی ہیں ۔جدورہ باد اسمبلی حلقہ کے بارو بھنور میں دن میں چائے کیساتھ بحث چھڑی ہوئی ہے ۔میٹنگ میں پردھان سکچھک ریٹائرڈ پرنسپل اور ایک بزرگ پہلوان ،کچھ اور نوکری پیشہ لوگ شامل تھے ۔چناو¿ پر بات کرنے کو لیکر سب تیار تھے ۔نام کے سوال پر جوا ب تھا کہ کیا کرئیے گا جان کر ؟بات بے روزگاری اور مہنگائی کے سوال پر شروع ہوئی تو رام مندر اور قومی سیکورٹی جیسے مسئلوں پر بھی تیر بھی چلے ۔پہلوان کے کشتی داو¿ نے بحث کی ٹون بدل دی ۔مکہ ای سب بیکار کی باتیں ہیں صاف سن لیجئے یہ سامنے کی سڑک سے شو یاترا بھی نکلے گی نا تو لوگ پہلے سرٹیفکیٹ نہیں دیں گے پوچھیں گے کون ذات ہے ؟ یہی چناو¿ کی بھی سچائی ہے ۔ٹھاکر صاحب نیرج کیساتھ ہیں ۔پنڈت لوگ سناتن پر زور لگا رہے ہیں ۔محمودآباد میں ہی مافیہ مختار انصاری کا گھر ہے یہاں سے ممبر اسمبلی بھی مختار پریوار سے شعیب انصاری ہیں ۔مختار کے گھر جسے پھاٹک کہا جاتا ہے وہاں سے تھوڑی دوری پر نٹراج کاگھر ہے ۔یہاںموبائل کی دوکان چلانے والے ایک شخص بتاتے ہیں کہ مختار کے نہ رہنے سے گول جٹے گی ۔وہ بتاتے ہیں کہ انصاری خاندان کی ہر گاو¿ں میں پکڑ ہے جو ان کی سرپرستی و فائدہ کی چھایا میں رہتی رہی ہے ۔اس میں بھومیار ،برہمن ،راج بھر ، ٹھاکر ،بند ،ہر برادری کے لوگ ہیں ۔اس میں بہت انصاری پریوار کے کہنے والے ہی ووٹ دیں گے۔لیکن مختار کے نہ رہنے سے بہت سے ایسے لوگ جو دباو¿ میں چپ رہتے تھے وہ دوسری گول جو دبی رہتی بھی اب وہ بھی ایکٹو ہو جائے گی ۔صدر سے آٹھ کلو میٹر منگل پانڈے کا گاو¿ں نگوا ہے جنہوں نے 1857میں کرانتی کا بگل پھونکا تھا ۔یہاں ان کی مورتی لگی ہوئی ہے ۔گاو¿ں میں الگ الگ برادری کے ٹولے ہیں یہاں نرمل پاسونا نے کہا کہ یہاں سائیکل کا زور ہے لڑکے پڑھ کر بھی بے روزگار ہیں ۔پانچ کلو راشن سے گھر چلے گا اگر ای وی ایم سے ووٹنگ نہیں ہوئی تو کوئی نہیں روک سکتا ۔جب میں نے ان کے ای وی ایم سے جڑے سوال کی بنیاد پوچھی تو بولے موبائل پر دیکھ کر سب پتہ چل جائے گا ۔دور کھڑی عورت نے راشن ملنے کا سکھ تو گنایا لیکن کوٹھے دار بدمعاش کی شکایت بھی کی ۔پچھلی بار سناتن پانڈے کے جیتنے کے بعد ہٹا دیا گیا ۔اس بار اتنا فرق کر دینا بھی کھیل نہ ہونے پائے ۔
(انل نریندر)
پانچویں جیت تلاش رہے انوراگ!
