09 نومبر 2013

’آپ‘ لیڈر اروندکیجریوال کھڑے کٹہرے میں!

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اروند کیجریوال نے دہلی کی سیاست میں ایک نئی امیدجگائی ہے۔ ان کی مسلمان والی باتیں ،دعوے جنتا کو کافی متاثر کررہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اتنے کم وقت میں ’آپ‘ پارٹی کو کھڑا کرنا اور دہلی میں بھاجپا۔ کانگریس کے سامنے اپنی موجودگی اور چیلنج دینا آسان کام نہیں تھا لیکن اروند کیجریوال کبھی کبھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں اور بیان دیتے ہیں جن پرہنسی بھی آتی ہے اور ان کادہلی کا وزیر اعلی بننے کی خواہش ہے۔ مثال کے طور پر وہ دعوی کررہے ہیں ان کی پارٹی نہ صرف چناؤ جیت رہی ہے بلکہ وہ دہلی کے اگلے وزیر اعلی ہوں گے۔ انہوں نے تو سرکار بننے پر دہلی اسمبلی کا اجلاس بھی بلانا طے کرلیا ہے۔لیکن خواب دیکھنا اور اسے حقیقت میں بدلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ سیاست میں بہت صبرو تحمل چاہئے جو کیجریوال میں کم دکھائی پڑتا ہے۔ اپنی پارٹی کے لئے پیسہ اکٹھاکرنے اور دھماکیدار پبلسٹی سے لیکر تھوک بھاؤ میں ووٹ حاصل کرنے کے نسخوں کی آزمائش شروع کردی ہے اور کئی ایسے کام پچھلے دنوں میں انہوں نے کئے ہیں جن سے ان کی پارٹی کو امیدلگ رہی ہے۔لیکن جنتا میں تھوڑی بے چینی ضرور پیدا ہورہی ہے۔ مثال کے طور پر بریلی میں فرقہ وارانہ فساد معاملے میں اپنے رول کی وجہ سے تنازعوں میں گھرے مولانا توقیر رضا خاں سے ان کا ملنا۔ چناؤمیں مولانا توقیر کے ’آپ‘ پارٹی کوحمایت دینے کے اعلان نے اروند کیجریوال کے مخالفین کو بیٹھے بٹھائے چناوی ہتھیار دے دیا ہے۔ اب تک دہلی کے چناؤ میدان میں ’آپ‘ بیحد جارحانہ رخ میں دکھائی پڑ رہی تھی مگر گزرے جمعہ کو کیجریوال اور اتحاد ملت کونسل کے چیئرمین توقیر رضا خاں سے ملاقات میں پارٹی کو بیک فٹ پر ڈال دیا ہے۔کانگریس نے تو مولانا توقیر کو آر ایس ایس اور بھاجپا کا ایجنٹ قرار دینے کے ساتھ ہی آپ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان نے دہلی میں مسلم ووٹ کی سیاست پر کہا کہ رضا کے ساتھ ساتھ کیجریوال کو بھی بھاجپا و آر ایس ایس سے اندرونی سانٹھ گانٹھ ہے اور اروند کیجریوال نے بریلی کے جن کٹر پسند مولانا سے ملاقات کی ہے اور دہلی اسمبلی چناؤ میں ان سے حمایت کی اپیل کی ہے وہ وہی ہیں جو تسلیمہ نسرین کو قتل کرنے والے کو 5 لاکھ اور جارج ڈبلیو بش کی جان لینے والے کو 1 کروڑ روپے دینے کا اعلان کرچکے ہیں اور بھڑکیلی تقریریں کرنے کے جرم میں تین سال پہلے جیل بھی جاچکے ہیں۔ یوپی کی اکھلیش یادو کی سرکار میں انہیں وزیر کا درجہ ملا ہوا ہے لیکن اس سے سماجوادی پارٹی کے ووٹ بینک کی سیاست ظاہر ہوتی ہے مولانا کا بے قصورہونانہیں۔ عوام میںیہ سوال کیا جارہا ہے کہ اتنی صاف ستھری سیاست کا دعوی کرنے والے اروند کیجریوال کو ایسی کیا مجبوری تھی کہ ایسے کٹر پسند ساکھ والے مسلمان لیڈر سے ملیں اور ان کی حمایت حاصل کریں اور اگر اروند کیجریوال مذہب اور ذات کی سیاست میں یقین رکھتے ہیں تو پھر چناؤ جیت کر ’رام راجیہ‘ لانے کا ڈھنڈھورا کیوں پیٹ رہے ہیں۔ ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کے ورکروں کی تنظیم جن منچ نے الزام لگایا کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال ایمانداری کی دہائی دے کر سیاست میں ہاتھ آزما رہے ہیں لیکن وہ اپنے آپ میں بڑے بدعنوان ہیں۔ انا ہزارے کی تحریک کے دوران انہوں نے چندے کی بڑی رقم اینٹھی ہے۔ جن مچ کے نیتا شری اوم بھارگو نے کہا کہ شری کیجریوال اگر کرپٹ نہیں ہیں تو وہ 10 نومبر کو جنتر منتر پر سب کے سامنے آکر کھلے اسٹیج پر ان کے سوالوں کا جواب دیں۔ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے الزام لگایا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے نیتا اروند کیجریوال ٹیم کی کانگریس سے سانٹھ گانٹھ ہے اور وہ ملک دشمن ،گالی گلوچ کرنے والے اور مالی دھاندلی کرنے والوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ ہی نہیں سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر ہوئی ہے۔ عرضی گذار ایم ایل شرما نے ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کر مبینہ طور سے قانون کی خلاف ورزی غیر ملکی پیسہ حاصل کرنے کے سلسلے میں ’آپ‘ پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال اور ان کے کچھ ساتھیوں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج کرنے کی مانگ کی ہے۔جسٹس پردیپ نندراج جوگ اور جسٹس کے وی راؤ کی ڈویژن بنچ نے مرکز کے وکیل سے کہا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے کھاتوں کی جانچ کر اسے 10 دسمبر تک مطلع کریں۔ ’آپ‘ کے لوگ دہلی میں سرکار بنائیں یا اپوزیشن میں بیٹھے یہ ایک بھی سیٹ نہ جیت پائیں۔ لیکن چناؤکمپین کے دوران انہیں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہئے جس سے انا ہزارے کے خوابوں کو دھکا پہنچے اور جوامیدیں انہوں نے دہلی کے عوام میں جگائی ہیں وہ ٹوٹتی نہ نظر آئیں۔
(انل نریندر)

پچھلے چار سالوں میں این آئی اے کی کارگزاری!

