Translater
09 جولائی 2016
07 جولائی 2016
کیجریوال کے پرنسپل سکریٹری کی گرفتاری کا سوال
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے پرنسپل سکریٹری راجندر کمار سمیت 5 لوگوں کو سی بی آئی نے پیر تک اپنے ریمانڈ میں لے لیا ہے۔ ان پر 50 کروڑ سے زیادہ کے سرکاری ٹھیکوں میں رشوت لینے اور کرپشن کے الزامات ہیں۔ منگل کو انہیں سی بی آئی کی اسپیشل عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے سبھی کو پانچ دنوں کے لئے سی بی آئی حراست میں بھیج دیا۔ ایجنسی نے عدالت نے میں کہا کہ آئی ایس افسر گواہوں کو دھمکی دے رہے ہیں۔ اسپیشل سی بی آئی جج اروند کمار کی عدالت میں سی بی آئی نے دعوی کیا کہ راجندر کمار ایک بااثر شخص ہیں اور انہیں گرفتار کئے بغیر منصفانہ جانچ ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ گواہوں کو دھمکی دے رہے ہیں۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا گواہوں کو دھمکی دینے کا واقعہ سامنے آیا ہے؟ اس کے جواب میں ایجنسی کے افسر نے کہا کہ ہاں ہم نے ایسے گواہوں کے بیان درج کئے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے راجندر کمار 50 کروڑ روپے کے اس مبینہ گھوٹالہ کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر سامنے آئے ہیں جو سال2006 ء میں شروع ہوا۔ انہوں نے الگ الگ محکموں میں رہتے ہوئے اپنے لوگوں کے نام بنائی گئی کئی فرضی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا۔ ایڈورس سسٹم نام کی کمپنی 2006ء میں بنی۔ دنیش کمار گپتا اور سندیپ کمار اس کے ڈائریکٹر تھے۔ یہ کمپنی سافٹ ویئر اور سلوشن فراہم کراتی تھی۔ کمپنی کو ٹھیکے دینے میں امتیاز برتا گیا۔ دہلی ڈائیلاگ کمیشن کے سابق سکریٹری آشیش جوشی نے کہا کہ یہ تو ہونا ہی تھا۔ آخر سی بی آئی نے ایکشن لے ہی لیا ہے۔ میری ایمانداری کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ ابھی کئی ایسے لوگ گرفت میں آئیں گے۔ یہ دھوری مین ہے جو ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں ٹنڈر دلانے سے لیکر دہلی ڈائیلاگ کمیشن اور ڈوسیو کے اندر گڑ بڑ گھوٹالہ میں سرکار کے کئی نیتا شامل ہیں۔ کیسے اس سرکاری خزانے کا بیجا استعمال کیا گیا؟ جانچ میں سب سامنے آئے گا۔ بتا دیں ڈائیلاگ کمیشن کے سابق ممبر سکریٹری آشیش جوشی نے پچھلے برس 15 جون کو راجندر کمار پر کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے اس کی شکایت اینٹی کرپشن برانچ (اے سی بی ) سے کی تھی۔ 15 دسمبر 2015ء کو سی بی آئی نے وزیر اعلی کے دفتر پر چھاپہ ماری کی اور راجندر کمار کے لیپ ٹاپ سمیت دیگر سامان ضبط کئے۔ 4 مارچ 2016 ء کو چھاپہ ماری کے معاملے میں دہلی سرکار کی اپیل پر سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا تھا۔ سپریم کورٹ میں سرکار نے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج دیا جس میں چھاپہ میں ضبط فائلوں کو سی بی آئی کے پاس رہنے کے احکامات دئے گئے تھے۔ سرکار نے فائل واپس کرنے کی مانگ کی تھی۔ 2 مئی 2006ء کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ کی اسپیشل عدالت (سی بی آئی ) میں چھاپہ ماری کے دوران ضبط کئے گئے لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ کو واپس لوٹانے کی عرضی خارج کردی تھی۔ آخر یہ راجندر کمار کون ہیں؟ ان پر اتنا ہنگامہ کیوں؟ راجندر کمار کی پیدائش 16 دسمبر 1966ء کو بہار میں ہوئی تھی۔ 21 اگست 1989ء کو انڈین ایڈ منسٹریٹو سروس میں آئے اور عام آدمی پارٹی کے 49 دن کی سرکار میں وزیر اعلی کیجریوال کے سکریٹری بنائے گئے پھر دوسری بار اقتدار میں آنے پر بھی کیجریوال نے انہیں بطور سکریٹری مقرر کیا۔ اس دوران آئی ایس افسران کے ساتھ آپ سرکار کے تنازعہ ہوئے تو سروس محکمہ داخلہ کی مزید ذمہ داری بھی انہیں سونپی گئی۔ سبھی انتظامی اصلاحات محکمہ بھی انہی کے پاس رہا۔ اس دوران 2015ء میں راجندر کمار کو ترقی دے کر پرنسپل سکریٹری بنا دیا گیا وہ اروند کیجریوال کے سب سے قریبی مشیر کار بن گئے۔ راجندر کمار کی گرفتاری سے مرکز اور ریاست کے درمیان پہلے ہی سیاسی لڑائی اور تیز ہوگئی ہے۔وزیر اعلی اروند کیجریوال کی آنکھ اور کان مانے جانے والے راجندر کمار کی گرفتاری کے فوراً بعد نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے صاف کہا کہ بھاجپا سرکار پنجاب اور گوا میں عام آدمی پارٹی کے بڑھتے مینڈیٹ سے گھبرا گئی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار کے اشارے پر ہی اب وہ سبھی کوششیں کی جارہی ہیں جس سے دہلی سرکار کمزور ہو۔ اس درمیان بڑا سوال یہاں کھڑا ہوگیا ہے کہ مرکز و دہلی سرکار کی لڑائی میں پس تو دہلی کی عام جنتا رہی ہے جو تماشائی بننے پر مجبور ہے۔
(انل نریندر)
رمضان کے مہینے میں سب سے مقدس دیش میں دھماکے
مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی مقام سعودی عرب کے تین شہروں میں فدائی حملوں نے چونکا دیا ہے۔ بغداد اور ڈھاکہ کے خوفناک آتنکی حملوں کے فوراً بعد ہوئے ان حملوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی جیسا دیش بھی اب محفوظ نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے ساری دنیا میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والا سعودی عرب اب خود اپنے ذریعے کی گئی پیش بندی میں خود ہی پھنستا جارہا ہے۔ مقدس ماہ رمضان میں ہوئے ان دھماکوں میں کم سے کم 9 لوگوں کے مرنے کی خبر ہے اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں نے اسلام کی سرزمین کے دوسرے سب سے مقدس شہر مدینہ میں واقع پیغمبر حضرت ؐ کی مسجد نبوی کے سامنے سکیورٹی ہیڈ کوارٹر امریکی سفارتکاروں اور شیعوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب کچھ دن پہلے ہی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے ایک کے بعد ایک ترکی، ڈھاکہ اور بغداد میں بڑی تعداد میں لوگوں کا قتل عام کیا۔ مانا جارہا ہے عید الفطر کے تہوار سے عین پہلے حملے کئے گئے۔ مسجد کے پاس ہوئے فدائی حملہ میں حملہ آور کے علاوہ چار سکیورٹی جوان اور دو شہریوں کی موت ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ حالانکہ سعودی حکومت کے سرکاری ٹیلی ویژن العربیہ نے مدینہ دھماکہ میں تین فدائی حملہ آوروں کے علاوہ دو سکیورٹی افسران کے مارے جانے کی خبر دی ہے۔ ادھر مشرقی سعودی عرب کے شہر خطیف میں ایک شیعہ مسجد العمران کے باہر ایک فدائی حملہ آور نے خودکو اڑالیا۔ حالانکہ اس واردات میں کوئی مرا یا زخمی نہیں ہوا۔ اس سے پہلے جدہ شہر میں پیر کو صبح سویرے امریکی مشن کے پاس بھی خودکش حملہ ہوا۔ سعودیہ کے مقدس شہر مدینہ میں مسجد حرم کے پاس بنے تھانے کے گیٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو بم سے اڑالیا۔ جس وقت یہ واردا ت ہوئی اس وقت مراد آباد کے تین ایکسپورٹر خاندان بھی مدینے میں موجود تھے، جو تھوڑی دوری پر ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اچانک تیزدھماکہ ہوا اور ایسا لگا جیسے پوری زمین ہل گئی۔ دھماکہ مغرب کی نماز کے وقت ہوا اس لئے زیادہ تر لوگ یا تو مسجد میں تھے یا پھر روزہ کھولنے کے لئے جا چکے تھے۔ شروع میں لوگوں کو سمجھ میں نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے؟ لیکن دھماکہ کے تھوڑی دیر بعد پورے علاقے میں دھنواں پھیل گیا۔ ایک ترجمان نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ امریکی حکام کو جدہ میں ہوئے دھماکے کی جانکاری ہے اور وہ زیادہ جانکاری اکھٹی کرنے کے لئے سعودیہ کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔
(انل نریندر)
06 جولائی 2016
وزیر ہو تو سشما جیسا