دیش کی سیاست میں اپنی اہمیت ثابت کر چکے مرکزی وزیر اطلاعات ونشریات انوراگ ٹھاکر مسلسل چار عام چناو¿ جیتنے کیساتھ پانچویں جیت درج کرنے کی تیاری میںہیں ۔اس چناو¿ میں انہیں اپنے کام اور وزیراعظم نریندر مودی کے نام پر بھروسہ ہے ۔ہمیرپور لوک سبھا حلقہ میں 1998 سے 2019 تک بھاجپا مسلسل کامیاب ہوتی آئی ہے ۔اس بار کے چناو¿ میں بدلے سیاسی جائزوں میں اس لوک سبھا حلقہ سے وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو اور نائب وزیراعلیٰ بھوپیش اگنی ہوتری کا ہونا انوراگ ٹھاکر کو تھوڑی چنوتی دے رہا ہے ۔وزیراعلیٰ ہمیرپور ضلع سے ہیں اور نائب وزیراعلیٰ پونا سے ہیں وہیں دوسری جانب بھاجپا کے قومی صدر جے پی نڈا بھی کسی پارلیمانی حلقے کے بلاسپور ضلع سے ہیں ۔ظاہر ہے کہ جے پی نڈا اپنے ضلع کے 4 اسمبلی حلقوں میں اس چناو¿ میں بھی پہلے کی طرح اثر انداز ثابت ہوں گے ۔کانگریس کے ذریعے دہلی سے امیدوار اتارنے کا فائدہ بھی انوراگ ٹھاکر کو ہی مل سکتاہے ۔کانگریس پارٹی نے اس مرتبہ پونہ صدر کے سابق ممبر اسمبلی ستپال رائے زادہ کو چناو¿ میں اتارا ہے ۔رائے زادہ نے اب تک اسمبلی کے تین چناو¿ لڑ ے ہیں اور وہ صرف ایک بار ہی جیت پائے ہیں ۔جس سے کہا جا سکتا ہے کہ انوراگ ٹھاکرکا اونچا سیاسی قدکاٹھی کے آگے ستپال رائے زادہ سیاسی وزن کم رکھتا ہے ۔اس بار کے عام چناو¿ میں ہماچل کی کانگریس سرکار گرانے کی کوشش کا بھی اثر نظر آرہا ہے ۔کانگریس سے بھاجپا میں جو باغی شامل ہوئے ہیں وہ بھی ہمیر پور لوک سبھا حلقہ کے تحت آنے والے اسمبلی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں وہیں بھاجپا میں شامل دو آزاد ممبر اسمبلی بھی اسی حلقہ سے ہیں ۔یعنی انوراگ ٹھاکر کے لوک سبھا حلقہ میں مقابلہ دلچسپ رہا ہوگا ۔انوراگ ٹھاکر کی ریلیوں میں جہاں قومی اشو حاوی رہے ہیں وہیں این ڈی اے سرکار کے دس سالہ عہد میں گنانے کیلئے ان کے پاس کافی کارنامے ہیں ۔کانگریس امیدوار ستپال رائے زادہ صرف ریل نیٹورک کے ادھورے کام کو انوراگ کی ناکامی بتا رہے ہیں ۔سکھوندر سنگھ سکھو کی سرکار کے ساتھ کرپشن ،مہنگائی ،روزگار وغیرہ قومی اشو بھی اٹھ رہے ہیں ۔ستپال رائے زادہ کو ریاست میں کانگریس سرکار ہونے کا بھی فائدہ مل رہا ہے ۔ہمیر پور سیٹ پر گزشتہ ڈھائی د ہائی سے بھاجپا کا قبضہ ہے ۔سال 1998 سے لیکر اب تک بھاجپا کامیاب ہوتی رہی ہے ۔سال 1998 سے 2004 تک بھاجپا کے سریش چنڈیل اور اس کے بعد انوراگ ٹھاکر جیتے ہیں ۔انوراگ ٹھاکر کی قیادت میں یہاں ترقیاتی کاموں پر کافی زو رہے ۔یہاں ایمس بلاسپور ،میڈیکل کالج ،پی سی آئی سیٹلائٹ سینٹر اور پی سی آئی سینٹر اونا ،پلک ڈرک پارک پنڈورہ ،مرکزی یونیورسٹی کیمپس کی تعمیر اور پونا اور ہمیر پور میں پاسپورٹ سروس سینٹر ،اونا ریلوے اسٹیشن سے 13 نئی ٹرینوں کا آغاز ،بلاسپور لیہ ریلوے اسٹیشن کیلئے ایک ہزار کروڑ روپے کا بجٹ وغیرہ وغیرہ ۔انوراگ ٹھاکر اپنے ان کارناموں کو گناتے ہیں ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...