ممبئی حملہ(26/11) کے بعد دہشت گردانہ واقعات کی جانچ کے لئے خاص طور سے بنائی گئی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ ایجنسی کی زیادہ کرکری ہورہی ہے۔ کارنامے کم۔ پٹنہ دھماکوں کی باقاعدہ جانچ شروع کرنے سے پہلے ہی این آئی اے تنازعات میں گھر گئی ہے۔ راشٹریہ جانچ ایجنسی این آئی اے کی گرفت سے دھماکوں کے ملزم مہر عالم کے مظفرنگر سے فرار ہونے کا الزام ہے۔حالانکہ این آئی اے اسے بے بنیاد بتا رہی ہے کہتی ہے مہر عالم مظفر نگر سے نہیں بھاگا۔ وہ بودھ گیا دھماکوں کا گواہ ہے۔ ویسے مظفرنگر سے فراری کے بعد مہر کو بعد میں کانپور سے گرفتار کرلیا گیا۔ این آئی اے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس درمیان دہلی سے اسے دھماکوں کے ایک اور ملزم محمدافضل کو گرفتار کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ مظفر نگر پولیس کے مطابق این آئی اے ملزم مہر سے مقامی لانج میں پوچھ تاچھ کررہی تھی لیکن وہ اپنا موبائل و دیگر سامان چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ ملزم کے فرار ہونے کی خبرپھیلتے ہی این آئی اے کو اس کی تردید کرنا پڑی۔ دیر شام این آئی اے نے دعوی کیا کہ مہر بودھ گیا دھماکوں کا گواہ ہے اور اسے پٹنہ دھماکوں سے پہلے ہی 23 اکتوبر کو نوٹس بھیج دیا گیا تھا کہ اسے 29 اکتوبر کو بودھ گیا پہنچنا تھا لیکن پٹنہ میں این آئی اے ٹیم کی موجودگی دیکھ کر وہ وہیں ملنے چلا آیا۔ اس کے بعد این آئی اے اسے لیکر مظفر نگر کے میر پور گاؤں میں مشتبہ دہشت گرد حیدر علی کی تلاش میں پہنچی۔ حیدر کے نہ ملنے پر مہر ٹیم کے ساتھ وہیں رک گیا تھا لیکن صبح اچانک کسی بہانے سے لانج چھوڑکر چلا گیا۔26/11 کے بعد بنی اس قومی تفتیش رساں ایجنسی این آئی اے کو پانچ سال ہوگئے ہیں لیکن اس کے پاس دکھانے کے لئے ایک بھی کارنامہ نہیں ہے۔ بھارت میں سب سے زیادہ دہشت گردانہ حملوں کو انجام دینے والی تنظیم انڈین مجاہدین کے زیادہ تر آتنکیوں کو ان کی گرفتاری دہلی پولیس کے اسپیشل سیل اور ممبئی پولیس کی کرائم برانچ اور بنگلورو پولیس کی ایس ٹی ایف نے کی ہے۔ سکیورٹی ماہرین تو این آئی اے بنانے کے فیصلے پر ہی سوال اٹھانے لگے تھے۔’ پیس اینڈ کنفلٹ اسٹڈیز ‘کے ڈائریکٹر اجے ساہنی کے مطابق 2009ء میں این آئی اے کی تشکیل سرکار کا ایک ٹھینگا تھا۔ ابھی تک این آئی اے نے آتنکی حملے کا کوئی بھی ایسا کیس حل نہیں کیا ۔این آئی اے کے پاس محض60 معاملوں کی جانچ کے لئے 600 سے زیادہ افسر ہیں جبکہ سی بی آئی میں ایک ایک افسر پر درجنوں معاملوں کا بوجھ ہے اور ریاستی پولیس کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔ تمام سہولیات کے باوجود ابھی تک این آئی اے آتنکی حملے کا ایک بھی معاملہ پوری طرح سے حل نہیں کرپائی۔ آسام کے کچھ معاملوں کے ساتھ مالیگاؤں ،مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس، اجمیر شریف دھماکوں کے کچھ معاملوں میں این آئی اے نے چارج شیٹ داخل کی ہے۔ زیادہ تر ان کی جانچ پہلے سے ہی ریاستی پولیس کر چکی تھی۔ پنے ،حیدر آباد، دہلی کی جامعہ مسجد اور بودھ گیا دھماکوں کی جانچ سیدھے طور پر این آئی اے کو سونپی گئی ان معاملوں میں ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوپائی۔ اجے ساہنی کے مطابق این آئی اے کی بجائے اگر ریاستوں کی اے ٹی ایس کو سہولیات دی جاتیں تو وہ زیادہ کارگر نتیجے دے سکتی تھی۔ اعدادو شمار بھی ان کے کام کی تصدیق کرتے ہیں۔این آئی اے کی تشکیل کے بعد دہلی پولیس کی اسپیشل سیل ممبئی اور بنگلورو پولیس نے آئی ایم کے درجنوں دہشت گردوں کو دیش بھر سے گرفتار کیا اور ایک طرح سے اس دہشت گرد تنظیم کی کمر توڑ دی لیکن این آئی اے کے کھاتے میں ابھی تک کوئی ایسا کارنامہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)

08 نومبر 2013

فساد متاثرین کے راحتی کیمپوں میں آبروریزی؟ ان پر مدرسوں کا قبضہ؟

مظفر نگر میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کو تقریباً دو مہینے ہونے کو آئے ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنے گاؤں چھوڑ کر راحت کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہیں۔ ان میں زیادہ تر لوگ اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک چونکانے والی خبر پڑھنے کو ملی جسے پڑھ کر بے چینی ہوئی۔ ہندی روزنامہ’’ ہندوستان‘‘ کی ایک خبر میں جس کا عنوان تھا ’مظفر نگر میں گینگ ریپ‘۔ خبر کچھ یوں ہے۔ چھنگن میں 8 ستمبر کو ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ہجرت کر جوگیا کیڑہ میں واقع راحت کیمپ میں رشتے داروں کے ساتھ رہ رہی ایک لڑکی کے ساتھ آبروریزی کے الزام میں رپورٹ درج کر پولیس نے دو لوگوں کو گرفتار کرلیا۔ لڑکی کا میڈیکل کرایا گیا۔ حالانکہ لڑکوں کاکہنا ہے کہ اس لڑکی نے انہیں فون کرکے بلایا تھا۔ وہاں پر رشتے داروں نے مارپیٹ کر انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔ یہ تو تصور سے بھی باہر ہے کہ پہلے سے گھر بار چھوڑ کر ستائے لوگ جو راحت کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوں ان کے ساتھ اس طرح کی گھناؤنی حرکت ہو۔ راحت کیمپ میں آبروریزی کے الزام سے افسر بھی سکتے میں ہیں۔ دراصل پولیس نے ضلع کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس معاملے کی رپورٹ تو درج کرلی اور لڑکوں کو گرفتار بھی کرلیا لیکن حکام کو اس بات کی حیرانی ہے کہ راحت کیمپ کے پاس جاکر پناہ لئے ایک پریوار کی کسی لڑکی کے ساتھ دوسرے فرقے کا کوئی لڑکا کیسے آبروریزی کرسکتا ہے؟وہ کیسے ہمت دکھا سکتا ہے۔ ہر ایک راحت کیمپ کے پاس پولیس کا انتظام بھی ہے۔ انتظامیہ کے ریکارڈ میں جو 15 کیمپ اس وقت ضلع میں چل رہے ہیں ان میں 7732 لوگ ہی رہ رہے ہیں۔ ان میں جولا گاؤں کے جو لوگ رہ رہے ہیں وہ کڑڑ اور ان گاؤں کے ہیں جنہیں انتظامیہ نے باز آبادکاری پیکیج نہیں دیا۔ قابل ذکر ہے مظفر نگر اور شاملی میں ہوئے جھگڑوں میں بے گھر لوگوں کو بازآبادکاری پیکیج کی شکل میں اکھلیش سرکار نے ایسے ہر ایک خاندان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کی یکمشت اقتصادی مدد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح کی مدد 1800 خاندانوں کو دی جائے گی۔ جس سے ریاستی سرکار کے خزانے سے90 کروڑ روپیہ خرچ ہوگا۔ یہ اقتصادی مدد ان دنگوں میں مارے گئے لوگوں کے بے سہارا افراد کو دی گئی ہے۔ یہ رقم 10 لاکھ روپے سے الگ ہوگی۔ خبر تو چونکانے والی یہ بھی ہے کہ مغربی اترپردیش کے فساد متاثر کیمپوں میں مدرسے کے منتظمین کا قبضہ ہوگیا ہے۔ وہ یہاں سے لوگوں کو واپس اپنے گھر نہیں بھجوانا چاہتے۔ جس سے ان کی مدد کی آڑ میں ان کا گورکھ دھندہ چلتا رہے۔ ان مدرسوں کو باہر سے نقد رقم کافی تعداد میں کھانے پینے کا سامان مل رہا ہے۔ یہ انکشاف اترپردیش سرکار کے 10 وزرا کی سدبھاونا کمیٹی کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ فسادات کے بعد متاثرین کی کفالت کے لئے مظفر نگر میں 41 ،شاملی میں17 راحت کیمپ بنائے گئے تھے۔ ان میں زیادہ تر کو مدرسے چلا رہے ہیں۔ سپا چیف ملائم سنگھ اور وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ان کیمپوں میں رہ رہے کنبوں کو محفوظ طریقے سے واپس بھیجنے ، ان کو نوکری و کھانے کا انتظام کرنے کی بھی ہدایت دی تھی اور امن قائم کرنے کے لئے شیو پال سنگھ یادو کی رہنمائی میں 10 وزرا کی سدبھاونا کمیٹی فساد متاثرین علاقوں میں بھیجی گئی تھی لیکن اب یہ کیمپ کافی گل سڑ گئے ہیں۔ لوگ انہیں چھوڑ کر گھر لوٹنے کو تیار نہیں۔ دورہ کے بعد وزرا کی کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے مدرسوں میں چل رہے کیمپوں پر ان کے منتظمین کا قبضہ ہے۔ باہر سے نقد پیسہ بھاری مقدار میں غذائی سامان مدد کے طور پر مل رہ ہے۔مدرسے کے منتظمین ان راحت کیمپوں کو بند نہیں ہونے دینا چاہتے۔ ان کی منشا کیمپوں کی آڑ میں فائدہ اٹھانے کی ہے۔ اس کے علاوہ کیمپوں میں مل رہی بھرپور سہولیات بھی لوگوں کو واپس گاؤں جانے سے روک رہی ہے۔ گاؤں میں لوٹنے پر کچھ لوگوں کو حفاظت اور کچھ کو گاؤں میں مقدمے ،زبردستی صلح نامہ لکھوالینے کا ڈر بھی ستا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب تک یہ لوگ ان راحت کیمپوں میں رہتے رہیں گے۔ دو مہینے ہونے کو آرہے ہیں ریاستی سرکار کو ان کو گاؤں واپس جانے کیلئے تیار کرنا ہوگا۔ سکیورٹی انتظام گاؤں سطح پر ہونا چاہئے تاکہ جب تک پوری طرح سے یہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس نہ کرلیں تب تک ان کے جان مال کی حفاظت پولیس انتظامیہ کرے۔ راحت کیمپ مسئلے کا حل نہیں۔ آخر کب تک اترپردیش سرکار انہیں چلاتی رہے گی۔
(انل نریندر)