ہمیں اس سے خوشی ہے کہ ہمارے وزارت خارجہ کا ایک ایسا چہرہ ہے جو سنجیدہ ہے اور سماج کے ایسے طبقے کا زیادہ خیال رکھتا ہے جس کے بارے میں عام طور پر مانا جاتا ہے کہ ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ ہماری وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج نے کئی بار ایسی مثالیں پیش کیں جس سے صاف لگتا ہے کہ انہیں ہندوستانیوں کی فکر رہتی ہے۔تازہ مثال بھارت سے اغوا بچے سونو کو بنگلہ دیش سے واپس لانے کی ہے۔ سونو کو 6 برس کی عمر میں دہلی سے اغوا کیا گیا تھا۔ پاکستان سے گیتا کو لانے کے بعد یہ دوسرا معاملہ ہے جسے کامیابی کے ساتھ ایک ہندوستانی کو وطن واپس لایاگیا ہے۔ سونو کو گزشتہ جمعہ کو ڈھاکہ سے دوپہر دہلی لایاگیاتو اس کے کنبے کے ساتھ محترمہ سشما سوراج بھی انتظار کررہی تھیں لیکن ڈھاکہ کے ایک یتیم خانے میں رہ رہے سونو کا کام اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ اس پورے کام کو انجام دینے کے لئے وزارت خارجہ کی ایک ٹیم کام کررہی تھی۔ ان حکام کی کوشش کی وجہ سے ہی سونو کی پہچان ہونے کے بعدصرف 30 دن کے اندر اس کے والدین کے ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کرکے اس کے بھارت آنے کا راستہ صاف کیا گیا۔ خیال رہے کہ گیتا کے معاملہ میں اسے بھارت لاکر ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تھا حالانکہ ابھی تک گیتا کے خاندان کا پتہ نہیں چل پایا۔ سونو اقتصادی طور پر بیحد پسماندہ گھرانے کا ہے جبکہ گیتا کے بارے میں بھی ایسا ہی اندازہ ہے۔ وزارت کے ایک افسر کے مطابق بیرونی ملک میں پھنسے کسی بھی ہندوستانی کو وطن لانا آسان کام نہیں ہوتا۔ وہاں کے وزارت خارجہ کے ساتھ روابط قائم کرنے سے لیکر مقامی پولیس و جانچ ایجنسیوں کے ساتھ تال میل بٹھانا اور مقامی قانون کے مطابق راستہ نکالنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے چنگل میں پھنسے فادر پریم ایلکس کو رہا کروانے اور انہیں صحیح سلامت لانے میں ڈپلومیٹک سارے داؤ پیچ آزمانے پڑے تھے۔ جنگ زدہ یمن سے ہندوستانی نرسوں کو محفوظ نکالنے میں کئی ملکوں سے ساتھ مل کر حکمت عملی بنانی پڑی۔ کوئی تعجب نہیں کے پچھلے دنوں وزیر خارجہ سشما سوراج جب اپنی وزارت کے دو برسوں کے کام کاج کی تفصیل دی رہی تھیں تو وزارت خارجہ نے بیرون ملک میں پھنسے ہندوستانیوں کو وطن لانا ان کی ترجیح میں بہت اوپر تھا۔ بنگلہ دیش میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن نے سونو کو پتہ لگانے سے لیکر اس کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے تک کا کام صرف ایک مہینے میں ہی کر دکھایا۔ سشما جی آپ پر ہمیں فخر ہے اور آپ کی وزارت مودی سرکار کا چمکتا ستارہ ہے۔
(انل نریندر)
کیا ریو اولمپک میں بھارت 20 میڈل لا سکتا ہے
ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب دیش کے وزیر اعظم نے برازیل کے شہر کے ریو ڈی جنیریو میں ہونے والے آنے والے اولمپک کھیلوں میں بھارت کی نمائندگی کررہے کھلاڑیوں سے ملاقات کی ہے۔ انہیں نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ میں بتا رہا ہوں وزیر اعظم نریندر مودی مانک شاہ سینٹر پر مودی نے کھلاڑیوں سے شخصی طور پر بات چیت کی اور 5 سے21 اگست تک ہونے والے کھیلوں کے لئے انہیں شبھ کامنائیں دی ہیں۔5 اگست سے دنیا کا واحد کھیل مہاکنبھ اولمپک ریو ڈی جنیرو میں شروع ہونے والا ہے۔ یہاں جانے کے لئے بھارت کی طرف سے (اب تک سب سے زیادہ) 103 کھلاڑیوں کو چن لیا گیا ہے۔ ان پر دیش کی توقعات کا بوجھ ہے۔ اس درمیان وزارت کھیل کے مشن اولمپک سیل کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ مشن اولمپک سیل نے پیشگوئی کی ہے کہ ریو میں بھارت کو صرف20 ہی میڈل مل سکتے ہیں۔ مشن اولمپک سیل کی اس پیشگوئی نے ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن کو نئی مشکلوں میں ڈال دیا ہے۔ ایک بار دبی زبان سے اولمپک ایسوسی ایشن نے سیل کی رپورٹ عام کردی ہے۔
وہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ نے جانے والے کھلاڑیوں کو مایوس کردیا ہے۔ رپورٹ میں پہلی بار اولمپک کا سفر طے کرنے والوں پر میڈل جیتنے کا بھروسہ نہیں جتایا ہے۔ انہی کھلاڑیوں کی ٹریننگ میں کھیل وزارت اب تک کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے۔ کھیل سرکردہ شخصیتوں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی دیش کو پہلی بار اولمپک میں اتنے میڈل ملنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں پر میڈل جیتنے کا بھروسہ نہیں ہے آخر ان پر لاکھوں روپے کیوں خرچ کئے گئے؟ بتادیں کہ 250 صفحات کی اس رپورٹ میں سیل نے کشتی و شوٹنگ کھلاڑیوں سے زیادہ میڈل مل پانے کا بھروسہ جتایا گیا ہے، جوڈو، ویٹ لفٹنگ، ٹیبل ٹینس اور تیز اندازی جیسے کھیلوں کو لیکر سیل نے مایوسی جتائی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مشن اولمپک سیل کی یہ پیشگوئی کہاں تک سچ ثابت ہوگی۔ بتادیں 2016,2020 اور 2024 کے اولمپک کھیلوں کے لئے ہندوستانی پارٹیوں کو تیار کرنے کے مقصد سے مشن اولمپک سیل کی تشکیل 8 اپریل کو پہلی بار کی گئی تھی۔ کھیل وزارت نے بھارت کی کھیل تاریخ میں پہلی بار اس سیل کا قیام کرنے کے ساتھ ساتھ سبھی ایتھلیٹس کی مانیٹرنگ کرنے اور ان کا ڈٹا تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ امید کی ٹیلی کچھ اس طرح ہے۔ ویٹ لفٹنگ0، کشتی 3، ٹینس2، ٹیبل ٹینس 0، شوٹنگ 4 نوکایان 0، جوڈو0، فیلڈ ہاکی1، جمناسٹک 1، گولف 1، باکسنگ 2، بیٹ منٹن 2 ، تیر اندازی 2، ایتھلیٹکس21۔ بتا دیں کہ 2008 اولمپک میں بھارت نے کل3 میڈل ہی جیتے تھے۔ اس سے پہلے تمام اولمپک میں صرف 1-1 میڈل جیتا تھا۔ بہرحال 2012ء میں یہ تعداد 6 ہوا کرتی تھی۔
وہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ نے جانے والے کھلاڑیوں کو مایوس کردیا ہے۔ رپورٹ میں پہلی بار اولمپک کا سفر طے کرنے والوں پر میڈل جیتنے کا بھروسہ نہیں جتایا ہے۔ انہی کھلاڑیوں کی ٹریننگ میں کھیل وزارت اب تک کروڑ روپے خرچ کرچکا ہے۔ کھیل سرکردہ شخصیتوں کا کہنا ہے کہ بھلے ہی دیش کو پہلی بار اولمپک میں اتنے میڈل ملنے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ جن کھلاڑیوں پر میڈل جیتنے کا بھروسہ نہیں ہے آخر ان پر لاکھوں روپے کیوں خرچ کئے گئے؟ بتادیں کہ 250 صفحات کی اس رپورٹ میں سیل نے کشتی و شوٹنگ کھلاڑیوں سے زیادہ میڈل مل پانے کا بھروسہ جتایا گیا ہے، جوڈو، ویٹ لفٹنگ، ٹیبل ٹینس اور تیز اندازی جیسے کھیلوں کو لیکر سیل نے مایوسی جتائی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مشن اولمپک سیل کی یہ پیشگوئی کہاں تک سچ ثابت ہوگی۔ بتادیں 2016,2020 اور 2024 کے اولمپک کھیلوں کے لئے ہندوستانی پارٹیوں کو تیار کرنے کے مقصد سے مشن اولمپک سیل کی تشکیل 8 اپریل کو پہلی بار کی گئی تھی۔ کھیل وزارت نے بھارت کی کھیل تاریخ میں پہلی بار اس سیل کا قیام کرنے کے ساتھ ساتھ سبھی ایتھلیٹس کی مانیٹرنگ کرنے اور ان کا ڈٹا تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ امید کی ٹیلی کچھ اس طرح ہے۔ ویٹ لفٹنگ0، کشتی 3، ٹینس2، ٹیبل ٹینس 0، شوٹنگ 4 نوکایان 0، جوڈو0، فیلڈ ہاکی1، جمناسٹک 1، گولف 1، باکسنگ 2، بیٹ منٹن 2 ، تیر اندازی 2، ایتھلیٹکس21۔ بتا دیں کہ 2008 اولمپک میں بھارت نے کل3 میڈل ہی جیتے تھے۔ اس سے پہلے تمام اولمپک میں صرف 1-1 میڈل جیتا تھا۔ بہرحال 2012ء میں یہ تعداد 6 ہوا کرتی تھی۔
(انل نریندر)
05 جولائی 2016
اسلامی کٹر پسندوں کی زد میں بنگلہ دیش
بنگلہ دیش میں ہندو شہریوں سمیت اقلیتوں پر حملہ مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ راجدھانی ڈھاکہ میں گلشن ڈپلومیٹک زون میں واقع ہولی آرٹیشن بیکری ریستوراں میں 8سے10 مسلح حملہ آوروں نے حملہ کردیا اور 20 سے زائد غیر ملکیوں و کئی سفارتکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ ڈھاکہ کے جس ڈپلومیٹک علاقے میں یہ حملہ ہوا وہ کافی محفوظ مانا جاتا ہے۔ اس گلشن۔2 علاقہ میں 34 ملکوں کے سفارتخانے قائم ہیں۔ چشم دید گواہوں کے مطابق قریب پونے نو بجے کئی ہتھیار لئے لوگ ’اللہ اکبر‘ بولتے ہوئے گھسے اور کئی بیٹھے گراہکوں و ملازمین کو یرغمال بنا لیا۔ اس حملہ کے دوران جان بچا کر بھاگے ہولی آرٹیشن بیکری کے ملازم سمون راجہ نے میڈیا کو بتایا کہ جب حملہ ہواتھا تو ریستوراں میں زیادہ تر لوگ اٹلی اور ارجنٹینا کے شہری موجود تھے۔ ریستوراں پر قبضے کے بعد حملہ آوروں نے اندھا دھند گولہ باری شروع کردی۔ اس دوران ٹی وی چینلوں نے واقعہ کا سیدھا ٹیلی کاسٹ شروع کردیا لیکن بعد میں افسروں کی درخواست پر اسے روک دیا گیا۔ حملے میں ایک غیر ملکی کے مارے جانے کی خبر ہے اور کم سے کم60 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ دہشت گرد تنظیم آئی ایس نے اس حملہ کی ذمہ داری لی ہے۔ آتنکی تنظیم کی نیوز ایجنسی ’اماف‘ نے حملہ میں 20 لوگوں کے مارے جانے کا دعوی کیا ہے۔ یہ حملہ تقریباً اسی انداز سے کیا گیا جیسے 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں کئی جگہ لشکر نے کیا تھا۔ دہشت گردوں نے اسی طرح کئی لوگوں کو یرغمال بنایا تھا حالانکہ ان حملوں میں 166 لوگ مارے گئے تھے ۔ ادھر جمعہ کو صبح3 بجے مشتبہ حملہ آوروں نے 50 سالہ ہندو پجاری شیاما نند داس کو چاقو مار کر ہلاک کردیا۔ اس سال اب تک 5 پجاریوں کی جان جاچکی ہے جن میں سے دو حملے تو پچھلے مہینے میں ہوئے ۔ جمعہ کی صبح قریب6 بجے شیامانند پوجا کے لئے پھول اکھٹے کررہے تھے اسی وقت موٹر سائیکل پر آئے 3 لوگوں نے ان کی گردن پر دھار دار ہتھیارسے حملہ کردیا۔ بنگلہ دیش میں مسلسل ہندوؤں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ 1941 ء میں یہاں 28 فیصد ہندو آبادی تھی جو گھٹ کر 2011ء میں محض 8.5 فیصد رہ گئی۔ 2001ء میں یہ تعداد 9.2 فیصدی تھی حال ہی میں بڑھ رہے حملوں کے واقعات سے ہندو آبادی خوف کے سائے میں جینے کو مجبور ہے۔ ہندوستانی سرحد سے لگے بنگلہ دیش میں اسلامک آتنک واد کا بڑھنا بھارت کے لئے تشویش کا موضوع ہے۔ ہندوستانی سرحد کے ایک محاذ پر پاکستان اور چین سے پہلے ہی خطرہ ہے۔ ہندوؤں اور سیکولر رضاکاروں کا مسلسل قتل کے درمیان بنگلہ دیش نے بھارت کو باآور کیا ہے کہ وہ ہندوؤں کے اختیارات کی سلامتی کو لیکر پوری طرح عہد بند ہے۔ ساتھ ہی کہا زیادہ تر ایسے واقعات فرقہ وارانہ نہیں ہیں بلکہ بنگلہ دیش میں آئی ایس، آئی ایس آئی و دیگر اسلامی تنظیموں کے بڑھتا اثر پوری دنیا کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اسد الزماں خاں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں کسی اسلامک اسٹیٹ یا القاعدہ کا وجود نہیں ہے۔ یرغمال بنانے والے آتنکوادی بنگلہ دیش کے ہی ہیں اور جماعت المجاہدین جیسی تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ کے سیاسی مشیر حسین توفیق امام نے بتایا کہ جس طریقے سے یرغمالوں کو قتل کیا گیا اس سے لگتا ہے کہ اس سے ممنوعہ تنظیم جماعت المجاہدین کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کی آئی ایس آئی اور جماعت کا رشتہ دنیا جانتی ہے۔ یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آئی کہ جب دہشت گردوں کے پاس اسلحہ اور آٹومیٹک بندوق ہونے کے باوجود یرغمالوں کو دھار دار ہتھیار سے گلا کیوں کاٹاگیا؟سکیورٹی ایجنسیوں کاتو یہی خیال ہے کہ گلا کاٹنے کے آئی ایس کے خطرناک طریقے کا استعمال بھارت سمیت پورے برصغیر کے لئے ایک وارننگ ہے۔ غور طلب ہے کہ پچھلے کچھ مہینے سے ہندو پجاریوں اور دانشوروں کے قتل کے سبب ہندوستانی ایجنسی بنگلہ دیش کے حالات پر گہری نظر رکھ رہی ہیں۔ اعلی ترین خفیہ ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش میں کچھ مہینوں سے تمیم چودھری نام کا کینڈا کا شہری تشدد آمیز سرگرمیوں میں سرگرم ہے ۔ اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے بھی کہی تمیم چودھری کا ہاتھ تو نہیں ہے۔ اس حملہ کے ایک چشم دید گواہ رضوان الکریم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بنگلہ دیشی یرغمالوں کو ڈنر کرایا اور پھر سبھی یرغمالوں سے قرآن کی آیتیں سنانے کوکہا، جو نہیں سنا پائے ان کا گلا کاٹ دیاگیا۔انسٹی ٹیوٹ آف ورناٹیکل مینجمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اجے ساہنے نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں تقریباً سبھی بڑی دہشت گرد تنظیموں کو ختم کیا جاچکا ہے ان تنظیموں کے بچے لوگ آئی ایس اور القاعدہ کے نام پر واقعات کو انجام دے رہے ہیں تاکہ انہیں پہچان مل سکے۔ بنگلہ دیش میں غم کا ماحول ہے حکومت نے دو دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ ڈھاکہ میں ہوئے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اداکارہ عرفان خاں نے کہا کہ حادثہ ایک جگہ ہوتا ہے اور بدنام پوری دنیا کے مسلمان ہوتے ہیں۔ ایتوار کو انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا قرآن کی آیتیں نہ جاننے کی وجہ سے رمضان کے مہینے میں لوگوں کو قتل کردیا گیا۔حادثہ ایک جگہ ہوتا ہے اور بدنام اور اسلام پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے آگے لکھا وہ اسلام جس کی بنیاد ہی امن اور رحم اور دوسروں کا درد محسوس کرنے پر ہے، ایسے میں کیا مسلمان چپ بیٹھے رہیں اور مذہب کو بدنام ہونے دیں؟ یا وہ خود اسلام کے صحیح معنوں کو سمجھیں اور دوسروں کو بتائیں کے ظلم اور قتل عام کرنا اسلام نہیں ہے۔
(انل نریندر)
سوتے لوگوں پرٹوٹتی آفت، بادل پھٹا
یہ صحیح ہے کہ قدرتی آفات کو روکا تو نہیں جاسکتالیکن پرانے حادثات سے سبق لے کر قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کو تو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے دیش کے کئی حصوں میں کم بارش ہونے سے ہائے توبہ مچی ہوئی ہے تو کئی ریاستوں میں بادل پھٹنے ،تیز بارش سے تباہی مچی ہوئی ہے۔ اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ، چمولی میں جمعہ کو بادل پھٹنے سے بھاری تباہی ہوئی ہے۔ ان اضلاع میں 17 لوگوں کی جان گئی ہے 18 افراد لاپتہ ہیں۔ مقامی لوگوں کے ساتھ تیرتھ یاتری بھی جگہ جگہ پھنسے ہوئے ہیں ۔فوج اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں مورچہ سنبھال کر انہیں محفوظ مقامات پر پہنچا رہی ہیں۔ چٹانیں کھسکنے اور بھاری بارش کے سبب آئے سیلاب کی وجہ سے پتھوڑا گڑھ کے گاؤں بستڑی نولڑا گاؤں کا نام و نشان مٹ گیا ہے۔ یہاں دو گھنٹے میں 100 ملی میٹر بارش کے سبب50 مربع کلو میٹر کے علاقہ میں وسیع تباہی ہوئی ہے۔ چمولی میں بھی یہ ہی حال ہے ۔ کئی جگہ ہائی وے بند ہیں اور کئی جگہ ہزاروں مسافر راستوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کیدارناتھ میں پیدل یاترا تو جاری ہے لیکن ہیلی کاپٹر سروس بند ہے۔ گنگوتری ،یمنوتری یاترا جاری ہے۔10 ندیا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ ان میں الکھنندا، سرجو، منداکنی قابل ذکر ہیں۔ خیال رہے کہ تین سال پہلے بادل پھٹنے کے سبب کیدار ناتھ میں پانچ ہزار یاتری مارے گئے تھے۔ بتادیں بادل پھٹنا جسے انگریزی میں ’کلاؤڈ برشٹ‘ کہتے ہیں ایک چھوٹے سے دائرے میں کافی بڑی مقدار میں اچانک بارش ہونا۔ ایسا تب ہوتا ہے جب ماحول میں دباؤ بیحد بڑھ جاتا ہے۔ عام طور پر بادل اچانک ایک دوسرے سے یا پھرکسی پہاڑی سے ٹکڑاتے ہیں تب اچانک بھاری مقدار میں پانی برستا ہے۔ یہ عمل زیادہ اونچائی پر نہیں ہوتا اس میں 100 کلو میٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ تیز رفتار سے بارش ہوتی ہے جس سے سیلاب کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ کبھی کبھی میدانی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے کے واقعات ہوتے ہیں۔ 2005 میں 26 جولائی کو ممبئی میں گرم ہوا سے ٹکرانے سے بادل پھٹنے کاواقعہ ہوا تھا لیکن عام طور پر میدانی علاقے میں ایسے واقعات کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اب یہ چلن عام ہوگیا ہے کہ اس موسم میں بارش شروع ہوتی ہے اتراکھنڈ میں تریجڈیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور ایسی ٹریجڈیوں میں اتراکھنڈ جیسے حساس ترین ریاستوں میں حادثوں سے سبق نہ لینے کی سرکاری اور افسر شاہی کی ذہنیت بار بار پتہ چلتی ہے۔ یہ اتفاق نہیں کہ پچھلے ایک ڈیڑھ دہائی میں جب سے اتراکھنڈ میں اندھا دھند تعمیراتی کام اور قاعدے ضوابط کو طاق پررکھنے کی کارروائی بڑھی ہے تبھی سے ریاست میں ایسی ٹریجڈیو ں کی بربریت بھی بڑھی ہے۔ ہم ماحولیات کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کی بہت بھاری قیمت جان مال کی شکل میں اٹھا رہے ہیں۔پتہ نہیں اس پر کب روک لگے گی؟