راہل گاندھی کے متنازعہ بیانوں سے ان کی پارٹی کا گراف گرا ہے!

کانگریس کے حکمت عملی سازوں کے لئے یہ انتہائی تشویش کا باعث ہونا چاہئے کہ ان کے نائب پردھان اور امکانی پی ایم امیدوار راہل گاندھی کی مقبولیت کا گراف مسلسل گرتا جارہا ہے۔آج وہ بھاجپا کے پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی کے سامنے کہیں ٹھہر نہیں پارہے ہیں۔ اس کی وجہ خود راہل گاندھی اور ان کے مشیر ہیں۔ جب راہل گاندھی مظفر نگر فسادات متاثرین لڑکوں کے آئی ایس آئی کے رابطے میں ہونے کا بے تکا بیان دیں تو ایسا ہی ہوگا۔ ان کا دعوی ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کے افسر نے انہیں یہ جانکاری ان کے کمرے میں آکر دی تھی۔ اس بیان کو چناؤ کمیشن نے سنجیدگی سے لیا ہے اور انہیں 7 دن کی جگہ4 دن میں اپنی صفائی دینے کوکہا ہے۔ اب کانگریس نائب پردھان کو8 نومبر تک اپنے بیانات کے سلسلے میں چناؤ کمیشن کو صفائی دینی ہوگی۔ اس سلسلے میں چناؤ کمیشن دفتر نے جانکاری دی ہے کہ شکایت نامہ اور جانچ کے بعد صاف ہے کہ ایسا بیان چناؤ کے پیش نظر دیا جانا سنگین ہے اور طرح کے معاملے میں ایسا بیان چناؤ کے وقت نہیں دیا جاسکتا۔ کانگریس کے ترجمان م۔ افضل نے اخبار نویسوں سے کہا کہ کمیشن کا نوٹس مسٹر راہل گاندھی کو 25 اکتوبر کی رات کوملا تھا۔ دو دن دیوالی پڑ گئی اس لئے کمیشن سے جواب دینے کے لئے 7دن کی مزید مہلت مانگی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق راہل نے23 اکتوبر کو راجستھان کے چورو اور اگلے دن مدھیہ پردیش کے اندور میں اپنی چناؤ ریلیوں میں بھاجپا پر نفرت پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی مظفر نگر فسادات متاثرین مسلم لڑکوں سے رابطے میں ہے۔ بھاجپا نے اس کی کمیشن سے شکایت کی اور اس کو چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی بتایا تھا۔ اس کے بعد چناؤ کمیشن نے کانگریس کے یووراج کی تقریروں کا مطالع کرنے کے بعد ان سے پوچھا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے؟ بھاجپا نے چیف الیکشن کمیشن سے یہ بھی شکایت درج کرائی تھی کہ آئی بی ایک سرکاری خفیہ محکمہ ہے اور وہ پی ایم او اور وزارت داخلہ کے ماتحت ہے۔ نتیجتاً اگر کوئی آئی بی افسر کسی بھی معاملے میں کانگریس نائب پردھان کو ایسی جانکاری دیتا ہے تو وہ دیش کی سلامتی سے کھلواڑ کرتا ہے۔ یہ ہی نہیں ایسے بیان چناوی اسٹیج سے نہیں دئے جاتے۔ چناؤ کمیشن نے اب کہا ہے کہ طے میعاد کے اندر اگر جواب نہیں ملا تو مانا جائے گا راہل کے پاس جواب دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ایسے میں چناؤ کمیشن بغیر کسی نوٹس کے مناسب کارروائی شروع کرے گا۔ اب تو کانگریسی وزرا میں بھی راہل کی ریلی پر سوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دئے گئے انٹرویومیں وزیر ذراعت جے رام رمیش نے کہا کہ راہل گاندھی کو آنے والے چناؤ پر توجہ دینی چاہئے۔ راہل آگے کی زیادہ سوچ رہے ہیں۔ راہل سسٹم کی بات کرتے ہیں، ڈھانچے کی بات کرتے ہیں، اسے بدلنے کی بات کرتے ہیں جبکہ چناؤ سرپر ہیں۔ جے رام رمیش سے پوچھے گئے سوال بی جے پی سے سی ایم امیدوار نریندر مودی کو کانگریس پارٹی کے لئے کس نظریئے سے دیکھتے ہیں؟ تو جواب دیتے ہوئے رمیش نے کہا نریندر مودی کی بڑھتی مقبولیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن مودی ان کی پارٹی کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ نریندر مودی نے تو اپنی پارٹی کو ہی حاشیے پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔
(انل نریندر)

07 نومبر 2013

سچن تندولکر کے رنگ میں رنگا کولکاتہ کا کونا کونا!

کولکاتہ پوری طرح سے ہندوستانی کرکٹ کے بھگوان سچن تندولکر کے رنگ میں رنگ چکا ہے۔ آخر یہ سچن کا 199واں ٹیسٹ میچ جو ہے۔ شہر کے کونے کونے میں سچن کے کیریئر سے جڑی تصویریں ،کٹ آؤٹ، ٹکٹوں پر اس کی تصویر پر خاص طور سے تیار میوزک اور ڈریسنگ روم کے باہر وغیرہ جگہوں پر بنی ہیں۔ سٹی آف جوائے یعنی کولکاتہ میں کرکٹ کے بھگوان کے اس 199 ویں ٹیسٹ میچ کو یادگاربنانے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ایڈن گارڈن میں 6 نومبر سے 10 نومبر تک کھیلی جانے والی سیریز کا پہلا میچ سچن کے ٹیسٹ کیریئر کے لئے اہم ہے اور اسے خاص بنانے کے لئے بنگال کرکٹ فیڈریشن نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔زمین سے لیکر آسمان تک سچن کے خیر مقدم کی کرکٹ فیڈریشن نے تیاری کی ہے۔ جگموہن ڈالمیا نے سچن کے لئے تیار میوزک البم بھی ریلیز کی ہے۔ اس میں 7 بنگالی، 4 ہندی گانے ہیں۔ سبھی گانے سچن کے اسٹیڈیم میں داخل ہونے پر بجیں گے۔ بھارتیہ ڈریسنگ روم کے دروازے کے ٹھیک اوپر سابق آسٹریلیائی سلامی بلے باز میتھیو ہیڈن کا وہ تبصرہ بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا’’ میں نے بھگوان کو دیکھا ہے اور وہ بھارت کی طرف سے نمبر 4 پر بلے بازی کرتے ہیں۔‘‘ فیب نے سچن کے احترام میں کی گئی ان تیاریوں کی ’سلام سچن‘ کا نام دیا ہے۔ بہت مشکل ہوگا کے سچن تندولکر کی ہندوستانی کرکٹ میں جگہ پر کرنا۔ سچن تندولکر کے بڑے بھائی اجیت تندولکر کا کہنا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ16 سال کی عمر میں ہی سچن ٹیم انڈیا میں جگہ لے گا اور اتنے ریکارڈ توڑے گا۔ ہم نے تو پہلے اسکول، پھر زون اور پھر انڈر ففٹین اور پھر انڈر19 اور پھر سینئر سطح پر سوچ رہے تھے۔ یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ سچن ان سب کو پھلانگ کر محض16 سال کی عمر میں ٹیم انڈیا میں پہنچ جائے گا۔ جب 1989ء میں پاکستان کے دورہ کے لئے اس کا انتخاب ہوا توپورے خاندان کے لئے فخر کا لمحہ تھا۔ سچن تندولکر کے بعد ہندوستانی ٹیم کو دوبارہ اپنی ساکھ بنانی پڑے گی۔ یہ ذمہ داری میری نظروں میں صرف دو ہی کھلاڑی اٹھا سکتے ہیں ایک مہندر سنگھ دھونی اور دوسرے وراٹ کوہلی۔ ٹیم انڈیا کے لئے یہ اچھا ہے کہ شیکھر دھون ، روہت شرما، وراٹ کوہلی اچھی پرفارمینس دے رہے ہیں اس لئے ممکن ہے سچن کی اتنی کمی نہ کھلے۔ آسٹریلیا ٹیم کے کھلاڑی شین وان ،گیلن مائگرا، گلکرسٹ کے بعد کتنی کمی محسوس ہونے لگی ہے۔ سچن کے بارے میں اتنا کچھ کہا گیا لکھا گیا اس سے ان کا دماغ خراب نہیں ہوا۔ وہ آج بھی زمین پر ہیں اور بھگوان کی طرح پوجے جانے والے سچن کو جس طرح دیش واسیوں کا پیار ملا ہے پتہ نہیں اور کسی کو اتنا ملے گا۔ پچھلے کچھ عرصے سے سچن اپنی لے میں نظر نہیں آرہے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ رنجی ٹرافی کی آخری پاری میں جس طرح کی کارکردگی دکھائی ویسے ہی کولکاتہ میں اور اپنے کیریئر کے آخری ٹیسٹ ممبئی میں دکھائیں گے اور بھارتیہ کرکٹ کو شاندار طریقے سے الوداعی کا تحفہ دیں گے۔ سچن کو سارے دیش کی طرح ہم بھی کہتے ہیں ’سیلوٹ ٹو یو سچن‘۔
(انل نریندر)

منگل مے رہے بھارت کے پہلے منگل یان کی اڑان!

ایتوار کو جب پورا دیش دیوالی کی خوشیوں میں ڈوبا ہوا تھا آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون سیٹیلائٹ سینٹر پر ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کے سائنسداں ایک نئی طرح کی مشکل سے دوچار تھے۔ صبح چھ بجکر آٹھ منٹ پر دیش کے پہلے منگلیان کی الٹی گنتی شروع ہونے کے بعد ان کی نگاہ مریخ آربیٹیٹر مشن کے ہر باریک پہلو کو ٹٹول رہی تھی۔ پچھلے ایک مہینے سے اس اہم مشن کے لئے 300 کے قریب سائنسداں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ مریخ کو سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔آئرن آکسائڈ کی وجہ سے اس کی زمین لال دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ماحول میں 95.32 فیصدی کاربن ڈائی آکسائڈ موجود ہے۔ زمین کے مقابلے چوڑائی آدھی ہے جبکہ وزن میں یہ زمین کا دسواں حصہ ہے۔ مریخ پر ایک دن 24 گھنٹے 37 منٹ کا ہوتا ہے۔ زمین کی طرح مریخ بھی ایک زمینی سطح والا سیارہ ہے جو یونیورس کا سب سے اونچا پہاڑ اولمپس مونس مریخ پر واقع ہے۔مریخ کے دو چاند ہیں جو چھوٹے چھوٹے سائز کے ہیں۔ مانا جاتا ہے زمین پر زندگی کو یقینی بنانے والے عوامل مریخ سے ہی زمین پر پہنچے۔ مریخ آربیٹیٹرکو پہلے 28 اکتوبر کو لانچ کیا گیا تھا لیکن موسم کی خرابی کے سبب اس کا تجربہ ٹالنا پڑا تھا۔منگل کو زمین سے روانہ ہونے کے بعد خلائی کرافٹ گہری خلا میں قریب 10 مہینے رہے گا اور مریخ کے مدار میں پہنچنے کے اپنے سفر کے دوران گاڑی200 سے لیکر400 ملین کلو میٹر کی دوری طے کرے گا۔ منگل کا دن پورے دیش کے لئے خوش آئین رہا اورمنگل مشن کے لئے ہندوستان میں گولائی راکٹ کے ذریعے سے کامیابی سے اپنا پہلا مریخ مشن کا تجربہ کیا جس کے بعد منگل گاڑی کامیابی کے ساتھ زمین کے نچلے مدار میں داخل ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کا نام خلائی مشن سے جڑے چنندہ ممالک میں شامل ہوگیا۔ اسروکے چیف کے رادھا کرشن نے کہا کہ مارس آربیٹیٹر پر لگے پانچ خوبصورت آلات ہندوستانی برادری کو اہم معلومات دستیاب کرائیں گے۔ اے ایل پی اور ایم ایس اے ماحولیاتی مطالع میں مدد کریں گے۔ سرخ سیارے کی سطح کے بارے میں تحقیق میں مدد دیں گے۔ اس چندریان مشن کی لاگت پر تنقیدوں کو درکنارکرتے ہوئے اسرو کے سربراہ رادھا کرشن کا کہنا ہے کہ این او ایم مارس مشن کے لئے سب سے سستا مشن ہے۔یہ مشن مریخ کی سطح سے وابستہ خصوصیات بناوٹ ،معدنیات ، سائنس اور اس کے علاوہ ماحولیات و ملک کی سازو سامان کی پڑتال بھی کرے گا۔ بھارت کا یہ مشن دنیا کا سب سے کفایتی منگل مشن ہوگا۔ اقتصادی مشکلات سے دوچار امریکہ نے ناسا کے بجٹ میں کٹوتی کی ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ منگل مشن پر سالانہ 17.7 ارب ڈالر( یعنی 900 ارب روپے) خرچ کررہا ہے۔ وہیں ساڑھے چار ارب روپے میں منگل پر بھارت اپنا جھنڈا گاڑھ کر ایک بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔ مریخ سیارہ ہماری زمین سے 40 کروڑ کلومیٹر دورے پر ہے اور زمین سے شٹل تک کوئی کوئی ہدایت پہنچانے یا وہاں سے اطلاع آنے میں کل40 منٹ کا وقت لگے گا۔ خوابوں کو پنکھ لگانا تھا ایک کاروباری نے بڑھتی آبادی کے ساتھ زمین چھوٹی پڑتی جارہی ہے۔ کئی ملکوں کا ماننا ہے کہ کچھ سو برسوں میں زمین پر اتنے لوگ ہوں گے کہ جینا مشکل ہوجائے گا اس لئے کئی متبادل پر غور ہورہا ہے۔ سرخ سیارہ پر زندہ رہنے کے لئے صفر درجہ حرارت کے امکان کے بیچ ایک ایسا شخص بھی ہے جس کے بارے میں زیادہ تر خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ مریخ پر بسنے کے لئے اپنے خواب دیکھ رہا ہے۔اس شخص کا نام ہے باس لین ڈاب۔ ان کے مشن کا نام ہے مارس ون۔ ان کا دعوی ہے کہ اگر ان کا مشن کامیاب ہوجاتا ہے تو آنے والی نسلوں کے لئے یہ مثال بن جائے گا۔ باس نے 2023 ء میں مریخ سیارے کی زمین پر انسان کو اتارنے کا چیلنج قبول کیا ہے لیکن یہ ایک طرفہ سفر ہوگا اور اس کے خواب کو سائنسدانوں اور میڈیا کے ایک طبقے نے شیخ چلی کا خواب قراردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے باس مریخ تک انسان کو لے جانے کے لئے مستقبل کی کسی ترقی یافہ تکنیک کا نمونہ نہیں پیش کررہے ہیں بلکہ وہ موجودہ تکنیک سے ہی یہ کارنامہ کرنے کا دعوی کررہے ہیں۔ خیر یہ تو مستقبل کا موضوع ہے ہم تمام ہندوستانی سائنسدانوں کو اس شاندار کارنامے کے لئے مبارکباد دیتے ہیں۔ ہندوستانی سائنسدانوں نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ ان میں کتنا دم خم ہے۔
(انل نریندر)