(انل نریندر)
03 جولائی 2016
رابرٹ واڈرا۔ڈی ایل ایف ڈیل اور ڈھینگڑا کمیشن
ہریانہ میں سونیاگاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا۔ ڈی ایل ایف لینڈ ڈیل کی جانچ کرنے کے لئے جسٹس ایس ۔ ایم۔ ڈھینگڑا کمیشن کا قیام 7 مئی 2015 ء کو ہوا تھا۔ کمیشن نے اپنا کام جون 2015 کے آخر میں شروع کیا ۔ ابھی تک آیوگ کی میعاد تین بار بڑھ چکی ہے یہ چوتھی بار ہے جب کمیشن نے وقت بڑھانے کی مانگ کی ہے۔ ہریانہ حکومت نے شروع میں گوڑ گاؤں کے سیکٹر83 میں کمرشل کالونیوں کے ڈیولپمنٹ کے لئے جاری لائسنس کی جانچ کے لئے کمیشن بنایا تھا بعد میں کمیشن کو گوڑ گاؤں کے چار گاؤں سٹی، شکوہ پور کھیڑی، دولا اور سکندر پور بڑا میں سبھی طرح کی کالونیوں کے لئے جاری لائسنس کی جانچ بھی سونپ دی ہے۔ کمیشن نے 250 فائلوں کی اب تک جانچ کی ہے۔ یہ فائلیں زمین کے کمرشل لائسنس کی منظوری سے منسلک ہیں۔ 26 سرکاری افسران سے بھی پوچھ تاچھ کی ہے۔ کمیشن نے جانچ کے دوران تو رابرٹ واڈرا اور نہ ہی ان کی فرم اسکائی لائٹ کے کسی نمائندے کو پوچھ تاچھ کے لئے بلایا۔ ہریانہ سرکار نے ڈھینگڑا کمیشن کو چوتھی بار توسیع دیتے ہوئے رپورٹ داخل کرنے کے لئے 31 اگست 2016 تک کا وقت دیا ہے۔ سرکار کو لکھے خط میں جسٹس ڈھینگڑا نے کہا کہ انہیں معاملے سے وابستہ کچھ اور دستاویزات ملے ہیں جو کسی شخص نے ان تک پہنچائے ہیں۔ اس میں زمین سودوں کو لیکر نئی جانکاری ہے۔ جانچ میں انہیں شامل کرنا ضروری ہے اس لئے وقت دیا جانا چاہئے۔ادھر وزیر اعلی کے میڈیا مشیر امت آریہ نے بتایا حکومت ڈھینگڑا کمیشن کو ایک اور توسیع دے رہی ہے۔ ادھر رابرٹ واڈرا نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ پچھلے ایک دہائی سے انہیں جھوٹے اور بے بنیاد سوالوں میں گھیر کر نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن الزام لگانے والوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ان کا ہمیشہ سے ہی سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے باوجود اس کے میں اپنی سچائی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہوں۔ ہریانہ کے سابق وزیر اعلی بھوپیندر سنگھ ہڈا نے کہا جس نے کمیشن کا وقت ختم ہوا اسی دن وقت کیوں مانگا گیا اس کے پیچھے دو دلیلیں دی جارہی ہیں ایک تو یہ ہے کہ سابق وزیر اعلی ہڈا نے بدھوار کو گورنر کو خط لکھ کر ڈھینگڑا کمیشن پر سوال کھڑا کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ کمیشن نے جو کچھ اطلاع آؤٹ کی ہے اس کے ساتھ ہی جانچ کا جو دائرہ بنایا گیا اس سے ثابت ہورہا ہے کہ سرکار انہیں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔کیا واڈرا اور کانگریسی لیڈروں کا حملہ آور رخ ان کے جرائم کی تصویر کو ہی ظاہر کررہا ہے؟ یہ عجب ہے کہ پہلے کانگریسی نیتا سونیا گاندھی کے داماد کو کانگریس سے الگ ایک نجی شخص بتاتے تھے ، پھر وہ اس بہانے ان کے بچاؤ میں اترنے لگے کے ان کے ذریعے گاندھی خاندان کو نشانے پر لیا جارہا ہے۔ اب وہ ڈھینگڑا کمیشن کی جانچ کوہی مسترد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
(انل نریندر)
جب جج ہی ہڑتال پر چلے جائیں
ہمارے دیش میں آئے دن کچھ عجب ہوتا رہتا ہے۔ دیش میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ جج ہی ہڑتال پر چلے گئے۔ دو سال پہلے بنے ریاست تلنگانہ کے 200 جج صرف اس لئے 15 دن کی چھٹی پر چلے گئے کیونکہ عدم رواداری کے الزام میں حیدر آباد ہائی کورٹ نے 11 ججوں کو معطل کردیا۔ دراصل تازہ تنازعہ آندھرا پردیش میں پیدا ہوئے 130 ججوں کو تلنگانہ میں مقرر کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پچھلے دنوں دو ججوں کو معطل کیا تھا۔ اب تک 11 ججوں کو معطل کیا جاچکا ہے۔ تلنگانہ جج ایسوسی ایشن کے بینر تلے گذشتہ دنوں 100 سے زیادہ جج صاحبان نے جلوس نکالا اور گورنر کو آندھرا کے ججوں کی تلنگانہ میں تقرری کے خلاف میمورنڈم بھی سونپا۔