06 نومبر 2013

نریندر مودی کادوسرا بہار دورہ!

گجرات کے وزیر اعلی اور بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کا دوسرا بہار دورہ پہلے سے کہیں بہتررہا۔ اس بار بہار دورہ پر وزیر اعظم کی طرح انہیں سکیورٹی دی گئی۔ مودی زیڈ پلس سکیورٹی حاصل کرنے والے پہلے ایسے شخص ہیں جن کی حفاظت میں اس مرتبہ قریب قریب ان سبھی ضابطوں کی تعمیل کی گئی جو وزیر اعظم کی حفاظت کے لئے طے ہیں۔ مودی کے بہار دورہ کو لیکر انٹیلی جنس بیورو نے اس مرتبہ پھر سے الرٹ جاری کیاتھا۔ آئی بی نے یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ مودی کو نشانہ بنانے کے لئے انڈین مجاہدین فدائی حملے کرسکتا ہے۔ یہاں تک کہا گیا تھا کہ راکٹ لانچر سے حملہ ہوسکتا ہے۔ نیشنل سکیورٹی گارڈ، گجرات پولیس، مرکزی پیرا ملٹری فورس اور بی ایم پی ایس ٹی ایف بہارپولیس نے کئی سکیورٹی گھیرے بنائے تھے۔ زیڈ پلس سے لیکر مودی کو جس خاندان سے ملنا تھا اس گھرکے آس پاس کے علاقے کو چھاؤنی بنا دیاگیاتھا اور وہاں رات سے ہی چپے چپے کی چھان بین اور بم ناکارہ دستوں نے جانچ شروع کی ہوئی تھی۔ گھر کے باہر میٹل ڈٹیکٹر سے جانچ کے بعد کسی کو آنے جانے کی اجازت تھی۔ سکیورٹی گھیرے کا دائرہ دو کلو میٹر تک تھا تاکہ راکٹ لانچر سے بھی حملے کا اندیشہ نہ رہے۔ مودی کے دورے کے لئے ہر ضلع میں ان کے ہیلی کاپٹر کو اترنے کے لئے خاص ہیلی پیڈ بنائے گئے۔ ہیلی پیڈ کو نیشنل سکیورٹی گارڈ نے اپنی حفاظت میں لے رکھا تھا۔ مودی کے اترتے ہی این ایس جی نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس بار کے انتظامات کی تعریف کرنی ہوگی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے پہلے دورہ میں سکیورٹی خامیوں میں کتنی بڑی چوک رہی۔ چاہے راہل گاندھی ہوں، یا سونیا گاندھی ہوں ،یا نریندر مودی ہوں یہ دیش کے کسی بھی صوبے میں جائیں سبھی کے پختہ حفاظتی انتظامات اسی طرح ہونے چاہئیں۔ ان نیتاؤں کی حفاظت میں پارٹی سیاست آڑے نہیں آنی چاہئے۔ چاہے وہ کانگریس سرکار کو یا ریاست میں بھاجپا یا کسی پارٹی کی ،سبھی کو ایسے سکیورٹی انتظام کرنے چاہئیں۔مودی سے فون پر بات کرتے ہوئے جذباتی خاتون پریہ سریواستو نے کہا تنے میرے باپو دھو(آپ ہی میرے پتا ہو) مودی نے پریہ کو اپنی بیٹی مانتے ہوئے بھروسہ دلایا کہ وہ اب پوری زندگی اس کے خاندان کا خیال رکھیں گے۔ مودی خراب موسم کے سبب گوپال گنج نہیں جاسکے تھے انہوں نے پٹنہ بم دھماکے میں مارے گئے گوپال گنج کے منا سریواستو کی بیوی پریہ سریواستو سے فون پر ہی بات کرکے دلاسہ دیا۔ مودی نے پریہ سے کہا یہ قربانی ضائع نہیں جائے گی۔ میری ہمدردی آپ کے خاندان کے ساتھ ہے۔ پٹنہ ضلع کے گورو چک میں مودی راج نارائن سنگھ کے رشتے داروں نے بتایا کے ان کے والد مودی کی تقریر سننے کے لئے کافی بے چین تھے اور کھیت کا کام چھوڑ ندی میں تیر کر گاندھی میدان گئے تھے۔ سنگھ کے پتر نے سرکاری نوکری کی مانگ کرتے ہوئے کہا ان کے پتا ہی خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ دھماکوں میں مارے گئے وکاس کے رشتے داروں کو تسلی دینے پہنچے نریندر مودی نے وکاس کی بیوی وینا کو پانچ لاکھ روپے کا چیک دیا اور ان کے بیٹے شیوم اور بیٹی ساکشی کو گود میں بٹھا کر پیار کیا۔ اسی طرح مودی نالندہ کے ایک گاؤں میں پہنچے وہاں راجیش کمار کے رشتے داروں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے پانچ لاکھ روپے کا چیک دیا۔ اس سے یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے دھماکوں کے زخمی کنبوں سے ملنا ضروری نہیں سمجھا۔
(انل نریندر)