مظاہرین ریاست بھر میں احتجاج کررہے ہیں،بنگال میں تو مظاہرین نے کورٹ ہال اور فرنیچرکو بھی نقصان پہنچایا وہیں ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ ججوں کے مظاہرے میں شامل ہونے اور ضابطے کی خلاف ورزی کے معاملے قطعی برداشت نہیں کرے گا۔ نچلی عدالت کے جج آندھراپردیش اور تلنگانہ کے درمیان ججوں کے بٹوارے کی کارروائی سے ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش سے کئی ججوں کو تلنگانہ بھیجنے سے ان کے پرموشن پر اثر پڑے گا۔ دونوں ریاستوں میں فی الحال ایک ہی ہائی کورٹ ہے اوردونوں ریاستوں کے بیچ پانی اور حیدر آباد میں زمین وغیرہ کو لیکر جھگڑا ہوتا رہا ہے۔بتادیں کہ تلنگانہ کو2 جون2014ء کو آندھرا پردیش سے الگ کرکے ریاست بنائی گئی تھی۔ تلنگانہ میں 11 ضلع ہیں۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ 8 سال تک یعنی2024 ء تک حیدرآباد دونوں ریاستوں کی راجدھانی رہے گی۔
تلنگانہ کے جوڈیشیل افسر اور وکیل آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے بیچ جو ججوں کے عارضی الاٹمنٹ کے خلاف6 جون سے تحریک چلا ہرے ہیں۔ جوڈیشیل افسروں کی تحریک کے درمیان تلنگانہ میں ہائی کورٹ قائم نہ ہوپانے کے لئے پی آر ایس نے مرکزی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پی آر ایس ایم پی کے کویتا نے بتایا کہ اس اشو پر ان کے والد اور تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندرشیکھرراؤ دہلی میں واقعہ کو لیکر احتجاج جتائیں گے۔ ہڑتالی ججوں کے دو اہم الزام ہیں پہلا حیدر آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں تلنگانہ کی عدالتوں میں 130 ججوں کی بھرتی کی ہے۔ ان کی پیدائش آندھرا پردیش میں ہوئی ہے۔ بھرتی کے وقت تلنگانہ اور آندھرا میں پیدا لوگوں کے لئے ضروری تناسب (40 ،60 ) کی تعمیل نہیں کی گئی اس لئے یہ بھرتیاں غیر قانونی ہیں۔ دوسرا الزام یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں کل21 ججوں میں سے صرف3 تلنگانہ کے ہیں باقی آندھرا کے ہیں۔ اس تحریک کے چلتے ریاست میں عدلیہ نظام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ ایک عجب صورتحال ہے۔ ججوں کی ناراضگی پر بلا تاخیرغور ہونا چاہئے اور معاملے کو سلجھانے کے لئے سنجیدہ کوشش بھی ہونی چاہئے۔ سمجھداری اسی میں ہے کہ مرکز اور سپریم کورٹ معاملے میں فوراً مداخلت کریں اور تنازعے کا مناسب اور قابل قبول حل نکالیں۔
تلنگانہ کے جوڈیشیل افسر اور وکیل آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے بیچ جو ججوں کے عارضی الاٹمنٹ کے خلاف6 جون سے تحریک چلا ہرے ہیں۔ جوڈیشیل افسروں کی تحریک کے درمیان تلنگانہ میں ہائی کورٹ قائم نہ ہوپانے کے لئے پی آر ایس نے مرکزی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ پی آر ایس ایم پی کے کویتا نے بتایا کہ اس اشو پر ان کے والد اور تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندرشیکھرراؤ دہلی میں واقعہ کو لیکر احتجاج جتائیں گے۔ ہڑتالی ججوں کے دو اہم الزام ہیں پہلا حیدر آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں تلنگانہ کی عدالتوں میں 130 ججوں کی بھرتی کی ہے۔ ان کی پیدائش آندھرا پردیش میں ہوئی ہے۔ بھرتی کے وقت تلنگانہ اور آندھرا میں پیدا لوگوں کے لئے ضروری تناسب (40 ،60 ) کی تعمیل نہیں کی گئی اس لئے یہ بھرتیاں غیر قانونی ہیں۔ دوسرا الزام یہ ہے کہ ہائی کورٹ میں کل21 ججوں میں سے صرف3 تلنگانہ کے ہیں باقی آندھرا کے ہیں۔ اس تحریک کے چلتے ریاست میں عدلیہ نظام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ ایک عجب صورتحال ہے۔ ججوں کی ناراضگی پر بلا تاخیرغور ہونا چاہئے اور معاملے کو سلجھانے کے لئے سنجیدہ کوشش بھی ہونی چاہئے۔ سمجھداری اسی میں ہے کہ مرکز اور سپریم کورٹ معاملے میں فوراً مداخلت کریں اور تنازعے کا مناسب اور قابل قبول حل نکالیں۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...