کیا اوپینین پول پر پابندی لگنی چاہئے؟

پیر کی رات میں ریئل ٹی وی چینل پر گیا ہواتھا۔ بحث کا موضوع تھا اوپینین پول سروے پر پابندی لگانی چاہئے یا نہیں۔ چناؤ کے دوران اوپینین پول کی اشاعت یا ٹیلی کاسٹ کو روک لگانے کے چناؤ کمیشن کے نظریئے کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ رینڈم سروے خیالی ہوتے ہیں اس میں بھروسے کی کمی ہوتی ہے۔ ساتھ ہی پارٹی نے کہا ذاتی مفاد کے لئے ان میں تھوڑا جوڑ توڑ کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے اوپینین پول کے اشوپر چناؤ کمیشن کو پھر سے غور و خوض کرنے کی ہدایت دی تھی جس کے بعد چناؤ کمیشن نے مختلف سیاسی پارٹیوں سے پچھلے مہینے رائے مانگی تھی۔ چناؤ کمیشن کو30 اکتوبر کو تحریری جواب میں کانگریس نے کہا کہ وہ چناؤ کے دوران اوپینین پول کی اشاعت یا ٹیلی کاسٹ پر روک لگانے کے چناؤ کمیشن کے فیصلے کی پوری طرح حمایت کرتی ہے۔ پارٹی سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ نے کہا یہ تو مذاق بن گیا ہے اور اس طرح کے سروے غیر بھروسے مند اور من گھڑت ہوتے ہیں۔ ان سرووں پر پوری طرح پابندی لگنی چاہئے۔ جس طرح کی شکایتیں و اطلاعات ملی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کوئی بھی پیسہ دیکر اپنی خواہش کے مطابق سروے کراسکتا ہے۔ دوارب لوگوں والے دیش میں کیسے کچھ ہزار لوگ رجحان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ گورکھ دھندہ بن گیا ہے ہم شری دگوجے سنگھ کی مانگ کی مخالفت کرتے ہیں۔ الیکٹرانک چینلوں کو پورا حق ہے کہ وہ اپنا سیاسی تجزیہ کر سکیں۔یہ ان کا بنیادی آئینی حق ہے۔ یہ شخصی آزادی پر پابندی لگانا ہوگا اور جو غیر آئینی ہوگا۔ آج کل تو پرنٹ میڈیا سے کہیں کہ آپ اپنی رائے شائع نہیں کرسکتے؟ کیا یہ سینسر شپ نہیں ہوگی ؟ تازہ حالات میں جیسی سیاسی پوزیشن دکھائی پڑتی ہے میں ان کے بارے میں کیوں نہیں لکھ سکتا؟ اس لئے پابندی لگانا سراسر غلط ہوگا اور پریس کی آزادی کا گلا گھونٹنا ہوگا۔ ہاں میں یہ ضرور مانتا ہوں کے جس طرح سے پچھلے دنوں یہ سروے ہورہے ہیں ان میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔پیسہ دیکر کچھ پارٹیاں اپنا ہوا بنانے کے لئے من چاہے سروے کرادیتی ہیں۔ سروے کرنے والی ایجنسی کو یہ صاف کرنا چاہئے کہ اس نے سروے کرنے کا کیا طریقہ اپنایا ہے، کتنے ووٹروں سے کس کس علاقے میں ،کب کب سروے کیا ہے؟ سروے سے صرف ہوا کے رخ کا پتہ چلتا ہے اور کچھ نہیں۔ پچھلا تجربہ یہ ہی ہے کئی سروے فائنل ریزلٹ سے بہت مختلف رہے لیکن سیٹوں کا فرق ہوتا ہے رخ تو تبھی صحیح مانا جاتا ہے۔ پھر جو چینل یا سروے ایجنسی کررہی ہے اس کے بھروسے پر بھی آنچ آتی ہے یہ الگ تنازعے کا اشو ہے۔ ان سروے کا ووٹروں پر کتنا اثر پڑتا ہے؟چناوی پس منظر ہر گھنٹے بدلتا رہتا ہے آج کا سروے دو دن بعد کھرا نہیں رہتا۔ پھر بھارت کا ووٹر اتنا بیدار ہے کہ وہ اپنے دل کی بات شاید ہی کسی کو بتائے؟ کل ملا کر ہمارا خیال ہے سروے کے لئے ضابطے ہونے چاہئیں،قانون ہونا چاہئے تاکہ ان کے بھروسے پر پابندی لگانا غیر آئینی اور غلط ہوگا۔ پریس چاہے الیکٹرانک ہو یا پرنٹ میڈیا ہو اس کی جم کر مخالفت کرے گا اور کرنا بھی چاہئے۔ امریکہ۔ انگلینڈ جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی اوپینین پول ہوتے ہیں لیکن وہاں تو کسی نے ان پر پابندی لگانے کی مانگ نہیں کی۔
(انل نریندر)

05 نومبر 2013

امریکی ڈرون حملے میں پاکستانی طالبان کا سینئر کمانڈر حکیم اللہ محسود ہلاک

پچھلے دنوں جب پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف امریکہ گئے تھے تو امریکہ کے ذریعے پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کا تذکرہ ہوا تھا۔ پاکستان بار بار یہ دعوی کررہا ہے کہ اس نے ڈرون حملوں کی مخالفت کی ہے اور امریکہ کو یہ اجازت کبھی نہیں دی کے وہ اس کی سر زمین پر یہ ڈرون حملے کرے لیکن امریکہ کے نامور اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے سی آئی اے کی خفیہ رپورٹ اور پاکستانی ڈپلومیٹک ذرائع کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ پاکستان کے سینئر حکام نے برسوں تک پوشیدہ طور سے ڈرون حملوں کے پروگرام کی حمایت کی۔پاکستان کو ایک بار پھر بے نقاب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ پاکستان کے بڑے طالبانی لیڈر حکیم اللہ محسود جمعہ کو ایک ڈرون امریکی حملے میں مارا گیا ہے۔ طالبان کے ذرائع نے اس کے مرنے کی تصدیق کردی ہے۔ گذشتہ سنیچر کو 3 بجے وزیرستان کے میرن شہر علاقے میں محسود کو سپرد خاک کیا گیا۔ امریکہ نے اس کے سرپر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔ یہ ہندوستانی حساب سے 30 ہزار کروڑ روپیہ بنتا ہے۔ کئی بار حکیم اللہ کے مرنے کی خبریں آئیں، لیکن یہ غلط ثابت ہوئیں۔ حکیم اللہ کے پاس 8 ہزار لڑاکو کی فوجی ٹیم بتائی جاتی ہے۔ حکیم اللہ محسود پرانی سرکار یعنی بیت اللہ کا داہنا ہاتھ تھا۔ دہشت گردی کے کاروبار میں اس کی ذمہ داری اورکزئی، قراقرم و خیبر علاقے میں دہشت پھیلانا اور طالبانی جہاد کی بنیادوں کو مضبوط کرنا تھا۔ نارتھ وزیرستان کا اورکزئی علاقہ حکیم اللہ محسود کا گڑھ رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹ میں خفیہ اور فوجی ذرائع سے بتایا گیا ہے کہ شورش زدہ نارتھ وزیرستان صوبے کے دربرہ خیل میں واقع ایک کمپلیکس پر امریکی خفیہ جہازوں نے دومیزائلیں داغیں۔ حملے میں یہ عمارت پوری طرح تباہ ہوگئی۔ امریکہ چن چن کر ان جہادی لیڈروں کا صفایا کررہا ہے یا گرفتار کرکے انہیں امریکہ لے جارہا ہے۔ کچھ وقت پہلے ہی پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں گھس کر دنیا کے انتہائی مطوب آتنکی اسامہ بن لادن کا خاتمہ کرنے والے امریکہ کی بحری سیل کمانڈوں نے لیبیا اور صومالیہ میں بھی اسی طرح کی کارروائی کی۔اسی طرح کینیا کی راجدھانی نیروبی کے ویسٹ گیٹ مال میں قتل عام مچانے والی آتنکی تنظیم الشباب و القاعدہ کے دہشت گرد اس کارروائی کے نشانے پر رہے۔امریکی کمانڈو ٹیم کو تریپولی میں القاعدہ کے سینئر کمانڈر نجیب الریگی عرف ابو انس الیبی کو دبوچنے میں کامیاب رہی۔ لیبی 15 سال پہلے نیروبی میں امریکی سفارتخانے میں دھماکے کے معاملے میں مطلوب ہے۔امریکہ میں تاریخی کام بندی کے درمیان نیوی سیل کمانڈر کی اس کارروائی سے پوری دنیا میں سنسنی مچ گئی ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اس خفیہ کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہم القاعدہ سے جڑے لوگوں کو دنیا کے کسی بھی کونے میں بچنے نہیں دیں گے۔ اس کارروائی سے صاف ہوگیا ہوگا کہ القاعدہ آتنکی حملے کے لئے کہیں بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ محسود کی موت سے طالبان کے ساتھ پاک حکومت کی امن بات چیت کی کوششوں کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔ نواز سرکار دیش میں مستقل امن کیلئے دہشت گرد تنظیم سے بات چیت کافی اہم مان رہی ہے لیکن امریکی خفیہ ایجنسیوں نے ڈرون حملہ کرکے اسلام آباد کے منصوبوں کو پانی پھیردیا ہے۔ حملے کو لیکر پاکستان اور امریکہ کے رشتوں میں کھٹاس آسکتی ہے۔
(انل نریندر)

بحالی امن میں اکھلیش حکومت فیل،مذہبی پیشواؤں کو کرنی ہوگی پہل!

میں نے اسی کالم میں بار بار لکھا ہے کہ مظفرنگر میں بنیادی سطح پر بیشک سب کچھ ٹھیک ٹھاک لگ رہا ہو لیکن اندر اندر فساد کی آگ سلگ رہی ہے اور اکھلیش سرکار و انتظامیہ چوکس نہیں رہی تو فساد پھر سے بھڑک سکتا ہے۔ میری بات تو چھوڑیئے مرکزی سرکار کی رپورٹ کو اگر وزیر اعلی اکھلیش یادو و پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دیو راج ناگر نے سنجیدگی سے لیا ہوتا تو مظفرنگر میں تازہ جھگڑے پرانہیں ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا۔ اگست۔ ستمبر میں اسی علاقے میں شروع ہوئے دنگے کے بعدمرکزی حکومت نے اترپردیش سرکار کو صاف طور پر آگاہ کیا تھا کہ گاؤں میں پہنچے دنگے کی آگ دور دور تک پھیل سکتی ہے۔ مرکز نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ ایک گاؤں کے جھگڑے کا بدلہ لینے کے لئے دوسرے گاؤں میں یہ سلسلہ شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا۔ بدھ کو جب مظفر نگر کے برہانا علاقے میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ بدلے کی آگ بھڑک اٹھی تو محمد، رائے سنگھ گاؤں کے باشندے کسان راجندر پر کھیت میں ہوئے حملے کے بعد دونوں فریقین کی طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ اس میں حسین پور کلاں کے تین لڑکے مارے گئے۔ اس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔جمعرات کو تینوں لڑکوں کی لاشیں حسین پور کلاں کے مدرسے میں پہنچتے ہی وہاں بھیڑ جمع ہوگئی۔ الزام ہے کھیت میں کام کرنے گئے تینوں لڑکوں کو دوسرے طبقے کے لوگوں نے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ مظفر نگر میں پھر بھڑکے تشدد پر یوپی کے ڈی جی پی نے تسلیم کیا کے اسے پولیس نے لاپروائی سے لیا ہے۔ ڈی جی پی دیو راج ناگر مظفر نگر میں موجود ہیں اور اب تک برہانہ علاقے میں ایک دن پہلے ہوئے تشدد کے معاملے میں 8 لوگوں کو گرفتار کیا جاچکاہے اور15 پر معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اب تو معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔مظفر نگر فسادات کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کے لئے جاٹھ سبھا نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے جس میں ریاستی سرکار پر امتیاز برتنے کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ فرقے کا ریاستی پولیس پر بھروسہ نہیں رہا۔ چیف جسٹس پی سداشیوم کی سربراہی والی بنچ کے سامنے جاٹھ سبھا کی طرف سے پیش ہوئے وکیل کے ٹی ایس تلسی نے کہا کہ فساد میں جاٹھ لڑکوں کا قتل ہوا ہے۔ ریاستی پولیس کے ذریعے منصفانہ جانچ کی امید نہیں ہے۔ ایسی صورت میں عدالت جاٹھ فرقے کو انصاف دلانے کے لئے سی بی آئی کو معاملے کی تفتیش کے لئے ہدایت جاری کرے۔ بنچ نے کہا 21 نومبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت اس عرضی پر سماعت کرے گی۔ عرضی میں کہا گیا ہے ریاستی حکومت کو پھر سے گاؤں میں ہتھیاروں کی برآمدگی کے لئے چھاپے ماری کا حکم دیا جائے۔ ان دیہات میں مبینہ طور پراے کے 47 سمیت بھاری تعداد میں ہتھیار، گولہ بارود برآمد کیا گیا تھا۔ بھارتی کسان یونین کے قومی پردھان چودھری نریش ٹکیت نے کہا کہ یوپی سرکار سماج میں امن کا ماحول بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اب سرو سماج کے کھاپ چودھری بھائی چارہ بنانے کی پہل کریں گے۔ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس کو لیکر جمعیت العلما کے مولانا اور کھاپ کے چودھریوں کو میٹنگ6 نومبر کو سسولی میں ہوگی۔ٹکیت خود دارالعلوم کے مہتمم مولانا عبدالقاسم بنارسی اور جمعیت العلمائے ہند کے مولانا ارشد مدنی اور محمود مدنی کو دعوت دیں گے۔ پنچایتوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہورہا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ مظفر نگر میں پھیلے فساد رکنے کا نام نہیں رہ رہے ہیں ۔اتنا طے ہے کہ یہ کام دونوں فرقوں کے لیڈروں کو کرنا پڑے گا۔ اکھلیش سرکار تو پوری طرح اس معاملے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
(انل نریندر)

03 نومبر 2013

نریندر مودی اورراہل گاندھی کی ریلیوں میں پختہ انتظام ہوں

چناوی ماحول میں دہشت گرد اور جرائم پیشہ اس موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں کہ سیاست داں کا قتل کرسکے کیونکہ سیکورٹی سسٹم اتنا چست نہیں ہوتا کبھی کبھی سیاسی اسباب سے بھی اپنے حریفوں کی سیکورٹی کے اتنے پختے انتظام بھی نہیں کئے جاتے جتنے کی ضرورت ہوتی ہے دوسری طرف ووٹوں کے چکر میں کئی بار نیتا بھی سیکورٹی سسٹم کی پرواہ کئے بغیر سلامتی حکمام کی صلاح کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں ہم نے دیکھ لیا ہے کس طرح پٹنہ کے گاندھی میدان میں دہشت گرد تقریبا اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے تھے میدان کے اندر بم رکھوا دئے تعریف کرنی ہوگی نریندر مودی کی انہوں نے منع کرنے کے باوجود پٹنہ کے گاندھی میدان میں منعقدہ ہنکار ریلی میں شرکت کی مودی کو ہوائی اڈے پر لینے گئے پارٹی کے لیڈروں شاہنوازحسین ا ور راجیو پرتاپ روڑی نے انہیں ریلی کی جگہ کے آس پاس امکانی دھماکے کے اندیشوں سے واقف کرایا۔ اس کے علاوہ گجرات پولیس نے بھی انہیں منع کیا تھا لیکن مودی ریلی میں پہنچے۔ بھاجپا نیتا بم دھماکے ہونے سے کافی پریشان تھے اور بغیر جنتا کو اس بات کااحساس تک نہیں ہونے دیا کہ بم پھٹ رہے ہیں ایک بم اس وقت پھٹا جب شاہنواز تقریر رکرہے تھے۔
اسی درمیان پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ کو دھماکوں کی وجہ سے ریلی منسوخ کرنے کی نصیحت دی گئی لیکن انہوں نے اپنی سوجھ بوجھ کاثبوت دیتے ہوئے اپنے دورے کو منسوخ نہیں کیا۔ مودی نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ ریلی سے خطاب کیا کچھ بھی ہوسکتا تھا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں تھا کہ نریندر مودی دہشت گردوں کے ہٹ لسٹ پر سب سے اوپر ہے 27اکتوبر کو اسی گاندھی میدان میں دھماکوں میں گرفتار آتنکی امتیاز نے انکشاف کیا کہ انڈین مجاہدین کی ہٹ لسٹ میں مودی نمبر1ہے۔ اس کا احساس کرانے کے لئے تنظیم نے دھماکے کرائے اور اس کا خاکہ رانچی کے اندر تیار کیاتھا ۔تمام خطروں کے چلتے بھاجپا نے منگلوار کو کہا کہ اس کے پردھان منتری عہدے کے امیدوار نریندر مودی کی پٹنہ میں ہوئے آتنکی حملے کے باوجود دیش بھر میں ان کے پہلے سے طے شدہ چناوی پروگراموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اب خبر آئی ہے کہ مودی پھر پٹنہ جارہے ہیں جہاں وہ زخمیوں سے ملیں گے اس بار ان کی حفاظت کے لئے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں اور سیکورٹی پروگرام میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ گجرات پولیس کے اعلی ا فسر اور ایک ہزار کے قریب ایس ٹی ایف کے جوان بھی بہار پہنچ رہے ہیں اس کے علاوہ مودی کی حفاظت میں بہار پولیس سی آر پی ایف اور باقی سیکورٹی ایجنسیوں کے جوان تعینات رہے گے جنتا دل(یو) مودی کے اس قدم کو پبلی سٹی شوشہ بتارہے ہیں دونوں نریندر مودی اور کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کی ریلیوں میں آئی ایس آئی کے اشاروں پر انڈین مجاہدین بم دھماکے کراسکتی ہیں آج کل بہار اوراترپردیش میں راہل گاندھی کی جان کو بھی خطرہ ہے اس لئے راہل کے بھی پختہ حفاظتی انتظام ہونے چاہئے۔انہیں بھی حفاظتی عملے کی صلاح ماننی چاہئے ان کے والد شری پرم بدور میں کس طرح لٹے کے ہاتھوں شہید ہوگئے تھے۔ ا س سے بہتر اور کون جانتا ہے۔
(انل نریندر)

سپریم کورٹ دور رس فیصلہ !زبانی حکم نہ مانیں افسران

جمعرات کوسپریم کورٹ نے ایک اور تاریخی و دور رس اثر ڈالنے والا فیصلہ سنایا جس کا خیرمقدم کیا جاناچاہئے افسران کو سیاسی دباؤ سے نجات دلانے کی سمت میں عدالت ہذا نے کہا کہ افسران کو اپنے سیاسی آقاؤں یا اپنے سینئر افسر کے زبانی احکامات پر کارروائی نہیں کرنی چاہئے زبانی حکم پر کارروائی کرنے والا افسر اپنے خطرے پر بھی ایسا کرسکیں گا انتظامیہ کو بہتر بنانے اور پیشہ ورانہ صلاحیت پیدا کرنے کے لئے افسروں کی کم سے کم میعاد طے کی جانی چاہئے۔ تبادلہ ،تقرری، سرکاری افسروں کے خلاف ڈسپلین شکنی کی کارروائی کے لئے تین ماہ کے اندر مرکز ا ور ریاستی سطح پر سول سروس بورڈ قائم کرنے کا سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے۔ اور صلاح دی گئی ہے کہ دیش میں انتظامی سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لئے سول سروس ایکٹ پاس کیاجائے ۔ جسٹس ایس رادھا کرشن اور پینا کی چندر گھوش کی بنچ دیش کے نامی گرامی 83 ریٹائرڈ افسروں کی عرضی پر یہ احکامات دیئے۔ افسر شاہی میں گراوٹ کی خاص وجہ سیاسی مداخلت کو بتاتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ افسروں کو سیاسی لیڈروں کے ذریعے دیئے گئے سبھی احکامات پر کارروائی کے لئے ان سے ملیں تحریری احکام کے بعد کارروائی کرنی چاہئے۔
ہنگامی حالات میں زبانی احکام پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن زبانی حکم کے بعد تحریری فرمان کیا جانا ضروری ہے۔ یہ فیصلہ اس لئے بھی لائق تحسین ہے کہ حکومت اور انتظامیہ سے متعلق تمام خامیوں کو دور کرنے میں لگی دیش کی بڑی عدالت نے ایک بار پھر دیش کے سیاسی لیڈر شپ کو ان کے فرائض کی یاد دلائی ہے تعجب نہیں اس فیصلہ کو لے کر سیاستدانوں کا منتھن شروع ہوجائے یا پھر وہ آنا کانی پر اترآئیں کیونکہ سپریم کورٹ نے پہلے بھی اسی طرح کافیصلہ دیا تھا جس پر کچھ ریاستوں کو چھوڑ کر کسی نے بھی سات سالوں میں عمل نہیں کیا مرکزی اور ریاستی سرکاری درجنوں بہانے پیش کریں گی اور عمل نہ کرنا چاہے گی۔ لیکن اس حکم پر عمل کرنا سپریم کورٹ کی مجبوری ہے وہ سجھاؤ دے سکتی ہے سرکار نہیں چلاسکتی ۔افسر شاہوں میں ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے کہ اپنے آقاؤں کو خوش رکھنے کے لئے ساری حدود پار کرجاتے ہیں۔ 
سیاست دانوں کو سمجھناچاہئے کہ وہ اقتدار چلانے میں من مانی نہیں کرسکتے۔ انہیں قانون کے مطابق چلنا ہوگا کئی بار دیکھا گیا ہے افسر فیصلہ خود کی لے لیتے ہیں اور سیاستدانوں کو اس کی بھنگ تک نہیں لگتی جب معاملہ سامنے آتا ہے جب جا کر نیتاؤں کو پتہ لگتا ہے کہ سیاستدانوں کو یاد رکھناچائے کہ وہ بھارت سرکار کے ملازم ہے نہ کے سیاسی اقتدار اعلی کے انہیں خود کوافسروں کا آقا ماننا چھوڑنا پڑے گا۔ سیاست دانوں کا بنیادی کام مسائل کے حل کے طور طریقے تلاشنے ہوتے ہیں اور پالیسی بنانا اور عمل کرنا اس کے لئے ہدایت دینا اسی طرح کی افسروں کاکام پالیسی پر صحیح سے عمل کرانا اور جنتا کے مسائل کے حل کی راہ آسان کرنا اور سسٹم کو کرپشن سے نجات دلانا ہوتا ہے۔
(انل نریندر)